Categories
فکشن

نعمت خانہ: تیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

محمد ساجد
یس سر
عبدل معید
یس سر
شاہکار عالم وارثی
یس سر
انیل کمار سنگھ
یس سر
صابر علی صدیقی
یس سر
ہرش سچدیو
’’حفیظ الدین بابر‘‘
’’یس سر۔‘‘ میں کھڑے ہوکر جواب دیتا ہوں۔

پروفیسر ایس پی یادو اپنی آنکھوں سے چشمہ اُتارتے ہیں۔ اُن کی دو لال لال ویران آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔
’’تمھارا نام حفیظ الدین بابر ہے۔‘‘ وہ مجھے غور سے دیکھ کر کہتے ہیں۔

’’جی۔‘‘
’’والد کا نام۔‘‘
’’ظہیر الدین بابر۔‘‘
’’کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’جی، وہ اب اس دنیا میں نہیں۔‘‘
’’اوہ مجھے افسوس ہے۔‘‘ پروفیسر یادو دوبارہ اپنی لال لال آنکھوں پر چشمہ لگا لیتے ہیں۔
میں چاہوں بھی تو اس منظرسے میرا پیچھا کبھی نہیں چھوٹ سکتا۔ یہ مجھے یاد ہی رہتا ہے۔ ہمیشہ یاد، بلکہ اِسے یاد رہنا بھی کیسے کہا جائے؟
کیا مجھے اپنا گُھٹنا، اپنا ناخن، اپنے کان کا میل یاد رہتا ہے؟مگر وہ ہیں میرے ساتھ۔ میرے جسم کے ساتھ، بالکل اسی طرح شہر میں۔ کالج کے پہلے دن کا یہ منظر میرے ذہن کے ساتھ ہے۔ بے وجہ اور — بغیر کسی مقصد کے ساتھ۔

یہ پالیٹیکل سائنس کی بی۔اے کی کلاس تھی۔ شہر کا یہ سب سے اچھا کالج تھا۔ اس کی عمارت لال رنگ کی اور گوتھک طرز کی بنی ہوئی تھی۔ یہ بہت قدیم کالج تھا اور کسی زمانے میں کلکتہ یونیورسٹی سے منسلک رہ چکا تھا۔ اس کالج کا ہوسٹل دور دور مشہور تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ چند بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اس کالج کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔ مجھے بہت آسانی سے ہوسٹل میں کمرہ الاٹ ہو گیا تھا۔

یہ بڑا شہر، ہمارے اُس قصبے نما چھوٹے سے شہر سے بہت دور نہ تھا۔ راستے میں صرف دو ندیاں پڑتی تھیں— ایک تو شہر چھوڑتے ہی قلعہ کی ندی اور دوسری، کچھ ا ٓگے جاکر رام گنگا۔

مگر یہاں آکر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت دور آگیا ہوں۔ جیسے میرا گھر، بہت دور تھا۔ گزرے ہوئے واقعات مجھے اب ایسے بھیانک خواب کی طرح محسوس ہوتے تھے، جنہیں صبح کو جاگ جانے پر، ہنس کر بھلا دیا جائے۔

یہ کچھ قابل تعجب بات تھی۔ شہر آکر میں جیسے ایک ایسی آندھی کی زد میں تھا جو میرے آس پاس کی تمام اشیا یعنی وہ تمام یادیں جو میں اپنے گھر سے اپنے بدن پر چپکائے ہوئے لایا تھا، دھول کے پرُاسرار غبار میں اُڑاتی ہوئی بھیانک تیزی کے ساتھ، مجھ سے دور لے جارہی تھی۔
اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے کوئی افسوس بھی نہ تھا۔ شاید میرے لاشعور میں دبی ہوئی خواہش تھی کہ میں وہ سب بھول جائوں۔ وہ سب—؟

اور حقیقتاً، اُن دنوں، شہر میں نیا نیا اور کالج میں نیانیا میں تقریباً سب بہت بے رحمی کے ساتھ بھولنے لگا۔ کچھ دنوں بعد تو میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ مجھے گھر پر گڈّو میاں کہا جاتا تھا۔ اب میں حفیظ الدین بابر تھا یا حفیظ الدین۔ یا پھر صرف حفیظ۔ مگر اب میں کسی کے لیے گڈّو میاں نہ تھا۔

یہاں آکر میرے دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ میری شخصیت کا رُخ ہی بدل کر رہ گیا۔ میں چند ذہین لڑکوں کے گروپ میں شامل ہوگیا۔ کالج میں، لڑکیاں بھی ساتھ پڑھتی تھیں۔ اور لڑکوں کے ساتھ اُن کے معاشقے بھی چلتے تھے۔ مگر پابندیاں بہت تھیں۔ آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں (کیا واقعی لکھ رہاہوں؟) تو مجھے حیرت ہے کہ ساٹھ کی دہائی ہر لحاظ سے کتنی مختلف تھی اور زمانہ کسی قدر تیزی کے ساتھ بدلا ہے۔

مگر ٹھہریے! مجھے اپنی یادداشتیں اس طرح نہیں لکھنی چاہئیں۔ یہ تو محض بیان ہیں۔ اور بیان سے میرا کام نہیں چل سکتا۔ مجھے یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ میں اپنی سوانح وغیرہ نہیں لکھ رہا ہوں۔ میں تو دراصل کچھ عرض داشتیں، کچھ اپیلیں وغیرہ لکھ رہا ہوں۔ میرا مقصد تو اپنی عدالت کی تلاش ہے۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر مجھے ڈھنگ کی ایک بھی سطر لکھنا آتی یا ایک تخلیقی جملہ بھی لکھ سکتا تو پھر تو میں ناول کا صدر دروازہ تیار کر ہی لیتا۔ پھر تو مجھے اور کہیں جانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ میں اپنے ناول کے اندر ہی رہتا۔ میرا مقدمہ، میری عدالت، میرا انصاف اور میرا گھر سب ناول کے اندر رہتے۔ ناول چیز ہی ایسی ہے۔ بس آپ کو لکھنا آنا چاہئیے۔ اس کے بعد تو، سزا جزا، جنت، جہنم سب ناول کے اندر ہی مل جائیں گے۔

مگر ایک بار پھر افسوس اور صدہا افسوس کہ اس معاملے میں انتہائی بنجر واقع ہوا ہوں۔ اس لیے جو لکھ رہا ہوں، وہ ایک کے بعد ایک عرضیوں کی ڈھیریاں بنتی جارہی ہیں۔ عرض داشتوں کا پُلندہ لگتا جارہا ہے۔ مگر چونکہ ہر اپیل اور ہر عرض داشت میں کوئی نہ کوئی پہلو تو داخلی نوعیت کا ہوتا ہی ہے، بلکہ شاید سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن پہلو تو لکھنے والے کی داخلی شخصیت ہی ہوتی ہے۔ قابل رحم انداز میں، بھیک کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑے ہونے میں ہی ایک عظیم آرٹ پوشیدہ ہے۔ اس لیے میں ہر اُس بیان سے کترا رہاہوں جہاں میری اپنی ذات ایک فعال کردار نہ بن سکے۔ اور عرضیاں، اپیلیں سب میں الفاظ کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ لفظوں کا پابند رہنا پڑتا ہے اگر لفظ زیادہ ہو جائیں یا بہت کم ہوں تو وہ کاغذ کے یہ ورق پھاڑ کر دھجّیاں دھجّیاں کرکے — تمھارے منھ پر مار دیتے ہیں اور تمھارے بس میں کچھ نہیںرہتا، سوائے اس کے کہ تم کاغذ کے ان چیتھڑوں کو فرش سے بین بین کر اُٹھائو اور خود ہی وہاں رکھے ایک بڑے اور منحوس کوڑے دان میں ڈال دو۔ اپنی عرض داشتوں کے ساتھ لگے ہوئے بیانِ حلفی اور اُن پر چسپاں ٹکٹ۔ لیجیے ایک ذرا سی غلطی پر سب گئے اُس کوڑے دان میں۔

وہ کوڑے دان تو اب ایک آرکائیو، ایک ریکارڈروم ہی بنتا جارہا ہے۔

اسی لیے میں غیر ضروری تفصیلات سے دامن بچانے پر مجبور ہوں۔ حالانکہ مجھے یہ احساس ہے کہ اس سے پہلے میں نے بے وجہ، غیر ضروری تفصیلات اوربے معنی جزئیات سے کام لیا ہے۔ مگر اتنے سنجیدہ قانونی معاملات میں، یہ شوقِ فضول بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کا احسا س بہرحال مجھے ہے۔
بی۔اے میں میرے مضمون تھے معاشیات، سیاسیات، فلسفہ اور انگریزی ادب۔

میری ذہانت میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ میں کسرِنفسی سے کام کیوں لُوں؟ اور وہ بھی اب جبکہ زندگی کی شام دُھند اور غبار میں لپٹی ہوئی سامنے ہی نظر آرہی ہے۔

میں اپنے — بی۔اے کے ساتھیوں سے بہت کم گفتگو کرتا، زیادہ تر ایم۔اے کے طلبا اور ریسرچ اسکالروں کے ساتھ ہی اُٹھتا بیٹھتا اور بحثیں کرتا۔

بحث، مباحثہ، کرنے کی تو بہت برُی لت پڑ گئی تھی مجھے۔ فلسفے میں منطق نے اس عادت کو اور بھی جلا بخشی تھی۔ حالانکہ فلسفے میں، میری دلچسپی اور مضامین کے مقابلے بہت کم تھی۔ کیونکہ سوائے مجرّد خیالات کے، وہاں کچھ تھا ہی نہیں، خاص طور پر مغربی فلسفہ تو بے ہنگم تصوّرات اور بچکانہ خیالات کے مجموعۂ اضداد کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا۔

ہاں! مگر ہندوستانی فلسفے میں بعض باتیں اور بعض نکات ایسے تھے کہ جن پر ہمیشہ میں نے بہت سنجیدگی سے غور کیا۔ خاص طور پر روح اور جسم کے معاملات، حیات بعد الموت کے نظریات اور بہت سی چیزیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی فلسفے میں نیائے درشن نے جو ترک شاستر پیش کیا ہے، ارسطو اُس کے عشر عشیر بھی کچھ نہ کر سکا۔

روح اور جسم کے باہمی رشتے اور تعلقات انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم نہیں رہے۔ اس لئیے میری دلچسپی مجرّد خیالات میں نہ ہوکر، انسانوں میں رہی، میں دوسرے مضامین بہت لگن اور جی توڑ محنت سے پڑھتا رہا۔ اب جاسوسی ناولوں کا شوق بہت کم ہوگیا تھا۔ مگر روح اور جسم کا تعلق مجھے ہمیشہ ایک جاسوسی ناول کا پلاٹ محسوس ہوتا رہا اور اب — میں جو لکھ رہا ہوں، کاش کہ زمانۂ طالب علمی میں ہی اُسے سمجھ لیتا۔ ایک بار، پھر اُن سطروں کو لکھنے کو جی چاہ رہا ہے جو اِس سے پہلے بھی لِکھ چُکا ہوں۔

