Categories
نان فکشن

حسنین جمال کے نام ایک خط (اپنی شاعری کے حوالے سے)

بھائی حسنین!

آپ نے کئی بار غزلوں کا مطالبہ کیا اور میں ہربار شرمندہ ہوا کہ کیا بھیجوں؟ ایسا نہیں ہے کہ پرانے شعری مجموعے کے بعد میں نے کوئی غزل نہیں لکھی۔ ضرور لکھی ہے، مگر غزل کے تعلق سے میرا نظریہ اور یاروں نے اسے جتناسرچڑھا رکھا ہے،اس حوالے سے میری رائے تھوڑی سی اس عرصے میں بدلی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے، میں نے ایک مضمون غزل کے تعلق سے لکھا تھا، جو اردو اور ہندی دونوں جگہ شائع ہوا اور مجھے دونوں جگہ غزل کے عاشقوں سے صلواتیں بھی سننی پڑیں۔ خیر، یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ غزل اور اس کی تہذیب پر میں جب نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے اردو دنیا کے لوگوں کی کم ہمتی اور محنت سے بھاگنے کی اصل وجوہات میں غزل بھی ایک مضبوط ستون کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ میں نہیں کہتا اور نہ چاہتا ہوں کہ اردو شاعر غزل گوئی سے مایوس ہوکر اسی شعریات کے ساتھ کسی دوسری صنف کا رخ کرے۔ میں جو چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ غزل میں تجربے ہوں اور اس میں کوئی نئی راہ پیدا کی جائے۔ مگر میرے خیال سے یاروں کا کہنا ٹھیک ہی ہے کہ غزل کا مزاج تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ بھی بتاتا ہوں، پہلے دو ایک باتیں لکھ لوں۔ غزل عیش پسندوں کی یا یہ کہہ لیجیے کہ ایلیٹ کلاس میں پروان چڑھنے والی ایک صنف ہے۔ اس کا عام سماج سے، عام لوگوں سے، ان کے عام مسائل سے ، ہماری دنیاؤں میں موجود طبقاتی کشمکش سے دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ ڈھونڈنے چلیں تو آپ کو ان موضوعات پر اشعار نہیں ملیں گے، ضرور مل جائیں گے مگر جب کسی ادبی صنف کے مجموعی مزاج کے حوالے سے بات ہورہی ہو تو اس میں تخلیق ہونے والے بیشتر حصے کو سامنے رکھ کر بات کی جاتی ہے۔ پہلے میں مشاعرے سے چڑتا تھا، مجھے لگتا تھا کہ مشاعرہ باز کوئی بہت اوچھا کام کررہے ہیں، مگر یقین جانیے جب میں نے اردو کے بہترین ’غزل گو‘ حضرات کے دقیانوسی پن اور خود کو دوہرانے کے عمل کو سمجھ لیا تو مجھے مشاعرے سے بھی کوئی خاص شکایت نہیں رہی۔ مشاعرہ بہرحال ایک عوامی چیز ہے۔ کہنے دیجیے کہ سادہ الفاظ میں سطحی مضامین کو ارذل قرار دینا اور اعلیٰ یا اشرافیہ طبقے کی زبان میں انہی سطحی مضامین کو کوئی اعلیٰ قسم کا ادب سمجھنا میرے نزدیک ایک قسم کا برہمن واد ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جس نے ہمارے یہاں نظیر اکبر آبادی کو ایک عرصے تک زبان دانوں کی دنیا میں مطعون و ملعون رکھا اور کچھ آگے بڑھ کر کہوں تو رحیم،تلسی داس، کبیر، جائسی ، میرابائی ،بلہے شاہ، عبدالطیف بھٹائی، لالیشوری، حبا خاتون وغیرہ کو کبھی اردو شاعری کی روایت کا حصہ نہیں مانا۔صرف یہ ہی نہیں ، امیر خسرو کی شاعرانہ عظمت پر ان کی فارسی شاعری کے بل پر زور دیا گیا اور یہ کوشش کی گئی کہ جہاں تک ممکن ہو عوامی زبان میں ان کی شاعری سے یہ کہہ کر پلا جھاڑا جائے کہ یہ ان کا کلام ہے ہی نہیں۔ ہم روایتی ادب میں بھی اس قسم کے محلاتی ادب سے وابستہ رہے جس کا عوام سے واسطہ نہ ہو، ہمیں وہ شاعری بھاتی رہی جس نے لال قلعے یا اردوئے معلیٰ میں جنم لیا ہو اور ہم دھیرے دھیرے ان خزانوں کو دھبوں کی طرح اپنے دامن سے صاف کرتے چلے آئے جس میں دکنی، برج، اودھی، سندھی، پنجابی یاکشمیری بھاشائوں کے عناصر موجود تھے۔ اپنی بات کے ثبوت کے لیے قائم کا ایک پرانا شعر نقل کرتا ہوں۔
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
ایک بات لچر سی بہ زبان دکنی تھی

یہ جو لچر سی بات ہے، یہ کیا ہے۔ یہ مٹی سے جڑی بات ہے۔ریختہ کے جتنے مطلب لغت میں دیے گئے ہیں ، ان میں سے ایک مطلب گری پڑی شے بھی ہے۔ چنانچہ عوام سے دوری کا یہ سلسلہ ہمیں اردو کے ابتدائی نام اور ڈھنگ سے ہی پتہ چلتا ہے۔ ہم الزام دیتے ہیں انگریز کو کہ اس نے ہندو اور مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈلوانے کے لیے اردو نام کی ایک زبان ایجاد کی اور اس کے ابتدائی ناموں میں سے ایک ہندی کو ہندؤں کے مختص کردیا۔ مگر ہم غور نہیں کرتے کہ انگریز ہمارے مزاج کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھارہا تھا۔ ہم پہلے سے ہی ہر اس زبان یا بھاشا کی مخالفت پر کمر بستہ تھے، جو عوام یا خاص طور پر نچلے طبقے سے وابستہ رہی ہو۔ اسی طرح دیکھیے تو انگریز نے نظم کی ’تحریک ‘بھی اسی اشرافیہ کے ذریعے شروع کروائی جو مضامین کو پاک بنانے یا اس کے بپتسمہ کے فرض کو انجام دے سکے۔ آب حیات میں اردو شعرا کے تعصب سے پر جو واقعات نظر آتے ہیں ان میں ایک کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا، میر نے لکھنو جاتے وقت زبان غیر سے اپنی زبان بگڑنے کے ڈر سے برابر بیٹھے مسافر سے بات تک نہ کی۔ یہی تصور آج اردو میں ایک ’بہتر غزل گو اور عام آدمی‘ کے بیچ حد فاصل قائم کرتا ہے۔

شاعری صرف ادبی مضامین یا بحور و قوافی کے گیان کو پڑھ کر نہیں سیکھی جاسکتی اور اس کا تعلق کسی مخصوص طبقے یا زبان سے بھی کیسے ہوسکتا ہے؟ شاعری کو تو بسیط ہونا چاہیے، اس میں سبھی طرح کے رنگ، سبھی طرح کے لفظ اور سبھی طرح کی دنیائیں آباد ہونی چاہیے۔ مگر نزدیک سے دیکھیے تو شاعری کا یہ حلیہ ایک یوٹوپیائی دنیا میں ہی ممکن ہے۔ ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جن لوگوں نے اردو شاعری میں زبان و بیان ، علامت و استعارے کی خوبیاں بیان کیں، اس کے قواعد بنائے اور اس کی شعریات کو ترتیب دیا۔ وہ سخت قسم کے متعصب لوگ تھے۔ زیادہ دور نہ جاکر شبلی نعمانی کی مثال دے سکتا ہوں جو بقول خورشیدالاسلام اپنے مدرسے میں نچلے طبقے کے بچوں کو پیچھے کی جانب اور زمین پر بٹھایا کرتے تھے۔ سرسید اور حالی کی متعصبانہ سوچ جاننی بھی اتنی مشکل نہیں کہ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے شعری سرمایے کا سب سے بڑا گوہر غالب بھی ’وبائے عام ‘میں مرنے سے کیوں خائف تھا اور کتنا بڑا نسل پرست تھا، اس کے لیے کسی عمیق مطالعے کی ضرورت نہیں۔ نچلے طبقے کی شاعری سے ہمارے شعرا کا تعصب ویسا ہی تھا جیسا شیکسپئر اور گستاؤ فلوبیر کا یہودیوں کے تعلق سے تھا۔

غزل کے تعلق سے میں اس لیے بھی محتاط ہوگیا کہ اس نے ہمارا مزاج کئی طرح سے بدلا ہے۔ اول تو اس نے ہمیں چاہے کتنی ہی نکتہ آفرینی سکھائی ہو، کیسی ہی علامت نگاری، تشبیہ سازی کے فن سے نوازا ہو مگر غزل نے ہمیں ایک لطیفہ گو بنادیا ہے۔ ہم لوٹ گھوم کر انہی مضامین کو الٹتے پلٹتے رہتے ہیں اور خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ہم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ باہر کی دنیا بھی غزل کو پسند کرتی ہے اس میں کوئی شک نہیں، مگر جب آپ غور کریں گے تو غزل کے ’کھاتے پیتے‘ شائق آپ کو صاف دکھائی دے جائیں گے۔ ان میں زیادہ تعدادا علی ٰ اور متوسط طبقے کے ان افراد کی ہوگی ، جن کی زندگیاں ایک مستقل نوکری یا مستقل آمدنی یا باپ داد کی جائداد پر ٹکی ہوئی ہیں اور جنہیں عالم ہونے کے لیے صرف غزل کے شعروں کی پرکھ کا سہارا لینا کافی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس صنف نے ہمیں خوشامد پسند بنادیا ہے۔ غزل میں محبوبہ کی چاپلوسی کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےبلکہ اسے غزل کا مزاج ہی بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ اس لیے اس تہذیب میں پیدا ہونے والی آپسی تعریفیں بھی ایسی صفات سے بھری پڑی ہیں، جن میں کسی ادیب کی تعریف کرنی ہو تو اسے بغیر کانپے ، بنا ڈرے سب سے بڑا ادیب کہہ دیا جائے، دنیا کا عظیم عالم، اعلی ٰ ترین دانشور اور اس قسم کے خطابات کا آپس میں پھیر بدل کرکے اپنی انا کو تسکین دے لی جائے۔ اس سنسکرتی کا پربھاؤ اتنا گہرا ہے کہ جو آدمی غزل لکھ بھی نہیں رہا وہ بھی اسی سے جنم لینے والے خطابات و القاب اور اسی زمین سے پھوٹنے والی تعریف و توصیف پر اکتفا کرتا ہے۔ یعنی جب وہ خود کسی کی تعریف کرے گا تو بھرپور مبالغے سے کام لے گا اور اگر کوئی دوسرا اس کی تعریف کرے گا تب بھی وہ ’ادیب‘ یہی چاہے گا کہ اس کی تعریف بھی اسی چاپلوسانہ انداز میں کی جائے۔

بلکہ اردو میں کئی بار اس سے بھی بڑھ کر ہمارے ادیب (خواہ پرانے ہوں یا نئے) اپنی بھرپور تعریف کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ خودستائی ایک فن ہے۔ ایسا فن،جس کے لیے اعلیٰ درجے کی لاعلمی اور معصومیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ادیب کا اپنے یا کسی دوسرے شخص کے لیے یہ کہنا کہ وہ انتہائی درجے کا ادب تخلیق کرچکا ہے یا اس کے مقابلے کا کوئی اور تو دور کی بات ہے، اس کا پاسنگ بھی ڈھونڈے سے نہ ملے گا، تبھی ممکن ہے جب تعریف کرنے والے کی نظر کوتاہ ہو یا پھربرسوں سے اس کی زبان کو ایک خاص قسم کے درباری مزاج میں ڈھالا گیا ہو۔ اور اردو کے معاملے میں موخرالذکر بات مجھے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

میری غزل سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں اردو غزل کہنے والے ہم عصروں میں ادریس بابر ، ذوالفقار عادل وغیرہ کو بہت پسند کرتا ہوں۔ یہ دونوں ہی(خاص طور پر ادریس بابر)غزل کی زبان کو اس طرح پیمپر نہیں کرتے، جیسا کہ ہمارے ادیبوں کا وتیرہ رہا ہے۔ حال ہی میں، میں نے دیکھا کہ ادریس نے ایک غزل وائرل ہوجانے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے لکھی، انہوں نے کورونا وائرس کو بھی موضوع بنایا۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ تو موضوعاتی ادب ہوگیا اور موضوعاتی ادب زندہ نہیں رہتا۔ مگر یہ باتیں بھی اسی مزاج کی پروردہ ہیں جس نے غزل کو موضوع سے آزاد ، ہر شعر میں ایک علیحدہ بات، کبھی ہنسی ٹھٹھول تو کبھی پینٹ گیلی کردینے والے موضوعات تک سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ، ایک سچی بات ہے کہ غزل کے حوالے سے میری ایک دوست نے کہا کہ اس صنف کے شاعرکاموڈ جس تیزی سے سوئنگ ہوتا ہے، اتنا تو کبھی میرا پیریڈز کے دوران بھی نہیں ہوا۔ بہرحال ادریس کو پسند کرنے کی وجہ کلیشے مضامین سے ان کی بغاوت بلکہ ایک قسم کی نفرت ہے۔ زبان کو بھی اسی مٹی سے لے رہے ہیں جہاں وہ جیتے ہیں، ان کے یہاں تصنع اور ریاکاری نہیں ہے اور وہ استاد بننے کے زعم سے باہر آکر ایک ایسی کوشش کررہے ہیں، جس میں غزل کی باگیں موڑ کر اسے محل سے اتار کر سڑک پر لایا جاسکے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ان کی شاعری پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ بہت سے لوگ انہیں ایک بگڑیل اور ٹھٹھول گو قسم کا شاعر سمجھتے ہیں۔ خود ادریس کے یہاں عشرے کی جس صنف نے جنم لیا ہے، وہ غزل کے معاملے میں ان کی بے اطمینانی اور غیر سکون بخش طبیعت کا پتہ دیتی ہے۔ پھر بھی میرا ماننا ہے کہ اگلی پانچ دہائیوں میں اگر ادریس بابر جیسےتین چار شاعر بھی اردو غزل نے پیدا کردیے تو یہ تعجب کی بات ہوگی، سچ مانیے تو میرے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ غزل نے اپنی راہ، عوامی لیگ سے الگ بنائی ہے اور وہ اسی ڈھرے پر آگے بھی چلتی رہے گی، اسی طرح مقبول رہے گی اور اسی طرح پڑھی سنی جائے گی۔

چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صنف میں بڑی یا اچھی چھوڑ دیجیے، بہت حد تک شاعری ہی ممکن نہیں ہے۔ میں غزل لکھتا ہوں، ضرور لکھتا ہوں۔ مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ صرف غزل ہی نہیں، غزل گو شاعر کی نظم بھی اردو والوں کے یہاں کوئی اہم کارنامہ نہیں ہوسکتی۔ میرے خیال میں ٹھیک ٹھاک نظمیں لکھنا اردو کے ان ہی شاعروں کے لیے ممکن ہوگا جو پہلے سے غزل نہ کہتے ہوں یا غزل کے مزاج کو سمجھ کر اسے بہت پہلے ہی چھوڑ چکے ہوں یا انہوں نے غزل لکھتے ہوئے بھی اس کے مقابلے اپنی نظم کو ہمیشہ زیادہ اہمیت دی ہو۔اسی لیے میں اردو شاعری سے تقریباً کنارہ کش ہوکر فکشن کی دنیا کی طرف توجہ کرتا ہوں کہ وہاں مجھے زیادہ روشنی اور امکانات نظر آتے ہیں۔ الٹا لٹک کر کرتب دکھانے والوں کی دنیا میں رہتے رہتے جس طرح ہم اپنے پیروں پر چلتے ہوئے کسی شخص کو دیکھ کر چونک پڑتے ہیں، اسی طرح فکشن کی دنیا نے مجھ پر حیرت کے کئی دروازے کھولے ہیں۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو میں خود کو غزل کے مطالعے سے بچاتا ہوں، مشاعروں یا نشستوں میں سال میں دو یا تین بار سے زیادہ شرکت نہیں کرتا۔میں چاہتا ہوں کہ دنیا کی دوسری زبانوں کا ادب بھی پڑھ سکوں، جان سکوں۔خاص طور پر ایسی زبانیں، جن کے یہاں ردیف و قافیے کی پابندی ، بحر کی قید کے مقابلے میں سیدھے سبھاؤ لکھا گیا ادب پڑھنے کو مل سکے۔ اب تو خیر اردو غزل کی شہرت ہندی، پنجابی، مراٹھی اور دوسری زبانوں تک بھی پہنچ گئی ہے اور ان کے یہاں باقاعدہ مشاعرے بھی ہوتے ہیں، شاعروں کے دواوین بھی چھپتے ہیں۔ اس کھیل میں دلچسپ یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ زبانیں غزل کے مزاج کو تبدیل کرتی ہیں یا غزل ان کے تخلیقی ادب کے مزاج پر کوئی گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے۔ مگر یہ بات اب سے قریب پچاس، ساٹھ سال بعد ہی بتائی جاسکے گی۔

اس لیے جب کوئی دوست مجھ سے غزلیں مانگتا ہے تو میں اکثر کنی کاٹتا ہوں۔ مگر دوست تو دوست ہیں! ان کی وجہ سے کبھی کبھار شعر بھی سنانے پڑجاتے ہیں اور غزل کا مجموعہ بھی انہی کی بدولت شائع ہوجاتا ہے، اور اس پر کچھ گفتگو بھی ہوجاتی ہے، مگر سچ پوچھیے تو اس میدان سے میری دلچسپی اب قریب قریب ختم ہی ہوچکی ہے۔ ہاں اردو میں لکھی ہوئی ایسی کوئی چیز مجھے ضرور اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو غزل کے اثر سے باہر ہو، پھر چاہے وہ فکشن ہو، نان فکشن ہو یا کوئی نظم۔

Categories
نان فکشن

طبقات مسعودی از ڈاکٹر عبدالمجید عابد

کچھ عرصہ قبل برادرم حسنین جمال نے مدیر ’ہم سب‘ کا خاکہ لکھا تو احباب کی جانب سے فرمائش آئی کہ اب ’خاکہ اڑایا جائے‘۔ خاکسار لڑکپن سے ’فکاہیہ نویسی‘ اور ’خاکہ اڑائی‘ جیسے فنون عالیہ کا طالب علم رہا ہے لہٰذا ’اب ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو‘۔ واضح رہے کہ فدوی کا صاحب مضمون سے بیک وقت دوستی، شاگردی اور ’معالجی‘ کا رشتہ ہے۔

 

گوجرانوالہ ان کا آبائی شہر ہے۔ شائد اسی لئے گوجرانوالہ اور اس کے باسیوں کے متعلق ایک خاص غبار دل میں چھپائے بیٹھے ہیں۔ کہتے ہیں:’اس شہر کی جانب سے تو کبھی ہمیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی نصیب نہیں ہوا‘ اور یہ کہ ’ہر برائی آخر وہیں جا کے نکلتی ہے‘۔ عمر کے اس حصے میں مائل بہ فربہی ہیں البتہ موقعے کی مناسبت سے مستعد اور چست بھی ہو سکتے ہیں۔ وضع قطع خالصتاً دہلوی ہے، سفید کرتا پاجامہ زیب تن کئے صبح شام ’ہم سب‘ کی ادارت میں مشغول رہتے ہیں۔ ملاقات میں خوش اخلاق اور ہنس مکھ ہیں(یعنی اپنی تصاویر کے برعکس)۔

 

فی زمانہ درویش تخلص کرتے ہیں۔ اسی لئے شہر سے کئی کوس دور ویرانے میں کٹیا بنا رکھی ہے اور صبح شام ’گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے‘ کی مالا جپتے رہتے ہیں۔
فی زمانہ درویش تخلص کرتے ہیں۔ اسی لئے شہر سے کئی کوس دور ویرانے میں کٹیا بنا رکھی ہے اور صبح شام ’گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے‘ کی مالا جپتے رہتے ہیں۔ اجمل کمال کو ان کے آشیانے پر جانے کا اتفاق ہوا تو آدھے ہی راستے میں پکار اٹھے: ’بھئی کیا فیصل آباد قریب ہی ہے؟‘اگر آپ ان سے ملنے کے مشتاق ہیں تو براہ کرم ان سے راستہ مت پوچھ بیٹھئے گا۔ و ہ قوم کو راستہ دکھانے والوں میں سے ہیں لیکن اپنے گھر کی بجائے آپ کو وہ کاہنا کاچھا پہنچا دیں گے۔

 

صاحبان یقین کیجئے کہ خاکسار نے زندگی میں بہت سے کٹھن مراحل دیکھے ہیں اور کثیر النوع امتحانات کا سامنا کیا ہے لیکن استاد محترم کو ساتھ بٹھا کے گاڑی چلانا شائد ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔میں شیر خان کے لئے تمغہ استقامت کی سفارش کرنا چاہتا ہوں جو کئی سال سے یہ ذمہ داری نبھا رہا (اور طعن و تشنیع سہہ رہا) ہے۔ ادھر گاڑی کی رفتار بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے متجاوز نہیں ہوئی کہ پاکستانی عوام اور سڑک کے پیچیدہ رشتے پر ایک پرمغز تقریر کا آغاز ہوتا ہے جو متنوع القابات اور غیر پارلیمانی الفاظ سے مزین ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو دیکھتے ہی ان پر قر یب قریب تشنج کی کیفیت طاری ہو نے لگتی ہے۔ ان کے کئی مضامین میں موٹر سائیکل ایک پہئے پر چلانے کو نوجوان نسل کی غیر سیاسی سوچ کا استعارہ قرار دیا جا چکا ہے۔

 

گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے اور تین چوتھائی دنیا دیکھ لی لیکن باقر خانی اب بھی چائے میں ڈبو کر کھانا پسند کرتے ہیں۔ عوام میں گھلنے ملنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات سے انہیں خاص کد ہے، فدوی نے کم ازکم ایک دفعہ انہیں ایک مشترکہ دوست کے ولیمے سے برق رفتاری کے ساتھ غائب ہوتے دیکھ رکھا ہے۔ لاہور میں کچھ برس سے Organic Food کا اتوار بازار لگتا ہے۔ دختر نیک اختر کی فرمائش پر وہاں کا ایک چکر لگا آئے تو کئی روز طبیعت مضمحل رہی۔ دن اور رات کے اوقات ان کے لئے بے معنی ہیں۔ ایک مشترکہ دوست کے مطابق ان کے ہاں شام کی چائے اس وقت پی جاتی ہے جب گرد ونواح کے رہائشی عشائیے سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ کسی ٹی وی پروڈیوسر نے دریافت کیا کہ آیا وہ صبح ساڑھے آٹھ بجے پروگرام میں شرکت کر سکیں گے؟ جواب ملا: میاں، اگر صور اسرافیل آٹھ بجے پھونکا جائے تو ہی کچھ امکان بن سکتا ہے وگرنہ ہمیں معاف کیجئے۔

 

بھلے وقتوں میں ’ایشیا کو سرخ کرنے‘ کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب حالت یہ ہے کہ سرخ رنگ دیکھ کر ہی بدک جاتے ہیں۔
اپنی صحت کے معاملے میں حد درجہ لاپرواہ ہیں۔ خاکسار کو کئی دفعہ طعنہ مل چکا ہے کہ ’آپ نے آخر اتنی صحت کا کیا کرنا ہے؟‘۔ عمرِ رفتہ اور کثرت سگرٹ نوشی کے باعث دانت جواب دے گئے تو دندان سازوں سے پالا پڑا۔ مصیبت یہ ہے کہ موصوف دندان سازوں کے زیر علاج رہنے کو ایک نہایت بورژوا قسم کی حرکت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے گوجرانوالہ سے تعلق ہونے کے باوجود گوشت خوری ترک کر دی (اور سبزی خور ہو گئے) لیکن علاج سے کئی کوس دور بھاگتے رہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق (احمد مشتاق سے معذرت کے ساتھ) اس معرکے میں عشق بیچارہ ہار گیا اور استاد محترم کو نئی بتیسی نصیب ہوئی۔

 

بھلے وقتوں میں ’ایشیا کو سرخ کرنے‘ کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب حالت یہ ہے کہ سرخ رنگ دیکھ کر ہی بدک جاتے ہیں۔ سوویت روس کی تاریخ کے مختلف پہلووں پر دسترس رکھتے ہیں۔ ان کے لئے اڑچن یہ ہے کہ دائیں اور بائیں بازو کے احباب انہیں حسبِ ذائقہ ایجنٹ، غدار، ڈالر خور اور ملک دشمن ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن مرشد پاک ان دیومالائی ڈالروں اور ’لفافوں‘کے انتظار میں بوڑھے ہو چلے ہیں۔ چاند پینٹ کرنے کی خواہش لئے بلوچ سرمچاروں سے بھڑ گئے تھے، اب فرماتے ہیں:’جب تم لوگوں نے بلوچستان آزاد کرا لیا تو بے شک مجھے وہاں کا ویزہ نہ دینا‘۔ عصر حاضر کے ’سرخوں‘ سے نالاں ہیں اور کہتے ہیں: ’جن ممالک میں یہ نظام نافذ رہا ہے، وہاں سے کبھی کمیونزم کے احیاء کی صدا بلند نہیں ہوئی، ہمارے انوکھے لاڈلوں کو یہ بات کون سمجھائے؟‘

 

اس نوع کے بزرگ (ان کو یہ لقب بالمشافہ ملاقات میں عطا کرنے کا حوصلہ ہم میں فی الحال موجود نہیں) کارنس پر سجانے کے لائق ہیں۔ کالم میں تین دفعہ ’جسدِ اجتماعی‘ استعمال نہ کریں تو طبیعت کی ناسازی کا گمان ہوتا ہے۔ ’انحراف‘ ان کا پسندیدہ مشغلہ اور شائد پسندیدہ لفظ بھی ہے۔ مختلف مسائل کے ’منطقی انجام‘ سے وہ خوب باخبر ہیں۔ ’قرائن‘ سے بہت کچھ معلوم کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ جمہوریت کے ایسے قصیدہ گو کہ گویا گوجرانوالہ کی جگہ قدیم ایتھنز میں پیدا ہوئے ہوں۔ بقول محمد خالد اختر ’نثر اردو کو لباس تکلف اور زیور سخن آراستہ کر کے روکش ماہ تمام‘ بنانا اور ’الفاظ کے روپ کو غازے کی تابانی دے کر شاہد نگارش کی سنہری رو پہلی پیرہن‘ پہنانا مرشد کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ناقدین کے خیال میں عبدالمجید سالک کی اتباع کرتے ہیں لیکن الفاظ غالب کے زمانے کے استعمال کرتے ہیں۔ان کا کالم پڑھنے کے لئے فرہنگِ آصفیہ اور پاکستان انسائکلوپیڈیا ساتھ رکھنا پڑتا ہے جب کہ سمجھنے کے لئے کئی ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ فارسی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے جن کی اکثریت راقم جیسے کم علموں کے پلے نہیں پڑتی۔ متنازع موضوعات پر لکھنے کے متعلق ان کا ایک قولِ زریں ہے :’لڑکی سے پہلے لڑکی کی ماں کو منانا پڑتا ہے‘ اور خاکسار کو ’سخت زبان‘ استعمال کرنے پر کئی مرتبہ ڈانٹ پڑ چکی ہے۔گزشتہ برس صدارتی ایوارڈ ملنے کا اعلان ہوا تو ان کے ایک دوست نے ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی۔ ’ہم بھی وہیں موجو د تھے‘ البتہ رات چودھویں کی نہیں تھی۔ ان کے یارِ غار، یاسر پیرزادہ نے انہیں پاکستانی تاریخ کا ’ڈاکٹر ذاکر نائیک‘ قرار دیا جو خاکسار کے نزدیک بالکل درست لقب ہے۔ تعریف سننے پر ان کی جھینپ اور شرماہٹ کا وہ عالم تھا جو پہلے روز کی دلہنوں کا سٹیج پر بیٹھتے وقت ہوتا ہے۔

 

کالم میں تین دفعہ ’جسدِ اجتماعی‘ استعمال نہ کریں تو طبیعت کی ناسازی کا گمان ہوتا ہے۔ ’انحراف‘ ان کا پسندیدہ مشغلہ اور شائد پسندیدہ لفظ بھی ہے۔
کتب بینی بلکہ کتب خوری ان کا مشغلہ ہے۔ ان جیسے وسیع المطالعہ اور معلومات عامہ کا خزینہ لوگ تو اب نسخے میں ڈالنے کو بھی نہیں ملتے۔ اپنی کتابیں ادھار دینے کے معاملے میں بخیل واقع ہوئے ہیں۔ اس بخل میں ہم ان کو دوش نہیں دے سکتے کہ کئی احباب مختلف مواقع پر ان کی کتب، مالِ مسروقہ سمجھ کر ضبط کر چکے ہیں۔ حافظہ کمال کا پایا ہے۔ غالب، اقبال اور فیض کے اتنے اشعار ازبر ہیں کہ شاید ان بزرگوں کو خود بھی نہ یاد ہوں۔ اپنے کالموں میں وہ موزوں اشعار یا مصرعے بلا تکلف استعمال کرتے ہیں۔ کتابوں سے اقتباس لفظ بہ لفظ دہرا تے ہیں۔ راقم کئی سالوں سے ان کے حوالے اور اقتباسات کی تحقیق کر تا رہا ہے اور کئی نایاب کتب میں ان سے سنے اقتباس ڈھونڈ چکا ہے۔ ان سے اب تک جو بھی کتاب مستعار لی، بروقت لوٹا دی لیکن کچھ کتب کے معاملے میں وہ بہت جلد جذباتی ہو جاتے ہیں(ان کتب کی فہرست ’ہم سب‘ پر ’نوجوان لکھاریوں کو کیا پڑھنا چاہئے‘ کے عنوان سے موجود ہے)۔

 

کرکٹ سے خاص دلچسپی ہے اور ’ہم سب‘ کی ادارت کا بوجھ اضافی ہونے لگے تو شڑاپ سے کرک انفو کھول کر حسب موقعہ میچ کی صورت حال سے باخبر رہتے ہیں۔ با غبانی سے بے تحاشا رغبت ہے۔ قیاس ہے کہ گزشتہ جنم میں بہت سا وقت گل وگلستاں کے ہمراہ گزار چکے ہیں۔ موسیقی کے رسیا ہیں اور سینکڑوں قدیم البم اور گانے ان کے پاس موجود ہیں البتہ وہ ہمیشہ تخلیے کے عالم میں موسیقی سننا پسند کرتے ہیں۔ خادم کو ان کے ہاں استاد بسم اللہ خان اور بڑے غلام علی خان کی آواز سننے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔ زبانیں وہ بہت سی جانتے ہیں۔ پڑھنے میں انگریزی، لکھنے میں اردو اور بولنے میں پنجابی کو فوقیت دیتے ہیں۔ ان کا صحافتی کیریر انگریزی روزنامے سے شروع ہوا اور ایک زمانے میں وہ فرضی نام سے فکاہیہ کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ پنجابی میں ان کی شاعری کی کتاب ’والٹن کیمپ نئیں مکیا‘ اب نایاب ہو چکی ہے۔ ایک دفعہ ہاتھ لگی اور ان سے ’کلامِ شاعر بذبان شاعر‘ کی فرمائش کی جس کو پہلے پہل وہ ٹالتے رہے لیکن ہماری ثابت قدمی کے باعث چند نظمیں سنا دیں۔ نظم سناتے وقت بھی شرماہٹ کا عالم دیدنی تھا۔ پنجابی مصنفین نے انہیں ’اصلی تے سُچا‘ پنجابی لکھاری نہیں مانا اوروہ بذات خود اپنی پنجابی شناخت سے نالاں رہتے ہیں۔ فلم بینی میں دلچسپی لیتے ہیں اور دنیا بھر کی فلمیں ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کے بچوں کے اصلی یا عرفی نام فلم سے متعلقہ اشخاص سے موخوذ ہیں۔
در ویش اتنے ملنسار ہیں کہ ہر طبقہء فکرسے تعلق رکھنے والے ان کے قدر دانوں میں شامل ہیں۔ ان کا گھر اکثر احباب مہمان خانے کی طرح استعمال کرتے ہیں اور شائد ہی ایسا اتفاق ہوا ہو کہ ان کے ہاں کسی مہمان سے ملاقات نہ ہو۔ گزشتہ تین سالوں میں خاکسار ان کے گھر میں ادباء، شعراء، سرکاری افسران، اساتذہ، سیاست دانوں، نگری نگری بھٹکتے مسافروں اور مختلف النوع کرداروں سے ملاقات کر چکا ہے۔ ان کی جولانی طبیعت کے باعث گھر بار کی ذمہ داری تنویر جہاں صاحبہ کے پاس ہے جو اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود یہ بار گراں اٹھانے پر راضی ہیں۔ ان کی شخصیت مرشد کی موجودگی میں ایک Stabilising Force یا یوں کہئے کہ Shock-Absorber کی سی ہے۔ان کی عدم موجودگی میں’ سلیقہ نام تھا جس کا، گیا مسعود کے گھر سے‘، کا سماں ہوتا ہے۔ تنویر جہاں کی شخصیت اس قابل ہے کہ ان کے فضائل پر ایک الگ، خصوصی مضمون رقم کیا جائے۔

 

ان کا گھر اکثر احباب مہمان خانے کی طرح استعمال کرتے ہیں اور شائد ہی ایسا اتفاق ہوا ہو کہ ان کے ہاں کسی مہمان سے ملاقات نہ ہو۔
ان کے پاس کچھ عرصہ قبل دو موبائل فون تھے اور اکثر یہ عالم ہوتا کہ مرشد ایک صاحب کے اقوالِ زریں سے استفادہ کر رہے ہیں کہ کسی دوسرے بھائی کی کال آگئی جو اپنی سنانے پر مصر ہیں۔ اس ہنگامی حالت میں اگر کوئی ان کے پاس بیٹھا ہے تو اس بیچارے کو لائن مصروف رکھنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ پانچ برس قبل خاکسار نے ان کانمبر حاصل کیا اور جھجکتے جھجکتے کال ملائی۔ اس سے پہلے ان سے ایک ملاقات کا اتفاق ہوا تھا اور اس دوران تعارف کی نوبت بھی نہیں آئی تھی۔ بہرحال خلاف توقع انہوں نے کال سنی اور دعوت دی کہ آپ اس نمبر پر مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اب تو خیر ان کو وہ فراغت میسر نہیں وگرنہ ان کی آواز میں حالات حاضرہ پر کراکرا تبصرہ سننے کا اپنا مزہ ہے۔ آج کل وہ ’ہم سب‘ میں اتنے مگن ہیں کہ دو کی جگہ ایک فون سننا بھی اذیت سمجھتے ہیں۔

 

احباب کے خیال میں ٹی وی پر جاری مسلسل طوفان بدتمیزی اور دائیں بازو کی واضح برتری کے باعث مرشد اور ان جیسے افراد کو ٹی وی پر نظر آنا چاہئے۔ نظریاتی سطح پر یہ بات شاید درست ہے لیکن عملی سطح پر کچھ مشکل درپیش ہے۔ جب آپ بات کے دوران ’میں آپ سے عرض کروں‘ اور ’معاف کیجئے گا‘ بطور ٹیپ کا مصرعہ استعمال کرتے ہوں تو چنگھاڑتے ہوئے اینکروں اور دھینگا مشتی کے شوقین پروڈیوسروں کو آپ سے شغف کیوں ہونے لگا؟ ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو پبلک سپیکنگ سے اجتناب ہے۔ اگر کسی جگہ مجبوری کے طور پر ’خطاب‘ کرنا پڑے تو پہلے ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں اور وقت آنے پر وہ مختصر الفاظ میں اپنی بات کہہ کر سٹیج سے فرار ہو جاتے ہیں۔

 

کسی بات سے اختلاف ہو تو جھگڑا نہیں کرتے، تحمل سے اپنی بات واضح کرتے ہیں اور ایک حد تک تنقید سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں (اس نکتے پر سرخے بھائی اور خان زمان کاکڑ معترض ہو سکتے ہیں،جو ان کا پیدائشی حق ہے)۔

 

ان کی وسیع و عریض شخصیت کو خاکے کے کوزے میں سمونا ناانصافی ہے۔ ہم لیکن اتنی ہی استطاعت رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کی چھتر چایا تلے ہمیں علم کی مزید گتھیاں سلجھانے کا موقع نصیب ہوتا رہے۔

Art work: Asad Fatemi

Categories
فکشن

بندے علی

وہ یہاں کب سے تھے یہ نہیں بتایا جا سکتا۔ امانی اورماما حسن باندی بتاتی تھیں کہ وہ فوج کی نوکری چھوڑ کر ادھر آ بسے تھے۔ منہ لمبا ساتھا اور رنگ شائد آبنوسی ہی ہو گا۔ لمبے، ایک ہیولے کے جیسے، ہر وقت غیر محسوس طریقے سے گھر کے کام سنبھالے رہتے تھے۔ ہمشیر، بھائی اور میں اکٹھے سکول کے لیے نکلتے تھے، وہ اُس وقت ایک پھِرکی کے جیسے سارے گھر میں گھومتے پھِرتے۔ ہمشیر نے انڈا اُبلا ہُوا کھانا ہے، میں خاگینہ لے کر جاؤں گا، بھائی توس پر ملائی اور شہد لگائیں گے، مُجھے پانی کی جگہ ساتھ لے جانے کے لیے شربت دینا ہے سب کچھ اُنہیں ازبر تھا۔ لو بھئی سب نے کھانا کھا لیا چلو اپنے اپنے بستے لا کر دو مجھے، نا بیٹا مجھے دو، خود نہیں اُٹھانا، چار بستے کاندھوں پر لٹکائے لشٹم پشٹم وہ ہمارے پیچھے پیچھے چلتے آتے۔ہمشیر اپنے سکول کی گاڑی میں سب سے پہلے روانہ ہوتیں،پھر میں اپنے سکول، آخر میں بھائی کو چھوڑنے خود جاتے۔گھر میں کیا پکنا ہے، کتنا پکانا ہے، بی جان بالکل بے فکر ہوتی تھیں، بھائی کو چھوڑکر وہ خود قریب کے بازار سے خوب بھاؤ تاؤ کے بعد سبزی پھل لاتے اور چولہے کے ہو جاتے۔ دروازے پر گھنٹی بجی، بی جان آپ رہنے دیں میں دیکھتا ہوں، دوڑے ہوئے گئے، آنے والے کو بھگتا کر ہانپتے ہوئے آئے کہ سالن کے خیال میں قدم خود بہ خود تیز ہی پڑتے تھے۔ جب تک کھانا بنا کر فارغ ہوتے تو چچا میاں کے مُلاقاتی آنے شروع ہو جاتے، اب اُن کے چاء پانی، نشست و برخواست کے مدار المہام بھی وہی ٹھہرے تو وہ اب یہاں مصروف ہو جاتے۔ وقت ضرور پوچھتے رہتے کہ بھائی کو لے کر بھی آنا ہوتا۔ ہم دونوں کو تو واپسی پہ گھر اُتارا جاتا تھا۔ مُلاقاتیوں کا زور ٹوٹتا تو ہم لوگوں کی واپسی کا وقت ہو جاتااور آتے ہی کھانا پروس دیا جاتا۔ پھر قاری چچا، پھر بھائی کے اُستاد، پھر میرے اُستاد آ جاتے اور سب مارے باندھے کھانے کی میز پر پڑھنے بیٹھے رہتے۔ وہ سب کے لیے چاء کا بندوبست کرتے، سامنے باغ میں پانی دیتے اور پودوں کی کاٹ چھانٹ میں لگے رہتے۔ مغرب کی اذان کے بعد بھائی کا کوئی دوست آتا تو اُسے ڈانٹ کر بھگا دیتے اور مُنہ بسورے بھائی روزانہ تقریباً یہی جملہ سنتے ’بی جان، صاحِبزادے کو بتا دیں کہ شریفوں کی اولاد رات میں گھر پر اچھی لگتی ہے‘۔ شام سات بجے وہ گھر کے پچھواڑے، اپنے کمرے میں چلے جاتے اور نہایت دھیمی آواز میں ریڈیو سنتے رہتے۔

 

معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔
معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔ ظہر سے لے کر رات ایک بجے تک گھر کے قریبی عزاخانے میں بیٹھے رہتے، ہر جُلوس میں بطور رضا کارساتھ رہتے، آٹھویں دن جُلوس میں ننگے پیر تپتی زمین پر نشان اُٹھائے آگے آگے ہوتے، جہاں جُلوس رکنا ہوتا وہاں نشان کا بانس پاؤں کے اوپر ٹِکا لیتے کہ نیچے زمین کو لگنے سے بے حُرمتی نہ ہو۔ واپس آ کر سبیل لگائی جاتی، دسویں دن جُلوس میں زنجیرماتم کرتے، گھر آتے تو زخموں پر راکھ اور تیل کا لیپ ہوتا، دو روز اوندھے لیٹے رہتے، سوئم امام سے پھر حاضریاں شروع ہو جاتیں، ہاں، کالا کُرتا سوئم کے بعد اُتار دیتے تھے۔ چہلم تک اُن کے زخم جو ابھی ٹھیک سے بھرے بھی نہ ہوتے دوبارہ زنجیرماتم سے خراب ہو جاتے ۔ بی جان نے کئی بار ہمیں اُن کے کمرے میں بھیجا کہ اُن کا ماتمی سامان ڈھونڈ کر چُھپا دیں لیکن وہ شاید باہر کسی کے ہاں رکھ کر ہی آتے تھے۔ داجان کئی بار اُن سے بحث کرتے لیکن وہ ہر بار جھلّاکر یہی جواب دیتے کہ بھائی جان، قیامت کے دن مولا کو اپنا مُنہ دکھاؤں گا یا مُلّا کا فتوی، کہ زنجیرماتم کے بجائے خون عطیہ کر دو، بھلا بتائیں، مولا کو یہ کہوں گاکہ امّاں، باوا کا دین مولویوں کے کہے سے بدل دیا؟

 

داجان نے ایک دن بندے علی کی کہانی سنائی تھی، لیکن اس شرط پر کہ ہم اُن سے کبھی اس بارے میں کوئی سوال نہیں کریں گے۔ نواب زمان حیدر خان اپنے وقتوں کے بڑے پرگنہ داروں میں شمار ہوتے تھے۔ تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔ کئی بار لڑائی جھگڑا سر پھٹول کی، ما ں باپ کے کہے میں نہ آتے تھے، رنگا رنگ اسلحہ جمع کیا ہوا تھا لیکن لڑائیاں ہمیشہ خالی ہاتھ لڑے۔ پڑھائی کے بعد باپ کو ایک ہی راستہ نظر آیا اُنہیں سُدھارنے کا، کہ فوج میں بھرتی کروا دیا جائے۔ ماں باپ کے بارہا سمجھانے کے باوجود وہ جانا نہیں چاہتے تھے کیوں کہ اُن کی نظر میں زمان حیدرکی سات نسلوں کو نوکری کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک دن ماں نے انہیں اپنی قسمیں دے کر راضی کر لیا۔

 

وہ فوج میں گئے لیکن نواب زمان حیدرسے اکلوتے بیٹے کا جانا برداشت نہ ہوا اور اگلے ہی مہینے دِل کے معمولی دورے کے بعد بخار میں انتقال فرما گئے۔ اب اِن کی والدہ نے جانے کیامصلحت سمجھی کہ اِنہیں باپ کے مرنے کی اطلاع نہ دی (شاید یہ سوچا ہو کہ نوکری چھوڑ چھاڑ کر آ جائیں گے اور پہلے سے زیادہ بگڑ جائیں گے)، بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر بڑی بہن نے چالیسویں پر خط لکھ مارا جو اُنہیں ایک ہفتے بعد ملا۔ طیش میں آکر اُنہوں نے قسم کھائی کہ جس ماں نے انہیں مرے باپ کا چہرہ نہیں دیکھنے بلایا اس کا مُنہ اُن کے مرنے کے بعد بھی نہیں دیکھیں گے۔ آٹھ دس سال اُنہوں نے فوج میں گُزارے لیکن گھر کا کبھی قصد نہ کیا، بہنیں آتیں، ماں جائے کو مل کر آنکھیں ٹھنڈی کر لیتیں اور پلٹ جاتیں۔

 

تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔
بعد میں بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی۔ ایک روز داجان ماما حسن باندی، بی جان اورہمشیر کو لے کر ساحلِ سمندر جا رہے تھے کہ بہت بھیانک طریقے سے اُن کی گاڑی کو ایک بس نے ٹکر مار دی، سب لوگ کافی زخمی ہوئے لیکن داجان اور ماما حسن باندی تو بے ہوش ہو چکے تھے۔ ہمشیرکے بازو پر آج بھی وہ زخم کا نشان نظر آتا ہے، خیر، جو لوگ مدد کو دوڑے آئے اُن میں بندے علی سب سے آگے تھے کہ اُدھر ہی آس پاس ہوٹل تھا اور بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ہمشیر کو گود میں اُٹھا کر اُنہوں نے ایمبولینس بُلوائی اور سب کو بھاگم بھاگ اسپتال داخل کرایا۔ تین دن تک کسی کی حالت ایسی نہ تھی کہ ہمشیر کو سنبھالتا، یہ بے چارے وہیں داجان کی پائنتی سے لگے بیٹھے رہتے اور اِس ننھی بچی کو بھی سنبھالتے۔ امانی بی جان کے پاس ہوتی تھیں۔ داجان کے گھر آنے پر یہ اُن کے ساتھ ہی گھر آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ایک بار اُن کی بڑی بہن ملنے بھی آئیں، بہت واسطے دئیے کہ یہ جا کر علاقہ سنبھال لیں مگر وہ بندے علی ہی کیا جو ہٹ کے پکے نہ رہیں۔ ماں کی وفات ہوئی تو بھی یہ چہلم کو دو دن کے لیے گئے اور اپنی ضد نِبھائی۔

 

تب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کیا تھے اور کیا ہو گئے۔

 

بھائی کی اُن سے بالکل نہ بنتی تھی کہ وہ عمر کے اُس حصے میں تھے جہاں ماں باپ کی لگائی پابندیاں برداشت نہیں ہوتیں کُجا کوئی اور روک ٹوک کرے۔ بندے علی کھیل کودسے کبھی نہیں روکتے تھے بلکہ خود بھی قومی کھیل کے بہت اچھے کھلاڑی رہ چکے تھے اور اُن دِنوں بطور فیصلہ کُنندہ مُلکی سطح کے مُقابلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اُن کی روک ٹوک ہوتی کہ فلاں لڑکا تمباکو پیتے دیکھا تھا میں نے، تم اُس سے کیوں مل رہے ہو، بے وقت کہاں جا رہے ہو، گرمیوں میں دوپہر کو آرام کیا کرو وغیرہ وغیرہ۔ بھائی کبھی کبھی اُن سے نظر بچا کر نکل بھی جاتے لیکن وہ پھر بی جان اور داجان کے پیچھے پڑ جاتے کہ آپ لڑکے کو بگاڑ کر ہی دم لیں گے اور بھائی کے آنے کے بعد اُن سے بھی دِنوں ناراض رہتے، بھائی، تم روٹھے ہم چھوٹے کے مصداق اِتنے دِن اور آزادی مناتے۔ آخر ایک دِن بندے علی خود ہی بداؤں کے پیڑے لے آتے جو بھائی کو بہت پسند تھے اور تھوڑا بہت ڈانٹ کر اُنہیں پاس بُلاکر گلے سے لگا لیتے اور کہتے’ارے ماٹی مِلو، تمہی سب نے ہمیں گڑھے میں اُتارنا ہے، چار کندھے بھی پرائے ہوں تو کیا میّت کیا جنازہ‘۔

 

بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی
اُنہوں نے شادی بھی اِسی لیے نہیں کی کہ آزاد منش اور تھوڑے سنکی تھے اور اپنی طبیعت سے واقف بھی تھے۔ کئی بار بی جان نے کہا، بہنوں نے بھی زور دیا لیکن زیادہ کہنے پر ناراض ہو جاتے اور چپ کر کے باہر نکل جاتے۔ گلی کے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، نامعلوم کس بچے نے اُن کی چھیڑ ماضی میں ہوٹلوں پر کام کرنے کی وجہ سے ’انڈاگریوی‘ رکھ دی، اب یہ نکلتے اور کوئی بچہ باہر ہوتا تو آواز لگا کر غائب ہو جاتا اور یہ بے چارے دیر تک چِڑے رہتے اور غصے میں گھومتے رہتے۔

 

اِس بار بھی سوگ کے مہینے میں وہ اپنے معمول کے مطابق نکل پڑے، مجلس، جلوس، تعزیئے، سبیلیں، بندے علی نے پورے جی جان سے ساری عزاداری کی، دسویں کو رات جب گھر آئے تو طبیعت بہت خراب تھی، ماتم سے خون کی کمی اور کمزوری کافی تھی۔ داجان بھاگم بھاگ اسپتال لے گئے، وہاں معلوم ہوا کہ اِن کی کمرکئی بار زخمی ہونے کی وجہ سے ناقابلِ علاج ہے تو مرہم پٹی کروا کے گھر لے آئے۔ بی جان نے بہت ڈانٹا، منع کیا کہ آج کے بعد آپ سب کچھ کریں گے زنجیرماتم نہیں، یہ بھی سر جھکائے سنتے رہے، کمرے میں گئے، تمباکوپیا، اوندھے لیٹے رہے، سو گئے۔ بھائی نے بھی بستر اُٹھایا، خاموشی سے جا کر اُن کے کمرے میں زمین پر بچھا دیا اور لیٹ گئے۔رات کو خون زیادہ بہہ جانے سے دل کا دورہ پڑا، بھائی اور داجان اسپتال لے کر دوڑے، وہاں اُن کی حالت سنبھل گئی اور صبح اُنہیں لے کر آگئے۔ اب اُن کے نکلنے پر پابندی تھی، بھائی بھی چار پانچ دن ڈبڈبائی آنکھیں لیے ان کے آس پاس گھومتے رہے، پھر کالج کُھلے تو بھی آنے کے بعد اُن کے پاس چلے جاتے اور زیادہ وقت وہیں گُزارتے۔ وہ چہلم سے دو دن پہلے نکلے، بازار جا کر ٹرنک کال بُک کرائی، بہنوں کو فون کیا، گھر واپس آتے ہوئے ہم سب کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے لائے (باوجود اِس کے کہ سوگ کے مہینے میں کبھی نئی چیز نہیں خریدتے تھے)، بی جان کے پاس گئے اور ایسے لہجے میں چہلم کے جُلوس میں جانے کی اجازت مانگی کہ اُنہیں دیتے ہی بنی لیکن زنجیر ماتم سے اُنہیں سختی سے منع کیا۔ یہ بھی وعدہ کر کے چلے گئے۔ چہلم کے روز عصر کا وقت تھا، قریبی عزاخانے سے فون آیا اور اِطلاع دی گئی کہ بندے علی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، داجان اور بھائی فوراً دوڑے لیکن بندے علی اُن کے پہنچنے سے پہلے ہی جا چُکے تھے۔ جو لوگ ان کے ساتھ تھے انہوں نے بتایا کہ وہ بار بار یہی کہہ رہے تھے ‘بی جان کو مت بتانا، بی جان کو مت بتانا’۔
Categories
فکشن

بختک /کابوس

میں دوڑتا جا رہا تھا، آگے اور پیچھے کی تمام چیزیں دُھوئیں میں سے نکلتی اور اسی میں غائب ہوتی جا رہی تھیں۔میں نے دوڑتے ہوئے ایک چھلانگ لگائی اور ہوا میں بہت اوپر ہوتا چلا گیا، اوپر سب صاف تھا، نیچے مجھے اپنی رہنے کی جگہ، وہاں کے تمام راستے سب کچھ نظر آ رہا تھا۔ میں مزید اوپر گیا تو یہ سب کچھ بہت چھوٹا نظر آنے لگا۔ اس طرح ہوا میں رہتے ہوئے مجھے کوئی ڈر نہیں لگا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ نیچے گرنے تک کا خوف بھی نہیں تھا، میں بہت آرام سے تھا۔

 

اب میں دوبارہ نیچے آرہا تھا، شائد میرا وزن مجھے نیچے لے جا رہا تھا۔ نیچے وُہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا۔ نیچے دھوئیں کے ساتھ اب سیاہی بھی شامل ہو رہی تھی، شائد مجھے ایسا لگ رہا ہوکہ سیاہی ہے لیکن دھواں بہت زیادہ تھا،اور بالکل ویسا ہی جیسا ٹھنڈے دنوں میں ہماری رہنے کی جگہوں میں ہوتا ہے۔ اپنے آس پاس کچھ نظر نہیں آتابلکہ ایسا لگتا ہے کہ کبھی آئے گا بھی نہیں۔میں نیچے بہت تیزی سے آیا اور جیسے ہی میرے پیر نیچے لگے میں نے دوبارہ اوپر اٹھنے کی کوشش کی اور میں حیران بھی ہوا کہ میں پھر اوپر جاتا چلا گیا۔ یہ بہت اچھا لگ رہا تھا، نیچے اب بھی وہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا۔

 

اوپر ہوتے ہوئے میں نے سوچا کہ وہ جگہ دیکھوں جو مجھے کئی بار سوتے میں نظر آتی ہے۔ وہ عجیب سے رنگ کی تعمیر، جو راستے پر چلتے ہوئے دیکھنے سے ایسی لگتی ہے جیسے بہت نیچے، راستے سے ہٹ کر بنی ہوئی ہے، لیکن قریب سے دیکھنے پر ، راستے کے کناروں پر لگی حفاظتی سلاخوں کے پار، جن کا کوئی رنگ نہیں ہے، اُن سلاخوں کے پار دیکھنے پر وہ بالکل راستے کے ساتھ ساتھ ہی بنی لگتی ہے۔ اصل میں راستہ اوپر سے نیچے کی طرف جاتا ہے اور وہ تعمیر بالکل اسی طرح کی ہے جیسے نیچے اترتے ہوئے وہ آپ کے ساتھ ساتھ اترتی رہے۔یہ تعمیر دیکھنے کا خیال آتے ہی میں نے مزید اوپر اُٹھنے کی کوشش کی تاکہ اس کی سمت جان کر اُس کی طرف جا سکوں۔اوپر اتنا اوپر کہ نیچے ہر دیکھی جانے والی چیز اپنی پہچان ختم کر بیٹھی۔ سب رنگ آپس میں مل کر تین باقی رہ گئے۔ مجھے اپنا پڑھا ہوایاد آ گیا۔’ہم دیوتاؤں کے نزدیک کیڑوں کے سے ہیں اور وہ ہمیں اپنی تفریح کی خاطر مارتے رہتے ہیں‘۔اتنا اوپر آکر اس پڑھے ہوئے کو آج میں پوری طرح سمجھ پا رہاتھا۔ کسی چیز کی کوئی شکل باقی نہیں تھی اور نہ ہی کوئی خاص ضرورت ۔اور جب یہ سب نہیں تھا تو کوئی بھی چیز ہو یا نہ ہو، اور اگر ہوکر باقی نہ رہے، یا نہ ہو اور ہو جائے، کیا ضروری تھا۔ مجھے حیرت ہوئی جب میں یہاں سے، اتنی اونچائی سے، اس تعمیر اور اس کی وہ سلاخیں دیکھ پایا جن کا کوئی رنگ نہیں تھا۔

 

اب میرا وزن دوبارہ مجھے نیچے لے جا رہا تھا۔ میں اپنی مرضی سے اُس تعمیر کے پاس جا رہا تھا۔ سب رنگ دوبارہ الگ ہونے لگے تھے(جب کہ اوپر وہ صرف تین تھے)، نیچے وہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا۔ میں دوڑتا جا رہا تھا اور اس تعمیر کے قریب تھا۔ ایک جگہ جہاں وہ سلاخیں نہیں تھیں وہاں میں اندر داخل ہوا۔ وہ تعمیر گھوم رہی تھی(اوپر سے ایسا نہیں دکھتا تھا)۔ وہاں موجود ہر چیز کا رنگ کوئی نہیں تھا، بالکل ویسا جیسا اُن سلاخوں کا تھا۔ میں تیزی سے ایک کے بعد دوسرے حصے میں جا رہا تھا، دھواں یہاں بھی تھا، بند جگہ ہونے کی وجہ سے کم ہوگا۔ بہت سے حصے تھے، سب ایک جیسے دکھائے جا رہے تھے، اندر جانے کو کچھ نظر نہیں آتا تھا، ایک جگہ کچھ خالی سا تھا، تعمیر نہیں تھی۔ اندر اُس حصے میں اوپر تین گھومنے والے پر تھے، شائد ہوا دینے کے لئے، لیکن وہ جگہ خود گھوم رہی تھی اور پر وں میں کوئی حرکت نہیں تھی، ہوا بہتر تھی، دھواں کم ہوگیا تھا۔ یہاں وقت بھی تھا۔اس لیے ہوگا کہ وقت دکھانے والا ایک آلہ نظر آ رہا تھا، اس کے نیچے لٹکتا ہوا ، نفی میں حرکت کرنے والا حصہ خاموش تھا، غور سے دیکھنے پر وہ جگہ خود دائیں بائیں حرکت کرتی تھی، مگر وہاں سِمت بھی نہیں تھی،یہ حرکت نفی کی حرکت تھی۔ یہاں وہ آنے والا تھا جس سے میں دوڑ رہا تھا۔وہی جگہ جہاں کچھ خالی سا تھا، میں اسی میں دوڑا اور باہر نکل آیا۔دھواں ویسا ہی تھا، باہر آکر اندر بہتر محسوس ہوا، لیکن وہ تعمیر گھوم رہی تھی اور جہاں وہ سلاخیں نہیں تھیں، وہ جگہ اب کہیں اور تھی، بہرحال نفی کی حرکت باہر نہیں تھی۔

 

اب سامنے ایک سواری دکھائی جا رہی تھی۔ دس حرکت کرنے والے گول وجوداُس سواری کی جسامت بتارہے تھے، اُس کا رنگ چیختا ہوا سا تھا، اندر سے باہر دیکھنے کو کئی جگہیں تھیں، ایک جگہ داخل ہونے کو تھی۔ میں دوڑتا ہوا اُس میں سوار ہو گیا۔

 

یہاں وہ بھی تھا جو عمر میں مجھ سے کچھ کم تھا لیکن وہیں کا تھا جہاں کا میں تھا۔ میرا اُس کا ظاہر ملتا جُلتا تھا، ہمارے پیدا کرنے والے ایک تھے۔ اسے وہاں دیکھ کر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی (اب ہوتی ہے،اُس کا وہاں کیا کام؟)، اس نے مجھے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا ۔ وہاں بیٹھنے کی بہت سی جگہیں تھیں، وہاں کوئی اور نہیں تھا، یا شائد ہو گا، دکھایا نہ گیا ہو۔ یہاں اب تک وہ بھی نہیں تھا جس سے میں دوڑ رہا تھا۔ سواری کچھ خاص نہیں تھی اندر سے، اتنی بھی نہیں کہ کچھ یاد رہ جاتا۔ حرکت شروع ہو گئی۔ میں وہاں تھا جہاں اندر سے باہر دیکھنے کو جگہ تھی۔ وہ جو وہیں کا تھا جہاں کا میں تھا،کوئی بات نہیں کر رہا تھا، میں چاہ رہا تھا کہ میں کوئی بات کروں لیکن بات کرنے کی جگہ حرکت نہیں کرتی تھی۔ شائد اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔ بات کرنے کو وہاں کچھ تھا بھی نہیں، یہ سب کچھ پہلے بھی کئی بار دکھایا گیا تھا۔

 

جہاں میں بیٹھا تھا وہاں حرکت بہت آہستہ محسوس ہو رہی تھی، مجھے اُلجھن ہونے لگی۔ میں نے برابر میں دیکھا، وہ مطمئن تھا۔ شائد اُس کی طرف حرکت تیز تھی۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا، ایک ہی حرکت کرتی ہوئی سواری میں موجود ہوتے ہوئے اُس کی اور میر ی حرکت میں فرق کیسے ہو سکتا تھا۔ اُس کو دیکھ کر بہرحال یہ لگتا تھا کہ وہ مطمئن ہے۔ میں باہر دیکھنے کو مُڑا، باہر سب کچھ آگے کی طرف دوڑ رہا تھا، تمام رنگ جو الگ الگ تھے، آگے کو دوڑ رہے تھے۔ میں مطمئن ہو کر بیٹھ گیا(اس وقت رنگ اور چیزیں پیچھے کی طرف دوڑنے کے بجائے آگے کو دوڑ رہے تھے، اور میں مطمئن تھا، اب سوچ کر کچھ عجیب سا لگ رہا ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے وہ بھی اس وقت ایسا ہی مطمئن ہویا شاید اُس کی طرف حرکت اتنی تیز ہو کہ اُسے اندازہ ہی نہ ہو، کچھ بھی ممکن تھا)۔ میں مطمئن ہو کر آرام سے لیٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی۔

 

یہاں میں پھر دوڑ رہا تھا۔اور یہاں وہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا۔میں دوبارہ چھلانگ لگا کر ہوا میں بہت اوپر ہوتا چلا گیا، اوپر سب صاف تھا، نیچے مجھے اپنی رہنے کی جگہ، وہاں کے تمام راستے سب کچھ نظر آ رہا تھا۔اب کے میں کوشش کر رہا تھا کہ میں نیچے نہ آپاؤں۔ میں ایک رفتار میں سیدھا، وہیں، رہنا چاہ رہا تھا جہاں میں موجود تھا۔خبر نہیں کیسے، مگر یہ ممکن ہو گیا۔ اب اچانک نیچے سب کچھ صاف نظر آ رہا تھا۔ دھواں غائب ہو گیا تھا۔سیاہی تھی لیکن سب چیزیں دکھائی دے رہیں تھیں۔ وہ جگہ جہاں میں نے لفظ جاننا سیکھے وہ نظر آ رہی تھی، رنگ پر سیاہی غالب تھی۔ وہ جگہ جہاں میں اپنے ماں جایوں کے ساتھ گھومتا تھا، جہاں خوب صورت سبز میدان تھے، جہاں ہیبت ناک اونچائیاں تھیں اور اُن میں سے گزرنے کے لیے راستے تھے، جہاں خداؤں کے گھر تھے، جہاں خداؤں کے پیاروں کی یاد منائی جاتی تھی، رنگ پر سیاہی غالب تھی۔ جہاں میرے جیسے اور بہت سے، میرے ساتھ بے مقصد گھومتے تھے، روشنی ہونے سے پہلے بغیر کسی خوف کے نکلتے تھے، روشنی ہونے کے دیر بعد لوٹتے تھے، کوئی مقصد ہونا باہر جانے کے لیے ضروری نہیں ہوتا تھا،اندھیرے کے بعد بھی خداؤں کے پیارے بندوں کے رہنے کی جگہیں کھلی رہتی تھیں، سب نظر آ رہا تھا۔ جہاں اندھیرے کے بعد میں اور میرے جیسے اور بہت سے، صرف بولنے بیٹھا کرتے تھے۔ وہ جگہ جہاں مجھے پیدا کرنے والے صرف کھیلنے لے جایا کرتے تھے (جہاں میں اُن کونہیں لے جا سکتا جو مجھ سے پیدا ہوئے ہیں یا ہوں گے)، وہ جگہ جہاں بہت سے سبز وجود جھومتے تھے اور کئی دوسرے رنگ اُن میں آکر مل جاتے تھے، وہ جگہ جہاں نیلا رنگ نمایاں تھا، جہاں موسم کی سختی کم کرنے میرے جیسے اور بہت سے آجایا کرتے تھے، سب مل کر اُس موسم کا زرد اوراچھے مزے کا پھل کھایا کرتے تھے۔ رنگ ان دنوں صرف تین نہیں تھے، ایک دوسرے سے مل کر اتنے ہو جاتے تھے کہ شمار ممکن نہیں تھا۔ جہاں ایزد بخش، مختلف چھوٹی چیزیں پیسوں کے بدلے میں دینے والابیٹھتا تھا، وہ جگہ بھی نظر آرہی تھی، ایزد بخش نہیں تھا۔ سیاہی بڑھنے لگی تھی، اب سیاہی اتنی بڑھ گئی تھی کہ مجھے نیچے، جس کی وجہ سے میں دوڑ رہا تھا، وہ بھی نہیں دکھتا تھا۔ میں اوپر تھک چکا تھا، اب کچھ دکھتا بھی نہیں تھا، میرا وزن مجھے مسلسل بہت کم رفتار سے نیچے دھکیل رہا تھا۔ جیسے ہی میرے پیر نیچے لگے مجھے لگا کہ جس کی وجہ سے میں دوڑ رہا تھا، میرے سامنے ہے۔

 

میری نیند ختم ہو گئی۔ میں نے برابر میں دیکھا، وہ مجھے دیکھ رہا تھا، وہ جو وہیں کا تھا جہاں کا میں تھا، اسی سواری میں ہم دونوں وہیں تھے جہاں مجھے نیند آ گئی تھی۔ لیکن اُس کے سر کے بال بہت زیادہ بڑھ گئے تھے، اور سفیدی اُن میں بہت زیادہ تھی، اس کے وجود کی لکیریں ایسے تھیں جیسے وہ عمر میں مجھ سے بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ وہ مجھے ابھی تک دیکھ رہا تھا، شائد میرے بالوں کی سفیدی غائب ہو گئی ہو اور میرے وجود کی لکیریں تن گئی ہوں۔ یہ میرا خیال تھا۔ شائد اُس کی طرف حرکت تیز تھی اور میری طرف رنگ اور چیزیں پیچھے کی طرف دوڑنے کے بجائے آگے کو دوڑ رہے تھے۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا، ایک ہی حرکت کرتی ہوئی سواری میں موجود ہوتے ہوئے اُس کی اور میر ی حرکت میں فرق کیسے ہو سکتا تھا۔ اُس کو دیکھ کر بہرحال یہ لگتا تھا کہ وہ مطمئن نہیں ہے۔ میں نیند میں نہیں تھا لیکن معلوم نہیں کیوں سب ایسا ہی لگ رہا تھا۔

 

سواری رک گئی۔ باہر دھوئیں میں ویسی بہت سی سواریاں دکھائی جا رہی تھیں۔ وہ جو وہیں کا تھا جہاں کا میں تھا وہ مجھ سے مل کر بے سمت چلا گیا۔ یہاں وہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا، میں دوڑتا جا رہا تھا، آگے اور پیچھے کی تمام چیزیں دُھوئیں میں سے نکلتی اور اسی میں غائب ہوتی جا رہی تھیں لیکن میں چھلانگ نہیں لگا سکتا تھا، یہ اختیار اب لے لیا گیا تھا۔ میں تھک گیا تھا، میں دوڑتے ہوئے بالکل رک گیا، گھوم کر دیکھا، جس کی وجہ سے میں اندھا دھند دوڑ رہا تھا، وہ اب میرے سامنے تھا۔ وہ میرے جیسے اور بہت سوں جیسا تھا۔ اس کے سر کے بالوں کے بجائے چہرے کے بال بہت زیادہ تھے (شائد سر کے بال نہیں تھے) اور سیاہی غالب تھی، وہ مجھے گرا کر مجھ پر چڑھ بیٹھا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے میرا دم گھونٹ رہا تھا۔ میں چیخ نہیں پاتا تھا، مجھے جھٹکے لگنے شروع ہو گئے۔ وہ تعمیر گھوم رہی تھی۔ یہ حرکت نفی کی حرکت تھی۔ سب رنگ آپس میں مل کر تین بچ گئے۔ اگر ہو کر باقی نہ رہے یا نہ ہو اور ہو جائے، کیا ضروری تھا۔ اُس کا رنگ چیختا ہوا سا تھا۔ بات کرنے کی جگہ حرکت نہیں کرتی تھی۔ وہ جگہ جہاں میں اپنے ماں جایوں کے ساتھ گھومتا تھا۔ ایزد بخش نہیں تھا۔ سیاہی بڑھتی جا رہی تھی۔

 

(در این حالت بھترین روش برای خلاصی از حالت فلج، تمرکز روی حرکت اعضای بدن است. سعی کنید دست ھا و پاھا و انگشتان خود را تکان دھید و حتی پلک بزنید. اگر قادر بہ حرکت بدن خود نیستید، این کار را در ذہن خود القا کنید. تصور کنید کہ سرتان یا بخشی از بدنتان را تکان می دھید. این کار مغز شما را برای فرستادن پیام ھای عصبی فعال می کند. بہ طور کلی سعی کنید وضعیت خروج از بدن را در وجود خود القا کنیدُ۔)

Image: Jordi collell

Categories
فکشن

اور دیکھنا اس پیکرِ کمال کو، چیت کی ایک سہانی صبح

[blockquote style=”3″]

معروف جاپانی مصنف ہاروکی مورا کامی کی کہانی “On seeing the 100% perfect girl one beautiful April morning” کا ترجمہ حسنین جمال نے کیا ہے جسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اپریل کی ایک خوب صورت صبح ٹوکیو کے سب سے فیشن ایبل علاقے ہاروجوکو سے گزرتے ہوئے میں نے وہ لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی۔

 

سچ کہوں تو وہ اتنی حسین دکھنے والی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی طرح دوسروں سے الگ نہیں دکھتی۔ اس کے کپڑے بھی کچھ ایسے خاص نہیں ہیں۔ سر کی پچھلی طرف اس کے بال ایسے مڑے ہوئے ہیں جیسے ابھی سو کر اٹھی ہو۔ وہ اتنی کم عمر بھی نہیں ہے۔کم از کم تیس کے قریب ضرور ہو گی۔ تو کل ملا کر کچھ ایسی خاص لڑکی بھی نہیں ہے۔ لیکن میں، پچاس گز دور سے دیکھ کر ہی یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ لڑکی ہے جو سو فی صد میرے لیے ہی بنی ہے۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میرے سینے سے ایک لمبی سانس نکلی اور میرا منہ خشک تھا۔

 

کسی لڑکی کی خوب صورتی کے لیے ہو سکتا ہے آپ کا معیار کچھ اور ہو۔ جیسے، اس کے پاؤں نازک ہونے چاہییں، یا، کہہ لیجیے کہ اس کی آنکھیں بڑی ہوں، یا پتلی انگلیاں اور یا آپ بغیر کسی خاص وجہ کے، صرف ایسی لڑکیوں میں کشش محسوس کرتے ہوں جو ہر کھانے کے ساتھ مکمل انصاف کرتی ہیں۔ اچھا، اب ظاہر ہے میری کچھ اپنی ترجیحات ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہو گا کہ میں صرف ایک خوب صورت ناک کے چکر میں سالم لڑکی کو گھورتا ہوا پایا جاوں گا۔

 

لیکن اب یہ کون کہہ سکتا ہے کہ کسی شخص کے معیار کے سو فی صد مطابق پائی جانے والی لڑکی اس سے بالکل ویسے ہی بات چیت کرے جیسے وہ پہلے سے طے کیے بیٹھا ہے۔ کیوں کہ عموماً میری توجہ ہر طرح کی ناک کی بناوٹ پر ہی ہوتی ہے اس لیے میں صحیح طور سے جسمانی نشیب و فراز پر کچھ روشنی نہیں ڈال سکتا۔ اس کا جسم تھا بھی یا نہیں۔ ہاں، جہاں تک یاد پڑتا ہے وہ کچھ خاص خوب صورت نہیں تھی۔

 

‘کل، سر راہ میں نے ایک ایسی لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی’ میں نے کسی سے کہا۔

 

‘ہیں’، وہ بولا، ‘کیا وہ خوب صورت تھی؟’

 

‘نہیں، اب ایسا بھی نہیں۔’

 

‘تو پھر تمہاری کچھ خاص پسند کا معاملہ تھا؟’

 

‘میں کچھ کہہ نہیں سکتا، بس یوں لگتا ہے جیسے مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی یاد نہ ہو۔ جیسے اس کی آنکھیں کیسی تھیں، یا اس کے حسین جسمانی ابھار کیا تھے۔’

 

‘حد ہے!’

 

‘ہاں، ہے تو عجیب ہی۔’

 

اب وہ بوریت سے کہنے لگا، ‘چلو پھر بھی، تم نے کیا کیا؟ بات کی؟ اس کے پیچھے گئے؟’

 

‘نہیں، بس گلی میں یوں ہی اس کے ساتھ سے گزرا تھا۔’

 

وہ مغرب کی سمت جا رہی ہے اور میں اس سمت سے آ رہا ہوں۔ اپریل کی یہ صبح واقعی حسین ہے۔

 

کاش میں ا س سے بات کر سکتا۔ آدھ گھنٹہ ہی کافی ہوتا۔ کرنا ہی کیا تھا، کچھ اس کے بارے میں پوچھتا، کچھ اپنا بتاتا۔ بہت کہہ پاتا تو اسے یہ بتاتا کہ قسمت کی ستم ظریفی کیسے اپریل 1981 کی ایک خوب صورت صبح ہاراجوکو میں ہمیں سرراہ ایسے پاس سے گزار دیتی ہے۔ اس معاملے میں یقیناً کئی راز چھپے تھے۔ عین وہی سکون اس واقعے سے پہلے تھا جیسا دنیا میں گھڑی کی ایجاد سے پہلے ہوتا ہو گا۔ یوں ہی سا معاملہ تھا یہ سب۔

 

بات کرنے کے بعد ہم کہیں کھانا کھا لیتے یا وڈی ایلن کی دل چسپ سی کوئی فلم دیکھ لیتے۔ یا راستے میں کسی ہوٹل کے بار سے کچھ پینے رک جاتے۔ اور پھر کیوپڈ کا ایسا میربان تیر چلتا کہ یہ ملاقات بستر تک جا کر ختم ہوتی۔
یہ سب کچھ حقیقت میں بدلنے کا خیال میرے دل میں دھڑکنے لگا۔

 

اب ہمارے بیچ پندرہ گز کا فاصلہ رہ گیا تھا۔

 

میں اس کے پاس جاوں، کہوں کیا؟

 

‘صبح بخیر، کیا ایک مختصر سی بات چیت کے لیے آپ صرف آدھا گھنٹہ مجھے دے سکیں گی؟’

 

تف ہے، میں بالکل ایسا لگوں گا جیسے کوئی بیمہ پالیسی بیچنے والا ہو۔

 

‘معاف کیجیے گا، یہاں آس پاس کوئی ایسی لانڈری ہے جو راتوں رات کپڑے دھو کر تیار کر دے؟’

 

نہیں بھئی، یہ بھی ویسا ہی احمقانہ خیال ہے، اور میرے پاس تو کوئی میلے کپڑے بھی نہیں۔ ویسے بھی کسی ملاقات میں پہلی بات ہی اس طرح کی، کون کرنا چاہے گا۔

 

شاید سیدھے سبھاو بات کرنا بہتر رہے گا۔ ‘صبح بخیر، آپ سو فی صد میرے خوابوں میں پائی جانے والی لڑکی ہیں۔’
نہیں، وہ اس پر یقین ہی نہیں کرے گی۔ اور اگر کر بھی لیا تو بھی شاید وہ مجھ سے بات ہی نہ کرنا چاہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ ٹھیک ہے، میں ہوں گی سو فی صد آئیڈیل لڑکی آپ کے لیے، مگر بصد معذرت، میرے آپ کے بارے میں ایسے کوئی خیالات نہیں ہیں۔

 

ایسا ہو بھی سکتا ہے۔

 

اور اگر ایسا ہو گیا تو میں وہیں بکھر کر رہ جاوں گا۔ میں اس صدمے سے شاید کبھی باہر نہ آ سکوں۔ اب میں بتیس برس کا ہو چلا ہوں، اور بس یہی سارا معاملہ ہے۔

 

ہم ایک پھولوں کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ تازہ ہوا کا ایک لطیف سا جھونکا مجھے محسوس ہوتا ہے ۔ راستے کی گھٹن اچانک تازہ گلاب کی خوشبو آنے سے کچھ اور کم ہو جاتی ہے۔ میں اپنے آپ کو اس سے بات کرنے پر آمادہ نہیں کر پاتا۔اس نے ایک سفید سوئیٹر پہن رکھا ہے اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک سفید براق خط کا لفافہ ہے، اس پر صرف ٹکٹ نہیں لگا ہوا۔ تو گویا اس نے کسی کو خط لکھا ہے۔ اور ویسے اس کی آنکھوں کے خمار سے بھی یہی لگتا ہے جیسے ساری رات شاید یہی لکھنے میں بتا دی۔ اس لفافے میں شاید وہ تمام راز ہوں جو ابھی تک ان کہے ہیں۔

 

بے چینی سے میں وہیں منڈلاتا رہا اور ایک بار جو مڑا تو وہ ہجوم میں غائب ہو چکی تھی۔

 

اب ظاہر ہے مجھے بالکل واضح ہو گیا کہ دراصل میں اس سے کیا بات کرتا۔ وہ، ایک لمبی تقریر ہوتی۔ جی ہاں، وہ اتنی لمبی ہوتی کہ میں اسے ٹھیک سے ادا ہی نہ کر پاتا۔ اف! مجھے جو بھی خیالات آتے ہیں وہ زیادہ قابل عمل نہیں ہوتے۔

 

اوہ، یاد آیا، ‘ایک دفعہ کا ذکر ہے’ بات اس جملے سے شروع ہوتی اور ‘کیا یہ واقعی ایک اداس کہانی نہیں؟’ اس پر ختم ہو جاتی۔

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوتے تھے۔ لڑکا اٹھارہ سال کا تھا اور لڑکی سولہویں سال میں تھی۔ لڑکا بہت زیادہ خوب رو نہیں تھا، وہ لڑکی بھی اتنی دلکش نہیں تھی۔ وہ دونوں بالکل عام سے ایک لڑکا لڑکی تھے۔ جیسے کوئی بھی دوسرا ہو سکتاہے۔ مگر انہیں پورا یقین تھا کہ اس دنیا میں کہیں نہ کہیں ان کا ایک چاہنے والا موجود ہے جو سو فی صد ان کے خوابوں جیسا ہے۔ جی ہاں انہیں معجزوں پر یقین تھا۔ اور وہ معجزہ واقعی میں ہو گیا۔

 

ایک دن وہ دونوں ایک گلی کے موڑ پر آمنے سامنے آ گئے۔

 

لڑکا بولا، ‘یہ بہت حیران کن بات ہے، میں تمام عمر تمہیں تلاش کرتا رہا ہوں، تم شاید اس بات پر یقین نہ کرو، مگر تم سو فی صد وہی لڑکی ہو جیسی میرے خوابوں میں موجود تھی۔’

 

‘اور تم’، لڑکی اس سے کہنے لگی، ‘تم سو فی صد میرے خوابوں کے شہزادے ہو۔ عین ویسے ہی، جیسے میں نے کبھی سوچا تھا۔ یہ سب کہیں خواب تو نہیں؟’

 

وہ دونوں قریب ہی موجود باغ میں ایک بینچ پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بیٹھ جاتے ہیں اور کئی گھنٹے ایک دوسرے کو اپنی کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔ وہ اب اکیلے نہیں تھے۔ انہیں اپنا خواب، اپنا سو فیصد مثالی ساتھی مل گیا تھا۔ یہ کیا ہی خوب صورت بات ہے کہ آپ کو اپنا سو فی صد آئیڈیل مل بھی جائے اور آپ بھی اس کے آئیڈیل ہوں۔ یہ تو بھئی معجزہ ہوا۔ کائنات کا ایک حیران کن معجزہ!

 

اب وہ بیٹھے رہے اور بات کرتے رہے۔لیکن ایک معمولی سی، بالکل باریک سی شک کی ایک دراڑ ان کے ذہنوں میں موجود تھی۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی کے خواب اتنی آسانی سے حقیقت میں بدل جائیں؟

 

اور تب، جب ان کی باتوں میں دم لینے کو ایک وقفہ آیا تو لڑکے نے لڑکی سے کہا۔ ‘ہمیں صرف ایک بار اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا واقعی ہم سو فی صدی ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں؟ اگر واقعی ایسا ہے، تو ہم کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی ملیں گے ضرور۔ اور جب ایسا ہو گا اور ہم جانتے ہوں گے کہ ہم سو فی صد ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں تو ہم وہیں کے وہیں شادی کر لیں گے۔ کیا خیال ہے؟’

 

‘ہاں’، لڑکی نے کہا، ’ہمیں واقعی یہی کرنا چاہیے۔’

 

اور پھر وہ جدا ہو گئے۔ لڑکی مشرق کو اور لڑکا مغرب کی سمت چلا گیا۔

 

ویسے یہ آزمائش جس کے بارے میں وہ دونوں متفق تھے، قطعی غیر ضروری تھی۔ انہیں یہ بات کبھی نہیں ماننا چاہیے تھی کیوں کہ دراصل وہ دونوں واقعی میں سو فی صد ایک دوسرے کے لیے ہی بنے تھے۔ اور یہ ایک معجزہ تھا کہ وہ ایسے مل لیے تھے۔ مگر اس کم عمری میں ان کے لیے یہ جاننا ممکن نہیں تھا۔ قسمت کے سمندر کی سرد اور بے نیاز لہروں نے انہیں بے رحمی سے اچھال دیا تھا۔

 

ایک دفعہ سردیوں میں لڑکے اور لڑکی، دونوں کو بہت شدید موسمی زکام نے آ لیا۔ کئی ہفتے وہ دونوں زندگی اور موت کی بے کراں سرحدوں پر بھٹکتے رہے۔ یہاں تک کہ انہیں گذشتہ زندگی کے تمام واقعات بھول گئے۔ جب وہ صحت یاب ہوئے تو ان کے دماغ بالکل ایک کوری تختی کے مانند تھے۔ اتنے خالی کہ جیسے کبھی بچپن میں بے چارے ڈی۔ایچ۔لارنس کی گلک ہوتی ہو گی۔

 

وہ دونوں پرعزم اور ذہین تھے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ان تھک کوششوں کی وجہ سے دوبارہ اس قابل ہو گئے تھے کہ وہ تمام علم اور حسیات دوبارہ سیکھ جائیں کہ جن کی مدد سے وہ معاشرے میں کارآمد ہو سکتے تھے۔

 

خدا نے اپنا فضل کیا۔ وہ دونوں واقعی معاشرے کے معزز شہری بن گئے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ایک سب وے لائن سے دوسری پر کس طرح جانا ہے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ڈاک سے رجسٹری کس طرح بھیجی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ انہیں دوبارہ مبتلائے محبت ہونے کا بھی اتفاق ہوا جو 75 فیصد اور کبھی 85 فیصد تک بھی ہو جاتا تھا۔ وقت ناقابل یقین تیزی سے گزرا، جلد ہی لڑکا بتیس سال کا اور لڑکی تیس سال کی ہو گئی۔

 

اپریل کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ دن کا آغاز گرماگرم کافی کے ایک کپ سے کرنے کے خیال میں گم لڑکا مغرب سے مشرق کی طرف جا رہا تھا۔ جب کہ لڑکی مشرق سے مغرب کو اس خیال میں رواں تھی کہ ایک خط رجسٹرڈ ڈاک سے بھجوایا جا سکے۔ مگر ٹوکیو کے نواح میں واقع ہاروجوکو کی اسی تنگ سی گلی سے گزرتے ہوئے عین گلی کے درمیان وہ ایک دوسرے کے قریب سے گزرے۔ ان کے دلوں میں گمشدہ یادوں کی ہلکی سی ایک کرن صرف ایک لمحے کو نمودار ہوئی۔ دونوں نے اپنے سینوں میں ایک سرد سی آہ محسوس کی۔ اور وہ جانتے تھے۔

 

وہ لڑکی سو فیصد میرے خوابوں کی شہزادی ہے۔

 

وہ لڑکا سو فیصد میرے خوابوں کا شہزادہ ہے۔

 

مگر ان یادوں کی چمک بہت کم تھی۔ اور چودہ سال گزرنے کی وجہ سے وہ سب یادیں پہلے کی سی واضح نہیں تھیں۔
ایک لفظ کہے بغیر وہ ایک دوسرے کے پاس سے گزرے اور ہمیشہ کے لیے ہجوم میں کھو گئے۔

Image: Duy Huynh