Categories
شاعری

آدم کتبہ لکھتا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آدم کتبہ لکھتا ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

آدم کتبہ لکھتا ہے
جیون بھر اپنے کرموں سے
اپنی قبر کا کتبہ لکھتا رہتا ہے
یہ خطاطی
جو خطِ تقدیر میں لکھی جاتی ہے
انمٹ ہوتی ہے
یہ خطِ تقدیر بنا سیکھے ہی شاید آ جاتا ہے
سب اپنی قبروں کے کتبے خود لکھتے ہیں
بعض اوقات بڑی دلچسپ کہانی پیدا ہو جاتی ہے
اپنا کتبہ
اور کسی کی قبر کا کتبہ بن جاتا ہے
اور جیون کی قبر
بنا اپنے کتبے کے
نا معلوم ہی رہ جاتی ہے
لا وارث قبروں پر کون دعا پڑھتا ہے!
جیون کی اس قبر پہ اپنا کتبہ لکھ کر جانا
اپنی قبر پہ کتبہ اپنا ہی جچتا ہے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

یہ بغاوت بھری نظم سنتی کہاں ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

یہ بغاوت بھری نظم سنتی کہاں ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

کئی بار سوچا
قلم کو معطّل کروں
اور احساس معزول کر دوں
سُکوں سے جیوں
جس طرح سے سبھی جی رہے ہیں
” مجھے کیا، کہ میں تو سُکھی ہوں” کے اوراد پڑھتے ہوئے
ڈیم کئرینگ طبیعت کے حامل
یہ خود ساختہ ” سیلف سینٹیرڈ” لوگوں کے مانند جیتا رہوں
کم سے کم
یہ جو میں آئے دن کربِ تخلیق کا دردِ زِہ سہ کے نظمیں جنے جا رہا ہوں
تو اس کارِ وحشت سے تو جان چھوٹے !
( مجھے دردِ زِہ سے ” یونہی” یاد آیا کہ عورت پہ ہر دم سلامی رہے)
اور کَئی بار سینے کے اندر دھڑکتی ھوئی نظم سے یہ کہا ہے
کہ اے موجِ خوں
اے بغاوت کی لَو
اندرونے میں جی
تجھ کو دالانِ دنیا میں آنے کا چسکا پڑا ہے
مگر یہ زمانہ ہے
اور اس کے نخرے میں سچ کی سماعت کہیں بھی نہیں ہے
مِری جاں یہ دنیا بڑی نک چڑھی ہے
مگر یہ بغاوت بھری نظم سنتی کہاں ہے
یہ الّہڑ حسینہ
کمر کس کے آتی ہے
دنیا کے نخرے ہوا میں اُڑاتی ہے
اور آ کے کہتی ہے
ہاں ؟ کیا کہا ؟؟
تم ذرا پھر بتانا کہ کیا کہہ رہے تھے ؟؟
تو مین مسکراتے ہوئے دیکھتا ہوں
قلم چومتا ہوں ۔۔ !

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں جنت میں بہت خوش ہوں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں جنت میں بہت خوش ہوں

[/vc_column_text][vc_column_text]

بہت پیارے علی انکل!
میں جنت میں بہت خوش ہوں
یہاں پر میں اکیلا بھی نہیں ہوں
اتےےےے سارے دوست ہیں میرے
مرے اسکول کے تو ھیں
بہت سے اور بھی ھیں
اور پتا ہے کیا علی انکل؟؟
یہاں کوئی کسی سے یہ نہیں کہتا
کہ تم کافر کے بچے ہو!
علی انکل یہ کافر کون ہوتا ہے؟؟
مجھے لگتا ہے
وہ ہوں گے
جنھوں نے ھم کو مارا تھا!!
علی انکل مرے سینے میں جب گولی لگی تھی ناں
تو……
تو ماما یاد آئیں تھیں!!!
یہاں جنت میں سب کچھ ھے مگر ماما نہیں ھیں!!
علی انکل
اگر ناراض نا ہوں تو
میں کچھ پوچھوں؟؟
مری اور میرے سارے دوستوں کی یاد میں بھیگی ہوئی نظمیں
بھلا یوں فیس بک کی وال پر لکھنے سے کیا ہو گا؟؟
زیادہ سے زیادہ ایک دن کی یاد ہے اور بس؟
پھر اس کے بعد سب کا سب وہی ہو گا
گلی کوچوں کی دیواروں پہ لکھے قتل کے نعرے
وہی اک دوسرے پر کفر کے فتوے؟؟
علی انکل
مجھے اور میرے سارے ساتھیوں کو یہ بتائیں ناں
بھلا یوں فیس بک کی وال پر آنسو بہا لینے سے
کیا وہ سوچ بدلے گی؟
جو اپنے کالموں میں اور خطبوں میں ہمارے قاتلوں کے گیت گاتی ھے؟؟
علی انکل ھمارا خون کیا اتنا ہی سستا تھا؟؟؟
علی انکل!
اگر بس ہو سکے تو میرے جیسے ان ھزاروں پھول چہروں کو خوشی دے دیں
جنہیں روٹی نہیں ملتی
جنہیں سردی میں کپڑے بھی نہیں ملتے!!
علی انکل!!
میں جنت میں بہت خوش ہوں!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]