Categories
شاعری

کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

کل اس نے شراب کے دو پیگ لئے
پھر نفاست سے سچ بولا
” بھوک چمک جاتی ہے”

کبھی دھلے دھلائے چہروں کو دیکھ کر
کبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات ادھوری رہی
کوڑا چنتے
بدبودار نسوانی وجود کی تاک میں بھٹکتی نظر
دائروں اور قوسوں میں رستہ ڈھونڈنے لگی

زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی

عورت کی بھول
رات کے کسی پہر جاگی
بھاگتی ہوئی
کوڑے کی بدبو اٹھا لائی
بستر کی چادر پہ ہوس کے داغ پکے نکلے
کبھی نہ دھلے

کوڑے پہ پڑی ہوس
اکثر
آدھی رات کو مرد کے پہلو میں سو جاتی ہے
اور سگریٹ کا دھواں اڑاتا آدمی
سو نہیں پاتا
بدبو
نیلی شرٹ کے بٹنوں میں گھسی رہتی ہے
مٹی سے اٹے بالوں پہ رکھے بوسے
اس کے منہ پہ تھپڑ رسید کرتے ہیں

عورت نومولود کو دودھ پلاتے
اس کو
شراب کے پیگ پیتے دیکھ کر
ہراساں ہو جاتی ہے
سو نہیں پاتی
جب وہ سچ بولنے لگتا ہے

Categories
شاعری

حسرت میں ملفوف ایام

تارکول سڑک پہ تھکاوٹ
دھوئیں کے مرغولوں میں سے گزرتی
یونیفارم میں ملبوس چہروں پہ
مسکراہٹ اچھالتی
لفظوں اور شاعری کی گرہیں کھولتی
جامعہ کے مین گیٹ سے گزرتی ہے

بوجھ تلے دبا ناتواں وجود
کھڑے کھڑے جمع شدہ توانائی کھو کر
جب سیڑھیاں چڑھتا ھے
تقسیم علم کا معاوضہ اسے تھام لیتا ھے
ترازو میں تھکاوٹ کا پلڑا
بھاری ھو کر زمین چھو لیتا ھے
کتابوں کےحرف تتلیوں کا روپ دھار کر
تھکن بانٹتے ہیں۔

وہ کبھی پوری نیند نہیں سو پاتی
فاصلوں کو سمیٹتے پاوں
چلنے سے انکار بھی کر دیں
تو بھی
وہ چلتی رہتی ہے
صبح سے رات تک کا سفر نظمیں چھین لیتا ہے

وہ ایک جملہ لکھتی ہے
بچوں کی فی ووچر نظم پہ آ گرتے ہیں
وہ دوسرا لکھتی ہے
ونٹر یونیفارم نوٹیفیکیشن سامنے آتا ہے
الماری میں گرم کپڑے نہ پاکر
نظم کا سر کچلتی
وہ روتے روتے
کیلینڈر پہ دن گنتی ہے

ابھی تنخواہ ملنے میں
پورے پچیس دن باقی ہیں
نظم ابارشن کے مرحلے سے گزرتی ہے
وہ
خالی بٹوے کو دیکھتی
سڑکوں پہ بھاگتی
تھکاوٹ کو غصہ سے
روٹھی نظم کو حسرت سے دیکھتی ہے

Image: Irfan Gul

Categories
نقطۂ نظر

کہیں عورت تخلیق میں بانجھ ہو گئی، تو؟

تخلیق اس کائنات کا حسن ہے۔جب کبھی کسی خوبصورت اور دل کش قدرتی منظر پر آپ کی نگاہ اٹھتی ہے تو کیسا قرار جاگ اٹھتا ہے قلب میں۔ بڑے سے بڑا ملحد دل بھی بے اختیار اسے تخلیق کرنے والے کی صناعیت پر ایمان لے آنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔کتنے خوبصورت ہیں یہ پہاڑ،سمندر ،جھلملاتے ستارے ،تھمتی بکھرتی من کو گدگداتی ہوائیں،جل تھل کرتے رم جھم کے موسم۔ بالکل اسی طرح کتنے دل شاد ہو جاتے ہیں ہم، جب نظر سے کوئی ادبی فن پارہ گزرتا ہے۔کتنا فرحت آگیں لگتا ہے حسین دل کی نغمگی اور اعلیٰ اذہان کی کرشمہ سازی کو پڑھ پڑھ کے سر دھننا۔کبھی صادقین یا بہزاد کے شاہکاروں پر نگاہ اٹھ جائے تو مدتوں اسی منظر کی دلکشی میں کھوئے رہنے کو جی چاہتا ہے۔ گویا انسان اور انسان کو بنانے والا دونوں ہی تخلیق کار ہیں۔ فرق یہ ہے کہ خدا کی تخلیق خالص اور اصل ہے۔کہیں سے مستعار خیال کی دین نہیں۔ اور انسان کی تخلیق اسی کی تخلیق کا پرتو، خالص ہے تو امر ہے، اگر بناوٹی اور سراسر نقل پر مبنی تو فنا کے مستحق۔ لیکن اس کی روح تخلیقی ہے۔ یہ اور بات کہ کبھی کہیں تخلیق کی چاہ جی اٹھتی ہے اور کہیں یہ چاہ پژمردگی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔کبھی تخلیق درد کے بطن سے جنم لے کر کندن کی طرح نکھر جاتی ہے تو کہیں محض ملمع کاری سے سجا کر پیش کردی جاتی ہے جو روح میں اترنے کے وصف سے عاری رہ جاتی ہے۔لیکن انسان اوائل عمری میں اسے آزماتا ضرور ہے۔ بچپنے میں ہر انسان کھیل کھیلتا ہے ایسا ڈرامہ تخلیق کرتا ہے جس کا سکرپٹ بھی اس کی تخلیق ہوتا ہے اور کردار بھی خود کے بنائے ہوئے۔ چاک سے الٹے سیدھے نقش ونگار بنانا،چکنی مٹی سے بت تخلیق کرنا، کبھی نغمہ آرائی میں خود کو آزمانا،کبھی نظمیں لکھنے کی مشق کرنا۔ جب تک ناتواں کندھے بار حیات سے بے پرواہ رہیں وہ اپنی روح کی تخلیق کو عیاں کرنا اور منوانا چاہتا ہے۔

 

“عورت“ شروع سے ہی مرد سے زیادہ تخلیقی ہوتی ہے۔کیوں کہ وہ ذیادہ حساس ہوتی ہے۔ اس کے بدن اور اس کے ذہن کی کوکھ تخلیق کے معاملے میں بڑی زرخیز ہوتی ہے۔
“عورت“ شروع سے ہی مرد سے ذیادہ تخلیقی ہوتی ہے۔کیوں کہ وہ ذیادہ حساس ہوتی ہے۔ اس کے بدن اور اس کے ذہن کی کوکھ تخلیق کے معاملے میں بڑی زرخیز ہوتی ہے۔ وہ کائنات میں تخلیق کا حسیں کرشمہ بھی ہے اور خود انسان کے خاکی وجود کا زریعہ تخلیق بھی۔ وہ آدم خاکی کے وجود کو لمحہ لمحہ اپنے لہو سے سینچتی ہے۔ وہ نو ماہ اسے اپنا جزو بدن بنا کر کرب اور آزار کو سہتی اور اپنی موت سے لڑ کر اسے جنم دیتی ہے۔

 

حال ہی میں جاپان کے ایک گورنر نے بڑا عجیب و غریب تجربہ کیا۔کہتے ہیں کہ جاپان کے مرد گھریلو امور میں عورت کی مدد کرنے میں بہت ہی پھوہڑ اور بے حس ثابت ہوئے ہیں۔ انہیں عورت کی مشکلات کا اندازہ کرنے میں بھی بالکل کورا سمجھا جاتا ہے۔ شاید اسی الزام کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ایک درد دل رکھنے والے جاپانی گورنر نے اپنے تئیں ایک سات ماہ کی حاملہ عورت کی تکلیف کو محسوس کرنے کے لئے 7.3کلو کے وزن کی جیکٹ کو پہنا۔اور نہ صرف اسے پہنا بلکہ دن بھر اس کے بوجھ کو سہارتے ہوئے اپنے روزمرہ کے اموربھی انجام دییے۔ واقعتاً یہ سب بہت مضحکہ خیز لگتا ہے۔ محض تمسخر اڑانے کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن بھلا گربھ کو اپنی کوکھ میں سہارے بنا کوئی اس بوجھ کو کیسے محسوس کر سکتا ہے؟ کوئی اس درد کو کیسے سمجھ سکتا ہے جو نو ماہ کے لئے عورت کی نس نس میں رچ بس جاتا ہے۔ جو نو مہینوں کے اک اک پل میں اپنے احساس اور شدت کو بدلتا رہتا ہے، ایک ایسا بدلاﺅ جو اپنی سنگینی اور اذیت کی ناقابل برداشت منزل کا سفر تو طے کرتا ہے لیکن کہیں کسی لمحے اس درد کے تھمنے یا رکنے کا کوئی احتمال بھی نہیں ہوپاتا۔ مرد کیسے محسوس کرے گا اس درد کو جو اس کے اندر پلنے والے اک جیتے جاگتے وجود کی بے سروپا حرکت سے جنم لیتا ہے، اس درد کی وہ ٹیسیں جو رات بھر اسے چین نہیں لینے دیتیں۔ وہ ٹیسیں جو اس وقت اٹھتی ہیں جب اس کے بدن میں پلنے والا وجود اس کی طاقت اور ہمت کو نوچ نوچ کر اپنا جزو بدن بنا رہا ہوتا ہے۔

 

عورت کی زندگی کا درد تو اس نو ماہ والی تکلیف کے گرداب سے کبھی نکل ہی نہیں پاتا۔۔۔۔ وہ دکھ میں رتی رتی تحلیل ہو نا جانتی ہے۔مرد کبھی تحلیل نہیں ہوتا۔ وہ ازل سے اپنی یکتائی پر مصر ہے۔
عورت کی زندگی کا درد تو اس نو ماہ والی تکلیف کے گرداب سے کبھی نکل ہی نہیں پاتا۔۔۔۔ وہ دکھ میں رتی رتی تحلیل ہو نا جانتی ہے۔مرد کبھی تحلیل نہیں ہوتا۔ وہ ازل سے اپنی یکتائی پر مصر ہے۔اس کی انفرادیت اس کی شناخت ہے۔ اور ” عورت “۔۔۔۔ وہ بھی تو اک جیتی جاگتی انسان ہے۔ اس کی روح کو بھی اس کی شناخت درکار ہوتی ہے۔ اسے بھی خود اپنے ہونے کے احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بھی خواب نگر کی باسی بننا چاہتی ہے لیکن جب وہ خواب بُننے کی عمر کو پہنچتی ہے، تو حقیقت کے نوکیلے دانت اس کے سپنوں کے سبھی دھاگے کاٹ کے رکھ دیتے ہیں۔ اور ٹوٹے ہوئے سبھی دھاگے باہم الجھ کے رہ جاتے ہیں، جنہیں پھر وہ زندگی بھر سلجھانے کی کوشش ہی کرتی رہتی ہے۔ عین اس لمحے جب وہ اپنی شناخت، اپنی انفرادیت کو ثابت کرنے کی چاہ کرنے لگتی ہے۔ اسے کسی اور کے سپرد کر کے اس کی شخصیت اور انفرادیت کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ بیش بہا آزادی کی خواہش کرتے کرتے سانس لینے کی آزادی بھی چھن جاتی ہے۔ سب کچھ تھم جاتا ہے۔ یہ سوال ساکت ہوجاتا ہے کہ ہم کس لئے پیدا کیے گئے بس یہ یاد رہ جاتا ہے کہ ہم خدمت کے لئے پیدا ہوئے۔ قربانیوں کی نئی داستانیں رقم کرنے کے لئے پیدا ہوئے۔ اس کے لئے خوشیوں کا معیار ہی بدل کے رکھ دیا جاتا ہے۔ زندگی کی سفاکی اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف سفر پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس کی دل شکنیوں کا ایسا دور شروع ہو جاتا ہے کہ پھر جسے کبھی کوئی زوال نہیں آ پاتا حتیٰ کہ عمر کو وقت کی دیمک چاٹ جاتی ہے۔لحظہ لحظہ اسے اس کی کم مائیگی کا ایسا احساس دلایا جاتا ہے کہ محسوس کرنے کی سبھی حسیات کے تار ہی بدن سے اکھڑ کے رہ جاتے ہیں۔ وہ بارش۔ وہ موسم جو کبھی آئے بنا بھی دل کے موسم کو اپنے حصار میں لئے رکھا کرتے تھے اب وہ آ بھی جائیں تو دل پر اثر انداز ہو ہی نہیں پاتے۔ باہر کا ہجوم اس کے باہر ہی رہ جاتا ہے اور اندر کی تنہائی وقت کے سبھی روشن دانوں اور دریچوں پر سر پٹختی رہ جاتی ہے۔ یہاں ہر کوئی اسے سمجھانا چاہتا ہے لیکن کوئی اسے سمجھنا نہیں چاہتا۔ اس کی عقل و دانش اس کا جرم یا مرد کا احساس کمتری بن جاتی ہے شاید اسی لئے وہ اسے بار بار مختلف حیلوں بہانوں سے باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ ”عورت کی عقل اس کی چوٹی کے نیچے ہوتی ہے“۔ عورت کھوکھلی ہونے لگتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں اپنے خواب چولھے کی آگ میں جھونک دیتی ہے۔ گویا اپنی ذات کے سبھی ہنر خود اپنے ہاتھوں گنوا بیٹھتی ہے۔

 

کیوں نہ مرد کبھی جاپان کے گورنر کی طرح اک ایسا تجربہ بھی کر کے دیکھے کہ عورت کی طرح محض ایک دن کے لئے اپنے خوابوں، اپنی تمناﺅں، اپنی آرزوﺅں سے جدا ہو کر دیکھے
آپ نے کبھی غور سے ریلوے اسٹیشن دیکھا ہے؟ شاید کبھی نظر پڑا ہو کوئی ایک تنہا مسافر جو اسٹیشن کی بھیڑ میں بھی تنہا ہوتا ہے۔ایک میلی کچیلی گٹھڑی اٹھائے۔اس کی آنکھوں کی بے بسی سے دکھائی دے رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس ٹکٹ بھی نہیں۔۔لیکن اسے جانا ضرور ہے ،۔۔۔لیکن کہاں یہ شاید اسے خود بھی معلوم نہیں۔کتنا لاچار ہوتا ہے وہ مسافر جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کی منزل کہاں ہے۔یہ ہے عورت کی زندگی۔ وہ ایک ایسا مزدور ہے کہ وقت کا کوئی انقلاب اس کی اجرت مقرر نہیں کر سکا۔ وہ عمر بھر محبتیں بانٹتی ہے لیکن محبت خود اس کے حصے بہت ہی کم آتی ہے۔ شوہر بھی محض اس کا جسم شئیر کرتا ہے اس کی روح نہیں۔ محبت تو کیا عمر بھر ستائیش کو بھی ترستی ہے، اس کی خدمتوں کا اک اقرار جو اس کے حوصلوں کے ٹوٹے ہوئے پروں کو بحال کر سکتا ہے لیکن اگر کبھی ”تشکر“ کے دو بول نصیب بھی ہوتے ہیں تو اخیر عمر میں، وقت کا بن باس کاٹ چکنے کے بعد۔۔۔۔اسے خود بھی اپنے خسارے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب سمے کی نقدی اس کے ہاتھ سے جا چکتی ہے۔ جب اپنے بارے سوچنے کا وقت ملتا ہے تو اپنے پاس رہ ہی کیا جاتا ہے جسے سوچا جائے۔ گویا عورت ایسی تخلیق کار ہے جو صدا سے بے قدری کا دکھ جھیلتی آئی ہے۔

 

گو کہ اسے ستائش نہیں ملتی ، گو کہ اس کا بار بانٹا نہیں جاتا پھر بھی وہ خاموشی سے سب سہتی رہتی ہے۔ اس کی منزل ،اس کے جذبات،اس کے خیال تک کا تعین اس کے مجازی خدا ہی کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ کیوں نہ مرد کبھی جاپان کے گورنر کی طرح اک ایسا تجربہ بھی کر کے دیکھے کہ عورت کی طرح محض ایک دن کے لئے اپنے خوابوں، اپنی تمناﺅں، اپنی آرزوﺅں سے جدا ہو کر دیکھے۔۔۔۔کیسا لگے گا جینا۔۔۔؟ کیا وہ اس طرح کے جینے کو جینا ہی سمجھ پائے گا؟۔۔۔نہیں مرد 7.3کلو کا بوجھ اٹھا کر چل تو سکتا ہے لیکن اپنے آپ کی، اپنے وجود کی نفی کر کے عورت ہی کی طرح ہنسی خوشی، بنا شکوہ شکایت کئے ایک دن تو کیا ایک پل بھی جی نہیں پائے گا۔ وہ عورت کی طرح اندر کی تنہائی کا زہر پی کر دوسروں کی محفل میں چراغاں نہیں کر پائے گا۔ کبھی جی کر تو دیکھے کوئی عورت کی زندگی کا اک دن تو کیا اک پل بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ڈر تو یہ ہے کہ اگر عورت کا بڑھتا گھریلو استحصال کم نہ ہوا، اگر خالق کائنات کی اس تخلیق کی جو کہ خود بھی تخلیق کا باعث اور تخلیق کار ہے، اسی طرح بے قدری ہوتی رہی۔ اگر اس کی ذات کو اسی طرح زمانہ اپنے قدموں تلے روندتا رہا تو کہیں یہ اپنے تخلیقی ہنر میں بانجھ نہ ہو جائے۔ اور اگر یہ بانجھ ہو گئی تو پھر کیا رہ جائے گا؟
Categories
عکس و صدا

طالبات اور شدت پسندی، آمنے سامنے

جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے ایک خاتون کا حجاب کهینچنا اور تین طالبات کو طمانچے اور ڈنڈے مارنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ بھی طالبان یا داعش سے کم شدت پسند نہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواتین کو چار دیواری میں محدود کردیا جائے اور انہیں ہراساں کر کے قابو میں رکها جائے۔
“جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے ایک خاتون کا حجاب کهینچنا اور تین طالبات کو طمانچے اور ڈنڈے مارنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ بھی طالبان یا داعش سے کم شدت پسند نہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواتین کو چار دیواری میں محدود کردیا جائے اور انہیں ہراساں کر کے قابو میں رکها جائے۔” 29 اکتوبر کو کرکٹ کھیلنے والی طالبات پر اسلامی جمعیت طلبہ کے حملے خلاف احتجاجاً کرکٹ کھیلنے والی طالبات نے لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔ جمعیت کے اس حملے کے نتیجے میں ایک طالب علم ثاقب زخمی ہوا تھا جبکہ تین طالبات کے ساتھ مار پیٹ کی گئی تھی۔ حملے کے ردعمل میں مختلف تدریسی شعبوں سے تعلق رکھنے والی یہ طالبات2 نومبرکو جامعہ کراچی کے ایڈمن بلاک کے سامنے احتجاجی کرکٹ میچ کھیلنے کو جمع ہوئیں ۔ طالبات نے اس موقع پر کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف احتجاج بھی کیا اور اپنی آزادی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

تصویر نمبر 1

جمعیت اراکین کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد ‘دباو میں آ کر’ انتظامیہ نے طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی ہے جس پر طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

 

‘شدت پسندی کے خلاف ڈٹ جانے والی یہ طالبات’ اپنی مرضی سے جینے اور فیصلے کرنے کے حق کے لیے اپنے مرد ساتھیوں کے ساتھ کرکٹ کھیل کر اسلامی جمعیت طلبہ کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ آزاد ہیں اور ان کی آزادی چند مذہبی شدت پسند سلب نہیں کر سکتے۔ ماہرین سماجیات کے مطابق اس کی بڑی وجہ مردانہ برتری کے فرسودہ تصورات اور آزادی نسواں سے متعلق پائے جانے والی عدم برداشت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرہ خاص کر مردجب تک عورت کو مساوی، فعال اور آزاد حیثیت میں تسلیم نہیں کریں گے تب تک تعلیمی اداروں میں بھی صورت حال بہتر نہیں ہو گی۔ تاہم کراچی یونیورسٹی کے سب مرد طلبہ قدامت پسند نہیں، کرکٹ کھیلنے والی طالبات کے ہمراہ اظہار یکجہتی کے لیے بہت سی طلبا بھی شریک ہوئے اور انہوں نے طالبات کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے۔ جمعیت اراکین کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد ‘دباو میں آ کر’ انتظامیہ نے طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی ہے جس پر طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس پابندی کےحوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

تصویر نمبر 2

 

اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو جمعیت کی جانب سے مزید دباوکا سامنا بھی کرنا پڑا۔ احتجاجی کرکٹ میچ کے دوران جمعیت کے اراکین نے ایک مرتبہ پھر طالبات کو کھلے عام کھیلنے سے زبردستی روکنے کی کوشش کی تاہم انہیں طلبہ کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کرکٹ کھیلتی طالبات کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے ایک رکن جمعیت کو طالبہ نے تھپڑ بھی رسید کیا۔ طلبہ نے جمعیت پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔

تصویر نمبر 3

 

جمعیت کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کے دوران انتظامیہ کا رویہ جانبدارانہ رہا۔موقع پر موجود طلبہ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے جامعہ کے تمام داخلی دروازے بند کر دیئے، کرکٹ میچ رکوا دیا اور صحافیوں کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی۔ طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ رینجرز کا رویہ خاموش تماشائی کا رہا ہے انہوں نے جمعیت کی ‘غنڈہ گردی’ سے طلبہ کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ لالٹین سے گفتگو کرنے والے طلبہ کے مطابق انتظامیہ اور یونیورسٹی میں تعینات رینجرز انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں،”جامعہ میں رینجرز کی بهاری نفری تعینات ہے مگر اسٹاف کالونی کے مکانات پر قبضے کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر رہے اور انتظامیہ بهی مجرمانہ طور پر خاموش ہے”۔
طالبات کا کہنا تها کہ ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے، ہم یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ ہماری آزادی ہم سے نہیں چھین سکتی۔

 

اسلامی جمعیت طلبہ کے ذرائع نے جمعیت اراکین کی جانب سے کسی طالبہ کے ساتھ بدتمیزی یا مارپیٹ کی تردید کی ہے تاہم انہوں نے تعلیمی اداروں میں ‘مخرب الاخلاق’ سرگرمیوں کی روک تھام کے عزم کا اظہار کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے سیکرٹری اطلاعات ساجد خان نے طالبات کو ہراساں کرنے کی اطلاعات کی تردید کی اور کہا کہ اس حوالے سے الزمات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے طالبات کو کرکٹ کھیلنے سے منع کرنے کی خبر کو بھی غلط قرار دیا۔
کراچی یونیورسٹی میں اسلامی جمیعت طلباء کے ناظم قاضی عبدالحسیب نے اس پورے معاملے ہی کو رد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمیعت ہر سال اسپورٹس ڈے مناتی ہے جس میں طالبات بھرپور انداز میں شرکت کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں نہ تو طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر اعتراض ہے اور نہ ہی اس کے کسی کارکن نے کسی پر کوئی تشدد کیا ہے۔ دوسری جانب طالبات کا کہنا تها کہ ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے، ہم یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ ہماری آزادی ہم سے نہیں چھین سکتی۔ تاہم طالبات نے انتظامیہ کی جانب سے خواتین کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی کی اطلاع کو مایوس کن قرار دیا ہے ۔ بہت سے طلبہ کے مطابق وہ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کریں گے۔کرکٹ کھیلنے کے بعد طالبات کی ایک بڑی تعداد نے جامعہ میں موجود ڈهابوں کا رخ کیا اور اپنی آزادی کا جشن منایا۔ ان طالبات کے مطابق اب وہ خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کر رہی ہیں۔
Categories
فکشن

تیز دھوپ میں کھلا گلاب

کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں نے مٹھو سے کہا کہ جا کر معلوم کرے کہ کیا مسئلہ ہے۔ واپس آ کر اس نے مجھے بتایا کہ سڑک پر ایک عورت بکریاں چرا رہی ہے اور بکریاں ہمارے گھر کے باہر والے لان میں گھس آئی ہیں۔ مجھے باغبانی سے از حد دلچسپی ہے اور جب سے ہم دوسرے شہر میں اپنا بڑا گھر چھوڑ کر اس شہر میں آئے ہیں میں اسی چھوٹے سے لان میں اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کر لیتا ہوں۔ نئی کالونیوں اور جدید بستیوں میں دس مرلے کے گھروں میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ میرے جیسا شخص اپنا شوق بطریق احسن پورا کر سکے۔ میرے ایک دوست نے باغبانی سے میری دلچسپی دیکھ کر میرا نام نباتاتی مریض رکھ چھوڑا ہے۔

اگرچہ مٹھو نے لان میں بکریوں کے آنے کا جو نقشہ پیش کیا تھا وہ میرے غصے کو آخری درجے تک پہنچانے کے لئے کافی تھا لیکن ارسطو کا نظریہ حکومت بھی غیر دلچسپ نہیں تھا۔ کتاب میں بک مارک رکھ کر میں کمرے سے باہر ٹیرس پر آ گیا۔ بکریاں اگرچہ اب لان میں نہیں تھیں تاہم وہ قریب ہی تھیں اور ایک بار پھر پودوں پر حملہ آور ہو سکتی تھیں۔ میں نے ذرا غور سے دیکھا تو میرے پور چو لاکا(Portulaca) کے چار پودے تو بالکل غائب تھے۔ ٹیرس کے جنگلے سے ہی میں اس عورت پر برس پڑا۔ وہ اپنے اوڈھ لہجے میں نہ جانے کیا بڑ بڑا رہی تھی جو کتے کے مسلسل بھونکنے کی وجہ سے سنائی نہیں دے رہا تھا۔ آخر مجھے نیچے آنا ہی پڑا۔ عورت پھٹے پرانے نیلے رنگ کے پیوند لگے کپڑوں میں ملبوس ، ننگے سر ننگے پاوں زمین پر متھلا مارے بیٹھی تھی۔ دھوپ کی حدت سے اس کا رنگ سیاحی مائل سرخ ہوگیا تھا۔ اس کے گلے میں گلٹ کا بنا ہوا بھدا سا نیکلس، کانوں میں پیلے رنگ کے جھمکے اور ناک میں اسی رنگ کی بلاقی تھی۔ اس کی کلائیوں کی ہڈیاں مضبوط تھیں اور اس امر کی گواہ تھیں کہ وہ زیر تعمیر عمارتوں میں اینٹیں ڈھونے اور بیلچہ چلانے کا کام کرتی ہے۔ مجھے اپنے قیمتی پودوں کے ضائع ہونے کا اتنا رنج تھا کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا۔

’’ کچھ معلوم ہے تمہیں۔۔۔؟ تم نے میرا کتنا نقصان کر دیا ہے۔۔۔‘‘
’’ کیا ہوا، ذرا بکریوں نے منہ مار لیا ہے‘‘
’’ یہ ذرا ہے، پورے چار پودے غائب ہیں اور تم کہہ رہی ہو ذرا‘‘
’’ کوئی بات نہیں صاب، اللہ اور دے گا۔۔ آخر بے زبان بکریوں نے بھی تو کچھ کھانا ہے نا۔‘‘
اس کی یہ منطق سن کر تو میں اور آگ بگولا ہو گیا۔
’’ بکریوں نے کھانا ہے تو میں نے کیا ٹھیکہ لے رکھا ہے، ان کا دودھ تم پیتی ہو، مجھے کوئی حصہ تو نہیں ملتا‘‘
’’ ایمان سے میری نہیں ہیں ، مجھے تو ان کو چرانے کے روز دس روپے ملتے ہیں ‘‘
’’ مجھے نہیں معلوم دس ملتے ہیں کہ بیس، تم نے میرا چارسو کا نقصان کر دیا ہے اور اوپر سے باتیں الگ بنا رہی ہو۔۔۔اگر میں ان پر اپنا کتا چھوڑ دیتا تو بکریوں سمیت تم کو بھی کھا جاتا‘‘
’’ہاں ہاں چھوڑ دو ہم پر کتے، اب یہی کسر تو رہ گئی ہے، تم بھرے پیٹ والے ہو، پیسے والے ہو، تمام خالی جگہیں خرید کر تم نے گھر بنا لئے ہیں ۔۔۔اب ہم پر کتے ہی چھوڑو گے۔۔ذرا روٹی کا آسرا ہے، وہ بھی چھین لو گے؟‘‘

بک بک کرتی وہ اٹھی اور پتلی چھڑی سے ہانکا کرتی بکریوں کو ہماری گلی سے باہر لے گئی۔ میں اس وقت بہت غصے میں تھا۔ دراصل میں نے بڑی محنت سے پہلے پنیری تیار کی، پھر کافی انتظار کے بعد انہیں الگ الگ کیاریوں میں لگایا تھا اور ابھی ان پر پھول آئے دو دن ہی ہوئے تھے کہ بکریوں نے دن کے وقت شب خون مار دیا تھا۔ میں نے لان کا جائزہ لیا تو وہاں صرف یہی چار پودے غائب نہیں تھے بلکہ بکریوں کی یلغار سے گارڈینیا کی باڑھ بھی ایک جگہ سے ٹوٹ چکی تھی ۔ البتہ گلِ نافرمان کا پودا بس تھوڑا ٹیڑھا ہوا تھا۔ میں نے فورا کچھ اینٹیں چن کر اس کے گرد رکھ دیں۔

سہ پہر کی چائے تیار تھی اور میری بیوی مجھے چائے کے لئے آوازی دے رہی تھی۔ میں نے ہاتھ دھوئے اور اوپر جا کر چائے پینے لگا۔ ہم میاں بیوی اس سلسلے میں بڑے خوش قسمت ہیں کہ ایک دوسرے کا موڈ پہچانتے ہیں۔ میرا غصہ کم کرنے کے لئے اس نے ادھر ادھر کی باتیں چھیڑ دیں اور میں بھی کتاب کی ورق گردانی کرنے لگا۔ میری نظریں تو کتاب پر تھیں لیکن میرا ذہن ضائع ہوجانے والے پودوں اور عورت کی باتوں میں اٹکا تھا۔ مجھے وہ عورت، اس کی مضبوط کلائیاں، اس کا مادر زاد ننگا بچہ، کڑتن سے بھرے تلخ الفاظ ، رہ رہ کے یاد آ رہے تھے۔۔ موٹے پیٹ والے۔۔۔ پیسے والے۔۔۔ بے وقوف عورت اتنا بھی نہیں جانتی کہ یہ گھر میرا نہیں بلکہ کرائے کا ہے اور ہم دونوں محنت مشقت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مجھے اس کی بے وقوفی اور سادگی پر ترس آنے لگا۔ پھر مجھے دیگر مزدور عورتوں کے ساتھ ساتھ نوکری پیشہ خواتین کا خیال آیا۔ مجھے اپنے دفتر میں کام کرنے والی خواتین کا خیال آیا کہ میں ان کا ہمیشہ احترام کرتا ہوں۔ بات بے بات شکریہ ادا کرنا، خوش مزاجی سے پیش آنا، ان کے نقطۂ نظر کا حتی الامکان احترام کرنا۔۔۔آخر میں یہ سب کیوں کرتا ہوں؟؟کیا میں دفتر میں ایک خول چڑھائے رکھتا ہوں۔ نہیں، ہر گز نہیں، میں اس بات پر پوری طرح یقین رکھتا ہوں کہ اس مردانہ برتری کے معاشرے میں عورت، مرد سے کہیں زیادہ جبر کا شکار ہے۔ میں نے عورت کو ہمیشہ اپنے جیسا انسان ہی جانا ہے اور اسے جنس یا کم تر جنس کے حوالے سے کبھی نہیں دیکھا۔ میں اپنی بیوی کی ہر رائے کا احترام کرتا ہوں اور ایک رفیق کی مانند اس کی مدد کرتا ہوں۔ گھر کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہوں لیکن اس بکریاں چرانے والی عورت کی ذرا سی لا پرواہی پر میں اتنا سیخ پا کیوں ہو گیا۔ کیا یہ جعلی پن ہے ؟ سوچوں تو کیا میں اکیلا اتنے بڑے ریوڑ کو قابو کر سکتا ہوں۔ کیا میں اس عورت کی جگہ اپنی بیوی، بہن، کولیگ یا دوست کو تصور کر سکتا ہوں؟ میرے ذہن کی رو اسی طرف بہنے لگی ہے اور ارسطو کا نظریہ حکومت وہیں رہ گیا ہے۔ میں نے کتاب بند کر دی ہے اور سگریٹ سلگا لیا ہے۔ اس عورت کے ساتھ میرا مکالمہ مجھے بار بار یاد آ رہا ہے۔ میرا ضمیر ملامت کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھ سے زیادتی ہو گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیئے۔ ہاں کل، یا اگلے چھٹی کے روز یا جب وہ نظر آئے۔
سہہ پہر کا وقت ہے۔ چھٹی کا دن ہے۔ کتا زور زور سے بھونک رہا ہے۔ میں نیچے آتا ہوں، گیٹ کھولتا ہوں۔۔۔وہی عورت۔۔۔میں اپنے آپ میں ہمت نہیں پاتا۔۔۔میں لان کے ایک کونے میں کھڑا ہو جاتا ہوں جہاں سے میرا خیال ہے کہ بکریاں آ سکتی ہیں، بس میں انہیں روک لوں گا۔

’’ فکر مت کرو بابو۔۔۔میرا دھیان ہے‘‘ عورت اوڈھ لہجے میں کہتی ہے اور کوڑے کرکٹ سے بھری زمین پر متھلا مار کر بیٹھ جاتی ہے۔ اس کی گود میں وہی بچہ ہے اور وہ بڑے پیار سے اپنے مہندی لگے ہاتھوں سے اس کے سر سے جوئیں نکال رہی ہے۔ میں حیران و ششدر وہیں کھڑا رہ جاتا ہوں۔

Categories
نقطۂ نظر

خدائے مرد، مردوں کا خدا ہے؟

جنید جمشید نے جب سے گائیکی کو خیرباد کہا ہے وہ متنازعہ بیانات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ ان کے بیانات سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے “عورت” ان کے پسندیدہ موضوعات میں سے ہے۔ ایک حالیہ ٹیلی وژن پروگرام کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ اللہ قرآن میں عورت کا نام لے کر ذکر کرنا پسند نہیں کرتا۔ موصوف فرماتے ہیں کہ قرآن میں صرف ایک عورت حضرت مریم علیہ سلام کا تذکرہ نام لے کر کیا گیا ہے اور وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی نسبت سے۔ اس امر کی توجیہہ وہ یوں پیش کرتے ہیں کہ
اول : اللہ عورت کا ذکر اس کے مرد کی نسبت سے کرتا ہے۔
دوم: اللہ ایسا اس لیے کرتا ہے تاکہ عورت کا پردہ قائم رہے۔

 

کیا جنید جمشید صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خدا مذکر ہے؟ کیا وہ یہ جتانا چاہتے ہیں کہ اس دنیا میں جہانبانی اور اقتدار پر مرد کا اختیار خدا کی طرف سے ودیعت کردہ ہے؟
جنید جمشید صاحب کو اپنی توجہ ذرا دیر کے لیے عورت کی ذات سے ہٹا کر اس کائنات کی وسعت پر مرکوز کرنی چاہیئے۔ یہ کائنات ایک اندازے کے مطابق یہ کائنات ایک سو ارب کہکشاوں کا جم غفیر ہے اور ہر کہکشاں دس سے سو ارب شمسی نظاموں کا مسکن ہے۔ ہر کہکشاں میں ہر برس مزید 500 نظام ہائے شمسی کا اضافہ ہوتا ہے۔ جنید جمشید اور ان جیسے مرد جس زمین کے باشندے ہیں وہ اس کائنات کی کھربوں کہکشاوں میں سے ایک کہکشاں کے اربوں نظام ہائے شمسی میں سے ایک نظام شمسی کے ایک سیارے پر بسنے والے محض سات ارب باشندوں میں شامل ہیں۔

 

جنید جمشید سے میرا سوال یہ ہے(اگرچہ میں ان سے کسی معقول جواب کی توقع نہیں رکھتی) کہ کیا خدائے عظیم و برتر نے یہ پوری کائنات محض مردوں کے لیے تخلیق کی ہے؟اس مرد کے لیے جو اس زمین پر تمام تر رزائل کے ساتھ موجود ہے؟کیا جنید جمشید صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خدا مذکر ہے؟ کیا وہ یہ جتانا چاہتے ہیں کہ اس دنیا میں جہانبانی اور اقتدار پر مرد کا اختیار خدا کی طرف سے ودیعت کردہ ہے؟ کیا وہ یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ خالق کائنات نے عورت کو (نعوذباللہ ) اس دنیا میں محض اپنی مخلوقات میں سے” افضل ترین” (مرد) کا دل بہلانے کے لیے پیدا کرتا ہے؟

 

عورت اس لیے اور اس وقت تک غیر محفوظ ہے جب تک مرد اسے اپنی ملکیت سمجھتے ہوئے اپنے تسلط میں لاکر چاردیواری میں مقید رکھے گا۔
جنید جمشید کا تصور خدا کیا ہے؟ کیا وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ (خاکم بدہن) خدا کو اس وسیع کائنات سے قطع نظر صرف مرد کی پسند ناپسند کا خیال ہے؟یا خدا(نعوذ باللہ) ہمیشہ اس فکر میں رہتا ہےکہ عورت کو مرد کی “پناہ” اور “حفاظت “میں دے کراس کی قدرومنزلت میں اضافہ کرے؟یا مرد کو عورت پر غالب کر کے مرد کی شان و شوکت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے؟ کیا جنید جمشید کا خدا صرف مرد کا خالق ہے جومحض مرد کو شناخت عطا کرنے اور اس کا تذکرہ کرنے کا خواہاں ہے؟

 

جنید جمشید کا یہ بیان کہ اللہ نے حضرت مریم علیہ سلام کا تذکرہ محض حضرت عیسی علیہ سلام کی مناسبت سے کیا ہے اللہ کی ذات اور اس کے طرزعمل سے متضاد ہے۔ ان کا یہ دعویٰ غیر عقلی، غیر منطقی اور مزاج ربانی سے متصادم ہے۔ اگر جنید جمشید کا نقطہ نظر درست ہوتا تو اللہ کبھی قرآن کی سورت کا نام “سورہ مریم” نہ رکھتا۔ میں جنید جمشید سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ جس خدا کو عورت کے تجارت کرنے، اپنے فیصلے کرنے اور شادی کا پیغام بھجوانے پر اعتراض نہیں اسے عورت کے تذکرے میں کوئی تامل کیوں کر ہوسکتا ہے؟ جس خدا کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں وہ مرد اور عورت کی تفریق کیوں کر روا رکھ سکتا ہے؟

 

جنید جمشید کا ماننا ہے کہ خدا نے عورت کی یہ “حیثیت” اس لیے متعین کی ہے کیوں کہ اسے عورت کا پردہ، احترام اور تحفظ مقصود ہے۔ اگر ذرا دیر کو یہ تسلیم کر بھی لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ عورت کو کس سے تحفظ کی ضرورت ہے؟ عورت اپنی ذاتی شناخت ، آزادی یا مرد کے مساوی حیثیت کی وجہ سے اس دنیا میں غیر محفوظ نہیں۔ عورت اس لیے اور اس وقت تک غیر محفوظ ہے جب تک مرد اسے اپنی ملکیت سمجھتے ہوئے اپنے تسلط میں لاکر چاردیواری میں مقید رکھے گا۔ عورت اس وقت تک غیر محفوظ ہے جب تک مرد عورت سے متعلق اپنی حدود سے لاعلم رہے گا۔

 

جنید جمشید کی موجودہ بیمار ذہنیت یک لخت وجود میں نہیں آئی بلکہ ان کی یہ کیفیت ان کے سابق طرززندگی (جس سے وہ ہمیشہ غیر مطمئن رہے ہوں گے)کے خلاف ایک روکاوٹ اور حریف کی صورت ہمیشہ سے ان کی شخصیت میں موجودرہی ہوگی۔
مردانہ اجارہ داری پر استوار معاشرے میں عورت کے تقدس اور تحفظ کو جواز بناکر اسےاپنی ملکیت ثابت کرنا بجائے خود ایک متناقض (self-contradictory) رائے ہے۔ اپنی تسکین اور تلذذ کے لیے عورت کو اپنا دست نگر رکھنااور اس کی شاخت کو روندنا ایک ناانصافی ہے اور اس ظلم کے لیے خدا کو ذمہ دار قرار دینا صریح گم راہی ہے۔ عورت صرف اُس معاشرے میں محفوظ رہ سکتی ہے جہاں مردوزن انسان آزاد اور خود مختار انسانوں کے طور پر ایک دوسرے کے رفیق ثابت ہوں۔ عورت کا تحفظ تبھی ممکن ہے جب اسے ایک مساوی اور فعال حیثیت میں معاشرے کا رکن تسلیم کیا جائے۔ مرد کو کسی حیثیت میں بھی عورت کی حیثیت اور مقام کے تعین کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔
جنید جمشید کے عورت سے متعلق افکار اور بیانات معاشرے کی عمومی اور خود ان کی ذاتی ذہنی پسماندگی کا اظہار ہیں۔ جنید جمشید کی موجودہ بیمار ذہنیت یک لخت وجود میں نہیں آئی بلکہ ان کی یہ کیفیت ان کے سابق طرززندگی (جس سے وہ ہمیشہ غیر مطمئن رہے ہوں گے)کے خلاف ایک روکاوٹ اور حریف کی صورت ہمیشہ سے ان کی شخصیت میں موجودرہی ہوگی۔ جنید جمشید کو یقیناً کسی عورت نے گانے بجانے جیسے “غیر مذہبی” فعل کے ارتکاب پر مجبور نہیں کیا جس کا کفارہ وہ عورت کوآزادی فکر، آزادی انتخاب اورآزادی رائے جیسے بنیادی حقوق سے محروم کر کے ادا کرنا چاہتے ہیں۔ جنید جمشید کے لیے میرا مشورہ یہی ہے کہ وہ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ اب وہ مشہور زمانہ پاپ سٹار جنید جمشید نہیں رہے۔ سستی شہرت کی وجوہ تلاش کرنا ترک کردینا ہی ان کے مفاد میں ہے۔

 

کارٹون بشکریہ صابر نذر
Categories
نقطۂ نظر

عورت ناکام ڈرائیور نہیں

اپنے شوہر کے بیرون ملک جانے کے بعد مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ تحفظ اور دیکھ بھال کے نام پر ہمارے باپ، بھائی اور شوہر ہمارے ساتھ کس قدر ناانصافی کرتے ہیں۔ پاوں چلنے سے لے کر گاڑی چلانے تک مجھے اور ہر عورت کو مرد کا محتاج بنانے کا نامحسوس عمل ہر عورت کی آزادی اور خود مختاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ میں اپنے والد، بھائیوں اور اپنے شوہر کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے زندگی میرے لیے آسان بنائی ہے لیکن اس آسانی اور سہولت نے مجھے کم زور کیا ہے۔ ہو سکتا ہے مجھے اس کم زوری اور بے بسی کا کبھی احساس نہیں ہوتا لیکن اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں روزانہ صبح بچوں کو سکول لانے اور لے جانے کی ذمہ داری آن پڑتے ہی مجھے احساس ہوا کہ سڑک عورت کا احترام نہیں کرتی۔ سڑک پر گاڑی چلاتے وقت ہر اشارہ، ہر موڑ، ہر گاڑی اور ہر فرد مجھے اور ہر عورت کو ایک ناکام ڈرائیور سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ عورتیں گاڑی چلانا چھوڑدیں۔
خود سکول جانے سے لے کر اپنے بچوں کو سکول بھجوانے تک محرم مرد کی محتاجی نے میرے اعتماد اور قوت فیصلہ کو بری طرح متاثر کیا ہے اور مجھے سڑک پرنادانستہ طور پر ہمیشہ ایک سہارے کا محتاج کر دیا ہے۔ میں37 برس کی ہونے کے باوجود نا چاہتے ہوئے بھی گھر سے نکلنے، اکیلے جانے اور گاڑی چلانے میں خوف محسوس کرتی ہوں۔ یہ خوف پرورش کے دوران ہم عورتوں کی ہڈیوں کے گودے تک بٹھا دیا گیا ہے اور دنیا خاص کر سڑک اور بازار کو ہمارے لیے اس قدر اجنبی کر دیا گیا ہے کہ اب دن کی روشنی میں خالی سڑک پر بھی یہی خوف رہتا ہے کہ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے۔ یقین جانیے کہ میرا آٹھ سالہ بیٹا سڑک پر مجھ سے زیادہ بے خوف اور نڈر ہےاور ٹریفک کی بہتر سوجھ بوجھ رکھتا ہے،اور تشویش اس بات کی ہے کہ میری بیٹی بھی میرا یہ خوف اپنا چکی ہے جو ہم سب عورتوں کا مشترکہ خوف ہے۔یہی وہ خوف ہے جو گھر سے سڑک اور سڑک سے پارلیمان تک ہر عورت کی نسوں میں اتار دیا گیا ہے۔
یہ صرف سعودی عرب نہیں جہاں عورت کا گاڑی چلانا ممنوع ہے بلکہ دنیا کے ہر معاشرے میں عورت کی ڈرائیونگ کے حوالے سے لطائف، ٹیبوز، مردانہ شرافت کے معیارات (Male Chivalry) اور پدرسری روایات کی صورت میں غیر رسمی پابندیاں اور رکاوٹیں موجود ہیں۔
میں اپنے خاندان کی اس نسل کی نمائندہ ہوں جنہوں نے پہلی بار ڈگری حاصل کی، شناختی کارڈ بنوائے، نکاح نامے پر انگوٹھا لگانے کی بجائے دستخط کیے اور ڈرائیونگ لائسنس بنوایا لیکن میں اپنے خاندان کی پہلی خود مختار اور پراعتماد عورت بننے میں ناکام رہی ہوں۔ میں اپنے سرپرست مردوں کے باعث ایک مکمل عورت اور ایک خود مختار انسان بننے میں ناکام رہی ہوں۔ یہ صرف سعودی عرب نہیں جہاں عورت کا گاڑی چلانا ممنوع ہے بلکہ دنیا کے ہر معاشرے میں عورت کی ڈرائیونگ کے حوالے سے لطائف، ٹیبوز، مردانہ شرافت کے معیارات (Male Chivalry) اور پدرسری روایات کی صورت میں غیر رسمی پابندیاں اور رکاوٹیں موجود ہیں۔ ایک خاتون ڈرائیور کو جس قدر دباو اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مرد ڈرائیور کبھی نہ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی برداشت کرسکتے ہیں۔
سڑک پر حادثہ ہو یا ٹریفک جام ہر مردڈرائیور اور رہگیر ہمارے خوف میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب بھی کہیں کوئی خاتون ڈرائیور نظر آئے تو شیشوں سے جھانکنا، غیر ضروری ہارن بجانا، غلط اشارہ(Indicator) دینا، آنکھوں میں تیز روشنی ڈالنا، آوازے کسنا، تمسخر کرنا اور بد حواس کرنا شاید بیشتر مرد ڈرائیوروں کی عادت ہے جو عورت کی آزادانہ نقل و حرکت اور پراعتماد ڈرائیونگ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ جنید جمشید اور طارق جمیل ہی کی طرح یہ مرد حضرات جو سڑک پر عورت کو ناکام ثابت کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کرتے ہیں عورت کے ازلی خوف اور بے بسی کے ذمہ دار ہیں۔ایک عورت کی بری ڈرائیونگ کے پیچھے اس کا عورت ہونا نہیں بلکہ پیدائش سے موت تک اس کی نقل و حرکت پر عائد وہ پابندیاں ہیں جو اسے اکیلے آنے جانے، میل جول رکھنے اور فیصلے کرنے سے روکتی ہیں۔ عورت کے “ناقص ڈرائیور” ہونے کی وجہ اس کا مردوں کے کہے کے مطابق “ناقص العقل” ہونا نہیں بلکہ وہ روایات ہیں جو عورت کی خّد مختاری کی نفی کرتی ہیں اور دنیا خصوصاً سڑک کو اس کے لیے غیر محفوظ بناتی ہیں۔ آپ ایک ایسی عورت سے جسے زندگی بھر اکیلے آنےجانے، تنہا گھومنے پھرنے اور سائیکل، موٹر سائیکل چلانے یا سڑک پار کرنے کا موقع نہیں ملا ، سے پہلے ہی روز سٹیئرنگ سبھالتے ہی ایک ایسے مرد جیسا اچھا ڈرائیور ہونے کا تقاضا نہیں کرسکتے جسے ہوش سنبھالتے ہی نقل و حرکت کی مکمل آزادی ملی ہو۔ عورت ناکام ڈرائیور نہیں وہ پدر سری روایات ناکام ڈرائیور ہیں جو عورت کو نقل و حرکت کے لیے مرد کا محتاج بناتی ہیں اور اس کے اکیلے اپنے طور پرآنے جانے کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔
ایک عورت کی بری ڈرائیونگ کے پیچھے اس کا عورت ہونا نہیں بلکہ پیدائش سے موت تک اس کی نقل و حرکت پر عائد وہ پابندیاں ہیں جو اسے اکیلے آنے جانے، میل جول رکھنے اور فیصلے کرنے سے روکتی ہیں۔
پاکستان جیسے قدامت پسند معاشروں میں جہاں عورت کو سائیکل اور موٹر سائیکل چلانے کی آزادی نہیں وہاں عورت کو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا کر یہ سمجھنا کہ وہ ہر سماجی دباو، معاشرتی پابندی اور مردانہ رویہ سے بے نیاز ہو کر گاڑی چلانا شروع کردے ایک خام خیالی ہے۔ ہمیں بچپن سے عورت کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کی بھی اپنے بیٹوں کی طرح حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ ہمیں گاڑی کے علاوہ، رکشہ، ٹیکسی، موٹر سائیکل، سائیکل، بس، ٹرک حتیٰ کہ ہوائی جہاز چلانے والی خواتین کی عادت ڈالنی ہے اور اس کے لیے اپنی بیٹیوں کو سائیکل دلانے اور پھر سڑک پر تنہا اسے چلانے کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہوگی۔
Categories
نان فکشن