یہ دنیا ایک حقیر نقطے سے شروع ہوئی تھی۔ اب یہ کیسا شیطانی روپ اور حجم اختیار کر چکی ہے اوراس میں مرنے اور جینے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ روح ایک ہوا کی مانند جسم کے اندر رہتی ہے۔ پھر ایک دن جسم کو چھوڑ کر ایک بے حد بے مروت اور خود غرض مہمان کی طرح وہاں سے چل دیتی ہے۔ اپنے اُس آبائی گھر کو چھوڑ کر جس میں اُس کا اتنا خیرمقدم کیا گیا۔ سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ کتنی خاطر، کتنی تواضع کی گئی، کتنے ناز نخرے اُٹھائے گئے۔ مگر روح کی آنکھوں میں سور کے بال ہیں۔ وہ جسم کو چھوڑ کر اُسے زمانۂ گزشتہ کا واقعہ سمجھ کر رخصت ہوجاتی ہے۔ ایک دوسرے عالم کے لیے، شاید عالم لافانی کے لیے۔

مگر اُس کی روح ایسا نہیں کرے گی۔ وہ اپے میزبان کے گھر کو، بلکہ اپنے گھر کو نہیں بھولے گی۔ وہ عالم بالا کی طرف رُخ نہیں کرے گی، وہ اس دنیا سے، اس گھر سے، اپنے لوگوں سے رابطہ قائم رکھے گی۔

ممکن ہے کہ یہ اس کی روح کے لیے بڑی بدنامی کی اور ذلیل بات ہو جس کے لیے اُس پر لعنت ملامت کی جائے، جھاڑ پھونک کی جائے۔عاملوں کا سہارا لیا جائے، تعویذ اورگنڈے استعمال کیے جائیں۔

مگر اُس کی روح لعنت کے اس طوق کو، اپنی صلیب بناکر، اپنے گناہوں اور اپنے جرائم کواپنے غیر مرئی کاندھوں پر لاد کر، ادھر—یہیں جی ہاں، ادھر ہی بھٹکے گی۔ وہ کسی عالم لافانی کی طرف کوچ نہیں کرے گی۔ اِس کرب، بے چینی اور گھبراہٹ کو وہ اپنا دائمی مقدّر تسلیم کرے گی۔ اور ایک قندیل کی طرح ہوا میں اُڑتی بھٹکتی پھرے گی۔

روح اور جسم کے آپسی گٹھ بندھن نے ہی خوفِ مرگ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ دنیا جو ایک حقیرنقطے سے شروع ہوئی تھی، انسان کے لیے ایک معمہ بن کر رہ گئی۔

مگر اُس کے لیے یہ معمہ نہیں ہے۔ یہ کوئی سوال نہیں ہے، یہ محض ایک بے تُکے نقطے کا بے ہنگم انداز میںپھیلتے رہنا ہے، ایک مرض— ایک کینسر کی مانند۔

یہ دنیا جس میں انسان رہتے ہیں، بچّے رہتے ہیں اور ایک باورچی خانہ بھی اِسی نقطے میں چھپا رہتا ہے۔

ہاں، باورچی خانہ۔ ایک انتہائی — بھیانک اور خطرناک جگہ۔ اس شیطانی نقطے کو بڑھانے اور پھیلانے میں شاید سب سے زیادہ مدد اِسی باورچی خانے نام کے مقام نے کی ہے۔ یہی تو وہ جگہ تھی جہاںسے اُسے مستقبل کی تمام بدشگونیوں کی علامتیں اس طرح حاصل ہوتی تھیں، جیسے سرپر بارش ہورہی ہو۔

مگر یہ ’’اُس‘‘ کی کہانی ہے جو ابھی اپنے ’’میں‘‘ سے کٹ کر یا نکل کر باہر نہیں آیا۔ مگر یہ اُس ’’میں‘‘ کے صیغۂ غائب میں ایک حلفیہ بیان تو مانا ہی جاسکتا ہے۔ اور مناسب وقت آنے پر، اس کا جائز استعمال ہونے کے امکان سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ ابھی ’’اُس‘‘ کی کہانی سنانا یا بات سننا ذرا مشکل ہے۔ ابھی بڑا شور برپا ہے۔ ’’میں‘‘ نے بھیانک شور شرابا اور ہنگامہ برپا کرر کھا ہے۔ ابھی رُکی ہوئی ہوائوں اور سنّاٹوں کی آوازوں کو کوئی نہیں سن پائے گا۔ ابھی شور ہے، بہت شور

Categories
فکشن

نعمت خانہ – ساتویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ہمارا گھر ایک عجیب و غریب اور مثالی مشترکہ خاندان تھا۔ میرے ماں باپ کو چھوڑ کر وہاں سب ہی رہتے تھے۔ ماں میری پیدائش کے کچھ ہی مہینوں بعد چل بسی تھیں۔ اُنھیں پرانی ٹی بی تھی اور باپ پولیس میں ملازمت کرتے تھے۔ میری عمر شاید دوسال رہی ہوگی جب ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے وہ اُن کی گولیوں سے ہلاک ہو گئے تھے۔ تو ماں باپ کا ذکر ہی کیا کرنا، وہ ایک بند کتاب کی طرح ہے، جسے شاید کبھی نہیں کھولا جا سکے۔

 

