Categories
شاعری

جنت اور جہنم کے درمیان کی لکیر

رتھ فاؤ
کاش تم نے
کوڑھی دماغوں کے
علاج کے لیے بھی کوئی نسخئہ اکسیر
تجویز کردیا ہوتا
رتھ فاؤ
برص کے سفید داغوں جیسے
احساس سے عاری ،
یہ دل و دماغ
تمھارے پیار کی خوشبو تو لنے کے لیے
خدائی نام کےبا ٹ اور ترازوں
تھامے ہوئےبازار تک آگئے ہیں
رتھ فاؤ
زخمی ہاتھ پیر کی مرہم پٹی کرنے
میں تم اتنی مشغول تھیں
کہ ان کے شعور کی جراثیم زدہ رطوبت
تمہارے علاج سے بچ گئی تھی

رتھ فاؤ
تمہیں تو ڈراونی شکلوں سے خوف نہیں آتا
مگر مجھے ان کے تحلیل شدہ،
جھڑتے ہوئے متعصب نظریوں کے فضا میں پھیلنے سے
خوف آ رہا ہے
رتھ فاؤ! مگر مجھے معلوم ہے
یہ سب لوگ جنت اور جہنم کے درمیان کی
لکیریں ٹاپتے ٹاپتے،
دیکھتے رہ جائیں گے
اور تم ابد تلک تخت خداوندی
کے طلسماتی جلو میں جھلملاتی رہو گی

Categories
شاعری

ماں رتھ فاؤ

ماں رتھ فاؤ !
تھوڑی دیر ذرا یہ جیون آنکھیں کھولو
مجھ کو اپنے نرم مسیحا ہاتھوں پر بوسہ دینے دو
جن رحمان صفت ہاتھوں نے
زخموں کا مذہب نہیں دیکھا
آہوں سے مسلک نہیں پوچھا
ماں رتھ فاؤ
تم کو جنّت سے کیا لینا
تم خود دھرتی کی جنّت ہو !
ماں رتھ فاؤ
دھرتی کو جنّت سے خالی مت کر جاؤ
ایک جنم پھر سے لے آؤ
ماں رتھ فاؤ
آؤ !
اپنے بچّوں میں پھر سے آ جاؤ !
ماں رتھ فاؤ !

Categories
شاعری

عشرہ // خیر سے آؤ خیر سے جاؤ

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

رُوتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ
کم سے کم بھی کہیں تو نصف صدی
جسم کے کوڑھ کا علاج کیا

ایک دو فیصدی جذامی تھے
باقی سو فیصدی حرامی تھے
کوئی تو کہتا: دائرہ پھیلاؤ!

دست و پا سے دل و دماغ تک آؤ!
سب سمجھتے ہیں اپنی نیکی، بدی
خود کو بدلے، یہ وہ سماج نہیں
ذہن کے کوڑھ کا علاج نہیں