Categories
فکشن

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

“ جب میری شادی ہوئی، میں گڑیا پٹولے کھیلنے والی عمر میں تھی”۔

سرجھکائے بیٹھے انیس نے چونک کر ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ اب وہاں نہیں تھی،پیچھے بہت دور کسی شوخ لمحے میں گم ہوگئی تھی۔اُس کے قدرے ڈھیلے پڑ جانے والے گالوں پر جمی ہوئی پیلاہٹ جیسے دُھل سی گئی تھی۔
وہ کل صبح ہی یہاں پہنچا تھا اور شاید ہی کوئی لمحہ گزرا ہوگا کہ اس کے گلے لگ کر ملنے والے دھاڑیں مار مار کر نہ روئے ہوں۔ سانحہ ہی ایسا تھا کہ سب کے جگر کٹ گئے تھے۔یوں تویہ واقعہ پچھلی جمعرات کا تھا۔کفن دفن بھی اسی روز ہو گیا اور سوگ میں بیٹھنے والے قل کے بعد اپنے اپنے دھندوں میں جٹ گئے تھے مگر انیس کے بوسٹن سے آنے کی خبر جسے ملی وہ ایک بار پھر وہاں آیا اور یوں اس سے گلے لگ کر رویا جیسے مرنے والا انیس کا بیٹا نہیں انہی پرسا دینے والوں کا سگاتھا۔ دوسرے روز شام ڈھلے تک رونے والے رو رو کر شاید تھک گئے تھے کہ وہ بیٹھک میں اکیلا رہ گیا۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو ماں تخت پرگھٹنے دوہرے کیے کمر دیوار سے ٹیکے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہاں بھی ماں کے سوا کوئی نہ تھاتاہم سارے گھر میں جاچکی عورتوں کے بدنوں کی چھوڑی ہوئی باس اور گرمی فرش پر بچھی دریوں اور یہاں وہاں پڑی پیڑھیوں سے اٹھتی محسوس کی جا سکتی تھی۔وہ ماں کے پاس ہی تخت پر بیٹھ گیا۔اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ساتھ والے کمرے کے دروازے کے اندر جھانکا اور اندازہ لگا لیا کہ ابا وہاں نہیں تھے۔یقیناً وہ ابھی تک مغرب کی نماز پڑھ کرمسجد سے نہیں آئے تھے۔اسے یاد آیا اباکا معمول رہا تھا وہ مغرب کی نماز سے پہلے مسجد چلے جاتے اور عشا کی پڑھ کر ہی لوٹا کرتے تھے، گویا ان کاا بھی تک وہی معمول تھا۔

اُس نے اپنا سر ماں کے گھٹنوں پر ٹیک دیا تو اس نے اپنا دایاں ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھ دیا اور انگلیاں اس کے گھنے بالوں میں گھسیٹر لیں۔

“میں کہتی رہی،میرے انیس کے آنے کا انتظار کرو مگر سب کہتے تھے، امریکہ بہت دور ہے وہ جنازے تک نہ پہنچ سکے گا۔ “

ماں نے سر سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اور دوپٹے میں منہ چھپا کر گسکنے لگی۔

“ چھوٹے کفن میں لپٹا دُکھ کتنا بھاری نکلا بیٹا انیس، تمہارے توقیر کی ماں کی لاش سے بھی بھاری۔ “

انیس کی بیوی لائبہ کو مرے سولہواں سال ہو چلا تھا اور امریکہ گئے انیس کو نواں سال۔

لائبہ توقیر کو جنم دیتے ہی مر گئی تھی،اُسے شہر کے ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید بہت دیر ہو چکی تھی،وہ زچگی کے درد سہتے سہتے نڈھال ہو چکی تھی اور ترغیب دینے پر بھی اپنے رحم میں کہیں اُلجھے بچے کو زور لگا کر نیچے دھکیلنے کی رَتی بھر کوشش نہ کر رہی تھی،ڈاکٹروں نے اپنے تئیں بہت جلدی کی مگر وہ آپریشن سے پہلے ہی دم توڑ گئی، تاہم آپریشن ہوا اور اس کا بچہ بچا لیا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ جب بچہ نیچے کھسک رہا تھا تب کہیں انول نال اس کی گردن کے گرد پھندے کی صورت لپٹ گئی تھی۔یہ تو اچھا ہوا زچہ کو ہسپتال لے آیا گیا ورنہ بچے نے بھی انول نال سے پھندا لے کر مر جانا تھا۔

بچہ جو لگ بھگ سولہ سال پہلے ماں کے رحم میں پھندا لے کر مرنے سے بچ گیا تھا، گولیوں سے بھون کر مار ڈالا گیا تھا۔

مرنے والا اپنی زندگی میں بھی زندوں میں تھا ہی کہاں۔آٹھ سال کا ہوگا کہ اُس کی گردن ایک طرف کو مٹر گئی اوروہ ڈھنگ سے بول نہیں سکتا تھا۔خیر وہ اپنے دادا اور دادی کے گھر کی رونق تھااور وہ اسی میں اپنے انیس کی جھلک دیکھ دیکھ کر جیتے تھے مگر اب جب کہ انہوں نے اس کی ننھی منی لاش دیکھ لی تھی،اُنہیں کھٹکا سا لگ گیا تھا کہ اب وہ دونوں بھی بس مہمان ہی تھے۔ ماں نے بیٹے کو ٹیلی فون ملوایا، خوب بین ڈالے اور اتنی منتیں کیں کہ بیٹے کو سب کچھ چھوڑ چھاڑکرواپس آنا پڑا۔

چوتھے روز وہ پہنچا تو سارا دن اور رات گئے تک کا وقت روتے رُلاتے گزر گیا۔ اگلے دن شام تک جنہیں پرسا دینا تھا، دے چکے تھے،جب سب چلے گئے اوروہ اندراپنی ماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا تو تب تک وہ بھی رو رو کر تھک چکی تھیں۔ا ب وہ اپنے بیٹے سے اور طرح کی باتیں کرنا چاہتی تھیں۔ ایسی باتیں جو اس کے بجھے ہوئے دل میں زندگی کی اُمنگ بھر دیں۔پہلی کوشش میں وہ کامیاب نہ ہو پائیں کہ اُن کا جی بھر آتا تھا،خوب ضبط کیا،حلقوم کی طرف اُٹھتے گولے کو نیچے دبایا اور ہونٹوں کو سختی سے باہم بھینچ لیا۔اُن کا پکا ارادہ تھا کہ دل پر قابو رکھیں گی یا شایدخود ہی اندر سے کچھ اور طرح کی اُمنگ جاگ اُٹھی تھی کہ اندر سے اٹھتا غبارواپس گرنے لگا تھا۔ایسے میں انہیں کچھ وقت لگ گیا تاہم اب وہ سہولت سے اپنے ماضی کی طرف بھٹک سکتی تھیں۔یہ ان کا پسندیدہ علاقہ تھا، سو بھٹک گئیں:

“ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ میری ماں، جسے میں بے بے کہا کرتی تھی، میرے سر پر آ کر کھڑی ہوئی اور ناراض ہو کر کہا: نی نکیے حیا کر، آج تیرا ویاہ ہے اور تو گڑیوں سے کھیل رہی ہے۔میں نے کہا:بے بے، آج تو میری گڑیا کی شادی ہے۔بے بے نے مجھے بازو سے پکڑا اور کھینچ کر اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔پھر میرے ہاتھ سے گڑیا اور رنگ برنگے پٹولے لے کر انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا: “جھلیے تمہیں اس گڑیا سے بھی سوہنے کپڑے پہنائوں گی۔اس وقت میں یہی سمجھتی تھی کہ شادی خوب صورت اور کام والے کپڑے پہننے کانام تھا،میں جھٹ تیار ہوگئی،کہا :بے بے،پھر تو میں شادی ضرورکروں گی۔بے بے ہنسی مگر میں نے دیکھا اس کی آنکھیں جیسے چھلکنے کو تھیں۔”

ماں کی آنکھیں بھی چھلک پڑی تھیں۔

سید پور کی کچھ آبادی اُونچائی پر تھی جسے اُچی ڈھکی کہا جاتا اور باقی تھلی پانڈی میں۔یہ گاؤں پہاڑی سلسلے کے دامن میں کچھ اس طرح واقع تھا کہ لگ بھگ سو سواسو گھر پہاڑی کے اُبھار پر تھے اور باقی آبادی نیچے ہموار میدان میں پھیلی ہوئی تھی۔ماسٹر سلیم الرحمن کا مکان اُچی ڈھکی پر تھا۔تین کمرے اور ایک بیٹھک ایک قطار میں تھے اور سامنے لمبوترا برآمدہ تھا جسے پسار کہا جاتاتھا۔ اسی پسار کی بغل میں رسوئی بنالی گئی تھی جس کے سامنے دیوار سے لگے تخت پرماں کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ابا بھی گھر میں ہوتے تو وہیں آ بیٹھتے۔ جب ماں بیٹا باتوں میں مگن تھے تو بیچ میں چپکے سے ماسٹر صاحب بھی وہاں آکر بیٹھ گئے تھے۔ اپنی شادی کے قصے کا یہ حصہ سنا تو کھلکھلا کر ہنس دیے اور کہا:

“ بیٹا محمد انیس،اپنی ماں کی باتوں سے یہ نہ سمجھنا کہ میں شادی کے وقت بہت عمر رسیدہ تھا اور تمہاری ماں کم عمر بچی،ہم دونوں ہی کم سن تھے،اگر یہ بارہ تیرہ سال کی ہوں گی تو میں پندرہ سولہ سال کا تھا،تب یہی عمر ہوتی تھی شادی کی۔”

جب ماسٹر صاحب ہنس رہے تھے تواُن کے گال اور بھی زیادہ سرخ ہو گئے تھے۔ ان کی سفید داڑھی پر مدہم روشنی پڑرہی تھی مگر ہنسنے سے لگتا ساری روشنی ایک ایک بال سے پھوٹ رہی تھی۔ دونوں ماں بیٹے کو باپ کا یوں ہنسنا اور سارے میں ایک نور کی خنکی سی بھر دینا اچھا لگ رہا تھا۔ ماں نے چھچھلتی نظر بیٹے پر ڈالی اور پھر اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر گزرے وقتوں کو یاد کرنے لگیں:

“تمہارے ابا کا رنگ ایسا تھا جیسے کوئی دودھ میں شہد ملا دے۔ اب بھی ویسا ہی ہے مگر تب ایک اور طرح کی چمک سی اٹھتی تھی اس رنگت سے، کم سنی والی انوکھی چمک۔گھڑولی بھرنے والی رات میری سہیلیوں نے تب ایک گانا پہلی بار تیار کرکے گایا تھا، جی خود گھڑ کر، خاص تمہارے ابا کی مناسبت سے۔ پھر تو یہ گانا اتنا مشہور ہوا کہ تب سے اب تک سب شادیوں میں گایا جاتا ہے۔”
ماں نے دایاں ہاتھ کان پر رکھا اور بایاں قدرے فضا میں بلند کر دیا:

“گھر اُچی ڈھکی تے رنگ سوہا بھلا۔۔۔ ہو سوہا بھلا “۔

ماں کی آواز میں عجب طرح کا لوچ اور رس تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور آواز سارے میں تھرا رہی تھی۔ ماسٹر صاحب نے ادبدا کر بیوی کو گانے سے روک دیا،کہنے لگے :

“ ماتم والا گھرہے نیک بختے،آنڈھ گوانڈھ والے سنیں گے تو کیا کہیں گے۔”

تاہم وہ آنڈھ گوانڈھ سے بے خبر رات گئے تک باتیں کرتے رہے، ادھر ادھر کی باتیں، یوں جیسے اب وہ ماتم والا گھر نہیں تھا۔

ماسٹرصاحب کہا کرتے تھے:زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے مگر ناس مارے دکھ کا برا ہو کہ دکھ کے گولے کو حلقوم سے پیچھے دھکیل دینے والی عورت کے ایک ڈیڑھ جملے سے وہ غم تینوں کے دلوں پر بھاری پتھروں کی طرح پھر سے آ پڑا تھا۔اگلے لمحے میں وہ تینوں اپنے اپنے بستروں میں دبکے ایک دوسرے تک اپنی سسکیوں کی آوازیں پہنچنے سے روکنے کے جتن کر رہے تھے۔ اماں نے اُٹھتے اٹھتے کہا تھا:

“ بیٹا انیس،جس عمر میں تمہارے ابا کے سر پر سنہرے تاروں والا سہراسجا تھا عین اس عمر میں تمہارے معصوم بیٹے کی لہو میں لتھڑی ہوئی لاش میں نے اس گھر کے صحن میں دیکھی ہے۔ ہائے کہ یہ لاش دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی تھی۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماسٹر سلیم الرحمن عمر بھر محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہے تھے اور نکہ کلاں کے مڈل سکول سے ہیڈ ماسٹر ہو کر ریٹائر ہوئے۔تاہم اپنی ملازمت کے اسی عرصے کسی نہ کسی مسجد سے ضرور وابستہ رہے۔ سید پور گاؤں میں یا پھر آس پاس کے علاقوں میں ایسا نہیں تھا کہ کوئی کسی مسجد کا پیش امام ہو یا نماز جمعہ پڑھاتا ہو اور سرکار کی ملازمت بھی کرے کہ اسے بالعموم نادرست سمجھا جاتا تھا۔ ماسٹر صاحب بھی اسے غلط سمجھتے تھے کہ امامت اور خطابت کا معاوضہ لیں۔ وہ اسے پیشہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ماسٹر صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد، سید پور والوں کی درخواست پر، وہاں کی جامع مسجد سے وابستہ ہوگئے تو انہوں نے اس خدمت کے بدلے کوئی معاوضہ نہ لینے کے اصول کو قائم رکھا۔اس بات سے گاؤں والوں کی نظر میں اُن کی عزت بڑھ گئی تھی۔ تاہم یہ بھی واقعہ ہے کہ ماسٹرصاحب اپنے متنازع نظریات کی وجہ سے،علاقہ بھر کے لوگوں میں ہمیشہ موضوع بحث بنے رہتے تھے۔ایٹم بم کے دھماکے کرنے والے دن کو جب یوم تکبیر کہا گیا تو جمعہ کے خطبے میں انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام تو سلامتی والا مذہب ہے اس میں ہر ایسا ہتھیار استعمال کرنا حرام ہے جو جنگ کرنے والے شخص اور عام شہری میں تمیز نہ کر سکے،جو اپنے ہدف پر پڑتے ہوئے بچوں، عورتوں،بوڑھوں، فصلوں اور جانوروں کوبھی نشانہ بنالے۔ وہ کہتے: جنہیں میرے پیارے آقا ؐنے پناہ اور امان دی ہے، اُن بے گناہوں کو مارنے والا ہتھیار حلال نہیں ہو سکتا۔

مولوی افضال نے تو کئی بار ان کے خلاف مہم چلائی تھی کہ اپنے فاسق خیالات کی وجہ سے وہ امامت کے لائق نہیں رہے مگر وہ ہر بار بچ جاتے رہے۔ مولوی افضال کے مطابق “ماسٹر، ماسٹر تھا عالم نہیں تھا اور جب اس ماسٹرنے سود کو بھی حلال قرار دیا تھا تب ہی انہیں جامع مسجد سے نکال باہر کرنا چاہیے تھا۔ “

یہ سود کو حلال کرنے والا قصہ بھی عجیب ہے۔اسی گاؤں میں ایک بیوہ تھی، حاجراں،اس نے بہت مشقتوں میں پڑ کر اپنے بیٹے کو پڑھایا۔اسے ڈگری مل گئی مگر پچھلے دو سال سے بے روزگار تھا۔خدا خدا کرکے اس نے ایک بنک میں ملازمت حاصل کر لی۔ حاجراں مولوی صاحب کے گھر کام کرتی تھی اب جو بیٹے کو پہلی تنخواہ ملی تو اس نے وہاں کام کرنا چھوڑ دیا۔مولوی صاحب نے حاجراں کو بلواکر کہا: “بیٹے سے کہو نوکری چھوڑ دے کہ بنک سود ی کاروبار کرتے ہیں جو حرام ہے۔”مولوی صاحب نے صاف صاف کہہ دیا: “تم نے ساری عمر محنت مشقت سے حلال کمایا اور بچے کو حلال کا لقمہ دیا ہے،یہ نوکری نہیں چھوڑے گا تو ساری عمر کی نیکیوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گی اور جہنم کا ایندھن بنو گی۔” حاجراں کے بیٹے کو بہ مشکل نوکری ملی تھی مگر وہ حرام کھانا چاہتی تھی نہ اس کا بیٹا۔بیٹے سے مشورہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گیا، اسی پریشانی میں وہ ماسٹر صاحب کے پاس پہنچے، انہوں نے ساری بات توجہ سے سنی اور کہا: “تمہارے بیٹے کی کمائی حرام نہیں ہے۔”

بات گاؤں بھر میں پھیل گئی۔سب کا ماننا تھا کہ سود حرام تھا اور بنک سودی کاروبار کرتے تھے۔لوگوں کے اعتقاد اور جذبات کو مولوی افضال نے خوب بھڑکایا اور پھرایک روز وہ اپنے ساتھیوں سمیت جامع مسجد جا پہنچا،یوں لگتا تھا ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کر دیا جائے گا۔خیر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے کہا:’ اگر آپ سب لوگ کچھ وقت کے لیے تشریف رکھیں تو ہم یہ مسئلہ سمجھنے کی طرف آ سکتے ہیں۔” لوگ سکون سے بیٹھ گئے۔ انہوں نے پہلے قرآن پاک کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں سود کو حرام اور تجارت کو حلال قرار دیا گیا تھا۔پھر احادیث کی کتب سے متعلقہ حدیثیں بیان کیں اور آخر میں سیرت پاک کا واقعہ سنانے لگے، وہ واقعہ جس کے مطابق حضرت خدیجہؓ نے حضور اکرم ؐکے لیے پیغام بھیجا تھا کہ ان کا اسباب لے کر تجارت کریں اور متعلقہ کتاب سے پڑھ کر سنایا کہ آپ ؐنے تجارت کی تھی اور چوں کہ آپؐ مکہ میں سب سے بڑھ کر صادق اور امین تھے لہٰذا اس کاروبار میں خوب منافع بھی کمایا تھا۔یہاں پہنچ کر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے سوال کیا:” میرا پوچھنا یہ ہے کہ یہ تجارت تو جناب رسالت مآبؐ کر رہے تھے، منافع حضرت خدیجہؓ کو کیوں ملا؟” مولوی ا فضال نے ترت کہا :” اس لیے کہ سرمایہ حضرت خدیجہؓ کا تھا۔”ماسٹر صاحب مسکرائے۔”ٹھیک “ پہلو بدلا اور کہا:
“ گویا اسلام میں سرمایہ کاری حرام نہیں ہے۔ہاں اسلام میں سود حرام ہے۔ایسا قرض، جس کے ذریعے ضرورت پوری کر لی جائے اور سرمایہ ختم ہو جائے،اس پر اضافی رقم کا مطالبہ سود ہے اور وہ حرام ہے۔ تاہم ایسی سرمایہ کاری جس میں اصل زر محفوظ رہے اور سرمائے میں بڑھوتری ہوتی ہے، حلال عمل ہے۔ایسے چاہے افراد ہوں یا ادارے،اگر وہ صرف قرض دینے اور وصول کرنے کاکام نہیں کرتے بلکہ سرمایہ کاری کو منافع بخش کاروبار سے منسلک کرتے ہیں، حلال کام کرتے ہیں۔تب انہوں نے مخصوص بنک کا طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا، جس میں وہ اس نوجوان کو ملازمت ملی تھی اور کہا: چوں کہ وہ بنک صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے اور اس امرکو یقینی بناتا ہے کہ منصوبے تکمیل کو پہنچیں اس لیے اس کاکام حلال عمل ہے اور اس نوجوان کا ملازمت کرنا رزق حلال سے جڑنا ہے۔ “

ماسٹر صاحب کا فتویٰ درست تھا یا نادرست مگر اس نئے استدلال نے مولوی افضال کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے سوچتا رہ گیا تو لوگوں میں سر گوشیاں ہونے لگیں۔ فوری طور پر کچھ نہ سوجھا تو دلیل سے جواب دینے کے بجائے اسے ماسٹر صاحب کاایک ایسا حیلہ قرار دیا جس میں وہ حرام کو حلال بنا رہے تھے تاہم اس بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ فوری طور پر ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کرنے سے باز رہے تھے۔

اسی طرح جب سے افغانستان میں شورش شروع ہوئی تب سے وہ جہادی تنظیموں کی کارروائیوں کو خلاف اسلام کہتے آئے تھے۔پہلے پہل اُنہیں روسی ایجنٹ کہا گیا اور جب روس پسپا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجاہدین دہشت گرد ہوگئے تو وہ اسی مولوی کی نظر میں وہ امریکی ایجنٹ ہو گئے مگر ان کا موقف بدلنا تھا نہ بدلا۔وہ کہتے تھے کہ نجی جہاد کا یہ عمل انارکی اور تباہی کے نتائج لائے گا اور سب نے دیکھا، ایسا ہی ہوا تھا۔ماسٹر صاحب اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے خودکش حملوں اور ایٹم بم دونوں کو حرام ہتھیار کہا تھا اور دلیل یہ دی تھی کہ دونوں ظالم اور مظلوم میں تمیز نہیں کر سکتے تھے۔جس روز پشاور میں طالبان نے ڈیڑھ سو بچوں کو بے دردی سے مار ڈالا تھا اُنہوں نے فوراً بعد والے جمعے کو بہت درد بھرا خطبہ دیا تھا۔ستم ظریفی دیکھیے کہ اس خطبے والے جمعے کے بعد پڑنی والی جمعرات کوان کا اپنا پوتاتوقیرخود کش حملہ آور سمجھتے ہوئے گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔

جب ننھے توقیر کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش گھر کے آنگن میں لائی گئی تھی تو وہ بھاگ کرکئی روز پہلے والا وہ اخبار لے آئے تھے جس میں پشاور سکول کے بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی تصویریں چھپی تھیں۔وہ کبھی اخبار کی طرف انگلی لے جاتے اور کبھی پوتے کی لاش کی جانب،پھر انہوں نے اوپر آسمان کی طرف منھ کیا اور چلاتے ہوئے کہا:” ان بچوں کا کیا قصور ہے میرے مولا۔”یہ بات انہوں نے گڑ گڑاتے ہوئے تین بار کہی،پھر چاروں طرف گھوم کر ہاتھ پھیلائے پھیلائے کہا:”اگر اس دھرتی پر اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ہے تو کیا تم بھی۔۔۔۔ “ وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئے تھے اور آسمان کی طرف یوں خالی خالی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے اُنہیں یقین نہیں تھا کہ وہاں کوئی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں وہ تینوں تھے۔ سلیم عرف لالہ، شفیق عر ف جھگڑا اور شریف عرف پھرکی۔

تھٹی نور احمد شاہ کا گورنمنٹ اسلامیہ سکول مدرسہ بھی تھا اور سکول بھی۔ہیڈ ماسٹر صاحب شام مسجد کے صحن میں قرآن،حدیث، فقہ اور سیرت کی تعلیم دیتے جب کہ سکول کی باقاعدہ پڑھائی کمرہ جماعت میں ہوتی تھی۔ ان دنوں ورنیکلر فائنل کے امتحان کے لیے ضلعی دفتر انتظام کرتا تھا۔سلیم اسی امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔اس کے باقی دونوں بھائی نچلی جماعتوں میں تھے۔ سلیم کے لالہ جی کے طور پر سکول بھر میں مشہور ہونے کا قصہ بھی عجیب ہے۔جب ان کے ابا نے سلیم کے دونوں بھائیوں کو بھی تھٹی پڑھنے بھیج دیا تو تینوں وہیں اقامت گاہ میں رہنے لگے۔ شفیق اورشریف دونوں بڑے بھائی کے احترام میں سلیم کو لالہ کہہ کر بلاتے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے سکول کے سارے بچے اُسے لالہ کہنے لگے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سکول کے ماسٹر بھی اسے لالہ کہتے۔ شفیق بڑا جھگڑالو تھا اور شریف تیز طرار، لہٰذا دونوں اسی مناسب سے جھگڑا اور پھرکی ہو گئے۔اسی زمانے کا واقعہ ہے ایک صبح ہیڈ ماسٹر صاحب نے لالہ سلیم کو بلا بھیجا۔یہ معمول کی بات تھی۔وہ کسان کا بیٹا تھااور مال ڈنگر سنبھالنے کا ہنر رکھتا تھا۔جب ضرورت پڑتی ان کی بھینس کو چارہ ڈالتا اور پانی پلا دیا کرتا۔اس بار بھی یہی کرنا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب آٹھویں کا نتیجہ لینے کیمبل پور جا رہے تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا:

“میں شام تک لوٹوں گا دیکھو، میں نے بھینس کو چارہ ڈال دیا ہے۔”

وہ اس بھینس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کی نظریں اس کی سیاہ چمکتی ہوئی کھال پر جمی تھیں اور ہاتھ سے اس کا بدن سہلا رہے تھے۔یکایک انہوں نے سلیم کی طرف دیکھا اور پھر گھر کے سامنے موجود بڑے تنے والے بوہڑ کے درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا :

“ کچھ دیر میں بھینس فارغ ہو جائے تو اسے کھول کر وہاں سائے میں لے جا کر باندھ دینا، اور ہاں دن کو اسے پانی بھی پلانا،خیال کرنا کہیں دھوپ میں نہ جھلستی رہے۔”

لالہ سلیم پر ہیڈ ماسٹر صاحب کا بہت اعتماد تھا۔وہ جو ذمہ داری دیتے وہ پوری ہو جایا کرتی تھی۔محنت کرانے والے استاد تھے، طالب علموں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے اور طالب علم بھی ان کے کام جی جان سے کرتے تھے مگراُس روز یوں ہوا کہ بھینس کے گتاوا ختم کرنے تک لالہ سلیم کو وہیں کُھرلی کے پاس انتظار کرنا پڑا۔اس میں اتنی دیر لگ گئی کہ وہ اُکتاہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ گتاوے میں شاید شیرہ تھا کہ آخر میں بھینس کھرلی میں تلچھٹ چاٹنے لگی تھی۔ابھی اس نے بھینس کھولی نہ تھی کہ اس کے بھائیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ اُسے کھیلنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اُس نے جلدی سے بھینس کھولی اور اُسے بوہڑ کے نیچے لے گیا۔تنے کے ساتھ پہلے سے ایک رسی بندھی ہوئی تھی جس سے بھینس کو باندھا جا سکتا تھا مگراس کی نظر اچانک اوپر ایک کٹی ہوئی مگرمضبوط شاخ پر پڑی۔ اس نے کھیل ہی کھیل میں تاک کر بھینس کی رسی اُس کی سمت اُچھالی کہ دیکھے وہاں پہنچتی بھی ہے یا نہیں۔وہ سیدھا اُسی ٹھنٹھ میں جاکر اٹک گئی۔ اس نے اسے کھینچا، ایک بار، دو بار،تین بارمگر وہاں رسی ایسی پھنسی کہ نکلتی ہی نہ تھی، حالاں کہ وہ لگ بھگ اس رسی سے لٹک ہی گیا تھا۔ جھگڑا، پھرکی اور دوسرے لڑکے اسے مسلسل بلا رہے تھے ؛ “لالہ !او لالہ آجاؤ۔” اس نے سوچا بھینس ہی باندھنی تھی، بوہڑ کے تنے سے بندھی رسی سے نہ سہی، اسی بوہڑ کے ٹھنٹھ سے ہی سہی۔وہ مطمئن ہو کرکھیلنے نکل گیا۔بیچ میں ایک دفعہ بھینس دیکھنے آیا،وہ مزے سے بوہڑ تلے بیٹھی جگالی کر رہی تھی۔اگرچہ یوں بیٹھے ہوئے اس کی رسی ذرا سی تنی ہوئی تھی اور جگالی کرنے کے لیے بھینس کو اپنی گردن کچھ اوپر اُٹھا کر رکھنا پڑ رہی تھی، مگراس کی نظر میں سب ٹھیک تھا لہٰذا وہ اقامت گاہ کے طعام خانے سے کھانا کھا کر پھر دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا۔ حتٰی کہ سورج سر سے ہوتا دوسری طرف جھک گیا تھا۔

اچانک اُسے ہیڈ ماسٹر صاحب کی آواز سنائی دی۔ “لالہ !او لالہ۔” وہ بھاگم بھاگ پہنچا اور مری ہوئی بھینس کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔اس نے ایک ہی لمحے میں اندازہ لگا لیا تھا کہ دھوپ سے بچنے کے لیے بھینس درخت کے دوسری طرف ہو لی تھی۔ایسے میں اس کی رسی تن گئی۔ وہ گری اوراُسے اپنی ہی رسی سے پھندا آگیا تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب پاس کھڑے ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔ لالہ کی سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے تھیں۔ آخر کار ہیڈماسٹر صاحب نے چہرہ اوپر اٹھایا اور کہا :

“ لالہ یہ تم نے۔۔۔۔”

اُنہوں نے بات نامکمل چھوڑ دی،انا للہ پڑھا، چہرے پر جیسے ایک اطمینان سا آگیا تھا۔ کہنے لگے:

“ خدا کا شکر ہے اسی میں معاملہ طے ہوا،میں تو بہت زیاہ خوش تھا۔”

پھر انہوں نے لالہ کو خبر سنائی کہ اسکول کا نتیجہ سو فی صد رہا تھا اور یہ کہ لالہ نے اس امتحان میں پہلی پوزیشن لی تھی۔
اپنے بچپن کا یہ واقعہ ماسٹر سلیم الرحمن نے بہت دفعہ اپنے بیٹے انیس کو سنایا تھا۔یہ واقعہ سنا کر ہر بار وہ کہا کرتے بچوں کی تربیت استاد اگر اس جذبے سے کرے تو وہ معاشرے کا کار آمد فرد بنتا ہے۔یہی واقعہ وہ اپنے پوتے توقیر کو بھی سنایا کرتے جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ اپنے دماغ کے خلل کی وجہ سے وہ کم کم ہی سمجھ پاتا ہوگا۔اس واقعہ کو دہراتے ہوئے ہر بار وہ ان مدرسوں میں پڑھنے والوں نوجوانوں کی بابت بھی سوچا کرتے تھے جو کہنے کو تو طالب علم تھے مگر اساتذہ نے انہیں طالبان بنا دیا تھا؛ شقی القلب طالبان۔مذہب کے نام پر ہر قسم کا بدترین تشدد کر گزرنے والے،گردنوں پر چھری رکھ کر شاہ رگ کاٹ ڈالنے والے، کمر سے بارود باندھ کر اپنے آپ کو اوردوسرے بے گناہوں کو اڑا دینے والے،ان سے مسجدیں محفوظ تھیں نہ مدرسے، بازار محفوظ تھے نہ دفاتر اور سب سے شرمناک بات یہ تھی کہ وہ ایسا کرتے ہوئے نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے حالاں کہ خوف خدا ان کے دلوں کو چھو کر نہ گزرا تھا۔
عجب طرح کی سوچیں تھیں کہ ماسٹر سلیم الرحمن کا دِل خوف خدا سے لرزنے لگتا تھا۔نہ جانے کیوں اُنہیں یقین تھاکہ گھر گھر سے دہشت پھوٹ پڑنے کاعذاب یونہی اس قوم پر نہیں ٹوٹاتھا،کہیں نہ کہیں کوئی چوک اُن کی نسل سے ہو گئی تھی۔اپنے طالب علموں کو انہوں نے حساب پڑھایا اور انگریزی بھی،وہ اسلامیات پڑھا رہے ہوتے یا اُردو، شاگردوں کی روح سے مکالمہ کرتے تھے۔ ایک زمانے میں وہ ہر طرح کی کہانیاں پڑھ جایا کرتے تھے انہوں نے رنگ رنگ کی کہانیاں پڑھائیںبھی بہت۔ تاہم پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعدانہوں نے منٹو کی ایک کہانی “کھول دو” کا چرچا سنا تو اسے بہ طور خاص پڑھا تھا۔ وہ کہانی انہیں اب رہ رہ کریاد آتی تھی۔پوری کہانی نہیں: کھیت کا وہ منظر جب رضا کاروں کا ٹولہ ایک لڑکی پر ٹوٹ پڑا تھا۔ انہیں لگتا وہ وہیں کہیں تھے اور اپنی آنکھوں سے وہ سارا منظر دیکھ رہے تھے مگر اُسے روک دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود ایک لذت بھرے سہم کے اسیر ہو گئے تھے۔ خوف خدا کہیں نہیں تھا، شاید آس پاس خدا بھی نہیں تھا۔ وہ وہیں دبکے سارا منظر دیکھتے تھے اور اب بھی شاید کہیں دبکے سارا منظر دیکھتے ہیں۔ منٹو کے افسانے کے رضاکار،خدائی فوجدار ہو کر مسجدوں کی سیڑھیوں پر کھڑے چندہ بٹورتے ہیں۔ مال داروں کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور ان کے مالوں سے خدا کا حصہ ہتھیاتے ہیں۔اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ سمجھنے والے یہ خدائی فوج دار یوں تاثر دیتے ہیں کہ جیسے وہ اسی منصب کے لیے اُوپر سے اُتارے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“وہ اوپر سے اُترتے تھے،چھتریوں کے ذریعے اور سارے خوف زدہ تھے۔”

ماسٹر صاحب رُکے،کھنگار کر گلا صاف کیا۔شاید ان کا گلا خشک ہو رہا تھا۔انہوں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو ذرا فاصلے پر بیٹھی اون کا گولا لپیٹ رہی تھی اور کہا :” نیک بختے پانی “۔

اس نے اُون کا گولا ایک طرف رکھ دیا۔پاؤں کھسکا کر تخت سے نیچے لٹکائے اورگھٹنے پر ہاتھ ٹیک کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ایسے میں اُس کے ہونٹوں سے “ہائے” نکلی اور دائیاں ہاتھ خود بخود کمر پر جا ٹکا تھا۔ اُسے وہاں کھچاؤ محسوس ہوا تھا۔تاہم یہ کھچاؤ وہاں شاید وہ اِتنی ہی دیر کے لیے تھا کہ اب وہ اسے بھول کر سیدھی کمر کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس نے ماسٹر صاحب کی چارپائی کے پاس پڑے میز پر خالی گلاس دیکھا اور اسے اٹھا کر پانی لینے باہر نکلتے نکلتے کہنے لگی :

“اس معصوم کو کیا بتاتے ہو “۔

ماسٹر صاحب نے ننھے توقیر کی سمت دیکھا: اس کی گردن دائیں جانب جھکی ہوئی تھی اور ہونٹوں سے رال بہہ رہی تھی۔ اتنے میں اس کی بیوی پانی کا بھرا ہوا گلاس لے کر پہنچ گئی تھی،ماسٹر صاحب کہنے لگے :

“ہاں تم ٹھیک کہتی ہو،اس بے چارے کو کیا سمجھ۔”

ننھے توقیر کا بدن زور سے لرزا اور اس کی گردن پر اس کا سرجھٹکے لینے لگا، لگتا تھا وہ سب سمجھ رہا تھا،اپنی توتلائی ہوئی لکنت میں کہنے لگا:

“ممومو جھے سمجھ اے،سب سنوں گا،اوووپر والے،چھتررری والے “۔

ماسٹر صاحب کی بیوی بھی پاس ہی بیٹھ گئی،گزرے وقتوں کو یوں یاد کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ ماسٹر صاحب کو اب بات سنانے میں لطف آنے لگا تھا،کہنے لگے :

“وہ دوسری بڑی جنگ کا زمانہ تھا، مجھے یاد ہے رمضان کا مہینہ تھا،لام، جرمن فوج اور فوجیوں کا چھتریوں کے ذریعے اترنا، اس طرح کی باتیں ہمارے کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔ایک مرتبہ یوں ہوا کہ ہم ایک منصوبے کے تحت،تراویح کی جماعت میں سب سے آخری صف میں کھڑے ہوئے اور جوں ہی لوگ سجدے میں گئے، پیچھے سے کھسک لیے،اقامت گاہ میں اپنے اپنے کمروں میں گئے،خاکی نکریں پہنیں اور اوپر بنیانیں؛ وہی وردی جو ہم پہن کر پی ٹی کرتے تھے۔پھرچھتریاں لیں اور گاؤں کی ایک طرف سے سیڑھیاں چڑھے اور گھروں کی چھتوں سے بھاگتے،رکاوٹیں الاہنگتے پھلانگتے دوسری طرف سے اُتر گئے۔اس زمانے میں شاید ہی کو ئی مکان پکا ہوتا ہوگا، سب مٹی گارے کے بنے ہوئے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ ابھی بجلی نہ آئی تھی لوگ چھتوں پر کھاٹیں بچھا کر سویا کرتے۔جسے مچھر دانی جڑتی، وہ مچھر دانی لگا کر ورنہ یونہی کمر کی چادریں اوپر تان کر سوجایا کرتے تھے۔ہم گاؤں کی چھتوں پر چھاتے لیے بھاگ رہے تھے اور اپنے پیچھے ایک ہنگامہ اٹھاتے جارہے تھے۔ہم صاف مردوں اور عورتوں کے شور اور چیخوں میں سن سکتے تھے :

“جرمن آگئے”، “چھتریوں والے اتر گئے”، بچاؤ بچاؤ”۔

ہم دوسری طرف سے اُتر گئے۔کمروں میں گئے اور کپڑے بدل کر پھر تراویح میں شامل ہو گئے، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔خیر رات بھر یوں لگتا تھا جیسے لوگ چھتریوں والے جرمنوں کو ڈھونڈتے رہے تھے، کلہاڑیاں، ڈنڈے جس کے ہاتھ جو لگا، تھاما اور گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ہم اپنے تئیں خوف زدہ ہو گئے،اگلے روز شہر کے تھانے سے پولیس آئی،پولیس والے ہیڈ ماسٹر سے بھی ملے تھے۔ شاید انہوں نے سمجھا بجھا کر انہیں واپس کر دیا تھا۔ہماری پیشی ہو گئی۔ہیڈ ماسٹر صاحب کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا،انہوں نے ہماری طرف دیکھ کر وقفے سے دو بار یوں زور سے “ہونہہ،ہونہہ” کیا تھا کہ ان کا کلف لگا شملہ جھولنے لگا، انہوں نے ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے تھے اور نرخرہ اوپر نیچے تھرک رہا تھا جیسے زور سے آئی ہنسی دبا رہے تھے،اسی کیفیت میں ان کا ڈنڈا فضا میں بلند ہوا اور کہنے لگے :
“ چھتری والے جرمن، تمہاری پی ٹی کی وردیاں پہن کر گاؤں میں اترے تھے۔”

بہ مشکل اُنہوں نے جملہ مکمل کیا اوران کے ہونٹوں سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ بہا۔

“لالہ !تم بھی بہت شریر ہو۔ دفعان ہو جاؤ”۔

ہم عجلت میں ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے سے نکل آئے تھے مگر میں نے پلٹ کر دیکھا تھا وہ اپنی میز پر ایک ہاتھ رکھے اور دوسری سے پیٹ دبائے ہنس رہے تھے۔”

جس رات ماسٹر صاحب نے یہ واقعہ سنایا تھا اس رات ننھا توقیر چپکے سے اپنے گھر سے نکل گیا تھا۔ توقیر کے پیدا ہونے سے قتل ہونے تک کا ایک ایک لمحہ دادا،دادی کے دلوں پر نقش تھا۔ اُس نے آنکھ کھولی تو ماں نہیں تھی، ڈھنگ سے رشتوں کو پہچاننا شروع کیاتو باپ ملک چھوڑ کر چلا گیا۔باپ کے جانے تک وہ بھلا چنگا تھا مگر ایک رات وہ اُٹھا تو اُس کی گردن درد سے ٹوٹ رہی تھی۔اُسے ہسپتال لے جایا گیا، کئی ٹسٹ ہوئے اور پتا چلا اسے گردن توڑ بخار تھا، علاج ہوتا رہا مگر وہ گردن سیدھی رکھنے کے قابل نہ ہو سکا،چلتا تو سر سے پیر تک جھٹکے کھاتا،بولتا تو زبان میں تتلاہٹ آ جاتی، بات کرتے کرتے بھول جاتا،کبھی کبھی ایک بات میں دوسری کو ملا دیتا تو سننے والوں کے قہقہے نکل جاتے تھے مگر اس بار کچھ ایسا ہوا تھا کہ سب کی چیخیں نکل گئی تھی۔شاید رات دادا سے جو سنا تھا اُس میں کچھ خبروں کو ملا کراُس نے ایک منصوبہ بنایا تھا،چھوٹے ذہن سے بڑے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے والا منصوبہ۔ اپنے وقت سے کٹا ہوا جنگ کا جو تماشا اِس معصوم کے سامنے کھینچا گیا تھا وہ کچے ذہن پر نقش ہو گیاتھا۔

جب اُس کی لاش لائی گئی تو اسی ننھے بدن پر خون میں تر ایک ڈھیلی ڈھالی جیکٹ تھی۔ یہ وہ جیکٹ تھی جس میں سامنے کی طرف کئی جیبیں بنائی گئی تھیں۔اسے ماسٹر صاحب نے بہت سال قبل حج پر جانے سے پہلے لنڈے بازار سے اس لیے خریدا تھا کہ اِن جیبوں میں پاسپورٹ، دعاؤں کی کتابیں اور کرنسی، کچھ بھی رکھا جا سکتا تھا۔ ننھے توقیر نے اس کی جیبوں میں اپنے کھلونے بھر لیے تھے۔ایک چادر سر پر باندھی اور اس کا پلو پیچھے لٹکنے دیا اور ہاتھ میں وہ کھلوناپستول اُٹھالیا جو باپ نے پچھلے سال امریکہ سے بھیجا تھا۔وہ یہ خیال کر کے ہی خوش ہو رہا تھا کہ لوگ اُس سے ڈر کر بھاگیں گے۔بالکل اسی طرح جیسے اس کے دادا چھتری لے کر نکلے تھے تو بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس نے باہر نکلتے ہی اِدھر اُدھر دیکھا اور بھاگتے ہوئے بازار کی طرف ہو لیا۔ وہ کہتا جاتا تھا :
“ میں پھٹ جاااااؤں دا۔۔ میں پھٹ جاؤں داااا”۔

اس کے پیچھے ایک شور مچ گیا تھا :

“خود کش آگیا خود کش آگیا”۔

وہ اس شور شرابے سے اور پر جوش ہو گیا حتٰی کہ وہ جامع مسجد والے چوک میں پہنچ گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد اب وہاں بھی پولیس والے کی ڈیوٹی لگ گئی تھی، سپاہی چوکنا ہو گیاکہ اسی عمر کے نوجوان دھماکے سے پھٹ جایا کرتے تھے۔توقیر کی نظراُس پر پڑی،تو ٹھٹھک کر رُکا، پھر یہ سوچ کہ جی ہی جی میں خوش ہوا کہ وردی والے کو ڈرانے میں بہت مزا آئے گا۔اگلے ہی لمحے وہ اُس کی جانب لپک رہا تھا۔پولیس والا واقعی خوف زدہ ہو گیا تھا،اس نے بوکھلا کر بندوق سیدھی کی اور ٹریگر دبا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لام: جنگ قتلام: قتل عام

Categories
فکشن

قاری ظفر

قاری ظفر اپنی کوٹھڑی کے فرش پرنگاہ ڈال رہا ہے۔ فرش خون کی ٹیڑھی میڑھی لکیروں سے سجا ہوا ہے۔ یہ اُس کا خون ہے۔۔۔۔ ظفر کو اِتنے زور کی کھانسی آتی ہے کہ اُس کے منہ سے خون بہنے لگتا ہے۔ یہ کھانسی اُس کے جسم میں ایک زلزلہ پیدا کر رہی ہے۔ اُس کے جسم کا انگ انگ کانپ رہا ہے۔ اُسے کچھ ہفتوں سے زکام ہے جس نے بہت خوفناک شکل اختیار کر لی ہے۔

 

ظفر کمزور ہے اَور اُس کی یہ کمزوری اُسے سیمنٹ کے اُس چبوترے پر سیدھا لیٹنے پر مجبور کرتی ہے جو یہاں پلنگ کا کام دیتا ہے۔ اَور وہ سارا دِن چبوترے پر لیٹ کر فرش کی طرف تکتا رہتا ہے اور خون کی لکیروں کی گنتی کرتا ہے اَور لکیروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

 

یہاں مکھیاں بے شمار ہیں۔ ظفر کی کوٹھڑی اُن کی عبادت گاہ ہے۔ مکھیوں کا طواف دِن رات جاری رہتا ہے۔ بعض مکھیاں تھک ہار کر ظفر کے جسم پر بیٹھ جاتی ہیں۔ مگر ظفر میں اُنھیں جسم سے ہٹانے کی طاقت نہیں ہے۔

 

ساتھ والی کوٹھڑیوں سے مختلف آوازیں اُبھر رہی ہیں۔ وہ غلیظ گالیاں سُنائی دے رہی ہیں جو سِکھ قیدی ظفر کے پاک وطن کو دیتے رہتے ہیں۔ اور وہ فحش پنجابی گانے گونج رہے ہیں جنھیں گستاخی والے قیدی اپنے ریڈیو پر تمام دِن سُنتے رہتے ہیں۔ اور وہ خوبصورت تلاوتیں بھی سُنائی دیتی ہیں جو خود کش حملہ آور ہر وقت کرتے رہتے ہیں۔ یہ قیدی ظفر کے پسندیدہ قیدی ہیں۔ وہ غازی ہیں۔۔۔۔ غازی۔ ظفر اگراُن جیسا جوان ہوتا تو وہ غازی بن جاتا؛ مگر خدا کو کچھ اَور ہی منظور تھا۔ رب نے ظفر کو اپنا غازی نہیں‘ اپنا پولیس مین بنایا ہے۔۔۔۔

 

اب ظفر کی کھانسی شروع ہو گئی ہے۔ ایک نیا زلزلہ اُس کے جسم کو ہلانے لگا ہے۔ کچھ دیر بعد خون کا ایک فوارہ اُس کے منہ سے چھوٹنے لگتا ہے اور وہ فرش پر نگاہ ڈالتا ہے۔ فرش کی سُرخ لکیروں میں مزید اِضافہ ہو گیا ہے۔ اُس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔

 

پہلے ظفر کو انتظامیہ کی طرف سے علاج کی اُمید تھی؛ مگر اُس نے جلد ہی یہ اُمید گنوا دی۔ اُسے اینٹی بائیوٹک اور ڈر پس کی ضرورت تھی، مگر اُسے صرف بروفین کی جعلی گولیاں نصیب ہوئیں۔ ظفر سزائے موت کا قیدی ہے؛ مگر عین ممکن ہے کہ وہ پھانسی لگنے سے پہلے ہی اپنے رب کے پاس پہنچ جائے گا۔ وہ اپنی کوٹھڑی کے تھڑے پر لیٹا لیٹا مر جائے گا۔ اَب اُس کی کھانسی بند ہو گئی ہے۔۔۔۔ زلزلہ ختم ہو گیا ہے۔۔۔۔ وہ سُکھ کا سانس لے رہا ہے۔۔۔۔

 

ظفر اِس جیل کی کوٹھڑی میں کیا کر رہا ہے؟ وہ کوئی مجرم نہیں ہے۔ جُرم سے اُسے سخت نفرت ہے۔۔۔۔ مگر انسان اندھے اور احمق ہیں۔ شیطان نے اُن کی سمجھ بوجھ ختم کر دی ہے، اَور اُنھوں نے ظفر کو جیل میں بند کیا ہوا ہے۔ اُس کا جرم؟ اُس نے صرف اپنا فرض اَدا کیا۔ اُس نے اپنے شہر میں خدا کا قانون نافذ کیا۔ وہ رب کا پولیس مین ہے۔۔۔۔

 

شیطان اَور ظفر کے مابین ایک ازلی دُشمنی ہے۔ شیطان ظفر سے اِس وجہ سے نفرت کرتا ہے کہ ظفر نے اُس کی بہت سی مخلوقات کو جان سے مار ڈالا۔ پھر شیطان نے اُس کے خلاف ایک سازش رچائی۔ ظفر کی گرفتاری اَور اُس کی سزائے موت اِسی سازش کا نتیجہ ہیں۔ مگر اُسے اِس شیطانی سازش کا شکار ہونے کا ملال نہیں ہے۔ اُس نے بھرپور زندگی بسر کی ہے اَور اپنی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے نبھائی ہیں۔ ظفر اس دُنیا سے رخصت ہو نے والا ہے۔

 

مگر دُنیا کی رِیت یہ ہے کہ مرنے والا‘ دُنیا چھوڑنے سے پہلے اپنی زندگی کی فلم کے اہم مناظر دیکھتا ہے۔ سو ظفر کی آنکھوں کے سامنے کچھ اَہم منظر اُبھرنے لگے ہیں۔

 

2

 

ظفر کی شادی طے ہو گئی ہے؛ مگر وہ مجبوری میں شادی کرے گا۔ اُس کے والدین نے اُسے مجبور کیا ہے۔ وہ کئی سال سے ایک مدرسے میں درسِ نظامی پڑھ رہا ہے اَور اپنی زندگی دِین کی خدمت میں وقف کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اُس کے دِل میں شادی کرنے کی کوئی تمنا نہیں ہے؛ مگر اُس کے والدین ضعیف ہو چکے ہیں اَور اُن کی آنکھیں ظفر کے بچوں کے چہرے دیکھنے کو ترستی ہیں۔۔۔۔ والدین بڑی ضد کر رہے ہیں اَور ظفر بالآخر اُن کی ضد مان رہا ہے۔ وہ شادی کے لیے راضی ہو رہا ہے؛ مگر شادی سے پہلے وہ اپنے والدین کے سامنے اپنی شرطیں رکھ رہا ہے۔۔۔۔ شادی والے دِن نہ تو اُس کی بارات جائے گی اَور نہ ہی دُلہن کی ڈولی اُٹھے گی۔۔۔۔ نہ گیت گائے جائیں گے، نہ بھنگڑے ڈالے جائیں گے۔۔۔۔ اَور جوتا چھپائی کی رسم بھی نہیں ہو گی وغیرہ۔۔۔۔ وہ چاہتا ہے کہ اُس کی شادی شریعت کے عین مطابق ہو۔ وہ خاندان کی پہلی اسلامی شادی ہو گی۔۔۔۔ ظفر کے والدین ساری شرطیں مان رہے ہیں۔ چھے ماہ بعد اُس کی شادی ہو رہی ہے۔

 

نکاح پڑھا گیا ہے۔ رخصتی ہو رہی ہے۔ اَب سہاگ رات شروع ہو رہی ہے۔ دُلھن گھونگھٹ میں سیج پر بیٹھی ہے اَور اُس کا گھونگھٹ اُس کے آنسوؤں سے بھیگا ہوا ہے؛ اَور اُس کا بدن ڈر کے مارے کانپ رہا ہے۔ ظفر اپنی دُلہن کے مانند سہما ہوا ہے کیونکہ وہ آج پہلی بار اِزدواجی وظیفہ اَدا کرے گا‘ اَور اِس عمل کے بارے میں اُس کی معلومات صفر ہیں۔ مگر وہ کوشش کر رہا ہے اَور دُلہن کے مُکھڑے پر سے گھونگھٹ اُتار رہا ہے۔ دُلہن کا چہرہ اُجاگر ہو رہا ہے۔۔۔۔ اُس کا ناک نقشہ بہت معمولی ہے۔۔۔۔ آنکھیں چھوٹی، ہونٹ پتلے، ناک لمبی ہے۔۔۔۔ اَور اُس کی رنگت صاف نہیں ہے‘ دُلہن کالی ہے۔ یہ کیا بات ہوئی؟ (بڑا دھوکا ہوا)۔ ظفر کی ماں نے اُسے کہا تھا کہ دُلہن بڑی خوبصورت ہے۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔ ظفر بتی بجھا رہا ہے؛اَور اندھیرے میں اپنا مردانہ فرض نبھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر دُلہن دھاڑیں مار مار کر رو رہی ہے اَور اُس کی منّتیں کر رہی ہے۔۔۔۔ ”درد ہو رہا ہے۔۔۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔۔ خدا کا واسطہ‘ مجھے چھوڑ دیں!“۔۔۔۔ رب کا پاک نام سن کر ظفر فوراً رُک رہا ہے اَور دُلہن سے ُمنہ‘ دُوسری طرف کر کے سو رہا ہے‘ اَور وہ ایک ڈراؤنا سا خواب دیکھ رہا ہے۔

 

خواب میں وہ اپنے ولیمے کا منظر دیکھ رہا ہے۔ مگر منظر بڑا انوکھا ہے! سارے مہمان خنزیر بن گئے ہیں۔۔۔۔ اُن کی جلد گلابی ہے اَور اُن کی ناک سے گندی آوازیں نکل رہی ہیں۔ وہ ایک دُوسرے کو دھکّے دے رہے ہیں؛ اَور میزوں، کرسیوں اَور پلیٹوں پر گِر رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ کیا ہوا؟ جواب بڑا آسان ہے۔ ولیمے میں اُنھوں نے حرام کی روٹیاں کھائی ہیں۔ روٹیاں اس وجہ سے حرام کی ہیں کہ دُولھا ابھی تک ازدواجی وظیفہ اَدا نہیں کر سکا ہے۔۔۔۔ ظفر اچانک بیدار ہو جاتا ہے۔ اُس کا دِل تیزی سے دھڑک رہا ہے۔ اُسے ٹھنڈے پسینے آ رہے ہیں۔۔۔۔ آج چاندنی رات ہے۔ چاند کی ہلکی ہلکی چاندنی میں وہ اپنی دُلہن کو دیکھ رہا ہے۔ دُلہن گہری نیند سو رہی ہے اَور اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ہے۔ ظفر خوف زدہ ہو رہا ہے۔ دُلہن ّپکی ڈائن ہے۔۔۔۔ ّپکی شیطانی مخلوق ہے! کل پورے محلّے کو حرام کی اَشیا کھلائی جائیں گی‘ اور وہ مسکرا رہی ہے۔۔۔۔ ظفر کو اُس سے شدید نفرت ہو رہی ہے۔۔۔۔

 

ظفر ساری رات جاگ رہا ہے اَور غور و فکر کر رہا ہے۔ یہ بات اب اُس کے لیے ثابت ہوئی ہے کہ عورت ایک شیطانی مخلوق ہے اَور اُس کا مقصد دُنیا میں فتنہ پھیلانا ہے۔ اُس کی حیثیت چاہے دُلہن کی، ماں کی، بہن کی یا بیٹی کی ہو، اُس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔۔۔۔ مردوں کو تباہ کر کے زمین پر فتنہ برپا کرنا۔۔۔۔ اَور اِس وقت اُس کے قریب سیج پر ایک شیطانی مخلوق سوئی پڑی ہے۔۔۔۔

 

شیطان نے ظفر کو تباہ کرنے کے لیے اُس کے پاس اپنی مخلوق بھیجی ہے۔ مگر ظفر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شیطان سے نہیں ہارے گا۔ وہ اپنی دُلہن کو اَپنے بس میں کرے گا اَور اُسے ایک فرمانبردار دُلہن میں تبدیل کرے گا! ظفر کا اِرادہ نیک ہے۔ مگر اُس کی دُلہن اڑیل اَور سازشی ہے۔ وہ اُسے قریب نہیں آنے دیتی اَور اُس سے دُور بھاگتی ہے۔۔۔۔ شادی کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، اَور ظفر ابھی تک اپنا اِزدواجی وظیفہ اَدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اُس نے بارہا کوشش کی مگر وہ ہر کوشش میں نامُراد ہی ٹھہرا۔

 

وہ تنگ آ کے اپنی دُلہن کو طلاق کی دھمکی دے رہا ہے؛ مگر وہ اُس کی دھمکی سن کر مسکرا رہی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ یہ طلاق ناممکن ہے۔ دُولہا بدنام ہو جائے گا۔ برادری والے سوچیں گے کہ وہ نامردی کا شکار ہے‘ وہ دُلہن کو قابو نہیں کر سکا، اِس لیے وہ اُسے چھوڑ رہا ہے۔ ظفر یہ ساری باتیں جانتا ہے اَور وہ سخت پریشان ہے۔ اُسے کسی سیانے بندے سے مشورہ لینا ہے۔۔۔۔

 

ظفر کا ایک پرانا دوست شہر کے مرکزی چوک پر گاڑیوں کا ایک شو رُوم چلا رہا ہے۔ اُس نے ولایت میں کچھ سال گزارے ہیں۔ اُس نے دُنیا دیکھی ہے۔ وہ ہر لحاظ سے معتبر ہے۔ ظفر مشورے کے لےے اُس کے شو روم کو جا رہا ہے۔ اُس کا دوست اُسے اپنے کمرے میں بٹھا رہا ہے اور چائے پلا رہا ہے‘ اَور ظفر اُسے اپنا مسئلہ بیان کر رہا ہے۔ دوست سوچ میں ڈُوب رہا ہے۔ پھر وہ ظفر کو ایک عجیب سا طریقہ تجویز کر رہا ہے۔ ظفر اُسی رات وہی طریقہ اِختیار کر رہا ہے اَور دُلہن اُس کے قابو میں آ رہی ہے۔ ظفر کامیابی سے اپنا اِزدواجی وظیفہ اَدا کر رہا ہے۔

 

نو ماہ کے بعد ظفر کی پہلی اَولاد پیدا ہو رہی ہے۔ مگر ظفر اُس اولاد کو دیکھ کر بیزار ہو رہا ہے۔ بچی ہے بچی۔۔۔۔ چھوٹی عورت۔۔۔۔ اتنی مشکل سے دُلہن قابو میں آئی اَور شیطان نے ظفر کا امتحان لینے کے لیے اُس کے پاس ایک اَور مخلوق بھیج دی! چلو، کوئی بات نہیں! ظفر اُسے بھی قابو کرے گا! وہ اُس کا نام ”خدیجہ“ رکھ رہا ہے اَور بیٹے کی پیدائش کی اُمید میں باقاعدگی سے اِزدواجی وظیفہ اَدا کر رہا ہے۔

 

3

 

وقت بیت چکا ہے۔ ظفر کا درسِ نظامی مکمل ہو چکا ہے‘ اَور اُسے ایک نامور مدرسے میں مدرّس کی نوکری مِل گئی ہے۔ اُس کے والدین دُنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اُن کی ساری خواہشیں پُوری ہو چکی تھیں۔ اُن کے بیٹے کی شادی ہوئی اَور اُس کے ہاں اَولاد پیدا ہوئی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ظفر کی دُلہن کی کوکھ میں سے صرف لڑکیاں جنم لیتی ہیں۔ خدیجہ کے بعد فاطمہ پیدا ہوئی، پھر مریم، پھر تسنیم، پھر ُ طوبہ، پھر نصیبہ۔۔۔۔ ظفر کو بیٹے کا ابھی تک اِنتظار ہے۔ اُس کا گھر شیطانی مخلوقات سے بھرا ہوا ہے۔ اَور یہ مخلوقات ہر وقت شور شرابا مچائے رکھتی ہیں۔ جب اُن کا شور ظفر سے برداشت نہیں ہوتا تو وہ ڈنڈا اُٹھاتا ہے اور مار مار کر مخلوقات کو چُپ کراتا ہے۔ شور اُس سے برداشت نہیں ہوتا۔ مدرسے میں جب بچے شور مچاتے ہیں تو وہ اُنھیں بھی ڈنڈے مار کر چُپ کراتا ہے۔ مگر گھر کی مخلوقات کے برعکس بچے آسانی سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ چیختے، ّچلاتے، معافیاں مانگتے، مِنتیں کرتے۔۔۔۔ اَور اِس طرح بہت زیادہ شور مچانے کے بعد چُپ ہو جاتے ہیں۔

 

مدرسے کے مہتمموں کو ظفر کے کمرے سے اکثر بچوں کی چیخیں سُنائی دیتی ہیں۔اَور اُنھیں آہستہ آہستہ احساس ہوتا ہے کہ ظفر ضرورت سے زیادہ ہی ڈنڈے کا استعمال کرتا ہے۔ اُنھیں یہ اَندیشہ ہے کہ ظفر کا دماغی توازن درست نہیں ہے۔ اُس کا علاج کیسے ہو سکتا ہے؟ مہتمم آپس میں صلاح مشورہ کر رہے ہیں؛ اَور ظفر کو پگڑی والے تبلیغیوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ ظفر اُن کے ساتھ لمبے َدوروں پر جائے گا، گھومے پھرے گا، ملک کے مختلف حصّے دیکھے گا اور مختلف نسلوں سے ملے گا تو اُس کا دماغ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ اُس میں یقینا صبر اور برداشت کا مادہ پیدا ہو جائے گا۔

 

ظفر پگڑی والوں کے ساتھ ایک لمبے َدورے پر جا رہا ہے اَور نو ماہ تک ملک کی سڑکوں کی خاک چھان رہا ہے۔ اَور وہ لوگوں کے سیاہ دِلوں میں سچے مذہب کا ُنور بھی بکھیر رہا ہے۔ اَور اِس کام میں وہ خاصا کامیاب ہو رہا ہے۔ شمالی علاقے کے نیلی آنکھوں والے کافر، درمیانی علاقے کے کالے عیسائی اور جنوبی علاقے کے نیلے ہندو‘ اُس کے دلائل سن کر دِین کی جانب ملتفت ہو رہے ہیں اَور کلمہ پڑھ رہے ہیں۔۔۔۔ پگڑیوں والے اُس کے کارنامے دیکھ کر بہت متاثر ہو رہے ہیں اَور َدورے کے اختتام کے فوراً بعد اُسے اپنے سالانہ اجتماع میں لیے جا رہے ہیں۔

 

4

 

اجتماع ہر سال بڑے شہر کے قریب ایک کھلے میدان میں برپا ہوتا ہے۔ میدان میں جہاں تک نظر کام کرتی ہے، پگڑی والوں کے لمبے لمبے خیمے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے یونانیوں یا مغلوں کی عظیم فوج نے دوبارہ جنم لیا ہے اَور اس میدان میں ڈیرا لگایا ہے۔ اِجتماع کے رُوحِ رواں مولانا عباسی ہیں جو پگڑی والوں کے سربراہ ہیں۔ اُن کا دیدار ہر جگہ اَور ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔ وہ کبھی سٹیج پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے ہیں، کبھی مسجد میں امامت فرماتے ہیں اَورکبھی کینٹین میں کباب کھاتے ہیں؛ اَور کھاتے کھاتے وہ اپنے اِرد ِگرد کھڑے پگڑی والوں کو اشیرباد دے رہے ہیں۔ ایک روز، کینٹین میں ظفر کو مولانا کا اشیرباد مل رہا ہے۔ ایک پرانا پگڑی والا اُسے مولانا سے ملا رہا ہے اَور جی بھر کے اُس کی تعریفیں کر رہا ہے‘ اور مولانا تعریفیں سن کر ظفر کے کندھے تھپتھپا کر َکہ ‘رہے ہیں: ”شاباش! آپ نے اچھا کام کیا۔ اجتماع کے بعد کسی دِن آپ میرے پاس تشریف لائیں، سکون سے باتیں کریں گے۔۔۔۔“ پھر مولانا اجازت لے کر اُٹھ رہے ہیں۔۔۔۔ اُنھوں نے بہت کباب کھائے ہیں۔ اَب مومنوں کو نماز پڑھانی ہے۔۔۔۔ دس منٹ کے بعد نماز شروع ہو رہی ہے۔ صفیں بچھ رہی ہیں اَور ظفر نمازیوں کی پہلی صف میں کھڑا ہے۔ مولانا عباسی نے اُس کی خدمات کے اعتراف میں اُسے اِس شان دار صف میں نماز پڑھنے کا اِعزاز بخشا ہے۔

 

نماز جاری ہے۔ مولانا عباسی کے پیچھے ہزاروں پگڑیوں والے کبھی کھڑے ہو کر، کبھی سجدہ کر کے دُعا پڑھ رہے ہیں‘ اَور اُن کی آوازیں باری باری اُبھر رہی ہیں۔۔۔۔ اَور آوازیں ایک دُوسرے کے ساتھ ملتے ملتے‘ ایک ہوائی گنبد تعمیر کر رہی ہیں، جس کے کلس پر ایک گہری اَور جلالی آواز گونج رہی ہے۔۔۔۔ مولانا عباسی کی آواز!

 

5

 

اِجتماع ختم ہو گیا ہے۔ ظفر اپنے شہر کو َلوٹ آیا ہے اَور اپنی تدریسی سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا ہے‘ اَور وہ اِس حد تک مصروف ہو گیا ہے کہ بڑے شہر جا کر مولانا عباسی سے ملاقات کا وقت نہیں نکال سکا۔ َدورے سے اُسے فائدہ ہوا۔ اُس کا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہوا اَور وہ گھر یا مدرسے میں ڈنڈا اُٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ مہتمم بہت خوش ہیں۔

 

چار ماہ گزر گئے۔ ظفر کی مصروفیت کم نہیں ہوئی۔ وہ ابھی بڑے شہر نہیں گیا؛ اَور ایک دِن مدرسے کا ایک پگڑی والا ساتھی اُسے مولانا عباسی کی شہر میں تشریف آوری کی خوش خبری سُنا رہا ہے۔ مولانا نگینہ ہوٹل کے پریذیڈنٹ سوئیٹ میں ٹھہرے ہیں۔ ظفر موقع غنیمت جانتا ہے اَور اپنی موٹر سائیکل پر مولانا کی زیارت کرنے کی خاطر نگینہ ہوٹل کی طرف چل پڑا ہے۔

 

اَب ظفر مولانا کے سوئیٹ کے باہر کھڑا ہے اَور دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ مولانا دروازہ کھول رہے ہیں اَور ظفر کے دینی حُلیے کو دیکھ کر اُسے فوراً اَندر آنے کا َکہہ رہے ہیں۔ مولانا اکیلے ہیں۔ وہ ظفر کو ایک کرسی پر بٹھا رہے ہیں اَور خود ساتھ والے صوفے پر بیٹھ رہے ہیں۔ ظفر اِجتماع میں ملاقات کا ذ ِکر کر رہا ہے؛ مگر مولانا کو ملاقات یاد نہیں ہے۔ اَور یاد کس طرح ہو گی؟ ہر اِجتماع میں اُنہیں ہزاروں افراد ملتے ہیں۔ اَور وہ سب کے کندھے تھپتھپاتے ہیں اَور فراغت ہونے پر ملنے کا کہتے ہیں۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔ مولانا کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ اُنھیں بہت نیند آ رہی ہے۔ اُن کی آنکھیں بار بار بند ہو رہی ہیں۔ شاید اُنہیں بخار ہے۔۔۔۔ کمرے میں ایک غیر مانوس سی ُبو پھیلی ہوئی ہے۔ ظفر اس ُبو کو پہچان رہا ہے۔ رات کے وقت اُس کے محلّے کے عیسائی گھروں سے یہی ُبو آتی ہے۔۔۔۔ سو مولانا نے عیسائیوں کا مشروب پیا ہے؟۔۔۔۔ اچانک مولانا کا موبائل بج رہا ہے اَور مولانا کال لے رہے ہیں۔ ایک لڑکی پوچھ رہی ہے: ”جناب جی، میں اپنی دوست کے ساتھ آ جاؤں؟“ اَور مولانا ایک شرارتی مُسکان کے ساتھ جواب دے رہے ہیں:” ضرور سوہنیے، فوراً سے پہلے آ جاؤ۔۔۔۔“ پھر مولانا فون بند کر رہے ہیں اَور ڈکار رہے ہیں اَور اُن کی ڈکار قریب بیٹھے ظفر کے چہرے پر بج رہی ہے۔ ظفر کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔۔۔۔ وہ اُٹھ رہا ہے، اور بھاگتے بھاگتے کمرے سے باہر آ رہا ہے۔۔۔۔ وہ بھاگے جا رہا ہے۔۔۔۔ اور بھاگتے بھاگتے کوریڈور سے گزر رہا ہے۔ اَور اچانک اُس کے سامنے دو ُبر ِقع والیاں نمودار ہو رہی ہیں۔۔۔۔ ُبر ِقع والیوں نے خاصا میک اپ کیا ہوا ہے۔۔۔۔ اُن کی آنکھوں میں ُسرما چمک رہا ہے اور اُن کے چہروں پر سفید پاؤڈر کی ایک موٹی َتہ ‘جمی ہوئی ہے۔ اِن دونوں ُبر ِقع والیوں کے پیشے کے متعلق شک نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ دونوں ُبر ِقع والیاں ظفر کی حالت دیکھ کر اپنے برقعوں میں ہنس رہی ہیں۔ ظفر اُن سے کترا کر گزر رہا ہے اَور ہوٹل کے گیٹ تک پہنچ رہا ہے‘ اَوراُن دونوں کی میلی ہنسی گیٹ تک اُس کا پیچھا کر رہی ہے۔ پھر ہنسی ختم ہو رہی ہے۔ ظفر ہوٹل سے باہر آ گیا ہے اَور وہ قے کر رہا ہے۔

 

ظفر کی قے ختم تو ہو چکی ہے؛ مگر اب وہ کیا کرے گا؟ مولانا کے پاس واپس جانا دانشمندی نہیں ہے۔وہ اِس وقت اُن دونوں فاحشاؤں کے ساتھ مصروف ہوں گے، جنھوں نے اپنے بے ہودہ قہقہوں کے ساتھ اُس کی بے عزتی کی ہے۔ اُس کی موٹر سائیکل سامنے کی پارکنگ میں کھڑی ہے۔ وہ اُس پر سوار ہو رہا ہے اَور گھر کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اَور وہ سارے راستے سوچے جا رہا ہے۔ طرح طرح کے خیال اُس کے دماغ میں ّچکر کاٹ رہے ہیں۔ اُسے یقین ہے کہ مولانا فطرتاً نیک ہیں۔ نیک نہ ہوتے تو وہ پگڑی والوں کی تنظیم کیوں بناتے؟ وہ شرابی اَور زانی ہو گئے، مگر اُن کا کوئی قصور نہیں۔ قصور شیطانی مخلوقات کا ہے جو فتنہ پھیلا رہی ہیں۔ اُن کی مہم تیز ہو گئی ہے۔۔۔۔ اُنھوں نے مولانا جیسے نیک انسان کو بھی نشانہ بنایا۔۔۔۔ اُنھیں کچھ زیادہ ہی جوش آ گیا ہے۔ اُن کے حوصلے کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے ہیں۔ اُنھیں روکنا لازم ہو گیا ہے۔

 

اَور ظفر اپنی موٹر سائیکل کی گدی پر بیٹھے بیٹھے، شہر کی سڑکوں سے گزرتے گزرتے خدا کا پولیس مین بن جانے کا فیصلہ کر رہا ہے۔

 

6

 

تین دِن بعد خدا کا پولیس مین رات کے بارہ بجے نگینہ ہوٹل کی پارکنگ کی ایک اندھیری ّنکڑ میں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر رہا ہے اَور اُس کے ساتھ ٹیک لگا کر اِنتظار کر رہا ہے۔

 

ظفر کو پتا ہے کہ مولانا عباسی کو خراب کرنے والی مخلوقات اسی ہوٹل میں ہر رات دھندے کی غرض سے آتی ہیں۔ اُسے صرف اُنھِیں کا اِنتظار کرنا ہے۔ وہ ہوٹل سے باہر آتے ہی اُس کے جال میں پھنس جائیں گی۔ ظفر نے اپنے ویسٹ کوٹ کی اندر والی جیب میں ایک چاقو چھپایا ہوا ہے اَور وہ اُن کی جان لینے کے لیے تیار ہے۔۔۔۔

 

ظفر کو زیادہ دیر تک اپنی مطلوبہ مخلوقات کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اُس کے آنے کے آدھ گھنٹہ بعد ایک ُبر ِقع والی ہوٹل سے باہر آ رہی ہے۔ اُس کے ہاتھ میں ایک چمکیلا بیگ ہے جو طرح طرح کی حرام کی اَشیا سے بھرا ہوا ہے۔ چرس، شراب، کنڈوم۔۔۔۔ اَور حرام کے پیسے۔ ُبر ِقع والی مین روڈ پر کھڑی ہو رہی ہے اَور ایک رکشے کو روک رہی ہے۔ وہ رکشے میں سوار ہو رہی ہے۔ رکشا چل پڑا ہے۔ اتنی دیر میں ظفر اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو رہا ہے۔ اَب وہ رکشے کا پیچھا کر رہا ہے۔۔۔۔

 

رکشا سُنسان سڑکوں سے گزر رہا ہے‘ اَور شہر کی ایک غریب آبادی میں پہنچ رہا ہے۔ یہاں مکان کچے ہیں، بجلی بے وفا ہے، اور صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ملبے کے ڈھیر ہر قدم پر موجود ہیں۔ اِس آبادی کے باسی غلیظ ہیں۔ اَور وہ فاحشہ جس نے ابھی ابھی ہوٹل میں کسی شرابی کے ساتھ زنا کیا ہے، وہ اُن کی اَولاد ہے۔۔۔۔

 

رکشا ایک گھر کے لوہے والے گیٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔ ظفر ایک ملبے کے ڈھیر کے پیچھے موٹر سائیکل کھڑی کر رہا ہے اَور تھوڑے فاصلے سے منظر دیکھ رہا ہے۔ اُس کا د ِل تیزی سے دھڑک رہا ہے آنے والے پَل اُس کے لیے بہت اہم ہوں گے۔ اَب پتا چل جائے گا کہ اُس میں خُدا کا پولیس مین بننے کی ہمت ہے یا نہیں۔

 

ُبرقع والی رکشے سے اُتر رہی ہے‘ ڈرائیور کو ایک نوٹ پکڑا رہی ہے اَور رکشا چل پڑتا ہے۔

 

ُبر ِقع والی اب اکیلی ہے۔ مطلع صاف ہے۔ ظفر موٹر سائیکل سٹارٹ کر رہا ہے اَور تیز رفتاری سے فاحشہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اُس کے داہنا ہاتھ ہینڈل بار کو تھام رہا ہے جبکہ بائیں ہاتھ میں اُس نے چاقو پکڑ رکھا ہے۔ یہ چاقو فاحشہ کے پیٹ میں گھُس گیا ہے۔ خون بہہ رہا ہے اور فاحشہ ایک چیخ مار رہی ہے اور پھر زمین پر گر رہی ہے۔۔۔۔

 

اب خُدا کا پولیس مین اپنی پہلی ڈیوٹی دے کر گھر کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اُس نے شہر کی فاحشاؤں کو اُن کی ایک ہم پیشہ کو ذبح کر کے ایک تنبیہ دی ہے۔۔۔۔ اس تنبیہ کا اُن پر کیا اثر پڑے گا؟۔۔۔۔ ظفر کو نگینہ ہوٹل جا کر پتا چل جائے گا۔ اگر کسی فاحشہ نے اس تنبیہ کے بعد یہاں دھندا کرنے کی گستاخی کی تو وہ اُسے اُسی ڈھنگ سے ذبح کرے گا جس ڈھنگ سے اُس نے آج رات ایک لڑکی کو ذبح کیا۔ اَور ذبح کرنے کا یہ سلسلہ فاحشاؤں کی توبہ یا فنا تک جاری رہے گا۔

 

7

 

دو مہینے گزرے۔ فاحشاؤں نے ظفر کی پہلی تنبیہ کو نظر اَنداز کر دیا۔ اُنھوں نے توبہ نہیں کی۔ چنانچہ ظفر نے اُنھیں نئی تنبیہیں دیں۔ اُس نے اب تک بارہ فاحشاؤں کو مار دِیا ہے۔

 

ظفر کی زندگی بہت مصروف ہے۔ وہ ساتھ ساتھ دو طرح کے فرائض روزانہ نبھا رہا ہے۔ دِن کے وقت وہ مدرسے میں اپنے تدریسی فرائض نبھا رہا ہے، بچوں کو کلامِ پاک پڑھا رہا ہے۔ رات کو وہ رب کی ڈیوٹی اَدا کر رہا ہے اور فاحشاؤں کو ذبح کر رہا ہے۔

 

اُس نے تمام فاحشاؤں کو ایک ہی ڈھنگ سے ذبح کیا۔ اُس نے نگینہ ہوٹل کی پارکنگ میں اُن کا انتظار کیا، اُن کا تعاقب کیا اَور اُنھیں اُن کے گھر کے باہر چاقو سے مار دِیا۔ اُسے اس کام میں بہت مزہ آیا۔ اُسے افسوس بھی ہوا کہ اُسے اپنا نیک کام کرنے کے فوراً بعد بھاگنا پڑتا ہے۔ اگر تھوڑا وقت ملتا تو وہ موٹر سائیکل سے اُترتا اور فاحشہ کی آنکھوں کو چاقو سے حلقوں سے باہر نکالتا، یا اُن کی ناک یا کان کاٹتا اَور گلی کوچوں کے کتوں کے آگے ڈال دیتا۔۔۔۔ مگر کیا کریں؟ وقت نہیں ملتا تھا۔۔۔۔ فاحشائیں ذبح ہوتے وقت اِتنا شور مچاتیں کہ سارا محلّہ جاگ اُٹھتا۔ خلقت گھروں سے باہر نکلتی اَور ظفر کو موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بھاگنا پڑتا۔۔۔۔
ہر قتل کے بعد ظفر کو ٹی وی پر اپنی کارروائی کے بارے میں خصوصی رپورٹ دیکھنے کو ملتی۔ رپورٹ میں مقتولہ فاحشہ کا نام اور عمر بتائی جاتی۔ اُس کے سوگوار گھر والوں اور ناراض ہمسایوں کا انٹرویو بھی دکھایا جاتا اَور ظفر بہت مطمئن ہوتا۔ میڈیا کے ذریعے اُس کی تنبیہ ‘ دُنیا کی سب فاحشاؤں تک پہنچ رہی ہے۔۔۔۔

 

8

 

ظفر کو ایک طرف اِس بات کی بڑی خوشی ہے کہ میڈیا والے اُس کی کارروائیوں کو پوری کوریج دے رہے ہیں۔ مگر دُوسری طرف اُسے یہ بات ستا رہی ہے کہ اُس کی کارروائیوں کا اصل مقصد کبھی بیان نہیں کیا جاتا۔ ظفر کا مقصد واضح ہے۔ مگر خدا جانے کیوں میڈیا والے اُس کی سب کارروائیوں کو ایک ”سیریل کلر“ کا کام گردانتے ہیں۔ یہ کیا بکواس ہے؟ ”سیریل کلر“ کے ساتھ اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیریل کلر ”قتل برائے قتل“ کے قائل ہیں۔ اُن کی کارروائیاں بے مقصدہوتی ہیں۔ مگر ظفر کے قتل ایک مقصد کے تحت انجام پاتے ہیں۔ ”سیریل کلرز“ ذہنی اُلجھنوں کا شکار ہیں۔ مگر ظفر کا دماغ دورے پر جانے کے بعد بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔ اَور ابھی تک بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔ میڈیا والے عوام کے دماغوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔۔۔۔اور ظفر سوچنے لگا ہے کہ اُسے اِن غلط فہمیوں کو دُور کرنے کے لیے کسی دِن میڈیا کے سامنے آنا پڑے گا، اور تفصیلی بیان دینا پڑے گا۔۔۔۔ اگر یہ کام نہ ہوا تو غلط فہمیاں بڑھ جائیں گی، پھیل جائیں گی اَور اُس کی سب کارروائیوں کا مقصد بالکل فوت ہو جائے گا۔

 

مگر اُس کی کارروائیوں کو پہلے ہی نظر لگ چکی ہے۔ وہ اچانک ختم ہو گئی ہیں۔ ظفر ہر رات نگینہ ہوٹل کے باہر کھڑا ہوتا ہے اَور گھنٹوں فاحشاؤں کی راہ تکتا ہے، مگر کوئی بُر ِقع والی نظر نہیں آتی۔۔۔۔ فاحشاؤں نے دھندے سے توبہ کر لی؟ نہیں’ بالکل نہیں! اُنھوں نے صرف نقل مکانی کی ہے۔ ظفر کی کارروائیوں نے اُنھیں چوکنا کر دیا اَور اُنھوں نے ہوٹل کو چھوڑ کر عام گھروں میں دھندا شروع کر دیا ہے۔ ظفر اُن دو نمبر گھروں کو کیسے پہچانے گا؟ اُسے کبھی کبھی لگتا ہے کہ فاحشائیں اُ س کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔

 

مگر حوصلہ ہارنا رب کے پولیس مین کے اِیمان کے خلاف ہے۔۔۔۔ اُس کی کارروائیاں نیک ہیں۔ وہ ایسے رُک نہیں سکتیں! فاحشاؤں نے اپنا طریقہ واردات بدل لیا ہے۔ ظفر بھی اپنا طریقہ واردات بدل لے گا اَور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا!

 

9

 

فریدہ فاروق، ایک جانی پہچانی سیاست دان، ایک جلسے میں شرکت کے لیے شہر آنے والی ہے۔۔۔۔ شہر کی سب دیواریں اُس کے بڑے بڑے پوسٹروں سے سجی ہوئی ہیں۔ ظفر روزانہ مدرسے کو جاتے وقت اُن پوسٹروں کے سامنے سے گزرتا ہے اور فریدہ فاروق کے گول سے چہرے کو غور سے دیکھتا ہے جو پوسٹروں کے کناروں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک بے شرم چہرہ ہے۔ آنکھیں دیکھنے والوں کو دعوتِ نفسانی دیتی ہیں۔ ہونٹوں پر ایک فحش مُسکان ہے۔ اَور زُلفیں وحشی ہو کر ماتھے اَور گالوں پر بکھر گئی ہیں۔ فریدہ فاروق یقینا چادر اوڑھنے کو گناہ سمجھتی ہے۔۔۔۔ ظفر کو اُس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔۔۔۔ یہ بی بی مغرب زدہ ہے اَور معاشرے کے اُونچے طبقے سے تعلق رکھتی ہے مگر دراصل وہ ایک فاحشہ ہے۔۔۔۔ ایک شیطانی مخلوق‘ جو اپنی فحاشی کے ذریعے عوام کو تباہ کر رہی ہے۔ اَور اُسے دیکھتے دیکھتے ظفر ایک فیصلہ کر رہا ہے۔ وہ اُسے دُوسری فاحشاؤں کی طرح ذبح کرے گا۔۔۔۔

 

مگر اُسے گھیرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وہ ایک وی آئی پی ہے۔ وہ رکشوں میں نہیں‘ بکتربند گاڑیوں میں سفر کرتی ہے۔ اُس کے ساتھ چوبیس گھنٹے سیکیورٹی ہوتی ہے۔ کارروائی کے دوران میں مارے جانے یا پکڑے جانے کا بڑا خطرہ ہے۔۔۔۔ مگر دونوں صورتیں رب کے پولیس مین کو منظور ہیں۔ اگر اُسے مار دیا گیا تو وہ جنت میں جائے گا۔ اگر اُسے پکڑ لیا گیا تو وہ جج کے سامنے بھری عدالت میں اپنا بیان دے گا۔ اَور میڈیا والے اُس کی عدالت میں حاضری اَور بیان کو پوری کوریج دیں گے۔ اَور اُن غلط فہمیوں کا ازالہ خود بخود ہو جائے گا جو عوام کے دماغوں میں رچ بس گئی ہیں۔ عوام کو پتا چل جائے گا کہ فاحشاؤں کو ذبح کرنے والا بندہ کوئی پاگل اَور بے مقصد سیریل کِلر نہیں،وہ بچوں کو پڑھانے والا باریش آدمی ہے جس نے رب کی جانب سے شہر کو شیطانی مخلوقات سے پاک کرنے کی مہم شروع کی ہے۔

 

فریدہ فاروق کے پوسٹروں پر جلسے کی تاریخ، وقت اَور مقام لکھا ہوا ہے۔ یہ ظفر کے لیے ایک کھلی دعوت ہے۔ وہ جلسے کے دوران میں فریدہ فاروق کو ذبح کرے گا، جب وہ سٹیج پر کھڑی ہوگی اَور عوام کو مخاطب کرے گی۔ اَور وہ ایک چاقو کے بجائے ایک پستول سے کام لے گا۔ گولیاں چلتے ہی جلسے میں بھگدڑ مچ جائے گی، جس سے فائدہ اُٹھا کر ظفر فرار ہو جائے گا۔

 

ظفر کا منصوبہ بن گیا مگر پستول کا بندوبست کرنا ہو گا اَور اُسے چلانا بھی سیکھنا ہو گا۔ جلسہ اگلے ہفتے ہے۔ ظفر کے پاس صرف چھے دِن ہیں۔ ظفر پستول کے سلسلے میں اپنے محلّے کے ایک سابقہ مجاہد سے رجوع کر رہا ہے، جس نے جوانی میں افغانستان اَور کشمیر میں جہاد کیا تھا اَور جس کے بچے ظفر سے مدرسے میں پڑھ رہے ہیں۔ ظفر اُسے سمجھا رہا ہے کہ جائیداد کی وجہ سے اُس کا دُور دراز کے کچھ رشتے داروں سے جھگڑا ہو گیا ہے اَور اُسے اپنے تحفظ کے لےے پستول کی ضرورت ہے۔ سابقہ مجاہد اُسے ایک عمدہ پستول دے رہا ہے‘ اور کسی ویران مقام پر لے جا کر اُسے پستول چلانے کی مشق کروا رہا ہے۔ ظفر مجاہد کی نگرانی میں تین دِن مشق کرتا ہے اور اُس کا نشانہ بہتر سے بہتر ہو رہا ہے۔

 

10

 

جلسہ شہر کے جناح باغ میں ہو رہا ہے۔ ظفر وہاں پہنچ چکا ہے۔ سٹیج کو فریدہ فاروق کے پوسٹروں سے سجایا گیا ہے اور کرسیوں کی صفیں سٹیج کے سامنے بچھ گئی ہیں۔ ظفر جلدی پہنچ گیا ہے۔ اس لیے اُسے پہلی صف میں جگہ ملی ہے۔۔۔۔ وی آئی پی لوگوں کی کرسیوں کے نزدیک۔ پہلی صف میں بیٹھتے ہی اُس نے سُکھ کا سانس لیا ہے۔ سٹیج بالکل سامنے ہے۔ اُس کی گولیاں نشانے پر ضرور لگ جائیں گی۔ فریدہ فاروق نہیں بچے گی۔

 

ظفر اِطمینان سے جلسے کے شروع ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ بے چینی ختم ہو گئی جسے وہ شروع میں قتل کرنے سے پہلے محسوس کرتا تھا۔ اُسے قتل کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ اب وی آئی پی قریب والی کرسیوں پر بیٹھ رہے ہیں۔ ظفر بار بار اپنے ویسٹ کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال رہا ہے اور اُنگلیوں سے اپنے اُس پستول کو سہلا رہا ہے جو کچھ دیر بعد دُنیا پر ایک بڑی مہربانی کرے گا۔

 

جلسے کا آغاز ہو رہا ہے۔ فریدہ فاروق سٹیج پر تشریف لا رہی ہے۔ حاضرین بھرپور تالیوں سے اُس کا استقبال کر رہے ہیں۔ اُس کی پارٹی کے کچھ جوشیلے کارکن اُس پر پھُولوں کی بارش کر رہے ہیں۔ اُنھیں دیکھ کر ظفر کو وہ تماش بین یاد آ رہے ہیں جو مجرے کے دوران میں فاحشاؤں پر نوٹ نچھاور کر رہے ہیں۔۔۔۔ پھر تالیاں رُک رہی ہیں اَور پھولوں کی بارش ختم ہو رہی ہے۔ فریدہ فاروق مائیک کے پاس کھڑی ہو رہی ہے اَور اپنی تقریر شروع کر رہی ہے۔۔۔۔ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔ میں آپ سب لوگوں کی شکر گزار ہوں کہ آپ اِتنی بڑی تعداد میں اس جلسے میں تشریف لائے ہیں۔ میں چودھری سلیم، ملک احسان اللہ اَور راجا مبشر کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنھوں نے اِس شان دار جلسے کا اہتمام کیا ہے اَور مجھے۔۔۔۔“ فریدہ فاروق اپنا فقرہ مکمل نہیں کر پا رہی ہے۔ رب کا پولیس مین اپنی کرسی سے اُٹھ رہا ہے اَور پستول نکال کر فریدہ فاروق پر گولیاں چلانا شروع کر رہا ہے۔۔۔۔ اُس کی تین گولیاں فضا میں گم ہو رہی ہیں، مگر دو گولیاں نشانے پر لگ رہی ہیں۔ فریدہ فاروق نیچے گر رہی ہے۔۔۔۔ جلسے میں بھگدڑ مچ رہی ہے۔ حاضرین چیخ رہے ہیں اَور چاروں طرف بھاگ رہے ہیں۔ کرسیاں اُلٹ رہی ہیں اَور زمین ہل رہی ہے۔ مگر پارٹی کے کارکنوں کو اچھی تربیت ملی ہے۔ وہ جلد ہی حرکت میں آ گئے ہیں۔ کچھ کارکن فریدہ فاروق کو ہسپتال لے جا رہے ہیں۔ دیگر کارکن رب کے پولیس مین پر گھیرا ڈال رہے ہیں۔ اُس کا پستول چھین رہے ہیں۔ اُسے ُمنہ ‘کے بل زمین پر لٹا رہے ہیں۔ پھر پولیس اہلکار پہنچ رہے ہیں اَور کارکن فریدہ فاروق کے قاتل کو اُن کے حوالے کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکار اُسے ہتھکڑیاں ڈال کر اپنی پِک اَپ میں صدر تھانے لے جا رہے ہیں۔

 

پِک اَپ میں بیٹھے بیٹھے ظفر سوچ بچار کر رہا ہے۔ رب نے اپنے وفادار پولیس مین پر کرم کیا۔ کارکن اُسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنا سکتے تھے، خلقت اُسے زندہ جلا سکتی تھی۔ مگر خلقت گولیوں کی آواز سنتے ہی تتر بتر ہو گئی اَور کارکنوں نے ضبط کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ اُسے ایک تھپڑ بھی نہیں پڑا۔۔۔۔ دراصل لوگوں نے اُس کی ڈاڑھی اور ٹوپی کا لحاظ کیا۔ لوگ اچھے ہیں مگر کتنے گمراہ ہیں۔۔۔۔ اُنھیں یہ نہیں پتا کہ اُن کا اصل دُشمن رب کا پولیس مین نہیں‘ وہ فاحشہ ہے جس کی خاطر وہ اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔۔

 

صدر تھانے میں ایس پی صاحب بڑی عزت سے ظفر سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ وہ پہلے کچھ رسمی سے سوال پوچھ رہے ہیں:”صوفی صاحب، آپ نے یہ مرڈر کیوں کیا؟۔۔۔۔آپ کی کسی تنظیم یا پارٹی سے وابستگی ہے؟۔۔۔۔آپ کا پیشہ کیا ہے؟“۔۔۔۔ اور ظفر اپنا بیان ریکارڈ کرا رہا ہے:

 

”ایس پی صاحب‘ ہمارے درمیان ایک بات مشترک ہے۔ ہم دونوں پولیس والے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ آپ ریاست کی طرف سے ڈیوٹی نبھا رہے ہیں، اَور میں خدا کی طرف سے۔۔۔۔“

 

پھر ظفر اعلان کر رہا ہے کہ فریدہ فاروق کا قتل ایک ایسی مہم کا آخری مرحلہ ہے جو تین ماہ پہلے شروع ہوئی ہے‘ اَور ظفر اپنی پچھلی کارروائیوں کا تفصیلی ذکر کر رہا ہے۔۔۔۔ ایس پی صاحب خاموشی سے اُس کی باتیں سن رہے ہیں۔ ایک ٹائپ رائٹر کی ٹِک ٹِک مسلسل سنائی دے رہی ہے۔ کمرے کے ایک کونے میں محر بیٹھا ہے جو اپنی مشین سے ظفر کے بیان کا ہر لفظ ٹائپ کر رہا ہے۔ ظفر خوش ہے۔ اُس کا بیان اس وقت محفوظ ہو رہا ہے۔ آنے والی نسلیں اُس سے عبرت پکڑیں گی۔

 

ظفر خاموش ہو رہا ہے۔ اُس نے اپنا پورا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ ایس پی صاحب بھی خاموش ہیں۔ اُنھیں مزید پوچھ گچھ کی ضرورت نہیں ہے۔ ظفر نے اپنے بیانات کے ذریعے اُن کے سب سوالوں کا جواب دے دِیا ہے۔ ظفر کو حوالات میں بند کیا جا رہا ہے۔اَور ایس پی صاحب اُس کا ٹائپ شدہ بیان لے کر عدالت جا رہے ہیں۔ اُن کے جانے کے بعد ایک مشہور ٹی وی چینل کا وفد ظفر کا اِنٹرویو لینے آ رہا ہے۔ وفد نے سپاہیوں کو رشوت دے کر ظفر تک رسائی حاصل کی ہے۔ ظفر بڑی خوشی سے اُن کے سوالوں کا جواب دے رہا ہے اَور اُن کا کیمرہ اُسے فلمائے جا رہا ہے۔ وہ کتنا خوش نصیب ہے!۔۔۔۔ وہ گمنامی سے نکلا ہے۔ وہ پولیس مین سے ہیرو بن گیا ہے۔ آج رات لاکھوں لوگ اپنے ٹی وی پر اُس کا اِنٹرویو دیکھیں گے اَور بیان سُنیں گے!