مگر اُن کے علاوہ گھر میں افراد کی کوئی کمی نہیں تھی۔ خاص طور پر چچازاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بھائیوں اور بہنوں کی، دادیہال کے علاوہ شاید میری پوری نانہال بھی یہیں آبسی تھی۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کیا حالات تھے جس کے سبب میری نانہال کے بہت سے لوگ مثلاً ماموں اور خالہ وغیرہ بھی اس گھر میں رہتے تھے جسے میں اپنا گھر کہہ رہاہوں۔ اصل میں گھر کس کا تھا اور کس کے نام تھا۔ نہ مجھے معلوم تھا اور نہ کبھی یہ دریافت کرنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس ہوئی۔ مجھے اصل میں کون پال رہا تھا، میری پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری کس کی تھی مجھے یہ بھی نہیں معلوم۔ گاؤں میں ایکڑوں کے حساب سے زمین تھی اور وہاں سے اتنا اناج اور غلّہ آتا تھا کہ گھر میں رکھنے کی جگہ نہ بچتی تھی۔

 

گھر میں کتنے افراد تھے، میں گن گن کر بتا سکتا ہوں، مگر مانا کہ میری یادداشت بہت اچھی ہے لیکن آخر اُس پر زور کیوں ڈالاجائے۔ دماغ کے ایک چھوٹے سے حصّے میں اگر اتنی تصویریں زبردستی اکٹھا کرکے اُن کے نام لے لے کر گنایاجائے تو اس سے نہ تو اُن تصویروں کا کوئی بھلا ہوگا نہ دماغ کا۔ بہتر یہی ہے کہ میں پیچھے پیچھے آنے والے اُس وفادارکتّے کی چاپ ہی سنوں۔ اِدھر اُدھر کی دوسری آہٹوں کو نظرانداز کر دوں۔

 

انجم باجی میری خالہ زاد بہن تھیں۔ عمر میں مجھ سے کم از کم دس سال بڑی ضرور رہی ہوںگی۔ اس بھرے پرے گھر میں شاید وہ سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی تھیں۔ چھ سات سال کی عمر تک تو وہ مجھے گود میں لیے لیے بھی گھوما کرتیں اور باہری دالان کے داسے کے کنڈے میں لٹکے ہوئے طوطے کے پنجرے کے پاس مجھے لے جاتیں۔ اور طوطے سے کہتیں، “لو گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔” طوطا بڑا باتونی تھا، نقل اُتارنے کا ماہر، سُنبل اُس کا نام تھا۔ دو تین منٹ تک تو طوطا خاموشی سے اپنی آنکھیں گھما گھماکر ہم دونوں کو دیکھتا رہتا، پھر فوراً ہی اپنی واضح طور پر توتلی مگر غیر انسانی آواز میں بولتا۔

 

“ گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آ گئے”
انجم باجی ایک ہری مرچ میرے ہاتھوں میں تھما کر کہتیں۔
“لو سنبل کو مرچ کھلاؤ۔”

 

مرچ کو چونچ میں دبائے دبائے وہ ہم دونوں کو دیکھتا رہتا۔ پھرانجم باجی اسی طرح مجھے گود میں لیے لیے نل پر چلی جاتیں، اور اُس سے ملی دیوار پر مٹّی کے وہ گھر دِکھانے لگتیں جو بھڑیں بنا رہی تھیں۔

 

انجم باجی بہت گوری اور دُبلی پتلی نازک سی لڑکی تھیں۔ تب تو نہیں مگر بہت بعد میں غصّے کے کچھ کمزور اور کمینے لمحات میں، میں نے جب اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنا چاہا تو یہ ممکن ہی نہ ہوا۔ شاید کپڑوں کے اندر اُن کا جسم تھا ہی نہیں، یا کپڑے اُتارتے ہی اُن کے بدن کے تمام نشیب و فراز دھواں دھواں ہوکر تحلیل ہوجاتے تھے۔

 

اُن کے گورے بدن میں ایک پیلاہٹ تھی، وہ جس رنگ کا بھی کپڑا پہنتیں، اُس پر مجھے پیلے پن کی ایک پاکیزہ مگرپُراسرار سی چھوٹ پڑتی ہمیشہ محسوس ہوتی۔

 

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو کسی شخص میں بس کوئی ایک ہی چیز نظر آتی ہے۔ آخر آنکھوں کی اپنی حماقت بھی تو ہوتی ہے یا اُن کا اپنا انفرادی المیہ۔

 

میری آنکھوں کو نہ تواُن کی آنکھیں کبھی صاف طورپرنظر آئیں اورنہ ناک یا ہونٹ اور جہاں تک گردن کے نیچے کا سوال ہے تواُن کے دوپٹے کا اُبھار مجھے دلکش تو لگتا تھا مگر جتنا دلکش لگتا تھا اُتنا ہی فطری اور عام بھی۔ ظاہر ہے کہ یہ عورت اور مرد کا فرق تھا جس طرح ایک میز کرسی سے مختلف ہوتی ہے یا ایک کتاب پتھّر کی سل سے۔ اس لیے میرے اندر انجم باجی کے سینے کے اُبھاروں کے بارے میں کوئی تجسس نہ تھا۔ یاد رکھئے جنسی معاملات میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

 

