Categories
فکشن

چہرہ میرا تھا ۔ نگاہیں تھیں اُس کی

نظر آسمان پر تھی، ناظر زمین پر۔ آواز نے طے کیا، وہ پرواز کرے گی، اس نے پرواز کی اور خوب کی۔ یہ باطن سے اٹھنے والی بازگشت تھی۔ پرواز کی چاہ میں بیدار ہونے والی آواز نے، زمین پہ سارے رشتے بنائے، خواب سوچے، راستے چنے، منزل بہ منزل، آوازکاسفرطے ہوا۔ آواز جو کہیں اندر سے لپکی تھی، ایک کے بعد ایک درجہ طے کرتے ہوئے، شہرت اورمقبولیت کے راستوں سے ہوتی، لوگوں کے دلوں میں اترتی چلی گئی۔

 

یہ آوازاپنے دور کی روشن آواز بن گئی، جس میں رومان کے سارے لمحے، ٹوٹے ہوئے پتوں کی طرح، خزاں اوربہار کے رنگوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ نوجوانوں کے کمرے میں، کتابوں کی شیلف پر کتابوں کے ساتھ کہیں، اس آوازکے گیتوں کی کیسٹ بھی رکھی ہوتی تھی، جوشیریں لہجے کادیوان ہوتا تھا، جس میں دل کی ساری باتیں درج ہوتی تھیں۔ اس آواز میں درج گیتوں کے حروف، وہ مکالمہ تھے، جو نوجوان تنہائی میں خود سے کیا کرتے تھے۔ آج یہ آواز ایک فضائی حادثے میں خاموش ہو گئی، لیکن ایسامحسوس ہو رہا ہے، یہ آواز نہیں بچھڑی، ایک عہد ہم سے رخصت ہوا۔

 

[blockquote style=”3″]

یہ آوازاپنے دور کی روشن آواز بن گئی، جس میں رومان کے سارے لمحے، ٹوٹے ہوئے پتوں کی طرح، خزاں اوربہار کے رنگوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

[/blockquote]

ماضی کے کینوس پر اس آواز سے اتنی یادیں جڑی ہیں کہ اس آواز کی موت نے غم زدہ کر دیا ہے۔ یہ کوئی ایک آواز تھوڑی تھی، ایک بولتا ہوا ماضی تھا، جس میں ہمارا لڑکپن، نوجوانی، کالج، دوستیاں، شرارتیں اور بیوقوفیاں درج ہیں۔ اس آواز میں “چہرہ میرا تھا، نگاہیں اس کی۔ خاموشی میں بھی وہ باتیں اس کی۔”۔۔۔ جیسے رومان کی داستان گونجتی ہے۔ “نہ تو آئے گی، نہ ہی چین آئے گا” کادردسمیٹے، انتظار کی کیفیتوں سے روشناس کروانے والی اس آواز نے رومان کے سارے رنگ بکھیر دیے۔ محبتوں کاوہ نصاب مرتب کیا، جس کو پڑھے اور محسوس کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہ تھا۔ اس آواز کے گیتوں میں ماضی کی یادیں، ٹوٹے ہوئے پتوں کی طرح، تاحد نگاہ بکھری ہوئی ہیں، جنہیں سمیٹا نہیں جاسکتا، صرف دیکھااورمحسوس کیا جا سکتا ہے۔

 

اس آواز میں پروئے ہوئے گیت، آج بھی اتنے ہی دلکش ہیں، جتنے اس زمانے میں تھے۔ “وائٹل سائنز” کے دور میں 4 اسٹوڈیو البم اور 10 گیتوں کے علاوہ متعدد مختلف تخلیقی گیتوں کے امتزاج سے، اس آواز نے اپنا ایک عہد رقم کیا۔ ان گیتوں کو کون فراموش کر سکتا ہے، آج بھی کئی ایک گیت ایسے ہیں، جن کو سماعت کر کے، ایسا محسوس ہوتا ہے، ہم اسی دور میں موجود ہیں۔ معروف شاعرہ “پروین شاکر” کی لکھی ہوئی خوبصورت غزل ”چہرہ میرا تھا۔ نگاہیں اس کی” کو کتنے خوبصورت اندازمیں کمپوز کیا گیا کہ آج تک یاد کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔

 

کچھ لمحوں کے لیے فرض کریں، آپ 80 کی دہائی میں موجود ہیں۔ وقت سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے، ٹیلی فون، ریڈیو اور ٹیلی وژن جیسی سہولیات بے حد محدود ہیں۔ یہ وہ منظر ہے، جس میں لوگوں کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کاوقت تھا، اپنے خوابوں پر غور کرنے کی گھڑیاں تھیں۔ کچھ نئے راستے تلاشنے کے اسباب تھے۔ اپنے آپ سے مکالمہ کرنے کی فرصت تھی۔ دل جذبات سے بھرپور، ذہن نئے خیالات سے روشن، جاگتی آنکھوں خواب دیکھنے والی دیوانگی کے بعد، پھر کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ اس وقت تک موبائل فونز نے ہم پر راج نہیں کیا تھا۔ ایک دوسرے کے درد کی لہر ہم تک احساس کے ذریعے رسائی رکھتی تھی۔ ”جنیدجمشید”کی یہ وہ شخصیت ہے، جس نے انہیں “جنید جمشید“ بنایا۔ شناخت، پہچان اورمحبتیں دیں۔

 

وائٹل سائنز کے سفر کی ابتدا، 1989 میں، پہلی البم ”وائٹل سائنزون” سے ہوئی، جس میں نثار ناسک کے لکھے ہوئے گیت “دل دل پاکستان” جیسا شہرہ آفاق نغمہ بھی شامل تھا، پھر، “تم مل گئے”، “گوری” اور”یہ شام” جیسے معروف ترین گیت بھی شامل تھے۔ نغموں کی ایک بہار تھی، جو پاکستانی موسیقی کے منظر نامے پراتری۔ یہ گیت تھے یاکسی شاعری کی بیاض، جس میں یادیں، شامیں، پل، ملاپ، جدائی اورمحبت کے سارے رنگ گہرے ہو چلے تھے۔ 1991میں ریلیز ہونے والے دوسرے البم نے بھی یادوں کے دروازے پر دستک دی۔ سانولی سلونی جیسا گیت تخلیق ہوا۔ ایسا نہ ہویہ دن، یاد کرنا، ناراض، پاس رہنا، تیرے لیے، اجنبی، میرادل جیسے گیتوں سے فضامیں محبت کے گیت لکھنے والے اس بینڈ نے، نوجوان نسل کو رومان کی تہذیب سمجھائی۔ مغرب اور مشرق کاتخلیقی ملاپ دیا، موسیقی کے ذریعے دل کو گدگدانے کی روایت دی، جس احساس لمحہ موجود تک زندہ ہے۔

 

1993میں “اعتبار” جیسی البم نے اس رومانوی گیتوں کے تسلسل کو برقراررکھا، وہ کون تھی، یاریاں، دل ڈھونڈتاہے، چھپا لینا، خاموش ہو، یہی زمین جیسے گیتوں اورنغموں نے دل کو مزید موم کر دیا۔ یہ گیت محبتوں کا استعارہ ثابت ہوئے، بلکہ آج تک ہیں۔ 1995میں “ہم تم” ریلیز ہوئی۔ اس البم میں معروف قومی نغمہ”جیتیں گے” تخلیق کیا، جس کے گیت نگارحسن اکبر کمال اور طاہر خان تھے۔ ”جاناں جاناں “جیسا گیت تخلیق ہوا، جو آج بھی جو دل پرنقش ہے، دیگر گیتوں میں رومانوی سحرانگیزی شامل رہی۔ حسینہ معین نے “دھندلے راستے”کے عنوان سے ایک ڈراما سیریز لکھی، جس کی ہدایات شعیب منصور نے دیں۔ پی ٹی وی پرنشر ہونے والی اس ڈراما سیریز کا محور ”وائٹل سائنز” بینڈ تھا، شاید ان نوجوان کے خوابوں اور طرززندگی کی جھلک بھی، جنہیں دنیا میں کچھ کردکھانے کا جنون ہوتاہے۔ ایک طویل عرصے بعد شعیب منصور نے ایک فلم “خداکے لیے”بنائی، اب کے بھی، ان کے اس تخلیقی منصوبے کا محرک یہی آواز تھی، وہی شخص تھا۔

 

موسیقی کی راہ پر یہ آواز جتنا آگے بڑھتی چلی گئی، اندر سے اتنا ہی تنہائی کا احساس بھی بڑھا۔ کچھ کمی تھی، کچھ نہ ہونے کااحساس بے چین کیے ہوئے تھا۔ اس لیے موسیقی کا مزید سفر اکیلے طے کرنے کافیصلہ کیا۔ اب یہ آواز تھی اورجہاں تھا۔ تنہائی کااحساس لیے ، تنہا دریافت کرنے کاجوکھم لے کرآوازکھوج پر نکلی۔ 1994 میں منظر بدلا، تو اب کے موسیقی کے کینوس پر نئے موسم تھے، یادوں کاجنگل تھا، جہاں “تمہارااورمیرانام” لکھا ہوا تھا۔ 1999تک آتے آتے ، یہ راہ ایک منفرد راستے میں تبدیل ہوچکی تھی، جس پر اورکوئی نہ گیاتھا۔ اس وقت ریلیز ہونے والی البم” اُس راہ پر” جذبات کی عکاسی کرتی ہوئی تخلیق تھی۔ آنکھوں کو آنکھوں نے، نہ توآئے گی، اوصنما، جاگی رے، جیسے گیت، اس آواز میں تنہائی اور تلاش کے عکس میں تبدیل ہوچکے تھے۔ 2002میں گیتوں پر مبنی آخری البم ”دل کی بات” ریلیز ہوا۔ اس البم میں بھی انتظار، خواہش، خواب اورخودکلامی کا احساس پوری طرح موجود تھا۔

 

اس آواز کی تلاش ختم نہ ہوئی، موسیقی کے کئی راستے بدلے، مگر سکون نہ پایا، پھر دنیا سے دین کی طرف رخ کیا۔ 2005 میں اس آواز کاروحانی سفر شروع ہوا”جلوہ جاناں” سے لے کر2013 تک نعتوں کے متعدد البم ریلیز ہوئے، جن میں محبوب یزداں، بدرالدجیٰ، یادحرم، رحمت العالمین، بدیع الزماں، ہادی الانعام، ربی زدنی علما اور نورالہدی شامل ہیں۔ آواز کی پرواز اب تک جاری ہے۔ اس دنیا میں نہ تلاش ختم ہوئی، تو وہ ان دیکھے راستوں کی طرف جا نکلی۔

 

[blockquote style=”3″]

یہ آواز، جس کا نام “جنید جمشید” تھا، وہ صرف فردِداحد کی شناخت نہیں تھے، بلکہ پاکستان کے روشن چہرے کا نام ہے۔

[/blockquote]

یہ آواز، جس کا نام “جنید جمشید” تھا، وہ صرف فردِداحد کی شناخت نہیں تھے، بلکہ پاکستان کے روشن چہرے کا نام ہے۔ پاکستانی پوپ میوزک کی عمارت پر نصب تختی پر، مکین کا نام ہے۔ یہ نام ان کروڑوں آنکھوں میں چمکنے والی روشنی کا ہے، جنہوں نے اپنے خوابوں کے لیے اس کی پیروی کی۔ دل کے بیان کو گیتوں میں انڈیلا، دھنوں میں پرویا اور پھر اپنی مدھر آواز سے سماعتوں کے حوالے کیا، وہ گیت آج بھی ایسے گونجتے ہیں، جن میں حروف نہیں جذبے دھڑکتے ہیں۔ بچھڑجانے والوں کی یادسے لے کر کچھ نہ کہہ سکنے کی محبت کا عکس، اس نام میں ہے۔

 

اس آوازنے پاکستان کو عالمی موسیقی میں پہچان دلوائی۔ بی بی سی ورلڈ نے 155 ملکوں کے7000 گیتوں کو منتخب کیا، تواس میں “دل دل پاکستان”تیسرے نمبر پرتھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ جنید جمشید اوران کے دیگر دوست، بالخصوص “وائٹل سائنز”میں ساتھ کام کرنے والے ، معروف مغربی بینڈ ”پنک فلائیڈ” سے متاثر تھے، جس کااعتراف انہوں نے بھی کیا، لیکن اس بینڈ کے گیت ہوں یا جنید جمشید کے اپنے جداگانہ نغمے، سب میں ایک رومان موجود ہے، جس کو سنتے ہی ایک شائستہ اورشیریں احساس ملتا ہے، یہ مٹھاس خالص مشرقی تھی، جس کا تسلسل پھرنعتوں کی صور ت میں بھی سماعتوں تک پہنچا۔ جنید جمشید کے نغموں میں موجود اس رومان کا سہرا شعیب منصور کے سر بھی جاتا ہے جنہوں نے وائٹل سائنز اور جنید جمشید کے سولو البمز کے زیادہ تر گیت لکھے۔ روحیل حیات کا ذکر بھی لازمی ہے جو وائٹل سائنز کے گیت پروڈیوس کیا کرتے تھے۔

 

[blockquote style=”3″]

جنید جمشید، اپنی زندگی کے اس موڑ سے، ہم سے جدا ضرور ہوئے ہیں، مگر وہ اپنی آواز کے ساتھ، ہماری یادوں، گیتوں، نغموں اورنعتوں میں موجود ہیں۔

[/blockquote]

خیال کے راستے سے خواب کی منزل تک آنے کے لیے دیوانگی چاہیے ہوتی ہے، وہ ان میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں، جن کی کوئی منزل نہیں ہوتی، وہ ایک تلاش کی طرح انسان کے تخیل سے لپٹے رہتے ہیں۔ یہ آواز انہی راستوں کی متلاشی تھی۔
جنید جمشید، اپنی زندگی کے اس موڑ سے، ہم سے جداضرور ہوئے ہیں، مگر وہ اپنی آواز کے ساتھ، ہماری یادوں، گیتوں، نغموں اورنعتوں میں موجود ہیں۔ باطن سے ظاہر تک کے سفرمیں مشعل راہ اوررومان سے بیان تک کے فلسفے میں تشریح کی مانند شامل ہیں۔ جدائی کے منظرنامے پر، یہ آواز بچھڑی ضرور ہے، لیکن اب بھی، دل کے نہاں خانوں میں، شیلف کی کتابوں کے درمیان، شاعری کے دریچوں سے، دھنوں کے امتزاج میں، تبلیغ کے راستے پر، محبت کے سبق تک، ہرجگہ موجود ہے، یادوں کی لو ذرااونچی کیجیے، اس آوازکی نرماہٹ محسوس ہو گی۔ ۔ ۔
Categories
نقطۂ نظر

خدائے مرد، مردوں کا خدا ہے؟

جنید جمشید نے جب سے گائیکی کو خیرباد کہا ہے وہ متنازعہ بیانات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ ان کے بیانات سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے “عورت” ان کے پسندیدہ موضوعات میں سے ہے۔ ایک حالیہ ٹیلی وژن پروگرام کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ اللہ قرآن میں عورت کا نام لے کر ذکر کرنا پسند نہیں کرتا۔ موصوف فرماتے ہیں کہ قرآن میں صرف ایک عورت حضرت مریم علیہ سلام کا تذکرہ نام لے کر کیا گیا ہے اور وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی نسبت سے۔ اس امر کی توجیہہ وہ یوں پیش کرتے ہیں کہ
اول : اللہ عورت کا ذکر اس کے مرد کی نسبت سے کرتا ہے۔
دوم: اللہ ایسا اس لیے کرتا ہے تاکہ عورت کا پردہ قائم رہے۔

 

کیا جنید جمشید صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خدا مذکر ہے؟ کیا وہ یہ جتانا چاہتے ہیں کہ اس دنیا میں جہانبانی اور اقتدار پر مرد کا اختیار خدا کی طرف سے ودیعت کردہ ہے؟
جنید جمشید صاحب کو اپنی توجہ ذرا دیر کے لیے عورت کی ذات سے ہٹا کر اس کائنات کی وسعت پر مرکوز کرنی چاہیئے۔ یہ کائنات ایک اندازے کے مطابق یہ کائنات ایک سو ارب کہکشاوں کا جم غفیر ہے اور ہر کہکشاں دس سے سو ارب شمسی نظاموں کا مسکن ہے۔ ہر کہکشاں میں ہر برس مزید 500 نظام ہائے شمسی کا اضافہ ہوتا ہے۔ جنید جمشید اور ان جیسے مرد جس زمین کے باشندے ہیں وہ اس کائنات کی کھربوں کہکشاوں میں سے ایک کہکشاں کے اربوں نظام ہائے شمسی میں سے ایک نظام شمسی کے ایک سیارے پر بسنے والے محض سات ارب باشندوں میں شامل ہیں۔

 

جنید جمشید سے میرا سوال یہ ہے(اگرچہ میں ان سے کسی معقول جواب کی توقع نہیں رکھتی) کہ کیا خدائے عظیم و برتر نے یہ پوری کائنات محض مردوں کے لیے تخلیق کی ہے؟اس مرد کے لیے جو اس زمین پر تمام تر رزائل کے ساتھ موجود ہے؟کیا جنید جمشید صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خدا مذکر ہے؟ کیا وہ یہ جتانا چاہتے ہیں کہ اس دنیا میں جہانبانی اور اقتدار پر مرد کا اختیار خدا کی طرف سے ودیعت کردہ ہے؟ کیا وہ یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ خالق کائنات نے عورت کو (نعوذباللہ ) اس دنیا میں محض اپنی مخلوقات میں سے” افضل ترین” (مرد) کا دل بہلانے کے لیے پیدا کرتا ہے؟

 

عورت اس لیے اور اس وقت تک غیر محفوظ ہے جب تک مرد اسے اپنی ملکیت سمجھتے ہوئے اپنے تسلط میں لاکر چاردیواری میں مقید رکھے گا۔
جنید جمشید کا تصور خدا کیا ہے؟ کیا وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ (خاکم بدہن) خدا کو اس وسیع کائنات سے قطع نظر صرف مرد کی پسند ناپسند کا خیال ہے؟یا خدا(نعوذ باللہ) ہمیشہ اس فکر میں رہتا ہےکہ عورت کو مرد کی “پناہ” اور “حفاظت “میں دے کراس کی قدرومنزلت میں اضافہ کرے؟یا مرد کو عورت پر غالب کر کے مرد کی شان و شوکت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے؟ کیا جنید جمشید کا خدا صرف مرد کا خالق ہے جومحض مرد کو شناخت عطا کرنے اور اس کا تذکرہ کرنے کا خواہاں ہے؟

 

جنید جمشید کا یہ بیان کہ اللہ نے حضرت مریم علیہ سلام کا تذکرہ محض حضرت عیسی علیہ سلام کی مناسبت سے کیا ہے اللہ کی ذات اور اس کے طرزعمل سے متضاد ہے۔ ان کا یہ دعویٰ غیر عقلی، غیر منطقی اور مزاج ربانی سے متصادم ہے۔ اگر جنید جمشید کا نقطہ نظر درست ہوتا تو اللہ کبھی قرآن کی سورت کا نام “سورہ مریم” نہ رکھتا۔ میں جنید جمشید سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ جس خدا کو عورت کے تجارت کرنے، اپنے فیصلے کرنے اور شادی کا پیغام بھجوانے پر اعتراض نہیں اسے عورت کے تذکرے میں کوئی تامل کیوں کر ہوسکتا ہے؟ جس خدا کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں وہ مرد اور عورت کی تفریق کیوں کر روا رکھ سکتا ہے؟

 

جنید جمشید کا ماننا ہے کہ خدا نے عورت کی یہ “حیثیت” اس لیے متعین کی ہے کیوں کہ اسے عورت کا پردہ، احترام اور تحفظ مقصود ہے۔ اگر ذرا دیر کو یہ تسلیم کر بھی لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ عورت کو کس سے تحفظ کی ضرورت ہے؟ عورت اپنی ذاتی شناخت ، آزادی یا مرد کے مساوی حیثیت کی وجہ سے اس دنیا میں غیر محفوظ نہیں۔ عورت اس لیے اور اس وقت تک غیر محفوظ ہے جب تک مرد اسے اپنی ملکیت سمجھتے ہوئے اپنے تسلط میں لاکر چاردیواری میں مقید رکھے گا۔ عورت اس وقت تک غیر محفوظ ہے جب تک مرد عورت سے متعلق اپنی حدود سے لاعلم رہے گا۔

 

جنید جمشید کی موجودہ بیمار ذہنیت یک لخت وجود میں نہیں آئی بلکہ ان کی یہ کیفیت ان کے سابق طرززندگی (جس سے وہ ہمیشہ غیر مطمئن رہے ہوں گے)کے خلاف ایک روکاوٹ اور حریف کی صورت ہمیشہ سے ان کی شخصیت میں موجودرہی ہوگی۔
مردانہ اجارہ داری پر استوار معاشرے میں عورت کے تقدس اور تحفظ کو جواز بناکر اسےاپنی ملکیت ثابت کرنا بجائے خود ایک متناقض (self-contradictory) رائے ہے۔ اپنی تسکین اور تلذذ کے لیے عورت کو اپنا دست نگر رکھنااور اس کی شاخت کو روندنا ایک ناانصافی ہے اور اس ظلم کے لیے خدا کو ذمہ دار قرار دینا صریح گم راہی ہے۔ عورت صرف اُس معاشرے میں محفوظ رہ سکتی ہے جہاں مردوزن انسان آزاد اور خود مختار انسانوں کے طور پر ایک دوسرے کے رفیق ثابت ہوں۔ عورت کا تحفظ تبھی ممکن ہے جب اسے ایک مساوی اور فعال حیثیت میں معاشرے کا رکن تسلیم کیا جائے۔ مرد کو کسی حیثیت میں بھی عورت کی حیثیت اور مقام کے تعین کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔
جنید جمشید کے عورت سے متعلق افکار اور بیانات معاشرے کی عمومی اور خود ان کی ذاتی ذہنی پسماندگی کا اظہار ہیں۔ جنید جمشید کی موجودہ بیمار ذہنیت یک لخت وجود میں نہیں آئی بلکہ ان کی یہ کیفیت ان کے سابق طرززندگی (جس سے وہ ہمیشہ غیر مطمئن رہے ہوں گے)کے خلاف ایک روکاوٹ اور حریف کی صورت ہمیشہ سے ان کی شخصیت میں موجودرہی ہوگی۔ جنید جمشید کو یقیناً کسی عورت نے گانے بجانے جیسے “غیر مذہبی” فعل کے ارتکاب پر مجبور نہیں کیا جس کا کفارہ وہ عورت کوآزادی فکر، آزادی انتخاب اورآزادی رائے جیسے بنیادی حقوق سے محروم کر کے ادا کرنا چاہتے ہیں۔ جنید جمشید کے لیے میرا مشورہ یہی ہے کہ وہ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ اب وہ مشہور زمانہ پاپ سٹار جنید جمشید نہیں رہے۔ سستی شہرت کی وجوہ تلاش کرنا ترک کردینا ہی ان کے مفاد میں ہے۔

 

کارٹون بشکریہ صابر نذر
Categories
نقطۂ نظر

خدا میرا بھی ہے

جنید جمشید کے خواتین کے حوالے سے بیانات محض ایک فرد یا صرف تبلیغی جماعت کا نقطہ نظر نہیں بلکہ پدرسری معاشرے کی ان اقدار کا مشترکہ اظہار ہے جو ان معاشروں میں پنپنے والے تمام مذاہب کا خاصہ ہے۔ مذہبی فکر اور مبلغین مذہب خواہ وہ سامی مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں یا غیرسامی مذاہب سے سبھی کے ہاں عورت دوسرے درجے کی انسان اور جنس قرار پائی ہے۔ باقاعدہ مذاہب پدرسری معاشروں میں پروان چڑھےاور ان کی تشکیل کا تمام تر عمل مردوں کے سپرد رہا یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مذہبی کتابوں میں عورت کا تذکرہ مرد کے تابع اورکم تر جنس کے طور پر ملتا ہے۔

 

جنید جمشید اور ان کے قدماء اس غلط فہمی پر یقین رکھتے تھے اور رکھتے ہیں کہ عورت کو خدا نے ایک کم تر جنس کے طور پر پیدا کیا ہے اور خدا نے ہی عورت کی سماجی، سیاسی اور معاشی حیثیت مرد سے کم تر قرار دی ہے۔
جنید جمشید اور ان کے قدماء اس غلط فہمی پر یقین رکھتے تھے اور رکھتے ہیں کہ عورت کو خدا نے ایک کم تر جنس کے طور پر پیدا کیا ہے اور خدا نے ہی عورت کی سماجی، سیاسی اور معاشی حیثیت مرد سے کم تر قرار دی ہے۔ ان اصحاب کے خیال میں عورت کی تخلیق محض مرد کی تسکین اور افزائش نسل کے لیے ہے۔ ان کے نزدیک عورت کی تخلیق سے لے کر عقل و خرد کے ناقص ہونے تک ہر موقع اور معاملے میں خدا نے مردوں کو مقدم قرار دیا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک عورت مذہب، معاشرت، خانگی امور ، جنسی تعلقات، سیاست، معیشت غرض ہر معاملے میں مردوں کے فیصلوں کی پابند ہے اور مردوں کی مطیع ہے۔

 

احادیث اور قرآنی آیات کی من مانی تشریحات کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت نے عورت کو ہمیشہ عوامی، سیاسی، معاشی، مذہبی اور معاشرتی زندگی سے بے دخل کیا ہے۔ یہ رویہ اسلام کو جدید دنیا کے لیے قابل قبول بنانے میں حائل بڑی روکاوٹوں میں سے ایک ہے کیوں کہ موجودہ دنیا شعور کی جس سطح پر ہے وہاں عورت کے کم تر جنس ہونے کا تصور کسی ذی فہم کے لیے درست نہیں۔ بدقسمتی سے اسلامی فقہ کی تشکیل کے وقت جو معاشرتی خامیاں مسلم فکر کا حصہ بنیں انہیں دور کرنے کی کوئی قابل ذکر کوشش سامنے نہیں آئی۔جدت پسند مسلم مفکرین کی اکثریت بھی عورت کے معاملے میں قدامت پرست ہی رہی ہے۔

 

مسلم معاشروں کی اکثریت تاحال عورت کے حوالے سے پدرسری اقدار کو خداکاحکم قرار دے کر اپنائے ہوئے ہے اور یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ اسلام کی تشریح عرب ثقافت کی تشریح نہیں ہونی چاہیے۔ عرب، ایران اور ہندوستان میں اسلام کی تشکیل اور ترویج کے دوران مقامی پدرسری اقدار کو مقدسات کا درجہ دے کر عورت کو مرد کا محکوم اور مطیع بنانے کا عمل خود اسلام کے پیغام مساوات کے خلاف ہے۔ اسلام کی قدامت پسند تشریح طالبان، بوکوحرام، داعش، امام غزالی، مولانا اشرف علی تھانوی،طارق جمیل اورجنید جمشید کی صورت میں کبھی متشدد تو کبھی پرامن صورت میں عورت کی مساوی حیثیت سے انکار کا باعث بن رہی ہے۔

 

اسلام کی قدامت پسند تشریح طالبان، بوکوحرام، داعش، امام غزالی، مولانا اشرف علی تھانوی،طارق جمیل اورجنید جمشید کی صورت میں کبھی متشدد تو کبھی پرامن صورت میں عورت کی مساوی حیثیت سے انکار کا باعث بن رہی ہے۔
مذہبی فکر پر مردوں کے غلبے کے باعث عورت کے لیے مذہب امور میں اپنی آواز بلند کرنے، رہنمائی کرنے یا معاملات دین میں اجتہاد کرنے کے راستے مسدود کیے جاچکے ہیں۔ ایک جانب مرد مسلمان عورت کی آزادی کو محدود کر رہےہیں تو دوسری جانب مسلمان عورت اپنے حق اور برابری کے لیے جدوجہد کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ بیشتر صورتوں میں عورت اس بات سے آگاہ بھی نہیں کہ مذہبی اقدار کے نام پر اس کا استحصال کیا جارہا ہے۔ وہ مذہب اور خدا کا حکم سمجھ کر مسلسل مرد کی مطیع اور فرمانبردار بنی ہوئی ہے ۔ ایک جانب مرد عورت کو اپنی باندی بنائے رکھنے پر مُصر ہے تو دوسری جانب مسلمان عورت اس قید کو اپنے لیے خدائی حکم سمجھ کر اس پر قانع و شاکر ہے۔

 

جنید جمشید کو اس بات کا جواب دینا ہوگاکہ کیا احترام کے نام پر امتیازی سلوک، تعصب اور ناانصافی جائز قرار دیے جاسکتے ہیں؟ اگر جنید جمشیدکا خیال ہے کہ خدااور اسلام نعوذ باللہ مرد اور عورت میں تفریق، امتیازی سلوک یا ناانصافی کے قائل ہیں تو انہیں اپنے عقیدے اور اپنی فقہ پر نظرثانی کرنی چاہیئے نہ کہ خدا کے نام پر عورت کے استحصال کی حمایت کرنی چاہیئے۔ مرد علمائے دین اور مردانہ برتری کی قائل عالمات اگر خدا کے نام پر عورت کو محکوم بنائے رکھنے اور حقوق نسواں کی نفی کرنے کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق سمجھتے ہیں تو مسئلہ یقیناً خدا کے پیغام میں نہیں بلکہ ان علمائے دین کی تشریحات اور نقطہ نظر میں ہے۔

 

قدامت پرست مذہبی فکر کے حامل مردوخواتین خصوصاً جنید جمشید اور طارق جمیل کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ذات کے اسلام پر اثرات کی تحقیق ضروری ہے۔ یقیناً ان دونوں جلیل القدر صحابیات کے اسلامی فکر پر اثرات کسی بھی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات سے کم تر نہیں۔لیکن بدقسمتی سے یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہ سکی۔ اور مسلم معاشرہ بہت جلد پدرسری روایات کے تحت عورتوں کو کم تر حیثیت دینے لگا۔

 

اگر جنید جمشیدکا خیال ہے کہ خدااور اسلام نعوذ باللہ مرد اور عورت میں تفریق، امتیازی سلوک یا ناانصافی کے قائل ہیں تو انہیں اپنے عقیدے اور اپنی فقہ پر نظرثانی کرنی چاہیئے نہ کہ خدا کے نام پر عورت کے استحصال کی حمایت کرنی چاہیئے۔
روایتی مسلم علماء کے لیے امینہ ودود، راحیلہ رضا اور غزالہ انور جیسی باہمت خواتین کا راستہ بہت دیر تک روکنا ممکن نہیں ہوگاجو تمام تر مخالفت کے باوجود مخلوط اجتماعات کی امامت کررہی ہیں۔ مسلم عورت آج یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ آخر کس جواز کے تحت اسے اس دنیا میں مساوی آزادی اور رہنمائی کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ اسلام، دنیا اور خدا جتنے مردوں کے ہیں اتنے ہی عورت کے بھی ہیں ۔ محض مردانہ برتری کے فرسودہ تصورات کے تحت عورت کو کم تر قرار دینے کا رویہ نہ تو خدا کی منشاء ہے نہ انسانی عقل کے مطابق ہے۔ اسلام میں نہ صرف عورت کی رہنماحیثیت کی گنجائش موجود ہے بلکہ اس حوالے سے ضرورت بھی ہے کہ معیشت، ریاست، معیشت ، معاشرت اور خانگی امور اور مذہب میں بھی عورت کی مرد کے برابر حیثیت کو تسلیم کیا جائے اور رہنمائی اور شرکت کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
Categories
نقطۂ نظر

مولانا کچھ ذمہ داری تو بنتی ہے

جنید جمشید کے کچھ کہنے یا سننے کا وقت گزر چکا ہے، معافی مانگنے کے باوجود ان سے متعلق تین ہی خبروں کا اندیشہ ہے؛قانونی کاروائی ،ملک سے فرار، یا کسی نئےممتاز قادری کے ہاتھوں کسی اندوہناک سانحہ کا سامنا۔ امید ہے کہ جنید جمشید تو بہت جلد قصہ ماضی ہوجائیں گے اور یہ معاملہ خوش اسلوبی سے سلجھ جائے گا مگر یہ سوال کافی عرصہ تک لوگوں کو پریشان کرتا رہے گا کہ کیا JJ’s کے کرتے پہننا جائز ہے یا نہیں۔ امید ہے لوگ جنید جمشید کی نعتوں کی سی ڈیز خریدنے سے قبل بھی اب ایک بار ضرور سوچیں گے۔ جنید جمشید کے معاملہ سے قطع نظر مولانا طارق جمیل سے بصد احترام یہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ ذمہ داری تو آپ کی بھی بنتی ہے۔ جنید جمشید کو بارہا اپنی دریافت قرار دینے والے مولانا طارق جمیل کو بری الذمہ قرار دینا مشکل ہے۔
مولانا سے متاثر ہونے والے مشہور افرادکی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے دوستوں کی زندگی بھی اسی طرح تبدیل ہوجائے اسی لیے یہ اپنے دوستوں کو مولانا سے ملوانے کو بے تاب رہتے ہیں ۔
مولانا طارق جمیل سے میرا غائبانہ تعارف بہت چھوٹی عمر میں ہوا، جب میں اپنی پرانی ٹیپ پر ان کے بیانات سنا کرتا تھا، مولانا کی زبان میں اللہ نے عجیب تاثیر رکھی ہے کہ جب وہ بیان دیتے ہیں تو بات دل میں اتر جاتی ہے،آج بھی مولانا کے بیانات کوسننا ایک عجیب روحانی کیفیت کا سبب بنتا ہے۔ وہ ڈاکٹری چھوڑ کر دین کی راہ میں آئے ہیں اورچونکہ ایسی مثالیں کم کم سننے میں آتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مولانا کی شخصیت میں کشش بڑھ جاتی ہے۔ مولانا کا یہی پس منظر انھیں روایتی علماء سے دور رہنے والے پڑھے لکھے ،کامیاب ،متمول اور متوسط طبقات میں قابل قبول بناتا ہے۔یہ مولانا کے خلوص کا ہی نتیجہ ہے کہ کئی مشہور شخصیات جن میں جنید جمشید،شاہد آفریدی، انضمام الحق وغیرہ شامل ہیں کھل کر کہتی ہیں کہ وہ مولانا سے عقیدت رکھتی ہیں۔ ان شخصیات کا دعویٰ ہے کہ مولاناکی وجہ سے ہی ان لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آیا ہے اور وہ دین کے قریب آگئے۔مولانا سے متاثر ہونے والے مشہور افرادکی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے دوستوں کی زندگی بھی اسی طرح تبدیل ہوجائے اسی لیے یہ اپنے دوستوں کو مولانا سے ملوانے کو بے تاب رہتے ہیں ۔اس امر کی ایک نمائندہ مثال شاہد آفریدی کا عامر خان کو حج کے موقع پر مولانا سے ملوانا بھی ہے،اس ملاقات میں مولانا نے کوشش کی کہ کسی طرح عامر خان فلم انڈسٹری چھوڑ کر دین کی راہ میں آجائے۔ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد عامرخان بھی فلم انڈسٹری چھوڑ کر داڑھی رکھ لے اور تبلیغی قافلوں کا حصہ بن جائے۔ مولانا کی ہی کوششوں کی وجہ سے وینا ملک نے برقعہ پہن لیا ہے اور ہزاروں لوگ دین کی خاطر سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے دوردراز علاقوں میں دین پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہیں غرضیکہ مولانا عوام اور خواص میں یکساں مقبول ہیں۔
مجھے مولانا کی جو بات سب سے زیادہ پسند ہے وہ ان کا تمام فرقوں کے بارے غیر متعصب رویہ ہے جو ہمارے مذہبی طبقے میں کم کم ہی نظر آتا ہے لیکن کل مولانا کا جنید جمشید کے معاملے پر بیان سن کر مجھے افسوس ہوا۔مولانا نے کہا کہ میں جنید جمشید سے برآت کا اظہار کرتا ہوں،اور جنید جمشید کا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ بیان اس کا ذاتی عمل ہے ۔مولانا طارق جمیل کے مطابق جنید جمشید کے متنازعہ بیان کا تبلیغی جماعت کی تعلیمات اور تربیت سے کوئی واسطہ نہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ جنید جمشید کا ذاتی عمل ہے یا بحیثیت استاد مولانا کو بھی ان کی تربیت میں کوتاہی پر ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔
جنید جمشید کے طرز عمل کو سمجھنے کے لیے آپ کو تبلیغی جماعت کے طریقہ تبلیغ اور مبلغین کو سمجھنا ہوگا۔ تبلیغی جماعت میں شامل ہونے والے افراد عام طور پر میری اور آپ کی طرح دین کے معاملے میں انتہائی مخلص مگر سادہ لوح مسلمان ہوتے ہیں ۔یہ لوگ اپنی زندگی اپنے فہم دین کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی اسی فہم کے تحت دین کی دعوت دیتے ہیں جن میں عموما نماز روزہ کی پابندی شامل ہوتی ہے۔ ان کے بیانات میں دین کو بہت ہی سادگی سے پیش کیا جاتا ہے اور فرقہ وارانہ گفتگو سے پرہیز کیا جاتا ہے۔
تبلیغی جماعت کے اراکین زیادہ تر فضائل اعمال اور فضائل صدقات سے واقعات پڑھ کر سناتے ہیں اسی لیے جو شخص بھی تبلیغی جماعت میں شامل ہوتا ہے وہ بہت جلد تبلیغ کرنا بھی شروع کردیتا ہے ۔لیکن اس طریقہ کار میں مسئلہ یہ ہے کہ تبلیغ کرنے والے عالم دین نہیں ہوتے بلکہ دیگر شعبہ جات کے لوگ ہوتے ہیں جن کا دینی علم بہت ہی محدود اور مذہبی معاملات پر بات کرنے کے آداب اور تربیت محدود تر ہوتی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہےکہ جس شخص کو دین کی کوئی بھی سنی سنائی بات آدھی پوری یاد ہو وہ اپنے موقف کی حمایت میں سنا دیتا ہے،مثلا ایک صاحب نے نیک لوگوں کی کرامات کا یہ واقعہ بھی سنا دیا کہ دلی میں ایک ولی اللہ تھے جو بہت ہی صاحب نظر تھے جس پر نظر ڈالتے تھے وہ صاحب حال ہوجاتا تھا،ایک دن ایک کتے پر نظر ڈال دی اور وہ کتا صاحب حال ہوگیا۔
تبلیغی جماعت کے اراکین زیادہ تر فضائل اعمال اور فضائل صدقات سے واقعات پڑھ کر سناتے ہیں اسی لیے جو شخص بھی تبلیغی جماعت میں شامل ہوتا ہے وہ بہت جلد تبلیغ کرنا بھی شروع کردیتا ہے ۔
سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب قرآن پاک کی کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے اور کم علمی کی وجہ سے مطلب اور مفہوم بگاڑ دیا جاتا ہے،ایسے مواقع پر آدمی کا تبلیغی جماعت کے خلوص پر تو نہیں لیکن اس کے تبلیغی پیغام سے دل اٹھ جاتا ہے۔جنید جمشید بھی اسی سسٹم کی پیداوار ہیں اور لگتا ہے کہ عورت کی فطرت کے بارے میں بات کرنا اور اسے کمتر ثابت کرنا ان کا پسندیدہ موضوع ہے ۔وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے اکثرا حادیث یا ان کے مفہوم کو توڑ موڑ کر اور عامیانہ انداز میں پیش کرتے ہیں تاکہ ان کا مؤقف لوگوں کی سمجھ میں آجائے۔ان کی اسی کوشش کے باعث ان کے ام المومنین ضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق ان کے بیان کو توہین امیز قرار دیا گیا ہے۔اگرچہ وہ اپنے اس عمل پر معافی مانگ چکے ہیں تاہم ان پر مقدمات قائم کر دیے گئے ہیں ۔خیر اب یہ تبلیغی جماعت کے اکابرین کے اوپر ہے کہ وہ اپنے تبلیغی بھائیوں کی تربیت کے لیے کیا بندوبست کرتے ہیں یا وہ صرف علماء کو ہی تبلیغ کی اجازت دیتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

جنید جمشید عورت سے کب معافی مانگیں گے؟

جنید جمشید کچھ عرصہ قبل ایک ٹی وی پروگرام میں خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت پر اعتراض کر چکے ہیں جس کے بعد انہیں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم ان کی جانب سے اس امر پر خواتین یا معاشرے سے معافی نہیں مانگی گئی۔ چند روز قبل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک واقعہ سے متعلق سامنے آنے والی ایک ویڈیو پر جنید جمشید کی جانب سے فوری معذرت طلب کیا جانا یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ کسی بھی فرد پر توہین مذہب یا توہین رسالت کا الزام اسے اپنے موقف، نظریہ، مسلک یا عمل سے دست بردار ہونے پر مجبور کر سکتا ہے۔
جنید جمشید کے خواتین سے متعلق افکار نہ صرف دقیانوسی اور قابل اعتراض بلکہ غیر انسانی بھی ہیں تاہم انہیں مذہب اور تبلیغ کی آڑ میں تب تک ایسے خیالات کے اظہار میں کسی روکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا جب تک کہ علماء کے ایک اور گروہ کی جانب سے ان پر توہین کے الزامات عائد نہیں کیے گئے۔
جنید جمشید کے خواتین سے متعلق افکار نہ صرف دقیانوسی اور قابل اعتراض بلکہ غیر انسانی بھی ہیں تاہم انہیں مذہب اور تبلیغ کی آڑ میں تب تک ایسے خیالات کے اظہار میں کسی روکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا جب تک کہ علماء کے ایک اور گروہ کی جانب سے ان پر توہین کے الزامات عائد نہیں کیے گئے۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ جنید جمشید کے افکار کا علمی جواب دینے کی بجائے انہیں ایک متنازعہ قانون کا سہارا لیتے ہوئے محض ایک الزام عائد کرکے اپنی بات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا ہے، یہ صورتحال جہاں تشویش ناک ہے وہیں جنید جمشید کو بیک وقت مظلوم اور قصور وار بھی ٹھہرا رہی ہے۔ ایک جانب جنید جمشید اپنے خواتین سے متعلق فرسودہ اور توہین آمیز افکار سے منحرف ہونے کو تیار نہیں وہیں وہ ایک ایسے قانون کی زد میں آنے کے باعث مظلوم بھی ہیں جو پاکستان میں کسی بھی فرد سے انتقام لینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف جنید جمشید کی جانب سے خواتین سے متعلق اپنے افکار پر معذرت کرنے کی بجائے علماء کے ایک گروہ کے دباو پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر بھی اعتراض کیا جسا سکتا ہے۔ گو کہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے اور اس پر معافی مانگنے کا رحجان قابل ستائش ہے تاہم بادی النظر میں یہ معافی خواتین سے متعلق اپنے افکار پر نہیں بلکہ مبینہ طور پر توہین کا مرتکب ہونے پر مانگی گئی ہے۔ توہین کے الزامات کے تحت معاف مانگنے کے حوالے سے یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس ضمن میں کیا معافی مانگنا سبھی کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے ؟ جیو ٹی وی کے معاملہ میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ معافی مانگنے کا عمل مذہبی علماءکی تشفی نہیں کر سکا۔
جنید جمشید کے حالیہ واقعہ سے قبل جیو ٹیلی وژن نیٹ ورک کے پروگرام اٹھو جاگو پاکستان میں پیش کی جانے والی قوالی کو بنیاد بنا کر شائشتہ لودھی، میر شکیل الرحمن ، وینا ملک اور ان کے شوہر کے خلاف قائم کیے جانے والے مقدمات کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ الزام لگنے کے فوراً بعد الزام ثابت کیے بغیر ہی عوامی ردعمل کے خوف سے معافی مانگنے کا رحجان بھی تشویش ناک ہے۔ یہ صورت حال جہاں ایک طرف آزادی اظہار رائے کے منافی قرار دی جا سکتی ہے وہیں مذہبی قوانین کے غلط استعمال کو بڑھاوا دینے کا باعث بھی بن رہی ہے۔ اس رحجان کے تحت ممکن ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین، خلافت راشدہ اور کربلا کے واقعات سے متعلق متنازعہ تاریخی افکار کا حامل ہونے کی بناء پر کل کلاں کو تمام فرقہ ایک دوسرے پر توہین کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیں۔
معاملہ نہ جنید جمشید کی معافی کا ہے نہ ان کے استاد محترم مولانا طارق جمیل کی جانب سے تنبیہ کا بلکہ خواتین سے متعلق مذہبی ذہنیت اورتوہین مذہب کے قوانین کے بے جا استعمال کا ہے
مولانا طارق جمیل کی جانب سے جنید جمشید سے علیحدگی تب بھی ظاہر کی جانی چاہیے تھی جب وہ عورت سے متعلق توہین آمیز افکار کی تبلیغ کر رہے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعہ کے انداز بیان جہاں ایک طرف (نعوذباللہ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت کی توہین کا پہلو نکلتا ہے وہیں جنید جمشید عورت کے ٹیڑھی پسلی سے ہونے اور اس کی فطرت میں کجی ہونے کے حوالے سے کی جانے والی گفتگو میں ہر خاتون کی بطور عورت اور بطور انسان توہین کرنے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔
معاملہ نہ جنید جمشید کی معافی کا ہے نہ ان کے استاد محترم مولانا طارق جمیل کی جانب سے تنبیہ کا بلکہ خواتین سے متعلق مذہبی ذہنیت اورتوہین مذہب کے قوانین کے بے جا استعمال کا ہے۔ جنید جمشید کیا اس واقعہ کے بعد خواتین سے متعلق اپنے افکار تبدیل کرتے ہوئے خواتین کو کم تر درجہ کا حامل انسان قرار دینے پر بھی معافی مانگیں گے یا نہیں؟ کیا طارق جمیل صاحب سرزنش کرتے ہوئے کہیں گے کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق اپنے متنازعہ بیان پر ہی نہیں بلکہ خواتین کی نقل و حرکت اوراس کے فطری ٹیڑھے پن کے بارے میں اپنے افکار پر بھی معذرت کریں؟