 

ٹی وی والے اچانک اجازت لے رہے ہیں۔ سپاہیوں نے اُنھیں اطلاع دی ہے کہ ایس پی صاحب عدالت سے چل پڑے ہیں۔۔۔۔ پھر دس منٹ بیت گئے ہیں اَور ایس پی صاحب تھانے میں قدم رکھ رہے ہیں‘ اَور حوالات کے سامنے کھڑے ہو کر ظفر کو مخاطب کر رہے ہیں: ”صوفی صاحب، آج دوپہر آپ جیل جا رہے ہیں! آپ کا مقدمہ وہیں چلے گا“۔۔۔۔

 

ظفر کا مقدمہ کچھ ہفتے جیل کی حدود میں چلے گا۔۔۔۔ مگر اُس کی طبیعت اُسے ایک ہی بار عدالت کے سامنے حاضر ہونے کی اجازت دے گی۔۔۔۔ اَور جج صاحب اُس کی غیر حاضری میں اُسے سزائے موت سنائیں گے۔

 

11

 

فلم ختم ہو گئی۔ ظفر ماضی میں گھوم پھر کر اپنی کوٹھڑی میں پلٹ آیا ہے۔ وہ سیمنٹ والے چبوترے پر لیٹا ہواہے۔ مکھیوں کا طواف ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ اَور اُس کی نظریں فرش پر خود ہی ٹِک رہی ہیں‘ اور ظفر خون کی لکیروں کی گنتی کرنے لگتا ہے۔۔۔۔

 

مگر ظفر زیادہ دیر تک لکیروں کی گنتی نہیں کر پائے گا۔۔۔۔ نور آہستہ آہستہ اُس کی آنکھوں سے علیٰحدہ ہو رہا ہے۔۔۔۔ وہ نابینا ہو رہا ہے۔

 

ظفر کی آنکھیں بے کار ہو گئی مگر اُس کے کان ابھی تک کام کر رہے ہیں۔۔۔۔ اُسے سب آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ سِکھوں کی گالیاں، گستاخوں کا ریڈیو، غازیوں کی تلاوتیں۔ اَور اُن آوازوں میں انوکھی آوازیں شامل ہو گئی ہیں۔۔۔۔ چالیس نئے قیدی آ گئے ہیں۔ گارڈز اُنھیں ظفر کی وارڈ کے پیچھے لاتے اَور تلاشی کے بہانے اُن سے پیسے، گھڑیاں اَور لاکٹ چھین رہے ہیں۔ نئے قیدی اُن کی منّتیں کر رہے ہیں، مگر گارڈز اُنھیں کچھ بھی واپس کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔۔۔۔ اَور جب کوئی نیا قیدی تلاشی دینے سے اِنکار کر رہا ہے، تو گارڈز اُس کی شلوار اُتار کر اُس کی چھترول کر رہے ہیں اَور قیدی کی چیخیں فضا میں بلند ہو رہی ہیں۔ ظفر کو اُن کی چیخیں سن کرمدرسے کے بچوں کی چیخیں یاد آ رہی ہیں۔۔۔۔ اَور اُسے تھوڑا سا افسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔ اُس نے اُن معصوموں پر بہت ظلم کیا۔۔۔۔

 

ظفر کے کان آہستہ آہستہ اُس کی آنکھوں کے مانند بے کار ہو رہے ہیں۔۔۔۔ باہر کی آوازیں گم ہو گئی ہیں۔۔۔۔ اب ظفر کو صرف اپنے بدن کے اندر کی آوازیں سُنائی دے رہی ہیں۔۔۔۔ رگوں میں لہو کا بہنا، سینے میں دِل کا دھڑکنا، پیٹ میں انتڑیوں کا لڑنا۔۔۔۔ اور اُس کی روح آہستہ آہستہ اُس کے بدن سے رخصت ہو رہی ہے۔ وہ پرلی طرف جا رہی ہے۔۔۔۔ وہاں اندھیرا پھیل چکا ہے اَور اندھیروں میں ایک دھیمی سی َلو جل رہی ہے۔۔۔۔ نیچے پانی ہے۔۔۔۔ ظفر کی رُوح پانیوں پر پھسل رہی ہے۔ سردی اِس وقت بہت زیادہ ہے۔ رُوح سردی کے باعث سکڑتی جا رہی ہے اَور اتنی چھوٹی ہو رہی ہے کہ رب کی طاقتور آنکھیں بھی اُسے نہیں دیکھ سکتیں۔۔۔۔ ظفر کے مرنے کے بعد اُسے جیل کی باہر والی دیوار کے نیچے ایک بے نام قبر میں دبایا جائے گا۔۔۔۔
Categories
عکس و صدا

طالبات اور شدت پسندی، آمنے سامنے

جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے ایک خاتون کا حجاب کهینچنا اور تین طالبات کو طمانچے اور ڈنڈے مارنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ بھی طالبان یا داعش سے کم شدت پسند نہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواتین کو چار دیواری میں محدود کردیا جائے اور انہیں ہراساں کر کے قابو میں رکها جائے۔
“جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے ایک خاتون کا حجاب کهینچنا اور تین طالبات کو طمانچے اور ڈنڈے مارنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ بھی طالبان یا داعش سے کم شدت پسند نہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواتین کو چار دیواری میں محدود کردیا جائے اور انہیں ہراساں کر کے قابو میں رکها جائے۔” 29 اکتوبر کو کرکٹ کھیلنے والی طالبات پر اسلامی جمعیت طلبہ کے حملے خلاف احتجاجاً کرکٹ کھیلنے والی طالبات نے لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔ جمعیت کے اس حملے کے نتیجے میں ایک طالب علم ثاقب زخمی ہوا تھا جبکہ تین طالبات کے ساتھ مار پیٹ کی گئی تھی۔ حملے کے ردعمل میں مختلف تدریسی شعبوں سے تعلق رکھنے والی یہ طالبات2 نومبرکو جامعہ کراچی کے ایڈمن بلاک کے سامنے احتجاجی کرکٹ میچ کھیلنے کو جمع ہوئیں ۔ طالبات نے اس موقع پر کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف احتجاج بھی کیا اور اپنی آزادی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

تصویر نمبر 1

جمعیت اراکین کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد ‘دباو میں آ کر’ انتظامیہ نے طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی ہے جس پر طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

 

‘شدت پسندی کے خلاف ڈٹ جانے والی یہ طالبات’ اپنی مرضی سے جینے اور فیصلے کرنے کے حق کے لیے اپنے مرد ساتھیوں کے ساتھ کرکٹ کھیل کر اسلامی جمعیت طلبہ کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ آزاد ہیں اور ان کی آزادی چند مذہبی شدت پسند سلب نہیں کر سکتے۔ ماہرین سماجیات کے مطابق اس کی بڑی وجہ مردانہ برتری کے فرسودہ تصورات اور آزادی نسواں سے متعلق پائے جانے والی عدم برداشت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرہ خاص کر مردجب تک عورت کو مساوی، فعال اور آزاد حیثیت میں تسلیم نہیں کریں گے تب تک تعلیمی اداروں میں بھی صورت حال بہتر نہیں ہو گی۔ تاہم کراچی یونیورسٹی کے سب مرد طلبہ قدامت پسند نہیں، کرکٹ کھیلنے والی طالبات کے ہمراہ اظہار یکجہتی کے لیے بہت سی طلبا بھی شریک ہوئے اور انہوں نے طالبات کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے۔ جمعیت اراکین کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد ‘دباو میں آ کر’ انتظامیہ نے طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی ہے جس پر طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس پابندی کےحوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

تصویر نمبر 2

 

اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو جمعیت کی جانب سے مزید دباوکا سامنا بھی کرنا پڑا۔ احتجاجی کرکٹ میچ کے دوران جمعیت کے اراکین نے ایک مرتبہ پھر طالبات کو کھلے عام کھیلنے سے زبردستی روکنے کی کوشش کی تاہم انہیں طلبہ کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کرکٹ کھیلتی طالبات کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے ایک رکن جمعیت کو طالبہ نے تھپڑ بھی رسید کیا۔ طلبہ نے جمعیت پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔

تصویر نمبر 3

 

جمعیت کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کے دوران انتظامیہ کا رویہ جانبدارانہ رہا۔موقع پر موجود طلبہ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے جامعہ کے تمام داخلی دروازے بند کر دیئے، کرکٹ میچ رکوا دیا اور صحافیوں کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی۔ طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ رینجرز کا رویہ خاموش تماشائی کا رہا ہے انہوں نے جمعیت کی ‘غنڈہ گردی’ سے طلبہ کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ لالٹین سے گفتگو کرنے والے طلبہ کے مطابق انتظامیہ اور یونیورسٹی میں تعینات رینجرز انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں،”جامعہ میں رینجرز کی بهاری نفری تعینات ہے مگر اسٹاف کالونی کے مکانات پر قبضے کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر رہے اور انتظامیہ بهی مجرمانہ طور پر خاموش ہے”۔
طالبات کا کہنا تها کہ ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے، ہم یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ ہماری آزادی ہم سے نہیں چھین سکتی۔

 

اسلامی جمعیت طلبہ کے ذرائع نے جمعیت اراکین کی جانب سے کسی طالبہ کے ساتھ بدتمیزی یا مارپیٹ کی تردید کی ہے تاہم انہوں نے تعلیمی اداروں میں ‘مخرب الاخلاق’ سرگرمیوں کی روک تھام کے عزم کا اظہار کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے سیکرٹری اطلاعات ساجد خان نے طالبات کو ہراساں کرنے کی اطلاعات کی تردید کی اور کہا کہ اس حوالے سے الزمات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے طالبات کو کرکٹ کھیلنے سے منع کرنے کی خبر کو بھی غلط قرار دیا۔
کراچی یونیورسٹی میں اسلامی جمیعت طلباء کے ناظم قاضی عبدالحسیب نے اس پورے معاملے ہی کو رد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمیعت ہر سال اسپورٹس ڈے مناتی ہے جس میں طالبات بھرپور انداز میں شرکت کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں نہ تو طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر اعتراض ہے اور نہ ہی اس کے کسی کارکن نے کسی پر کوئی تشدد کیا ہے۔ دوسری جانب طالبات کا کہنا تها کہ ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے، ہم یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ ہماری آزادی ہم سے نہیں چھین سکتی۔ تاہم طالبات نے انتظامیہ کی جانب سے خواتین کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی کی اطلاع کو مایوس کن قرار دیا ہے ۔ بہت سے طلبہ کے مطابق وہ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کریں گے۔کرکٹ کھیلنے کے بعد طالبات کی ایک بڑی تعداد نے جامعہ میں موجود ڈهابوں کا رخ کیا اور اپنی آزادی کا جشن منایا۔ ان طالبات کے مطابق اب وہ خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کر رہی ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

وقت نے رنگ بہت کچھ بدلے, کیا کیا سیلاب نہیں آئے

محمد فہداریبyouth-yell-inner1

دھواں چار سو پھیلا ہے۔ کچھ نہیں دکھتا کہ آگے کیا ہورہا ہے اور ہوگا؟ ہماری نگاہ یا بقول اقبال مردمومن والی قلندرانہ نگاہ زائل ہوچکی ہے اورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوچکی ہے۔اس دھندلے منظر میں سکوت طاری ہے حالانکہ نوحہ گاہ میں یا تو شام غریباں منائی جاتی ہے یا پھر چٹانی حوصلہ اور عزم وہمت سے نئی تاریخ رقم کرنے کی تیاری کی جاتی ہے لیکن یہاں کون ہے جو کسی مرنے والے کا نوحہ پڑھے یا کسی کو بچانے کو علم برداری کرے۔ اب تک تو قرب و جوار میں کوئی حادثہ یا دھماکہ ہوتا تو پورا معاشرہ دکھاوے کو ہی سہی ہمدردی اور اظہار تعزیت کی رسم پوری کرتی مگر اب تو منظر بدل گیا ہے۔ اب جذبہ انسانیت بیمار پڑچکا اور ہمدردی و تعزیت کے سہارے کمزور پڑتے پڑتے معدوم ہو چکے۔ اب صبر کے پیمانے تب ہی لبریز ہوتے ہیں جب کوئی اپنا رشتہ دار یا دلدوز قومی سانحہ رونما ہوتا ہے۔

اول تو اس معاشرے میں کوئی صدائے حق بلند کرنے کی جرات نہیں کرتا اور اگر کوئی بہادر نڈر شخص آگے آتا بھی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ خاموش تماشائی بجائے لب کشائی کے اس آواز کو دبانے اور فتوے لگانے کے لیے چوکس و تیار بیٹھے تھے۔غم منائے زمانے بیت گئے اور خوشی محسوس کیے مدت ہوئی۔ اب اگر کوئی کونے کھدرے سے کوئی خبر حاصل ہوبھی جائے تو اسےشرلاک ہومز کی شکی نگاہوں سےگھورا جاتا ہے۔ سنسان کھیل کے میدانوں سے لے کر اولمپکس کے خالی دستوں تک، کرپشن کی کہانیوں سے لے کر دھشت گردی کی کا رروائیوں تک ہم دنیا میں اپنی پہچان سے واقف ہیں، مگر حیرت ہے کہ کوئی شرمساری نہیں۔

ایک سولہ سالہ بچی جس نے معاشرے میں شدت پسندی کی بجائے امن و بھائی چارہ کی بات کی اور پہلی وحی کو مقصد حیات بنایا ۔ اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر، بے نظیر کی شال اوڑھ کر “تعلیم سب کے لیے” کا نعرہ لگایا اور فنڈ قائم کر کے کڑوروں روپے تعلیم کے لیے مختص کر دیے۔ ہم نے اسے ہی اپنا دشمن گردانا۔ اور اس پر سوالات و اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی کیونکہ بقول ہمارے سازشی تھیوریوں کے وہ ایجنٹ ملک و مذہب کا امیج خراب کر رہی ہے۔

اس بے یقینی اور ناآسودگی میں سینکڑوں سوالات، جن کا جواب فقط اتنا ہے کہ “جو کرا رہا ہے امریکہ کر رہا ہے”تمام حقائق کا گلہ گھونٹ چکے ہیں۔ ہم جس شاہراہ پر گامزن ہیں اس پر “غیر ملکی ہاتھ” نے فریبی سائے ہیں جس سے آگے”راستہ عارضی طور پر بند ہے” کا عنوان پیوست ہے۔ جس دن ہم نے اصلیت جانی اور اپنی کمزوریوں کا ٹھندے دل و دماغ سے جائزہ لیا ہم اس زہریلے دھواں کو زائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے وگر نہ کتے کی شہادت اور فتووں کے گورکھ دھندوں میں پھنس کر رہ جایئں گے، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔


انتباہ: مجلس ادارت کا میگزین میں شامل قلمی معاونین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ مشمولات کی اسناد اور حوالوں میں کمی یا بیشی کا ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
یوتھ یلزایک نیا رنگا رنگ سلسلہ ہے، جس میں نوجوان قلمکار بلا جھجک اپنے ھر طرح کے خیالات کا دوٹوک اظہار کر سکتے ہیں۔۔ آپ کا اسلوب سنجیدہ ہے یا چٹخارے دار۔۔ آپ سماج پر تنقید کا جذبہ لیے ہوئے ہیں یا خود پر ہنسنے کا حوصلہ۔۔۔۔ “لالٹین” آپ کی ہر تحریر کو خوشآمدید کہتا ہے۔