Laaltain

تازہ ترین

میں ننھے بچوں کے ماتھے نہیں چومتی کہیں میری وحشت ان میں منتقل نہ ہو جائے
18 مئی، 2020
میں اُکتا کر اٹھتا ہوں اور سنسان گلی میں خود کو ڈھونڈنے جاتا ہوں
17 مئی، 2020
اُس نے دُور سے آتی ہوئی آوازیں اور قدموں کی چاپیں سُنیں۔ اُس کے اندر خوف بھر گیا۔
پانی کے بستر پر گہری نیند سو جاؤ پانی کے کمرے میں مقفل ہو جاؤ
17 مئی، 2020
تمہارا نام شاعری ہونا چاہیے تھا ہم آنکھیں موند کر صرف تمہارا دیکھنا سوچتے اور میرؔ کا دیوان سُلگ اٹھتا
15 مئی، 2020
وہ قدیم روایت کے احساس تلے جماہی لیتا ہے اور تاریخ دہرانے کے لیے پرندوں کے قبیلے میں شمولیت کی درخواست دیتا ہے
14 مئی، 2020
اس زمین کی خاک میں نہ جانے کتنی آنکھیں دفن ہیں جو عمیق سمندروں کے نمکین پانی سے گھری ہوئی ہیں
14 مئی، 2020
میں نے اپنے ہاتھ کی پشت پہ ایک پھول بنایا ہے اپنے سبز زخموں کی ٹہنیوں پر جنہیں تم اپنی توجہ سے راکھ ہونے سے
14 مئی، 2020
ایک دوسرے کی خواہشوں کو مار دیتے ہیں اس وعدے کی طرح جس کو کچل دیا ہوتا ہے ہم نے اپنے قدموں سے
13 مئی، 2020
گھنی تیرگی تھی بصارت کو اپنے نہ ہونے کا یکسر یقیں ہو چلا تھا
13 مئی، 2020
ایک دن محبت آدمی کو مکمل کرے گی آدمی کی تکمیل شاعری کی آخری لائن ہو گی
بہت ممکن ہے کہ صورِ اسرافیل میری، تمہاری یا کسی مجبور کی آہ ہو جو کائنات کو تباہ کر دے
7 مئی، 2020