ہم قیدی ہیں (صدیق شاہد)
ہم قیدی ہیں اور ہمارے چاروں طرف دیواریں ہیں
سوچو تمہارے بعد تمہارا کیا بنے گا
میرے پاس اب صرف دل بچا ہے جس کے ذریعے میں ایک چھینی ہوئی محبت کرسکتا ہوں
اور جب چیونٹیاں زمین کے کانوں میں اذان دے رہی ہوتی ہیں تم روشنی سے آنکھیں چرائے زمین کی کوکھ…
شاعر کی آنکھ کھلتی ہے اور وہ خود کو زندہ پاکر خوشی سے پاگل ہونے لگتا ہے
بچارے وقت کو بس دوڑنے اور ہانپنے یا بیت جانے کے سوا آتا ہی کیا کچھ ہے؟
آ کے تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا…