campus-talks

اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں نے کراچی یونیورسٹی کے کیمپس میں کرکٹ کھیلنے والے طلبا و طالبات پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں ایک طالب علم زخمی ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے بعض طلبا و طالبات کلاسز کے بعداپنی سواریوں کی آمد تک وقت گزاری کے لیے کرکٹ کھیل رہے تھے جب اسلامی جمعیت طلبہ نے ان پر دھاوا بول دیا۔ 29 اکتوبر کی سہ پہر ہونے والے اس واقعے میں جمعیت کے اراکین سے ساتھی طالبات کو بچاتے ہوئے ایک طالب علم ثاقب زخمی ہو گیا جسے یونیورسٹی کلینک میں منتقل کر دیا گیا۔ طالب علم کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین کے نزدیک طلباوطالبات کو مل کر کرکٹ کھیلنا’غیراخلاقی’ ہے اس لیے وہ حملہ آور ہوئے۔ حملے کے بعد کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر صورت حال پر قابو پالیا۔ انگریزی روزنامے پاکستان ٹوڈے کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کراچی یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر انصار رضوی کراچی یونیورسٹی کے سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر محمد زبیر کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ پروفیسر رضوی کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ نے مختلف شعبوں کے طلبہ پر حملہ کیا، حملے کے دوراب طلبا کے علاوہ طالبات کو بھی ہراساں کیا گیا اور موقعے پر موجود کم سے کم تین طالبات نے اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین پر مار پیٹ کا الزام بھی عائد کیا۔ طلبہ نے اسے بنیادی آزادیوں پر حملہ اور دہشت گردی قرار دیا ہے۔

موقع پر موجود طلبہ کے مطابق رینجرز اہلکار نے اسلامی جمعیت طلبہ کے چار اراکین کو گرفتار بھی کیا لیکن محض آدھے گھنٹے بعد انہیں رہا کر دیا۔ پروفیسر رضوی کے مطابق سندھ رینجرز سے تعلق رکھنے والے میجر علی اہلکاروں سمیت پہنچ گئے اور گرفتاریاں بھی کیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے سیکرٹری اطلاعات ساجد خان نے طالبات کو ہراساں کرنے کی اطلاعات کی تردید کی اور کہا کہ اس حوالے سے الزمات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے طالبات کو کرکٹ کھیلنے سے منع کرنے کی خبر کو بھی غلط قرار دیا۔

اسلامی جمعیت طلبہ جماعت اسلامی کی قدامت پرست اور سخت گیر طلبہ تنظیم ہے جو اس سے قبل بھی تعلیمی اداروں میں پر تشدد کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔

4 Responses

Leave a Reply

%d bloggers like this: