Categories
عکس و صدا

طالبات اور شدت پسندی، آمنے سامنے

جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے ایک خاتون کا حجاب کهینچنا اور تین طالبات کو طمانچے اور ڈنڈے مارنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ بھی طالبان یا داعش سے کم شدت پسند نہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواتین کو چار دیواری میں محدود کردیا جائے اور انہیں ہراساں کر کے قابو میں رکها جائے۔
“جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے ایک خاتون کا حجاب کهینچنا اور تین طالبات کو طمانچے اور ڈنڈے مارنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ بھی طالبان یا داعش سے کم شدت پسند نہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواتین کو چار دیواری میں محدود کردیا جائے اور انہیں ہراساں کر کے قابو میں رکها جائے۔” 29 اکتوبر کو کرکٹ کھیلنے والی طالبات پر اسلامی جمعیت طلبہ کے حملے خلاف احتجاجاً کرکٹ کھیلنے والی طالبات نے لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔ جمعیت کے اس حملے کے نتیجے میں ایک طالب علم ثاقب زخمی ہوا تھا جبکہ تین طالبات کے ساتھ مار پیٹ کی گئی تھی۔ حملے کے ردعمل میں مختلف تدریسی شعبوں سے تعلق رکھنے والی یہ طالبات2 نومبرکو جامعہ کراچی کے ایڈمن بلاک کے سامنے احتجاجی کرکٹ میچ کھیلنے کو جمع ہوئیں ۔ طالبات نے اس موقع پر کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف احتجاج بھی کیا اور اپنی آزادی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

تصویر نمبر 1

جمعیت اراکین کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد ‘دباو میں آ کر’ انتظامیہ نے طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی ہے جس پر طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

 

‘شدت پسندی کے خلاف ڈٹ جانے والی یہ طالبات’ اپنی مرضی سے جینے اور فیصلے کرنے کے حق کے لیے اپنے مرد ساتھیوں کے ساتھ کرکٹ کھیل کر اسلامی جمعیت طلبہ کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ آزاد ہیں اور ان کی آزادی چند مذہبی شدت پسند سلب نہیں کر سکتے۔ ماہرین سماجیات کے مطابق اس کی بڑی وجہ مردانہ برتری کے فرسودہ تصورات اور آزادی نسواں سے متعلق پائے جانے والی عدم برداشت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرہ خاص کر مردجب تک عورت کو مساوی، فعال اور آزاد حیثیت میں تسلیم نہیں کریں گے تب تک تعلیمی اداروں میں بھی صورت حال بہتر نہیں ہو گی۔ تاہم کراچی یونیورسٹی کے سب مرد طلبہ قدامت پسند نہیں، کرکٹ کھیلنے والی طالبات کے ہمراہ اظہار یکجہتی کے لیے بہت سی طلبا بھی شریک ہوئے اور انہوں نے طالبات کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے۔ جمعیت اراکین کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد ‘دباو میں آ کر’ انتظامیہ نے طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی ہے جس پر طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس پابندی کےحوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

تصویر نمبر 2

 

اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو جمعیت کی جانب سے مزید دباوکا سامنا بھی کرنا پڑا۔ احتجاجی کرکٹ میچ کے دوران جمعیت کے اراکین نے ایک مرتبہ پھر طالبات کو کھلے عام کھیلنے سے زبردستی روکنے کی کوشش کی تاہم انہیں طلبہ کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کرکٹ کھیلتی طالبات کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے ایک رکن جمعیت کو طالبہ نے تھپڑ بھی رسید کیا۔ طلبہ نے جمعیت پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔

تصویر نمبر 3

 

جمعیت کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کے دوران انتظامیہ کا رویہ جانبدارانہ رہا۔موقع پر موجود طلبہ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے جامعہ کے تمام داخلی دروازے بند کر دیئے، کرکٹ میچ رکوا دیا اور صحافیوں کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی۔ طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ رینجرز کا رویہ خاموش تماشائی کا رہا ہے انہوں نے جمعیت کی ‘غنڈہ گردی’ سے طلبہ کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ لالٹین سے گفتگو کرنے والے طلبہ کے مطابق انتظامیہ اور یونیورسٹی میں تعینات رینجرز انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں،”جامعہ میں رینجرز کی بهاری نفری تعینات ہے مگر اسٹاف کالونی کے مکانات پر قبضے کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر رہے اور انتظامیہ بهی مجرمانہ طور پر خاموش ہے”۔
طالبات کا کہنا تها کہ ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے، ہم یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ ہماری آزادی ہم سے نہیں چھین سکتی۔

 

اسلامی جمعیت طلبہ کے ذرائع نے جمعیت اراکین کی جانب سے کسی طالبہ کے ساتھ بدتمیزی یا مارپیٹ کی تردید کی ہے تاہم انہوں نے تعلیمی اداروں میں ‘مخرب الاخلاق’ سرگرمیوں کی روک تھام کے عزم کا اظہار کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے سیکرٹری اطلاعات ساجد خان نے طالبات کو ہراساں کرنے کی اطلاعات کی تردید کی اور کہا کہ اس حوالے سے الزمات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے طالبات کو کرکٹ کھیلنے سے منع کرنے کی خبر کو بھی غلط قرار دیا۔
کراچی یونیورسٹی میں اسلامی جمیعت طلباء کے ناظم قاضی عبدالحسیب نے اس پورے معاملے ہی کو رد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمیعت ہر سال اسپورٹس ڈے مناتی ہے جس میں طالبات بھرپور انداز میں شرکت کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں نہ تو طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر اعتراض ہے اور نہ ہی اس کے کسی کارکن نے کسی پر کوئی تشدد کیا ہے۔ دوسری جانب طالبات کا کہنا تها کہ ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے، ہم یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ ہماری آزادی ہم سے نہیں چھین سکتی۔ تاہم طالبات نے انتظامیہ کی جانب سے خواتین کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی کی اطلاع کو مایوس کن قرار دیا ہے ۔ بہت سے طلبہ کے مطابق وہ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کریں گے۔کرکٹ کھیلنے کے بعد طالبات کی ایک بڑی تعداد نے جامعہ میں موجود ڈهابوں کا رخ کیا اور اپنی آزادی کا جشن منایا۔ ان طالبات کے مطابق اب وہ خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کر رہی ہیں۔
Categories
اداریہ

“خیبرپختونخواہ میں ایک ہزار مکتب سکول بند کیے جاچکے ہیں”

campus-talks

سوات کے مختلف علاقوں میں 96 مکتب سکولوں کی بندش کے خلاف احتجاج سے متعلق بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے غیرسرکاری تنظیم الف اعلان کے اہلکار ڈاکٹرجواد اقبال کا کہنا ہے کہ اب تک خیبرپختونخواہ میں ایک ہزار مکتب سکول مختلف وجوہ کی بناء پر بند کیے جاچکے ہیں۔ سوات میں مکتب سکولوں کی بندش کے خلاف طلبہ اور والدین کی جانب سے منگل 11 اگست کو مینگلور چوک میں احتجاج بھی کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سکولوں کی بندش کے احکامات صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر دیے گئے تھے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بند کیے جانے والے مکتب سکولوں میں 1700 طلبہ زیر تعلیم تھے۔
سوات کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر پلاننگ اینڈ ڈویلمپنٹ فضل خالق کے مبطابق سوات میں مکتب سکولوں کی تعداد 123 ہےجن میں سے96 کو بند کردیاگیا ہے۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سوات میں مکتب سکولوں کی اکثریت بغیر عمارت کے قائم تھی اور پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد یہ سکول غیر محفوظ تصور کیے جارہے تھے جس کی وجہ سے صوبائی حکومت کی طرف سے مکتب سکولوں کو بند کرنے کے حوالے سے سخت ہدایات ملی تھیں۔ فضل خالق کا کہنا تھا کہ متاثرہ طلبہ کو دیگر تعلیمی اداروں میں منتقل کردیا جائے گا تاکہ ان کی تعلیم کا عمل متاثر نہ ہو۔ دوسری جانب مظاہرین کے مطابق مکتب سکول متاثرہ طلبہ کے رہائشی علاقوں سے قریب واقع تھے۔ نئے سکولوں کا فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو آمدورفت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Categories
اداریہ

پاکستان سائبر مارشل لاءکی راہ پر-اداریہ

بظاہر پاکستانی پارلیمان جمہوریت کی اس بنیادی اساس کے ہی درپے ہے جو اس ایوان کے انتخاب کا آئینی جواز ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے منتخب نمائندگان جمہوری نظام کی تشکیل، تسلسل اور ارتقاء کے لیے جمہوریت،انسانی آزادی اور انسانی حقوق جیسے بنیادی تصورات سے متفق نہیں۔ معزز پارلیمان کے طرز عمل سے یہ گمان گزرتا ہے جیسے دہشت گردی کے خلاف جنگ ، نظریہ پاکستان ، اسلام اور قومی سلامتی کے پردے میں شہری آزادیوں کو محدود کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ سائبر جرائم کے خلاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہونے والا مجوزہ قانون پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کے لیے معاشرتی اور ریاستی سطح پر کم ہوتی برداشت اور اہمیت کا تشویش ناک اظہار ہے اور اس قانون کا منظوراور نافذ ہونا پاکستانی ریاست کو سائبر مارشل لاء کی جانب دھکیلنے کا باعث بنے گا۔
ریاستی اداروں، حکومت اور مذہب پر تنقید ، طنز اور تضحیک کو جرم قرار دینے سے ان بنیادی شہری آزادیوں کی نفی ہوتی ہے جو جمہوری نظام حکومت کو فسطائیت اور آمریت سے ممتاز اور بہتر بناتی ہیں۔
قومی سلامتی، اسلام اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کے نام پرآزادی اظہاررائے کے حق کے خلاف ریاستی جبر اورقانون سازی کا عمل قیام پاکستان کے فوری بعد تب ہی شروع ہو گیا تھا جب زمیندار اخبار کے خلاف خواجہ ناظم الدین حکومت نے مرکزی حکومت کےخصوصی اختیارات کے قانون کے تحت چودہ روزہ پابندی عائد کی تھی۔ پبلک سیفٹی آرڈیننس 1949، سیکیورٹی آف پاکستان ایکٹ 1952، نظم عامہ کے قیام کا 1962 کا قانون، پریس اینڈ پبلیکشنز آرڈیننس 1963 اور رجسٹریشن آف پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس 1990 سمیت کئی قوانین پاکستان میں آزادی اظہاررائے، شہری آزادیوں اور جمہوریت کے دائرے کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔معاشرے اور ریاست کی سطح پر اظہاررائے اور اختلاف رائے کے لیے کم ہوتی برداشت اور آزادی کے تناظر میں آزادانہ عوامی اظہار کے لیے انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس وہ واحد جگہ تھی جہاں لوگوں کو ریاست، حکومت اور معاشرے پر تنقید کی چھوٹ حاصل تھی تاہم مجوزہ قانون کے تحت شہریوں سے یہ آزادی بھی چھین لینے کی بھرپور اور دانستہ کوشش کی گئی ہے۔ یہ قانون ماضی میں متعارف کرائے جانے والے صحافتی قوانین کے جبر کا ہی تسلسل ہے جو فوجی و سول آمروں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا گلا گھونٹنے کے لیے قومی سلامتی ، مذہب اور نظریہ پاکستان کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ یو ٹیوب کی بندش کا معاملہ پاکستانی ریاست اور معاشرے میں آزادی اظہار کے حوالے سے پائے جانے والی بے حسی کی ایک تکلیف دہ مثال ہے، مجوزہ قانون کے تحت ریاستی اداروں کو حاصل ہونے والے اختیارات یقیناً پاکستان کو ایک فسطائی ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ثابت ہوں گے۔
بادی النظر میں یہ قانون سائبر جرائم کی روک تھام کی بجائے انٹرنیٹ صارفین کے اظہار رائے کے حق پر مقتدر حلقو ں کی مخصوص تنگ نظر سیاسی فکراور عسکری اداروں کے قومی سلامتی کے تصورات کے تحت پابندیاں لگانے کا قانون معلوم ہوتا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی ، استعمال اور جرائم کے تدارک کے لیے قوانین کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جارہی تھی تاہم ریاست مجوزہ کالے قانون کے تحت ریاست سائبر جرائم کی روک تھام کی بجائے عوامی اظہار کے راستے مسدود کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ اس قانون میں ملزم کو دفاع کا مناسب حق نہ دینے، انتطامی اداروں کو عدالتی اجازت کے بغیر کارروائی کے اختیارات دینے، مواد پر بندش کے خلاف اپیل کا حق چھیننے کے علاوہ عام شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق اور آئین پاکستان کے تحت دیے گئے آزادی اظہار رائے کے حق سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت بنائے گئے دیگر قوانین ہی کی طرح اس قانون میں بھی ریاستی و حکومتی اداروں کی کارروائیوں پر نظرثانی اور نگرانی کا مناسب نظام موجود نہیں اور نہ ہی اس قانون کے غلط استعمال کے روک تھام کے لیے مناسب یقین دہانیاں موجود ہیں جس سے اس قانون کے ذریعے اقلیتوں، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے خدششات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس قانون کے تحت ایک مرتبہ پھر نظریے، ریاست، قومی سلامتی اور مذہب کے نام پر عوامی اظہار کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ریاستی اداروں، حکومت اور مذہب پر تنقید ، طنز اور تضحیک کو جرم قرار دینے سے ان بنیادی شہری آزادیوں کی نفی ہوتی ہے جو جمہوری نظام حکومت کو فسطائیت اور آمریت سے ممتاز اور بہتر بناتی ہیں۔ ناقدین کے خیال میں اس قانون کی تیاری کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ افراد، انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور قانونی ماہرین کی تجاویز کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ قانون سازی کے عمل میں انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اصطلاحات سے ناواقف افراد کی شمولیت کے باعث یہ قانون آن لائن جرائم کی بیخ کنی کی بجائے عام لوگوں کی آزادیوں کو محدود کرنے کا باعث بننے کا غالب امکان بھی موجود ہے۔
بادی النظر میں یہ قانون سائبر جرائم کی روک تھام کی بجائے انٹرنیٹ صارفین کے اظہار رائے کے حق پر مقتدر حلقو ں کی مخصوص تنگ نظر سیاسی فکر اورعسکری اداروں کے قومی سلامتی کے تصورات کے تحت پابندیاں لگانے کا قانون معلوم ہوتا ہے۔ یہ قانون مخصوص مذہبی نظریات کے حامل طبقات کے بیانیے کے تحفظ، مذہبی اخلاقیات کے نفاذ اور اظہاررائے پر پابندی کا قانون معلوم بھی ہے۔ اخبارات کے ذریعے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اس قانون کے ذریعے ریاستی اداروں کو” قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے، اسلام اور اس کی عظمت سے متعلق توہین آمیز، فحش، اشتعال انگیز یا نظم عامہ میں خلل ڈالنے والے” مواد پر کسی بھی ویب سائٹ کو بند کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔اس ضمن میں سب سے تشویشناک امر اس قانون میں توہین آمیز، فحش یا اشتعال انگیز مواد کی تعریف کا موجود نہ ہونا ہے جس کے باعث ریاست کو ریاستی اداروں، حکومت یا مذہبی جتھوں کے لیے “ناپسندیدہ ” افراد کے خلاف کارروائی کے لامحدود اختیارات حاصل ہونے کا خدشہ ہے۔ ماضی کے پیش نظر انٹرنیٹ سیکیورٹی جیسے اہم معاملے پر ایسے مبہم قانون کے اقلیتوں، قوم پرستوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ریاستی اداروں کے جبر کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے خلاف استعمال کے واضح امکانات موجود ہیں۔ یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ گزشتہ چند برس کے دوران انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ابلاغ عام کے مفلوج ذرائع کے پیش نظر فوج، حکومت اور مذہبی شدت پسندوں پر تنقید کا سب سے موثر اور آزاد ذریعہ بن کر سامنے آئے ہیں، اس قانون کے منظر عام پر آنے والے مندرجات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس قانون کا مقصد مذہبی شدت پسندی، ریاستی دہشت گردی اور حکومتی اداروں کی ناکامی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانا ہے۔
پاکستانی ریاست کے قانون ساز او ر مقتدر حلقے عوامی تنقید، احتجاج اور اظہار رائے کے خوف میں ،مبتلا ہیں۔ منتخب ایوان یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے کہ ریاستی اداروں پر آزادانہ تنقید اور اظہاررائے کی آزادی جیسی بنیادی شہری آزادیاں اورانسانی حقوق ریاستی نظریے، مذہب، قومی سلامتی اور خود ریاست کے وجود سے مقدم، مقدس اور محترم ہیں۔ ریاست کو کسی بھی صورت انسانی حقوق کے عالمگیر تصور سے متصادم قانون سازی کا حق نہیں یہی۔ ریاست ،حکومت اور سیکیورٹی ادارے یقیناً اس قانو ن کے ذریعے اپنے ناقدین اور مخالفین کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ تک آزادانہ رسائی کے حق اور انسانی حقوق ،کے کارکنان کی تجویز کردہ سفارشات کے برعکس ایک مبہم، جابرانہ اور غیر منصفانہ قانون متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کسی بھی طرح پاکستان میں اظہاررائےکی آزادی کی مخدوش صورتحال کے لیے سود مند نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پارکنگ تنازعہ پر طلبہ کا احتجاج

campus-talks

نامہ نگار+پریس ریلیز
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے پارکنگ کے تنازعہ پر ہونے والے جھگڑے پر جمعرات 26 مارچ کو ڈی آئی جی چوک پر احتجاج کیا اور یونیورسٹی بسوں کی آمدورفت معطل کردی۔ طلبہ نے ڈی آئی جی چوک سے اولڈ کیمپس تک ریلی بھی نکالی اور دھرنا بھی دیا۔ چار گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج کے دوران طلبہ نے نعرے بازی کی اور انتظامیہ سے تشدد میں ملوث سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے 18 مارچ کو یونیورسٹی سیکیورٹی گارڈز سے ہونے والے جھگڑے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے، خاتون سیکیورٹی گارڈوں کی تعیناتی اور فیسیں کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
news image (Mobile)
لالٹین کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ برس پشاور حملے کے اسلامیہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ممکنہ دہشت گرد حملے سے بچاو کے لیے بعد غیر اندراج شدہ گاڑیوں کے لیے داخلی دروازے کے قریب پارکنگ قائم کی تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس حدود میں صرف انتظامیہ کے پاس اندراج شدہ گاڑیوں کو داخل ہونے کی اجازت دینے کے فیصلے کے باوجودبعض طلبہ نے اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے اندراج کے بغیر انہیں یونیورسٹی حدود میں لے جانے کی کوشش کی جس پر انہیں روکا گیا، “طالب علموں نے اپنی موٹر سائیکلیں ڈیپارٹمنٹ تک لے جانے کی کوشش کی، سیکیورٹی اہلکاروں کے روکنے پر ہاتھا پائی اور احتجاج پر اتر آئے۔” ایک یونیورسٹی گارڈ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ گارڈ کے مطابق طلبہ کی جانب سے گالم گلوچ اور مارپیٹ کا آغاز کیا گیا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو تشدد کا ذمہ دار قرار دیا ،”گارڈز نے یونیورسٹی انتظامیہ کی ایماء پر طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔” اسلامیہ یونیورسٹی کے طالب علم فیاض کا کہنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے پارکنگ کی جگہ ڈیپارٹمنٹس سے بہت دور بنائی ہے جس کی وجہ سے طلبہ کو کافی دشواری کا سامنا ہے، انہوں نے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کا عندیہ بھی دیا،”ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور ڈی سی آفس کے سامنے بھی دھرنا دیں گے۔” تاہم آج دھرنے کےطے شدہ مقام پر کسی قسم کا احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا۔ مظاہرین نے دو طالب علموں محمد طیب جاوید اور جنید ججہ پر تشدد کا الزام بھی عائد کیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات بے جا اور احتجاجی طلبہ کو یونیورسٹی کے اٹھارہ ہزار طلبہ کی حمایت حاصل نہیں، احتجاج میں شریک طلبہ یونیورسٹی سے خار کیے گئے طلبہ ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے فیسوں میں اضافہ نہیں کیا اور نئی پارکنگ صرف غیر اندراج شدہ گاڑیوں کے لیے ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

احتجاج کا حق اور سڑکوں کی سیاست

یورپ میں شخصی حکم رانی کے تحت قائم سلطنتوں میں بادشاہ اوراس کے حواری جاگیرداروں کی اقتدار پر قائم اجارہ داری کے خلاف ابھرتے ہوئے تاجر ، صنعت کار اور دانشور طبقہ کی جانب سے پر ہجوم عوامی تحریکوں کے ذریعہ انقلاب برپا کرنےکی کوششوں کے باعث جس جمہوری طریقہ انتخاب و انتقال اقتدار کا آغاز ہوا ،وہ نوآبادیاتی دور میں مقبوضہ علاقوں تک بھی پہنچا ۔ یورپ میں تشکیل پانے والے جمہوری نظام کی بنیاد انقلاب فرانس اور اشتمالی تحریکوں کی عوامی طاقت کے اس خوف پربھی رکھی گئی ہے جو کسی بھی ریاست کو انتشار کا شکار کرتے ہوئے مختلف طبقات کے مفادات اور ریاستی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا نے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جمہوری اداروں کے قیام کی اساس عوامی اقتداراعلیٰ، بنیادی حقوق اور آزادیوں تک یکساں رسائی اور ریاست، حکومت، معاشرے اور فرد کے مابین طاقت اور اقتدار کی شراکت کے عمرانی معاہدوں پر رکھی گئی تھی تاکہ متشدد انقلابات اور ہجوم کے ہاتھوں تبدیلی کا راستہ روکا جا سکے ۔ ریاست کی سطح پر تشکیل پانے والے عمرانی معاہدے جہاں حکومت کو ریاستی طاقت استعمال کرنے کا محدود حق دیتے ہیں وہیں عوام یا مختلف طبقات کو احتجاج کا جمہوری حق بھی دیتے ہیں۔ یورپی جمہوری نظام کا ارتقاء بتدریج ریاست میں بسنے والے مختلف گروہوں کو سیاسی نظام اور ریاستی اداروں میں نمائندگی اور شراکت دینے کا بتدریج عمل تھا جس کے تحت اقلیت اور اکثریت کے مابین منصفانہ توازن کے قیام کی مختلف جمہوری صورتیں رائج ہوئیں۔
سڑکوں کی سیاست کے ذریعہ حکومتوں کی تبدیلی کی کوششوں کے دوران یہ نقطہ ہمیشہ فراموش کیا گیا ہے کہ احتجاج کرتے ہجوم سے تمام تر ہمدردی کے باوجود مظاہرین کے مطالبات صرف احتجاج کی شدت ، مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد اور عوامی حمایت کی بنیاد پر جائز، آئینی اور قانونی تسلیم نہیں کئے جا سکتے ۔
نوآبادیاتی مقبوضہ جات خصوصاً ہندوستان میں یورپی اقوام کے ہاتھوں پہنچنے والے جمہوری نظام کے تحت شروع ہونے والے محدود سیاسی عمل نے جلد ہی عوامی سطح پراقتدار میں شمولیت اور بعد ازاں مکمل آزادی کے مطالبے کی شکل اختیار کر لی۔ ہندوستانیوں نے ریاست پر قابض استعماری ممالک کے قبضہ کے خلاف بیسویں صدی میں اقتدار کی مقامی افراد کو منتقلی اور خودمختار آزاد ریاستوں کے قیام کے لئے جو تحریکیں چلائیں ان میں ریاست استعماری قوتوں کی نمائندہ تصور کی گئی اور ریاستی اداروں کے خلاف سول نافرمانی سمیت احتجاج کرنے کے تمام جمہوری اور غیر جمہوری طریقےاستعمال کئے گئے۔ آزادی کی ان تحریکوں میں ریاست اور اس کے اداروں کو دشمن سمجھنے کی سوچ کسی حد تک آج کے پاکستانی انقلابیوں اور علیحدگی پسندوں میں بھی نظر آتی ہے، جو ریاست یا کم سے کم حکومت کو جبر اور استحصال کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں احتجاج کے بنیادی انسانی حق کو ریاست کے اداروں کے خلاف من پسند نتائج کے حصول کے لئے استعمال کرنے کی بیسیوں مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آج بھی بیشتر سیاسی جماعتیں اور فشاری گروہ ریاستی اداروں جیسےپارلیمان، پولیس اورعدالتوں کو ظلم، جبر اور استحصال کا نمائندہ سمجھتے ہوئےان کے خلاف متشدد احتجاج کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ اسے اپنا جمہوری حق تصور کرتے ہیں۔ اس تاثر کی ایک اہم وجہ فوجی آمریتوں اور نوے کی دہائی کی جمہوری حکومتوں کے خلاف چلنے والی تحریکوں کے دوران فوجی اور سول حکمرانوں کی طرف سے پولیس اور عدالتوں کو اپنے اقتدار کے تحفظ اور احتجاج کو دبانے کے لئے استعمال کیا جا نا ہے۔ایک اور اہم وجہ ریاست اور حکومت کی جانب سے احتجاج کرنے والوں سے معاملات طے کرنے کی اہلیت کا نہ ہونا ہے۔ ریاستی سطح پر بھی احتجاجی اور مزاحمتی تحریکوں کو نوآبادیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف طاقت کے استعمال کو ریاستی سلامتی کے لئے جائز سمجھا جاتا ہے؛جیسےایم آرڈی کی تحریک ، بلوچ مزاحمتی تحریک اور عدلیہ بحالی کی وکلاء تحریک،جن کے دوران حکومتوں کی جانب سے احتجاج اور مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ معاملات کو جمہوری طریقوں سے حل کرنے کی صلاحیت اور اہلیت نہ ہونے کے باعث ریاستی طاقت کے استعمال کو جائز سمجھ کر کارکنوں کی گرفتاری سمیت ہر قسم کے سیاسی و غیر سیاسی حربے جائز سمجھے گئے ہیں ۔ ریاست کی جانب سے جمہوری اور آئینی احتجاج کو طاقت کے استعمال سے روکنے کی وجہ سے ریاست ، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متشدد عوامی تحریکوں کے جواز کے لئے وہی دلائل استعمال کئے گئے ہیں جو نوآبادیاتی استعمار سے آزادی کے وقت برطانوی تسلط سے آزادی کے لئے برتے گئے تھے۔ احتجاجی مظاہروں کو پر تشدد بنانے کی اہم وجہ حکومت کی جانب سے پسماندہ طبقات کے مسائل کے حل کے لئے ریاستی وسائل کو استعمال کرنے میں مسلسل ناکامی اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے تشدد اور توڑ پھوڑ کو نمایاں کوریج دینا ہے۔ پاکستان میں حکومتیں احتجاج کو ریاستی طاقت سے دبانے کی کوشش کرتی ہیں جس سے مظاہرین مشتعل ہوتے ہیں اور اس اشتعال کی ترویج براہ راست کوریج کے ذریعہ گھر گھر کی جاتی ہے۔
حکومت یا ریاست سے ناراض گروہوں کا مطالبات کی عدم تکمیل پر حکومت کو دباو میں لانے کے لئے تشدد اور توڑ پھوڑ کرنا اس بنیادی جمہوری فلسفہ کے ہی خلاف ہے جس کے تحت سیاسی گروہوں اور جماعتوں کو احتجاج اور اختلاف رائے کا حق حاصل ہے۔ منتخب حکومتوں کی تبدیلی کے لئےمسلح بغاوتیں، انقلابی تحریکیں ،سڑکوں کی سیاست اور دھرنے انتقال اقتدار کے اس پورے نظام فکرکی نفی کرتے ہیں جس کے تحت پرامن اور جمہوری طریقوں سے عوامی نمائندگی اور رائے دہندگی کے تحت حکومتیں وجود میں آتی ہیں۔ پرامن احتجاج کے حق کا غلط استعمال نہ صرف ریاست کے لئے طاقت کے استعمال کاجواز بنتا ہے بلکہ دیگر شہریوں، گروہوں اور جماعتوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے کا بھی باعث ہے۔
حکومت گرانے اور بنانے کے لئے سڑکوں کی سیاست پاکستان کے لئے نئی نہیں،نوے کی دہائی میں مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی دونوں ایک دوسرے کی منتخب حکومتوں کے خلاف سڑکوں کی سیاست کرتی رہی ہیں۔ سڑکوں کی سیاست اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ حکومتوں کی تبدیلی کے پیچھے نہ صرف غیر جمہوری سیاسی اقدار تھیں بلکہ پس پردہ وردی اور بوٹوں کی دھمک بھی تھی ۔ منتخب حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہٹانے کی غیر جمہوری کوشش کے تحت ایسے حالات کا قیام جس میں فوج کو مداخلت کا موقع ملے پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سیاسی جماعتوں اور موجودہ قیادت کے دامن کا سب سے بدنما داغ ہے۔ سڑکوں کی سیاست کے ذریعہ حکومتوں کی تبدیلی کی کوششوں کے دوران یہ نقطہ ہمیشہ فراموش کیا گیا ہے کہ احتجاج کرتے ہجوم سے تمام تر ہمدردی کے باوجود مظاہرین کے مطالبات صرف احتجاج کی شدت ، مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد اور عوامی حمایت کی بنیاد پر جائز، آئینی اور قانونی تسلیم نہیں کئے جا سکتے ۔ مظاہرین کی جانب سے پیش کئے مطالبات بیشتر صورتوں میں نہ تو پوری قوم کی اور نہ ہی اس کی اکثریت کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، بلکہ عوامی طاقت کی حامل جماعتوں، طبقات اور گروہوں سے مخصوص ہوتے ہیں۔
