آج کا گیت: آ کہ تجھ بن اس طرح (جگر مراد آبادی، مجدد نیازی)
آ کے تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا…
آ کے تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا…
ابھی وقت لگے گا روح کو ہمیشہ کے لیے کھونے میں
پامالی کا اپنا حسن ہوا کرتا ہے پامالی کے ضبط پہ دنیا ٹکی ہوئی ہے
زمین کے بیضوی سرے سے پھسل کر محبت قریبی بلیک ہول میں گر گئی ہے!
غربت کی لکیر آمدنی اخراجات کو دعوتِ گناہ دیتی ہوٸی آتی ہے “ہم مہذب نہیں مذہبی ہیں” اس جملے کی…
وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے جیسے سناٹا خالی کمرے کو