آج کا گیت: آ کہ تجھ بن اس طرح (جگر مراد آبادی، مجدد نیازی)

آ کے تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
آج کا گیت: اول اول کی دوستی ہے ابھی (احمد فراز، استاد معین خان اور چھایا گنگولی)

کلام: احمد فراز گلوکار: استاد معین خان، چھایا گنگولی دھن: مظفر علی سید اول اول کی دوستی ہے ابھی اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی میں بھی شہر وفا میں نووارد وہ بھی رُک رُک کے چل رہی ہے ابھی میں بھی ایسا کہاں کا زود شناس وہ بھی لگتا ہے سوچتی ہے […]
آج کا گیت: مجھے تلاش نہ کر (اسد امانت علی خان)

مجھے تلاش نہ کر مضمحل کناروں میں میں زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ تُند دھاروں میں میرے سبب سے ہے موسم کا یہ رسیلا پن پرندے میرے چہکتے ہیں شاخساروں میں اگر ذرا سا بھی تیرہ شبی کا خدشہ ہو میں بانٹ دیتا ہوں خود کو گھنے ستاروں میں وہ آدمی نہیں بازار ہے روابط کا […]
آج کا گیت: اک خلش کو (ادیب سہارنپوری، مہدی حسن)

اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیا جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے عشق نے لیکن ہمیں بے خانماں رہنے دیا اپنے اپنے حوصلے اپنی طلب کی بات ہے چن لیا ہم نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے […]
آج کا گیت: زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم (اقبال بانو)

زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم ایک دن یہ قلزمِ خوں پار کر جائیں گے ہم یونہی ہر آہٹ پہ گر دیوارِ دل گرتی رہی دیکھتے رہنا یہی ہوتا رہا تو مر جائیں گے ہم صاحبو کیا خاک اڑتی ہے سرِ کوئے حیات عمر کا دامن تو پھر مٹی سے بھر […]
آج کا گیت: بنا گلاب تو (کلام: عبیداللہ علیم، آواز: رونا لیلیٰ)

کلام: عبیداللہ علیم آواز: رونا لیلیٰ بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص میں کس ہوا میں اڑوں کس فضا میں لہراؤں دکھوں کے جال ہر اک سو بچھا گیا […]
آج کا گیت: سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں (اعجاز حسین حضروی)
سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں کہ تیری زلف کا سایہ شجر شجر دیکھوں خدا کرے کہ تیرے حسن کو زوال نہ ہو میں چاہتا ہوں تجھے یونہی عمر بھر دیکھوں کوئی طلب نہ ہو دل میں تیری طلب کے سوا یہ ہی بہت ہے دعا کا یہی اثر دیکھوں نجانے کتنی مسافت […]
آج کا گیت: خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بتاں رہے (مہدی حسن)
خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بُتاں رہے کس طرح ایک دل میں غم دو جہاں رہے غُربت میں تیری یاد سہارا بنی رہے تیرا خیال ساتھ رہا ہم جہاں رہے ہم کو تیرے حضور سبھی کچھ قبول تھا مجبور بھی رہے تو بہت شادماں رہے جی بھر کے ہم نے لطفِ ستم تو اٹھا لیا […]
(غزل — (ظفر خان

ہمیں دیوار و در کا خوف ورثے میں ملا ہے
ہے کوئی زخم شاید اسکی پیشانی کا تعویذ
مرا مرکب ندی میں چلتے چلتے جھانکتا ہے