Categories
شاعری

چار اطراف

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

چار اطراف

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: فرخ یار

 

مرا چار سو دیکھتے دیکھتے
موسموں کے کٹاؤ بہاؤ میں
تبدیل ہوتا چلا جا رہا ہے
کہیں کوئی گڑبڑ ہے جس کو سمجھنے سے عاری
دکھانے سے قاصر نہیں ہوں
مگر میرے بازار ، گلیاں ، مکاں
شور سے بھر چکے
اک مسلسل تماشے رودھالی کی لے
اور بدھائی کی تکرار سے کچھ سنائی نہیں دے رہا
ریڑھ کے آخری تین مہروں کی یکجائی میں فاصلے
بڑھ گئے ہیں
رگ و ریشے میں دوڑنے والا
برقی بہاؤ ضرورت سے کم ہے
بصارت کے آب مصفا پہ
اتری ہوئی داستانوں کے کردار
پچھلے برس سے دکھائی نہیں دے رہے
آج کی شب ذرا تم ٹھہر جاؤ تو
دل بہل جائے گا
نارسائی سے لپٹے ہوئے حبس کو توڑ کر
بادوباراں کی صورت نکل آئے گی
جنگلوں، دلدلوں، دھوپ میں بھاگتے
اسپ کو پنکھ لگ جائیں گے
زندگی کی تگ و تاز کے ہم نشاں
دائم آباد گلیوں سے نکلتے ہوئے قافلے
آ ملیں گے
یقیں سے ورا
بدگماں ساعتوں سے پرے
اپنی وحشت کی زنجیر کو توڑ کر
غم سے وابستہ دن کے تلے
کتنے نوری زمانوں سے ہوتے ہوئے
ان زمانوں سے جن میں مجھے
جل کے بجھنا ہے
بجھ کے بکھر جانا ہے
اور بکھرتے بکھرتے کہیں سرمئی دھند
نقطوں بھری گرد میں دیکھنا ہے تمہیں
خامشی اور دھماکے کی سرحد پہ
اطراف کو تھام کر

 

‍‍‍‍‍‍ ‍‍
تم نے دیکھا نہیں
انہی اطراف میں
روشنائی کے سیال جادو کی تہہ میں کہیں
دل دھڑکنے کے اسباب میں
انہی اطراف میں
خود سے آگے نکل جانے کی آرزو
جس نے اک عمر خلقت کو بے چین رکھا
مرے آئینوں پہ چمکنے لگی ہے
ستارے مرے رابطے میں ہیں لیکن
وہ قالین جس پر میں اڑتا رہا ہوں
ادھڑتا چلا جا رہا ہے
کہیں کوئی گڑبڑ ہے تم
آج کی شب ٹھہر جاؤ تو
دل بہل جائے گا

 

لالٹین پر یہ سلسلہ ‘نظم نماء’ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

Image: Igor Morski
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ﺳﺎﺩﮬﻮ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ﺳﺎﺩﮬﻮ

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: سعید اللہ ریشی

 

ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺧﺒﺮ ﻣﺠﮫ ﺗﮏ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻠﮏ ﻏﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﭘﺮ
ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ
ﺍﮎ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﺠﮭ ﮑﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻨﺲ ﺗﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ… ﻣﺴﮑﺮﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺭﻧﮓ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺑﮭﺮﮮ ﯾﮧ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺗﻮﮌﺗﮯ
ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺍﺏ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﻣﺮﯼ ﺑﯿﭻ ﮐﮯﺩﺍﺋﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﮐﮫ
ﮨﯽ ﺩﮐﮫ ﮨﮯ
ﺳﻮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺧﻮﺩ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﺍﺏ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﯿﺐ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ …. ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﭼﻦ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ
ﺑﺠﺎ ﮨﮯ ﺑﺠﺎ ﮨﮯ
ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ …
ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺩﮐﮫ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ

 

لالٹین پر یہ سلسلہ ‘نظم نماء’ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

Image: Nik Helbig
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہجومِ گریہ

نظم کا عنوان: ہجومِ گریہ
شاعر: علی اکبر ناطق

 