اس لیے مجھے تو صرف ان کی گوری، اجلی، صاف ستھری رنگت ہی نظر آتی تھی۔ پتہ نہیں وہ خوبصورت تھیں یا یونہی سی تھیں۔ میں اپنی فطری یادداشت کو اُلجھن میں کیوں مبتلا کروں؟ میں اُن کی رنگت سے ہی لپٹا رہنا چاہتا تھا۔ کاش! وہ سفید اُجلا رنگ انجم باجی کے جسم کی کھال سے نہ چپکا ہوتا۔ کاش! وہ رنگت اُن سے ماوراہوتی، کہیں خلا میں،یا ہوا میں، یا آسمان میں اور تب میرے گناہوں کے اندھیرے اتنے گاڑھے نہ ہوتے۔ وہاں کچھ سفیدی باقی رہتی۔

 

مجھے انجم باجی سے محبت ہو گئی تھی، بچپن میں، جب میں نیکر پہنتا تھا اور زیر ناف میرے بال بھی نہیں اُگے تھے، مگر میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اپنی ماہیت میں بچپن کا یہ عشق، جوانی بلکہ کسی بوڑھے بوالہوس کے عشق سے مختلف نہ تھا۔ باورچی خانے میں رکھے کچّے گوشت کے مانند جس پر گرم مسالوں کی تہہ نہ لگی ہو اور جو ابھی ہانڈی میں اُبلنے کے لیے نہ رکھا گیا ہو۔

 

محبت اورنفرت میں ایک بڑا واضح اور خطرناک فرق ہے۔ محبت کی شکل صورت، اس کا جسم، اس کے خطوط اور خدوخال یاد نہیں رہتے، مگر نفرت ہمیشہ ایک جسم اور چہرہ رکھتی ہے۔
آفتا ب بھائی سے مجھے نفرت تھی۔ ہمیشہ سے،چاہے انھوں نے مجھے کتنی بھی ٹافیاں اور قلاقند کھلائے ہوں۔ آفتاب بھائی لمبے چوڑے جسم کے مالک تھے، رنگت اُن کی بھی گوری تھی مگر وہ انجم باجی کی طرح ایک پاکیزہ پیلی سفیدی نہ تھی۔ اُن کی جلد کی سفیدی میں لال رنگ چھپا ہوا تھا۔ ایسی سفیدی ہمیشہ اندر سے داغ دار اور تشدّد کی سیاہی سے پُتی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کا پتہ بھلے ہی بعد میں چلتا ہو۔

 

اُن کی آنکھیں بھوری اوربے رحم تھیں اور دہانہ کسی بل ڈاگ سے ملتا جلتا تھا۔ جس کو وہ اپنی خاندانی وجاہت اور مردانہ پن کی شان سمجھتے تھے۔

 

آفتاب بھائی، انجم باجی کے پھوپھی زاد بھائی تھے تومیرے کون ہوئے؟ پتہ نہیں بڑی گڑبڑ ہے۔ نہ جانے کیوں اس گھر میں اتنے عم زاد آکر کیوں اکٹھا ہوگئے تھے؟ غنیمت یہی تھا کہ یہاں بندروں نے اپنا ٹھکانہ نہیں بنایا تھا ورنہ وہ بھی ان تمام زادوں میں شامل ہو جاتے تو کوئی بعید نہ تھا۔
یقیناً آفتاب بھائی میں ایسی کوئی شے نہیں تھی جو اُن کے جسم سے ماورا ہونے کا امکان رکھتی۔ وہ پیٹو تھے اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے تھے۔ جس کے فوراً بعد مٹھی میں سگریٹ داب کر لگاتار گہرے گہرے کش کھینچتے۔ سگریٹ کی بو اُن کے آس پاس ہونے کی علامت تھی۔
آفتاب بھائی سے میری نفرت کی شدّت میں اُس دن غیر معمولی اضافہ ہوگیا جب میں نے انجم باجی کی سانسوں سے اُس سگریٹ کی بو آتی ہوئی محسوس کی۔

 

میں بڑا ہورہا تھا یا یہ کہاجاسکتا ہے کہ میرے جسم کے اندر عمر کی مقدار بڑھ رہی تھی۔ جس سے جسم آہستہ آہستہ۔ آخر کا ربڑھاپے کی طرف بلکہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔

 

اب انجم باجی مجھے گود میں نہیں لیتی تھیں۔ نیکر میں میری پنڈلیاں اور رانیں موٹی موٹی ہو گئی تھیں۔ میں واقعی موٹا ہورہاتھا اور زیادہ تر وقت باورچی خانے میں گزرا کرتا تھا۔ باورچی خانے میں ایک دن جب میں شکر میں دیسی گھی ڈال کر اُسے باسی روٹی کے ساتھ کھا رہا تھا تو میں نے دیکھا۔

 

میں نے باورچی خانے کی جالی میں سے زینے کی چوتھی سیڑھی پر دیکھا، آفتاب بھائی انجم باجی کو اپنے ہاتھ سے کیک کھلا رہے تھے۔

 

میرے ہاتھ سے روٹی گر گئی۔

 

انجم باجی کا منھ چل رہا تھا۔ میں نے شاید پہلی بار اُن کا منہ کھلا دیکھا۔ وہ جلدی جلدی، گھبرا گھبرا کر کیک نگل رہی تھیں۔ میں نے پہلی بار اُن کے حلق کی حرکت اور اُس کی ہڈی کو دیکھا۔ شدید قسم کے غم و غصّے نے مجھے آکر گھیر لیا۔

 

