Categories
نان فکشن

اکیسویں صدی کا ٹڑانچ

ٹڑانچ میں اکیسویں صدی ابھی تک نہیں پہنچی اس کے باسی آج بھی انیسویں صدی کے باشندے لگتے ہیں اور اسی میں جی رہے ہیں۔ آیا وہ اپنی اسی زندگی کے ساتھ خوش ہیں یا انہیں جینے پر مجبور کیا گیا ہے؟ ٹڑانچ کے بارے میں سنا تو تھا لیکن کبھی جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ بیلہ میں ٹڑانچ سے آئے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ نام پوچھنے پر ان میں سے ایک نے اپنا نام بابو بتایا۔ پہلے یہ سمجھا کہ چونکہ ہمارے ہاں کلرک کو بابو کہتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ کسی اداے کے ساتھ ‘بابو گیری’ کا کام کرتے ہوں۔ میرے دوبارہ اصرار کرنے پر بھی انہوں نے اپنا نام بابو ہی بتایا اور اپنے آپ کو تعلیم سے بےبہرہ قرار دیا۔ بابو کا خاندان کئی پشتوں سے ٹڑانچ میں آباد ہے (ٹڑانچ ضلع آواران کی تحصیل جھاؤ کی حدود میں آتا ہے) لیکن ان کی حالات زندگی میں کوئی تبدیلی کبھی نہیں آئی۔ بابو کے پانچ بچے ہیں۔ بابو خود بھی ان پڑھ ہے اور یہی حال اس کے پانچ بچوں کا ہے۔ بابو کے ساتھ ایک اور لڑکا غلام قادر تھا جو عمر میں بابو سے چھوٹا تھا لیکن ذہانت میں بابو کی نسبت ذرا تیز تھا میں بابو سے سوال کرتا تھا تو وہ بابو کے منہ سے بات چھین کر خود اس کا جواب دیا کرتا تھا۔ مجھے امید کی کرن نظر آئی کہ بابو نہ سہی تو غلام قادر ہی سہی ہو سکتا ہے وہ کچھ پڑھا لکھا ہو۔ تعلیم کا نام سن اس کا جواب بھی وہی تھا کہ تعلیم سے ان کا دور کا واسطہ بھی نہیں۔ البتہ ساتھ کھڑے مولانا کی طرف اشارہ کر کےکہا کہ یہ مولانا صاحب ان کے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ کیا پڑھاتے ہیں جواب ملا سپارہ۔ یعنی تعلیم کا دائرہ صرف دینی تعلیم اور وہ بھی ناظرہ تک محدود ہے۔
ٹڑانچ میں اکیسویں صدی ابھی تک نہیں پہنچی اس کے باسی آج بھی انیسویں صدی کے باشندے لگتے ہیں اور اسی میں جی رہے ہیں۔

 

بابو کے بقول ٹڑانچ کی آبادی 400گھرانوں پر مشتمل ہے۔ زندگی کی تمام تر جدید سہولیات سے محروم یہ علاقہ ان گھرانوں کی کئی پشتوں سے آباد ہے۔ ناپید شہری سہولتوں کے باوجود یہاں کے باسیوں نے آج تک نہ تو خود تبدیلی کا راستہ چنا اور نہ ہی حکومت کی توجہ حاصل کر سکے۔ البتہ 2008کے انتخابات تک ان کے ووٹ موجودہ صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور اس کے والد سابق ایم پی اے آواران کو جاتے تھے۔ میرے سوال کرنے پر کہ ووٹ دینے کے بعد کبھی اپنے حقوق مانگنے کے لیے حکام بالا کا دروازہ کھٹکٹھایا یا منتخب نمائندوں نے علاقے کا دورہ کرکے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تو ان کا جواب نفی میں تھا۔ آواران کی حدود میں واقع تین صدیوں سے زائد عرصے سے آباد اس علاقے کے مکین اپنا راشن پانی لینے بیلہ کا رخ کرتے ہیں جہاں سے وہ مہینے بھر کا سامان اونٹوں پر لاد کر اپنے گھر لاتے ہیں۔ پکی سڑک کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کئی گھنٹے کا سفر پیدل یا اونٹوں کے ذریعے طے کرنا پڑتا ہے۔

 

ٹڑانچ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد بیلہ میں پرچون کی دکان چلانے والے سیٹھ عبدالمجید سے راشن خریدنے آتے ہیں۔ عبدالمجید کا ناطہ ٹڑانچ والوں سے نہ صرف پرانا ہے بلکہ وہ ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ضرورت کے وقت ادھار سامان بھی دیتے ہیں۔ عبدالمجید کہتے ہیں کہ ٹڑانچ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد کے روزگار کا ذریعہ غلہ بانی ہے۔ 100سے زائد افراد اپنے خاندان کی کفالت کے لیے متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کر رہے ہیں جہاں سے وہ اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجتے ہیں۔
بابو سے جب پوچھا کہ کیا کبھی انہوں نے اپنے بچوں کی مستقبل کی زندگی کے بارے میں سوچا ہے تو وہ جواب دیتا ہے کہ وہ کیوں سوچے؟ آخر حکومت کو ہی سوچنا چاہیئے۔

 

ٹڑانچ اور آس پاس کے علاقوں میں ہسپتال یا رابطے کے لیے موبائل یا ٹیلی فون جیسی سہولیات موجود نہیں۔ قرین ترین ہسپتال 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں کچے اور دشوار گزار راستے کی وجہ سے پہنچنے میں دس گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ عبدالمجید نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال پہلے جب ٹڑانچ میں گلے کی بیماری پھیل گئی تھی اور کئی افراد اس وبا کی زد میں آکر ہلاک ہوئے تھے تو عبدالستار ایدھی صاحب خود ایدھی فاؤنڈیشن کی امدادی ٹیمیں لے کر آئے تھے۔ اس دوران عبدالستار ایدھی کی ٹیم کو کہیں پیدل تو کہیں اونٹ پر سفر طے کرنا پڑا تھا ۔ بڑی مشکلات جھیلنے کے بعد وہ متاثرہ علاقے تک پہنچے اور کئی روز تک لوگوں کی تیمارداری کی۔ کئی دن تک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے عبدالستار ایدھی اور ان کی ٹیم کی گمشدگی کی افواہیں گردش کرنے لگیں تو فوج نے ہنگامی بنیادوں پر انہیں وہاں سے نکالا اس موقع پر جو تاثرات ایدھی نے پیش کیے وہ رْلانے کے لیے کافی تھے۔
حکومتیں بدلنے سے بھی ان کے ہاتھ کبھی کچھ نہیں آیا وہ اب بھی اونٹوں پر سفر کرتے ہیں، جڑی بوٹیوں سے اپنا علاج کرتے ہیں اورمریض کو مرتا دیکھ کر غم کے آنسو پی جاتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے حالات میں تبدیلی کا نہیں سوچتے

 

اتنی بڑی آبادی آخر صحت و تعلیم کی سہولت سے محروم کیوں؟ بابو کہتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک پرائمری اسکول یہاں بنایا گیا تھا لیکن آج تک اس میں کوئی استاد تعینات نہیں کیا گیا ہے۔ اگر کیا گیا ہے تو بھی وہ اس حوالے سے لاعلم ہیں کیونکہ اسکول آج بھی ویسے کا ویسا ہے۔بابو سے جب پوچھا کہ کیا کبھی انہوں نے اپنے بچوں کی مستقبل کی زندگی کے بارے میں سوچا ہے تو وہ جواب دیتا ہے کہ وہ کیوں سوچے؟ آخر حکومت کو ہی سوچنا چاہیئے۔

 

بابو کے بقول تعلیم کی طرح صحت کی سہولیات بھی نا پیدہیں۔ زچگی کے موقع پر ماؤں کی اموات کی شرح انتہائی زیادہ ہے۔ گو کہ وہ تعداد بتانے سے قاصر ہیں لیکن سڑکوں کی مخدوش صورتحال اور صحت عامہ کی سہولیات کی عدم دستیابی بابو کے دعوؤں کو تقویت پہنچانے کے لیے کافی ہیں۔ بابو کی بات مجھے حیرت زدہ کر گئی کہ کسی بیماری کی صورت میں انہیں ڈاکٹر کی فیس دس ہزار روپے تک برداشت کرنا پڑتی ہے۔ پورے علاقے میں نہ صحت کی سہولت موجود ہے نہ دیگر ضروریات زندگی پھر آخر وہ کون سی چیز ہے جو بابو اور باقی ماندہ افراد کو اپنی طرف کھینچ کے رکھتی ہے وہ ہے اس زمین سے محبت۔ یہاں کے مکین کہیں اور جانے کا نہیں سوچتے بلکہ وہ تمام تر سہولیات سے محرومی کے باوجود اس علاقے کو اپنے وجود کا ضامن قرار دیتے ہیں۔

