Categories
فکشن

سزائے تماشائے شہرِ طلسم

جب فاروق کے والد کا تبادلہ چھوٹے شہر سے بڑے شہر ہونے لگا،توجہاں اس کا دل بڑے شہر میں میسر آنے والی نت نئی رنگا رنگ تفریحات کے خیال سے سرشار تھا،وہیں اس کا دل بڑے شہر پر طاری ہو نے والی ایک عجیب و غریب کیفیت یا حالت دیکھنے کے لیے بھی مچل رہا تھا، جس کے بارے میں اس نے طرح طرح کی باتیں سن رکھی تھیں کہ جب وہ عجیب و غریب کیفیت یا حالت بڑے شہر کی گلیوں، محلوں، بازاروں اور سڑکوں پر طاری ہوتی، تو یکایک چہار جانب سناٹا چھا جاتا،جیسے بڑے شہر پر کسی دیو کا سایہ پھرگیا ہو۔چاروں طرف ہُو کے عالم میں صرف اُڑن طشتری جیسی برق رفتارگاڑیاں شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں بے آواز فراٹے بھرا کرتیں اور طویل فاصلے چند ساعتوں میں طے کرتیں۔بڑے شہر پر طاری ہونے والی اُس عجیب و غریب کیفیت یا حالت کے دوران،خلائی مخلوق جیسا لباس پہنے اجنبی لوگ تمام علاقوں کے چوراہوں اور گلی کوچوں بازاروں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیتے۔ مقامی لوگ جن کی زبان بالکل نہ سمجھتے اور انہیں اپنا مدعا سمجھانے کے لیے وہ اشاروں کی زبان کا استعمال کرتے۔فاروق نے چھوٹے شہر میں گزرنے والی اپنی زندگی میں ایسی چیزوں کا تصور تک نہیں کیا تھا، اسی لیے اپنے والد کے تبادلے کی خبر سنتے ہی اس کی نیند اچاٹ ہو گئی اور وہ رات دن بڑے شہر کی طلسماتی اور سحر انگیزفضاکے متعلق سوچنے اور اسے اپنے طریقے سے محسوس کرنے لگا۔

 

فاروق کو پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی جادوئی دنیا سے تعلق رکھنے والی کہانیاں پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا۔اس کی ذہنی دنیا میں علی بابا، عمرو عیار، سند باد جہازی اور حاتم طائی جیسے کردار،جیتے جاگتے سانس لیتے انسانوں کی طرح تھے۔ وہ اکثر انہیں اپنے تخئیل میں چلتے پھرتے دیکھا کرتااور راتوں کو سوتے ہوئے خوابوں میں اُن کے ساتھ مختلف مہمات سر کرتا پھرتا۔پھر نہ جانے کب کسی دوست نے اسے ایک جاسوسی ناول پڑھنے کو دیا اوراس کی ذہنی دنیا کہانیوں کی ایک نئی جہت سے آشنا ہوئی۔یہاں اس کی ملاقات ایک نئے کردار عمران سے ہوئی اور وہ اس کردار کا ایسا اسیر ہوا کہ طلسماتی دنیا سے نکل کر، اُس کی انگلی تھام کر، اس کے ساتھ ہولیا۔اب وہ خود کو عمران کی سیکرٹ سروس کا باقاعدہ رکن خیال کرنے لگا۔اب وہ جاسوسی کی نت نئی مہمات میں عمران کا ہم رکاب رہنے لگا۔اب اکثر جب وہ گھر سے نکلتا، تو اسے گلی سے گزرتے ہوئے راہ گیر،دشمن ملک کی سیکرٹ سروس کے ایجنٹ محسوس ہوتے اوروہ خود کو عمران سمجھتے ہوئے ان کا تعاقب کرتا۔ کچھ دور جاکر اسے اپنا یہ تعاقب لاحاصل محسوس ہوتا اوراسے وہ کام یاد آجاتا جس سے اس کی والدہ نے اسے بازار بھیجا ہوتا۔ یہ شاید اس کے تخئیل میں آباد، سنسنی خیز ی سے معمور دنیا کے اثرات ہی تھے، جن کی بدولت اس نے بڑے شہر پر اچانک طاری ہونے والی اُس کیفیت یا حالت کے بارے میں سنا تواسے وہ بہت حد تک اپنے ذہن میں آباد دنیا کے مماثل محسوس کر لیا۔وہ جلد از جلد بڑے شہر پہنچ کر اس صورتِ حال کامشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرنے کے لیے بے تاب ہو رہا تھا۔اس خواہش کے ساتھ اس کے دل کے کسی گوشے میں اُس تنہائی کا خوف بھی دُبکا ہوا تھا،وہاں پہنچ کر اس کا جس سے سابقہ پڑنے والا تھا۔ اسے جتنے دوست اور ہم جولی یہاں پر میسر تھے معلوم نہیں بڑے شہر میں بھی میسر آئیں گے کہ نہیں۔

 

چھوٹے شہر سے بڑے شہر تک کا سفرفاروق کی زندگی کا ایک کبھی نہ بھلانے والا سفر تھا۔وہ اپنے والد، والدہ او ر دو چھوٹے بھائیوں کی معیت میں،ایک کار میں سوار، جسے اس کے والد چلا رہے تھے،بڑے شہر کی جانب رواں تھا۔گردوپیش کے دل چسپ مناظر کے ساتھ ساتھ آسمان پر اڑتے ہوئے بادل بھی پیچھے کی طرف دوڑتے ہوئے گزر رہے تھے۔ اونچی نیچی ڈھلانوں سے گزرتی،گھومتی اور بل کھاتی سڑک کسی سیاہ اژدہے جیسی معلوم ہوتی تھی۔ راستے میں آس پاس چھوٹی بڑی پہاڑیاں دیکھ کر فاروق کے ذہن میں غار کا خیال آیا۔اُس غار کا خیال،جس کے باہر کھڑا ہو کر علی باباکہا کرتا تھا۔ “ کُھل جا سِم سِم “۔اور وہ غار اپنا دہانہ کھول دیا کرتا تھا۔ فاروق نے سوچا کہ وہ غار بھی کسی ایسے ہی علاقے میں واقع ہوگا۔یہ سوچتے سوچتے فاروق کی نظر دائیں جانب پڑی۔ کار ایک ڈھلان کی بلندی سے گزر رہی تھی اور اس بلندی سے دائیں طرف، بہت دور اسے نیلے پانی سے بھری ہوئی ایک پیالہ نما گول جگہ دکھائی دی۔کافی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے وہ اسے نظر بھر کر نہیں دیکھ سکا۔ اسے گمان گزرا کہ نیلے پانی سے بھری اس پیالہ نما جگہ کا منظر اس کی نظروں کا دھوکہ بھی ہو سکتا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے الف لیلی کے کرداروں کوصحراؤں میں سفر کے دوران نخلستان یا پانی کے ذخیرے دکھائی دیتے تھے۔مگر کچھ دیر بعد جب کار اگلی ڈھلان کی چڑھائی چڑھ کر اس کی بلندی تک پہنچی تو اس نے فوراً دائیں جانب نگاہ کی۔نیلے پانی سے بھری پیالہ نما جگہ کو دوبارہ دیکھتے ہی اس نے شور مچادیا۔اس کے شور مچانے پراس کے والد نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا تو اس نے ان سے کچھ دیر کے لیے گاڑی روکنے کی درخواست کر دی۔اس کے والد نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے سڑک پر بائیں جانب آہستگی سے گاڑی روک دی۔

 

فاروق نے کار کا دروازہ کھولتے ہی سڑک پر دائیں طرف دوڑ لگا دی۔ اسے جاتا دیکھ کر اس کے دونوں چھوٹے بھائی بھی مچلنے لگے۔ اس کی والدہ نے انہیں ڈانٹ کر کار سے نیچے اترنے سے روکا۔ ابھی فاروق بہ مشکل سڑک کے درمیان پہنچا ہوگا کہ اس کے والد کی غضب ناک آواز نے اسے بھی آگے بڑھنے سے روک لیا۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو ااس کے والد اسے واپس آنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ سڑک بالکل خالی تھی۔ اس لیے وہ سر جھکائے فوراً ہی والد کے قریب پہنچ گیا۔
اس کے والد نے خفگی سے پوچھا۔ “ تم نے کار کیوں رکوائی؟ اوریہ تم بھاگ کر کہاں جارہے تھے؟ “۔

 

فاروق نے پریشانی سے پلٹتے اور نیلے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “ ابو، وہ نیلا پانی۔۔ “۔ وہ جواب میں صرف اتنا ہی کہہ سکااور ہکلا کر چپ ہوگیا۔
اس کے والد نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دائیں طرف بہت دور دکھائی دینے والی پیالہ نما جگہ کی جانب دیکھا تو مسکرانے لگے۔ “ تم کار میں بیٹھو، پھر تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا ہے؟ “۔

 

فاروق منہ بسورتے ہوئے کار میں اگلی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا اور بار بار بے تابی سے گردن موڑ موڑ کر پیالے میں بند نیلے پانی کی جانب دیکھنے لگا۔اس کی والدہ اس کی سرزنش کرنے لگیں، تواس نے فرماں برداری سے والدہ کی ڈانٹ سن کر اپنا سرجھکا لیا۔اس کے والد نے گاڑی اسٹارٹ کی اور چند ہی لمحوں میں گاڑی اُس ڈھلان سے نیچے اتر گئی۔ فاروق بے تابی سے اپنے والد کے گویا ہونے کامنتظر تھا۔

 

اس کے والد کھنکار کر اپنا گلہ صاف کرتے ہوئے اس سے گویا ہوئے۔ “تم جس منظر کو دیکھ کر بے چین ہورہے تھے، وہ دراصل ایک مصنوعی جھیل تھی “۔
“مصنوعی جھیل “۔

 

اس کے والد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “ ہاں، پانی کی مصنوعی جھیل۔کئی برس پہلے جب بڑے شہر میں پانی کے سب کنویں خشک ہوگئے، تو بڑے شہر کے اس وقت کے پارسی میئر نے سوچا کہ بڑے شہر میں بسنے والے لوگوں کے لیے پانی کا مستقل بند و بست ہونا چاہیے۔سو اس نے بیرونِ ملک سے انجینئر بلائے۔ انہوں نے یہ مصنوعی جھیل بنوائی، جسے دریا سے نکالی جانے والی نہر کے ذریعے سیراب کیا گیا۔ “

 

فاروق اپنے والد کی معلومات سے مرعوب تو ہوا مگر اسے ان باتوں سے زیادہ دل چسپی اُس جھیل کو قریب سے دیکھنے سے تھی۔جب اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے والد سے کیاتو انہوں نے اسے بتایا کہ وہ جھیل کی طرف جانے والے سبھی رستوں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔انہوں نے فاروق سے وعدہ کیا کہ کچھ عرصے بعد وہ ان سب کو جھیل کی سیر کروانے لے جائیں گے۔

 

اِس کے بعد فاروق سارے رستے نیلے پانی کی اُس پیالہ نما جھیل کا تصور ہی باندھتا رہا۔تصور باندھتے باندھتے اچانک اس کی آنکھ لگ گئی اور اس نے خواب میں خود کو نیلے پانی کے کنارے کنارے چلتے دیکھا۔نیلا پانی جو بے آواز چھپاکوں کے ساتھ کناروں سے ٹکرا رہا تھا۔پانی میں چند کشتیاں تیر رہی تھیں، جن کے ملاح اپنے بدن کی پوری قوت سے چپو چلانے میں مصروف تھے۔جھیل کے کنارے وہ جس مقام پر کھڑا تھا، ایک کشتی دھیرے دھیرے وہاں آکر ٹھہر گئی۔ملاح نے اجنبی زبان میں اس سے کچھ کہا اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔وہ ملاح کا بڑھتا ہاتھ دیکھ کر ٹھٹھک کے رہ گیا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگا مگر ملاح نے آگے بڑھ کر اس کی مرضی کے خلاف اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے ہاتھ کی گرفت مضبوط تھی۔ فاروق پیچھے ہٹنا چاہتا تھا لیکن ملاح نے اسے زور سے کشتی کی طرف کھینچا۔ اس نے نہ چاہتے ہوئے کشتی کی طرف اپنا پاؤں بڑھایا۔ جیسے ہی اس کا پاؤں کشتی پر پڑنے لگا، کشتی وہاں سے غائب ہو گئی اور فاروق پانی میں گرنے لگا۔

 

پانی میں گرنے کے خوف سے اس نے خفیف سی چینخ مار ی اور جُھرجُھری لیتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔بیداری پر اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی گلی کے دونوں طرف بنے ہوئے مکانوں کے اوپر آسمان گہرا سُرمئی ہو رہاتھا۔شام ڈھل چکی تھی۔ کار میں اس کے سوا کوئی موجود نہیں تھااور کار ایک مکان کے سامنے کھڑی تھی، جس کا آہنی پھاٹک پورے کا پورا کا کھلا ہوا تھا۔فاروق آنکھیں مسلتا ہواکار سے نیچے اترنے ہی والا تھا کہ اس کا چھوٹا بھائی دوڑتا ہواآہنی پھاٹک سے برآمد ہوا اور اسے کار سے اترتے دیکھ کر خوشی سے چلایا۔ “ بھیا،ہم بڑے شہر میں اپنے نئے گھر پہنچ گئے “۔چھوٹے بھائی کی بات سن کر وہ بادلِ نخواستہ مسکرایا اور اس کے ساتھ نئے گھر کے پھاٹک کی طرف چل دیا۔

 

اگلے دو تین روز وہ اپنے بھائیوں اور والدہ کے ساتھ نئے گھر میں سامان، ترتیب اور سلیقے سے رکھنے میں مصروف رہا۔ اِس کام نے اس کے جسم پر ایسی تھکن طاری کی کہ وہ خواہش کے باوجود گھر سے باہر قدم بھی نہ نکال سکا۔ اس کے والد نے بھی اسے تاکید کی تھی کہ نئے شہر میں گھر سے باہر زیادہ نہ نکلے،اگر مجبوراً نکلنا ہی پڑے توزیادہ دور تک نہ جائے۔اسی لیے دوسرے روز اس کی والدہ نے اس سے اشیائے صرف کی فہرست بنوانے کے بعدجب اسے روپے دے کر سامان لانے کے لیے باہر بھیجا تو انہوں نے بھی اس کے والد کی تاکید کو دوہرایا، جسے سنتے ہوئے اس نے فرماں برداری سے اپنا سر اثبات میں ہلادیا۔

 

اس نے اندازہ لگایاتھا کہ گھر سے باہر نکلتے ہی بڑے شہر پر طاری ہونے والی اس عجیب و غریب کیفیت یا حالت کے کچھ آثار اس پر ہویدا ہونے لگیں گے۔ مگر گلی میں چلتے ہوئے جب ایک راہ گیر اس کے قریب سے گزرا تو فاروق نے اپنی نظروں سے اس کا چہرہ ٹٹولنے کی کوشش کی۔اسے راہ گیر کے چہرے پر کسی قسم کی گھبراہٹ یا پریشانی کے آثار دکھا ئی نہیں دیے۔و ہ کچھ اور آگے بڑھاتوسب گلیوں کو ملانے والی درمیانی گلی میں اسے ایک دکان دکھائی دے گئی۔وہ اس دوکان سے گزر کر آگے جانا چاہتا تھا مگر والدین کی جانب سے کی جانے والی تاکید نے اس کے قدم روک لیے۔وہ اس دوکان پر گیا اور اس نے جیب سے فہرست نکال کر دوکان دار کے ہاتھوں میں تھمادی۔دوکان دار فہرست دیکھ دیکھ کر اطمینان سے سامان نکالنے لگا۔اس کا اطمینان دیکھ کر فاروق بے چینی سی محسوس کرنے لگا۔دوکان دار نے سامان تھیلیوں میں بھر کر اس کی طرف بڑھایا تواس کی جلدی سے جیب سے روپے نکال کر اس کے حوالے کردیے اور سامان سے بھری تھیلیاں اٹھائے گھر کی طرف چل دیا۔چلتے ہوئے وہ اس دبدھا میں تھا کہ کہیں بڑے شہر کے بارے میں اس نے چھوٹے شہر میں رہتے ہوئے جو کچھ سنا تھا، کہیں وہ سب کچھ کسی دورغ پر مبنی تو نہیں تھا۔کیوں کہ قلیل سے وقت میں اس کے محدود مشاہدے نے اس کی ذہنی دنیا میں قائم ہونے والے تصور کوکسی حد مجروح کردیا تھا۔

 

اگلے روز جب اس نے اپنی والدہ سے سودا سلف منگوانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے دوٹوک جواب دے دیا کہ آج کچھ بھی نہیں منگوانا۔ان کا جواب سن کر وہ بہت دیر تک پیچ و تاب کھاتا رہا اور باہر جانے کا کوئی بہانہ سوچتا رہا۔سہ پہر کے وقت اس کے دونوں چھوٹے بھائی آپس میں لڑ لڑ کر سو گئے۔ اس کی والدہ نے اسے بھی سونے کا حکم دیا۔وہ اپنے پلنگ پر لیٹ توگیا مگر دیر تک کروٹیں بدلنے کے باوجودوہ اپنے آپ کو سونے پر مائل نہ کرسکا۔ قرب و جوار کی کسی مسجد سے عصر کی اذان بلند ہوئی تو وہ پلنگ سے اتر کر والدہ کے کمرے کی چلا گیا۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اس نے دروازے پر دستک دی، جسے سنتے ہی اسے والدہ کی آواز سنائی دی۔ “کون ہے؟ “۔ فاروق قجھجھکتے ہوئے اندر داخل ہوا۔ اس کی والدہ بدن پر چادراوڑھے ہوئے بیڈ پر دراز تھیں اور ان کے چہرے پر پھیلی سوگواری سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ غنودگی کے عالم سے ابھی ابھی نکلی ہیں۔ انہوں نے جماہی لیتے ہوئے اس سے پوچھا۔ “ کیا ہوا فاروق؟ “۔

 

اس نے بے ساختگی سے کہہ دیا۔ “ امی، مجھے ایک کتاب خریدنی ہے، اس کے لیے پیسے چاہئیں “۔

 

یہ سنتے ہی والدہ کی پیشانی پر لکیریں سکڑنے لگیں۔ “ ابھی تمہارا اسکول میں داخلہ ہی نہیں ہوا۔ پھر تمہیں کیسی کتاب خریدنی ہے؟ “۔

 

“کہانیوں کی کتاب؟ “۔

 

“تمہارے پاس وہ تو پہلے ہی بہت سی ہیں۔ کیا کرو گے، اور لے کر؟ “۔

 

“ امی، وہ سب میں بہت پہلے ہی پڑھ چکا ہوں۔مجھے نئی کہانیاں پڑھنی ہیں۔ “

 

“ تمہیں کیا پتہ یہاں کتابوں کی دوکان کہاں پر ہے۔ تم کہاں سے جاکر کتاب خریدو گے؟ “۔

 

“میں نے معلوم کرلیا ہے۔بازار ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے۔آپ مجھے بس پیسے دے دیں۔ “ اس نے اتنے اعتماد کے ساتھ پہلے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔وہ خود بھی جی ہی جی میں اپنی اس ہمت پر حیران رہ گیا۔

 

“مگر تمہارے ابو نے منع کیا تھا کہ تم با ہر نہیں جاؤ گے۔ “ والدہ نے اسے یاد دلایا۔

 

“ امی، میں دیر نہیں کروں گا۔ کتاب لے کر جلدی آجاؤں گا۔بتائیں، پیسے کہاں رکھے ہیں؟ “۔اس نے اصرار کرتے ہوئے ایک ایک بار پھر مطالبہ کیا۔

 

“ اچھا، اچھا۔ باورچی خانے میں برتنوں والے دراز میں جو کیتلی رکھی ہے، اس میں ہیں پیسے۔ تم جا کر نکال لو۔ اور سنو جلدی واپس آنا۔ تمہارے ابو کے آنے کا وقت بھی ہونے والا ہے۔ “اس کی والدہ کو اس کے آگے ہتھیار ڈالتے ہی بنی۔

 

“جی اچھا۔ میں جلدی آجاؤں گا “۔سر ہلاتے اور اپنی کامیابی پر زیرِ لب مسکراتے ہوئے وہ کمرے سے نکل کر باورچی خانے کی طرف چلا گیا۔

 

جب وہ گھر سے نکلا تو باورچی خانے میں برتنوں والے دراز میں رکھی کیتلی سے نکالے ہوئے پچاس روپے اس کی جیب میں تھے۔ اسے بڑے شہرآئے ہوئے چند روز گزر گئے تھے، مگر اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ آج ہی یہاں پہنچا ہے۔ اس احساس کی وجہ گھر کی چار دیواری سے باہر وہ آزادی تھی، جو اسے آج پہلی بار میسر آئی تھی۔۔ وہ اکیلا بڑے شہر کے ائرپورٹ کے قریب واقع اس آبادی کے بازار کی جانب گامزن تھا، اکیلائی کا یہ تجربہ اس کے لیے بالکل نیا تھا۔۔وہ سب گلیوں کو ملانے والی درمیانی گلی میں واقع دوکان تک پہنچا تو وہ دوکان اسے حسب معمول کھلی ہوئی دکھائی دی۔اس کے قریب سے گزرتے ہوئے فاروق کی رفتار بہت کم تھی۔ وہاں دو خواتین کھڑی سودا سلف خرید رہی تھیں۔ان میں سے ایک برقعہ اوڑھے ہوئے تھی اور اپنی آنکھوں کی جنبشوں اور اپنے بدن کی حرکات و سکنات سے درمیانی عمر کی لگ رہی تھی۔ اور دوسری، جو چہرے سے بزرگ دکھائی دیتی تھی،مگر اب بھی چاق و چوبند نظر آرہی تھی۔ اس نے میلا کچلا سا اور دُھل دُھل کر اپنا اصل پیلا رنگ کھو کر،سفیدی مائل ہوتا ہوا لباس پہن رکھا تھا۔مختصر سا مٹیالے رنگ کا دوپٹہ اُس کے سر پر پھیلے سُر مئی اور سفید سے،کھچڑی گھنگھر یالے بالوں کو چھپا نے میں بری طرح ناکام تھا۔وہ بوڑھی خاتون سانولی اور گہری رنگت کی حامل تھی اور اس کا چہرہ جھریوں اور گہری لکیروں سے پُر تھا۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے اجنبی سے لہجے میں دوکان دار سے کہہ رہی تھی۔ “ مجھے لسٹ میں لکھا سارا سامان دینا۔ ایک ایک چیز۔اور ہاں، کوئی چیز چھوڑ مت دینا۔ سمجھے۔شہر کے حالات پہلے کبھی اتنے غیر یقینی نہیں تھے، جتنے اب ہو گئے ہیں۔ہیلمٹ والی مخلوق کو گلیوں میں دیکھ کر میرا تو دل دہل کے رہ جاتا ہے۔ان کی سیٹیاں سن کر میری سٹی گم ہوجاتی ہے۔اور۔۔ اور لاوڈ اسپیکر پر ان کا اعلان سن کر یقین مانو، میرا کلیجہ حلق کو آجاتا ہے۔ “۔

 

فاروق نے دوکان کے قریب سے گزرتے ہوئے اس خاتون کی یہ باتیں سنیں تواس کے دل میں معدوم ہوتی امید پھر سے بیدار ہونے لگی۔اس کے دل میں اس بزرگ خاتون سے، بڑے شہر پر طاری ہونے والی اس کیفیت یا حالت کے بارے میں استفسار کرنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر اُ س کے اور اس خاتون کے درمیان حائل اجنیبت اس کے پیروں کی زنجیر بن گئی۔وہ بار بار دوکان پر کھڑی اس بزرگ خاتون کی طرف دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ آگے بڑھتے ہی اس کے قدموں میں جیسے کوئی رَو دوڑ گئی اور وہ تیز رفتاری سے چلنے لگا۔جیسے آگے

 

اور آگے کوئی ان دیکھا منظر اس کا انتظار کر رہا ہو، لمحہِ موجود میں جس کی کشش اسے اپنی جانب کھینچے جا رہی ہو۔وہ بائیں مڑنے والی ایک گلی میں مڑ گیا۔ یہ گلی کچھ تنگ سی اور کچھ مختصر سی تھی۔اس نے دیکھا کہ یہ آگے جا کر دائیں طرف مڑ رہی تھی۔وہ اپنے تجسس کی جوت میں خوشی خوشی جلتا ہوا، اپنا سر جھکائے ہوئے اس گلی سے گزرا۔

 

دائیں طرف مُڑنے کے بعدوہ ایک کشادہ سی گلی میں داخل ہوا، جو سیدھی بازار کی طرف جارہی تھی۔اس گلی کے آخری سرے پرے پر اسے رونق سی دکھائی دی۔ دوکانوں اورٹھیلوں کے آس پاس مرد و زن خریداری میں مصروف دکھائی دے رہے تھے۔اس گلی کے دونوں طرف دوبڑی بڑی ورک شاپس بنی ہوئی تھیں، ان کے گیٹ کھلے ہونے کی وجہ سے فاروق یہ دیکھ سکا کہ ایک ورک شاپ میں گاڑیوں کی مرمت کی جارہی تھی جب کہ دوسری میں نیا فرنیچر بنانے کے ساتھ ساتھ پرانے فرنیچر کی مرمت کا کام بھی جاری تھا۔فاروق ورک شاپس سے آگے بڑھا تو اسے دونوں جانب زمین کے بڑے بڑے چوکور خالی قطعے دکھائی دیے، جن میں جھاڑیاں اور کیکر اگے ہوئے تھے۔کچھ آگے جا کر دائیں طرف کسی حکیم صاحب کا مطب واقع تھا۔، جب کہ بائیں طرف دوکانوں کا ایک سلسلہ ساتھا۔ ان دوکانوں میں ویڈیو فلمیں اور وی سی آر کرائے پر دستیاب ہوتے تھے۔سب دوکانوں کے سامنے کے حصوں پرسیاہ اور دیگر گہرے رنگوں کے شیشے لگے تھے۔ ان کے دروازے بھی شیشوں کے بنے ہوئے تھے۔ ان شیشوں پر ہندی اور امریکی فلموں کے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔اس وقت ایک ویڈیو سینٹر سے ہندی گانا سنائی دے رہا تھا۔وہ فلموں کے پوسٹر دیکھتااور گانا سنتا ہوا آگے بڑھا۔

 

کچھ دیر پیشتر بوڑھی عورت کی باتیں سن کر اس کے دل میں جس امید نے سر اٹھایا تھا، بازار میں گہما گہمی دیکھ کر وہ نا امیدی میں تبدیل ہونے لگی۔بازار ہر طرح کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ شام کے اسکولوں سے چھٹی پانے والے بچوں سے، کالج اور یونیورسٹی سے شام کی کلاسیں لے کر لوٹنے والے لڑکوں اور لڑکیوں سے،دفاتر، فیکٹریوں، اور کام کی دیگر جگہوں سے چھوٹنے والے مرد و زن سے،، بھکارنوں سے، مزردوروں سے۔غرض کہ بھانت بھانت کے لوگوں سے، جو وہاں اپنی اپنی ضروریات کا سامان خریدتے، گھومتے پھر رہے تھے۔ان کے درمیان ٹہلتے ہوئے فاروق کو کتابوں کی دوکان تلاش کرنے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔

 

وہ کتابوں کی دوکان میں داخل ہوا۔ یہاں ہر طرح کی نصابی، غیر نصابی کتب اور رسائل دستیاب تھے۔فاروق نے دو پرانے ڈائجسٹ خریدنے کے لیے منتخب کیے، جن کے دام بہت ارزاں تھے۔اسے اطمینان سا ہوا کہ اگلے چند روز کے لیے بوریت سے اس کی جان چھوٹ جائے گی۔وہ ان کی قیمت ادا کرکے دکان سے باہر نکلا اور بازار میں چلنے لگا۔

 

بازار کی مرکزی سڑک،جس کے دائیں اور بائیں طرف بہت سی چھوٹی سڑکیں اور گلیاں نکلتی تھیں۔ کسی چھوٹی گلی یا سڑک سے کچھ اوباش قسم کے لڑکوں کی ٹولی ڈنڈے اور لاٹھیاں اٹھائے ہوئے نکلی اور بازار کی دوکانوں پر پِل پڑی۔وہ بازار جہاں لوگ اپنی موج میں سست خرامی سے گھوم رہے تھے،اچانک وہاں بھگدڑ سی مچ گئی۔ایسی ہا ہا کار مچی کہ لوگ اپنی خریداری بھول کر، یہاں وہاں بھاگ کر، خود کو ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی زد میں آنے سے بچانے لگے۔دوکانیں بند ہونے لگیں۔اسی دوران نہ جانے کہاں سے دو موٹر سائکلیں نمودار ہوئیں۔ ہر موٹر سائیکل پردو لڑکے سوار تھے۔ وہ بلند لہجوں میں چینخ چینخ کردوکان داروں کو دوکانیں بند کرنے کا حکم دے رہے تھے۔

 

فاروق اس صورتِ حال کو فوری طور پر نہیں سمجھ سکا کیوں کہ یہ اس کے لیے بالکل انوکھی صورتِ حال تھی۔اس نے کھلبلی مچ جانے کے ایسے واقعات کا مطالعہ تو ضرور کیا تھا اور کسی حد تک انہیں اپنی چشمِ تصور میں بھی دیکھا تھا، مگر ایسی صورتِ حال کا کہانیوں میں مطالعہ کرنا اور اسے اپنے تصور میں دیکھنا، بالکل الگ بات تھی، جب کہ اس کا سامنا کرتے ہوئے اسے اپنی آنکھوں کے روبرو دیکھنا بالکل الگ بات تھی۔ آٹھ دس لڑکوں کی ٹولی کے غراتے، چینختے چلاتے ہوئے لہجوں، دکانوں، ٹھیلوں، اور کچھ لوگوں پر پڑتے ہوئے ڈنڈوں کے شور،تیزی سے گزرتی موٹر سائیکلوں کا غُل غپاڑہ اور فائرنگ کی آوازوں نے مل جل کر فاروق کے ذہن پر جو پہلا تاثر قائم کیا، وہ ڈر اور خوف کا تاثر تھا۔اس کی اپنی زندگی چھِن جانے کا خوف۔موت سے ہمکنار ہونے کا خوف۔ اسی خوف کے زیرِ اثر وہ بد حواس ہوکر بازار سے بائیں طرف نکلنے والی ایک گلی میں بھاگا۔یہ وہ گلی ہرگز نہیں تھی، جس میں ٹہلتا ہوا وہ اس جانب آیا تھا۔

 

دل و دماغ پر اچانک چھا جا نے والے خوف کے زیرِاثر وہ جس گلی میں بھاگا، وہ ا س کے لیے نامہربان اور اجنبی ثابت ہوئی اور اسے نا آشناگلیوں کے ایک ایسے سلسلے کی طرف لے گئی،جو اس کے لیے گم راہ کن ثابت ہوا۔ اگر یہ گلیاں اپنے راہ گیروں، خوانچہ فروشوں اور دیگر گزرنے والوں کے وجود سے بھری پری ہوتیں، تو شاید اسے یہ خوف اتنا پریشان نہ کرتا۔ مگر یہاں تو جس طرف دیکھو گہرا اور دبیز سناٹا تھا۔اس نے محسوس کیا یہاں واقعی کسی دیو کا سایہ پھر گیا ہے، جس نے ان گلیوں سے زندگی کی ہر رمق نوچ ڈالی ہے۔وہ خود کو ایسا شہزادہ خیال کرنے لگا، جو اپنے آپ کو اس دیو سے بچانے کی خاطر اس بھول بھلیاں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ وہ جو گلی بھی عبور کرتا، وہ اسے مزید بھٹکانے کا سبب بنتی۔اس طرح وہ بھٹکتے بھٹکتے بہت دور پہنچ گیا۔اتنی دور پہنچ کر اسے اپنی جان کو لاحق ہو نے والا خوف تو کچھ کم ہو گیا، مگر اب اس کی جگہ نئے خوف نے لے لی تھی۔

 

سورج مقامِِ غروب کی طرف رواں تھا اورشام تیزی سے ڈھلتی جارہی تھی۔وہ جانتا تھا کہ کچھ دیر بعد پھیلنے والا اندھیرا ان نامہربان اور اجنبی گلیوں کو ایک نئے اور مختلف روپ میں ڈھال دے گا۔گہری تاریکی میں یہ گلیاں کچھ دہشت ناک اور کچھ بھیانک سی محسوس ہونے لگیں گی۔اسے اپنی والدہ کا اسے بازار جانے سے روکنا شدت سے یاد آیا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ یہ احساس درد بن کر اس کے بدن کے رگ و ریشے میں سرایت کرگیا۔اس کا گلا رندھنے لگا۔وہ خود پر ضبط کرتا ہوا ٹھہر گیا اور گردوپیش دیکھنے لگا۔کچھ دیر وہاں کھڑ ا لمبی سانسیں لیتا رہا۔ اسی دم اس نے ایک فیصلہ کیا اور آگے بڑھنے کے بجائے فوراً اسی مقام کی جانب چلنا شروع کردیا، جس مقام سے اس کا بھٹکنا شروع ہوا تھا۔

 

واپسی کے سفر میں زمین کی نشانیوں نے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں اس کی بہت مدد کی۔گرچہ خوف کے عالم میں بھاگتے ہوئے اس نے زمین کی کوئی نشانی اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی، مگر وہ شاید اس کے لاشعور میں کہیں خود بہ خود محفوظ ہوگئیں تھیں۔اسی لیے کوئی نقشِ پا،کوئی گڑھا، کوئی کھمبا،یا دیواروں پر بنی ہوئی کوئی علامت یا کوئی اشتہار ازبر نہ ہونے کے باوجود واپسی کے سفر میں اس کی راہنمائی کرتے رہے۔وہ کم و بیش انہی گلیوں سے گزرا، جن سے وہ ہانپتا کانپتا، دوڑتا ہوا گیا تھا۔

 

گردوپیش کی مساجد سے مغرب کی اذان بلند ہو نے لگی تھی، جب وہ نڈھال قدموں سے چلتا ہوا اس گلی میں داخل ہوا، جس میں اس کا گھر واقع تھا۔اس نے بہ دِقت اپنا ہاتھ اٹھا کر گھنٹی کا بٹن دبایااور سر جھکا کرلوہے کے پھاٹک کے پاس کھڑا ہوگیا۔ اس نے محسوس کیا اب تک اس کے دل کی دھڑکن معمول پر نہیں آئی تھی اور وہ اپنے گھر کے پھاٹک کے قریب ہونے کے باوجود غیر ارادی طور پر پلٹ پلٹ کر بھی دیکھ رہا تھا، جیسے ہنگامہ آرائی کرنے والے اس کے پیچھے لگے ہوئے ہوں۔چند لمحوں بعد پھاٹک کھلا اور اسے اپنے چھوٹے بھائی کا چہرہ دکھائی دیا،جو اسے دیکھتے ہی اس سے دیر سے آنے کے بارے میں سوال پر سوال پوچھنے لگا تھا۔ فاروق میں اس کے کسی سوال کا جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔وہ ڈائجسٹ ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوا۔پھاٹک بند کرتے ہوئے چھوٹے بھائی نے اسے اطلاع دی کہ ابو دفتر سے گھر آچکے ہیں، تو وہ یہ اطلاع سن کر چونکا اورٹھٹھک کر بولا۔ “ اچھا “۔وہ اس وقت اپنے والدین کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔اس لیے وہ چھوٹے بھائی کی بات کو نظر انداز کرتا اپنے کمرے کی طرف جانے لگاکہ اسے والدہ کی آواز سنائی دی۔ “ کون آیا ہے؟ “۔
اس کے چھوٹے بھائی نے فوراً بلند لہجے میں جواب دیا۔ “فاروق بھائی آئے ہیں “۔

 

“اسے ہمارے پاس بھیج دو “۔یہ سنتے ہی اس کے قدم رک گئے۔وہ کچھ سوچتا ہوا والدین کے کمرے کی طرف چل دیا۔

 

وہ ڈائجسٹ ہاتھ میں لیے، اپنا سر اور نگاہیں نیچی کیے،کمرے میں داخل ہوا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے والدین نے اس کی اچانک آمد کی وجہ سے چپ سادھ لی ہے۔ جھکی نظروں سے وہ صرف اپنے والد کو بیڈ پر نیم دراز بیٹھے اور چائے پیتے ہوئے دیکھ سکا۔اس کی والدہ بیڈ کے دائیں طرف رکھی ہوئی ایک کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے ہوئے بیٹھی تھیں۔ اس نے ان دونوں کے چہروں کی طرف اپنی جھکی جھکی نظروں سے دیکھا تو اسے اپنے والد کے چہرے پر معمول کے سنجیدہ تاثر کے ساتھ فکرمندی کی ہلکی سی پرچھائیں دکھائی دی، جب کہ اس کی والدہ سخت گیری اور خفگی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

 

“تم دروازے کے پاس کیوں کھڑے ہو۔ آگے آؤ اور سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھو “۔اس کی والدہ نے اسے حکم دیتے ہوئے کہا۔

 

وہ کچھ آگے بڑھا اور بیڈ کے قریب جاکر کھڑا ہوگیااور اپنی واپسی میں ہونے والی تاخیر کے متعلق اپنی سی وضاحت دینے لگا۔ “ ابو، میں بازار کتابیں لینے گیا تھا کہ وہاں۔۔۔۔۔ “۔

 

اس کے والد نے اس کی بات درمیان سے کاٹتے ہوئے پہلے کھنکار کر اپنا گلہ صاف کیا، پھر اس مخاطب ہوئے۔ “ فاروق، میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا اور ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ یہ بڑا شہر چھوٹے شہرسے بہت مختلف ہے۔یہاں تمہیں بہت سوچ سمجھ کر اور محتاط ہوکر گھر سے نکلنا پڑے گا۔تمہیں اپنی امی اور میری کہی ہوئی ہر بات پر عمل کرنا ہوگا۔سمجھے “۔

 

فاروق نے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “جی سمجھ گیا۔ “

 

“ تم ہر دفعہ یہی کہتے ہو۔ مگر سمجھتے پھر بھی نہیں۔میں نے تمہیں سمجھایا اور روکا تھا، مگر تم رکے پھر بھی نہیں۔ “

 

“ آئندہ ایسا نہیں ہوگا، امی “۔اس نے وعدہ کرتے ہوئے کہا۔

 

“دیکھو فاروق، آج شہر کے بہت سے علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔فائرنگ ہوئی۔ چھری، چاقو اور ڈنڈوں سے لوگوں کو زخمی کیا گیا۔کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے۔اسی لیے حکومتِ وقت نے شہر کے بہت سے علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے “۔

 

کرفیو کا لفظ فاروق کے لیے نیا نہیں تھا۔ وہ چند مرتبہ پہلے بھی یہ لفظ اپنے والد سے سن چکا تھا۔مگر وہ اس لفظ کے معنی و مفہوم سے مکمل طور پر نا آشنا تھا۔اس نے اپنے ذہن میں اس کے الگ ہی معنی طے کر رکھے تھے۔

 

“ ابو۔۔۔یہ کرفیو کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ “ اسنے جھجھکتے جھجھکتے یہ سوال پوچھ لیا۔

 

“ کرفیو کا مطلب۔۔ کرفیوجہاں بھی لگایا جاتا ہے۔ وہ علاقے فوج کے حوالے کردیے جاتے ہیں۔ فوج گلی، محلوں اور بازاروں میں گشت کرنے لگتی ہے۔عام لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائدکر دی جاتی ہے۔جو شخص بھی اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر سے نکلتا ہے، اسے سزا دی جاتی ہے۔ ملک کے عام شہری کے تمام حقوق عارضی طور پر معطل کردیے جاتے ہیں “۔

 

“ مگر فوج کا کام تو سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، ابو۔ ہمارے گلی، محلوں اور بازروں میں اس کا کیا کام؟ “

 

“ دوسرے ملکوں کی فوجیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ ہماری فوج نے سرحدوں کے ساتھ ساتھ گلی، محلوں اور بازاروں کی حفاطت کی ذمہ داری بھی اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔بہر حال تم ابھی بہت چھوٹے ہو، یہ باتیں نہیں سمجھوگے۔تمہیں جو کہا جارہا ہے تم صرف اسی پر عمل درآمد کرو۔سمجھے۔ “

 

فاروق اپنے والد کی کچھ باتیں سمجھا اور کچھ نہیں سمجھا، مگر پھر بھی اس نے تائید میں اپنا سر اس طرح ہلایا، جیسے وہ سب کچھ سمجھ گیا ہو۔

 

“اچھی طرح سن لو اور سمجھ لو فاروق۔ اب جب تک کرفیو لگا ہواہے، تمہارے گھر سے باہر جانے پر مکمل پابندی ہے۔اب تم جاؤ اور جا کر اچھی طرح اپنے ہاتھ پاؤں اور منہ دھوؤ۔ کچھ دیر میں کھانا تیار ہوجائے گا۔ جاؤ۔ “ فاروق کے کمرے سے باہر جانے کا انتظار کیے بغیر اس کی والدہ اپنے شوہر سے مخاطب ہوئیں۔ “کرفیو ختم ہوتے ہی سب بچوں کے اسکول میں داخلے کروائیں۔گھر میں رہ رہ کر یہ سارا پڑھا لکھا بھول گئے ہیں۔ چھوٹے دونوں تو دن بھر لڑتے رہتے ہیں۔ ان کی شکایتیں اور آپس کی لڑائیاں ختم ہی نہیں ہوتیں “۔

 

فاروق کمرے سے باہے جانے ہی والا تھا کہ اس کے والد اس سے مخاطب ہوئے۔ “ فاروق “۔

 

“جی ابو “۔ اس نے رکتے ہوئے جواب دیا۔

 

“ بیٹا تم اپنے چھوٹے بھائیوں کو چند گھنٹے بیٹھ کر پڑھایا کرو۔ تم بڑے ہو اور ان سے زیادہ سمجھ دار بھی ہو “۔

 

“ یہ خود تو پڑھتا نہیں، انہیں کیا پڑھائے گا “۔

 

“ پڑھاؤں گا، امی۔ ضرور پڑھاؤں گا “۔ زیرِ لب مسکراتے ہوئے وہ کمرے سے چلا گیا۔

 

کمرے سے نکلنے کے بعد اس نے سکھ کا سانس لیا مگر اس کے والد کی کہی ہوئی باتیں اس کے ذہن میں گھوم رہی تھیں۔وہ انہیں مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس نے جو کچھ بازار میں دیکھا تھااور وہاں اس پر جو کچھ بیتاتھا، وہ اب تک اسے بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔وہ کون لوگ تھے،جو ڈنڈے ہاتھوں میں اٹھائے زبردستی دوکانیں بند کروا رہے تھے؟ اور فوج، کیوں گلی محلوں تک چلی آئی تھی؟ جب کہ ان کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا تھا۔اس کے ذہن میں یہ سب سوال بگولوں کی طرح کی چکر کاٹ رہے تھے۔ اسے واضح طور پر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس صورتِ حال کو اس نے اپنے تئیں جس طرح قیاس کر رکھا تھا، یہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر تھی، اور اس صورتِ حال کا بہت بڑا حصہ اس کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ فہم تھا۔وہ اسی الجھن میں مبتلا جب اپنے کمرے میں داخل ہوا، تو اس کے چہرے پر طاری سنجیدگی کو دیکھ کر اس کے چھوٹے بھائی یہ سمجھے کہ اسے زور کی ڈانٹ پڑی تھی اور اسی لیے اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انہوں نے بڑے بھائی سے گفتگو سے احتراز کیا۔وہ بھی ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا اور ناگاہ دوکان سے خرید کر لانے والے رسالوں کی ورق گردانی کرنے لگا۔
فاروق نے رات کھانا سب کے ساتھ مل کر کھایا۔ اس دوران اس کے والد نے انہیں یقین دلایا کہ حالات معمول پر آتے ہی وہ ان تینوں کو فوراً کسی اچھے اسکول میں داخل کروادیں گے۔ان کی حالات معمول پر آنے کی بات فاروق نہیں سمجھ سکا۔اسے یہ جاننے کی کرید ہوئی کہ آخر ایسا کیا ہوگیاکہ حالات اپنے معمول سے ہٹ گئے۔اس نے اپنے والد سے اس بارے میں چند سوالات کیے، جن کے اسے تسلی بخش جوابات نہیں مل سکے۔اس کے ذہن میں پہلے سے موجود خلجان میں کچھ اور اضافہ ہوگیا۔

 

کھانے کے کچھ دیر بعد والدہ کی جانب سے سونے کا حکم صادر ہوا۔اس کے دونوں بھائی ایک پلنگ پر لیٹ گئے، جب کہ فاروق الگ پلنگ پر جا لیٹا۔اس کی والدہ انہیں تاکید کرنے کے بعد کمرے کی بتی بجھا کر چلی گئیں۔فاروق بستر پر لیٹا کروٹیں ہی بدلتا رہا۔اس کے ذہن میں شام کو بازار میں پیش آنے والا واقعہ، اپنی تمام جزئیات کے ساتھ گھومنے لگا۔اس نے اُس خوف کی ہلکی سی آنچ کو بھی محسوس کیا،جو اس وقت اچانک اس کے سارے وجود پر محیط ہوگئی تھی اور جس نے اسے جان بچانے کی خاطر بازار سے بھاگنے پر اکسایا تھا۔ وہ حیران تھا کہ اس کے قدم کس طرح اس کے وجود کا بوجھ اٹھائے اسے موت کے خطرے سے بچانے کی خاطر خود بہ خود حرکت میں آگئے تھے۔ایک خیال، جسے وہ لاشعوری طور پر شام سے دبائے جارہا تھا، اس وقت خود ہی اپنا سر اٹھانے لگاتھا، وہ یہ کہ اسے وہاں سے بھاگنا نہیں چاہیے تھا۔ اسے وہیں کہیں چھپ کر سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے تھا۔شاید اس طرح وہ اُن ڈنڈہ بردار لوگوں اور فائرنگ کرنے والوں کے بارے میں زیاد ہ جان لیتا،جن کے بارے میں جاننے کا وہ شدت سے متمنی تھا۔

 

کمرے میں تاریکی تھی مگر اس کی آنکھیں اس تاریکی سے اتنی مانوس ہوچکی تھیں کہ اب کمرے کی ہر چیز دکھائی دے رہی تھی۔اس کے چھوٹے بھائی کچھ دیر پہلے گہری نیند سوچکے تھے، مگر اس کے ذہن میں جاری کشمکش اسے نیند سے دور لیے جارہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ عمران سیریز کی کہانیوں میں پوری سیکریٹ سروس دشمن ممالک کے اخفیہ ا یجنٹوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لیے اپنی جان بھی داؤ پر لگا دیتی ہے۔مگر ہماری فوج ہمارے ہی خلاف سڑکوں پر نکل آئی تھی اور اس نے لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر بھی پابندی لگادی تھی۔ ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ وہ اس عقدے کا حل ڈھونڈتے ڈھونڈتے نیند کے خمار میں کھونے لگا۔ پہلے کچھ دیر وہ جماہیاں لیتا رہا، پھر اس کی آنکھیں خود بہ خود مندتی چلی گئیں۔

 

اگلے روز وہ اپنے والدین اورچھوٹے بھائیوں سے چھپ چھپ کر چھت کا چکر لگاتا رہا۔ ہر باروہ دبے پاؤں چھت پر جاکر اپنی گلی کے سامنے واقع ساری گلیوں کو ملانے والی گلی کی طرف کچھ دیر دیکھتا اور مایوس ہو کر واپس چلا جاتا۔وہ ساری گلیوں کو ملانے والی گلی میں جو منظر دیکھنا چاہتا تھا، وہ اسے آدھا دن گزرنے کے باوجود دکھائی نہیں دیا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جب اس کے والدین اور چھوٹے بھائی قیلولے کے لیے اپنے بستروں پر دراز ہوئے، تو اسے چھت پر جانے کا ایک اور موقع مل گیا۔ تیز دھوپ میں وہ چھت پر کھڑا گلی کی طرف دیکھتا رہا۔

 

اچانک اسے ساری گلیوں کو ملانے والی گلی کی طرف سے مائیکرو فون پر سنائی دیتی مبہم سی ایک آواز اور اس کے ساتھ ساتھ ایک گھڑ گھڑاہٹ بھی سنائی دینے لگی۔جسے سن کر فاروق سمجھ گیا، کہ اس کی خواہش پوری ہونے والی تھی۔ مائیکرو فون پر سنائی دیتی آواز دھیرے دھیرے ایک اعلان یا تنبیہ کی صورت اختیار کر نے لگی، جس میں شہریوں کو اپنے گھروں میں بند رہنے کا حکم دیا جارہا تھا اور اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں سخت سزا کی دھمکی دی جارہی تھی۔یہ آواز جوں جوں قریب آتی گئی، اس کا سخت اور دوٹوک قسم کالب و لہجہ واضح ہوتا چلا گیا۔اس کے ساتھ ہی سنائی دینے والی گھڑ گھڑاہٹ بھی نزدیک سے نزدیک تر آتی گئی۔

 

قریب آتی درشت لہجے کی آواز اور گھڑگھڑاہٹ سن کر فاروق کے بدن میں ایک سنسنی سی دوڑنے لگی۔وہ صبح سے جو منظر دیکھنے کا بے چینی سے منتظر تھا، اب وہ اس کے سامنے رونما ہونے والا تھا۔اس نے دل ہی دل میں اپنی جگہ سے نہ ہٹنے کا پختہ عزم کر لیا۔

 

اگلے ہی لمحے ساری گلیوں کو ملانے والی گلی میں ہلکے سبز رنگ کا ٹرک نمودار ہوا، جس کی اگلی سیٹ پر بیٹھا ہوا ڈرائیور اسے آہستگی سے چلا رہا تھا۔جب کہ اس کے پچھلے حصے میں دو فوجی کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک مائکرو فون ہاتھ میں لیے بار بار ایک ہی اعلان دوہرا تھا، جب کہ دوسرا اپنے ہاتھوں میں رائفل پکڑے چوکس کھڑا گردوپیش کا جائزہ لے رہا تھا۔ آس پاس کی تمام چھتیں ویران پڑی تھیں۔ تمام گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند تھے۔وہاں فاروق اور ان کے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔

 

اچانک الرٹ کھڑے رائفل بردار کی تیز نظر فاروق پر پڑی۔اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اسے چھت سے جانے کا اشارہ کیا۔فاروق اس کے اشارے پر ٹس سے مس نہ ہوا تو مائیکرو فون بردار درشت لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ “چھت سے نیچے چلے جائیں، ورنہ گولی ماردی جائے گی “۔مائیکرو فون والے نے جیسے ہی یہ جملے ادا کیے، رائفل بردار نے اپنی رائفل کا رخ فاروق کی طرف کردیااو ررائفل کے ٹریگر پر اپنی انگلی مضبوطی سے جما دی۔

 

ان کا جارحانہ رویہ دیکھ کر فاروق فوراً سراسیمگی سے چھت کی دیوار کے نیچے بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے اپنے پیروں پر حرکت کرتا ہوا دیوار سے پرے ہٹنے لگا اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتا جا کرزینے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیااور کان لگا کر مائیکرو فون سے سنائی دینے والی آواز اور ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ سنتا رہا، جو اب دھیرے دھیرے دور جاتی ہوئی لگ رہی تھی۔ٹرک کی گھڑگھڑاہٹ تو کچھ ہی دیر میں معدوم ہوگئی جب کہ مائیکرو فون سے سنائی دینے والی درشت آواز کچھ وقت تک سنائی دیتی رہی۔جب وہ بھی سنائی دینا بند ہوگئی تو فاروق سیڑھیوں سے اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا دیوار کے پاس گیا اور جھانک کر گلی میں دیکھنے لگا۔ٹرک وہاں سے جا چکا تھا مگر اس کا دکھائی نہ دینے والا ہیولا وہیں گلی میں کھڑا تھر تھرا رہا تھااورمائیکرو فون سے نکلتی سخت اور کٹھور آواز اب مکانوں کے درودیوار سے اپنا سر ٹکرا رہی تھی۔اگلے چند لمحوں میں بعض گھروں کی کچھ کھڑکیاں کھلیں اور ان میں سے متجسس اور سراسیمہ آنکھیں جھانک جھانک کر باہر کی ٹوہ لینے لگیں۔کچھ دیر پہلے ان بند کھڑکیوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا، جیسے یہ برسوں سے کھلی ہی نہ ہوں۔یہ سارا منظر دیکھ کر فاروق دل برداشتہ سا ہو کر دیوار سے پیچھے ہٹ گیا اور آہستہ آہستہ چلتا زینے کی طرف بڑھنے لگا۔سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے کم سن دماغ پر عجب طرح کے اور بھانت بھانت کے خیالات نے یورش کردی۔وہ ان کے بارے میں غوروفکر کرنے کے لیے تو تیا رتھا مگر خیالوں کی اس گتھی کو سلجھانا قطعی طور پر اس کے بس سے باہر تھا۔

 

وہ کمرے میں پہنچ کر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا اور کروٹ لے کر اپنے چہرے کو تکیے میں دبا دیا۔قریب ہی ایک اور پلنگ پر اس کے دونوں چھوٹے بھائی آڑے ترچھے گہری نیند سو رہے تھے۔ان کے والدین نے انہیں دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولے کی عادت ڈال دی تھی۔ آج فاروق کے لیے دن کے اس پہرقیلولہ کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔وہ تکیے میں اپنا چہرہ دبائے دھیمے دھیمے سانس لیتا سوچ رہا تھاکہ وہ چھوٹے شہر میں رہتے ہوئے بڑے شہر کی جو عجیب و غریب کیفیت یا حالت دیکھنے کے لیے مچلا کرتا تھا، اب وہ کسی حد تک اس کے روبرو آچکی تھی، اوراتنی روبرو کہ کچھ دیر پہلے وہ چھت پر اس سے آنکھیں بھی ملا چکا تھا۔اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ بڑے شہر پر اچانک جس دیو کا سایہ پھر جاتا تھا، وہ دیو، ہمالہ یا ہندوکش کے دامن میں نہیں بلکہ اسی بڑے شہر کے بیچوں بیچ رہتا تھا۔ اڑن طشتری جیسی گاڑیوں پر مشتری کی مخلوق نہیں بلکہ ہمارے دیس کے محافظ سفر کرتے تھے۔خلائی مخلوق جیسے لباس میں اجنبی زبان بولنے والوں کا تعلق، کسی دوسرے سیارے سے نہیں بلکہ اسی ملک کے بالائی علاقوں سے تھا۔فاروق کو یہ احساس شدت سے مایوس کر رہا تھا کہ اس نے اپنی دیوارِ خیال پر جو تصویریں بنائی ہوئی تھیں، بڑے شہر کی حقیقت کے سامنے وہ سراسر بودی اور مضحکہ خیز نکلیں، اور صرف یہی نہیں بلکہ اس حقیقت نے اس کے دل و دماغ پر خوف اور دہشت کا دبیز غلاف چڑھانے بھی کوشش کی تھی۔ وہ خوف اور دہشت کے اس غلاف کو نوچ کر پھینکنا چاہتا تھا، کیوں کہ اسے دل پر دھاک بٹھانے والے یہ دونوں جذبے پسند نہیں تھے۔چند روز بیشتر بازار میں اور آج دوپہر چھت پر پیش آنے والے واقعے نے اس کے ذہن میں بسی ہوئی فینتاسی کو چکنا چور کردیا تھا۔اس کی فینتاسی کی کرچیاں اس کے خیال و احساس کی دنیا کو لہو لہان کر رہی تھیں کیوں کہ حقیقت بہت ثقیل اور سنگ لاخ تھی۔اسے اس حقیقت کے آگے اپنا سر نگوں کردینا چاہیے تھا، اسے تسلیم کرلینا چاہیے تھا، مگر یہ کیا؟۔ فاروق نے لمبی سانس لیتے ہوئے کروٹ بدلی اور سوچنے لگا۔ مگر یہ کیا؟ اس کے مزاج کی خود سری اسے اس حقیقت کے سامنے سر جھکانے سے روک رہی تھی۔اسے کسی آشفتہ سری پر اکسا رہی تھی۔مگر وہ آشفتہ سری آخر تھی کیا؟ اور اس کے لیے اسے کیا کرنا تھا۔ وہ سوچتا ہی رہ گیا اور اسے اپنے ذہن پر چھائی دھند اور گردوغبار میں سے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے سکا۔

 

فاروق کے گھر والوں نے اگلے دوروز شدید بیزاری اور کوفت کے ساتھ گزارے،کیوں کہ گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد تھی۔ان سب کے لیے ایسی پابندی سے گزرنے کا یہ پہلا تجربہ تھااور یہ ان پر زبردستی مسلط کیا گیاتھا۔اس لیے اس چھوٹے سے کنبے نے بے زاری اور کوفت سے بھرے ہوئے یہ گزارنے کے لیے راشن بھی جمع نہیں کیا تھا۔

 

عام دنوں میں اس کے والد سارا دن اپنے دفتر میں گزارنے کے عادی تھے، مگر اب سارا دن گھر پر گزارتے ہوئے انہیں وقت رکا رکا سا محسوس ہونے لگا تھا۔وہ اکثر کھانے کے دوران بڑبڑاتے ہوئے کسی کانے دجال کو برا بھلا کہتے رہتے، جو ملک کے کسی وزیرِ اعظم کو پھانسی پر لٹکا کر خود اس ملک کا حاکم بن بیٹھا تھا۔ان کی یہ باتیں اکثر فاروق کی سمجھ میں نہ آتیں، مگر وہ ان باتوں میں عجیب سی دلچسپی ضرور محسوس کیا کرتا۔فاروق کی والدہ کی تشویش بڑھنے لگی کیوں کہ گھر میں چائے بنانے کے لیے اور پینے کے لیے دودھ ختم ہوچکا تھا۔ سبزی ترکاری تو دودن پہلے ہی کھپ چکی تھی۔وہ دو روز سے دالیں اورفرج میں رکھے ہوئے گوشت کی مدد سے کھانا بنا رہی تھیں، لیکن اب وہ چیزیں بھی اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھیں۔ اسی لیے انہیں فکر لاحق ہو نے لگی تھی کہ اگر یہ کرفیو کچھ اور دن تک کسی وقفے کے بغیریوں ہی چلتا رہا تو گھر میں فاقوں کی نوبت بھی آسکتی تھی۔فاروق نے مشاہدہ کیا کہ اس کی والدہ اس کے والد سے کچھ خائف رہنے لگی تھیں۔ والدہ کے خیال میں ان کے والد کواپنا تبادلہ بڑے شہر ہونے سے رکوانے کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں تھیں۔

 

گزرنے والے یہ دودن فاروق پر بھی بہت بھاری گزرے تھے۔اسے گھر میں بند ہو کر رہنا سخت دشوار لگ رہا تھا۔اس نے کتابوں کی دوکان سے خریدے ہوئے دونوں ڈائجسٹ چاٹ ڈالے تھے۔اسے نِک ویلیٹ کی چوریوں اور چارلس سوبھراج کی شعبدہ بازیوں پر مشتمل کہانیاں پسند آئیں تھیں۔ان دو دنوں میں کہانیاں پڑھنے کے علاوہ گلی سے سنائی دینے والی آوازوں کو کان لگا کر سننابھی اس کا محبوب مشغلہ رہا تھا۔اس دوران اسے جب بھی ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ اور مائیکرو فون والی درشت آواز سنائی دی، وہ خود کو چھت پر جانے سے نہیں روک سکا، مگر ہر بار چھت پر جاکر اسے مایوسی ہوئی، کیوں کہ ہر بار اسے ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ اور مائیکروفون کی آواز گردوپیش کی گلیوں سے آتی سنائی تو دی مگر وہ ٹرک اسے پھر نظر نہیں آیا۔دوسری دوپہر جب اس کے گھر کے سب لوگ قیلولہ کرنے کے لیے بستروں پر دراز ہوئے تو فاروق کو گھر سے باہر جانے کا خیال آیا۔ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کو بستر پر سویا چھوڑ کر دبے پاؤں کمرے سے نکلا۔وہ جانتا تھا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کے دو راستے تھے۔ایک تو مرکزی پھاٹک تھا جو سیدھا سامنے والی گلی میں کھلتا تھا، دوسراعقبی دروازہ تھا جو پیچھے کی گندی گلی میں کھلتا تھا۔ اسے اندیشہ تھا کہ سامنے والی گلی سے نکلتے ہوئے اسے کوئی محلے دار دیکھ سکتا تھا، اسی لیے اس نے عقبی گلی والے راستے کو ترجیح دی۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا عقبی دروازے تک پہنچا اور احتیاط کے ساتھ اس کی کنڈی کھولنے لگا۔کنڈی کھول کر اس نے گلی میں جھانکاتووہاں کوئی ذی روح موجود نہیں تھا۔فاروق کو اندازہ ہوا کہ یہ گندی گلی آگے جاکر ساری گلیوں کو ملانے والی گلی سے مل جاتی تھی۔

 

ابھی فاروق وہاں کھڑا جھانک ہی رہا تھا کہ اچانک کسی گاڑی کے گزرنے کا شور سا سنائی دیا۔ اس نے دیکھا ایک جیپ فراٹے بھرتی ساری گلیوں کو ملانے والی سے گزری۔اس جیپ کا رنگ بھی ہلکا سبز تھا، اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص نے بھی اسی رنگ کا چست لباس پہن رکھا تھا اور سر پر ٹوپی لگا رہی تھی۔ اس کی ذرا سی جھلک میں فاروق کو بس اتنا ہی دکھائی دے سکا۔جیپ کے گزر جانے کے وہ کچھ دیر تک عقبی دروازے سے لگا ہوا سوچتا رہا کہ وہ باہر جائے کہ نہ جائے۔اس نے باہر جانے کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے دروازہ بند کردیا اور آہستگی سے قدم اٹھاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔

 

اس روز رات کے کھانے کے دوران اس کی والدہ نے اس کے والد کو آگاہ کیا کہ گھر میں موجود سامان کی مدد سے صرف ایک دن اورگزارا جاسکتا تھا۔ یہ سنتے ہی والد کی پیشانی کی لکیر گہری ہوگئی مگر انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے اس کی والدہ کو تسلی دی کہ کل یا پرسوں تک کرفیو میں کچھ نرمی ہونے کی امید تھی۔ ہوسکتا تھا کہ ایک یا دوگھنٹوں کے لیے کرفیو میں نرمی کردی جائے۔ یہ جواب سن کر اس کی والدہ مطمئن نہ ہوئیں بلکہ کہنے لگیں، کہ اگر ایسا نہ ہوا۔۔ تو؟ ان کی اس “تو “ کا والد صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔وہ سر جھکا ئے چپ چاپ کھانے میں مصروف رہے۔ ان کے چہرے پر فاروق نے ایک ایسی کیفیت دیکھی، جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔وہ اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا تھا بلکہ صرف اسے محسوس کرسکتا تھا۔ اسی لیے اسے محسوس کرتے ہوئے اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔اس کی بھوک اچانک غائب ہوگئی۔وہ بے دلی سے نوالے چبانے لگا۔اسے رہ رہ کر یہ خیال تنگ کرنے لگا کہ گھر میں صرف ایک دن کے کھانے کا سامان باقی بچا تھا، جو کل تک ختم ہوجائے گا۔ پرسوں وہ لوگ کیا کریں گے؟ انہیں بڑے شہر منتقل ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے۔ابھی اہلِ محلہ انہیں جانتے پہچانتے نہیں تھے۔اس لیے کسی سے مدد مانگنا بھی ناممکن تھا۔اگر کسی سے مدد مانگ بھی لی جاتی تو یہ ضروری نہیں تھا کہ امداد مل بھی جاتی۔

 

کچھ دیر بعد جب اس کے والد ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے دستر خوان سے اٹھے تو اسے ان کے چہرے پر گہری پرچھائیں دکھائی دی۔ وہ سر جھکائے چلتے ہوئے لاؤنج میں گئے اور ٹی وی آن کرکے اس کے سامنے بیٹھ گئے۔ نو بجے کا خبر نامہ شروع ہونے میں کچھ ہی دیر تھی۔فاروق بھی دستر خوان سے اٹھ کر ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔کچھ ہی دیر میں خبر نامہ شروع ہوگیا۔دونوں باپ بیٹے تجسس سے خبریں سننے لگے۔

 

فاروق یہ آس لگائے بیٹھا تھا کہ اس خبر نامے میں، بڑے شہر کے جن علاقوں میں کرفیو لگایا تھا، وہاں سے کرفیو اٹھانے یا ختم کرنے کی خبر بھی نشر کی جائے گی۔وہ یہی آس لے کر شروع سے آخر تک سارا خبرنامہ سنتا اور دیکھ تا رہا،مگراسے ایسی کوئی خبر سنائی اور دکھائی نہیں دی۔خبریں ختم ہونے پر وہ اپنے والد سے مخاطب ہوا۔ “ ابو، ان خبروں میں تو کرفیو ہٹانے کی کوئی خبر تھی ہی نہیں “۔اس نے یہ بات کہتے ہوئے اپنے والد کی طرف دیکھا تو وہ اسے پریشانی کے عالم میں اپنی شہادت کی انگلی کا ناخن چباتے ہوئے دکھائی دیے۔اس نے اپنے والد کو اس سے پہلے کبھی انگلی کا ناخن چباتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔یہ دیکھ کر وہ اپنی کہی ہوئی بات بھول گیا۔ایک بار پھر اسے اپنے دل کے کٹنے کا احساس ہوا۔اس نے چاہا کہ وہ اسی لمحے اپنے والد کے سینے سے لگ جائے اوردھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرسکا۔ کچھ دیر بعد اس کے والد نے اٹھ کر ٹی وی بند کردیا اور اسے اپنے کمرے میں جاکر سونے کا حکم دیتے وہ اپنے کمرے کی جانب چلے گئے۔اسے بھی نہ چاہنے کے باوجود وہاں سے اٹھ کر جانا ہی پڑا۔

 

اس کے چھوٹے بھائی اپنے بستر پر اودھم مچا کر کچھ دیر پہلے سوچکے تھے۔وہ دھیرے سے چلتا اپنے تاریک کمرے میں آیا اور اپنے پلنگ کو ٹٹولتا اس پر بیٹھ گیا۔اس کی نظروں میں اپنے والد کا اداس چہرہ بسا ہوا تھا۔وہ ان کے چہرے پر معمول کا خوش باش اور آسودہ تاثر دیکھنے کا تمنائی تھا۔وہ انہیں ہمیشہ کی طرح بے فکر اور مطمئن دیکھنا چاہتا تھا۔اسے رہ رہ کر یہ احساس ستانے لگا کہ یہ سب محض تمنا کرنے یا چاہنے سے ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔یہ سب ممکن بنانے کے لیے اسے کچھ کرنے کی ضرورت تھی۔اسے کیا کرنے کی ضرورت تھی؟اس بارے میں اس کا ذہن اسے کوئی راستہ نہیں سجھا پا رہا تھا۔بیٹھے بیٹھے اس نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیااور لمبی سانسیں لینے لگا۔کچھ دیر بعد اسے اپنے والدین کے کمرے سے ان کی باتوں کی دھیمی دھیمی لیکن مبہم سی آوازیں سنائی دینے لگیں۔کبھی اس کی والدہ کی شکایت بھری آواز نمایاں ہوتی اور کچھ دیر بعد معدوم ہو جاتی۔پھر اس جواب دیتی اس کے والد کی آواز ابھرتی۔ فاروق اپنے بچپن سے یہ آوازیں سننے کا عادی تھا۔وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس کے والدین گہری نیند سونے کے بجائے رات گئے تک آپس میں یہ کیا کھسر پھسر کرتے رہتے تھے۔آج اسے ان کی اس کھسر پھسر کا حقیقی مفہوم کسی حد تک سمجھ آرہا تھا۔وہ سوچنے لگا کہ وہ یقیناً اپنے کنبے کو درپیش پریشان کن صورتِ حال کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہوں گے۔وہ بھی اس کی طرح اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کررہے ہوں گے۔۔۔ راستہ؟۔۔سوچتے سوچتے فاروق پلنگ پر دراز ہوگیا۔اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا اور اس کے پپوٹے بھاری ہونے لگے تھے۔دفعتاً اسے گلی کی جانب سے گھڑگھڑاہٹ سنائی دینے لگی۔یہ گھڑ گھڑاہٹ اب اس کے لیے اجنبی نہیں رہی تھی۔ وہ گزشتہ پانچ چھ دنوں میں اس سے بہت مانوس ہوچکا تھا، مگر آج اسے سنتے ہی نجانے کیوں اس کے وجود کے ہر حصے میں ایک سنسنی سی دوڑنے لگی۔اسے اپنے خون کی گردش تیز ہوتی محسوس ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی سانسوں کی رفتار بھی تیز تر ہونے لگی۔چند لمحے قبل اس کے سر میں ہونے والا درد بھی غائب ہوگیااور اس کے پپوٹوں سے بوجھل پن بھی ختم ہوگیا۔اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اسی لمحے ایک پتھر ہاتھ میں اٹھائے دوڑتا ہوا اپنی چھت پر جائے اور جس سمت سے گھڑگھڑاہٹ کی یہ آواز سنائی دے رہی تھی، وہ پوری قوت سے پتھر اسی جانب پھینک دے۔

 

لیکن وہ اپنے پلنگ پر بے حس وحرکت لیٹا رہا۔حتی کہ سنائی دینے والی گھڑ گھڑاہٹ دھیرے دھیرے معدوم ہوگئی اور پلنگ پر لیٹے لیٹے فاروق کے وجود میں پیدا ہونے والی سنسنی بھی ختم ہونے لگی۔ اسکے دل کی دھڑکن اپنے معمول پر آنے لگی اور اس کے پپوٹے ایک بار پھر نیند سے بوجھل ہونے لگے۔

 

اس کنبے کے لیے یہ صبح گزشتہ تمام صبحوں سے مختلف تھی۔اگر چہ اس صبح بھی آس پاس کے مکانوں اور گلیوں پر پچھلے چند دنوں جیسا سکوت چھایا تھا اور پچھلے چند دنوں کی طرح آج کی صبح کا آغاز بھی چڑیوں اور لالڑیوں کی اداس چہچہاہٹ سے ہوا تھا۔فاروق کی والدہ حسبِ معمول سب سے پہلے نیند سے جاگیں اور غسل خانے سے وضو کرکے باہر نکلیں۔ انہوں نے گھر کے صحن میں مُصلی بچھا کر فجر کی نماز کی ادا کی۔ نماز کے بعد انہوں نے مصلے پر بیٹھے بیٹھے اپنے رب سے دعائیں مانگیں۔امن و آشتی کی دعائیں اور کشادہ رزق عطا کرنے کی دعائیں۔ مصلی سمیٹنے کے بعد یہ دیکھ کر کہ گھر کے سب لوگ ابھی تک گہری نیند سو رہے تھے، وہ دوبارہ کچھ دیر کے لیے اپنے بستر پر دراز ہو گئیں۔ کچھ دیر بعد جب فاروق کے والد جاگے، تو وہ بھی اٹھ کر باورچی خانے چلی گئیں۔
فاروق اور اس کے بھائیوں کو بیدار ہونے پر ان کی والدہ نے انہیں جو چائے پینے کے لیے دی وہ دودھ کے بغیر تھی۔فاروق گزشتہ چند دنوں سے اس چائے کا عادی ہوتا جا رہا تھا،اس لیے اس نے بے چون و چرا سلیمانی چائے کا کپ اٹھا لیا اور سڑپے لینے لگا۔ جب کہ اس کے چھوٹے بھائیوں کو گزشتہ دنوں کی طرح آج بھی یہ چائے پینے میں تامل تھا۔ وہ دونوں اپنی ناک بھوں چڑھاتے ہوئے سلیمانی چائے پینے لگے۔منجھلے نے تو صرف دو گھونٹ لے کر ہی اپنی پیالی چھوڑدیاوراس کی پیروی کرتے ہوئے چھوٹے نے بھی یہی کیا۔ان کی اس حرکت پر ان کی والدہ کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ چپ رہیں۔ انہوں نے باورچی خانے جاکر خشک دودھ کا ڈبا اٹھایا اور اس کی تہہ میں چپکے ہوئے خشک دودھ کو چھری سے کھرونچنے لگیں۔اس کے بعد وہ دودھ لاکر انہوں نے منجھلے اور چھوٹے بیٹے کی پیالیوں میں ڈال کر اسے چمچ سے چائے میں حل کردیا۔ چائے کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر وہ دونوں خوش ہوگئے۔ان کی خوشی دیکھ کر فاروق اور اس کی والدہ مسکرانے لگیں۔ماں بیٹا جانتے تھے کہ ان کے ہونٹوں پر آئی یہ مسکراہٹ عارضی تھی۔

 

حسبِ معمول سب لوگ دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولے کے لیے اپنے کمروں میں بستروں پر دراز ہو گئے۔ فاروق اپنے چھوٹے بھائیوں کو بار بار سونے کی تنبیہ کرنے لگا، مگر وہ دونوں اس کی تنبیہ کو خاطر میں لائے بغیر ایک دوسرے سے باتوں میں مگن تھے۔منجھلا باتیں کرتے ہوئے چھوٹے کے سر پر ایک چپت لگاتا، جب کہ چھوٹا تلملاکراس کے چٹکی لے لیتا۔اتنے میں انہیں قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ وہ سمجھ گئے کہ ان کی والدہ آرہی تھیں۔فاروق سمیت تینوں آہٹ سنتے ہی اپنے بستروں پر سیدھے لیٹ گئے اور اپنی آنکھیں بھینچ کر سوتے بن گئے۔ان کی والدہ انہیں خوب سمجھتیں تھیں، اسی لیے اندر آتے ہی انہوں نے ان کے ناٹک کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ وہ کمرے میں کھڑی ہو کر انہیں آخری وارننگ دینے لگیں اور اس کے چند لمحوں بعد وہ کمرے سے چلی گئیں۔ہمیشہ کی طرح ان کی وارننگ کا دونوں چھوٹوں پر فوری اثر ہوا۔ چند منٹ گزرتے ہی وہ سوگئے، مگر فاروق نہیں سویا۔کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دیں اوروالدین کے کمرے سے سنائی دینے والی باتوں کے تھمنے کا انتظار کرنے لگا۔

 

فاروق گذشتہ روز سے ایک عجیب سی غلام گردشِ خیال میں بھٹک رہا تھا۔اس غلام گردش میں کمرے ہی کمرے ہی تھے، راہ داریاں ہی راہ داریاں تھیں۔ وہ بار بار ان کے درودیوار سے اپنا پٹخ رہا تھا۔ایک کمرے سے دوسرے اور ایک راہ داری سے دوسری میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔وہ اپنے گھر والوں سمیت جس صورتِ حال کے زندان میں قید تھا، اس سے نکلنے کے راستے کا کوئی نقشہ اس کے پاس نہیں تھا۔ کیوں کہ یہ صورتِ حال باہر سے ان پر مسلط کی گئی تھی۔جن بازاروں میں انسانوں کی ضروریہ کا سامان بکتا تھا، وہ بند پڑے تھے۔ہسپتال، اسکول، دفاتر سب بند تھے۔گلیوں میں چلنے اور گھر سے نکلنے پر پابندی عائد تھی۔اور اس پابندی کو مسلط ہوئے آج تقریباً چھ دن ہو گئے تھے۔اس کی وجہ سے اس کا خاندان ایک المیے سے دوچار تھا۔اس کے والدین کے چہروں سے بے فکری اوراطمینان کا فور ہوچکا تھا۔وہ گھبرائے اور بولائے بولائے سے رہنے لگے تھے۔ان کی آنکھوں میں اداسیوں کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔فاروق ان کی اداسی ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اس صورتِ احوال پر چپ سادھے رہنا ناممکن ہو چکا تھا۔

 

فاروق دیوار کی طرف کروٹ لیے کچھ دیر تک سوچتا رہا۔اس کے والدین کے کمرے سے آوازیں آنی بھی بند ہوگئی تھیں۔یہ بھانپتے ہوئے وہ بستر سے اٹھا اور اپنے سلیپر پہن کر دبے پاؤں چلتا کمرے سے باہر چلا گیا۔اس نے اپنے سلیپر برآمدے میں رکھے ہوئے جوتوں کے اسٹینڈ پر رکھ دیے اور وہاں جوگرز شوز اٹھا لیے۔زینے کی سب سے نچلی سیڑھی پر بیٹھ کر اس نے موزے پہننے کے بعد جوتے پہنے۔یہ جوتے پہن کر چلتے ہوئے بے آواز رہتے تھے۔اور انہیں پہن کر چلتے ہوئے وہ خود کو سبک رو محسوس کرتا تھا۔وہ بیآواز قدموں سے چلتا ہوا باورچی خانے گیا اور وہاں درازوں میں رکھے ہوئے برتن ٹٹولنے لگا۔کیتلی میں اسے دوسو روپے کے دو نوٹ مل گئے۔ اس نے مسکراتے ہوئے وہ نوٹ اپنی جیب میں رکھ لیے اور باورچی خانے سے نکل گیا۔عقبی گلی کی طرف کھلنے والے دروازے کی دہلیز پر کھڑا وہ کچھ تک باہر جھانکتا رہا، پھردروازہ باہر سے بند کرکے وہ گلی کے خالی پن میں اتر گیا۔

 

تین بجے کا عمل تھا۔عام حالات میں بھی اس وقت ان گلیوں پر سناٹا طاری ہوتا تھا مگر اب سناٹے کے ساتھ خوف کی ایک پرچھائیں بھی موجود تھی، جو فاروق کے دل و دماغ پر تھرتھرا رہی تھی۔ وہ اُس پرچھائیں کی تھرتھراہٹ کو نظرانداز کرتا عقبی گلی میں قدم آگے بڑھانے لگا۔ جس مقام پر یہ عقبی راستہ ساری گلیوں کو ملادینے والی گلی سے جا ملتا تھا، وہاں پہنچ کر وہ ٹھہر گیااور دیوار کی اوٹ سے آگے کا منظر دیکھنے لگا۔یہ وہی جگہ تھی، جہاں سے گھڑ گھڑاتا ہوا ٹرک گزرتا تھا، مگر اس وقت یہ گلی مکمل طور پر خالی تھی۔ صرف ایک خارش زدہ کتا اپنا پاؤں اٹھائے ایک مکان کی دیوار سے لگا پیشاب کر رہا تھا۔وہ اس کتے کو نظر انداز کرتا آگے بڑھا۔

 

آگے بڑھ کر جب وہ اس مقام تک پہنچا، جہاں سے بازار کی طرف راستہ جاتا تھااوراُس روز جہاں اسے،دور سے ہی بازار کی رونق دکھائی دے گئی تھی،اُسے لگاآج وہاں واقعی کسی دیو کا سایہ پھر گیا تھا۔وہ اس راستے کے بیچوں بیچ کھڑا ہو کر کسی مخبوط شخص کی طرح بازار کی جانب دیکھنے لگا۔ نہ تو گاڑیوں کی ورک شاپ کھلی تھی اور نہ ہی فرنیچر کی ورک شاپ۔ان سے تھوڑی دور واقع ویڈیو سینٹرز بھی بند پڑے تھے۔اس سے آگے کا منظر بھی پوری طرح ویران تھا۔ایسی ویرانی اور ایسے سکوت کا مشاہدہ اس نے زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا۔اس نے معاً دائیں جانب گلی میں ایک دوسرے سے لگ کر کھڑے ہوئے مکانات کی طرف ایک حیرانی سے دیکھااورسوچنے لگا۔ “ ہر مکان میں جیتے جاگتے لوگ رہتے ہیں مگر اِس پہر ان پر چھائی خاموشی محسوس کر کے کون کہہ سکتا ہے کہ ان میں زندہ لوگ بستے ہیں۔ “ اسے لگا کہ یہ سارے مکان کسی آسیب کے زیرِ اثر ہیں اور ان کے باسی کب کے انہیں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

 

وہ اپنے خیالوں میں گم تھا کہ اسے بازار کی سمت سے “ زنن “کی عجیب سی آواز سنائی دی۔اس نے فوراً سامنے دیکھا تو بازار کی سڑک سے کوئی چیز زناٹے سے گزری۔اس کے تخئیل نے اسے سجھایا کہ وہ اڑن طشتری جیسی کوئی چیز تھی، مگر اسی لمحے اس کے تجربے نے اسے بتایا کہ وہ کوئی جیپ یا گاڑی تھی۔اس نے اپنے تخئیل کی شرارت کو رد کرکے اپنے تجربے کی بات مان لی۔اس دوران فاروق یہ اہم ترین چیز فراموش کیے رہا کہ وہ ایک نسبتاً کشادہ راستے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا۔یہ اسے تب یاد آیا جب دوسری مرتبہ “زنن “ کی آواز سنائی دینے کے اگلے ہی ثانیے ہلکے ہرے رنگ کی جیپ بازار والی سڑک پر نمودار ہوئی اور بالکل اچانک اس نے اپنا رخ فاروق کی جانب کرلیا۔اب جس راستے پر وہ کھڑا تھا،اس کے ایک سرے پر جیپ تھی اور دوسرے سرے پر وہ موجود تھا۔تُرنت اس کے تن بدن میں ایک بجلی سی بھر گئی مگر اس بجلی نے اس کے ہوش و حواس یکسر غائب کردیے۔وہ دائیں گلی میں بھاگنے کے بجائے پیچھے کی طرف بھاگا۔ جیپ کے قریب آنے کے ساتھ اس کے پہیوں اور انجن کی آواز بھی اس کے نزدیک تر آنے لگی۔وہ راستہ اسے ایک نئی گلی میں لے گیا۔ اُ س گلی میں بھی اس نے سمت کے انتخاب میں سنگین غلطی کردی۔اب وہ ایک ایسی سمت دوڑ نے لگا،جس کے دوسرے سِرے کے بارے میں اسے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔

 

کچھ آگے جا کر اس نے دوڑتے ہوئے گردن موڑ کر ذرا ساپلٹ کر دیکھاتو اسے وہ جیپ اپنی سمت آتی دکھائی دی۔وہ حواس باختہ ہوکر بھاگنے لگا۔ وہ بُری طرح ہانپ رہا تھا۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن کانوں میں گونجتی، شور مچاتی محسوس ہورہی تھی۔ اس کا جسم سر تا پا پسینے سے بھیگ گیا تھااور اس کی قمیض اس کے بدن سے چپک گئی تھی، جس کی وجہ اسے گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔اِس سمت کے جس سِرے کی جانب وہ دوڑ رہا تھا وہ سرا اسے تھوڑے فاصلے پر واقع ایک سڑک تک لے گیا۔یہ سڑک اس وقت سنسان تھی۔وہ سڑک کے جس کنارے پر موجود تھا،وہاں ایک بڑی سی مسجد بنی ہوئی تھی۔دن کے اس پہر مسجد کے گیٹ پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔سڑک کے اُس پار اسے محکمہ ریل کے ملازمین کے لیے بنایا گیا پیلے رنگ کا ایک پرانا سا کواٹر دکھائی دیا۔اُس کواٹر کے ساتھ ایک چھوٹی سی پھلواری تھی اور اس پھلواری کے ساتھ اسے چھوٹے چھوٹے زردو سفید پتھروں سے اٹا اورمعمولی سی اونچائی کی طرف جاتا ایک راستہ دکھائی دیا۔وہ سوچے سمجھے بغیر سڑک عبور کرکے اس راستے کی طرف بھاگا۔ایک دو پتھروں سے اس کے پاؤں کو ٹھوکر لگی مگر وہ اس ٹھوکر کو خاطر میں نہیں لایااور دوڑتا چلا گیا۔
معمولی سی چڑھائی چڑھنے کے بعداسے اپنے عقب میں جیپ کے رکنے کی آواز سنائی دی۔ جیپ میں سے کوئی شخص اس پر چلایا۔ “ اوئے رک جا، نہیں تو۔۔ “۔ یہ آواز سن کر اس کا دل دہل گیا، مگر اس نے اپنے آپ کو پلٹ کر دیکھنے سے روکا اور اپنا قدم پوری قوت سے آگے بڑھایا۔نجانے کیوں اسے لگ رہا تھا کہ اگر اس نے اس لمحے مڑ کر دیکھا تو وہ اسی دم پتھر کا بت جائے گا۔

 

اس کی توقع کے یکسر بر خلاف اب اس کے سامنے ایک کشادہ منظر تھا۔اس کشاد ہ منظر میں ریلوے کی تین لائنیں، پلیٹ فارم، ریلوے لائن کا کانٹا تبدیل کرنے والاساؤتھ کیبن تو شامل تھا ہی، اس کے علاوہ ایک دو رویہ کشادہ شاہراہ بھی تھی، جو اس چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کے عقب سے گزر رہی تھی۔ اسے شاہرا ہ پر گاڑیاں رواں دواں دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی۔وہ برق رفتاری سے چھلانگیں لگا تا، پٹڑیاں عبور کرتاسامنے والے پلیٹ فارم تک پہنچااور اسی رفتار سے دوڑتا ہوا ساؤتھ کیبن کے عقب سے نکل کر شاہراہ پر آگیا۔

 

اس نے شاہراہ کے کنارے ریلوے اسٹیشن کی مختصر دیوار کے ساتھ نیم اور سفیدے کے بلند قامت درختوں کا گھنا سایہ دیکھا تو اس کا دل کچھ دیر سستانے کو چاہا، مگرسستانے کے خیال کے ساتھ ایک سنگین خدشہ بھی جڑا ہوا تھا، جسے نظرانداز کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں وہ جیپ اڑن طشتری کی طرح چشمِ زدن میں درختوں کے گھنے سائے میں اس کے سامنے آکر کھڑی نہ ہوجائے، اور کہیں اس میں سوار شخص غیر انسانی لہجے میں چینخ کر اس سے مخاطب نہ ہوجائے۔ “اوئے رک جا، نہیں تو۔۔ “۔ اس خدشے کے پیشِ نظر اسے اپنا سستانے کا خیال ملتوی کرنا پڑااوروہ درختوں کے سائے کو نظر انداز کرتا ہواآگے بڑھنے لگا۔

 

وہ جوں جوں قدم بڑھاتا گیا، شاہراہ کے اُ س پار کھلی ہوئی دوکانیں دیکھ کر اس کی حیرت دوچند ہوتی چلی گئی۔یہ بات اس کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ فہم تھی کہ ریلوے لائن کے اُس طرف والے علاقے کے لیے الگ قانون کیوں تھا اور ریلوے لائن کے اِس طرف واقع شاہراہ کے لیے الگ قانون کیوں تھا؟ اُس طرف بازاربندکیوں تھے؟ اور سڑکوں اور گلیوں میں سناٹا کیوں تھا؟ اور اِس طرف نہ صرف ٹریفک چل رہا تھا بلکہ دوکانیں بھی کھلی ہوئی تھیں۔یہی کچھ سوچتے ہوئے اس نے شاہراہ عبور کی اور کھلی ہوئی دوکانوں کی طرف چلا گیا۔

 

یہ دوکانیں شاہراہ کو نوے درجے پر کاٹ کر سامنے نکلتی ہوئی ایک سڑک کے کنارے واقع تھیں۔ان کے قریب ہی چائے اور کھانے کے دوہوٹل بھی تھے۔ چلتے چلتے اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کرروپوں کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے اپنی تسلی کی۔باورچی خانے کے درازوں میں پڑے برتنوں سے چرائے ہوئے اپنی والدہ کے دوسوروپے اس کے پاس تھے۔وہ اپنی سمجھ داری کو بروئے کار لاتے ہوئے ان روپوں کی مدد سے بہت سی چیزیں خرید نا چاہتاتھا۔اس نے اپنے ذہن ہی ذہن میں روز مرہ استعمال کی اشیا کی ایک فہرست بنائی اور ایک دوکان پر جا کر کھڑا ہوگیا۔

 

اِس سہ پہریہ دوکان گاہکوں سے یکسر خالی تھی، اسی لیے دوکان دار اسٹول پر بیٹھاجماہیاں لے رہا تھا۔فاروق کو دیکھ کر وہ ڈھیلے سے انداز میں اٹھ کر کاؤنٹر تک آیا۔ فاروق اسے باری باری اشیاکے نام اور مقدار بتانے لگا اور وہ اپنے سست انداز سے وہ چیزیں نکال کر انہیں تول تول کر ایک طرف رکھنے لگا۔ان اشیا میں چاول، چینی، دالیں، گھی اور چائے کی پتی وغیرہ شامل تھیں۔جب فاروق اپنے ذہن میں مرتب کردہ فہرست کے مطابق کے اشیا خرید چکا تو اس نے دوکاندار کو بل بنانے اور اشیا کو کسی تھیلے میں بند کرنے کے لیے کہا۔

 

فاروق کے ذہن میں یہ بات دور دور تک نہ تھی کہ جب اس کے والدین اور بھائی اسے اس کے بستر پر نہ پائیں گے، تو ان پر کیا گزرے گی؟ ان کے لیے موجودہ صورتِ حال میں اسے تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکلنا بھی ناممکن ہوگا۔ اس نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ جب اس کی والدہ کو باورچی خانے کے درازوں میں پڑے برتنوں سے دو سو روپے غائب ملیں گے تو ان کی کیاحالت ہوگی؟ انہیں اس کی چوری پر لازماً غصہ آئے گا۔ان سب باتوں کے برخلاف اس وقت وہ صرف یہ سوچ رہا تھاکہ جب وہ اشیائے صرف کا تھیلا اٹھائے ہوئے گھر پہنچے گا تو وہ لوگ اس کے ہاتھوں میں روزمرہ ضروریات کا سامان دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے۔ اس کے بھائی فوراً گلے لگ جائیں گے جب کہ اس کے والدین اس کے اس کارنامے پر اس کی پیٹھ تھپکیں گے۔

 

وہ مطمئن تھا کہ دو سو روپے میں اس کا مطلوبہ سامان آگیا تھا۔ اس نے روپے دوکان دار کے حوالے کرکے سامان کا تھیلا اٹھایا۔ابھی وہ تھیلا اٹھا کر پلٹا ہی تھا کہ ایک ہلکے ہرے رنگ کی جیپ سڑک پراس سے ذرا فاصلے پر آ کر رک گئی۔ جیپ دیکھتے ہی اس کی سٹی گم ہو گئی۔ جیپ کا اگلا دروازہ کھلا اور ڈرائیونگ سیٹ سے ایک فوجی اتر کر اس کی جانب بڑھا۔ فاروق تھیلا اٹھائے حیرت سے بت بنا اس فوجی کی طرف دیکھتا رہا۔فوجی کے چہرے سے انسانی جذبہ یکسر غائب تھا۔ فاروق کو محسوس ہوا کہ وہ اسی آن اسے بازو سے پکڑ کر جیپ کی طرف کھینچتا ہوا لے جائے گا۔مگر۔۔ مگریہ کیا ہوا؟ وہ اس کے پاس سے لاتعلقی سے گزرتا آگے بڑھ گیا۔فاروق نے طویل سانس لی اور اس کی جان میں جان آئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو اسے وہ فوجی دوکان سے کوئی چیز خریدتا ہوا دکھائی دیا۔اس کے ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آکر غائب ہوگئی۔وہ شاہ راہ کی جانب چل دیا۔

 

وہ شاہ راہ عبور کرکے ریلوے اسٹیشن کی مختصر دیوار کے پاس لگے نیم اور سفیدے کے درختوں کے پاس پہنچا تواسے وہ بات یادآ ئی، جسے وہ بہت دیر سے بھولا ہوا تھااور وہ یہ کہ اسے گھر پہنچنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی کیا وہ راستہ جس پر دوڑتے ہوئے وہ خود بخود اس طرف آنکلا تھا، یا پھر کوئی اور نیا راستہ۔وہ کچھ دیر تک درختوں کے نیچے کھڑا اسی مخمصے میں گرفتار رہا۔اس دوران وہ اپنے گردوپیش کے ماحول سے چند لمحوں کے لیے یکسر غافل ہوگیا۔اسے یاد آیا کہ جس راستے سے وہ اتفاقاً اس طرف آنکلا تھا، اس کے سوااور کسی راستے کے بارے میں اسے علم ہی نہیں تھا۔اس لیے اگر اس نے کسی دوسرے راستے سے گھر جانے کی کوشش کی تو بھٹکنے کا شدید احتمال تھا۔ اس لیے اس نے اپنے آپ کو نیا راستہ استعمال کر کے نیاخطرہ مول لینے سے روک دیااور اسی راہ کی طرف چل دیا، جدھر سے وہ اس جانب آیا تھا۔

 

دوپہر کی جھلساتی ہوئی تیز دھوپ میں وہ تھیلا اٹھائے کچھ دیر تک پلیٹ فارم پر ٹہل کر ریلوے لائن کے اس طرف گزرنے والی سڑک کا جائز لینے کی کوشش کرتا رہا۔پسینہ جو بہت دیرسے اس کے بدن کے تمام مساموں سے جاری تھا،تھمنے میں ہی نہ آتا تھا۔اس لیے اس کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اس کے جوگر شوز بھی پسینے سے بھیگ گئے تھے مگر وہ اس کے باوجود پلیٹ فارم کے ایک کونے سے دوسرے تک ٹہلتا چلا گیا مگر پرلی طرف بنے ہوئے کواٹروں اور ان کی پھلواریوں کے گرد اُگے ہوئے درختوں کے سبب کسی بھی مقام سے وہ سڑک اسے دکھائی نہیں دے سکی۔اس کوشش میں ناکامی کے بعد اس نے مجبوراً آگے بڑھنے کا فیصلہ کیااور وہ ساؤتھ کیبن کے قریب، پلیٹ فارم سے نیچے اتر گیا اورریلوے لائن عبور کرنے لگا۔ آگے بڑھ کر وہ ریلوے کواٹر کی پھلواری کے نزدیک پہنچ کر ٹھہر گیا۔ یہاں سے اسے وہ سڑک اور اس کے پار کا کچھ منظر بھی دکھائی دینے لگا۔ گرچہ وہ یہاں سے پوری سڑک دیکھنے سے قاصر تھا، مگر اسے یہاں سے جتنی سڑک دکھائی دے رہی تھی،وہ خالی تھی اور اس کے پار کا منظر بھی ویران تھا۔اسے سڑک کے خالی پن اور ویرانی سے کچھ ڈر سا لگا، مگر وہ اپنے ڈر کو نظر انداز کرتا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا پھلواری کے قریب سے گزرکر سڑک پر آگیا۔دن بھر تیز دھوپ کی تپش سہنے والی یہ سڑک اس وقت تیز حدت کی لہریں اچھال رہی تھی۔سرسری انداز سے دائیں اور بائیں دیکھنے کے بعد اس نے سڑک پار کرنے کے لیے اپنا پاؤں اس پر دھرا ہی تھا کہ اچانک ایک سیٹی کی آواز اس کی سماعت میں داخل ہوئی۔ اس نے گھبرا کر پہلے بائیں طرف دیکھا اور پھر دائیں طرف۔کچھ غور کرنے پر اسے دائیں جانب ایک پیڑ کے نیچے ہلکے ہرے رنگ کے یونیفارم میں ملبوس ایک فوجی کھڑادکھائی دیا۔ اسے دیکھتے ہی فاروق ساکت ہوگیا، جیسے کسی نے اسے پتھر کا بنادیا ہو، کیوں کہ وہ اس سے زیادہ دور نہیں تھا۔

 

اس فوجی نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔فاروق فوری طور پر اس کے حاکمانہ اشارے کی تعمیل نہیں کرسکا۔ وہ تھیلا ہاتھ میں تھامے لاچاری سے اس کی طرف دیکھتا رہا،کیوں کہ اس کے لیے اب فرار ہونا بالکل ناممکن تھا۔ایسی کوئی بھی کوشش یقینی طور پر اس کے لیے خطرناک ہوسکتی تھی۔اس کے ٹس سے مس نہ ہونے پرفوجی کی تیوری چڑھ گئی اور وہ رعب دار لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ “کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو؟ ادھر آؤ۔ “

 

فاروق سر جھکائے دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب جانے لگامگر کچھ فاصلے پر ہی فوجی نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔ “وہیں رک جاؤ “۔ اس بار فاروق نے فوراً اس کے حکم کی تعمیل کردی اور وہ اس سے چند قدم دور ہی ٹھہر گیا۔ “کہاں سے آرہے ہو؟ “فوجی کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھیلا اٹھا کر اسے دکھادیا۔اس کا یہ انداز فوجی کو ناگوار گزرا۔ “ میں نے جو پوچھا ہے، اس کا جواب زبان سے دو “۔

 

فاروق اپنا حوصلہ مجمتمع کرکے بہ دقت گویا ہوا۔ “ میں۔۔وہ۔۔ گھر کا سامان۔۔ لینے گیا تھا “۔ اتنی سی بات کہتے ہوئے اس کی سانسیں پھول گئیں۔وہ اندر سے بری طرح سہما ہوا تھا۔کوئی خوف اس کے دل پر زوردار چابک رسید کررہا تھا اور اس کی دھڑکن کسی منہ زور گھوڑے کی طرح بگٹٹ دوڑی جارہی تھی۔اس کے ذہن میں آندھیاں بگولے اڑاتی پھررہی تھیں۔ایسے میں یکسو ہو کر کسی بات کا جواب دینا اس کے لیے مشکل ہورہا تھا۔

 

“گھر کا سامان؟۔۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اس علاقے میں سخت کرفیو لگا ہوا ہے۔ “

 

فوجی کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس نے اثبات میں اپنا سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔

 

“ یہ جانتے ہوئے بھی تم اپنے گھر سے باہر کیوں نکلے؟ بتاؤ؟ “ فوجی کے لہجے میں تندی کا عنصر بڑھتا جارہا تھا۔فاروق کے پاس اس کے سوال کا خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں تھا۔اس کی خاموشی کو فوجی نے اس کی ہٹ دھرمی پر محمول کیا۔اس نے اسے غصیلی نظر وں سے سر تاپادیکھااور اس کے لبوں سے ہلکی سی ہونہہ نکلی۔وہ کچھ کہنا چاہتا تھا کہ اسی اثنا میں آگے کہیں سے ایک زور دار سیٹی کی آواز سنائی دی۔فوجی نے سرعت سے گردن موڑ کر اس جانب دیکھا، جہاں سے سیٹی کی آواز گونجی تھی۔فاروق نے بھی جب اس سمت دیکھا تو اس کی پریشانی دوچند ہوگئی۔

 

اسی سڑک پر آگے جاکر پڑنے والے ایک چوک پراسے تین فوجی کھڑے دکھائی دیے۔ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ ہلا کر کوئی اشارہ کیا۔ فاروق وہ اشارہ نہیں سمجھ سکا مگر اس کے قریب کھڑا فوجی فوراً اس اشارے کا مطلب سمجھ گیا۔ وہ اس سے مخاطب ہوا۔ “ فٹافٹ دوڑ کر ان کے پاس چلے جاؤ۔ تمہارا فیصلہ ہمارے صوبیدار جی کریں گے۔ “

 

فاروق اس کی بات سننے کے باوجود نہ سمجھاتوفوجی دوبارہ بولا۔ “ فورا دوڑ لگا کر ان کے پاس جاؤ۔ “یہ کہتے ہوئے اس نے اسے ہلکا سا دھکا بھی دیا۔
اس مقام سے چوک تک کا فاصلہ طے کرنے کے لیے فاروق کو دوڑ لگانی پڑی۔گرچہ ہاتھ میں تھامے سامان سے بھرے ہوئے تھیلے کی وجہ سے اسے تیز دوڑنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔اس کا گرمی کی تمازت سے سرخ ہوتا چہرہ پسینے میں شرابور تھا،پھر بھی وہ جیسے تیسے بھاگتاہوا چوک میں کھڑے فوجیوں تک پہنچ ہی گیا۔

 

یہ چوک کشادہ سی جگہ پر بنا ہوا تھا۔جس سڑک سے فاروق آیا تھا، وہ چوک سے گزر کر ریلوے لائن کے ساتھ سیدھی آگے کی طرف چلی گئی تھی۔ریلوے لائن کی طرف پٹڑیوں سے پیدل گزرنے والوں کے لیے پختہ راستے کے ساتھ لوہے کا ایک دیو قامت پل بنا ہوا تھا۔اس پل کے عین مخالف یعنی چوک کے بیچوں بیچ، جہاں وہ اس وقت تین فوجیوں اور دو عام شہریوں کے ساتھ موجود تھا، د ومتوازی لیکن مختلف راستے الگ الگ سمتوں کی طرف جا رہے تھے۔

 

اس کا سامنا جس فوجی سے ہوا وہ اپنے ڈیل ڈول اور قامت کی وجہ سے اور اپنے سرخ ٹماٹر جیسے چہرے پر واقع بڑے بڑے گُل مچھوں کی وجہ سے، اسے صوبیدار محسوس ہوا، کیوں کہ اس نے اپنی عقابی آنکھ سے فاروق کا سرتاپا جائزہ لیا تھا۔فاروق اس کے سامنے کھڑا ہوکر کچھ دیر تک ہانپتا رہا۔

 

“ سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔اٹین شن۔ “فاروق کو محسوس ہوا کہ اس شخص کی آوازاسے سنائی نہیں دی بلکہ برقِ سیاہ فلک بن کر اس پر ٹوٹی ہے۔ اس کا پورا بدن حتی کہ وہ بازو بھی، جس کے ہاتھ سے اس نے کئی کلو سامان کا تھیلا اٹھا رکھا تھا، لاشعوری طور پر خودبخود اٹین شن ہوگئے۔

 

صوبیدار نے اس سے کچھ فاصلے پر رہ کر ایک تیز نظر اس کے تھیلے پر ڈالی۔ “ اس میں کیا ہے؟ “۔اس بار اس کی آواز کسی زمینی تازیانے کی طرح فاروق کی سماعت میں داخل ہوئی۔

 

اس نے منمنائی سی آواز میں جواب دیا۔ “گھر۔۔ کاسامان۔ “

 

“سامان؟۔گھر کا؟۔۔ کرفیو میں سامان لینے گیا؟ “

 

اس بار فاروق نے جواب دینے کے بجائے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔اس سے قبل کہ صوبیداراپنی آواز کا ایک اورسنگین پتھراسے دے مارتا،کہ سامنے والے ایک رستے سے ہلکے ہرے رنگ کی ایک جیپ سبک رفتاری سے چلتی، چوک میں ان کے قریب ہی آکر رک گئی۔جیپ کے رکتے ہی تمام فوجیوں نے فوراًشہریوں سے اپنی توجہ ہٹا کر،اسی دم الرٹ کھڑے ہوکرجیپ کی اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے افسر کو سیلوٹ مارا۔ افسر نے جیپ میں بیٹھے بیٹھے اپنی زیرک نظروں سے شہریوں کو غور سے دیکھا، پھر اس کی نگاہ فاروق پر دوتین ثانیے ٹھہر کر، صوبیدار کی طرف مڑ گئی۔اس کی گردن کے ہلکے سے خم ہونے کا اشارہ پاتے ہی صوبیدار الرٹ حالت میں چلتا ہواجیپ تک پہنچ گیا۔ صوبیدار اور افسرکو آپس میں خفیف لہجے میں باتیں کرتے دیکھ کر فاروق کو کچھ تشویش سی ہوئی۔اسے لگا کہ یہ وہی لوگ نہ ہوں، جوآتے ہوئے اس کے تعاقب میں لگے تھے۔ان کی حفیف سازباز تین چار لمحے جاری رہی۔اس کے بعد صوبیدار تُرنت اپنی جگہ پر واپس آگیا اور جیپ بھی سبک روی سے اس سمت آگے بڑھ گئی، جس سمت سے فاروق کو پکڑا گیاتھا۔

 

یہ کاروائی آناً فاناً ہوئی اور اس کے فوراً بعد صوبیداراور دوسرے دو فوجی شہریوں کے ساتھ اپنے معاملات میں مشغول ہوگئے۔ صوبیدار ایک بارپھر فاروق پر اپنا صدائی کوڑا برسانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔بارہ برس کا فاروق اب اپنے حواس پر کچھ کچھ قابو پا چکا تھامگرآسمان سے برستی ہوئی دھوپ اورکولتار کی سڑک پر اس دھوپ سے پیدا ہونے والی حدت نے اسے تھوڑا تھوڑا سا بولادیا تھا۔ وہ سامان سے بھرا چند کلو وزنی تھیلا کبھی دائیں ہاتھ میں پکڑتا کبھی بائیں ہاتھ میں۔اب یہ وزن اس کے لیے سوہانِ وجود بن چکا تھا، وہ نہ تو اس سے چھُٹکارہ پا سکتا تھا اور اب نہ ہی اسے پھینک سکتا تھا۔

 

“ بالکے! اپنا تھیلا ایک طرف رکھ کر مرغے بن جاؤ۔ تم نے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے “۔صوبیدار نے دو ٹوک انداز میں اپنا صدائی کوڑا اس پر برسایا۔فاروق اس کا یہ حکم فوراً سمجھ گیا، کیوں کہ اپنے پرائمری اسکول کے ابتدائی برسوں میں وہ اپنے استادوں کی جانب سے کئی بار ایسے ہی احکامات کی بے چون وچرا تعمیل کرچکا تھا۔اس نے چوک میں کھڑے کھڑے دیکھ لیا تھا کہ دوسرے فوجیوں نے دیگر دو شہریوں، جن میں سے ایک اپنے سفید بالوں کی وجہ سے عمر رسیدہ لگ رہا تھا جب کہ دوسرا اپنے چھریرے بدن کی وجہ سے درمیانی عمرکا معلوم ہوتا تھا،ان کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا تھااور وہ دونوں اس سے ذرا فاصلے پر ٹانگوں کے بل جھکے ہوئے اور اپنے کانوں کو ہاتھوں سے پکڑے ہوئے، مرغے بنے ہوئے تھے۔ان کی یہ درگت دیکھ کر فاروق زیرِ لب مسکرائے بنا نہیں رہ سکا کیوں کہ دونوں کی کمر یں زیادہ اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں۔

 

“تم نے سنا نہیں۔ مر غے بن جاؤ مرغے۔ “ اس بار صدائی کوڑے کی آواز کی غضب ناکی کچھ سوا ہی تھی۔اس لیے فاروق نے فوراً اپنا تھیلا ایک طرف رکھ کر،پھر اپنی ٹانگیں کھول کر مرغے کا آسن جمانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔اسے اپنی پوزیشن ایڈجسٹ کرنے میں دو تین لمحے لگے مگر اس کے بعد اسے یقین ہو گیا کہ وہ ان دونوں سے بہتر انداز میں کرفیو میں گھر سے باہر نکلنے کی سزا کاٹ رہا تھا۔

 

مرغے کے آسن میں فاروق کا دائرہِ چشم بہت محدود ہوگیا تھا۔کھڑے ہوکر اسے اپنے گردوپیش کا سارا منظر اپنی جزئیات سمیت دکھائی دے رہا تھامگر اب اس دشوار گزار آسن میں منظر کی جزئیات تو کجا، منظر کا ہی بہت تھوڑا سا حصہ اسے اپنی چھوٹی سی آنکھوں سے دکھائی دے رہا تھا۔اس کی آنکھیں اب صرف کولتار کی سیاہی مائل سڑک اور اس پر چلتے ہوئے فوجیوں کے بھاری بھر کم بوٹ ہی دیکھ پا رہی تھیں۔

 

جوں جوں وقت گزرتا گیا، فاروق کے پاؤں شَل ہوتے گئے۔اس کی کمر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں اور اس کا حلق سوکھ کر کانٹا ہونے لگاکیوں کہ اس نے گھر سے نکلنے کے بعد سے اب تک پانی نہیں پیا تھا۔دھیرے دھیرے اس کے حواس گم ہونے لگے اور اس دوران فوجیوں کے بوٹ اس کے آس پاس ٹہلتے رہے۔کولتار سے اٹھتی حدت اس کے جسم کے ساتھ اس کی روح تک کو پگھلانے لگی۔اس کے بدن کے تمام مساموں سے پسینہ اتنے زوروں سے جاری تھا کہ اسے لگنے لگا کہ اس کا وجوداسی دم پانی میں تحلیل ہو کر کولتارمیں چھپے پتھروں کی حدت سے آبی بخارات بن کر فضا میں شامل ہوجائیگا۔

 

دفعتاً فاروق کو کسی گاڑی کے آنے کی آواز سنائی دی، جس کی رفتار چوک میں پہنچ کر کچھ کم ہوگئی اور اس کے بعد وہ کسی دوسری سمت کو نکل گئی۔یہ وہی جیپ تھی، جو علاقے میں مسلسل پیٹرولنگ کر رہی تھی۔جیپ کے جانے کے بعداسے حکم دیتی ایک مختلف قسم کی آواز سنائی دی، جو دوسرے دو فوجیوں میں سے کسی کی تھی۔

 

“تم دو کھڑے ہو جاؤ۔تمہارے لیے اتنی سزا ہی کافی ہے۔اب تم جس طرف آئے تھے، اسی طرف واپس چلے جاؤ۔جب کرفیو ختم ہوجائے تب آنا۔سمجھے! “

 

ان کی آوازکے بجائے فاروق کوان کے تیزی سے دور جاتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی۔وہ اب اِس چوک میں ان تین فوجیوں کے ساتھ اکیلا رہ گیا تھا۔اس کا حلق پیاس کے مارے چٹخی ہوئی زمین کی طرح تڑخ گیا تھا۔ مرغے کے آسن میں کھڑے کھڑے اسے نجانے کتنے لمحوں کی صدیاں بیت گئی تھیں۔اس کے بدن کا ریشہ ریشہ اس آزار کی گراں باری سے تڑپ رہا تھابلکہ سلگ رہا تھا۔اس کا وجوداس اذیت اور ہزیمت کی وجہ سے عدم کا نشان بن چکا تھا۔

 

“ اب اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں صوبیدار جی۔ “

 

“ ہاں چھوڑ دو، مگر اسے بھیجو گے کس طرف؟ “پہلی بار صوبے دار کی آواز اسے انسانی خصوصیات کی حامل محسوس ہوئی۔

 

“ مجھے یہ یہیں کا لگتا ہے۔ اپنے گھر چلا جائے گا۔ “

 

“ اچھا چھوڑ دے۔ “ یہ کہہ کر صوبے دار اس کے قریب سے گزر کر ایک جانب چلا گیا۔

 

“ چل اٹھ بالکے، اور یہاں سے تیز دوڑ لگا کر غائب ہوجا۔چلا اٹھ “۔ فوجی نے تحکمانہ انداز میں کہا۔

 

فاروق کیسے دوڑ سکتا تھا، اور وہ بھی اتنا تیز کہ ان عقابی نگاہیں رکھنے والوں کے سامنے سے چشم ِ زدن میں غائب ہو جاتا۔وہ تو کئی صدیوں سے بھاری، لاتعداد لمحوں سے، ایک غیر انسانی آسن میں جکڑا ہوا تھا۔اس نے اپنے ہاتھوں سے پکڑے اپنے کان فوراً چھوڑدیے، لیکن جب وہ سیدھا کھڑا ہونے لگا تو اس کی کمر نے فوری طور پر ایسا کرنے سے انکار کردیا۔درد کی بے شمار لہریں تھیں، جو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اذیت کا طلاطم بپا کیے ہوئے تھیں۔

 

“سنا نہیں کیا! دوڑ لگا اور غائب ہوجا “۔فوجی کی آواز میں غصہ تھا۔

 

فاروق نے جھک کر بہ دِقت سڑک پر پڑا ہوا اپنا تھیلا اٹھایا اورسامنے یعنی بند بازار کی طرف جانے والے راستے کی طرف تیزی سے چلنے کی کوشش کرنے لگا۔اس وقت اس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا باعثِ صد آزار ہورہا تھا،مگر جیسے تیسے وہ آگے بڑھنے لگا۔

 

“ دوڑ لگا، دوڑ! “ پیچھے سے فوجی چینخا۔

 

فاروق نے دوڑنے کی کوشش کی، مگر اس کی کمر اور اس کی ٹانگیں اس کا ساتھ دینے سے قاصر تھیں۔وہ بس اپنے دونوں پیروں کو تیز تیز حرکت دینے کی اپنی سی کوشش کر رہا تھا، اور اس کے دونوں پیرچل بھی رہے تھے، لیکن بہت کم رفتار سے۔اسے اِس آزار سے، جو اس نے کچھ دیر پہلے کاٹا، ملنے والی رہائی عزیز تھی۔وہ غیر انسانی آسن والی سزا دوبارہ بھگتنے کے لیے تیار نہیں تھا۔سو اس سے جتنا تیز بن پارہا تھا، وہ چل رہا تھا۔ایسے میں اسے گرمی کی حدت اورراستے کی سمت کا بھی کچھ خیال نہیں رہا تھا۔اس کے ماؤف ذہن اور شدید نفرت اور غصے سے بھرے ہوئے اس کے دل کی حالت، نقطہِ جوشِ پر کھولتے پانی جیسی ہورہی تھی۔مگر وہ جولائی کی اس سہ پہر، اس سڑک پر اپنے ٹھوس وجود کے ساتھ موجود تھا۔کاش وہ کوئی ٹھوس وجود نہ ہوتا، بلکہ مایع ہوتا۔کم از کم اس طرح وہ فوری طور پر ان خبیثوں کی نگاہ سے اوجھل تو ہوجاتا۔

 

“دوڑ۔۔ نہیں تو۔۔ “یہ تازیانہ ایک بار پھر ہوا کے دوش پر لہراتا اس کی سماعت سے ٹکرایا۔اب فاروق میں اسے سہنے کی تاب ہرگز نہ رہی تھی۔بازار کی سڑک پراسے دائیں طرف جو پہلی گلی دکھائی دی، وہ اسی میں مڑگیااور مڑنے کے بعدتکلیف سے لنگڑاتا ہوا وہ اسی گلی میں آگے ہی آگے چلتا چلا گیا۔اس نے محسوس کیا کہ اس کے بدن کا جھکاؤ بائیں طرف بڑھتا جارہا تھا، کیوں کہ اس نے سامان والا تھیلابائیں ہاتھ میں ہی پکڑا ہوا تھا۔اس نے چلتے چلتے سامان کا تھیلا دوسرے ہاتھ میں منتقل کرنا چاہا، تو اس کا بایا ہاتھ اٹھنے کے بجائے مزید جھک گیا۔ فاروق کی ٹانگیں توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور وہ پختہ گلی کے بیچوں بیچ بائیں جانب ڈھیتا چلا گیا اور اگلے ہی لمحے اس کا وجود، دن بھر دھوپ سے جھلستی ہوئی اِس کنکریٹ گلی کی سطح پر گرا پڑا تھااور اس کے سامان کا تھیلا بھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر یوں نیچے گرا،کہ گرتے ہی پھٹ گیااوراس کے پھٹنے سے اس میں موجود تھیلیوں میں رکھی ہوئی چیزیں یعنی آٹا، دالیں، چاول اور چینی وغیرہ، گلی میں پڑے ہوئے فاروق کے جسم کے گرد پھیلی ہوئی تھیں۔اس کے بعد کچھ دیر کے لیے، نجانے کتنی دیر کے لیے اس کے حواس کا تعلق اپنے گردوپیش کی آزاروں بھری دنیا سے کٹ گیااور اس کا وجود کچھ وقت کے لیے ہی سہی اسے پہنچنے والی اذیت اور ہزیمت فراموش کرنے میں کامیاب ہوا، جس کی وجہ سے اس کا آئندہ کا عالم ِخیال و احساس پوری طرح تہہ و بالا ہونے والا تھا۔
Categories
شاعری

کراچی ہوں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کراچی ہوں!

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں اپنی چاک دامانی کا قصہ خون سے اپنے لکھوں اور کھارے پانی میں
بہا دوں
آنسووں کی بے ثباتی کو
کناروں پر سفینے ڈوبتے دیکھوں
دلا سا دوں تو کیسے دوں مچلتی سرپٹکتی ٹوٹتی بے تاب لہروں کو
کہ میرے حرف پر بندش مری سانسوں پہ پہرے ہیں
مری اس خاک میں پیوست بوٹوں کے نشاں اب اورگہرے ہیں
بھنور ہے ، شور ہے ، اور تندی ء موج ِ ہوا !! جیسے
کہ بالکل بے خبر ہے ظرف سے میرے
کراچی ہوں
مرا سینہ سمندر ہے
میں آنے والوں کو رستہ ، نمک تسکین دیتا ہوں
میں صحراوں ، جزیروں ، جنگلوں ، دریاوں کا داتا
یونہی بھرتا رہوں گا خواب کے کشکول تعبیروں سے روز و شب
کسی سائل کو کیا پروا
اگرزخمی ہوں تنہا ہوں
کراچی ہوں

Image: Hamid S Alavi
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

ایم کیو ایم کا مینڈیٹ تسلیم کریں

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ میٹروپولیٹن شہر بھی ہے اور کاسموپولیٹن بھی لیکن بدقسمتی سے اس شہر کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہیے۔ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پانچ دسمبر 2015ء کو کراچی شہر کے چھ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں 1520 نشستوں کے لیے 5401 امیدواروں میں مقابلہ ہوا، اس سے پہلے اپنی انتخابی سرگرمیوں میں تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ کراچی میں اصل مقابلہ متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے دو جماعتی اتحاد کے درمیان تھا۔ اے این پی تقریباً مقابلے سے باہر تھی جبکہ پیپلزپارٹی کو بھی کراچی کے بلدیاتی انتخابات سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی کے بہت کم امیدوار تھے اور اسے اپنے گڑھ لیاری میں کل 15 میں سے صرف 6 نشستوں پر کامیابی ملی۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے میدان مار لیا ہے اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ آئندہ میئر ایم کیو ایم کا ہی ہو گا۔ ترازو اور بلے کا اتحاد ناکام ہوگیاہے جیسا کہ میں نے 24 نومبر کو اپنے ایک مضمون “کراچی میں ایم کیو ایم کا ہلکا پھلکا مقابلہ” میں لکھا تھا کہ “بظاہر کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک ہی مضبوط پارٹی ایم کیو ایم ہے جس کا ہلکا پھلکا مقابلہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد سے ہوگا” تو بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔

 

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ میٹروپولیٹن شہر بھی ہے اور کاسموپولیٹن بھی لیکن بدقسمتی سے اس شہر کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہیے۔
کسی بھی تجزیہ نگار نے ایم کیو ایم کی شکست کا نہیں سوچا لیکن اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ رینجرز آپریشن کے نتیجے میں ایم کیوم کمزور ہوئی ہے اس لیے اسے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی کے بقول اُنہیں توقع سے زیادہ کامیابی ملی ہے۔ اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کراچی کی مجموعی 456 نشستوں میں سے ایم کیو ایم نے 254 نشستیں حاصل کی ہیں۔ پیپلزپارٹی 39 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے، 34 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ دیگر جماعتوں کے 63 امیدوار کامیاب ہوئے۔ کراچی میٹروپولیٹن کی یونین کونسلوں اور یونین کمیٹیوں کی 246 نشستوں میں سے 135 ایم کیوایم، 32 پیپلزپارٹی، 8 جماعت اسلامی، 9 تحریک انصاف، 9 مسلم لیگ نواز، 3 جے یو آئی، ایک اے این پی اور 24 آزاد امیدواروں نے حاصل کیں۔ کراچی کے سب سے بڑے ضلع وسطی میں ایم کیوایم نے مخالفین پرجھاڑو پھیر دی، 102نشستوں میں سے 100 پر ایم کیو ایم کامیاب ہوئی اور صرف دو نشستیں پیپلزپارٹی کے حصے میں آئیں (تمام اعدادوشمار دستیاب معلومات کے مطابق درج کیے گئے ہیں نتائج کے حتمی اعلان تک ان میں کسی بھی تبدیلی کی ذمہ داری مضمون نگار پر نہیں ہوگی)۔

 

ایم کیو ایم پر کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشوں کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر عائد کی جاتی رہی ہے، اس سال فروری اور مارچ میں نہ صرف ایم کیو ایم پر قتل اور دہشت گردی کے الزامات لگے بلکہ اس کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپا بھی مارا۔ ایک مقامی اخبار کے سروے کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کو 74 فیصد پاکستانیوں نے درست فیصلہ قرار دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو سے رینجرز کے چھاپے کے دوران مبینہ طور پر بھاری اسلحہ برآمد ہوا تھا اور مفرور و مطلوب افراد بھی پکڑے گئے تھے۔ کراچی کی 85 فیصد نمائندگی کی دعویدار ایم کیو ایم پرتو اُس کے قیام کے وقت سے ہی الزامات لگتے رہے ہیں اور آج بھی لگ رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود ایم کیو ایم عام اور بلدیاتی انتخابات جیتنے کا ریکارڈ قائم کرتی چلی جارہی ہے۔ وجہ بڑی سادہ ہے کہ دو کروڑ کی آبادی اور ملک کو 70 فیصد ریونیو کما کر دینے والے اس لاوارث شہرکراچی کے عوام کی ذمہ داری نہ ہی مرکزی حکومت لیتی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہے، لہٰذا کراچی کے شہریوں اور خاص کر مہاجروں کے پاس صرف ایم کیو ایم ہے جو یہاں کے شہریوں کے حق میں کسی حد تک آواز بلند کرتی ہے۔

 

موجودہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم اور رینجرز کے درمیان کشیدگی کی زیادہ اہمیت رہی ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ رینجرز صرف ایم کیو ایم کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ رینجرزکا کہنا ہے کہ آپریشن کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ مبینہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے۔ حالات اور واقعات کی روشنی میں سیاسی تجزیہ نگار ایم کیو ایم کی موجودہ کامیابی کو بھی ماضی جیسا ہی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ اخبارات کی خبروں میں کہا جارہا ہے کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے بڑے بڑے برج اُلٹ گئے۔ لیکن یہ بڑے برج ہیں کون؟ حافظ نعیم الرحمٰن اور علی زیدی؟ کیا خدمات ہیں ان کی کراچی کے لوگوں کے لیے اور کراچی میں کتنے لوگ انہیں جانتے ہیں۔ ان کی غیر مقبولیت کا حال یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں سے ہار گئے جو ایم کیو ایم کے غیرمعروف امیدوار تھے۔ جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمٰن کو ایم کیو ایم کے غیرمعروف مظہر حسین نے شکست دی، مظہرحسین نے 3205اور حافظ نعیم الرحمان نے 712ووٹ حاصل کیے، حافظ نعیم الرحمان نے اسے کھلی دھاندلی قرار دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن اسمبلی خرم شیر زمان کا کہنا ہے رینجرز نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور یہ کہ الیکشن کمیشن بھی منصفانہ انتخابات کرانے میں ناکام رہا، جبکہ تحریک انصاف کراچی کے صدر اور میئر کے ناکام امیدوار علی زیدی کا کہنا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا انھیں شرم آنی چاہیئے، حالانکہ جو ان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہے دراصل شرم اُنہیں آنی چاہیئے۔

 

تحریک انصاف کراچی کے صدر اور میئر کے ناکام امیدوار علی زیدی کا کہنا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا انھیں شرم آنی چاہیئے، حالانکہ جو ان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہے دراصل شرم اُنہیں آنی چاہیئے۔
جماعت اسلامی نے این اے 246 میں اپنی ضمانت ضبط ہونے جیسے نتائج سے بچنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور تحریک انصاف سے انتخابی اتحاد کے ذریعے فوائد سمیٹنے کی کوشش کی۔ کیونکہ اس انتخابی اتحاد کے پیچھے جماعت اسلامی کی سوچ یہ تھی کہ اگر جماعت اسلامی کچھ حلقوں میں انتخابات نہ بھی جیت پائی تو وہ کم از کم بدترین شکست سے بچ جائے گی۔ جماعت اسلامی کی پوری کوشش تھی کہ وہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی برتری ثابت کرسکے۔ کراچی میں جماعت اسلامی نےتمام بلدیاتی حلقوں میں توحصہ نہیں لیا لیکن آدھے شہر میں اس نے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی اور 35 فیصد کوٹہ جماعت اسلامی کو دیا جبکہ تحریک انصاف کو پتہ تھا کہ کراچی کے شہریوں کو جماعت اسلامی کا تجربہ پہلے سے ہے۔ جماعت اسلامی کو کئی بار آزمایا جاچکا ہے، تین بار شہر کی میئرشپ بھی جماعت اسلامی کے پاس رہ چکی ہے۔کراچی کے شہری پی این اے اور دوسرے اتحادوں کی سیاست دیکھ چکے ہیں لہٰذا اتحادوں کی سیاست کو پسند نہیں کرتے۔ ویسے بھی کراچی کے شہری لبرل انداز زندگی کو پسند کرتے ہیں لہٰذا کراچی کے شہری طالبان دہشت گردوں کے حامیوں اور سہولت کاروں کو ووٹ نہیں دیتے۔ اگرچہ عمران خان بھی طالبان کے ہمدردوں میں سے ہی ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو ‘لبرل’ بھی کہتے ہیں، کراچی میں تحریک انصاف کا جماعت اسلامی سے اتحاد عمران خان کی ایک بڑی غلطی تھی جو بدترین شکست کی صورت میں اُن کے سامنے آیا ہے۔

 

اگرچہ تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد میں جماعت اسلامی کا حصہ زیادہ تھا لیکن جماعت اسلامی کے رہنماوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ تحریک انصاف کا ووٹر جماعت اسلامی کےاُمیدوار کو ووٹ دے گا۔ پانچ دسمبر کے بلدیاتی انتخابات میں، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا اتحاد، ایم کیو ایم کے مدمقابل تھا لیکن شہر میں سیاسی منافقت کے کافی مناظر بھی دیکھے گے۔ بعض حلقوں میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) ایک دوسرے کی اتحادی تھے۔ یکم دسمبر کو جب جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن میڈیا کے سامنے کراچی کے لیے اپنا پروگرام بتارہے تھے ٹھیک اُسی وقت جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، اسٹیل مل کے علاقے گلشن حدید میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کے مشترکہ جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ مسلم لیگ(ن) سندھ کے صدر اسماعیل راہو بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بلدیہ ٹاؤن کی یونین کونسل 34 میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو ترازو کا نشان پوسٹر پر چھاپنے سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو اُس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی تصویر بھی عمران خان اور سراج الحق کے ساتھ چھاپ دی۔ سب سے دلچسپ منظر اورنگی ٹاؤن کی ایک یونین کونسل میں تھا، جہاں ایم کیوایم کے مقابل انتخابی اتحاد میں مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی اور عمران خان کی پی ٹی آئی ساتھ ساتھ موجود تھے۔

 

کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت دے کر کامیاب کروایا ہے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے دو جماعتی اتحاد کو مسترد کردیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کراچی کے لوگ نہ تو عمران خان کی ‘تبدیلی’ چاہتے ہیں اور نہ ہی کراچی کو جماعت اسلامی کا ‘استنبول’ بنانا چاہتے ہیں۔
پانچ دسمبر کو کراچی کے لوگوں نے اپنا فیصلہ دے دیا، کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت میں کامیاب کروایا ہے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے دو جماعتی اتحاد کو بڑی بے دردی سے مسترد کردیا، جس کا مطلب ہے کہ کراچی کے لوگ نہ تو عمران خان کی ‘تبدیلی’ چاہتے ہیں اور نہ ہی کراچی کو جماعت اسلامی کا ‘استنبول’ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مفاد اور سمجھ بوجھ کے تحتمناسب فیصلہ کیا ہے۔ جیسے اندرون سندھ والوں نے پیپلز پارٹی کو اور پنجاب والوں نےمسلم لیگ (ن) کو کامیاب کروایا ہے اور کوئی اُن کے خلاف آواز نہیں اٹھارہا ہے۔ مجھے ایم کیو ایم سے اختلاف رہتا ہے، لیکن یہ کراچی کی اکثریت کا فیصلہ ہے، جمہورت میں اکثریت کا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا ہوتا ہے، اس لیے میں لاکھ اختلاف کروں لیکن مجھے ور مجھ سمیت ایم کیو ایم کے تمام مخالفین اور ناقدین کو یہ جمہوری فیصلہ قبول کرنا چاہیئے۔ آپ کا یا میرا ایم کیو ایم سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ہمیں کراچی کے لوگوں کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا۔ ایک چیز ذہن میں رکھیں کہ یہ جو سوشل میڈیا پر مہاجر مہاجر کے تعصب سے بھرپور تبصرے ہورہے ہیں تو تبصرے کرنے والوں کے لیے یہ اطلاع ہے کہ ہارنے اور جیتنے والے بیشتر مہاجر ہیں، جن میں ایم کیو ایم کےوسیم اختر، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن اور تحریک انصاف کے علی زیدی بھی شامل ہیں، ویسے بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان خود بتاچکے ہیں کہ وہ بھی آدھے مہاجر ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم ایم کیو ایم کو بھرپور مبارکباد دیں۔ دل بڑا کیجیئے، ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں۔
Categories
نقطۂ نظر

نندی پور سے کراچی تک بدعنوانی کا راج

نندی پور منصوبے کا آغاز پیپلز پارٹی نے2008ء میں کیا، جو کچھ بدعنوانی کر سکتے تھے وہ کی اور چلے گئے، نواز شریف کی حکومت نے ڈھائی سال میں اس کی لاگت کو 22 ارب روپے سے81 ارب روپے پر پہنچا دیا لیکن اس منصوبے سےبجلی کا ایک یونٹ عوام کو نصیب نہیں ہوا۔ نندی پور پاور پراجیکٹ سے 1361 کلو میٹر دور سمندر کے کنارے دو کڑورکی آبادی والا شہر کراچی ہے۔ پورئے پاکستان کی طرح یہ شہر بھی بجلی کی کمی کے باعث لوڈ شیڈنگ کا بدترین شکار ہے۔ اس سال 20 جون سے کراچی میں گرمی بڑھتی چلی گئی اور درجہ حرارت 40 اور پھر 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، اس گرم ترین موسم میں لوڈشیڈنگ نے سانس لینے کا بچا کچھا حق بھی چھین لیا۔ لوگ دم گھٹنے سے مرتے رہے، اندازہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کم از کم چار ہزار کے قریب تھی۔ کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی طویل دورانیئے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہےاور شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ کے الیکٹرک کی جانب بجلی کے نرخوں میں اضافے پے اضافہ ہورہا ہے لیکن شہریوں کو بجلی کی مسلسل ترسیل میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کی جانب کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ۔
پاک چین ایٹمی معاہدے کے بارے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نہ تو دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان کو جوہری ری ایکٹر بیچنا چاہتا ہے، اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک چین سے نیوکلیئر ری ایکٹر خریدنا چاہتا ہے۔
نومبر2013ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے چین کی مالی و تکنیکی معاونت سے کراچی میں “کے ٹو اور کے تھری” نامی جوہری بجلی گھروں کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا تو بظاہر اعلیٰ حکومتی حلقوں کو قبل از وقت اطلاع نہیں تھی۔ 20 اگست 2015ء کو وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں ہاکس بے کے قریب واقع کینوپ ایٹمی پلانٹ میں “کے ٹو” منصوبے کی کنکریٹ پورنگ منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ پاکستان کو کئی سالوں سے بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ کراچی کے ساحل پر ایٹمی بجلی گھر کینوپ 1972ء میں قائم کیا گیا تھا، اس کی پیداواری صلاحیت 137 میگاواٹ اور مدت 2002ء تک تھی مگر بعد ازاں اسے اپ گریڈ کرکے دوبارہ فعال بنایا گیا، اب اس کی پیداواری صلاحیت کم ہو کر 80 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ 2011ء میں بھاری پانی کے اخراج کے بعد اس پلانٹ کو کچھ عرصے کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور جب اس کی توسیع یعنی “کے ٹو” اور “کے تھری” بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو بعض سائنسدانوں اور شہری تنظیموں نے اس پر خدشات کا اظہار کیا جس سے یہ منصوبہ متنازع ہوگیا۔ حکومت کے مطابق “کے ٹو” اور “کے تھری” بنانے کے بعد یہ دونوں بجلی گھر گیارہ سو میگاواٹ فی کس کے حساب سے بجلی پیدا کر سکیں گے۔ ان پلانٹس کی تکمیل 2019ء اور 2020ء تک ہو سکے گی جس سے کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ہوسکے گا۔ کراچی میں تعمیر کیے جانے والے ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں میں سے ہر ایک کی تعمیر پر تقریبا پانچ ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کے جوہری پاور پلانٹس کے حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ان جوہری تنصیبات کے حفاظتی انتظات پر خصوصی توجہ کے ساتھ کڑی نگرانی کرتا ہے تاکہ دنیا کے مروجہ قوانین کے مطابق تمام ایٹمی بجلی گھروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور ان اقدامات سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آگاہ ہے۔ یہ ایٹمی پلانٹ چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے تعمیر کرنے ہیں۔ یہ ری ایکٹر نہ پہلے کہیں بنائے گئے ہیں اور نہ کہیں یہاں تک کہ چین میں بھی نہیں آزمائے گئے۔
دو کروڑکی آبادی والے شہرِ کراچی کے قریب دو نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر کا حکومتی پلان سائنسدانوں اور حکومت کے دوران تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تابکاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔
عالمی رائے عامہ اب ایٹمی توانائی کے حق میں نہیں ہے زیادہ تر ممالک اسے چھوڑ چکے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے جوہری پلانٹ لگائے جا رہے ہیں جو شہریوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہوسکتے ہیں۔ جرمنی کی مثال سامنے ہے۔ امریکا میں پچھلے 44 سالوں سے کسی نئے ایٹمی بجلی گھر نے کام کرنا شروع نہیں کیا ہے۔ کچھ زیرِ تعمیر ہیں لیکن وہ عالمی رحجان نہیں کہلا سکتے۔ چین ایک مضبوط مثال ہے، اس نے ایٹمی صنعت کی کئی کارپوریشنز تیار کی ہیں جنہوں نے تکنیکی مہارت کے حصول کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور اب وہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاک چین ایٹمی معاہدے کے بارے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نہ تو دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان کو جوہری ری ایکٹر بیچنا چاہتا ہے، اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک چین سے نیوکلیئر ری ایکٹر خریدنا چاہتا ہے۔
سال 2014ء میں چین نے 20 گیگاواٹ صلاحیت کے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے ٹربائن لگائے ہیں۔ اگر چین اپنے پاس ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے اتنے بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس پن بجلی کے منصوبے تیار کرنے کے لیے بھی صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس ہوا سے 40 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ چین سے قرضہ حاصل کرکے پن بجلی کی صنعت کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ پن بجلی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی تنصیب پر ایٹمی بجلی گھر سے آدھی لاگت آئے گی، جبکہ اس میں ایندھن کا کوئی خرچ نہیں ہوگا۔ پن بجلی ایٹمی بجلی سے سستی ہوگی۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے کافی کام ہو رہا ہے اور ہر سال 50 ہزارمیگاواٹ صلاحیت کے نئے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔ پاکستان کو تو صرف 10 ہزار میگاواٹ کی ضرورت ہے تاکہ اپنی تمام ضروریات پوری کر سکے۔اس کے علاوہ سولر فوٹو وولٹیک ٹیکنالوجی ہے جس کی قیمت حال ہی میں کافی کم ہوئی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے حال ہی میں شمسی توانائی سے توانائی حاصل کرنے کا منصوبہ لگایا ہے۔
دو کروڑکی آبادی والے شہرِ کراچی کے قریب دو نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر کا حکومتی پلان سائنسدانوں اور حکومت کے دوران تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تابکاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔ کسی بھی حادثے یا قدرتی آفت کی صورت میں اِن مجوزہ ایٹمی بجلی گھروں کا نظام تباہ ہوا تو شہر میں قیامت برپا ہو سکتی ہے۔ کراچی کے شہریوں اور ماہرین میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ تابکاری کے اثرات بہت زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں کیونکہ اِن بجلی گھروں میں ٹنوں کے حساب سے جوہری مادہ ہوتا ہے۔ اگر اس مادے کا صرف پانچ فیصد بھی خارج ہو تو کراچی کے لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہوگا۔یہ بہت بڑے پلانٹ ہیں اور اتنے بڑے پلانٹ خود چین نے اس سے قبل نہیں بنائے اور یہ پہلا ماڈل ہوگا جو پاکستان میں لگایا جائے گا۔ یہ تو ایک تجرباتی ماڈل ہے اور اِس میں حفاظتی تدابیر کا کسی کو علم نہیں۔
صفِ اول کے ماہرِ فزکس عبدالحمید نیر سے جب پوچھا گیا کہ کراچی میں ری ایکٹرز کی تعمیر کی صورت میں آپ کی سب سے بڑی تشویش کیا ہے؟ تو اُن کا جواب تھا “ہمیں دو مسائل پر تشویش ہے۔ ایک یہ کہ اگر ان نئے ڈیزائن کے ری ایکٹرز کے ساتھ فوکوشیما یا چرنوبل کی طرز کا کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو کیونکہ زیادہ لوگوں کو اس ڈیزائن کے بارے میں کوئی تجربہ نہیں ہوگا، تو حادثے کو کس طرح کنٹرول کیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ فوکوشیما حادثے کے اثرات ری ایکٹر سے 30 کلومیٹر دور تک بھی دیکھے گئے تھے۔ کراچی میں جہاں اس ری ایکٹر کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے، اس کے پاس 30 کلومیٹر کا علاقہ گنجان آباد ہے۔ اگر ان ری ایکٹرز میں کوئی خطرناک حادثہ پیش آتا ہے، تو یہ علاقے سالوں کے لیے مکمل طور پر بند کرنے پڑیں گے، جس کا لازمی طور پر پاکستانی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ فوکوشیما کے پاس 30 کلومیٹر کا علاقہ مکمل طور پر آبادی سے خالی کروایا گیا تھا، اور چار سال گزر جانے کے باوجود وہاں پر لوگوں کو واپس نہیں جانے دیا گیا ہے۔ سوچیں اگر اس طرح کا کوئی حادثہ کراچی میں پیش آجائے، تو کیا کراچی کو خالی کروانا آسان ہوگا؟ اگر ہم دو کروڑ لوگوں کو شہر سے نکالنے میں ناکام رہے، تو وہ ایٹمی تاب کاری کی زد میں آئیں گے”۔
ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر پر اعتراض کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے کا پہلے باقاعدہ طور پر جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ سندھ کی ساحلی پٹی میں ماہی گیروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پاکستان فشر فوک فورم، مزدوروں کے حقوق کی علمبردارتنظیم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار لیبر، ایجوکیشن اینڈ ریسرچ اور کئی دیگر تنظیموں نے ایٹمی بجلی گھروں کے ان نئے منصوبوں کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سماجی حلقوں نے اس پیش رفت کو خطرات میں گھرنے اور طویل المدتی گھاٹے کے سودے سے تعبیر کیا۔سندھ ہائی کورٹ میں پروفیسر پرویز ہود بھائی، شرمین عبید چنائے، ڈاکٹر اے ایچ نیّر اور عارف بلگرامی نے درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ منصوبے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا تجزیہ نہیں کرایا گیا اور حادثے کی صورت میں لوگوں کے انخلا کا ہنگامی پروگرام بھی دستیاب نہیں۔عدالت کے حکم پر منصوبے پر کئی ماہ تک حکم امتناعی رہا لیکن بعد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی یقین دہانی کے بعد درخواست نمٹا دی گئی۔بہتر ہوگاحکومت پاکستان نہ صرف کراچی بلکہ ملک کے باقی حصوں سے بھی ایٹمی بجلی گھر کے منصوبے ختم کردے کیونکہ نندی پور پاور پروجیکٹ سےصرف مالی نقصان ہورہا ہے جو کرپشن پر قابو پاکر ختم کیاجاسکتا ہے، لیکن ایٹمی بجلی گھروں سے مالی اور جانی دونوں طرح کے نقصانات ہونے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان میں نندی پور سے کراچی تک بدعنوانی کا راج ہے اس لیے کراچی جیسےگنجان آباد شہر کے نزدیک ایٹمی بجلی گھر کا منصوبہ دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

قوم کے منہ پر طمانچہ

youth-yell-featured

جشن آزادی کے موقع پر اس دفعہ کراچی کے عوام میں کافی جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔ ایک خبر یہ بھی تھی کہ بابائے قوم کے مزار پر دو لاکھ لوگوں نے حاضری دی یہ صرف خبر ہی نہیں بلکہ ایسا نظر بھی آرہا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کراچی کافی عرصہ بعد قدرے پر امن اور پرسکون ہے۔ لیکن جہاں قوم نے جشن آزادی پر یہ جوش و خروش دیکھا وہیں چند اوباشوں نے آزادی کے دن پوری قوم کے منہ پر طمانچہ مارا جس سے نہ صرف پاکستان میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے بلکہ دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی یہ واقعہ سوہان روح ثابت ہوا۔
سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو پوسٹ کی گئی جس کی وجہ سے جشن آزادی کی تمام خوشیاں ماند پڑگئیں۔ ویڈیو میں آزادی کا جشن مناتے ہوئے ایک نوجوان کو دیکھا جاسکتا ہے جس نے جسم کو مقد س قومی پرچم والے لباس سے ڈھانپا ہوا تھا اور سر پر سینگ سجائے ہوئے تھے ۔ یہ نوجوان کراچی کی ایک شاہراہ پر اپنے چند اوباش دوستوں کے ساتھ رقص کررہا تھا کہ اچانک ایک برقع پوش خاتون 14 یا 15 سالہ لڑکے کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوار وہاں سے گزر ی۔ اس لڑکے نے مبینہ طور پراسے دبوچ کربری طرح ہراساں کیا۔
یہ نوجوان کراچی کی ایک شاہراہ پر اپنے چند اوباش دوستوں کے ساتھ رقص کررہا تھا کہ اچانک ایک برقع پوش خاتون 14 یا 15 سالہ لڑکے کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوار وہاں سے گزر ی۔ اس لڑکے نے مبینہ طور پراسے دبوچ کربری طرح ہراساں کیا۔
اگرچہ اس ویڈیو کی تصدیق آزاد ذرائع سے ممکن نہیں تاہم اس ویڈیو میں دکھایا جانے والا رحجان ہمارے ہاں عام ہے۔ایسپریس ٹریبون میں اپنے مضمون میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ایسے واقعات حقیقت میں بھی رونما ہوتے ہیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا نوجون پاکستانی پرچم میں ملبوس ہے تاہم اس کے طوراطواز کسی طرح شائستہ نہیں۔ ایسے نوجوان مختلف تہواروں پر نہ صرف ریاست کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ پوری قوم کے منہ پر کالک ملنے کا باعث بنتے ہیں لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ انہیں روکنے کی کسی میں ہمت نہیں ہوتی۔ روکنا تو کجا بلکہ اس گھناؤنی حرکات کی عکس بندی بھی کی جاتی ہے اور موقعے پر موجود تماش بین داد بھی دیتے ہیں۔ یہ ویڈیو اگر جعلی بھی ہو تو بھی جس سماجی رویے کی عکاسی کررہی ہے وہ بہر حال اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ جس وقت سوشل میڈیا پر یہ وڈیو پوسٹ ہوئی میں ٹی وی چینلز پر ملی نغمے دیکھ رہا تھا اور وطن عزیز کے لیے ایک نظم لکھنے میں مصروف تھا۔ جیسے ہی مجھے چند دوستوں سے اس ویڈیو کا پتہ لگا تو میں نے سوچا دیکھا جائے کہ اصل ماجرہ ہے کیا اور جب میں یہ ویڈیو دیکھ رہا تھا تو بالکل اسی وقت ٹی وی پر ایک قومی نغمہ آرہا تھا ” ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر ۔۔۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر” اس نغمے کےیہ بول میری آنکھوں کو نم کررہے تھے کہ کہ وہ بچے جن سے قائد مخاطب ہیں وہ سرعام آزادی کے نام پر ہر قاعدے ہر قانون کو توڑنے میں مصروف ہیں وہ کیا خاک اس ملک کو سنبھالیں گے۔
اب اس ویڈیو کے پوسٹ ہونے کے بعد یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ ویڈیو جھوٹی تھی یا سچی جو بات اہم ہے وہ یہ کہ اس سے ہمارا قومی وقار مجروح ہوا اور یہ پوری قوم کے لیے دنیا میں ذلت کا باعث بنی۔
عموماً ہمارے ہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عورت اگر باپردہ ہو اور محرم کے ہمراہ ہو تو اسے جنسی ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یہ خیال بھی عام ہے کہ ہمارا مذہب ہمارا معاشرہ خواتین کی عزت و احترام کا درس دیتا ہے اور ہمارے ہاں خواتین نسبتاً محفوظ ہیں۔ مگر یہ خاتون با پردہ بھی تھیں اور محرم کے ہمراہ بھی لیکن اس کے باوجود بھی انہیں بری طرح ہراساں کیا گیا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی مقامات پر خواتین کو جس جنسی ہراسانی کا سامنا ہے وہ بے پردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ انہیں ایک جنسی وجود اور کم تر صنف سمجھنے کی وجہ سے ہے۔
جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئی اس پر لوگوں نے مختلف رائے دینا شروع کردی زیادہ تر ا س کی مذمت کی گئی اور اس واقعہ میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ چند کا یہ بھی خیال تھا کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور خاتون بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ انہوں نے قطعی مزاحمت نہیں کی کم از کم اس لڑکے کے منہ پر ہی ایک طمانچہ رسید کردیا ہوتا۔ کچھ کے خیال میں وہ برقعہ پوش بھی لڑکا ہی تھا وغیرہ وغیرہ لیکن اب اس ویڈیو کے پوسٹ ہونے کے بعد یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ ویڈیو جھوٹی تھی یا سچی جو بات اہم ہے وہ یہ کہ اس سے ہمارا قومی وقار مجروح ہوا اور پوری قوم کے لیے دنیا میں ذلت کا باعث بنی۔اگر یہ ویڈیو جعلی بھی تھی توبھی اس ویڈیو سے بہرطور اس ذہنیت کی غمازی ہوتی ہے جو تفریح کے نام پر جنسی جرائم کے ارتکاب کو بھی جائز سمجھتی ہے۔ ایسی ویڈیوز بنانا اور انہیں پوسٹ کرنا نہ صرف کردار کشی یا قومی تشخص کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے بلکہ ترغیبات کے زمرے میں آتی ہیں کیونکہ اس پر اگر کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور کوئی سزا نہیں دی جاتی تو یہ عمل باقی لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
جہاں ایک طرف میڈیا پر عورت کو ایک جنسی وجود کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہیں سوشل میڈیا ایسے گمراہ کن تصورات کے فروغ کا کہیں زیادہ آسان ذریعہ بن چکا ہے۔ اس ویڈیو کو مختلف فورمز پر حقیقی واقعے کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور چوں کہ سوشل میڈیا پر تصدیق کا کوئی ذریعہ موجود نہیں اس لیے اسے حقیقی مان بھی لیا گیا ہے۔ تاہم قطع نظر اس کے کہ یہ واقعہ حقیقی تھا یا نہیں عوامی مقامات پر جنسی ہراسانی ہرگز کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمیشہ صرف حکومت کی جانب دیکھا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر کام حکومت نے نہیں کرنا ہے کچھ ہمیں بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ہمیں بھی اس ملک کو اپنا سمجھنا ہوگا ہمیں بھی اس معاشرے میں تیزی سے پھیلتی ہوئی برائیوں کو روکنا ہوگا ۔ ہر سال 14 اگست کوہی وطن سے محبت کا مظاہرہ نہیں کرنا ہوگا بلکہ ہر لمحہ وطن کی سالمیت اس کے تقدس کے خلاف ہونے والی ہر بات کو روکنا ہوگا ۔
Categories
نقطۂ نظر

ریڈیو پاکستان کراچی کی خستہ حال عمارت

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پرریڈیو پاکستان کراچی کی قدیم عمارت واقع ہے جسے اب تاریخی ورثہ قرا دے دیاگیا ہے، یہ وہ عمارت ہے جہاں سے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی تقریر نشر ہوئی۔ اس کے علاوہ وطن عزیز پاکستان اور پوری دنیا میں مقیم بہت سی نامور شخصیات نے اپنی فنی زندگی کا آغاز اسی عمارت سے شروع کیا تھا جن میں ملکہ ترنم نورجہاں ، شہنشاہ غزل مہدی حسن ، ریشماں ، شکیل احمد، انور بہزاد اور قوی خان کے نام سر فہرست ہیں۔
ریڈیوپاکستان کراچی کی قدیم عمارت کے اندر آج بھی ان تمام فنکاروں کی تصاویر موجود ہیں جنہوں نے اس کے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر ملک کے دور دراز علاقوں تک اپنی آواز کا جادو جگایا
اس عمارت کی اہمیت کا اندازہ احمد رشدی کے اس مشہور گانے سے لگایا جاسکتا ہے جو ایک صدی تک لوگوں کے دلوں پر راج کرتا رہا جس کے بول کچھ یوں تھے؛ بندر روڈ سے کیماڑی چلی رے گھوڑا گاڑی بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر ۔۔۔ یہ آیا ریڈیو پاکستان گویا خبروں کی ہے دکان شکیل احمد بھی انور بھی ۔۔۔۔ وطن عزیز کے نامی گرامی گلوکار، فلمی دنیا پر راج کرنے والے ستارے اور دنیائے کھیل میں براہ راست تبصرے کرنے والی شخصیات یہاں تک کہ مشہور مصور صادقین بھی ریڈیو پاکستان کراچی میں پروڈیوسر کی حیثیت سے کام کیا کرتے تھے ۔
کافی عرصہ پہلے ہمارے ریڈیو لسنرز کلب نے ریڈیو چین کی اردو سروس کے تعاون سے اس عمارت میں ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا تھا جس میں چین ریڈیو کے وفد نے شرکت کی تھی۔ اس پروگروم میں مدعو مہمانان گرامی میں محمد قوی خان ، منی بیگم، ہما میر ، طلعت حسین ، فاضی واجد، شکیل احمد اور دیگر فنکاروں نے دوران گفتگو فخریہ انداز میں بتایا کہ یہی وہ عمارت ہے جہاں سے انھوں نے اپنے فنی زندگی کا آغاز کیا ۔گویا فن کے حوالے سے یہ عمارت ہماری پہلی درس گاہ ہے ۔
میں اکثر پروگراموں کے انعقاد کی وجہ سے ریڈیو پاکستان کراچی کےاسٹیشن ڈائریکٹر جناب محمد نقی صاحب سے ملنے اس عمارت میں جایا کرتا تھا اس وقت اس عمارت کے در و دیوار ایک شاندار منظر پیش کرتے تھے ۔ کافی عرصےبعد گزشتہ دنوں ماضی کی یادیں ایک بار پھر مجھے اس عمارت میں کھینچ لائیں۔ جونہی میں اس عمارت کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا تو یقین جانیں اس عمارت کی بے بسی اور حکومت کی بے حسی دیکھ کر آنکھیں نم ہوگئیں ۔ اس شاندار اورتاریخی اہمیت کی حامل عمارت کا آج کوئی پرسان حال نہیں جسے خود حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دے کر لاوارث چھوڑ دیا ہے ۔گذشتہ دنوں کراچی سے تعلق رکھنے والی شاعرہ اور تاریخی ورثے کی شائق محترمہ فائقہ حفیظ نے اس ادارے کا دورہ کیاتو انہوں نے اس عمارت کی کئی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں جس سے اس عمارت کی خستہ حالی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔
اس عمارت کا زوال بدقسمتی سے اس وقت شروع ہوا جب شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کا ایک واقع پیش آیا، جس کے نتیجے میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کا کافی حصہ خاکستر ہوگیا
ریڈیوپاکستان کراچی کی قدیم عمارت کے اندر آج بھی ان تمام فنکاروں کی تصاویر موجود ہیں جنہوں نے اس کے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر ملک کے دور دراز علاقوں تک اپنی آواز کا جادو جگایا۔اسی عمارت کے ایک اسٹوڈیو سے محمدنقی ایک ایسا پروگرام نشر کرتے تھے جس کے نشر ہونے کے بعد عمارت میں لوگوں کا ہجوم لگ جاتا تھا اس پروگرام کا نام تھا یہ بچہ کس کا ہے یہ پروگرام ان بچوں کے انٹرویو پر مبنی ہوتا تھا جو اپنے گھروں سے بھاگ جاتے تھے اور اس پر ہجوم شہر میں گم ہوجاتے تھے جب وہ کسی فلاحی ادارے کو ملتے تھے تو وہ اسے اسی عمارت میں لے آتے تھے جہاں محمد نقی آواز کی لہروں پر ان بچوں کی آواز ان کے پیاروں تک پہنچاتے تھے اور اس کار خیر سے ہزاروں بچوں کو اپنے گھروں تک پہنچایا گیا ۔
زمانہ جنگ میں بھی اس عمارت کا ایک اہم کردار رہا دوران جنگ ملکہ ترنم نورجہاں اسی عمارت کے اسٹوڈیو سے افواج پاکستان کے اندر جوش اور ولولہ پیدا کرنے اور ان جانثاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ملی نغمے گایا کرتی تھیں۔ ان ملی نغموں کی تیاری پہلے سے نہیں ہوتی تھی لیکن یہ اتنے اثر انگیز اور معیاری تھے کہ اکثر بھارتی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ پاکستان اس جنگ کی تیاری بہت پہلے کرچکا تھا۔ ان بھارتیوں کا خیال تھا کہ اتنے بہترین نغمات فی الفور ترتیب کے دے کر نورجہاں نہیں گا سکتی تھیں لیکن یہ تمام باتیں ان دنوں کی ہیں جب فقط ریڈیو ہی خبروں اور تفریح کاواحد زریعہ تھا ۔ اس عمارت کا زوال بدقسمتی سے اس وقت شروع ہوا جب شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کا ایک واقع پیش آیا، جس کے نتیجے میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کا کافی حصہ خاکستر ہوگیا۔ تب سے یہ عمارت اسی حالت میں اپنی بے بسی پر اشکبار نظر آتی ہے ، اس قومی ورثے کو آتش زدگی کے بعد سے اب تک دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا۔
یہاں میں تمام فنکاروں ، ادیبوں، شعراء، دانشوروں اور طلبہ سے بھی درخواست کروں گا کہ اس عمارت کے لیے جوکچھ کرسکتے ہیں کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے اور یہ قومی ورثہ کسی شاپنگ مال یا رہائشی پلازہ میں تبدیل ہوجائے
ریڈیو پاکستان کراچی کی نشریات کچھ عرصہ قبل سوک سنٹر کے قریب قائم ریڈیو پاکستان کی نئی عمارت میں منتقل کردی گئیں جہاں سے ریڈیو پاکستان کی ایف ایم 101 کی نشریات بھی نشر کی جاتی ہیں۔ اس میں قطی کوئی دوسری رائے نہیں کہ نئی عمارت ریڈیو کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے مزین ہے اور بلند و بالا ہونے کی وجہ سے ٹرانسمیشن میں کئی سہولیات بھی میسر ہوں گی لیکن اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ پرانی عمارت کو ایک تاریخی مقام حاصل ہے اس کی تعمیر و مرمت بھی بہت اہم ہے۔
میں دنیا کے بہت سے ریڈیوچینل 1986 سے سنتا چلا آرہا ہوں اس دوران میں نے کئی مشہور و معروف شخصیات کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ پہلے ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ تھے۔ میری ریڈیو کے حوالے سے کسی بھی نشریاتی ادارے سےآج بھی بات ہوتی ہے تو ریڈیو پاکستان کراچی کا ذکر ضرور آتا ہے جس کے ذکر پر مجھے ایک عرصے تک فخر رہا اب اس کے تذکرے پر شرمندگی اور مایوسی ہوتی ہے کہ میں انہیں کیا بتاؤں کہ اب اس عمارت کا کیا حال ہے ۔
ریڈیو پاکستان کراچی کسی فرد یا عمارت کا نام نہیں یہ ایک درسگاہ ہے اور جو قومیں اپنی ثقافت کی حفاظت نہیں کرسکتیں ان قوموں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔ میری حکومت پاکستان سے نہایت درد مندانہ اپیل ہے کہ اس قومی ورثہ پر توجہ دی جائے تاکہ اسے اپنی اصلی شکل میں واپس لایا جاسکے اور ایک مرتبہ پھر یہاں وہ تمام سرگرمیاں بحال ہوسکیں جو کبھی اس عمارت کی رونق تھیں۔ یہاں میں تمام فنکاروں ، ادیبوں، شعراء، دانشوروں اور طلبہ سے بھی درخواست کروں گا کہ اس عمارت کے لیے جوکچھ کرسکتے ہیں کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے اور یہ قومی ورثہ کسی شاپنگ مال یا رہائشی پلازہ میں تبدیل ہوجائے اور ماضی کی سنہری یادیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائیں ۔
Categories
نقطۂ نظر

اقتصادی راہداری اور تربت روڑ

اِس شاہراہ کے قرب و جوار میں بسنے والے صوالی، وشی اورملنگ جیسے دکاندار، ہوٹل مالکان اور کیبن چلانے والے اپنے گھروں کا چولہا جلا نے کے لیے اس گزرگاہ کے محتاج تھے
“تربت روڑ“ کہلانے والی سڑک اکیسویں صدی سے پہلے تربت کو آواران اور پھر ان دونوں اضلاع کو کراچی سے ملانے کا اہم ذریعہ تھی۔ یہ راستہ نہ صرف تربت سے کراچی تک مسافر بسوں، مال بردار گاڑیوں کی گزرگاہ تھا بلکہ یہاں آباد مکینوں کے روزگار کا اہم ذریعہ بھی تھا۔ یہ راستہ تربت، مند، بلیدہ، ہوشاب، جوسک، ڈنڈار، بیدرنگ اور دیگر علاقوں کو آواران سے جوڑتا ہوا کراچی تک جاتا تھا۔ کچا ہونے کے باوجود تربت اور اس سے ملحقہ علاقوں کے ٹرانسپورٹرز کراچی یا کوئٹہ جانے کے لیے اسی راستےکا انتخاب کرتے تھے۔278 کلومیٹر طویل آواران سے تربت تک کا یہ کچا راستہ مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا تو اس کی مرمت کا کام تربت اور آواران کے محکمہ بی اینڈ آر مل کر کیاکرتے تھے۔
مسافروں کو لانے لےجانے والی نان ایئر کنڈیشنڈبسیں اور مال بردار گاڑیاں ایرانی ا شیاءخورد ونوش کراچی اور دیگر علاقوں تک پہنچانے کا کام کرتی تھیں۔ یہی گزرگاہ تربت سے آواران اور آواران سے لسبیلہ تک بسنے والے افراد کے معاش کی ضامن بھی تھی۔ راستے میں جگہ جگہ قائم ہوٹل، کیبن، پنکچر کی دکانیں اور کھوکھے ان مسافر بردار اور مال بردار گاڑیوں کے ٹھہرنےاور مسافروں کے سستانے کا مقام ہوا کرتے تھے۔ اِس شاہراہ کے قرب و جوار میں بسنے والے صوالی، وشی اورملنگ جیسے دکاندار، ہوٹل مالکان اور کیبن چلانے والے اپنے گھروں کا چولہا جلا نے کے لیے اس گزرگاہ کے محتاج تھے۔ آواران، ڈنڈار، کولواہ اور جھاوکے مکینوں کا تربت اور ملحقہ علاقوں کے عوام سے ربط اسی راستے کے ذریعے تھا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس گزرگاہ سے متصل علاقے کے مکینوں کواشیاءخوردونوش نہایت مناسب اور سستے داموں مل جاتی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران سے آنے والا کم قیمت تیل یہاں کے زمین دار وں کی خوشحالی کا باعث تھا۔
وہی ہوٹل جس میں صوالی کے قہقہوں کی گونج صبح تک سنائی دیتی تھی، وشی کی پنکچر لگانے کی دکان سورج طلوع ہونے تک بند ہونے کا نام نہیں لیتی تھی اور ملنگ کا پان بیڑی کے کھوکھے پررات گئے تک گاہکوں کا رش رہتا تھااب وہاں پر تالے پڑ گئے ہیں
وقت کا پہیہ چلتا رہا اورحالات نے اس وقت پلٹا کھا یا جب مشرف دور میں شاہراہوں کی تعمیرات کے منصوبے شروع کر کیے گئے۔ ان منصوبوں میں مکران کوسٹل ہائی وے اوربیلہ سے آواران تک سڑک کی پختگی کے منصوبے بھی شامل تھے۔مکران کوسٹل ہائی وے کراچی کو گوادر سے ملانے والی شاہراہ ہے۔ 2001میں شروع ہونے والے اس منصوبے کی تکمیل دو سال میں ہوئی۔ اس شاہراہ کی تعمیر مکمل ہوتے ہی تربت اور ملحقہ علاقوں کا ضلع آواران سے رابطہ ختم ہو گیا۔ آواران کے لوگوں کے لیے آواران تربت روٹ کی پختگی کا منصوبہ امید کی واحد کرن تھا لیکن بیلہ آواران روڈ کی تعمیر کے بعدتربت روڑ کی تعمیر غیر ضروری سمجھ کر ادھوری چھوڑ دی گئی۔ 278کلومیٹر کا یہ راستہ کچا ہونے کے سبب ٹرانسپورٹرز نے تربت سے براستہ گوادر کراچی تک کا طویل راستہ اختیار کرنا مناسب سمجھا۔ تربت روڑ کی بندش سے اس راستے سے منسلک پنکچر کی دکانیں، ہوٹل اور کیبن بند ہو گئے بلکہ یوں کہیے کہ لوگوں کا ذریعہ معاش ان سے چھین لیا گیا۔ وہی ہوٹل جس میں صوالی کے قہقہوں کی گونج صبح تک سنائی دیتی تھی، وشی کی پنکچر لگانے کی دکان سورج طلوع ہونے تک بند ہونے کا نام نہیں لیتی تھی اور ملنگ کا پان بیڑی کے کھوکھے پررات گئے تک گاہکوں کا رش رہتا تھااب وہاں پر تالے پڑ گئے ہیں۔ چند سالوں کے دوران یہ تمام دکانیں، ہوٹل اور مسافروں کے لیے قائم مساجد کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے ہیں اور علاقے کا نقشہ ہی تبدیل ہو گیا ہے۔
مجھے ڈر ہے کہ بلوچستان میں مغربی راستے کی تعمیر سے پہلے مشرقی راستہ مکمل ہوجانے کی صورت میں یہاں کے مقامی لوگوں کی تکالیف میں کمی کی بجائے اضافہ نہ ہوجائے
2015کا آواران ،2003کے آواران سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ وہی شاہراہ جہاں رات کو چلنے والی ٹریفک کا شور اردگرد کے مکینوں کی نیند خراب کرتا تھا اب وہاں سے دن بھر میں دس یا پندرہ گاڑیاں ہی گزرتی ہیں ۔ سنسان سڑک کسی اجنبی کو دن میں بھی خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ روزگار کے ذرائع اور دیگر علاقوں سے معاشی رابطے ختم ہونے کے سبب یہاں کے مکین معاشی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ان میں پیداہونے والا احساس محرومی انہیں بندوق اٹھانے پر مجبور کررہا ہے جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔
اقتصادی راہداری پر پسماندہ طبقوں کے ساتھ ساتھ دیگر پارلیمانی جماعتوں کو گوادر تا کاشغر روٹ پر جو اعتراضات تھے نواز حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر ان کے اعتراضات کو دور کرنے کی کوشش کی۔ اس بات پر تمام پارلیمانی جماعتوں نے اتفاق کر لیا ہے کہ گوادر تا کاشغر اقتصادی راہداری کے لیے مشرقی، مغربی اور وسطی گزرگاہیں بنیں گی لیکن سب سے پہلے مغربی راستےکی تعمیر شروع کی جائے گی جو کاشغر سے خنجراب ، خنجراب سے حویلیاں، حسن ابدال،ڈی آئی خان، ژوب، کوئٹہ، قلات، سوراب، پنجگوراور تربت سے ہوتا ہوا گوادر تک پہنچے گا۔ موجودہ صورتحال اور زمینی حقائق کا مشاہدہ کرتے ہوئے مجھے مشرف دور حکومت میں مکران کوسٹل ہائی وے اور لسبیلہ سے آواران تک بننے والی سڑکیں یاد آجاتی ہیں۔ دونوں شاہراہوں کی تعمیر اسی دور حکومت میں مکمل ہو ئی تھی لیکن مکران کوسٹل ہائی کی تعمیر اور تربت روڑ منصوبے کے ادھورے رہ جانے سے جو اذیت آواران اور اس سے ملحقہ علاقوں کو جھیلنا پڑی اس کا تدارک تاحال نہیں کیا جاسکا۔ مجھے ڈر ہے کہ بلوچستان میں مغربی راستے کی تعمیر سے پہلے مشرقی راستہ مکمل ہوجانے کی صورت میں یہاں کے مقامی لوگوں کی تکالیف میں کمی کی بجائے اضافہ نہ ہوجائے۔
Categories
نقطۂ نظر

کیا بلدیہ ٹاؤن واقعہ اہم ہے؟

ایم کیو ایم کی تاریخ اور کراچی میں اسکی سیاست سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے، دو باتیں بالکل واضح ہیں؛ ایم کیو ایم کا عوامی مینڈیٹ اور سندھ کی سیاست میں انکا اہم کردار اور یہ دونوں ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے لیے درد سر رہی ہیں۔ بظاہر پیپلز پارٹی جس قدر بھی ایم کیو ایم کو اپنا قدرتی اتحادی قرار دے درحقیقت متحدہ سے اسی قدر نالاں رہتی ہے۔ سندھ کی سیاست تبدیل ہو رہی ہے اور پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ دونوں اپنی سیاسی ساکھ بچانے کی جدوجہد میں ہیں۔ میں ذاتی طور پر زرداری صاحب کی سیاسی سوجھ بوجھ اور قائدانہ صلاحیتوں کا بڑا مداح تھا لیکن پچھلے چند ماہ سے پی پی پی کا طرز سیاست اور حکومت دیکھ کر مجھے بھی مایوسی ہوئی ہے۔ تھر کے حالات، سندھ میں لوٹ کھسوٹ حتیٰ کہ قحط زدگان کی امداد میں بھی خردبرد ، ہسپتالوں اور سکولوں کے حالات اور اب یہ ڈرانے دھمکانے والی سیاست کسی صورت بھی پی پی کے بچے کچھے تاثر کو نہیں بچا پائے گی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کے پی پی پی کی تمام تر صوبائی سیاست وڈیرا شاہی پر چل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ بلاول کو صوبائی سیاست سے الگ کیا گیا ہے کیونکہ اسکی سیاسی ناپختگی اس روایتی سیاست کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بلاول وزیراعظم ٹائپ ہے، وزیر اعلیٰ “میٹیریل” نہیں(ان کی خصوصیات کا انداذہ تو ہر پاکستانی کو بخوبی ہو گا)۔
ایم کیو ایم کی تاریخ اور کراچی میں اسکی سیاست سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے، دو باتیں بالکل واضح ہیں؛ ایم کیو ایم کا عوامی مینڈیٹ اور سندھ کی سیاست میں انکا اہم کردار اور یہ دونوں ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے لیے درد سر رہی ہیں۔
گزشتہ سات برس کے دوران پیپلز پارٹی اور متحدہ کے درمیان حکومت میں شمولیت اور علیحدگی کا جو کھیل کھیلا گیا ہے وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں جماعتیں نہ مل کر چل سکتی ہیں اور نہ علیحدہ ہو سکتی ہیں۔ایم کیو ایم کی حالیہ علیحدگی کے بعد سے زرداری صاحب پچھلے کئی دنوں سے اس کوشش میں ہیں کہ ایم کیو ایم پھر صوبائی حکومت میں شامل ہو جائے۔ اب ایم کیوایم کے مطابق زرداری صاحب کی نیّت ان مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ عین ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کے نزدیک اس نیت سے مراد دو چار وزارتیں اور بلدیاتی انتخابات ہوں جبکہ زرداری صاحب کے نزدیک نیت کا مطلب سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی رپورٹ منظرعام پر لانا اور 12مئی کا پنڈورا باکس کھولنا ہو جبکہ کچھ لوگوں کے مطابق تو عمران فاروق قتل کیس کے زیر حراست ملزمان کو لندن پولیس کے حوالےکرنا بھی نیت کا ایک مطلب ہو سکتا ہے۔
بلدیہ ٹاؤن واقعہ میں یقیناً ایم کیو ایم کے کسی بھتہ خور کے ملوث ہونے کے “امکانات” ہو سکتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھتہ مانگا گیا ہو لیکن آگ نہ لگائی گئی ہو بلکہ یہ محض ایک حادثہ ہو۔ عین ممکن ہے کہ پارٹی ہائی کمان کی طرف سے فیکٹری جلانے کی کوئی ہدایات نہ آئی ہوں کیوں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی خودکشی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صرف آگ لگائی گئی ہو اور تین سوافراد غیر ارادی طور پر لقمہ اجل بن گئے ہوں، بلاشبہ ایسی صورت میں بھی ان افرادکے قتل کی تمام تر ذمہ داری آگ لگانے والے مجرموں پر ہی ہو گی لیکن قانون کی نظر میں پھر بھی ارادتاً اور غیر ارادتاً قتل میں فرق ہوتا ہے۔
تمام امکانات اپنی جگہ، یہ ایک حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کا پارٹی فنڈ عموماً لوگ تمام ٹیکسوں کی طرح کوئی خاص خوشی سے جمع نہیں کراتےاور جس طرح اور ن کے ذریعے یہ فنڈ اکٹھا کیا جاتا ہے اسے “بھتہ “ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس کارِخیرکی انجام دہی کے لیے یقیناً بہت سے “بھائی لوگ” بھی متعین ہیں جو ہر ممکنہ طریقے سے پارٹی فنڈ اکٹھا کرتے ہیں۔ اگرچہ متحدہ خود کو ایسے عناصر کے تشددسے علیحدہ قرار دیتی ہے لیکن اگر انہی چھوٹے موٹے بھائی لوگوں میں سے کوئی غلطی سے کوئی فیکٹری جلا دے ، بندہ پھڑکا دے اور اس دوران دو تین سو بندے بھی بھسم کر دے تو پارٹی اس امر سے کسی طور پر خود کو مبرا قرار نہیں دے سکتی۔
سیاست دان اور عوام تاریخ سے سبق سیکھے بغیر ایک جماعت کے خلاف بنائے گئےعمومی تاثر کے غلام بنے ہوئے ہیں اور واضح حقائق کو ہمیشہ کی طرح نظر انداذ کر رہے ہیں۔
بلدیہ ٹاون واقعہ کی مبہم رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایم کیوایم کو مزید کم زورکیا جا رہا ہے، پاکستان تحریک انصاف اور جماعتِ اسلامی سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور بارہ مئی کے واقعات کو لپک لپک کر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ بارہ مئی 2007 کے سانحہ میں محض ایم کیو ایم ہی نہیں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل مشرف کا نام بھی آتا ہے۔ جنرل مشرف جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) کی مدد سے حکومت کرتے رہے ہیں جن کے ساتھ تحریک انصاف اتحاد قائم کیے ہوئے ہے۔جماعت اسلامی کے اپنے کارکنان کے گھروں سے القائدہ کے درجنوں مطلوب افراد پکڑے جا چکے ہیں لیکن تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے اس عسکریت پسندی کے خلاف آواز اٹھانے کی مثالیں بے حد کم ہیں۔ یہ وہی ایم کیو ایم ہے جس کے سربراہ کے خلاف پی ٹی آئی کے سربراہ لندن میں کچھ کاغذات ہلا ہلا کر دعوے فرماتے رہے اور بعد میں اپنی کارکن زہرا آپا کے قتل کو بھلا کر بھائی بھائی بن گئے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے ایم کیو ایم پر تنقید اصولی موقف نہیں بلکہ محض ایم کیو ایم کو کم زور کر کے اس کی جگہ لینے کی کوشش ہے۔ایک مبہم رپورٹ کی آڑ میں ایم کیو ایم کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈا پریشان کن امر ہے۔ سیاست دان اور عوام تاریخ سے سبق سیکھے بغیر ایک جماعت کے خلاف بنائے گئےعمومی تاثر کے غلام بنے ہوئے ہیں اور واضح حقائق کو ہمیشہ کی طرح نظر انداذ کر رہے ہیں۔