دوپہر تھی، مئی کی تپتی ہوئی دوپہر۔ باورچی خانے کی جالیوں میں زینے سے ہوکر آتی ہوئی لُو ہوک رہی تھی۔ آفتاب بھائی سے مجھے خوف سا محسوس ہوا اور اِس بات پر افسوس بھی کہ اب تک میں نے یہ غور کیوں نہیں کیا تھا کہ انجم باجی کے پیٹ میں بھی آنتیں تھیں۔ نہ جانے کتنی بار میں نے اُن کے ہاتھ ہی کا پکا ہوا پلاؤ کھایا تھا۔ وہ بہت نفیس پلاؤ پکاتی تھیں، جس کا رنگ خود اُن کی اپنی رنگت سے ملتا جلتاہوتا۔ اور اُن کے ہاتھ کا پکایا ہوا پتلا شوربہ جسے میں تام چینی کی سفید رکابی میں اُتار کر بڑے اہتمام سے کھاتا تھا، جس دن بھی انجم باجی کے کھانا پکانے کی باری آتی، میں پڑھنا لکھنا چھوڑ کر باورچی خانے میں اُن کے ساتھ ہی کھڑا رہتا۔ مجھے اُن کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا ہی اچھا لگتا تھا اور باورچی خانہ بھی اُس وقت مجھے دنیا کا سب سے حسین مقام معلوم ہوتا تھا جب وہاں انجم باجی کچھ کام کر رہی ہوتیں۔توا رنگ برنگی چنگاریاں بکھیرتے ہوئے ہنسنے لگتا جب وہ روٹیاں پکاتیں۔

 

بارہا میں نے انجم باجی کو کھانا کھاتے دیکھا تھا، مگر نہ جانے کیوں مجھے کبھی اُن کے جسم میں (اگر اُن کا کوئی جسم تھا) آنتوں کے ہونے کا رتّی برابر شائبہ تک نہ ہوا۔

 

مگر آج مئی کی اس سنسان گرم، تپتی ہوئی دوپہر میں۔ جب آسمان پر چیل انڈا چھوڑ رہی تھی، اچانک انجم باجی کے پیٹ میں نہ جانے کہاں سے آنتیں آگئیں۔ پل بھر کو آفتاب بھائی مجھے وہ نفرت انگیز چیل نظرآئے جو سڑک کے کنارے سڑتی ہوئی کسی اوجھڑی کو اپنی چونچ میں دبائے وہاں اُڑ رہی تھی۔

 

یہ غلیظ اور کراہیت سے بھری ہوئی اوجھڑی کسی بھی پاک صاف مقام پر، پاکیزہ جسم پر گر سکتی تھی۔ مجھے یاد ہے میں چولہے کی بھو بل کے پاس بیٹھ کر رونے لگا۔

 

میں نے زینے سے آتی ہوئی سرگوشی سنی۔

 

“باورچی خانے میں گڈّو میاں ہیں۔” انجم باجی تھیں۔

 

“وہ احمق موٹا ہوتا جارہاہے، سب اُسے گڈّو میاں کیوں کہتے ہیں، اُس کا اصل نام حفیظ ہے، حفیظ ہی کہنا چاہئیے۔” آفتاب بھائی ہنسے۔

 

“ابھی چھوٹا ہے، بن ماں باپ کی اولاد— وہ گڈّو ہی ہے۔ گڈّو میاں۔” انجم باجی کے لہجے میں پیار تھا۔

 

“یہ چھوٹاہے۔۔۔ اب کیا بتاؤں اُس دن جب یہ سورہا تھا۔ میں نے دیکھا۔۔۔” آفتاب بھائی نے کچھ آہستہ سے کہا تھا۔ یا جملہ غیر مکمل چھوڑ دیا تھا

 

“شرم نہیں آتی۔” انجم باجی غصے سے بولیں۔

 

اُس کے بعد سناٹا چھا گیا۔ میں چولہے کی بھوبل کے پاس اُسی طرح سر جھکائے بیٹھا تھا۔ میں اب رو نہیں رہاتھا۔ میرے کان آفتاب بھائی کے غیر مکمل جملے کے فحش پن کومکمل کر رہے تھے۔

 

اسی لیے میں نے کہا تھا کہ نفرت کا جسم بھی ہوتا ہے۔ اور چہرہ بھی۔ میں اپنی یادداشتوں پر تبصرہ کرتے رہنے کے لیے بھی مجبور ہوں۔ آخر جسم میں اتنی عمر آگئی ہے اور دماغ کے خلیے کمزور ہوکر مٹ رہے ہیں۔ میں جھکّی ہوتا جارہا ہوں۔

 

آفتاب بھائی اب میرے لیے سراپا نفرت کی ایک رسّی تھے جس سے میں بندھا ہوا تھا۔ اس رسّی سے بندھے ہوئے کسی وحشی جانور کی طرح میں انجم باجی کی طرف شکایت بھری نظروں سے دیکھتا تھا۔

 

وہ کچھ نہیں سمجھتی تھیں یا جان بوجھ کر انجان تھیں۔ اُنھیں دنوں اُنہوںنے مجھے اپنے ہاتھوں سے لال رنگ کا ایک سویٹر بھی بُن کر دیا تھا۔ میں نے وہ سویٹر آج تک نہیں پہنا، وہ اُسی طرح اُس لوہے کے کالے صندوق میں بند ہے۔ جس کے بارے میں، میں نے سنا تھاکہ وہ میرے ماں باپ کا صندوق تھا۔

 

میں بظاہر اپنا وقت اسکول کی کتابوں میں گزارنے لگا۔ میں نے انجم باجی کے پاس جانا کم کر دیا۔

 

بس کبھی کبھی میں طوطے کے پنجرے کے سامنے جاکر اُداس کھڑا ہوجاتا۔ طوطا دیر تک آنکھیں گھما گھما کر مجھے دیکھتا اور پھر زو رزور سے بولنا شروع کر دیتا۔

 

“گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔ “
Categories
فکشن

نعمت خانہ – پانچویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

باورچی خانہ ایک خطرناک جگہ ہے۔

 

ہمارا گھر حویلی نما تھا، جس میں دو دالان تھے۔ ایک اندرونی اور دوسرا بیرونی۔ بیرونی دالان سے ملحق برآمدہ تھا جس میں ٹین پڑا تھا۔ اس کے سامنے ایک وسیع و عریض کچا آنگن جس میں آم کا درخت لگا تھا۔ اندرونی دالان سے ملی ہوئی دونوں اطراف میں کوٹھریاں تھیں، ایک کوٹھری میں بکس ہی بکس رکھے ہوئے تھے۔ نہ جانے کون کون سے زمانوں کے بکس اور ایک کوٹھری میں کتابیں، جو زیادہ تر پرانی اور خستہ حال تھیں۔

 

برآمدے کے ٹین کو لکڑی کے تھموں اور داسے کے ذریعے روکا گیا تھا، داسے میں جگہ جگہ لوہے کے ہُک نصب تھے جن میں لالٹین جلتی رہتی تھی۔ ٹین کے مشرقی حصّے میں مرغیوں کا ڈربہ اور کبوتروں کی کابُک تھی۔ مرغیوں کے ڈربے سے ملا ہوا زینہ تھا۔ چھت پر کوئی عمارت نہیں تھی۔ صرف منڈیریںتھیں جن پر دن میں کوّے، فاختائیں اور جنگلی کبوتر مٹرگشتی کرتے رہتے تھے اور رات میں آوارہ بلّیاں اگرچہ ہمارے گھر میں بھی کئی پالتو بلّیاں تھیں۔

 

آنگن میں دونوں طرف قطار سے چھوٹے چھوٹے پودے لگے ہوئے تھے اور ایک نارنگی کا درخت بھی تھا۔

 

چھتیں سب لکڑی کی کڑیوں کی تھیں اور خستہ حال ہو رہی تھیں،بارش کے دنوں میںجگہ جگہ سے ٹپکتی تھیں۔ کڑیوں میں چھپکلیوں اور چمگادڑوں نے بھی اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے۔
آنگن کے مشرقی حصّے میں ہتّھے والا نل لگا تھا جس کے نیچے ایک چھوٹی سی حوضیہ تھی۔ یہاں کپڑے اور برتن دُھلتے رہتے تھے اور گرمیوں کے خشک موسم میں بھڑیں اکٹھا رہتی تھیں۔
اس نل کے سامنے بالکل ناک کی سیدھ میں وہ تھا۔

 

وہ— یعنی باورچی خانہ۔

 

باورچی خانے کی کڑیوں کی چھت، کم از کم جب سے میں نے دیکھا، دھوئیں سے کالی ہی دیکھی۔ ان کڑیوں میں لٹکتے ہوئے مکڑیوں کے جالے بھی دھوئیں سے کالے ہو گئے تھے اور اُن پر دھول اور غبار کی موٹی تہہ جم گئی تھی۔ جب کبھی بھی (ایسا کبھی سالوں بعد ہوتا تھا) انہیں بانس کے ڈنڈے سے صاف کیا جاتا تو وہ فرش پر کالے کپڑے کی پتلی اورباریک دھجّیوں کی طرح نیچے گرتے باورچی خانے کی مکڑیاں اور چھپکلیاں بھی، وہاں زیادہ تر وقت گزارنے والی عورتوںکی طرح کالی پڑ گئی تھیں اور شاید اسی سبب سے اصل سے کچھ زیادہ زہریلی نظر آتی تھیں۔

 

ہر طرف کی دیوار کالی تھی اور ہر کونہ کالا تھا۔ مگر اِس سیاہی سے وہاں ایک مانوسیت اور اپنے پن کا احسا س قائم تھا۔ کبھی کبھار جب باورچی خانے میں چونے سے قلعی کروائی جاتی تو بھی یہ سیاہی، سفید چونے کے پیچھے سے جھانکتی ہی رہتی اور جلد ہی اِس پردے سے نکل کر باہر آجاتی۔

 

باورچی خانے کا فرش کھرنجے کا تھا اور جگہ جگہ سے اُدھڑ رہا تھا، اس میں بڑی بڑی دراڑیں تھیں جن میں چیونٹیاں اور کنکھجورے رہتے تھے اور کبھی کبھی سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے بھی رینگتے ہوئے اِنہیں دراڑوںمیں گم ہوجاتے تھے۔

 

باورچی خانے کی چھت کے وسط میں ایک کڑی میں چالیس واٹ کا بلب، بجلی کے تار کی ایک ڈوری سے لٹکتا رہتا تھا۔ اُس زمانے میں ہمارے چھوٹے سے شہر میں بجلی آگئی تھی۔ مگر بجلی زیادہ تر غائب رہتی تھی اس لیے باورچی خانے کے دروازے کی چوکھٹ کے اوپر بھی ایک لالٹین ہمیشہ لٹکی رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ یہ لالٹین زیادہ تر بھڑکتی رہتی تھی۔ اس میں کوئی عیب تھا۔ یہ مٹّی کے تیل کو زیادہ مقدار میں برداشت نہیں کر پاتی تھی۔ اکثر اس کی چمنی ایک چھناکے کے ساتھ پھٹ جایا کرتی تھی مگر پتہ نہیں کیوں، باربار چمنی کو بدلتے رہنے کے باوجود، کبھی بھی اس لالٹین کو بدلا نہیں گیا، جس کے پیندے میں ہی کوئی خرابی تھی یا جس کا اپنی ہی بتّی سے کوئی جھگڑا تھا۔