موجودہ حکومت کے خلاف جاری تحریک انصاف کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات اور احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والا سیاسی بحران تحریک انصاف سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی شمولیت سے تشکیل پانے والے ایک اور میثاق جمہوریت کا متقاضی ہے ، تاکہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے اور آئندہ انتخابات میں پرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنایا جا سکے۔
مظاہرین کی جانب سے اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال کے درمیان حد فاصل کہاں کھینچی جائے گی اس کا دارومدار ہمیشہ کسی ریاست میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور تسلسل پر ہے۔جمہوری اقدار اور اداروں کی موجودگی میں سیاسی نوعیت کے مسائل تشدد اور توڑ پھوڑ کے بغیر بھی حل کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ تاہم انتخابات 2013کے دوران مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے مستند ثبوتوں کی عدم فراہمی کے باوجود سیاسی نظام میں انتخابی شکایات نپٹانے کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو پورے نظام کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کے جواز ملا ہے۔ تحریک انصاف کا آزادی مارچ اور پاکستان عوامی تحریک کا انقلاب مارچ احتجاج کے جمہوری حق کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی نمائندہ مثال بن چکے ہیں۔
موجودہ سیاسی بحران کے دوران پارلیمان کا غیر موثر ہونا اور نظام میں احتجاج کرنے والوں کو انصاف فراہم کرنے میں حکومت اور حزب مخالف دونوں کی سیاسی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے۔ آئینی مسائل کا پارلیمان کی بجائے سڑکوں پر عوامی طاقت کے مظاہروں سے حل کیا جانا 2009 میں عدلیہ بحالی تحریک کے دوران کئے جانے والے احتجاجی مظاہروں کی طرح، پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے جمہوری فراخدلی ظاہر نہ کرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومت تبدیل کرنے، انتخابی اصلاحات کرنے، نظام بدلنے سمیت تمام مسائل پارلیمان میں حل کئے جانے چاہئیں تاہم ان مسائل کو ذرائع ابلاغ اور عوامی طاقت کے مظاہروں سے حل کیا جانا اس وقت جمہوری نظام کے مستقبل کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔2006 میں سابق آمر پرویز مشرف کے دور حکومت میں جمہوریت کی بحالی کے لئے کیا جانے والا میثاق جمہوریت پاکستانی سیاست کا درخشاں باب ہے جس کے تحت نہ صرف ایک فوجی آمر سے اقتدار جمہوری حکومت کو منتقل ہوا بلکہ پہلی بار ایک جماعت اپنی حکومت کی مدت مکمل کرنے میں کامیاب ہوئی۔2013 کے انتخابات کے بعد جہاں یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ جمہوریت مستحکم ہو چکی ہے اور سول ملٹری تعلقات میں سول برتری بھی قائم ہونے کو ہے، تب صرف ایک برس تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے لامگ مارچ کے باعث جمہوری اداروں کی کمزور بنیادیں مزید کم زور ہو گئی ہیں۔موجودہ حکومت کے خلاف جاری تحریک انصاف کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات اور احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والا سیاسی بحران تحریک انصاف سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی شمولیت سے تشکیل پانے والے ایک اور میثاق جمہوریت کا متقاضی ہے ، تاکہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے اور آئندہ انتخابات میں پرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنایا جا سکے۔