Categories
شاعری

آج کا گیت: آ کہ تجھ بن اس طرح (جگر مراد آبادی، مجدد نیازی)

اس سلسلے میں شامل مزید گیت سننے کے لیے کلک کریں۔

آ کے تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں

ہائے ری مجبوریاں ترک محبت کے لیے
مجھ کو سمجھاتے ہیں لوگ اور تجھ کو سمجھاتا ہوں میں

تیری محفل تیرے جلوے، پھر تقاضا کیا ضرور
لے اٹھا جاتا ہوں ظالم لے چلا جاتا ہوں میں

ایک دل ہے اور طوفان حوادث ہے جگر
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: اول اول کی دوستی ہے ابھی (احمد فراز، استاد معین خان اور چھایا گنگولی)

کلام: احمد فراز
گلوکار: استاد معین خان، چھایا گنگولی
دھن: مظفر علی سید

اول اول کی دوستی ہے ابھی
اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی

میں بھی شہر وفا میں نووارد
وہ بھی رُک رُک کے چل رہی ہے ابھی

میں بھی ایسا کہاں کا زود شناس
وہ بھی لگتا ہے سوچتی ہے ابھی

دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ
پھر بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی

گرچہ پہلے سا اجتناب نہیں
پھر بھی کم کم سپردگی ہے ابھی

کیسا موسم ہے کچھ نہیں کھُلتا
بوندا باندی ہے دھوپ بھی ہے ابھی

اس غزل کو ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: مجھے تلاش نہ کر (اسد امانت علی خان)

مجھے تلاش نہ کر مضمحل کناروں میں
میں زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ تُند دھاروں میں

میرے سبب سے ہے موسم کا یہ رسیلا پن
پرندے میرے چہکتے ہیں شاخساروں میں

اگر ذرا سا بھی تیرہ شبی کا خدشہ ہو
میں بانٹ دیتا ہوں خود کو گھنے ستاروں میں

وہ آدمی نہیں بازار ہے روابط کا
وہ خود کو بیچتا پھرتا ہے اپنے یاروں میں

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کیجیے۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: اک خلش کو (ادیب سہارنپوری، مہدی حسن)

اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیا
جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا

کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے
عشق نے لیکن ہمیں بے خانماں رہنے دیا

اپنے اپنے حوصلے اپنی طلب کی بات ہے
چن لیا ہم نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم (اقبال بانو)

زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم
ایک دن یہ قلزمِ خوں پار کر جائیں گے ہم

یونہی ہر آہٹ پہ گر دیوارِ دل گرتی رہی
دیکھتے رہنا یہی ہوتا رہا تو مر جائیں گے ہم

صاحبو کیا خاک اڑتی ہے سرِ کوئے حیات
عمر کا دامن تو پھر مٹی سے بھر جائیں گے ہم

کوئے بربادی سے آگے دھیان کے سو موڑ ہیں
ہم بھی کہتے تھے کہ لوٹیں گے تو گھر جائیں گے ہم

شاخ سے وابستگی کب تک کہ در پہ ہے صبا
ایک پل لرزیں گے ٹوٹیں گے بکھر جائیں گے ہم

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: بنا گلاب تو (کلام: عبیداللہ علیم، آواز: رونا لیلیٰ)

کلام: عبیداللہ علیم
آواز: رونا لیلیٰ

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص

تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے
فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص

میں کس ہوا میں اڑوں کس فضا میں لہراؤں
دکھوں کے جال ہر اک سو بچھا گیا اک شخص

محبتیں بھی عجب اس کی نفرتیں بھی کمال
مری ہی طرح کا مجھ میں سما گیا اک شخص

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں (اعجاز حسین حضروی)

سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں
کہ تیری زلف کا سایہ شجر شجر دیکھوں

خدا کرے کہ تیرے حسن کو زوال نہ ہو
میں چاہتا ہوں تجھے یونہی عمر بھر دیکھوں

کوئی طلب نہ ہو دل میں تیری طلب کے سوا
یہ ہی بہت ہے دعا کا یہی اثر دیکھوں

نجانے کتنی مسافت پہ وہ مقام آئے
جدھر نگاہ اٹھے تجھ کو جلوہ گر دیکھوں

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بتاں رہے (مہدی حسن)

خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بُتاں رہے
کس طرح ایک دل میں غم دو جہاں رہے

غُربت میں تیری یاد سہارا بنی رہے
تیرا خیال ساتھ رہا ہم جہاں رہے

ہم کو تیرے حضور سبھی کچھ قبول تھا
مجبور بھی رہے تو بہت شادماں رہے

جی بھر کے ہم نے لطفِ ستم تو اٹھا لیا
نامہرباں رہے تو بڑے مہرباں رہے

کب ہم کو امتیازِ فراق و وصال تھا
کیا جانیے کہ آپ کہاں ہم کہاں رہے

Categories
شاعری

(غزل – (ظفر خان

ghazal-zafar-khanیہ عالم اپنی تنہائی کی ہیبت سے بھرا ہے

ہمیں دیوار و در کا خوف ورثے میں ملا ہے

ہے کوئی زخم شاید اسکی پیشانی کا تعویذ

مرا مرکب ندی میں چلتے چلتے جھانکتا ہے

وہ مدھم روشنی ہے پھر حویلی کے کھنڈر میں

اور اسکی اوٹ سے کوئی پرندہ کوکتا ہے

توانائی ہے ان ہاتھوں میں حرفِ نارسا کی

لہو کی روشنائی سے قلم چلنے لگا ہے

یہ آئینہ چمک اُٹھے گا یکسر چُور ہو کر

اندھیرا جس کے سربستہ تبسم میں کٹا ہے

جو دریا راستہ تبدیل کرنا چاہتا تھا

سمندر ہے کہیں ساحل کے پہلو میں بچھا ہے

سفر ہے نیلگوں پانی میں گہرائی کی جانب

مرے حصے کا ساحل میری مُٹّھی میں دبا ہے

(Published in The Laaltain – Issue 7)