Categories
تبصرہ

میرواہ کی راتیں: حجم میں چھوٹا، قوت میں بڑا ناول (اظہر حسین)

اظہر حسین کا یہ مضمون ہندوستانی بلاگ ‘موت ڈاٹ کام‘ پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ اس مضمون کو مصنف کی اجازت سے لالٹین کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ 

کراچی کے معروف قلم کار رفاقت حیات کا یہ اب تک واحد ناول ہے۔ یہ دو ہزار سولہ میں شایع ہوا۔ اشاعت کے برس ہی اس کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا۔ ناول نے کتاب پرستوں کو حیرت میں مبتلا کیا، کتاب پسندوں کو چونکایا اور عام قاری کو انگشت بدنداں کیا۔ ناقدین ادب نے ناول کو اہم ناول قرار دیا۔ یوں آج بھی یہ ناول، فکشن کے پڑھنے والوں کے بیچ وجہِ گفتگو بنا رہا، اب تک بنا ہوا ہے۔ سوچنے کی بات ہے اس ناول میں ایسا کیا ہے کہ اس کا شمار قابل بحث ناولوں میں ہے؟

۱

کسی کتاب کے اچھا ہونے کے اسباب ڈھونڈنے یا اس پہ دلائل لانے کی شاید زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک ناول کے عمدہ اور مستند ہونے کے لیے اس کا خواندنی اور پرلطف ہونا ہی کافی ہوسکتا ہے۔کسی ادب پارے کو خواندنی (readable) بننے یا بنانے کے لیے جو پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں اس کی توضیح صرف و محض ایک مستند فکشن نگارہی کے سامنے کی جاسکتی ہے۔عام قاری یا فکشن کے علاوہ کسی اور صنف ِ ادب کا فرد اس بظاہر سادہ مگر بباطن پیچیدہ نکتے کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔ ایک پختہ کار شاعراسے سہل ممتنع کی مثال سے سمجھ جائے تو اور بات ہے۔سادہ بیانیے اور سطحی تیکنیک کے ناول کو وہی خدشہ لاحق ہوتا ہے جو ایک بظاہر سہل ممتنع میں کہی ہوئی غزل کو: ادھر تخلیق کار یا شاعر معنوی خطوط میں کم گہرا (shallow) یا سطحی ہوا اُدھر اس کا کام عوامی فنون (popular arts) کی کیچڑ میں گرا۔چناں چہ اس پہ لازم آتا ہے کہ وہ سادہ بیانی میں بھی ایسی رچاوٹ اور گہرائی لائے کہ معانی، لامعانی ہوجائیں، مسلمہ غیر مسلمہ دکھنے لگ جائے، سفید، سفید نہ رہے، سیاہ سفید دکھے، اور باقی سارے رنگ بھی قایم و سالم نظر آتے رہیں؛ گڈمڈ بھی اور یکتا و تنہا بھی! ایسی ہنر وری کے لیے فکشن نگار کا کائیاں ہونا ضروری ہے۔ رفاقت حیات ایک کائیاں فکشن نگار ہے اور ”میر واہ کی راتیں“ ایک سہل ممتنع ناول!

۲

میرواہ کی راتیں“ کی ایک بڑی خوبی اس کا پریشان کن (disturbing) ہونا بھی ہے۔ ہر بڑا ناول پریشان کن ہوتا ہے۔پڑھنے والے کے گزشتہ فکشنی علم کے لیے پریشانی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ یہ پریشانی فکشنی حقیقت کو کڈھب سے پیش کرکے، متعین حقیقت پر انوکھے سوال اٹھانے سے بھی نمو پاتی ہے اور ان سوالوں کے جوابوں کی تلاش میں خوار ہونے کی لذت سے بھی۔ناول میں اس نوع کے سوالات حلوائی کے نوجوان بیٹے نذیر (مرکزی کردار)کی ذہنی اور جنسی آسودگی و ناآسودگی، اس میں برہنہ بدنی کو دیکھ کر ہیجانی کیفیت کی پیدائش، اندرون سندھ کے ایک گوٹھ میرواہ میں اپنی ادھیڑ چچی کی جانب جنسی رجحان یا نذیر کی شمیم اور خیر النسا کے ساتھ دل لگیوں سے پیدا نہیں ہوتے؛ یہ سوالات کردار نگاری، گردوپیش (setting) اور پس منظر و پیش منظر کے باہمی ربط اور اس ربط سے تشکیل ہونے والی متنی حقیقت کے ہیولے سے پیدا ہوتے ہیں۔یہ ہیولے یا فینتاسیاں نذیر کی شمیم کے ساتھ رات کی سیاہیوں میں ہونے والی ملاقاتوں کے بیانوں میں زیادہ شدت سے محسوس کی جاسکتی ہیں۔ان ملاقاتوں کا احوال اور خوف و تشویش ابھارنے والا بیان گہرے انہماک والے قاری کے لیے انتشار (disturbance) کا خاصا سامان رکھتا ہے۔اسی سامان کے اندر راحت اور طمانیت کی دیویاں بھی چھپی بیٹھی ہوتی ہیں، جن کا معروف نام جمالیات ہے۔

۳

”میر واہ کی راتیں“ موضوع اور طرز نگارش کے اعتبارات سے دلچسپ اور لطف کا حامل ہے۔ لطف خیزی کا یہ چشمہ ناول کے ابتدائی صفحوں ہی سے پھوٹنے لگتا ہے۔نوجوان نذیر اپنے چچا کے گھر کے ایک کمرے میں تنہا اپنی سوچوں سے لڑ رہا ہے جب کہ ملحقہ کمرے میں اس کے چچا چچی اپنے تعلق خاص کے دوران پُر سرورآوازیں پیدا کرکے اس کے جذبات کو انگیخت کرنے کا سبب ہیں۔نذیر کا سوچوں کے ساتھ لڑائی کی وجہ اس کا آنے والی رات کی مہم جوئی کے لیے خود کو ذہناََ تیار کرنا ہے۔ وہ مہم جوئی کیا ہے؟ نذیر کا اپنی چچی کے ساتھ کیسا تعلق ہے؟ چچی کے دل میں بھتیجے کے لیے کیسے جذبات سر اٹھائے ہوے، یا اٹھا سکتے ہیں؟ قاری کے ذہن میں کلبلانے والے یہ سارے سوالات اپنی مقصدیت میں جوابات ہیں۔ کیوں کہ چاہے ایسے سوالات کے جوابات تاحال لاموجود ہیں،یہ اپنی فطرت اور مزاج میں جمالیاتی حظ وافر سے زیادہ رکھتے ہیں۔براں مزید،جہاں مرکزی کردار کا اضطراب کئی طرح کے معانی پیدا کرتا ہے، وہیں نذیر کی مہم جوئی کا سنسنی خیز بیان قاری کو تجسس اور حیرت سے ہم کنار بھی رکھتا ہے۔ تجسس سے ہم کناری ناول کے آخیرلے صفحے تک جائے گی!

۴

ناول کی تفہیم میں ایک قدم اور آگے جانے کے لیے اسی ناول کے مصنف کی تنقیدی بصیرت والی گلی سے گزرنا ایسا بے فائدہ بھی نہیں ہوتا۔چناں چہ جب ہم رفاقت حیات کے کسی دوسرے ناول پہ کیے گئے تبصرے کی روشنی میں اس کے اپنے ناول میں جھانکتے ہیں تو اور ہی طرح کی تفہیم ہوتی ہے۔ کراچی ریویو شمارہ۳ میں ”بھید“ کا تجزیہ کرتے ہوے ہمارا ناول نگار لکھتا ہے:
”۔۔میری ناقص رائے میں زبا ن دنیا کی سب سے زیادہ پامال اور آلودو شے ہے۔ دنیا بھر کے صنعتی اور کیمیائی فضلے سے کہیں زیاد ہ آلودہ شے، اور شاید آسمانوں سے اترنے والے صحیفے اس کی اسی آلودگی اور کثافت کو کم کرنے کی ایک بر تر کوشش قرار دیے جاسکتے ہیں۔ ایک فکشن لکھنے والا بھی اپنے تئیں یہی کوشش کرتا ہے۔ وہ اس پامال اور غلاظت میں لتھڑی چیز کو بلند ی اور ترفع عطا کرنے کے لیے اپنے سے جتن کرتا ہے۔۔“ اور ”۔۔۔ہر انسان اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی ایسا بھید ساتھ لیے پھرتا ہے جس اس کے چہرے مہرے اس کے حلیے اور اس کی حرکات و سکنات سے آشکار نہیں ہوتا۔ وہ بھید اس کے دل یا اس کی روح میں بند ہوتا ہے۔“

ان دونوں تنقید پاروں کو سامنے رکھ کر ”میرواہ کی راتیں“ کی زبان، زبان کے دم خم سے پیدا کیے جانے والے مضبوط بیانیے اور بیانیے کے جادو سے وجود پذیر ہونے والے تمام ناولائی عناصر پہ توجہ کریں تو معلوم دیتا ہے کہ ناول نگار نظری اور عملی، ہر دوصورتوں میں ناول نگاری کو موضوع کے ساتھ ساتھ، زبان، اسلوب اور ہئیت کی طاقتوں اور توانائیوں سے بننے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ، کرداروں کی زندگیوں کے بھیدوں کو بظاہر راست مگر فی الاصل تہ داربیانیے سے متشکل کرتا ہے۔ داستانی طرز میں خارجی واقعات سے نئے واقعات کا ظہور کرتے جانے کے بجائے، کہانی کا بہاو کرداروں کے اندر سے باہر کی اور رہتاہے؛ ایک ایسا طرز جو ریاضت طلب ہے۔

۵

فکشن کے تجزیے کا آخری اور حتمی نتیجہ ابد سے لاموجود رہا ہے۔ ایک نکتہ سارے نکتوں کا خدا ہوتا ہے: فلاں کتاب اپنے کو پڑھواتی ہے اور آخری سطر تک۔”میر واہ کی راتیں“ پر ایسا مبالغہ، مبالغہ نہیں سنائی دیتا۔ راقم کو اس ناول نے لطف و حظ بھی دیا ہے اور خیالات کے نئے پن کا مقدس اور روحانی احساس بھی۔ یہ احساس قوت ہے، اور یہ ناول اس قوت میں یکتا ہے۔ یہ یکتائی اسے ناولا ہونے کے باوجود طاقت ور ناول کے مرتبے پہ فائز کرتی ہے۔
باقی جانے لارنس سٹرن!

Categories
تبصرہ

میرا واہ کی راتیں: ایک تاثراتی جائزہ (نسیم سید)

میرواہ کی را تیں کی دوقسطیں میں نے آن لائن میگزین “لا ل ٹین ” پر پڑھی تھیں۔ دوقسطوں نے اس ناول کو پورا پڑھنے کی طلب دل میں پیدا کی مگربوجوہ بہت سا وقت یونہی گزر گیا۔ رفاقت حیات کی مہربانی کہ اس کا پی ڈی ایف انہوں نے مجھےبھیج دیا۔ میں نے اس ناول پر چونکہ کوئی تبصرہ نہیں پڑھا اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ اس کو تنقید کی کس کس دھارپردھرا گیا یا تعریف کی کون کون سی سند عطا کی لہذا مجھے صرف اپنے احساسات لکھنے ہیں۔ اس ناول کوپڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ دیہی زندگی کورفاقت حیات نےبڑی تفصیل سے جیا ہے، وہ اس ماحول کی خوشبواوربدبو، اس کے حسن اوربدصورتی اوراس ماحول میں پرورش پانے والے ہرفرد کی نفسیات، ان کے مزاج ان کے مذہبی عقیدے، جنسی رویے غرض پورے ماحول کوجانتے اورپہچانتے ہیں، شاید برسوں اس ناول کے کرداران سے مطالبہ کرتے رہے “مجھے لکھو” انہوں نے غربت کی ہربھوک کولوگوں کو بھوگتے دیکھا ہے۔ بھوک خواہ شہرت کی ہویا دولت کی، طاقت کی ہویا اقتدارکی،پیٹ کی ہویا بدن کی، بھوک بہرحال بھوک ہوتی ہے۔ بھوک اگرپیٹ کی ہوتو کوڑے سے روٹی چننے پرمجبورہوجاتی ہےاوراگرجسم کے فطری تقاضے فاقے سے ہوں تو رشتوں کا احترام ان تقاضوں کے سامنے ننگا ہوجاتا ہے۔ ہم آئے دن اخباروں میں محترم رشتوں کی پامالی کے حوالے سے نا قابل ِ یقین سانحات کی خبریںپڑھتے ہیں اوران مجرموں پرلعنتیں بھیجتے ہیں مگراکثر یہ نہیں سو چتے کہ کن روایات اورعقا ئد کی مضبوظ زنجیروں میں جکڑاماحول ہے، اور یہی ان پڑھ رواج ہیں،رٹائے ہوئے عقائد ہیں جورفا قت حیات کی میراواہ کی راتوں کے نذیر، اس کی چچی خیرالنسا اورشمیم جیسے کردارتخلیق کرتے ہیں۔رفا قت حیات گو ماہر نفسیات نہیں ہیں لیکن انہوں نے ان تین کرداروں کے وجود میں اتر کے پورے ماحول کی نفسیاتی الجھنوں اورجنس کی بے لگام خواہشوں کواپنے سا دہ وپرکاربیانیے کے جال میں سمیٹ لیا ہے۔ ناول میں انہوں نے ان تین کرداروں کی جنسی بھوک کی گتھی کی ہر گرہ کھول کر اس کا ایک ایک دھاگہ بڑے سلیقے سے الگ کرکے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے (میں یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ بھوک میں اور لت یا ہوکے میں بڑا فرق ہوتا ہے، اگر رفاقت حیات کو شہرت، دولت، عورت، طاقت، شراب یا جنسی لذت کی لت یا ہوکے کا بیان مقصود ہوتا تو بہت سی دیگر کہانیوں کی طرح یہ نا ول بھی اپنا تما شہ آپ ہی لگا لیتا )۔

“میرواہ کی راتیں “ہماری دیہی زندگی کے معمولی پڑھے لکھے نوجوانوں اوران عورتوں کی وہ سچا ئی ہے جس کی پرورش ہمارا ماحول، روایات، اورمذہب سب مل جل کے بڑی محنت سے کرتے ہیں۔ ناول کے مرکزی کردار نذیرجیسے سیکڑوں کردارہردوسرے تیسرے دن اخبار کی سرخی ہوتے ہیں، جنہیں ہش ہش کرکے چادروں سے ڈھانپ دیاجاتاہے۔ ا ن قصوں کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں،رفاقت حیات نے انتہا ئی ذہانت سے چھوٹی سی کہانی میں چند کرداروں کے ذریعے چیخ چیخ کےکچھ کہے بنا ایک محدودکینوس پران کی جذباتی کشمکش کی ہر سطح کواپنے برش سے شاندار اسٹروک لگا ئےہیں۔ “میرواہ کی راتیں” پڑھتے ہوئے ہمیں ان جزیات پر گہری نظر رکھنی ہوگی جو نذیرکی کہانی کے بین السطورگاوں کے اکثرنوجوانوں کی داستان سنا تی ہیں۔

کہانی کا مرکزی کردار نذیرایک حلوا ئی کا بیٹا ہے جس نے مارے باندھے آٹھویں تک پڑھ لیا ہے اوراب وہ اردو پڑھنے کے قابل ہوگیا ہے۔ نذیرکا مزاج ایک تو لڑکپن سے عاشقانہ ہے دوسرے اس کے نوجوان بدن میں تماشہ لگاتی دن رات نئی نئی انارومہتابیوں کی تپک کوسندھ کی ایک لوک کہانی ہاتھ آجاتی ہے۔ یہ سندھ کی قدیم لوک کہانی مومل کے کاک محل میں پروش پانے والی محبت کی لازوال داستان ہے اس لوک کہانی کی مومل اس قدر حسین ہے کہ ایک دنیا اس کے حسن کی دیوانی ہے۔ رانا، اس جیسا ہی حسین اوردلیرشہزادہ مومل کی عائد کردہ شرائط کو پوراکرکے اس کا دل جیت لیتا ہے۔اس کہانی میں عشق کی آگ کی لپٹیں ہر اس وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں جواس کوپڑھ لے۔ رفاقت حیات جیسے لکھاری لمبی چوڑی تفصیلات میں جانا پسند نہیں کرتے سو وہ نذیرکے ہاتھ میں یہ کہانی تھما کے الگ تھلگ بیٹھ جاتے ہیں ” مومل و رانا کی کہانی اسے بیحد پسند تھی ” ہم جانتے ہیں کہ نذیرایک نوجوان لڑکا ہے۔ جنت کی حوروں کے حسن کی جزیات اوران کےساتھ شب بسری کی تفصیلات کی شراب ہمارا مولوی لڑکپن سےہی مردوں کو جام بھربھرکے پلا نا شروع کردیتا ہے۔ سوا س کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں سمجھا گیا کہانی میں ہم خود بھی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ نشہ بچپن سے ہی کس طرح رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔ ایک طرف عورت کا ایسا نشہ آورتصوردوسری طرف عورت کی قربت تو دورکی بات اس کی ایک جھلک بھی میسرنہ ہواوراگرہو بھی تو کسی محترم رشتہ کی صورت میں تو وہ کہانیاں جنم لیتی ہیں جس کی میرواہ کی راتیں چشم دید گواہ ہیں۔ ہربڑا کہانی کارمعاشرے کے کسی ناسور، کسی واقعہ کسی سا نحہ کی نشاندہی کرتے ہوئےمعالج کا کردار نہیں ادا کرتا، منٹوکا ” کھول دو” اس کی لاجواب مثال ہے۔

رفا قت حیات نے یہ ناول جنسی تسکین کے لیے نہیں لکھا بلکہ انہوں نے بڑی ذہانت سے ان حقائق سے پردہ اٹھا یا ہے جونذیر، شمیم اورنذیر کی چچی جیسے سیکڑوں کی داستاں کا حصہ ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جو جلتی پرتیل کا کام کرتے ہیں۔ خیرالنسا کاشوہرساٹھ سال کا ہے اوروہ اس اس سے پچیس سال چھوٹی ہے۔ شمیم کا شوہربھی اس سے عمرمیں اتنا ہی بڑا ہے اوریہ کوئی عجیب بات نہیں بلکہ ہمارے
ان پڑھ اوردیہی ماحول میں اکثربہت چھوٹی عمر کی بچیاں اپنے سے تین گنا بڑے مردوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔ ان لڑکیوں کوبچپن سے گناہ اورثواب کے درس گھرکی عورتیں رٹا تی ہیں اور مرد ” غیرت کے نام پرقتل “کے کلہاڑے کندھوں پررکھےبنا کچھ کہے سمجھا دیتے ہیں کہ انہیں شک بھی ہوگیا توبیوی یا بہن جان سے گئی۔ ان تاکیدوں اوربندشوں کے بعد بھی کیسے وہ واقعات ہوجاتے ہیں جن کی خبریں ہم اخباروں میں پڑھتے ہیں اس کا سبب رفا قت حیات نے میرواہ کی راتوں میں دکھا یا ہے۔

نذیرکی پسندیدہ کہانی کی حسین مومل نذیرکے دل میں کسی حسین عورت کودیکھنے، اسے چھونے، اس کے ساتھ رانا کی طرح پرجوش وپرشوق راتیں گزارنے کی بے پناہ خواہش پیدا کرکے اس سے ٹرین اسٹیشن کے چکرلگواتی ہےاوربرقع میں لپٹی ہرعورت کواس کی نگاہیں ٹٹولتی ہیں “اس کا مشا ہدہ تھا کہ عورتیں بھی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتی تھیں” لہذا ٹرین اسٹیشن پرموجود بوڑھے شوہرکی نوجوان بیوی شمیم بھی نذیر کی نگاہوں کا جلد ہی مطلب سمجھ جاتی ہے اوراس کی وہ خوبصورت آ نکھیں جنہیں دیکھ کے وہ اس پرعاشق ہوگیا تھا، مسکرا اٹھتی ہیں۔ نذیر اسٹیشن سے لے کر گاوں تک برقع میں لپٹی شمیم کا پیچھا کرتا ہے۔ عورت کی جھلک کو ترسے ہوئے لڑکیوں کا پیچھا کرنے والے کرداروں کوکس نے نہیں دیکھا ہوگا۔ نذیرکا یہ رویہ اس جیسے ہی سیکڑوں کی نما ئند گی کررہا ہے۔۔ یہ ہراس نوجوان کی کہانی ہےجس کے دماغ میں بچپن میں ہی یہ بات کوٹ کوٹ کر بٹھا دی جاتی ہے کہ لڑکی سے ملناجلنا، بات کرنا شرمناک گناہ ہے لیکن جنس مخالف کی کشش ایک فطری تقا ضہ ہے سویہ تقاضے اپنی راہ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔۔۔اس کے برعکس جن جوانوں کو اپنی ہم عمرلڑکیوں سے ملنے جلنے بات کرنے کے بچپن سے مواقع ملیں وہ کسی عورت کی آنکھیں دیکھ کے اس پرعاشق ہوتے ہیں نہ ہی ان رشتوں پر جھپٹتے ہیں جن کا احترام ہر معاشرے میں متعین ہے۔

نذیرکے لا شعورمیں بسی مومل جیسی اب دوخوبصورت عورتیں ہیں جودین دارہیں، روزے نماز کی پابند ہیں شوہر کی اطاعت گزارہیں اس کے باوجود ان کے اندرکوئی خلا ہے، بدن کے وہ فطری تقاضے ہیں جن کا شوہرسے اظہار بھی ہمارے معاشرے میں عورت کے لیےبے شرمی سمجھا جاتا ہے۔ان تقاضوں کو جب اپنی طرف ملتفت ایک جوان ملتا ہے تو تربیت اورتاکید وں کے باندھے سارے بند ٹوٹ جاتےہیں۔ شمیم تک پیغام رسانی کی نذیر صورت نکال لیتا ہے چھوٹی سے ملاقات کے بعد شمیم خود نذیرکو اپنے گھر بلا بھیجتی ہے۔نذیراور شمیم کی مرادوں والی بے سدھ رات کے دوران ایک بلی اچانک چھت سے کود کے دونوں کو یوں بے مراد کر دیتی ہےجیسے کسی بھوکے کے ہاتھ سے اس کا نوالہ چھن جائے۔ اس اچانک رونماہونے والے سانحہ کا اثرنذیرپروہی ہوتا ہے جس کے تحت مرد شدید احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔رفاقت حیات نے کہانی میں بہت ذہانت سے اس واقعے اوراس کے اثرات پر اشارتاً بہت کچھ کہہ دیا ہے۔ گو نذیرکا دل شمیم سے اچاٹ ہوجاتا ہے لیکن ابھی اس کی چچی موجود ہے وہ خوبصورت عورت جواس کے کھوئے ہوئے اعتماد کو لوٹا سکتی ہے۔ خیرالنسا گناہ اوربدن کی فطری تقاضوں کے بیچ پستی روایتی جبرکی شکارلاتعداد عورتوں کی نما ئندہ ایک ایسی عورت ہے جوباپ کی عمرکے مرد کی جاگیر ہے۔ نذیرکی وارفتگی ایک مختلف ذائقہ اورنشہ ہے جودھیرے دھیرے اس کے احساس گناہ پرغالب آجاتا ہے۔ عورت کے لمس کوترستے ہوئے مردوں کی بھوک تسکین کے کیسے کیسے ذرائع ڈھونڈ لیتی ہے رفاقت حیات ایک چھوٹے سے منظرمیں پینٹ کرتے ہیں۔” دھیرے دھیرے وہ بلاؤز کو اپنی ناک کے قریب لے گیا اوراسے سونگھنے لگا۔ اسے سونگھتے ہوئے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ وہ خود کو کسی عورت کے قرب میں محسوس کرنے لگا۔ وصل کی سرشاری جیسی سرشاری اس پرطاری ہونے لگی” نذیر ہمارے کنفیوزڈ معاشرے کا وہ کردار ہے جوایسی عورت کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جوچند لمحوں کے لیے سہی اس کے لیے اپنے جسم کی آغوش وا کردے۔

نذیرگوچچی کے بارے میں سوچتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہے لیکن اس کے اردگرد کے توسارے ہی رشتوں پرمقدس رشتوں کا لیبل لگا ہے۔ عورت کی قربت کا فطری تقاضہ جب فاقوں سے تنگ آجائے توکوڑے پرسے بھی روٹی چن کے کھالیتا ہے۔ یہی حال ادھرخیرالنسا کا بھی ہے ” میں جانتی ہوں یہ گناہ ہے، بے حیائی ہے مگرتو خود سوچ اس کے اورمیرے درمیان کتنا فرق ہے ” رفاقت حیات کو مومل اوررانا جیسی کوئی عشقیہ داستان تحریر نہیں کرنی تھی۔ انہیں توان تین اہم کرداروں کے ذریعہ زمین کی تین تہوں تک اتری سماجی،معاشرتی اور مذہبی جکڑبندیوں کی ان جڑوں کی نشاندہی کرنی تھی جودن بدن گھنی سے گھنی ہوتی جارہی ہیں ان وحشتوں کو اجاگر کرنا ہے جو اندر ہی اندرگھن کی طرح پوری تہذیب کو کھا رہی ہیں یا کھا چکی ہیں۔ زندگی کے ہرشعبہ میں ہرطورطریقے میں دوہرا معیار رکھنے والے ہمارے معاشرے میں پچیس سال کا مرد سا ٹھ سال کی عورت سے شا دی کرلےتوعورت سمیت پورا معاشرہ حیرت سے انگلیاں چبا ڈالے۔ مگر ساٹھ سال کے مرد کی پچیس تو کیا تیرہ چودہ سال کی عمر کی لڑکیوں سے شا دی کی لا تعداد مثالیں موجود ہیں اور سب چپ ہیں۔ یہ گائے بکری جیسی عورتیں جس کھونٹے سے دل چا ہے باندھ دی جا ئیں۔ سات سال کی لڑکی تا وان میں سترسال کے بڈھے کو دے دی جا ئے جرگے کے فیصلے اس رواج کوکاری نہیں کرتے۔ ان حبس زدہ رواجوں، جرگوں، مولویوں اور عزت کے رکھوالوں میں ” کا ری ” اور” کارا” کرکے قتل کردینے کی روایت برسہابرس سے جوں کی توں قائم ہے۔ ہمارے حبس زدہ معاشرے کی نما ئندگی کرنے والے ان تین کرداروں کے مطالعہ سے یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مذہب نے ذہنوں کی تربیت کرنے میں کیا اہم کردارادا کیا ہے ؟

رفاقت حیات کا ” میرواہ کی راتیں” اپنے فکری اعماق،فنی وسعت، چست بیا نیے، خوبصورت اسلوب اورموضوع پرگہری گرفت رکھنے والا ایک ایسا ناول ہے جو ہماری دیہی زندگی میں پلنے والے نوجوانوں اورکسی بھی کھونٹے سے باندھ دی جانے والی لڑکیوں کی داستان نہیں بلکہ فلم ہے جوہرمنظرکو تمام ترجزیات کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ یہ وہ سچا ئیاں ہیں جن سے ہم نظریں توچرا سکتے ہیں لیکن انہیں جھٹلا نہیں سکتے۔

Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں – آٹھویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شام سے ذرا پہلے غفور چاچا بکھرے ہوئے بالوں اور گرد میں اٹے ہوئے چہرے کے ساتھ دکان میں داخل ہوا۔ اپنی تھکاوٹ اور اضطراب چھپانے کے لیے اس نے ہنس کر ان سے دو چار باتیں کیں۔ یعقوب کاریگر نے اس سے رانی پور جانے کا سبب پوچھا تو اسے ٹالنے کے لیے اس نے گول مول جواب دے دیا۔ نذیر کو پتا چل گیا کہ وہ اس سے جھوٹ بول رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ چاچا غفور سے اجازت لے کر دکان سے چلا گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے نہر کنارے واقع چائے خانے پر پہنچا تو وہاں پکوڑافروش کو اپنا منتظر پایا۔ وہ چائے پینے کا خواہشمند تھا مگر نورل نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ ایک نئی جگہ چلنے کے لیے کہا۔

 

وہ تاریک گلیوں میں چلتے ہوئے قصبے کے شمال میں واقع ایک مے خانے میں پہنچے۔ نذیر اچھی طرح جانتا تھا کہ اندرونِ سندھ کے بیشتر گوٹھوں اور قصبوں میں ایسے مے خانے عموماً مزاروں اور درگاہوں کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اس کے علاوہ بھی کئی جگہوں پر قابلِ تعظیم سادات گھرانے کے معتقدین کی بڑی تعداد نے پنجتن پاک سے منسوب مخصوص نشان سے آراستہ بڑے بڑے سیاہ علم لگا کر ایسے مے خانے قائم کر رکھے ہیں۔ یہاں چرس اور بھنگ کے موالیوں کا ڈیرہ رہتا ہے۔ اسے معلوم تھا کہ یہاں آنے والے ہر خاص وعام کی تواضع بھنگ اور چرس سے کی جاتی ہے۔ یہاں سادات گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ لاہوتیوں کو خاص احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مے خانے عموماً کسی قسم کی شان و شوکت اور آرائش سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ موالی نشے کی جھونجھ میں سادات گھرانے کی قربانی، ان کے ساتھ ہونے والے مظالم، ان سے منسوب کرامات اور معجزات کا ذکر بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔

 

وہ دونوں داخلی دروازے سے بے نیاز ایک مختصر سے احاطے میں داخل ہوئے جس کے اطراف دیواروں کے بجائے سوکھی شاخوں اور جھاڑیوں کی باڑھ تھی۔ یہاں کی زمین کچی مگر ہموار تھی۔ احاطے کے بیچوں بیچ مٹی کے چبوترے پر نصب ایک موٹے سے بانس پر سیاہ علم لگا تھا، جس پر پنجتن پاک کی نسبت سے مخصوص پنجے کی شکل کا نشان بنا ہوا تھا۔ اس کے اوپر ایک بلب روشن تھا، جس کی پھیکی سی روشنی میں ہوا سے لہراتا ہوا علم دکھائی دے رہا تھا۔ نیچے چبوترے پر دو چراغ جل رہے تھے جن کی لویں ہوا کے جھونکوں سے لرز رہی تھیں۔

 

احاطے کے ایک کونے میں گھاس پھوس کی ایک جھونپڑی سے باربار موالیوں کے نعرے بلند ہوتے سنائی دے رہے تھے۔ جھونپڑی میں داخل ہوتے ہی نورل نے بھی نعرہ حیدری بلند کر کے اپنی آمد کا اعلان کیا۔ کشادہ سی جھونپڑی کے عین وسط میں چھوٹے سے گول دائرے میں آگ کا مختصر سا الاؤ روشن تھا جس کے گرد پندرہ بیس موالی حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ ان کے قریب ہی ان دونوں کو زمین پر بچھی پیال پر بیٹھنے کی جگہ مل گئی۔ اس وقت وہاں چرس کی سلفی کا دور چل رہا تھا اور پوری جھونپڑی چرس کے دھویں اور بو سے بھری ہوئی تھی۔

 

موالیوں نے آس پاس ہٹ کر انہیں الاؤ کے قریب ہو کر بیٹھنے کے لیے جگہ دی۔ نذیر نے جیب سے پچاس روپے نکال کر ایک موالی کو دیے اور اسے بھنگ اور چرس لانے کے لیے کہا۔ وہاں بیٹھے موالی اس کی سخاوت سے متاثر ہوئے اور نورل سے پوچھ پوچھ کر اس کاتعارف حاصل کرنے لگے۔ نذیر عام طور پر زیادہ گفتگو نہیں کرتا تھا مگر ان بے کار لوگوں کے بیچ بے دھڑک بولنے لگا۔

 

الاؤ کے گرد بیٹھے لوگوں کے چہرے نشے کی کثرت سے سوجے ہوئے تھے اور ان کی آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں۔ نذیر کے تعارف کے بعد وہ سب ایک دوسرے پر تصوف کی جھوٹی سچی باتیں جھاڑنے لگے۔ ہر آدمی زیارتوں اور مزاروں کے قصّے سنا رہا تھا، جن سے نذیر کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وقفے وقفے سے کسی درگاہ کا کوئی بھولا بھٹکا درویش ادھر آ نکلتا تو مے خانے کی رونق اور بڑھ جاتی۔

 

نذیر نے اپنے نشے کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے بھنگ کے دو گلاس چڑھائے اور گاہے بگاہے چرس کی سلفی کے کش بھی کھینچتا رہا۔ اسے خود پر اعتماد تھا کہ نشے کی زیادتی کے باوجود وہ نہیں بہکے گا۔ جب اس نے بہت زیادہ نشہ کر لیا تو اس کے دل میں کسی سے بھی بات کرنے کی خواہش یکسر ختم ہو گئی۔ الاؤ کے گرد بیٹھے ملنگوں کی بے سروپا لن ترانیوں پر وہ باربار اپنا سر دھنتا رہا۔ دھیرے دھیرے اس کی سماعت کے در بند ہونے لگے اور وہ ان کی آوازوں سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ یوں ہی خالی خالی نظروں سے موالیوں کے چہروں کو دیکھنے لگا۔ الاؤ کی مچلتی اور تلملاتی لپٹوں کی روشنی میں وہ سب کے سب اسے اس وقت بدروحوں جیسے معلوم ہونے لگے تھے۔ ان کے چہروں کی تمام سرخی ان کی آنکھوں میں سمٹ آئی تھی۔

 

جھونپڑی سے باہر گہری رات پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی نظر جھونپڑی میں داخل ہونے کے لیے بنے ہوئے چوکھٹے پر ٹھیر گئی۔ آسمان پر ٹمٹماتے ہوئے تارے اسے صاف دکھائی دیے۔ اس نے ایک حواس باختہ شخص کو زور سے زمین پر پاؤں پٹختے ہوئے دیکھا اور ایک جھرجھری سی لی۔ ذرا فاصلے پر نورل جوگی بیٹھا تھا۔ نذیر نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا پیال سے اٹھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مے خانے کے موالیوں سے اللہ وائی کہا اور ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے جھونپڑی سے باہر چلا گیا۔

 

وہ دونوں لہراتے ہوئے آہستگی سے قدم اٹھاتے ہوئے گلیوں میں چلنے لگے۔ رات کا پہلا پہر ابھی ختم نہ ہوا تھا مگر قصبے کی گلیوں اور سڑکوں سے زندگی رخصت ہو گئی تھی۔ لیکن نذیر کو شب کے تیسرے پہرکا شدت سے انتظار تھا۔ وہ مضطرب تھا مگر اس نے رستے بھر نورل سے کوئی بات نہ کی۔ وہ باربار اپنے تخیل میں ایک دیہاتی حویلی کی خواب گاہ میں حجاب سے بے نیاز شمیم کے بدن کے مہین خدوخال دیکھ رہا تھا، جو بے قراری سے وہاں اس کی منتظر تھی۔ وہ اس کے ساتھ اپنی گزشتہ بے ڈھب ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔ اس کی انگلیوں کی پوریں اس کے اعضائے بدن کے لمس، اور اس کے ہونٹ اس کے لبوں کے نرم گرم بوسوں کے لیے مچل رہے تھے۔ اس کے گزشتہ لمس اور پرانے بوسوں میں لذت و سرور سے زیادہ افسوس اور تشنگی شامل تھی۔

 

گلیوں سے گزرتے ہوئے نورل اسے مختلف نصیحتیں کرتا رہا۔ “اس کے گھر پہنچنے کے لیے گاؤں کے اندرونی راستوں سے جانا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔ اس نے جو بندوبست کیا ہے اس سے لگتا ہے وہ ذہین عورت ہے۔ اس لیے اس نے تمہاری آمد کے لیے پچھلے راستے کو چنا۔ اور دیکھو! اگر کوئی گڑبڑ ہو جائے تو تم اسی راستے سے باہر نکلنا۔ مولا مشکل کشا تمھاری مدد کرے گا۔ “

 

“نورل! اب مجھے وہاں جانے سے کوئی خوف نہیں،” نذیر نے اعتماد سے کہا۔

 

پکوڑافروش نے چلتے چلتے جماہی لی۔ “مگر یاد رکھنا! کسی کے گھر میں گھس کر اس کی عورت سے ملنا اتنا آسان نہیں۔”

 

اپنے گھر والی گلی کے کونے پر پہنچ کر ہاتھ ملاتے ہوئے اس نے نورل سے کہا، “تم اسی پرانی جگہ پر میرا انتظار کرنا۔ میں بالکل ٹھیک وقت پر پہنچ جاؤں گا۔”

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دروازے میں ہاتھ ڈال کر کنڈی کھول کر وہ گھر میں داخل ہوا اور ہولے ہولے چلتا ہوا برآمدے میں اپنی چارپائی تک پہنچا۔

 

چاچی خیرالنسا نے شاید اس کی آہٹ سن لی تھی، وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔ چاچا غفورکے خرّاٹے برآمدے میں نذیر کو بھی سنائی دے رہے تھے۔

 

اسے دیکھ کر نذیر حیران ہوا مگر اپنی حیرت چھپاتے ہوئے کہنے لگا، “میں نے دروازے پر کنڈی لگا دی ہے۔ معاف کرنا میری وجہ سے تیری نیند ٹوٹ گئی۔ تو دوبارہ جا کر سو جا۔ میں خود ہی روٹی نکال کر کھا لوں گا۔”

 

خیرالنسا نے اپنے چہرے سے بال ہٹاتے اور سر پر چادر اوڑھتے ہوئے کہا، “میں نے تیرے لیے آج روٹی نہیں پکائی، اور سالن بھی تو گرم کرنا ہو گا۔”

 

یہ بات نذیر کے لئے یکسر خلافِ معمول تھی اس لیے اسے شدید حیرت ہوئی، لیکن وہ چپ سادھے رہا۔ وہ جماہی لیتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔

 

نذیر نے برآمدے کا بلب روشن کر دیا اور دوبارہ آ کر چارپائی پر بیٹھ گیا اور وہاں سے بیٹھے بیٹھے کمرے میں جھانک کر چاچے کی طرف سے ایک بار پھر اطمینان کرنے لگا۔ پھر وہ اٹھ کر غسل خانے میں جا کر ہاتھ منہ دھونے لگا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی کو اس کے نشے کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔

 

وہ دھیرے دھیرے چلتا باورچی خانے میں داخل ہوا اور چولہے کے پاس رکھی پیڑھی پر جا بیٹھا۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے دھیمے لہجے میں کہنا شروع کیا: “ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں، تْو میرا بہت خیال رکھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تْو میری دور کی رشتے دار بھی نہیں لگتی۔ جو میرے رشتے دار ہیں، وہ سب کے سب مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ میرپور ماتھیلو میں تھا تو وہاں ابا اور بھائی مجھے گالیاں دیتے تھے۔ اور یہاں پر میرا چاچا دیتا ہے۔ میں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے کہ تھوڑے ہی دن میں ٹھری میرواہ بھی چھوڑ کر چلا جاؤں گا، اور کسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں سے کسی کو میری کوئی خبر نہیں مل سکے گی۔ آخر مجھے تو ہی بتا، کیا میں بہت خراب ہوں؟ کیا میں واقعی بہت برا شخص ہوں؟” کہتے کہتے وہ اچانک خاموش ہو گیا۔

 

اس کے کہے ہوئے جملوں نے چاچی کے دل پر بہت اثر کیا۔ وہ اس کے لیے پہلے سے جو ہمدردی محسوس کر رہی تھی اس کی یہ باتیں سن کر اس میں اضافہ ہو گیا۔ آج کا تمام دن اس نے نذیر کے بارے میں سوچتے ہوئے گزارا تھا۔ اس نے پہلی بار اپنے ذہن میں اس کے لیے ابھرنے والے جذبات کی رو کو دبایا نہیں تھا۔ اپنے شوہر کے نامناسب طرزِعمل پر وہ اسے جی ہی جی میں ملامت کرتی رہی تھی اور اسے مسترد کرتی رہی تھی۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ نذیر سے صرف ایک بار ہی سہی مگر کھل کر بات کرے۔

 

اس نے اندازہ لگا رکھا تھا کہ شاید وہ اس سے کبھی کوئی بات نہ کرے، کیونکہ وہ اس کے گھر میں مہمان کی حیثیت سے رہتا تھا اور ان کے رشتے کی نوعیت بھی بے حد حساس تھی۔ اس نے سوچ کر خود سے ہی طے کر لیا تھا کہ بات کرنے میں وہ پہل کرے گی۔ نذیر کی اس کے لیے دلچسپی کے متعلق اسے اب پورا یقین ہو چکا تھا۔ وہ اس بات کا بخوبی اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ ہار اب بھی اسی کے پاس تھا اور وہ موقع محل دیکھ کر اسے دینا چاہتا تھا مگر صبح کو پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے اس نے جھوٹ بول دیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے لیے بنوایا جانے والا ہاردیکھے اور اسے اپنے گلے میں سجائے۔

 

مگر اس وقت وہ اس کے ہونٹوں سے ٹھری میرواہ چھوڑ کر جانے کی بات سن کر دھک سے رہ گئی تھی۔ اس کی افسردگی دیکھ کر وہ بھی آزردہ خاطر ہو گئی تھی۔ کاش وہ اسے بانہوں میں بھر سکتی اور اس کے لبوں کو چوم چوم کر اس کا غم اپنے اندر جذب کر سکتی۔

 

وہ کسمساتے ہوئے بولی، “دیکھ! تیرے چاچے کی بدگمانی اور غلط فہمی اب ختم ہو گئی ہے اور تْو نے اس کا شک دور کر کے اسے مطمئن کر دیا ہے۔ میں نے بھی اس سے بہت کچھ کہا سنا۔ اس کے بارے میں ایک بات میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ دل کا بْرا نہیں ہے۔ تم اسے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے، ورنہ وہ ٹھری میرواہ میں اکیلا رہ جائے گا۔ “

 

نذیر غور سے اس کی طرف دیکھتا اس کی باتیں سنتا رہا۔

 

چاچی خیرالنسا نے مزید کہا، “میں اپنی شادی سے پہلے تمہاری رشتے دار نہیں تھی مگر اب تیری چاچی لگتی ہوں۔ اگر تم میری عزت کرتے ہو تو میرواہ چھوڑ کر نہیں جاؤ گے۔ نہیں جاؤ گے نا؟”

 

وہ جواب میں کچھ نہیں بولا۔ اپنا سرجھکائے چپ چاپ روٹی کا نوالہ چباتا رہا۔

 

وہ نذیر سے مثبت جواب سننا چاہتی تھی مگر اس کی خاموشی سے تلملا کر رہ گئی۔

 

“میں اسے اچھی طرح سمجھاؤں گی۔ آج کے بعد وہ تجھے کچھ نہیں کہے گا،” وہ پیڑھی پر بیٹھی بیٹھی پہلو بدل کر بولی۔

 

“بس چاچی، میں نے فیصلہ کر لیا ہے!” نذیر نے حتمی بات کہہ دی۔
اس کی خموشی کو اس کا اٹل فیصلہ سمجھ کر چاچی خیرالنسا چپ ہو گئی اور اذیت بھرے سانس لینے لگی۔

 

نذیر نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اسے کرب کی خفیف سی لہر دکھائی دی۔

 

وہ رہ رہ کر سوچ رہی تھی کہ اس کے جانے کے بعد کیا ہو گا۔ اس کے بغیر اپنے بنجر ماہ و سال کا خیال اسے بہت ہول ناک محسوس ہو رہا تھا۔ زندگی پھر ویسی ویران اور بے مزہ ہو جائے گی جیسی کہ پہلے تھی۔

 

نذیر دل ہی دل میں سوچ رہا تھا: “یہ آخر رات کے اس پہر یہاں کیوں بیٹھی ہے؟ اپنے کمرے میں جا کر سو کیوں نہیں جاتی؟”

 

خیرالنسا نے دونوں بازو پھیلا کر انگڑائی لی تو وہ خود کو اس کی طرف دیکھنے سے نہیں روک سکا۔ وہ ہٹ دھرمی سے اس کے بدن کا جائزہ لیتا رہا۔ اسے محسوس ہوارہا تھاکہ وہ اگر چاہے تو ابھی اسی وقت اس سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے وہ اب تک یہاں بیٹھی تھی۔

 

کچھ دیر بعد وہ جھرجھری سی لیتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی، “کیا تْو واقعی ہمیشہ کے لیے میرواہ سے چلا جائے گا؟”

 

نذیر اس کی تشویش پر مسکراتے ہوئے اٹھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے باورچی خانے کے دروازے تک گیا۔ وہ اس کی مسکراہٹ اور اس کے اٹھ کر جانے کو نہیں سمجھ سکی۔ وہ دو لمحوں تک باہر جھانکنے کے بعد پلٹ آیا اور اس کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ “نہیں جاؤں گا۔ میں یہاں سے کبھی نہیں جاؤں گا۔ اور وہ بھی صرف تیری خاطر۔ “

 

اس کا جواب سن کر وہ ضبط کی کوشش کے باوجود ہنسنے لگی۔ “تو مجھے تنگ کرنے کے لیے یہ بات کر رہا تھا۔ جانتی ہوں تجھے!”

 

نذیر اس کے قدموں کے قریب بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھ تھام لیے اور انہیں بے طرح چومنے لگا۔ اپنے ہاتھوں پر اس کے بوسوں کو محسوس کر کے وہ لرز کر رہ گئی۔ اس کے وجود پر چڑھا ہوا کوئی پرانا میل اتر نے لگا اور اس کے بدلے اس کے وجود پر ایک انوکھا اور منفرد رنگ چڑھنے لگا۔ اس نے کچھ دیر کے لیے کبوتر کی طرح آنکھیں میچ لیں۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ اسے ہلکا سا دھکا دے کر اپنے ہاتھ چھڑا کر اْٹھ کھڑی ہوئی۔
دھکا لگنے سے وہ لڑکھڑا گیا۔ مگر اگلے ہی لمحے سنبھل کر تیزی سے آگے بڑھا اور اس نے خیرالنسا کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ دونوں کے بدن کچھ دیر کے لیے ایک وجود معلوم ہونے لگے۔ وہ اس کے شانے کو چومتا ہوا اس کے چہرے تک پہنچا اور والہانہ انداز سے اس کے ہونٹوں پر بوسہ باری کرنے لگا۔ وہ اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔

 

نذیر نے اس کی سماعت میں شیریں سی سرگوشی کرتے ہوئے کہا، “میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ تم بہت اچھی ہو۔”

 

وہ اس کے بوسوں کا جواب دینے کے بجائے کسمسا رہی تھی اور دھیرے دھیرے کہہ رہی تھی: “وہ جاگ جائے گا۔ وہ جاگ گیا تو بہت برا ہو گا۔ میں جاتی ہوں۔” یہ کہتے ہوئے اس نے نذیر کو اپنے آپ سے الگ کیا اور تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد وہ باورچی خانے میں کھڑا کچھ دیر تک اپنی بپھری ہوئی سانسیں درست کرتا رہا۔ پھر وہ جا کر برآمدے میں کھاٹ پر لیٹ گیا۔

 

لیٹے لیٹے وہ حیرت سے مسکرایا، پھر آہستگی سے ہنسنے لگا۔ وہ حیران تھا کہ اتنی بڑی انہونی آخر کیسے ہو گئی؟ مگر جو کچھ بھی ہوا وہ اچانک اور اس کے کسی ارادے کے بغیر ہوا تھا۔ اس نے اس کی دست درازی کا برْا نہیں مانا۔ اس نے کسی خفگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ اپنی اس غیرمتوقع کامیابی پر خوش ہوتے ہوئے اس نے اندھیرے میں اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور انہیں اپنے ہونٹوں کے پاس لے جا کر چومتے ہوئے ان میں چھپے لمس کو محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے سوچا کہ اس کی زندگی میں چند اور خوشگوار لمحوں کا اضافہ ہو گیا۔ وہ مدت سے ایسی عورت کی تلاش میں سرگرداں تھا جو چند لمحوں کے لیے سہی، اس کے لیے اپنے جسم کی آغوش وا کر دے۔ وہ مستقبل سے وابستہ اپنی توقعات کے بارے میں سوچ سوچ کر لذت کشید کرنے لگا۔

 

آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے خوش نصیب رات تھی۔ دو طرف سے اس پر لطف و کرم کی پھوار گرنے لگی تھی۔ یہ پھواراس کے بے قرار اعضائے بدن کو قرار دے رہی تھی۔ وہ چارپائی سے اتر کر صحن میں آ گیا۔ اس کی نگاہ اٹھ کر آسمان پر گئی اور وہاں چمکتے ہوئے ستاروں پر بھٹکتی رہی۔ ہر ستارہ اسے آج خوشی کا چراغ معلوم ہو رہا تھا۔ اس کا رنگ، اس کی چمک گویا کسی شادمانی کا اظہار کر رہی تھی۔ اس نے اس گھر کے درودیوار سے ملحقہ مکانوں کے ابھرے ہوئے نو ک دا ر سایوں کو دیکھا۔ رات کے اس پہر ہر مکان خاموشی اور تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور تمام کھڑکیاں اور روشندان بند تھے۔

 

ٹہلتے ٹہلتے اسے چاچے غفور کا خیال آیا۔ وہ اس کی لاعلمی پر دھیرے دھیرے ہنسنے لگا، مگر اگلے ہی لمحے خود کو ملامت کرتے ہوئے اس عجیب وغریب انتقام پر حیران ہو گیا۔ اس نے اپنے دل میں چاچے کے لیے ہمدردی محسوس کی۔ اس نے گناہ کے شدید احساس کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کی۔ خود کو سمجھایا کہ یہ سارا معاملہ اس کی مرضی کے بغیر خودبخود طے ہوا ہے۔ اس نے اس راز کے کھلنے کی صورت میں اپنے لیے منتظر بدنامی اور ذلت کے بارے میں سوچا تو اس کے جی میں آیا کہ اسی وقت دروازہ کھول کر کمرے کے اندر گھس جائے اور بوڑھے درزی کو ہلاک کر دے۔

 

جوگیوں کے گوٹھ جانے کا خیال جوکچھ دیرکے لیے اس کے ذہن سے محو ہو گیا تھا۔اب اچانک اسے شمیم یاد آئی تووہ چونک پڑا۔ اس نے گھڑی پر وقت دیکھا۔ ابھی اس کے گھر سے نکلنے میں پون گھنٹہ باقی تھا۔ پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی یہ سفر اسے دشوارگذار معلوم ہو رہا تھا لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے لیے یہ سفر ناگزیر ہو چکا ہے۔

 

کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ چارپائی سے اٹھا اور پہلے کی طرح اپنے تکیے کو رضائی کے نیچے رکھ کر اسے اس کے اوپر بچھا دیا۔ چپل پہن کر وہ دھیرے دھیرے دروازے کی طرف بڑھا۔ دہلیز پار کرنے کے بعد اس نے باہر سے دروازے پر کنڈی لگائی اور چل پڑا۔ وہ محتاط انداز میں دبے پاؤں چلتا ہوا مختلف گلیوں سے گزرا۔ اس نے مختلف جگہوں پر تعینات چوکیداروں کی سیٹیوں کو سنا تو اس کے حوصلے خطا ہونے لگے۔ ایک گلی میں داخل ہوتے ہی آپس میں گتھم گتھا دو آوارہ کتے اچانک اس کے سامنے آ گئے۔ اس کی سانسیں لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گئیں۔ ان کی چیخوں میں وحشت کے ساتھ ساتھ دہشت بھی تھی۔

 

ابھی بمشکل آدھا راستہ طے ہوا تھا۔ وہ چلتے ہوئے چاروں سمتوں میں باربار دیکھتا رہا۔ جوں جوں راستہ کٹ رہا تھا، اس کے قدموں میں ایک عجیب سی ڈگمگاہٹ آتی جا رہی تھی۔ اسے اپنے پورے وجود میں ڈر پھیلتا محسوس ہو رہا تھا۔ ایک بجلی کے کھمبے کے سائے سے خوف کھا کر اس نے لوٹ جانے کے بارے میں سوچا۔ چلتے چلتے وہ ٹھٹک کر رکا، مگر پھر دھیمی رفتار سے آگے بڑھنے لگا۔

 

اسے باربار یہ خیال ستا رہا تھا کہ کسی لمحے کوئی شخص اچانک اسے پکڑ لے گا اور چور یا ڈاکو سمجھ کر پولیس اسٹیشن لے جائے گا۔ وہ ہر مکان کے دروازے کو غور سے دیکھتا ہوا گزر رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اچانک سب کے سب مکانوں کے دروازے بھک سے کھل جائیں گے اور وہاں سے اچانک بہت سے لوگ باہر نکلیں گے اور اسے ہلاک کر ڈالیں گے۔ وہ خود کو ملامت کرنے لگا کہ آج کی شب اس نے بھنگ اور چرس کا استعمال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کر لیا تھا۔ اسی وجہ سے اس کا ذہن واہموں اور وسوسوں سے بھر گیا تھا۔ ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے وہ تیزرفتاری سے چلنے لگا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو اسے حیرت ہوئی۔ اسے اپنے گھر سے خوش باش نظر آنے والے ستارے یکسر تبدیل ہو گئے تھے اور اب آنکھیں مچمچاتے ہوئے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا، زمیں و آسمان کے تمام مظاہر اور مناظر آج کی رات اس کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔

 

وہ نہر کے کنارے پہنچا تو سردی کا احساس شدت اختیار کر گیا، مگر آج وہ سویٹرکے اوپر جرسی پہن کر آیا تھا۔ اس کے گلے میں مفلر بھی تھا۔ اس کے باوجود درختوں کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ ٹھنڈ سے کپکپانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے نہر کے پل تک پہنچا۔ یہاں ہر چیز دھند میں اٹی ہوئی تھی اور کہرا پڑ رہا تھا۔ پل کے نیچے سے گزرتا پانی مدھم سی سرگوشیاں کرتا بہہ رہا تھا۔ اس نے پل کی دیوار پر اپنا ہاتھ رکھا تو اس کا ہاتھ گیلا ہو گیا۔ پل سے نیچے اترنے سے پہلے اس نے رک کر گردوپیش کے منظر پر نظر دوڑائی۔ گہری تاریکی کے باوجود ایک مدھم سی روشنی سارے میں پھیلی ہوئی تھی۔ پل سے نیچے اتر کر وہ کچھ دیر کچی سڑک پر چلتا رہا۔ اس کے بعد وہ داہنے ہاتھ پر واقع کھیتوں کے اندرگھس گیا اور گیلی گھاس پر پاؤں جما کر چلنے لگا۔ کچھ آگے جا کر وہ ٹھہر گیا اور پکوڑافروش کو آوازدینے لگا۔ اس نے آس پاس بہت غور سے دیکھا۔ اسے نہ کہیں سے اٹھتا ہوا دھواں نظر آیا اور نہ ہی فضا میں چرس کی خوشبو محسوس ہوئی۔ وہ ہاتھ سے جھاڑیوں کو ٹٹولتا رہا مگر نورل اسے کہیں بھی نہیں ملا۔

 

اس نے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ایسی جگہ کھڑا ہو گیا جہاں سے اسے پْل آسانی سے دکھائی دے رہا تھا۔ بہت وقت گزرنے کے بعد بھی اس طرف سے کوئی نہیں آیا۔ وہ مخمصے میں تھا۔ اسے اپنے دوست سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔ وہ اس پر ہمیشہ اندھا اعتماد کرتا رہا تھا۔

 

ملاقات کے لیے مقررہ وقت میں تھوڑی دیر باقی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے شمیم نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا ہو، مگر رہ رہ کر اسے پکوڑافروش کی دغابازی تنگ کر رہی تھی۔ اس کے بغیر وہ خود کو بے آسرا اور بے بس محسوس کر رہا تھا۔ وہ گومگو کے عالم میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ پچھلی بار بھی وہ اسی کے سہارے وہاں تک چلا گیا تھا، مگر آج وہاں تک جانا اسے پْرخطرمحسوس ہو رہا تھا۔ اس کا ذہن اسے باربار وہاں سے چلے جانے کے لیے کہہ رہا تھا مگر اس کا دل اس کے قدم روکے ہوئے تھا۔ رہ رہ کر اسے شمیم کا مخملیں بدن یاد آ رہا تھا۔ اس کی یاد کی کشش خودبخود اس کے قدموں کو اپنی طرف کھینچنے لگی۔

 

وہ چاروں طرف سے کماد کی فصل میں گھرا ہوا تھا۔ اِدھراْدھر نظر ڈالنے پر اسے ایک پگڈنڈی دکھائی دینے لگی اور وہ اس پگڈنڈی پر چلنے لگا۔ کچھ آگے جا کر وہ فصل سے باہر نکلا۔ احتیاط سے آس پاس دیکھتے ہوئے اس نے گوٹھ کی جانب جانے والا راستہ عبور کیا اور اس طرف کھڑی فصل کے اندر چلا گیا۔ فصل کے درمیان چلتے چلتے اسے پانی کی قلقاریاں سنائی دینے لگیں۔ پانی کا نالا قریب ہی واقع تھا۔ کچھ دور جا کر وہ ایک بار پھر کماد کی فصل سے باہر نکلا اور سیمنٹ سے بنے پختہ نالے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ شرینہہ کے درخت کے پاس پہنچ کر وہ نالے کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ آج اس کی سطح اْس دن سے بھی زیادہ ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ٹھنڈ سے کانپنے لگا تھا۔ نورل کی غیرحاضری پر اسے جی ہی جی میں غصہ آ رہا تھا۔ اس کا ذہن اب بھی اسے واپس جانے پر اکسا رہا تھا۔ وہ باربار اس خیال کو رد کر رہا تھا۔ اس کے دل میں کہیں یہ خواہش بھی چٹکی لے رہی تھی کہ وہ جا کر حویلی کے اس دروازے کو نزدیک سے دیکھ لے جہاں سے اس دن شمیم آئی اور گئی تھی۔

 

اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی۔ کماد کی فصل میں یخ ہوا کے جھونکے سرسرا رہے تھے۔ ان کی سرسراہٹ پر اسے باربار کسی چڑیل کی ہنسی کا گمان گزرتا تھا۔ وہ گرد ن موڑموڑ کر اس جانب دیکھنے لگتا تھا۔ اس طرف پانی کے نالے کی لکیر دور تک چلی گئی تھی جبکہ دوسری طرف ایک کھیت خالی پڑا ہوا تھا۔ وہاں اگلے مہینے کپاس کا بیج ڈالا جانا تھا۔

 

وہ ٹھٹھرتا کانپتا ہوا نالے پر بیٹھا، شمیم سے اب تک ہونے والی ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔ یاد کی شدت نے اسے اٹھنے پر مجبور کیا۔ وہ اٹھ کر خالی کھیت کی جانب بڑھا۔ کھیت میں چلتے ہوئے اس کے پاؤں کے نیچے سوکھی لکڑیاں چرچرانے لگیں۔

 

“وہ شاید آخری مکان میں رہتی ہو گی، نورل جسے باربار حویلی کہہ رہا تھا،” اس نے سوچا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور اردگرد دیکھنے لگا۔

 

اسے معاً کسی دروازے کی کنڈی اترنے کی آواز اور پھر دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ سنائی دی۔ چند لمحوں کے بعد ایک دھیمی سی ہشکار اس کے کانوں میں پڑی۔ اس نے شمیم کے سائے کو دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا تو اطمینان کی لمبی سانس لینے لگا۔ اس کے ذہن سے تمام اندیشے اور وسوسے آناً فاناً مٹ گئے۔ ناہموار زمین پر دھیرے دھیرے چلتا ہوا وہ اس کے قریب پہنچ گیا۔ رات کے تیسرے پہر جب دنیا گھٹاٹوپ اندھیروں کے فسوں میں لپٹی، نیند کے خمار میں ڈوبی ہوئی تھی، دو پیار کرنے والوں کے سائے ایک دوسرے کے نزدیک آ کر، ٹھٹک کر رک گئے۔ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹوں کے جگنو دو لمحوں کے لیے جگمگائے اور انہیں لاحق تشویش کی دھند میں چھپ گئے۔
“میں بہت دیر سے تمھاری منتظر ہوں۔ تین بار دروازے سے باہر جھانک کر دیکھا مگر تم نظر نہیں آئے۔ میں پریشان اور مایوس ہو رہی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ تم نہیں آؤ گے۔ شاید تم مجھ سے روٹھ گئے… یا۔۔۔” وہ دھیمے لہجے میں بات کرتی کرتی رک گئی۔ اس کے لہجے کے اتارچڑھاؤ سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنی موجودہ صورتِ حال سے گھبرائی ہوئی ہے اور اسے اپنی باتوں میں ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔

 

نذیر نے آہستگی سے کہنا شروع کیا: “میں یہاں بہت پہلے پہنچ جاتا مگر میرا رازدار عین وقت پر آج مجھے دھوکا دے گیا۔ پھر تم جانتی ہی ہو کہ آدھی رات کو قصبے سے نکل کر اس طرف آنا کتنا بڑا جوکھم ہے۔ ہے کہ نہیں؟” وہ اپنے استفسار کے بعد شمیم کی طرف دیکھنے لگا۔

 

وہ جواب دینے سے پہلے دھیرے سے ہنسی۔ اس کی ہنسی کی مدھم سی کھنک نے سناٹے کا سینہ چاک کر دیا۔ “جوکھم تو ہے، مگر تم سے زیادہ بڑا جوکھم تو میں نے مول لیا ہے۔ سنو!میرے سب گھروالے اس وقت گہری نیند سو رہے ہیں۔ تم چیزوں کو دیکھ بھال کر آہستہ آہستہ میرے پیچھے آؤ۔ دیکھو، کسی چیز سے ٹکرا کر گر مت جانا!” اس کے لہجے سے جھلکتی شوخی یہ عندیہ دے رہی تھی کہ وہ اپنی تشویش اور گھبراہٹ پر قابو پاتی جا رہی ہے۔

 

وہ آگے بڑھی تو نذیر بولایا ہوا سا دروازے کو بھیڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔

 

شمیم نے پلٹ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا، “سمجھ گئے نا؟ آؤ۔”
نذیر نے چند قدم آگے بڑھا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ “کوئی خطرہ تو نہیں ہے؟”

 

یہ بات سن کر اس نے بمشکل اپنے آپ کو ہنسنے سے روکا۔ “ڈرتے ہو تویہاں تک آئے کیوں ہو؟” یہ کہہ کر وہ آگے چل پڑی جبکہ وہ ہولے ہولے اس کے پیچھے آنے لگا۔

 

دروازے سے کچھ دور جا کر ایک طویل برآمدہ شروع ہوتا تھا جہاں کئی ستون قطاروار کھڑے تھے۔ برآمدے میں ایک طرف تین کمرے واقع تھے جن کے دروازے بند تھے۔ برآمدے سے گزر کر وہ ایک کشادہ صحن میں آ گئے۔ صحن میں سو کینڈل پاور کے ایک بلب کی پھیکی سی روشنی پھیلی تھی۔ نذیر دبے پاؤں چلنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کے بے ترتیبی سے پڑتے ہوئے قدم آواز پیدا کررہے تھے، جبکہ شمیم اس طرح بے آواز قدم اٹھا رہی تھی جیسے پانی کی سطح پر چل رہی ہو۔

 

کشادہ صحن میں چلتے چلتے داہنی طرف واقع ایک بڑے سے چھپر کے نیچے پہنچ کر وہ دونوں ٹھہر گئے۔

 

“میں نے تمھارے لیے بہت پہلے سے ہی چائے تیار کر لی تھی۔ تم یہاں کھاٹ پر بیٹھو۔ میں چائے لے آتی ہوں۔” یہ کہہ کر وہ کشادہ صحن کے کونے پر واقع باورچی خانے کی سمت چلی گئی۔

 

نذیر اسے بلب کی پھیکی روشنی میں جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ وہ اپنے دل و دماغ میں شدید بے قراری محسوس کر رہا تھا۔ اس وجہ سے اس کے لیے بیٹھ جانا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ وہ چھپر کے نیچے دھیرے دھیرے ٹہل کر گھر کا جائزہ لینے لگا۔ یہاں سے اس کی نگاہ پورے گھر کا احاطہ کر رہی تھی۔ اس نے باورچی خانے سے ملحقہ لکڑی کے اونچے سے دروازے کو دیکھا جو شاید گھر میں داخل ہونے کا مرکزی راستہ تھا۔

 

شمیم کو واپس آتا ہوا دیکھ کر وہ بیٹھ گیا۔ اس نے ایک ہاتھ میں کیتلی اور دوسرے میں دو پیالیاں اٹھا رکھی تھیں۔ چھپر کے نیچے پہنچ کر اس نے پیالیاں کھاٹ پر رکھ دیں اور کیتلی سے ان میں چائے انڈیلنے لگی۔

 

نذیر خوش دلی سے گویا ہوا، “تم نے بہت اچھا کیا کہ اس وقت چائے بنا لی۔”

 

شمیم چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھاتے دھیرے سے ہوئے بولی، “رات میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے اور پالا بھی گرتا ہے۔ اس لیے اس وقت چائے بہت ضروری تھی۔”

 

“میں پہلی بار تمھارے ہاتھ سے بنی چائے پیوں گا،” نذیر نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔ اس نے شمیم کی طرف دیکھا تو وہ اپنے سر پر ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے بیٹھی تھی۔

 

“تم جانتے ہو، مہمان نوازی تو ہماری رگ رگ میں شامل ہے۔”
“بالکل ٹھیک کہتی ہو،” وہ چائے کا گھونٹ لے کر کہنے لگا۔ “درازہ شریف میں ہونے والی ملاقات کے بعد میں سمجھا کہ تم ڈر گئیں اور اب مجھ سے ملنا نہیں چاہتی۔ “

 

وہ ہنسی۔ “میں تم سے نہیں ملنا چاہتی؟ اچھا! تو تم میرے بارے میں یہ سوچتے رہے؟ مجھے تاپ چڑھ گیا تھا۔ پورا ایک ہفتہ میں کھاٹ پر بیمار پڑی رہی۔ نوراں نے تمھارے پیغام مجھ تک پہنچائے تو تھے مگر میں نے ملنے سے منع کر دیا تھا۔”

 

“مگر میں تمھاری بیماری کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔”

 

“میں نے اسے کہا تو تھا کہ وہ اس بارے میں تمھیں بتا دے۔” وہ باربار گردن گھما کر برآمدے کی طرف دیکھ رہی تھی۔

 

“اس روز تمھارے شوہر کو مجھ پر شک تو نہیں ہوا؟”

 

وہ کسمسا کر بولی، “اسے شک نہیں ہوا۔ ویسے قبرستان بہت خوفناک جگہ ہے۔ قبروں کے درمیان پیار کی باتیں کرنا مجھے عجیب لگ رہا تھا۔ مگر تم مجھے اچھے لگتے ہو اس لیے تم سے ملنے کی خاطر میں وہاں چلی آئی۔” وہ مسکرائی۔

 

“مجھے تم سے وہاں ملنے کے لیے جب کوئی اور جگہ نہیں مل سکی تو قبرستان کا انتخاب کرنا پڑا۔” وہ پہلی بار ہنسا۔ “تمھارے ہاتھوں کی چائے بہت مزیدار ہے۔”

 

اپنی تعریف سن کر وہ مسکرائی، پھر اسے اپنے شوہر اور اپنے سسرال والوں کے بارے میں بتانے لگی۔ اس کی یہ باتیں سنتے ہوئے نذیر جماہیاں لینے لگا۔ وقفے وقفے سے گوٹھ کے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ چھپر کے کسی کونے میں چھپا ہوا جھینگر بھی مسلسل شور مچا رہا تھا۔

 

اس کی باتوں کے دوران نذیر نے اپنی جیب سے اس کے لیے بنوایا ہوا ہارنکالا اور اسے ہاتھ میں لہرا کر اسے دکھاتے ہوئے کہنے لگا، “میں نے سنارسے تمھارے لیے یہ ہار بنوایا ہے۔”

 

ہار کو دیکھ کرشمیم اپنی خوشی کو دبا نہ سکی۔ وہ بے ساختہ ہنسنے لگی۔ “میرے لیے؟”

 

“ہاں، تمھارے لیے۔ اگر تم اجازت دو تو میں یہ ہارتمھاری گردن میں پہنا دوں۔”

 

اسے جواب دینے کے بجاے وہ شرمانے لگی۔ نذیر اٹھ کر اس کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں ہار تھام لیا اور ذراسا جھک کر اپنے یخ بستہ ہاتھ اس کی نرم گردن تک لے گیا۔ اس کی انگلیاں اس کی مخملیں گردن کو چھونے لگیں۔

 

اس نے چہرہ جھکا لیا تھا۔ اس کی انگلیوں کو گردن پر محسوس کرتے ہوئے اسے گدگدی سی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو ہنسنے سے مشکل سے روکے ہوئے تھی۔ اس کی بنجر اور بیزار زندگی کے لیے یہ لمحات مسرت و شادمانی سے بھرپور تھے، مگر ساتھ ہی اس کے دل کو گھر کے کسی فرد کے جاگ اٹھنے کا دھڑکا بھی لگا ہوا تھا۔ اسی لیے وہ اپنی خوشی کا دبا دبا اور گھٹا گھٹا سا اظہار کر رہی تھی۔
کم روشنی کی وجہ سے نذیر ہار کی زنجیر بند نہیں کر سکا۔ عاجز آ کراس نے ہار شمیم کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ “یہ تم خود ہی پہن لینا۔ اور اب اپنے پیارے پیارے ہاتھ مجھے دکھاؤ۔” وہ اس کے مقابل آ کر زمین پر بیٹھ گیا اور اس کے سمٹے ہوئے نرم ہاتھوں کو اپنے کھردرے ہاتھوں میں لے کر انہیں دبانے لگا۔ پھر انہیں اپنے چہرے پر لے جا کر محسوس کرتا رہا۔ اس کے بعد وہ اس کی ہتھیلیوں کو اپنے ہونٹوں سے چومنے لگا۔

 

“ہار نیچے گر گیا،” شمیم نے سرگوشی سے اسے بتایا۔

 

نذیر فوراً اس کے ہاتھوں کو چھوڑ کر، زمین پر جھک کر مٹی میں ہاتھ مارتے ہوئے ہار ڈھونڈنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسے مل گیا۔ اس نے اپنی قمیض سے ہار صاف کر کے اسے تھما دیا۔ “تم پہن لو ابھی۔”

 

شمیم نے اس کا کہا مان لیا اور ہار پہن لیا۔ اس کے بعد اس نے کیتلی اٹھائی اوراس میں سے چائے انڈیل کر اسے پینے کے لیے دوسری پیالی پیش کی۔ چائے پیتے ہوئے وہ مسلسل اس کی تعریف کرنے لگا۔ شمیم نے جب اس سے ہار کی قیمت دریافت کی تواس نے ہار کی جھوٹی قیمت بتائی۔ زیادہ قیمت کا سن کر وہ مرعوب ہوئی اور اسے اپنے پاس پہلے سے موجود زیورات کے متعلق بتانے لگی۔

 

اس کی بات کاٹتے ہوئے نذیر نے کہا، “آج میں صبح تک تمھارا مہمان ہوں۔”

 

“ہاں میرے پیارے۔”

 

اس مرتبہ نذیر اس کے نزدیک ہی بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی اس نے اپنا ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کر دیا۔ اگلے ہی لمحے کسی مزاحمت کے بغیرشمیم اس سے لپٹ گئی۔ نذیرکے پیاسے اور خشک ہونٹ شمیم کے نازک اور شیریں لبوں سے زندگی کا رس کشید کرنے لگے۔ وہ اس کے بوسوں کی شدت کے سامنے عاجز اور بے بس ہوتی چلی گئی۔ اس نے آنکھیں زور سے میچ لیں اور خود کو اس کے پیار کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی ندی کے دھارے پر چھوڑ دیا، جو اس کے لبوں سے ہوتا ہوا دھیرے دھیرے اس کے پورے وجود تک پھیلتا چلا گیا۔ نذیر کا جوش جتنا بڑھتا جا رہا تھا وہ اس کے بازوؤں میں اتنی ہی سمٹتی جا رہی تھی، پگھلتی جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں دونوں اپنی قباؤں سے بھی یکسر بے نیاز ہو گئے۔

 

پہلی بار کسی عورت کا جسم نذیر کے سامنے پوری طرح کھلا تھا۔ خود کو سنبھالنے کی کوشش کے باوجود اس کی وحشت بے قابو ہوتی جا رہی تھی۔

 

شمیم آنکھیں میچے لمبے سانس بھر رہی تھی۔ اس کا ہر سانس، اس کی ہر سسکی، اس کی ہر لذت بھری آہ نذیر کی احسان مند تھی۔ اس کی رگوں میں عرصے سے جما ہوا لہو کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا تھا۔ اس کی نرم و گداز اندام نہانی گلاب کے پھول کی طرح کھلی ہوئی تھی اور عضوِ خاص کے لیے مچل رہی تھی۔

 

چھپر کی چھت سے اچانک ایک غراتی اور چیختی ہوئی بلی نذیر کی پشت پر آ گری۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی چڑیل آ کر اس کی پیٹھ سے چمٹ گئی ہے۔ نذیر کا منھ زوردار چیخ کے لیے کھلنے ہی والا تھا کہ شمیم نے اس پر ہاتھ رکھ دیا، مگر اس بیچارے کی روح فنا ہو چکی تھی۔ بلی کے پنجوں نے نذیر کی پشت کو زور سے رگیدا۔ اس کے بعد وہ اس کی پشت سے اتر کر چھپر کے کونے میں کہیں غائب ہو گئی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

میر واہ کی راتیں – ساتویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ٹھری میرواہ واپس پہنچنے کے بعد وہ کچھ روز تک دکان پر نہیں گیا۔ نجانے کیوں ایک جگہ بیٹھ کر کام کرنے کے خیال سے ہی اسے وحشت ہونے لگی تھی۔ مگر اس کے لیے سارا دن گھر پہ رہنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ چاچی خیرالنسا کے لیے اس کی آنکھوں سے حیا ختم ہو گئی تھی۔ وہ جب چولھے پر جھکتی تو وہ ڈھٹائی سے اس کے جسم کی طرف دیکھنے لگتا اور ٹکٹکی لگائے دیکھتا ہی رہتا۔

 

ایک شام وہ صحن میں پیڑھی پر بیٹھی وضو کرتے ہوئے اپنی ایڑیوں کا میل اْتار رہی تھی۔ بے دھیانی میں اس نے اپنی شلوار گھٹنوں تک کھینچ لی تھی۔ نذیر کو انہیں تاکنے کا موقع مل گیا۔ اس کی پنڈلیاں اسے بہت گداز محسوس ہوئیں۔ چاچی نے معاً اس کی طرف دیکھا تو اس کی بے حیا نظروں سے وہ جھینپ کے رہ گئی اور فوراً اْٹھ کر جانماز پر نماز کی نیت باندھ کر کھڑی ہو گئی۔

 

وہ انتظار میں رہنے لگا تھا کہ وہ اسے چارپائی پر سوئی ہوئی نظر آ جائے۔ ایسے میں اس کی قمیض ذرا سی کھسک جاتی تھی اور اس کا لو دیتا بدن جھانکنے لگتا تھا۔

 

اگر کبھی اسے غسل خانے میں چاچی کے لٹکے ہوئے ریشمی کپڑے مل جاتے، وہ ان کی ملائمت محسوس کرنے کی خاطر انہیں اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھوتا اور اپنے ہونٹوں سے لگا کر چومتا۔

 

اس کے لیے چاچی سے گفتگو کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اس سے باتیں کرتے ہوئے اچانک اس کی نظریں اس کے بدن پر بھٹکنے لگ جاتی تھیں۔ وہ اس کے گداز بھرے بازو کو دیکھنے لگتا تو خودبخود اس کی زبان میں لکنت پیدا ہو جاتی۔ اسے موقع محل کے مطابق مناسب لفظ نہ سوجھتا اور وہ جملوں کو توڑ کر بچوں کی طرح بولنا شروع کر دیتا۔

 

ایک بار وہ دیر تک پورے انہماک اور سنجیدگی کے ساتھ اس سے دست درازی کرنے کے متعلق سوچتا رہا مگر ایسا کرنے کی وہ اپنے اندر ہمت محسوس نہیں کر سکا۔ اسے لگتا تھا کہ چاچی جان بوجھ کر اس کی آنکھوں کے لیے منظر بناتی تھی لیکن اس کی بے لگام آنکھوں کو برداشت بھی نہیں کر پاتی تھی۔ اس کا لگاتار دیکھنا بھی اسے اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ جلد ہی بیزار ہو جاتی اور اس کے چہرے پر تنفر اور بیزاری کے آثار پیدا ہو جاتے اور وہ فوراً اپنا جسم ڈھانپنا شروع کر دیتی۔ کئی مرتبہ اس نے اس کی بے معنی سی بڑبڑاہٹ بھی سنی تھی۔ اس عورت کے سامنے دل کھولنا آسان نہیں تھا۔ وہ سوچتا، دوری کے اس سراب کے درمیان قرب کا دھوکا شاید ختم ہو جائے۔ وہ دونوں جہاں پر تھے، کیا پتا آنے والے دنوں میں اس سے اور زیادہ پیچھے چلے جائیں۔

 

چاچی خیرالنسا کے وجود سے اٹا یہ مکان اکثر اسے کاٹنے لگتا۔ اس لیے وہ صبح سویرے گھر سے نکل جاتا اور شام کو واپس لوٹتا۔ وہ شمیم سے دوبارہ ملنا چاہتا تھا۔ ملاقات کا ڈول ڈالنے کی اس نے پوری کوشش کی مگر اس کے کسی بھی پیغام کا مثبت جواب نہیں آیا۔ جب اس نے پکوڑافروش سے اس کی وجہ جاننی چاہی تواس نے بتایا کہ وہ عورت ذات ہے، تھوڑابہت نخرہ تو کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس رات کے پچھلے پہر درازہ شریف کے قبرستان کا ماحول بہت خوفناک تھا۔ شاید اس پر کوئی اثر ہو گیا ہو اور کسی آسیب یا سائے کی وجہ سے وہ اس سے ملنے سے گریز کرنے لگی ہو۔

 

نذیر نے نورل کی اس بات کو من گھڑت سمجھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس رات کے بعداب شمیم اس سے اپنا تعلق ختم کرنا چاہتی ہے۔ وہ حیران تھا کہ اس سے ملنے کی خاطر دو مرتبہ خطرہ مول لینے کے بعد وہ اب کیونکر محتاط ہو گئی تھی۔ دوسرے رقیب کا خدشہ بھی خارج از امکان نہیں تھا یا پھر ہو سکتا ہے کہ اس کے ٹیلی فون آپریٹر شوہر کے کان میں ان کے پیار کی بھنک پڑ گئی تھی۔

 

اسے نورل پر بھی شک ہونے لگا تھا کہ اس نے اس کے شوہر سے مل کر سازباز نہ کر لی ہو یا نذیر سے دوستی کی آڑ میں اس کے لیے بھڑوت گیری کرنے سے وہ بیزار نہ ہو گیا ہو۔ مگر شاید اس کا خیال غلط تھا کیونکہ پکوڑافروش ویسے کا ویسا ہی تھا۔ وہ اب اس سے روپے بھی نہیں لیتا تھا۔

 

ایک مرتبہ اسے یہ اذیت ناک خیال آیا کہ شمیم سے ملاقاتوں میں دونوں مرتبہ وہ اپنی بھرپور مردانیت کا مظاہرہ نہیں کر سکا تھا۔ اسی لیے وہ اس سے روٹھ گئی اور اس کے حصے میں چند بوسوں کے علاوہ کچھ نہیں آ سکا۔ وہ چند بوسے اسے بہت ناکافی محسوس ہو رہے تھے۔ وہ اس کے وصل کی پوری لذت سے بہرہ یاب ہونا چاہتا تھا۔

 

شمیم کے ہجر کے ان روزوشب میں وہ خود کو زیادہ اکیلا محسوس کرنے لگا تھا۔ حیدری مذاق کے طور پر اسے جو طعنے دیتا اور جو پھبتیاں کستا، وہ اس کی تکلیف کو مزید بڑھا دیتیں۔ وہ سمجھنے لگتا کہ اپنی کم ہمتی اور ناتجربہ کاری کے سبب اس نے خود کو ایک شادی شدہ عورت کی نظروں میں بے وقعت ظاہر کر دیا تھا، اسی لیے اب وہ اس سے ملنے سے گریز کر رہی تھی۔

 

کچھ نئی عادتیں اور نئے مشغلے بھی اس کی اذیت کو کم نہیں کر سکے۔ اگرچہ قصبے کی ساری گلیاں اور سارے مکان اس کے دیکھے بھالے تھے، اس کے باوجود وہ بہت سا وقت آوارہ گردی میں گزارنے لگا۔ اس دوران راستے میں اسے کوئی لڑکی یا برقع پوش عورت نظر آتی تو وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیتا۔ وہ خاتون یا لڑکی جس مکان میں داخل ہوتی وہ اس کے دروازے پر ٹکٹکی لگائے اس گلی میں جا کھڑا ہو جاتا اور خوامخواہ اس مکان کی دیواروں کے رخنوں اور دروازے کی درزوں سے جھانکنے لگتا۔ کبھی کبھار کوئی آدمی اس کی اس حرکت کا برا منا کر اسے للکارتا تو وہ فوراً وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا۔

 

قصبے کی دکانوں پر ویڈیو گیم اور کیرم بورڈ، ڈبّو اور بلیئرڈ کھیل کھیل کر اس کی طبیعت اب ان سے بھی سیر ہو گئی تھی۔

 

وہ شمیم کے نرم و لذیذ لمس اور بوسوں کو فراموش کرنا چاہتا تھا۔ جب تک اس نے اس کے شوہر کو نہ دیکھا تھا، تب تک وہ اپنی تصوراتی دنیا میں خود کو اس کے پرشباب اور پرلطف جسم کا اکلوتا مالک سمجھتا تھا، مگر اب ٹیلی فون آپریٹرایک ایسی حقیقت بن کر سامنے آ چکا تھا اس کے لیے جسے جھٹلانا ناممکن تھا۔

 

وہ یہ سوچ کر کڑھتا رہتا اور دل ہی دل میں تاؤ کھاتا رہتا کہ وہ ٹیڑھا بینگا شخص اس جسم کا یکہ و تنہا مختار تھا۔ وہ اس کے نکاح میں داخل تھی۔ اس کے روزوشب اس شخص کی خاطرمدارات میں بسر ہو رہے تھے۔ وہ جب چاہتا، اس سے خلوت میں وصل کی لذت سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔ نذیر کے لیے سب سے کربناک بات یہی تھی۔ یہ ہر وقت اس کے ذہن پر مسلط رہتی تھی اور اس کے لیے اس سے نجات پانا ممکن نہیں تھا۔ جب بھی ان خیالات کی اذیت ناکی حد سے بڑھنے لگتی تو وہ دانت کچکچانے لگتا، بے بسی سے اپنی مٹھیاں بھینچتا اور ہیجانی انداز میں زیرِلب بڑبڑاتا۔ “وہ گہرے سرور سے بھری ہوئی ایک صراحیِ مے ہے جو پوری کی پوری اس کڈھب آدمی کی دسترس میں ہے۔”

 

اس پر یہ مجنونانہ کیفیت عارضی طاری ہوتی۔ جب وہ اس کیفیت سے باہر آتا تو سکون کے لمحوں میں اپنے آپ کو سمجھانے لگتا۔ اس کی زندگی میں وہ پہلی عورت تھی جس نے اس کے غیرسنجیدہ رومان کا جواب پورے خلوص اور سنجیدگی سے دیا تھا۔ وہ اس رات صرف اس کی خاطر اپنے گھر، اپنے شوہر، اپنے گرم بستر اور لحاف کو چھوڑ کر اس سے ملنے آئی تھی۔ وہ اس کی دست درازی اور اس کی بوسہ بازی کو برداشت کرتی رہی تھی۔ وہ ہرگز کوئی فاحشہ نہیں تھی اور نہ ہی قیمتی چیزوں پر مرنے والی تھی۔ شاید اسے محبت کی ضرورت تھی، اور وہ اس کی یہ ضرورت پوری کرنے کو تیار تھا۔ اس نے اپنی بے لگام جسمانی خواہشوں کو ملعون و مطعون قرار دیا۔

 

کیا وہ پردہ نشین شمیم کے لیے اپنے دل میں محبت محسوس کرنے لگا تھا؟ اس کے لیے اپنے بدن میں اٹھتے طوفانوں اور ہیجانوں کو محبت قرار دینا بہت مشکل تھا۔ یہ کوئی اور ہی چیز تھی، محبت سے بھی زیادہ گہری، پراسرار اور عمیق چیز۔

 

بہت سوچ بچار کے بعد بالآخراس نے فیصلہ کیا کہ شمیم کو ایک آخری تحفہ بھجوائے۔ ہو سکتا ہے، تحفہ پا کراس کے دل میں امڈ کر ہیجان برپا کرنے کے بعد یخ بستہ ہونے والے اس کے پرجوش جذبات کی پرانی رو ایک مرتبہ پھر عود کر آئے۔ یہی خیال ذہن میں لا کر وہ رحیم سنار کے پاس گیا جو قصبے کا پرانا اور مشہور زرگر تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید زیور کے تحفے کی بدولت اس سے دوبارہ ملنے کی سبیل نکل آئے۔

 

زیورات کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔ وہ زرگر گلی میں واقع میلے کچیلے شوکیسوں والی ایک دکان میں داخل ہوا تو اپنے کام میں مصروف بوڑھے سنار نے اپنا سر اٹھا کر ٹوہ لینے والی نظروں سے اسے دیکھنے کے بعد، مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ اس نے اپنے ایک ہاتھ میں پکڑا جلتا ہوا دِیا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑا زیور ایک طرف رکھ دیا اور اپنے نوجوان گاہک کی طرف متوجہ ہوا۔

 

نذیر میلی کچیلی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا، “میں نے آپ کے کام کی بہت دھوم سنی ہے۔ مجھے آپ سے ایک چھوٹا سا زیور بنوانا ہے۔ “

 

اپنی تعریف سن کر بوڑھا زرگر ہنسا، پھر اپنی موٹے شیشوں والی عینک کو اپنی میلی قمیض سے صاف کرتے ہوئے بولا، “عزت اور ذلت دینا میرے رب سائیں کا کام ہے، میرا کام صرف محنت کرنا ہے۔”

 

نذیر نے اس سے ہار بنانے کی فرمائش کرتے ہوئے کہا کہ ہار بے شک چاندی کا بنا ہوا ہو مگر پہلی نظر میں دیکھنے پر وہ سونے کا معلوم ہونا چاہیے۔ اس کی چمک اتنی جلدی ماند نہ پڑے اور اس کی قیمت بھی بہت زیادہ نہ ہو۔

 

نذیر کی باتیں سن کر رحیم سنار کو اس کے دل تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔

 

“یہ کام تو میرے بائیں ہاتھ کا ہے۔ مگر میں اس کے پیسے ایڈوانس لوں گا۔”

 

نذیر نے مطلوبہ رقم زرگر کے حوالے کی تو وہ کہنے لگا کہ پرسوں آ کر وہ اپنا ہار لے جائے۔ نذیر دکان سے مطمئن ہو کر باہر نکل گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر کی دکان سے لگاتار غیرحاضری پر چاچا غفور یہی سمجھتا رہا کہ اب تک اس کے بھتیجے کی صحت بہتر نہیں ہے۔ وہ ہر روز نذیر کو گھر میں سوتا ہوا چھوڑ کر اکیلا ہی دکان پر جاتا رہا۔ جب دکان سے اس کی غیرحاضری طول پکڑنے لگی تو چاچے کے دل میں شبہات سر اٹھانے لگے۔ اس نے ان شبہات کو کچل کر دل سے نکالنے کی بہت کوشش کی، مگر ان کی خودسری بڑھنے لگی۔ اس نے یعقوب کاریگر کو اپنے اندیشوں میں شریک نہیں کیا۔ سْبکی کے خوف سے پہلی بار اس نے کاریگر سے کوئی بات چھپائی۔ اس کا خیال تھا کہ شاید وہ اس کا مذاق اڑاتا اور اس کے لیے زندگی بھر کے لیے کوئی پھبتی ایجاد کر لیتا۔ اسی خوف کے سبب اس نے اسے شاملِ راز نہیں کیا۔

 

جب اس کے دل میں پہلے شک نے رینگتے ہوئے جگہ بنائی تو وہ بہت جزبز ہوا تھا اور اس نے اسے پوری شدت سے رد کرنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ کانٹے کی طرح اس کے دل میں پیوست ہو گیا تھا۔ اس نے خود کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ اس کا بھتیجا ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ وہ اسے اچھی طرح جانتا تھا۔

 

روزانہ گھر سے نکلتے وقت وہ برآمدے میں کھاٹ پر بے سدھ سوئے نذیر کو گھور کر دیکھتا۔ اس وقت اسے محسوس ہوتا کہ وہ رضائی کے نیچے آنکھیں کھول کر لیٹا ہو گا اور اس کے گھر سے جانے کا انتظار کر رہا ہو گا۔ بوڑھا درزی ایسے خیالات کو جھٹکنے کے لیے باربار اپنا سر ہلانے لگتا، اور گھر کی دہلیز سے نکلتے وقت اس کا دل ڈوبنے لگ جاتا۔ گلی میں چلتے ہوئے باربار اس کے قدم ٹھٹک کر رک جاتے۔ وہ مڑ کر لمحہ بھر کے لیے سوچتا مگر گھر لوٹنے سے ہر بار گریز کرتا۔

 

دکان پر تمام دن وہ اسی ادھیڑبن میں مبتلا رہتا۔ شام کو جب واپس لوٹتا تو گھر کے کونوں کھدروں میں جھانکتا پھرتا، جیسے کوئی ثبوت تلاش کرنا چاہتا ہو۔ وہ باتوں کے دوران اپنی بیوی کو کرید کر بھتیجے کے رویے اور اس کی عادتوں کے متعلق پوچھتا رہتا۔

 

چاچی خیرالنسا کے گمان میں نہیں تھا کہ اس کے ذہن میں کیسے خیالات رینگ رہے تھے۔ اس کی ذہنی حالت سے بے بہرہ، وہ عام سے انداز میں اسے دن بھر کی مصروفیات کا احوال سنا دیتی۔ اس کی باتیں سنتے ہوئے چاچا اس کے چہرے کو گہری نظروں سے گھورتا رہتا۔ پھر مایوس ہو کر،کوئی خاص بات معلوم نہ کر سکنے کے دکھ میں مبتلا ہو کر وہ ٹھنڈے سانس بھرنے لگتا اور اپنے ایک ہاتھ کی مٹھی کو دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارتا رہتا۔

 

نذیر چاچے غفور کے بدلتے تیوروں اور رویوں پر حیران تھا۔ اب وہ نذیر سے کم ہی بات کرتا تھا اور اکثراوقات ٹوہ لینے والی نظروں سے اسے گھورتا رہتا تھا۔ نذیر کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔

 

ایک روز دوپہر کو اچانک کام روک کر وہ یعقوب کاریگر سے بہانہ بنا کر دکان سے نکلا۔ وہ پْرامید جوش میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اپنی گلی میں داخل ہوا۔ مگر جوں جوں گھر کے قریب پہنچنے لگا، اس کے اوسان خطا ہونے لگے۔ کچھ اور آگے جا کر اس کا سر چکرایا اور پاؤں ڈگمگائے مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔ وہ گھر کے دروازے تک پہنچا اور کچھ دیر تک کان لگائے وہاں کھڑا رہا مگر اسے اندر سے کوئی آواز نہیں سنائی دی۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ یہاں سے اندر داخل ہوا تو وہ لوگ اس کے قدموں کی چاپ سن لیں گے۔ وہ برسوں سے مقفل دروازے پر گیا جس کا راستہ دوسری گلی سے تھا جو ایک بند گلی تھی۔ وہ وہاں کھڑا بند گلی کو دیکھتا رہا۔ اس کے گھر کی پرانی دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی۔ پہلی بار دروازے پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ پیٹھ کے بل گلی کے کنارے پر بنی ہوئی نالی میں گرتے گرتے بچا۔ دوسری مرتبہ اس نے دروازے پر مضبوطی سے پیر جمایا اور کنڈی کے لوہے کو زور سے پکڑ کر گھر کے پچھلے حصے میں کود گیا۔ غسل خانے کی طرف سے کپڑے دھونے کی دھپ دھپ سن کر اسے سخت مایوسی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ اس جانب سے گھر میں داخل ہوا تو وہ اسے دیکھ کر پریشان ہو جائے گی۔ وہ چپکے سے دبے پاؤں واپس چلا گیا، مگر شک کا کانٹا کسی طور اس کے دل سے نہیں نکل سکا۔

 

شام کو دکان سے واپس آنے کے بعد اس نے دبے لفظوں میں نذیر سے دکان پر نہ آنے کی شکایت کی تو ندامت محسوس کرتے ہوئے اس نے اگلے دن دکان پر جانے کا وعدہ کر لیا۔

 

نذیراگلی صبح دکان جانے کے لیے تیار ہو کر گھر سے نکلا، مگر اس کے قدم اسے بہکا کر میرواہ کے کنارے واقع چائے خانے پر لے گئے جہاں اس کی مڈبھیڑ نورل سے ہو گئی۔ اس کے ہمراہ چرس پینے کے بعد دکان جانے کا خیال اس کے ذہن سے نکل گیا۔ اس نے چاچے غفو رکے حکم کی نافرمانی کی اور مزید کچھ روز تک جان بوجھ کر دکان نہیں گیا۔ چاچے نے اپنے بھتیجے کی ہٹ دھرمی دیکھتے ہوئے اسے دوبارہ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔

 

چاچا غفور نہیں چاہتا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بھی بات نکل کر مشہور ہو جائے۔ وہ خاندان بھر میں اپنی بدنامی سے خوفزدہ تھا۔ اس لیے اس نے اپنے بھتیجے پر دھونس نہیں جمائی، اسے ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔

 

اس نے میرپور ماتھیلو میں رہنے والے اپنے بڑے بھائی سے ایک مرتبہ نذیر کو اس کے پاس بھیجنے کے لیے کہا تھا۔ اس لیے وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اس نے گالم گلوچ کر کے اسے نکال دیا تو اس کی بہت جگ ہنسائی ہو گی اور پوری برادری میں اس کی ناک ہمیشہ کے لیے کٹ جائے گی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شام کی آوارہ گردی کے دوران ایک گلی میں نذیرکی مڈبھیڑ نورل سے ہو گئی۔ اس نے اسے ایک ایک حیران کن مگر خوشی سے لبریز خبر سنائی۔ کچھ دیر پہلے ہی نذیر نے زرگر کی دکان پر جا کر اس سے ہار وصول کیا تھا۔ ہار کے بارے میں پکوڑافروش کو بتانے سے پہلے ہی اس نے اسے دل خوش کن خبر سنا دی۔

 

نذیر وہ بات سن کر اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کے تو سان گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اتنی جرات مند اور دلاور بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں اپنے عاشق کو ملاقات کے لیے دعوت دے دے۔ خوشی میں اس نے بے اختیار ہو کر نورل کے کھردرے گالوں کو چوم لیا اور اس کی بے ترتیب مونچھوں کو تھپتھپانے لگا۔ اس کے بعد شام بھر وہ پکوڑافروش کو ساتھ لیے مختلف چائے خانوں میں گھومتا پھرا۔ اس نے نورل کو خوش کرنے کے لیے پچاس روپے کا نوٹ زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیا۔ اس نے ہار والی بات جان بوجھ کر اس سے پوشیدہ رکھی مبادا اس کے دل میں حرص پیدا ہو جائے اور وہ اپنی بیوی کے ذریعے مسرتوں بھری آئندہ ملاقات میں کھنڈت ڈال دے۔ رات نو بجے کے آس پاس اس نے اسے میرواہ کے پل پر خدا حافظ کہا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اگلی صبح عجیب واقعہ رونما ہوا۔ نذیر گہرے خوابوں میں گم مزے کی نیند سو رہا تھا۔ غفور چاچا غصے میں بپھرا ہوا برآمدے میں آیا اور اس نے بلند آواز میں مخاطب کرتے ہوئے اسے شانوں سے جھنجھوڑ کر جگایا۔ اس نے ہڑبڑاتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔ اس نے آج پہلی بار چادر میں لپٹے ہوئے اپنے چاچا کو غیظ وغضب کے عالم میں دیکھا۔ اس کے چہرے پر شدید تناؤتھا۔ اس کی مٹھیاں بھنچی ہوئی تھیں اور غصے کی شدت سے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔

 

نذیر چارپائی پر اٹھ کر بیٹھا تو بوڑھے درزی نے اسے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ وہ اسے گریبان سے پکڑ کر اس کے چہرے اور سینے پر زوردار مکے رسید کرنے لگا۔

 

ایسی بے موقع پٹائی کے بارے میں نذیر نے سوچا بھی نہیں تھا۔ دو چار لمحوں تک وہ اپنے جسم پر چاچے کے زوردار گھونسوں کی ضربیں برداشت کرتا رہا۔ اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی مگرچاچی خیرالنسا اسے کہیں نظر نہیں آئی۔ اس نے اپنے ہاتھ اور منھ سے جواب دینے کے بجاے خود کو بچانا ہی مناسب سمجھا۔

 

وہ چاچے کی کرخت اور فحش گالیوں کا جواب اپنے مسکین سوالوں سے دیتا رہا۔ کچھ دیر بعد وہ لاچار اٹھا اور وہ بوڑھے درزی کو دھکا دیتا ہوا صحن کی طرف بھاگ نکلا۔ اس کے دھکے سے چاچا غفور فرش پر گر گیا اور ہانپتا ہوا اْٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔

 

چاچی خیرالنسا غسل خانے سے باہر آئی تو اس نے پہلے نذیر کی طرف اور پھر اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ کچھ دیر تک وہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ ان دونوں کے درمیان کیا چل رہا ہے۔ چاچا ایک مرتبہ پھر نذیر پر حملہ کرنے کے لیے اس کی طرف لپکا تو اسے چاچی نے روک لیا اور اسے سمجھاتی ہوئی زبردستی کمرے میں لے گئی مگر اس کے منھ سے لگاتار گالیاں سنائی دیتی رہیں۔

 

نذیر نے چاچے کی غصے بھری بڑبڑاہٹ سے اندازہ لگا لیا تھا کہ بوڑھے زرگر نے کل شام اس کے پاس جا کر اسے ہار کے متعلق بتا دیا تھا جو اس نے اسے بنا کر دیا تھا۔ اس نے زیرِلب اس رذیل سنار کو جی بھر کر گالیاں دیں۔

 

غسل خانے میں ہاتھ منھ دھونے کے بعد وہ چائے پینے کے لیے باورچی خانے میں جا کر بیٹھ گیا تاکہ چاچا کی غضب ناک آنکھوں سے دور رہ سکے۔ پتیلی میں موجود چائے کو چھان کر اس نے پیالی میں ڈالا اور بلند آہنگ سڑپے لے کر چائے پیتے ہوئے باربار دروازے کی طرف دیکھتا رہا۔

 

اس کے ذہن میں خیالات کی رو چل رہی تھی۔ آج رات اسے شمیم سے ملنے جانا تھا اور صبح سویرے ایسی بدمزگی کا رونما ہونا اسے اچھا شگون نہیں لگ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ غفور چاچا کے دل میں اس کے لیے جو نفرت بھر گئی ہے کسی طرح سے وہ ختم ہو جائے۔

 

وہ باربار سوچ کر خود کو تیار کر رہا تھا کہ کچھ بھی ہو وہ جوگیوں کے گوٹھ ضرور جائے گا۔ اس نے کئی مرتبہ شلوار کی جیب میں رکھے ہار کو ٹٹول کر اس کی موجودگی کو محسوس کیا۔

 

باورچی خانے کی طرف آتے ہوئے قدموں کی آہٹ سن کر وہ چونکا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو چاچی خیرالنسا کو آتے دیکھ کر اسے اطمینان ہوگیا۔

 

چولھے کے قریب بیٹھتے ہوئے اس نے نذیر کو گہری نظر سے دیکھا۔ اس کی جھکی ہوئی نگاہ اور جھکا ہوا سر دیکھ کر چاچی کے چہرے پر تمسخرآلود تاثر نمایاں ہونے لگا۔ اس سے کوئی بات کیے بغیر اس کے منہ سے ہونہہ کی آواز نکلی۔ نذیر نے یہ آواز سنتے ہی اس کا مطلب سمجھ لیا۔ وہ صبح ہونے والی اپنی پٹائی کی وجہ سے اس کے سامنے عجیب سی خجالت محسوس کر رہا تھا۔ اس نے خالی پیالے کو ایک بار پھر چائے سے بھر لیا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی موضوع پر اس سے بات چیت شروع ہو مگر وہ پہل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہا تھا۔ وہ سر جھکائے صرف اس کے سانسوں کی آواز سنتا رہا۔

 

خاموشی میں اس کے سانسوں کی آواز نے اسے چاچی خیرالنسا کے اس وقت کے محسوسات کے بارے میں بہت کچھ بتا دیا۔ بے دھیانی میں چسکی لیتے ہوئے چائے کا گھونٹ اچانک اس کی سانس کی نالی میں چلا گیا۔ وہ اتنے زور سے کھانسا اور چھینکا کہ اس کے حلق اور ناک سے نکلتے چائے کے ذرّے چاچی کے کپڑوں پر جا گرے۔ اس کا ہاتھ کانپا اور چائے کا پیالہ بھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

 

اس کی یہ حالت دیکھ کر چاچی بے ساختہ ہنسنے لگی۔ اس نے زمین پر پڑے ہوئے اوندھے پیالے کو سیدھا کر دیا، کیونکہ اوندھی پڑی ہوئی چیزیں اس کے خیال میں بدشگونی کی علامت ہوتی تھیں۔

 

ایسے حساس ترین موقعے پر اس کا ہنسنا نذیر کو ناگوار محسوس ہوا۔ اس نے نزدیک ہی رکھے ہوئے گھڑے سے پانی نکال کر منھ اور ناک صاف کیا۔

 

چاچی کچھ دیر تک اسے کریدنے والی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔ پھرکسی تمہید کے بغیر اس سے پوچھنے لگی، “تم نے وہ ہار آخرکس کے لیے بنوایا تھا؟”

 

“کون سا ہار؟” وہ خود کو سنبھالتے ہوئے صاف مکر گیا۔

 

“وہی جو تم نے رحیم سنار سے بنوایا تھا؟”

 

“کیا یہ بات سنار نے خود چاچے کو بتائی ہے؟” نذیر اس قضیے کے ماخذ تک پہنچنا چاہتا تھا۔

 

“ہاں! اسی نے تیرے چاچے کو بتایا ہے۔ “ وہ اس کی طرف دیکھتی اس کی دلی کیفیت آنکنے کی کوشش کر رہی تھی۔

 

“میں نے وہ ہار۔۔۔” وہ کہتے کہتے رک گیا۔ اچانک اسے ایک اور خیال سجھائی دیا اور اس نے بغیر سوچے بے دھڑک کہہ دیا، “میں نے وہ ہار۔۔۔۔۔۔ تیرے لیے بنوایا تھا۔ میں وہ تجھے دینا چاہتا تھا۔ مگر کل رات وہ میری جیب سے کہیں گر گیا۔” اپنی جراتِ اظہار پر وہ خود حیران تھا۔

 

“میرے لیے؟” اس کی بات سن کر اس کی حیرانی کی کوئی حد نہ رہی۔ “مگر میرے لیے کیوں؟”

 

“ اس لیے کہ کچھ دن پہلے جب میں بیمار ہوا تھا تو تْو نے میری بہت خدمت کی تھی،” وہ معصومیت سے بولا۔

 

چاچی اسے گھورتی رہی، پھر جھرجھری لیتے ہوئے بولی، “اپنے چاچا کو مت بتانا، ورنہ وہ ہم دونوں کو جان سے مار دے گا۔” اس نے سہمی نظر سے دروازے کی طرف دیکھا۔

 

“میں نے سوچ لیا ہے کہ اسے کیا بتانا ہے۔”

 

بے یقینی سے اس کی طرف دیکھنے کے بعد وہ ناشتے کی تیاری میں مصروف ہو گئی جبکہ وہ وہیں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ جب ناشتہ تیار ہو چکا تو وہ اسے اپنے ساتھ غفور کے کمرے میں لے گئی۔

 

چاچے کے تیور اب تک ویسے ہی تھے۔ اس کے ماتھے پر شکنیں پڑی ہوئی تھیں۔ انہیں کمرے میں آتے دیکھ کر اس نے اپنا منھ دوسری طرف پھیر لیا۔

 

“رحیم سنار کی بات سچی ہے یا نہیں؟” اس نے تحکم آمیز لہجے میں اس سے سوال کیا۔

 

“اس کی بات میں سچائی ہے، مگر میں نے وہ ہار حیدری کے کہنے پر بنوایا تھا۔”

 

“حیدری کے کہنے پر؟ وہ کیوں؟”

 

“اس کا کسی لڑکی کے ساتھ کوئی چکر ہے،” نذیر نے بتایا۔

 

اس کا جواب سن کر چاچے کے لبوں پر خودبخود مسکراہٹ پھیل گئی۔ “اچھا، اس کا چکر ہے! کہیں تمہارا بھی کوئی چکر تو نہیں ہے؟”

 

اس نے سنجیدگی سے جواب دیا، “نہیں چاچا۔”

 

وہ ہنستے ہوئے اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو اپنا سر جھکائے پائینتی بیٹھی ہوئی تھی۔
چاچے کا مزاج بدلتا دیکھ کر نذیر کے علاوہ چاچی نے بھی اطمینان کا سانس لیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ناشتہ کرتے ہوئے نذیر کو اپنی کوتاہی کا احساس ہو گیا۔ اسے دکان کی طرف سے تغافل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میرپور ماتھیلو سے شہربدر ہوتے ہوئے اس کے والد نے اسے نصیحت کی تھی کہ ٹھری میرواہ جا کر درزی کے کام میں دل لگانا۔ آدمی کے پاس کوئی ہنر ہو تو اس کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے چاچا کے پاس کام کرنے آیا تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے دکان سے اپنی غیرحاضری کے حوالے سے وہ اس کی تشفی نہیں کر سکا تھا۔ اس کے چھوٹے موٹے بہانے زیادہ عرصے تک کارآمد نہیں ہو سکتے تھے۔ اسی لیے سنار کی بات سن کر وہ غصے سے لال بھبھوکا ہو کر اس پر برس پڑا تھا۔ چاچا کے غصے میں بھرے ہوئے سرخ چہرے میں نذیر کو اپنے والد کی جھلک دکھائی دی تھی۔

 

چاچا غفور سے تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اس نے دکان پر وقت گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ اگر آج رات کسی نے اس کا خالی بستر دیکھ لیا تو وہ اس پر مچنے والے ممکنہ فساد کو دبانے میں کامیاب ہو سکے گا۔ نجانے کیوں اس کے دل کو دھڑکا لگا ہوا تھا کہ آج کی شب اس کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے والا ہے۔

 

چاچی خیرالنسا ناشتے کے برتن اٹھانے کے لیے جھکی تو وہ خود کو اس کے سینے کی لکیر دیکھنے سے باز نہیں رکھ سکا۔ “کیا یہ اس نے مجھ پر ایک اور مہربانی کی ہے؟” وہ یہ سوچتا ہوا دکان جانے کے لیے اٹھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

وہ دکان پر پہنچا تو وہاں چاچا کو نہ پا کر سخت حیران ہوا۔ اس کے سوال پوچھنے پر یعقوب کاریگر نے اسے بتایا کہ وہ کسی کام سے رانی پور گیا ہوا ہے۔ اس نے اپنی تشویش ظاہر کی کہ اس کا دوست پچھلے کچھ دنوں سے کسی ادھیڑبن میں مبتلا ہے۔ اب اس کی ہنسی پہلے کی طرح بے ساختہ نہیں رہی تھی اور باتیں کرتے کرتے وہ اچانک کہیں کھو سا جاتا تھا۔ بہت پوچھنے اور کریدنے کے باوجود اس نے اپنی الجھن کے بارے میں اسے نہیں بتایا۔ بتاتے بتاتے اس نے اپنی سلائی مشین روک دی اور کرسی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے اس نے بیڑی سلگائی اور بات کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ شروع کیا۔ “میں یہ سمجھا کہ وہ کام کی وجہ سے پریشان ہے مگر وہ گھبرانے والا آدمی بھی نہیں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ ہو سکتا ہے وہ دکان سے تمہاری غیرحاضری پر کڑھتا ہو، لیکن یہ بات مجھ سے چھپانے والی تو نہیں۔ کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے۔” اس نے چٹکی بجا کر اپنی بیڑی کی راکھ فرش پر جھٹکی۔

 

نذیر اب تک محویت سے اس کی باتیں سنتا رہا تھا۔ وہ اس کیفیت سے نکل کر، اس کے قریب جا کر رازداری سے کہنے لگا، “چاچا غفور پہلے ایسا نہیں تھا۔ آج تو اس نے رحیم سنار والی بات پر صبح صبح میری دھنائی کر دی۔”

 

یہ سن کر کاریگر داڑھی کھجا کر زور سے ہنسنے لگا۔ “مجھے کل ہی لگ رہا تھا کہ وہ گھر جا کر تمہیں نہیں چھوڑے گا۔ میں نے کل اسے بہت سمجھایا تھا کہ جوانی میں ہر آدمی دل لگی کرتا ہے۔ بلکہ اس نے خود کیا کچھ نہیں کیا، اور ابھی تک کرتا پھر رہا ہے۔”

 

“یعقوب، مذاق مت کرو۔ چاچا ایسا آدمی نہیں،” وہ ہچکچاتے ہوئے بولا۔

 

“ارے تمہیں کیا معلوم! وہ تو شادی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے کہ اسے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے لڑکپن میں ہی لیڈیز کپڑوں کا کام سیکھ لیا تھا اور اس زمانے میں تو عورتیں بھی گھروں سے کم ہی نکلتی تھیں۔ غفور کا باتیں کرنے کا انداز اتنا میٹھا ہوتا تھا کہ جو عورت اس کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ بات کر لیتی، وہ اسی وقت اس کے شیشے میں اتر جاتی۔ جب کبھی وہ کسی کے کپڑے پہنچانے اس کے گھر جاتا تو دروازے پر ہی دو تین جملوں میں اس نازنین کا دل جیت لیتا۔ اس کی بے شمار راتیں گلیوں میں بھاگتے، دیواریں پھلانگتے اور معشوقاؤں کے گھروں کی چھتیں ٹاپتے گزرتی تھی۔ کبھی اس کی کسی محبوبہ کا بھائی تو کبھی کسی کا شوہر یا باپ نیند سے اٹھ جاتا۔ ہر بار وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا۔ صرف ایک مرتبہ وہ بہت برْے طریقے سے پھنس گیا تھا اور اسے پورا ہفتہ حوالات میں گزارنا پڑا تھا۔ ہوا یہ کہ میروں کے محلے میں ایک درزی تھا سائیں بخش۔ تین سال پہلے وہ مر گیا۔ غفور اس کی دکان پر کام کرتا تھا۔ دکان کی چابیاں ہمیشہ اسی کے پاس ہوتی تھیں۔ دکان والی گلی میں ایک بیوہ رہتی تھی۔ وہ غفور پر جان دیتی تھی۔ ایک شام اس نے بیوہ کو دکان پر بلوا لیا اور دکان کا شٹر گرا کر اس سے ملنے لگا۔ کسی نے بیوہ کو اندر گھستے ہوئے دیکھ لیا تھا، جس کی وجہ سے باہر شور مچ گیا۔ شٹر اٹھا تو لوگوں نے بیوہ کو تو جانے دیا مگر تمہارے چاچے کو تھانے میں بند کروا دیا۔ “ یعقوب کاریگر یہ باتیں سنانے کے بعد ہنسی میں لوٹنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ اس نے اس کے بھتیجے کو کچھ زیادہ ہی بتا دیا۔ یہ سوچ کراس نے فوراً سنجیدگی اختیار کر لی۔
نذیر اس کی باتیں سن کر بہت محظوظ ہوا۔

 

“وہ میرا استاد ہے، مگر اب اسے خداجانے کیا ہوا ہے، وہ مرجھاتا جا رہا ہے، “ وہ افسردہ ہو کر بولا۔

 

کاریگر کے خاموش ہوتے ہی نذیر اپنی نشست پر جا بیٹھا اور پھر سے سلائی کے کام میں مصروف ہو گیا۔ اس کے بعد سارا دن انھوں نے کوئی خاص بات نہیں کی۔
(جاری ہے)
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں – پانچویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

نذیر کی زندگی میں شمیم پہلی عورت تھی جس نے اس سے ملنے کے لیے اسے پیغام بھیجا تھا، ورنہ اس سے پہلے بھی وہ بے شمار لڑکیوں اور عورتوں کا تعاقب کر چکا تھا مگر ان میں سے کسی کی جانب سے پیغام آنا تو درکنار، اسے ان کو دیکھنے کا دوسرا موقع تک میسر نہیں آ سکا تھا۔ وہ سب کی سب اپنے گھروں میں جانے کے بعد اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول گئی تھیں۔ پکوڑافروش کے ذریعے موصول ہونے والے پیغام کی اس کے لیے بہت خاص اہمیت تھی۔ اسی لیے اس کا اپنا بے کار وجود بھی اب اس کی اپنی نظروں میں یکایک کچھ اہم ہو گیا تھا۔ باربار کسی سبب کے بغیر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی تھی۔ آج اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ انسانوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں ایک عورت ایسی بھی ہے جو اس کے بارے میں سوچتی ہے۔ اس کے لیے یہ خیال بہت مسحورکن تھا۔ مگر اس سے بھی زیادہ مسحورکن خیال آج کی شب پیش آنے والے وصل کی لذت کا خیال تھا، جس کا ہلکا سا احساس ہی اس کے بدن پر سرشاری طاری کر رہا تھا۔

 

آج اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ انسانوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں ایک عورت ایسی بھی ہے جو اس کے بارے میں سوچتی ہے۔
اسی خیال کے زیرِاثر وہ بہت دیر تک متواتر سلائی مشین چلاتا رہا۔ اسے وقت کے تیزی سے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا۔ بہت دیر کے بعد اس نے اپنا ہاتھ روکا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ اس کی نظر یعقوب کاریگر کے چہرے پر جا کر ٹھہر گئی جو ایک ریشمی لباس کی سلائی میں مصروف تھا۔ اس کی آنکھیں سلائی مشین کی ٹانکے لگاتی باریک سوئی کو شوق بھری نظر سے دیکھ رہی تھیں۔ اس کے ہاتھوں کی انگلیاں ریشمی کپڑے کو کچھ اس طرح جھجکتے ہوئے چھو رہی تھیں جیسے وہ کسی عورت کے جسم کو اس کی اجازت کے بغیر اور اس سے چھپ کر چھو رہی ہوں۔

 

نذیر نے حیرت سے سوچا کہ نسوانی کپڑوں کی سلائی کے دوران یعقوب کاریگر اپنے گردوپیش سے اتنا لاتعلق ہو جاتا تھا کہ اسے بیڑی پینے کا ہوش بھی نہیں رہتا تھا۔ عجیب لذت سے تمتماتا ہوا اس کا چہرہ دیکھ کر نذیر کو اس کے ہاتھوں کے ہنر کی مقبولیت کا راز معلوم ہو گیا۔

 

ابھی شام ڈھلنے میں خاصا وقت تھا اور آدھی رات ہونے میں تو اس سے بھی زیادہ وقت باقی تھا۔ یکایک وہ محسوس کرنے لگا کہ ہیجان خیز محسوسات و خیالات کی یورش کی وجہ سے دھیرے دھیرے اس کے جذبات کند ہونے لگے تھے، اور وہ اپنے آپ کو فاترالعقل سمجھنے لگا تھا۔ اپنا ذہن بٹانے کا سوچ کر اس نے دیوار پر چسپاں تصویروں پر ایک نگاہ ڈالی۔ فلمی اداکاراؤں کے میک اپ سے بھرے چہرے اس کی نگاہوں سے خودبخود اوجھل ہو گئے۔ اسے صرف کسے کسائے ملبوسات میں پھنسے ہوئے بدن دکھائی دیے۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ دکان کی چھت سے فرش تک صرف نسوانی اعضا کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ہر نسوانی عضو ہر قسم کی نزاکت اور حسن سے یکسر عاری ہے اور اس میں سے صرف شہوانیت کا اظہار ہو رہا ہے۔ وہ کچھ دیر تک بھرے بھرے جسموں کی گداز چھاتیوں اور ابھرے ہوئے پیٹ کی ناف کو دیکھتا رہا۔ اس عمل سے اچانک اس کا خون گرم ہو گیا اور ناک کے نتھنوں سے گرم گرم سانسیں نکلنے لگیں۔

 

نذیر نے حیرت سے سوچا کہ نسوانی کپڑوں کی سلائی کے دوران یعقوب کاریگر اپنے گردوپیش سے اتنا لاتعلق ہو جاتا تھا کہ اسے بیڑی پینے کا ہوش بھی نہیں رہتا تھا۔
یعقوب کاریگر اسے محویت سے تصویروں کو تاکتے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ اسے مسکراتا دیکھ کر نذیر کھسیانا ہو کر اٹھا اور دکان سے باہر چلا گیا۔ گلی سے نکل کر وہ سڑک پر آیا اور یہاں کی کھلی فضا میں لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے اپنی طبیعت بحال کرنے لگا۔

 

سڑک کے پرلی طرف کپڑے کی ایک دکان پر لٹکی ہوئی پھول دار چادریں اور دوپٹے ہوا کے جھونکوں سے ہل رہے تھے۔ ایک دکانداراپنی پردہ نشین گاہک کے سامنے ریشمی کپڑے کا تھان کھول رہا تھا۔ نذیر اس برقع پوش عورت کی طرف دیکھنے لگا۔ دکان پر پڑتی سورج کی تیز روشنی کے سبب اس کے برقعے میں عجیب سی چمک پیدا ہو گئی تھی۔ اسے لگا کہ وہ یہاں کھڑا ہو کر زیادہ دیر تک اس برقعے کی چمک کو اپنی آنکھوں میں جذب نہیں کر سکتا۔

 

تھوڑی دیر بعد وہ دکان پر لوٹ آیا۔ یعقوب کاریگر اسے دیکھتے ہی بولا، “آج میں دکان پر بہت اکیلائی محسوس کر رہا ہوں۔ آج میرے یار کی طبیعت خراب ہے، اس لیے وہ نہیں آیا۔ اور تم ہو کہ مجھ بوڑھے سے کوئی بات ہی نہیں کرتے۔” وہ ایک بیڑی سلگا کر کش لینے لگا۔

 

نذیر اس کے قریب رکھے ہوئے اسٹول پر جا کر بیٹھ گیا اور وہ دونوں چاچے غفور کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ زیادہ تر باتیں پرانی تھیں جو وہ پہلے بھی کئی بار دوہرا چکے تھے۔ نذیر کو کوئی نئی بات نہیں سوجھ رہی تھی اس لیے وہ خاموش ہو گیا، کیونکہ کاریگر باتیں کرنے کی موج میں آیا ہوا تھا۔ نذیر کو اچانک چاچی خیرالنسا یاد آئی۔ آج چاچا بھی گھر پر موجود تھا۔ اس نے اپنی چشمِ تصور میں انہیں اپنے کمرے میں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست مسلسل حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔

 

اسے محسوس ہونے لگا کہ دکان کی چھت سے فرش تک صرف نسوانی اعضا کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ہر نسوانی عضو ہر قسم کی نزاکت اور حسن سے یکسر عاری ہے اور اس میں سے صرف شہوانیت کا اظہار ہو رہا ہے۔
یعقوب کاریگر کی باتیں سنتے ہوئے اسے لگا کہ چاچے غفور سے اس کی دوستی کی ضرور کوئی خاص وجہ رہی ہو گی، جس کے بارے میں کاریگر نے بھول کر بھی باتوں میں کوئی اشارہ نہیں کیا تھا۔ نذیر نے سوچا کہ اگر کسی دن وہ کاریگر کو اعتماد میں لے کر اس سے پوچھ گچھ کرے تو شاید اسے کچھ گڑے مْردوں کا پتا چل جائے۔

 

دکان کے باہر ایک سائیکل کو رکتا دیکھ کر وہ دونوں چپ ہو گئے۔

 

ماسٹر طفیل اپنی دھوتی سنبھالتا ہوا سائیکل سے اتر کر دکان میں داخل ہوا۔

 

“میں تمہارا ہی کام کر رہا تھا ماسٹر۔ صرف قمیص کے بٹن لگانے رہ گئے ہیں،” یعقوب نے خوش مزاجی سے اسے اس کے کپڑوں کے بارے میں بتایا۔ ماسٹر طفیل کچھ دیر بعد آنے کا کہہ کر چلا گیا۔

 

گلی میں دکانوں کے شٹر بند ہونے کی کھڑاک پڑاک شروع ہو گئی۔ تمام درزی ہنستے، شور مچاتے ہوئے اپنی اپنی دکانوں سے نکلے۔ تھوڑی دیر بعد مغرب کی اذان بھی سنائی دینے لگی۔

 

ماسٹر طفیل کو اس کے کپڑے دینے کے بعد انھوں نے بھی دکان بند کر دی اور یعقوب کاریگر چاچے غفور کی عیادت کرنے کے لیے اس کے ساتھ چل پڑا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صحن میں پھیلتی تاریکی کو دیکھ کر اس نے بلب روشن کرنے کی خاطر دیوار پر نصب کالا بٹن دبایا تو برآمدے میں روشنی پھیل گئی۔
ملگجی شام میں چاچی خیرالنسا کشادہ صحن میں جانماز پر سمٹی ہوئی بیٹھی نماز پڑھ رہی تھی۔ اس کے ہونٹ دعا مانگتے ہوئے لرز رہے تھے۔ نذیر کے قدموں کی چاپ سن کر اس نے مڑ کر دیکھا اور اس کے ہونٹ تیزی سے دعا ختم کرنے لیے ہلنے لگے۔

 

نذیر دو محرابوں کے درمیان کھڑا عبادت ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ صحن میں پھیلتی تاریکی کو دیکھ کر اس نے بلب روشن کرنے کی خاطر دیوار پر نصب کالا بٹن دبایا تو برآمدے میں روشنی پھیل گئی۔ اس نے تاریک کمرے پر نظر دوڑائی۔ غفور چاچا وہاں رضائی اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ اس کے خراٹوں کی خرخراہٹ سن کر وہ مسکرایا۔

 

چاچی کو جانماز سے اٹھتا دیکھ کر اس نے اس کے پاس جا کر یعقوب کاریگر کی آمد کے بارے میں بتایا۔ وہ فوراً اپنے شوہر کو جگانے کے لیے کمرے میں چلی گئی۔ چاچا غفور اپنے یار کا نام سن کر فوراً اْٹھ بیٹھا۔

 

چاچی خیرالنسا پردے کی خاطر باورچی خانے والی کوٹھڑی میں چلی گئی۔

 

یعقوب کاریگر کو دیکھ کر بوڑھا مریض خوشی سے کھل اْٹھا۔

 

نذیر اپنی گھڑی پر وقت دیکھ رہا تھا، کیونکہ پہلوان کے چائے خانے پر نورل جوگی اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اسی بے چینی میں وہ باورچی خانے میں چاچی کے سامنے چوکی پر جا بیٹھا۔ چاچی خیرالنسا نے اپنے شوہر اور کاریگر کی پرانی دوستی کا ذکر چھیڑ دیا۔

 

باتوں کے دوران نذیر کو پہلے اس کے ہاتھ کا لمس یاد آیا اور پھر غسل خانے میں لٹکا ہوا اس کا بلاؤز۔ بیٹھے بیٹھے وہ چاچی کے سرخ و سفید ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔ اس نے سوچا کہ ان ہاتھوں میں پوشیدہ حدت کتنی نرم و ملائم ہو گی۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اسی وقت انہیں چھو کر محسوس کرے اور ان کی ہتھیلیوں پر ایک بوسہ ثبت کردے۔ اس نے خود کو گستاخی پر آمادہ محسوس کیا۔ وہ اس کے کشادہ سینے کے زیروبم کو دیر تک محویت سے دیکھتا رہا۔

 

وہ حیران تھا کہ اس کی باتوں میں عدم دلچسپی کے باوجود وہ بے خبری کے عالم میں دیر تک باتیں کرتی رہی۔ جب وہ چولہے میں پھونک مارنے کے لیے جھکی تو نذیر نے چپ چاپ اس کے سینے کے ابھار کو دیکھا، مگر اگلے لمحے چاچی خیرالنسا اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے شک بھری نظروں سے گھورنے لگی۔ اس کے گھورنے پر وہ جھینپ سا گیا۔ اسے الجھن ہونے لگی۔ وہ باتونی نہیں تھا مگر چاہتا تھا کہ پرْکشش جسم والی اس حسین عورت سے دیر تک لچھے دار باتیں کر کے اس کا دل بہلائے۔

 

ان کی باتیں سنتے ہوئے اس نے سوچا کہ غفور چاچا دلچسپ گفتگو کرنے کا ماہر تھا، اسی لیے اس نے ابھی تک چاچی کو اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا۔
چاچی نے پتیلی اٹھا کر چینک میں چائے انڈیلی۔ وہ ٹرے میں رکھی چینک اور پیالیاں اٹھائے ہوئے باورچی خانے سے باہر چلا گیا۔

 

کمرے میں ان کے سامنے چائے رکھنے کے بعد وہ آدھے گھنٹے تک ان دو بوڑھے آدمیوں کے ساتھ بیٹھا رہا۔ ان کی باتیں سنتے ہوئے اس نے سوچا کہ غفور چاچا دلچسپ گفتگو کرنے کا ماہر تھا، اسی لیے اس نے ابھی تک چاچی کو اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا۔

 

کچھ دیر بعد یعقوب کاریگر نے چاچے سے جانے کی اجازت مانگی اور جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

وہ اسے رخصت کرنے گلی کے آخر تک چلا گیا۔ الوداعی مصافحے کے بعد وہ کچھ وقت وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اس کے بعد وہ پہلوان کے چائے خانے کی طرف چل پڑا۔

 

چائے خانے میں نوجوان لڑکے ڈبّو کھیلتے ہوئے شور مچا رہے تھے۔ وہاں ٹیپ ریکارڈر پر جلال چانڈیو کا گانا بج رہا تھا۔ ایک طرف پڑے ہوئے موڑھوں پر دو چار آدمی بیٹھے دھیمے لہجوں میں گفتگو کر رہے تھے، جبکہ نورل منھ بسورتا ہوا اکیلا بیٹھا تھا۔

 

نذیر پکوڑافروش کے پاس گیا تو وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔ انہوں نے موڑھے اٹھا کر ایک کونے میں کھسکا لیے اور آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔

 

پکوڑافرو ش نے رازداری سے اسے بتایا کہ آج رات ایک بجے وہ اپنے گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر پانی کے نالے کے پاس اس کا انتظار کرے گا۔ اس پر لازم تھا کہ وہ ایک بجے سے پہلے وہاں پہنچ جائے۔ اس نے اسے مزید یقین دلایا کہ ملاقات کے دوران وہ دونوں عاشقوں کے آس پاس کسی فرشتے کی طرح منڈلا تا رہے گا۔

 

نذیر نے اس کی ہر بات غور سے سنی۔ اس نے اپنے ذہن میں پہلی ملاقات کا جو تصور باندھا تھا، اس پر خوف کی پرچھائیں لہرانے لگی۔ اس کے باوجود چائے خانے سے اٹھ کر جاتے ہوئے نذیر نے وعدہ کیا کہ وہ ساڑھے بارہ بجے تک نہر سے اْترنے والی سڑک پر پہنچ جائے گا۔

 

نورل نے بھی سنجیدگی سے اپنا وعدہ دْہرایا اور وہاں سے چلا گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کل وہ اپنے بستر پر جس شب کے انتظار میں لیٹا ہوا کروٹیں لے رہا تھا، وہ شب آخر کار آ پہنچی تھی اور اپنے بازو پھیلا کر اسے دعوتِ نشاط دے رہی تھی۔ مگر یہ کیا؟ گزرتے ہوئے لمحوں کے ساتھ نہر پار جانے کے خیال سے اس کے دل میں دہشت بڑھنے لگی تھی۔ وہ خود کو کسی طور پر ڈرپوک یا بُزدل ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے بزدلی کو واہمہ قرار دے دیا اور اس خیال کو جھٹکنے کے لیے وہ چاچے غفور کے ساتھ اس وقت کمرے میں بند چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر اس کا ذہن اس پل چاچی کے متعلق کچھ بھی سوچنے کے لیے آمادہ نہیں ہوسکا۔ اسے کوئی بات نہیں سوجھی، اس کے دل میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوا، حتیٰ کہ چاچی کے گداز سینے کا خیال بھی اس کے ذہن کو اپنی طرف مائل نہ کر سکا۔ اور دوسری طرف کسی کوشش کے بغیر اس کا ذہن باربار خودبخود شمیم کے بارے میں سوچنے لگتا تھا۔ اگرچہ اس نے اب تک اس برقع پوش شمیم کی آواز نہیں سنی تھی،وہ اس کے ہونٹوں اور اس کے سینے کا شاہد نہیں ہوا تھا، اس کے باوجود فوراً اس کے ذہن میں درازقد اور بھرپور جسم کی ایک شاندار عورت در آئی تھی۔ وہ اس کے سحرانگیز حْسن کی باریکیوں میں اْلجھ گیا۔

 

اس نے اپنی چشمِ تخیل میں کتھئی لباس میں ملبوس ایک جوان عورت کو دیکھا جس کے جسم سے چنبیلی کی خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔ اس کے سر سے چادر ڈھلکی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کے بالوں کی مانگ نظر آ رہی تھی۔ وہ کہیں کسی گھنے پیڑ کے نیچے کھڑی ہوئی شدت سے اس کی منتظر تھی۔

 

اس نے اپنی چشمِ تخیل میں کتھئی لباس میں ملبوس ایک جوان عورت کو دیکھا جس کے جسم سے چنبیلی کی خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔
چند لمحوں کے بعد وہ ٹھنڈی آہیں بھرتا ہوا اپنے تخیل کے اڑن کھٹولے سے نیچے اترا اور چھت کی کڑیوں کی طرف دیکھتے ہوئے بلاسبب مسکرانے لگا۔ کچھ دیر قبل اس کے لیے شعوری طور پر جس چیز کے لیے سوچنا محال ہو رہا تھا، اب اس کا ذہن اس کے بارے میں خودبخود سبک روی سے سوچنے لگا۔ شمیم کے تصور کے بعد اب وہ چاچی کا تصور باندھنے لگا۔ سوچتے سوچتے اس نے لحاف اتارا، چارپائی سے اتر کر کمرے کے دروازے کے پاس گیا اور اس سے کان لگا کر کچھ دیر تک ان کی آپس کی باتیں سننے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے جی میں آیا کہ وہ دروازے کو دھکا دے کر اسی لمحے کھول دے اور اپنی آنکھوں سے انہیں قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے۔ مگر اگلے ہی ثانیے وہ دروازے سے ہٹ گیا اور ٹہلتا ہوا برآمدے سے صحن میں آ گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ پہلی ملاقات پر اسے کیا باتیں کرنی چاہییں اور کس انداز سے کرنی چاہییں؟ کس طرح چکنی چپڑی اور دل لبھانے والی باتوں کے ذریعے شمیم کو شیشے میں اْتارنا چاہیے؟ اس حوالے سے اسے خود پر اعتماد نہیں ہو رہا تھا کیونکہ ماضی میں دو مرتبہ پہلے بھی وہ ایسے معاملات میں ناکامی کی اذیت برداشت کر چکا تھا۔

 

بہت پہلے کی بات تھی ۔نذیر نے اپنی بہن کی سہیلی سے پہلی بار ملتے ہی اس سے محبت کا اظہار کر دیا تھا۔ اس کے بے سلیقہ اظہار کا برا مان کر وہ لڑکی اس سے بدک گئی تھی اور اس نے اس کی بہن سے بھی ہمیشہ کے لیے ملنا ترک کر دیا تھا۔ دوسرا واقعہ اسی قصبے میں پیش آ چکا تھا۔ ایک دن وہ پرائمری اسکول کی عمارت کے قریب سے گزر رہا تھا۔ اس نے ایک لڑکی کو اپنے گھر کے دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا۔ وہ اسے پہلی نظر میں ہی بھا گئی۔ اس کے بعد وہ کئی روز تک اس کے گھر کے باہر چکر لگاتا رہا۔ کبھی کبھار وہ دکھائی دے جاتی لیکن ہر بار اسے دیکھتے ہی پردہ گرا کر اندر بھاگ جاتی۔ ایک شام وہ اسے ایک سنسان گلی میں دکھائی دے گئی۔ اس نے فوراً اپنا دل کھول کر اس کے سامنے پیش کر دیا۔ لڑکی نے اس کا دل اپنے پیروں تلے روند ڈالا اوراسے برابھلا کہتی ہوئی چلی گئی۔

 

اسے خدشہ تھا کہ شمیم بھی کہیں اس کی بے ربط اور اکھڑی باتیں سن کر اس سے اکتا نہ جائے۔ پچھلے کچھ برسوں سے وہ شادی شدہ عورتوں سے تعلقات قائم کرنے کے خواب دیکھتا رہا تھا۔ اب اس نے لڑکیوں کو اپنی محبت کے لائق سمجھنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے نخروں کو برداشت کرنا اس جیسے کم ہمت کے بس کی بات نہیں تھی۔ جوانی کے حُسن اور فطری کشش کے باوجود اب قصبے کی لڑکیاں اسے بالکل اچھی نہیں لگتی تھیں۔

 

وہ اپنے خیالوں میں گم، صحن کے ٹھنڈی اینٹوں والے فرش پر چہل قدمی کرتا رہا۔ اچانک اسے محسوس ہوانے لگاکہ صحن کے چاروں کونوں سے بچھو اور سانپ اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس احساس سے خوفزدہ ہو کر وہ فوراً بھاگ کر برآمدے میں پڑی ہوئی چارپائی پر چڑھ گیا اور رضائی اپنے جسم پر اوڑھ کر بیٹھ گیا۔

 

بستر یخ بستہ ہو رہا تھا۔ اپنی رضائی پاؤں پر اچھی طرح اوڑھنے کے باوجود بہت دیر تک اس کے پیر گرم نہیں ہو سکے۔ تنگ آ کر وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے مَلنے لگا۔

 

پکوڑافرو ش نے رازداری سے اسے بتایا کہ آج رات ایک بجے وہ اپنے گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر پانی کے نالے کے پاس اس کا انتظار کرے گا۔
اسے اپنی حماقت کا احساس بہت تاخیر سے ہوا۔ اوس سے بھیگتی ہوئی رات میں صرف شلوار قمیض پہنے ہوئے گھر سے نکلنا بہت دشوار تھا۔ کمرے میں رکھے ہوئے اپنے صندوق سے چادر، مفلر اور جرابیں نکالنا اسے یاد نہیں رہا تھا۔ اس کے پاس صرف بغیر آستینوں والا سویٹر تھا۔ اس سویٹر کی مدد سے سردیوں کی رات کی ٹھنڈ اور پالے کا رْکنا محال تھا۔
اسے محسوس ہونے لگا کہ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی ہے۔ گھڑی پر وقت دیکھنے کے لیے برآمدے کا بلب جلانا ممکن نہیں تھا۔ اس کے پاس کوئی ماچس بھی نہیں تھی۔ وہ چارپائی سے اْتر کے دبے پاؤں باورچی خانے کی کوٹھڑی تک گیا۔ اس کے ٹھنڈے ہاتھ چولھے کی راکھ اور اس کے گردوپیش کی زمین ٹٹولتے رہے لیکن اسے وہاں ماچس نہیں ملی۔ اندازے سے اس نے خانوں والی الماری کھول کر اس میں ہاتھ مارا تو وہاں اسے ماچس مل گئی۔ دیاسلائی جلا کر اس کے شعلے کی روشنی میں اس نے گھڑی پر وقت دیکھ ہی لیا۔ بارہ بج کر دس منٹ ہو رہے تھے۔ وہ دیواریں ٹٹولتا باورچی خانے سے باہر نکلا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا برآمدے میں اپنی چارپائی تک پہنچا۔ اس نے رات کے پالے سے بچنے کے لیے بستر سے چادر اتار کر اپنے گلے میں ڈال لی۔ پھر تکیے کو بستر کے درمیان رکھ کر اسے رضائی میں چھپا دیا تاکہ اگر کمرے سے کوئی باہر نکلے تو ابھری ہوئی رضائی دیکھ کر یہ سمجھے کہ وہ یہاں سو رہا ہے۔ رضائی کا اونچا ابھار بنا کر وہ خاصا مطمئن ہو گیا۔ اس کے بعد وہ دبے پاؤں چلتا ہوا گھر سے باہر نکلنے والے دروازے تک گیا۔ دروازے سے نکلنے کے بعد اس نے کنڈی چڑھا دی اور احتیاط سے چلتا گلی میں نکل گیا۔

 

گلی میں گہرا سناٹا تھا۔ موسمِ زمستاں کی یہ شب کہرآلود تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے آسمان سے یخ بستہ بوندیں برس رہی ہوں۔ ابھی نہر کے پْل تک اسے بہت سی گلیوں سے گزرنا تھا۔ وہ اپنے بے اعتماد قدموں اور بے ترتیب سانسوں کی آوازیں سنتا نپے تلے قدموں سے چلتا رہا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ بہت مرتبہ کی دیکھی بھالی اور دن کے وقت مہربانی سے پیش آنے والی گلیاں آدھی رات کو جانی دشمن کی طرح نظر آ رہی تھیں۔

 

چوکیدار کی سیٹی سن کر وہ ہر بارچونک جاتا تھا۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ برابر والی گلی سے گزر رہا ہے۔ وہ اس کے قدموں کی آہٹ سننے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ ہر گلی کے دونوں طرف دیواروں کا طویل سلسلہ تھا۔ ہر موڑ کے بعد نئی دیواریں آ جاتیں اور وہ ان کے بیچ سہما ہوا اور خوف سے لرزتا ہوا قدم بڑھاتا رہا۔

 

ایک ڈھلان کی چڑھائی چڑھنے کے بعد وہ نہر کے کنارے پر پہنچ گیا۔ تیز چلنے کی وجہ سے اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ قصبے کی آبادی سے نکل کر کھلی فضا میں آتے ہی اسے سردی زیادہ محسوس ہونے لگی۔ وہ درختوں کی قطار کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ اس کی نظریں پْل پر جمی ہوئی تھیں جو دور سے دھند اور کہرے میں لپٹا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے نہر کے پانی کی سطح پر چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے پانی میں موتی جگمگا رہے ہوں۔ رات کے اس پہر پْل ویران لگ رہا تھا۔ اس نے ٹھٹھرتے ہوئے تیزرفتاری سے چل کر پل عبور کیا۔ پل سے نیچے اتر کر اسے تھوڑی دور چلنے کے بعد دائیں جانب کی جھاڑیوں سے گاڑھا دھواں اْٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ دھواں دیکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گیا۔ اس نے چرس کی مخصوص خوشبو کو پہچان لیا تھا۔ وہیں کھڑے کھڑے وہ دھیرے سے کھنکارا تو اسے جھاڑیوں میں سے کسی کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ کھانسی کی آواز پہچانتے ہوئے وہ جھاڑیوں کی طرف چلا گیا۔ وہاں نورل جوگی اس کا انتظار کرتے ہوئے چرس کی سلفی پینے میں مگن تھا۔

 

اس کے جی میں آیا کہ وہ دروازے کو دھکا دے کر اسی لمحے کھول دے اور اپنی آنکھوں سے انہیں قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے۔ مگر اگلے ہی ثانیے وہ دروازے سے ہٹ گیا اور ٹہلتا ہوا برآمدے سے صحن میں آ گیا۔
رات کے اس پہر ہوا مکمل طور پر بند تھی۔ تمام چیزوں پر سکوت طاری تھا۔ آسمان کی چاروں انتہاؤں سے یخ بستگی زمین پر ٹپک رہی تھی اور دھیرے دھیرے ساری فضا میں پھیل رہی تھی۔ نذیر محسوس کر رہا تھا کہ اس کے کپڑے بھی آسمان سے گرتی اوس سے بھیگنے لگے تھے اور اس کی ناک کے نتھنوں میں سانسیں جم رہی تھیں۔ اس کے باوجود پکوڑافروش کی فراخدلانہ پیشکش ٹھکراتے ہوئے اس نے سلفی پینے سے انکار کر دیا۔ اس کے انکار کے بعد نورل جوگی نے بھی اصرار نہیں کیا۔ وہ نشے کی کثرت کے باوجود بچے رہ جانے والے اپنے ہوش وحواس کو بروے کار لاتے ہوئے نذیر کو گوٹھ میں واقع شمیم کے مکان کا حدوداربعہ سمجھانے لگا۔

 

“وہ دیکھو۔۔۔ اْس طرف! ہاں، وہ جو سیمنٹ سے بنی ہوئی صاف ستھری عمارت ہے نا، وہ ہمارے گوٹھ کی یونین کونسل ہے۔ کبھی بھول کر بھی اس کے قریب سے مت گزرنا۔ یونین کونسل کا چوکیدار شام ڈھلتے ہی اس کے باہر کتے چھوڑ دیتا ہے۔ بڑے مادرچود کتے ہیں وہ۔ ایک بار انھوں نے میری پنڈلی بھی نوچ کھائی۔ میں پورے چار مہینے چارپائی پر لیٹا رہا تھا۔ اچھا؟ ہاں، اس یونین کونسل سے کچھ آگے ہاریوں کی جھونپڑیاں ہیں۔ یہ سب کے سب ہاری گل پانگ قبیلے سے ہیں۔ گل پانگ پورے خیرپور میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی عورتیں ضلع بھر میں مشہور ہیں۔ ہر سال ہمارے جوگیوں کا بھی بہت سا روپیہ ان پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اگر تمھاری ٹھرک بڑھ جائے تو بتانا۔” بات کرتے کرتے وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔

 

نذیر دیکھ رہا تھا کہ پکوڑافروش دن بھر قصبے میں جوتیا ں چٹخانے کے بعد اس وقت تھکن سے چور تھا اور نشے کی زیادتی کی وجہ سے اس کے اعصاب مضمحل لگ رہے تھے۔

 

اس نے مسکراتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ “یہ گل پانگ ہم جوگیوں کی عزت پر داغ ہیں۔ مگر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کچھ بھی نہیں کر سکتے! ان بھڑووں کو اپنے گوٹھ سے نہیں نکال سکتے کیونکہ ہمارے وڈیرے ایک نمبر کے رنڈی باز ہیں۔”
اس کی بے تکی باتیں سن کر نذیراونگھنے لگا تھا۔ اس نے ماچس کی تیلی جلا کر گھڑی پر وقت دیکھا۔ نورل سے چرس کا سگریٹ بنانے کی درخواست کرتے ہوئے اس کے دانت کٹکٹانے لگے تھے۔ اس کی آنکھیں شدید تکان کے سبب بند ہو رہی تھیں۔

 

اسے محسوس ہو رہا تھا کہ بہت مرتبہ کی دیکھی بھالی اور دن کے وقت مہربانی سے پیش آنے والی گلیاں آدھی رات کو جانی دشمن کی طرح نظر آ رہی تھیں۔
نورل جوگی کے ہاتھوں نے چابک دستی سے سگریٹ بنا کر اس کی طرف بڑھایا۔ نذیر نے اسے دیاسلائی سے سلگاتے ہوئے ایک زوردار کش لگایا۔ سگریٹ پینے کے بعد وہ خود کو بہتر محسوس کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے پوری طرح اپنے ہاتھ پھیلا کر انگڑائی لی اور اس کے بعد ڈنڈ نکالنے لگا۔

 

وہ رات کے اس پہر ویران سڑک پر چلنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ جھاڑیوں کے ساتھ ہی گنے کے کھیت واقع تھے۔ وہ جھاڑیوں کے بیچ چلتے چلتے گنے کے کھیتوں میں داخل ہو گئے۔ گنے کے قدآور پودے ان کے جسموں سے ٹکرا ٹکرا کر دھیما سا شور مچانے لگے۔ نورل نے اس کے پاس آ کر سرگوشی میں کہا، “تمام گوٹھوں کے عاشقوں کے لیے کماد کی فصل خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔”

 

یہ بات سن کر نذیر خود کو ہنسنے سے نہ روک سکا۔

 

گنے کی فصل میں کچھ دور تک چلنے کے بعد وہ رک گئے۔ انھوں نے فصل سے باہر سر نکال کر اِدھراْدھر دیکھا، پھر احتیاط سے دبے پاؤں چلتے ہوئے گاؤں کی طرف جانے والا راستہ پار کیا اور تیزی سے پرلی طرف کے کھیت میں گھس گئے۔ چلتے چلتے نذیر کی چپلیں گیلی مٹی لگنے کی وجہ سے بھاری ہو گئی تھیں۔ مزید آگے جا کر پانی بہنے کی سرسراہٹ سنائی دی۔ یہ آواز پانی کے نالے سے آ رہی تھی۔ کچھ دور جانے کے بعد انہیں وہ نالہ دکھائی دینے لگا۔ سیمنٹ سے بنے ہوئے اس نالے کے پاس جا کر فصل ختم ہو جاتی تھی۔

 

نورل نذیر کو نالے کے پاس، شیشم کے ایک درخت کی اوٹ میں کھڑا ہونے کا مشورہ دے کر غائب ہو گیا۔ نذیر پگڈنڈی پر تیزی سے چلتے اس کے پیروں کی دھپ دھپ سنتا رہا۔ اس کے بعد وہ گردوپیش نگاہ ڈال کر آہستہ آہستہ چلتا شیشم کے پیڑ کی اوٹ میں جا کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد وہ کھڑا رہ رہ کر تھک گیا تو نالے پر جا کر بیٹھ گیا۔ نالے کا سیمنٹ اس وقت یخ ہو رہا تھا۔

 

گل پانگ پورے خیرپور میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی عورتیں ضلع بھر میں مشہور ہیں۔ ہر سال ہمارے جوگیوں کا بھی بہت سا روپیہ ان پر خرچ ہو جاتا ہے۔
گوٹھ کے مکانوں کا پچھلا حصہ اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ وہ ان مکانوں میں شمیم کا مکان تلاش کرنے لگا۔ اسے یقین تھا کہ بائیں طرف بنے ہوئے تین پختہ مکانوں میں سے ایک میں شمیم رہتی تھی۔ کپاس کی لکڑیوں اور شرینہہ کے پیڑوں کے سایوں کی وجہ سے وہ ان مکانوں کے دروازے نہیں دیکھ سکا۔

 

وہ شیشم کے جس طویل قامت پیڑ کے نیچے کھڑا تھا اس نے جب اس کے موٹے سے تنے کو دیکھا تو اس کے رگ و پے میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ بچپن میں سنے ہوئے بھوتوں اور چڑیلوں کے قصّے اسے یاد آنے لگے۔ وہ زمین پر پھیلے ہوئے اس درخت کے سائے کو دیکھتا رہا۔

 

نجانے کیوں باربار اس کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ اس سے ملنے یہاں نہیں آئے گی، مگر اس کے باوجود وہ دیر تک وہاں سر جھکائے بیٹھا رہا۔ اس نے گھڑی پر وقت بھی نہیں دیکھا۔ اسے اندازہ تھا کہ اب شاید رات کے دو بجنے والے ہوں گے۔ وہ اپنے تخیل کی مدد سے سوچنے لگا۔ “شاید وہ اپنے کمرے سے باہر آ گئی ہو مگر اپنے شوہر کو دھوکا نہ دینا چاہتی ہو اور برآمدے میں ٹہلتی ہوئی کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش میں ہو۔”

 

اچانک ایک لرزا دینے والے خیال نے اس کے خوف میں اضافہ کر دیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں پکوڑافروش نے اسے کوئی فریب نہ دیا ہو؛ کہیں اس کی سنائی ہوئی ساری باتیں جھوٹی نہ ہوں اور کہیں اس نے اس کے خلاف کوئی سازش تیار نہ کر رکھی ہو۔ اس کا ذہن مختلف وسوسوں اور اندیشوں سے بھر گیا۔ اسی کیفیت کے زیرِاثر وہ سیمنٹ کے نالے سے اْٹھ کر چلتا ہوا کماد کے کھیت میں جا کر چھپ گیا۔ بہت دیر تک وہ وہاں چھپا سامنے کی طرف دیکھتا رہا۔ اس کی نگاہ شرینہہ کے دیوقامت پیڑوں کے سایوں پر جمی تھیں۔

 

اچانک اسے کسی کے قدموں کے نیچے کپاس کی سوکھی لکڑیوں کے کچلنے کی دھیمی دھیمی سی چرمراہٹ سنائی دی۔ اس کے بعد اس نے چاندنی میں وہاں ایک سائے کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ اطمینان کا سانس لیتے ہوئے گنے کی فصل سے باہر نکلا اور شیشم کے درخت کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اب وہ واضح طور پر دیکھ رہا تھا کہ شمیم ہولے ہولے قدم اٹھاتی اس کی طرف بڑھتی آ رہی تھی، مگر چلتے چلتے وہ اچانک کھڑی ہو گئی۔ چادر میں لپٹی ہوئی شمیم نے اسے اشارہ کرتے ہوئے اپنی طرف بلایا۔ اس کے اشارے پر وہ حواس باختگی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا تیزی سے اس کے قریب پہنچا۔

 

شمیم لجاتے اور کسمساتے ہوئے اس سے مخاطب ہوئی۔ “نزدیک ہی ایک محفوظ جگہ ہے۔ آؤ چل کر وہاں بیٹھتے ہیں۔”

 

سردیوں کی رات کے گہرے سکوت میں اس کی آواز نذیر کو کسی شیریں نغمے جیسی محسوس ہوئی۔ وہ اس کی آواز کی تعریف کرنا چاہتا تھا مگر سر جھکائے چپ چاپ اس کے پیچھے چلنے لگا۔ سردی کے سبب اس کا جسم کپکپا رہا تھا۔ اس کے بند ہونٹ ہل رہے تھے۔ وہ آگے چلتی، کپڑوں میں سمٹی ہوئی عورت کو دیکھ رہا تھا جو بے آواز قدم اٹھاتی چل رہی تھی۔
کچھ دور جا کر وہ ٹھہر گئی۔ اسے دیکھ کر نذیر بھی رک گیا۔ نذیر نے جگہ کے انتخاب کی بہت تعریف کی۔ شمیم اسے بتانے لگی کہ اسے اس علاقے کے چپے چپے کی خبر تھی۔

 

نورل نے اس کے پاس آ کر سرگوشی میں کہا، “تمام گوٹھوں کے عاشقوں کے لیے کماد کی فصل خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔”
آج بھی اس نے اپنا چہرہ نقاب میں چھپایا ہوا تھا۔ اندھیرے کے سبب وہ اس کی تاب ناک آنکھوں کو نہیں دیکھ سکا۔ اس کے جسم کا کوئی حصہ بھی چادر سے باہر نہیں تھا۔

 

کچھ دیر بعد اس نے دو قدم پیچھے ہٹاتے ہوئے اپنے چہرے سے نقاب اْتار دیا۔

 

نذیر بہت غور سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ زیادہ خوبصورت نہیں تھی مگر اس وقت اسے بیحد پر کشش محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سندھی گانوں کی مدد سے اس کی تعریف کرنے لگا۔ اس کے چہرے کو چاند اور آنکھوں کو ستاروں سے تشبیہ دینے لگا۔ ایک نوجوان لڑکے سے اپنی تعریفیں سن کر شمیم مسکرانے لگی۔ وہ کئی برسوں کے بعد کسی کے ہونٹوں سے اپنی اتنی تعریف سن رہی تھی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ وہ اسے اپنی معمولی زندگی کی معمولی سی باتیں مزے لے لے کر سنانے لگی۔
نذیر کو حیرت ہو رہی تھی کہ اب تک اس نے اپنے شوہر کے خلاف کوئی جملہ نہیں کہا تھا، جبکہ پکوڑافروش نے اسے بتایا تھا کہ ان دونوں کے تعلقات ٹھیک نہیں چل رہے۔

 

شمیم کو نذیر سے ملاقات کے لیے جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ ان کا بیان مبالغہ آرائی سے کرتی رہی۔ اس کی گنگناتی آواز سنتے ہوئے وہ اپنی تمام اذیت بھول گیا۔ وہ صرف اس کی صورت دیکھتا اور اس کی باتیں سنتا رہا۔ اس نے اس کے نزدیک کھڑے ہو کر اس کے بالوں کی مانگ کو دیکھا، پھر اس کی پیشانی اور اس کی آنکھوں کو، اس کے بعد اس کے ہونٹوں اور گالوں کو۔ اس نے اس کی جلد کی سفید رنگت کو دیکھا۔ اس کی کلائی کی چوڑیوں کو دیکھا جو باربار خودبخود کھنک پڑتی تھیں۔ اس کا مترنم اور دھیما لہجہ اس پر فسوں طاری کر رہا تھا۔ اوڑھی ہوئی چادر کے باوجود اس کے سینے کا ابھار صاف دکھائی دے رہا تھا۔

 

شمیم بھی اس کی نظروں سے غافل نہیں تھی۔ وہ اس کی نگاہوں کی خاموش تعریف سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ اچانک کسی احساس کے زیرِاثر اس کے لہجے کی بے ساختگی ختم ہو گئی اور وہ اٹک اٹک کر باتیں کرنے لگی۔

 

نذیر کے لیے یہ لمحات اس کی زندگی کے سب سے زیادہ مسرور لمحات تھے۔ ایک شادی شدہ جوان خاتون اس کے پہلو میں تھی اور اس کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگا کراس سے ملنے آئی تھی۔ وہ دونوں آنے والے دنوں میں اپنی ملاقاتوں کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔

 

شمیم کو نذیر سے ملاقات کے لیے جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ ان کا بیان مبالغہ آرائی سے کرتی رہی۔ اس کی گنگناتی آواز سنتے ہوئے وہ اپنی تمام اذیت بھول گیا۔
شمیم نے اسے بتایا کہ آئندہ اس کے لیے رات کے وقت کھیتوں میں آنا ممکن نہیں ہو گا۔ وہ خوفزدہ تھی۔ اس نے کہا کہ وہ اس سے ملنے کے لیے کوئی اور بندوبست کرے گی۔ اس نے اپنے دل میں امڈتی ہوئی محبت کا اظہار کیا اور نذیر کی تعریفیں کرنے لگی۔ وہ مسکرایا اور اس نے موج میں آ کر، آگے بڑھ کر شمیم کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ اس نے پہلی بار نسوانی جسم کے اضطراب اور اس کی نرمی کو اپنے بازوؤں میں مچلتے محسوس کیا۔ اسے لگا کہ وہ ریشم کے نرم و ملائم تھان سے لپٹ گیا ہے۔ وہ اس کے بازوؤں میں کسمسانے لگی۔ اس کے بدن سے اٹھتی کسی عطر اور پاؤڈر کی خوشبو اسے بے حد مسحورکن محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے پہلابوسہ اس کے داہنے ہاتھ پر دیا، وہ جس کی مدد سے اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ نذیر نے اپنے ہاتھوں سے اس کے دونوں ہاتھ ہٹا کر اس کے نرم ہونٹوں کو چومنے لگا۔ وہ ان لمحوں کے ذریعے اپنی زندگی بھر کی محرومی کو سیراب کرنا چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے نجانے کیا ہوا کہ وہ اس کی چادر کو چومتے چومتے اس کے سینے سے نیچے آیا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔

 

شمیم گڑبڑا گئی۔ اس نے اس کے بوسوں کے خلاف برائے نام مزاحمت کی۔ اس نے اپنے نوآموز عاشق کے وحشی پن کا برْا نہیں مانا اگرچہ اس کے تیزوتند بوسوں نے اس کے انگ انگ میں ہیجان برپا کر دیا تھا۔ نذیر بھی اپنے آپ میں نہیں تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اس کی ٹانگوں کو بھینچتا رہا۔ اس صورتِ حال میں شمیم کو خود کو سنبھالنے کا موقع مل گیا۔

 

کچھ دیر بعد وہ زمین سے اٹھا اور اس نے دوبارہ اس کی کمر کے گرد بازو ڈالنے کی کوشش کی مگر اس مرتبہ وہ پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے دھیمے لہجے میں اسے سرزنش کی۔

 

عورت کے جسم سے پہلی ہم آغوشی نے نذیر کو نشے سے چْور کر دیا تھا۔ وہ اس کے ہم راہ زمین پر اگی ہوئی گھاس پر، گنے کے کھیتوں میں، شیشم کے پیڑ کے نیچے، غرض ہر جگہ بوس و کنار کرنا چاہتا تھا، اس کے جسم کو آغوش میں لے کر رقص کرنا چاہتا تھا، مگر شمیم نے اگلے ہی ثانیے اسے دھکا دے کر سب کچھ ختم کر دیا۔ وہ نذیر پر طاری ہونے والی پیار کی وحشت سے خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اس سے الگ ہوتے ہی وہ اپنی بپھری ہوئی سانسوں کو سنبھالنے لگی۔ نذیر نے اس کے قریب آ کر اس سے اپنے رویے پر معذرت کی تو وہ مسکرانے لگی۔

 

اگلے ہی لمحے اس نے اپنارخِ روشن نقاب میں چھپا لیا۔ نذیر سے مخاطب ہو کر اس نے اسے”اللہ وائی” کہا اور اس کے بعد پلٹ کر سبک خرامی سے چلتی ہوئی، دیوقامت شرینہہ کے درختوں کے سائے میں غائب ہو گئی۔

 

عورت کے جسم سے پہلی ہم آغوشی نے نذیر کو نشے سے چْور کر دیا تھا۔ وہ اس کے ہم راہ زمین پر اگی ہوئی گھاس پر، گنے کے کھیتوں میں، شیشم کے پیڑ کے نیچے، غرض ہر جگہ بوس و کنار کرنا چاہتا تھا
اس کے جانے کے فوراً بعد نذیر کو احساس ہوا کہ شاید اس نے اپنے رویے سے اسے سہما دیا۔ اپنے احمقانہ رویے کی تلافی کی خاطر اس نے اسے آواز دی مگر اس کی آواز گوٹھ کے مکانوں کے درودیوار سے ٹکرا کر واپس آ گئی۔ وہ دیر تک وہیں پر مبہوت کھڑا اسی سمت دیکھتا رہا، کچھ دیر پہلے وہ جس طرف گئی تھی۔

 

گھر سے گوٹھ ہاشم جوگی کی جانب آتے ہوئے خوف کے سبب نذیر کے رگ و ریشے میں جو کپکپی طاری تھی، واپس جاتے ہوئے اس کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ آتے ہوئے اسے جو راستہ طویل اور لامتناہی محسوس ہو رہا تھا، واپسی پر اسے پتا ہی نہیں چلا اور وہ سبک روی سے چلتا ہوا گھر تک پہنچ گیا۔

 

(جاری ہے)