II-عورت، عزت اور قانون

یہ اس مضمون کا دوسرا حصہ ہے، پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
بشریات کے ماہر اس بات پہ متفق ہیں کہ معاشرتی اقدار اور ڈھانچے ہی دراصل یہ طے کرتے ہیں کہ لوگ آپس میں پیدا ہونے والے جھگڑوں اور اختلافات کیسے نپٹائیں گے چناچہ قانون کی نظر میں برابری کے تصورات کی موجودگی کے باوجود پاکستانی معاشرے کے سماجی ڈھانچے اور اس کے ساتھ وابستہ معاشی پیداواری رشتوں کو سمجھنا نہایت ضروری ہے جو مغربی قانون کے تحت دیے گئے انفرادی حقوق کی بجائے مقامی سماجی نظام کو برقرار رکھنے کی ضرورت کے تحت ’انصاف ‘ کی فراہمی کا باعث بنتے ہیں ۔پاکستانی معاشرہ برادری ، قبیلے اور ذات کی بنیاد پر قائم معاشرہ ہے جو نسب کی بنیاد پر سماجی درجہ بندی کر کے خود کو مختلف خاندانوں ذاتوں اور طبقوں میں تقسیم کرتا ہے چنانچہ پاکستانی معاشرہ میں عزت کا تصور یقینی طور پریورپی معاشروں سے مختلف ہے کیوں کہ پاکستانی معاشرہ contract based معاشرے کی بجائے ایک status based معاشرہ ہے۔ اس فرق کو سماجی تبدیلی کیلئے سنجیداور مثبت کوشش کرنے والوں کے لیے جاننا ضروری ہے۔
سماجی ڈھانچے وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی معاشی تبدیلیوں کے زیرِ اثر خود کو ڈھالتے ہیں جس کی ایک بہت بڑی مثال یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد عورتوں کا معاشی اور سماجی طور پر بلند ہوتا ہوا رتبہ ہے جبکہ پاکستان میں آج بھی عورت غیر رسمی شعبے ( Informal sector) میں افرادی قوت کا اسی فیصد حصہ ہونے کا باوجود اپنی زندگی کے بنیادی فیصلے کرنے میں آزاد نہیں، اس تاریخی دوئی کا شجرہ نسب جاننے کیلئے بھی ہمیں تاریخ ہی کے سمندر میں اترنا پڑے گا۔ موجودہ پاکستان میں روایتی پدرسری اور عوت دشمن سماجی تشکیل کے باقی رہ جانے کی ایک بڑی وجہ ان علاقوں میں نوآبادیاتی دور میں مقامی معاشرتی روایات کو برقرار رکھنے کا سرکاری لائحہ عمل ہے۔ پنجاب اور سندھ بالترتیب 1849 اور 1843 میں نوآبادیاتی نظام کا حصہ بنے تاریخی طور پر باقی ہندوستان کے بالمقابل یہ دونوں صوبے تاخیر سے برطانوی قبضے میں آئے اور اسی وجہ سے جنوبی ہندوستان کی نسبت نوآبادیاتی نظام کا سماجی اور سیاسی بندوبست معیاری سطح پر مختلف رہا،یقیناً1857 کی جنگِ آزادی نے بھی اس اختلافی بندوبست کی ضرورت کو نئے حکمرانوں کی نظر میں اہمیت بخشی۔برطانوی راج کو اپنی بقا کے لیے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع آمدورفت کی ضرورت تھی وہیں ایک وفادار مقامی طبقہ سیاسی استحکام کیلئے ضروری تھا اس تاریخی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے نوآبادیاتی ایڈمنسٹریٹرز نے نئے نظام کو آراستہ کرنے کیلئے نوزائیدہ سماجی علوم ( عمرانیات اور بشریات) سے بھرپور مدد لی۔نوآبادیاتی نظام حکومت کو مقامی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے معاشرے کی ایسی سماجی ساخت کو پروان چڑھایا گیا جو کہ راج کی تمام ضرورتوں کو بخوبی پورا کر سکے سیاسی اور معاشی امور میں تسلسل کیلئے تو برطانوی فوجداری اور دیوانی قوانین لاگو کیے گئے جبکہ معاشرتی مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے ’روایتی‘ قانون کی ایک جدید شکل کو نافذ کیا گیا ۔ اکثرتاریخ دانوں کے برعکس عمران علی لکھتے ہیں
’ پنجاب میں برطانوی راج کا نہری نوآبادیات کا تجربہ سماجی انجینیئرنگ کی ایسی مثال ہے جس میں ایک مخصوص رجعت پسندی پر مبنی سماجی اور سیاسی ڈھانچہ پنجاب پر مسلط کر کے اس کے سماجی ارتقاء پر ایک بند باندھ گیا‘
(صفحہ- 58، حوالہ نمبر 2)
Gilmartin اس سماجی ڈھانچے کی بابت لکھتے ہیں؛
’انہوں (نوآبدیاتی ریاست) نے ریاستی اتھارٹی کو ایک ایسی مقامی سماجی تنظیم کے ڈھانچے کے ساتھ استوار کیا ،جس کی وضاحت اور تعمیر،برطانوی سماجیات کے تحت ریاست نے خود کی تھی۔چناچہ پنجاب کے’روایتی‘ ڈھانچے کا تحفظ ہی دراصل اس امپیریل ریاست کے قائم رہنے کا بنیادی اصول اور جواز بن گیا‘( حوالہ نمبر -3)
اس روایتی قانون کے تحت برادریوں کی ایک ایسی درجہ بندی کی گئی جس میں عوام کو زمیندار اور غیر زمیندار برادریوں میں تقسیم کر کے سماجی نابرابری کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا گیا(تفصیلات کیلئے دیکھئے land alienation act) اگرچہ تاریخی طور پر پنجابی اور سندھی معاشرہ کسی بھی طور مثالی مساوت کا نمونہ نہیں رہا تاہم پہلی بار ذاتی ملکیت، جدید ریوینیو سسٹم ،نقد آور فصلوں کی کاشت اور عالمی مارکیٹ کے ساتھ مقامی معشیت کی جڑت سے جو سماجی اور سیاسی تبدیلیاں بقیہ ہندوستانی صوبوں (مثلا بنگال،مہاراشٹر اور مرکزی صوبوں) میں آئیں پاکستان کے حصے میں آنے والے علاقے اس تبدیلی کا حصہ نہیں بن سکے۔
ہندوستان کی آزادی کی تحریک پر ایک طائرانہ نظر ہی یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ پنجاب اور سندھ کے برعکس دوسرے صوبوں سے عورتوں کی نمائندگی کہیں زیادہ تھی۔
ہندوستان کی آزادی کی تحریک پر ایک طائرانہ نظر ہی یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ پنجاب اور سندھ کے برعکس دوسرے صوبوں سے عورتوں کی نمائندگی کہیں زیادہ تھی۔ اس تناطر میں اگر دیکھا جائے تو یہ رائے قایم کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ برطانوی راج کے دوران پدر شاہی بنیادوں پر ہونے والی سماجی تنظیم نو نے پاکستانی عورت کو با اختیار کرنے والے ان تمام سماجی مواقع کا گلہ گھونٹ دیا جو اس خطے کی دیگر عورتوں کو دوسری جگہوں پر میسر آئے۔اگرچہ 1937میں customary lawکوMuslim Personal lawسے تبدیل کر دیا گیا لیکن معاشرے کے سماج ڈھانچے جو استحصالی معاشی ڈھانچوں پر استوار تھے تبدیل نہ ہو سکے اور نہ ہی ان ڈھانچوں کے پس منظر میں موجود نظریاتی بنیاد کو چیلنج کیا جا سکا۔ یہی سماجی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے تقسیم کے بعد پاکستان کو ترکے میں ملے اور پاکستانی حکمرانوں نے اس ترکے کو ترک کرنے کی بجائے سینے سے لگا لیا ۔شہری اور ریاست کے درمیان موجود رشتے کو برابری کی سطح پر قائم کرنے کی بجائے پرانے طرز حکومت کو بحال رکھا گیا جس کی وجہ سے ظاہری طور پر تو بہت کچھ بدلا لیکن بنیادی سماجی ڈھانچہ اور نظامِِ اقدار قائم رہا، نام نہاد ترقی تو بہت ہوئی پر انسانوں کی حالت مزید ابتر ہوئی،گدھا گاڑی سے میٹرو تک کے اس سفر میں ریاست نے ملک کا طبیعی چہرہ تو بدل ڈالا پر ذہنی کیفیات کو نہیں بدلا جا سکا اسی لیے صنفی اور مسلکی امتیاز، اونچ نیچ اور تفریق میں اضافہ ہوا ہے۔
مغربیت کے خلاف پیدا ہونے والی ایک عمومی رائے نے عورت مخالف عناصر کو مزید بڑھاوا دیا ہے اور رجعتی اداروں جیسا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودگی نے ملکی سطح پر عورتوں سے متعلق اصولی قانونی تبدیلی کو بہت حد تک خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے۔
روایتی قانون میں جہاں پہلے ہی عزت کو عورت کی جنسیت (Sexuality) سے منسلک کر کے دیکھا جاتا ہے اسلامی بنیاد پرستی کی لہر اور ریاست کی سرپرستی نے صورتحال کو عورتوں کیلئے مزید پیچیدہ کر دیاہے۔ مغربیت کے خلاف پیدا ہونے والی ایک عمومی رائے نے عورت مخالف عناصر کو مزید بڑھاوا دیا ہے اور رجعتی اداروں جیسا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودگی نے ملکی سطح پر عورتوں سے متعلق اصولی قانونی تبدیلی کو بہت حد تک خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے۔اگرچہ نعروں کی حد تک تو پارلیمنٹ قانون سازی میں آزاد ہے لیکن اسٹیبلیشمنٹ جو برطانوی راج کا ہی تسلسل ہے، کی پشت پناہی کے باعث پاکستانی غیرت بریگیڈ ایسی کسی بھی قانونی کوشش کو کامیابی سے ناکام بناسکتی ہے۔ایسے میں خواتین ارکان کی پارلیمنٹ میں تعداد بڑھانے سے ، خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے تھوک کے حساب سےNGOsکھولنے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ سیاسی کنٹرول کیلئے بنائے گئے سماجی ڈھانچوں کو ایک سیاسی جدوجہد سے ہی اکھاڑا جا سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے تمام سیاسی جماعتیں خواتین کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے پر تیار نہیں ہیں، شاید ایسے کسی مسئلے کی انتخابی سیاست میں کوئی گنجائش موجود نہیں اور شاید یہ معاملہ تبدیلی کے علمبرداروں کا بھی مطمع نظر نہیں ایسے میں ساحر صاحب کا بین تمام پاکیزہ اسلامی غیرت مندوں کی توجہ کا منتظر ہے:
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی!
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟

[spacer color=”BCBCBC” icon=”fa-times” style=”2″]

کتابیات
  1. Chaudhary, Azam.”The Rule of Law Problems in Pakistan: An Anthropological Perspective of the Daughter\’s Traditional Share in the Patrimony in the Punjab”, Pakistan Journal of History & Culture February 30, 2009.
  2. Ali, Imran. The Punjab under imperialism, 1885-1947. Princeton: Princeton University Press, 1988.
  3. Gilmartin, David. Empire and Islam: Punjab and the making of Pakistan. Berkeley: University of California Press1988
Categories
نقطۂ نظر

عورت ، عزت اور قانون

ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کے معاشی، سماجی اور سیاسی خلفشار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، معیشت کی دگرگوں صورت حال ایک طرف سے عام پاکستانی کی چیخیں نکلوا رہی ہے تو سیاسی تقسیم اور سماجی مغائرت نے معاشرے میں موجود روایتی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ اس وقت روایتی سماجی ادارے ایک نہایت نازک لیکن اہم تبدیلی سے گزر رہے ہیں اور روایتی اخلاقیات اورمعاشرتی اداروں کا رشتہ سماجی طور پر سرمایے سے منسلک ہوتا جا رہا ہے۔پاکستانی معاشرے میں عزت اور غیرت کاتصور تیزی سے زر کے رشتے(cash nexus) میں بندھتا جا رہا ہے جیسے اس سماج کی سیاسی معیشت اور تاریخ کے تناظر میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔
حقیقت میں عزت اورغیرت کا علاقائی تصور کسی بھی طرح مذہبی نہیں بلکہ روایتی ہےجسے مقامی پدرسری سماجی روایات تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
فرزانہ پروین کے غیرت کے نام پہ قتل کےچنددن بعدآخرکار غیرت مند قوم کے غیرت مند علماء نے انصاف کے حاتم طائی بنتے ہوئے غیرت کے نام پہ قتل کو ’غیر اسلامی‘ قرار دےدیا تھا جو کہ کہنے والوں کے نزدیک شاید ایک بہت اہم تبدیلی تھی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر اس چیز پر جس کا مذہب سے دور کا تعلق بھی نہ ہو پر اسلام کے نفاذ کی روایت بہت پرانی ہے جس سے سماجی مسائل سلجھنے کی بجائے مزید الجھتے ہیں۔ حقیقت میں عزت اورغیرت کا علاقائی تصور کسی بھی طرح مذہبی نہیں بلکہ روایتی(customary) ہےجسے مقامی پدرسری سماجی روایات تحفظ فراہم کرتی ہیں۔غیرت کے نام پہ ہونے والے تشدد کے اعداد و شمار جمع کرنے والے ایک عالمی ادارے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ ہزار سے زائد عورتوں کو عزت کے نام پہ قتل کر دیا جاتا ہے جن کی اکثریت مسلمان ممالک سے تعلق رکھتی ہے ۔اس وقت صرف پاکستان اور ہندوستان میں سالانہ دوہزار عورتیں غیرت کے نام پر قتل کی جارہی ہیں، ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے مطابق 2013میں اس آڑ میں قتل کی گئی خواتین کی تعداد 829تھی۔دنیا بھر میں عزت کے نام پر ہونے والے ’گناہوں‘ میں پاکستان کا حصہ ۲۰ فیصد ہے ۔
پاکستان میں حقوق نسواں کی پرچارک غیر سرکاری تنظیمیں اور کارکن ہوں یا انسانی حقوق کی علمبردار عالمی تنظمیں سبھی کی تان آخرکار ’قانون کی حکمرانی‘ کے انترے پر ہی آ ٹوٹتی ہے۔ ہر ذی شعور پر یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اب سماجی قوانین قانون آسمان سے نازل نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے نفاذ کیلئے فرشتے قطاریں باندھے اترتے ہیں۔ جدید جمہوری ریاست میں قانون سازی منتخب پارلیمان کا استحقاق ہے اور اس کا نفاذ صنفی، نسلی اور مسلکی تعصبات سے پاک انتظامی ادارے مثلا پولیس،عدلیہ اور افسر شاہی (مشہور جرمن سوشل سائنٹسٹ weber کے مطابق معاشرے میں موجود ہر طرح کے علاقائی ،ملی اور مذہبی عصبیت سے پاک ہوں) کا آئینی فریضہ ہے۔بدقستی سے پاکستان کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستانی پارلیمان غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ قانون سازی کرنے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موجودہ قوانین کے موثر اطلاق میں ناکام رہے ہیں ۔میرے اس دعوے کی بنیاد یہ دلیل ہے کہ، پاکستانی قانون ساز اسی پدرسری ثقافت کی پیداوار ہیں اور اسی معاشرے میں موجود سماجی ،معاشی اور نسبی اونچ نیچ کے براہ راست پروردہ ہیں (جیسا کی سینٹر اسرار اللہ زہری کی غیرت کے نام پہ قتل کی حمایت سے ظاہر ہے) جو غیرت کے نام پر قتل کو تحفظ فراہم کرتا ہے اس لیے ان سیاستدانوں کے ہاتھوں ایسی قانون سازی بعد از قیاس ہے۔
ریاستِ پاکستان بقول Oskar Verkaaik مختلف مفاداتی گروہوںکا اکھاڑہ بن چکی ہے ۔ ہر آنے والی سیاسی اور خاکی حکومت نے اپنے ’وفادار لوگ‘ اداروں میں بھرتی کر کے ان اداروں کی پیشہ وارانہ غیر جانبداری کو متاثر کیا ہے اور سرکاری عہدے داروں میں ثقافتی اور سیاسی قدامت پسندی کو فروغ دیا ہے۔ جیسا کہ غیرت کےنام پہ ہونے والے جرائم کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ان جرائم کے خلاف مقدمات کے اندراج سے لے کر تحقیقات تک’قد آور‘ شخصیات اور پدرسری روایات کو حقائق پر فوقیت دیتے ہیں۔
غیرت کےنام پہ ہونے والے جرائم کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ان جرائم کے خلاف مقدمات کے اندراج سے لے کر تحقیقات تک’قد آور‘ شخصیات اور پدرسری روایات کو حقائق پر فوقیت دیتے ہیں۔
ایسے جرائم کے حوالے سے دیکھا یہ گیا ہے کہ جیسے ہی ایسا کوئی واقعہ پاکستانی ’ قومی شعور‘ میں کہیں کونے کھدرے میں دبی انسانیت کو للکارتا ہے تو پھر اعلی سطحی فیصلے کیے جاتے ہیں، اخبار خصوصی ضمیمے چھاپتے ہیں، انسانی حقوق کے کارکن احتجاج کرتے ہیں، عالمی ادارے ورکشاپس منعقد کرتے ہیں، امداد دہندگان سماجی حساسیت(Social Sensitization) کے فروغ اور حقوق نسواں کے تحفظ کےلیے نئے منصوبوں کا اجراء کرتے ہیں ( جن کا مقصد کچھ بھی ہو مقامی سطح پرانہیں بیرونی مداخلت کے طور پر دیکھا جاتا ہے) اورپھر کسی اگلے ایسے ہی واقعے تک کیلئے سب کچھ آہستہ آہستہ وقت کی دھند میں چھپ جاتا ہے۔ ان واقعات کی روک تھام کےلیےضروری ہے کہ ان واقعات کو ان کے درست تاریخی ، سماجی، ثقافتی ، معاشی اور سیاسی تناظر میں دیکھا جائے کیونکہ غیرت کے نام پہ قتل اکثریت کی رائے کے برعکس میرے خیال میں صرف ایک قانونی نہیں بلکہ ایک سیاسی اور سماجی مسئلہ بھی ہے۔
ڈاکٹر اعظم چوہدری کے مطابق؛
قانون کی حکمرانی کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے میں ایک ہی قانون کی علمداری ہو اور وہ قانون ریاست کا ہو۔ جبکہ پاکستان قانونی طور پہ ایک اکائی نہیں اور یہاں ریاستی قانون کے ساتھ ساتھ اسلامی اور روایتی قانون بھی موجود ہے اگرچہ ریاست دوسرے قوانین کی موجودگی کو ماننے سے انکار کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں حاوی قانون روایتی قانون ہےاور یہ اس لیے ہے کیونکہ عوام قانون پہ عمل اپنے سماجی ڈھانچوں (social structures) اور اقدار کے تحت کرتے ہیں۔
جاری ہے

