Categories
تبصرہ

حسن کی صورتحال (خالی جگہیں پُر کرو): تکنیکی جائزہ – اقرا غفار

لالٹین پر یہ تحریر یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کی جا رہی ہے۔ یاسر حبیب “عالمی ادب کے اردو تراجم” نامی معروف فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ فیس بک صارفین تک تجربہ کار اور نوآموز مترجمین کا کام پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔

……………

بیسویں صدی میں جہاں جدیدیت اور روشن خیالی کے نظریات کا پرچار ہوا وہاں اس صدی کے اواخر میں جدید رویوں اور تصورات کی لہر بھی زور و شور سے ابھری آرٹ اور فنون کے تمام شعبے اور زندگی کے بہت سے معاملات جہاں جدیدیت کی دین سے متاثر ہوئے وہاں دوسری طرف مابعد جدیدیت کی واضح جھلکیاں بھی آرٹ اور فن میں برابر محسوس کی گئیں لہذا ادب بھی ان تحریکوں اور مابعد جدید رویوں کا تاثر قبول کیے بنا نہ رہ سکا اور اس کی بعض مثالیں اردو فکشن خصوصا ناول اور افسانے میں دیکھنے کو سامنے آئی جدیدیت کے علمبرداروں روشن خیالی یا خردافروزی کی شمع جلانے والوں كا تقسیم سے پهلے اور تقسیم كے بعد بھی ایك ریلا دكهای دیتا ہے اور ان سے متاثر ادیب بھی اپنی تخلیقات كے ذریعے نماینده نظریات كو كسی صورت میں پیش كرتے هیں مگر مابعد جدیدیت جسے تحریك كی بجایے صورتحال یا رویے كا نام دینا زیاده مناسب سمجھاگیا اس كے زیرِاثر لكهنے والوں كا گروه بیسویں صدی میں كم هی نظر آتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اكیسویں صدی كا سورج هی اس كی روشنی اپنے ساتھ لائے گا۔

مابعدجدیدیت ویسے تو انیس سو پچاس کی دہائی سے ادبی اور فکری منظر ناموں پر موجود تھی مگر اس نے عروج کی منزلیں انیس سو اسی میں طے کیں مگر ہمارے ہاں اس کا شورو غوغا اکیسویں صدی میں ہی بلند ہوا اور اب دنیا کے ہر کونے میں ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے کہ ہم مابعد جدید عہد میں رہے ہیں۔مابعد جدیدیت نے عقل کے فراہم کردہ معیارات کوکڑی تنقیدی نظر سے دیکھا، پرکھا اور جانچا ۔ایک شے اس سے لازم و ملزوم قرار دی گئی جس کو تشکیک کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی ہر شے کو شک كی لیبارٹری سے گزارا جائے مابعد جدیدیت اپنے اندر بہت سے افکار اور نظریات کو سموئے ہوئے ہے جن میں لاکان ،دریدا ،فوکو ،بادریلا اور لیوتار کے خیالات کی واضح بازگشت سنائی دیتی ہے اور ان کے بغیر مابعد جدیدیت کا دائرہ کار مکمل نہیں ہو پاتا۔ دریدا نے رد ساخت یا رد تشکیل کا فلسفہ پیش کیا ردتشکیل کے مطابق متن کے معنی کا کوئی مرکز نہیں ہے اور اسی طریقہ کار میں متن کے متعینہ معنی کو بے دخل کرنے کا رجحان فروغ پاتا ہے دریدا نے ساختیات کے تصورات کو بنیاد بنا کر جن كو سوسیر(sauccer( نے پیش کیا تھا ان کو پلٹ ڈالا۔ رد تشکیل کا بنیادی سروکار معنی سے ہے اور اس بات پر بارہا اصرار کیا جاتا ہے کہ ایک لفظ کے مخصوص معنی نہیں بلکہ ایک سے زائد ہو سکتے ہیں اور ایک متن کی تشریحات بھی ایک سے زائد کی صورت میں ممکن ہے جس کے نتیجے میں پہلے معنی کی موجودگی ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا معنی یا مفہوم لے لیتا ہے اس کے مطابق زبان افتراقات کا نظام ہے اور یہی نظریہ افتراق دریدا کا مرکزی نقطہ ہے۔زبان کے جاری نظام میں معنی دو طریقوں سے پیدا ہوتے ہیں ایک فرق سے دوسرا التوا سے۔ اور اسی وجہ سے معنی خیزی کا عمل یاكھیل جاری رہتا ہے دریدا اس بات پر بھی اصرار کرتا ہے کہ معنی پیدا کرنے کا عمل “موجودگی” سے جڑا ہوا ہے مگر معنی تفریقی رشتے کے موجود اور ناموجود دونوں عناصر سے قائم ہوتا ہے۔

دریدا کے انہی نظریات كی واضح جھلكیاں مرزا اطہر بیگ کے ناول “حسن کی صورتحال (خالی جگہیں پر کرو(” میں ملتی ہیں جہاں ناول میں ایک نئی بیانیہ تکنیک متعارف ہوتی ہے اور سیدھی سیدھی کہانی بیان کرنے کی بجائے متن کی ایک سے زائد متبادل تشریحات پیش کرنے کا گر اپنایا جاتا ہے۔ ہر واقعے کی مختلف توضیحات پیش کرتے ہوئے” ہوسکتا ہے”کی تکرار ناول کا حصہ بنتی ہے۔ یعنی واقعہ ایک ہی ہے مگر اس کے پس منظر مختلف نوعیتوں کے بیان کئے جاتے ہیں اور حتمی پیشکش کی بجائے متعدد سطحوں كے معانی اور مفاہیم شامل ہوتے ہیں۔ مصنف جہاں خود تخیل كے سحر میں گرفتار ہو كر ایك واقعے كو بہت سارےمعنی پہناتا ہوا آگے بڑھتا ہے وہاں وه قاری كو بھی انگلی تھام كر ساتھ چلنے پر مجبور كرتا ہے اور قاری ایك ہی جست میں مصنف كا ہم خیال ہو كر ہر واقعے كے متعدد پس منظر اخذ كرتا ہے۔ قرات در قرات كا عمل ناول كے آغاز میں بھرپور انداز سے موجود ہ۔ے مرزا اطہر بیگ لكھتے ہیں :

“ہوسكتا ہے شخصیت كو وہاں قید كرنے كے بعد عام كپڑے پہنایے گیے ہوں اور اس كا سوٹ وہاں لٹكتا چھوڑ دیا گیا ہوجہاں سے اغوا كنندگان كے خیال كے مطابق كوئی نہیں دیكھ سكتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بھی ہو سكتا ہے یہ مكان شہر میں كام كرنے والے كسی درزی کا ہو اور درزی نے یہ سوٹ دبئی میں كام كرنے والے اور جلد ہی چھٹی پر گھر واپس آنے والے بیٹے كے لیے چرایا ہو۔۔۔۔۔”(صفحہ نمبر ۱۴،حسن كی صورتحال)

دریدائی نقطہ نظر جس کے مطابق متن معنی کا حامل نہیں ہوتا اور ایک سے زائد متبادلات اور تشریحات متن کے اندر موجود ہوتی ہیں اسی نقطہ نظر کو تکنیک بناکر اس ناول میں متعدد موضوعات کی فہرست ملتی ہے اور ناول نگار ایک سے زائد بیانیے ترتیب دیتا ہوا علامتوں کا ایک جہان بھی پیدا کرتا ہے۔ ناول میں جب متن تشکیک کے دوراہے پر کھڑا ہوکر اپنی تشریحات کے در وا کرتا ہے تو قاری بھی مابعد جدید عہد کی آواز پر متوجہ ہوتا ہے۔ حسن کے کردار کے ذریعے ناول نگار اس تکنیک کا استعمال کرتا ہے ،حسن جو کہ ایک اکاؤنٹنٹ ہے اور شہر سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کیمیکل فیکٹری تک کے اپنے سفر کے دوران متعدد چیزوں کو حیرت سے دیکھتا ہےاور اپنی قیاس آرائی سے ایک منظر كے تخلیق ہونے كی متعدد وجوہ سوچتا ہے:
“حسن نے ایسے مناظر دیكھنے شروع كر دیے تھے جو حقیقت میں كوئی وجود نہیں ركھتے تھے بلکہ حسن تو خود ” ہو سکتا ہے یہ میری نظر کا دھوکہ ہو” کو ہمیشہ خوف کے آخری ناقابل تردید متبادل کے طور پر قبول کیا کرتا تھا “۔

پھر اسی کردار کے اندر ایک تجسس پیدا ہوتا ہے کہ چیزیں یا مناظر جیسے نظر آتے ہیں ویسے کیوں ہیں یا ان کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہوتے ہیں ۔کیا صرف حسن کے واہمے اس كو کسی الجھن میں گرفتار رکھتے ہیں یا واقعتاًایك منظر یا چیز كے پیچھے متعدد تشریحات یا توضیحات موجود ہو سكتی ہیں۔ یہاں حسن كا كردار خود گفتگو كرتا ہوا نهیں ملتا بلکہ واحد متكلم كی تكنیك اپناتے ہوئے ناول نگار بار بار خود مخاطب ہو كرحسن كی سرگرمیوں پر تبصره كرتا ہے ناول نگار لكھتا ہے:
“ہم سمجھتے ہیں کہ یہی وہ وقت تھا جب حسن نے اپنی حقیقی ذاتی زندگی کو زیادہ حقیقی بنانے کا ہلاکت خیز فیصلہ کیا۔۔۔۔۔ حالانکہ اب بھی وہ اپنے اندر قائم ہونے والے متبادل منظر ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر کے مطمئن ہو سكتا تھا ۔۔۔۔۔ وہ سوچ سکتا تھا کہ ہو سکتا ہے نام کے تینوں الفاظ میں کہیں نہ کہیں کوئی فرق ہو جو کتبے کے پرانے ہونے ،فاصلے اور گاڑی کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے نظر نہ آتا ہو مثلا” حسن محسن ہو سکتا ہے احسن ہوسکتا ہے” (صفحہ نمبر ۲۳ حسن كی صورتحال)

ناول نگار ناول کے آغاز میں ہی آگے آنے والے واقعات یا کہانیوں یا بیانیوں کے بارے میں آگاہ کرنے اور متعارف کروانے کی غرض سے قاری کا ذہن بناتا ہے تاکہ قاری جاری شدہ بیانیے کی تکنیک کو سمجھ کر آگے بڑھے اور بوریت یا اکتاہٹ کا شکار نہ ہو اس لیے حسن کے کردار کو ایک مختصر طریقے سے متعارف کروا کے دوسرے باب” حیرت کی ادارت” میں داخل ہوتا ہے جہاں حسن کے حیرانیوں پر تبصرے اور ایک واضح نوٹ دیا گیا ہے کہ:-
“( مطالعہ اختیاری پچیدہ فکری مباحث سے نالاں قاری اس باب کو نظر انداز کر سکتے ہیں)”

اس نوٹ سے قاری کی دلچسپی میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور کمی بھی ہو سکتی ہے مگر اس طرح کے ابواب جہاں فکری مباحث اور فلسفیانہ مباحث کے در کھولتے ہیں وہاں دوسری طرف ناول کی صنف سے ہٹ کر كوئی دوسری شے معلوم ہوتے ہیں ۔ناول نگار کہانی اور حیرانی کے الفاظ کو مخصوص پیرائے میں استعمال کرتے ہوئے اپنی تحریر کو ناول کی صنف میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور حسن کے کردار کو متعارف کروانے والے باب کو بھی کہانی کی بجائے بھرپور حیرانی کا نام دیتا ہے ناول نگار لکھتا ہے:
“ان ممکنہ سوالات کے حوالے سے فی الحال ہم یہ وضاحت پیش کریں گے کہ کہ اچٹتے خوف کی داستان بھی درحقیقت ایک “حیرانیہ” ہے۔۔۔۔۔
گو تمہیدی ہونے کی وجہ سے کہیں کہیں کہانیاں ہونے کا خواندگی واہمہ پیدا کرتا ہے” (صفحہ نمبر ۳۱،حسن كی صورتحال)

یہاں ناول نگار کے نقطہ نظر کی واضح شبیہ نظر آتی ہے جس کا مقصد قاری كو کہانی سے لطف اندوز ہونے کا موقع مہیا کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد حیرانی کے جہان کے مختلف واقعات سے آگاہ کرنا ہے جہاں ہر واقعہ اپنی جگہ قاری کو حیران کرتا ہوا، ایک الگ پس منظر اور کہانی کے ساتھ ملے گا۔۔ مگر حیرانیوں کی یہ عمارت بھی کہانی کے بغیر استوار نہیں ہو سکتی۔ سیدھی سادی کہانی بیان کرنے کی بجائے ناول نگار کی ساری نظر اس کو تکنیکی مہارتوں میں تبدیل کرنے پر صرف ہوتی ہے اور ناول میں بلاجھجک اس کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ ردتشکیل کی اس فلسفیانہ اصطلاح کے استعمال كے بغیر یہ فضا پیدا کرنا ناممکن تھا جہاں ایک سے زائد موضوعات اور ایک سے زائد ہمنام کردار ہر باب میں ایک نئے پس منظر اور نئے زاویوں کے ساتھ موجود ہوں۔ ہر کردار کی کہانی مختلف اور ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی ہوں۔ ایک ہی نام کے کردار ہر طبقے میں دکھانا اور ان کرداروں کے توسط سے متعدد علامات کا معنی خیز پیرائے میں اظہار ناول کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مثال کے طور پر: انیلا بلال کے نام سے کردار سکرپٹ رائٹر بھی ہے اور عوامی تھیٹر میں کام کرنے والی ، میلوں میں اداکار انیلہ سسی بھی ہے اور تیسری صورت میں انیلا بلال سنگ تراشی کی تعلیم حاصل کرنے والی ایک آرٹسٹ اور ایریا مینیجر سعید کمال کے بیوی بھی ہے اسی طرح سعید کمال ،صفدر سلطان كے كردار بھی ہم نامی كے پیرایے میں ایك سے زاید كہانیوں یا حیرتوں كے ساتھ ملتے ہیں۔

جہاں ایک بیانیہ دوسرے بیانیے کی جگہ لیتا ہوا اور ایک حیرت دوسری حیرت کو رد کرتی ہوئی قاری کو تیسرے جہان میں لے جاتی ہے جس کی آگاہی ناول نگار نے حیرت کی ادارت باب میں یوں دی :-
“حسن کی صورت حال میں ایک حیرت سے نجات کسی دوسری حیرت کے ذریعے ہو سكتی ہے جبکہ کہانی میں اور خاص طور پر مضبوط کامیاب کہانی میں حیرت کے خاتمے کا جشن منایا جاتا ہے “(صفحہ نمبر ۳۱ حسن كی صورتحال )

ناول نگار ردتشکیل کے فلسفے کی تکنیک کو ایک طرف رکھتے ہوئے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا تذکرہ کرکے قاری کو ایك ایسے کباڑ خانے میں لے جاتا ہے جہاں ہر شے اپنی جگہ پر مکمل علامت کے طور پر موجود ہے اور جہاں حیرت کی ایک فضا ابھرتی ہے ۔کباڑ خانے میں موجود ہر شے کا ایک پس منظر ہے۔ اس کباڑخانے سے متعارف کروانے والی حسن کی وہی اچٹتی منظر بینی ہے جس کا وہ روز کے سفر کے دوران عادی ہو چکا ہے اور اسی منظر بینی کے دوران قاری اس عہد سے متعارف ہوتا ہے جس میں ایسا کباڑ خانہ ترتیب دیا گیا ہے یہ اسی کی دہائی ہے یعنی ۱۹۸۰ کی۔ پاکستان میں یہ عہد جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کا تھاجب اظہارو خیال پر سخت پابندیاں عاید کی جا چکی تھیں اور زبان بندی کی رسم عام تھی۔ ان پابندیوں سے انحراف کے نتیجے میں جو سزائیں دی گئیں اور جس طرح سے آرٹسٹوں کو جلاوطن کیا گیا اسی طرح کی ایک مثال اس کباڑ خانے میں موجود بوتل کے ذکر سے ملتی ہے اس بوتل کی کباڑ خانے میں آنے سے پہلے كیا جگہ تھی اور کس مقام پر موجود تھی كباڑ خانے میں کس طرح پہنچی اور اس كے ساتھ کیا کیا ہو سکتا تھا ۔ایسی کئی قسم کی تشریحات کے بعد ایسی بوتلوں کو خریدنے والے اور استعمال میں لانے والے کے ساتھ کیا ہوا اس کا ذکر قاری کو اس عہد کے منظرنامے کی واضح تصویر دکھاتا ہے:
” درحقیقت وہ نوجوان یونیورسٹی کے آرٹس ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم تھا اور مجسمہ سازی کی تربیت حاصل کر رہا تھا فائنل امتحان کا کام جسے وہ” تھیسز” کہتا تھا اس نے بوتلوں سے ایک مجسمہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے سفید سیمنٹ، پلاسٹر اور دوسرے جوڑنے والے کیمیکلز کی مدد سے بوتلوں کو ایک خاص ترتیب میں جوڑا ۔۔۔۔اور دیکھنے والے حیران رہ گئے کہ وہ جدید مجسمہ ایک باریش انسانی چہرے جیسا نظر آتا تھا جس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور منہ بھی خون اگل رہا تھا مجسمہ ساز نے اپنے شاہکار کو” برداشت كا کلچر” کا عنوان دیا لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے تھیسز کو اپنی ڈگری کے امتحان کے لیے پیش نہ کرسکا ۔طلباء کے ایک گروہ نے راتوں رات ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوکر” برداشت کا کلچر ” ہتھوڑوں سے چکنا چور کردیا اور ایک طرف دیوار پر لکھ دیا اس ڈیپارٹمنٹ کا بھی وہی حشر ہوگا جو سومنات کا ہوا تھا”۔

