Categories
نقطۂ نظر

فاٹا سو سال پیچھے چلا گیا ہے

مغربی سرحدوں کے محافظ قرار پانے والے باسیوں کی سرزمین کو فاٹا کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ فاٹا سات ایجنسیوں اور چھ
Frontier Regions پر مشتمل علاقہ ہے۔ یہ علاقہ ہمیشہ سے محرومیوں کا شکار رہا ہے۔ کون سے دکھ اور مصائب ہیں جو اس سرزمین کے باسیوں نے نہیں جھیلے۔ انگریزوں نے یہاں ایک ایسا قانون نافذ کیا جس نے ایک طرف تو یہاں کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا تو دوسری طرف ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی زنجیروں میں جکڑدیا۔ انگریزوں کا مسلط کردہ Frontier Crimes Regulations کا کالا قانون ایک سو چودہ سال گزرنے کے باوجود فاٹا کے عوام پر لاگو ہے۔ یہ قانون جو ایک طرف یہاں کی اشرفیہ کے لیے سرماٖئے کا کارخانہ ہے تو دوسری طرف عام عوام کی زندگی اجیرن بنارہا ہے۔ پاکستانی آئین کی رو سے تو فاٹا پاکستان کا حصہ ہے مگر 1973 کے آئین تحت یہاں کے لوگ نہ انصاف مانگنے عدالت جاسکتے ہیں اور نہ عدالت کا کوئی فیصلہ ان پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔یہاں سے منتخب نمائندے چاہے وہ قومی اسمبلی کے ہوں یا سینٹ کے زیادہ تر کا تعلق ان ہی خاندانوں سے ہوتا ہے جن کے باپ دادا انگریزوں کے وفادار اور چاپلوس تھے۔ وہ انگریزوں کے اس قانون کے حمایتی تھے اور ہیں کیونکہ ان کے مفادات اسی قانون سے وابستہ ہیں۔
یہاں پر درجنوں صحافی قتل ہوئے، سیاسی کارکنوں کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی، موسیقاروں، شاعروں اور فنکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر مارا گیا، امن کے داعیوں کو سولی پر لٹکا دیا گیا یہاں کی سرزمین کو اگر مصائب کی سرزمین نہ کہا جائے تو انصاف نہ ہوگا۔
فاٹا سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی سارے پاکستان کے لئے قانون سازی کر سکتے ہیں مگر اپنے علاقے کے لیے نہیں۔ 1997 سے پہلے یہ لوگ حق رائے دہی بھی استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ تاریخ میں جب بھی فاٹا کا ذکر آتا ہے تو اس کے ساتھ یہ تمہید ضرور ہوتی ہے کہ یہاں کے لوگ جنگجو اور سٖخت جان ہیں، بغیر تنخواہ کی فوج ہیں اور یہی گھسی پٹی اور فرسودہ پہچان اس علاقے کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ وطن پرستی اور بہادری یہاں کے لوگوں کے اوصاف ہیں ، وطن پر جب بھی کوئی آزمائش آئی یہاں کے باسیوں نے جنگ لڑی اور جانوں کے نذرانے دئیے، خواہ وہ کشمیر کی جنگ ہویا 1965 کی پاک بھارت جنگ ہو مگر لاکھوں قربانیوں کے باوجود یہاں کے لوگوں کے اچھے دن نہیں آئے بلکہ ہمارے حالات روز بروز بُرے ہوتے گئے اور ہم پر ہماری ہی زمین تنگ ہوتی گئی۔ فاٹا کے لوگوں اور زمین کو ریاست ہمیشہ اپنے تزویراتی مفادات کے تحت استعمال کرتی رہی ہے اور یہی اس علاقے کے لوگوں پر مسلط کیا گیا سب سے بڑا عذاب ہے۔ افغان جہاد کے دوران اور نائین الیون کے بعد یہ خطہ عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ خطے کے لوگوں کو ایک اور جنگ کا ایندھن بنا دیا گیا اور مقامی لوگوں پر غیر ملکی جنگجووں اور جہادی لشکروں کا بوجھ بھی لاد دیا گیا۔
ریاست کے پالتو جہادیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد یہاں کے باسیوں نے جب اپنے ہی ملک میں ہجرت کرنا شروع کی تو اُن پر قیامت ٹوٹ پڑی یہاں کی عورتوں نے راستے میں بچوں کو جنم دیا اور درجنوں خواتین زچگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ یہاں پر درجنوں صحافی قتل ہوئے، سیاسی کارکنوں کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی، موسیقاروں،شاعروں اور فنکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر مارا گیا، امن کے داعیوں کو سولی پر لٹکا دیا گیا یہاں کی سرزمین کو اگر مصائب کی سرزمین نہ کہا جائے تو انصاف نہ ہوگا۔ سینکڑوں تعلیمی ادارے تباہ ہوئے اور صحت عامہ کے مراکز کی صورت حال بھی ابتر ہے۔ یہاں کے خود دار مرد اور عورتیں امدادی کیمپوں میں جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں پر راشن کے حصول کے لئے بھی قطاروں میں ذلیل ہونا پڑتاہے۔
آپ فاٹا کی سرزمین پہ قدم رکھیں تو اپ کو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے تمام آثار نظر آ جائیں گے۔ خطے کا سب سے بڑا المیہ یہاں کے تعلیمی اداروں کی تباہی ہے۔ کئی سال سے جاری جنگ کی وجہ سے سینکڑوں تباہ ہوچکے ہیں جب کہ ہزاروں بند ہیں یا مقامی ملکوں کے ذاتی استعمال میں ہیں۔ لاکھوں طلبہ تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں جو کبھی بھی جرم یا شدت پسندی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ پندرہ سال کے دوران سات سو سے زائد سکول تباہ ہوچکے ہیں مگر تاحال ان کی تعمیر کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ مئی 2013 کے انتخابات میں نواز شریف کے حکومت میں آتے ہی لوگوں کے دلوں میں اُمید کی ایک کرن جاگ اُٹھی کہ شایداب اُن کی تقدیر بدلنے والی ہے مگر حالات پہلے سے بدتر ہوئے ہیں بہتر نہیں۔
پنجاب کے سرمایہ دار بادشاہ کو فاٹا میں دلچسپی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے تمام ملک کا پیسہ میٹرو اور اورینج ٹرینو ں پر لگانا شروع کردیا ہے جب کہ فاٹا میں تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ۔ میاں نواز شریف کو اپنے دور اقتدار میں میٹرو اور فلائی اورز سے اتنی فرصت نہیں ملی کہ وہ سرزمین بے آئین فاٹا کا دورہ کرتے۔ میاں صاحب نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جتنا پیسہ میٹرو اور فلائی اورز پر خرچ ہورہا ہے اُس کا نصف بھی فاٹا کے تعلیمی اداروں کی بحالی پر لگایا جائے تو شاید فاٹا کے باسیوں کے احساس محرومی میں کمی ہو۔ مگر خدا گواہ ہے کہ میاں صاحب کو لاہور، رائیونڈ اور ماڈل ٹاون کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اس جنگ زدہ علاقے میں بین الاقوامی اداروں کی امداد بھی مخصوص جیبوں یا چند خیموں کی صورت میں ہی نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے فاٹا سو سال پیچھے چلا گیا ہے۔ بس دعا اور اُمید یہی ہے کہ وزیر اعظم صاحب کو میٹرو یا بلندوبالا فلائی اوورز بناتے بناتے بغیر تنخواہ کی فوج کی سرزمین فاٹا بھی نظر آ جائے ورنہ فاٹا کے عوام اپنے حال پر روتے اور سسکتے رہیں گے کیونکہ میاں صاحب رائیونڈ محل میں آرام فرما ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

بچوں سے مشقت؛ ایک حل طلب سماجی مسئلہ

ہمارے ملک میں بچوں سے مشقت لینے کا رحجان ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے تدارک کے لیے ہر ایک کو متحرک ہونا چاہیئے۔ بچے جنت کے پھول ہیں خالق کائنات کی سب سے زیادہ خوبصورت اور پیاری مخلوق ہیں، معصوم ہیں اور اس روئے زمین کا حسن ہیں۔ جب یہی بچے خاندان کی معاشی کفالت کے لیے مزدوری پرمجبو ر ہوتے ہیں تو اپنا بچپن کھو دیتے ہیں۔ ایسے بچے بچپن کی خوشیوں اور تعلیم کے بنیادی حق سمیت تمام حقوق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی تعریف کے مطابق ایسی تمام مشقت جو بچےکوبچپن سے محروم کرے، تعلیم کی راہ میں روکاوٹ بنے، ان کی جسمانی یا ذہنی افزائش کی راہ میں حائل ہو یا بچے کے لیے ذہنی، سماجی یا جسمانی طور پر نقصان دہ ہوبچوں سے مشقت کے زمرے میں آتا ہے۔ بچے عموماً بہت کم تنخواہ پرکام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق چائلڈ لیبر ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے، ایشیائی ممالک کی افرادی قوت کا دسواں حصہ بچوں پرمشتمل ہے۔ مختلف صنعتوں سے وابستہ بچوں کی تعداد پاکستان میں44لاکھ ہے جن میں پانچ سے چودہ برس کے بچے شامل ہیں ۔
کاشتکاری،کان کنی، صنعتی مزدوری اور غیر رسمی معیشت میں بچوں کو تیز دھار آلات اور بھاری مشینری کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں بچوں سے مشقت کا مسئلہ اس لحاظ سے بھی سگین ہے کہ یہاں انتہائی خطرناک شعبو ں میں بھی بچے کام کرتے ہیں۔ کاشتکاری،کان کنی، صنعتی مزدوری اور غیر رسمی معیشت میں بچوں کو تیز دھار آلات اور بھاری مشینری کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ چارہ کاٹنے کی مشین، دھات کاٹنے کے آلات ، پتھر پیسنے کے کارخانوں اور 50 وولٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے آلات پر بچوں کو اپنی طاقت سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ چمڑا رنگنے ، سیمنٹ سازی، پٹرولیم مصنوعات کی فروخت ، دھات کاری ، کیمیکل سازی اور جہاز سازی جیسی
صنعتوں میں کام کرنے والے بچوں کو ہر وقت زہریلے اوردھماکہ خیز مواد کے قریب رہنا پڑتا ہے۔ ان صنعتوں سے خارج ہونے والے دھوئیں اور زہریلے مرکبات کا سامنا کرنے کی وجہ سے ان بچوں کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ ماحول مشقت کرنے والے بچوں کوتمباکو،نسوار اور منشیات کے استعمال کا عادی بنا دیتا ہے۔
بچوں سے مزدوری لینے کی ایک بڑی وجہ ان کی کم اجرت پر دستیابی ہے۔ غریب گھرانوں میں معاشی تنگی کی وجہ سے بچوں کو مزدوری کے لیے بھیجا جاتا ہے اور یہ عمل طلب اور رسدکے خود کارنظام کے تحت جاری ہے ۔ بچپن میں ہی بچے اپنی زندگی خود جینے کی بجائے دوسروں کے حساب سے جینے پر مجبور ہوتے ہیں۔بچپن کی زندگی میں خاص اور سب سے خوشی کا لمحہ وہ ہوتا ہے جب ایک بچہ اپنی مرضی سے کچھ کرتاہے۔ لیکن جب ان کے اپنے والدین انہیں بچپن سے ہی کام یعنی مزدوری پرلگا دیتے ہیں تو ان کے احساسات، خواہشات، احساس خود مختاری اورذہنی شعورسب تباہ و برباد ہوجاتاہے ۔ بچپن تمام بچوں کا پیدائشی حق ہے جو والدین کی محبت اور دیکھ بھال میں سب کو ملنا چاہیئے۔
بچوں کو بڑوں کی طرح رہنے اور مشقت کرنے پر مجبور کیا جانا ایک المیہ ہے۔ اس کی وجہ سے بچے ذہنی و جسمانی افزائش کے فطری عمل سے محروم ہوجاتے ہیں۔ بچوں سے مشقت لینے کی روک تھام کے لیے قانون سازی کے باوجود بھی یہ مسئلہ ایک ناسور کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ ذمہ داری پورے معاشرے خصوصاً سماجی تنظیموں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ عام طور پر غربت او ر آبادی میں بے تحاشہ اضافے کے باعث ترقی پذیر ممالک میں بچوں سے مشقت لینے کا رحجان عام ہورہاہے۔ بچوں سے مشقت کا معاملہ بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ کسی بھی ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں بچوں سے مشقت لینے کا مسئلہ ایک بڑی روکاوٹ ہے۔صحت مند بچے کسی بھی ملک کے لیے روشن مستقبل اور طاقت ہوتے ہیں اس لیے بچوں سے مشقت لینے کا عمل ملک کے مستقبل کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
بچوں کو بڑوں کی طرح رہنے اور مشقت کرنے پر مجبورکیا جانا ایک المیہ ہے۔ اس کی وجہ سے بچے ذہنی و جسمانی افزائش کے فطری عمل سے محروم ہو جاتے ہیں۔
والدین اپنے بچوں کو مزدوری پرلگا کر اپنی ذمہ داری سے فرار اختیارکرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان کے بچوں کو محبت اور پرورش کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں باقاعدہ اسکول جانے اور ایک صحت مند ماحول میں بڑا ہونے کے لیے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ بچوں سے کام کرانے والے ماں باپ سوچتے ہیں کہ بچے ان کی جاگیر ہیں اور وہ انہیں اپنے حساب سے استعمال کرسکتے ہیں۔ والدین کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ ملک کے مستقبل کو روشن بنانے کے لیے انہیں اپنے بچوں کو ہر طرح سے صحت مند بنانا چاہیئے لیکن بیشتر والدین غربت کی وجہ سے ایسا نہیں کرپاتے۔ پوری دنیا میں بچوں سے مشقت لینے کی بنیادی وجہ غربت، والدین کی کم آمدنی، بے روزگاری، سماجی نا انصافی، پسماندگی اورکمزور قانون ہے۔اس کے حل اوراس کو جڑ سے مٹانے کے لیے حکومت کو سخت قوانین بنانے چاہئیں ضروری ہے کہ ان قوانین پرسختی عمل بھی ہوبچوں سے مزدوری لینے والوں کو اس حوالے سے آگاہ کیا جانا چاہیئے۔
Categories
نقطۂ نظر

انتشار کی ابتدائی علامات

15 مارچ کو مسیحی عبادت گاہوں کو ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور لاہور میں مسیحی آبادی یوحنا آباد کے دو چرچوں پر یکے بعد دیگرے خود کش حملے ہوئے۔ ان حملوں میں سترہ افراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد ایک اور افسوس ناک سانحہ ہوا جب ایک مشتعل ہجوم نے دو مشتبہ افراد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بعدازاں ان کے جسموں کو کھلے عام پیٹرول چھڑک کر جلا دیا گیا اور اس دوران ہجوم تصاویر کھینچتا رہا۔ سردست ان دو افراد کا کسی جرم میں ملوث ہونا رپورٹ نہیں ہوا اور دونوں کی شناخت معصوم محنت کشوں کے طور پر کی جا چکی ہے۔
یہ بہت ہی خطرناک صورتحال تھی کیوں کہ اس واقعہ کا “مشتعل ہجوم کا مشتبہ افراد پر بم دھماکے کے فوری بعد تشدد” کی بجائے “مسیحیوں کا داڑھی والے مسلمانوں پر تشدد” کا رنگ دیا گیا۔
پچھلے چند سالوں میں ہجوم کی طرف سے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کی کئی وارداتیں ہوئی ہیں جن میں کئی جانیں گئی ہیں۔ گوجرہ، جوزف کالونی سمیت توہین رسالت کے الزام میں کوٹ رادھا کشن کے مسیحی جوڑے کو جلانے جیسے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں ہجوم نے محض الزام کی بناء پر جلاؤ گھیراؤ اور قتل و غارت کی۔ سیالکوٹ میں ہجوم کی جانب سے دو بھائیوں کو ڈکیتی کے شبے میں بہیمانہ تشدد کے بعد پولیس کے آنے سے پہلے مار دینے کا واقعہ بھی پرانا نہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ روز بروز ان واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا پر کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے کہا کہ کراچی میں ڈاکو پکڑ لو تو مار دو ورنہ وہ پولیس سے چھوٹ جانے کے بعد آپ کو مار دے گا۔
یہ سوچ بڑھتی جا رہی ہے کہ ریاستی قانون و انصاف فراہم کرنے والے ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ جب بھی موقعہ ملتا ہے قانون ہاتھ میں لے کر موقعہ پر ہی چوروں، ڈاکوؤں اور توہین رسالت کے ملزموں کو مار دیتے ہیں جو یقیناً ایک غیرانسانی فعل ہے۔ انصاف فراہم کرنے والے سول اداروں کی ناکامی سرکاری سطح پر بارہا تسلیم کی جاچکی ہے اور ایک کم زور نظام انصاف کے باعث ایک جمہوری ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت پڑی ہے۔ رینجرز عرصہ دراز سے کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر رہے ہیں، بلکہ کراچی پر ان کی گرفت اتنی ہے کہ فی الوقت کراچی آپریشن میں رینجرز بمقابلہ متحدہ کا تاثر ابھر رہا ہے۔ سول اداروں کا فوجی اور نیم فوجی اداروں پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ یوحنا آبادواقعہ میں دیکھیے تو پولیس کی مکمل ناکامی کے بعد رینجرز نے آ کر علاقے کا نظم و نسق سنبھالا اور کسی متوقع فساد سے بچاؤ ممکن ہوا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب سیاستدان یا حکمران پولیس کو ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات میں ملوث کریں گے اور بعد میں سب ملبہ بھی ان پر ڈال دیں گے تو ریاستی ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی میں اسی طرح ناکام ہوں گے جیسے یوحنا آباد واقعے میں پولیس حالات قابو میں کرنے میں ناکام رہی۔
یہ واقعہ اپنی نوعیت میں ایسے ہی دیگر واقعات سے منفرد تھا کیوں کہ پہلی بار کسی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے داڑھی والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ یقین مانیے یہ بہت ہی خطرناک صورتحال تھی کیوں کہ اس واقعہ کا “مشتعل ہجوم کا مشتبہ افراد پر بم دھماکے کے فوری بعد تشدد” کی بجائے “مسیحیوں کا داڑھی والے مسلمانوں پر تشدد” کا رنگ دیا گیا۔ جہاں ابلاغ عام کے ذرائع کبھی کھلے الفاظ میں تو کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں اس تعصب کا اظہار کر رہے تھے تو وہیں پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک چیخ و پکار لگی ہوئی تھی۔ “مسلمانوں آج اٹھو ورنہ ہر دھماکے کے بعد داڑھی والوں کو قتل کیا جائے گا”، ” یہ ہے پاکستانی اقلیتوں کا اصل چہرہ”،”مسلمانو اپنے بھائیوں کا بدلہ کون لے گا؟؟”، “پاکستان کے گٹر صاف کرنے والوں کی ایسی ہمت!!”،”چُوڑوں نے داڑھی والوں کو جلا کر رکھ کر ڈالا”، “بلوائیوں کی توڑ پھوڑ” جیسے جملے جلی ہوئی لاشوں کی تصاویر کے ساتھ کئی روز سوشل میڈیا پر وائرل رہے۔
میڈیا پر مشتعل ہجوم کی جب بھی خبر آئی ہجوم کو “بلوائی” کہاگیا جو فرقہ وارانہ تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ واقعہ کے ردعمل میں حکمرانوں کے بہت سخت بیانات آئے جو اس سے پہلے ایسے ہی یا اس سے بھی بھیانک واقعات کے بعد کبھی دیکھنے کو نہیں ملے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ میڈیا اور حکمران عقیدے کی بنیاد پر “مشتعل ہجوم” سے متعلق امتیازی سلوک برتنے کے قائل ہیں اور قاتل و مقتول میں بھی مذہب کی بنیاد پر فرق روا رکھا جارہا ہے۔ ملک کے مقتدر حلقوں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے اگر مذہب کی بنیاد پر کہیں فوری انصاف اور دادرسی میں رکاوٹیں دیکھنے میں آئیں گی تو مذہبی اقلیتوں کا ملک کے آئیں و قانون سے مکمل اعتبار اٹھ جائے گا۔
پاکستانیت کی عصبیت معاشی و سماجی ناہمواری ،مذہبی تنازعات میں متعصبانہ فیصلوں اور امتیازی پالیسیوں کی بدولت آج تک پروان نہیں چڑھی۔
پاکستان میں ریاست کے کمزور ہونے کی ایک وجہ سماجی ناکامی بھی ہے۔ ہم تقریبا ستر سال کے عرصے میں بھی تمام گروہوں اور فرقوں کو ایک لڑی میں پرونے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستانیت کی عصبیت معاشی و سماجی ناہمواری ،مذہبی تنازعات میں متعصبانہ فیصلوں اور امتیازی پالیسیوں کی بدولت آج تک پروان نہیں چڑھی۔ یوحنا آباد واقعے میں بھی ایک معاشی اور سماجی طور پر پسی ہوئی اقلیت کے چند افراد کی حرکت (جو مذہب کے نام پر بھی نہیں کی گئی تھی) کی بنیاد پر مکمل عیسائی برادری کو دشمن کی نظر سے دیکھا گیا۔ مذہبی تعصب اور امتیازی سلوک ریاست سے معاشرے تک ہر جگہ موجود ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ یوحنا آباد سانحےکے بعد انہوں نے یہ کہہ کر ایک عیسائی موٹر سائیکل سوار کی لفٹ کی پیشکش ٹھکرادی کہ تم مجھے آگے جا کر جلا دو گے۔ میرے لیے یہ اس لیے حیران کن تھا کہ ان صاحب کو میں عرصے سے جانتا ہوں اور وہ نہایت معقول آدمی ہیں۔ اس واقعے کے بعد عمومی ردعمل سے لوگوں کے دلوں میں غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف چھپا تعصب ابھر کر باہر آگیا ہے اور بدقسمتی سے اسے مزید ہوا دی جارہی ہے؛ اگر اس رحجان کا جلد تدارک نہ کیا گیا تو کسی بڑےسانحے کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈلاتا رہے گا ۔
یوحنا آباد واقعے کے بعد مسیحی برادری کے احتجاج کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو دو نتائج نکلتے ہیں؛ ایک تو یہ کہ من حیث الجماعت عیسائی برادری نے ایسے حملوں کو مزید برداشت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اوران میں مزاحمت کی ایک پر زور لہر نظر آئی۔ان کی جانب سے اس عزم اک اظہار کیا گیا کہ اب وہ کسی صورت لاشیں اٹھا کر گھروں میں صبر کے نام پر بیٹھے نہیں رہیں گے ۔ ان کاارادہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت پر اپنا غم و غصہ ظاہر کرنے کا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ خوش آئند بات ہے کیوں کہ جب تک حکمرانوں کو جھنجوڑا نہ جائے تب تک انہیں سمجھ نہیں آتی۔ دوسرا منفی نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور وہ انصاف کے حصول کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینے اور انسانی جانیں لینے تک کو تیار ہیں۔ اس ردعمل کو درست کیسے کہا جائے جب اس میں بہیمانہ طور پر جانیں لی جائیں اور سرکاری و نجی املاک کی توڑ پھوڑکی جائے۔
یہ سیاسی جماعتوں کی مقامی قیادت کی ناکامی بھی ہے، ہجوم کتنا ہی مشتعل کیوں نہ ہو اپنے میں سب سے معتبر اور جانے پہچانے شخص کی بات پر چلتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ہمیشہ مقامی حکومتوں کے نظام کی قربانی دی تاکہ کوئی نئی قیادت ان کے بچوں کے مستقبل کو تاریک کرنے کے لیے پیدا نہ ہو جائےجس سے آج ملک میں مقامی سطح پر قیادت ک فقدان ہے۔ گاؤں کی سطح پر تو زمین دار، سردار یا جاگیردار جگہ لے لیتے ہیں لیکن شہری علاقوں میں ماجے گامے شیدے میدے اور غنڈے ایسے مواقع پر مشتعل ہجوم کو تخریب پر مائل کرتے ہیں۔ یوحنا آباد واقعے سے معاشرے کی برداشت کی حد کاختم ہوناواضح ہوچکا ہے اور سماج میں موجود معاشی، سماجی و مذہبی تقسیم کھل کر سامنے آگئی ہے؛ اور یہ دونوں ایسے اشاریے (indicators) ہیں جو نراجیت(Anarchy) اور انتشار کی ابتدائی علامات قرار دیے جاسکتے ہیں۔
Categories
نان فکشن

II-عورت، عزت اور قانون

یہ اس مضمون کا دوسرا حصہ ہے، پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
بشریات کے ماہر اس بات پہ متفق ہیں کہ معاشرتی اقدار اور ڈھانچے ہی دراصل یہ طے کرتے ہیں کہ لوگ آپس میں پیدا ہونے والے جھگڑوں اور اختلافات کیسے نپٹائیں گے چناچہ قانون کی نظر میں برابری کے تصورات کی موجودگی کے باوجود پاکستانی معاشرے کے سماجی ڈھانچے اور اس کے ساتھ وابستہ معاشی پیداواری رشتوں کو سمجھنا نہایت ضروری ہے جو مغربی قانون کے تحت دیے گئے انفرادی حقوق کی بجائے مقامی سماجی نظام کو برقرار رکھنے کی ضرورت کے تحت ’انصاف ‘ کی فراہمی کا باعث بنتے ہیں ۔پاکستانی معاشرہ برادری ، قبیلے اور ذات کی بنیاد پر قائم معاشرہ ہے جو نسب کی بنیاد پر سماجی درجہ بندی کر کے خود کو مختلف خاندانوں ذاتوں اور طبقوں میں تقسیم کرتا ہے چنانچہ پاکستانی معاشرہ میں عزت کا تصور یقینی طور پریورپی معاشروں سے مختلف ہے کیوں کہ پاکستانی معاشرہ contract based معاشرے کی بجائے ایک status based معاشرہ ہے۔ اس فرق کو سماجی تبدیلی کیلئے سنجیداور مثبت کوشش کرنے والوں کے لیے جاننا ضروری ہے۔
سماجی ڈھانچے وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی معاشی تبدیلیوں کے زیرِ اثر خود کو ڈھالتے ہیں جس کی ایک بہت بڑی مثال یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد عورتوں کا معاشی اور سماجی طور پر بلند ہوتا ہوا رتبہ ہے جبکہ پاکستان میں آج بھی عورت غیر رسمی شعبے ( Informal sector) میں افرادی قوت کا اسی فیصد حصہ ہونے کا باوجود اپنی زندگی کے بنیادی فیصلے کرنے میں آزاد نہیں، اس تاریخی دوئی کا شجرہ نسب جاننے کیلئے بھی ہمیں تاریخ ہی کے سمندر میں اترنا پڑے گا۔ موجودہ پاکستان میں روایتی پدرسری اور عوت دشمن سماجی تشکیل کے باقی رہ جانے کی ایک بڑی وجہ ان علاقوں میں نوآبادیاتی دور میں مقامی معاشرتی روایات کو برقرار رکھنے کا سرکاری لائحہ عمل ہے۔ پنجاب اور سندھ بالترتیب 1849 اور 1843 میں نوآبادیاتی نظام کا حصہ بنے تاریخی طور پر باقی ہندوستان کے بالمقابل یہ دونوں صوبے تاخیر سے برطانوی قبضے میں آئے اور اسی وجہ سے جنوبی ہندوستان کی نسبت نوآبادیاتی نظام کا سماجی اور سیاسی بندوبست معیاری سطح پر مختلف رہا،یقیناً1857 کی جنگِ آزادی نے بھی اس اختلافی بندوبست کی ضرورت کو نئے حکمرانوں کی نظر میں اہمیت بخشی۔برطانوی راج کو اپنی بقا کے لیے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع آمدورفت کی ضرورت تھی وہیں ایک وفادار مقامی طبقہ سیاسی استحکام کیلئے ضروری تھا اس تاریخی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے نوآبادیاتی ایڈمنسٹریٹرز نے نئے نظام کو آراستہ کرنے کیلئے نوزائیدہ سماجی علوم ( عمرانیات اور بشریات) سے بھرپور مدد لی۔نوآبادیاتی نظام حکومت کو مقامی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے معاشرے کی ایسی سماجی ساخت کو پروان چڑھایا گیا جو کہ راج کی تمام ضرورتوں کو بخوبی پورا کر سکے سیاسی اور معاشی امور میں تسلسل کیلئے تو برطانوی فوجداری اور دیوانی قوانین لاگو کیے گئے جبکہ معاشرتی مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے ’روایتی‘ قانون کی ایک جدید شکل کو نافذ کیا گیا ۔ اکثرتاریخ دانوں کے برعکس عمران علی لکھتے ہیں