کتابیات

1. Chaudhary, Azam.”The Rule of Law Problems in Pakistan: An Anthropological Perspective of the Daughter\’s Traditional Share in the Patrimony in the Punjab”, Pakistan Journal of History & Culture February 30, 2009.

  1. Ali, Imran. The Punjab under imperialism, 1885-1947. Princeton: Princeton University Press, 1988.
  2. Gilmartin, David. Empire and Islam: Punjab and the making of Pakistan. Berkeley: University of California Press1988.
Categories
نقطۂ نظر

جنید جمشید عورت سے کب معافی مانگیں گے؟

جنید جمشید کچھ عرصہ قبل ایک ٹی وی پروگرام میں خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت پر اعتراض کر چکے ہیں جس کے بعد انہیں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم ان کی جانب سے اس امر پر خواتین یا معاشرے سے معافی نہیں مانگی گئی۔ چند روز قبل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک واقعہ سے متعلق سامنے آنے والی ایک ویڈیو پر جنید جمشید کی جانب سے فوری معذرت طلب کیا جانا یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ کسی بھی فرد پر توہین مذہب یا توہین رسالت کا الزام اسے اپنے موقف، نظریہ، مسلک یا عمل سے دست بردار ہونے پر مجبور کر سکتا ہے۔
جنید جمشید کے خواتین سے متعلق افکار نہ صرف دقیانوسی اور قابل اعتراض بلکہ غیر انسانی بھی ہیں تاہم انہیں مذہب اور تبلیغ کی آڑ میں تب تک ایسے خیالات کے اظہار میں کسی روکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا جب تک کہ علماء کے ایک اور گروہ کی جانب سے ان پر توہین کے الزامات عائد نہیں کیے گئے۔
جنید جمشید کے خواتین سے متعلق افکار نہ صرف دقیانوسی اور قابل اعتراض بلکہ غیر انسانی بھی ہیں تاہم انہیں مذہب اور تبلیغ کی آڑ میں تب تک ایسے خیالات کے اظہار میں کسی روکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا جب تک کہ علماء کے ایک اور گروہ کی جانب سے ان پر توہین کے الزامات عائد نہیں کیے گئے۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ جنید جمشید کے افکار کا علمی جواب دینے کی بجائے انہیں ایک متنازعہ قانون کا سہارا لیتے ہوئے محض ایک الزام عائد کرکے اپنی بات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا ہے، یہ صورتحال جہاں تشویش ناک ہے وہیں جنید جمشید کو بیک وقت مظلوم اور قصور وار بھی ٹھہرا رہی ہے۔ ایک جانب جنید جمشید اپنے خواتین سے متعلق فرسودہ اور توہین آمیز افکار سے منحرف ہونے کو تیار نہیں وہیں وہ ایک ایسے قانون کی زد میں آنے کے باعث مظلوم بھی ہیں جو پاکستان میں کسی بھی فرد سے انتقام لینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف جنید جمشید کی جانب سے خواتین سے متعلق اپنے افکار پر معذرت کرنے کی بجائے علماء کے ایک گروہ کے دباو پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر بھی اعتراض کیا جسا سکتا ہے۔ گو کہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے اور اس پر معافی مانگنے کا رحجان قابل ستائش ہے تاہم بادی النظر میں یہ معافی خواتین سے متعلق اپنے افکار پر نہیں بلکہ مبینہ طور پر توہین کا مرتکب ہونے پر مانگی گئی ہے۔ توہین کے الزامات کے تحت معاف مانگنے کے حوالے سے یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس ضمن میں کیا معافی مانگنا سبھی کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے ؟ جیو ٹی وی کے معاملہ میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ معافی مانگنے کا عمل مذہبی علماءکی تشفی نہیں کر سکا۔
جنید جمشید کے حالیہ واقعہ سے قبل جیو ٹیلی وژن نیٹ ورک کے پروگرام اٹھو جاگو پاکستان میں پیش کی جانے والی قوالی کو بنیاد بنا کر شائشتہ لودھی، میر شکیل الرحمن ، وینا ملک اور ان کے شوہر کے خلاف قائم کیے جانے والے مقدمات کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ الزام لگنے کے فوراً بعد الزام ثابت کیے بغیر ہی عوامی ردعمل کے خوف سے معافی مانگنے کا رحجان بھی تشویش ناک ہے۔ یہ صورت حال جہاں ایک طرف آزادی اظہار رائے کے منافی قرار دی جا سکتی ہے وہیں مذہبی قوانین کے غلط استعمال کو بڑھاوا دینے کا باعث بھی بن رہی ہے۔ اس رحجان کے تحت ممکن ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین، خلافت راشدہ اور کربلا کے واقعات سے متعلق متنازعہ تاریخی افکار کا حامل ہونے کی بناء پر کل کلاں کو تمام فرقہ ایک دوسرے پر توہین کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیں۔
معاملہ نہ جنید جمشید کی معافی کا ہے نہ ان کے استاد محترم مولانا طارق جمیل کی جانب سے تنبیہ کا بلکہ خواتین سے متعلق مذہبی ذہنیت اورتوہین مذہب کے قوانین کے بے جا استعمال کا ہے
مولانا طارق جمیل کی جانب سے جنید جمشید سے علیحدگی تب بھی ظاہر کی جانی چاہیے تھی جب وہ عورت سے متعلق توہین آمیز افکار کی تبلیغ کر رہے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعہ کے انداز بیان جہاں ایک طرف (نعوذباللہ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت کی توہین کا پہلو نکلتا ہے وہیں جنید جمشید عورت کے ٹیڑھی پسلی سے ہونے اور اس کی فطرت میں کجی ہونے کے حوالے سے کی جانے والی گفتگو میں ہر خاتون کی بطور عورت اور بطور انسان توہین کرنے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔
معاملہ نہ جنید جمشید کی معافی کا ہے نہ ان کے استاد محترم مولانا طارق جمیل کی جانب سے تنبیہ کا بلکہ خواتین سے متعلق مذہبی ذہنیت اورتوہین مذہب کے قوانین کے بے جا استعمال کا ہے۔ جنید جمشید کیا اس واقعہ کے بعد خواتین سے متعلق اپنے افکار تبدیل کرتے ہوئے خواتین کو کم تر درجہ کا حامل انسان قرار دینے پر بھی معافی مانگیں گے یا نہیں؟ کیا طارق جمیل صاحب سرزنش کرتے ہوئے کہیں گے کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق اپنے متنازعہ بیان پر ہی نہیں بلکہ خواتین کی نقل و حرکت اوراس کے فطری ٹیڑھے پن کے بارے میں اپنے افکار پر بھی معذرت کریں؟