Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر، عزیر احمد خان وارثی قوال اور ہمنوا)

کلام: میر تقی میر
قوال: اُستاد عزیز احمد خاں وارثی و ہم نوا

فقیرانہ آئے صدا کر چلے
کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حق بندگی ہم ادا کر چلے

پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے

کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے

یہ قوالی ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
شاعری

آج کا گیت: آ کہ تجھ بن اس طرح (جگر مراد آبادی، مجدد نیازی)

اس سلسلے میں شامل مزید گیت سننے کے لیے کلک کریں۔

آ کے تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں

ہائے ری مجبوریاں ترک محبت کے لیے
مجھ کو سمجھاتے ہیں لوگ اور تجھ کو سمجھاتا ہوں میں

تیری محفل تیرے جلوے، پھر تقاضا کیا ضرور
لے اٹھا جاتا ہوں ظالم لے چلا جاتا ہوں میں

ایک دل ہے اور طوفان حوادث ہے جگر
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: مجھے تلاش نہ کر (اسد امانت علی خان)

مجھے تلاش نہ کر مضمحل کناروں میں
میں زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ تُند دھاروں میں

میرے سبب سے ہے موسم کا یہ رسیلا پن
پرندے میرے چہکتے ہیں شاخساروں میں

اگر ذرا سا بھی تیرہ شبی کا خدشہ ہو
میں بانٹ دیتا ہوں خود کو گھنے ستاروں میں

وہ آدمی نہیں بازار ہے روابط کا
وہ خود کو بیچتا پھرتا ہے اپنے یاروں میں

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کیجیے۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: کون اس راہ سے گزرتا ہے (ناصر کاظمی، مہدی حسن)

کون اس راہ سے گزرتا ہے
دل یوں ہی انتظار کرتا ہے

دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے
دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے

شہر گل میں کٹی ہے ساری رات
دیکھیے دن کہاں گزرتا ہے

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم (اقبال بانو)

زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم
ایک دن یہ قلزمِ خوں پار کر جائیں گے ہم

یونہی ہر آہٹ پہ گر دیوارِ دل گرتی رہی
دیکھتے رہنا یہی ہوتا رہا تو مر جائیں گے ہم

صاحبو کیا خاک اڑتی ہے سرِ کوئے حیات
عمر کا دامن تو پھر مٹی سے بھر جائیں گے ہم

کوئے بربادی سے آگے دھیان کے سو موڑ ہیں
ہم بھی کہتے تھے کہ لوٹیں گے تو گھر جائیں گے ہم

شاخ سے وابستگی کب تک کہ در پہ ہے صبا
ایک پل لرزیں گے ٹوٹیں گے بکھر جائیں گے ہم

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں (اعجاز حسین حضروی)

سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں
کہ تیری زلف کا سایہ شجر شجر دیکھوں

خدا کرے کہ تیرے حسن کو زوال نہ ہو
میں چاہتا ہوں تجھے یونہی عمر بھر دیکھوں

کوئی طلب نہ ہو دل میں تیری طلب کے سوا
یہ ہی بہت ہے دعا کا یہی اثر دیکھوں

نجانے کتنی مسافت پہ وہ مقام آئے
جدھر نگاہ اٹھے تجھ کو جلوہ گر دیکھوں