Categories
شاعری

استعاروں کے مقتل میں

ہاں ۔ یہ کائنات
خدا کی شاعری ہے
اور انسان
اُس کی سب سے خوبصورت
یک سطری نظم

حسن اِس پر نچھاور ہوتا
اور عشق اس کی بلائیں لیتا ہے
کیونکہ اس کا وجود
اُن کے اثبات کی دلیل ہے
مگر
کور چشموں اور کور فہموں کے لئے
یہ قابلِ دید ہے نہ قابل فہم

کسی کی مذہب دشمنی سے مجھے کوئی علاقہ نہیں
کسی کی دہریت بھی میرے لئے باِ رِ خاطر نہیں
کسی کا ولی اللہ ہونا بھی میرے لئے باعثِ شادمانی نہیں
مذہبی،مارکسسٹ، جمہوریت پسند
ایک ہی لفظ کے اضافی معانی ہیں
عقائد و نظریات میں وہی اختلاف ہو سکتا ہے
جوپارٹیکل فزکس اور کوانٹم تھیوری میں ہے
لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں
کہ ایک استعارے کو
نظم کی سطر میں سے نکال کر کیسے قتل کیا جا سکتا ہے؟
ایک لفظ کے حروف کیسے الگ کئے جا سکتے ہیں؟

شہروں اور ویرانوں میں
تشبیہات کی عصمت دری کرنے والوں کو
کون بتائے
عقیدے اور سیاست کی بنیاد پر
لہو بہانے اور لاشیں گرانے والوں کو کون سمجھائے
الفاظ کے اعضا نہیں کاٹے جاتے
تشبیہوں کی عصمت دری نہیں کی جاتی
استعارے قتل نہیں کئے جا تے
اُن سے نئی نظمیں تشکیل دی جاتی ہیں

روشنی کے راستے میں
یہ کون ہیں؟
جو اِسی نظم کا حصّہ ہیں
لیکن
جن کے وجود کی رکاوٹ
نئی نظموں کے بجائے
سائے اور تیرگی تخلیق کرتی ہے

نظم کی سانس اکھڑ رہی ہے
زمین بگڑ رہی ہے
لفظ چلّا رہے ہیں
کیا تمہیں یہ علم نہیں
“خدا یہ نظم دوبارہ نہیں لکھے گا”

Image: Marcel Duchamp

Categories
شاعری

علی زریون کے نام ایک خط

پیارے علی زریون
یہاں تخت
درختوں کی لکڑی سے نہیں
معصوموں اور کمزوروں کی ہڈیوں اور گوشت سے بنتے ہیں
اُن میں لعل و گہر کی جگہ خوابوں سے دمکتی نارسا آنکھیں جڑی ہوتی ہیں
اُنہیں بد دعا نہیں لگتی
اُنہیں سینوں سے اٹھتی آہوں کا غبار نگلتا ہے
اور مت بھولو
لوہے کو بد دعا نہیں لگتی
اُسے زنگ لگ جاتا ہے
درخت کاٹنے والے
اور لوہے سے بندوق کی نال ڈھالنے والے
دونوں خدا کی لعنت کے مستحق ہیں
کیونکہ جنہیں
درختوں سے قلم
اور لوہے سے
قلم تراش بنانے تھے
اُنہیں سامری کے دسترخوان سے
اٹھنے کی فرصت نہیں ملتی !

Categories
شاعری

ایک خالی کمرے میں معرکہ

ایک خالی کمرے میں معرکہ
میں باہر کھڑا انگلیوں پر قبریں گن رہا ہوں
اندر فرش پر حروف بکھرے پڑے ہیں
شکستہ تن و بدحال حروف
جنہیں لفظ میں ڈھلنے سے پہلے
ادھیڑ دیا گیا

اپنی اپنی دریدہ کھالوں میں
سمٹے ہوئے خیال اور خواہشیں
کمرے کی فضا پر
پھپھوندی کی طرح جمے ہیں
اور اُن کا جسم پھیل رہا ہے

