
حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ بپا تھا۔ جھوٹوں کے شہر میں ایک باغی نے سچ بولنے کا اعلان کیا تھا۔ ہنگامی صورت حال میں فوج
[blockquote style=“3”] یوتھ یلزایک رنگا رنگ سلسلہ ہے، جس میں نوجوان قلمکار بلا جھجک اپنے ھر طرح کے خیالات کا دوٹوک اظہار کر سکتے ہیں۔۔
پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں اپنے اپنے موسموں میں اپنے اپنے ملکوں میں سرحدوں پہ تعینات فوجیوں پر امام کی تقریریں بے اثر جاتی
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ پھر آسمان میں سفیدی کی ایک لکیر نظر آئی۔ سپیدہ سحرنمودار ہوا۔ روز کی طرح
میں ان سماعتوں سے بھی واقف ہوں کہ جو گفتار کی بیساکھیاں تھیں مگر ٹوٹ چکی ہیں اب کسی کو کسی کے سہارے کی ضرورت
مجھ تک آنے کے لیے ایک راستہ چاہیے جو پاؤں سے نہیں دل سے نکلتا ہو مجھ تک آنے کے لیے ایک دروازہ چاہیے جو
دروازوں کی خود کُشی دروازے کیا ہوتے ہیں؟ کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟ یا صرف اندر آنے کے لیے؟ دروازوں کا درست مصرف
اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا ہمیں بھول جانا چاہیئے اس
نیند کی چڑیا کا چپ چاپ اڑ جانا اس کے لیے کم اذیت ناک نہ تھا۔ لیکن یہ روز نہیں ہو تا تھا۔ کیونکہ وہ
کل ایسا لگا کہ جیسے کسی جنگلی جانور نے پینترہ بدل کر میری کمر پہ کاٹ لیا ہو سینہ، گردن، سر تو شاید ایک آدھ
غصے کی اک بے مہر چنگاری کتنا کچھ جھلسا دیتی ہے بچوں سے پیار اور دلار چھین کر ان کی آنکھوں میں خوف و دہشت
کہانی کار! تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں ہوا کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے
