Categories
شاعری

عشرہ // ماں

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ماں
باورچی خانے میں کچناروں کی دھیمی خوشبو زندہ تھی

 

اک ہانڈی میں دال مسور کی مہر بہ لب تھی، تیری طرح لگی
اور دوجی میں کڑوے آنسو ابل رہے تھے … جانے کس کے

 

گھر کے موجودہ نوکر نے چاے آگے رکھ دی: سنا ہے آپ بہت مشہور ہیں؟
اس کے سوال میں اس کا جواب تھا

 

میں جو تیری عورت آنکھوں کا پہلا خواب تھا
کیوں نہیں پورا ہوا، پوری طرح؟
میرے سوال میں میرا جواب تھا

 

کلًم کلًا، دوہری ہجرت لئے پھرتا ہوں
تیرے صدقے سب سے محبت کئے پھرتا ہوں
Categories
شاعری

مائے

مائے
سُنو ماں
جی نہیں لگتا
قسم سے !
اب تمہارے بِن یہاں پر جی نہیں لگتا
تم اچھی تھیں بہت مائے !
بتایا تک نہیں مجھ کو
بِنا سسکی بھرے، اک خواب میں سوئیں
تو جاگیں دوسری جانب
اور اتنی دور جا نکلیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی
ہمیشہ ڈانٹتی تھیں تم
” بتائے بن کبھی بھی دیر تک باہر نہ بیٹھا کر”
مگر خود کَیا کِیا مائے !!!
کوئی ایسے بھی کرتا ہے ؟؟
عدم آباد کی دیوار کے اُس پار ایسے جا کے بیٹھی ہو
جہاں سے یاد آ سکتی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ تم نہیں مائے !!!
جہاں تم ہو
وہاں سب خیر ہے، پیارا ہے اور سر سبز ہے سب کچھ
وہاں دھڑکا نہیں کوئی
یہاں خطرہ ہی خطرہ ہے
یہاں تنبیہ پر تکفیر لاگو ہے
ہوس زادوں کے ہاتھوں عشق کی تحقیر لاگو ہے
میں اب تک اُس خدا کے ساتھ ہوں
جس کا تعارف تم نے بچپن میں کرایا تھا
بتایا تھا
خدا ظلمت نہیں ہوتا
خدا خود آگہی کا اسمِ اعظم ہے
خدا کے نام لیوا، نام لیوائی کا خدشہ بھی نہیں رکھتے
تمہی نے تو سکھایا تھا
علی اپنا، حسین اپنا، عُمر اپنا، ہر اک صدّیق ہے اپنا
کوئی جھگڑا نہیں تھا
ہم سبیلیں خود لگاتے تھے
محرّم کے دنوں میں کوئی گھر میں بھی اگر ہنستا تو تم کچھ بولتی کب تھیں !
نگاہوں ہی نگاہوں میں کوئی تنبیہ تھی جو جاری ہوتی تھی
وہ کیسی سرزنش تھی
جو نہایت پیار سے تعلیم دیتی تھی
تو سب بچوں کی آنکھوں میں محرّم جاگ اٹھتا تھا !
بھلا ہم ایسے لا علموں کو کب معلوم ہوتا تھا
کہاں ہنستا کہاں ہنسنا نہیں ہے
تم بتاتی تھیں
مجھے سب یاد ہے مائے !
تمہارا مجھ سے یہ کہنا
” علی پتّر تُو پنجابی اچ نئیں لکھدا؟
جے نئیں لکھدا تے لکھیا کر
فقیراں عاشقاں سُچیاں دی دھرتی دی بڑی انمول بولی اے”
میں لکھدا سی مِری مائے !
ترے پیراں دی مٹی دی قسم مائے !
میں پنجابی بھی لکھتا تھا
مگر تم کو سنانے کی کبھی ہمت نہ پڑتی تھی !
تمہاری قبر کی مٹی کی خوشبو سے لپٹتا ہوں
تو پھر یہ سوچتا ہوں
کس جگہ ہوں میں
میں جب تکفیر کے تیروں سے چھلنی لوگ تکتا ہوں
تو کہتا ہوں
خدا کے نام لیواوں کو اک ” ماں” کی ضرورت ہے
جو ان کو نرم کر پائے
جو ان کو یہ بتا پائے
خدا ظالم نہیں ہوتا
سنو مائے !
میں تم کو یاد کرتا ہوں
خدا بھی یاد آتا ہے
خدا کو یاد کرنا بھی تمھی نے تو سکھایا تھا !

Image: Sagarika Sen