Categories
شاعری

ایسی نظموں کی حمایت کا انجام گمشدگی ہے

تخت کو درخت کی بد دعا لگ گئی ہے
اور وہ نا اہل ہو چکا ہے
لیکن بندوق کبھی کوئی رسوائی نہیں دیکھے گی
کیونکہ لوہے پر کوئی بد دعا اثر نہیں کرتی
ترازو بہت کمزور ہے
اور لوہے کا وزن بہت زیادہ
تمام اہلِ محلہ اس پر اسرار نظم کی حمایت سے باز رہیں
ایسی نظموں کی حمایت کا انجام گمشدگی ہے

Image: Hadia Moiz

Categories
شاعری

مائے

مائے
سُنو ماں
جی نہیں لگتا
قسم سے !
اب تمہارے بِن یہاں پر جی نہیں لگتا
تم اچھی تھیں بہت مائے !
بتایا تک نہیں مجھ کو
بِنا سسکی بھرے، اک خواب میں سوئیں
تو جاگیں دوسری جانب
اور اتنی دور جا نکلیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی
ہمیشہ ڈانٹتی تھیں تم
” بتائے بن کبھی بھی دیر تک باہر نہ بیٹھا کر”
مگر خود کَیا کِیا مائے !!!
کوئی ایسے بھی کرتا ہے ؟؟
عدم آباد کی دیوار کے اُس پار ایسے جا کے بیٹھی ہو
جہاں سے یاد آ سکتی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ تم نہیں مائے !!!
جہاں تم ہو
وہاں سب خیر ہے، پیارا ہے اور سر سبز ہے سب کچھ
وہاں دھڑکا نہیں کوئی
یہاں خطرہ ہی خطرہ ہے
یہاں تنبیہ پر تکفیر لاگو ہے
ہوس زادوں کے ہاتھوں عشق کی تحقیر لاگو ہے
میں اب تک اُس خدا کے ساتھ ہوں
جس کا تعارف تم نے بچپن میں کرایا تھا
بتایا تھا
خدا ظلمت نہیں ہوتا
خدا خود آگہی کا اسمِ اعظم ہے
خدا کے نام لیوا، نام لیوائی کا خدشہ بھی نہیں رکھتے
تمہی نے تو سکھایا تھا
علی اپنا، حسین اپنا، عُمر اپنا، ہر اک صدّیق ہے اپنا
کوئی جھگڑا نہیں تھا
ہم سبیلیں خود لگاتے تھے
محرّم کے دنوں میں کوئی گھر میں بھی اگر ہنستا تو تم کچھ بولتی کب تھیں !
نگاہوں ہی نگاہوں میں کوئی تنبیہ تھی جو جاری ہوتی تھی
وہ کیسی سرزنش تھی
جو نہایت پیار سے تعلیم دیتی تھی
تو سب بچوں کی آنکھوں میں محرّم جاگ اٹھتا تھا !
بھلا ہم ایسے لا علموں کو کب معلوم ہوتا تھا
کہاں ہنستا کہاں ہنسنا نہیں ہے
تم بتاتی تھیں
مجھے سب یاد ہے مائے !
تمہارا مجھ سے یہ کہنا
” علی پتّر تُو پنجابی اچ نئیں لکھدا؟
جے نئیں لکھدا تے لکھیا کر
فقیراں عاشقاں سُچیاں دی دھرتی دی بڑی انمول بولی اے”
میں لکھدا سی مِری مائے !
ترے پیراں دی مٹی دی قسم مائے !
میں پنجابی بھی لکھتا تھا
مگر تم کو سنانے کی کبھی ہمت نہ پڑتی تھی !
تمہاری قبر کی مٹی کی خوشبو سے لپٹتا ہوں
تو پھر یہ سوچتا ہوں
کس جگہ ہوں میں
میں جب تکفیر کے تیروں سے چھلنی لوگ تکتا ہوں
تو کہتا ہوں
خدا کے نام لیواوں کو اک ” ماں” کی ضرورت ہے
جو ان کو نرم کر پائے
جو ان کو یہ بتا پائے
خدا ظالم نہیں ہوتا
سنو مائے !
میں تم کو یاد کرتا ہوں
خدا بھی یاد آتا ہے
خدا کو یاد کرنا بھی تمھی نے تو سکھایا تھا !

Image: Sagarika Sen

Categories
شاعری

مجھے معلوم کر لینا

مجھے معلوم کر لینا
مجھے معلوم کر لینا
کسی بجھتی ہوئی تاریخ کے ان حاشیوں اندر
جہاں کچھ ان کہی باتیں
ہمارے مشترک احساس کی تسبیح شاید اب بھی پڑھتی ہوں
مجھے لوگوں کے قصّوں میں نہ ملنا
اس کہانی کی طرف جانا
کہ جو تم نے ابھی لکھّی نہیں ھَے
صرف سوچی ھے .. !!
کبھی باہر گلی سے
گھر سے
یا دنیا کے دروازوں سے آتے شور سے تم تنگ آ جاو
تو کانوں سے نہ لڑ پڑنا
مجھے سننا
مِری آواز تم کو خامشی کے معبدوں کی یاترا پر لے کے جائے گی .. !
اگر یہ زندگی اپنے سوالوں میں کوئی خالی جگہ لائے
تمھیں محسوس ہو اب وقت بالکل بھی نہیں ھے
سوچنا مت
اور مجھے تحریر کر لینا
میں ہر خالی جگہ میں کام آوں گا .. !

(مجھے یہ نظم لکھتے وقت جن مصرعوں سے بچنا پڑ رھا ھے
خود سمجھ لینا)

کبھی بیٹھے بٹھائے
بے خیالی میں تمھاری انگلیاں ازخود تمھارے ہونٹ چھو جائیں
تو شرمندہ نہ ہونا
مسکرا دینا
یقیں کرنا
وہ لمحہ مجھ سوا کوئی نہیں ہو گا
اسے منظوم کر لینا
مجھے معلوم کر لینا ۔۔۔۔ !!

Image: Peter Zelei

Categories
شاعری

رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے

youth-yell

رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے
آیتیں سچ ہیں مگر تُو نہیں سچّا مُلّا
تیری تشریح غلط ہے، مِرا قُرآن نہیں
دین کو باپ کی جاگیر سمجھنے والے
تجھ سوا اور یہاں کوئی مسلمان نہیں ؟؟؟

تُو کوئی آج کا دشمن ہے؟؟ بتاتا ہوں تجھے
تیری تاریخ ابھی یاد دلاتا ہوں تجھے
کون تھے مسجدِ ضرّار بنانے والے؟؟
تہمتیں خاتمِ مُرسل پہ لگانے والے؟
آستینوں میں بُتوں کو وہ چُھپانے والے؟
یاد آیا تجھے؟؟ او ظلم کے ڈھانے والے

لاکھ فتنے تری پُر فتنہ زباں سے اُٹھّے
تُو اُدھر چیخا،اِدھر لاشے یہاں سے اُٹھّے
تُو جہاں پیر دھرے،امن وہاں سے بھاگے
دوزخی دھول ترے زورِ بیاں سے اُٹھّے
بھیس مسلم کا، زباں کوفی و شامی تیری
داعشی فکر سے ہے روح جذامی تیری

تُو نے قُرآن پڑھا ؟؟ پڑھ کے گنوایا تُو نے
درس میں بچّوں کو بارود پڑھایا تُو نے
رمزِ سجدہ کو سیاست سے مِلایا تُو نے
لوگ دشمن کے لئے سوچ نہیں سکتے جسے
کارِ بد بخت وہ بچّوں سے کرایا تُو نے

آج دنیا کو جو مسلم کا بھروسہ کوئی نئیں
اِس اذیّت کا سبب تیرے علاوہ کوئی نئیں
تری تفسیرِ غلط فکر نے وہ زخم دئیے
جن کا برسوں تو کُجا،صدیوں مداوا کوئی نئیں

ہُوک اُٹھتی ہے تو سینے کی طرف دیکھتا ہوں
بار بار آج مدینے کی طرف دیکھتا ہوں
دیکھتا ھوں کہ مِرا گنبدِ خضریٰ والا
میرا آقا مِرا مولا مِرا شاہِ اعلیٰ
شافعِ روزِ جزا، عرضِِ گدا سنتا ہے
جس کے ھونے سے یقیں ھے کہ خدا سنتا ہے
خیر کی ایک چمک ھے جو علی کہتی ہے
رات ہے؟؟
رات ھمیشہ تو نہیں رہتی ہے۔۔۔۔!!
Categories
شاعری