ہمیں بھی رو لے ہجومِ گریہ کہ پھر نہ آئیں گے غم کے موسم
ہمیں بھی رو لے کہ ہم رہے ہیں
جو آفتابوں کی بستیوں سے سراغ لائے تھے ان سویروں کا جن کو شبنم کے پہلے قطروں نے غسل بخشا
سفید رنگوں سے نورِ معنی نکال لیتے تھے اور چاندی اجالتے تھے
شفق پہ ٹھہرے سنہرے بادل سے زرد سونے کو ڈھالتے تھے
خنک ہواؤں میں خوشبوؤں کو ملا کے ان کو اڑانے والے
صبا کی پرتوں پہ شعر لکھ کر عدم کی شکلیں بنانے والے
دماغ رکھتے تھے لفظ و معنی کا اور دست ہنر کے مالک
وقار نور چراغ ہم تھے
ہمیں بھی رو لے ہجومِ گریہ
ہمیں بھی رو لے کہ ہم وہی ہیں
جو تیز آندھی میں صاف چہروں کو دیکھ لیتے تھے اور سانسوں کو بھانپتے تھے
فلک نشینوں سے گفتگوئیں تھیں اور پریوں سے کھیلتے تھے
کریم لوگوں کی صحبتوں میں کشادہ کوئے سخا کو دیکھا
کبھی نہ روکا تھا ہم کو سورج کے چوبداروں نے قصر بیضا کے داخلے سے
وہی تو ہم ہیں
وہی تو ہم ہیں جو لٹ چکے ہیں حفیظ راہوں پہ لٹنے والے
اسی فلک کی سیہ زمیں پر جہاں پہ لرزاں ہیں شور نالہ سے عادلوں کی سنہری کڑیاں
ہمیں بھی رو لے ہجومِ گریہ
ہمیں بھی رو لے کہ ان دنوں میں ہماری پشتوں پہ بار ہوتا ہے زخم تازہ کے سرخ پھولوں
کا اور گردن میں سرد آہن کی کہنہ لڑیاں
ہماری ضد میں سفید ناخن قلم بنانے میں دست قاتل کا ساتھ دیتے ہیں اور نیزے اچھالتے ہیں
ہوا کی لہروں نے ریگ صحرا کی تیز دھاروں سے رشتے جوڑے
شریر ہاتھوں سے کنکروں کی سیاہ بارش کے رابطے ہیں
ہماری ضد میں ہی ملکوں ملکوں کے شہر یاروں نے عہد باندھے
یہی کہ ہم کو دھوئیں سے باندھیں اور اب دھوئیں سے بندھے ہوئے ہیں

 

سو ہم پہ رونے کے نوحہ کرنے کے دن یہی ہیں ہجومِ گریہ
کہ مستعد ہیں ہمارے ماتم کو گہرے سایوں کی سرد شامیں
خزاں رسیدہ طویل شامیں
ہمیں بھی رو لے ہجومِ گریہ کہ پھر نہ آئیں گے غم کے موسم

Image: Hero Mourning the Dead Leander by Domenico Fetti

لالٹین پر یہ سلسلہ ‘نظم نماء’ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔
Categories
شاعری

“میں کس ‘سماریہ’ میں ہوں؟”

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

“میں کس ‘سماریہ’ میں ہوں؟”

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: جمیل الرحمن

 

جب کچھ ایسا ہونے لگتا ہے
جو نہیں ہونا چاہیے
اور ذلتوں کی لکیر محرومیوں کی بارش سے
مٹنے کے بجائے مزید نمایاں ہو جائے
چاروں طرف اڑتی دھول میں
خون آشام ہیولوں کی لپلپاتی زبانیں سرسرانے لگیں
فضا میں کتوں کے رونے کی آوازیں گونجتی ہیں
اور محصور زندگی مسدود راستوں میں
سرنگ لگانے کی کوشش کرتی ہے

 

ایسے میں اپنے حواس سنبھالنے کے لیے
میں جیسے ہی کوئی قدم اٹھاتا ہوں
ایلیاہ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے والے
یوشع نبی کے سماریہ میں آ نکلتا ہوں
جہاں میری موجودگی میں
دو قحط زدہ عورتیں
سخت کال میں اپنی بھوک مٹانے کے لیے
اپنے بیٹوں کو باہم مل کر کھانے کا معاہدہ کرتی ہیں
ایک اپنے بیٹے کو بھون کر
دوسری کی ضیافت کا اہتمام کرتی ہے
لیکن
دوسری وقت آنے پر اپنے بیٹے کو چھپا دیتی ہے
اور دانستہ فراموش کر دیتی ہے
کہ پہلی عورت سے
اُس نے کیا معاہدہ کیا تھا

 

شاہ اسرائیل پہلی عورت کی فریاد سن کر
حیرانی میں اپنے کپڑے پھاڑتا اور گواہی مانگتا ہے
کہ اس کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا

 

سماریہ میری شہادت کا طلبگار ہے
لیکن مجھے کچھ یاد نہیں
کہ کچھ ہی دیر پہلے
دو عورتیں کہاں
کس عورت کے بیٹے کو بھون کر کھا رہی تھیں
اور کس عورت کا بیٹا
اپنی محفوظ پناہ گاہ میں تھا

 

میں کیا کروں؟
کہ بن حداد کے جاری محاصرے میں
میرے سماریہ میں جو کال پڑا ہے
اُس میں کسی فریبی کا چہرہ شناخت نہیں کیا جا سکتا
لالچی بھوک اور ممتا میں کشاکش جاری ہے
کچھ بیٹے قربان گاہوں میں بھونے جارہے ہیں
کچھ اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں
آسائشوں کی سیج پر محوِ عیش ہیں
اور
میرے سماریہ کا شاہ
ہر معاہدے کی خلاف ورزی کو روا جانتا ہے!!!

 

(اس نظم کا ماخذ پرانے عہد نامہ کے باب سلاطین -2 کا وہ واقعہ ہے جب قدیم اسرائیلی شہر سماریہ کا، شاہ آرام بن حداد نے ایسا سخت محاصرہ کیا تھا کہ سماریہ میں شدید کال پڑ گیا ایسے میں اس واقعے نے جنم لیا جس کی بازگشت سنتے ہوئے اس واقعہ کا عملی اطلاق آج بھی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔)

 

لالٹین پر یہ سلسلہ ‘نظم نماء’ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہر روز

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہر روز

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ابرار احمد

 

ہر روز کوئی قلم ٹوٹ جاتا ہے
کوئی آنکھ پتھرا جاتی ہے
کوئی روزن بجھ جاتا ہے
کوئی دہلیز اکھڑ جاتی ہے
کوئی سسکی جاگ اٹھتی ہے
کوئی ہاتھ ٹھنڈا ہو جاتا ہے
کوئی دیوار گر جاتی ہے
اور کوئی راستہ بن جاتا ہے
ہر روز کہیں کوئی چھت بیٹھ جاتی ہے
کوئی درخت کٹ جاتا ہے
کوئی خواب بکھر جاتا ہے
کوئی آہٹ رخصت ہو جاتی ہے
اور ایک آواز —- اپنی آمد کا
اعلان کر دیتی ہے
کوئی جنگل اگ آتا ہے
اور ایک زمانہ — معدوم ہو جاتا ہے
ہر روز کوئی نیند ٹوٹ جاتی ہے
کوئی آنکھ لگ جاتی ہے
کوئی دل بیٹھ جاتا ہے
اور کوئی زخم بھر جاتا ہے
ایک قصہ ادھورا رہ جاتا ہے
ہر قصے کی طرح
کوئی گیت سو جاتا ہے
کوئی تان الجھ جاتی ہے
کوئی سانس پھول جاتی ہے
اور خاموشی چھا جانے سے پہلے
کوئی دھن چھڑ جاتی ہے
انگلیاں چلتی رہتی ہیں
تار ٹوٹتے رہتے ہیں !
ہر روز کوئی بارش تھم جاتی ہے
کوئی زمین سوکھ جاتی ہے
کوئی چولہا سرد ہو جاتا ہے
کوئی بستی اجڑ جاتی ہے
——- کسی تعمیر کے نواح میں
کوئی خوشبو سو جاتی ہے
ایک دریا اپنا رخ تبدیل کر لیتا ہے
اور کناروں پر ایک آگ جل اٹھتی ہے
ہر روز کوئی پھول کھل اٹھتا ہے
کوئی ہوا چل پڑتی ہے
کوئی مٹی اڑ جاتی ہے
اڑ جاتی ہے اور بکھر جاتی ہے
ہونے کی لذت سے سرشار چہروں پر
کوئی کھڑکی بند ہو جاتی ہے
اور کوئی دروازہ کھل جاتا ہے
کھلا رہتا ہے دیر تک
کوئی پہیہ رک جاتا ہے
کوئی سواری اتر جاتی ہے
کوئی پتہ ٹوٹ جاتا ہے
کوئی دھول بیٹھ جاتی ہے
اور ایک سفر تمام ہو جاتا ہے
شاخ جھول جاتی ہے
اور کوئی پرندہ اڑ جاتا ہے
ان دیکھی فضاوں کی جانب
اجنبی گھٹاؤں کی جانب
ہر روز میری آنکھ سے ، تمھارے لیے
ایک آنسو– گر جاتا ہے
ہونٹوں سے ایک دعا اتر جاتی ہے
دل میں ایک دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے
اور ایک دن — گزر جاتا ہے
دنوں پر دن گرتے چلے جاتے ہیں
گھاس پر سوکھے پتوں کی طرح
مٹھی سے گرتی ریت کی طرح
گزرتے چلے جاتے ہیں
آنکھ سے گزرتے منظروں کی طرح
ہوا میں بہتے بادلوں کی طرح
اور ایک روز ——
موسم گدلا جائیں گے
چہرے ساکت ہو جائیں گے
شور تھم جاے گا
سارے دن
میرے اندر — غروب ہو جائیں گے
اور آتے ہوے روز میں ——–
ٹوٹا ہوا قلم
ایک نام کا دھبا
اور کٹی ہوئی انگلیوں کے نشان رہ جائیں گے !

 

لالٹین پر یہ سلسلہ نظم نماء کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

“اس دن۔۔۔۔۔۔۔”

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

“اس دن۔۔۔۔۔۔۔”

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: توقیر عباس

 

اس دن تو وہ خود بھی شکستہ قابلِ رحم تھا لیکن،
کون تھا جس کے لئے
اس کی ہمدردی نہیں تھی،
جس پر اس کو ترس نہیں آیا تھا،
سو اُس نے اِس لمحے کے زیر اثر،
سب اشیاء کو دیکھا،

 

دریا ندی سمندر اپنے کناروں میں سمٹے بل کھاتے ہیں،
تھل میں ویرانی رقصاں ہے،
پیڑ ہیں پاگل ہو امیں ہاتھ میں ہلاتے رہتے ہیں،

 

پنچھی کتنا اڑتے ہیں،

 

کوہ فقط تخریب کی زد پر آ کر
کِرتے
زلزلے پیدا کرتے رہتے ہیں،
ہوا بھی اندھی ہے،
جو سب سے مراسم رکھتی ہے،
اس جیسے سب انساں
اک کاہش میں رینگتی روحیں ہیں،
اس نے دیکھا،
سب کچھ اک مربوط نظام کی جکڑن میں ہے،
سب کچھ جدا جدا ہے،
لیکن اک دوجے سے
لاکھوں رشتے جڑے ہوئے ہیں۔

 

لالٹین پر یہ سلسلہ نظم نماء کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

Image: David Sosa
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

نظم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: سعیداللہ قریشی

 

میں اک عورت جس نے تجھ کو اپنی کوکھ سے جنم دیا
تو نے مجھ کوپسلی کی تمثیل لیا؟؟
اور پسلی سے تو نے مجھ کو ٹیڑھی پسلی کر ڈالا
جس کو سیدھا کرتے کرتے صدیاں گزریں کتنی عورتیں ٹوٹ گئیں ہیں
لیکن تو پھر بھی ٹیڑھا

 

تجھ کو اپنی چھاتی کی خوراک پلا کر بڑا کیا کہ بعد میں تو اس چھاتی پر ہی مونگ دلے?
(تو نے مجھے انسان نہیں بس جنس لیا)
پھر بھی میں تجھ پر قربان
جامورکھ انسان
اک ماہواری کے بدلے میں مجھ کا اتنا نیچ کیا کہ میری شہادت تک آدھی??

 

جس کو تو ماں بولتا ہے
وہ دھرتی ہے میرے جیسی
میں دھرتی کے جیسی ہوں
ننھے سے اک بیج کے بدلے تجھ کو فصلیں دیتی ہے
اور میں نسلیں دیتی ہوں

 

یہ جو تم میں کچھ شاعر اور کچھ فنکار
باتوں سے تخلیق کا چورن بیچتے ہیں
(باقی یعنی بانجھ)
چھوڑو سب بانجھوں کو معافی
کیا تم نے کبھی غور کیا کہ ہر عورت تخلیق کو پورا جھیلتی ہے
(اور ہماری بانجھ؟؟؟
میں تیرے قربان
جا مورکھ انسان)
فعلن فعلن کی گردان پہ ہانپنے والو تم
تم تخلیق کو کیا جانو
ہر عورت تخلیق کو من میں سینچتی ہے

 

لالٹین پر یہ سلسلہ نظم نماء کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]