Categories
شاعری

عشرہ // ہمیں دفن کر دو

ادریس بابر: خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟
 اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!

بات مانو۔ ہمارا یہ اک آخری کام کر دوہمیں دفن کر دو چُپکے سے،

بین کرتی ہوئی عورتو اور مردو۔ ہمیں دفن کر دو فرق پھرمرنے اور جِینے میں؟

ظلم کی رات کےمشتعل سینے میں خالی قبریں نہیں۔

سینے کے گھاؤ ہیں، گھاؤ بھر دو۔ہمیں دفن کر دو

اُجلےکپڑے، سنہری حروف اورہرے پات، خاکِ شفا۔۔کم پڑیں گے

سب سے اُوپر ہماری ہلاکت کا الزام دھَر دو۔ ہمیں دفن کر دو

کتنی تیزی سے چینل بدلتے ہوئے لوگ تابوت والوں سے اُکتا چُکے ہیں

ریڈیو، ٹی وی، اخبار کو ایک تازہ خبر دو۔ ہمیں دفن کر دو

خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟

اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!

 

By ادریس بابر

ادریس بابر شاعر، مترجم اور معلم ہیں۔ اپنے شعری کاموں کے اعتراف میں وہ فیض‌ گھر فاؤنڈیشن کی جانب سے فیض ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *