Categories
فکشن

مہر منگ کی کہانی

[blockquote style=”3″]

لوک دانش قدیم کہانیوں میں اہم عنصر کے طور پرشامل رہی ہے۔ بالخصوص خطہء پنجاب تو ایسی کہانیوںکا مرکز رہا ہے۔ جہاں نہ صرف یہ کہ پنچایت کے سرپنچ ہی اہم اور گھمبیر مسائل کو اپنے فہم و ادراک کے ذریعے حل کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ بلکہ ہر عمر اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے مرد و زن کے پاس اپنی طرز سے زندگی گزارنے کی توضیحات اور دلائل موجود تھے۔ یہاں تک کہ چوروں کے پاس چوری کرنے کے لیے بھی جواز اور طرح طرح کے طریقے موجود تھے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

سورج غروب ہوتے ہی دیوان سنگھ ٹھیکے دار کے گھر مہر منگ بڑی شان کے ساتھ آیا۔ باہر کے دروازے پر ٹھہر کے اونچی آواز سے کلام پڑھا۔ سارا خاندان، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کلام سننے لگا۔آہستہ آہستہ ڈیوڑھی سے گزر کے اندر کے دروازے کے پاس پہنچ کر بنساولی سنائی، ساتھ ہی ساتھ خاندان کی بڑھائیاں بیان کیں۔ ٹھیکیدار کے باپ کاہن سنگھ کا ذکر بہت بڑھا چڑھا کے کیا۔

مہر منگ نے صاف ستھرے اور بھلے کپڑے پہن رکھے تھے۔ جیسے کوئی باراتی ہو، تھوڑی سی ماوا لگا کے استری کی ہوئی سفید شلوار قمیص، سیاہ کوٹ، سنہری کُلے پر اکڑی ہوئی سفید پگڑی، جس کا ایک لمبا پلو لٹک رہا ہوتا۔ تلے والی جوتی،کیسری اور مہندی سے رنگی ہوئی داڑھی، پتہ نہیں لگتا تھا کہ اتنی دور سے آیا ہو گا یقینی بات تھی کہ گائوں کے نزدیک پہنچ کر اس نے کپڑے بدلے ہوں گے۔

جتی اُتار کے اندر آیا۔ کُلا اور کوٹ اُتار کے ایک طرف دھرے، پیڑھی لے کر بیٹھ گیا۔ اور ٹھیکیدار کے پاوں دبانے لگا ہاتھ، پاوں بھی دبائے جاتا اور بغیر وقفہ کیے باتیں بھی کیے چلے جاتا۔ نئے نئے واقعات سناتا، بچوں کے کان کھڑے رہتے ۔ دو کہانیاں چوروں کی ہوشیاری کی تھیں۔ اس کے کہنے کے مطابق اک چوری پچھلے کچھ دنوں میں ہوئی تھی اور ایک چوری ماہ دو ماہ پہلے۔

مویشی میلے پر بہت اعلیٰ نسل کے بیل آئے۔ کوئی خریدنے والا اور کوئی بیچنے والا۔ جیب تراش اور چور بھی پہنچ گئے۔ بیلوں کی ایک جوڑی بڑی پیاری تھی۔ چٹا سفید رنگ، کہیں کہیں کالیاں دھاریاں ۔۔۔۔ زور اتنا کہ اگر سہاگا کھینچیں تو بھاگتے بھاگتے میں آدمیوں کو پیچھے چھوڑجائیں۔اگر کنواں چلائیں تو ٹنڈیں تقریباً خالی نکلیں۔ چوروں نے پتہ لگا لیا کہ بیل کن لوگوں نے خریدے ہیں۔گاوں نہر کی دوسری جانب تھا۔

پتہ چلایا اور کنوئیں پر پہنچ گئے۔ مویشی خریدنے کے بہانے ارد گرد کا جایزہ لینے گئے۔ دوسری بار رات کو چلے آئے۔

دیکھا کہ بیلوں کے اگلے پیروں میں زنجیر یں بندھی ہیں۔ نہر کے پل پر پولیس کا پہرہ رات بھر رہتا تھا۔ سوچ سمجھ کے جانچ پرکھ کے مشورہ کرکے لوہار سے خاص طرح کی چابی بنوائی۔ دوبار کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی، پاس ہی کوئی چار پائی پر سویا پڑا ہوتا تھا۔ ایک رات، پہر گئے بیل کھولنے میں کامیاب ہو گئے اور سیدھے پل کی طرف چل پڑے۔ راستے میں ایک اور کنوئیں سے ہل پنجالی اور دو کسیاں چوری کیں۔ پل سے گزرنے لگے تو چارپائی پر آرام کر رہے پولیس والے نے کہا: رکو !کون ہو؟‘‘ جواب دیا۔ سامنے ہمارے کھیت ہیں۔ گاوں ہمارا اس طرف پڑتا ہے۔ صبح صبح ہل جوتنے چلے ہیں پولیس والے نے کہا۔ ’’جاؤ‘‘

کچھ دور پہنچ کے ہل پنجالی پھینک دیے اور بیلوں کو بھگا لے گئے۔

اگلی بار ایک اور گاوں میں پہنچے۔ بیلوں کی جوڑی چوری کی۔ راستے میں سے ایک بیل گاڑی چوری کی۔ بیلوں کو اس گاڑی میں جوت لیا۔ ایک چور کی ٹانگوں سے لہو میں لتھڑی پگڑی کا ٹکڑا لپیٹ دیا۔ ایک سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ اور دوسرا پائوں، چوتھا، گاوں کو ہنکاتا چلا جائے۔ پل کے نزدیک پہنچ کے مریض بنے ہوئے چور نے ہائے ہائے شروع کر دی۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس والے نے پوچھا۔ کیا ہوا؟ بتایا کہ ہمارے بھائی کو کوڈیوں والے سانپ نے ڈس لیا ہے۔ ہم نے درانتی سے چیر کے زہر تو نکال دیا ہے۔ لیکن اب اسپتال لے کر جا رہے ہیں۔ پولیس والے نے کہا فٹا فٹ لے جاو۔!

ہوشیار،چور بیل گاڑی بھگا لے گئے۔

(کہانی گھر۔ شمارہ۔۱، ۲۰۱۱)

Categories
فکشن

گلٹی

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مصنف: فرخ ندیم

” اوئے تو تو جلدی ہی پوری عورت بن جائے گا” صادق لوہار کے بیٹے نے اچانک گلی کے کونے پہ میرا راستہ روک کر جیسے میرے سر پہ ہتھوڑے برساتے ہوئے کہا تھا ۔ اپنے بارے میں ایسی عجیب و غریب پیشین گوئی سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور حواس جاتے رہے ۔

“خدا کے لئے مجھے گھر جانے دو” میں اس حملے کی تاب نہ لا سکا اور اس کے سامنے گھگھیانے لگا۔

میں گھر سے باہر کم ہی نکلتا تھا۔ ایک تو اس لئے کہ اماں ابا نے مجھے ڈرایا بہت ہوا تھا دوسرا میری گلی میں میرے ہم عمر لڑکے بھی کم ہی تھے۔ یا تومجھ سے چار پانچ سال بڑے تھے یا اسی طرح چھوٹے۔ مجھے اپنے ہم عمر لڑکوں سے کھیلنے کے لئے محلے کی تین گلیاں چھوڑ کرجانا پڑتا۔ بچپن ہی سے مجھے یہ احساس تھا کہ میرا گورا چٹا گول مٹول چہرہ لوگوں سے زبردستی پیار کروا لیتا ہے۔ ویسے بھی پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کی وجہ سے جو اہمیت مجھے ملی تھی وہ شاید گاوں کے کسی بھی لڑکے کو نہیں ملی تھی۔ اماں کو میری اس قدر فکر تھی کہ وہ ایک لمحہ بھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتیں۔ اس فکر کا مجھے اُس وقت بالکل شعور نہ تھا۔ اُس وقت کی بات کر رہا ہوں جب میری عمر لگ بھگ بارہ تیرہ برس تھی۔ ہمارے گھر کی حالت گاوں کے دوسرے گھروں سے کافی بہتر تھی۔ کچھ رشتہ دار انگلینڈ امریکہ میں بھی تھے۔ جب وہ کبھی گاوں آتے تو ہمارے لئے تحفے تحائف لے کر آتے جو میں اپنے دوستوں کو دکھاتا تو وہ خوش بھی ہوتے اور خاموش بھی۔ عام طور پر سب لڑکے شلوار قمیض پہنتے ۔ مگر جس دن میں پینٹ شرٹ اور ٹی شرٹ پہن کر گھر سے نکلتا چھوٹے بڑے سبھی چمٹنے کو دوڑتے۔ میں ان لوگوں کے التفات سے کچھ زیادہ بے خبر بھی نہ تھا لیکن چونکہ بچپن میں سبھی لوگ لاڈ پیار کرتے آئے تھے اس لئے ان کے اس رویہ پہ کبھی غور کیا ہی نہیں تھا۔ جس ایک دن، صادق لوہار کے بیٹے کوڈے نے شام کے وقت ایک سنسان گلی میں روکا تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کی ہیبت ناک شکل سے تو میں دن کے وقت بھی گھبرا جاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہر وقت تیز نوکیلے دانتوں والی درانتی مجھے سر سے پاوں تک لرزا جاتی اور میں پاس سے گزرنے سے بھی ڈرتا۔ اسی ملک الموت درانتی نے اس دن میرا راستہ روکا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں نے کوڈے لوہار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کبھی نہ دیکھا تھا۔اور اب۔۔۔ اس بار درانتی کی نوک جب اچانک میرے پیٹ میں چبھی تو بے بسی میری انکھوں سے ٹپکنے لگی۔ میں نے اماں کو آواز دینا چاہی مگر میری کسی بھی آواز سے پہلے اس کا ہاتھ میری چھاتی پہ تھا۔ میں بالکل بھی نہ سمجھ سکا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے تو ڈر کے مارے آنکھیں اس لئے بند کی تھیں کہ وہ میری گردن مروڑنے لگا ہے۔ لیکن جب وہ ایکدم ہنسنے لگا تو میں نے آنکھیں کھولیں۔ “اوئے اے کی!” تو تو عورت بن گیا ہے۔ تیری چھاتی میں تو گلٹی ہے”

“گلٹی؟ عورت؟” میں نے اپنے ٹوٹے ہوئے سانسوں کو جوڑتے ہوئے خوف ملی حیرانی سے اسے دیکھ کر پوچھا۔

“ہاں عورت۔ دیکھ تجھے بتاتا ہوں، سینے کے بٹن کھول تجھے ابھی دکھاتا ہوں ”

“نہیں، مجھے جانے دو، میں خود ہی دیکھ لوں گا” میں نے ڈر کے مارے تھوک نگلا اور ساری ہمت جمع کر کے اس سے اپنا گریبان چھڑاتے ہوئے کہا۔

“اپنی قمیض کے بٹن کھولتا ہے یا ساری پسلیاں باہر نکلوائے گا” اس نے درانتی میری ایک پسلی میں اس طرح گھسائی کہ مجھے واقعی ایسے محسوس ہوا جیسے میری ساری انتڑیاں پسلیوں سے پھسلتی میرے پاوں پہ گرنے لگیں گی۔ “میں میں میں مم مم مجھے چھوڑ دو” میں نے اپنے اندر کے خوف کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ میں پیچھے ہٹتا گیا اور درانتی مسلسل میری بائیں پسلی میں گھستی گئی یہاں تک کہ میں نے اپنے آپ کو ویران گلی کی ایک کچی دیوار سے جڑتے ہوئے محسوس کیا۔ “کھال ادھیڑ دوں گا تیری، جیسے کہتا ہوں ویسے کر، ادھر سے میرے ساتھ چل”۔ خوف سے مجھ پہ کپکپی طاری ہو گئی۔ وہ مجھ سے دس سال بڑا تھا۔ لوہے سے کام کرتے اس کے ہاتھ کتنے سخت تھے اس وقت مجھے اندازہ ہوا جب اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے میری چھاتی کا ماس ایسے کھینچا جیسے کوئی بھوکی شارک اپنے شکار کو تیز نوکیلے دانتوں سے جھنجھوڑتی ہے۔۔ان دنوں میں نے شارک والی فلم نئی نئی دیکھی تھی۔ مجھے نہیں علم کیوں لیکن مشہور یہی تھا کہ کوڈے لوہار کے اپنے دانت بھی درانتی کے دندوں کی طرح نوکیلے اور تیز تھے۔ صرف میں ہی نہیں گاوں کا ہر وہ بچہ اس سے ڈرتا تھا جو صاف ستھرے ماحول سے تعلق رکھتا تھا۔ شدید درد کی ایک لہر میرا سینہ چیرتی پورے جسم میں خوف بن کر دوڑنے لگی۔ اماں کہتی تھی اس نے رو رو کر خدا سے بیٹا مانگا تھا۔ بیٹا عورت بن رہا تھا۔ کوڈے لوہار نے اندھیرے میں درانتی میری پسلیوں سے نکال کر میری آنکھوں کے سامنے لہرائی تو زندگی میں پہلی بار اندھیرا میرے وجود میں سسکارنے لگا۔”ماں خصم گریبان کھولتا ہے یا میں خود پیٹ کھولوں” وہ مجھ پہ ایسے دھاڑا کہ اس کی آواز دور تک تو نہ گئی ہوگی لیکن میری پسلیاں پھڑپھڑانے لگیں” اماں ں ں ں ں” اتنی زور سے میں نے پکارا کہ میرے وجو د سے چمٹا ہوا اژدھا بل کھولنے پہ مجبور ہو گیا۔ لیکن جاتے جاتے درانتی کا دستہ میری پسلی میں ٹھونکتے ہوئے بولا” بزدل زنانی ” اور درانتی چادر میں چھپاتے گلی میں غائب ہو گیا۔

بجائے اس کے کہ میں گھر کو بھاگتا، ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا، شاید اس درد کی وجہ سے جو جو میری پسلیوں اور سینے کی گلٹی میں ہو رہا تھا یا شاید کوڈے لوہار کے الفاظ کی وجہ سے جو میرے دل کے آر پار ہو رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں اس درد سے دوہرا ہوتا آس پاس دیکھنے لگا، “بزدل زنانی بزدل زنانی”اور “تیری کھال ادھیڑ دوں گا” کی ضربیں مسلسل میرے وجود پہ پڑ رہی تھیں اور میں ان سے بچنے کی کوشش میں اپنی پشت پہ کھڑی کچی دیوار کے سہارے ایک کھولی سے لگتا جا رہا تھا، یہ ایک ویران سی حویلی کی کھولی تھی جس کا مالک قربان چاچا دو تین سال پہلے مر گیا تھا، اسی جگہ جہاں میں لڑکھڑاتا کراہتا کھولی کے پاس اس وقت گر رہا تھا وہاں قربان چاچا کی بھیڑیں ممیاتی سر جوڑ کر سو جایا کرتی تھیں ۔ ابا جب بھی چھٹی پر آتے بہنوں پہ برستے جاتے، “یہ ہر وقت قربان کی بھیڑوں کی طرح سر جوڑ کر کیوں بیٹھی رہتی ہیں، نہ کام نہ کاج” ابا کو معلوم تھا یا نہیں لیکن میری بہنوں کا حال یہ تھا کہ ادھر ابا گھر میں داخل ہوئے ادھر وہ سمٹ کر ایک کونے میں دبکنے لگیں۔ اور جونہی مجھ پہ نظر پڑتی ان کا لہجہ یکسر بدل جاتا۔ ابا پولیس میں تھے۔ جب بھی اماں سے لڑتے ایک ہی بات کرتے، میرے آگے زبان چلاو گی تو مار مار کر بھیڑ بنا دوں گا، زنانی کا کیا کام ہے مرد کے سامنے نظر بھی اٹھائے ۔ پتا نہیں اماں نے زبان کبھی چلائی یا نہیں لیکن ان کو میں نے بھیڑ بنتے ضرور دیکھا تھا۔ چھ عورتیں گھر کے ایک کونے میں ایسے چھپ کر بیٹھ جاتیں جیسے قربانی کے بہت سے جانور کسی ایک ہی باڑے میں ٹھونس دیے گئے ہوں۔ اب میں اس گھر کی ساتویں عورت تھا۔ مجھے گھر جانے سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ اماں کو خبر ہو ئی تو کیا سوچے گی۔ ابا تو واقعی میں کھال ادھیڑ دیں گے۔ بہنیں کیسے یہ خبر سن سکیں گی۔ وہ تو پہلے ہی گھر میں منحوس سمجھی جاتی تھیں۔ “ایک کے بعد دوسری، پوری چھ منحوس عورتیں”۔ دادی بھی ابا کی طرح یہی کہتے کہتے مر گئیں۔ مجھے آج تک کبھی بھی سمجھ نہ آ سکا کہ وہ خود کو بھی بطور عورت ان میں سے ایک ساتویں “منحوس” کیوں نہیں مانتی تھیں ۔جب چارسو اندھیرا پھیل چکا تو اس اندھیرے میں مجھے اپنا گھر ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، میں نے اپنے بٹن کھولے اور اپنی پسلیوں پہ ہاتھ پھیرا جہاں میرے ہاتھوں نے جلد پہ لگے زخم سے ہلکا سا خون بھی رستا ہوا محسوس کیا۔

اماں تو مر جائے گی یہ دیکھ کر لیکن اس کے بعد ڈرتے ڈرتے جو میں نے ٹٹولا تو میرے پاوں سے بچی کھچی زمین بھی سرکنے لگی۔ میری چھاتیوں میں واقعی دونوں طرف چھوٹی چھوٹی گلٹیاں تھیں۔ایک دو دن پہلے نہاتے وقت میں نے چھاتی پہ درد تو محسوس کیا تھا۔ اچھا تو یہ درد تھا!۔ میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ میں نے سوچا کسی طرح یہ ختم ہوں، کیا کروں کیسے چھپاوں یک لخت سارا منظر میری آنکھوں میں گھوم گیا۔ اور میں چکرا کے رہ گیا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا تو تھا۔ میں بار بار اپنی گلٹیوں کو چھوتا اور کھولی سے مزید جڑتا جاتا۔ میرے سارے وجود پہ قربان چاچا کی بھیڑیں اگ رہی تھیں جو ممیاتے ہوئے میری جلد کے ہر حصے کو چاٹ رہی تھیں۔ ایسے ہی مجھے میری ماں اور بہنیں پیار کرتیں مگر اب سب کچھ ختم ہونے والا تھا۔ میں جب بھی سکول سے یا دوستوں کے ساتھ کھیل کود سے تھک کر گھر لوٹتا تو ساری خواتین کا جمگھٹا میرے گرد جمع ہوتا اور اتنے پیار سے مجھ سے میری بھوک پیاس کے بارے میں پوچھتیں جیسے میں ان کا پیر و مرشد ہوں۔ کئی بار ایسا محسوس ہوا جیسے میں ان کا بادشاہ ہوں اور وہ میری رعایا۔ بادشاہت کا کون سا راز میرے پاس تھا، میں اکثر اپنے آپ سے پوچھتا،لیکن وہ بادشاہت مجھ سے اب چھن رہی تھی۔ میں نے اسے اپنے وجود میں تلاش کرنا چاہا۔ شرم کے مارے ہاتھ ناف کے نچے نہ جائے۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے آپ کو تسلی دی۔ اپنی چھت سے، اسی لمحے، میں نے لمبی سی آواز سنی، “سوہنے ے ے ے ے” یہ میری دوسری بہن افشاں کی آواز تھی جو چھت پہ چیختی مجھے بلا رہی تھی۔ ہمارے گاوں میں ایسا ہی ہوتا کہ جب کوئی کسی کو بلانا چاہتا تو چھت پہ کھڑے ہوکر اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کر دیتا۔ میں کھولی کے پاس دبکا بیٹھا خوف دہشت زدہ کانپ رہا تھا، چاہنے کے باوجود بھی مجھ سے اٹھا نہ گیا ، ایسے جیسے کسی نے کھولی سے میری گلٹیاں باندھ دی ہوں۔ یا شاید میری کھال کے اندر قربان چچا کی روح حلول کر گئی ہو مگر مجھے یاد ہے اصل میں تو میں اپنی گلٹیوں کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا ۔ ایک بار تو مجھے جیسے قربان چاچا اندھیرے میں ہنستاہوا بھی نظر آیا تھا۔ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ اپنی بھیڑوں کو اولاد کی طرح پالتا، اِدھر اس کی روح نے پرواز کیا اُدھر باڑہ اجڑ گیا۔ اس کی اولاد ہوتی بھی کیسے، شادی ہی نہ ہوئی۔ لوگ کہتے تھے وہ کسی قابل ہوتا تو شادی ہوتی۔ “قربان چاچا اندر سے عورت تھا ،، وہ بھی ڈرپوک بھیڑ تھا ، بزدل زنانی؟ درد میں ڈوبے کئی سوالات میں نے اپنے آپ سے کر دیئے،”مجھے کیا علم” میں نے اپنے ہی آپ کو جواب دیا، لیکن قربان چاچا کا مسئلہ گلٹی والا نہیں تھا ،شاید، دیکھنے کو تو وہ مرد ہی لگتا تھا، یہ بھی ہو سکتا ہے وہ اندرسے بھیڑ ہو”۔ “بے ے ے ے ے” میں نے آواز کی سمت دیکھا، یہ اس باڑے کا ٹوٹا پھوٹا ویران کمرہ تھا جہاں سے کسی مردانہ بھیڑ کی آواز آئی تھی۔ تبھی تو میں نے اپنی گلٹیاں سنبھالیں، چھاتیوں پہ دونوں ہاتھ رکھے اور ہانپتا کانپتا گھر کو بھاگنے لگا۔

ہمارا گھر محلے کے دوسرے گھروں سے تھوڑا ہٹ کر تھا۔ درمیاں میں جانوروں کے ایک دو باڑے تھے۔ جن سے دھواں اٹھ کر سارے ماحول میں پھیلتا جا رہا تھا۔ دیہاتوں میں شام کے وقت اپلے جلائے جاتے ہیں تاکہ ان سے اٹھنے والے دھویں سے مکھی مچھر جانوروں سے دور رہیں،میری گلٹیاں سلگتے ہوئے اپلے بن گئے جن سے اٹھتا ہوا دھواں میرے نتھنوں سے گزراتا سانس بند کرنے لگا۔ میں نے پھر چھاتیوں پہ ہاتھ رکھے ۔ اندر گلٹیاں بڑھنے لگی تھیں اور میری چال لڑکھڑانے لگی تھی۔ گھر کے دروازے پہ جا کر دستک کی بجائے میں نے اپنا ماتھا ٹکا دیا۔ کیا عزت رہے گی میری اماں کی۔ لوگ کیا کہیں گے، “اس کی قسمت میں مردانہ اولاد ہے ہی نہیں، کوئی وارث پیدا نہ کیا، منحوس عورت، بیٹا بھی ایسا پیدا کیا جو بارہ تیرہ سال بعد عورت بن گیا۔ اس گھر پہ کوئی زوال ہے، کوئی سایہ ہے یا فقیر کی بددعا”، ابا چھٹی پر آئیں گے تو مجھے کاٹ کے رکھ دیں گے، اس وقت مجھے اپنے ابا کوڈے لوہار کی درانتی کی طرح محسوس ہوئے۔ وہ تو اس کو بھی میرا یا اماں کا قصور سمجھیں گے ۔میرے ابا ان لوگوں میں سے تھے جو سب سے پہلے عورت کے دشمن تھے بعد میں کسی اور جرم کے ۔ اس عمل میں وہ اپنی بڑائی سمجھتے اور جہاں بیٹھتے مرد کی حاکمیت پہ لمبی لمبی تقریریں کرتے۔ میرے ساتھ مستقبل میں کیا ہونے والا تھا میں سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا۔ گیٹ پہ کھڑے کھڑے ہی مجھے خیال آیا کہ ابا اسی دروازے سے گھسیٹے ہوئے مجھے اور میری اماں کو نکال باہر کریں گے، ہو سکتا ہے مجھے کسی سے قتل کروا دیں، “سوہنے ے ے ے ” پھر تیسری بہن صائمہ کی درد بھری آواز آئی،” ۔”نیلووووووو” میں نے افشاں کو اس کے لاڈ پیار والے نام سے آواز دینا چاہا مگر ایک دبی ہوئی چیخ میرے حلق سے نکلی اور دم توڑ گئی۔ مجھے سردی لگ رہی تھی، پورا جسم درد سے کانپنے لگ گیا۔ یہ آواز افشاں نے سن لی تھی۔ وہ سوہنے سوہنے کرتی سیڑھیاں اترنے لگی اور میں بس ہوں ہاں کرتا رہ گیا۔ دروازہ کھولتے ہی وہ رونے لگی، “سوہنے ہماری تو جان نکل گئی تھی، کہاں تھا تو اتنی دیر سے” ۔ایک کے بعد دوسری پانچوں بہنیں ننگے پاوں بھاگتی ہوئی آئیں اور مجھ سے ایسے لپٹیں جیسے ان کی کھوئی ہوئی قسمت مل گئی ہو ۔ میں نے سب سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کہیں کوڈا لوہار تو نہیں مڑ کر آگیا۔ مجھے اپنی بہنوں کی فکر ہونے لگی۔ دروازے سے راستہ بناتے میں جلدی سے گھر کے اندر داخل ہوا۔ میں تو اب یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو میں کیا ملا انہیں نئی زندگی مل گئی۔ اماں اکثر کہتیں “میری بیٹیوں کو باپ کی تھوڑی بہت شفقت سوہنے کے صدقے سے ملی۔ سوہنا اس گھر کا ہر طرح سے وارث ہے، اوپر اللہ وارث نیچے میرا سوہنا، یہ دنیا میں نہ آتا تو پتا نہیں کہاں کہاں در در کی ٹھوکریں کھاتی” ۔ چھ کی چھ خواتیں مجھ پہ قربان ہو رہی تھیں ایسے جیسے کسی زخمی پرندے کو دیکھ کر اس کے ساتھی کرلاتے ہیں۔ سب سے بڑی ساحرہ جس کو لاڈ پیار سے اماں سارہ کہ کر پکارتی تھیں نے کچھ گڑ بڑ بھانپ لی تھی۔ روتی ہوئی چیخنے لگی،”پیچھے ہٹو سب لوگ” کہتے ہوئے مجھے بلب کی روشنی میں لے جانے لگی۔ مجھے کانپتا دیکھ کر بے چین ہو گئی اور کہنے لگی” سوہنے میری جان ہاتھ تو ہٹاو یہاں سے اور بتاو کہاں تھے تم؟”۔ میں دھاڑیں مار کر رونا چاہتا تھا، کیسے بتاتا کہ کہاں تھا اور میرے ساتھ کیا ہوا اور کیا ہونے جا رہا ہے، “سوہنے میری انکھوں میں دیکھو” ، اس نے تھوڑا آگے بڑھتے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، میں نے بے بسی سے سب کی آنکھوں میں ایسے دیکھا جیسے میری زندگی کا آخری دن اور آخری لمحات ہوں۔ کوڈے لوہار کی درانتی میرا کلیجہ چیرتے ہوئے نکل گئی۔ میری آنکھوں سے آنسو ایسی بے چارگی کے ساتھ بہنے لگے کہ جنہیں دیکھ کر گھر میں کہرام مچ گیا۔ اماں بولنے لگی “میرے لال کسی نے کچھ برا تو نہیں کر دیا تیرے ساتھ، ایسے چپ کیوں ہے آخر بولتے کیوں نہیں؟”۔ میں نے ہمت کی اور بدن سے روح تک کے سا رے زخم چھپا گیا،” کچھ نہیں ہوا مجھے، کھیلتے کھیلتے کھولی میں گر گیا تھا” ۔بس یہی جواب تھا اس وقت جو مجھ سے بن پڑا۔ میرے اس جواب کے ساتھ ہی اماں اور بہنوں کی سانس بحال ہوئی، سب سے چھوٹی حیا تو سہمی سہمی سسکیاں لینے لگی تھی جو میری برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔ سارہ نے میرے دونوں ہاتھ کھولے اور بے اختیار میرے گال ہاتھوں میں لے کر میرا چہرہ پڑھنے لگی، وہ نہ صرف گاوں کے ماحول سے آگاہ تھی بلکہ جانتی تھی میرے وجود کی گھر میں کیا اہمیت ہے۔ کئی بار جی چاہا کہ چیخ چیخ کر بولوں کہ مجھے سوہنا نہیں سوہنی بولو، میں تم جیسا ہی تو ہوں، دل سے دعا کر رہا تھا کہ کاش میری گلٹیاں خود بول پڑیں یا ان میں سے کوئی محسوس کر لے،مگر ایسا نہ ہوا۔ بارہ ہاتھوں کی پر خلوص مجبوری مجھے سمیٹتی ہوئی پساری(کچن) کی طرف لے جانے لگی۔ اماں نے جلدی سے گرم دودھ کا پیالہ میرے سامنے رکھا۔ باقی ساری سمٹ کر کونوں میں بیٹھ گئیں اور مجھے دودھ پیتے دیکھتی رہیں۔ ان سب کو علم ہی نہ تھا کہ اب میں بھی ان کے ریوڑ کا حصہ بن چکا تھا۔ ابا ان کو اکثر ریوڑ ہی تو کہتے تھے۔ میں نے پیالہ منہ کو لگایا تو ایسے لگا جیسے سارا دودھ میری چھاتیوں میں بھرا جا رہا ہو، ہتھوڑے پھرسے ٹھک ٹھک برسنے لگے۔ صائمہ سے چھوٹی چوتھے نمبر والی سبین بولی “سوہنے تمہیں پتا ہے آج پھوپھو کوثر آئیں تھیں تھوڑی دیر کے لئے”۔ “ہاں بیٹا”، اماں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولیں، “ابرار لوگ انگلینڈ سے آ رہے ہیں، کل یہاں پہنچ جائیں گے۔ پہلے ہماری طرف ہی آئیں گے”۔ سب سے چھوٹی حیا بھی میرے قریب بیٹھتے ہوئے بولی ۔امی اورسارہ نے باری باری ان کے سامنے روٹی اور سالن رکھا۔ کھانا کھانے کے دوران ساری ایک نوالہ روٹی کا توڑتیں اور دو بار میری طرف دیکھتیں، جس سے مجھے ایسے محسوس ہوتا جیسے میری چھاتیوں میں دودھ ابل رہا ہو۔