ناول ایک جست کے ساتھ علامتی رخ اختیار کرتا ہوا کباڑ خانے میں موجود چیزوں کی سرگزشت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ تہذیبی خردافروزی پر پر مبنی مسودہ جو غلطی سے کباڑ خانے میں بھیج دیا جاتا ہے جو دنیا کی تاریخ بدل سکتا تھا اس کی ضرورت اور تلاش قاری کو حیرت میں ڈال دیتی ہے اور میگا فون کی کہانی جس کی ضرورت تھیٹرکے ایک بونے کو ہے اس کے علاوہ استعمال شدہ جوتوں کے تسمے،جمع شدہ ڈاک کے ٹکٹ ،عظیم رہنماؤں کے تھوک، عظیم نجات دہندہ سے رہائی کی صورت میں بٹنے والی مٹھائیاں وغیرہ یہ ایسی اشیا ہیں جو قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔

ناول نگار کے ہاں طنز کی کاٹ ناول کے اس بیانیہ کو( جس کو وه حیرانیے کا نام دیتا ہے( دلچسپ بنادیتی ہے گوکہ ناول میں ربط کے ساتھ کہانی کا عنصر موجود نہیں اور نہ ہی ناول کے پلاٹ پر کوئی خاطر خواہ نظر کرنے کی صورت موجود ہے مگر حقیقت پیش کرتے ہوئے ناول نگار طنزیہ پیرائے میں بے باک ہو کر معاشرے کا نوحہ لکھتا ہے :
“آہ ۔۔۔۔مثلا” کیا ۔۔۔۔۔آپ پوچھتے ہیں کیا۔۔۔۔ جی مثلاًعظیم رہنما کا تھوک۔ دیکھیں میرا نظریہ یہ ہے کہ عظیم رہنما کی ہر چیز عظیم ہوتی ہے اس کی کوئی چیز عامیانہ اور گھٹیا نہیں ہوسکتی اس کا بول و براز بھی نہیں۔ اس کا فضلہ بھی نہیں ۔۔۔۔۔نہیں جناب میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔ کیا آپ نہیں جانتے عظیم رہنما وہی ہوتا ہے جو تاریخ پر دلیری سے تھوک سکے اور جب چاہے خود سے رہنمائی مانگنے والے ہجوم پر پلٹ کر اسے اپنے پیشاب سے شرابور کرسکتا ہے اور اپنے فضلے سے لت پت کر سکتا ہے ۔ (صفحہ نمبر ۶۴۔۔حسن كی صورتحال)

ناول نگار ضیاالحق دور کی عکاسی کے لیے جو ایك اور تکنیک ناول میں اپناتا ہے وه سرئیلزم کی تکنیک ہے جہاں اس تکنیک کا آغاز ہوتا ہے وہاں قاری کباڑ خانے سے نکل کر ایک فلمی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جو سوانگ پروڈکشنز کی ایسی دنیا ہے جو کہ ایک فلم بنانا چاہتی ہے فلم کا نام “یہ فلم نہیں بن سکتی” ہے۔اس فلم کے بے معنی عنوان کے ساتھ بہت سی چیزیں جڑی ہوئی ملتی ہیں جس بنا پر یہ عنوان تجویز کیا جاتا ہے اسی فلم کے بننے کے دوران جب کباڑ خانے کی شوٹنگ کی طرف ڈائریکٹر مڑتا ہے تو فلیش بیک کی تکنیک بھی ناول کا حصہ بن جاتی ہے۔

سرئیلزم کی تکنیک جذبات اور احساسات کے خالص اظہار پر اور لاشعوری کیفیات میں کسی بھی قسم کی رنگ آمیزی سے گریز پر زور دیتی ہے اور اس کا واحد مقصد سچائی کی کھوج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی عمل کا آزادانہ اظہار ہے جس بنا پر اس کو مخرب اخلاق پر مبنی اور انتشار پسندی کی حامل تحریک بھی قرار دیا گیا۔

ایسی ہی انتشار پسندی یا بکھراؤ قاری کو اس ناول میں محسوس ہوتا ہے مگر جہاں کھلم کھلا اظہار و بیان پر پابندیاں عائد ہوں وہاں ایسی تحریکوں اور تکنیک کا رواج پانا عام سی بات ہے ۔ناول نگار اسی تکنیک سے مابعد جدیدیت کے پیدا کردہ اس پہلو پر بھی پہنچتے ہیں جو مقامی ثقافتوں کو فروغ دینے کی طرف انسان کو مائل کرتا ہے۔

کباڑ خانے کی شوٹنگ کے ساتھ ساتھ اس فلم کے لوگ مقامی میلے بھاگاں والے کی بھی شوٹنگ کی طرف جاتے ہیں جہاں سرکس دکھانے والے، موت کا کنواں دکھانے والے، دو سروں والا کھوتا دکھانے والے کردار موجود ہیں۔ یہاں دو قسموں کی دنیا سامنے آمنے سامنے ہوتی ہے ایک فلمی دنیا جو تعلیم یافتہ افراد اور مقامی صنعت کاروں کی ہے مگر ثقافت اور اس سے وابستہ اداروں پر پیسہ خرچ کرنے کی بنا پر مختلف دھمکیوں کا نشانہ بن چکی ہے اور دوسری طرف میں میلے کے وہ چھوٹے اداکار جو کم تعلیم یافتہ بلکہ اکثر ناخواندہ اور اپنی ناٹک منڈلیوں سمیت جگہ جگہ منتقل ہونے کو “وچھوڑے” کا نام دیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے ناٹكوں اور میلوں كو “كنجر خانے” كہہ كر بند كروانے كی دھمكیاں ملتی ہیں۔ ان دونوں میں ایك گہراتضاد موجود ہے مگر دونوں كی صورتحال اس عہد كی عكاسی كر رہی ہے جہاں جبر كی فضا عام ہے جس كی پیشكش كے لیے ناول نگار آغاز میں حسن كی ذہنی كیفیت اور سوانگ پروڈكشنز میں بننے والی فلم كے كرداروں كے جذبات و احساسات كے ساتھ ان كی لاشعوری كیفیات اور فكر كو سرئیلسٹ طریقے سے بیان كرتا ہے:-
“سیفی گھسیٹتا ہے میرا جی چاہتا ہے سیدھا تمہارے جبڑے پر ہیٹ کروں اور کرتا جاؤں۔ عجیب بات ہے ایسے پرتشدد خیال مجھے پہلے تو کبھی نہیں آئے۔ یہ کہاں سے آیا خیر تو کھیل شروع ہو گیا ہے اور لگتا ہے یہ اندر باہر سرئیلسٹ ہوگا” (صفحہ نمبر ۱۶۳ ،حسن كی صورتحال )

سیفی: واہ چیف – یہ تم نے بہت پتے کی بات کی- آپے سے باہر ہونا جب حقیقت آپے سے باہر ہو جاتی ہے ریئل ازم (Realism)آپے سے باہر ہو جاتی ہے تو سرئیلسٹ ہو جاتی ہے ۔خطرہ بہت شدید ہے کہ سرئیلسٹ فلم بنانے والوں کی اپنی دنیا بھی آپے سے باہر نہ ہو جائے سکرین پلے آپے سے باہر ہو جائے “(صفحہ نمبر ۱۷۱ ،حسن كی صورتحال)

ناول نگار مابعد جدید عہد کے تقاضوں اور پاکستان کی موجودہ صورتحال سے بخوبی واقف ہوتے ہوئے ایسی تکنیک کا سہارا لیتا ہے اور عصری صورت حال کی عکاسی کرتے ہوئے تکنیک کا جواز بھی فراہم کرتا ہے ناول نگار نے ایک انٹرویو میں بتایا :
سریلزم کی بیس (Base)خواب پر ہے واہمہ پر ہے اور یہ فرائیڈ کے Dreams سے نکلا ہے یہ سریئلزم ایک ڈراؤنا خواب ہے بالکل۔ اور ہم، ہماری معاشرتی صورتحال ،ہم سب مسلسل ڈراونے خواب میں ہیں یہ آجکل جو بلاسٹ، بم دھماکے وغیرہ ہو رہے ہیں ہمیں واقعی سرئیلزم سوٹ کرتا ہے مشرقی معاشرے کے تمام حالات و واقعات ہم سب کے سامنے موجود ہیں”۔

مابعد جدیدیت ثقافتی نقطہ نظر کی حامل صورتحال ہے اور ہم مابعد جدیدیت كے عہد میں زنده ہیں اس نقطہ نظر كا فروغ ناول نگار كے مطابق انتہا پسندی كو ختم كرنے كا ذریعہ بن سكتا ہے مگر ناول میں موجود واقعات مقامی ثقافت كو ختم كرنے بلكہ جڑ سے اكھاڑ دینے والے دلخراش بیانیے كو جنم دیتے ہیں پولیس كے افراد مقامی تھیٹر والوں كے ساتھ جو سلوك روا ركھتے ہیں اس كابیان یوں ملتا ہے:
“یہ كنجر لوگ ہیں ان كاكام ہی یہ ہے بس عملہ ذرا شغل میلہ كر رہا ہے یك دم سےاپنی بات۔۔۔شغل میلہ۔۔۔میلہ ہی تو ہے شغل ادھرہے ۔۔۔ویسے میں تمہیں بتادوں تم فلموں والے ہو نا۔۔۔۔یہ سارے بدمعاشی كھاتے ،زانی دھندے،بس سال دو سال كی بات ہیں سب بند ہو جائیں گے وه سب بند كر دیں گے ۔۔۔كون؟ سیفی كے منہ سے بے ساختہ نكلتا ہے رانا حیرت سے ۔۔۔وه جنہیں نیكی بدی كا پتہ ہے جن كے ااندر حیا ہے غیرت ہے عالی جاه كہتے ہیں یہ سب پاك كرنا پڑے گا ۔۔اصل نعره تو یہ ہے ،پاك كرو صاف كرو ۔۔اور یہی كام تم اس وقت كر رہے ہو ۔۔۔سیفی اپنے اوپر قابو ركھنے میں ناكام رهتا ہے”(صفحہ نمبر ۴۳ حسن كی صورتحال)

ناول میں متعدد جگہوں پر عصری صورتحال کی عکاسی کرتے ہوئے ناول نگار نے پاکستان کو فرقہ واریت میں مبتلا ،بم دھماکوں میں گھرا ہوا ،خوف اور جبر کا شکار اور کلچر یا ثقافت سے گریز پا، ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا کردہ مسائل کا شکار اور توہمات میں گھرا ہوا پیش کیا۔ بہزاد ڈائریکٹر اور سعید کمال کا کردار ثقافت اور آرٹ کو فروغ دے کر انتہا پسندی کے تمام مسائل کو ختم کرنے کی جستجو کرتے نظر آتے ہیں:-

” بہزاد: لوک ثقافت میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن مسئلہ یہ ہے ہمارا ایک ہی سگنل پر کچھ بڑے نقش بنانے والوں کے لیے غلط ہو سکتا ہے اور کچھ کے لئے بہت صحیح۔۔۔۔۔۔
سر: کہ کلچر آرٹ موسیقی رقص فلم یہ سب خالی جگہیں ہمیں پُر کرنا ہوں گی ہمیں پُر کرنا ہوگی نہیں تو وہاں کچھ اور گھس جائے گا۔
آواز :ہاہاہا۔۔۔ ایکسیلنٹ۔۔۔ ان کے دماغ میں بات کو ڈال دو بلے۔۔۔۔ طریقے سے ۔
سر: لیکن دیکھ لیں سر ۔وہاں “روک دینے والے” “بند کر دینے والے “بھی ہوں گے ۔”۔(صفحہ نمبر ۳۰۲ حسن كی صورتحال۔۔۔۔)

بنیاد پرست رویوں میں گهرے ہوئے اور روشن خیالی کی بنیادوں کو تھامے ہوئے کردار بھی فلم میں موجود ہیں ۔فلم کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ناول نگار نے فلمی اصطلاحوں کو بھی مکالمہ کی صورت میں بخوبی برتا ہے اور ایک شوٹنگ كا مکمل انداز ناول میں موجود ہے ۔ناول میں شوٹنگ كی اصطلاحات كا ذكر یوں ملتا ہے:
“مڈ شاٹ: سعید كمال اپنے گھر میں –نچلے طبقے كے گھر كا باورچی خانہ ۔فرش پر دری بچھی ہے ۔سعید كمال۔۔۔
كٹ
كلوز شاٹ: ایك پیلے رنگ كی گھنٹی كی شكل كا پھول
جس پر سرخ دھبے ہیں zoom out پورا پودا سامنے آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
پین شاٹ: گلزار نرسری كا اندرونی منظر سامنے آتا ہے بلاشبہ ایك زبردست نرسری ہے پھول دار موسمی۔۔۔۔۔۔
ٹریكنگ شاٹ: ملازم كے POV سے آگے بڑھتے ہوئے ۔۔ٹیڑھے میڑھے رستے پر سے گزرتے ہویے كنول كے پھولوں كا ایك تالاب نظر آتا ہے (صفحہ نمبر ۱۵۹حسن كی صورتحال )

بلاشبہ تكنیكی اعتبار سے یہ ایك غیر معمولی ناول قرار دیا جا سكتا ہے۔ اردو ناول میں پہلی بار سکرپٹ رائٹنگ، سکرپٹ، سکرین پلے اور فلم كے دیگر لوازمات كو بطور تكنیك استعمال كیا گیا ہے ایك كامیاب فلم لكھنے والا بہت سے مناظر کے درمیان جن اصولوں كو مد نظر ركھتا ہے ناول نگار نے ان تمام چیزوں كو ملحوظ خاطر ركھتے ہوئے اردو ناول كی روایت سے ہٹ كر ایك منفرد اور كامیاب تجربہ كیا ہے۔ مگر اسی تجربے كی بنا پر وه ناول كی روایتی صنف كے ساتھ انصاف نہیں كر سكے۔

Categories
گفتگو

ناول کی صنف نثر کی وسیع تر ایکسپلوریشن کی دعوت دیتی ہے:مرزا اطہر بیگ

ٹرانسکرپشن: خضر حیات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال: عارف وقار کے ساتھ انٹرویو میں آپ نے بتایا تھا کہ آپ نے اس کائنات کی ٹوٹیلٹی(Totality) کو وٹگن سٹائن کے انداز میں تخلیقی سینتھیسس (Synthesis)کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی بھی تخلیقی اظہار کسی بھی امیجی نیشن(Imagination) یا ریالٹی (Reality)کا اظہار ہو سکتا ہے یا کیا وہ حقیقت کی نمائندگی مکمل طور پر کر سکتا ہے؟ خواہ وہ ناول ہو یا کچھ بھی ہو۔

مرزا اطہر بیگ: وہ ایک کوشش ہی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا یا اس سے یہ طے نہیں ہو جاتا کہ جی اس نے ریالٹی کو پورا Capture کر لیا ہے۔ یہ ایک Impulse ہے، ایک Inner Driveاور ایک Questہے جو چلتی رہتی ہے۔ اور یہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ تو جہاں تک اس میں یہ ریمارک ہے وہ پتہ نہیں عارف وقار نے کب لیا ہے۔ مجھے نہیں پتہ میں نے کب وٹگن سٹائن والی بات کی ہے کیونکہ وٹگن سٹائن مکمل طور پر ایک مختلف سلسلے کی بات کرتا ہے۔

سوال: میں جو سمجھا تھا وہ ایک سٹیٹ آف افیئیرز تھی اور وٹگن سٹائن بھی ایک موقع پر زبان کے حوالے سے سٹیٹ آف افئیرز کی بات تو کرتا ہی ہے کہ زبان سٹیٹ آف افئیرز کا ہی بیان ہے۔ تو اس حوالے سے جو آپ حسن کی صورت حال میں سٹیٹ آف افئیرز بیان کر رہے ہیں۔

مرزا اطہر بیگ: اچھا حسن کی صورت حال کے شروع میں سٹیٹ آف افئیرز کا جو سلسلہ آتا ہے آپ اس کی بات کر رہے ہیں۔ حسن کی صورت حال کا ترجمہ تو سٹیٹ آف افئیر ہو سکتا ہے مگر اس میں کئی سٹیٹس آف افئیرز ہیں اور ایک سطح پر اس کی اپروچ ایک فریگمنٹری ہے مگر بہرحال اس کا کوہیژن ٹوٹل بنتا ہے۔

سوال: ایک اصطلاح جو آپ کے کام کے حوالے سے استعمال ہوتی ہے وہ کومک رئیلزم (Comic Realism)کی ہے۔ میں نے دو تین جگہوں پہ دیکھا ہے کہ لوگ آپ کے کام کو کومک رئیلزم کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ آپ اس اصطلاح کو اپنے کام کے ساتھ کس حد تک جڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں؟

مرزا اطہر بیگ: چونکہ میجک رئیلزم ایک چل رہا ہے تو ہم نے سوچا کہ یہ بھی بنا دیتے ہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ کیونکہ Terms تو عموماً باہر سے بن کر آتی ہیں، ہمارا تو اس پہ کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہم سے توقع نہیں کی جاتی کہ ہم بنائیں گے۔ حالانکہ میں اپنے طلبہ پر زور دیتا رہتا ہوں کہ وہ نئے تصورات بنائیں چاہے وہ جتنے بھی عجیب لگیں۔ خیر یہ کومک رئیلزم کا سلسلہ کسی گفتگو میں اس طرح شروع ہوا کہ سمجھا یہ جاتا ہے کہ میری تحریر میں ہیومر کا ایک سلسلہ گہرائی کے ساتھ ساتھ چلتا نظر آتا ہے لیکن اس کا بنیادی مقصد مزاحیہ تحریر لکھنا نہیں ہوتا بلکہ سیچوئشن (Situation)سے یا بعض کرداروں کی گفتگو سے اس میں مزاح آ جاتا ہے تو اس سے یہ تصور بنا تھا کہ اسےکومک رئیلزم اس کو کہہ سکتے ہیں ۔ یعنی رئیلزم کی ایک سطح برقرار ہے لیکن ایک سچوئشن ایک ایسی وٹ یا ہیومر(Wit or Humor) کی ہے جو کہ ارادی طور پر (مزاح پیدا کرنے کے ) بنیادی مقصد کیلئے نہیں شامل کی گئی۔ تو اس لئے اسے کومک رئیلزم کہا گیا۔ اور ایسا نہیں کہ ساری کی ساری رائٹنگ پہ وہ چھایا ہوا ہے، درمیان میں کسی کسی جگہ کوئی ایسی بات ہوتی ہے کہ وہ شامل ہو جاتا ہے۔

سوال: میں نے آپ کے تینوں ناول آگے پیچھے ہی پڑھے ہیں ، اور میرا ذاتی امپریشن ی یہ ہے کہ تمام چیزیں تین سطحوں پر یا تین پرتوں میں موجود ہیں۔ ایک سطح چیزوں یا واقعات کی ترتیب کی ہے جو کرداروں کے ساتھ موجود ہیں۔ دوسری یہ ہے کہ ہمیں ناول میں موجود ایک مصنف یا لکھاری ان واقعات سے متاثر ہو کر ان واقعات سے متعلق اپنا ایک علیحدہ بیان دے رہا ہے جو کسی لگی لپٹی کے بغیر ہے خواہ وہ گھسیٹا کاری کی صورت میں ہو یا نیلے رجسٹر کی صورت میں اور سب سے اوپر تیسری سطح پر آپ ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں ۔چاہے وہ فکشن کا خدا ہو یا حیرت کی ادارت کرنے والا ۔۔۔۔تیسری سطح پر وہ ان چیزوں کو تشکیل دے رہا ہے۔ تو آپ اس تاثر کے ساتھ کس حد تک اتفاق کرتے ہیں؟

مرزا اطہر بیگ: ہاں میں بالکل اس سے اتفاق کرتا ہوں کیونکہ میری تمام رائٹنگ کی یہ ایک خصوصیت یا تخلیقی مسئلہ ہے کہ ریفلیکسی ویٹی(Reflexivity) یا ٹرننگ بیک آن دی پروسیس اٹ سیلف(Turning back on the process itself) یا جسے سیلف ریفرینشیالٹی(Self Referentiality) بھی بعض اوقات کہتے ہیں وہ ہمیشہ مجھے فیسی نیٹ کرتی ہے ۔ یہ غلام باغ میں بھی ہے، اس کا تناسب صفر سے ایک تک میں تھوڑا کم ہے اور حسن کی صورت حال میں کافی زیادہ ہے۔ تو جسے آپ رائٹنگ آن رائئنگ یا رائٹنگ اباؤٹ رائٹنگ کہیں گے تو یہ ایک خصوصیت ہے جو میری تمام تحریروں میں نظر آتی ہے۔ حتی کہ وہ اسّی صفحے کا افسانہ بے افسانہ ہو، اس میں بھی یہ سطح بہت explicitly آتی ہے۔ یہ ایک فارمل پرابلم ہے جس سے میں ڈیل کرتا ہوں ، چونکہ یہ چیز مجھے فیسی نیٹ کرتی ہے اس لیے جو تخلیق ہے وہ اپنی ہی ذات پر پلٹتی ہے اور اسے بھی سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس لحاظ سے اس کی کئی سٹرین بنتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ میں پراڈکٹ اور پروسیس کی تمیز کو میں ختم کر دیتا ہوں۔ کیونکہ فکشن میں جو چیز بن رہی ہے اور جس طرح سے بن رہی ہے یہ دونوں یکجا ہوتے نظر آتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ جو کہا جاتا ہے وہ اصل میں بہت سے متبادلات میں سے ایک ہوتا ہے جو کہ ہم لاتے ہیں اور باقی ‘ان کہا’ ہی رہ جاتا ہے۔ تو یہ بات بھی میرے ذہن میں آتی تھی کہ وہ جو ‘ان کہا’ ہے جسے ہم نہیں کہتے اس کو بھی کسی طرح بیانیے میں شامل کیا جائے۔ اگرچہ اس میں واضح پیراڈوکسیس(Paradoxes) ہیں۔

مطلب میری یہ بات تین سطح پر چلتی ہے ایک تو ورڈ پلے ہے، ایک کیریکٹر پلے ہے اور تیسرا واقعات کا پلے ہے۔ تو اس کے اسٹرکچر میں جب وہ پورا ڈویلپ ہو جاتا ہے تو یہ تین لیول کا پلے آتا ہے۔

سوال: حسن کی صورت حال میں آپ بار بار ایک تکنیک سے دوسری تکنیک میں شفٹ ہو رہے ہیں تو کیا اسے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ایک شخص، واقعے یا شے تک پہنچنے کیلئے کوئی ایک ہی راستہ یا کوئی ایک ہی بیانیہ کافی نہیں ہوتا، آپ کو بہت ساری سطحوں پر اس کو دیکھنا پڑے گا یا کہانی کو کئی کئی طرح سے دیکھنا ہوگا؟

جواب: نہیں ۔ یہ رائٹر کا چوائس ہے اور اس سے قطعاً یہ مراد نہیں ہے کہ جو طریقہ میں استعمال کر رہا ہوں وہ دوسروں سے کوئی افضل طریقہ ہے یا بہت اعلیٰ ہے۔ مجھے بس یہ اچھا لگ رہا ہے تو میں اسے استعمال کر رہا ہوں۔ جو لینئر پروز ہے یا ایک لائن میں چلنے والی کہانی کا طریقہ کار چلا آ رہا ہے یا کلاسیکل گراف جو ایک سٹوری لائن یا ایک ڈرامہ خاص طور پر ایک ڈرامائی صورتحال کا ہوتا ہے ، جس میں Conflicts آتے ہیں وہ ٹھیک ہے ،اگر کسی کو وہ اچھا لگ رہا ہے یا کوئی اس کو کر رہا ہے تو کریں۔ میں اس کو ایک اپنے طریقے سے بیان کر رہا ہوں۔ اس کے پیچھے شاید میرے ایک دو belief، خیر beliefتو نہیں کہنا چاہئے۔۔۔۔۔یعنی فکشن کے بارے میں میری جو انڈرسٹینڈنگ ہے اس کے مطابق ناول اصل میں ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ناول کا Genre دراصل خود ایک اوپن چیلنج ہے جو Proseکی وسیع تر ایکسپلوریشن کی دعوت دیتا ہے اور اس میں تم جو چاہو کر سکتے ہو۔ اب یہ مصنف پر ہے کہ وہ کس حد تک اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی نئی ممکنات کو ایکسپلور کرتا ہے. فکشن میں ناول کا Genre لکھنے والوں کے لیے ایک wonderful possibilityہے ۔ تو اس لحاظ سے میں نے اپنے طور پر کوشش کی ہے کہ میں جس حد تک بھی اس کے ساتھ جو کروں اور میری خوش نصیبی ہے کہ جتنے تھوڑے بہت پڑھنے والے مجھے مل گئے ہیں ورنہ یہاں کا سلسلہ ہے اس پہ تو بڑی(لے دے ہے)۔۔۔

اور خاص طور پر میرے ہم عمر یا سینئر لوگ ہیں ، وہ سب نہیں لیکن ان کی اکثریت میرا کام پسند نہیں کرتی ، وہ اس قسم کی تحریر Orient نہیں کر سکتے اور ان کے اس وقت بھی اور اب بھی بہت sever problems بن گئے ہیں، جن کا اظہار بھی ہوا۔ لیکن میرے زیادہ تر ریڈر چالیس سے نیچے نیچے ہی ہیں۔ باقی بزرگان جو ہیں ان کے جو فوسلائزڈ قسم کے مائنڈ اسٹرکچر بن گئے ہیں وہ نہیں ٹوٹتے۔ اور اس پہ مجھے تھوڑی حیرت بھی ہے کیونکہ ان میں بہت پڑھے لکھے لوگ بھی ہیں اور انہوں نے عالمی ادب کو بھی پڑھا ہوا ہے، کیوں کہ یہ کوئی ایسا انوکھا کام نہیں ہے کہ دنیا میں پہلی بار ہوا ہے۔ بے شمار یورپی زبانوں اور انگریزوں میں ایسے معاملات کئے گئے ہیں۔ اور جس میں نارمل فارم یا فارمیٹ کو توڑ پھوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ کبھی کچھ ہو رہا ہے اور کبھی کچھ ہو رہا ہے، یہ کوئی ایسا انوکھا نہیں تھا لیکن اردو میں جو لوگ اس کی مانٹیرنگ کرتے ہیں ان کیلئے اس میں کئی طرح کے مسائل تھے۔

سوال: ناول کی طرف آپ کی جو اپروچ ہے جسے آپ نے ایکسپلوریشن کہا ہے کہ ناول نگار ایکسپلور کر رہا ہے۔ اس کے مطلب تو یہ ہے کہ آپ نے ناول نگار کو بہت زیادہ اختیار دے دیا ہے، کہ ناول کے اندر دریافت کا یہ عمل وہ کہاں سے شروع کرنا چاہتا ہے، کہاں ختم کرنا چاہتا ہے اور کہاں تک جانا چاہتا ہے یہ سب کچھ اس کی مرضی پر ہے۔ مطلب ہم جو یہ سمجھتے تھے کہ کہانی اپنی جگہ ایک منطقی انجام تک پہنچے گی ایسا کوئی منطقی انجام نہیں ہے اور کسی قسم کا کوئی انجام ممکن نہیں ہے کیونکہ آپ جہاں تک پہنچ سکے تھے پہنچ گئے، آگے نہیں جا سکے۔

مرزا اطہر بیگ: وہ جو فقرہ اکثر Quoteکیا جاتا ہے نا کہ فکشن کے خالق کو خدا بننے کا اختیار کس نے دیا ہے تو خدا تو وہ بن گیا مگر اس کو اختیار کس نے دیا ہے یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ لیکن اس کو وہ پاور تو مل گئی ہے تو اسے مکمل طور پر ایکسپلائٹ کرے، تو پھر ایسا تو ہوگا ۔لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے، ابندی تو ہے اور یہ پابندی کے اندر ہی چلے گی کیونکہ کسی کونٹینٹ کے ایکسپریشن میں کوئی فارم تو آئے گی ۔ اس فارم کو اگر آپ توڑتے بھی ہیں تو اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ سرے سے کوئی فارم ہی نہیں رہی، دراصل آپ نے اسے کوئی اور فارم دے دی ہے۔ اسی سے پھر تخلیق کا عمل آگے چلتا ہے اور تحریر میں کسی نئے پن کا سلسلہ ٓئے گا ۔ تو جو بھی نئی فارم ہو گی اس کی کوئی انٹرنل لاجک بھی ہوگی اور ایک اسٹرکچر بھی ہوگا۔ شاک اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ جب مروجہ فارم ٹوٹتی ہے۔ اور اس کے بغیر کوئی آرٹ create نہیں ہوتا۔

جب آپ کوئی لینگوئج استعمال کرتے ہیں تو یہ ایک اور اہم بات ہے کہ لینگوئج خودDictateکرتی ہے کہ narrativeنے کس طرف جانا ہے . اس کے ساتھ اس کی جو higher creative dimensionہے وہ یہ ہے کہ ناول کی prose میں discovery ، لینگوئج کی discovery بھی ہے۔ تو فکشن کی جو سطح میں dream کرتا ہوں یا سوچتا ہوں وہ یہ ہے کہ ناول صرف فکشن ہی نہیں بلکہ کسی لینگوئج کی ڈویلپمنٹ میں بھی اپنا پارٹ پلے کرتا ہے ۔ وہ لینگوئج اور ورلڈ کے مابین تعلق پر بھی بات کرتا ہے جو کہ بذات خود فلسفیانہ تعلق ہے ، اور اس عمل میں یہ نئے سرے سے دریافت ہوتے ہیں۔ تو اس سطح پر میں سمجھتا ہوں کہ میں اس بات کو شیئر کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہNovel writing for me is a way of doing philosophy also.

میرے اوپر الزام تو لگتا ہی ہے کہ اس میں فلسفہ ہے اور یہ ہے وہ ہے۔۔۔ تو یہ ایک طریقہ ہے فلسفہ بیان کرنے کا۔ اور خاص طور پر ہماری غیر مغربی دنیا میں یہ طریقہ زیادہ ضروری بھی ہے اور زیادہ کامیاب بھی ہو سکتا ہے ۔اگرچہ اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی کیونکہ یہ چیزیں اور ناول کا فارم آیا تو وہیں(مغرب) سے ہی ہے ۔

سوال: زبان کا اصل کام عموماً کسی صورت حال کابیان ہے خواہ وہ خیالی ہے یا واقعاتی ہے یا حقیقی ہے۔ ہمارے ہاں جو زبان فکشن میں استعمال ہوتی ہے، خاص کر آپ کے علاوہ جو باقی لوگ لکھ رہے ہیں، جو زبان کی ایک روایتی صورت ہے اس کا رخ ماضی کی طرف ہے اور ہمیشہ وہ ایک خاص رجڈ شکل میں ہی اس کے استعمال کو سب درست سمجھتے ہیں۔ آپ اس پر کیا رائے دیں گے؟

مرزا اطہر بیگ: اردو میں؟

سوال: جی اردو میں۔ اور کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے ہاں سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر حالات کی ایک ایسی صورت حال موجود ہے جس کیلئے زبان کو مزید ڈویلپ کرنے کی ضرورت ہے؟ اور دوسری چیز کہ یہ کہ آپ کے ناول جن میں اس وقت ہم ریالٹی کو ایکسپلور کر رہے ہیں ، ان میں نجات دہندہ کا بھی ذکر ہے اور ہمارے ہاں کی جنسی تشنگیوں کا بھی ذکر ہے، یعنی ہمارے ہاں کی سماجی اور سیاسی زندگی کا تذکر موجود ہے، کیا آپ کے ناول زبان کی حد تک ان حالات کو بیان کر رہے ہیں؟

مرزا اطہر بیگ: دیکھیں جی میں سمجھتا ہوں کہ ناولسٹ جو ہے یا فکشن رائٹر جو ہے وہ ریفارمر نہیں ہوتا۔ اصلاح معاشرہ کا پروگرام دینا قطعاًاس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ وہ کسی بھی انسان کی طرح ایک سیچوئشن Situation میں ہے، وہ ایک سپیس ٹائم Space Timeمیں ہے، ایک لوکیلیٹی Localityمیں ہے، ایک Historical givenness اس کی ہے جس میں وہ اپنے آپ کو پاتا ہے۔ یہ ساری صورت حال اس کے اس پروسیس کا حصہ بنتی ہے۔ اگرچہ اس میں Theoretically کچھ ایسا نہیں ہے کہ اگر میں برازیل کے حالات کے متعلق ناول لکھنا چاہوں تو کوئی مجھے منع نہیں کرے گا مگر ظاہر ہے کہ میں اس کے lifeworld سے متعلق بہت ساری باتیں lack کر جاؤں گا، تو یہیں سے ہی بات اٹھتی ہے۔ لیکن یہ جو بات ہے کہ صورت حال الگ ہے اور زبان اس کو الگ سے بیان کرتی ہے یہ عین ایسا نہیں ہے۔ زبان ہی صورت حال کو پیدا کرتی ہے۔

Language itself creates reality.

یہ بات گہرائی میں فلسفیانہ سطح پر تو سمجھی جا سکتی ہے مگر عام سطح پر سمجھنی شاید مشکل ہو۔ بہرطور اس کو ہم اس طرح لکھ سکتے ہیں کہ ہر شخص کا زبان کے ساتھ ایک منفرد اور بڑا ہی مخصوص تعلق ہوتا ہے جو تقریباً اسی طرح کا یونیک ہے جیسا اس کا فنگر پرنٹ ہے ۔ اب وہ اگر بندہ ایک فکشن رائٹر ہے تو جب وہ اپنی صورت حال، ریالٹی ، تاریخ ، اپنے ہاں کے مسائل ، عذابوں، تکلیفوں ، نا انصافیوں اور سب کچھ کو ڈیل کرے گا یا انہیں Live کرے گا اور پھر اسے ایکسپریس کرے گا تو وہ اپنی خاص زبان اور الفاظ کے تعلق کے ذریعے ہی ایکسپریس کرے گا ۔تو اس طرح جو فکشن بنے گا وہUniquely a product of his personal relation with the world ہوگا۔ تو یہ بات تو ہر بندے کے لئے ہے۔ میں نے اس سیچوئشن کو ایسے پوری طرح بیان کرنے کی بجائے نام لیے بغیر اپنی Totality of situation کے اندر ڈالا ہے ۔ چنانچہ کبیر کا زبان کے ساتھ اور رائٹنگ کے ساتھ ایک مسلسل عذاب چل رہا ہے۔ اس کی کئی سطحیں ہیں وہ رجسٹر لکھتا ہے، Inter-subjective dialogueمیں لینگوئج بریک ہوتی ہے اور پھر بات وہ Intra-Subject میں بھی چلی جاتی ہے اور سیلف ٹو سیلف ریلیشن کی عجیب و غریب سطحیں دکھائی دیتی ہیں۔ کیونکہ انسانوں کے درمیان تعلق تو سارا لینگوئج کے ذریعے ہے ۔ تو ایک ایسی ناممکن صورت حال بھی آ جاتی ہے جس میں وہ ایک ہذیانی سیچوئشن میں چلے جاتے ہیں۔ تو یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو غلام باغ میں ہیں اور شاید کبھی ریڈر بھی ان کو نوٹ کریں۔

حسن کی صورت حال میں اس امر کی ایک اور سطح بھی آتی ہے۔ حسی ادراک یا پرسیپسشن جوحسن کے ذریعے چل رہا ہے جو دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ جس میں کوئی بھی چیز اسے اچانک حیرانی میں ڈال دیتی ہے۔ اس نقطہ آغاز سے لے کے جو ایونٹ پیدا ہوتا ہے وہ کیسے لینگوئج کے ساتھportray ہوتا ہے بلکہ Construct ہوتا ہے پھر اس میں آگے narrative کی بات بنتی ہے۔ تو بظاہر اس سارے تجریدی میکنزم کے باوجود بندے نے اپنے اوپر ایک پابندی لگائی ہوتی ہے کہ مجھے ایسا کرنا ہے تو یہ جو ایک so-called readabilityہوتی ہے اس کو میں ہمیشہ ذہن میں رکھتا ہوں۔ وہ اس لئے بھی کہ مجھے علم ہے کہ میرا جو پوراstuff ہے جس میں سے یہ اتنی ساری چیزیں آ رہی ہیں تو مجھے یہ خطرہ ہے کہ کہیں اتنا زیادہ پیچیدہ نہ ہو جائے کہ وہ بالکل کنیکٹ ہی نہ ہو۔ تو پھر جو سوکالڈ سٹوری ہوتی ہے اور اس میں ایکcasual cause effect relationship ہوتا ہے جو ریڈر کو آگے لے کر چلتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے تو اس میں آپ دراصل وجہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں کہ یہ ایسا ہوا ہے تو کیوں ہوا ہے۔ تو اس کی ایک لائن یا سٹرین کو میں قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور اسی وجہ سے لوگ میرا خیال ہے کہ پڑھ جاتے ہیں۔ یہ دراصل ایک چکر ہے جو کہ دے دیا جاتا ہے اور مجھے اس سے پیار ہے۔ کہ سٹوری کی ایک سوکالڈ پکڑ ہے جو involve رکھنے کیلئے دھوکہ دہی ہی تو ہے۔

اس کی اعلیٰ ترین شکل تو تھرلرز میں ملتی ہے۔ تھرلر رائٹنگ سے تو مجھے عشق ہے اور میرا قطعاً یہ اشرافی ویو نہیں ہے کہ یہ اعلیٰ ادب ہے اور یہ گھٹیا ادب ہے۔ جسے آپ جاسوسی ناول کہتے ہیں یا تھرلر۔ اس میں کوالٹی کی کمی بیشی تو ہو سکتی ہے مگر اچھی تھرلر رائٹنگ کے حوالے سے تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ کیسے کر لیتے ہیں، میں تو نہیں کر سکتا ایسے۔ لیکن تھرلر رائٹنگ سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے اور وہ ہر طرح کا فکشن لکھنے والا سیکھ سکتا ہے۔ جس طریقے سے وہ آپ کو ساتھ رکھتے ہیں، آپ کو انہوں نے سُولی پہ چڑھایا ہوتا ہے کہ اب کیا ہونے والا ہے تو یہ سب کچھ بہت کمال ہے۔ تو یہ اس کی ایک انتہائی مثال ہے کہ یہ سٹوری کی گرپ، حیرت، سسپنس اور تھرل اور سب کچھ یہ سارے اجزاء جب لٹریری فکشن میں آتے ہیں تو وہ تھوڑے سے زیادہ فنکاری سے استعمال کئے جا سکتے ہیں اور وہ استعمال کرنے بھی چاہئیں۔ یہ آپ کے ٹول ہیں اور بڑے بڑے رائٹر انہیں استعمال کر بھی رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جو اس پہلو سے بالکل بے خبر ہے۔ مثلاً یہ پامک کے ناول پڑھیں یا یہ جو ارجنٹائن والا لولاسا ہے یا پیروکش ہے حتی کہ گارسیا بھی اگرچہ وہ پرانا ہوگیا ہے تو یہ سارے لوگ اگرچہ بہت دائیں بائیں کرتے ہیں مگر پھر بھی کاژیلٹی کی ایک ایسی لائن چھوڑتے ہیں جس میں ریڈر بہرحال رہتا ہے۔ تو یہ جو فکشن مکمل طور پر لینئر ٹائپ کا ہے اس کے علاوہ بڑا کچھ ہے۔

میں ابھی حال ہی میں چلّی کے ایک مصنف ا لبرٹو بلانو کو پڑھ رہا تھا ‘دی سیویج ڈیٹیکٹیوز’ اس کا کافی بڑا ناول تھا اس میں کہیں بھی سیدھی نثر نہیں ہے بلکہ اس میں تیس چالیس کے قریب کردار ہیں جو آتے جاتے ہیں اور بالکل اپنی اپنی بات کرتے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اس کے اندر ایک سٹرین چل رہا ہے جو کہ باندھ کے رکھتا ہے۔ پھر یہ جو کتاب میں ابھی پڑھ رہا ہوں جمیکن ناول ہے ‘اے بریف ہسٹری آف سیون کلنگز’ تو اس میں بھی اسی طرح کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔ اس میں بھی جو ملٹی پل وائسز ہیں یا جو ملٹی پل کیریکٹرز ہیں وہ آتے رہتے ہیں اور کمال یہ ہے کہ اس نے ہر ایک کی زبان بھی اپنی دی ہے جو کہ بہت دلچسپ ہے اور بہت مشکل بھی۔ مثال کے طور پر اگر ایک گینگسٹر آیا ہے تو اس کی زبان بالکل وہی ہے جو گینگسٹر کی ہوتی ہے، اسی طرح یونیورسٹی پروفیسر بھی وہی زبان بول رہا ہے جو اس کی ہوتی ہے، اسی طرح وہ سارا چلتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ سارے تجربات تو ہو رہے ہیں دنیا میں اور میں نے جو کیا ہے وہ کوئی ایسا انوکھا تجربہ نہیں ہے۔

سوال: اس میں آپ کو کیا لگتا ہے کہ ابھی آپ نے کہا بھی کہ ریڈر شاید کبھی اس مقام پر پہنچ بھی جائیں کہ وہ ان سارے رشتوں کو ڈسکور کرنا شروع کر دیں جس پر آپ لکھ رہے ہیں تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کے تین ناول اور ایک افسانوں کے مجموعے کا ابلاغ قارئین کے حلقوں میں کس حد تک رہا ہے؟ اس میں ایک اور فرق بھی کیا جانا چاہئیے کہ ایک طرف تو وہ معانی ہیں اور وہ رشتہ ہے چیزوں کے درمیان جسے یا آپ نے توڑا ہے یا جوڑا ہے، پڑھنے والا اس میں کہاں کھڑا ہوتا ہے؟ وہ تو اس بات سے واقف نہیں ہے۔ ظاہر ہے وہ جب کتاب خریدتا ہے یا کھولتا ہے تو اس کو بالکل نہیں پتہ کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ تو اس کیلئے تو یہ ایک نئی چیز ہے، نئی دنیا ہے، ایک نئی ڈسکوری ہے۔ تو اس تک کس حد تک ابلاغ ہو سکے گا؟

مرزا اطہر بیگ: دیکھیں جیسا کہ ‘Reader Response Theory’ میں کہا جاتا ہے کہ ہر ریڈر جو ہے اصل میں کتاب کو ایک مرتبہ پھر خود لکھتا ہے۔ لکھتا ہے سے مراد یہ ہے کہ ریڈنگ بھی ایک طرح سے دوبارہ لکھنا ہی ہے۔ اور ہر ایکٹ آف ریڈنگ بھی نیا ہو سکتا ہے تو یہ ایک مستقل چلنے والا عمل ہے۔ کسی بھی لٹریری فکشن کی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی کوئی آئیڈیل یا The most appropriate understanding ہے یا The exact understanding ہے وہ ریڈر ٹو ریڈر ہمیشہ قاری کے اندر ایک نئی دنیا create کرتا ہے اور اس کو میں مزید اگر کہوں تو یہاں پر فرق تھوڑا مزید واضح ہوگا۔

جو تھرلر ہے اس کا شاید کوئیExact meaningیا ایک معنی ہو سکتا ہے مگر لٹریری فکشن کو یہی چیز ممتاز کرتی ہے کہ وہpolysemic ہوتا ہے جس کے اندر multiple meaningہوتے ہیں۔ تہہ در تہہ معنی چھپے ہوتے ہیں لہٰذا اس کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ مکمل ابلاغ ہو گیا ہے یا نہیں ہوا۔ وہ ہمیشہ ایک open possibility رہے گا اور اس میں سے ہمیشہ نئی سے نئی dimensionsآتی رہیں گیthrough various acts of reading and readers.

تو اس لئے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ابلاغ مکمل ہوتا ہے لیکن اس کے کچھ ایکسٹرنل پیرامیٹرز ہیں مثلاً اگر آپ کی کتابیں پڑھی جا رہی ہیں۔ اگر وہ امجد سلیم کے گودام میںdump نہیں ہوگئیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ چھپ رہی ہیں اور لوگ اس کا تقاضا کر رہے ہیں اور شاید اس میں ایسا کچھ ہے کہ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ تو اس میں مطلب جو رائٹر ہے اس کے پاس بھی کوئی ایسا کہنے کا ذریعہ نہیں ہوتا کہ وہ کہے کہ اس میں پچاس باتیں میں نے کہی ہیں اور یہ میری رائٹنگ میں سے ملیں گی تو ابلاغ مکمل ہوگا ورنہ یہ نہیں ہوگا، ایسا نہیں ہوتا۔ یہ ایک open processہے۔ اس لحاظ سے لوگوں کا ردعمل میری توقع سے بہتر ہے ۔ اور بعض صورتوں میں تو پڑھنے والے مجھے بھی حیرت میں ڈال دیتے ہیں جب وہ کسی بات کو گہرائی میں سمجھ جاتے ہیں اس لئے میں قاری کو ایسے underestimate نہیں کرتا۔ وہ بالکل بلکہ ایسی باتیں بھی بعض اوقات کہی گئیں کہ میں بھی حیران ہوگیا کہ یہ بات کس ڈائی مینشن میں سمجھی گئی ہے یا کی گئی ہے۔ میں اس لحاظ سے مطمئن ہوں، مجھے اپنی لکھائی میں ابلاغ کا کوئی ایسا مسئلہ نظر نہیں آتا۔ مسئلہ وہی ہے کہ جن لوگوں کی اپروچ ہی کلوز ہے اور وہ اپنے ہی بنائے ہوئے سانچوں میں چیزوں کو فٹ کرتے ہیں تو ان کا اپنا الگ مسئلہ ہے۔

سوال: آپ کے کریکٹرز خاص طور پر بے افسانہ کے کردار کسی ایک ہی واقعہ کے بہت زیادہ زیراثر نظر آتے ہیں، کوئی ایک ایسی بات ہے جس کے وہ ہر وقت زیر اثر رہتے ہیں۔ کیا کوئی ایک واقعہ کسی ایک کردار کو یا ایک شخص کو اس طرح متاثر کر سکتا ہے کہ وہ پوری کہانی کا محور بن جائے؟

مرزا اطہر بیگ: بالکل بن سکتا ہے۔ بلکہ شارٹ سٹوری میں یہ بات بہت ہی نمایاں ہوتی ہے کیونکہ اس میں سپیس ٹائم آپ کا محدود ہے۔ ناول میں تو آپ کے پاس اوپن فیلڈ ہے، یہ تو میراتھون ریس ہے ایک طرح کی لیکن افسانہ ایک سو میٹر ڈیش ہے جس میں آپ نے بس وہاں پہنچ جانا ہے، زندگی کا ایک چھوٹا سلائس کہا جاتا ہے اور اس میں ظاہر ہے کہ جو بھی بات ہوگی وہ اپنے اختصار کے تقاضوں کے حوالے سے یہ مطالبہ کرے گی کہ وہ شدید طور پرfocused ہوگی چاہے وہ کسی کردار پر ہو یا کردار کی کسی ذاتی داخلی کیفیت سے متعلق ہو سکتی ہے یا دنیا میں اس کے ساتھ ہونے والے کسی واقعے سے متعلق ہو سکتی ہے۔ تو میرا خیال ہے یہ بات آپ نے اچھی کہی ہے۔ یہی میں کہہ رہا تھا کہ کبھی کبھار پڑھنے والے مجھے حیران کر دیتے ہیں۔ اس میں واقعی کسی ایک ہی واقعے کے زیراثر رہتے ہیں۔ مثلاً مورا ہے اس میں ایک واقعہ ہے، دیوار کا تھئیٹر میں بھی ایک واقعہ ہے، مسکرانے والا کردار ہے تو ان کے ساتھ ایک واقعہ ہے تو یہ بات ٹھیک کہی آپ نے۔ لیکن اس میں چند افسانے کسی اور طرح کے بھی ہیں مثلاً اس میں وہ تجرباتی قسم کا افسانہ تھا ٹام اور جیری والا۔ وہ ایسے لکھا تھا جیسے ایک ریسرچ پیپر لکھتے ہیں۔

سوال: بہت ساری سطحوں پہ ہمیں یہ لگتا ہے کہ شاید ایسی سیاسی و سماجی تحریک یا ایسا طبقہ موجود نہیں ہے جو آپ کی تحریر کوسمجھنے اور پڑھنے کیلئے ضروری ہے تو آپ اس تاثر سے کتنا اتفاق کرتے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: یہ سوال تھوڑا مبہم ہے، اس کو ذرا واضح کریں۔

سوال: یعنی ایک طرف ہم دیکھ رہے ہیں جیسے سائبرسپیش کا منشی ہے وہ بھی ذات پات کے ایک ایسے نظام میں جکڑا ہوا ہے جو کہ سماجی سطح پر بہت زیادہ مضبوط ہے لیکن ایک خاص سطح پہ جہاں وہ سائبر سپیس میں موجود ہے وہاں پہ اس قسم کا نظام ختم ہو جاتا ہے اور وہ موجود نہیں رہتا۔ حسن کی صورت حال میں بھی ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ کچھ خاص طرح کے واقعات ہو رہے ہیں جو ہماری ایٹیز کی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مرزا اطہر بیگ: ایٹیز سے لیکر آج تک کی تاریخ کی طرف؟

سوال: تو اس وقت جہاں آپ تخلیق کر رہے ہیں اور ادب لکھ رہے ہیں اور پڑھا جا رہا ہے تو اس وقت ہمارے معاشرے میں ان واقعات سے متاثرہ کوئی اس قسم کی بحث یا اس قسم کی تحریک موجود نہیں ہے تو ایسے میں (اس کا کس حد تک اثر ہوگا) ؟
مرزا اطہر بیگ: تحریک کا ہونا تو کوئی ضروری نہیں ہے۔ لفظ تحریک سے مراد کیا ہے وہ تو ہر بندہ ہی یہاں تحریکیں چلا رہا ہے۔ عمران خان سے لے کر ہر کوئی ہی تحریک چلا رہا ہے تو تحریک ایک بڑا لفظ ہے، موومنٹ ایک اور طرح کی چیز ہوتی ہے ۔ ایک کرنٹس آف تھاٹس ہوتی ہیں لیکن اس کو کوئی ایک بہت بڑے کینوس پہ تحریک کا نام دینا متعلق اور موزوں نہیں ہے۔ مثلاً اسی پہلو پہ آپ دیکھیں تو لینگوئج اور فارم اور ان سب مسائل کے باوجود حسن کی صورت حال میں میں نے جان بوجھ کر ایٹیز سے شروع کرکے آج تک کے سارے بڑے واقعات اور مسلم ورلڈ اور مسلم تہذیب اور اس کے ساتھ تعلق اور ان کا نالج کی دنیا کے حوالے سے جو کولیپس ہے وہ سب کچھ اور پھر یہ دہشت گردی کا سوال اور یہ سب کچھ، یہ سارا اس بیانئے کے اندر بھرا ہوا ہے۔ مطلب اس بیانئے کے اندر وہ سب چیزیں موجود ہیں۔ تو یہ شاید اجمل صاحب نے بھی کہیں کہا تھا کہ وہ ساری تاریخ اس میں آ جاتی ہے جو ہماری حالیہ تاریخ ہے۔ اب اس میں فرق یہ ہے کہ غلام باغ بہت زیادہ پیچھے تک چلا جاتا ہے اور حسن کی صورت حال یہیں تک ہے۔ ایک تکنیک کے طور پر وہ جو کباڑخانے کا سین ہے اس میں جو ڈائجسٹ رسالے ہیں میرا یہ ذہنی فیصلہ تھا کہ مجھے باقاعدہ کوئی تاریخ دے دینی چاہئیے تاکہ باقاعدہ نوٹس ہو جائے لہٰذا جب وہ ریڈر ڈائجسٹ جب وہ خرید رہا ہے تو وہاں پر یہ ذکر ہو جاتا ہے کہ یہ ایٹیز کے رسالے ہیں تو یہ اس کے مکالمے میں اسٹیبلش ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ایٹیز سے ہی یہ سارا سلسلہ چلا ہے ہماری جو مخصوص مقام ہے اس کو گلوبلی اور وہیں سے ہے۔ تو یہ ساری صورت حال اس کے اندر شامل ہے۔ اس میں پھر جو فلم کی تکنیک استعمال کی تھی اور پھر جو فلم کا سکرپٹ اس میں بنا ہے اور پھر وہی بات جو آپ نے کہی کہ کومک رئیلزم کا سارا سلسلہ بھی اس میں آتا ہے۔ تو یہ سارا کچھ اس میں ہے۔

فکشن رائٹر کا یہ کام نہیں ہے یا میں نہیں سمجھتا کہ وہ کوئی سماجی تھیوریز دے یا وہ کوئی ایسے فیصلے دے یا ججمنٹس پاس کرے یا وہ کوئی آگے کی راہ دکھانے کیلئے ہدایت نامہ قسم کی چیز دے، یہ نہیں ہوتا۔ میرے ذاتی خیال کے مطابق۔ فکشن رائٹر ایک لوڈ رئیلٹی جو جیسی بھی وہ دیکھتا ہے، حقیقی، مسخ شدہ، سرئیلسٹک اور کسی بھی طرح کی رئیلٹی کو فکشن کی ایک فارم میں تخلیق کرتا اور منتقل کرتا ہے۔ اب اس میں سے ریڈر اپنے طور پر کسی بھی نتیجے پر پہنچے یعنی ڈیپ ڈائون اس میں ایک کمنٹ بھی موجود ہوتا ہے، رائٹر کا ورلڈ ویو اور اس کے نزدیک جیسے چیزوں کو ہونا چاہئیے اور جیسے نہیں ہونا چاہئیے وہ بھی ہوتا ہے اور یہ اس میں بھی ہے حسن کی صورت حال میں لیکن وہ کسی نعرے کی شکل میں یا کسی بڑے انکشاف کی شکل میں یا کسی ایسی شکل میں کہ جس سے ایک تحریک چل پڑے ایسے نہیں ہوتا۔ یہ بات جو کہی گئی ہے یہ شاید اس وقت مثلاً جب اس طرح کی تحریکیں جیسا کہ ترقی پسند تحریک ہے یا جس دور میں مارکسزم اور وجودیت کے بلینڈ کی ایک صورت تھی تو اس طرح کے جب بڑے پیٹرن موجود تھے تو اس کے زیراثر لکھنے والے یہ کام کرتے تھے کہ انہیں پتہ تھا کہ جب میں یہ لکھوں گا تو یہ والا طبقہ اس تک پہنچے گا اور اس کی بہت تعریف کرے گا۔ تو اس وقت تو اس طرح کی کوئی چیز گلوبلی ہی نہیں ہے اور اب اس صورت حال کو پھر ایک اور نام دے دیا جاتا ہے پوسٹ ماڈرن ازم کا۔ پوسٹ ماڈرن ازم کا لیبل جو ہے وہ مجھے تو پسند نہیں ہے وہ اس لئے کہ پوسٹ ماڈرن ازم کی شکل یا اس کا آغاز یا اس کا پس منظر وہ ساری ویسٹرن ورلڈ کی ٹریجیکٹری اس کے اندر موجود ہے اور وہاں تو اس کا برآمد ہونا ایک لمبے عمل کے بعد سمجھ میں آتا ہے۔ یہ جب مطلب بیسویں صدی کے بعد کا زمانہ ہے اس میں جب نئی ٹیکنالوجیز اور سوویت یونین کا فال تو اس کے نتیجے میں بلکہ اس سے پہلے ہی جو نئی صورت حال تھی اس کو سمجھنے کیلئے، یہ ایک بڑی دلچسپ بات ہے کہ کسی گورنمنٹ نے کسی فلسفی کو باقاعدہ اس کام پر متعین کیا کہ وہ اسے سمجھے اور بتائے کہ یہ کیا پروسیس ہے۔ تو وہ ایک فرنچ فلسفی تھا لیوٹار کو کینیڈا کی حکومت نے اس پر متعین کیا کہ تم اس پہ کچھ لکھو جو کچھ ہو رہا ہے تو اس نے کتاب لکھی ‘پوسٹ ماڈرن کنڈیشن’ جو ایک طرح سے ایک بنیادی کتاب ہے پوسٹ ماڈرن ازم کی تو یہ وہاں پر تو سمجھ میں آ جاتی ہے بات مگر جب ہم یہاں اٹھا کے کسی بھی چیز کو پوسٹ ماڈرن کہہ دیتے ہیں تو عجیب لگتا ہے کہ پتہ نہیں ہم ماڈرن بھی ہیں کہ نہیں۔ شاید ابھی پری ماڈرن ہیں۔ تو موڈرنٹی اپنے آپ کو مختلف جگہوں پہ ری ڈیفائن کرتی ہے۔ ویسٹرن موڈرنٹی اگر جاپان میں ہے تو اس کی اور شکل ہے اور اگر وہ عرب ورلڈ میں ہے تو اس کی اور شکل ہے۔ تو ہر کلچرل لوکیشن میں موڈرنٹی کی اپنی ایک شکل ہوتی ہے۔ یہاں پر اس کی بہت ہی خوفناک شکل ہے۔ مطلب یہ ہند مسلم ورلڈ میں مسلمان ہیں یا مسلم ورلڈ ہے، برصغیر کے اندر بھی انہوں نے ویسٹرن موڈرنٹی کے ساتھ کس طرح اپنا معاملہ کیا یہ اب کیا کہیں ایک بہت ہی عجیب سلسلہ ہے۔ تو اس کو پوسٹ ماڈرن کہنا تو درست نہیں ہوگا۔ میں نے تو یہ کہا تھا کہ یہاں پر اگر کوئی پوسٹ ماڈرن صورت حال ہے تو وہ حسن کی صورت حال ہے بذات خود۔
This is what it is.

سوال: اس طرح آپ بورخیس کے بہت زیادہ نزدیک نہیں ہو جاتے؟ اس کے ہاں بھی بہت سی جگہوں پہ فرضی مصنف بھی نظر آتے ہیں، بھول بھلیوں کا معاملہ بھی آتا ہے اور وہ بھی آپ کی طرح سے کسی بھی قسم کی اصلاحی اور تبلیغی تحریک کا مبلغ نہیں بنتا۔
مرزا اطہر بیگ: یہ تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ مجھے جو بڑے بڑے متاثر کرنے والے کردار ہیں ان میں بورخیس بھی ہے۔ اس کی وہ جو ایک پیراڈاکسی کل ورلڈ ہے جس میں لبرنتھس، اور مررز اور امیجنری رائٹنگ اور وہ سارا۔ لیکن اس میں اگر آپ دیکھیں تو اس کی کہانیوں میں یہ سوشیو پولیٹیکل اسپیکٹ سرے سے ہی نہیں ہے۔ وہ بڑی ایبسٹریکٹ قسم کی فکشن ہے جو کہ کمال ہے۔ تو اس کا اثر میرے اوپر ہے۔ تو یہ بورخیس کا اثر ہوسکتا ہے مطلب یہ ارادی طور پر تو نہیں ہوتا لیکن وہ ہے۔ لیکن میری تحریر میں ہماری سماجی، تاریخی، داخلی اور خارجی صورت حال نمایاں اور واضح ہے اور اس کی نشاندہی کر دی گئی ہے لیکن ان میں وہ ہائی ڈگری ایبسٹریکشن نہیں ہے جو بورخیس کے ہاں پایا جاتا ہے وہ خالص طور پر ایک فارمالسٹ ہے لیکن میری تحریر میں تو کونٹینٹ موجود ہیں اور واضح طور پر موجود ہیں۔ ویسے میرے اوپر جو دوسرا اثر ہے وہ ایڈگر ایلن پو کا ہے۔ پو کی ساری نثر مجھے بے حد متاثر کرتی رہی ہے، اس کے افسانے سارے۔

سوال: ابھی آپ نے کہا کہ موڈرنٹی جہاں بھی ہوں گی وہ اپنے ایک مختلف رنگ میں ہوگی تو اس سے کیا ہم یہ طے کر رہے ہیں کہ کوئی ایک ایسی خاص سیچوئشن ہے جسے
ماڈرن کہا جاتا ہے، وہ ماڈرن ہے اور اسے قرار دیا جا سکتا ہے اور پھر اس کو کہیں اپنایا جاتا ہے؟ فکشن کے علاوہ حقیقی دنیا میں بھی کیا کوئی خاص صورت حال ہے جو ماڈرن کہلائے گی اور پھر اس کو مختلف جگہوں پر لوگ اپنائیں گے؟

مرزا اطہر بیگ: موڈرنٹی کا پس منظر اور اس کا پیش منظر تو مغربی دنیا میں آتا ہے کہ سب سولہویں صدی میں ہم دیکھتے ہیں کہ قرونِ وسطیٰ والی سوچ تھی جو ڈی ڈکٹیو ماڈل تھی یا اتھاری ٹیرین تھی اور وہ ساری مذہبی تھی۔ اس میں جتنی سوچ تھی وہ ساری بائبل، یونانی فلسفے اور مدرسیت پر مبنی تھی۔ تو اس کے بعد سولہویں صدی کے بعد نشاۃ ثانیہ ہوا اور پھر سائنس کے عروج کے بعد استخراجی کے بعد استقرائی سوچ پیدا ہوئی جو کہ ایک بہت بڑی چیز تھی جس نے موڈرنٹی کی سپرٹ کو پیدا کیا اور اس نے ویسٹرن آدمی کے اندر انفرادیت پسندی کی سٹرین کو بہت مضبوط کیا اور مغربی انسان اس بات پر حوصلے میں آیا کہ میں اکیلے ہی دنیا کو تسخیر کر سکتا ہوں اور مجھے کسی اتھارٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ یہ کوئی اتنا آسان نہیں تھا اور اس ذہنی حالت سے نکلنے میں بھی صدیاں لگ گئیں۔ لیکن یہ جو موڈرنی کا ایک سلسلہ وہاں پر شروع ہوا جس میں یہ یقین پیدا ہوا کہ دنیا کو جانا جا سکتا ہے اور انسان اپنے ذہنی قویٰ کو استعمال کرکے اس کو ڈھونڈ سکتا ہے یہ موڈرنٹی کی سپرٹ ہے۔

اور پھر اٹھارہویں صدی میں یہی تحریک روشن خیالی میں بدل گئی اور روشن خیالی کی تحریک نے اس کو میچور کیا۔ لیکن اس کے بعد کی کہانی سارے جانتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے کونونیل پاور بن کے دنیا پر حکومت کی اور وہ سب عروج جو کہ ویسٹ نے پچھلی کچھ صدیوں کے دوران حاصل کیا۔ باقی تمام انسانی تجربات اس میں اپنی اپنی جگہ پاتے ہیں۔ اس لحاظ سے جو ابتدائی دور ہے سولہویں، سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں فلسفہ نے یہ کردار ادا کیا کہ اس نے مذہب اور سائنس کو ٹکرائو سے بچایا اور دونوں کے درمیان ایک بفر زون بنایا جو کہ دونوں طرف کے جھٹکوں کو برداشت اور جذب کرتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ اچھا ثابت ہوا۔ مثلاً ثقافتی طور پر آج بھی عیسائیت مغرب کے اندر موجود ہے ایسا نہیں کہ ختم ہوگئی۔ لیکن وہ اس طرح عقل سے یا سائنس سے یا جدیدیت سے ایک ٹکرائو کی صورت میں موجود نہیں ہے۔ تو یہ سارا بیانیہ جو ہے اسے ہم ماڈرنٹی کہتے ہیں۔ اب موڈرنٹی کی یہ تو سٹین ہے وہ حقیقی طور پر تو کولونیل پروسیس کے ذریعے برصغیر میں آئی اور اسی طرح دوسری دنیا میں۔ اب وہاں پر اس کا کوئی سیدھا سیدھا پروٹوکول نہیں ہے، اس کے پیچھے سب سے بڑا مانترہ ترقی کا ہی ہے اور ترقی کرنے سے کوئی بھی انکار نہیں کرے گا خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ مغرب ہو یا نہایت ہی کوئی دقیانوسی ملک ہو، ترقی پہ تو سرے سے کوئی اختلاف ہے ہی نہیں۔ تو اس نام نہاد ترقی کے سیدھے سیدھے کچھ طریقے ہیں جو اسی موڈرنٹی کی سٹرین سے آتے ہیں۔ لیکن آپ کا سارا سوشیو کلچرل ہسٹوریکل سارا مائنڈ سیٹ ہے وہ کس طرح ایسا پروسیس پیدا کرے گا کہ آپ موڈرنٹی کے اس تصور کو اپنے حالات کے مطابق بدل لیں۔ تو اس پہ بے شمار سادہ قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ کنفیوژ کر دیتے ہیں سائنس کو ٹیکنالوجی سے حالانکہ ٹیکنالوجی تو سائنس کی ایک آئوٹ پٹ ہے، پروڈکٹ ہے اور سائنس بذات خود ایک ورلڈ ویو ہے۔ اس ورلڈ ویو کو بنائے، اپنائے اور کلچر کئے بغیر آپ کس قسم کی ترقی چاہتے ہیں۔ یہ اسی قسم کی ہوگی کہ آپ وہاں سے چیزیں منگوائیں، امپورٹ کریں تو یہ اصل میں ایک بہت بڑے مینٹل کے اوس کی شکل ہے اور کچھ جو اچھے ماڈل ہیں جنہوں نے اپنے کلچر اور اپنی کلچرل فیلنگ اور کلچرل صورت حال کو ساتھ رکھتے ہوئے ویسٹرن موڈرنٹی کو اختیار کیا ہے اور یہ حسن کی صورت حال میں بھی ہے۔ وہ پروفیسر کا یہی کرائسس ہے وہ جو جاپان کی مثال دیتا ہے اور وہ پھر اسلام کی نشاۃِ ثانیہ والا جو اس کا تھیسز گم ہوگیا ہے تو وہ سارا اسی بات پر ہی لکھا گیا ہے، اسی ترقی اور جدیدیت کے سلسلے پر۔ اصل میں گلِچ جو ہے وہ ڈیپر لیول پر موجود ہے اور وہ اتنی آسانی سے حل نہیں ہو سکتی۔ کچھ چیزیں ہیں جو ساتھ ساتھ ترقی نہیں کر سکتیں، وجود تو شاید قائم رکھ لیں ساکن حالت میں چنانچہ تخلیقی سطح پر جب تک آپ کا خیال دنیا کے ساتھ کچھ مختلف تعلق نہیں بنائے گا تو اس وقت تک آپ بھول جائیں کہ کسی بھی حالت میں وہ جو سیکشن آف ہیومینٹی ہے وہ کوئی حقیقی ترقی کرے جو اس کی ڈیجی نس ہو۔ تو اس میں جو ‘ان ڈیجی نس’ کا تصور ہے یہ اہم ہے۔ جب تک آپ اپنی زمین میں سے، مٹی میں سے۔۔۔ دیکھیں نا اگر آپ کسی پودے کو کسی دوسری جگہ پر لگاتے ہیں تو اگر تو اس کی مٹی اور آب و ہوا اتنی ایلئین یا اجنبی ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی طرح نہیں چلتی تو وہ مر جائے گا لیکن آپ کوئی ایسی شکل بنا لیتے ہیں کہ اس کی کوئی پرورش یا خوراک کو مقامی نوعیت کا رنگ دیتے ہیں تو بہرحال اس کی پرورش اسی شکل میں ہوگی کہ اگر وہیں سے کسی طرح آپ اس کے اندر تخلیقی عمل کو شروع کر سکیں۔ تو ہماری ساری تعلیم کی اپروچ ہی غیر تخلیقی ہے۔ نقل والی اپروچ (امی ٹیٹو) جس کے نتیجے میں طوطے اور بندر پیدا ہوتے ہیں اور کچھ پیدا نہیں ہوتا۔
This is what it is.
تو یہ بات ہم کر رہے تھے تو یہ حسن کی صورت حال کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔ تو اگر یہ کہا جائے کہ یہ کسی سماجی صورت حال کا ذکر ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا سماجی صورت حال ہوگی۔ گہرائی والا مسئلہ تو یہ ہے۔

سوال: جدیدیت کے اندر بھی ہمیں ایک رجحان نظر آتا ہے کہ ہمیں حقیقت کا ادراک ہونا چاہئیے اور جیسا کہ ابھی آپ نے کہا کہ ایک فرد نے فیصلہ کیا کہ میں واقعی ایسا کر سکتا ہوں تو آپ کے خیال میں واقعی یہ ممکن بھی ہے کہ ہم حقیقت کے بارے میں ایسی کوئی حتمی رائے یا حتمی سے قریب ترین رائے قائم کر سکیں گے یا اس کا علم ممکن ہے؟ یہ خاصا وسیع سوال ہے جس کا سکوپ کافی بڑھ جاتا ہے۔

مرزا اطہر بیگ: اگر تو اس سوال کو آپ خالصتاً فلسفیانہ سطح پر لیں تو پھر ظاہر ہے کہ اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کبھی بھی آپ کہہ سکیں کہ یہ حقیقت ہے اور یہ سارا سلسلہ ہے اور وہ ایک طرح کے گول اور کوئسٹ کی سطح پر ہے لیکن حقیقت کے بارے میں کوئی ایک نظریہ تو ہے نہیں، کئی ہیں۔ سائنس کا یہ ضرور طریقہ ہے کہ اس میں ایک ورکنگ تھیوری آف رئیلٹی موجود ہے مثلاً اس میں ہم اپنے حواس پر اعتماد کرتے ہیں، اس کے ثبوت اور گواہی پر۔ پھر اپنا منطقی سوچ کے عمل کو بھی ہم اس قابل سمجھتے ہیں کہ اس کا تجزیہ کرکے دنیا کے بارے میں بتائے۔ اس کے نتیجے میں بعض اوقات یہ ہوتا رہتا ہے کہ کچھ جو بہت بڑے بڑے سائنس دان بھی ہیں وہ اس واہمے کا شکار ہو جاتے ہیں کہ بس جو کچھ جاننا تھا وہ پتہ چل گیا ہے۔ حتی کہ سٹیفن ہاکنگ نے بھی ایک بار اعلان کیا تھا کہ Whatever has to be known is almost known, whatever.پھر اس کے بعد وہ کوئی شرط ہار گیا یا جو بھی ہوا۔ اسی طرح فلسفے پر بھی حملے کرتے رہتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ماہر ماحولیات ٹائی سن نے کہا تھا کہ فلسفے کا کاروبار بند ہونا چاہئیے، ہم سائنسدان یہ سب کچھ کر لیں گے اس لئے فلسفے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر مسئلہ یہ ہے کہ سائنس بھی جب اپنی ایڈوانس سطح پر جاتی ہے مثلاً جب آپ کائنات کے آغاز سے متعلق سوال کرتے ہیں، یا تخلیق کے بارے میں یا زندگی کے بارے میں یہ سارے جب آپ کرتے ہیں تو یہ ہائیلی فلوسوفیکل ہو جاتے ہیں۔ تو اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ دو طرح کے رویئے سامنے آتے ہیں۔ ایک تو اس قسم کے لوگ ہیں جن کو کسی ہارڈکور قسم کے تیقن کی ضرورت ہوتی ہے کہ جی بس پکا یقین جسے کہتے ہیں، ان کے لئے پھر اس طرح آسانی رہتی ہے اور وہ مزے میں رہتے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو کہ سچ کی گنجائش چھوڑتے ہیں اور اس کی انتہائی شکل پھر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہر چیز میں ہی شک آ جاتا ہے۔ یہ معاملہ پھر جو لوگ فلسفے کی طرف جاتے ہیں اس میں آتا ہے۔ اب یہ دونوں سٹرینز، ایک بالکل پکا تیقن اور دوسری بالکل شک و شبہ، یہ دونوں مختلف قسم کی دیوانگی کی سطحیں ہیں۔ انسان ہونا اس کے درمیان کہیں ہوتا ہے۔

It is human to be in doubt.

جب آپ شک کا عنصر بالکل نکال دیتے ہیں تو پتہ نہیں آپ پتھر بن جاتے ہیں یا کیا بن جاتے ہیں۔ اس لئے ریالٹی پر اتنا بہت زیادہ اصرار نہیں ہونا چاہئیے۔ لیکن ایک ڈے ٹو ڈے کامن سینس لونگ کیلئے جو کہ چل رہی ہے ایک ورکنگ ریالٹی کا تصور ہے جو چل رہا ہے اور اسی میں ہم رہتے ہیں۔ اس میں بھی مسئلے اس لیول پر پیدا ہوتے ہیں جب ہم بہت گہرائی میں جانے لگتے ہیں۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کیونکہ اسی کے نتیجے میں پھر آپ کو علم اور آگہی کی نئی سطحیں میسر آتی ہیں۔ تو اب یہ سب کچھ فکشن کے اندر آنا چاہئیے۔ حتیٰ کہ مثلاً میں یہ سن رہا تھا اور میں اس کا انتظار کر رہا تھا ایک شارٹ سٹوری تھی پتہ نہیں کس کی، اب اس پر ایک فلم آ رہی ہے ‘ارائیول’ یہ ابھی آنی ہے، یہ سائنس فکشن ہے۔ اس میں مجھے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس نے لینگوئج کا سٹرکچر ہے اور لینگوئچ کی کمیونیکیشن ہے، اس میں ایلین لینگوئج جو کہ ایک اور ہی طرح کی دنیا بناتی ہے اس کو فلم کا موضوع بنایا ہے جو کہ یقیناً حیرت انگیز ہوگی۔ تو یہ اتنا تجریدی موضوع فکشن میں اور پھر فلم میں آ سکتا ہے۔ ہمارے ہاں اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ اردو میں، یہ ایک عجیب بات ہے کہ یہاں کے لوگ انگریزی چیزیں پڑھتے ہیں یا وہ چیزیں جو انگریزی کے ذریعے سے آتی ہیں تو وہاں پر مثلاً لاطینی امریکہ کے مصنف ہوب سکوچ کی تحریر تو پڑھ لیں گے اور اس پہ بات بھی کر لیں گے، وہ تو ان کو قبول ہوگا۔ اس ناول میں تو ایک اور بھی عجیب چیز ہے کہ ہر باب جب ختم ہوتا ہے تو اس کے بعد لکھا ہوتا ہے کہ اب ناول کو فلاں صفحے سے شروع کریں، وہاں پڑھیں گے تو اس کے اختتام پر کسی اور صفحے پر جانے کا کہا جائے گا تو وہ سارا ناول اسی طرح چلتا ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جو یہ ساری چیزیں پڑھتے ہیں اور جس وقت وہ اردو کی طرف آتے ہیں تو ان کا مائنڈ سیٹ ہی بدل جاتا ہے۔ وہ اردو کو اوپن کرنا ہی نہیں چاہتے۔ باقی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری جو مقامی زبانیں ہیں، صرف اردو ہی نہیں پنجابی بھی ان میں اتنا پوٹینشل موجود ہے کہ آپ دنیا کی کسی بھی موضوع، کسی بھی سیچوئشن اور کسی بھی فارم آف فکشنالیٹی کو اس میں لا سکتے ہیں۔ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت محدود زبانیں ہیں، اس کو میں تسلیم نہیں کرتا۔ اصل میں تو یہی کوشش ہونی چاہئیے کہ آپ ان کو اوپن کریں۔ ان کے اندر کے پوٹینشل کو جب تک آپ نے اس کے اوپر جکڑ بند لگائے ہوئے ہیں جس میں آپ اس کو دو سو سال پیچھے لے کے جانا چاہتے ہیں تو جب تک آپ اس کو چھوڑیں گے نہیں تو کیسے اس میں وہ سارا آئے گا۔
تو اصل سوال آپ کا یہی تھا یا کچھ اور تھا؟

سوال: میں ریالٹی کے متعلق جاننا چاہ رہا تھا۔
مرزا اطہر بیگ: ہاں جی تو جو ریالٹی ہے وہ ایک کنسٹرکشن ہے جس میں عام سطح پر کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا لیکن جب اس کو کہیں بڑے بڑے انسانی تجربات میں اس کی انتہا تک یا گہرائی میں جائیں گے تو اس میں کئی چیزیں ڈزولو ہوں گی اور ویگ ہوں گی۔ اب اس میں خواہ وہ خالصتاً سائنس ہو، فلسفہ تو ہے ہی ہے۔ اور اس کے علاوہ تصوف کا جو سلسلہ ہے جس میں صوفیا بھی شامل ہیں ان کا اپنا ہی (نظریہ) ہے۔ ویسے ایک سطح اور بھی ہے جس میں ریالٹی خالصتاً ایک نفسیاتی ضرورت بھی لگتی ہے۔ کوئی چیز بھی اگر آپ اس کو بطور ریالٹی تسلیم کرلیں تو آپ کا کام چل جاتا ہے۔ مطلب اب دیکھیں نا کہ یہ بھی ایک وقت تھا کہ جب لوگ سمجھتے تھے کہ زمین ایک بیل کے سر پر کھڑی ہے تو یہ نظریہ ان کو مطمئن رکھتا ہے۔ تو حقیقت کے متعلق تیقن کافی حد تک ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہے جس میں خارجی طور پر آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ آپ اسی کو مانیں یا نہ مانیں۔

سوال: آج کل آپ کس پہ کام کر رہے ہیں؟ میں نے سنا تھا کہ آپ پنجابی میں بھی کچھ لکھ رہے ہیں۔
مرزا اطہر بیگ: ہاں جی پنجابی میں بھی ایک کام ہے جو شروع تو کیا ہوا ہے۔ لیکن اصل میں میرا یہ مسئلہ بن گیا تھا حسن کی صورت حال لکھنے کے بعد کہ میں نے شاید یہ صحیح فیصلہ کیا یا غلط، جیسے ہم بہت سی چیزیں پڑھتے ہیں، جیسے زمانہ طالب علمی کے ابتدائی سالوں میں آپ پانچ یا چھ مضامین پڑھ رہے ہوتے ہیں تو کیوں نہیں یہ ہو سکتا کہ تین چار چیزیں لکھنی شروع کر دی جائیں جو various stages of mental condition ہے۔ تو وہ پھر میں نے یہ فیصلہ کیا تو اس کے نتیجے میں چار پانچ مختلف قسم کے ٹیکسٹ میں لکھ رہا ہوں۔ پتہ نہیں یہ ایک مہلک اور خوفناک فیصلہ ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ بھی نہ پیدا ہو اور سب کچھ ہی ڈزولو ہو جائے۔ یا شاید دو تین چیزیں اکٹھی آ جائیں۔ لیکن یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ ایک تو پرانا میرا ناول تھا جس کے کوئی چار سو صفحے لکھے ہوئے تھے جو میں نے غلام باغ کے بعد شروع کیا تھا اور جو دوسری چیزیں آتی رہیں اور وہ وہیں پڑا رہا۔ اس کو میں نے دوبارہ شروع کیا تو اس کی شکل ساری بدلنی تھی میں نے، اس کی میں پرانی والی شکل نہیں رکھ سکتا تھا۔ ایک وہ تھا۔ اچھا پھر ایک ناویلا جسے کہہ سکتے ہیں وہ شروع کیا جو پہلے سے چل رہا تھا۔ پھر ایک کومک رئیلزم کی بجائے باقاعدہ کومک شروع کر بیٹھا ‘خفیف مخفی کی خواب بیتی’ کے نام سے۔ پھر میرا ایک سیریل تھا ڈرامے کا جو 2011ء میں ایک بندے نے ذاتی حیثیت میں لکھوایا تھا، وہ کوئی سولہ قسطوں کا ہارر سیریل تھا پچاس منٹوں والا مگر وہ بعد میں اسے پروڈیوس نہیں کر سکا کیونکہ اس میں بہت زیادہ پیسہ لگنا تھا۔ مجھے تو اس نے بطور لکھاری ادائیگی کر دی مگر میں سوچ رہا تھا کہ یہ ایک تحریر ہے جو بالکل ہی برباد ہوگئی۔ نہ تو اس کا سیریل بنا اور نہ ہی یہ چھپ سکی تو اس کو میں نے ایک ناول کی شکل دینی شروع کر دی ‘آسیب نگری’ کے نام سے۔ وہ بڑا مجھے مزہ آنے لگا۔ وہ ایک بڑا دلچسپ، سنسنی خیز اور تجسس بھرا تھا۔ اور پانچواں یہ پنجابی کا ہے۔ تو اس وقت پانچ مختلف چیزیں ہیں جو مختلف مراحل میں ہیں۔ کوئی چار سو صفحے پہ ہے، کوئی ڈیڑھ سو پہ، کوئی پچاس پہ اور کوئی اسّی پہ ہے۔ یہ بڑا خطرناک کام ہے پتہ نہیں اس میں سے کیا نکلتا ہے۔ کیونکہ عام طور پر بڑے بڑے ادیب جو ہوتے ہیں ان کا مشورہ اور فارمولا یہی ہوتا ہے کہ ایک وقت میں ایک کام کرو۔ میں نے سوچا کہ کیوں آخر کیوں ایسا ہی کیا جائے۔ مجھے تو ویسے بھی روزانہ ذہن بدلنا پڑتا ہے مثلاً میں کلاس میں فلسفہ پڑھاتا ہوں تو اور مائنڈ سیٹ ہوتا ہے، اور اس میں اگر کچھ لکھنا ہے مثلاً نثر، پیپر یا ڈرامہ تو یہ ایک اور مائنڈ سیٹ ہے یعنی مجھے سوئچ کرنا پڑتا ہے تو اس کے نتیجے میں حسن کی صورت حال چھپا تھا 2014ء میں اور اب دو سال ہو گئے ہیں مگر کوئی ایک بھی پراجیکٹ مکمل نہیں ہوا۔ تو یہی کچھ ہے جو میں کر رہا ہوں۔

سوال: کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم ایک سوشل تھیوکریٹک ریفارمیشن کے دور سے گزر رہے ہیں؟ کیونکہ جب تک اس دور سے نہیں گزریں گے تب تک ہم جدیدیت اور عقل کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکیں گے۔
مرزا اطہر بیگ: دیکھیں جی میں نے ایک لفظ کہا ہے جسےIndigenizationکہا جاتا ہے میرا خیال ہے کہ اس کے اندر حل موجود ہیں۔ کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ساری ساکت شکل کا علم جو آپ کے پاس باہر سے آ رہا ہے ایک جنس کے طور پر اور جو آپ اس کو ماسٹر کرکے آگے منتقل کر دیتے ہیں اور ڈگریز لیتے ہیں۔ یہ دراصل آپ کو متاثر ہی نہیں کرتا۔ آپ کے ذہنی عوامل کو مجموعی طور پر متاثر ہی نہیں کرتا۔
It leaves you in cold.
چنانچہ یہ بالکل ممکن ہے بلکہ بہت بالکل ہے کہ ایک بائیالوجی کا پروفیسر ڈارون کی تھیوری پڑھا رہا ہے اور دل میں اس کو گالیاں نکال رہا ہے۔ یہ ہے۔ اچھا اب یہ ایک فیکچوئل چیز ہے کہ یہ ہوتا ہے۔ اچھا ہم سجھ رہے ہیں کہ اس کا شاید کوئی اثر نہیں ہوتا۔ میرا ذاتی خیال ہے اور میں اس کو اس خاص طرح سے تھیورائز نہیں کروں گا کہ جب آپun-resolvedقسم کی اینٹی ٹیز کو ذہن کے اندر بیک وقت رکھتے ہیں تو یہ آپ کی ذہنی توانائی کو کم کر دیتا ہے۔ اور وہ بالآخر آپ کو ایک ذہنی پستی کی طرف لے جاتا ہے۔ یعنی چیزیں ریزولو نہیں کر رہے آپ بلکہ ری جیکٹ کر رہے ہیں۔ آپ کا ریالٹی کا نظریہ کچھ اور ہے اور جو آپ دعویٰ کر رہے ہیں وہ کچھ اور ہے۔
This will never generate a creative process.
کیونکہ آپ نے اس کو الگ الگ ہوا بند خانوں میں رکھا ہوا ہے۔ اور اس کو ختم کرنا اس بندے کیلئے ایک بہت بڑا کے اوس ہوگا کیونکہ اس کے اپنے بھی نظریات ہیں۔ اصل میں تو ہوتا یہ ہے کہ لفظ اور دنیا کے درمیان ہمارا تعلق ٹوٹا ہوا ہے، وہ تعلق ہے ہی نہیں۔ ہمارے پاس باہر سے جو بھی انفارمیشن ٹیکسٹ کی شکل میں آتی ہے اس کو بڑے ایک لگے بندھے انداز میں ماسٹر کرتے ہیں اور اس کو اپنی ضرورت کے مطابق آگے لے جاتے ہیں لیکن وہ آپ کے ٹوٹل ورلڈ ویو سے بالکل نہیں ملتی اور یہ پروسیس اس وقت ہی شروع ہو جاتا ہے جب بچہ پانچ سال کا ہی ہوتا ہے۔ یہ ہر کسی کے ساتھ تو نہیں ہوتا مگر ایک عمومی اکثریت اسی مسئلے کا شکار ہوتی ہے۔ قدرتی تجسس جو کہ ایک بہت ہی قیمتی چیز ہے اور جو تمام تخلیقی رویئے کی اساس بنتی ہے اسے ہم قتل کر دیتے ہیں شروع میں ہی اور بچے کا بالآخر مائنڈ سیٹ یہی بنتا ہے کہ ریالٹی کا تو ہمیں پہلے سے ہی پتہ ہے اور یہ سارا دھندا دنیا کے کاموں کو چلانے کیلئے ہے۔ تو اس کا پھر ایک جذباتی پہلو جو ہے وہ ختم ہو جاتا ہے بلکہ وہ ایک رکاوٹ، بے چینی اور ٹکرائو کی صورت بنتی ہے کیونکہ
Knowledge is not only a process of cognition, knowing or understanding, it is also an emotional process.
یہ بات اس سے پہلے شاید کسی نے کی ہو یا نہیں لیکن ایک جذباتی پہلو اس کے ساتھ انوالو ہونا اتنا ہی ضروری ہے اور ان لوگوں کیلئے تو بہت ضروری ہے علم جن کے کاروبار میں ہے یا جو علم کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ پھر اس کے نتیجے میں جو ہوگا وہ آپ کے سامنے ہے۔
وہ جو ایک پروسیس ہوتا ہےConceptualizeکرنے کا اور پھر اس سے اگلی سٹیج پہTheorizeکرنے کا وہ شروع ہی نہیں ہوتا۔ ایک ٹکڑوں میں بٹی ہوئی، ایک فریگمنٹری قسم کی انڈرسٹینڈنگ (اس کو پتہ نہیں انڈرسٹینڈنگ بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں) کا پیدا ہونا اور اس کو یاد کرنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک عام بات ہے۔ لیکن اس میں کوئی اس طرح کا مسئلہ نہیں ہے کہ ہمارے اندر کوئی کمی ہے، ہم ذہنی طور پر کمزور یا بیمار ہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ لیکن یہ جو اس طرح کے معاشرے ہیں جو کرائسز سے نہیں نکلے ان کا یہی مسئلہ ہے تو اب یہ تو تعلیم کے بالکل ابتدائی لیول سے کام شروع ہو تو ہو ورنہ پتہ نہیں کیا ہوگا۔

سوال: مثلاً نشاۃ ثانیہ سے بھی پہلے جیسا کہ ریفارمیشن کی ایک تحریک چل رہی تھی جو نشاۃ ثانیہ کی راہیں ہموار کر رہی تھی، اس طرح کی کوئی تحریک ہمارے ہاں کیوں نہیں چل رہی؟

مرزا اطہر بیگ: درست کہا کہ وہ جسے قرونِ وسطیٰ کا دور کہا جاتا ہے اس میں بھی ایسے کام ہو رہے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ سولہویں صدی اچانک آ گئی، یہ ایک طویل عمل تھا۔
Dark ages were not that dark actually.
اس کے دوران بھی فیوڈل ازم ختم ہوا، پھر اس کی بجائے نیشن سٹیٹس منظرعام پر آئیں اور پھر بیوروکریسی کا پورا ادارہ اسی دور میں شروع ہوا۔ جس میں ذاتی وفاداریوں پر جو نوکریاں دی جاتی تھیں وہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ اور پھر کارکردگی کی بنیاد پر جانچ کا عمل شروع ہوا۔ اس کے علاوہ عیسیائیت کے اندر جو اصلاحات آئیں وہ بھی ایک مرحلہ تھا تو یہ ایک لمبا پروسیس ہے چھ سات سو سال کا۔ وہاں پر یہ ہوا کہ چرچ نے آہستہ آہستہ جدید یونیورسٹی کو جنم دیا، اس کا رسمی سیٹ اپ آج بھی کسی یونیورسٹی کے کانووکیشن میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ہماری مسلم دنیا کے اولین دور کی جو عقلی تحریک ہے وہ بھی اپنی سمجھ بوجھ اور فلسفیانہ طور پر کمزور نہیں تھے انہوں نے بھی یونانی فلسفے کو بہت تخلیقی اور تنقیدی طور پر اپنے فلسفے میں شامل کیا لیکن اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا، یہ میری فیلڈ نہیں ہے اور اس پر مجھے کوئی کتاب بھی نہیں ملی۔ مسلم دنیا کے سارے فلسفی لونرز تھے مطلب اکیلے اپنی ذات میں۔ اور پھر ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلے تھے مثلاً ایک بندہ خراسان میں بیٹھا ہے، دوسرا قرطبہ میں تو وہ سارا مل کر ایک مجموعی روایت نہ بن سکی اور نہ ہی اس کا تسلسل جاری رہ سکا۔ اس میں سے رسمی تعلیم کے کوئی بڑے ادارے جنم نہ لے سکے۔ غالباً یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ رُشد اور غزالی کے حوالے سے ایک انٹریکشن نظر آتا ہے مگر غزالی کا کردار بہت متنازعہ ہے جس میں اس نے عقل پر اعتراض کیا اور کہا جاتا ہے کہ اس کا خاصا ایک منفی اثر پڑا۔ تو اس کے بعد کی جو ہماری دنیا ہے اس میں علمی، فلسفیانہ،سائنسی اور انٹیلیکچوئل روایات اس طرح سے نہیں ابھر سکیں اور اس کا خاص پسماندہ ورژن آگے چلتا گیا۔ تو یہ سارا اس طرح سمجھا جا سکتا ہے دیکھا جائے تو۔

Categories
تبصرہ

مرزا اطہر بیگ کے ناول غلام باغ کا مختصر جائزہ

اردو ناول کی سو سوا سو سال پرانی تاریخ میں ہمیں اکا دکا علامتی اور تجریدی ناول تو مل جائیں گے،شاید ایک آدھ اینٹی ناول بھی مل جائے، مگر ایسا ناول شاید ہی ملے جو اپنے اندر بہ یک وقت کئی رجحانات سموئے ہوئے ہو۔ یعنی وہ بہ یک وقت حقیقی بھی ہو، علامتی اور تجریدی بھی ہواور اینٹی ناول بھی ہو۔اسے ہماری یا اردو زبان کی خوش نصیبی کہیے کہ اب ہمارے پاس غلام باغ کی صورت میں ایک ایسا ناول آگیا ہے جو نہ صرف حقیقت، علامت، تجرید اور ان سے بہت آگے کی سرحدوں میں بھی آزادی سے گھومتا ہے بلکہ وہ ان سرحدوں کو پھلانگ کر بسا اوقات ایسے مقامات پر بھی جا نکلتاہے، جن مقامات پر پہنچنے کی حسرت تمام زبانوں کے ناول کرتے رہے ہیں۔
غلام باغ Amorphousہوتے ہوئے بھی Amorphous نہیں ہے۔ یعنی بے ہیئت، بے شکل، کسی بھی متعین فارم کے بغیر۔ جو یہ ناول ہے بھی اور نہیں بھی۔کیوں کہ اس میں ایک انتہائی دل چسپ پلاٹ بھی موجودہے۔ جیتے جاگتے ذی شعور کردار بھی ہیں، جن کی زندگی میں نت نئے انوکھے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ہر کردار کے ذاتی ماجرے میں ایک ارتقا اور تغیر بھی صاف دکھائی دیتا ہے اور وہ سب کے سب ایک انجام سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے توغلام باغ ناول کی عمومی روایت سے بغاوت کرکے بالکل الگ اور نئی ڈگر پر چلتا ہوامحسوس ہوتاہے۔اس کی روایت سے یہ بغاوت صرف اسلوب اور فارم کی سطح پر ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہمیں موضوع اور مواد سے جڑے عمیق اور گہرے خیالات اور تصورات کے حوالے سے بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

ابتدا میں جب ناول کا مرکزی کردار کبیر مہدی یہ کہتا ہے؛ وقت کا کوئی وجود ہی نہیں، یہ محض ایک واہمہ ہے۔تو ہم ناول میں آگے چل پیش آنے والے واہمے جیسے واقعات سے گزرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔جو پے درپے رونما ہوتے چلے جاتے ہیں۔ناول کے تقریباً سبھی کردار اپنی ذات میں اپنی طرح کے دانشور ہیں، جو اپنے گردوپیش کی سبھی چیزوں کی گہرائی میں جاکر غوروفکر کرتے ہیں۔ وہ سب کے سب بہت زیادہ خود آگاہ ہوتے بھی اپنی زندگی میں پیش آنے والے ناگہاں واقعات کا دھارا رتبدیل کرنے کی صلاحیت سے یکسر محروم رہتے ہیں۔ واقعات کا یہی بے رحم دھارا ان کی تقدیر کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ان کی قسمت انہیں بھیانک انجام سے دوچار کرتی ہے۔وہ سب کے سب میرے خیالل میں ایسے سنگین اور بھیانک انجام کے مستحق نہیں تھے۔

یہ ناول دو اہم اصطلاحوں، جو دو مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرتی ہیں، کے محور پر گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پہلی اصطلاح ’’ ارزل نسلیں‘‘ ہے۔ گرچہ ناول نگار نے ان کی تاریخ سے بہ درجہ اتم آگاہ کیااور مانگُر جاتی کے پُگلوں اور کاچھروں سے تعلقات کی تاریخ تفصیل سے بیان کی ہے۔مانگُر جاتی چونکہ پچھڑی اور دُھتکاری ہوئی ہے اور سماجی سطح پر اپنی ایکِ حیثیت بنانے کی خواہش ِ ناکام سے کئی صدیوں سے لبریز ہے مگر رزالت اور بے توقیری اس جاتی کے لوگوں کا ازلی و ابدی مقدر رہا ہے۔کئی نسلوں کی تذلیل اور بے توقیری کے بعد اس نسل سے تعلق رکھنے والا ایک شخص خادم حسین، جو ڈاکیہ ہے۔ وہ عمر بھر سائیکل پر ڈاک تقسیم کرتا رہا۔ وہ اپنی موت سے پہلے ’ گنیجینہِ نشاط ‘‘ نامی مسودہ اپنے بیٹے یاور حسین کو سونپ کر جاتا ہے۔یاور حسین، مانگر جاتی کا نمائندہ ہے۔سماجی سطح پر ابھرنے کی صدیوں پرانی خواہش کی تکمیل وہ اس گنجینہ نشاط نامی مسودے سے عملی استفادہ اٹھا کر کرتا ہے۔ وہ بڑے شہر کے اہم ترین رئوسا، جو اعلی طبقے کے بلند ترین مقامات پر براجمان ہیں، کو آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئیAphrodisiacs (جنسی ادویات)کاعادی بنا کر ایک منفرد سماجی مقام حاصل کرتا ہے۔مانگر جاتی سے تعلق رکھنے والے اس آدمی کی بلند ترین سماجی چھلانگ کی پہنچ صرف اعلی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خصیوں تک ہی ہوسکی۔جنہیں ہمہ وقت تقویت پہنچا نے کی وجہ سے یاور حسین کو عزت، دولت، شہرت سب کچھ مل جاتا ہے۔

ناول میں یاور حسین کے علاوہ کچھ اور کردار بھی ایسے ہیں مجھے جن کے مانگر جاتی سے متعلق ہونے پرشائبہ سا گزرتا ہے۔ ان میں کبیر مہدی، ڈاکٹر ناصر اور ہاف مین جیسے کردار ہیں۔ یہ تینوں پڑھے لکھے، عالم فاضل،ذہین و فطین لوگ ہیں۔ لیکن ذرا ان کی مصروفیات پر نظر ڈالیے تو یہ تینوں بھی اپنے مختلف شعبوں میں مختلف مقامات پر خصیہ برداری کا کام ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں اپنی حقیقت معلوم ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں۔ جب کہ یاور حسین اس حقیقت سے یکسربے بہرہ تھا۔وہ خود فریبی میں مبتلا تھا کہ اس نے زندگی کا بلند ترین مقصد حاصل کرلیا ہے، مگر جب اس پر اپنی حقیقت منکشف ہوتی ہے، اسی لمحے اسے موت آلیتی ہے۔ہمارے معاشرے میں دونوں طرح کے خصیہ لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ساری اذیتیں، ساری تکلیفیں، ساری کُلفتین، ساری کوفتیں انہی بے چاروں کی قسمت میں لکھی گئی ہیں۔

ناول میں استعمال ہونے والی دوسری اصطلاح ’’خصی کلب‘‘، بھی اپنی ماہئیت میں خاصی وسعت کی حامل ہے۔ اس میں ہمارے تمام سماجی، سیاسی، غیر سیاسی،روحانی، مذہبی ادارے اورریاست کے تمام اہم ستون بھی شامل ہوجاتے ہیں۔اگرچہ یاور حسین کو جو مسودہ ملا تھا وہ بادشاہوں کی نشاط و عشرت کے لیے آزمودہ نسخوں پر مبنی تھا مگر وہ ان کاا ستعمال اسلامی جمہوریہ کے مقتدر طبقات کو جنسی قوت مہیا کرنے کے لیے کرتا ہے۔یہ خصی کلب بھی محض پُگلوں اور کاچھروں پر مشتمل نہیں ہے۔ اس میں نواب ثریا جاہ نادر جنگ، امبر جان اور دیگر پردہ نشین بھی آتے ہیں۔اس کلب کے میمبران کی اکثریت تخلیے میں رہنا پسند کرتی ہے۔خلوت میں جنسِ مخالف سے ہر ممکن لذت کشید کرنے کے یہ جویا، درحقیقت ارزل نسلوں کے جدی پشتی حکم ران ہیں۔جنہوں نے نسلوںکی نسلوں کو اپنی اسی کام پر مامور کر رکھا ہے۔ اس کلب کے ارکان ہمیشہ محفوظ و مامون رہتے ہیں۔ جب کہ موت صرف اور صرف ارزل نسلوں کے نمائندوں کامقدر ہے۔

کوئی بھی ناول آخر کار لفظوں کا ایک گورکھ دھندا ہی ہوتا ہے۔ غلام باغ میں استعمال ہونے والی زبان اردو فکشن کے دل داد گان کے لیے انتہائی غیر متوقع ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اردو فکشن میں چند جید قسم کے ادیبوں کے علاوہ،اکثریت کے ہاں زبان کا استعمال بہت حد تک روایتی،گھسا پٹااور یکساینت کا مارا ہوا ہے۔ مرزا اطہر بیگ صاحب نے اس ناول کے میں جو زبان برتی ہے، وہ نہ صرف بھرپور طور پر ناول کے مناظر، کرداروں کی کیفیات،ان کی ذہنی حالت، ان کے خیالات و تصورات کا پوری طرح ابلاغ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ ان کہی بھی چھوڑتی چلی جاتی ہے، یہ ان کہی قاری کے ذہن ہیجان برپا کرتی رہتی ہے۔اس ناول نے اردو فکشن میں برتی جانے والی تخلیقی زبان کو نئے امکانات سے روشناس کروایا ہے۔ناول میں بہت سے مقامات پر چیزوں اور لوگوں کے انوکھے نام اور انتہائی منفرد اصطلاحات گھڑی گئی ہیں۔ مثلاً لا لکھائی اور اس کے مصنف کا نا م گیگلااور اس سے بہت پہلے ننگا افلاطون، وغیرہ وغیرہ۔اس ناول کی تخلیقی زبان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک فرہنگ کا پورا دفتر درکار ہوگا۔ان کی زبان کو ندرت ان کے منفرد تخئیل کے ساتھ، ان کے کرداروں کے مختلف نقطہ ہائے نظر نے بھی دی ہے۔ان کے کردار اپنے جسمانی مینر ازم سے زیادہ اپنے خیالات اور تصورات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ سب مکالمے کے ساتھ خودکلامی بھی کرتے ہیں۔کبیر مہدی کی ساری لا لکھائی ایک خود کلامی ہی تو ہے۔کبیر مہدی کے لب لہجے میں سنجیدگی اور متانت کے ساتھ طنز،استہزا، مزاح اور کامیڈی کا ملا جلا تاثر پایا جاتا ہے۔اور یہی عنصر ناول میں بہت سے مقامات پر Bleak صورت بھی اختیار کر لیتاہے۔مگر یہ گھمبیرتا ناول کی قرات کے دوران گراں نہیں گزرتی۔
عام طور پر زیادہ تر ناول بیانیہ میں ہوتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ناول نگار مکالمے، خودکلامی، تقریر،منظر نگاری، تفصیل نگاری وغیرہ کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ جب ہم غلام باغ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیںاس کے زیادہ تر حصے طویل مکالموں اور خودکلامیوں سے پٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔اکثر کردار خودکلامی کے انداز میںاپنی روداد کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ناول میں تمام خودکلامیاں اور طویل مکالمے ازحد دلچسپ ہیں۔ یہ طریقہ عالمی فکشن میں دوستوفسکی سے یادگار رہا ہے۔ اس کے تقریباً سبھی ناولوں میں سبھی کردار طویل مکالمے اور خودکلامیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مرزا اطہر بیگ صاحب نے اردو میں ان طریقوں کو درجہ کمال تک پہنچا نے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔غلام باغ کے تمام ابواب اس بات کا منہ بولتا ثبوت پیش ہیں۔

کبیر کے نیلے رجسٹر میں زہرہ اس کا پہلاجملہ پڑھتی ہے۔’’ فکشن کے خالق کو خدا بننے کا اختیار کس نے دیا ہے؟‘‘خدا اس دنیائے رنگ و بو کاخالق ہے، جب کہ فکشن رائٹر اپنے فکشن کی دنیا کا خالق ہوتا ہے۔ یہ اختیا ر دونوں کے عمل میں چھپا ہوا ہے اور ان دونوں کے عمل سے ہی ظاہر بھی ہوتاہے۔غلام باغ کا غالب راوی یوں تو کبیر مہدی ہے لیکن اس کا ہم زاد بن کر اسی کے لب و لہجے میں یہ سرگوشیاں کون کرتا ہے۔ ناول میں سانس لیتے انسانوں کی زندگی اور موت پر حکم کون لگاتا ہے۔ ان کی موت کے طریقے،اس کے دن اور وقت کا تعین کون کرتا ہے؟یہ خدا تو ہو ہی نہیں سکتا۔پھر کون ہے۔ کوئی فکشن زاد ہی ہوگا۔

Categories
تبصرہ

Hasan Ki Surat-e-Haal: Khali Jaghain Pur Karo

Book Review: Hasan Ki Surat-e-Haal: Khali Jaghain Pur Karo
Author: Mirza Athar Baig
Publisher: Sanjh Publications

Hasan-Ki-Surat-e-Haal-title

[blockquote style=”2″]The event happened to Hasan Raza Zaheer after his lifelong exercise of glancing at the state of affairs.

If we want to take the responsibility to know how and when Hasan got into this habit of glancing at the state of affairs we will have to walk further with him in his life… In fact the more important thing is that we will have to ‘see’ with him because everything is about seeing. And we have to experience what it is like to see.

( Hasan Ki Soorat-e-Haal: Khali Jaghain Pur Karo)
[/blockquote]

It rarely happens that a novel comes this close to the word ‘novel’: being absolutely unique in the world it presents to the reader. Mirza Athar Baig’s new novel, Hasan ki Soorat-e-Haal: Khali Jagahain Pur kero is one such piece of fiction which makes one think of the genre not as a description of a world but a world in itself. The novel being a world in itself is very much like what a cosmologist, Andre Lindy proposes in his theory of the inflationary universe according to which our universe maybe just one of many universes each with its own governing laws. These self-created laws of coherence that a novel generates for its life-world are brought together by the dynamic intersection of social, political, psychological and spiritual force fields of this multidimensional entity.

Baig’s new novel is like a cinematic journey into a life densely populated with its multicolored characters and their unique subjectivities. The story of Hasan’s State of Affairs (Hasan ki Surat-e-Haal) is as surrealistic as the film the ‘Sawang Film’ group in the novel tries to produce. The film is called ‘This film can’t be made’. The novel’s frame of reality is mirrored in the film’s screenplay and in the characters who multiply by this mirroring effect into multiple possibilities of Being challenging the reader to keep the thread intact. In Baig’s own words: “…The presence of almost a whole screenplay in the novel about a fictional surrealist film is an integral part of the narrative. The activities of the film group, bordering on burlesque at times, are intended to mirror the multiple layers of the same events. What is happening in ‘reality’ is sort of rediscovered in the screenplay and vice versa.”

The dizzying effect that the narrative technique of reincarnating the same characters, Aneela, Saifi, Saeed Kamal and Safdar Sultan in another stretch of space-time continuum can also be seen as amplifying the novel’s surrealist ambiance reflecting an uncanny juxtaposition of seemingly discordant and irrational images. The abundance of characters and multiple scenarios in which these characters reveal themselves create an incredible human drama which is uncanny and entertaining at the same time.

Mirza Athar Baig reading excerpt from 'Hassan Ki Soorat e haal', in Islamabad Literature Festival.
Mirza Athar Baig reading an excerpt from ‘Hassan Ki Soorat e haal’, in Islamabad Literature Festival, 2014

It may as well be noticed that along with its witty tone and intricate narrative pattern, the novel is written from the point of view of the ghost narrator, who might as well be Hasan’s ghost who narrates the story after the story has actually taken place. However, the question remains: Who is the narrator and why he/she introduces himself/herself as the Editor of Wonder. The enigma continues ad infinitum and as the narrator says: As opposed to a successful story, stories (Kahaniya) where the resolution of an enigma is celebrated, the wonder-narrative (Hairaniya) is a mourning of the continuity of this enigma. And this too is a form of celebration. The interventions of this editor throughout the novel constitute another important perspective of seeing things and talking about them. It may as well be said that the second chapter of the book entitled Hairat ki Idarat (Editing of Wonder) is probably the most important one for anybody who finds him/herself interested in the theoretical aspects of any piece of fiction. The narrator, however, encourages the reader to discard this chapter altogether as a ‘non-writing’ or a disturbing nightmare. However, rather than discarding it for being abstract or ‘philosophical’, this chapter should be read with great focus for herein lies the craft of the entire book and various subtleties of narrative.

Hasan Ki Surat-e-Haal is a remarkable synthesis of Baig’s creative imagination and the contemporary local reality. The novel offers a great potential for examining our historical, cultural and cognitive existence in innovative, scholarly and intellectual perspectives.

Categories
تبصرہ

صفر سے ایک تک

عارف وقارcipher

مرزا اطہر بیگ کا ناول ’صفر سے ایک تک ‘سائبر سپیس کے ایک مُنشی کی سرگذشت ہے۔
لیکن سائبر سپیس ہے کیا؟ اس لفظ کی تخلیق کا سہرا فکشن کے لکھاری ولیم گِبسن کے سر ہے جنھوں نے سنہ انیس سو چوراسی میں پہلی بار اس لفظ کو استعمال کیا۔
اُس وقت شاید وہ خود بھی اس لفظ کے دور رس معانی کا اندازہ نہ کر سکے ہوں۔ خود ان کے مطابق سائبر سپیس محض ایک غیر مرئی حقیقت تھی۔
جدید ٹیکنالوجی کا ایک واہمہ جس میں دنیا بھر کے وہ لوگ مبتلا ہیں جو دفتروں، بینکوں اور دکانوں میں بیٹھے حساب کتاب کر رہے ہیں۔ وہ استاد جو بچوں کو حسابی کلیے سکھا رہے ہیں۔ یہ خطوط اور ہندسوں کا ایسا ملغوبہ ہے جس کے پسِ منظر میں اطلاعات و معلومات کا وسیع سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔
آج چھبیس برس گزر جانے کے بعد بھی یہ اصطلاح اتنی ہی مبہم اور پیچیدہ ہے جتنی اپنی تخلیق کے وقت تھی۔
کچھ لوگوں کے نزدیک سائبر سپیس محض دنیا میں پھیلے ہوئے کمپیوٹری نظاموں کے رابطے کا نام ہے۔ دیگر کے خیال میں یہ برقی مقناطیسی قوت کا ایسا استعمال ہے جو دنیا بھر کے افراد کو باہمی رابطوں کے قابل بنا دیتا ہے۔
مرزا اطہر بیگ کے ناول کا ہیرو اس سے بھی ایک قدم آگے جاتے ہوئے کہتا ہے کہ سائبر سپیس مکانیت سے ماوراء ہے اور دنیا بھر کے کمپیوٹروں کو یہ ایک ’ لامکاں‘ میں مربوط کرتا ہے۔ اس لا مکاں تک پہنچنے کے لیے آپ کو انٹر نیٹ کے برقی دروازے پر دستک دینی پڑتی ہے اور پھر برقی رو کے مہین نقطے کا اسپِ تازی آپ کی ایڑ لگتے ہی انجانی منزلوں کی طرف محوِ پرواز ہو جاتا ہے۔
صفر سے ایک تک کا مرکزی کردار زکی ہمیں بتاتا ہے کہ اس لامکاں میں اُس کی دشت نوردی کسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصّہ نہیں تھی بلکہ اُس کے مالک کا بیٹا فیضان جو کہ بظاہر زکی کا دوست بھی تھا، کمپیوٹری علوم میں بالکل پھسدّی تھا۔ لیکن جب اس نے ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کا فیصلہ کیا تو زکی سے درخواست کی کہ وہ متعلقہ موضوع پر اس لا مکاں سے ضروری مواد منگوا دے۔ زکی نے دوستی سے زیادہ چھوٹے مالک کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اُسے مواد پہنچانا شروع کر دیا۔
کہانی سنہ انیس سو ستر کے آس پاس شروع ہوتی ہے اور ہم خود کو ایک بہت بڑے زمیندار کی حویلی میں پاتے ہیں جہاں اشرافیہ کی اقامت گاہ کے پہلو میں نوکروں کے کواٹر بھی ہیں جن میں صدیوں سے زمینداروں کے خدمت کرنے والے کمّیوں کی موجودہ نسل پروان چڑھ رہی ہے۔

دیکھا جائے تو کوئی کردار بھی اردو فکشن کے روایتی ڈھانچے میں فٹ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ مصنف نے یہ ناول مابعدِ جدید فکشن کی تکنیک پر تحریر کیا ہے اور اس میں دکھایا ہے کہ پاکستان میں مقتدر طبقے کی زندگی گزشتہ صدی کی آخری تین دہائیوں میں کن تبدیلیوں سے گذر رہی تھی

زکی کا باپ پیشے کے لحاظ سے زمینداروں کا منشی ہے۔ یہ اُن کا خاندانی پیشہ رہا ہے اور زمینوں کا سارا حساب کتاب لمبے لمبے بہی کھاتوں میں درج ہے۔زکی پہلی بار یہ سارے کھاتے کمپیوٹر میں منتقل کرتا ہے اور اس کے باپ کو احساس ہوتا ہے کہ حساب کتاب کے صدیوں سے جاری نظام کو بدلنا ممکن ہے اور وہ اس تبدیلی کا پورا کریڈٹ اپنے بیٹے کو دیتا ہے۔
مالک لوگ ’سالار‘ کہلانے والی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور خاصی الگ تھلگ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ فیضان سالار مالکوں کی نئی نسل کا نمائندہ ہے اور اپنے منشی کے بیٹے زکی کی مدد سے یونیورسٹی میں ایک سکالر کا مقام حاصل کر رہا ہے۔
اگر آپ کہانی میں کسی ہیروئن کے متلاشی ہیں تو ایک فرانسیسی طالبہ آپ کی کسی حد تک مدد کر سکتی ہے لیکن زلیخا نامی یہ لڑکی عام معانی میں کہانی کی خاتونِ اوّل نہیں ہے۔ دیکھا جائے تو کوئی کردار بھی اردو فکشن کے روایتی ڈھانچے میں فٹ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ مصنف نے یہ ناول مابعدِ جدید فکشن کی تکنیک پر تحریر کیا ہے اور اس میں دکھایا ہے کہ پاکستان میں مقتدر طبقے کی زندگی گزشتہ صدی کی آخری تین دہائیوں میں کن تبدیلیوں سے گذر رہی تھی، جب اطلاعاتی ٹیکنالوجی طرح طرح کے روپ دھار کر کمپیوٹر، انٹر نیٹ، ٹیلی ویژن، ٹیلی فون، اور سیل فون میں نصب کیمرے، ریڈیو اور منی ٹی وی کی صورت میں جلوہ گر ہو رہی تھی اور ہمارے نیم جاگیردارانہ سماج کو اٹھا کر اچانک جدید ترین زمانے میں پٹخ دیا گیا تھا۔
ناول کے بہت سے شاخسانے قدیم و جدید کے اسی تضاد سے پھوٹتے ہیں اور غالباً اردو ادب میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس سماجی صورتِ حال کو پوسٹ ماڈرن فکشن نے اپنا موضوع بنایا ہے۔
’میں نے کرسر زلیخا کےنام کی طرف بڑھایا تو عجیب احساس ہوا، جیسے میں اسے چھو رہا ہوں اور نام پر کلِک کرنا کیسا لگا، میں کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ کوئی بھی میری بات پر یقین نہیں کرے گا اور سب یہی کہیں گے کہ کمپیوٹر کا یہ شیدائی بالکل پاگل ہو گیا ہے۔‘
مرزا اطہر بیگ کے کردار زمان و مکان کی روایتی بندشوں سے آزاد گویا خود بھی ایک لا مکاں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مصنف کواحساس ہے کہ آج ہم ایک ’عالمی وقت‘ میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جہاں فاصلوں کا تصور مٹ چکا ہے۔ مثلاً ہمارے لیے عین ممکن ہے کہ ہم گوجرانوالا میں بیٹھ کر ٹی وی پر کرکٹ کا ایک ایسا میچ دیکھ سکیں جو اُس وقت انگلستان کے شہر نوٹنگھم میں کھیلا جا رہا ہو، اسی دوران ہمیں شکاگو سے ایک دوست کا فون بھی آسکتا ہے اور ہم لندن میں کسی دوست سے انٹرنیٹ پر چیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔
زکی بھی کمپیوٹر کی سکرین پر زلیخا سے چیٹ کر رہا ہے۔۔۔ زلیخا جو اسکی گرل فرینڈ ہے اور اس وقت پیرس میں ہے، لیکن پنجاب کے اس دور افتادہ قصبے بھالیکی میں بیٹھا زکی اپنی توبہ شکن دیہاتی محبوبہ کو بھی دیکھ رہا ہے اور اسکی دعوتِ نگاہ سے بھی نبرد آزما ہے۔ ان خالص انسانی جذبات کے ساتھ ساتھ مشینی ابلاغ بھی جاری ہے اور دونوں کے ادغام سے پیدا ہونے والی انوکھی صورتِ حال ہی مرزا اطہر بیگ کی تحریر کا جوہر ہے۔

اگر آپ دت بھارتی، گلشن نندہ، ابنِ صفی اور اے آر خاتون کے ناول پڑھ کر جوان ہوئے ہیں تو ہو سکتا ہے ’صفر سے ایک تک‘ آپ کو ایک آنکھ نہ بھائے لیکن فکر کی ضرورت نہیں۔ آپ کے جانے پہچانے اے حمید اور رضیہ بٹ تو مسلسل لکھ ہی رہے ہیں اور نئے لوگوں میں بھی سیما غزل اور عمارہ احمد نے پاپولر فکشن کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔

شہر کے ماحول میں ایک طرف تو گلی محلّے کے کردار ہیں جو رات کو بند دکانوں کے ویران تھڑے آبار کرتے ہیں اور دوسری جانب شہر کے کلچرل چوہدری ہیں جنھوں نے ملک میں ادب، آرٹ، کلچر، فنون اور تفریحات کی تمام ذمہ داریاں اپنے ناتواں کاندھوں پہ لے رکھی ہیں۔ ناول نگار نے اس گروہ کو کُبّا گروپ کا نام دیا ہے اور اسکے بارے میں لکھا ہے ٰ ٰ کُبّا گروپ اعلی طبقات کے ایسے افراد پر مشتمل تھا جس پر اِس جاہل معاشرے کی کلچرل اور انٹلیکچوئل رہنمائی کرنے کا بوجھ اتنی شدت سے آن پڑتا ہے کہ اُن کے کندھے باقاعدہ آگے کو جھک جاتے ہیں۔ حالانکہ خدانخواستہ کمر کے عُضلات میں کوئی خرابی نہیں ہوتی۔ پھر شاید اس جھکاؤ کو بیلنس کرنے کے لیے وہ اپنے چہرے کو تھوڑا سا اوپر اُٹھا لیتے ہیں اور دیکھنے والوں کو مسلسل سونگھنے کی کیفیت میں نظر آتے ہیں۔۔۔‘
ہیرو کا دوست ۔۔ یا یوں کہیے کہ مالک کا بیٹا، شہر کی انٹلیکچوئل فضا سے متاثر ہو کر کُبّا گروپ میں شامل ہوجاتا ہے۔ لیکن دانش ورانہ گفتگو کےلیے اسے جو مواد درکار ہے وہ زکی ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
’میں سالار منزل پہنچا تو رات کے تین بج رہے تھے اور مجھے تعجب ہوا کہ ڈرائنگ روم میں فیضان سالار ’اکیسویں صدی: توقعات اور خدشات‘ کے ڈاؤن لوڈز کا پلندہ سامنے رکھے میرا انتظار کر رہا تھا۔ وہ کُبّا موڈ میں ہرگز نہیں تھا بلکہ میری طرف دیکھتے ہوئے اسکا انداز ایک سخت گیر فکر مند چچا کا تھا جسے گاؤں سے اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر آئے ہوئے آوارہ مزاج بھتیجے کو اپنے گھر میں ٹھہرانے کا ناخوشگوار فریضہ سونپ دیا گیا ہو۔‘
’کہاں سے آرہے ہو تم اس وقت، رات کے تین بجے۔‘
’۔۔۔ میں مزے سے ایک جگہ کھڑا پنجوں پہ وزن بدلتا رہا۔ فیضان کے چہرے پر ایک ایسی حیرت ظاہر ہو رہی تھی جو میں نہ پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، جیسے وہ اصل معاملہ سمجھ گیا ہو۔۔۔ٰ ٰ کہیں سے پی کر آرہے ہو؟۔۔۔ اگر یہ نشہ نہیں تو پھر کیا ہے۔۔۔ اور وہ ایک لخت کُبّا موڈ میں آکر اٹھ کھڑا ہوا اور کندھے جھکا کر علمی تفکّر کا کُب نکال کر کمرے میں ٹہلنے لگا۔‘
فیضان سالار کی طرح ہیرو کا بڑا بھائی پیر صاحب بھی ایک قابلِ توجہ کردار ہے۔ اپنی کارکردگی میں یہ منٹو کے صاحبِ کرامات سے مختلف نہیں لیکن زمانی طور پہ ساٹھ برس بعد تخلیق ہونے والا یہ صاحبِ کرامات اپنے پروٹو ٹائپ سے کئی سطحوں پر آگے نکل گیا ہے۔ مابعدِ جدید فکشن کا ایک کردار ہونے کے ناتے یہ پیر صاحب اپنی جعل سازی کو چھپانے کی بجائے سرِ عام اسکی نمائش کرتے ہیں لیکن یہ صاف گوئی اور کھرا پن ہی اصل میں وہ خطرناک پھندا ہے جس میں وہ انتہائی کامیابی سے من مرضی کی خواتین کو پھانستے ہیں۔
ایڈگرایلن پو کی ڈراؤنی نظموں اور کافکا کی کہانیوں کے چیستانی ماحول کا مِلا جُلا تاثر آپ کو آرے والے ٹال کے مقام پر ملتا ہے جہاں کچھ نادیدہ ہاتھ ناول کے مرکزی کردار کو لا کر حبسِ بے جا میں ڈال دیتے ہیں۔ شدید جسمانی اذیت کے لمحات میں زکی پر انسانی بدن کے کچھ انوکھے راز افشا ہوتے ہیں۔ وہ انسانی جسم میں موجود سوراخوں کو گہری نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے بارے میں ایک فلسفیانہ نقطۂ نظر تشکیل دیتا ہے۔ کہانی میں روایتی انداز کی کوئی تعارفی ابتداء، کوئی نقطۂ عروج یا کوئی تسلی بخش انجام موجود نہیں کیونکہ مابعدِ جدید فکشن اِن تکلفات سے ماورا ہوتی ہے اور کہانی میں شروع سے آخرتک مسلسل سانس لیتا ہوا لمحہء موجود ہی بیانیے کی اصل بنیاد ہے۔ اگر آپ کہانی میں ماضی یا مستقبل کی کوئی جھلک دیکھتے بھی ہیں تو حال کے اسی دھڑکتے پھڑکتے لمحے کی بدولت اور اسی کے توسط سے دیکھتے ہیں۔
اگر آپ دت بھارتی، گلشن نندہ، ابنِ صفی اور اے آر خاتون کے ناول پڑھ کر جوان ہوئے ہیں تو ہو سکتا ہے ’صفر سے ایک تک‘ آپ کو ایک آنکھ نہ بھائے لیکن فکر کی ضرورت نہیں۔ آپ کے جانے پہچانے اے حمید اور رضیہ بٹ تو مسلسل لکھ ہی رہے ہیں اور نئے لوگوں میں بھی سیما غزل اور عمارہ احمد نے پاپولر فکشن کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔
مرزا اطہر بیگ اُردو کی پوسٹ ماڈرن فکشن میں ہراول دستے کے آدمی ہیں۔ ہراول دستہ۔۔جو فتح کے جشن میں خود تو شریک نہیں ہو سکتا لیکن بعد میں آکر کامیابی اور کامرانی کے جھنڈے لہرانے والے انھیں بھرپور خراجِ عقیدت ضرور پیش کرتے ہیں۔
کوکبم را در عدم اوجِ قبولی بودہ است
شہرتِ شعرم بگیتی بعدِ من خواہد شدن
(میری قسمت کے ستارے کو اس دنیا میں نہیں بلکہ عدم میں قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ چنانچہ میری شاعری کی شہرت بھی میرے بعد ہوگی، جب میں عدم میں پہنچ جاؤں گا) غالب
یہ ناول سانجھ پبلیکیشنز مفتی بلڈنگ ٹمپل روڈ لاہور نے شائع کیا ہے اور 394 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 400 روپے مقرر کی گئی ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردع ڈاٹ کام لاہور