کون اس راہ سے گزرتا ہے
دل یوں ہی انتظار کرتا ہے
دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے
دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے
شہر گل میں کٹی ہے ساری رات
دیکھیے دن کہاں گزرتا ہے
کون اس راہ سے گزرتا ہے
دل یوں ہی انتظار کرتا ہے
دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے
دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے
شہر گل میں کٹی ہے ساری رات
دیکھیے دن کہاں گزرتا ہے
آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے
آج تو جیسے ساری دنیا
ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے
خیر تجھے تو جانا ہی تھا
جان بھی تیرے ساتھ چلی ہے
اب تو آنکھ لگا لے ناصرؔ
دیکھ تو کتنی رات گئی ہے