مردود

مردود
تُو کیوں سوچتا ہے؟
تجھے کیا مرَض ہے؟؟
زمیں کے حروفِ تہجّی مٹیں یا رہیں
تو نے ٹھیکہ لیا ہے؟
بھلا تجھ کو کیا ہے؟؟
خدا جانے اور اُس کی مخلوق جانے
تجہے کس خبر کی نظر لگ گئی ہے؟؟
جو تُو رات بھر اپنے باطن میں ققنس سا جلتا ہے
اور صبح دم
نظم سے چُور ہوتی نگاِہیں لئے
پھر یہی سوچتا ہے
خدایا !!
زمیں سبز ہو
ساحلوں پر پرندوں کی بہتات ہو
حمد کرتی زبانیں سلامت رہیں
بیریوں برگدوں کی فضیلت رہے
گیت جاری رہیں
پانیوں پر کسی کا اجارہ نہ ہو
خواب مارے نہ جائیں
اگر رِحمِ مادر میں کوئی شگوفہ کِھلے
تو شگوفے کو کِھلنے کی پوری اجازت ملے
ابنِ آدم کو اب بنتِ حوّا سمجھنے کی توفیق ہو
بنتِ حوّا پہ بھی اُس کا معنی کھلے
تو یہ کیا سوچتا ہے؟؟
تجہے کیا مَرَض ہے؟
سیارے پہ نیلی تہجّد ادا کرنے والے
ذرا اپنی نظموں سے کاڑہے ہوئے اس مصلّے سے اُٹھ !
اپنے اطراف پھیلے ھوئے دوستوں کی صدائیں تو سُن !!
گالیوں تہمتوں سے بھری یہ ندائیں تو سن
“یار” ناراض ہیں
جن کی دانست میں
تُو مسلسل خرابی کی حالت میں ہے
تیری نظموں کی بِیڑی سے اُٹھتا، حقیقت کا کڑوا دھواں
ان کی آرام دہ شاعرانہ طبیعت کو بھاتا نہیں
شاہ و شہزادگاں کی خوشامد کی رسّی کو پکڑے ہوئے اہلِ فن کےتئیں
شاعری بھی کوئی کارِ سرکار ہے
جس کے اندر عوامی دکھوں کا کوئی دخل جائز نہیں !
اِن کے نزدیک
تُو ایک پاگل ہے جس کو تمیزِ سخن تک نہیں
اے “سرابوں کی سوداگری” کے سخی !
اپنی نظموں کے یہ “کھوٹے سکّے” اُٹھا
اپنے جیسوں میں جا
اور یہاں سے نکل !!
Categories
شاعری

فاعتَبِرُو یَا اُولِی الاَبصَار

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

فاعتَبِرُو یَا اُولِی الاَبصَار

[/vc_column_text][vc_column_text]

سیارے پر بہت ہی سخت دن آئے ہوئے ہیں
خواب بچّے ہیں
ڈرے سہمے گھنی پلکوں کے پیچھے
چھپ کے بیٹھے ہیں
ذرا جنبش نہیں کرتے
بہت سی ان کہی نظمیں ہراساں ہیں
کسے معلوم
وحشت کا بٹن کس ہاتھ سے کس وقت دب جائے
تو سب جائے
تمھاری ساختہ بے ساختہ ناراضیاں، خوشیاں
مری نظمیں
ملاقاتیں ! جو ہونی ہیں ابھی
پیمان! جو بالکل ابھی باندھے گئے ہیں
سب اجڑ جائیں
کسی بیحد محبت خیز ساعت میں کوئی کہنے ہی والا ہو
سنو! تم جان ہو میری
ابھی جملہ مکمل بھی نہ ہو پائے
اچانک ہی دھماکہ ہو
تو سب کچھ راکھ بن جائے
کسی بچّے کا مکتب کی طرف بڑھتا ہوا پہلا قدم اُٹھنے نہ پایا ہو
کہ دھرتی ریت بن جائے
مسافر مدتوں کے بعد گھر کی سمت چلتا ہو
مسافت ہی بدل جائے
تو کیا اس موت کا تاوان کوئی بھر سکے گا کیا؟؟
کسے معلوم ہے آخر
انھی بحثوں، انھی سرگوشیوں اندر تصادم کی گھڑی کس وقت آ جائے
صدا آئے
اَلَا یَا اَیُّھا التحقیر !!
اپنے جوش کو بھگتو
چکھو وہ ذائقہ جس کی ہنسی مل کر اڑاتے تھے
سیارے پر بُرے دن ہیں
مگر پھر بھی ان ایّامِ حوادث میں
مجھے تم سے، تمہاری جھلملاتی نور آنکھوں
اور اپنی نظم سے امّید کی خوشبو بھی آتی ہے
سو میں اس بیش قیمت ساعتِ امروز میں یہ تم سے کہتا ہوں
سنو !!
مایوس مت ہونا
کہ جب تک ایک بھی مسکان زندہ ہے
دمِ رحمان زندہ ہے
ابھی انسان زندہ ہے ۔۔ !!

Image: Mohammad Saba’aneh
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]