میرا واہ کی راتیں: ایک تاثراتی جائزہ (نسیم سید)

رفا قت حیات نے یہ ناول جنسی تسکین کے لیے نہیں لکھا بلکہ انہوں نے بڑی ذہانت سے ان حقائق سے پردہ اٹھا یا ہے جونذیر، شمیم اورنذیر کی چچی جیسے سیکڑوں کی داستاں کا حصہ ہیں۔
آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے ایک عورت کو بس سانس لینا ہی کافی نہیں اس کو لازم ہے وہ کوہساروں کی آواز سنتی ہو نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو اسے علم ہو وہ زن باد شب جانتی ہو کہ کیسے طرح دے کے سب گھٹنائیوں کو نکل جائے کیسے وجود اپنا خود میں سمیٹے […]
جنگ سخت کوش ہے

سلمیٰ جیلانی : کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار
ہمارے لوگ

ڈایان ارنز: اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟
میں جا چکی ہوں

نسیم سید: میں اپنے ہونے کے اورنہ ہونے کے
مخمصے سے
نہ جانے کب کی
نکل چکی ہوں
ہم تمہیں اورتمہارے فیصلوں کو منسوخ کرتے ہیں

نسیم سید: تم نے آج تک عورتوں
کو ریوڑ کے طرح رکھنے
اورگولیاں پھانک کے
آسودگی کے لمحات کو
برا بھلا گزارنے کے سوا کیا کیا ہے؟
کو ریوڑ کے طرح رکھنے
اورگولیاں پھانک کے
آسودگی کے لمحات کو
برا بھلا گزارنے کے سوا کیا کیا ہے؟
جہاد النکاح

نسیم سید: المدینہ کی پہلی گولی امیر ابورباب کے سینے کو چیرگئی اورپھر عائشہ سمیت وہ سب جو اسے اپنے واسطے جب جی چاہے حلال قرار دے دیتے تھے اپنے خون میں نہائے فرش پر پڑے تھے ۔
ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے

نسیم سید: ہم آگ پیتے ہیں
اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں
انگارے لکھ رہی ہیں
اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں
انگارے لکھ رہی ہیں
آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

نسیم سید: تم جانتے ہو
اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں
اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں