Categories
تبصرہ

میرا واہ کی راتیں: ایک تاثراتی جائزہ (نسیم سید)

میرواہ کی را تیں کی دوقسطیں میں نے آن لائن میگزین “لا ل ٹین ” پر پڑھی تھیں۔ دوقسطوں نے اس ناول کو پورا پڑھنے کی طلب دل میں پیدا کی مگربوجوہ بہت سا وقت یونہی گزر گیا۔ رفاقت حیات کی مہربانی کہ اس کا پی ڈی ایف انہوں نے مجھےبھیج دیا۔ میں نے اس ناول پر چونکہ کوئی تبصرہ نہیں پڑھا اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ اس کو تنقید کی کس کس دھارپردھرا گیا یا تعریف کی کون کون سی سند عطا کی لہذا مجھے صرف اپنے احساسات لکھنے ہیں۔ اس ناول کوپڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ دیہی زندگی کورفاقت حیات نےبڑی تفصیل سے جیا ہے، وہ اس ماحول کی خوشبواوربدبو، اس کے حسن اوربدصورتی اوراس ماحول میں پرورش پانے والے ہرفرد کی نفسیات، ان کے مزاج ان کے مذہبی عقیدے، جنسی رویے غرض پورے ماحول کوجانتے اورپہچانتے ہیں، شاید برسوں اس ناول کے کرداران سے مطالبہ کرتے رہے “مجھے لکھو” انہوں نے غربت کی ہربھوک کولوگوں کو بھوگتے دیکھا ہے۔ بھوک خواہ شہرت کی ہویا دولت کی، طاقت کی ہویا اقتدارکی،پیٹ کی ہویا بدن کی، بھوک بہرحال بھوک ہوتی ہے۔ بھوک اگرپیٹ کی ہوتو کوڑے سے روٹی چننے پرمجبورہوجاتی ہےاوراگرجسم کے فطری تقاضے فاقے سے ہوں تو رشتوں کا احترام ان تقاضوں کے سامنے ننگا ہوجاتا ہے۔ ہم آئے دن اخباروں میں محترم رشتوں کی پامالی کے حوالے سے نا قابل ِ یقین سانحات کی خبریںپڑھتے ہیں اوران مجرموں پرلعنتیں بھیجتے ہیں مگراکثر یہ نہیں سو چتے کہ کن روایات اورعقا ئد کی مضبوظ زنجیروں میں جکڑاماحول ہے، اور یہی ان پڑھ رواج ہیں،رٹائے ہوئے عقائد ہیں جورفا قت حیات کی میراواہ کی راتوں کے نذیر، اس کی چچی خیرالنسا اورشمیم جیسے کردارتخلیق کرتے ہیں۔رفا قت حیات گو ماہر نفسیات نہیں ہیں لیکن انہوں نے ان تین کرداروں کے وجود میں اتر کے پورے ماحول کی نفسیاتی الجھنوں اورجنس کی بے لگام خواہشوں کواپنے سا دہ وپرکاربیانیے کے جال میں سمیٹ لیا ہے۔ ناول میں انہوں نے ان تین کرداروں کی جنسی بھوک کی گتھی کی ہر گرہ کھول کر اس کا ایک ایک دھاگہ بڑے سلیقے سے الگ کرکے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے (میں یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ بھوک میں اور لت یا ہوکے میں بڑا فرق ہوتا ہے، اگر رفاقت حیات کو شہرت، دولت، عورت، طاقت، شراب یا جنسی لذت کی لت یا ہوکے کا بیان مقصود ہوتا تو بہت سی دیگر کہانیوں کی طرح یہ نا ول بھی اپنا تما شہ آپ ہی لگا لیتا )۔

“میرواہ کی راتیں “ہماری دیہی زندگی کے معمولی پڑھے لکھے نوجوانوں اوران عورتوں کی وہ سچا ئی ہے جس کی پرورش ہمارا ماحول، روایات، اورمذہب سب مل جل کے بڑی محنت سے کرتے ہیں۔ ناول کے مرکزی کردار نذیرجیسے سیکڑوں کردارہردوسرے تیسرے دن اخبار کی سرخی ہوتے ہیں، جنہیں ہش ہش کرکے چادروں سے ڈھانپ دیاجاتاہے۔ ا ن قصوں کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں،رفاقت حیات نے انتہا ئی ذہانت سے چھوٹی سی کہانی میں چند کرداروں کے ذریعے چیخ چیخ کےکچھ کہے بنا ایک محدودکینوس پران کی جذباتی کشمکش کی ہر سطح کواپنے برش سے شاندار اسٹروک لگا ئےہیں۔ “میرواہ کی راتیں” پڑھتے ہوئے ہمیں ان جزیات پر گہری نظر رکھنی ہوگی جو نذیرکی کہانی کے بین السطورگاوں کے اکثرنوجوانوں کی داستان سنا تی ہیں۔

کہانی کا مرکزی کردار نذیرایک حلوا ئی کا بیٹا ہے جس نے مارے باندھے آٹھویں تک پڑھ لیا ہے اوراب وہ اردو پڑھنے کے قابل ہوگیا ہے۔ نذیرکا مزاج ایک تو لڑکپن سے عاشقانہ ہے دوسرے اس کے نوجوان بدن میں تماشہ لگاتی دن رات نئی نئی انارومہتابیوں کی تپک کوسندھ کی ایک لوک کہانی ہاتھ آجاتی ہے۔ یہ سندھ کی قدیم لوک کہانی مومل کے کاک محل میں پروش پانے والی محبت کی لازوال داستان ہے اس لوک کہانی کی مومل اس قدر حسین ہے کہ ایک دنیا اس کے حسن کی دیوانی ہے۔ رانا، اس جیسا ہی حسین اوردلیرشہزادہ مومل کی عائد کردہ شرائط کو پوراکرکے اس کا دل جیت لیتا ہے۔اس کہانی میں عشق کی آگ کی لپٹیں ہر اس وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں جواس کوپڑھ لے۔ رفاقت حیات جیسے لکھاری لمبی چوڑی تفصیلات میں جانا پسند نہیں کرتے سو وہ نذیرکے ہاتھ میں یہ کہانی تھما کے الگ تھلگ بیٹھ جاتے ہیں ” مومل و رانا کی کہانی اسے بیحد پسند تھی ” ہم جانتے ہیں کہ نذیرایک نوجوان لڑکا ہے۔ جنت کی حوروں کے حسن کی جزیات اوران کےساتھ شب بسری کی تفصیلات کی شراب ہمارا مولوی لڑکپن سےہی مردوں کو جام بھربھرکے پلا نا شروع کردیتا ہے۔ سوا س کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں سمجھا گیا کہانی میں ہم خود بھی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ نشہ بچپن سے ہی کس طرح رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔ ایک طرف عورت کا ایسا نشہ آورتصوردوسری طرف عورت کی قربت تو دورکی بات اس کی ایک جھلک بھی میسرنہ ہواوراگرہو بھی تو کسی محترم رشتہ کی صورت میں تو وہ کہانیاں جنم لیتی ہیں جس کی میرواہ کی راتیں چشم دید گواہ ہیں۔ ہربڑا کہانی کارمعاشرے کے کسی ناسور، کسی واقعہ کسی سا نحہ کی نشاندہی کرتے ہوئےمعالج کا کردار نہیں ادا کرتا، منٹوکا ” کھول دو” اس کی لاجواب مثال ہے۔

رفا قت حیات نے یہ ناول جنسی تسکین کے لیے نہیں لکھا بلکہ انہوں نے بڑی ذہانت سے ان حقائق سے پردہ اٹھا یا ہے جونذیر، شمیم اورنذیر کی چچی جیسے سیکڑوں کی داستاں کا حصہ ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جو جلتی پرتیل کا کام کرتے ہیں۔ خیرالنسا کاشوہرساٹھ سال کا ہے اوروہ اس اس سے پچیس سال چھوٹی ہے۔ شمیم کا شوہربھی اس سے عمرمیں اتنا ہی بڑا ہے اوریہ کوئی عجیب بات نہیں بلکہ ہمارے
ان پڑھ اوردیہی ماحول میں اکثربہت چھوٹی عمر کی بچیاں اپنے سے تین گنا بڑے مردوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔ ان لڑکیوں کوبچپن سے گناہ اورثواب کے درس گھرکی عورتیں رٹا تی ہیں اور مرد ” غیرت کے نام پرقتل “کے کلہاڑے کندھوں پررکھےبنا کچھ کہے سمجھا دیتے ہیں کہ انہیں شک بھی ہوگیا توبیوی یا بہن جان سے گئی۔ ان تاکیدوں اوربندشوں کے بعد بھی کیسے وہ واقعات ہوجاتے ہیں جن کی خبریں ہم اخباروں میں پڑھتے ہیں اس کا سبب رفا قت حیات نے میرواہ کی راتوں میں دکھا یا ہے۔

نذیرکی پسندیدہ کہانی کی حسین مومل نذیرکے دل میں کسی حسین عورت کودیکھنے، اسے چھونے، اس کے ساتھ رانا کی طرح پرجوش وپرشوق راتیں گزارنے کی بے پناہ خواہش پیدا کرکے اس سے ٹرین اسٹیشن کے چکرلگواتی ہےاوربرقع میں لپٹی ہرعورت کواس کی نگاہیں ٹٹولتی ہیں “اس کا مشا ہدہ تھا کہ عورتیں بھی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتی تھیں” لہذا ٹرین اسٹیشن پرموجود بوڑھے شوہرکی نوجوان بیوی شمیم بھی نذیر کی نگاہوں کا جلد ہی مطلب سمجھ جاتی ہے اوراس کی وہ خوبصورت آ نکھیں جنہیں دیکھ کے وہ اس پرعاشق ہوگیا تھا، مسکرا اٹھتی ہیں۔ نذیر اسٹیشن سے لے کر گاوں تک برقع میں لپٹی شمیم کا پیچھا کرتا ہے۔ عورت کی جھلک کو ترسے ہوئے لڑکیوں کا پیچھا کرنے والے کرداروں کوکس نے نہیں دیکھا ہوگا۔ نذیرکا یہ رویہ اس جیسے ہی سیکڑوں کی نما ئند گی کررہا ہے۔۔ یہ ہراس نوجوان کی کہانی ہےجس کے دماغ میں بچپن میں ہی یہ بات کوٹ کوٹ کر بٹھا دی جاتی ہے کہ لڑکی سے ملناجلنا، بات کرنا شرمناک گناہ ہے لیکن جنس مخالف کی کشش ایک فطری تقا ضہ ہے سویہ تقاضے اپنی راہ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔۔۔اس کے برعکس جن جوانوں کو اپنی ہم عمرلڑکیوں سے ملنے جلنے بات کرنے کے بچپن سے مواقع ملیں وہ کسی عورت کی آنکھیں دیکھ کے اس پرعاشق ہوتے ہیں نہ ہی ان رشتوں پر جھپٹتے ہیں جن کا احترام ہر معاشرے میں متعین ہے۔

نذیرکے لا شعورمیں بسی مومل جیسی اب دوخوبصورت عورتیں ہیں جودین دارہیں، روزے نماز کی پابند ہیں شوہر کی اطاعت گزارہیں اس کے باوجود ان کے اندرکوئی خلا ہے، بدن کے وہ فطری تقاضے ہیں جن کا شوہرسے اظہار بھی ہمارے معاشرے میں عورت کے لیےبے شرمی سمجھا جاتا ہے۔ان تقاضوں کو جب اپنی طرف ملتفت ایک جوان ملتا ہے تو تربیت اورتاکید وں کے باندھے سارے بند ٹوٹ جاتےہیں۔ شمیم تک پیغام رسانی کی نذیر صورت نکال لیتا ہے چھوٹی سے ملاقات کے بعد شمیم خود نذیرکو اپنے گھر بلا بھیجتی ہے۔نذیراور شمیم کی مرادوں والی بے سدھ رات کے دوران ایک بلی اچانک چھت سے کود کے دونوں کو یوں بے مراد کر دیتی ہےجیسے کسی بھوکے کے ہاتھ سے اس کا نوالہ چھن جائے۔ اس اچانک رونماہونے والے سانحہ کا اثرنذیرپروہی ہوتا ہے جس کے تحت مرد شدید احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔رفاقت حیات نے کہانی میں بہت ذہانت سے اس واقعے اوراس کے اثرات پر اشارتاً بہت کچھ کہہ دیا ہے۔ گو نذیرکا دل شمیم سے اچاٹ ہوجاتا ہے لیکن ابھی اس کی چچی موجود ہے وہ خوبصورت عورت جواس کے کھوئے ہوئے اعتماد کو لوٹا سکتی ہے۔ خیرالنسا گناہ اوربدن کی فطری تقاضوں کے بیچ پستی روایتی جبرکی شکارلاتعداد عورتوں کی نما ئندہ ایک ایسی عورت ہے جوباپ کی عمرکے مرد کی جاگیر ہے۔ نذیرکی وارفتگی ایک مختلف ذائقہ اورنشہ ہے جودھیرے دھیرے اس کے احساس گناہ پرغالب آجاتا ہے۔ عورت کے لمس کوترستے ہوئے مردوں کی بھوک تسکین کے کیسے کیسے ذرائع ڈھونڈ لیتی ہے رفاقت حیات ایک چھوٹے سے منظرمیں پینٹ کرتے ہیں۔” دھیرے دھیرے وہ بلاؤز کو اپنی ناک کے قریب لے گیا اوراسے سونگھنے لگا۔ اسے سونگھتے ہوئے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ وہ خود کو کسی عورت کے قرب میں محسوس کرنے لگا۔ وصل کی سرشاری جیسی سرشاری اس پرطاری ہونے لگی” نذیر ہمارے کنفیوزڈ معاشرے کا وہ کردار ہے جوایسی عورت کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جوچند لمحوں کے لیے سہی اس کے لیے اپنے جسم کی آغوش وا کردے۔

نذیرگوچچی کے بارے میں سوچتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہے لیکن اس کے اردگرد کے توسارے ہی رشتوں پرمقدس رشتوں کا لیبل لگا ہے۔ عورت کی قربت کا فطری تقاضہ جب فاقوں سے تنگ آجائے توکوڑے پرسے بھی روٹی چن کے کھالیتا ہے۔ یہی حال ادھرخیرالنسا کا بھی ہے ” میں جانتی ہوں یہ گناہ ہے، بے حیائی ہے مگرتو خود سوچ اس کے اورمیرے درمیان کتنا فرق ہے ” رفاقت حیات کو مومل اوررانا جیسی کوئی عشقیہ داستان تحریر نہیں کرنی تھی۔ انہیں توان تین اہم کرداروں کے ذریعہ زمین کی تین تہوں تک اتری سماجی،معاشرتی اور مذہبی جکڑبندیوں کی ان جڑوں کی نشاندہی کرنی تھی جودن بدن گھنی سے گھنی ہوتی جارہی ہیں ان وحشتوں کو اجاگر کرنا ہے جو اندر ہی اندرگھن کی طرح پوری تہذیب کو کھا رہی ہیں یا کھا چکی ہیں۔ زندگی کے ہرشعبہ میں ہرطورطریقے میں دوہرا معیار رکھنے والے ہمارے معاشرے میں پچیس سال کا مرد سا ٹھ سال کی عورت سے شا دی کرلےتوعورت سمیت پورا معاشرہ حیرت سے انگلیاں چبا ڈالے۔ مگر ساٹھ سال کے مرد کی پچیس تو کیا تیرہ چودہ سال کی عمر کی لڑکیوں سے شا دی کی لا تعداد مثالیں موجود ہیں اور سب چپ ہیں۔ یہ گائے بکری جیسی عورتیں جس کھونٹے سے دل چا ہے باندھ دی جا ئیں۔ سات سال کی لڑکی تا وان میں سترسال کے بڈھے کو دے دی جا ئے جرگے کے فیصلے اس رواج کوکاری نہیں کرتے۔ ان حبس زدہ رواجوں، جرگوں، مولویوں اور عزت کے رکھوالوں میں ” کا ری ” اور” کارا” کرکے قتل کردینے کی روایت برسہابرس سے جوں کی توں قائم ہے۔ ہمارے حبس زدہ معاشرے کی نما ئندگی کرنے والے ان تین کرداروں کے مطالعہ سے یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مذہب نے ذہنوں کی تربیت کرنے میں کیا اہم کردارادا کیا ہے ؟

رفاقت حیات کا ” میرواہ کی راتیں” اپنے فکری اعماق،فنی وسعت، چست بیا نیے، خوبصورت اسلوب اورموضوع پرگہری گرفت رکھنے والا ایک ایسا ناول ہے جو ہماری دیہی زندگی میں پلنے والے نوجوانوں اورکسی بھی کھونٹے سے باندھ دی جانے والی لڑکیوں کی داستان نہیں بلکہ فلم ہے جوہرمنظرکو تمام ترجزیات کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ یہ وہ سچا ئیاں ہیں جن سے ہم نظریں توچرا سکتے ہیں لیکن انہیں جھٹلا نہیں سکتے۔

Categories
شاعری

واشنگٹن کی کالی دیوار (نسیم سید)

اپنی فیروز بختی پہ نازاں
سیہ پوش دیوار پر
آب زرسے لکھے نام
پڑھتےہوئے
میری آنکھیں پھسلتی ہوئی
نیہہ پر جا گریں
الغِیاث! الاَماں!
ایک بستی کے جسموں کا گارا
سیہ ماتمی مرمروں کے تلے
اس کی بنیاد کا رزق تھے
زائرین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوُق در جوُق
اس غم زدہ دل گرفتہ کو
اشکوں کے نذرانے دیتے
فقط آب زرسے لکھے نام گنتے ہوئے
اور وہ جن کی تعداد گننے کو
گنتی کا کوئی عدد ہی نہ تھا
جن کے جسموں کے گارے سے تھاپی ہوئی خشت
تھامے تھی دیوار کو
کوئی اک اچٹتی ہوئی سی نظر بھی ادھرنہ گئی
میری آنکھیں دھنسی جا رہی تھیں
پگھلے جسموں کی دلدل میں
آنکھیں دھنسی جا رہی تھیں
کہ دیوار کی ایک ٹھوکر۔۔۔
حقارت بھری ایک ٹھوکر نے
واں سے کہاں لا کے پھینکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری سو سالہ غربت۔۔۔ خجالت کی تاریخ ہے
میرا ماحول ہے
اور میں ہوں
شراب طہورہ کی
خواہش، طلب اورلذت میں دھت
اپنی گرتی حویلی کی چوکھٹ سے لپٹی
مری نیم مردہ سی آنکھیں ہیں
سوچیں ہیں، نظمیں ہیں
اورآب زر سے لکھے نام
مجھ پر ہنسے جا رہے ہیں
اونچا اونچا ہنسے جا رہے ہیں
Image: Kamran Taherimoghaddam

Categories
شاعری

آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے
ایک عورت کو بس
سانس لینا ہی کافی نہیں
اس کو لازم ہے وہ
کوہساروں کی آواز سنتی ہو
نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو
اسے علم ہو
وہ زن باد شب
جانتی ہو کہ
کیسے طرح دے کے سب گھٹنائیوں کو نکل جائے
کیسے وجود اپنا خود میں سمیٹے
یہ سب
یہ سارا کچھ
اس کو معلوم ہو

اس کو لازم ہو
وہ جانتی ہو
اسے سب خبر ہو
مجھے دیکھو
میں بھی وہی ہوں
زن باد شب
لیکن اس آگ کو
میں نے کیسا چراغوں میں ڈھالا ہے
کس طرح اب میری آواز کی
گونج ان بے کراں وسعتوں میں فضاؤں کی

سنو
میں بھی تم میں سے ہوں
کوئی تم سے الگ تو نہیں
مگر میں زن بادِ شب
نیلگوں آسمانوں کا ایک سلسلہ ہوں
میں اب
سینڈیا کے پہاڑوں کی آواز ہوں
ہاں میں وہی ہوں
وہی۔۔۔۔ وہ زن باد شب
ایک اک سانس میں اپنی جلتی تھی جو
Image: firelei baez

Categories
شاعری

جنگ سخت کوش ہے

عراقی نژاد امریکی شاعرہ دنیا میخائل
انگریزی سے ترجمہ سلمیٰ جیلانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار
صبح سویرے
سائرنوں کو جگاتی ہے
اور ایمبولینسوں کو
مختلف علاقوں میں بھیجتی ہے
لاشوں کو ہواؤں میں جھلاتی ہے
اسٹریچروں پر زخمیوں کو لادتی ہے
ماؤں کی آنکھوں سے
بارش کے سندیسے بھیجتی ہے
زمین کھود ڈالتی ہے
بہت سی چیزیں
کھنڈروں کے اندر بے ٹھکانا کر دیتی ہے
ان میں سے کچھ بے جان اور گیلے پن سے دمکتی ہوئی
اور کچھ زرد رو، ابھی بھی تڑپتی ہوئی
یہ سب سے زیادہ خیال پیدا کرتی ہے
بچوں کے ذہنوں میں
دیوتاؤں کا دل بہلاتی ہے
آسمان میں آتش بازی اور میزائل چھوڑ کر
کھیتوں میں بارودی سرنگوں کی بوائی کرتی ہے
خاندانوں کو ہجرت پر اکساتی ہے
پیشواؤں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے
جب وہ شیطان پر لعن طعن کرتے ہیں
(غریب شیطان ایک طرف آگ میں جھلستا ہے)
جنگ مسلسل کام میں لگی رہتی ہے،
دن دیکھتی ہے نہ رات
یہ ظالموں کا حوصلہ بڑھاتی ہے
کہ وہ لمبی لمبی تقریریں کریں
جرنیلوں کو تمغوں اور شاعروں کو موضوعات
سے نوازتی ہے
مصنوئی اعضاء کی صنعت کو بڑھاوا دیتی ہے
مکھیوں کو کھانا کھلاتی ہے
تاریخ کی کتابوں میں نئے صفحات جوڑتی ہے
قاتل اور مقتول میں مساوات قائم کرتی ہے
عاشقوں کو ایسے خط لکھنا سکھاتی ہے
کہ نوجوان لڑکیاں ان کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو جائیں
اخباروں کو تصویروں اور مضامین سے بھر دیتی ہے
یتیموں کے لئے نئے گھر تعمیر کرتی ہے
کفن بنانے والوں کو توانائی بخشتی ہے
قبریں کھودنے والوں کی پیٹھ ٹھونکتی ہے
اور سیاسی رہنما کے چہرے پر مسکراہٹ پینٹ کرتی ہے
وہ ناقابل بیان محنت سے کام کرتی ہے
پھر بھی
ابھی تک
کسی نے ایک لفظ اس کی تعریف میں نہیں کہا
Image: Wissam Al Jazairy

Categories
شاعری

ہمارے لوگ

اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟
ہم سب اپنے اپ سے جھوٹ بولتے ہیں
کہ “ہم ٹھیک ہیں”
لیکن ہماری روحوں کے کھلے ہوئے زخموں سے
لہو بہہ رہا ہے
ہم سب مل کے
اپنے اپنے زخموں کو سینے سے لگائے
چپ چاپ انہیں سہلاتے رہتے ہیں
لیس کورٹ اور ریلز کی برف پگھل رہی ہے
کینڈین گیز گھروں کی طرف لوٹ رہی ہیں
واشنگٹن سکوائر پارک میں
درختوں پر سبزہ پھوٹ رہا ہے
اور سبز جیکٹ والے فوجی
اپنی طاقت کا اشتہار بانٹ رہے ہیں
وہ ایک دوسرے سے سر گوشی کرتے ہیں
“جوڑ جوڑ ڈھیلے پڑ چکے ہیں”
“دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جوڑ جوڑ سے ڈھیلے پڑ چکے ہیں”
اور میں بنچ پر بیٹھی
سورج کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہوں
مجھے اپنا گھر یاد آرہا ہے
میں اپنے کھیتوں کی ہوا سو نگھ رہی ہوں
میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں برچھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے

Categories
شاعری

میں جا چکی ہوں

میں اپنے ہونے کے اورنہ ہونے کے
مخمصے سے
نہ جانے کب کی
نکل چکی ہوں
تمہاری حد سے گزرچکی ہوں
یہ وقت کی ڈور ہے، جو چرخی سے میری
ہنس کے لپٹ رہی ہے
یہ رنگ جیسے ، پتنگ جیسے
حسین موسم ہیں ، تالیاں جو بجا رہے ہیں
یہ گٹھڑیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم سنبھالو اپنی
تمہاری چالا ک سرحدوں سے
نہ جانے کب کی
میں جا چکی ہوں
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

ہماری نظمیں تمہاری جی حضوری نہیں کریں گی

ہم جانتے ہیں
تم ساری ترکیبیں جانتے ہو
تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے گر آتے ہیں
شہرت کی بخششیں
گمنامی کی ذلتیں
تمہارے دربار سے عطا ہوتی ہیں
مگر انہیں جو اپنا وجود
تمہاری شرائط کے قدموں میں ڈال دیں
تب معجزہ ہوتا ہے
اورتم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنکر کو موتی
اور ردی کو صحیفہ
ثابت کردیتے ہو
مگر۔۔۔ تم نہیں جانتے
ہماری نظمیں
تمہاری شرائط کو ٹھوکر پہ رکھتی ہیں
یہ تمہاری جی حضوری نہیں کریں گی

Image: Naji al-Ali

Categories
فکشن

جہاد النکاح

“اپنے دین کو بچا نے کے لئے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کی قسم کھاتے ہیں”

 

المدینہ نے باقی دس لڑکیوں کے ساتھ آواز میں آواز ملائی لیکن اس کی آواز کا جوش الگ ہی سنائی دے رہا تھا ۔
عائشہ نے المدینہ کا کندھا پیار سے تھپتھپایا۔

 

“تم پر خدا کی رحمت ، ہو مجھے یقین ہے کہ تم اللہ کی پسندیدہ ہو”
عائشہ جو ان لڑکیوں سے عمر میں کافی بڑی تھی اب اس نے کچھ اور بلند آوا ز میں لڑکیوں کو مخاطب کیا

 

میں نے آپ کو یہ قسم دہرانے کو اس لئے کہا کہ آپ کی آواز کی سچائی اور جوش نہ صرف اللہ پاک کے حضور سربسجود ہے بلکہ امیر ابو ربا ب بھی سن رہے ہیں اور گواہ ہیں آ پ کی ہمتوں کے، آپ نے چھ ماہ میں اپنا ہر مشن نہایت شاندار کامیابی سے پورا کیا اور اب اللہ کی منتخب عورتوں میں سے ہیں۔ ہمارے امیر حضرت ابورباب نے بہت خا ص لڑکیوں کا انتخاب کیا ہے اس محترم کام کے لئےجو آپ کو جنت میں اعلی درجہ پر فائز کر ے گا اور وہ دس خوش نصیب آپ ہیں۔

 

امیر ابورباب کا نام سنتے ہی لڑکیوں نے ادب سے اپنے ہاتھ سینے پر باندھ کے سر جھکا لئے تھے ۔
“آپ سب کو معلوم ہے کہ ہمارے مرد اپنے دین کی حفاظت کے لئے اپنے جسموں سے بارود باندھ کےخود کو قربان کرنے میں بھی ذرا سی دیر نہیں کرتے ،،
وہ ایمان کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔ کیا ہماری جان، ہمارے جسم ہمارے مال کی اللہ کی راہ میں جہاد کے آگے کوئی اہمیت ہے؟
“نہیں ہے، ہمارا سب کچھ قربان اس کے نام پر” لڑکیوں نے جوش سے کہا ۔
“جو بھی اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو ہم اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے”
“یہی ہے نا ہماری قسم؟”عائشہ نے اونچی آواز میں پوچھا۔
“یہی ہمارا ایمان ہے مادام”ا لمدینہ نے بلند آواز میں جواب دیا۔
“تو اب یہ قسم پوری کرنے کاوقت آ گیا ہے”
لڑکیوں نے جوش سے تالی بجائی ۔

 

“ہمارے مرد اپنے بیوی بچوں سے دور رہ کے خدا کی راہ میں جہا د کررہے ہیں۔اللہ ان کو اپنے خاص بندے مانتا ہے اور آپ کو منتخب کیا گیا ہے اس سعادت کے لئے کہ ان کے کام آئیں حضرت ابورباب نے اللہ کی ہدایت پر فتوی جاری کیا ہے ۔ آپ سب جانے کی تیاری کریں سعادت کا یہ سفر بہت مبارک ہو آپ کو۔”

 

ہم کہاں جارہے ہیں مادام ؟ فروا کی آواز سے خوشی کی جھلک رہی تھی ۔
عائشہ گہری نظروں سے کچھ سیکنڈ فروا کو دیکھتی رہی پھر غصہ کی ہلکی سی آمیزش سے فروا سے مخاطب ہوئی۔

 

“کیا آپ کو تاکید نہیں ہے کہ کبھی غیر ضروری سوال نہیں کریں؟

 

فروانے گھبرا کے ہاتھ سینے پہ باند ھ لئے اوراقرا رمیں سرہلایا ۔

 

ماہم کچھ کہنا چاہ رہی تھی لیکن اس سے پہلے فروابول پڑی تھی اورعائشہ نے یہ دیکھ لیا تھا لہذا اب وہ ماہم سے مخا طب ہوئ ی۔
“ ماہم جوسوال ادھورا چھوڑدیا تھا پوچھیں “

 

ماہم گھبرا گئی اوراٹک اٹک کے بولی۔ “ جی۔۔۔ نہیں۔۔ مادام۔۔ کوئی سوال نہیں ہے“
“مجھ سے ادھوری بات کرنے کی اجازت نہیں ہے آپ لوگوں کو، کیا کہہ رہی تھیں آپ ؟ “ عائشہ نے غصہ سے ایک ایک لفظ پر زور دے کے کہا ۔

 

ماہم ؔنے نظریں جھکا کے اور ہاتھ سینے پر باندھ کے ڈری ڈری سی آواز میں سوال کیا
“ہمارے سپرد کیا کام ہے مادام؟”

 

عائشہ نے ایک گہرا سانس لیا ۔ اب وہ مسکرا رہی تھی ۔

 

“آپ سب کو جہاد کی سعادت کے برابر سعادت نصیب ہوئی ہے ۔ ہمارے جہادی اپنے جسم اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی طلب میں بے چین ہیں لیکن کتنا عرصہ لگ جائے اس قربانی کی قبولیت میں اس کا انہیں اور ہمیں علم نہیں ۔ میرے لئے اور آپ سب کے لئے اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ ہم دل و جان سے ان کی ہر خدمت کے لئے مستعد رہیں”

 

عائشہ نے جوش سے کہا ۔پھر کچھ سوچ کے وہ چند سیکنڈ ماہم کے چہرے پر نظریں گاڑے اسے کڑی نظروں سے دیکھتی رہی اور اس کے قریب آ کے اس کاجھکا ہوا سر ایک جھٹکے سے اوپر کیا ، اب اس کا لہجہ میں چنگاریاں سی بھڑک رہی تھیں ۔

 

“کیا تمہارے دل میں شیطانی وسوسے جگہ لے رہے ہیں ؟ ماہم نے جلدی سے انکار میں سر ہلایا اس کے لہجہ میں خوف کی کپکپاہٹ تھی ۔

 

“ مجھے معاف کردیں مادام ، میں نادم ہوں ، مجھ سے بڑا گناہ سرزد ہواہے “

 

“ درست کہا ، اللہ کے حکم پر کسی سوال کی گنجائش نہیں، آپ کو کہاں جانا ہے، کیا کرنا ہے اللہ کی اطاعت اورامیر ابورباب کے پیغام کے بعد کسی سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیا ہماری تربیت میں میں کمی رہ گئی اورکیا ہم نے جہاد کے لئے آپ کا انتخاب غلط کیا؟”
عائشہ اپنی جگہ پر واپس گئی اور پھر ساری لڑکیوں سے مخاطب ہوئی:

 

“آپ کو مجاہدین کے لئے امیر ابوربا ب نے اللہ کے حکم سے حلال قرار دیا ہے۔ یاد رہے ہم نے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے ہمارا سب کچھ اس کا ہے اور یہ سب کچھ آپ اللہ کے حکم پرکر یں گی”
ماہم کے اندر بے چینی کی ایک اونچی لہر اٹھی، وہ پھرکچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس کی آواز اس میں ٹوٹ ٹوٹ کے بکھر گئی۔
“میں تو شادی شدہ۔۔۔۔ اور میرا شوہر؟”پھراس نے جلدی سے اپنا سرجھٹکا ۔دل میں توبہ کا ورد کیا
“میری توبہ قبول کرمالک، میرے وسوسے شیطانی ہیں، امیر ابور باب کے فتوی پر صدقِ دل سے ایمان رکھتی ہوں “
عائشہ اپنی بات ختم کرچکی تھی ۔
لڑکیوں نے اللہ اکبر کاپر جوش نعرہ لگایا اور بلند آواز سے کہا ۔
“پرور دگار دین کے لئے ہماری رضا قبول کر”
ماہم نے آنکھوں سے آنسوپوچھے اور آنکھیں بند کرکے صدق دل سے آمین کہا ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

گاڑی کے شیشوں پر گہرے سیاہ شیشے ہونے کے سبب باہر کا منظر لڑکیوں کو نظر نہیں آ رہا تھا ۔ان کی تربیت ہنسی مذاق کی اجازت نہیں دیتی تھی اور ایک دوسرے سے صرف ضروری بات کرنے کی اجازت تھی لہذا سب خاموشی سے سفر کررہی تھیں لیکن ان کے چہرے سے تھکن عیاں تھی ۔اس گاڑی میں صرف چار لڑکیاں تھیں اور انہیں بالکل علم نہیں تھا کہ باقی لڑکیوں کو الگ الگ گاڑیوں میں اورمختلف اوقات میں سفر کرنا تھا ۔ تربیت کیمپ میں لڑکیوں کو گھڑی پہنے کی اجازت نہیں تھی ۔ کیوں نہیں تھی نہیں تھی؟ انہیں ایسا کوئی سوال پوچھنے کی اجازت نہیں تھی ۔ تھکن سے چور اونگھتی ہوئی ایک لڑکی نے دوسری سے پوچھا
“ ہم کتنے گھنٹوں سے سفر کررہے ہیں ؟”

 

“ آرام کرو آنکھیں بند کرکے فضول سوال مت کروـ” اس لڑکی نے درشت لہجہ میں کہا جس کو عائشہ نے “ٓآپ سب کی رہنما” کہہ کے تعارف کرایا تھا اور جس کو ان لڑکیوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

 

رات کے گہرے اندھیرے میں گاڑی اونچی اونچی دیواروں والے احاطہ میں داخل ہوئی اورگیٹ کو واپس بند کردیا گیا ۔ڈرائیور نے گاڑی ورانڈے کے قریب لا کے کھڑی کی ۔ لڑکیوں کی رہنما لڑکی سب سے پہلے اتری اوراس کے پیچھے با قی لڑکیاں ورانڈے سے ملحق ہال میں داخل ہوئیں ۔ ہال کےاندرسامنے کی دیوار میں ایک دردوازہ تھا جوبند تھا اور ایک نقاب پوش شانے سے بندوق لٹکا ئ کھڑا تھا اس نے دروازہ کھولا اور رہ نمالڑکی کے ہاتھ میں ایک لال ٹین تھما دی ۔ وہ سب ایک سرنگ نما راستے پر چلتی ہوئی ایک اورلق ودق ہال میں پہنچیں جس کے چارونطرف چھوٹی چھوٹی کو ٹھریان بنی ہوئی تھیں ۔ ہال میں لالٹینوں کی ہلکی ہلکی روشنی میں لڑکیوں نے چار عورتوں کواپنی طرف آتے دیکھا۔ان عورتوں نے قریب آ کے بھی اپنے چہرے سے نقاب نہیں ہٹا ئی اوربنا کچھ بولے ایک ہاتھ سینے پر رکھ کے لڑکیوں کی محافظ کوجھک کے تعظیم پیش کی پھر باری باری سب نے لڑکیوں کے ہاتھ پکڑکے اپنے ماتھے سے چھلائے تھوڑا سا جھک کے بہت ادب سے اپنے پیچھے آنے کی اشارے سے درخواست کی ۔ چاروں لڑکیاں الگ الگ کوٹھریوں میں پہنچا دی گئیں۔ان کوٹھریوں میں ایک جیسا سامان تھا۔۔ کوٹھری کی ۔ایک دیوار کے ساتھ بچھا ہوا گدا جس پر ہرے رنگ کی چادر بچھی ہوئی تھی ۔سامنے کی دیوار کے ساتھ لکڑی کے کھوکھے پر جائے نماز اور قرآن مجید، اورسلے ہوئے کپڑوں کا ایک پیکٹ جس میں ہرے رنگ کے دو جوڑے کپڑے ۔اسی کے ساتھ ذرا ہٹ کے دیوار پر کپڑا ٹانگنے کی کھونٹی سب کوایک سی ہری چا دریں اورایک سا ہرے رنگ کالباس دیا گیا تھا ۔

 

لڑکیاں تھکن سے چور تھیں اپنے اپنے کمرے میں پہنچ کے بے سدھ ہوکے گدے پر گریں اور سو گئیں۔

 

ناشتہ کے وقت تمام لڑکیوں کی ان ہدایات کی ایک ایک کاپی بانٹ دی گئی جس میں ان کی دن بھر کی مصروفیات کی تفصیل اور دیگر ہدایات درج تھیں ۔اس ہدایت نامہ میں دن کو چار گھنٹہ سونے کو بھی دیا گیا تا کہ رات کو جہاد کی عبادت ادا کرتے وقت ان کے چہروں پر تھکن نہ ہو۔

 

المدینہ دس لڑکیوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی ۔ اس کی گہری سبز آنکھیں، سو رج کی کرنوں جیسےسنہرے، گھنے اورلمبے بال، بہت مہارت سے تر اشے ہو ئے سنگ مرمر کے مجسمے جیسا دودھیا بدن بھوکے جہادیوں کے لئے جنت کے توشے جیسا تھا سو سب کی بھوک اس پر ٹوٹ پڑی وہ سب اس کو نوالہ نوالہ توڑ کے کھا رہے تھے۔ ۔جس کا جی چاہتا تین بار اللہ اکبر کہہ کے اسے حلال کرلیتا ۔ پندرہ دن گزر چکے تھے ۔ المدینہ اپنے سوندھے بدن کی خوشبو ایک کے بعد دوسری پلیٹ میں دھرتے دھرتے اب خود کو کسی جھوٹی پلیٹ جیسا ہی محسو س کرنے لگی تھی ایسی پلیٹ جس کو وہ جیسے ہی دھوتی پھر جھوٹی ہو جاتی ۔وہ گھبرا گھبرا کے استغفار کی تسبیح پڑھتی جب اس کے اندر کے فخر پر اسے کائی جمتی محسو س ہوتی ۔”پروردگار دیں کے لئے میری رضا قبول کر ، مجھے خود پر فخر کرنے کی توفیق عطا کر، یہ کون سا بے دینی کا گدھ ہے جو مجھے اندر سے نوچ نوچ کے کھا رہا ہے؟ میں اپنے فرض کو ادا کرتے ہوئے اپنے وعدوں سے مکرتا کیوں محسو س کررہی ہوں خود کو۔ میری مدر فرما میرے معبود”اس کا چہرہ آنسووں سے تر ہو جاتا توبہ استغفا ر کرتے ہوئے ۔ لیکن دن رات کی مشقت اس کی تر بیت کو پھر سے ادھ موا کرنے لگتی ۔

 

المدینہ ، ماہم ، دعا اور باقی ساری لڑکیاں صرف کھانا کھانے ، با جماعت نماز پڑھنے یا جنگی مشقوں کے لئے اکھٹا ہوتی تھیں باقی وقت وہ کب کس کے تصرف میں ہوں گی انہیں خود معلوم نہیں ہوتا ۔ لیکن جب وہ ایک جگہ موجود ہوتیں تو ان کی آ نکھون کی ویرانی اور بدن کی تھکن ایک دوسرے سے مخا طب رہتی تھی ۔ انکے اندر کا خوف انکی زبانیں کا ٹ چکا تھا انکی تربیت انہیں اپنی زنجیروں میں جکڑ کے خا موشی کی کال کوٹھڑی میںبند کرچکی تھی ۔ لیکن بدن چیخ چیخ کے فریاد کرتا سنا ئ دیتا ایک دوسرے کو جس کو وہ استغفار کی تسبیح کے ورد سے چپ کرا دیتیں۔ اس دن ساری لڑکیا ں مغرب کی نمازکے لئے اکٹھا تھیں ماہم بھی مو جود تھی لیکن اس حال میں جیسےاس پر کوڑے برسائے گئے ہوں اس کے ہونٹوں کے کنا رے پر خون جما ہوا تھا ،چہرے پر نیل اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں ۔ اس نے نہ وضو کیا نہ نما ز پڑھی نہ ہی کسی کے سوال کا کوئی جواب دیا بس سر جھکائے اپنی سوچوں میں غرق بیٹھی رہی ۔نماز ختم ہوتے ہی عائشہ دو مجاہدین کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہوئی اور ماہم کو گھسیٹے ہوئے وہ لوگ باہر لے گئے ۔ دوسری صبج لڑکیا اس گرا ونڈ میں لے جائی گئیں جہاں ماہم کے سر پہ شیطانی سایہ ہو جانے اور دیں کے احکامات سے روگردانی کرنے کے سبب موت کی سزا سنا ئی جانی تھی ۔ ما ہم سر سے پیر تک سیاہ برقعہ میں لپٹی دو برقع پوش عورتوں کی ہمراہی میں لڑ کھڑاتی ہوئی بیچ میدا ن کے لا ئی گئی گھٹنوں کے بل اسے زمیں پر بیٹھایا گیا ایک مجاہد آگے بڑھا اس نے بلند آواز سے ماہم کے گناہ گنوائے ”یہ اللہ کے فرمان پر سوال اٹھاتی ہے، اس نے ایک جہادی کے منہ پر طمانچہ مارکے دین کے منہ پر طمانچہ مارا ہے اور جہاد النکا ح کے نام پر چیخ چیخ کے گالیاں بک کے توہینِ فرمانِ رسالت کی مرتکب ہوئی ہے اور ایسے مرتد کی سزا موت ہے ۔بیشک بیشک اور اللہ اکبر کے پر جو ش نعروں سے میدان گونج رہا تھا ۔ ایک جہا دی کی بندوق نے ماہم کے سر کا نشانہ لیا ۔ لڑ کیوں نے گھبرا کے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا ان کا بدن تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ نشانہ گو ماہم کے سرکا لیا گیا تھا لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ اس ایک گولی نے باقی لڑکیوں کے بچے کھچے وجود کو بھی پھٹکی پھٹکی کرکے ان کے اندر دور دور تک بچھے خوف کے کوڑے دان پر ڈال دیا ۔ المدینہ کی عجب کیفیت تھی اسے لگ رہا تھا کہ ماہم کا خون زمیں پہ نہیں بلکہ اس کی رگوں میں جم رہا تھا۔ ماہم کی آخری چیخ اسے اپنے سینے میں تڑپتی محسوس ہورہی تھی ۔ المدینہ اس واقعہ کے بعد وہ المدینہ نہیں رہی جو جہا د کےجذبہ سے سر شار تھی اب وہ اپنی سوچو ں پر گھبرا گھبرا کے استغفار کی تسبیح نہیں پڑھتی تھی بلکہ اب تو اسے اپنے بدن سے سڑے ہوئے مردار جیسی بو آتی محسو س ہوتی تھی مقدس گدھ جتنا نوچ نوچ کے اس کا بدن کھاتے اس کی روح میں نئی سوچوں کے اتنے ہی اکھوے پھوٹ رہے تھے۔ ماہم کے سانحے پر کسی لڑکی نے کوئی ردعمل نہیں دکھایا سوا ئے اس کے کہ اب ان کی آنکھوں میں خوف کی تہہ کچھ اور دبیز ہو گئی تھی ۔

 

تمام معاملا ت اس سانحے کے فوراً بعد ہی معمول پر آگئے یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگرالمدینہ کواپنے بدن سے کٹر کی بدبوابلتی محسوس ہو رہی تھی اوراندر کوئی آ گ تھی جواسے پھونکے دے رہی تھی ۔وہ اپنے کمرے میں دیوانہ وار چکرلگا تی اوردعا کرتی “ کوئی راستہ سجھا دے مرے معبود یہاں سے نکلنے کا یا مرجانے کا ۔ اس کی ہرسانس دعا بن گئی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ یہاں سے زندہ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔اسے ہررات مرنا ہوگا اورہرصبح اس خبیث گدھ کا شکرانہ ادا کرنا ہوگا جس نے اس کی جسم کونوچ نوچ کے کھایا ہو ۔المدینہ کوہرچیز سے نفرت ہوتی جارہی تھی ۔جانمازپربیٹھتی توصف ایک ہی گردان ہوتی اس کے اندر۔” میرے معبود اس ذلت کی زندگی کے بجائے مجھے موت دے دے۔”

 

۔ المدینہ کے حسین بدن کا ذائقہ جب مجاہدین کانشہ بڑھاتا تو وہ ایک دوسرے کو اپنی اپنی سرشاریاں اور اپنی اپنی فتوحات کی دا ستان مزے لے لے کے سناتے ۔ یوں امیرابو رباب تک بھی اس حسن بے مثال کی دا ستان پہنچ گئی ۔انہیں افسوس تھا کہ سا ت مہینے سے تربیت کیمپ میں موجود ہونے کے باوجود انہوں نے ا س کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی ان کے اندر کی بیتا بی ہاتھ مل رہی تھی، بپھر رہی تھی، ڈکار رہی تھی ۔وہ کئی دنوں تک گہری سو چ میں غرق رہے اور پھر ان کی آنکھوں میں وہی مخصوص چمک در آئی جو ہر فتوی سے پہلے نظر آتی تھی ۔انہوں نے مادام عائشہ کو فوراً طلب کیا ۔

 

“آج لڑکیوں کی نشانہ بازی کی تربیت کا ہم خود جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ ہمیں اطلا ع ملی ہے کہ المد ینہ نامی لڑکی سر کش ہے اور وہ جہاد کی تر بیت میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں رکھتی؟
عائشہ نے حیرانی سے جواب دیا ۔

 

“ایسا نہیں ہے میرے آقا ۔ بلکہ اسک ا نشانہ تو کبھی چوکتا ہی نہیں ۔ یہ اطلا ع بالکل غلط ہے آپ خود جائزہ لےسکتے ہیں”

 

“ٹھیک ہے ۔ ہم خود جائزہ لیں گے”

 

ٹریننگ کے وقت لڑکیاں سر پرصرف حجاب لیتی تھیں ۔ عائشہ نے ابورباب کی مو جودگی کی خوشخبری سنائی لڑکیوں کو اور سب سے پہلے المدینہ کا نام پکارا گیا ۔

 

المدینہ بندوق کا نشانہ باندھے زمیں پر مخصوص پوزیشن میں لیٹی تھی اور ابورباب کی بھوکی آنکھیں اس کی چا ندی کی صراحی جیسی گردن سے ہو تی ہوئی جسم کے چپہ چپہ کی سیر میں مصروف تھیں ۔ ابو رباب کو ایسا مدہوش کن نظارہ اس قیامت خیز حسن کی طلب کی بھٹی میں ڈال بھون رہا تھا ۔ المدینہ کا ایک بھی نشانہ خطا نہیں ہوا تھا ۔ ابو رباب مرحبا مرحبا کو ورد کرتے ہوئے المدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئے۔ ان کا جی چا ہ رہا تھا کہ اسی وقت اسے اپنے سینے سے لگا کے اپنی خواب گاہ میں لے جا ئیں لیکن اپنے مر تبے کا خیال صرف المدینہ کے سر پا ہا تھ رکھنے پر مجبور کررہا تھا ۔ دوسرے دن ابورباب نے پھر ما دام عائشہ کو طلب کیا ۔
“مادام عائشہ ۔ ہمیں المدینہ کے بارے میں خا ص ہدا یات سر کار دوعالم کی جانب سے مل رہی ہیں ۔ میری جان فدا ہو میرے سرکار کے فرمان پر۔ میں ان کے غلا موں کا غلام بہت گڑ گڑایا ان کے حضور کہ مجھے سوائے ان کی غلامی کے اور کو ئی کام نہ سونپا جائے مگر آقا کا حکم ماننا غلام کا فرض اولین ہے ۔ اس لڑکی کو اپنے مشن کی کامیابی کے لئے ہمیں بذات خود تر بیت دینے کی تاکید فرمائی ہے آقا نے ۔ اسے ہماری خدمت میں پیش کیا جا ئے مادام عائشہ ۔ امیرابورباب کی لہجے میں رقت آمیز جلال تھا ۔

 

“جو حکم میرے آقا”عائشہ نے جھک کے تعظیم پیش کی ۔

 

المدینہ نے عائشہ کا سنایا امیرابو رباب کاپیغام سر جھکا کے سنا لیکن اس کے چہرے پر کسی قسم کے تا ئثرات نہیں تھے نہ غم کے نہ خوشی کے نہ فخر کے ۔ عائشہ نے حیرانی سے سوال کیا “المدینہ کیا تم اتنے بڑے اعزاز پر خو ش نہیں ہو”

 

“ما دام۔۔۔ خوشی اور غم موت اور زندگی سب کے معنی اب بدل چکے ہیں میرے لئے ۔ میں اس خبر کو اپنی کسی مراد کی قبولیت جیسا سمجھ کے اندر سے سر شا ر ہوں ۔ میں اپنے کسی فیصلے کے سامنے سرخرو ہونے جا رہی ہوں اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوگی ، میری دعا قبول ہوئی، ما لک کی شکر گزار ہوں ، میں اس حکم کو خدا وند کا ایک عظیم فیصلہ سمجھ رہی ہوں ۔

 

عائشہ نے خوشی سے اسے سینے سے لگا لیا ۔

 

“یاد رہے کہ یہ بہت بڑا اعزاز ہے ۔تمہارے لئے خاص لباس منگوایا گیا ہے کل کے لئے تا کہ تمہارے حسن میں چار چاند لگ جائے”

 

جمعہ کے نماز کے بعد امیرابو رباب کا خطبہ تھا لہذا مجاہدین کا اشتیاق لائق دید تھا کہ انہیں ان کی ذیارت کا شرف کم کم نصیب ہوتا تھا ۔وہ بہت خاص مو قع پر تشریف لا تے تھے ۔
امیر ابورباب نے خطبہ دیا اور ایمان کے حرارت سے دلوں کو گرما دیا ۔ انہوں نے آ خر میں رقت آمیز لہجے میں المدینہ کے بارے میں سر کار دو عالم کی ہدایات کا ذکر ا یسے دلگیر اورایمان افروز لہجے میں کیا کہ فضا اللہ اکبر ک نعروں سے گونج اٹھی۔ سر سے پیر تک سیاہ عبایا میں لپٹی المدینہ کو بہت احترام سے امیر ابورباب کے روبرو لا کے کھڑا کیا گیا ۔
امیرابو رباب نے تین بار اللہ اکبر کہا کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو اپنی ذاتی تربیت میں نہیں رکھنا چا ہتے تھے ۔ المدینہ اب ان پر حلال تھی۔ فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج رہی تھی اور ابورباب کا چہرہ خو شی سے تمتما رہا تھا ۔ المدینہ نے اچا نک اپنا نقاب الٹ دیا اپنا برقع اتار کے مجمع کی طرف پھینکا اور پوری قوت سے جنونی انداز میں چلائی ۔”تو نہیں جانتا ابو رباب کہ مجھے میرے اللہ نے کیا
ہدایت فرمائی ہے”

 

اس نے پورے جلال کے ساتھ اپنا ہا تھ بلند کیا اور پلک چھپتے میں وہ ہو گیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔۔۔ اس کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا تھا۔ المدینہ کی پہلی گولی امیر ابورباب کے سینے کو چیرگئی اورپھر عائشہ سمیت وہ سب جو اسے اپنے واسطے جب جی چاہے حلال قرار دے دیتے تھے اپنے خون میں نہائے فرش پر پڑے تھے۔ المدینہ ہررات مرتی تھی اورہرصبح اپنی زندگی ختم کرنے کی ترکیبیں سوچا کرتی تھی۔ ابو رباب کا پیغام اسے اس جہاد کو اپنی ذات سے نوچ کے پھینک دینے کا پیغام دے گیا جس نے اسے عورت سے کیچڑ میں بدل دیا تھا۔ المدینہ نے ایک گولی اپنے لئے بچا لی تھی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ المدینہ نے پلٹ کے لڑکیوں کی طرف دیکھا، اس کی آواز غصہ سے کانپ رہی تھی “ تم سب گواہی دینا کہ المدینہ نے اس جہاد کو ٹھوکر ماردی جس نے اسے عورت سے رنڈی بنا دیا۔ اس نے پستول اپنی کنپٹی پر رکھی اور سر آسمان کی طرف سر اٹھایا”پر وردگار میں تجھے ان مقدس شیطانوں کے مکروہ کرتوتوں پر گواہ کرتی ہوں”

 

اور اس کا واحد گواہ، اس کا معبود ! شاید اپنی بنائی ہر مورت میں اس مورت کو سب سے اونچے طاق پہ رکھ کے مسکرارہا ہوگا
Categories
شاعری

ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے

ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے
ہم آگ پیتے ہیں
اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں
انگارے لکھ رہی ہیں
ہم حبس کی موت مررہے ہیں
لہذا ہماری انگلیاں
حبس کا ذا ئقہ ہی تحریر کرسکتی ہیں
ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواس کی ساری سیونوں سے بختہ بخیہ ادھڑ رہے ہیں
ادھڑ چکے ہیں ۔
ہمارے شہروں کی ہر گلی کے نکڑ پر
ایک مذبح خانہ ہے
جہاں بہت سے مشعال
ظہر کی اذان کے ساتھ ذبح کردئیے جا تے ہیں
لا تعداد گدھ
ان مذبح خانوں میں
کچلی ہوئی انگلیوں کو اپنے خونی پنجوں میں دبوچے
نوچ نوچ کے کھاتے ہیں اور خوشی سے
“نعرے لگا تے ہیں “اللہ اکبر
ہم ان کی شکلیں پہچانتے ہیں
ہمیں ان شکلوں کو تصویر کرنا ہے
یہی تو وہ گدھ ہیں جنہوں نے
چودہ سو سال پہلے بھی
اپنے نیزوں کی نوک پر
“اللہ اکبر” کو بلند کرکے
اپنی فتح کا جشن منایا تھا
مذبح خانوں کے بھوکے گدھ
دھت ہیں اپنی وحشت کا جشن منا نے میں
اور شاید اپنا انجام بھول گئے ہیں
مگر ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ
نہیں بھول سکتے
حالانکہ ان کی وحشی بھوک نے ہماری انگلیاں چپا لی ہیں
مگرہم کچلی ہوئ انگلیوں سے
حبس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حبس
مکرکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکر
اور جھوٹ کو جھوٹ
لکھتے رہیں گے ۔
انہیں نہیں معلوم
گھپ خامشی کا آتش فشاں پھٹنے کی دیر ہے
نہ جانے کتنے مشعال
لاوا بن کے نگل لیں گے ان بھوکے گدھوں
اور وحشی مذبح خانوں کو ۔
Categories
شاعری

اسیری

اسیری
شاعرہ: لی میرے کل
ترجمہ: نسیم سید

میں اب تک تمہیں
یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے غاصبوں کو
یقین دلانے کی
کوشش کرتی رہی
“بے وقوف نیٹوعورتیں”
نہیں!!
نہیں !!
میں ان جیسی نہیں ہوں
میں تمہارے بنائے
اور تمہارے سمجھائے
سانچے میں
ڈھل چکی ہوں
میں نے تمہاری
پلائی ہوئی
شراب کے نشہ سے
خود کودھت کرلیا
تمہاری زبان
بڑی محنت سے سیکھی
تمہاری عورتوں جیسا
بننے کی کوشش کی
مگر۔۔۔۔۔۔
آج یہ نطم لکھتے ہوئے
میرے ماتھے پر
شرمندگی کا پسینہ ہے
تمہارے معیار پر
پورا اترنے کی کوشش
میری سوچ کی
اسیری کا ثبوت ہے گویا
گویا !!
میں اب تک اسیر ہوں
Categories
شاعری

آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

اکیلی اور زندہ آوازیں
اغوا کرلی جاتی ہیں
تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی اپنی آوازیں
اپنی کتابوں میں
چھپا دو
مگر نہیں
سدھائے ہوئے کتے
کتابوں کو سونگھ کے
بتا دیتے ہیں
کہ کون سی کتاب
دیکھتی، سنتی اور بولتی ہے
تم آواز اور کتاب سمیت
اغوا ہو جاؤ گے
یہ سدھائے ہوئے کتے
گلی گلی سو نگھتے پھر رہے ہیں
اور کتنے سلمان حیدر
ابھی باقی بچے ہیں
کیا کرو گے؟
کہاں چھپاؤ گے؟
ایسی کوئی جگہ
نہیں ہے
جہاں زندہ آوازیں
چھپائی جا سکیں
تمہیں ان سدھائے ہوؤں
کو گلے سے دبوچنے کے لئے
اپنی آوازوں کو
جوڑ جوڑ کے
ایک زنجیر بنا نی ہو گی
ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم جانتے ہو
اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں
Categories
شاعری

ہمارے لوگ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہمارے لوگ

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعرہ: Diane Burns
مترجم: نسیم سید

 

اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟
ہم سب اپنے اپ سے جھوٹ بولتے ہیں
کہ ” ہم ٹھیک ہیں ”
لیکن ہماری روحوں کے کھلے ہوئے زخموں سے
لہو بہہ رہا ہے
ہم سب مل کے
اپنے اپنے زخموں کو سینے سے لگائے
چپ چاپ انہیں سہلا تے رہتے ہیں
لیس کورٹ اور ریلز کی برف پگھل رہی ہے
کینڈین گیز گھروں کی طرف لوٹ رہی ہیں
واشنگٹن سکوائر پارک میں
درختوں پر سبزہ پھوٹ رہا ہے
اور سبز جیکٹ والے فوجی
اپنی طاقت کا اشتہار بانٹ رہے ہیں
وہ ایک دوسرے سے سر گوشی کرتے ہیں
“جوڑ جوڑ ڈھیلے پڑچکے ہیں ”
” دیکھو۔۔۔۔۔۔ یہ جوڑ جوڑ سے ڈھیلے پڑ چکے ہیں ”
اور میں بنچ پر بیٹھی
سورج کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہوں
مجھے اپنا گھر یاد آ رہا ہے
میں اپنے کھیتوں کی ہوا سو نگھ رہی ہوں
میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں بر چھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]