آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے
آج تو جیسے ساری دنیا
ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے
خیر تجھے تو جانا ہی تھا
جان بھی تیرے ساتھ چلی ہے
اب تو آنکھ لگا لے ناصرؔ
دیکھ تو کتنی رات گئی ہے
آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے
آج تو جیسے ساری دنیا
ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے
خیر تجھے تو جانا ہی تھا
جان بھی تیرے ساتھ چلی ہے
اب تو آنکھ لگا لے ناصرؔ
دیکھ تو کتنی رات گئی ہے
کلام: عبیداللہ علیم
آواز: رونا لیلیٰ
بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص
تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے
فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص
میں کس ہوا میں اڑوں کس فضا میں لہراؤں
دکھوں کے جال ہر اک سو بچھا گیا اک شخص
محبتیں بھی عجب اس کی نفرتیں بھی کمال
مری ہی طرح کا مجھ میں سما گیا اک شخص