’ پنجاب میں برطانوی راج کا نہری نوآبادیات کا تجربہ سماجی انجینیئرنگ کی ایسی مثال ہے جس میں ایک مخصوص رجعت پسندی پر مبنی سماجی اور سیاسی ڈھانچہ پنجاب پر مسلط کر کے اس کے سماجی ارتقاء پر ایک بند باندھ گیا‘
(صفحہ- 58، حوالہ نمبر 2)
Gilmartin اس سماجی ڈھانچے کی بابت لکھتے ہیں؛
’انہوں (نوآبدیاتی ریاست) نے ریاستی اتھارٹی کو ایک ایسی مقامی سماجی تنظیم کے ڈھانچے کے ساتھ استوار کیا ،جس کی وضاحت اور تعمیر،برطانوی سماجیات کے تحت ریاست نے خود کی تھی۔چناچہ پنجاب کے’روایتی‘ ڈھانچے کا تحفظ ہی دراصل اس امپیریل ریاست کے قائم رہنے کا بنیادی اصول اور جواز بن گیا‘( حوالہ نمبر -3)
اس روایتی قانون کے تحت برادریوں کی ایک ایسی درجہ بندی کی گئی جس میں عوام کو زمیندار اور غیر زمیندار برادریوں میں تقسیم کر کے سماجی نابرابری کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا گیا(تفصیلات کیلئے دیکھئے land alienation act) اگرچہ تاریخی طور پر پنجابی اور سندھی معاشرہ کسی بھی طور مثالی مساوت کا نمونہ نہیں رہا تاہم پہلی بار ذاتی ملکیت، جدید ریوینیو سسٹم ،نقد آور فصلوں کی کاشت اور عالمی مارکیٹ کے ساتھ مقامی معشیت کی جڑت سے جو سماجی اور سیاسی تبدیلیاں بقیہ ہندوستانی صوبوں (مثلا بنگال،مہاراشٹر اور مرکزی صوبوں) میں آئیں پاکستان کے حصے میں آنے والے علاقے اس تبدیلی کا حصہ نہیں بن سکے۔
ہندوستان کی آزادی کی تحریک پر ایک طائرانہ نظر ہی یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ پنجاب اور سندھ کے برعکس دوسرے صوبوں سے عورتوں کی نمائندگی کہیں زیادہ تھی۔
ہندوستان کی آزادی کی تحریک پر ایک طائرانہ نظر ہی یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ پنجاب اور سندھ کے برعکس دوسرے صوبوں سے عورتوں کی نمائندگی کہیں زیادہ تھی۔ اس تناطر میں اگر دیکھا جائے تو یہ رائے قایم کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ برطانوی راج کے دوران پدر شاہی بنیادوں پر ہونے والی سماجی تنظیم نو نے پاکستانی عورت کو با اختیار کرنے والے ان تمام سماجی مواقع کا گلہ گھونٹ دیا جو اس خطے کی دیگر عورتوں کو دوسری جگہوں پر میسر آئے۔اگرچہ 1937میں customary lawکوMuslim Personal lawسے تبدیل کر دیا گیا لیکن معاشرے کے سماج ڈھانچے جو استحصالی معاشی ڈھانچوں پر استوار تھے تبدیل نہ ہو سکے اور نہ ہی ان ڈھانچوں کے پس منظر میں موجود نظریاتی بنیاد کو چیلنج کیا جا سکا۔ یہی سماجی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے تقسیم کے بعد پاکستان کو ترکے میں ملے اور پاکستانی حکمرانوں نے اس ترکے کو ترک کرنے کی بجائے سینے سے لگا لیا ۔شہری اور ریاست کے درمیان موجود رشتے کو برابری کی سطح پر قائم کرنے کی بجائے پرانے طرز حکومت کو بحال رکھا گیا جس کی وجہ سے ظاہری طور پر تو بہت کچھ بدلا لیکن بنیادی سماجی ڈھانچہ اور نظامِِ اقدار قائم رہا، نام نہاد ترقی تو بہت ہوئی پر انسانوں کی حالت مزید ابتر ہوئی،گدھا گاڑی سے میٹرو تک کے اس سفر میں ریاست نے ملک کا طبیعی چہرہ تو بدل ڈالا پر ذہنی کیفیات کو نہیں بدلا جا سکا اسی لیے صنفی اور مسلکی امتیاز، اونچ نیچ اور تفریق میں اضافہ ہوا ہے۔
مغربیت کے خلاف پیدا ہونے والی ایک عمومی رائے نے عورت مخالف عناصر کو مزید بڑھاوا دیا ہے اور رجعتی اداروں جیسا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودگی نے ملکی سطح پر عورتوں سے متعلق اصولی قانونی تبدیلی کو بہت حد تک خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے۔
روایتی قانون میں جہاں پہلے ہی عزت کو عورت کی جنسیت (Sexuality) سے منسلک کر کے دیکھا جاتا ہے اسلامی بنیاد پرستی کی لہر اور ریاست کی سرپرستی نے صورتحال کو عورتوں کیلئے مزید پیچیدہ کر دیاہے۔ مغربیت کے خلاف پیدا ہونے والی ایک عمومی رائے نے عورت مخالف عناصر کو مزید بڑھاوا دیا ہے اور رجعتی اداروں جیسا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودگی نے ملکی سطح پر عورتوں سے متعلق اصولی قانونی تبدیلی کو بہت حد تک خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے۔اگرچہ نعروں کی حد تک تو پارلیمنٹ قانون سازی میں آزاد ہے لیکن اسٹیبلیشمنٹ جو برطانوی راج کا ہی تسلسل ہے، کی پشت پناہی کے باعث پاکستانی غیرت بریگیڈ ایسی کسی بھی قانونی کوشش کو کامیابی سے ناکام بناسکتی ہے۔ایسے میں خواتین ارکان کی پارلیمنٹ میں تعداد بڑھانے سے ، خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے تھوک کے حساب سےNGOsکھولنے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ سیاسی کنٹرول کیلئے بنائے گئے سماجی ڈھانچوں کو ایک سیاسی جدوجہد سے ہی اکھاڑا جا سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے تمام سیاسی جماعتیں خواتین کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے پر تیار نہیں ہیں، شاید ایسے کسی مسئلے کی انتخابی سیاست میں کوئی گنجائش موجود نہیں اور شاید یہ معاملہ تبدیلی کے علمبرداروں کا بھی مطمع نظر نہیں ایسے میں ساحر صاحب کا بین تمام پاکیزہ اسلامی غیرت مندوں کی توجہ کا منتظر ہے:
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی!