نم کاغذوں کے پرزے
کسی رزم گاہ میں بریدہ ہاتھوں کی صورت
کسی شہر کی گلی میں
کسی خودکش کے بدن کے چیتھڑوں کی طرح
اُچھلتے ہوئے
کسی بیضوی میز کے تلے
تلواروں سے
قلم تراشنے کی ناکام کوشش میں
نڈھال ہو رہے ہیں

یہ ادھورے قلم
ہوا کی مٹّھی میں نہیں آئیں گے
اور ہوا یونہی کمرے کی خاموشی پر پھسلتی رہے گی
روشندان سے جھانکتے ستاروں نے
ابھی سنگلاخ پہاڑوں سے اترتے
اُس سرخ پانی کا دائرہ نہیں دیکھا
جسے اس کمرے کے گرد کھینچ دیا گیا ہے
ابھی ستاروں کے ماتم میں کچھ دیر ہے

کمرے میں موجود خالی کرسی
اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز
اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں
جو دروازے کے کواڑوں سے لٹک رہی ہیں
اور کمرے کی ریڑھ کی ہڈی
ابھی اُس سرد لہر سے آشنا نہیں
جو سرخ دائرے کی لکیر سے
کمرے کی دہلیز تک موج زن ہے

اُس کرسی پر کوئی نہیں بیٹھ پائے گا
ادھورے قلموں میں کبھی سیاہی نہیں بھری جا سکے گی
یہ کمرہ ہر عبارت سے خالی رہے گا
کیونکہ
بیضوی میزیں
کٹے ہوئے ہاتھوں
اور ادھورے قلم کے فیصلے
کبھی قبول نہیں کرتیں
Categories
شاعری

غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں

غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں
جہاں چھتوں پر
کبوتروں کی گٹکتی ہوئی آوازوں میں
مدغم ہوتی
پروں کی پھڑپھڑاہٹ کے بجائے
سوختنی قربانیوں کا دھواں پھیلا ہے
میں دو گھروں کے درمیان
نومینز لینڈ” میں ہوں”
ہوا کے رحم و کرم پر
ایک ناکارہ وجود
جسے سانس لینے کے لیے
ہوا کا دم بھرنا پڑتا ہے

اسی “نومینز لینڈ” میں
ایک گھر تھا
جسے اُنہوں نے پہلے دو حصوں میں تقسیم کیا
پھر بلا اجازت
اُن حصوں کی دیواریں بدل دیں
اور
چھتریوں پر موجود
قاصد کبوتروں کی گردنوں سے
محبت کے تعویذ نکال کر
اُن میں ناموں کے کتبے لٹکا دیے

قاسموں کی کلائیوں سے
جڑے پنجے
دہکتی سلاخوں کی طرح
دونوں کے آنگنوں پر تن گئے
آنگنوں کے چھتنار پیڑ
کیاریوں میں کھلے پھول
اور اُن پر اُڑتی رنگ برنگی تتلیاں
اُن سلاخوں کی تپش سے راکھ ہوتے گئے

سبز رنگ کا منتظر
دنیا کا جادوئی نقشہ
پیلا پڑتے پڑتے سرمئی اور بھورا ہو گیا
مگر
سرخ کی قید سے آزاد نہ ہو سکا

میں چلاتا رہا
تم نے میرے گھر کا
یہ کیا کیا؟
یہ میرا گھر تھا
میرا آنگن ،کیاریاں اور کبوتر

میں پوچھتا رہا
تم نے میرے کبوتروں کی گردنوں میں
محبت کے سندیسوں کے بجائے
ناموں کے کتبے کیوں لٹکا دیے؟؟

لیکن
ہر بار میرے پھیپھڑے
دھوئیں سے بھر دیے گئے
اور چھتوں سے
سوختنی قربانیوں کی مہک اٹھتی رہی
Categories
شاعری

واپس دو

واپس دو
یہ جتنے نام ہیں
یہ نام تصویروں میں مت ڈھالو
یہ میرے خون کی بوندیں ہیں
میں ہوں
انہیں ایسے سر کوئے ستم
کنکر سمجھ کر مت اچھالو

میں تم سے آج اپنا آپ واپس مانگتا ہوں
مجھے تم خوں بہا مت دو
کسی ایوان بالا سے
کسی زرتار منبر سے
کسی نمرود کے در سے
کوئی ایسی صدا مت دو
جسے چنگیز خانی راہداری میں کہیں تحلیل ہونا ہو

مجھے وہ تمتماتے، زندگی بر دوش بانکے دو
وہ میرے لوگ واپس دو
جو میرے خون کی بوندیں ہیں
میں ہوں
مجھے تم خوں بہا مت دو
اگر تاریخ عالم سے
ذرا بھی تم شغف رکھتے ہو
اتنا جان لو
حق گو صدائیں قتل ہوتی ہیں نہ تہہ خانوں میں چھپتی ہیں
وہ اٹھتی ہیں ،مچلتی ہیں
ستمگر کے گلے کا ہار بنتی ہیں
وہ ہر اک جبر کے پتھیریلے رستے پر
دوانہ وار چلتی ہیں
کہ آوازیں زمانے کی امانت ہیں
زمانہ تو اُنہیں محفوظ رکھتا ہے
مگر تم جو کہانی لکھ رہے ہو
اُس کا ہر کردار خائن ہے،منافق ہے
سو تم اپنی کہانی کو مرا عنوان دینے کی جسارت مت کرو
مرے کردار کو اپنی کہانی کا کوئی کردار مت سمجھو
سمجھداری اسی میں ہے
کہ میرے لوگ ،میرا خون واپس دو
مجھے تم خوں بہا مت دو
مجھے جینے کا حق دو
اور میرا نام واپس دو!
Categories
شاعری

میں جانتا ہوں جہنم کہاں ہے

میں جانتا ہوں جہنم کہاں ہے
معمول کی کوئی خبر سن کر بھی
جب خاموشی کا بوجھ میرے سینے میں اٹکنے لگے
میری ہتھیلیاں آپس میں جڑ جائیں
انگوٹھے اُن کی پشت اور کلائی پر جمنے لگیں
میں ہتھیلیوں کو آہستگی سے الگ کرتا ہوں
اور پھر ایک اضطراب میں
وقفے وقفے سے
بے اختیار اُنہیں رگڑنے لگتا ہوں
پہلے آہستہ آہستہ
پھر تیز
پھر اور تیز
میں بے دھیانی میں اُنہیں رگڑتا چلا جاتا ہوں
ایک الاؤ کے بھڑکنے تک
شعلوں کےاس جنگل میں
میری روح اور جسم اکھٹے اترتے ہیں
اُس شام کی طرح
جس کے سنگم پر
دن اور رات کا محتسب دھندلکا
خون میں تیرتا رہتا ہے
اس جنگل میں کچھ جلتا ہے
جس کی راکھ سے وقت ایسے پرندے بناتا ہے
جو مجھ میں چاروں طرف اڑتے
اور میری ذات کی دیواروں پرپیہم ٹھونگیں مارتے ہیں
میں نقرئی آگ کے سمندر میں
نمک کی طرح پگھلتا
اور ساحل کی ہوا سے ہمکلام ہوتے ہوئے
خوابوں کا گرم موم اپنے سر پر ٹپکتا محسوس کرتا ہوں
اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو دیکھتا ہوں
اور ڈر جاتا ہوں
کہ اُن کی پوریں
تعبیروں کے اس پُل کی طرح ہیں
جس کی ریلنگ کے حصے
بصارت سے محروم آنکھوں سے بنے ہوں
اور جو سر کٹے بھتنوں کی طرح
مجھ پر دانت نکوسنے میں مصروف ہوں
جنگل کی بھڑکتی آگ میں
بن بلائے موسم شعلے پھلانگتے
زندگی کا قرض چکانے
کہیں دور نکل جاتے ہیں
اُن تمناؤں،امیدوں اور یادوں سے دور
جو اپنے اعمال کا بوجھ اٹھائے
گیلی لکڑیوں کی طرح سلگتی رہتی ہیں
میں سارے ایندھن کا شور
خود میں انڈیل لینا چاہتا ہوں
افق پر لہو میں تیرتا دھندلکا
میرے کسی ہم نفس کو پکارتا ہے
اور میرے تلووں تلے انگارے سر اٹھا کر کہتے ہیں
یہاں تمہارے سوا کوئی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر
یہ جہنم
جو میری ہتھیلیوں میں چھپی ہے؟

Image: Dgigliello

Categories
شاعری

نظریہء اضافت کے پاتال میں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نظریہء اضافت کے پاتال میں

[/vc_column_text][vc_column_text]

سورج کسی اور ستارے کا سیارہ ہے
ہم زمین پر رہتے ہیں
زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے
سورج ہمیں دیکھ کر کھلکھلاتا ہے
ہم سمجھتے ہیں
کہ زمین ساکت ہے

 

ٹرین چل رہی ہے
مناظر گردش میں ہیں
بوگیوں میں لوگ گھوم پھر رہے ہیں
ٹرین کا فرش ساکت ہے
کیا ٹرین ساکت ہے؟

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مگر ٹرین ساکت ہے

 

سورج، ستارے، زمین اور ہم
سبھی گردش میں ہیں
ہمارے دنوں کی طرح
مگر ساکت ہیں

 

میرا لٹو تمہارے لٹو کےگرد گھوم رہا ہے
اور تمہا را کسی اور کے گرد
ہم ایک دوسرے کے گرد گھومتے ہیں
لیکن ایک دوسرے کو ساکن دکھائی دیتے ہیں
شاید اسی لیے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے
کیونکہ ایک ہی سکے کے دو رخ
ایک دوسرے کی تعین قدر نہیں کر سکتے

 

کائنات گردش میں ہے
ٹرین اور زندگی کی طرح
جو مسلسل چل رہی ہیں
مگر ساکت نہ ہونے کے باوجود کبھی کبھی
ساکت لگتی ہیں
شاید ساعتوں اور جذبوں کی پھیلی ہوئی دھند
یہ جاننے نہیں دیتی
کہ سکون و گردش آپس میں
کہاں اور کیوں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں!

Image: Alex Janvier
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک ہذیانی لمحے کا عکس

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک ہذیانی لمحے کا عکس

[/vc_column_text][vc_column_text]

سورج مکھی کے شہر میں
دن راستہ بھول گیا
شہرکے آنگنوں اور گلیوں کو
دورویہ ٹنڈمنڈ درختوں سے لٹکا کر
سُولی دے دی گئی

 

خالی مکانوں کی
ناقابل سماعت چیخیں سننے کے لئے
اب اُن سورماؤں کی ضرورت ہے
جو انسانی کھوپڑیوں میں
سرخ شراب پینے کا حوصلہ رکھتے ہوں

 

کیا تم دیکھتے نہیں؟
سورج کی کرنیں بیڑیوں کی طرح
اُس کے بدن پر جھلملا اور جھنجھنا رہی ہیں
اور ہوا بردوش سیاہی
ایک ایسی آندھی کی خبر دے رہی ہے
جو اپنے ساتھ ہر منظر اُڑا کے لے جائے گی

 

سورج مکھی
تیرے شہر میں دن راستہ بھول گیا
تیرے مکینوں کی لاشیں خاک پر اوندھے منہ پڑی رہیں
اور تیرے سورج کو بیڑیاں پہنا دی گئیں
کیا تیرے شہر میں کوئی ایسی شام تو دفن نہیں
جس کے کتبے کا حاشیہ لکھنے والے بد ہیئت ہاتھ
ستاروں کے لہو سے لتھڑے ہوئے تھے؟؟؟؟

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

صبح و شام کے درمیان

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

صبح و شام کے درمیان

[/vc_column_text][vc_column_text]

سورج دیوتا نے
شہزادے کا رتھ الٹ دیا
شہزادے کا کچھ پتہ نہیں چلا
لیکن
شہزادی کی لاش کے ٹکڑے
راہگیرون کو گھاٹی میں ملے!

 

کہسار پر ہونے والی خفیہ ملاقات کی پاداش میں
کہسار کا سینہ چاک کر دیا گیا
اور رتھ کے پہیے طالبانِ وصل کے لئے
نا مختتم عذاب کا چکر ویو بنا دئے گئے!

 

شہر اور گاؤں میں
جنگل کے بھیڑیے
پہریداروں کی غفلت میں
معصوم کمسنوں کا نرم گوشت چبا کر
اُن کی ہڈیاں
اُن کے پاسبانوں کے
دستر خوانوں پر چھوڑ جاتے ہیں
لیکن
کوئی دیوتا
یہ دیکھنے کے لئے فارغ نہیں!

Image: M. F. Hussain
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

چیف جسٹس کا مطالبہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

چیف جسٹس کا مطالبہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

پرندے سچ بولتے ہیں نہ جھوٹ
ہوا گزر جاتی ہے اپنی مستی میں
اور نہیں کرتی تمیز
مقتل اور گلستاں میں
ہمارے ارد گرد لوگ
مناظر کی دھول سمیٹے
اُس خاموشی میں لپٹے چلتے ہیں
جو وقت کے قبرستان پر پھیلی رہتی ہے
پھر تم کیوں
مجھے ایک ایسے اعتماد کے شور میں بکھیر دینا چاہتے ہو
جو اندھا ہے

 

میں بھی جھوٹ بولوں گا نہ سچ
اور کسی انہونی کی طرح
تمہاری گردن میں پڑا رہوں گا

 

مجھے کسی مخبر یا گواہ کی ضرورت نہیں
مجھے صرف اُس جملے سے سروکار ہے
جو تم نے سچ کی صورت میں مجھ پر کسا

 

میری عدالت میں
کسی کو سچ یا جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں
اگر لوگ سچ بولنا اپنا شعار کر لیں
یا جھوٹ کو اپنا ملجا و ماویٰ سمجھ لیں
تو میرے ہاتھ کسی کی گردن تک
کیسے پہنچ پائیں گے؟

 

اگر تم میری عدالت سے مطمئن نہیں
تو اپنے جملے کی کوکھ اُدھیڑو
اور اُس میں پلتے سچ کی گردن کاٹ کر
کٹہرے میں رکھ دو!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

دو کیشیئرز

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کیشیئر

[/vc_column_text][vc_column_text]

جسم کے الاؤ میں
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی
لفظ مجھ سے اُلجھے ہیں
بات اُس نے کرنی تھی
سوچ میری بھٹکی ہے!

 

جب حدیں مقرر ہوں
زندگی کو جینے کی
ناتمام حسرت پر
بے شمار پہرے ہوں
وصلِ منتظر کے دکھ
ہجر سے بھی گہرے ہوں!

 

دھڑ دھڑاتے سینوں میں
تھر تھراتی سانسوں میں
کپکپاتی بانہوں میں
آرزو کے بستر پر
سلوٹیں تو پڑتی ہیں
خواہشوں کے پتلوں میں
سوئیاں تو گڑتی ہیں
شام کے ستارے نے
جب نظر کو ٹوکا ہو
جب کھلی حقیقت پر
اک فسوں کا دھوکا ہو!

 

بینک ایسے جسموں کی
روحیں کیشیئر نکلیں
جو مچلتے جذبوں سے
ہمکنار ہونے کی
لذّتِ روا تج کر
سنگِ ضبط کی زد پر
قہرِ شہر سے ڈر کر
کیف و لطف کے لمحے
دیکھتی ہوں گنتی ہوں
اور خود ترستی ہوں!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]