 

اکیسویں صدی مواصلاتی رابطوں، جدید ٹیکنالوجی اور شہری سہولیات کے ذریعے زندگی کو نیا رنگ دے رہی ہے مگر ٹڑانچ کے باسی آج بھی انیسویں صدی کے باسی ہیں، نہ انگریزوں نے ان کی حالت بدلی نہ پاکستان کے بننے سے انہیں کچھ ملا۔ حکومتیں بدلنے سے بھی ان کے ہاتھ کبھی کچھ نہیں آیا وہ اب بھی اونٹوں پر سفر کرتے ہیں، جڑی بوٹیوں سے اپنا علاج کرتے ہیں اورمریض کو مرتا دیکھ کر غم کے آنسو پی جاتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے حالات میں تبدیلی کا نہیں سوچتے۔میں سوچتا ہوں کہ کیوں نہیں سوچتے؟؟
Categories
نان فکشن

اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظر نامہ

(دوسری قسط)
اکیسویں صدی کی غزل کا اگر اجتماعی سطح پر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس معاصر منظر نامے میں جو نمایاں لوگ نظر آتے ہیں ان کے ہاں معاصر زندگی کے ذاتی تجربات و انکشافات کی تخلیقی شکل مختلف اسلوبیات کے ساتھ اور مختلف تہذیبی رنگوں کی آمیزش کے ساتھ واضح ہوتی ہے۔ مابعدجدید عہد کا عطا کردہ فشار و اضطراب اور احساسِ محرومی تخلیقی عمل پر اتنی شدت سے اثر انداز ہوتا ہے کہ بعض اوقات کسی تخلیق کار کی اپنی انفرادیت بھی داؤ پر لگتی محسوس ہوتی ہے۔
مابعدجدید عہد کا عطا کردہ فشار و اضطراب اور احساسِ محرومی تخلیقی عمل پر اتنی شدت سے اثر انداز ہوتا ہے کہ بعض اوقات کسی تخلیق کار کی اپنی انفرادیت بھی داؤ پر لگتی محسوس ہوتی ہے

 

مقامی تہذیبی استعارے، استفہام، کرب، وجودی مسائل، تشکیک، لسانی اجتہاد، تجریدی ابہام، رومان اورسریت کے امتزاج سے طلسماتی ٖفضا بندی، مابعدالطبیعاتی انفعالیت، بے معنویت، لا یعنیت، اجنبیت، جنسی ناآسودگی، اجتماعی لاشعور میں برپا نفسیاتی کشمکش جیسے عوامل اکیسویں صدی کی غزل کے منظر نامے کی ابتدائی تصویر مرتب کرتے ہیں۔

 

صنعتی شہری منظر نامے کی تہذیبی، معاشرتی، ثقافتی اور انفرادی زوال خوردگی کا اظہار جہاں اکیسویں صدی کی غزل کے ایسے آہنگ کی آبیاری کرتا ہے جو اپنے ماقبل بیانیے سے کہیں بغاوت کا اظہار کرتا ہے وہیں وہ لا یعنیت کی گرد میں انسانی تخلیقی نشاط کے اپنے تخلیق کردہ رستوں کی دریافت کو ضروری سمجھتا نظر آتا ہے ۔ آج کا شاعر زندگی کو ایسے تماشائی کی نگاہ سے دیکھنے پر کبھی کبھار راغب دکھتا ہے جو خود اپنے آپ کو تماشے کا حصہ بنا لیتا ہے۔
بقول نظام صدیقی

 

” مابعد جدید غزلیہ شاعری نئے عالمی اور قومی تناظر میں بین الاقوامی سامراجی تہذیب اور قومی فسطائیت کے نفسیاتی، اخلاقی، عمرانی اور ثقافتی مظاہر کے آکٹو پسی گرفت میں آج کے آدمی اور زندگی کے پھڑپھڑانے کے باوجود بھی بہرِ نوع جشنِ زندگی اور جشنِ تخلیقیت کا نگارخانہ رقصاں ہے جس میں ‘دو شیزہء امکان’ کے خمیازہ کی ادائیگی کے لیے آج بھی کلاسیکیت کی ‘رقاصہء دیروز’ بے پیرہن آتی ہے”۔
اس روایت میں چند لوگ ایسے ہیں جن کے لحن اور تخلیقی اظہاریے کی مختلف جہات سے اسلوبیاتی اور موضوعاتی سطح پر نئے رجحانات برآمد ہوئے ہیں اور ان رجحانات کی گونج بعد میں آنے والی غزل کی آوازوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

 

معاصر غزل اور بالخصوص اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی منظر نامہ پیش کرنے سے پہلے عمومی روایت جو کہ سترہویں صدی سے چلی آ رہی ہے اس کا عمومی تذکرہ کرنے کی بجائے میں آج کی غزل کو بیسویں صدی کی 60 کی دہائی کے بعد کی غزل کی رویت کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔ اس روایت میں چند لوگ ایسے ہیں جن کے لحن اور تخلیقی اظہاریے کی مختلف جہات سے اسلوبیاتی اور موضوعاتی سطح پر نئے رجحانات برآمد ہوئے ہیں اور ان رجحانات کی گونج بعد میں آنے والی غزل کی آوازوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ سو جب ہم موجودہ غزل کو اس تناظر میں دیکھتے ہیں تو چند نام ایسے ہیں جن کے اثرات ہماری نئی غزل نے اپنے اندر نفوذ کیے ہیں ان میں ناصر کاظمی، شکیب جلالی، ظفر اقبال، ثروت حسین، احمد مشتاق اور عرفان صدیقی کے علاوہ چند دیگر نام قابلِ ذکر ہیں۔
(جاری ہے)
Categories
نان فکشن

اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظرنامہ

قسط اول
اکیسویں صدی کی شاعری کا منظر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو شاعری کی نئی کھیپ کسی مخصوص فکر۔ تحریک یا نظریے کی پابند نظر نہیں آتی ہے۔ وہ اپنے تمام تر نطری و فکری بیانیے میں مکمل آزادی کی ظرف پیش قدمی کرتی نظر آتی ہے اور یہی آزادی وہ اپنے صوتی و فکری آہنگ کو بھی دینے کی قائل نظر آتی ہے۔آج کے شاعر نے اپنے بدن سے روایتی، گھسی پٹی کلیشے زدہ معاشرتی ، سیسی، نظریاتی، اور فکری پابندیوں کی ردا اتار پھینکی ہے۔ وہ موجودہ عہد سے اپنی فظری بالیدگی کے ساتھ سنجیدگی سے مکالمہ آراءہے۔ یہ مکالمہ کہیں اسے نفسیاتی کشمکش میں مبتلا کرتا اور کہیں اسے بے معنویت اور تہذیبی مغائرت کی دیواروں سے سر ٹکرانے پر اکساتا ہے۔آج کا شاعر اپنے اندر دبی ہوئی ان تمام چیخوں کو آواز دینا چاہتا ہے جنہیں کبھی قومیت کے نام پر، کبھی مذاہب کے نام پر، کبھی نطریاتی فریم ورک کے نام پر اور کبھی مفادات اور مصلحت کے نام پر دبایا جاتا رہا ہے۔
اکیسویں صدی کی شاعری کا منطر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔
آج کے شاعر کے پاس بہت سے سوالات ہیں ان سوالات کی کوکھ سے جنم لیتا اضطراب اور بے چینی ہے شکستگی کا اظہار ہے ۔سماجی، فکری اور جنسی تفاوت کی فضا میں تصادم آمیز اظہاریہ سے احتجاج کا شعلہ بر آمد ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ اس شعلے سے آج کی غزل سے برآمد ہوتے ہوئے معنیاتی کینوس پر معروف معانی سے غیر معروف یا غیر مانوس معانی کی بر آمدگی اپنی جگہ پر ایک الگ اکتشافی عمل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اپنے سے ما قبل بیانیے سے مختلف ہونااس کے لیے ایک ضروری عمل کے طور پر سامنے آیا ہے،یہ اور بات کہ اس انفرادیت کے حصول میں وہ کہیں اپنی جمالیات کا سودا کرنے پر تیار ہے اور کہیں وہ اسے اپنی تخلیقی بازیافت کے عمل کا لازمی جزو مانتے ہوئے اسے روایت کے شعور سے منطبق کر کے اپنی تخلیقی پیشکش کا قائل ہے۔
آج کی شاعری میں موضوعاتی ، فکری اور نظری سطح پر جتنا تنوع نظر آتا ہے اس کے تحقیقی پس منظر کی تلاش بذات خود ایک فکری کلامیہ کو جنم دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔۔ابہام، سریت، پر اسراریت، فرد کا ملال، تنہائی ، وجودی مسائل، مقامی تہذیبی استعارے و علامات، انسان ، تہذیب ، مابعد الطبعیاتی انفعالیت جیسے مختلف رجحانات ہماری روایت میں اپنے اپنے عصری منطرنامے کے زیر سایہ ایک محدود کینوس پر شعری اظہاریے کا حصہ رہے ہیں مگر آج کی شاعری میں یہ تمام رجحانات اپنی بھرپور تخلیقی بالیدگی اور شدت احساس کے ساتھ ایسے اظہاریے کی تشکیل کرتے ہیں جو ہمارے مابعد جدید عہد کے اجتماعی لاشعور میں نمو پذیر ہوتے فکری کلامیے کی جہات کو متعین کرتا ہے اور ان پر اپنے تخلیقی رد عمل بھی ظاہر کرتا ہے۔
ایک اور سظح پر ایک پہلو جو اکثر ہمارے سنجید قارئین کے ذہن میں اٹھتا ہے جو بہت اہم اور قابل توجہ ہے کہ نئی غزل میں آپ کو احساس اور لہجہ کی سطح پر انسلاک نظر آتا ہے اوراحساس کی سطح پر اجتماعیت کا پہلو نکلتا نظر آتا ہے اور یہاں آ کر وہ جدیدیت کے انفرادیت کے پہلو سے احساس کی سطح پر بغاوت کرتی محسوس ہوتی ہے شاید یہی احساس کی انفرادی پیشکش کا غیاب ہمارے بعض نئے لکھنے والوں کے مصرعہ سازی پر اثر انداز ہوتا ہے اور ایک تاثر یہ برآمد ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ایک ہم اہنگ اسلوب میں جکڑے لگتے ہیں اور ان شاعروں کی غزلیات سے اگر نام ہٹا لیا جائے تو ہم شناخت نہیں کر پاتے کہ کس کی نمائندہ غزلیات ہیں مگر یہ تاثر بہت بڑے پیمانے پر اجاگر نہیں ہو پاتا۔
ہر کانفرنس ہر تقریب ہر مشاعرے میں صرف انہی چہروں کی تقریب رونمائی سو سو بار کرا کرا کر ان کے اصل چہروں کو اتنا مسخ کر دیا گیا ہے کہ اب ان کو دیکھ کر لفظوں کو بھی گھن آتی ہے۔
ہماری شاعری پر تنقید کو دیکھا جائے تو آج کی نسل کا تخلیقی مقدمہ لڑنے کو کوئی سقہ بند نقاد تیار نظر نہیں آتا۔مخصوص لابیاں ہیں جن میں صرف انہی لوگوں پر بات کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے جو ان کی دادا گیری اور سلطنت عیاراں میں توسیع کا باعث بن سکتے ہیں۔ادب کو ہمارے نام نہاد ادبی حلقوں، آرٹس کونسلوں اور ابی اکیڈمیوں میں صرف محدود اشرافیہ کے نوازے ہوئے باسی مضامین کی جگالی کرتے چار چار پانج پانچ دہائیوں سے غاصبانہ قابض صرف انہی لوگوں کی لونڈی بنا دیا گیا ہے جن کی عیارانہ زنبیل میں بیس بیس سالوںسے ایک دو غزلوں یا نظموں کے سوا کچھ نہیں نظر آتا۔ ہر کانفرنس ہر تقریب ہر مشاعرے میں صرف انہی چہروں کی تقریب رونمائی سو سو بار کرا کرا کر ان کے اصل چہروں کو اتنا مسخ کر دیا گیا ہے کہ اب ان کو دیکھ کر لفظوں کو بھی گھن آتی ہے۔ دو تین معیاری رسالہ جات کے علاوہ نمائندہ ادبی رسالے جن کو ان جغادری ادیبوں اور بین الاقوامی ادبی تقریبوں کے منتظمین کی آشیرباد حاصل ہے ان میں کوئی چیز چھاپنے سے پہلے بھلے وہ کس تخلیقی کرب اور محنت سے لکھی گئی ہو، یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس چیز کے لکھنے والے کو سلظنت عیاراں کے کس بڑے پادری کی سند حاصل ہے اور یہ لکھنے والا کس لابی سے تعلق رکھتا ہے۔اسے بعض دفعہ مسلک ،بعض دفعہ نظریاتی وابستگی اور بعض جگہ مولویانہ پن ( دونوں انتہاؤں کا) اور کبھی زاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)