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟

[spacer color=”BCBCBC” icon=”fa-times” style=”2″]

کتابیات
  1. Chaudhary, Azam.”The Rule of Law Problems in Pakistan: An Anthropological Perspective of the Daughter\’s Traditional Share in the Patrimony in the Punjab”, Pakistan Journal of History & Culture February 30, 2009.
  2. Ali, Imran. The Punjab under imperialism, 1885-1947. Princeton: Princeton University Press, 1988.
  3. Gilmartin, David. Empire and Islam: Punjab and the making of Pakistan. Berkeley: University of California Press1988
Categories
نقطۂ نظر

فتوے ، فتنے اور جدیدیت

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم مولانا شیرانی نے یہ بیان داغ ڈالا کہ کوئی بھی مسلمان مرد اپنی بیوی سے پوچھے بنا اپنی مرضی سے دوسری شادی کرنے کے جملہ حقوق محفوظ رکھتا ہے ، موصوف اس سے پہلےریپ کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بطور شہادت ماننے سے بھی انکار کر چکے ہیں۔زرداری حکومت میں مفاہمتی سیاست کی پالیسی کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین منتخب ہونے والےپچاسی سالہ مولانا محمد احمد خان شیرانی جمعیت علما اسلام فضل الرحمن گروپ کے اہم سیاسی رہنما ہیں جو بلوچستان میں اپنی پارٹی کے صوبائی صدر اور سینٹر بھی ہیں ۔مولانا کےچیئرمین منتخب ہونے میں ان کے علمیت سے زیادہ ان کے سیاسی عمل دخل کا کردار ہے۔
23ستمبر 2013 کو مولانا صاحب اپنے ایک بیان میں توہین رسالت کے موجودہ قوانین میں موجود نقائص کے خاتمے کی مخالفت بھی کر چکے ہیں ، پاکستان میں توہین رسالت کا قانون غیر مسلموں کے خلاف بدلے کے قانون کے طور پر استعمال ہوتارہا ہے، ابھی چند روزپہلے ہی ایک حاملہ خاتون اور اسکے شوہر کو مبینہ توہین قران کے کیس میں اذیت ناک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلا دیا گیا ۔
سعودی مفتی اعظم کا ‘ٹویٹر کو حرام قرار دینے کا فتوی’ ، ایران میں ریحانہ جباری کی پھانسی اور پاکستان میں مولانا شیرانی کے بیانات مسلم دنیا کے قدامت پسند مذہبی جمود کی نشاندہی کے لیے کافی ہیں ۔
6 نومبر2013کو مولانا نے کلوننگ اور جنس میں تبدیلی کو حرام قرار دیا ۔ جدیدیت کے حوالے سے مولانا نے فرمایا کہ اسے اسلام کے مطابق ہونا چا ہیے ۔اب یہ ایک بحث طلب معاملہ ہے کہ جدیدیت کو اسلامی سانچے میں کیسے ڈھالا جائے اور اسکے بنیادی لوازم کیا ہوں ؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا جدیدیت کو فرسودہ مذہبی تشریحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت یاہے یا پھر مولانا شیرانی جیسے علماء کو جدید دنیا کے اصولوں کے مطابق اپنے انداز فکر میں تبدیلی لانا پڑےگی ؟ امید ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے محترم مولانا اس مسئلے پر بھی کسی دن تفصیلاً روشنی ڈال کر اہل ایمان کی ذہنی کشمکش دور فرما ئیں گے ۔
جدیدیت کے موضوع پر کوئی فتویٰ دینے سے پہلے شاید مولانا صاحب کے لیے ویٹیکن میں ہونے والی عیسائی مذہبی رہنماؤں کےحالیہ اجلاس کی روداد پڑھنا بھی ضروری ہے۔ موجودہ پوپ کی جانب سے بلائے جانے والے اس اجلاس کا مقصد بائبل کے اندر موجود ان احکامات پہ غور کرنا تھا جن پر برطانوی عوام اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں – بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کئی والدین یہ سمجھتے ہیں کہ عیسائیت کی تعلیمات انکی خاندانی زندگیوں پر منفی اثرات ڈال رہی ہیں ۔اسی تشویش کو مدنظر رکھ کرپوپ نے پادریوں کا اجلاس بلا لیا تھا تاکہ مذہبی تعلیمات کو جدید خاندانی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے – رومن چرچ اور پوپ نے گزشتہ دنوں نظریہ ارتقاء کو بھی درست تسلیم کیا ہےاور یہ وہی نظریہ ہے جس کو پیش کرنے پر چرچ نے ڈارون کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عیسائیت کے خلاف ایک سازش قرار دیا تھا ۔
جہاں ایک طرف عیسائیت جدید دنیا کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی اپنی مقدور بھر کوششوں میں مصروف ہے ، تو دوسری طرف مسلم دنیا اپنے مذہبی رہنماؤں کی وجہ سے جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے ۔حال ہی میں سعودی مفتی اعظم کا ‘ٹویٹر کو حرام قرار دینے کا فتوی’ ، ایران میں ریحانہ جباری کی پھانسی اور پاکستان میں مولانا شیرانی کے بیانات مسلم دنیا کے قدامت پسند مذہبی جمود کی نشاندہی کے لیے کافی ہیں ۔حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم دنیا اپنے مذہبی ناخداؤں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔
مسلم معاشروں اور اسلام کی جدید دنیا کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے حوالے سے مستشرقین کی رائے یہی ہے کہ اسلام کے اندر جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی گنجائش نہایت کم ہے –خلافت اور اس کے عروج و زوال کے مصنف سر تھامس مور کے مطابق ‘عیسائی قومیں وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب، آزادی، سائنس اور فلسفے میں برابر ترقی کرتی جائیں گی لیکن اسلام جہاں کھڑا ہے ، وہیں کھڑا رہے گا’۔ اسی طرح کی پیشنگوئی فرانسیسی مفکر رینان نے بھی کی تھی جسکے مطابق ‘اسلام اور سائنس کبھی اکھٹے نہیں چل سکتے ۔’ مستشرقین کی رائے سے قطع نظر مسلم فکر میں جدت اور ترقی پسندی کی گنجائش دیگر مذہبی معاشروں سے زیادہ ہے۔اجتہاد کی گنجائش کے باعث مسلمانوں کے لیے یورپ کی بنسبت مسلم معاشروں کی تشکیل نو کہیں زیادہ آسان ہےلیکن معاشی پسماندگی اور قدیم معاشرت کے باعث جدیدافکار کی ترویج کا عمل متاثر ہوا ہے۔
مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ ریاستی طور پر مذہب کی سرپرستی تمام اسلامی ممالک کر رہے ہیں یا یہ کہ مذہبی جنونی اپنے ذاتی عقائد کو اسلام کے غلاف میں لپیٹ کر ہر مسلمان ملک میں بیچ رہے ہیں ۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ترکی کا رجحان اسلامی نظام کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے مگر کئی سالوں تک ترکی ایک روشن خیال اسلامی مملکت کے طور پر ایک کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے ، ماضی قریب میں ایسی ہی ایک مثال تیونس کی ہے جو اپنے لیے ایک متوازن آئین تشکیل دے چکا ہے۔
مستشرقین کی رائے سے قطع نظر مسلم فکر میں جدت اور ترقی پسندی کی گنجائش دیگر مذہبی معاشروں سے زیادہ ہے۔
اتاترک کے ترکی کی کامیاب مثال سامنے رکھتے ہوئے مسلم ممالک اب بھی مذہب اور ریاست کو علیحدہ کرسکتے ہیں۔اس ضمن میں پہلا قدم ان ممالک میں بسنے والی اقلیتوں پر مذہبی تشدد اور ان کے خلاف موجود امتیازی قوانین کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔پاکستان کے حوالے سے یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہاں پر مذہبی علماء مذہب کی دقیانوسی تشریح میں مکمل آزاد ہیں اور مذہبی مدارس میں پروان چڑھائے جانے والی شدت پسند فکر پر کسی قسم کا ریاستی کنٹرول نہیں ہے۔ یہ شدت پسند فکر اور مدارس فرقہ وارانہ اور مذہبی دہشت گردی کو جواز فراہم کر رہے ہیں۔ وطن عزیز میں ایک محتاط اندازے کے مطابق پچاس کے لگ بھگ دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں اور متحدہ عرب امارت کی مرتب کردہ چھیاسی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں چھ پاکستانی تنظیمیں بھی شامل ہیں ۔ایسی شدت پسند سوچ اور تنظیموں کی موجودگی میں پاکستان کا ایک فلاحی یاست بننا ممکن نہیں تاہم ریاست اور مذہب کی علیحدگی اور ملک میں بسنے والے تما م لوگوں کو زبان، نسل، رنگ اور مذہب کی تفریق کے بغیر تمام بنیادی انسانی حقوق برابری کی سطح پر مہیا کرنے سے یہ منزل حاصل کی جا سکتی ہے ۔
Categories
گفتگو

جنگل کا قانون نہیں چاہیے

ٹی وی آن کیا تو تو ایک اینکر انتہائی جذباتی انداز میں سانحہ پشاور کے مقام سے دنیا کو پیغام دے رہاتھا کہ دنیا میں اگر امن قائم ہوا تو تاریخ میں یہ ضرور لکھا جائے گاکہ پاکستانی نونہالوں کا خون بھی اس میں شامل تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں یقیناًایسا ہی ہو گادنیا پاکستان کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھلا سکتی ۔ ہم نے دنیا کا اس وقت ساتھ دیا جب ہمیں طعنہ دیا جاتا تھا کہ ہم غیروں کی جنگ میں شامل ہو گئے ہیں اور یہ ہمارے لیے ہرگز آسان فیصلہ نہیں تھا۔ اس فیصلے کی پاداش میں ہم کم و بیش 70000 بے گناہوں کے خون سے دنیا میں امن کے باب کو لہو رنگ ناموں کی ایک طویل فہرست دے چکے ہیں۔لیکن پاکستان نے جو قربانی سولہ دسمبر کو پیش کی ہے وہ پوری دنیا کے لیے ایک صدمے کی مانند ہے، جو لوگ ماضی میں پاکستان سے ہمیشہ مزید تعاون کے طلبگار رہے ان کی آنکھوں میں پاکستان کے مستقبل کی شہادت پر آنسو نظر آئے۔
دشمن اس قوم کے حوصلے پست کرنے کے لیے جتنے صدمات سے دوچار کرتا ہے اتنا ہی یہ قوم پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ سینہ تان کر دشمن کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔
پشاور سانحہ میں141 تو شہادت کا رتبہ پا گئے لیکن اپنے پیچھے ایسی داستانیں رقم کر گئے جنہیں سن کر دنیا حیران ہے کہ اس قوم کی بنیادوں میں ایسا کیا ہے جو اسے ہر مشکل کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ایک طالبعلم جس کے سینے میں دائیں طرف گولی لگی اور اس کی ایک ٹانگ بارود کی نذر ہو گئی، جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ تعلیم حاصل کر کے کیا بنے گا تو اس کا جواب تھا کہ وہ فوج کا حصہ بن کر ان لوگوں کو کڑی سزا دے گا جنہوں نے اس کے سکول پہ یہ ظلم ڈھایا۔کیا جب دنیا میں امن کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں ننھی 6سالہ خولہ کا ذکر نہیں ہو گا جس کا سکول میں پہلا دن تھا؟ وہ اپنے اسی سکول میں زیر تعلیم دو بھائیوں کو دیکھ کر خوشی خوشی سکول میں داخل ہوئی تھی اور اس کا سکول میں پہلا دن ہی اس کا یوم شہادت بن گیا۔ میرے تصور میں ایک منظر ابھر رہا ہے کہ ننھی خولہ خدا کی بارگاہ میں شہادت کی سند کے ساتھ کھڑی ہے اور خدا اس سے اس کی خواہش پوچھ رہا ہے، لیکن میں تصور نہیں کر پاتا کہ تو وہ ان ظالموں کے لیے خدا سے کیا مانگے گی؟ خولہ نے جو اذیت برداشت کی، اس نے ہر زخم لگنے پہ جب اپنی ماں کو پکارا ہو گا تو کیا اس کی پکار پر خدا نے ان ظالموں کے نصیب میں اذیت نہیں لکھ دی ہو گی ؟
