Categories
نان فکشن

حسنین جمال کے نام ایک خط (اپنی شاعری کے حوالے سے)

بھائی حسنین!

آپ نے کئی بار غزلوں کا مطالبہ کیا اور میں ہربار شرمندہ ہوا کہ کیا بھیجوں؟ ایسا نہیں ہے کہ پرانے شعری مجموعے کے بعد میں نے کوئی غزل نہیں لکھی۔ ضرور لکھی ہے، مگر غزل کے تعلق سے میرا نظریہ اور یاروں نے اسے جتناسرچڑھا رکھا ہے،اس حوالے سے میری رائے تھوڑی سی اس عرصے میں بدلی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے، میں نے ایک مضمون غزل کے تعلق سے لکھا تھا، جو اردو اور ہندی دونوں جگہ شائع ہوا اور مجھے دونوں جگہ غزل کے عاشقوں سے صلواتیں بھی سننی پڑیں۔ خیر، یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ غزل اور اس کی تہذیب پر میں جب نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے اردو دنیا کے لوگوں کی کم ہمتی اور محنت سے بھاگنے کی اصل وجوہات میں غزل بھی ایک مضبوط ستون کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ میں نہیں کہتا اور نہ چاہتا ہوں کہ اردو شاعر غزل گوئی سے مایوس ہوکر اسی شعریات کے ساتھ کسی دوسری صنف کا رخ کرے۔ میں جو چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ غزل میں تجربے ہوں اور اس میں کوئی نئی راہ پیدا کی جائے۔ مگر میرے خیال سے یاروں کا کہنا ٹھیک ہی ہے کہ غزل کا مزاج تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ بھی بتاتا ہوں، پہلے دو ایک باتیں لکھ لوں۔ غزل عیش پسندوں کی یا یہ کہہ لیجیے کہ ایلیٹ کلاس میں پروان چڑھنے والی ایک صنف ہے۔ اس کا عام سماج سے، عام لوگوں سے، ان کے عام مسائل سے ، ہماری دنیاؤں میں موجود طبقاتی کشمکش سے دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ ڈھونڈنے چلیں تو آپ کو ان موضوعات پر اشعار نہیں ملیں گے، ضرور مل جائیں گے مگر جب کسی ادبی صنف کے مجموعی مزاج کے حوالے سے بات ہورہی ہو تو اس میں تخلیق ہونے والے بیشتر حصے کو سامنے رکھ کر بات کی جاتی ہے۔ پہلے میں مشاعرے سے چڑتا تھا، مجھے لگتا تھا کہ مشاعرہ باز کوئی بہت اوچھا کام کررہے ہیں، مگر یقین جانیے جب میں نے اردو کے بہترین ’غزل گو‘ حضرات کے دقیانوسی پن اور خود کو دوہرانے کے عمل کو سمجھ لیا تو مجھے مشاعرے سے بھی کوئی خاص شکایت نہیں رہی۔ مشاعرہ بہرحال ایک عوامی چیز ہے۔ کہنے دیجیے کہ سادہ الفاظ میں سطحی مضامین کو ارذل قرار دینا اور اعلیٰ یا اشرافیہ طبقے کی زبان میں انہی سطحی مضامین کو کوئی اعلیٰ قسم کا ادب سمجھنا میرے نزدیک ایک قسم کا برہمن واد ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جس نے ہمارے یہاں نظیر اکبر آبادی کو ایک عرصے تک زبان دانوں کی دنیا میں مطعون و ملعون رکھا اور کچھ آگے بڑھ کر کہوں تو رحیم،تلسی داس، کبیر، جائسی ، میرابائی ،بلہے شاہ، عبدالطیف بھٹائی، لالیشوری، حبا خاتون وغیرہ کو کبھی اردو شاعری کی روایت کا حصہ نہیں مانا۔صرف یہ ہی نہیں ، امیر خسرو کی شاعرانہ عظمت پر ان کی فارسی شاعری کے بل پر زور دیا گیا اور یہ کوشش کی گئی کہ جہاں تک ممکن ہو عوامی زبان میں ان کی شاعری سے یہ کہہ کر پلا جھاڑا جائے کہ یہ ان کا کلام ہے ہی نہیں۔ ہم روایتی ادب میں بھی اس قسم کے محلاتی ادب سے وابستہ رہے جس کا عوام سے واسطہ نہ ہو، ہمیں وہ شاعری بھاتی رہی جس نے لال قلعے یا اردوئے معلیٰ میں جنم لیا ہو اور ہم دھیرے دھیرے ان خزانوں کو دھبوں کی طرح اپنے دامن سے صاف کرتے چلے آئے جس میں دکنی، برج، اودھی، سندھی، پنجابی یاکشمیری بھاشائوں کے عناصر موجود تھے۔ اپنی بات کے ثبوت کے لیے قائم کا ایک پرانا شعر نقل کرتا ہوں۔
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
ایک بات لچر سی بہ زبان دکنی تھی

یہ جو لچر سی بات ہے، یہ کیا ہے۔ یہ مٹی سے جڑی بات ہے۔ریختہ کے جتنے مطلب لغت میں دیے گئے ہیں ، ان میں سے ایک مطلب گری پڑی شے بھی ہے۔ چنانچہ عوام سے دوری کا یہ سلسلہ ہمیں اردو کے ابتدائی نام اور ڈھنگ سے ہی پتہ چلتا ہے۔ ہم الزام دیتے ہیں انگریز کو کہ اس نے ہندو اور مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈلوانے کے لیے اردو نام کی ایک زبان ایجاد کی اور اس کے ابتدائی ناموں میں سے ایک ہندی کو ہندؤں کے مختص کردیا۔ مگر ہم غور نہیں کرتے کہ انگریز ہمارے مزاج کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھارہا تھا۔ ہم پہلے سے ہی ہر اس زبان یا بھاشا کی مخالفت پر کمر بستہ تھے، جو عوام یا خاص طور پر نچلے طبقے سے وابستہ رہی ہو۔ اسی طرح دیکھیے تو انگریز نے نظم کی ’تحریک ‘بھی اسی اشرافیہ کے ذریعے شروع کروائی جو مضامین کو پاک بنانے یا اس کے بپتسمہ کے فرض کو انجام دے سکے۔ آب حیات میں اردو شعرا کے تعصب سے پر جو واقعات نظر آتے ہیں ان میں ایک کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا، میر نے لکھنو جاتے وقت زبان غیر سے اپنی زبان بگڑنے کے ڈر سے برابر بیٹھے مسافر سے بات تک نہ کی۔ یہی تصور آج اردو میں ایک ’بہتر غزل گو اور عام آدمی‘ کے بیچ حد فاصل قائم کرتا ہے۔

شاعری صرف ادبی مضامین یا بحور و قوافی کے گیان کو پڑھ کر نہیں سیکھی جاسکتی اور اس کا تعلق کسی مخصوص طبقے یا زبان سے بھی کیسے ہوسکتا ہے؟ شاعری کو تو بسیط ہونا چاہیے، اس میں سبھی طرح کے رنگ، سبھی طرح کے لفظ اور سبھی طرح کی دنیائیں آباد ہونی چاہیے۔ مگر نزدیک سے دیکھیے تو شاعری کا یہ حلیہ ایک یوٹوپیائی دنیا میں ہی ممکن ہے۔ ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جن لوگوں نے اردو شاعری میں زبان و بیان ، علامت و استعارے کی خوبیاں بیان کیں، اس کے قواعد بنائے اور اس کی شعریات کو ترتیب دیا۔ وہ سخت قسم کے متعصب لوگ تھے۔ زیادہ دور نہ جاکر شبلی نعمانی کی مثال دے سکتا ہوں جو بقول خورشیدالاسلام اپنے مدرسے میں نچلے طبقے کے بچوں کو پیچھے کی جانب اور زمین پر بٹھایا کرتے تھے۔ سرسید اور حالی کی متعصبانہ سوچ جاننی بھی اتنی مشکل نہیں کہ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے شعری سرمایے کا سب سے بڑا گوہر غالب بھی ’وبائے عام ‘میں مرنے سے کیوں خائف تھا اور کتنا بڑا نسل پرست تھا، اس کے لیے کسی عمیق مطالعے کی ضرورت نہیں۔ نچلے طبقے کی شاعری سے ہمارے شعرا کا تعصب ویسا ہی تھا جیسا شیکسپئر اور گستاؤ فلوبیر کا یہودیوں کے تعلق سے تھا۔

غزل کے تعلق سے میں اس لیے بھی محتاط ہوگیا کہ اس نے ہمارا مزاج کئی طرح سے بدلا ہے۔ اول تو اس نے ہمیں چاہے کتنی ہی نکتہ آفرینی سکھائی ہو، کیسی ہی علامت نگاری، تشبیہ سازی کے فن سے نوازا ہو مگر غزل نے ہمیں ایک لطیفہ گو بنادیا ہے۔ ہم لوٹ گھوم کر انہی مضامین کو الٹتے پلٹتے رہتے ہیں اور خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ہم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ باہر کی دنیا بھی غزل کو پسند کرتی ہے اس میں کوئی شک نہیں، مگر جب آپ غور کریں گے تو غزل کے ’کھاتے پیتے‘ شائق آپ کو صاف دکھائی دے جائیں گے۔ ان میں زیادہ تعدادا علی ٰ اور متوسط طبقے کے ان افراد کی ہوگی ، جن کی زندگیاں ایک مستقل نوکری یا مستقل آمدنی یا باپ داد کی جائداد پر ٹکی ہوئی ہیں اور جنہیں عالم ہونے کے لیے صرف غزل کے شعروں کی پرکھ کا سہارا لینا کافی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس صنف نے ہمیں خوشامد پسند بنادیا ہے۔ غزل میں محبوبہ کی چاپلوسی کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےبلکہ اسے غزل کا مزاج ہی بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ اس لیے اس تہذیب میں پیدا ہونے والی آپسی تعریفیں بھی ایسی صفات سے بھری پڑی ہیں، جن میں کسی ادیب کی تعریف کرنی ہو تو اسے بغیر کانپے ، بنا ڈرے سب سے بڑا ادیب کہہ دیا جائے، دنیا کا عظیم عالم، اعلی ٰ ترین دانشور اور اس قسم کے خطابات کا آپس میں پھیر بدل کرکے اپنی انا کو تسکین دے لی جائے۔ اس سنسکرتی کا پربھاؤ اتنا گہرا ہے کہ جو آدمی غزل لکھ بھی نہیں رہا وہ بھی اسی سے جنم لینے والے خطابات و القاب اور اسی زمین سے پھوٹنے والی تعریف و توصیف پر اکتفا کرتا ہے۔ یعنی جب وہ خود کسی کی تعریف کرے گا تو بھرپور مبالغے سے کام لے گا اور اگر کوئی دوسرا اس کی تعریف کرے گا تب بھی وہ ’ادیب‘ یہی چاہے گا کہ اس کی تعریف بھی اسی چاپلوسانہ انداز میں کی جائے۔

بلکہ اردو میں کئی بار اس سے بھی بڑھ کر ہمارے ادیب (خواہ پرانے ہوں یا نئے) اپنی بھرپور تعریف کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ خودستائی ایک فن ہے۔ ایسا فن،جس کے لیے اعلیٰ درجے کی لاعلمی اور معصومیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ادیب کا اپنے یا کسی دوسرے شخص کے لیے یہ کہنا کہ وہ انتہائی درجے کا ادب تخلیق کرچکا ہے یا اس کے مقابلے کا کوئی اور تو دور کی بات ہے، اس کا پاسنگ بھی ڈھونڈے سے نہ ملے گا، تبھی ممکن ہے جب تعریف کرنے والے کی نظر کوتاہ ہو یا پھربرسوں سے اس کی زبان کو ایک خاص قسم کے درباری مزاج میں ڈھالا گیا ہو۔ اور اردو کے معاملے میں موخرالذکر بات مجھے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

میری غزل سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں اردو غزل کہنے والے ہم عصروں میں ادریس بابر ، ذوالفقار عادل وغیرہ کو بہت پسند کرتا ہوں۔ یہ دونوں ہی(خاص طور پر ادریس بابر)غزل کی زبان کو اس طرح پیمپر نہیں کرتے، جیسا کہ ہمارے ادیبوں کا وتیرہ رہا ہے۔ حال ہی میں، میں نے دیکھا کہ ادریس نے ایک غزل وائرل ہوجانے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے لکھی، انہوں نے کورونا وائرس کو بھی موضوع بنایا۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ تو موضوعاتی ادب ہوگیا اور موضوعاتی ادب زندہ نہیں رہتا۔ مگر یہ باتیں بھی اسی مزاج کی پروردہ ہیں جس نے غزل کو موضوع سے آزاد ، ہر شعر میں ایک علیحدہ بات، کبھی ہنسی ٹھٹھول تو کبھی پینٹ گیلی کردینے والے موضوعات تک سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ، ایک سچی بات ہے کہ غزل کے حوالے سے میری ایک دوست نے کہا کہ اس صنف کے شاعرکاموڈ جس تیزی سے سوئنگ ہوتا ہے، اتنا تو کبھی میرا پیریڈز کے دوران بھی نہیں ہوا۔ بہرحال ادریس کو پسند کرنے کی وجہ کلیشے مضامین سے ان کی بغاوت بلکہ ایک قسم کی نفرت ہے۔ زبان کو بھی اسی مٹی سے لے رہے ہیں جہاں وہ جیتے ہیں، ان کے یہاں تصنع اور ریاکاری نہیں ہے اور وہ استاد بننے کے زعم سے باہر آکر ایک ایسی کوشش کررہے ہیں، جس میں غزل کی باگیں موڑ کر اسے محل سے اتار کر سڑک پر لایا جاسکے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ان کی شاعری پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ بہت سے لوگ انہیں ایک بگڑیل اور ٹھٹھول گو قسم کا شاعر سمجھتے ہیں۔ خود ادریس کے یہاں عشرے کی جس صنف نے جنم لیا ہے، وہ غزل کے معاملے میں ان کی بے اطمینانی اور غیر سکون بخش طبیعت کا پتہ دیتی ہے۔ پھر بھی میرا ماننا ہے کہ اگلی پانچ دہائیوں میں اگر ادریس بابر جیسےتین چار شاعر بھی اردو غزل نے پیدا کردیے تو یہ تعجب کی بات ہوگی، سچ مانیے تو میرے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ غزل نے اپنی راہ، عوامی لیگ سے الگ بنائی ہے اور وہ اسی ڈھرے پر آگے بھی چلتی رہے گی، اسی طرح مقبول رہے گی اور اسی طرح پڑھی سنی جائے گی۔

چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صنف میں بڑی یا اچھی چھوڑ دیجیے، بہت حد تک شاعری ہی ممکن نہیں ہے۔ میں غزل لکھتا ہوں، ضرور لکھتا ہوں۔ مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ صرف غزل ہی نہیں، غزل گو شاعر کی نظم بھی اردو والوں کے یہاں کوئی اہم کارنامہ نہیں ہوسکتی۔ میرے خیال میں ٹھیک ٹھاک نظمیں لکھنا اردو کے ان ہی شاعروں کے لیے ممکن ہوگا جو پہلے سے غزل نہ کہتے ہوں یا غزل کے مزاج کو سمجھ کر اسے بہت پہلے ہی چھوڑ چکے ہوں یا انہوں نے غزل لکھتے ہوئے بھی اس کے مقابلے اپنی نظم کو ہمیشہ زیادہ اہمیت دی ہو۔اسی لیے میں اردو شاعری سے تقریباً کنارہ کش ہوکر فکشن کی دنیا کی طرف توجہ کرتا ہوں کہ وہاں مجھے زیادہ روشنی اور امکانات نظر آتے ہیں۔ الٹا لٹک کر کرتب دکھانے والوں کی دنیا میں رہتے رہتے جس طرح ہم اپنے پیروں پر چلتے ہوئے کسی شخص کو دیکھ کر چونک پڑتے ہیں، اسی طرح فکشن کی دنیا نے مجھ پر حیرت کے کئی دروازے کھولے ہیں۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو میں خود کو غزل کے مطالعے سے بچاتا ہوں، مشاعروں یا نشستوں میں سال میں دو یا تین بار سے زیادہ شرکت نہیں کرتا۔میں چاہتا ہوں کہ دنیا کی دوسری زبانوں کا ادب بھی پڑھ سکوں، جان سکوں۔خاص طور پر ایسی زبانیں، جن کے یہاں ردیف و قافیے کی پابندی ، بحر کی قید کے مقابلے میں سیدھے سبھاؤ لکھا گیا ادب پڑھنے کو مل سکے۔ اب تو خیر اردو غزل کی شہرت ہندی، پنجابی، مراٹھی اور دوسری زبانوں تک بھی پہنچ گئی ہے اور ان کے یہاں باقاعدہ مشاعرے بھی ہوتے ہیں، شاعروں کے دواوین بھی چھپتے ہیں۔ اس کھیل میں دلچسپ یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ زبانیں غزل کے مزاج کو تبدیل کرتی ہیں یا غزل ان کے تخلیقی ادب کے مزاج پر کوئی گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے۔ مگر یہ بات اب سے قریب پچاس، ساٹھ سال بعد ہی بتائی جاسکے گی۔

اس لیے جب کوئی دوست مجھ سے غزلیں مانگتا ہے تو میں اکثر کنی کاٹتا ہوں۔ مگر دوست تو دوست ہیں! ان کی وجہ سے کبھی کبھار شعر بھی سنانے پڑجاتے ہیں اور غزل کا مجموعہ بھی انہی کی بدولت شائع ہوجاتا ہے، اور اس پر کچھ گفتگو بھی ہوجاتی ہے، مگر سچ پوچھیے تو اس میدان سے میری دلچسپی اب قریب قریب ختم ہی ہوچکی ہے۔ ہاں اردو میں لکھی ہوئی ایسی کوئی چیز مجھے ضرور اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو غزل کے اثر سے باہر ہو، پھر چاہے وہ فکشن ہو، نان فکشن ہو یا کوئی نظم۔

Categories
شاعری

آج کا گیت: وہی آبلے ہیں وہی جلن (شکیل بدایونی، شفقت سلامت علی خان)

اس سلسلے میں شامل مزید گیت سننے کے لیے کلک کریں۔

وہی آبلے ہیں وہی جلن کوئی سوزِ دل میں کمی نہیں
جولگا کے آگ گئے تھے تم وہ لگی ہوئی ہے بجھی نہیں

تیری یاد ایسی ہے باوفا پسِ مرگ بھی نہ ہوئی جدا
تیری یاد میں ہم مٹ گئے تیری یاد دل سے مٹی نہیں

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کیجیے۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: کتھئی آنکھیں (راحت اندوری، علی آفتاب سعید)

شاعر: راحت اندوری
گلوکار: علی آفتاب سعید
موسیقی: علی آفتاب سعید

اس سلسلے میں شامل مزید گیت سننے کے لیے کلک کریں۔

اس کی کتھئی آنکھوں میں ہیں جنتر منتر سب
چاقو واقو، چھریاں وُریاں، خنجر ونجر سب

جس دن سے تم روٹھے مجھ سے، روٹھے روٹھے ہیں
چادر وادر، تکیہ وکیہ، بستر وِستر سب

مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی کہاں اب پہلے جیسی ہے
پھیکے پڑ گئے کپڑے وپڑے، زیور ویور سب

آخر کس دن ڈوبوں گا میں، فکریں کرتے ہیں
دریا وریا، کشتی وشتی، لنگر ونگر سب

Categories
شاعری

آج کا گیت: آ کہ تجھ بن اس طرح (جگر مراد آبادی، مجدد نیازی)

اس سلسلے میں شامل مزید گیت سننے کے لیے کلک کریں۔

آ کے تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں

ہائے ری مجبوریاں ترک محبت کے لیے
مجھ کو سمجھاتے ہیں لوگ اور تجھ کو سمجھاتا ہوں میں

تیری محفل تیرے جلوے، پھر تقاضا کیا ضرور
لے اٹھا جاتا ہوں ظالم لے چلا جاتا ہوں میں

ایک دل ہے اور طوفان حوادث ہے جگر
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: اول اول کی دوستی ہے ابھی (احمد فراز، استاد معین خان اور چھایا گنگولی)

کلام: احمد فراز
گلوکار: استاد معین خان، چھایا گنگولی
دھن: مظفر علی سید

اول اول کی دوستی ہے ابھی
اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی

میں بھی شہر وفا میں نووارد
وہ بھی رُک رُک کے چل رہی ہے ابھی

میں بھی ایسا کہاں کا زود شناس
وہ بھی لگتا ہے سوچتی ہے ابھی

دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ
پھر بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی

گرچہ پہلے سا اجتناب نہیں
پھر بھی کم کم سپردگی ہے ابھی

کیسا موسم ہے کچھ نہیں کھُلتا
بوندا باندی ہے دھوپ بھی ہے ابھی

اس غزل کو ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: مجھے تلاش نہ کر (اسد امانت علی خان)

مجھے تلاش نہ کر مضمحل کناروں میں
میں زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ تُند دھاروں میں

میرے سبب سے ہے موسم کا یہ رسیلا پن
پرندے میرے چہکتے ہیں شاخساروں میں

اگر ذرا سا بھی تیرہ شبی کا خدشہ ہو
میں بانٹ دیتا ہوں خود کو گھنے ستاروں میں

وہ آدمی نہیں بازار ہے روابط کا
وہ خود کو بیچتا پھرتا ہے اپنے یاروں میں

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کیجیے۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: اک خلش کو (ادیب سہارنپوری، مہدی حسن)

اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیا
جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا

کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے
عشق نے لیکن ہمیں بے خانماں رہنے دیا

اپنے اپنے حوصلے اپنی طلب کی بات ہے
چن لیا ہم نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم (اقبال بانو)

زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم
ایک دن یہ قلزمِ خوں پار کر جائیں گے ہم

یونہی ہر آہٹ پہ گر دیوارِ دل گرتی رہی
دیکھتے رہنا یہی ہوتا رہا تو مر جائیں گے ہم

صاحبو کیا خاک اڑتی ہے سرِ کوئے حیات
عمر کا دامن تو پھر مٹی سے بھر جائیں گے ہم

کوئے بربادی سے آگے دھیان کے سو موڑ ہیں
ہم بھی کہتے تھے کہ لوٹیں گے تو گھر جائیں گے ہم

شاخ سے وابستگی کب تک کہ در پہ ہے صبا
ایک پل لرزیں گے ٹوٹیں گے بکھر جائیں گے ہم

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: آج تجھے کیوں چُپ سی لگی ہے (ناصر کاظمی، اسد امانت علی خان)

آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے

آج تو جیسے ساری دنیا
ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے

خیر تجھے تو جانا ہی تھا
جان بھی تیرے ساتھ چلی ہے

اب تو آنکھ لگا لے ناصرؔ
دیکھ تو کتنی رات گئی ہے

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: بنا گلاب تو (کلام: عبیداللہ علیم، آواز: رونا لیلیٰ)

کلام: عبیداللہ علیم
آواز: رونا لیلیٰ

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص

تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے
فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص

میں کس ہوا میں اڑوں کس فضا میں لہراؤں
دکھوں کے جال ہر اک سو بچھا گیا اک شخص

محبتیں بھی عجب اس کی نفرتیں بھی کمال
مری ہی طرح کا مجھ میں سما گیا اک شخص

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں (اعجاز حسین حضروی)

سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں
کہ تیری زلف کا سایہ شجر شجر دیکھوں

خدا کرے کہ تیرے حسن کو زوال نہ ہو
میں چاہتا ہوں تجھے یونہی عمر بھر دیکھوں

کوئی طلب نہ ہو دل میں تیری طلب کے سوا
یہ ہی بہت ہے دعا کا یہی اثر دیکھوں

نجانے کتنی مسافت پہ وہ مقام آئے
جدھر نگاہ اٹھے تجھ کو جلوہ گر دیکھوں

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے (اقبال بانو)

کلام: محمد ابراہیم ذوق
آواز: اقبال بانو

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے

جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔ
اپنی بلا سے باد صبا اب کبھی چلے

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بتاں رہے (مہدی حسن)

خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بُتاں رہے
کس طرح ایک دل میں غم دو جہاں رہے

غُربت میں تیری یاد سہارا بنی رہے
تیرا خیال ساتھ رہا ہم جہاں رہے

ہم کو تیرے حضور سبھی کچھ قبول تھا
مجبور بھی رہے تو بہت شادماں رہے

جی بھر کے ہم نے لطفِ ستم تو اٹھا لیا
نامہرباں رہے تو بڑے مہرباں رہے

کب ہم کو امتیازِ فراق و وصال تھا
کیا جانیے کہ آپ کہاں ہم کہاں رہے

Categories
نان فکشن

اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظر نامہ

(دوسری قسط)
اکیسویں صدی کی غزل کا اگر اجتماعی سطح پر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس معاصر منظر نامے میں جو نمایاں لوگ نظر آتے ہیں ان کے ہاں معاصر زندگی کے ذاتی تجربات و انکشافات کی تخلیقی شکل مختلف اسلوبیات کے ساتھ اور مختلف تہذیبی رنگوں کی آمیزش کے ساتھ واضح ہوتی ہے۔ مابعدجدید عہد کا عطا کردہ فشار و اضطراب اور احساسِ محرومی تخلیقی عمل پر اتنی شدت سے اثر انداز ہوتا ہے کہ بعض اوقات کسی تخلیق کار کی اپنی انفرادیت بھی داؤ پر لگتی محسوس ہوتی ہے۔
مابعدجدید عہد کا عطا کردہ فشار و اضطراب اور احساسِ محرومی تخلیقی عمل پر اتنی شدت سے اثر انداز ہوتا ہے کہ بعض اوقات کسی تخلیق کار کی اپنی انفرادیت بھی داؤ پر لگتی محسوس ہوتی ہے

 

مقامی تہذیبی استعارے، استفہام، کرب، وجودی مسائل، تشکیک، لسانی اجتہاد، تجریدی ابہام، رومان اورسریت کے امتزاج سے طلسماتی ٖفضا بندی، مابعدالطبیعاتی انفعالیت، بے معنویت، لا یعنیت، اجنبیت، جنسی ناآسودگی، اجتماعی لاشعور میں برپا نفسیاتی کشمکش جیسے عوامل اکیسویں صدی کی غزل کے منظر نامے کی ابتدائی تصویر مرتب کرتے ہیں۔

 

صنعتی شہری منظر نامے کی تہذیبی، معاشرتی، ثقافتی اور انفرادی زوال خوردگی کا اظہار جہاں اکیسویں صدی کی غزل کے ایسے آہنگ کی آبیاری کرتا ہے جو اپنے ماقبل بیانیے سے کہیں بغاوت کا اظہار کرتا ہے وہیں وہ لا یعنیت کی گرد میں انسانی تخلیقی نشاط کے اپنے تخلیق کردہ رستوں کی دریافت کو ضروری سمجھتا نظر آتا ہے ۔ آج کا شاعر زندگی کو ایسے تماشائی کی نگاہ سے دیکھنے پر کبھی کبھار راغب دکھتا ہے جو خود اپنے آپ کو تماشے کا حصہ بنا لیتا ہے۔
بقول نظام صدیقی

 

” مابعد جدید غزلیہ شاعری نئے عالمی اور قومی تناظر میں بین الاقوامی سامراجی تہذیب اور قومی فسطائیت کے نفسیاتی، اخلاقی، عمرانی اور ثقافتی مظاہر کے آکٹو پسی گرفت میں آج کے آدمی اور زندگی کے پھڑپھڑانے کے باوجود بھی بہرِ نوع جشنِ زندگی اور جشنِ تخلیقیت کا نگارخانہ رقصاں ہے جس میں ‘دو شیزہء امکان’ کے خمیازہ کی ادائیگی کے لیے آج بھی کلاسیکیت کی ‘رقاصہء دیروز’ بے پیرہن آتی ہے”۔
اس روایت میں چند لوگ ایسے ہیں جن کے لحن اور تخلیقی اظہاریے کی مختلف جہات سے اسلوبیاتی اور موضوعاتی سطح پر نئے رجحانات برآمد ہوئے ہیں اور ان رجحانات کی گونج بعد میں آنے والی غزل کی آوازوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

 

معاصر غزل اور بالخصوص اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی منظر نامہ پیش کرنے سے پہلے عمومی روایت جو کہ سترہویں صدی سے چلی آ رہی ہے اس کا عمومی تذکرہ کرنے کی بجائے میں آج کی غزل کو بیسویں صدی کی 60 کی دہائی کے بعد کی غزل کی رویت کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔ اس روایت میں چند لوگ ایسے ہیں جن کے لحن اور تخلیقی اظہاریے کی مختلف جہات سے اسلوبیاتی اور موضوعاتی سطح پر نئے رجحانات برآمد ہوئے ہیں اور ان رجحانات کی گونج بعد میں آنے والی غزل کی آوازوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ سو جب ہم موجودہ غزل کو اس تناظر میں دیکھتے ہیں تو چند نام ایسے ہیں جن کے اثرات ہماری نئی غزل نے اپنے اندر نفوذ کیے ہیں ان میں ناصر کاظمی، شکیب جلالی، ظفر اقبال، ثروت حسین، احمد مشتاق اور عرفان صدیقی کے علاوہ چند دیگر نام قابلِ ذکر ہیں۔
(جاری ہے)
Categories
شاعری

غزل کہاں تھی؟

[vc_row][vc_column width=”1/6″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

[soundcloud url=”https://api.soundcloud.com/tracks/229549059″ params=”auto_play=true&hide_related=false&show_comments=true&show_user=true&show_reposts=false&visual=true” width=”100%” height=”300″ iframe=”true” /]
[/vc_column_text][vc_column_text]

بلیو فلموں کی افسوس ناک
گیلی روشنیوں میں
حقیقتوں کے سوا سب کچھ کھل گیا تھا
اس غیر صوفیانہ مجلس میں بھی
ایک خدا کیمرے کے پیچھے
اور ایک آگے کھڑا تھا
آدمی اصل میں اداکارہ تھی
سب سے مہنگی گھٹیا
وقت، کچھ نہ ہو تو سکڑا رہے
اور کچھ ہوجاۓ تو لمبا اور بڑا ہے
اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے
روشنی گیلی ہو کر
میرے آنکھوں میں جم سکتی ہے
میری آنکھیں نکال کر پھینک دو
کتے کے بچوں کو
میں ان کا شکر گزار ہوں
دھڑ دھڑ دھڑام ہوں
دو کلک کا غلام ہوں
اور جب سب کچھ ہو چکا ہے
تو میں پوچھنا چاہتا ہوں
غزل کہاں تھی؟
غزل تو وینٹیلیٹر پر لگی ہوئی تھی

 

میں اپنی مورتی چوم کر
اپنی تسبیح کر رہا ہوں
بھگوان کے لیے
میرے خدا کو چھوڑ دو میرے اندر
ورنہ خدا کے لیے
میں تمہاری دو روپے کی ایک
نروانی آنکھیں نوچ لوں گا
میں نوچنے والا درندہ ہوں
تم نے میری آنکھیں نہیں دیکھیں؟
میں نے اپنی بینائی کے ہاتھ کاٹ دیے
سالی، چور نکلی تھی بلاخر
ہاں تم بھی پھرو مصلوب بازاروں میں
سستے آلو ڈھونڈو
سبزی والا اصول معیشت کی
نماز پڑھ کر، منہ پر نور مل کر
نحوس نظروں سے
اپنے نادر خدا کی ہڈیاں بیچ رہا ہے
بیکری میں کچھ غلامیاں سجی ہوئی ہیں
اپنے موسیٰ کے انتظار میں
گھر میں ٹی وی میں بھی
کچھ غلامیاں ناچ رہی تھیں
میں ٹی وی کے آگے بے ڈھنگا تھرک کر
ٹی وی کو سجدہ ٹھونک کر سو جاتا ہوں
وہ دیکھو سڑک پر ہر جگہ مائیں
دھوپ میں سڑی کالی جعلی
اپنے بچوں کو خود سے ادھیڑ کر
معاشرے کے کوڑے دان میں ڈال رہی ہیں
میں ان کے پیر چومتا ہوں
اسی منہ سے جس سے
صبح اپنی مورتی چومتا ہوں
میں ہر ایک چیز میں اسکا مطلوب خدا
پھونک سکتا ہوں
میں کتنے ہی عیسیٰ
ڈکار بیٹھا ہوں
مگر سوال یہ ہے کہ سارا دن
غزل کہاں تھی؟
غزل تو وینٹیلیٹر پر لگی ہوئی ہے

 

میں اپنا مرا ہوا باپ
اور اس کا زندہ جسم
انتیس سال تک گھسیٹ کر لایا ہوں
آگے بھی لےجاؤں گا
خبردار میری مدد نہ کرنا
اس کو بیچ کر منافع ملے گا مجھے
میں اپنے باپ کی لاش بانٹ نہیں سکتا
تمہیں اپنے بچپن میں جا کر
اپنا باپ مارنا پڑے گا
یا دیکھو میرے باپ کی قیمتی لاش
جسے کھا کھا کر میں بڑا ہوا ہوں
اسی کو پہن کر میں سردیوں میں
جم کر کئی دفعہ
مر چکا ہوں
وہ تو بھلا ہو میرے سینے کا
جو مریم بن گیا
دھڑ دھڑ دھڑام
عیسیٰ اوپر عیسیٰ جن گیا
ورنہ میرے باپ نے مر کر
مجھے یک بعد دیگرے
مارنے میں کسر تو نہیں چھوڑی تھی
مگر تم پیٹو تالیاں
اور میں ان تالیوں سے پوچھتا ہوں
غزل کہاں تھی؟
غزل جھوٹ بول رہی تھی
جمالیاتی جھوٹ

 

یہ جو لکھ رہے ہیں نا آج کل غزلیں
یہ سچ چھپانے میں لگے ہوئے ہیں
غزل کا پاؤں پھسل گیا تھا
وہ مردہ دماغ زندہ دل
وینٹیلیٹر پر لگی ہوئی ہے
اس کا شاعر موضوعات کو پھینٹ کر
مرہم لگا رہا ہے
جھوٹ بول رہا
غزل مر گئی ہے
میرے خداؤں کی طرح
میرے باپ کی طرح
غزل مر گئی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/6″]
[/vc_column][/vc_row]