




بارش بہت ہے وہ ٹین کی چھت کو چھیدتی دماغ کے گودے میں اور دل کے پردوں میں چھید کرتی پیروں کی سوکھی ہڈیاں چھید
تحریر: ذکی نقوی چترال کے دور دراز علاقے میں پبلک اسکولنگ کی بنا ڈالنے والے بزرگ استاد اور چترال کے پہلے انٹرمیڈئیٹ کالج کے بانی
گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ
قارئین، آپ تو مجھے جانتے ہی ہیں. میں تنہائی پسند انسان ہوں. تقریبات سے مجھے چڑ ہے. لیکن یہ مچھندر قوم شادیاں کر کر کے
“اتالو کالوینو” کی تحریر “A King Listens” کا طلسم کدہ“بادشاہ سنتا ہے”،“عاصم بخشی“کی زبان میں آج شمارہ نمبر:101 میں نشے میں ہوں: میں کہانیوں کو
یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابی بن کعب کے درمیان قرآن کے کچھ حصوں اور آیات کو لے
ٹِک، ٹِک، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک
کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی
چھپکلی چیختی ہے رفت کی بے خوابی سے ٹڈیاں کاٹتی ہیں رات کے گونگے پن کو سرد صرصر کی زباں رونگٹوں کو چاٹتی ہے لاکھوں
تیری دیور پہ لکھا ہے سارے دکھ اندر نہیں تھوکے جا سکتے میرے دوست! میں تیرا اگال دان ہوں اور گرتی ہوئی دیوار کا سایہ
میں : گوشت میں لتھڑی ہوئی اس قوم کے حیلوں ، بہانوں سا ہے یہ گرداب ، کہ جس میں ہم اور تم فنا ہونے
کچھ عرصہ قبل ایک فاضل دوست سعدی جان نے “اسلامی ریاست، ذمی اور سیکولر حضرات کی غلط فمہیاں” کے عنوان سے ایک تحریر لکھی اور