دشمن اس قوم کے حوصلے پست کرنے کے لیے جتنے صدمات سے دوچار کرتا ہے اتنا ہی یہ قوم پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ سینہ تان کر دشمن کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس قوم کے جذبوں کو آتشیں اسلحے و بارود کے زور پر دبانے کی کوشش نئی نہیں لیکن یہ جذبہ ہر مرتبہ دشمن کے منہ پر طمانچے کی صورت پڑتا ہے۔ہماراہر المیے کے بعد پھر سے سینہ تان کر کھڑے ہو جانا ہونا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ دشمن ہمیں مار سکتا ہے لیکن ہم سے ہمارا حوصلہ اور جذبہ نہیں چھین سکتا۔
محترمہ طاہرہ قاضی شہید کو موقع ملا کہ وہ اپنی جان بچا لیں لیکن محترمہ کا تعلق وفا کے قبیلے سے تھا۔ وہ اس قافلے کی راہی تھیں جو نسلوں کا امین ہوتا ہے،انہوں نے اپنے بیٹے تک کو یہ کہہ کر فون بند کرنے کا کہا کہ انہوں نے بچوں کے والدین کو مطلع کرنا ہے۔ وہ شاید اس لیے بھی اپنی جان بچانے کی راہ پہ قدم نہیں بڑھا سکیں کہ ان کے کندھوں پہ ایک ہزار سے زائد قیمتی ہیروں کا بوجھ تھا ۔ وہ کیسے گوارا کر سکتی تھیں کہ ان کے ہیرے تڑپتے رہیں اور وہ اپنی جان بچا لیں۔ جان بچا کے وہ چند سال کی زندگی تو پا لیتیں لیکن اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے انہوں نے نہ صرف خود کو تاریخ کے دھارے میں امر کر لیا ہے بلکہ پوری قوم کا سر بھی فخر سے بلند کر دیا ہے۔
میں تو حیران ہوں بلاول کے روتے بلکتے باپ کے جذبے پہ کہ جب اسے بتایا گیا کہ اس کا بیٹا اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش میں شہید ہو گیا ہے تو اس کے آنسو ؤں میں ایک عجیب مسکراہٹ شامل ہو گئی، ایسی مسکراہٹ جو صرف ایک شہید بیٹے کے باپ کے چہرے پر ہی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم باپ کا کہنا تھا کہ اسے اپنے بلاول پہ فخر ہےاور ہمیشہ فخر رہے گا۔جس قوم کے پاس محترمہ افشاں شہیدجیسے اساتذہ ہوں کیا شکست ان کے قریب بھی پھٹک سکتی ہے؟ ان کی کلاس کے ایک زخمی طالبعلم عرفان اللہ کے مطابق جب دہشت گرد ان کی کلاس میں داخل ہوئے تو ہماری ٹیچر ہمارے سامنے کھڑی ہو گئیں اور حملہ آوروں سے کہا کہ میرے بچوں کو نقصان پہنچانے سے پہلے میری لاش سے گزرنا ہوگا،انہیں شعلوں کی نذر کر دیا گیا۔ لیکن عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس طالبعلم کے بقول وہ شعلوں میں لپٹ کر بھی طالبعلموں کو بھگاتی رہیں۔ میرے خدا! تیرا احسان کہ تو نے مجھے اس قوم کا فرد بنایا جو شعلوں سے بھی نہیں گھبراتی ۔
قیام پاکستان کے وقت جب ہمارے بڑوں نے قربانیاں دیں تو شاید اسی آس پہ دیں کہ اس قوم کے نونہال بھی ہمیں مایوس نہیں کریں گے اور یقیناًیہ نونہال ان کی توقعات پہ پورا اترے اس کا واضح ثبوت حادثے کے تیسرے ہی دن اس سکول کے بچ جانے والے طالبعلموں کا سول سوسائٹی کے ساتھ سکول کے بالکل سامنے کیا گیا مظاہرہ ہےجو یہ ظاہ رکرنے کے لیے کافی ہے کہ گھبرانا اس قوم کی سرشت میں نہیں ہے۔
دہشت گردوں کی کاروائیوں سے یہ ظاہرہے کہ وہ چن چن کر ان شعبوں پر وارکر رہے ہیں جو پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دہشت گرد پوری منصوبہ بندی کر کے پاکستان پہ وار کر رہے ہیں؛ 2004 میں چینی انجینئرز کو نشانہ بنا کر توانائی کے شعبے میں پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا، 2007میں مالم جبہ کا مشہور عالم ریزورٹ دہشت گردی کا نشانہ بناکر سیاحت پہ وار کیا گیا، 2009 میں سری لنکن ٹیم پر حملے سے پاکستان میں کھیلوں کے میدان ویران ہو گئے۔2007 میں ممبئی حملوں اور 2013میں نانگا پربت پر سیاحوں کو نشانہ بنانے سے نہ صرف سیاحت کو نقصان ہوا بلکہ خارجہ معاملات میں ہندوستان اور چین کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
توانائی، سیاحت، کھیل، اور قریبی دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کے بعد اب تعلیم شدت پسندوں کے نشانہ پر ہے۔دہشت گردوں کی کاروائیوں سے یہ ظاہرہے کہ وہ چن چن کر ان شعبوں پر وارکر رہے ہیں جو پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سکول پر حملے سے نئی نسل کو تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن دشمن شاید بے خبر ہے کہ یہ وار ہمارے اندر مقصد کی لگن اور بڑھا دیتے ہیں۔ صرف نشانہ بننے والے سکول کی ہی بات کریں تو وہاں کے طالبعلم بھی اپنے شہید ساتھیوں اور اساتذہ کا مشن آگے بڑھانے کو اپنا اولین مقصد قرار دے چکے ہیں، دشمن ہمیں تعلیم سے دور رکھنے میں ناکام ہو گیا۔
اغیار پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے جنگل کے قانون پر عمل کرتے ہیں،ان کا جہاں بس چلتا ہے ہم پہ ضرب لگاتے ہیں، اس کے لیے نہ تو انہوں کسی رسمی اجلاس کی ضرورت پڑتی ہے اورنہ ہی کسی کمیٹی سے سفارشات کی۔ لیکن ہمیں جنگل کے قانون کا جواب جنگل کے قانون سے نہیں دینا، اگر طالبان اور جہادی گروہ کسی قسم کے ضابطے کے قائل نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم عالمی ضابطوں اور ملکی دستور کو بالائے طاق رکھ دیں۔ ہمیں انہیں طاقت سے جواب دیتے ہوئے بھی انسانیت کے مرتبے سے گرنا نہیں چاہیے تاکہ ہم ان پر صرف عسکری نہیں بلکہ اخلاقی فتح بھی حاصل کر سکیں۔