بستر بچھنے لگے تو گلٹیاں ممیانے لگیں۔ میں سب کی آوازوں میں اپنی آواز تلاشنے لگا، ساتویں کی آواز، مجھے ان سب سے ہمدردی ہونے لگی۔ ایک جملہ میرے سر پہ منٖڈلانے لگا، ” ایک عورت ہی دوسری عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہے” نیند میری آنکھوں سے ایسے دور تھی جیسے میں خود سے دور یا اماں ابا سے دور۔ یہ دوری میری شناخت پہ سوالیہ نشان تھی ۔ جسم کا کون سا حصہ تھا جس میں درد نہیں تھا۔ ایک ایک حصہ عورت ذات میں ڈھلتے محسوس ہونے لگا۔ سر کے بالوں سے لے کر ناخنوں تک سب کچھ جوں کا توں تھا مگر پھر بھی سب کچھ بدلتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ مجھے ایسا لگا جیسے سوچ سوچ کے پاگل ہو جاوں گی۔ میں نے ہمت اپنی ماں سے سیکھی اور برداشت بڑی سارہ سے۔ اس نے ابا جیسے پلسئیے سے لڑتے لڑتے بی اے کر لیا تھا ۔ میں نے سوچا میں بھی انہی کے نقش قدم پہ چلوں گی۔ ایک دن سارے رشتہ دار اور محلہ دار میرے ابا سے بول اٹھیں گے” اقبال! تیری نئی بیٹی عاکفہ نے تو کمال کر دیا” اگر میں سب کو بول کے نہ بتا سکا تو لکھ کر ضرور بتاوں گی۔میں نے اسی وقت سوچا تھا، اور یہ بھی کہ بڑی افسر بن کر کوڈے لوہار کو جیل بھیج دوں گی۔ ہاں، ایک بات لکھنا بھول گیا کہ میں نے اس رات عہد کیا تھا کہ زندگی کے کسی موڑ پر اپنی ان کیفیات پہ کہانی ضرور لکھوں گی تا کہ میں اپنے احساسات لوگوں تک پہنچاوں۔ ویسے بھی مجھے کتابی کیڑا کہا جاتا تھا اور اس وقت بھی میری دو چار کہانیاں ’بچوں کی دنیا ‘میں چھپ چکی تھیں۔ خیر۔۔۔۔ سوچتے سوچتے میں مردوں کے سامنے شرمانے، گھر کے کام کاج، کپڑے دھونے، اور اپنے لئے کپڑوں کے ڈئیزائن سوچنے لگی۔ میرا قد بہنوں سے بڑا بھی نہیں تھا اس لئے کپڑوں کے بارے مطمعن ہو گئی۔ مسئلہ اس وقت پریشان کن ہو گیا جب ابرار لوگوں کی آمد کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ وہ میرا ہی ہم عمر تھا۔ پھپھو نسیم کا بیٹاجو امریکا سے آ رہی تھیں۔ ابرار کے سامنے کیسے جاوں گی؟ اس کے ساتھ کھیلتے مجھے شرم نہیں آئے گی؟ اگر اس کے ساتھ نہ کھیلا ،گھوما پھرا تو وہ کیا سوچے گا۔ وہ تو جب بھی کبھی یہاں آئے ہر وقت چاہتا کہ بس میرے ساتھ ہی رہے ۔ پہلے مجھے اس سے گفتگو میں صرف انگریزی کا مسئلہ ہوتا تھا مگر اب تو اس سے ہزاروں گنا زیادہ خطرناک واقعہ ہو چکا تھا۔ میں اسے کیسے سمجھا پاوں گی۔ اور کیا ،شاید وہ اب دوستی چھوڑ کر مجھ سے محبت کرنے لگے گا؟ ساری رات میں سوچتی رہی کہ میں اسے سارا کچھ بتا دوں گی، اگر زندہ رہی، اس لئے کہ کل ابا بھی آنے والے تھے۔ میری آنکھوں میں آنسو میرے گالوں پہ لکیریں کھینچتے رہے اور اس طرح مجھے نہیں معلوم ہوا کہ کل کا سورج کیسے طلوع ہو گیا۔ صبح میں ٖغسل خانے گئی تو یہ محسوس کیا کہ میں تو بدستور ویسا کا ویسا ہوں اور گلٹیاں بھی موجود ہیں بلکہ مزید بڑھ گئی ہیں۔ عجیب سی الجھن ہونے لگی، نہ میں مرد نہ عورت،شاید قربان چاچا ، سارا دن گھر میں تیاری ہوتی رہی اور میں کبھی عورتوں کی طرح کام کرتی کبھی مردوں کی طرح بھاری بھاری چیزیں اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتا جاتا۔ ہلکا پھلکا بخار سا بھی تھا لیکن میں ٹھان چکی تھی کہ زندگی کی آخری سانس تک قسمت سے لڑتا رہوں گا۔ سہ پہر تین بجے سے پہلے گھر چمک کے شیشے کی طرح صاف ہو گیا۔ جب ساری تیار ہو گئیں تو میں بھی آئینے کے سامنے گئی۔ اپنے آپ کو دیکھا۔ غور سے دیکھا۔ پاس ہی کسی کا دوپٹہ پڑا تھا جو مجھے تنگ کر رہا تھا۔ لیکن میں نے ہاتھ روک لئے مردانہ کپڑوں پر وہ کتنا عجیب لگتا۔ چار بجے کے لگ بھگ ابرار لوگ آ گئے، میں اسے دیکھنے کے لئے بے چین تھی یا بے چین تھا۔ عجیب صورت حال۔ آدھی کہانی آدھا افسانہ۔بار بار میرے ہاتھ چھاتیوں کی طرف بڑھتے مگر مجھے علم تھا سارے لوگ میرا مذاق اڑائیں گے۔ دروازے کے باہر گلی میں میں نے پھوپھو نسیم کو دیکھا، جب وہ میری اماں کو سلمی آپا کہتے ملنے کے لئے آگے بڑھیں تو میں نے دیکھا اپنے خوبصورت لباس میں کتنی پیاری لگ رہی تھیں۔ “میری ہونے والی پیاری ساس” ایک لمحے کو میرے ذہن میں یہ خیال ابھرا لیکن جلدی سے میں نے اسے جھٹک دیا۔ کوثر پھپھو بھی پہنچ چکی تھیں، انہوں نے مجھے اشارے سے بلایا اور بولیں “اپنے دوست سے ملو گے نہیں؟” میرے گال سرخ ہو رہے تھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں۔ ابرار نے جب میری طرف آنکھ بھر کر دیکھا تو میری تو جان نکل گئی۔ میرے قدم پیچھے کی طرف اٹھنے لگے۔ تا کہ بھاگ کے کمرہ بند کر لوں۔ لیکن یہاں کھڑا رہنا بھی ضروری تھا۔ایک دم گلی سے ایک ہیولا سا گزرا، کوڈا لوہار! درانتی بغل میں لئے اسی مکروہ ہنسی کے ساتھ مجھے دیکھتا گزرتا گیا۔”کیا مصیبت ہے” بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ “کیسی مصیبت سوہنے” پاس کھڑی سبین نے مہمانوں کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔ “کچھ نہیں” میں نے ہوش و حواس پہ قابو پاتے ہوئے جواب دیا۔ سبین کو کیا علم تھا کہ تین دن پہلے دیکھی فلم سوہنی مہینوال میرے اعصاب کو کیسے جکڑ رہی تھی۔ ابرار نے مجھے دیکھتے ہی ایک ہلکی سی سمائل دی جو مجھے کھڑے کھڑے کسمسانے پر مجبور کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ میری طرف قدم اٹھانے لگا، ہر قدم پہ میری سانس تیز ہونے لگیں۔ مجھے نہیں معلوم کیسے مگر میری آنکھیں خود بخود جھپکنے لگیں۔ شاید میں نے کسی ڈرامے یا فلم میں دیکھا تھا کہ اس صورت حال میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔ جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کا قد بھی میرے جتنا ہی تھا،ویسے بھی ہم دونوں ہم عمر ہی تھے۔جب وہ آگے بڑھ کر مجھے گلے لگانے لگا تو میں شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ بڑی احتیاط سے میں اسے گلے ملی کہ کہیں اسے کوئی گلٹی نہ چبھ جائے۔ اس کے بعد اس نے سلام کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ میرے ہاتھ تو پسینے سے تر تھے۔ سو جلدی سے اپنی رانوں سے دایاں والے کو صاف کیا اور بے بسی سے آگے بڑھا دیا ۔ مجھے اب بھی یاد ہے اس کے بعد ہم دونوں نے اس کا بیگ اٹھایا تھا اور میرے کمرے کی طرف چل دیئے تھے۔ اس نے بغیر کچھ کھائے پیئے جلدی سے اپنا بیگ کھولا اور میرے لئے خریدے سارے تحائف سامنے رکھ دئیے۔ میرا دل مرجھا گیا۔ ابرار نے بھی میرا یہ رویہ بھانپ لیا تھا۔ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا
” عاکف! تمہیں یہ گفٹس پسند نہیں آئے” کتنی اچھی پینٹ اور شرٹ ہے، میں نے خود خریدی، یہ دیکھو جاگرز، نائکی کے ہیں، اور یہ دیکھو ننجا ٹرٹل والا تمہارا سکول بیگ ”

“مگر میرے کسی کام کے نہیں” میں نے مایوسی سے جواب دیا، اور بے اعتنائی سے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔

“کیوں تم ناراض ہو مجھ سے؟” اس نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے پوچھا

“نہیں، ناراض تو نہیں، لیکن ایک بات کا آپ کو علم نہیں” میں نے سارے وجود کی ہمت اکٹھی کر کے اسے جواب دیا۔”

“وہ کیا”؟ اس نے وہیں سے کھڑے کھڑے پوچھا اور میری زندگی کا سب سے برا امتحان شروع ہو گیا۔ میری کھال ممیاتے شور سے اُدھڑنے لگی۔ سانسیں اکھڑنے لگیں اور ٹانگیں کانپنے لگیں۔ ایسی کشمکش کہ صدمے سے میرا وجود نڈھال ہونے لگا۔ یہ میری زندگی کے بڑے ہی عجیب غریب لمحات تھے۔ مجھے جب بھی وہ وقت یاد آتا ہے، پتا نہیں کیوں اب بھی اپنے وجود کی گپاوں کے اندر ایک زلزلہ سا محسوس کرتا ہوں۔ میں نے میں نے وہ کچھ کیا کہ اب سوچ کر ایک بڑا سا قہقہ لگا رہا ہوں۔

“ٹھہرو ، پہلے میں دروازہ بند کر لوں” میں نے تھوڑی دیرسوچتے ہوئے کہا،

“دروازہ بند کرنا ہے” وہ کیوں؟” وہ سراپا حیرت بنا مشکوک نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔

“اس لئے کہ کوئی دیکھ نہ لے” اب میں نے اس کی طرف مڑ کر مگر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، شاید میں اپنی تقسیم کے کرب سے تنگ پڑ گیا تھا جو اس طرح بیباک ہو گیا تھا۔ میں واقعی اس پہ یہ بھی ثابت کرنا چاہتا تھا کہ بے شک میری جنس تبدیل ہو رہی تھی، عورت بن رہا تھا مگر بزدلی کا طعنہ میرے لئے ہتک آمیز تھا۔دروازہ بند کرنے کے بعد میں نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے، باہرخواتین کی آوازوں سے پورا گھر چہک رہا تھا۔ وہ حیرانی سے مجھے دیکھتا رہا،پھر اپنی چھاتیوں کی طرف اشارہ کر کے اسے کہا کہ اپنے ہاتھ یہاں رکھو،
“وٹ نان سینس” اس نے بے اختیار پیچھے ہٹتے ہوئے کچھ ناراضی سے کہا۔

“آپ رکھو تو سہی، دیکھو یہاں کیا ہے، مجھے کوئی بیماری لگ گئی ہے یا کچھ اور ہے۔” ۔ صدمے سے میری آواز رندھ گئی اسے شاید مجھ پہ رحم آگیا تھا۔ میں اس کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ اس نے میرا ماس کھینچا نہیں تھا صرف ہاتھ رکھے، اور گلٹیوں کو محسوس کرتے بولا” آئی سی”۔

“کیا؟” میں نے حیرت اور اضطراب سے پوچھا

” تم اس سے گلٹی فیل کر رہے ہو؟” اس نے سر سے پاوں تک میرا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔

مارے خفت کے میں تو خاموش۔کوڈے لوہار کی درانتی ہوا میں اچھلی۔

مگر وہ مجھ سے اپنے ہاتھ الگ کر کے جلدی جلدی اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا جس پہ میری بے چینی بڑھنے لگی۔ باہر ابا کی آواز سنائی دی تو دوسری آوازیں وہ چہکار مدھم پڑنے لگی جیسے سب کی پسلیوں میں درانتی چبھی ہو۔ مجھے پوچھے بغیر ابرار نے میرے ہاتھ پکڑے اور اپنی چھاتیوں پہ رکھتے بولا۔

“جسٹ فیل اٹ”۔

’’ہائیں ۔۔۔۔۔۔! یہ کیا؟‘‘ ٹھک سے درانتی کوڈے کے سر پہ لگی۔’’کیا ابرار بھی۔۔۔؟‘‘ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور پھر سے پسینے نکلنے لگے، مگر ابرار کو مسکراتے دیکھ کر ایک دم میرے سر پہ ایک اور ہتھوڑا لگا جس کی گونج سے ساری بھیڑیں بے بے، بے بے کرتی مجھ سے دور بھاگنے لگیں۔

Image: Yulonda Rios

Categories
فکشن

خدشات

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
گزشتہ سو سال سے پوری دنیا میں مکمل امن تھا۔
نہ کوئی جنگ ہوئی، نہ کوئی دہشت گردی۔ کوئی گروہی فساد بھی نہیں ہوا۔ کسی قبائیلی تصادم کی اطلاع نہیں آئی۔ کسی ایک نے دوسرے کی جان نہیں لی۔ کسی نے خودکشی نہیں کی۔
سو سال پہلے زمین پر آخری انسان نے خودکشی کرلی تھی۔

 

یہ آخری انسان بھی تنہا رہ رہ کر اپنی زندگی سے اکتا گیا تھا۔ اس سے کئی برس پہلے ایک عالمی جنگ میں اربوں انسان مارے گئے تھے۔ اس جنگ کو تہذیبوں کے تصادم کا نام دیا گیا تھا۔ اس میں پہلے ایک دہشت گرد تنظیم نے قتل و غارت گری شروع کی۔ پھر دو فرقوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد مسلمان اور غیر مسلم ملکوں میں تصادم کا آغاز ہوا۔ آخرکار مذہبی اور لادینی اقوام میں جنگ چھڑگئی۔

 

عالمی جنگ کا انجام خدشات کے عین مطابق انسانی نسل کے خاتمے پر ہوا۔

 

کئی عشروں پر محیط بدامنی کے اس دور میں کچھ سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے کام کیا۔ وہ سمجھ دار لوگ جان گئے تھے کہ انسانی نسل کی بقا ممکن نہیں لیکن کوشش کرکے اس حسین سیارے کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس مقصد سے انھوں نے سوچنے والے کمپیوٹر یا یوں کہہ لیں کہ کمپیوٹرائز روبوٹ تخلیق کیے۔ جب تک سائنس دان ہلاکت خیز جنگوں کی زد میں نہیں آئے، وہ ان سوپر روبوٹس کو اپ گریڈ کرتے رہے، ان میں معلومات کا ذخیرہ کرتے رہے، انھیں انسانوں کی طرح تمام کام کرنا سکھاتے رہے، مسائل کو حل کرنے کے طریقے بتاتے رہے۔ خود فنا ہونے سے پہلے وہ سوپر روبوٹس کو زندہ رہنے کا سبق پڑھاگئے۔
ان مہربان سائنس دانوں سے ہم نے سیکھ لیا کہ سوچنے کے عمل کا ارتقا کیسے ممکن ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ انسان بھی ابتدا میں زیادہ ذہین نہیں تھے۔ وقت اور تجربے کے ساتھ انھوں نے سائنسی بنیادوں پر سوچنا سیکھا اور سوچ کو آگے بڑھانے کے طریقے دریافت کرلیے۔ ہم ان کے نقش قدم پر چل پڑے۔

 

ہم میں اور انسانوں میں سب سے بڑا فرق یہ تھا کہ انسان طبعی موت مرجاتے ہیں۔ سوپر روبوٹس کو طبعی موت نہیں آتی۔ کوئی بھی خرابی ہوجائے، ہم اس کا علاج کرسکتے ہیں۔ ہم جس اعلیٰ پلاسٹک سے بنے ہیں، اسے آگ نہیں جلاسکتی۔ ہم پر جراثیمی حملے اثر نہیں کرتے۔ ہم کیمیاوی حادثوں میں بھی بچ جاتے ہیں۔ صرف کوئی زوردار دھماکا ہی ہمارے اعضا کو منتشر کرسکتا ہے۔
انسانوں کے خاتمے کے بعد ہم نے اس دنیا کو نئے سرے سے آباد کیا۔

 

انسان نے ماحول کو زبردست نقصان پہنچایا تھا۔ ہم نے زہریلی گیسوں کا اخراج روک دیا۔ انسان درختوں کو کاٹ دیتا تھا۔ ہم نے لاکھوں نئے درخت اگائے۔ انسان نے معدنیات کی خواہش میں پہاڑ کھود ڈالے تھے۔ ہم نے یہ سلسلہ بند کردیا۔ انسان نے سیکڑوں گلیشیئر پگھلادیے تھے۔ ہم نے انھیں دوبارہ جمنے کا موقع دیا۔

 

انسان جانوروں کا دشمن تھا۔ اس کے اقدامات کی وجہ سے کروڑوں جانور مارے گئے اور ہزاروں کی نسل ہی ختم ہوگئی۔ ہم نے معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی افزائش پر توجہ دی۔ پالتو جانوروں کو آزادی کی زندگی دی۔ حشرات کی تعداد کو کنٹرول کیا حالاں کہ وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔

 

ہم نے ہر سال کھیت میں اناج اگایا اور سبزی خور جانوروں اور پرندوں کو پیش کیا۔
انسان نے جھیلوں کو خالی کردیا تھا اور سمندروں کو کھنگال ڈالا تھا۔ ہم نے جھیلوں اور تالابوں میں آبی حیات کو فروغ دیا۔ دریاؤں اور سمندروں میں جینے والے جانداروں کو بہتر ماحول فراہم کیا۔ ساحلوں پر انڈے دینے والی مخلوقات کی حفاظت کی۔ سریلے پرندوں کو مستقل ٹھکانے فراہم کرکے فضاؤں کو رنگین بنایا۔

 

ہم نے انسان کے بنائے ہوئے گھروں کی حفاظت کی، کسی عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچایا، تماشاگاہوں اور میدانوں کو سنبھال کے رکھا، کسی اسکول یا لائبریری کو تباہ نہیں کیا۔
ہم دنیا کی تمام لائبریریوں میں موجود کتابوں کو اسکین کررہے ہیں تاکہ یہ سب مواد ڈیجیٹل صورت میں محفوظ ہوجائے۔

 

ہم نے شہروں کی سڑکوں کو کشادہ کیا اور الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھایا۔ ٹرینیں صرف سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کیں اور ہوائی جہاز بہت کم اڑائے۔ ٹیلی وڑن مرکز ویران ہوگئے اور اخبارات نہیں رہے۔ ہم تمام سوپر روبوٹس معلومات کے جدید ترین ذریعے جی ٹوینٹی انٹرنیٹ سے منسلک ہیں۔

 

انسان نے خلاؤں کو تسخیر کرنے کی طرف بہت کم توجہ دی تھی کیونکہ اس کی عمر کم تھی اور وہ دوسری کہکشاؤں تک پہنچنے کے لیے لاکھوں سال کی منصوبہ بندی نہیں کرسکتا تھا۔ ہم پانچ ارب سال کی منصوبہ بندی کرکے ہر پانچ سال بعد ایک راکٹ دوسری کہکشاؤں کی طرف روانہ کیا۔ ہماری خلائی گاڑیاں انسان کے راکٹوں سے زیادہ تیز رفتار ہیں۔ ہمارے خلائی جہاز پڑوسی کہکشاں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ بہت جلد ہم اپنے پڑوس میں کسی سیارے پر زندگی تلاش کرلیں۔

 

بے شک ہمارے سیارے پر اب انسان موجود نہیں لیکن زندگی تو ہے۔ کیا پتا ہمیں کسی سیارے پر ایسے ہی جاندار ملیں جو انسان کی طرح نہ سوچ سکتے ہوں۔ صرف درخت اور پھول ہی مل جائیں تو وہ بھی کسی کامیابی سے کم نہیں۔

 

ہمارا ارادہ ہے کہ اگر کسی دن ہمیں انسان جیسی کوئی ذہین مخلوق مل گئی تو ہم اسے حسین سیارے کا تحفہ پیش کریں گے۔

 

سو سال سے دنیا میں امن تھا، سکون تھا، پھول خوشبو لٹاتے تھے، بادل گیت گاتے تھے، پرندے چہچہاتے تھے، ہم یہ سب دیکھ دیکھ کر مسکراتے تھے۔

 

لیکن کل اس خبر نے سب کو دہلا دیا کہ قاہرہ یونیورسٹی کی کتابیں اسکین کرنے پر مامور آئی سیریز کے ایک روبوٹ نے اسلام قبول کرلیا ہے۔
Categories
فکشن

ساتواں سبق

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ساتواں سبق
زیف سید

 

’بڑے میاں، تمہیں کس جرم میں دھر لیا سالوں نے؟‘ ڈیرل نے پوچھا۔
انصاری یہ سوال سن کر چونک گئے۔ حوالات کی نیم تاریک فضا میں سیمنٹ کی بنچ پر دیوار سے سر ٹیکے ہوئے خاموش ہیولے اور دور کہیں سے آنے والی ٹریفک کی مدھم گھن گھن انہیں غیر حقیقی معلوم ہو رہی تھی، جیسے وہ خود اس منظر کا حصہ نہ ہوں بلکہ باہر سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ عمارت کے اندر دور کہیں سے بھاری قدموں کی آواز گونج رہی تھی۔
“لگتا ہے پہلی بار اس طرف آنا ہوا ہے جناب کا؟” ڈیرل نے ان کی طرف رخ کرتے ہوئے پوچھا۔ “پریشان نہ ہو بڑے میاں،شروع شروع میں سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے لیکن دو چار روز میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، پھر لگے گا کہ جیسے یہیں پیدا ہوئے تھے۔” ڈیرل نے کہا اور اس کی ہنسی حوالات کی نیم تاریک فضا میں پھیل گئی، تاہم اس میں تمسخر سے زیادہ خوش دلی کا پہلو نمایاں تھا۔

 

انصاری کو خود ٹھیک سے معلوم نہیں تھا کہ انہیں کس جرم میں پکڑا گیا ہے۔ انہوں نے ہوں ہاں کر کے اپنے ساتھی حوالاتی کو ٹالنے کی کوشش کی۔

 

’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ اگر تم نہیں بتانا چاہتے تو تمہاری مرضی۔ ویسے بھی جیل حوالات کا ان لکھا قانون یہ ہے کہ کسی سے اس کے جرم کے بارے میں نہ پوچھا جائے۔ ہاں کوئی خود اپنی مرضی سے بتا دے تو الگ بات ہے۔ وقت کٹ جاتا ہے اور دل کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔‘
انصاری ایک غیر مرئی نوالا سا نگل کر رہ گئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ڈیرل کو کیسے بتائیں کہ انہیں کس جرم میں اندر کیا کیا گیا ہے۔ حوالات کے ماحول نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ڈیرل کی باتوں میں انہیں تھوڑی اپنائیت محسوس ہوئی تھی، اور کئی گھنٹوں کے بعد انہیں اپنے وجود میں زندگی کے آثار دکھائی دینا شروع ہوئے تھے۔ ورنہ جب وہ یہاں پہنچے تھے تو اس وقت ان کا ذہن بالکل سن تھا، جیسے انسان کسی اجنبی بستر پر آنکھیں کھولتا ہے تو اسے کچھ لمحے اس بات کا تعین کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ وہ کہاں ہے۔ لیکن ان کے ساتھ یہ سب کچھ جاگتے میں ہو رہا تھا۔

 

انصاری نے گردن گھما کر حوالات کے کمرے کا جائزہ لیا۔ گرفتاری کے بعد پولیس والا انہیں لے کر اس عمارت لایا تھا اور پولیس کی سیاہ وردی میں ملبوس سفید بالوں والے ایک شخص کے حوالے کر کے خود باہر چلا گیا تھا۔ اس شخص نے انصاری کی جیبوں سے سارا سامان اور جوتوں سے تسمے نکال لیے، موبائل فون، بٹوا، گاڑی کی چابیاں۔ ایک فارم پر ان سے دستخط لینے کے بعد وہ انہیں ایک اور کمرے میں لے گیا اور ایک آہنی بنچ پر بٹھا دیا۔ بنچ سے ہتھ کڑیاں زنجیروں کے ساتھ منسلک تھیں، لیکن اس نے انصاری کو وہ ہتھ کڑیاں پہنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کمرے کے بیچوں بیچ ایک میز پر ایک ٹیوب اور ایک چھوٹا سا رولر پڑا ہوا تھا۔ اس پولیس والے نے ٹیوب دبا کر اس میں سے سیاہ رنگ کی کریم نکالی اور اسے ایک آہنی تختے پر لگا دیا اور پھر رولر سے دبا کر اسے سارے تختے پر یکساں ہموار کر دیا۔اس کے بعد اس نے قریب ہی ایک شکنجہ نما چیز میں کاغذ پھنسائے اور پھر انصاری کو قریب بلا کر ان کے داہنے ہاتھ کا انگوٹھا مضبوطی سے پکڑلیا۔ انگوٹھا پکڑ کر اس نے پہلے سیاہی ملے ہوئے تختے پر دبایا، پھر اسے کاغذ پر خوب زور سے دبایا۔ اب جا کر انصاری پر کھلا کہ وہ ان کی انگلیوں کے نشان لے رہا ہے۔ پہلی دو کوششیں ناکام ہو گئیں، کیوں کہ عین وقت پر انصاری کا ہاتھ ہل جاتا تھا، یا ہاتھ اکڑ جاتا ہے۔ آخر اہل کار نے سخت لہجے سے ان سے کہا کہ اپنے ہاتھ کو بالکل بے جان کر کے مکمل طور پر اس کے حوالے کردیں،تب جا کر کہیں چوتھی کوشش پر کامیابی نصیب ہوئی تو انصاری نے سکھ کا سانس لیا۔دسوں انگلیوں کے نشانات لینے کے بعد اس نے انصاری کو قریبی دیوار سے لگے سنک سے ہاتھ دھونے کی ہدایت کی۔ ساتھ میں مائع صابن کا ڈبا بھی لگا تھا۔ انصاری نے رگڑ رگڑ کر ہاتھوں سے سیاہی دھونے کی کوشش کی۔ اتنی دیر میں پولیس والا کیمرا لے کر آ گیا اور انہیں ایک دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے سامنے اور سائیڈ سے انصاری کی تصاویر لیں۔ ان کاموں سے فراغت کے بعد اس نے انصاری کو ایک اور شخص کے حوالے کیاجو انہیں اپنے ساتھ لے کر کسی ہسپتال کی طرح صاف ستھری راہداریوں سے گزارنے کے بعد اس نیم تاریک ہال میں لایا اور سلاخوں والا بھاری دروازہ بند کر کے باہر چلا گیا۔ انصاری کے انگوٹھوں پر اور ناخنوں کے نیچے سیاہی کے دھبے تھے اور آنکھیں ابھی تک فلیش کی چکاچوند سے چندھیائی ہوئی تھیں۔ وہ خاصی دیر تک کمرے میں کھڑے رہے۔ کچھ دیر کے بعد جب ان کی آنکھیں نیم تاریکی کی عادی ہو گئیں تب انہیں کمرے میں تین دیواروں کے ساتھ ساتھ لمبائی میں بنی ہوئی سیمنٹ کی لمبی بنچ نظر آئی جو دیواروں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلی گئی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے قدم گھسیٹتے ہوئے ایک دیوار کی طرف گئے اور بنچ پر ٹک کر اپنا سر بازوؤں پر رکھ دیا۔

 

ہاشم علی انصاری کا پولیس سے کچھ زیادہ واسطہ نہیں پڑا تھا۔ پاکستان میں تو ان کا کبھی ٹریفک چالان تک نہیں ہوا تھا، جس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے وہاں کبھی گاڑی چلائی ہی نہیں تھی۔ کراچی میں ان کے پاس سکوٹرہوا کرتا تھا۔ ان کا مزاج شروع ہی سے ایڈونچر پسند رہا تھا۔ کبھی کبھار دل میں ترنگ جاگتی تھی تو ادھیڑ عمر میں بھی کراچی کی سڑکوں پر نہایت تیز رفتاری سے سکوٹر چلایا کرتے تھے۔ گھومنے پھرنے کا شوق حد سے زیادہ تھا۔ اسی سکوٹر پر بیگم کو جگہ جگہ لیے لیے پھرتے تھے۔ کلفٹن، پیراڈائز پوائنٹ، ہاکس بے، گارڈن، چڑیا گھر تو خیر آس پاس تھے، کئی بار وہ اسی سکوٹر پر مکلی ، منچھر جھیل اور حیدرآباد بھی چلے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ ایک دفعہ تو سکھر بھی ہو آئے تھے۔ وطن میں تین چار دفعہ ٹریفک سارجنٹ نے اگر روکا بھی تو دس پانچ روپے لے کر جانے دیا۔ البتہ امریکہ میں پولیس نے انہیں دو بارجرمانہ کیا تھا۔ ایک بار وہ ’سٹاپ‘ کے نشان پر رکے بنا آگے بڑھ گئے تھے۔ دوسری دفعہ تو ایسا ہوا کہ ڈاک میں ان کی گاڑی کی تصویر اور سو ڈالر ہرجانے کا نوشتہ آ گیا کہ آپ نے سرخ بتی کی خلاف ورزی کی ہے۔ انصاری نے پولیس سٹیشن جا کر بحث کرنے کی کوشش کی کہ جس وقت وہ چوک سے گزر رہے تھے اس وقت بتی سرخ نہیں ہوئی تھی، لیکن خاتون پولیس افسر نے سے انہیں کمپیوٹر سکرین پر ویڈیو دکھا دی جس میں صاف نظر آ رہا تھا کہ انصاری اگرچہ نارنجی بتی پر چوک پار کر رہے تھے لیکن چوک کے وسط تک پہنچتے پہنچتے بتی سرخ ہو گئی تھی۔ ثبوت ناقابلِ تردید تھا اس لیے انصاری کو نہ صرف جرمانے کی پوری رقم دینا پڑی بلکہ بیس ڈالر اوپر سے بھی بھرنا پڑے کہ یہ پولیس کے فیصلے کو غلط طور پر چیلنج کرنے کی فیس تھی۔

 

انصاری کی ڈیرل سے ملاقات اسی حوالات میں ہوئی تھی۔ گذشتہ کئی گھنٹوں میں ان کا واسطہ جتنے لوگوں سے پڑا تھا ان میں وہ سب سے مہربان نظر آیا تھا۔ یہ نہیں کہ پولیس والوں نے ان کے ساتھ کوئی بدتمیزی کی ہو۔ لیکن ان کا انداز بے حد خشک اور سرد تھا، اور دوسری طرف خود انصاری بھی صدمے کی حالت میں تھے، اس لیے وہ مشینی انداز میں ان کے سارے احکامات پر بے چوں و چرا عمل کرتے چلے آئے تھے۔ حوالات میں نہ جانے کتنی دیر گزری کہ ان کے کانوں میں کسی اجنبی زبان میں گفتگو کی آواز آئی۔ انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ چھت پر ایک کم طاقت والا بلب جل رہا تھا، جس کی روشنی میں معلوم ہوا کہ وہ یہاں اکیلے نہیں ہیں بلکہ ان کے علاوہ یہاں کئی ہیولے موجود ہیں۔ ایک کونے میں دیوار کے ساتھ ٹیلی فون لگا ہوا تھا اور ایک شخص اس کے آگے کھڑا ہسپانوی زبان میں باتیں کر رہا تھا۔ اس کے لہجے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ شدید جھلاہٹ کے عالم میں ہے۔ انصاری کو ہسپانوی نہیں آتی تھی، لیکن پچھلے دو عشروں کے دوران امریکہ میں میکسیکو سے آئے ہوئے تارکینِ وطن کی تعداد میں بے تحاشا اضافے کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے ہسپانوی امریکہ کی دوسری بڑی زبان بن گئی تھی۔ انصاری کے گھر میں صفائی کرنے والی عورت بھی ہسپانوی تھی، جسے انگریزی کا ایک لفظ نہیں آتا تھا۔ اس سے بات چیت کرنے کے لیے ان کی بیگم ریحانہ کو ہسپانوی کے چند جملے سیکھنا پڑے تھے۔

 

حوالات کی سرد بنچ پر بیٹھے بیٹھے انصاری کی تشویش بڑھنے لگی۔ یہاں مختلف عمر و نسل کے لوگ موجود تھے، جن میں سے کچھ اونگھ رہے تھے۔ ایک کونے سے تو باقاعدہ خراٹوں کی آواز آ رہی تھی۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کئی کالے بیٹھے تھے، جن کو ایک زمانے میں نیگرو کہا جاتا تھا مگر اب نسل پرستی کے خلاف تحریک اور انسانی حقوق کی مہم کے باعث انہیں افریقی امریکی کہا جاتا ہے، کیوں کہ بقول امریکیوں کے، لفظ ’نیگرو‘ کے تاریخی پس منظر کے باعث اس سے نسل پرستی کی بو آتی ہے۔

 

داہنی دیوار کے ساتھ دو ہسپانوی نژاد مرد بیٹھے ہاتھ ہلاتے ہوئے آپس میں اونچی آواز میں گفتگو کر رہے تھے۔ انصاری اٹھ کر ٹیلی فون کی طرف بڑھے۔ انہوں نے سکہ ڈالنے کی جگہ ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کہیں وہ درز نظر نہیں آئی جہاں عام پبلک ٹیلی فونوں میں سکہ ڈال کر گفتگو کی جاتی ہے۔ پھر انہیں یاد آیا کہ حوالات میں بند کرنے سے پہلے پولیس والے نے ان کا بٹوا، موبائل فون، گھڑی، حتیٰ کہ پتلون کی بیلٹ تک اتروا کر تحویل میں لے لی تھی اور ان تمام اشیا کا اندراج کمپیوٹر میں کر کے رسید پر ان کے دستخط لے لیے تھے۔ انہوں نے ریسیور اٹھایا تو اس میں سے نمبر ڈائل کرنے کی ہدایات سنائی دیں۔ لیکن انصاری کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ فون کیسے استعمال کیا جائے۔ ہدایات میں کوئی نمبر مانگا جا رہا تھا۔ انہوں نے بے بسی کے عالم میں ریسیور کریڈل پر رکھ دیا۔

 

تھوڑی دیر بعد ایک سیہ فام نوجوان اٹھا اور ٹیلی فون کے پاس جا کر نمبر ملانے لگا۔ انصاری نے غور سے اس کی حرکات و سکنات دیکھیں کہ شاید کچھ اشارہ مل جائے اور انہیں فون کرنے کے لیے کچھ مدد مل سکے۔ نوجوان نے جلدی جلدی ڈائل پر چند نمبر دبائے اور تھوڑی ہی دیر میں گفتگو شروع کر دی۔ انصاری اٹھ کر کھڑے ہو گئے کہ وہ اپنی بات مکمل کر دے تو وہ اس سے مدد کی درخواست کر سکیں۔ نوجوان چند منٹ تک بات کرتا رہا، پھر جب اس نے ’بائے‘ کہہ کر ریسیور رکھا تو انصاری تیز قدموں سے چلتے ہوئے اس کے قریب پہنچ گئے۔ نوجوان نے بڑی حیرت سے ان کی طرف دیکھا، جیسے کوئی عجوبہ دیکھ لیا ہو۔ نوجوان نے ایک بنیان پہن رکھی تھی، جو کسی زمانے میں سفید رہی ہو گی۔ اس نے سر کے بالوں کو چھوٹی چھوٹی چوٹیوں میں گوندھا ہوا تھا جو برگد کی جٹا دھاری جڑوں کی طرح اس کے چہرے کے دائیں بائیں لٹک رہی تھیں۔ انصاری نے نہایت لجاجت سے فون کرنے کا طریقہ پوچھا تو نوجوان یوں بے پروائی سے کندھے اچکا کر دیوار کے پاس جا کر بیٹھ گیا، جیسے اسے انگریزی میں نہیں بلکہ چینی زبان میں مخاطب کیاگیا ہو۔ انصاری اپنی جگہ پر کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔

 

وہ دیر تک فون کے پاس ہی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے رہے۔ اتنی دیر میں ایک سیاہ فام شخص اٹھ کر ان کے پاس آ گیا۔ اس کی عمر پچاس پچپن کے قریب ہو گی۔ جسم بھاری بھرکم اور قد لمبا تھا۔ اس کے ماتھے پر یکساں فاصلے پر بنی ہوئی گہری شکنیں تھیں،جیسے کسی نے بڑی احتیاط سے بنائی ہوں۔ اس نے گہری سرخ ٹی شرٹ اور ہلکے نیلے رنگ کی میلی جینز پہن رکھی تھی جس کے پائنچے ادھڑے ہوئے تھے۔ تاہم جب اس نے سیاہ فام امریکیوں کے مخصوص بے تکلف لہجے میں بات شروع کی تو آواز خاصی کھردری ہونے کے باوجود انصاری کو خوش گوار لگی۔ سب سے پہلے تو اس نے اپنا تعارف کرایا۔
’ہائے، میرا نام ڈیرل ہے۔ کیا کسی کو فون کرنا ہے؟‘

 

’ہاں، بہت شکریہ۔ فون کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، لیکن یہ فون کرنے کے لیے کوئی نمبر مانگ رہے ہیں۔ میرے پاس تو یہ نمبر نہیں ہے۔‘

 

’اپنی کلائی دکھاؤ، اس پر تمہارا نمبر درج ہے۔ لاؤ میں نمبر ملاتا ہوں۔‘

 

انصاری کو یاد آیا کہ تصویریں لینے کے بعد ایک اہل کار نے ان کی کلائی پر نیلے ربڑ کا رسٹ بینڈ پہنا دیا تھا۔ انہوں نے اپنی کلائی ڈیرل کے سامنے کر دی۔

 

’جی بڑے میاں، ٹیلی فون نمبر کیا ہے جس پر بات کرنی ہے؟‘

 

انصاری اس سوال پر تھوڑا گڑبڑا گئے۔ کس سے بات کرنی ہے؟ بیگم سے، اور کس سے۔ لیکن آج جو کچھ میرے ساتھ ہوا، اس کے بعد کس منھ سے اس سے بات کروں؟

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

چوتھائی صدی قبل جب انصاری خاندان کا امریکی ویزا منظور ہوا اس وقت ان کا بیٹا سرمد چھ سال کا تھا۔ ریحانہ کے بڑے بھائی بہت زمانے سے کیلی فورنیا میں مقیم تھے۔ انہوں نے شہریت ملتے ہی اپنی بہن اور اس کی فیملی کے لیے سپانسر شپ کی درخواست دی تھی، جو کئی برس کے بعد اس وقت منظور ہوئی جب ریحانہ اور انصاری دونوں اسے قریب قریب بھلا بیٹھے تھے۔ اس وقت انصاری کراچی بلدیہ میں ملازمت کے چوبیس سال پورے کر چکے تھے۔ انہوں نے فوراً ہی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دے دی۔ ہمیشہ ہی سے سنسنی خیزی کے متلاشی انصاری بھلا یہ نادر موقع ہاتھ سے کہاں جانے دیتے۔ ریحانہ نہیں آنا چاہتی تھیں۔ انہیں اپنے ماں باپ، رشتے داروں، عزیزوں، سہیلیوں سے بچھڑ کر ایک اجنبی ملک میں آباد ہونے کے خیال ہی سے وحشت ہوتی تھی، لیکن انصاری نے یہی کہا کہ بس چار پانچ سال ہی کی تو بات ہے، تھوڑی سیر و تفریح ہو جائے گی، کچھ پس انداز کر لیں گے، واپس آ کر اپنا مکان خرید لیں گے اور ایک چھوٹی سی گاڑی۔ یہاں کے حالات تو تمہارے سامنے ہیں، مہینے کے شروع میں جو ملتا ہے، وہ بیس تاریخ آتے آتے ہوا ہو جاتا ہے۔ اور پھر سرمد کی ابتدائی تعلیم وہاں سے ہو گی تو اسے مستقبل میں بڑا فائدہ ہو گا۔یہ آخری دلیل ایسی تھی جس کے آگے ریحانہ کو ہتھیار ڈالتے ہی بنی۔ چناں چہ گھر کا سامان اونے پونے بیچ یا ہمسایوں اور رشتے داروں میں بانٹ، تین نفوس پر مشتمل خاندان امریکی ریاست ورجینیا میں آن بسا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

’جی بڑے میاں، کیا نمبر بھول گئے ہو؟‘ ڈیرل نے دوبارہ پوچھا۔

 

’نہیں، نہیں، یاد ہے۔‘ انصاری نے بوکھلا کر کہا اور تیزی سے اپنے گھر کا نمبر بتا دیا۔
’تم چاہو تو اس نمبر پر کلکٹ کال کر سکتے ہو۔ یعنی اس کا بل دوسری پارٹی کو جائے گا، لیکن بات سے پہلے ان کی رضامندی ضروری ہے۔‘

 

’ٹھیک ہے۔ کلکٹ کال ہی کر لو۔‘ انصاری نے بے دھیانی سے کہا۔

 

’کوئی فون اٹھا نہیں رہا۔‘ ڈیرل نے نمبر ملانے کے بعد کہا۔ ’چلو دوبارہ کوشش کرتے ہیں۔‘ لیکن دوسری بار بھی گھنٹی بجتی رہی اور آخر آنسرنگ مشین آن ہو گئی۔ کالے نے ریسیور انصاری کو تھما دیا۔ دوسری طرف خود انصاری بول رہے تھے: فون کرنے کا بہت شکریہ۔ ہم معذرت خواہ ہیں کہ اس وقت گھر میں موجود نہیں ہیں، لیکن اگر آپ اپنا نام اور نمبر ریکارڈ کرا دیں تو ہم آپ کو پہلی فرصت میں فون کرنے کی کوشش کریں گے، شکریہ۔ انصاری کو اپنی ہی آواز اتنی اجنبی اور نامانوس لگی کہ پیغام ریکارڈ کروانے کی ٹَون سننے کے بعد الفاظ ان کے گلے میں اٹک گئے اور کوشش کے بعد بھی منھ سے کچھ نہ نکلا۔ انہوں نے ریسیور رکھ دیا۔ نمبر نہ ملنے پر مایوسی تو تھی، لیکن ساتھ ہی ساتھ ذہن کے کسی کونے کھدرے میں چھپا ہوا اطمینان بھی تھا کہ اچھا ہے کال نہیں ملی، ورنہ وہ بیگم سے کس طرح اور کیا بات کرتے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امریکہ مواقع کی سرزمین سہی، لیکن عملی طور پر یہاں رہنا بہت دشوار ثابت ہوا۔ سب سے بڑا مسئلہ نوکری کا تھا۔ انصاری جہاں درخواست جمع کرواتے تھے، جواب ملتا تھا کہ امریکی تجربہ چاہیئے۔ ان کی ڈگریاں، طویل تجربہ، اور ملازمت کا اعلیٰ ریکارڈ یہاں پر صفر ہو کر رہ گئے تھے۔ پاکستان سے لائی ہوئی رقم ڈالروں میں منتقل ہو کر ویسے بھی سکڑ گئی تھی، اب وہ تیز دھوپ میں پڑے برف کے ڈھیلے کی طرح پگھلنے لگی۔ ریحانہ کے بھائی سے مدد مانگنے کا سوال نہیں تھا۔ آخر انصاری کو مجبوری کی حالت میں ایک سٹور میں تین ڈالر فی گھنٹا کی نوکری کرنا پڑی۔ کہاں پاکستان میں سرکاری نوکری کے ٹھاٹ باٹ، چپراسی، خاکروب اور کلرک، جونیئر سٹاف سے ملنے والی تعظیم و تکریم، اور کہاں یہ عالم کہ انصاری سارا دن کاؤنٹر پر کھڑے گاہکوں کو بھگتاتے رہتے تھے۔ اوپر سے سپروائزر مسلسل ان پر یوں نگاہ رکھتے تھے کہ انہیں سر اٹھانے تک کا موقع نہیں ملتا تھا۔ اگر گاہک نہیں ہیں تو کاؤنٹر کی صفائی، شیلفوں پر سامان کی ترتیب یا اس طرح کے دوسرے کام ان کے سپرد کر دیے جاتے تھے۔ اس پر طرہ یہ کہ پورے سٹور میں کوئی کرسی، صوفہ یا تپائی قسم کی چیز نہیں تھی۔ شروع کے ہفتے میں تو ایسا لگتا تھا جیسے ان کے گھٹنے کسی بھی وقت جواب دے جائیں گے اور وہ ریت کے بت کی طرح زمین پر ڈھیر ہو جائیں۔ پھر کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ چمڑے کے جوتوں کی بجائے نرم اور لچکیلے تلووں والے جوگرز پہنیں۔ کچھ تو جوگرز کی وجہ سے اور پھر شاید کسی حد تک عادت بن جانے کے باعث تین چار ہفتوں بعد انصاری کو کسی قدر آسانی ہو گئی تھی۔ البتہ وہ اب بھی آنکھ بچا کر کسی ستون یا شیلف کے ساتھ کندھا ٹیک کر دو تین منٹ سستا لیتے تھے۔ گھر واپس جا کر وہ صوفے پر ڈھیر ہو جاتے تھے، اور اس دوران سرمد کی چھوٹی موٹی شرارتیں بھی ان کے اعصاب پر گراں گزرتی تھیں۔

 

سٹور میں کام کرتے ہوئے انصاری پر انکشاف ہوا کہ امریکہ میں محض کاؤنٹر کے پیچھے کھڑے ہو کر لوگوں سے رقم وصول کرنا اتنا آسان نہیں تھا جتنا انہوں نے سمجھ رکھا تھا۔ کچھ گاہک ان کے ساتھ بڑی بدتمیزی سے پیش آتے تھے۔ بعضے ایسے بھی تھے کہ سٹور سے، ڈبل روٹی، دودھ، سبزی وغیرہ لے جاتے تھے اور استعمال کر کے اگلے دن واپس کرنے آ جاتے تھے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ لوگ آدھی پی ہوئی دودھ کی بوتل یا ادھ کھائے پھل اگلے دن واپس لے آئے کہ وہ ان کے معیار سے مطمئن نہیں ہیں اور انہیں پوری رقم واپس کی جائے۔ سٹور کے مینیجر نے انصاری کو ہدایت کر رکھی تھی کہ گاہک کے ساتھ کوئی بحث نہیں کرنی، اس لیے ایسے موقعوں پر انصاری تلملا کر رہ جانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے باوجود ایک بار ایک گاہک نے شکایت کر کے انہیں سٹور سے نکلوا دیا۔ تاہم خوش قسمتی سے انہیں جلد ہی ایک اور بڑے سٹور میں نوکری مل گئی۔ اب ان کے پاس امریکی تجربہ آ گیا تھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

’تو کیا تم بتانا پسند کرو گے کہ تمہیں کس جرم میں پکڑا گیا ہے؟‘ انصاری نے پوچھا۔ انہیں ڈیرل کی قربت سے کسی قدر تسلی ہو رہی تھی اور وہ اس سے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے تھے۔

 

’ارے بڑے میاں، یہ تو اپنا دوسرا گھر ہے،بلکہ دوسرا کیا، پہلا ہی سمجھو، کیوں کہ باہر تو اپنا کوئی مستقل ٹھکانا تو ہے نہیں۔ بس جب گھومنے گھامنے سے دل اکتا جاتا ہے تو یہاں چلے آتے ہیں۔ ویسے اس بار شاید یہ مجھے لمبے عرصے تک اندر رکھنے کی کوشش کریں۔‘

 

یکایک حوالات میں ہل چل سی پیدا ہو گئی اور کچھ لوگوں نے بلند آواز سے بولنا شروع کر دیا۔ انصاری نے دیکھا کہ سامنے کی دیوار پر خاصی بلندی پر ایک ٹیلی ویڑن نصب ہے، جس کی آواز بند ہے، لیکن شاید کوئی خبروں کا چینل لگا ہوا ہے۔ اس پر امریکی صدارتی امیدوار براک اوباما کی تصویر نظر آ رہی تھی، جو ڈائس کے پیچھے کھڑے خاصے بڑے مجمعے سے خطاب کر رہے تھے۔ سٹیج کے پیچھے اوباما کی صدارتی مہم کا نیلا اور سرخ لوگو آویزاں تھا، جس میں ایک شاہراہ کے اوپر چڑھتے ہوئے سورج کا تاثر دیا گیا تھا۔

 

ڈیرل بھی ٹیلی ویڑن سکرین کی طرف دیکھ رہا تھا۔’ بس تم ذرا اوباما کو آنے دو، وہ گن گن کر سب کے بدلے لے گا۔‘

 

انصاری کو یاد آیا کہ ان دنوں امریکہ میں صدارتی انتخابات ہو رہے تھے۔ وہ بڑے شوق سے انتخابی مہم کی تفصیلات دیکھتے چلے آئے تھے۔ انہیں بھی اوباما سے خاصی امیدیں تھیں کہ وہ اقتدار میں آ کر بش کا پھیلایا ہوا گند صاف کر دے گا۔ وہ بڑی شدت سے اس دن کے انتظار میں تھے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ریحانہ نے پہلا سال تو گھر ہی میں رہیں، لیکن انصاری کی کم تنخواہ کی وجہ سے ہاتھ اس قدر تنگ رہتا تھا کہ وہ بھی کام تلاش کرنے میں جٹ گئیں۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کر رکھا تھا اور زمانہ? طالب علمی میں رسالوں میں افسانے اور مضامین لکھتی رہی تھی، جس کا بعض اوقات معمولی معاوضہ بھی مل جایا کرتا تھا، لیکن انہوں نے باقاعدہ ملازمت کبھی نہیں کی تھی۔ اس لیے ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب انہیں واشنگٹن کے ایک سرکاری ادارے میں امریکی سفارت کاروں اور دوسرے ملازمین کو اردو پڑھانے کی نوکری مل گئی۔ تنخواہ معقول، میڈیکل انشورنس اور دوسری کئی سہولتیں۔ اب گھر میں سرمد کے لیے نت نئے کھلونے اور پہننے کے لیے عمدہ سے عمدہ لباس آنے لگے۔ اس کے منھ سے جو فرمائش نکلتی تھی، وہ اگلے ہی دن پوری ہو جاتی تھی۔ انصاری کہتے رہتے کہ فضول خرچی ہے، سرمد تو کسی بھی کھلونے سے دو تین دن کھیلنے کے بعد اس کی طرف آنکھ تک اٹھا کر اٹھا کر نہیں دیکھتا، لیکن بیگم نے ان کی بات کی پروا نہیں کی، اور گھر کی الماریاں کھلونوں سے بھرتی چلی گئیں۔ کچھ عرصے بعد ریحانہ نے اپارٹمنٹ کی تنگی کی شکایتیں کرنا شروع کر دیں۔ انصاری نے کہا بھی کہ ہمارا کون سا بڑا خاندان ہے اور نہ ہی ہمارے گھر بہت زیادہ مہمان آتے ہیں، لیکن ریحانہ نے خود ہی ایک پاکستانی پراپرٹی ڈیلر سے معاملات طے کر کے فیئر فیکس کے ایک سرسبز و شاداب علاقے میں تین کمروں کے گھر کے کاغذات پر دستخط کر دیے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

’اچھا تو تم اپنی گرفتاری کے بارے میں کچھ کہہ رہے تھے؟ ‘ انصاری نیڈیرل سے پوچھا۔
’ارے بڑے میاں، جرم ورم کیا، سب سے بڑا جرم تو میری رنگت ہے۔ میں ایک پارٹی میں گیا ہوا تھا۔ سب نے چڑھا رکھی تھی، میں نے بھی تھوڑی بہت پی لی۔ پھر ہم سب ایک دوست کے ساتھ واپس گاڑی میں جا رہے تھے کہ کسی نے چرس کا سگریٹ سلگا لیا اور سب باری باری کش لینے لگے۔ پھر اچانک پولیس نے روک لیا، اور بس۔ دوسرے چھوٹ گئے، ہمیں دھر لیا گیا۔ وجہ یہ کہ پہلے نقب زنی وغیرہ کی چند واردات میں ہمارا نام تھا، جیل اور پولیس ریکارڈ موجود تھا۔ بس پھر انہیں اور کیا چاہیئے تھا۔‘

 

’ارے یہ تو بڑی غلط بات ہے۔‘

 

’اب تو میں یہی بھول گیا ہوں کہ کیا غلط ہے کیا صحیح ہے۔ جانتے ہو مجھے سب سے پہلے کس جرم میں اندر کیا گیا تھا؟ بغیر ٹکٹ خریدے ریل میں سفر کرنے پر۔ ادھر ہماری ضمانت دینے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ چناں چہ ہم بھی حوالات میں پڑے سڑتے رہے اور غلط صحبتوں میں پڑ گئے۔‘

 

’بہت افسوس ہوا یہ سن کر۔ مجھے کچھ کچھ تو اندازہ تو تھا لیکن ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں تھاکہ حالات اس حد تک خراب ہیں۔‘

 

’یہی تو میں کہہ رہا ہوں بڑے میاں۔ دور مت جاؤ، اسی حوالات کو دیکھ لو۔ گنو، تمہیں یہاں بارہ لوگ نظر آئیں گے۔ ان میں سے کالے کتنے ہیں؟ سات۔ ایک تم ایشیائی، آٹھ۔ دو ہسپانوی لگتے ہیں، دس۔ صرف دو گورے یہاں موجود ہیں۔ حالاں کہ آبادی کے تناسب سے یہاں کم از کم آٹھ گورے ہونے چاہیئے تھے۔‘

 

انصاری نے گردن گھما کر اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں کا جائزہ لیا۔ ڈیرل کی بات دل کو لگتی تھی۔ انہیں یاد آیا کہ انہوں نے جہاں جہاں کام کیا تھا، وہاں جونیئر سٹاف کی بھاری اکثریت سیاہ فام افراد پر مشتمل ہوتی تھی، جب کہ بڑے عہدوں پر کلی طور پر گورے تعینات تھے، حالاں کہ واشنگٹن اور اس کے نواح میں کالوں کی خاصی بڑی آبادی تھی۔

 

ڈیرل اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور نسبتاً اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔ دوسرے لوگ اس کی متوجہ ہو گئے۔ ڈیرل نے کسی کہنہ مشق مقرر کی طرح باقاعدہ تقریر شروع کر دی:

 

“میرے دوستو: جیسا کہ آپ جانتے ہیں، الیکشن میں چند ہی دن رہ گئے ہیں۔ یہ تاریخ کا ایسا موڑ ہے جو ہزار سال بعد بھی یاد رکھا جائے گا۔ میری بات کان کھول کر سن لو۔ کچھ طاقتیں کبھی بھی نہیں چاہیں گی کہ باہر سے کوئی آ کر صدر بن جائے۔ اس لیے کہ جو کام امریکہ کی ڈھائی سو سالہ تاریخ میں نہیں ہوا، وہ اب کیسے ہو سکتا ہے؟ اس موقعے پر سازش کے تحت مخصوص رنگت کے لوگوں کی پکڑ دھکڑ میں ضرورت سے زیادہ تیزی دکھائی جا رہی ہے۔ ہمیں چن چن کر اندر کیا جا رہا ہے۔ یہ سوچنے کی بات ہے، ہمیں اس موقعے پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

سرمد کی موت کے بعد ریحانہ نے ریٹائرمنٹ لے لی۔ ان کی صحت اب نوکری کے قابل نہیں تھی۔ پہلے تو ان کے گھٹنوں کا آپریشن ہوا، جس کی وجہ سے وہ کئی ماہ تک بستر سے لگ کر رہ گئیں۔ پھر انہیں شوگر تشخیص ہو گئی اور کچھ عرصے بعد گردوں کا مسئلہ شروع ہو گیا۔ جوں جوں ان کی صحت بگڑتی گئی،ان کے دل میں وطن کی یاد بڑھتی گئی۔ پھر وہ وقت آیا کہ ان کی زبان پر ایک ہی رٹ ہوتی تھی،’واپس چلو، واپس چلو۔‘
انصاری بڑے تحمل سے انہیں سمجھاتے۔ ’بھئی، کیسے چلے جائیں؟ روز کوئی نہ کوئی معرکہ مارا جاتا ہے۔ جعل سازی، دھوکے بازی،کرپشن، جھوٹ۔ اور اوپر سے جو آج کل کے حالات ہیں تو بھی تمہارے سامنے ہیں۔‘

 

انصاری کو ہمیشہ سے اخبار پڑھنے کی عادت تھی، اور وہ پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس پر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے تھے، یا کبھی کسی پاکستانی سے ملاقات ہوتی تو مشرف اور اس کے کارندوں کو گالیاں دے کر دل کا غبار اتارا کرتے تھے۔ادھر ریحانہ نے کبھی سیاست میں دل چسپی نہیں لی تھی اور شاذ و نادر ہی اخبار پڑھا کرتی تھیں۔ ٹیلی ویڑن پر پاکستانی چینل آنا شروع ہوئے تو وہ صرف بالی وڈ کی فلمیں یا ڈراموں والے چینل ہی دیکھا کرتی تھیں۔

 

’ہمیں حالات سے کیا غرض، میری دونوں بہنیں فیڈرل بی ایریا میں رہتی ہیں، ہم بھی وہیں کوئی اچھا سا مکان لے کر سکون سے رہیں گے۔ تمہارے بھی کئی جاننے والے کراچی میں ہیں۔‘
’ہونہہ، کراچی میں سکون سے رہیں گے؟ وہ اکرم صاحب کی بیگم کا واقعہ یاد نہیں؟ دن دہاڑے ٹیکسی روک کر ڈاکوؤں نے ان کا زیور اتروا لیا تھا۔ اور وہ ورلڈ بینک والے فواد صاحب۔ دو ہفتے کے لیے پاکستان گئے تھے، جس گلی میں ان کی ساری زندگی گزری تھی، وہیں انہیں پستول کی نال پر لوٹ لیا گیا! نا بھئی نا، مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو گا کہ اس عمر میں کوئی مجھے راہ چلتے ہوئے ہینڈز اپ کروا لے۔‘

 

’تو یہ زندگی کون سی جنت ہے۔ پہلے تو سرمد کی تعلیم اور پھر اس کی نوکری کی وجہ سے زندگی کا سہارا تھا۔ اب اس کی یادیں ہر دیوار، ہر دراز، ہر الماری سے نکل کر مجھے ستاتی ہیں۔ تم صبح سویرے کام پہ چلے جاتے ہو اور شام کو واپس آ کر ڈھائی سیر کا اخبار لے کر بیٹھ جاتے ہو۔ پاکستان میں کم از کم کوئی بات کرنے والا تو ہو گا۔‘ ریحانہ نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔

 

’ریحانہ، سمجھنے کی کوشش کرو۔ اب وہ پچیس سال پہلے والا پاکستان نہیں رہا۔ اب وہاں بھی کسی کے پاس فالتو وقت نہیں رہا۔ کسی سے ملنے کے لیے جاؤ تو پہلے فون کر کے ٹائم لینا پڑتا ہے۔ اور پھر تم بیمار ہو۔ یہ بھول جاؤ کہ تمہارے رشتے دار تمہارا خیال رکھیں گے۔ یہاں ہر روز فزیکل تھراپسٹ گھر آ کر مفت تھراپی کر جاتا ہے۔ ڈایالسس کے لیے ایمبولنس خود گھر آ کر تمہیں ہسپتال لے جاتی ہے۔ وہاں تو حالت یہ ہے کہ ایمبولنس ٹریفک جام میں تین تین گھنٹے پھنسی رہتی ہے اور مریض تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں بجلی نہیں، آلات نہیں، ڈاکٹر نہیں۔‘

 

’اور تمہاری فیملی؟‘ انصاری نے پوچھا۔

 

’ہاہا، فیملی ویملی کوئی نہیں۔ باپ کا تو پتا نہیں کہ کہاں ہے، کیوں کہ وہ تو میری پیدائش سے پہلے ہی میری نوعمر ماں کو چھوڑ کر کہیں بھاگ گیا تھا یا مر کھپ گیا تھا۔ ماں بھی ہر وقت نشے میں اس قدر دھت رہتی تھی کہ اسے خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔‘
’کوئی بھائی بہن؟‘

 

’ایک چھوٹا بھائی ہے، جس سے آخری بار کوئی دس سال پہلے آخری بار بات ہوئی تھی۔ وہ نیویارک میں وکیل ہے، کسی فرم میں کام کرتا ہے۔ اسے ہم جیسوں سے تعلق رکھنے میں شرم آتی ہے، اس لیے میں نے بھی اس سے ملنا ملانا چھوڑ دیا۔‘ ڈیرل کے لبوں پر ایک افسردہ مسکراہٹ بکھر گئی۔

 

’شادی وادی نہیں کی تم نے؟‘

 

’شادی؟‘ ڈیرل نے اپنے ماتھے کی شکنوں کی مزید گہرا کرتے ہوئے مصنوعی حیرانی سے پوچھا، جیسے اسے اس لفظ کے معنی سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہو۔ ’نہیں نہیں، ہم نے کبھی یہ جھنجھٹ پالا ہی نہیں۔ ہاں کسی زمانے میں ایک گرل فرینڈ تھی، اس سے کچھ عہد و پیماں بھی ہوئے، لیکن ظاہر ہے کہ میرے طرزِ زندگی میں کوئی طویل رشتہ پالنا ناممکن ہے۔‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

انصاری کا ایک اور مسئلہ بھی تھا، جسے وہ ریحانہ کو بتاتے ہوئے گھبراتے تھے۔ وہ جب الہ آباد سے اپنے والدین کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے اس وقت ان کی عمر دس سال تھی۔ انہوں نے چوتھی جماعت کا امتحان پاس کر لیا تھا اور پانچویں میں جانے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ والدین نے انہیں سکول سے اٹھا لیا، کیوں کہ حالات روز بہ روز بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں گھر سے باہر نکلنے پر بھی پابندی لگ گئی، کیوں کہ شہر سے لوٹ مار اور فساد کی خبروں پہنچ رہی تھیں۔ انصاری کو بہت کوفت ہوئی، کیوں کہ ان کے سارے دوست چھوٹ گئے تھے۔ وہ سارا دن اکیلے گھر میں پڑے رہتے۔ حالات کسی قدر بہتر ہوئے تو یہ خاندان پاکستان چلا آیا۔ نئے وطن میں آنے کے بعد انصاری کو نئے سرے سے ساری دوستیاں بنانی پڑی تھیں، سکول میں بھی اور کراچی کی پیر الٰہی بخش کالونی میں واقع اپنیمحلے میں بھی۔ باقی رشتے دار ہندوستان ہی میں رہ گئے تھے۔ ان کے ساتھ شروع میں خط و کتابت رہی لیکن والدین کے انتقال کے بعد تمام رابطے ٹوٹ گئے۔ اب تو یہ عالم تھا کہ انصاری کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ان کی دو پھوپھیاں ابھی زندہ ہیں یا نہیں۔ دوسری ہجرت اختیاری تھی، جب وہ سب کچھ پیچھے چھوڑ چھاڑ کر امریکہ آن بسے تھے۔ یہاں تو صورتِ حال یہ تھی کہ شروع کے کئی مہینے انہیں گھر سے باہر اردو میں بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا، کیوں کہ کوئی تھا ہی نہیں جس سے اپنی زبان میں بات کی جا سکے۔ پھر سالہا سال گزرتے رہے اور رفتہ رفتہ وہ یہاں کی زندگی کے عادی ہو گئے تھے۔ صبح سے شام سٹور میں، شام کو گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اخبار یا کسی کتاب کا مطالعہ۔ اختتامِ ہفتہ پر کسی پاکستان کے گھر چلے جانا، یا کسی کو اپنے گھر بلا لینا۔ یہ ان کے معمولات بن گئے تھے۔ اب انہیں ایک بار پھر اس بنی جمی زندگی اکھاڑ کر ایک اور ہجرت کرنا سوہانِ روح لگتا تھا۔ لیکن یہ ساری باتیں بیگم کو کون سمجھائے؟ انصاری اور بیگم کے درمیان اسی قسم کی نوک جھونک روز کا معمول تھی۔ لیکن کچھ عرصے سے بیگم کی باتوں کی کاٹ میں تیزی، اور انصاری کے دلائل کی شدت میں کمی آ گئی تھی۔ بیگم کو معلوم تھا کہ انصاری اپنی ہٹ کے پکے ہیں۔ ادھر انصاری بھی اپنی بیگم کا دکھ سمجھتے تھے، لیکن اس کا کوئی حل ان کے پاس نہیں تھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ویسے بڑے میاں، تم بھی بڑی چیز ہو، مجھ سے تو ساری باتیں اگلوا لیں، خود صاف گول کر گئے کہ تمہیں کس جرم میں پکڑا گیا ہے۔‘ ڈیرل نے کہا۔ ’شکل سے عادی مجرم تو نظر نہیں آتے تم مجھے۔‘

 

انصاری نے ڈیرل کو اپنی کہانی سنانے کے لیے اپنے ذہن میں خیالات ترتیب دینا شروع کر دیے۔
’کوئی ایسی بڑی بات نہیں تھی۔ بس ذرا بیگم سے لڑائی ہو گئی۔ اوپر سے پولیس پہنچ گئی، اور اب میں تمہارے سامنے ہوں۔‘ انصاری نے ایک ہی سانس میں یہ کہہ کر گویا کوئی بوجھ اپنے سر سے اتارنے کی کوشش کی۔

 

’نہیں، نہیں، شروع سے سناؤ۔ فکر نہ کرو، میرے اور تمہ

 

ارے پاس بہت وقت ہے۔ کل اور پرسوں تو ویسے بھی چھٹی ہے۔ اگر تمہیں لینے کے لیے کوئی آیا تو پیر کے دن ہی آئے گا۔’
انصاری کو وقت کا خیال آیا۔ ان کی گھڑی پولیس والوں نے ضبط کر لی تھی اس لیے انہیں وقت کا اندازہ نہیں تھا۔ انہوں نے تخمینہ لگایا کہ ان کو ہتھ کڑیاں لگے کم از کم تین گھنٹے گزر گئے ہیں۔ ان کے ذہن میں وہ منظر گھومنے لگا جب پولیس والے نے پھرتی اور مہارت سے ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا کر انہیں کلک کی آواز کے ساتھ بند کر کے چابی جیب میں ڈال لی تھی۔ اس کے ساتھی نے اپنے بٹوے میں سے پیلے رنگ کا چھوٹا سا کارڈ نکالا اور اسے سیاہ فام امریکیوں کے مخصوص لہجے میں باآوازِ بلند پڑھنا شروع کر دیا تھا:

 

’تمہارے پاس خاموش رہنے کا اختیار ہے۔ تم جو کچھ کہو گے وہ تمہارے خلاف عدالت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تمہیں اپنے وکیل سے بات کرنے کا اختیار ہے۔ اگر تم وکیل کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو تمہیں سرکار کی طرف سے وکیل فراہم کیا جائے گا۔‘

 

انصاری سکتے کی حالت میں سنتے رہے۔ پولیس والے نے جب دوسری بار اپنی بات دہرائی ’تمہیں اپنے حقوق کی سمجھ آ گئی ہے؟‘ انہوں نے کچھ کہنا چاہا لیکن خشک ہونٹ تھرا کر رہ گئے۔ انہوں نے سر ہلا دیا۔

 

یہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد پولیس والا انہیں شانے سے پکڑ کر قریب ہی کھڑی ہوئی پولیس کار کی طرف لے گیا اور پچھلی نشست پر انہیں بٹھا کر ساتھ خود بیٹھ گیا۔ کار کی چھت پر سرخ اور نیلی بتیاں جل بجھ رہی تھیں، البتہ سائرن بند تھا۔ گاڑی کی کھڑکیوں پر سیاہ آہنی جالی لگی ہوئی تھی۔ پچھلی سیٹ اور ڈرائیور والی سیٹ کے درمیان بھی باریک سلاخیں نصب تھیں۔ دوسرے پولیس والے نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔ انصاری کو ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کی آنکھ اس ڈراؤنے خواب سے جلد ہی کھل جائے گی۔ پولیس کی گاڑی، دونوں پولیس والے، سڑک پر چلنے والی دوسری گاڑیاں انہیں غیر حقیقی معلوم ہو رہی تھیں۔ قریب سے سرخ رنگ کی کھلے چھت والی کار گزری۔ گاڑی میں دو لڑکیاں کسی بات پر بے تحاشا ہنس رہی تھیں۔ ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر بیٹھی ہوئی گھنگریالے بالوں والی ایک لڑکی کی نظریں ایک لمحے کو انصاری سے ملیں، تو انصاری نے گھبرا کر فوراً منھ دوسری طرف پھیر دیا۔ انہوں نے سوچا، کیا اس لڑکی کو معلوم ہو گا کہ انہیں کس قدر تحقیر کے عالم میں ایک انتہائی معمولی سی بات پر گھٹیا مجرموں کی طرح ہتھ کڑی لگا کر لے جایا جا رہا ہے؟ انہوں نے شکر کیا کہ گاڑی کا سائرن آن نہیں کیا گیا تھا ورنہ اور شرمندگی ہوتی۔ پولیس والے نے ہتھ کڑیاں اتنی کس کر باندھی تھیں کہ وہ بری طرح سے ان کی کلائیوں کی ہڈیوں میں چبھ رہی تھیں۔ دوسری طرف ہاتھ پشت پر کیے ہوئے سیٹ پر بیٹھنا الگ سے تکلیف دہ تھا، لیکن انہوں نے منھ سے ایک حرف نہیں نکالا اور خاموشی سے بیٹھے رہے۔

 

پولیس کی انصاری کو لیے ہوئے گاڑی کیپیٹل بیلٹ وے کے نیچے سے گزری، پھر الیگزینڈریا نیشنل قبرستان کے پاس سے ہوتی ہوئی کنگ سٹریٹ کے علاقے میں داخل ہوئی اور پھر ڈیوک سٹریٹ کے قریب سفید رنگ کی ایک عمارت کے قریب ایک جھٹکے سے جا رکی۔ عمارت کی پیشانی پر ’الیگزینڈریا نیبرہْڈ واچ‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ پولیس والے نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور منھ سے کچھ بولے بنا انہیں سر سے اشارہ کیا۔ انصاری بڑی مشکل سے گاڑی سے باہر اترے، کیوں کہ ہتھکڑیوں کی وجہ سے ہاتھ کا سہارا نہیں لے سکتے تھے۔ انہوں نے پولیس والے کے مشورے پر پہلے دونوں ٹانگیں باہر نکال کر زمین پر جمائیں، پھر باقی دھڑ گاڑی کی نشست سے بلند کیا، اس دوران وہ لڑکھڑا گئے، لیکن پولیس والے نے انہیں سہارا دے کر اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔ انصاری شروع ہی سے چھریرے بدن کے مالک تھے، لیکن پچھلے آٹھ دس سال میں ان کا وزن خاصا بڑھ گیا تھا۔ شروع میں تو انہوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی، کیوں کہ ساری زندگی دبلے پتلے رہنے کی وجہ سے انہیں یقین سا ہو گیا تھا کہ کبھی موٹے نہیں ہو سکتے جب پتلونیں چھوٹی پڑ گئیں اور توند نکل آئی تب انہیں احساس ہوا، لیکن شاید اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی، اس لیے انہوں نے “تن بہ تقدیر” کے کلیے پر عمل کرتے ہوئے اس طرف توجہ دینا ہی چھوڑ دی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حوالات کا بھاری دروازہ پرشور طریقے سے کھلا اور ایک اہل کار ٹرالی گھسیٹتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔ ٹرالی میں سفید پلاسٹک کی پلیٹیں تھیں، جن میں خانے بنے ہوئے تھے۔ اس نے ایک پلیٹ انصاری کو بھی تھما دی۔ پلیٹ میں ایک کچا کیلا اور المونیم کے ورق میں لپٹا ہوا سینڈوچ تھا۔ ڈیرل نے پلیٹ اپنے گھٹنوں پر رکھ دی اور ورق میں سے سینڈوچ نکال کر کھانے لگا۔ انصاری کا خیال تھا کہ وہ شاید کھانا نہیں کھا پائیں گے لیکن حیرت انگیز طور پر انہیں احساس ہوا کہ انہیں خاصی بھوک تھی۔ معلوم نہیں کس چیز کا سینڈوچ تھا، لیکن انصاری نے پروا کیے بغیر کھانا شروع کر دیا۔ ڈیرل نے بھی بہت رغبت سے اپنا کھانا ختم کیا اور پھر نیپکن سے منھ پونچھتے ہوئے انصاری کی طرف مڑا۔

 

’ہاں تو بڑے میاں، تم کہہ رہے تھے کہ بیوی سے لڑائی ہو گئی۔۔۔؟‘
انصاری اپنی کہانی سناتے رہے۔ اس دوران دو تین بار دروازہ کھلا اور یا تو کچھ لوگ اندر لائے گئے یا کچھ اندر سے باہر لے جائے گئے۔ ڈیرل نے آنکھیں بند کر کے سر جھکا لیا تھا، تاہم اس کے کان پوری طرح انصاری پر مرکوز تھے۔

 

’میں نے کہا نا کہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں تھی۔‘ انصاری انصاری ذاتی باتیں خود تک محدود رکھتے تھے۔ پاکستان میں بھی ان کے دوست بھی ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔ اور ان دوستوں کے ساتھ بھی کچھ زیادہ بے تکلفی نہیں تھی، اور ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسے وہ تم کہہ کر مخاطب کرتے ہوں۔ لیکن آج وہ جس ذہنی صدمے سے گزرے تھے اس سے ان کی شخصیت کے گرد قائم مضبوط فصیل میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ نے فیصلہ کر لیا کہ ڈیرل کو تفصیل بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے، حالاں کہ اس سے ملے ہوئے ابھی شاید ایک گھنٹا بھی نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہانی سنانا شروع کر دی۔

 

’آج صبح موسم بہت اچھا تھا۔ میں بیوی کو لے کر نکلا کہ باہر کسی ریستوران میں کھانا کھائیں گے، اور پھر دریا کے کنارے پارک میں بنچ پر بیٹھ کر سہ پہر گزاریں گے۔ لیکن ریستوران جاتے جاتے گاڑی ہی میں توتو میں میں ہو گئی۔‘
’رکو نہیں، بولتے جاؤ۔‘

 

میں نے ایک گاڑی کو اوورٹیک کرنے کی کوشش کی تو بیوی اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکی۔ کہنے لگی کہ تم نے گاڑی لہرا کر کیوں اوورٹیک کی ہے۔ میں نے بہت سمجھایا کہ اگلی گاڑی میں ایک بوڑھی عورت تھی جو گاڑی کو مقررہ حد سے دس میل کم رفتار پر چلا رہی تھی، لیکن بیوی کا پارہ چڑھتا گیا، اور جو اس کے منھ میں آیا وہ کہتی گئی۔ حتیٰ کہ ریستوران کے قریب پہنچ کر ہم گاڑی سے اتر آئے، پھر بھی اس کے لعن طعن کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔‘

 

’تو تم طعنے سنتے رہتے، یہ تو دنیا کے ہر مرد کے نصیب میں لکھا ہوا ہے۔‘ ڈیرل نے دھیرے سے کہا۔

 

’میں بھی سنتا ہی رہا۔ پھر میں نے گاڑی پارک کرنے کے بعد دوسری طرف جا کر بیگم کو باہر نکلنے میں مدد دی۔ جب سے اس کے گھٹنے کا آپریشن ہوا تھا، اسے گاڑی میں بیٹھتے اترتے بہت دقت ہوتی تھی۔ لیکن وہ گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے بھی مسلسل بڑبڑاتی رہی۔ ’بڑھیا تھی وہ؟ کم بخت بڑھیا تھی؟ تم بھی عمر میں اس سے کم نہیں ہو، شاید دو چار سال زیادہ ہی ہو گے۔ لیکن گاڑی اس طرح چلاتے ہو جیسے موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلا رہے ہو۔‘
’بولتے جاؤ، میں سن رہا ہوں،‘ ڈیرل نے کہا۔

 

’میں نے اسے بہت کہا کہ بھول بھی جائے اس بات کو، جانے دے، لیکن وہ تو جیسے ہتھے ہی سے اکھڑ گئی تھی۔ بولتی گئی بولتی گئی۔’

 

’پھر؟‘ڈیرل نے آنکھیں موند کر دیوار سے سر ٹیکتے ہوئے پوچھا۔

 

’بس اس کے بعد اس نے گفتگو کا سلسلہ میری ڈرائیونگ کی طرف موڑ دیا۔ کہنے لگی کہ میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ مجھے تمہاری تیز ڈرائیونگ سے خوف آتا ہے، لیکن تم نے کبھی میری بات سنی۔ زندگی بھر تم نے من مانی کی ہے۔ جو تمہارے دل میں آتا ہے تم وہی کرتے ہو۔ یہ کہتے کہتے اس کی آواز اونچی ہو گئی۔ دو تین لوگ گاڑیوں سے نکل رہے تھے، انہوں نے بھی گردنیں موڑ کر ان دونوں کی طرف دیکھا، لیکن بیوی کا قصیدہ جاری رہا۔‘
’ٹھیک ہے۔ آگے؟‘

 

’خیر یہاں تک تو کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، لیکن جب اس نے یہ کہا کہ سرمد کو بھی تم ہی نے زندگی کو رَیش طریقے سے گزارنے کی پٹی پڑھائی تھی اور تمہارے ہی نقشِ قدم پر چل کر وہ آج قبرستان میں منوں مٹی کے نیچے سو رہا ہے، تو میرا دماغ پھر گیا۔
’سرمد کون؟‘

 

’ہمارا بیٹا۔‘

 

’کہاں ہے وہ؟‘

 

’کیا بتاؤں۔‘ انصاری نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔ ’فوت ہو گیا چار سال پہلے۔‘
’ارے؟‘ ڈیرل اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ’کیسے؟‘

 

’بس کیا کہوں کیسے؟‘ انصاری نے کہا۔ ’پتا نہیں اسے کہاں سے موٹر سائیکلوں کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ اپنی ساری آمدنی موٹر سائیکلوں پر خرچ کرتا تھا۔ چھٹیوں میں دوستوں کے ساتھ نکل جاتا تھا اور جانے کہاں کہاں گھومتا رہتا تھا۔ ایک شام کو بارش ہو رہی تھی کہ اس کے دوست آ کر اسے ساتھ لے گئے۔ تین لڑکے تھے، اور ایک عورت۔ چمڑے کی جیکٹیں، چمڑے کی پتلونیں، اور چمڑے کے دستانے۔ بے ہنگم شکلیں، بڑی بڑی مونچھیں اور بے ترتیب داڑھیاں۔ میں نے منع بھی کیا لیکن اس نے کہا کہ بس گھنٹے بھر میں واپس آ جاؤں گا۔ گھنٹے سے پہلے ہی ہسپتال سے فون آ گیا۔‘

 

’اوہو، بہت افسوس ہوا۔ اور کوئی بچے؟‘
’اور کوئی نہیں۔‘

 

’اوہ۔‘ تھوڑی دیر تک خاموشی رہی۔

 

’اچھا پھر پارکنگ لاٹ میں کیا ہوا؟‘ ڈیرل نے پوچھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حوالات کا دروازہ ایک بار پھر کھلا اور ایک سارجنٹ نے بلند آواز سے پکارا۔

 

’این سیری، این سیری۔‘ انہیں امریکہ میں اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔ نام کے بعد بھی کچھ کہا گیا لیکن انصاری کو اس کی سمجھ نہیں آئی۔ وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ سارجنٹ نے اندر آ کر انہیں اور دو دوسرے قیدیوں کو پھر سے ہتھ کڑیاں لگا دیں اور پھر ہتھ کڑیاں ایک زنجیر کی مدد سے ایک دوسرے سے منسلک کر دیں۔ اب ان تینوں کی ہر حرکت ایک دوسرے کے تابع ہو گئی تھی۔پولیس والے نے تینوں کو لا کر عمارت سے باہر کھڑی وین میں بٹھا دیا۔ وین کے اندر آمنے سامنے سیٹیں تھیں۔ کھڑکیوں پر سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ شیشے سیاہ تھے جس کی وجہ سے باہر کا منظر دکھائی نہیں دے رہا تھا اور ویسے بھی اس وقت تک گہرا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ انصاری اور دونوں قیدی ایک طرف جب کہ سامنے والی سیٹ پر دو پولیس والے بیٹھ گئے۔ سفر خاصی دیر تک جاری رہا۔ انصاری نے گاڑی کی رفتار سے اندازہ لگایا کہ شاید وہ ہائی وے پر سفر کر رہے ہیں۔ پتا نہیں انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ انہوں نے پولیس والوں سے پوچھنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے صرف اتنا کہہ کر خاموش کرا دیا کہ ’خود پتا چل جائے گا۔‘
کم از کم دو گھنٹے کے سفر کے بعد انصاری کو ایک بار پھر لمبی چوڑی کاغذی کارروائی سے گزارنا پڑا۔ انگلیوں کے نشان، تصاویر، معلومات کا اندراج۔ تاہم ایک فرق یہ تھا کہ اب کی بار انہیں پلاسٹک کے بیگ میں کچھ سامان بھی تھما دیا گیا۔ ایک جوڑا، کپڑے، ہوائی چپل، ایک ننھا سا ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ کے تین چار چھوٹے چھوٹے پیکٹ اور ٹافی کے سائز کا چوکور صابن۔ یہ حوالات نہیں بلکہ باقاعدہ جیل تھی۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں ایک کمرا اور بستر بھی الاٹ کر دیے گئے۔ جیل کے داخلے سے پہلے تلاشی کے ایک بے حد ناخوش گوار بلکہ شرم ناک عمل سے گزرنا پڑا، جسے انصاری مرگِ مفاجات کے تحت چپ چاپ سہہ گئے۔ پھر ان کا میڈیکل ہوا، بیماریوں کی تفصیل پوچھی گئی۔ آخر میں انہیں ایک کمرے میں لا کر چھوڑ دیا گیا جہاں چھ بستر تھے، لیکن کمرے میں ایک ہی شخص موجود تھا۔ اس کی عمر بیس سے زیادہ دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کا چہرہ سوجا ہوا تھا جیسے کسی نے اسے تھپڑوں کا نشانہ بنایا ہو۔ وہ ویت نامی تھا اور اسے انگریزی نہ آنے کے برابر آتی تھی۔ چناں چہ اس کے ساتھ گفتگو ہیلو ہائے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ انصاری اپنے بستر پر لیٹ گئے اور سونے کی کوشش کرنے لگے۔ ساری رات دوسرے کمروں سے قہقہوں اور باتوں کی آوازیں آتی رہیں۔ انہیں لگا جیسے بار بار بلند آواز سے نعرے بلند کیے جا رہے ہوں، جس کے بعد تالیاں اور سیٹیاں بجائی جاتی تھیں۔ ایک بار تو قریب ہی کسی وارڈ میں ہنگامہ سا پھوٹ پڑا اور درجنوں لوگ بلند آواز سے ’اوباما، اوباما‘ کی گردان کرنے لگے۔ یہ ہنگامہ اس وقت اور زور پکڑ گیا جب غالباً کسی محافظ نے آ کر سخت لہجے میں گالیاں دے کر انہیں چپ کرانے کی کوشش کی۔ جواب میں گالیوں کا طوفان آیا اور ساتھ ہی ’اوباما، اوباما‘ کی گردان بھی جاری رہی۔ نہ جانے کب تک یہ ہلڑ بازی چلتی رہی۔ رات کے کسی پہر انصاری نیند کی آغوش میں چلے گئے۔

 

اگلے دن ناشتے میں گتے کے کپ میں کڑوی کافی اور ساتھ دو توس ملے۔ بعد میں قیدیوں کو ورزش کے لیے لے جایا گیا۔ انصاری کے سر میں شدید درد تھا، لیکن دو بار محافظ سے درخواست کرنے پر بھی انہیں ڈسپرین یا ٹائیلینول نہ مل سکی۔ وہ سارا دن اپنے کمرے میں لیٹے رہے۔ اگلے سر کا درد تو رفع ہو گیا لیکن وہ کھانے اور ورزش کے اوقات کے علاوہ کمرے سے باہر نہیں نکلے اور اپنے بستر پر لیٹے رہے۔

 

پیر کی شام کو وہ ٹیلی ویڑن کے کمرے میں گئے تو کسی نے اچانک پیچھے سے ان کے کندھے پر دَھول مارا۔ مڑ کر دیکھا تو ڈیرل تھا۔

 

’ہے بڑے میاں، تمہارا خیال تھا کہ تم مجھ سے بچ نکلو گے۔ دیکھو کہاں آ کر پکڑ لیا میں نے تمہیں۔‘

 

’انصاری کو ایسا لگا جیسے ان کا کوئی پرانا بچھڑا ہوا عزیز مل گیا ہو۔
’ارے بھئی، تم یہاں کیسے؟‘

 

’بس دیکھ لو۔ یہ لوگ ہمیں ایک جگہ ٹکنے نہیں دیتے، ادھر ادھر گھماتے پھراتے رہتے ہیں۔‘
انصاری اور ڈیرل ایک طرف کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر تک پولیس اور جیل کی انتظامیہ کو مغلظات سے نوازنے کے بعد ڈیرل نے کہا۔

 

’وہ تمہارا قصہ بیچ ہی رہ گیا تھا۔ تم کہہ رہے تھے کہ بیوی سے لڑائی ہو گئی۔ مگر کیسے؟‘
انصاری خود پورا واقعہ سنانے کے متمنی تھے اور انہیں کسی قدر کوفت ہوئی تھی جب انہیں اچانک بیچ میں اٹھا دیا گیا۔ ’اوہ ہاں۔ میں نے تمہیں کہاں تک بتایا تھا؟ جب میں بیگم کے ساتھ ریستوران کے پارکنگ لاٹ میں پہنچا؟‘

 

’ہاں، پھر کیا ہوا؟‘ ڈیرل نے پوچھا۔

 

’میں نے ساری زندگی ایک ہی کام سیکھا تھا، اپنے جذبات پر قابو رکھنا۔ لیکن جب اس نے سرمد کا ذکر کیا اور اس کی موت کے لیے مجھے قصوروار ٹھہرانا چاہا تو مجھے پتا نہیں چلا کہ میرا ہاتھ گھوم گیا۔ دوسرے لمحے دیکھا تو وہ پارکنگ لاٹ کے فرش پر بیٹھی ہوئی زور زور سے چیخ رہی تھی۔‘

 

’ہوں۔ پھر؟‘

 

ہماری شادی کو چالیس سال ہو گئے ہیں، لیکن میں نے کبھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ لیکن پتا نہیں میرا دماغ بالکل سن ہو گیا تھا، مجھے یہ بھی خیال نہیں آیا کہ وہ بیمار اوربے حد لاغر تھی۔‘
’ہاں لیکن جو حالات تم بتا رہے ہو اس میں یہ بعید بھی نہیں۔ تو پھر پولیس کیسے پہنچی؟‘
’پتا نہیں۔ میں بیوی کو اٹھانے کے لیے نیچے جھکا تو دیکھا کہ ادھر ادھر سے چند لوگ قریب آ گئے ہیں، اور مدد کی پیش کش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کسی نے فون ملا کر کسی سے بات کرنا شروع کر دی۔ میں نے بیوی کو کندھے سے پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔ میں نے کہا بھی کہ تماشا نہ بناؤ، لیکن اس نے میری بات نہیں سنی۔‘
’تو کیا ان سالوں میں سے کسی نے پولیس کو فون کر دیا؟‘

 

’یہی ہوا ہو گا، کیوں کہ تین چار منٹ کے اندر اندر پولیس کار پہنچ گئی اور انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، مجھے پکڑ کر ہتھکڑی لگا دی۔ ‘

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

انصاری کوئی بہتر گھنٹے اس جیل میں رہے۔ اس دوران انہوں نے امریکی جیلوں کی زندگی کے بارے میں چھ بے حد اہم سبق سیکھے:

 

1۔جیل میں تمام لوگ معصوم ہوتے ہیں، انہیں کسی نہ کسی غلط فہمی یا کسی دشمن کی سازش، پولیس کی چال، نسل پرستی یا اس جیسے کسی اور ناکردہ گناہ کی سزا کے طور پر گرفتار کیا جاتا ہے۔
2۔جیل سے دو سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال: تم یہاں کس جرم میں بند ہو، اور پہلے کتنی بار جیل کاٹ چکے ہو؟
3۔جیل کے محافظ، جنہیں اصلاحی آفیسرز کہا جاتا ہے، دنیا کی سب سے گھٹیا، ذلیل اور قابلِ نفرت مخلوق ہیں۔ اور ان میں بھی خواتین اہل کار خاص طور پر بدتر ہیں۔
4۔جیل کے اندر جوا، منشیات، سود خوری، غرض ہر قسم کا کالا دھندا دھڑلے سے ہوتا ہے۔
5۔جیل میں ہر کوئی ہر کسی کو گالی دے کر مخاطب کرتا ہے۔ سب سے عام گالی نِگر ہے۔
6۔جیل کسی ناکارہ ٹائم مشین کی طرح کام کرتی ہے۔ یہاں گزارا ہوا ایک دن باہر کی زندگی کے ایک ہفتے کے برابر ہوتا ہے۔

 

اسی شام انصاری کو اطلاع ملی کہ ان کی ملاقات آئی ہے۔ وہ ملاقاتی کمرے میں گئے تو دیکھا کہ ریحانہ کرسی کا سہارا لیے مسکراتی ہوئی انہیں دیکھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی گرے کوٹ اور سکرٹ پہنے ایک دراز قامت سنہرے بالوں والی عورت ہاتھ میں فائل تھامے کھڑی تھی۔ اس نے بڑی گرم جوشی سے انصاری سے ہاتھ ملایا۔

 

’میرا نام سلویا ہے۔ میں آپ کی وکیل ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ کو اس قدر وقت یہاں گزارنا پڑا۔ لیکن ہم ہر صورت میں کل آپ کو عدالت میں پیش کر کے ضمانت حاصل کر لیں گے۔‘
انصاری نے بیگم کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ انہوں نے مسکرانے کی کوشش کی، لیکن ان کے پتلے پتلے ہونٹ کپکپا کر رہ گئے۔ ان کے منھ سے صرف اسی قدر بات نکل سکی۔ ‘کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟‘

 

اسی دوران ایک محافظ نے آ کر ملاقات کا وقت ختم ہونے کی اطلاع دی۔ سلویا نے اپنی فائل میز سے اٹھا کر بغل میں دبا دی اور جاتے جاتے وکیل انصاری کو چند ہدایات دیں۔ انصاری خالی الذہنی کے عالم میں سنتے رہے۔ تاہم ایک بات پر وہ چونک گئے۔ سلویا کہہ رہی تھی۔
’ہر ممکن طریقے سے دوسروں سے الگ تھلگ رہیں۔ خاص طور پر کسی بھی ایسے شخص سے بات نہ کریں جو اپنے آپ کو ضرورت سے زیادہ ہمدرد بنا کر پیش کرے۔ دس میں سے نو ایسے لوگ مخبر ہوتے ہیں اور سگریٹ کی ایک ڈبیاکے عوض آپ کے راز پولیس تک پہنچانے میں ذرا بھر دریغ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں سے بچ کے رہیں کریں۔ آپ سمجھ گئے ہیں نا؟‘ وکیل نے انصاری کا تاثرات سے عاری چہرہ دیکھ کر پوچھا۔

 

’بالکل، بالکل، مجھے کیا ضرورت پڑی ہے۔’ انصاری نے جلدی سے کہا اور دروازہ کھول کر محافظ کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔

 

یہ جیل کی زندگی کے بارے میں ان کا ساتواں اہم ترین سبق تھا۔
Categories
فکشن

تمغہ

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

افسانہ نگار: علی اکبر ناطق

 

ڈی آئی جی سمیت پولیس کے تمام افسران موجود تھے۔ لمبے چوڑے سُر خ قالینوں اور کُرسیوں پر لوگوں کی بڑی تعدا د جمع تھی۔ اسٹیج کو پولیس کے شہد ا کی تصویروں اور پھولوں سے سجا دیا گیا تھا۔ درجن بھر پولیس کے شہدا کے رنگین پوسٹر ہال کی پچھلی دیوار پر بھی چسپاں تھے تاکہ اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی نظر اُن پر بھی پڑ سکے۔ اناؤنسر نے مختصر تمہید کے بعد ڈی آئی جی شمس الحسن کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ ڈی آئی جی اسپیکرپر آئے تو ہال میں مکمل خاموشی طاری ہو گئی۔

 

حضرات!
آپ سب جانتے ہیں، پنجاب پولیس نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے جرائم پر قابو پایا ہے۔ ہم اپنے ان جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو معاشرے کے ان بدمعاش اور ناسور افراد کا مقابلہ دلیری سے کرتے ہوئے اُن کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ کی طرح آج ہمیں پھر اپنے ان دو جوانوں پر فخر ہے۔ جنہوں نے اپنی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال کر انسانیت کے دشمنوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ان میں ایک سب انسپیکڑ حمید سندھوصاحب ہیں جس کی کارکردگی پچھلے کئی سالوں سے پنجاب پولیس کو کامیابیوں سے ہمکنار کر رہی ہے اور دوسرے عابد بلال ہیں جس نے اس کے شانہ بشانہ کام کیا۔ میں ان دونوں کو اگلے اسٹیج پر ترقی دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر ڈی آ ئی جی صاحب ایک طرف ہو گئے اور اناونسر نے دوبارہ اسپیکر پر آ کر اعلان شروع کیا، حمید سندھو صاحب اسٹیج پر آکر اپنا تمغہ وصول کریں۔ (حمید سندھو تالیوں کے شور میں پُر اعتماد قدموں کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھتا ہے اور اپنا تمغہ وصول کرتا ہے۔ ڈی آئی جی صاحب اُس کے کاندھے پر بیجز بھی لگاتا ہے)
اب میرا نام پکارا جانا تھا جس کے تصور سے میرا جسم پسینے میں بھیگ گیا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور ٹانگوں میں لرزا طاری تھا۔ مجھے ڈر تھا، اُٹھتے ہوئے گر نہ پڑوں۔ میری ساری توجہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے پر تھی۔ ایک دفعہ خیال آیا، پیشاب کا بہانہ کر کے بھاگ جاؤں لیکن اب وقت بالکل نہیں تھا اور مجھے ہر حالت میں اسٹیج پر جا کر اپنا تمغہ وصول کرنا تھا۔ مگر تھوڑی دیر رُکیں، پہلے تمغے کا باعث بننے والے واقعے کا ذکر ہو جائے۔

 

میں بطور پولیس کمانڈو پچھلے تین سال سے اسی تھانے میں تھا۔ ہمیشہ سول وردی میں رہنے کی وجہ سے کم ہی لوگوں کو اس بات کا پتہ تھا کہ میں پولیس کا آدمی ہوں۔ شہر کے مشرق میں بیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریا ہے اور یہ علاقہ ایسا ہے جہاں دریا جب اپنی جولانی پر آتا ہے تو دور تک پر پھیلا دیتا ہے جس کی وجہ سے ادھر اُدھر جنگلات سے بن چکے ہیں۔ یہ جنگلات اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ باڈر قریب ہونے کی وجہ سے تمام علاقہ پاک رینجر کی حدود میں آ تا ہے اور وہ درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دیتی۔ دریاکے آس پاس ہزاروں کی تعداد میں زمیندار ہیں اور سب نے غنڈے پال رکھے ہیں۔ یہ غنڈے پورے علاقے میں مجرمانہ کارروائیاں کرنے کے بعد ان زمینداروں کے پاس پناہ لیتے ہیں۔ کسی زمیندار کو اپنے مخالف سے نپٹنا ہوتو اپنے غنڈے کے ذریعے ہی دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ گویا غنڈوں کو پناہ دینا علاقے کے زمینداروں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ میں کم وبیش ان سب زمینداروں اور اُن کے متعلقہ غنڈوں سے واقف تھا لیکن مجھے اپنی مرضی سے کارروائی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ویسے بھی میرا منصب محض ایک حوالدار کی حیثیت سے بڑوں کے کاموں میں دخل دینا یا تھانے کی پالیسی وضع کرنا نہیں تھا اور تھانے دار کو اُس کا مطلوبہ حصہ وقت پر پہنچ جاتا۔ چنانچہ پولیس اپنا اثر رسوخ عموماً شہری حدود میں برقرار رکھتی۔ گویا پولیس، زمینداروں اور غنڈوں کے درمیان یہ ایک خاموش معاہدہ تھا۔ البتہ گرجی مہر پچھلے دو سال سے اس معاہدے سے باہر ہو چکا تھا۔ وہ علاقے کے زمینداروں،غنڈوں،پولیس اور عوام، سب کے لیے خطرہ بن تھا۔ چنانچہ اُسے کوئی بھی پناہ دینے یا ہمدردی کے قابل نہ سمجھتا۔ میں نے اُسے پہلی دفعہ اڑھائی سال پہلے حاجی شمس خا ں کے ڈیرے پر دیکھا۔ اُس وقت وہ ایسا خطرناک نہیں تھا۔میں اپنے تھانیدار کے ساتھ وہاں کسی ملزم کے حوالے سے گیا تھا۔ کم وبیش ان علاقوں کے تمام تھانیداروں کا معمول ہے کہ وہ کسی قسم کی کارروائی کرنا چاہیں تو سیدھے اُن زمینداروں کے ہاں جاتے۔ اگر ملزم کو پولیس کے حوالے کرنا ناگزیر ہوتا تو وہ خود اُسے حوالے کر دیتے ورنہ ڈیرے پر ہی مک مکا کرا دیا جاتا۔ اُس دن سہ پہر کا وقت تھا اور موسم سخت روشنی کا تھا۔ حاجی شمس خاں وہاں موجود نہیں تھا۔ ڈیرے پر بہت سے لوگوں کے موجود ہونے کے باوجود مکمل سکوت طاری تھا۔ گرجی مہر ایک طرف سنجیدگی سے بیٹھا تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ قد میں بالکل کمزور سا شخص تھا۔ چھوٹی چھوٹی باریک سی مونچھیں، کاندھے اندر کو دھنسے ہوئے، چہرہ بے رونق لیکن گندمی اور بمشکل پچاس کلو وزن ہو گا۔ الغرض پہلی نظر دیکھنے سے کچھ بھی تا ثر نہیں بنتا تھا۔ حاجی شمس کا گاؤں جلال کوٹ کے نام سے معروف تھا جہاں اُس کی تین ہزار ایکڑ زمین تھی اور گرجی مہر کو اُسی کے ہاں پناہ بھی ملی ہوئی تھی۔ وہیں ساتھ والی چارپائی پر ایک پندرہ سولہ سال کا لڑکا پینٹ شرٹ پہنے، نہایت متفکر اندازمیں لیٹا آسمان کو گھور رہاتھا۔ مجھے خیال گزرا، لڑکا حاجی شمس خاں کا بھانجا یا بھتیجا ہے لیکن جیسا کہ پولیس والوں کی عادت ہے، تھانیدار نے اس پُر اسرار خموشی میں لڑکے کی موجودگی کی کُرید شروع کر دی اور بالآخر بات کھل گئی۔ لڑکا گرجی مہر کا واقف تھا اور لاہور سے لڑکی بھگا کر لایا تھا۔ لڑکے کی شکل انتہائی معصوم تھی۔ نرم رخساروں پرابھی سبزے کی آمد ہوئی تھی جسے دو چار دن پہلے ہی شیو کر کے صاف کیا گیا تھا کیونکہ سُرخ و سفید اور چکنے چہرے پر ہلکی ہلکی لویں دوبارہ نمودار ہو رہی تھیں جو اُس کے حسن کو مزید ابھار رہی تھیں۔ الغرض لڑکا خود بھی نرم و نازک، خوبصورت اور نسوانی حسن کے خدو خال رکھنے والا تھا۔ گرجی مہر سے خدا جانے اُس کا تعلق کیسے ہوا ؟ مجھے اس تمام صورت حال سے خوف سا آنے لگا اور میں لڑکے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہو گیا لیکن میں نے خود کو قابو میں رکھا اور لڑکے سے توجہ ہٹا لی۔بہر حال دو گھنٹے بیٹھے رہنے کے باوجود حاجی شمس گھر سے باہر نہ آیا اور نوکر کے ہاتھ پیغام بھیج دیا کہ دو دن کے بعد آ جائیں تو معاملہ طے کر لیں گے یا مطلوبہ شخص کو تھانے حاضر کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ہم واپس آ گئے لیکن دوسرے ہی دن ہمیں خبر ملی کہ گرجی مہر حاجی شمس کو قتل کر کے فرار ہو چکا ہے۔ واردات کی خبر ملتے ہی ہم پورے تھانے کی پولیس لے کر وہاں پہنچے۔ لاش اور موقع واردات کا ملاحظہ کیا تو معاملہ کھل کر سامنے آ گیا۔ ہوا یہ کہ حاجی شمس نے لڑکی پر قبضہ جما لیا تھا اور اُسے لڑکے کے حوالے کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔ حتیٰ کہ اُس نے گرجی مہر کی بھی نہ سنی اور لڑکی سے خود نکاح کرنے کا بندوبست کرنے لگا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر گرجی مہر نے لڑکے کو ساتھ لے کر حملہ کر دیا اور حاجی شمس سمیت تین بندوں کوقتل اور آٹھ لوگوں کو زخمی کرکے اور لڑکی کو لے کر فرار ہو گئے۔ لڑکا موٹر سائیکل چلانے کا ماہرتھا اس لیے کسی کے ہاتھ نہ آ سکے اورخدا جانے کہاں نکل گئے۔ اس واردات کے بعد اگرچہ پولیس نے اُن کو پکڑنے کی کئی مخلصانہ کارروائیاں کیں لیکن وہ ہر دفعہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے اور مزید کارروائیاں کرنے لگے اور کھل کھیلنے لگے۔ رفتہ رفتہ حوصلے اتنے بڑھے کہ بھرے مجمعوں میں اندھا دھند کارروائی کر جاتے۔ ان ڈکیتیوں میں کئی لوگوں کو قتل اور زخمی کیا۔ انہوں نے اپنا اپنا کام اس طرح سنبھالا کہ لڑکے نے موٹر سائیکل چلانے کا فریضہ ادا کرنا شروع کر دیا اور گرجی نے ڈکیتی اور قتل کرنے کا کام۔ اس طرح دو سال گزر گئے اور وہ قابو میں نہ آ سکے۔

 

اُس دن میں پورے ایک مہینے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ مَیں چار دن کی چھٹی لے کر سیدھا ریلوے اسٹیش کی طرف چل دیا۔ ان علاقوں میں لوکل ریل چلتی ہے، جو رائیونڈ سے بڑی لائن سے الگ ہو کر قصور، چونیاں، منڈی ہیرا سنگھ، بصیرپور، حویلی لکھا، پاکپتن اور عارف والا سے ہوتی ہوئی وہاڑی اور پھر دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں سے گزر کر دوبارہ بڑی لائن پر چڑھ جاتی ہے۔ میرا گھر راجہ جنگ میں تھا جو رائیونڈ سے قصور جانے والے لائن پر ہے۔ ریل سے جانے کا ایک فائدہ تھا کہ یہاں سے بیٹھتا اور سیدھا گھر کے سامنے اُتر جاتا۔ یہ دن کے دو بجے کا وقت تھا اور ریل بھی آنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا مگر میں یہ ایک گھنٹہ تھانے میں رہنے کی بجائے اسٹیشن ہی میں گزارنا چاہتا تھا۔ ابھی میں ریل کی پٹڑی پر چڑھا ہی تھا کہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ کا خوفناک شور برپا ہوا اور ایک ہی دم ہنگامہ سا پھیل گیا۔ شور سن کر میں ایک دم اچھلا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ آواز حاجی صداقت کی آڑھت کی طرف سے آئی تھی جو شہر کے اُس واحد ریلوے پھاٹک کے ساتھ تھی جس کا وجود عین شہر کی مرکزی سڑک پر تھا۔ لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اُس وقت بالکل نہتا ہونے کی وجہ سے عملی کارروائی کرنے سے پرہیز کرنا ہی میرے لیے بہتر تھا۔ جب میں آڑھت کے پاس آیا تو دو لاشیں خون میں لت پت پڑی میرا منہ چڑا رہی تھیں۔ اس ڈکیتی میں نامراد نے کھلے بازار میں گولیوں کا ایسے مینہ برسایا کہ راہگیر چوتڑوں کے بل گر گر پڑے۔ کس کا کلیجہ تھا جو پیچھا کرتا۔ بازار کے اگلے ہی موڑ پر لطیف کپڑے والے کے منہ میں کلاشنکوف کی نال ڈال کر پورا تین کلو سیسہ غریب کے پیٹ میں داخل کر دیا اور پیسوں کا غٖلہ بیگ میں اُلٹ لیا۔ لوٹ سے فارغ ہو کر جیسے ہی یہ موٹر سائیکل پر بیٹھا لڑکے نے موٹر سائیکل ایسے اُڑایا، جیسے آنکھوں کے آگے سے چھلاوہ نکل گیا ہو۔ پل کی پل میں دونوں شہر بھر کو تلپٹ کر کے یہ جا وہ جا، ہوا کی طرح اُڑ گئے۔ مَیں یہ سارا معاملہ ریل کی پٹڑی کے دائیں جانب کھڑا دیکھتا رہا۔ یہ چھوٹا سا شہر تھا۔ پولیس کو وہاں پہنچنے میں وقت نہیں لگا۔ پل میں افراتفری مچ گئی اور پورا شہر واقعے کی جگہوں پر سمٹ گیا۔

 

میں چونکہ کافی دنوں بعد گھر جا رہا تھااور اس ڈر سے کہ چھٹی کینسل نہ ہو جائے، فوراً نظریں بچا کر وہاں سے کھسکا اور اسٹیشن پر آ گیا اور جب ریل آئی تو فوراً بھاگ کر چڑھ گیا۔ لیکن میرے گھر پہنچنے سے پہلے ہی واقعے کی اطلاع پہنچ گئی اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ آپ کی چھٹی کینسل ہے، فوراً واپس پہنچو۔ مجھے اس حکم پر تکلیف تو بہت ہوئی مگر حکم حاکم۔ دوسرے ہی دن شام چار بجے کی ریل سے واپس ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔ پولیس اس نئی واردات سے ایسے حرکت میں آئی جیسے تلووں میں آگ لگی ہو۔ دوسری طرف گرجی مہر کے متعلق طرح طرح کی توہمات عوام میں مشہور ہونے لگیں۔ کسی کے مطابق وہ سب کچھ پولیس کی اشیر واد سے کر رہا تھا۔ کوئی اُسے انڈیا کی رینجر کا ایجنٹ قرار دینے لگا جو کارروائی کرنے کے بعد باڈر پار کر جاتا۔ اگرچہ ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا اور پولیس کے لیے ایک مستقل درد سر بن گیا۔ چنانچہ ایس ایس پی صاحب نے اعلان کروا دیے کہ مخبر کو دو لاکھ کا انعام ملے گا۔ ایگل فورس کے کئی دستے دو دو کی شکل میں ترتیب دے کر پورے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی۔ میری ڈیوٹی سب انسپیکڑ حمید سندھو کے ساتھ لگا دی گئی۔ حمید سندھوکو چھ سال پہلے ایلیٹ فورس میں بحیثیت کانسٹیبل شامل کیا گیا تھا۔ اس دوران اُس نے بیسیوں پولیس مقابلوں میں حصہ لیا اور درجنوں جرائم پیشہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔ دو دفعہ خود بھی گولی کا نشانہ بنا لیکن موت سے بچ نکلا۔ چھ فٹ قد اور جسامت کی سختی نے اُس کے اندر طاقت کا ایک احساس پیدا کر دیا تھا جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس نے صرف چھ ہی سال میں سب انسپیکڑ کا عہدہ حاصل کر لیا۔ سندھو کا تعلق ساہیوال ڈویزن کی ایگل فورس سے تھا لیکن پچھلے دوسال سے اُس کی تعیناتی سرگودھا ڈویزن میں تھی۔ اب جب کہ گرجی مہر نے بصیر پور کے حالات اس قدر خراب کر دیے تو ایس ایس پی اوکاڑہ نے اُسے سرگودھا ضلع سے طلب کر لیا۔ سندھو کی اس روز افزوں ترقی پر نہ صرف مجھے بلکہ تمام سکواڈ کو پرلے درجے کا حسد اور کینہ تھا۔ لیکن ہم اپنی پچھلے دو سال کی ناکامی اور خجالت کو کہاں لے جاتے، جس نے ہمیں شدید طریقے سے نہ کہ عملی طور پر بلکہ ذہنی شکست سے بھی دو چار کیا۔ اس لیے ہم سندھو کی اس عزت افزائی پر سوائے کُڑھنے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے اورخدا سے سچے دل سے دعا گو تھے کہ سندھو بھی کسی طرح ناکامی سے دوچار ہو۔ بہر حال ایس ایس پی چیمہ صاحب نے اُس کی تعیناتی بصیر پور میں فوری طور پر کر کے ضروری ہدایات جاری کر دیں اور میری ڈیوٹی اُس کے ساتھ لگا دی۔ عملی کاروائی کے لیے ہمیں جو علاقہ دیا گیا وہ بصیرپور سے لے کر سہاگ نہر، پھر وہاں سے دریا کو پار کر کے چک محمد پورہ سے ہوتے ہوئے باڈر تک چلا جاتا تھا۔ یہاں جنگلوں اور ویرانیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جہاں نہ آ سانی سے پولیس کی گاڑی جا سکتی ہے اور نہ دوسرے ذرائع ہی کام کرتے ہیں۔ اس لیے وہ پچھلے دو سال سے انہی علاقوں میں گھوم رہا تھا۔ میرا سابقہ ریکارڈ اس بات کا گواہ تھا کہ میں انتہائی متحمل مزاج اور سوچ سمجھ کر کارروائی کرنے کے ساتھ بہادر آدمی تھا۔ میرا خیال ہے، میرے بارے میں یہ بات اُس وقت بالکل صحیح ہے، جب میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں جبکہ سندھو کے ساتھ کام کرنے سے میری حیثیت دب جانے کا پورا امکان تھا کیونکہ مَیں بہر حال اُس جیسا مضبوط اعصاب کا مالک نہیں تھا۔ ایس پی صاحب نے انفارمیشن آلات سے لے کر ہتھیاروں تک کا تمام ضروری سامان ایگل فورس کے دستوں کے حوالے کر کے گرجی کو پکڑنے کے لیے دو ماہ کا وقت مقرر کر دیا۔ بہر حال میں اور سندھو سول کپڑوں میں اپنے علاقے کی چھان بین اور غیر متوقع کارروائی کے لیے کام کرنے لگے۔

 

یہ پورا علاقہ چونکہ بیلے، جنگل، نہریں اور چراگاہوں پر مشتمل ہے، اس لیے یہاں گائیں اور بھینسوں کی اس قدر کثرت ہے۔ لہذا ہم نے بھینسوں کے بیوپاری کا بھیس بدل لیا اور نئی 125 ہنڈا موٹر سائیکل پر جگہ جگہ کھوج مارنی شروع کر دی اور گرجی کے متعلق ہر قسم کی سُن گن لینے لگے۔ لباس کے لحاظ سے ہم مکمل دیہاتی اور بیوپاری نظر آتے تھے۔ مَیلے صافے، لنگی اور کُرتے پہنے، شیویں بڑھی ہوئی، ہاتھوں میں ڈنگوریاں پکڑی اور پاؤں میں مقامی موچی کے ہاتھوں تیار چمڑے کے جوتے۔ یوں پورا ڈیڑھ مہینہ ہم نے اس کام میں صرف کیا۔ اس دوران آٹھ بھینسیں بھی خرید کر آگے بیچ دیں۔ اس کام میں ہمیں واقعی اتنا منافع بھی ہو گیا کہ ایک دفعہ سندھونے مجھ سے مذاق میں کہا،کیوں نہ نوکری چھوڑ کر یہی کام کر لیں۔ سچ یہ ہے کہ اس ڈیڑھ مہینے میں ہمارا منافع چار تنخواہوں کے برابر نکل آیا۔

 

بہر حال وقت سمٹتا گیا اور ہم غیر محسوس طریقے سے اُن کے نزدیک ہوتے گئے۔ ہمارے پاس جو نقشہ تھا اُس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ علاقہ امیرا تیجے کا سے آگے نہر کی جھال کو عبور کر کے دریا کے ساتھ ساتھ جنگلوں کا تھا جہاں نہ تو پو لیس کی گاڑی جا سکتی تھی اور نہ آدم نہ آدم زاد۔ یہ تمام جگہ پانچ کلو میٹر مربع میں مکمل غیر آباد اور بارڈر تک چلی گئی ہے۔ ہم نے تین چار جگہ یہاں اپنے مورچے بنا لیے اور مسلسل رات چھپتے رہے۔ چھوٹی گنیں، پسٹل اور خنجروں کے علاوہ لوہے کی نوکیلی اور بھاری سلاخیں بھی ہمارے پاس تھیں۔ ہمیں پتا چلا، گرجی کسی بھی جگہ دو راتیں مسلسل نہیں گزارتا۔ متواتر ٹھکانا تبدیل کرتا ہے لیکن مطلوبہ علاقے میں کسی بھی جگہ مہینے میں ایک آدھ رات ضرور ٹھہرتا ہے۔ اس لیے ہم نے اسی خطے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا لیکن ہمارا اُس کا سامنا نہ ہو سکا۔ بات یہ تھی کہ وہ واردات کر نے کے بعد کم از کم دو تین مہینے روپوش ہو جاتا اور بالکل سامنے نہ آتا۔ لیکن ایک بات جو ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی، وہ یہ کہ اُسے ریڈیو پر بی بی سی کی خبریں سننے کا بہت شوق تھا اور لوگوں نے اُسے یہ کہتے سُنا، انشاء اللہ میرے قتل کی خبر بی بی سی پر چلے گی۔ لہذا ہم نے ایس ایس پی صاحب سے ریڈیو ریڈار سسٹم حاصل کر لیا اور ارد گرد کے پانچ کلو میٹر میں بی بی سی کی خبروں کے وقت ریڈیو کی لہریں کیچ کرنے لگے جس سے ہمیں اُس کی سمت اور فاصلے کا بھی پتا چلنے لگا۔ اس میں ہمارے ایک مخبر کا بہت زیادہ عمل دخل تھا جسے ہم نے زبردستی مخبر بنا لیا کیونکہ پچھلے دو مہینے کی محنت کے بعد اس بات کا پکا یقین ہو گیا کہ یہ شخص گرجی کا مخبر ہے اور اُسے علاقے کی صورت حال کے بارے میں مطلع کرتا ہے۔ جب زمین صاف دیکھتا ہے تو نئی کاروائی کا سگنل دے دیتا ہے۔ اس سلسلے میں بصیر پور کا ایک پی سی او والا بھی ملوث تھا جہاں سے یہ شخص گرجی کو فون کرتا۔ ہم نے یہ سارا کام نہایت خفیہ رکھا حتیٰ کہ اپنے تھانے اور ایس ایس پی تک کو بھی بتانا مناسب نہ سمجھا۔ ہم نے ان دونوں کو اغوا کر لیا اور اگلی کارروائی شروع کر دی۔ اس معاملے میں اگرچہ میں ساتھ تھا لیکن مجھے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہاں تک پہنچنے میں صرف اور صرف حمید سندھو کے دماغ کو دخل تھا لیکن اُس نے ہر قدم پر مجھے یہ باور کرایا کہ سب کچھ میری وجہ سے ٹھیک ہو رہا ہے اور میں اس کیس میں بہت اہم ثابت ہو رہا ہوں۔ میں تسلیم کرتا ہوں، یہ چیز اُس وقت میری ذات کو اور بھی پست کر رہی تھی اور میں لا شعوری طور پر اُس سے اتنا مرعوب ہو گیا کہ اُس کے کسی بھی حکم کی نافرمانی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ان دو مہینوں میں حمید سندھو نے میری ذات کو گویا ہپناٹائز کر دیا۔

 

یہ سردیوں کی ایک ٹھنڈی دوپہر تھی۔ دھند اتنی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم نے موٹر سائیکل چک لکھا کے قبرستان ہی میں رکھ دی کہ اُس کی آواز قرب و جوار میں دور تک جاتی۔ سراج دین عرف سراجے نے ہمیں بتایا، گرجی صبح چار بجے شاہد کے ساتھ دُلے کی بھینی پر پہنچا ہے۔ وہ ساری رات سفر میں رہا ہے اس لیے ابھی تک سویا ہو ا ہے۔ اگر ہم پیدل نہر کے ساتھ ساتھ جائیں تو ہمیں مشکل سے وہاں پہنچنے میں بیس منٹ لگیں گے۔ چنانچہ ٹھیک دو بجے ہم گرجی کے سر پر پہنچ گئے۔ وہ عک کے پودوں کے درمیان ایک پُرانی کوٹھڑی میں تھا جسے کسی زمانے میں کھوئے کی بھٹھیاں چلانے والوں نے بنایا تھا لیکن چار پانچ سال پہلے جو سیلاب آیا اُس میں یہ جگہ دریا کی لپیٹ میں آنے سے بے آباد ہو گئی، تب سے کسی نے اس پر توجہ نہ دی۔ بھٹھیاں تو بالکل ختم ہو گئیں لیکن یہ بے آباد کوٹھڑی پکی اینٹوں اور بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔ اس کے ارد گرد کیکروں کے بے شمار درخت بھی تھے۔ کوٹھڑی کا دروازہ اندر سے بند ہونے کی وجہ سے ہم اُنہیں دیکھ تو نہ سکے البتہ اُن کے موٹر سائیکل کے ٹائروں کے نشان واضع دکھائی دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ سانس لینے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ جب ہمیں ہر طرح سے یقین ہو گیا کہ وہ دونوں موٹر سائیکل سمیت اندر ہیں تو ہم ایکشن کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اب ہمارے سامنے دو ہی راستے تھے کہ باہر رُک کر اُن کا انتظار کیا جائے یا فوری حملہ کر دیا جائے۔ میری صلاح یہ تھی کہ پولیس کو اطلاع کر کے بلوا لیا جائے مگر سندھو نے اس بات کو سختی سے رد کر دیا اور فوری حملے کا پلان بنانے لگا۔ وہ موقعے کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ گرجی کا اس موسم سے فائدہ اُٹھا کر بھاگ نکلنے کا بہت اندیشہ تھا۔ دروازہ بہت حد تک بوسیدہ تھا اس لیے فیصلہ ہوا کہ زور کا دھکا دے کر اُسے گرا دیا جائے۔ سراجے کو ہم نے احتیاطاً ایک کیکر کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا تاکہ وقت پر دھوکا نہ دے سکے اور چار قدم پیچھے ہٹ کر پوری طاقت سے اپنے آپ کو دروازے سے ٹکرا دیا۔ دروازہ ایک دھماکے سے اپنے تختوں سمیت اندر جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے فائر کھول دیے۔ گولیاں اتنی تیزی اور شدت سے چلائیں کہ گرجی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا البتہ دونوں کی چیخیں ایک دو منٹ ضرور بلند ہوئیں۔ بھرپور فائرنگ کے بعد ہم نے دس منٹ تک انتظار کیا۔ جب کوئی حیل حجت نہ ہوئی تو حمید سندھو ٹارچ جلا کر کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ کمرے کا نقشہ ایک دم تلپٹ ہو چکا تھا۔ گرجی مہر چارپائی پر خون میں لت پت تھا جبکہ دوسری لاش دکھائی نہیں دی لیکن جیسے ہی دائیں طرف کے کونے میں لائٹ کی گئی تو ہمیں مٹی کی بنی ہوئی کُھرلی نظر آئی جو چھ فُٹ تک لمبی اور دو فٹ اونچی دیوار کے ساتھ بنی ہوئی تھی۔ وہاں شاہد خموشی سے زخمی حالت میں سُکڑا ہوا لیٹا تھا۔وہ اس قدر سہما اور ڈراتھا کہ مجھے اُس سے ایک دفعہ وحشت سی ہوئی۔ گولی اُس کے بائیں کاندھے پر لگی تھی جس سے خون رس رس کر کھرلی کی تہہ سے چپک رہا تھا۔ شاہد پر حمید کی نظر پڑی تو وہ ایک دم حیران رہا گیا۔ اس قدر خوبصورت لڑکا آج تک نظر سے نہیں گزرا تھا۔ اگرچہ وہ تکلیف سے کراہ رہا تھا اور چہرہ مسلسل سفید ہو رہا تھا لیکن اُس کی یہ حالت بھی اُس کی خوبصورتی میں کمی نہیں کر رہی تھی۔ سندھو کچھ لمحے اُسے دیکھتا رہا۔ پھر مَیں نے دیکھا، اچانک اُس کی آنکھوں میں ہوس تیرنے لگی۔ میں نے سندھوکی آنکھوں کی بدلتی کیفیت کو دیکھتے ہوئے فوراً کہا، سر اسے جلد یہاں سے اُٹھا کر ہاسپٹل پہنچانا چاہیے ورنہ لڑکا مر جائے گا لیکن اُس نے میری آواز کو گویا سُنا ہی نہیں اور مسلسل لڑکے کو جنسی بھیڑیے کی طرح گھورتا رہا۔ مجھے اس پورے منظر نامے سے ڈر لگنے لگا اور چاہتا تھا، کسی طرح سے لڑکے کو جلد یہاں سے نکال کر لے جاؤں۔ چند لمحوں کی شش و پنج کے بعد میں اُسے اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا تو سندھو نے مجھے خوفناک طریقے سے دیکھا۔ مجھے محسوس ہوا، اگر میں نے ذرا بھی زحمت کی تو یہ مجھے فائر مار دے گا۔ بالکل اُسی لمحے اُس نے مجھے دھکا دے کر کوٹھڑی سے باہر کر دیا اور تھوڑی دیر بعد لڑکے کی کراہوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ مَیں وہاں سے کھسک کر سراجے کے پاس آگیا تاکہ آواز میرے کانوں میں نہ پڑے اور گومگو کی اس حالت میں رہا کہ واقعے کے انجام تک پہنچنے کی خبر کے ساتھ لڑکے کی بابت پولیس کو مطلع کر دوں لیکن اُس وقت بزدلی نے مجھ پر ایسا شدید غلبہ کیاکہ مَیں کچھ بھی نہ کر سکا اور خاموشی سے بیٹھ گیا لیکن کمرے سے لڑکے کی آواز مزید بلند ہوتی گئی جس میں قیامت کا کرب تھاگویا کانوں کے پردے پھاڑ کر دل میں ضربیں لگا رہی ہو۔ اس حالت میں مَیں دماغ میں طرح طرح کے منصوبے بنا کر رد کرنے لگا۔ حتیٰ کہ اس عمل کو بیس منٹ سے زیادہ ہو گئے۔ یہ حالت میرے لیے نحوست کو بڑھا دینے والی تھی اور کراہت پیدا کر دینے کے ساتھ ایک ایک لمحہ صدیوں پر بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ غصے اور کراہت نے مجھ پر ایسا اُکتا دینے والا جذبہ پیدا کیا، مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی مر جاؤں گا۔ جس سے بچنے کے لیے میں نے نہایت غیر اضطراری طور پر اپنی رائفل کی نال کیکر سے بندھے سراجے کی طرف کر کے فائر کھول دیا۔ اگرچہ وہ پل بھر میں ڈھیر ہو گیا لیکن میں نے بار بار اپنی میگزین گولیوں سے بھر کر اُس پر خالی کی۔ گویا میں اپنی فطری بُزدلی کا حساب چکا رہا تھا۔ اس عمل کے کچھ ہی دیر بعد جس میں مجھے لڑکے کی کراہیں سننی بند ہو گئیں، حمید سندھو باہر آیا تو میں بھاگ کر کوٹھڑی میں داخل ہو گیا۔ لڑکے کا جسم بالکل برہنہ اور قریباً زرد ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ننگے جسم پر بے شمار نیل پڑ گئے۔ نبض کی رفتار تیزی سے سست ہو رہی تھی۔ مَیں نے جلدی سے اُس کا پاجامہ اوپر کر کے اُسے کاندھوں پر اُٹھا لیا لیکن اب سب کچھ فضول تھا۔ جسم سے خون اتنا بہہ چکا تھا کہ اُس کے بچنے کی امید صفر تھی۔ شاید اس بات کو حمید سندھو نے بھی محسوس کر لیاتھا اس لیے اب اُس نے مجھ سے مزاحمت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
پولیس آئی تو ہر طرف سکون ہو چکا تھا۔ پولیس نے تینوں کی لاشیں وین میں رکھیں اور چل دی۔

 

میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا ہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آ گیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔
Categories
فکشن

من کی ملکہ

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

افسانہ نگار: شہناز شورو

 

گزشتہ چار دن کی بارش نے پورے شہر کو جل تھل کر دیا تھا۔ آسمان غریب کی چادر کی طرح جگہ جگہ سے پھٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ آج پہلا دن تھا کہ آسمان کے چھید رفو ہوتے محسوس ہوئے۔ آج صبح بھی بارش ہوئی تھی مگر مختصر سے وقت کے لیے۔ پھر سورج نے پلکیں جھپکائیں تو گویا زندگی جاگ اْٹھی۔ روز بہ روز پرانے ہوتے شہر کہاں اتنی شدت کی تاب لا سکتے تھے۔ شہر کی ہر گلی میں نکاسی کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پانی کھڑا تھا۔

 

“بھائی صاحب ذرا سنبھل کے، اس طرف سامنے گڑھا ہے، اْس میں نہ سائیکل سمیت گر جائیں۔ اس طرف سے آئیے راستہ صاف ہے۔” آسمانی کپڑے پہنے، کمر سے نیچے تک سیاہ لچھے دار بال پھیلائے، قدرے دل پذیر نقوش والی لڑکی ایک دروازے سے نمودار ہوئی۔ ایک پٹ کھلا، دوسرا بند۔ دونوں سائیکل سواروں نے اس پر ایک نگاہ ڈالی۔ سانولی کی سنجیدگی کو دیکھ کر ذرا زیادہ ہی ٹپ ٹاپ لڑکے کو خود کو مہذب ثابت کرنے کا خیال آیا اور سائیکل ہاتھ سے تھامے، مڑ کر بولا۔۔۔ “بہت شکریہ میڈم”

 

مگر میڈہی منہ سے نکلا “م” کچھ سے کچھ بن گیا۔ کیونکہ اگلے ہی لمحے دونوں لڑکے سائیکلوں سمیت غڑاپ سے۔۔۔ پانی کے اندر تھے۔ نہ جانے کہاں کہاں چھپی ہوئی لڑکیوں کی ہنسی کے جلترنگ پانی بھری گلی میں بجنے لگے۔ دونوں لڑکوں کی حالت قابلِ دید تھی۔ کیچڑ میں پھنسی سائیکلیں نکالیں۔ خود ان کا اپنا حال بھی برا تھا۔ ذرا دیر پہلے کی رنگارنگ ستھری شرٹس اور نہائے دھوئے چہرے کچھ سے کچھ ہو چکے تھے۔ واپسی کا سفر بھی وہی گلی تھی کہ آگے جانے کاکوئی راستہ نہ تھا۔ لڑکیاں حلق پھاڑ پھاڑ کر ہنس رہی تھیں۔ نسبتاً صاف رنگت والے لڑکے نے گھور کر آفت کی پرکالہ کی طرف دیکھا۔ سانولی سنجیدگی کی جگہ گلابی مست ہنسی نے چہرے کو گلال کیا ہوا تھا۔ “بدمعاش کہیں کی” لمبا لڑ کامنہ ہی منہ میں بولا اور دونوں اپنی اپنی سائیکلیں سنبھالتے ہوئے شرمندگی سے مسکراتے ہوئے گلی سے باہر جا نکلے۔

 

کیا محلہ تھا۔ بقول میری نانی۔۔۔ “کنجر خانہ” تھا۔ پتہ نہیں کہاں کہاں کی ٹہنی آکر لگی تھی یہاں۔ نہ خاندان، نہ ماضی، نہ اوقات۔ معلوم نہیں کہاں کہاں سے آکر آباد ہوئے تھے سب کے سب۔ ہجرتوں کی گرد سب کے ماضی کو اَٹے ہوئے تھی۔ زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو اپنے خاندان کے بارے میں کچھ پتہ تھا تو وہ یا تو ماں کا نام تھا یا باپ کا۔ دادا یا نانا کا نام پوچھو تو اوسان خطا ہو جاتے۔ کافی لوگ تو ایک دوسرے سے اپنی ذات پوچھتے پھرتے۔ کچھ زیادہ سیانے ایک دوسرے کو مشورہ دیتے پائے جاتے۔۔۔ “اے میاں اپنی ذات قریشی رکھ لو۔” “ارے بھیا سید کہلوا لو۔” سیاہ دوات جیسے چہرے پر پیلے پیلے دانت نمایاں کرتے ہوئے کہتے “بھیا ہم تو مغل خاندان سے ہیں۔” ذاتیں وغیرہ بنانے میں انہیں زیادہ عرصہ نہ لگا تھا، مگر میری نانی ان سب کو حجام، قصائی، اْٹھائی گیرے یا اْچکے کہا کرتی تھیں اور مرحومہ آخری وقت تک اپنے بیان پر قائم رہیں۔ ایسے میں مَلکوں کا گھر سب کا دفتر تھا۔ تین لڑکیاں، تین لڑکے اور سب کے سب فنکار۔۔۔ اور ملکانی صاحبہ ذاکرانی!
ذکر محرم کے چالیس دن، اْلٹی چارپائیاں، اہلِ تشیع کے علاوہ ساری اْمت پر پھٹکاریں۔ اْبلے چنے، چینی ملے پانی کے ڈول، کالے کپڑے اور چادریں۔ مجلسیں۔۔۔ تعزیے۔۔۔ اب تک میرے حافظے میں محفوظ ہیں۔

 

ذاکرانی، جس کو نانی، نوٹنکی، بلاتیں، “ایک ذاکرانی اور سو میلادیں” کے نام سے مشہور تھی۔ ذاکرانی کا گلا پھول چکا تھا۔ میلاد پڑھتے ہوئے،گلے سے ذبح ہوتے بکرے کی طرح کی آوازیں نکلنا شروع ہوئیں تو بڑی بیٹی نے مسند سنبھال لی، مگر بڑی کو جلد ہی اپنی اہمیت کا احساس ہو گیا اور اس نے اپنی توجہ فلمی گانوں کی طرف مبذول کر لی۔ چھوٹے موٹے پروگراموں میں کم ریٹ پر بھی گا لیا کرتی تھی۔ پھر درمیانی کا نمبر آیا مگر اس کے گلے سے کچھ برآمد نہ ہوا۔۔۔ آخر میں سب سے چھوٹی کی باری آئی۔ مگر چھوٹی جب تک ماں کے دوپٹے کے پلو میں بندھے روپے نہ تڑواتی، ہرگز ساتھ نہ جاتی۔ ہاں البتہ یہ ہوا کہ جیسے ہی چھوٹی نے مجلسوں میں قدم رکھنا شروع کیا۔۔۔ تو مرثیہ سننے گویا پورا شہر اْمڈ پڑا۔
جہاں جہاں مجلس ہوتی، وہاں وہاں چھوٹی کو لانے کی فرمائش کی جاتی۔ چھوٹی ہی اب ذاکرانی کی کمائی کا ذریعہ تھی سو اس کے نخرے تو سہنا تھے۔ اسے ضرورت سے زیادہ آزادی بھی میسر آ گئی۔ چھوٹی، سارا دن گلی میں پھرتے، آتے جاتوں پر آوازیں کستی، کیا جوان کیا بوڑھے، ہر ایک سے عشق جماتی اور صبح سے شام تک دہی بھلوں سے لے کر مونگ پھلی کی سوغاتوں میں پوری گلی کی لڑکیوں کے ساتھ مستی کرتی۔ مجال ہے، کوئی شریف آدمی اس گلی سے عزت بچا کر لے جائے۔ مگر وہ ایسی بے پرواہ کہ اشاروں سے ماں کو اندر جانے کا کہہ کر، سامنے کوشلیا اور مہندر کے گھر لہک لہک کر بھجن پڑھا کرتی۔ ایسے سوزو لحن کے ساتھ کہ شیلا موسی بڑی لجاجت کے ساتھ اسے دوبارہ آنے کا کہتی اور ہاتھ میں ڈھیر سارے بتاشے تھما دیتی۔

 

ملکانی مر گئی۔ بڑی بہنوں کی شادیاں ہو گئیں۔ نشئی بھائی، اِدھر اْدھر لڑھکتے پڑے رہتے اور وہ ا پنی دنیا میں مست مگن ہو گئی۔

 

نانی کا دستور تھا کہ رات کے کھانے کے بعد میری انگلی تھام کر گلستانِ بلدیہ کی سیر کو لے کر جاتیں تو باقی بہن بھائی بھی ساتھ ہوتے۔ پارک میں پہنچ کر نانی کنول کے پھولوں کی پوترتا کے قصے سناتیں۔ کانٹوں میں سر اْٹھا کر جینے والے گلاب کی آفاقیت پر روشنی ڈالتیں۔ تازہ ہوا، صفائی کے اصولوں، نیک خیالات اور حسن کے باہمی تعلق کے راز افشا کرتیں۔ اچھی لڑکیوں کے طور طریقوں، عادات، ہنسنے بولنے، نفیس لباس اور تہذیب یافتہ معاشروں کی اقدار بیان کرنے میں نانی کو کمال حاصل تھا۔ خاندانی اثر اور آنے والی نسل کی بھلائی کے لیے موجودہ نسل کی تربیت کے ساتھ ساتھ، میری عمر کی، میرے علاوہ باقی تمام لڑکیوں کی ایسی کی تیسی کر کے جب اپنی گلی میں داخل ہوتیں تو زمین پر پھسکڑے مارے لڑکوں اور لڑکیوں کے گروپ کو دیکھ کر میری امرتسری نانی کو بڑا جلال آیا کرتا، اپنی حسین ستواں ناک کو بڑی نحوت سے سکیڑ کر، گول گول ہونٹوں کا دایاں گوشہ ذرا گرا کر، بڑی شانِ بے نیازی سے اس گروپ کے پاس سے گزرا کرتیں۔ مجال ہے جو کبھی کسی کے سلام کا جواب دیا ہو اور یہ واپسی کا منظر، اپنے دہلتے دل کے ساتھ، مجھے یوں روز دیکھنا ہوتا تھا کہ نانی کے خیال میں رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی نہ کرنے سے انسان ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے۔ مگر واپسی میں میری ہم عمر لڑکیوں کے جتھے دیکھ کر مجھے “کچھ کچھ ضرور ہوتا تھا۔” میرے پاؤں میں بند جوتے اور گرما گرم موزے اور ان سب کے مٹی میں رْلتے پیر، میرے قرینے سے، دو چوٹیوں میں نفاست سے گندھے بال اور یہاں کمر سے بھی نیچے تک بغیر تیل کے روکھے سوکھے، ہواؤں میں اٹھکیلیاں کرتے بے پرواہ بال۔ ہم رات کیکھانے کے بعد، دانت صاف کر کے چہل قدمی سے واپس آتے اور یہاں مونگ پھلی والے کو اپنی مسکراہٹوں سے حلال کر کے، اس کے ٹھیلے سے گچک، تلسی اورسفید تل کے لڈو، لچھے اور ریوڑیاں اڑائی جا رہی ہوتیں۔

 

نانی، فوراً میرا ہاتھ زیادہ زور سے دبا کر، بقول نانی اس کنجرخانے کے پرلی طرف کر دیتیں۔ مگر صبح اسکول جاتے ہوئے اور واپسی میں تو مجھے اکیلے ہی اس میدانِ کارزار کو عبور کرنا ہوتا تھا۔ ملکانی کی چھوٹی نے ایک دن صبح صبح اسکول جاتے ہوئے میرا راستہ روکا۔ میں وحشتوں کی ماری، مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھنے لگی کہ گھر کی چک ہلنے کا مطلب۔۔۔ کہ اماں آنکھ لگا کر دیکھ رہی ہیں اور اگر ماں نے دیکھ لیا کہ میں اس گلی میں کسی کے ساتھ بات بھی کر رہی ہوں تو اس کا مطلب۔۔۔ میری خیر نہیں۔

 

“سن، یہ تیری نانی مجھے میرے سلام کا جواب کیوں نہیں دیتی ؟”

 

“دیتی ہوں گی!” میں نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔

 

“کبھی نہیں دیا، پتہ ہے کیوں؟ سکھ ہے نہ ابھی تک۔۔۔”

 

“یہ کیا ہوتا ہے؟” میں نے اب کی بار ذرا اشتیاق سے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

 

“اسکول سے واپسی میں، میرے پاس آنا پھر بتاؤں گی۔”

 

“واپسی میں؟” میں منمنائی۔۔۔

 

“چھپ کر آجانا۔” اس نے آنکھ ماری۔

 

“او خدا چھپ کر۔۔۔ امی اور نانی سے چھپ کر۔۔۔” میرا دماغ بھک سے اْڑ گیا۔ “یعنی جھوٹ بول کر۔۔۔!! توبہ توبہ۔۔۔”

 

میں جلدی جلدی آگے بڑھی۔ “آنا ضرور۔” اس نے پیچھے سے ہانک لگائی۔ پورا دن اسکول میں، ایک کلاس سے دوسری، دوسری سے تیسری میں، مَیں “چھپ کر آجانا” کی ماہیت پر غور کرتی رہی۔ جملہ میری سماعت سے لپٹ گیا تھا۔ ہر ایک کی بات کے فوراً بعد سرگوشی کر دیتا “چھپ کر آجانا” بغاوت کا پہلا بیج کمبخت نے کہیں میرے دماغ میں چھڑک دیا تھا اور اب مسلسل چھڑکاؤ کر رہی تھی۔ شاید موسم موزوں تھا پھر اس بیج کو بھی اپنا علم لہرانے کی خواہش تھی۔

 

واپسی پر گلی میں داخل ہوتے ہی میری آنکھوں کے تارے پوری گولائی میں حرکت کر رہے تھے مگر ملکہ نظر نہیں آئی۔میں نے حسبِ عادت خشوع و خضوع سے ظہر اورعصرکی نمازیں پڑھیں۔ نانی کے پاس بیٹھ کر سکول کا سبق یاد کیا۔ نانی مسلسل میرے بال سہلاتی اور موقع بہ موقع میرا ہاتھ پکڑ کر چومتی رہیں۔ کام بالکل ختم ہو گیا تو میں نے بغیر کسی خاص تیاری کے نانی کے بالکل قریب ہو کر کہا۔
“نانی جی! اے سِکھ کی ہوندا اے؟؟”

 

لمحہ بھر پہلے کی شفیق، مجھے کسی پِلّے کی طرح پچکارتی نانی کو گویا کسی تتئے نے کاٹ لیا۔ “کس نے کہا تجھے؟”

 

“نہیں نہیں مجھ کو کسی نے نہیں” بغیر تیاری کے نانی ایسے سپہ سالار کے سا منے مجھ اناڑی ریکروٹر کو کچھ نہ سوجھا۔” شرافت نال دس۔” نانی کی گرفت میری کلائی پر مضبوط ہو گئی۔

 

“ہے۔۔۔ وہ کلاس کی ایک لڑکی ہے نہ۔ وہ۔۔۔ نغمہ اس کا نام ہے۔ وہ کہہ رہی تھی کہ سِکھ بھی ہوتا ہے۔”

 

“اچھا! سِکھ بھی ہوتا ہے۔”نانی نے دُہرایا۔

 

نانی کو اپنی تربیت اور میری نسل پر بڑا بھروسہ تھا۔ بولیں “پتر طرح طرح کے لوگ ہوتے ہیں دنیا میں۔۔۔ کچھ مسلمان، کچھ ہندو، کچھ سکھ، توکچھ عیسائی۔ تو کیوں ان فکروں میں پڑتی ہے اور کیا اسکولوں میں پڑھائی نہیں ہوتی جو یہ سب پوچھا جاتا ہے؟”

 

“ہوتی ہے۔۔ بس وہ کہہ رہی تھی۔”

 

“نہ کان دھرا کر اور اب بولے تو لے چلنا مجھے اسکول،پھر دیکھو تمہاری ماسٹرنیوں کی کیسی خبر لیتی ہوں میں۔۔۔”میں نے اس خوف میں بھی سوچا۔

 

“بولے گی کڑی۔۔۔ نانی خبر لے گی ماسٹرنی کی۔”

 

“چھپ کر آ جانا” بدبخت جملہ ایسے میں پھر سرگوشی کر گیا۔
دو دن گزرے۔ تیسرے دن ا سکول سے چھٹی کے بعد، میں گلی میں داخل ہوئی تو ملکہ میری ہی راہ دیکھ رہی تھی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اپنے گھر کی چک کو۔۔۔ چک خاموش تھی اس کی آنکھیں لفظوں کی جوت سے جگمگا رہی تھیں۔ “جلدی بولو۔۔۔ گھر جانا ہے۔” میں نے ڈرے ہوئے لہجے میں اعتماد کی آمیزش کرتے ہوئے کہا۔
“مجھ سے دوستی کرو گی۔” وہ شرارت سے بولی۔

 

“پتہ نہیں۔”

 

“پکا وعدہ نانی کو پتہ نہیں چلے گا۔”

 

“پھر دوستی کیسے ہو گی؟”

 

“چھپ چھپ کر ملیں گے۔”

 

“چھپ چھپ کر ملیں گے “ دوسرا بم ”وہ کیسے؟”

 

“تیری خاطر اسکول میں بھی آ جاؤں گی۔”

 

“ویسے تم اسکول نہیں جاتی ہو۔”

 

“ کیا کرنا ہے جا کے۔ زہر لگتی ہے پڑھائی۔ تمہیں اچھی لگتی ہے؟ “

 

“اگر نہیں پڑھوں گی تو جاہل نہیں رہ جاؤ گی۔” میں نے فوراً جواب دیا۔

 

“ہم تو جاہل ہی بھلے۔۔۔ دوستی کر نہ یار۔”

 

“میں بعد میں بتاؤں گی۔”

 

“ابھی کیوں نہیں؟” وہ مسلسل مسکرا رہی تھی۔

 

میں تیز تیز قدموں سے گھر میں داخل ہوئی۔ امی باورچی خانے میں، نانی اپنے تخت پر بیٹھی چاندی کا کٹورا تھامے، زیتون کے تیل میں، یاسمین کے پھول مسلتے ہوئے، نوکرانی سے کہہ رہی تھیں۔ “تیری ہڈیوں کو بہت ہڈ آرامی آگئی ہے۔ صبح سے تو نے میری پنڈلیاں نہیں دبائیں، آمر۔۔ ادھر آ کے۔۔۔”

 

میں سیدھی کمرے میں گئی۔ بستہ رکھا۔۔۔ اور چاہا۔۔۔ کہ ملکہ کے ایسے ڈراؤنے جملے بھی کسی کتاب یا کاپی میں رکھ کر بستے کی زپ بند کردوں۔ مگر ان میں لگے سپرنگ بار بار اْچھل کر باہر آتے اور میرے سر پر ناچنے لگتے۔

 

ٹین ایج کے بارے میں اب دنیا کیا، گاؤں گوٹھ بھی سمجھدار ہو گئے ہیں۔ مگر میرا teen تو نرا oxygen tentتھا۔ایک دن اسکول سے واپسی میں سائیکل پر سوار ایک لڑکا میرے ہاتھ میں اینٹوں کی طرح پکڑی کتابوں پر ایک خط رکھ کر یہ جا۔۔۔ وہ جا۔۔۔

 

ہمارے دور کا معروف ترین اور ہائی سٹینڈرڈ کردار کی گواہی دیتا جملہ تھا “میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔” مگر مجال ہے جو ایک لفظ بھی میرے منہ سے نکل سکا ہو۔ پتہ نہیں لفافے میں کس قسم کی تحریر بند تھی۔۔۔ دل کی لرزاہٹ ویسے ہی ایسی باتوں پر قابو سے باہر ہو جاتی تھی۔ قدم بھی ساتھ نہیں دیتے تھے۔ تیز تیز قدموں اور پھولی سانسوں کے درمیاں، میں نے گلی میں قدم رکھا۔ چک ساکن تھی۔ چند قدموں کو تیزی سے عبور کر کے، میں نے سداوا دروازے سے جھانکا۔ گیس کے چولہے کی ٹرے نکالے،ملکہ اْس پر اپنے دونوں بازوؤں کی طاقت آزما رہی تھی۔ سارا پالش اْتر چکا تھا اور سٹیل کی ٹرے چماچم کر رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی آنکھیں چمکا کر بولی۔” کیسے؟” میں نے اشارہ کیا اور لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا۔

 

“اچھا ہے۔۔۔ آہا!”ملکہ نے قمیض کے دامن سے ہاتھ خشک کر کے لفافہ کو آنکھوں سے لگایا۔ سینے سے لگا کر گہرا سانس اندر کھینچا اور پھر عطر زدہ لفافہ چاک کیا۔ اندر تحریر تھا۔

 

“میری جان، مرے دل کی رانی، تمہیں دیکھ کر مجھے زندگی سے پیا رہو گیا ہے۔ تمہیں میری قسم کل اسکول سے واپسی میں مسجد والی گلی میں آجانا ورنہ۔۔۔ ورنہ میری لاش درخت سے لٹکی ہوئی دیکھو گی۔” یہ کیسی سطر تھی۔۔۔ میں پتے کی طرح کانپ رہی تھی اور وہ پیٹ پکڑے ہنس ہنس کر بے حال ہوتی جا رہی تھی۔ “ابے یار کاش ایسا خط کوئی مجھے بھی لکھے۔۔۔”

 

“او خدا۔۔۔” میں روہانسی ہو گئی۔

 

“ بات سن۔ تو کل اسکول سے واپسی میں سیدھی مسجد والی گلی میں آ نا۔”

 

“ناممکن! امی نے دیکھ لیا تو جان سے مار دیں گی۔”

 

“بات تو سن۔ تو صرف گلی میں داخل ہونا،باقی کام میرا۔”
“نہیں پلیز اسے سمجھانا کہ خود کشی ہرگزنہ کرے۔ “ میں نے خوفزدہ ہو کر کہا۔

 

“او تو کیا تو سمجھتی ہے یہ خود کشی کرے گا۔ او ے کوئی نہیں مرتا جان سے تو فکر ہی نہ کر۔ اس سلیم کے بچے کو تو کل مزہ چکھاؤں گی میں۔ بس دیکھنا! تری نانی کو پتہ نہ چل جائے۔” اس نے اپنے کواڑ سے باہر جھانکا اور بولی “جلدی سے نکل جا۔تمہاری چک کے پیچھے کوئی نہیں۔”

 

میں ایک زقند میں باہر۔۔گھر گئی۔۔۔ چور نظروں سے سب کا جائزہ لیا۔۔۔ اس نئے بحران کی شدت، کل کی پلاننگ۔ میرا دماغ پاگل کر رہا تھا مجھے۔ اگلے روز حسبِ وعدہ۔۔۔ مسجد کی گلی میں جانے کا ارادہ تو کیا مگر وسوسوں کے سنپولیے میرے ذہن میں سرسرا رہے تھے۔ آخرکار اس پتلی گلی میں داخل ہوئی۔ جس کے دونوں اطراف کی دیواروں میں بڑے بڑے بڑے شگاف تھے۔ ملکہ کہیں نظر نہیں آرہی تھی مگر میں کیوں آگئی، وہ کمبخت مصیبت یہیں کہیں ہوگا۔ اگر گلی میں سے ابا یا بھائی جان نکل آئے تو میں آدھی فوت ہو چکی تھی۔ عین اسی لمحے، نیلے رنگ کا کرتا شلوار پہنے، منہ پر برستی پھٹکا ر لیے سلیم داخل ہوا۔ خوف اور ڈر کے ساتھ ساتھ اب گھن بھی محسوس ہوئی۔

 

ملکہ۔۔۔ ملکہ۔۔۔ میرا رواں رواں پکار رہا تھا۔

 

“آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ آپ نے مرا دل رکھ لیا۔ میں آپ کو کیسے بتاؤں میں آپ کو کتنا چاہتا ہوں۔ میرا دل آپ کے نام سے دھڑکتا ہے میں آپ کی وجہ سے شا عر بن گیا ہوں۔”

 

“ابے او سلو کے بچے”، مسجد کی پچھلی دیوار کے شگاف سے ملکہ نے چھلانگ لگائی۔ “اوئے میسنے میری دوست کو خط لکھتا ہے۔ تیری ماں کو۔۔۔” اور دوسرے ہی لمحے سلیم نے گلی سے باہر چھال ماری۔۔۔ ملکہ پیچھے لپکی اور واپسی میں پورے دانت باہر نکالے واپس آئی۔۔۔ “قسم لے لے جو آئندہ ترے راستے میں بھی آیا۔”

 

“وہ کچھ کر نہ لے۔” میری سوئی اَٹکی ہوئی تھی۔

 

“ابے وہ ماں کا۔۔۔” اتنی ہمت ہے اس میں؟ بول اس درخت پر چڑھ کر تو دکھائے اور مرے گا پھندہ لگا کر۔۔۔ مرنے کے لیے بہت کچھ چاہیے میری جان۔۔۔آکردیکھے تیرے سامنے کبھی، اس کی ماں کو۔۔۔ سالے کی بہن کو۔۔۔” اس نے سلیم کے خاندان کی خواتین کی ایک ہی سانس میں وہ درگت بنائی کہ میں ششدر رہ گئی۔ خدا کی قسم میں نیاکھٹی اتنی مادر پدر آزاد گالیاں، اتنی بے باکی اور زور شور سے پہلے نہیں سنی تھیں۔

 

“اچھا گالیاں تو مت دو۔”

 

“تو کیا انڈے دوں؟” اس نے زور سے کہا۔ “میرا مطلب ہے وہ گالیاں دو جو تمہارے دائرۂ اختیار میں ہیں۔” “ دائرۂ اختیار” نے اسے پگلا کرکے رکھ دیا۔ ہنس ہنس کر دُہری ہو گئی۔۔۔ گلی سے باہر جھانک کر بولی۔۔۔

 

“ جلدی جا، کوئی نہیں ہے” اور میں جلدی سے گلی سے باہر نکل کر، گھر کی طرف مڑ گئی۔

 

“پتہ نہیں کب، کیسے اور کیونکر۔۔۔ ملکہ میری ضرورت بن گئی۔۔۔ میرے ہر مسئلے کا حل بن گئی۔ میرے لیے ڈھال بن گئی۔ اس کی آزادی، اس کا بے شمار لڑکوں سے بلا خطر فلرٹ کرنا، کپڑے، میک اپ کے لوازمات، کھانے پینے کا سامان۔۔۔ ناشتے سے لے کر رات کا کھانا تک مختلف لڑکوں کو بلیک میل کر کے منگوا کر آرام سے ڈکار لینا۔۔۔۔ کئی کئی لڑکوں کو ایک ساتھ بے وقوف بنا کر ہنستے ہنستے ان کو ایک دوسرے سے لڑوا کر خود گلی میں ننگے پاؤں کھڑے ہو کر آم چوسنا۔۔۔ ایک رنگ کی قمیض، ایک رنگ کی شلوار۔۔۔ دوپٹے سے بے نیاز۔۔۔ رات کو باہر تھڑے پہ بیٹھ کر اونچی آواز میں گانے گانا۔۔۔ روز اسکول سے چھٹی کرنا۔۔۔ اُف کیا آزادی تھی۔۔۔ گندے رہنے کی آزادی، ایک گھر سے دوسرے گھر بلاروک وٹوک جانے کی آزادی، ہر چیز چرنے کی آزادی، ہر جگہ سے تحفہ وصولنے کی آزادی۔۔۔ چھوٹے کا لحاظ نہ بڑے کا۔ سب بے حد نا پسندیدہ تھا۔ میرے کلچر، میری تعلیمات کے بالکل خلاف۔۔۔ میری ماں اور میری نانی کے لیے ناقابلِ برداشت۔۔۔ تومیرے لیے بھی۔۔۔ مگر اس کا یہ سب کرنا۔۔۔ما ننا پڑے گا، تھا بڑا Lush۔

 

میں خود کو اس کے سامنے پڑھی لکھی، معزز پر نری بدھو سمجھتی۔۔۔ مجھے یاد ہے ایک بار اْس کے ایک So-called محبوب نے نہ جانے کیا سوچ کر اسے ایک کتاب تحفے میں دی۔ برا سا منہ بنا کر بولی “اس نے مجھے خالہ سمجھا ہے جو یہ کتاب بھیجی ہے۔”

 

میرے لیے یہ سب جملے بڑے نئے نویلے ہوتے۔ فوراً سندیسہ بھیجا کہ “فلاں” کو بولو ذرا ملنے آئے۔ یہ کدو ٹائپ، ویہلے لڑکے بالوں کو تیل سے چپکائے آگے پیچھے ہی رہتے تھے۔ وہ بھی لمحہ بھر میں ہی حاضر ہو گیا۔ میں اس کے گھر کے اندر، کھڑکی کی جھری سے سارا ماجرا دیکھ رہی تھی۔

 

“یہ کیا ہے؟” ملکہ نے بڑی سنجیدگی سے کتاب اس لڑکے کے سامنے لہرائی۔

 

“آپ کے لیے کتاب۔”

 

“کیوں میں لائبریرین ہوں؟”

 

“نہیں آپ کے مطالعہ کے لیے۔” اس نے جھینپ کر کہا۔

 

“کیا کتاب سے منہ کالا کروں؟ ابھی اتنا برا وقت نہیں آیا مجھ پر چندا “ ملکہ کی سنجیدگی دیکھنے لائق تھی۔

 

“نہ تو۔۔۔ تو نے مجھے کتنی بار کتاب پڑھتے دیکھا ہے؟”

 

“کبھی نہیں۔۔۔” وہ سہما سا نظر آنے لگا۔

 

“اب میری سن۔۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر بولی۔

 

“ اس کتاب کے پنے پھاڑ، اس کی بتی بنا کر۔۔۔ اس کو اپنی۔۔۔ میں گھسیٹڑ۔۔۔ اور لائٹر سے آگ لگالے۔۔۔ اس کو کہتے ہیں بیٹا کتاب سے منہ کالا کرنا۔۔۔”

 

میرے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔۔۔ قریب تھا کہ میں چکرا کر گر پڑتی وہ دروازہ زور سے پٹخ کر اندر داخل ہوئی اور بولی۔۔۔ “کاٹ دے اس کا نام لسٹ میں سے۔”

 

“کیا؟” میں کچھ سسمجھی نہیں۔

 

“یہ تیرے پیچھے جو رجسٹر ہے نہ، اس میں اس کمینے کا نمبر ساتواں ہے۔ ہمیشہ کے لیے کاٹ دیسالے کا نام۔”

 

کتنی گندی زبان تھی اور خود کتنی گندی۔۔۔ میں کتنی صاف ستھری۔۔۔ کتاب کی دنیا کی باسی میرا اور اس کا کیا جوڑ، اور پھر اگر گھر میں کسی کوپتہ چل گیا کہ میں اس سے ملتی ہوں۔۔۔ ملتی بھی کیا۔۔۔ باقاعدہ اس کے گھر میں پائی جاتی ہوں۔۔۔ میرا یقین تھا کہ اس خبر کے ملتے ہی میری ماں گھر کے آنگن میں گڑھا کھودے گی اور نانی مجھے اس گڑھے میں پھینک کر، اطمینان سے مٹی ڈال کر زمین برابر کر دے گی۔

 

اسکول سے ہم سب کالج پہنچ گئے۔۔ نیا راستہ۔۔۔ نئے نئے لڑکے۔۔۔ نئی نئی پابندیاں، نئی گھرکیاں، نئے ضابطے۔ کالج سے گھر تک کا سفر تانگے میں طے ہونے لگا۔ یعنی ملکہ سے ملنے اور اس کے گھر جانے کے تمام راستے مسدود۔۔۔ میرا دل مسلا گیا۔ کالج میں تو وہ بھی تھی مگر کبھی کبھاراور وہ بھی کلاس سے باہر۔۔۔ جبکہ میری کوئی ایک کلاس بھی missہوتی تھی تو میں کئی دن تک پشیمان رہتی تھی۔ ملکہ نے حل نکالا۔پہلے تو میرے گھر ٹرائی کریں گے ورنہ اگلی گلی میں پروین کا گھر ہے۔۔۔ وہاں آجانا، ملا کریں گے۔ ایک اور “کنجرخانہ” بقول نانی۔۔۔”اور اگر گھر والوں کو پتہ چل گیا؟” میرا خوف۔۔۔

 

“وہ کیسے؟” اس کی فطری لاپرواہی۔

 

“تانگے والے نے بتا دیا تو۔۔۔؟”

 

“اس تانگے والے کو تو یوں پٹاؤں گی کہ بس دیکھتی جا۔”

 

تانگے والا واقعی پٹ گیا۔ کیسے؟ یہ معلوم نہیں مگر اب حکم کا اِکّا ملکہ کے پاس تھا۔پروین کے گھرکی بجائے ہم ملکہ کے گھرہی ملنے لگے۔تانگے والا وقت سے پہلے مجھے کالج سے اُٹھا لیتا اور میں چوکنا ہو کر ملکہ کے گھر اْتر جاتی۔ معاملہ چل رہا تھا۔ اس کے گھر ہفتے میں ایک دو بار جانے سے مجھے اس کی گھریلو زندگی اور اسے بسر کرنے کے بارے میں زیادہ علم ہوا۔ اس کے بھائی نشہ وشہ کر کے کہیں باہر زندگی گزارتے تھے۔ بہنیں اپنے جیسوں کے ساتھ شادی کر کیے جوادھر اْدھر روانہ ہو ئیں تو پیچھے مڑکرنہ دیکھا، سو اس کے مزے تھے۔یتیم ہونا بھی ایک قسم کی موج ہی ہے، میں ان دنوں سوچا کرتی۔

 

اس کے گھر میں اکثر ایک لڑکی کام کرتے نظرآتی۔ دُبلی پتلی، لمبے لمبے بالوں کی چٹیا سلیقے سے بنائے ہوئے۔ خوب چوڑے دوپٹے سے خود کو لپیٹے بڑی جانفشانی سے کام کرتی ہوئی۔ کبھی آٹا گوندھتے، کبھی کپڑے دھوتے، کبھی سبزی کاٹتے۔۔۔ ایک دن میں نے ملکہ سے پوچھ ہی لیا۔

 

“یہ لڑکی تمہارے پاس ہر وقت کام کیوں کرتی ہے؟” بولی “اس کی شادی میں تیرے بھائی سے کرواؤں گی؟؟؟”

 

“کیا؟ “میں ہونق بنی اس کا منہ دیکھنے لگی۔

 

ملکہ نے جو کہانی مجھے سنائی۔ مجھے اس میں نہ تو کوئی دلچسپی کا پہلو نظر آیا نہ خوشی کا۔۔۔ بلکہ دل پر ایک بوجھ سا پڑ گیا۔ یہ سامنے والے کمرے میں استری کرتی لڑکی اصل میں میرے چھوٹے بھائی کے عشق میں گرفتار ہو چکی تھی اور ملکہ کا دعویٰ تھا کہ چونکہ وہ ہمارے گھر سے نہایت اعلیٰ قسم کے مراسم رکھتی ہے۔ لہٰذا میرا چھوٹا بھائی اس کی کوئی بات نہیں ٹال سکے گا اور اس لارے یہ غریب لڑکی۔۔۔ اس کے گھر سارا سارا دن کام کرتی اور ملکہ نوابی شان کے ساتھ حکم چلایا کرتی۔یہ تھی ملکہ۔۔۔ یہی اس کا طرزِ زندگی تھا اور وہ شاید کسی کی خاطر بھی اسے تبدیل نہیں کر سکتی تھی۔ اس کی ایک مثال اور دیتی چلوں۔

 

ایک دن میں نے اس کو بہت خاموش اور اداس پایا۔۔۔ نہ وہ چلبلاہٹ نہ وہ مستی۔۔۔ آخر پوچھا۔۔۔ “کیا بات ہے؟؟؟”

 

بولی۔۔۔ “سوچ رہی ہوں میرا باپ کون ہے؟ خدا خیر۔۔۔” ہندوستانی فلموں کے فارمولے میرے ذہن میں۔۔۔ یہ سارا دن ہنسی ٹھٹھول، دھول دھپا، مخولیاں۔۔۔ اس کا باپ؟؟ یعنی تو کیاملک اس کا باپ نہیں تھا؟؟؟ کیا اس کی ماں نے دو شادیاں کی تھیں۔۔۔ “اوہ۔ملکہ۔۔۔”میں نے بڑے پیار سے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔؟ “کیا کوئی راز کی بات ہے؟”

 

“دیکھ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی اپنے ماں باپ کو ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے بات کرتے نہیں دیکھا۔۔۔ ایک ساتھ بیٹھنا، کھانا کھانا۔۔۔ہنسی مذاق، دل لگی کرنا، دروازہ بھیڑنا یا اندر سے بند کرناتو بہت دور کی بات ہے یار۔۔۔”

 

“کیا مطلب۔۔۔؟ “بات میرے پلے نہیں پڑی۔

 

“مطلب یہ کہ، تو کیسے ممکن ہے کہ میری ماں نے اس شریف آدمی کو کبھی اپنے قریب پھٹکنے دیا ہو؟ یار ہم چھ بہن بھائی پیدا کیسے ہو گئے؟؟؟”

 

“دُر فٹے منہ” میں تپ گئی۔

 

“مگر ایک بات ہو سکتی ہے؟ “ وہ اسی سنجیدگی کے عالم میں بولی۔
“اب وہ کیا؟” میرا غصہ بدستور تھا۔

 

“ہو سکتا ہے ملک صاحب کبھی رات کو دودھ میں نشہ وشہ ملا کے دے دیتا ہواور اپنا کام نکال لیتا ہو۔”

 

My Goodness یہ تھی اس کی اپنی پیدائش اور ماں باپ کی ازدواجی زندگی کے متعلق رائے۔

 

ٹیلی فون جب سے اس کے گھر میں لگا، ہر وقت لائن مصروف رہنے لگی۔ مجھے سخت بوریت ہونے لگی۔ ہر وقت ایک ہی طرح کے جملے۔۔۔ میں بمشکل آدھ ایک جملہ ہی بو ل پاتی کہ مجھے ہر صورت میں کالج کے خاتمے کے وقت گھر پہنچنا ہوتا تھا۔ ملکہ تقریباً ایک ہی طرح کے جملے دُہراتی رہتی مثلاً۔۔۔

 

“ کیا آپ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔”

 

“اوہ۔۔۔ کیا میری آواز اتنی خوبصورت ہے؟”

 

“مجھے بھی آپ سے ملنے کا بہت شوق ہے۔”

 

“تحفے تو محبت بڑھاتے ہیں۔ جب دل چاہے بھیج دیں۔۔۔” وغیرہ وغیرہ۔
میں ساری لن ترانی سنتی رہتی۔۔۔ ایک دن پوچھا۔۔۔ “آخر اس سارے جھمیلے میں اسے کیا مزہ آتا ہے؟ “

 

بولی۔۔۔”تو کتابیں پڑھ اور مجھے لینے دے مزے۔” آخر کار میرے سامنے ہی اس نے کسی سے ریلوے اسٹیشن پر ملنے کا پروگرام بنایا۔ کچھ سمجھ میں بات آئی، کچھ نہیں۔۔مگرمیں نے پوچھا ضرور۔۔۔ “کون ہے یہ اجنبی اور کیوں ملو گی تم اس سے؟”

 

“تو تماشا دیکھ مزے سے۔” وہی لاپرواہ جواب۔۔۔ اور پھر اس نے اپنی دوست پروین کا ذکر چھیڑ دیا۔ جس کا مختصر تعارف کروانا ضروری ہے۔

 

پروین ملکہ کی دوست تھی، خود غرضی کاچلتا پھرتا اشتہار، سیاہ رنگت اورسیاہ دل کا امتزاج، وہی جنہیں نانی اپنے مخصوص انداز میں یاد کرتی تھیں۔ ملکہ کچھ زیادہ ہی شوخ موڈ میں مجھے اس کے گھر لے گئی۔ پہلے اْس سے اْس کے سیاہ جوڑے کے بارے میں پوچھا۔پھر بولی۔”قسم سے بہت پیاری لگتی ہے تو اْن کالے کپڑوں میں۔”

 

“ وہ تو دھلائی میں ڈالا ہوا ہے۔” پروین نے جواب دیا۔

 

“نکال ابھی۔”

 

“میلا ہے یار۔” وہ منمنائی۔

 

“بس بس ابھی نکال مشین سے۔ میں تجھے وہی پہنے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔”

 

ملکہ اپنی جگہ سے اٹھی۔ واشنگ مشین سے کپڑے نکال لائی۔۔۔” بس ابھی پہن۔۔۔ اور وہ گلابی والی لپ سٹک لگانا۔ قسم سے بہت پیاری لگتی ہے تو اس میں۔۔۔ اور چل ریلوے اسٹیشن چلیں۔اور گلاب لگا بالوں میں۔”

 

میں نے اپنے حلیے کا جا ئزہ لیا۔۔۔ پرنٹڈ گلابی اور سفید دوپٹہ، گلابی کُرتا اور سفید چکن کی شلوار کے ساتھ سفید سینڈل۔۔۔ ملکہ پورا سبز طوطا بنی ہوئی تھی۔ بات کچھ سمجھ میں نہ آئی۔ مگر بہرحال ہم تینوں، محفوظ راستے سے نکل کر ریلوے اسٹیشن جا رہے تھے۔ ابھی کالج کا وقت ختم ہونے میں پورا ایک گھنٹہ باقی تھا۔

 

“ریلوے اسٹیشن کیوں؟” مجھے اس کی حرکتوں سے کچھ عجیب سا شک ہو چلا تھا۔ اس لیے پھرپوچھا۔

 

“تو نے ہی تو کہا تھا کہ وہاں پر جوس بہت اچھا ملتا ہے۔” ملکہ نے فوراً جواب دیا۔

 

مجھے کچھ یاد نہیں آیا۔۔۔ بہرحال ہم تینوں وہاں پہنچ گئے۔
ریلوے اسٹیشن پہنچ کر ہم تینوں ایک بنچ پر بیٹھے۔ ملکہ نے مجھے کہا۔۔۔ “چل جوس لے کر آئیں۔

 

“میں بھی چلتی ہوں۔” پروین نے اْٹھتے ہوئے کہا “او نہیں تو بیٹھ نہ “ ملکہ نے اس کے کندھے کو دبایا اور مجھے ذراآگے کی طرف بنے جوس کے ایک چھوٹے سے کیبن میں لے گئی۔ “کیا چکر ہے۔” میں بالکل انجان تھی۔

 

“سن۔۔۔ وہ سامنے والا لڑکاہے نہ جس کے ہاتھ میں لال رنگ کا پھول ہے۔۔۔ دیکھ وہ جو بنچ پر پروین کو دیکھ رہا ہے۔۔۔”

 

“ہاں” میں نے ایک کانگڑی پہلوان کو پروین کی طرف دیکھتے پایا۔ اسی دوران، اس لڑکے نے ہاتھ میں پکڑا ہوا پھول جیب میں ڈال لیا تھا۔

 

“ہا۔۔۔ ہا۔۔۔ ہا۔۔۔” ملکہ نے بمشکل اپنے قہقہوں پہ قابوپایا۔ مجھے غصے کے ساتھ ساتھ اپنے بے وقوف ہونے کا احساس بھی ستانے لگا۔۔۔ “پتہ ہے یہ کون ہے ؟” ملکہ نے خود کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔۔۔ “اب بتا بھی چکو۔” مجھے یہ حرکتیں خاصی معیوب لگ رہی تھیں۔

 

“دیکھ یہ وہ لڑکا ہے جو روز فون پہ مجھے ملنے کے لیے کہتا ہے۔ ایک رانگ نمبر تھا۔ میں نے اس کو کہا کہ اسٹیشن پر دو بجے آجانا۔ میں کالے رنگ کے کپڑے، گلابی لپ سٹک اور لال گلاب کا پھول بالوں میں لگا کر آؤں گی۔۔۔ مجھے پتہ تھا۔ پروین کو دیکھ کر کوئی انسان کا بچہ عاشق ہونے کا نہیں سوچے گا اور پروین کو علم نہیں ہے کسی بھی بات کا۔۔۔”

 

مجھے افسوس ہونے لگا۔ “کیسی بے وقوف بنی غریب۔ کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی؟؟؟”

 

ملکہ کی حکمت نرالی تھی” ہاں ذلیل تو ہوئی، مگر میرے دل میں تو ٹھنڈ پڑ گئی نہ۔۔۔”

 

“وہ کیوں۔ آخر وہ تمہاری دوست ہے۔۔۔؟؟” میری برداشت سے باہر تھا یہ سب۔

 

“وہ اس لیے کہ یہ تجھے سخت ناپسند کرتی ہے اور پتہ ہے کیوں؟”

 

“کیوں بھلا؟ میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا اس کے ساتھ۔”

 

“ارے وہ جیلس ہے تجھ سے۔ وہ 25 بارجنم لے نہ تو بھی تجھ جیسی نہیں ہو سکتی۔ اْسے جلن یہی ہے کہ تو اس کی دوست کیوں نہیں ہے اور میری کیوں ہے۔۔۔” بات کچھ سمجھ میں آئی، کچھ نہیں۔ مگر مجھے ان گھٹیاسازشوں سے وحشت سی ہونے لگی۔

 

کالج میں ہمارا تیسرا سال تھا اور وہ کسی لڑکے سے فلرٹ یا محبت یا ایسی ہی کوئی چیز کر رہی تھی۔ یہ بات اس نے مجھے خود ہی بتائی۔ اسی کے ذریعے مجھے علم ہوا کہ وہ اس پر جان چھڑکتا ہے۔۔۔ محبت کرتا ہے اس کی خاطر پورے جہاں سے ٹکرا سکتا ہے۔۔۔ آسمان کے تارے وغیرہ وغیرہ۔۔سطحی ناولوں اور ھندی فلمو ں کے سارے قصے اس Love Story میں سموئے ہوئے تھے۔ مجھے حیرت کے ساتھ ساتھ اس کی عشقیہ ملاقاتوں کی تفصیل سے جڑے واقعات پر رشک بھی آتا۔

 

پیپرز کی تیاری میں، میں بہت کچھ فراموش کر چکی تھی۔ کافی دنوں بعد ایک دن ملکہ مجھے کالج میں ملی، قدرے پریشان سی لگی۔۔۔ “کیا بات ہے؟” میں نے پوچھا؟

 

“کچھ نہیں۔ تیری پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟” اس نے پوچھا۔

 

“اچھی ہے، مگر دعا کرو کہ یونیورسٹی میں داخلہ مِل جائے۔”

 

“کیا۔۔۔؟ اب یونیورسٹی؟؟؟” وہ تقریباً چلا پڑی۔

 

“او خدا کی قسم۔۔۔ تو بھی ایک نمبر کی۔۔۔” کچھ کہتے کہتے رْک گئی، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر لجاجت سے بولی۔۔۔

 

“دیکھ۔۔۔ کیا رکھا ہے اس پڑھائی میں؟ چھوڑ نہ یہ سب۔۔۔ اداکارہ بن جا۔”

 

“ہیں؟؟؟ یہ کیسا مشورہ ہے۔” میں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔

 

“یار اللہ نے تجھے جیسی شکل دی ہے نہ ویسی عقل بھی دے دیتا تو اس کا کیا جاتا۔ بس مالک ہے وہ، اب اس کا جو دل چاہے گل کھلائے۔ میری مان میری جا ن، اداکارہ بن جا۔ میں پانی کی بوتل اور پرس اٹھا کر تیرے پیچھے پیچھے چلا کروں گی۔ خدا کی قسم سارے پروڈیوسر، ڈائریکٹر تیرے آگے پیچھے چلیں گے اور میری شان دیکھنے جیسی ہوگی۔ بے بی کے آرام کا وقت ہو گیا ہے، بے بی کو جوس دینا ہے، بے بی اس وقت موجود نہیں ہے۔بے بی کا مو ڈنہیں ہے۔۔ بے بی اس وقت آرام کرے گی۔۔۔” اس نے پوری فلمی دنیا کی دو منٹ میں ایسی کی تیسی کر ڈالی۔

 

میری ہنسی بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

 

“قسم سے ہم دونوں کی زندگی موج میں گزرے گی۔ میں ویسے ہی موٹی سی بھدی سی کالی سی ہوں۔۔۔ تھوڑا ساخود کو اور پھلالوں تو بالکل تیری ماں لگوں گی۔ ایمان سے۔۔۔”

 

“اور وہ تمہارے عاشق نامدار کا کیا ہوگا؟” میں نے پوچھا۔

 

“اْسے تیرا چپراسی بنادوں گی۔” وہ کھلکھلا کر ہنسی۔

 

“خدا کی پناہ۔۔۔کچھ تو خیال کرو۔۔۔”میں ہنستی رہی اور وہ میرے کالج سے نکلنے سے پہلے ہی چلی گئی۔۔۔ وہ کچھ عجیب سا دن تھا۔ مجھے اس کی باتوں سے ایک عجیب قسم کی اداکاری کا اندازہ ہو رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا وہ مجھے خوش کرنا چاہ رہی تھی۔ یا ہنسانا چاہ رہی تھی یا کوئی بات بھولنا چاہ رہی تھی۔ جو کچھ بھی تھا۔۔۔ مجھے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔اسی شام تقریباً چار بجے کے قریب گلی میں شور سا اٹھا۔

 

امی کو میں نے دروازے کی چک سے جھانکتا پایا۔۔۔ ایک عجیب سا شور و غوغا تھا۔۔ میں فوراً سیڑھیاں چڑھ کر اوپرآ گئی اور چھت سے نیچے جھانکا۔ ملکہ اپنے اورہمارے گھر کے درمیان گلی میں کھڑی تھی۔ ہاتھ میں ہرے رنگ کی بوتل پکڑے۔ساتھ میں کیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم مگر وہ زور زور سے چیخ رہی تھی۔

 

“بولو۔۔۔ ارے کوئی بولو۔۔۔ اس ماں کے۔۔۔ کو۔ کسی اور سے شادی کرنے چلا ہے۔ اگر نہیں منع ہوانہ تو جان لے لوں گی اس کی بھی۔۔۔ اپنی بھی۔”

 

ایک لمحہ بھی بڑا تھا۔۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی بوتل اپنے اوپر انڈیلی اور لگی ماچس سے تیلی رگڑنے۔۔۔ جب تک کوئی آگے بڑھتا۔۔۔ تیل اور آگ کا ملاپ۔۔۔ گہرا سیاہ دھواں۔۔۔ او میرے خدا۔۔۔ کیا منظر تھا۔ کئی لوگ آگے بڑھے۔۔۔شور۔۔۔ چیخیں۔۔۔ ہنگامہ۔۔۔ میں کانپتے وجود کے ساتھ زمین پر نہ جانے کتنی دیر بیٹھی رہی۔ میری ہمت نہ تھی کہ میں اس وحشت ناک منظر کے باقی ماندہ حصے یا دہشت کو دیکھوں یا سنوں۔ مجھے بس اتنا اندازہ تھا کہ سب کی چیخیں گونج رہی تھی۔ مگر اس شور میں ملکہ کی کوئی آواز نہ تھی۔

 

مجھے ہسپتال جانے کی اجازت بھی نہ ملی۔ ایسی ننگی لڑکی۔۔۔ بے حیا، بے غیرت، اْس بدبخت لڑکے کے لیے خود کو آگ لگا لی۔ یہ علم ملتا ہے اسکولوں اور کالجوں سے۔ یہ سب فلمیں دیکھنے کے نتیجے ہیں۔ میری نانی اور ماں کی آنکھیں خونخوار ہوئی جاتی تھیں۔ میر ادل سینے میں دھڑ دھڑ کرتا کہیں بھاگنے کا راستہ تلاش کرتا پاگل ہوا جاتا۔۔۔ مگر میں نے اسے ہسپتال میں ملنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ اگلے روز کالج کے آخری دو پیریڈ چھوڑ کر میں نسبتاً تیز تیز قدموں سے ہسپتال کی طرف اکیلی پیدل روانہ ہوئی۔ چھوٹا سا شہر ہی تھا۔ مگر میری آنکھوں اور دماغ پہ کولہو کے بیل والے کھوپے یوں چڑھائے گئے تھے کہ کوئی راستہ سجھائی نہ دیتا تھا۔ خدا خدا کر کے ہسپتال ملا۔ محلے کے کافی لوگ وہاں کھڑے تھے۔ معلوم ہوا۔۔۔ ملاقات صرف دو افراد کر سکتے ہیں۔نہ جانے ارشد کے دل میں کیا آیا۔ بولا۔۔۔ “آپ آجایئے، ملکہ آپ کو دیکھ کر خوش ہو گی۔” میں بغیر کسی تردد کے اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔ سفید پٹیاں پورے جسم پہ، چہرہ بچ گیا تھا۔۔۔ میری اذیت دو چند ہو گئی۔۔۔میرے لفظ بے حیثیت تھے۔ کیا کہتی اور کس سے کہتی۔۔۔۔ ارشد ہماری ہی گلی میں رہنے والا نوجوان تھا۔ کہنے لگا “آپ اکیلی آئی ہیں۔ کسی کو آپ کے ساتھ بھیج دوں۔” مجھے واپسی کا راستہ معلوم نہیں تھا۔ ارشد کی بہن میرے ساتھ گھر تک آئی۔ اس کا نام نازیہ تھا۔ پورے راستے بلاتکان بولتی آئی اور مجھے ملکہ کے بارے میں وہ کچھ پتہ چلا جو کبھی اس نے میرے ساتھ شیئر نہیں کیا تھا۔ وہ کسی لڑکے کے عشق میں مبتلا ہو چکی تھی جو کسی اور ہی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ شروع شروع میں ہنسی مذاق چلا۔۔۔ معاملہ سیریس ہوا۔۔۔ پھر معلوم ہوا کہ دونوں نے خفیہ شادی کر لی تھی مگر اب وہ لڑکا اپنے ہی خاندان میں شادی کر رہا تھا۔۔۔ یہ تھا سارا قصہ۔۔۔ ملکہ ہر ایک سے کہتی رہی کہ اس کو سمجھایا جائے مگر محلے بھر میں کوئی اس کے لیے راضی نہ ہوا کہ سب ملکہ کی متلون مزاجی سے واقف تھے اور اس کی خفیہ شادی کاکوئی راز دار یا گواہ بھی سامنے نہ آیا تھا۔ لہٰذا کوئی بھی خود کو قربانی کا بکرا بنانے پہ راضی نہ ہوا۔۔۔ اور اس نے آخری حربے کے طور پر یہ قدم اْٹھایا۔

 

یہ سب کیا تھا۔۔۔؟ میں حیران رہ گئی۔ ایسی سنجیدہ بات اور ایسا قدم۔۔۔ اور مجھ سے کبھی کچھ بھی شیئر نہیں کیا۔ میں تو اسے اب واقعی اپنی دوست، ساتھی سمجھنے لگ گئی تھی۔ جھوٹی سچی کہانیاں سناکر مجھے محظوظ کر تی رہی اور اندرونِ خانہ مظلوم کرب سے گزرتی رہی۔ کیا نام دوں اس کو۔ جھوٹی۔۔۔ مگر اس کے جھوٹ نے مجھے تو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔۔۔؟ میں ادھیڑ بن میں مبتلا ہو گئی۔ مجھے ملکہ سے ہمدردی سی ہونے لگی۔ وہ الجھی ہوئی ڈور کی طرح تھی۔ وہ فطری طور پر بری نہیں تھی۔ مگر میرے اور اس کے درمیان جو تعلق تھا اس میں وہ خود کو ایک اور ملکہ بن کر مجھے دکھاتی جولا اْبالی تھی، بے فکر تھی، ہر احساس سے عاری تھی۔۔۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں تھا۔۔۔ وہ جو کچھ بھی تھی۔۔۔ میرے لیے غلط نہیں تھی،میں اسی نتیجے پر پہنچی۔

 

اسے ہسپتال میں لمبا عرصہ رہنا پڑا۔ میں یونیورسٹی چلی گئی۔۔۔جو ایک الگ ہی محاذ تھا۔ ہاسٹل کی مختلف زندگی۔۔۔ اور بہت سی ملکائیں۔۔۔ دْہری تہری زندگی گزارتی ہوئیں۔۔۔ مگر ان میں سے کوئی بھی ملکہ نہیں تھی۔ کسی کے پاس اتنا خلوص نہ تھا۔ اتنی محبت اور احساس نہ تھا۔ میں ماحول سے مطابقت پیدا کر رہی تھی۔۔۔ مگر جب بھی ملکہ کا خیال آتا۔۔۔ میں خاصی ڈسٹرب ہو جاتی۔ یونیورسٹی کی چھٹیوں میں چند دن کے لیے گھر گئی۔۔۔ اس کے دروازے پہ اس کا نشئی بھائی بیٹھا دیکھ کر میں نے اس سے ملکہ کا پوچھا۔۔۔ “تمہیں نہیں معلوم” اس نے کسی اور ہی عالم سے جواب دیا۔

 

مجھے معلوم تھا ملکہ جیسے لوگوں کی خبریں جگہ جگہ سے مل جاتی ہیں۔ ملکہ جیسے لوگ، لوگوں کی ذہنی خوراک ہوتے ہیں۔میرا شہر۔۔۔ ملکہ کی خبروں کا مسکن تھا۔ جب بھی وہاں جاتی کوئی نہ کوئی خبر مل جاتی۔ ہر بار ذہنی طور پر تکلیف دہ خبر لے کر ہی پلٹتی۔ باتوں باتوں میں۔۔۔ ہماری پڑوسن نے میری امی کو بتایا کہ اْس قبائلی لڑکے نے ملکہ سے شادی کو تسلیم کر لیا ہے اور وہ اب اسی کے دیئے گھر میں رہتی ہے۔ سنا ہے اس لڑکے نے اسے خاصی پابندیوں میں رکھا ہے۔ پردہ وغیرہ بھی کرنے لگی ہے اور محلے کے کسی شخص سے ملنا بھی منع ہے۔

 

میرے کانوں تک یہ خبریں پہنچیں ضرور۔۔۔ مگر ملکہ کے وجود اور سوچ کے ساتھ اس طرح کے سلوک کو نتھی کرنا میرے لیے خاصا مشکل امر تھا۔ میری زندگی، سوچ، ماحول۔۔۔ سب کچھ بدل رہے تھے۔ جب جب مجھے کسی مخلص انسان کی ضرورت ہوتی۔۔۔ مجھے ملکہ یاد آتی۔کتنی ساری باتیں جمع ہو چکی تھیں میری زندگی کے بارے میں، میرے اہم ترین اگلے سفر کے بارے میں۔۔۔ کبھی سوچتی کتنی خود غرض ہوں۔ مجھے ملکہ کی ضرورت اس لیے ہے کہ ملکہ مجھے سنتی ہے، برداشت کرتی ہے۔ میری ہر بات کو حفاظت سے سینت سینت کر رکھتی ہے۔ میرا خیال کہتا ہے، میرے لیے ہر جھوٹ بول سکتی ہے، میں۔۔۔ کیا کر سکتی ہوں ملکہ کے لیے؟ میں نے کیا کیا اس کے لیے؟؟؟ شاید میں اس کے لیے کچھ کر ہی نہیں سکتی کہ میرے اور اس کے مدار مختلف ہیں۔ اگر مدار مختلف ہیں تو وہ مجھ تک رسائی کیسے حاصل کر سکتی ہے۔ یا شاید اپنے مدار سے نکل جانے کاہنر اسے آیا ہے مجھے نہیں۔

 

میں شعوری طور پر نہیں۔۔۔ لاشعوری طور پر۔۔۔ ملکہ سے ملنے کی سبیلیں ڈھونڈتی رہی۔ مجھے اس کے گھر کا پتہ بھی مل گیا مگر جانے کا مسئلہ تھا۔میری شادی ہو گئی تو یہ مسئلہ بھی ختم ہو گیا اور میں ڈرائیور کے ساتھ اس کے گھر پہنچی۔ شام کا وقت تھا یہی کوئی ساڑھے پانچ چھ بجے کے قریب،کئی سال بعد میں اسے دیکھ رہی تھی۔ ملکہ نے مجھے دیکھ کرکسی حیرت کا اظہار نہیں کیا۔ خلافِ توقع نرمی سیپانچوں مسٹنڈے ٹائپ لڑکوں سے بولی۔۔۔ “چلواب تم لوگ جاؤ۔۔۔” پھر مجھے دیکھ کر ا طمینا ن سے بولی “چل تو آرام سے بیٹھ۔”

 

ایک نیا منظر میرا منتظر تھا۔ میرے اندازے سے زیادہ بھیانک، زیادہ خراب اور زیادہ بدبودار۔ پانچوں لڑکے انتہائی ڈھٹائی اور بے باکی سے مجھے دیکھتے ہوئے اْٹھ کھڑے ہوئے ان کی بدبداہٹیں اور چھوٹے چھوٹے نامناسب سے فقرے میرے کانوں سے ٹکرائے۔ سبھی غیرمتوازن سے تھے۔ بے ڈھنگے کپڑے پہنے، لوفروں کے سے حلیے میں۔ میں لاکھ دیوار پہ نظریں گاڑے بیٹھی رہی مگر اس احساس سے چھٹکارانہ پا سکی کہ ان لفنگوں کی گندی نظریں اور زبانیں میرے ہی اطراف گردش کر رہی تھیں۔ جب تک وہ باہر نکلے اس سیلن زدہ، رنگ و روغن اکھڑے کمرے کا سارا نقشہ،میرے دائیں بائیں پھیلی ہوئی عجیب و غریب سی چیزیں۔۔۔ میری دستک پہ خاصی دیر سے کھلنے والا دروازہ۔۔۔ میرے سائیں سائیں کرتے ذہن کو کئی کہانیاں سنا گیا۔۔۔ اس کے پرانے سے ڈبل بیڈ کی گندی سی چادر۔۔۔! اِدھر اْدھر بکھرے،گندے سندے کپڑوں کے نیچے۔۔۔ استعمال شدہ کنڈوم۔۔۔ آخ تھو۔۔۔

 

“یہ سب کیا ہے؟ “میرے لبوں پہ صرف یہی لفظ آسکے۔

 

“میں ڈرگز پہ ہوں۔ “اس نے اتنے آرام سے کہا گویا چائے یا کافی کا ذکر کر رہی ہو۔

 

“ بہت کچھ سنا ہے تمہارے بارے میں۔۔۔ ملکہ۔۔۔ مگر شاید کم سنا ہے۔ یہ پانچ پانچ لڑکے تمہارے کمرے میں، اور وہ بھی اس حالت میں۔۔ یہ سب کیا۔۔۔ اور کب سے۔۔۔ اور کیوں مگر؟ کوئی شرم، کوئی حیا؟” مجھے شدید غصہ آ گیا۔

 

“یہ سب کوئی اس سے کیوں نہیں پوچھتا؟” ملکہ کی نظریں زمین پر گڑی تھیں۔ اس کے لمبے لمبے بال پشت پہ پھیلے تھے۔نہ اسے چاک گریباں کا ہوش تھا۔نہ اپنے ماتھے پہ رینگنے والی جوؤں کا احساس۔۔

 

کوئی کیا اورکیسے پوچھے گا اس سے؟ “ تم نے کسی سے پوچھ کر شادی کی تھی۔ مرضی سے کی تھی نہ تو اب بھگتو۔”

 

“تو بھگت تو رہی ہوں۔۔۔ وہ بیوی سے۔۔۔ کرتا ہے۔ میری پورت یہ کرتے ہیں۔”

 

“تو کیوں کی تھی۔۔۔ ایسے شخص سے شادی؟”

 

“بات سن مجھے کوئی شوق نہیں تھا شادی وادی کا۔۔۔ سارا دن میرے آگے پیچھے بچھا جاتا تھا، منتیں کرتا تھا۔ ترلے کرتا تھا۔۔۔ کہتا تھا۔۔۔ منالے گا باپ کو۔۔۔ماں کو۔۔۔ اور جب نکاح کر لیا تو سور نے۔۔۔ نظریں پھیر لیں۔ کہتاہے، اس جلے ہوئے جسم کے ساتھ۔۔۔ کرنے سے گھن آتی ہے۔ کہتا ہے،اس کی بیوی پانی پیتی ہے تو گردن سے پانی اترتا نظر آتا ہے۔۔ کتا۔۔۔ اس کے ساتھ ہر سال بچے پیدا کرتا ہے اور میرے ہر سال ابارشن۔۔۔ اس وعدے کے ساتھ کہ اگلا بچہ پیدا کروائے گا۔”

 

تجھے پتہ ہے پچھلے مہینے اس نے میرے دو بچے گر وائے۔پا نچو یں مہینے میں۔ معلوم ہے نرس نے کیا کہا میرے جڑواں بیٹو ں کے لئے؟ بولی “ملکہ دیکھو گی۔دیکھنا ہے،دونوں لڑکے ہیں، پو رے ہی بن چکے ہیں حرامزادے۔” ملکہ کے ہو نٹو ں پر زہر خند مسکراہٹ تھی اور آنکھوں کے کٹو رے چھلکنے کے لئے بے تاب۔

 

میں گم سم تھی۔۔ ملحقہ کمرے میں بچھی چارپائی پہ ایک بوڑھی ملازمہ۔۔۔ اس سارے ڈرامے سے لاعلم خراٹے نشر کر رہی تھی۔”اور یہ سوتی رہتی ہے۔یقینا تمہاری چوکیداری کے لیے رکھی گئی ہوگی۔ “ میں نے ملکہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

 

“میں اس کی چوکیداری کرتی ہوں۔۔۔” سپاٹ لہجے میں جواب آیا۔
“چار گولیاں پیس کر دودھ میں ڈالی تھیں۔ تب جا کر سوئی ہے یہ۔۔۔ اور میں اس کنجر کو ذلیل کرتی ہوں۔ “

 

“اس کو نہیں۔۔۔ خود کو ذلیل کر رہی ہو۔” میں نے دکھ اور افسوس بھرے لہجے میں کہا۔

 

“میں تو ہوں ہی ذلیل۔۔۔” ملکہ پھیکی سی ہنسی ہنسی۔

 

“کیا منہ دکھاوگی خدا کو۔”

 

“وہی جس منحوس منہ کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔۔۔”

 

مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں اسے کیا کہوں اور کس طرح احساس دلاؤں کہ وہ سب کچھ غلط کر رہی ہے۔۔۔ ملکہ نظریں جھکائے ہوئے بولی۔۔۔

 

“سن! تو اب اس طرف مت آنا۔۔۔ مت ملنا مجھ سے۔۔۔ میں نہیں چاہتی میری بدنامی تجھ تک پہنچے۔۔۔ آدھے شہر سے قرضہ لے کر کھا چکی ہوں۔۔۔ وہ نہ مجھے جینے دیں گے نہ اس ماں کے۔۔۔کو۔”

 

“قرضہ؟؟؟”

 

میں نے پلستر اترے کوارٹر، ٹین کے بدرنگ صندوق۔۔۔ ادھڑے ہوئے گدے اور بوسیدہ بیڈ پر نظر ڈالی۔

 

“اور تو کیا سمجھتی ہے۔ یہ پانچوں مجھے۔۔۔ مفت میں۔۔۔” چل چھوڑ۔
“کہاں ہے تمہارا شوہر؟؟؟”

 

“صبح ایک چکر لگاتا ہے۔ کبھی دوپہر کو بھی جھانک جاتا ہے۔۔۔ اور شام ہونے سے پہلے پہلے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بھاگ جاتا ہے۔ تاکہ میرے ساتھ سونا نہ پڑے۔۔۔موت آتی ہے اس کو میرے ساتھ سونے سے، روز سوتا ہے جا کر اس کتیا کے پاس۔”

 

“بس کرو۔” مجھے گھن سی آنے لگی۔” وہ تمہیں خرچہ تو دیتا ہے نہ۔۔۔ ہر چیز میسر ہے۔ اْسی کے گھر میں رہ رہی ہو۔”

 

“ ہاں روٹی، سالن، کپڑا، چادر۔۔۔ صابن ہر چیز لا کر دیتا ہے۔ اب تو نشے کے انجکشن بھی لا کر رکھ دیتا ہے تاکہ میں باہر نہ جاؤں۔۔۔” اس نے دیوار گیر تختے پر رکھے پیکٹس کی طرف اِشارہ کیا۔”اور کیا چاہیے مجھے؟؟” اس نے اپنی گہری سیاہ آنکھوں میں پورے جہاں کی شدتیں سمیٹ کر کہا۔۔۔

 

میں نے غور کیا۔۔۔ پچھتاوا، ندامت، پریشانی، خوف کچھ بھی تو نہ تھا اس کے انداز میں۔میں خاموشی سے باہر نکل آئی۔

 

خبریں ملتی رہیں۔۔۔ کہ اب لفنگے لڑکوں نے بھی کترانا شروع کر دیا ہے۔۔۔ اب انجکشن لگانے کے بہانے بھی محلے کے اوباش اس کے گھر نہیں جاتے۔ لوگوں نے قرضہ دینا بھی بند کر دیا۔۔۔ کوئی اْدھار پہ دوا بھی نہیں دیتا۔۔۔ نشے کے انجکشن کے لیے راستوں پہ ماری ماری پھرتی رہتی ہے۔۔۔ بارہا سناکہ اس کا شوہر اسے طلاق دے رہا ہے۔۔۔ دے دی ہے۔ یادے دے گا۔۔۔

 

ملکہ کا ذِکر اب شہر بھرکا موضوع تھا۔۔۔ ہر شخص کے پاس اپنا ہی ترازو تھا۔۔۔ اور ملکہ کے گناہوں کا پلڑا۔۔۔ بلاشبہ ہر جا، بھاری تھا، دشنام، الزام، نفرتیں، حقارتیں، گالیاں، تمسخر، ہنسی، سب اس کے نام بن چکے تھے۔۔۔ کسی کو اِس کی رْسوائی سے کیا فرق پڑناتھا۔۔۔ بھائی نشئی۔ بہنییں اپنے اپنے گھرو الیاں۔۔ ماں باپ مرکھپ چکے۔۔۔ شوہر بیوی بچوں کے ساتھ مگن رہ رہا تھا۔۔۔ کس کے لیے فرق پڑنا تھا۔اسی لیے ملکہ کی موت کی خبر بھی ایسی ہی عام خبر تھی جیسے کسی غریب کی سائیکل کا ٹائر پنکچر ہو جائے۔۔۔ یا کسی بچی کی ٹافی کہیں گر جائے۔

 

مگر ایک احساسِ ندامت نے مجھے آن لیا تھا۔ ملکہ کے ذکر پہ میری آنکھوں میں نمکین پانی جھلملا اٹھتا تھا۔ شاید اوروں کے لیے کچھ نہیں بدلا تھا۔۔۔ میرے لیے پورا شہر بدل چکا تھا۔ وہ شہر جو کبھی میرا اپنا تھا کیونکہ اس میں میرے لیے ملکہ تھی۔۔۔ میری دلجوئی کا سامان۔۔۔ میرے سکھ دْکھ کو سننے، سانبھنے اور پالنے والی ملکہ۔ سائنس نے میرے لیے جنت اور دوزخ کے تصورات بدل ڈالے تھے۔۔۔ مگر خوفِ خلق کی وجہ سے میرے ذہن و دِل میں ملکہ کی جگہ دوزخ کے بھانبھڑ ہی منتظر نظر آئے۔

 

آج جب میں اِس کی قبر کی سوکھی۔۔مردہ سی مٹی کی ڈھیری کے پاس کھڑی ہوئی تو لحظہ بھر کو۔۔۔ اس کے گدگداتے جملے، چہرے پہ شرارت کی آمیزش سے بنے نقوش میری آنکھوں کے سامنے لہرا گئے۔ پتہ نہیں کون بدکردار۔۔۔ کون باکردار ہے۔ زندگی وحشیوں، قاتلوں، رہزنوں اور ظالموں پر بھی مہربان دکھائی دیتی ہے۔۔۔ مگر بدبختوں، تیرہ شبوں، ستم زدوں اور دل فگاروں پہ زندگی کی جگہ نامعلوم کیا اْترتا ہے۔۔۔ وہ پڑھ ہی نہیں پاتے اِس لکھے کو۔۔۔؟ سمجھ ہی نہیں پاتے اِشاروں کو۔۔۔ اور وقت کا گھنٹہ بج جاتا ہے۔۔۔ چلو امتحان کا وقت ختم۔جو لکھ دیا سو لکھ دیا۔!!

 

میں سوچتی رہی۔ کچھ باغی دْنیا کوتبدیل کر دیتے ہیں۔ نقشہ اور جغرافیہ بدل ڈالتے ہیں۔ ذہنوں اور زندگیوں کو مفہوم بخش دیتے ہیں۔ یہ کیسی بغاوت تھی یا اِس طرزِعمل کا کیا نام ہے؟ کیا مشرقی عورت کی بغاوت بھی صرف خود سے انتقام ہے۔۔۔ اپنی ہی بربادی کا نام ہے۔۔۔ اپنی ہی ذات، جسم اور رْوح کو روند نیکا نام؟

 

دُعا مانگتے مانگتے۔۔۔ اچانک مجھے غصہ آ گیا۔ کیا کچرا تھی زندگی؟؟ یوں Flushکر دیا، جیسے کچھ تھا ہی نہیں۔ کچھ معنویت ہی نہ ہو۔ زندگی جیسی انمول چیز۔۔۔ یوں بے رحمی سے گنوا دی۔ایک خودغرض شخص کی خاطر اور ایسی محبت کے پیچھے، جس کا اسے خود بھی یقین نہیں تھا۔

Image: Gogi Saroj Pal