Categories
نان فکشن

اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظرنامہ

قسط اول
اکیسویں صدی کی شاعری کا منظر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو شاعری کی نئی کھیپ کسی مخصوص فکر۔ تحریک یا نظریے کی پابند نظر نہیں آتی ہے۔ وہ اپنے تمام تر نطری و فکری بیانیے میں مکمل آزادی کی ظرف پیش قدمی کرتی نظر آتی ہے اور یہی آزادی وہ اپنے صوتی و فکری آہنگ کو بھی دینے کی قائل نظر آتی ہے۔آج کے شاعر نے اپنے بدن سے روایتی، گھسی پٹی کلیشے زدہ معاشرتی ، سیسی، نظریاتی، اور فکری پابندیوں کی ردا اتار پھینکی ہے۔ وہ موجودہ عہد سے اپنی فظری بالیدگی کے ساتھ سنجیدگی سے مکالمہ آراءہے۔ یہ مکالمہ کہیں اسے نفسیاتی کشمکش میں مبتلا کرتا اور کہیں اسے بے معنویت اور تہذیبی مغائرت کی دیواروں سے سر ٹکرانے پر اکساتا ہے۔آج کا شاعر اپنے اندر دبی ہوئی ان تمام چیخوں کو آواز دینا چاہتا ہے جنہیں کبھی قومیت کے نام پر، کبھی مذاہب کے نام پر، کبھی نطریاتی فریم ورک کے نام پر اور کبھی مفادات اور مصلحت کے نام پر دبایا جاتا رہا ہے۔
اکیسویں صدی کی شاعری کا منطر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔
آج کے شاعر کے پاس بہت سے سوالات ہیں ان سوالات کی کوکھ سے جنم لیتا اضطراب اور بے چینی ہے شکستگی کا اظہار ہے ۔سماجی، فکری اور جنسی تفاوت کی فضا میں تصادم آمیز اظہاریہ سے احتجاج کا شعلہ بر آمد ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ اس شعلے سے آج کی غزل سے برآمد ہوتے ہوئے معنیاتی کینوس پر معروف معانی سے غیر معروف یا غیر مانوس معانی کی بر آمدگی اپنی جگہ پر ایک الگ اکتشافی عمل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اپنے سے ما قبل بیانیے سے مختلف ہونااس کے لیے ایک ضروری عمل کے طور پر سامنے آیا ہے،یہ اور بات کہ اس انفرادیت کے حصول میں وہ کہیں اپنی جمالیات کا سودا کرنے پر تیار ہے اور کہیں وہ اسے اپنی تخلیقی بازیافت کے عمل کا لازمی جزو مانتے ہوئے اسے روایت کے شعور سے منطبق کر کے اپنی تخلیقی پیشکش کا قائل ہے۔
آج کی شاعری میں موضوعاتی ، فکری اور نظری سطح پر جتنا تنوع نظر آتا ہے اس کے تحقیقی پس منظر کی تلاش بذات خود ایک فکری کلامیہ کو جنم دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔۔ابہام، سریت، پر اسراریت، فرد کا ملال، تنہائی ، وجودی مسائل، مقامی تہذیبی استعارے و علامات، انسان ، تہذیب ، مابعد الطبعیاتی انفعالیت جیسے مختلف رجحانات ہماری روایت میں اپنے اپنے عصری منطرنامے کے زیر سایہ ایک محدود کینوس پر شعری اظہاریے کا حصہ رہے ہیں مگر آج کی شاعری میں یہ تمام رجحانات اپنی بھرپور تخلیقی بالیدگی اور شدت احساس کے ساتھ ایسے اظہاریے کی تشکیل کرتے ہیں جو ہمارے مابعد جدید عہد کے اجتماعی لاشعور میں نمو پذیر ہوتے فکری کلامیے کی جہات کو متعین کرتا ہے اور ان پر اپنے تخلیقی رد عمل بھی ظاہر کرتا ہے۔
ایک اور سظح پر ایک پہلو جو اکثر ہمارے سنجید قارئین کے ذہن میں اٹھتا ہے جو بہت اہم اور قابل توجہ ہے کہ نئی غزل میں آپ کو احساس اور لہجہ کی سطح پر انسلاک نظر آتا ہے اوراحساس کی سطح پر اجتماعیت کا پہلو نکلتا نظر آتا ہے اور یہاں آ کر وہ جدیدیت کے انفرادیت کے پہلو سے احساس کی سطح پر بغاوت کرتی محسوس ہوتی ہے شاید یہی احساس کی انفرادی پیشکش کا غیاب ہمارے بعض نئے لکھنے والوں کے مصرعہ سازی پر اثر انداز ہوتا ہے اور ایک تاثر یہ برآمد ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ایک ہم اہنگ اسلوب میں جکڑے لگتے ہیں اور ان شاعروں کی غزلیات سے اگر نام ہٹا لیا جائے تو ہم شناخت نہیں کر پاتے کہ کس کی نمائندہ غزلیات ہیں مگر یہ تاثر بہت بڑے پیمانے پر اجاگر نہیں ہو پاتا۔
ہر کانفرنس ہر تقریب ہر مشاعرے میں صرف انہی چہروں کی تقریب رونمائی سو سو بار کرا کرا کر ان کے اصل چہروں کو اتنا مسخ کر دیا گیا ہے کہ اب ان کو دیکھ کر لفظوں کو بھی گھن آتی ہے۔
ہماری شاعری پر تنقید کو دیکھا جائے تو آج کی نسل کا تخلیقی مقدمہ لڑنے کو کوئی سقہ بند نقاد تیار نظر نہیں آتا۔مخصوص لابیاں ہیں جن میں صرف انہی لوگوں پر بات کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے جو ان کی دادا گیری اور سلطنت عیاراں میں توسیع کا باعث بن سکتے ہیں۔ادب کو ہمارے نام نہاد ادبی حلقوں، آرٹس کونسلوں اور ابی اکیڈمیوں میں صرف محدود اشرافیہ کے نوازے ہوئے باسی مضامین کی جگالی کرتے چار چار پانج پانچ دہائیوں سے غاصبانہ قابض صرف انہی لوگوں کی لونڈی بنا دیا گیا ہے جن کی عیارانہ زنبیل میں بیس بیس سالوںسے ایک دو غزلوں یا نظموں کے سوا کچھ نہیں نظر آتا۔ ہر کانفرنس ہر تقریب ہر مشاعرے میں صرف انہی چہروں کی تقریب رونمائی سو سو بار کرا کرا کر ان کے اصل چہروں کو اتنا مسخ کر دیا گیا ہے کہ اب ان کو دیکھ کر لفظوں کو بھی گھن آتی ہے۔ دو تین معیاری رسالہ جات کے علاوہ نمائندہ ادبی رسالے جن کو ان جغادری ادیبوں اور بین الاقوامی ادبی تقریبوں کے منتظمین کی آشیرباد حاصل ہے ان میں کوئی چیز چھاپنے سے پہلے بھلے وہ کس تخلیقی کرب اور محنت سے لکھی گئی ہو، یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس چیز کے لکھنے والے کو سلظنت عیاراں کے کس بڑے پادری کی سند حاصل ہے اور یہ لکھنے والا کس لابی سے تعلق رکھتا ہے۔اسے بعض دفعہ مسلک ،بعض دفعہ نظریاتی وابستگی اور بعض جگہ مولویانہ پن ( دونوں انتہاؤں کا) اور کبھی زاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)
Categories
تبصرہ

اردو غزل کی نئی کتاب

اچھی کتاب پڑھنے سے بہتر مجھے کوئی کام نہیں لگتا، خاص طور پر تخلیقی کتاب۔اس میں سب سے بہتر بات یہ ہوتی ہے کہ آپ نئے خیالات سے واقف ہوتے ہیں۔ ہر ذہن کی ایک الگ تخلیقی بناوٹ ہوتی ہے، اس کا کچھ کرنے، بنانے یا کہنے کا طریقہ دوسروں سے الگ ہوتا ہے، ایک یہی میدان ہے جہاں نقل پر اصل کو ترجیح دی جاتی ہے۔علم پھیلتا ہے، نئے جہان تلاش کرتا ہے، مطالعہ نئی باتیں یا ایسی پرانی باتیں جو ہمارے لیے نئی ہوں، ہمارے سامنے لایا کرتا ہے۔مگر شاعری ان باتوں کو ایک شکل دیتی ہے، ایک بالکل نئی شکل۔اس کے لیے کچھ شرطیں ہوتی ہیں، یہ ہر کسی کے بس کا کام نہیں، جو لوگ شاعر ہیں، وہ جانتے ہیں کہ شعر کی تخلیق کے بارے میں پیدا کیے جانے والے مفروضات کتنے بھونڈے ہیں، کوئی کہا کرتا ہے کہ شعر پیدا کرنا بچہ پیدا کرنے جیسا عمل ہے، کوئی کہتا ہے کہ ہم نے اس میں خون جگر کھپایا ہے، کوئی کہتا ہے کہ فلانا، کوئی کہتا ہے ڈھمکا۔مگر شعر تکلیف سے نہیں بنتا۔غالب نے اپنے شعروں کو اپنی معنوی اولاد کہا تھا، مگر اس کی بات غلط تھی، شعر ویر کوئی معنوی اولاد نہیں ہوتے، اگر ہوا کرتے تو غالب اپنے دیوان کا انتخاب کبھی نہ کرپاتا۔شعر ایک نتیجہ ہے، ہماری صلاحیت اور ہماری فکر کے ملاپ کا۔ہمارے مستقل سوچتے رہنے ، اسے بناتے رہنے کے عمل کا۔شاعری بغیر ارادے کے ممکن نہیں، جس طرح زندگی بغیر ارادے کے ممکن نہیں۔اور یہ مزے کی کیفیت ہے، بالکل جنسی عمل والے مزے کی، جس کا بیان ممکن نہیں، جس کی مٹھاس اور کھٹاس دونوں کو لیکھ میں نہیں ڈھالا جاسکتا۔اچھا شعر کہنے کے بعد ہنسنے کا جی چاہتا ہے، ایک کامیابی سی محسوس ہوتی ہے، محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ہم ناکارہ نہیں ہوئے۔اس لیے تخلیقی کتاب پڑھنے میں بھی ویسا ہی مزہ آتا ہے، جیسا کسی وصل کا نظارہ کرتے وقت آیا کرتا ہے، روح سیراب ہوتی ہے، اس پورے نظارے سے بدن کا روم روم کہیں کسی نئے پن کی جستجو اور مہم جوئی سے متاثر ہوتا رہتا ہے، نئے خیال کی دھمک سے چونکتا ہے، پرانے اور باسی عمل کی ترکیبوں سے اوبنے یا اکتانے لگتا ہے۔ہمارے عہد میں شاعری کی زیادہ تر کتابیں اس دوسرے زمرے میں ہی آتی ہیں۔
شاعری بغیر ارادے کے ممکن نہیں، جس طرح زندگی بغیر ارادے کے ممکن نہیں۔اور یہ مزے کی کیفیت ہے، بالکل جنسی عمل والے مزے کی، جس کا بیان ممکن نہیں، جس کی مٹھاس اور کھٹاس دونوں کو لیکھ میں نہیں ڈھالا جاسکتا۔
مگرابھی کچھ عرصہ پہلے میل کے ذریعے مجھے ایک کتاب ملی۔ذوالفقار عادل کی کتاب۔شرق میرے شمال میں۔اس کتاب کا عنوان نیا تھا، اس کی شاعری بھی نئی ہونی چاہیے تھی۔میں نے کتاب کو کچھ دنوں بعد پڑھنا شروع کیا، مجموعہ پہلی بار ختم کیا، دوسری بارپڑھنے کا دل چاہنے لگا۔اس شاعری میں زندگی کی کچھ ایسی الجھنوں کو نظم کیا گیا تھا، جن کو عام طور پر بیان کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ یہ ایک احساس کے تجربے کو نظم کرنے والی بات ہوتی ہے، اور احساس کو نظم کرنا آسان بات نہیں ہے۔وجہ یہ ہے کہ ہم جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو شاعری کو عام طور پر رومانی باتوں سے جوڑ دیتے ہیں، یا پھر روایت کے وہ فرسودہ مضامین جس میں عاشق و معشوق کے درمیان کی پوری کہانی ہمیں پہلے سے معلوم ہوتی ہے، ایسی شاعری سے متلی آتی ہے، مجھے جہاں ایسی شاعری سننی پڑتی ہے، میں وہاں سے جلد دامن بچا کر نکلنا چاہتا ہوں، اس لیے غزل کے مجموعے پڑھتے وقت پہلی دس بارہ غزلیں پڑھنے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ کتاب پڑھنی چاہیے یا نہیں۔بھلا ہو فیس بک کا کہ اب اس کی مدد سے وہ دس بارہ غزلیں بھی پڑھنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔خیر، پاکستان میں لکھی جارہی اردو غزل میں اب دو نام میرے سامنے ایسے ہیں، جو ایک دوسرے سے شعر گوئی میں قدرے مختلف اور نئی غزل کے نمائندہ شاعر کہے جانے کے لائق ہیں۔اول ادریس بابر اور دوم ذوالفقار عادل۔
ذوالفقار عادل کی غزل بظاہر آپ کو نئے لفظوں، نئے تجربوں میں لپٹی ہوئی نظر نہیں آئے گی، مگر وہ اندرون سے بدلی ہوئی ہے، اس کا نیا پن ، اس کا فکری رویہ ہے۔عادل کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ جیسا شعر وہ بنانا چاہتے ہیں، بنادیتے ہیں اس کوزہ گری کے ہنر میں ان کی مشاقی کمال کی ہے۔
ادریس بابر کی غزل اب ایک نیا لغت تراش رہی ہے۔وہ شعر بنانے کے سلیقے کو بدلنے پر آمادہ ہے، نئی شعریات کو وضع کرنے اور اس کی ڈھنگ سے ترتیب دینے میں ادریس بابر کا ہاتھ ہے۔کوئی انہیں کچھ کہے، ان کی اس تازہ کاری پر ہنسے، قہقہے لگائے یا پھر ظفر اقبال کی نئی غزل کی نامقبولیت کا انہیں سو بار طعنہ دے مگر میں اسے جدیدیت کے ایکسٹنشن(extension) سے تعبیر کرتا ہوں۔ادریس بابر کی نئی غزل اب جو لہجہ بنارہی ہے، اس کا اثر میں ہندوستانی غزل پر بھی پڑتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ یہاں لوگ انہیں پسند کرتے ہیں،ان کی غزلیں پڑھنا چاہتے ہیں۔ میں نے اردو زبان سے ناواقف لوگوں کے منہ سے ان کی تعریف سنی تو پوچھا کہ آپ نے ادریس بابر کی غزل کب اور کہاں پڑھی تو ان کا جواب تھا کہ کئی لوگوں سے ان کے شعر سنے ہیں۔یعنی اب یہ غزل خود کو تسلیم کروارہی ہے۔ذوالفقار عادل ان سے لہجے میں بہت مختلف ہیں۔ذوالفقار عادل کی غزل بظاہر آپ کو نئے لفظوں، نئے تجربوں میں لپٹی ہوئی نظر نہیں آئے گی، مگر وہ اندرون سے بدلی ہوئی ہے، اس کا نیا پن ، اس کا فکری رویہ ہے۔عادل کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ جیسا شعر وہ بنانا چاہتے ہیں، بنادیتے ہیں اس کوزہ گری کے ہنر میں ان کی مشاقی کمال کی ہے۔کبھی کبھی ان کے یہاں زندگی کے ایسے تجربے تصویر کیے ہوئے نظر آتے ہیں، جن کی طرف ہمارے روایتی شاعر کا دھیان ہیں جاتا، ایسے کچھ شعر سنیے:

 

اپنے آپ کو گالی دے کر گھور رہا ہوں تالے کو
الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کیوہیل چیئر پر بیٹھ کر، چڑھتا ہے کون سیڑھیاں
آکے مجھے ملے جسے شک ہو مرے کمال میں

نام کسی کا رٹتے رٹتے ایک گرہ سی پڑ جاتی ہے
جن کا کوئی نام نہیں، وہ لوگ زباں پر آجاتے ہیں

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلالی ہے

ہر منظر کو مجمع میں سے، یوں اٹھ اٹھ کر دیکھتے ہیں
ہوسکتا ہے شہرت پالیں ہم اپنی دلچسپی سے

وہ رنج تھا کہ رنج نہ کرنا محال تھا
آخر میں ایک شام، بہت رو کے خوش ہوا

ظاہر ہے کہ ان تصورات کو نظم کرنے کے لیے روایت سے آگے نکلنا ضروری ہے، اور روایت سے آگے نکلنے کے لیے اس کا علم ہونا ضروری ہے۔یہ شعر بتاتے ہیں کہ عادل نے میر سے لے کر ظفر اقبال تک اردو شاعری کی پھیلی ہوئی طویل روایت سے کیسے فائدہ اٹھایا ہے۔یہ باتیں کتنی ہی سچ ہوں، مگر جھوٹ کی طرح ہماری آنکھوں سے تب تک اوجھل رہتی ہیں، جب تک ہم نہیں جان پاتے کہ کیا ایسا ہے جو نہیں کہا گیا، یا کیا ایسا ہے، جسے کہہ دینا چاہیے۔’خواب’ عادل کی شاعری کا ایک استعارہ ہے، مگر یہ غیر ضروری طور پر اتنا استعمال نہیں ہوا، جتنا شہریا رکے یہاں ہوچکا ہے بلکہ انہوں نے اسے جہاں اور جتنی بار استعمال کیا ہے وہ ہر بار ایک نئے پہلو کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں وہ خواب کو حقیقت کا ہی ایک درجہ سمجھتے ہیں، جس میں اتنی شوریدہ سری دکھائی دیتی ہے، جتنی عام طور پر حقیقت میں ہی ممکن ہے، غفلت میں نہیں۔

 

باغ اپنی طرف کھینچتا ہے مجھے خواب اپنی طرف
بنچ پر سورہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چکاتا ہوانکلا ہوں شہر خواب سے، ایسے عجیب حال میں
غرب، میرے جنوب میں، شرق، میرے شمال میں

مجھے ذوالفقار عادل کے یہاں ایک بڑی بات نظر آئی، حالانکہ مجھے ان سے شکایت بھی ہے کہ ان کو اپنے مجموعے میں اتنے مضامین جمع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔وہ ایک اچھے شاعر ہیں، ان کی کتاب آنے کے بعد کوئی ان کو برا کہے یا بھلا، یہ اس کا حق ہے، مگر کتاب کے ساتھ ، کسی بھی قسم کے تنقیدی یا تعارفی مضامین اسے بوجھل بنادیتے ہیں۔ آج کاقاری بالغ نظرہے۔وہ اچھے برے مال کی پرکھ رکھتا ہے۔آپ یا ہم اسے نہیں سمجھائیں گے کہ بھئی اس میں کیا خامیاں ہیں اور کیا خوبیاں ، اور پھر یہ باتیں کتاب آنے کے بعد زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہیں نہ کہ کتاب کے ساتھ۔۔۔ بہرحال یہ شاعر کا فیصلہ ہے اور اسی کو طے کرنا ہوتا ہے کہ اس میں محبتوں کا قرض بھی چکادینا کس حد تک درست ہے اور کہاں تک غیر ضروری۔خیر، میں بڑی بات کا ذکر کررہا تھا، یہ بری بات کہاں سے درمیان میں آگئی۔اس مجموعے میں ایک شعر ہے:

 

روانی میں نظر آتا ہے جو بھی
اسے تسلیم کرلیتے ہیں پانی
ہم لوگ احمد مشتاق کے ایک شعر کو بہت پسند کرتے آئے ہیں۔
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
یہ شعر بہت اچھا ہے، اس میں جس طرح ’پانی‘ کو وقت کا استعارہ بنایا گیا ہے، اس کی گہرائی اور اس کی خاموشی اور انسان کی نفسیاتی الجھنیں اس شعر کا مرکزی خیال ہیں، مگر ذوالفقار عادل کا شعر اس شعر سے زیادہ اچھا ہے، اس شعر کے دو پہلو ہیں، اول تو یہ کہ پانی یہاں لامتناہی وقت (Infinite Time)کا استعارہ ہے، ایک کبھی نہ ختم ہونے والی ابدیت جو ہر اس شے کو قبول کرتی ہے جو رواں ہو، حتٰی کہ منجمد اشیا کو بھی روانی بخشنے کا ہنر جانتی ہے۔ اسی طرح اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم زندگی جیسے گہرے عمل کو صرف روانی سے کیسے تعبیر کرسکتے ہیں، اس کی مزید شرطیں ہونی چاہیئں۔اسے اور طرح بھی پرکھ کر دیکھنا چاہیے۔
ذوالفقار عادل کی کتاب ‘اردو غزل کی ایک نئی کتاب’ ہے۔اس شاعری کے قاری بھی نئے ہیں۔اسے پڑھنے اور اس کا استقبال کرنے کا مناسب وقت یہی ہے کہ یہ شاعری جدیدیت کا بالکل تازہ چہرہ ہے
ذوالفقار عادل کی کتاب ‘اردو غزل کی ایک نئی کتاب’ ہے۔اس شاعری کے قاری بھی نئے ہیں۔اسے پڑھنے اور اس کا استقبال کرنے کا مناسب وقت یہی ہے کہ یہ شاعری جدیدیت کا بالکل تازہ چہرہ ہے۔ہم تخلیقیت میں جس مشقت، جس محنت اور جس انفرادیت کے قائل ہیں، نئے وسائل اور نئے مسائل سے بھری ہوئی اس شاعری کا اندازاپنے ہم عصروں کو ان کی حیثیت کا اندازہ کروانے کے لیے کافی ہے۔یہ شاعری نئے پن کی کامیابی ہے، اور غزل جیسی صنف میں، جہاں خیال کو سانچے میں ڈھالنے کی آزادی بہت کم ہے، ایسی تازہ کاری مشکل ہی سے دیکھنے کو ملتی ہے۔یہ مجموعہ اتنا اہم مجموعہ ہے کہ ہر نئے لکھنے پڑھنے والے کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ذوالفقار عادل جانتے ہیں کہ شاعری میں غزل کے لیے اداسی اور بکھراؤ کی کتنی اہمیت ہے، اس لیے ان کی شاعری میں ان عناصر سے بہت اچھی طرح کام لیا گیا ہے۔وہ اپنے اندرون یا بیرون دونوں اطراف کی جنگ اور خاموشی سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں۔اس شاعری پر بات ہونی چاہیے، اچھے لوگوں، اچھے پڑھنے والوں کو اس کے حق میں یا اس کے خلاف بولنا چاہیے۔خیر، اب یہ ذوالفقار عادل کے کچھ اشعار میری پسند کے، میں آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں؛

 

اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اک ایسے شہر میں کیا کررہے ہیں ہمپوچھتا پھر رہا ہوں میں، دل میں جو ایک بات ہے
کوئی جواب دے نہ دے، دخل نہ دے سوال میں

پاؤں رکھتا ہوں اک منجمد جھیل میں چاند کے عکس پر
ایک تنہائی سے، ایک گہرائی سے خوف کھاتا ہوا

بیٹھے بیٹھے اسی غبار کے ساتھ
اب تو اڑنا بھی آگیا ہے مجھے

کوئی اتنے قریب سے گزرا
دور تک دیکھنا پڑا ہے مجھے

یہ نقش بن نہیں سکتا تو کیا ضروری ہے
خراب و خستہ و خوار و خجل بنایا جائے

ہمیں دونوں کنارے دیکھنے ہیں
توجہ چاہتی ہے یہ روانی