 

بجلی کا تار لال رنگ کا تھا، مگر بعد میں،وہ بھی کالا پڑ گیا تھا اور اُس پر نہ جانے کیوں مکھیاں چپکی رہتی تھیں۔ باورچی خانے کی جنوبی دیوار پر روشندان تھا۔ جو پام کے ایک پیڑ کی طرف کھلتا تھا، کبھی کبھی جب پام کے پتّے پرانے ہوجاتے تو روشندان سے باورچی خانے کے اندر جھانکنے لگتے بلکہ شاید اَندر داخل ہونے کی کوشش کرتے۔ پام کے یہ پتّے بھی خوب تھے، ٹین سے ٹپکتی ہوئی بارش بھی پام کے اوپر سے گزرتی اور بوندیں یہاں الگ انداز سے گونجتیں۔ بے جان دھات، ٹین اور ایک جاندار شئے پتّوںمیں موسیقی کا ایک مقابلہ ہوتا، ایک اُداس جُگل بندی۔ پام کے یہ پتّے جب بہت بڑے ہوجاتے تو انھیں آری سے کاٹ دیا جاتا اور گھر سے باہر پھینک دیا جاتا، جہاں محلّے کے بچّوں کو ایک دلچسپ مشغلہ ہاتھ آجاتا۔ وہ اس دبیز، نم اور سبز غالیچے جیسے پتّے پر بیٹھ جایا کرتے اور دوسرے بچّے ڈنڈی سے پکڑ کر اُس وسیع و عریض پتّے کو سڑک پر گھسیٹتے پھرتے۔

 

مجھے افسوس ہے کہ میں کبھی پتّے پر نہ بیٹھ سکا۔ دراصل میری یادداشت میں پام کا پیڑ اور باورچی خانہ آپس میں اِس طرح گڈمڈ ہیں کہ ایک کے بارے میں بات کرنا دوسرے کے بغیر اگر ناممکن نہیں تو ادھوری اور تشنہ ضرور ہے۔

 

دوسری طرف کی دیوار میں اینٹوں کی ایک جالی لگی تھی جو زینے کی طرف کھلتی تھی۔ زینے کی چوتھی سیڑھی پر بیٹھ کر باورچی خانے کا منظر ایک کالی تصویر کی مانند نظر آتا تھا جس کے وسط میں ایک سرخ دہکتا ہوا دھبّہ تھا۔

 

یہ چولہا تھا، پنڈول سے پُتا ہوا، جس کے عقب میں اونلہ تھا۔ ایک کھانا پک جانے کے بعد اُس کی ہانڈی اونلے پر رکھ دی جاتی، تاکہ گرم رہے۔ لکڑیاں اگر سوکھی ہوتیں تو چولہے میں دھڑا دھڑ جلتیں اور اگر گیلی ہوتیں تو سارا باورچی خانہ دھوئیں سے بھر جاتا۔ چولہے کے سامنے بیٹھیں ہوئی عورتوں کی آنکھوں سے لگاتار پانی یا آنسو بہتے رہتے۔ جو باورچی خانے کی سیاہی میں گیلاپن بھی پیدا کر دیتے تھے۔ کھاناپک جانے کے بعد، چولہے میں بھوبل باقی رہتی۔ ایک سلیٹی رنگ کی راکھ جس کو کریدنے پر شعلے برآمد ہوتے تھے، اکثر رات کو دودھ کا برتن گرم کرنے کے لیے، اسے بھوبھل پر ہی رکھ دیا جاتا تھا۔

 

ہمارے گھر میں گوبر کے اُپلوں کا رواج نہیں تھا۔ وہ نسبتاً غریب اور نچلے طبقوں میں استعمال کیے جاتے تھے۔ مگر مجھے جلتے اور سُلگتے ہوئے اُپلوں پر بنی چائے بہت پسند تھی۔ اُس چائے میں دودھ کی خوشبو بہت خالص اورممتا سے بھری ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
میں نے ایسی چائے کئی بار پی ہے۔

 

ہاں مگر ہمارے یہاں بُرادے کی انگیٹھی ضرور تھی، ہر پندرہ دن بعد ایک آدمی ٹھیلے پر بُرادے کی بوری رکھے ہوئے نمودار ہوتا اور بوری کواپنی کمر پر لاد کر تقریباً دہرا ہوتے ہوئے اُسے باورچی خانے کی اندھیری کوٹھری میں لے جاکر پٹک دیتا۔

 

اُس انگیٹھی میں برادے کو بہت ٹھونس ٹھونس کر بھرنا ہوتا جو ایک مشکل اور تکڑم والا کام تھا۔ ورنہ انگیٹھی اچھی طرح نہیں سلگ پاتی تھی۔

 

چولہے سے دو ہاتھ کے فاصلے پر دائیں طرف، دیوار پر اینٹوں کی ایک الماری تھی، جس میں روزمرہ کے برتن اور مسالے وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ اکثر یہاں پیاز سڑتی رہتی تھی، فرش پر ایک طرف آٹا گوندھنے کا پیتل کا تسلہ، کالے رنگ کا بڑا اور بھاری توا جو مجھے کالے سورج کی طرح دکھائی دیتا تھا اور جس پر بڑی بڑی گیہوں کی چپاتیاں پکتی تھیں۔ اُن دنوں چھوٹے چھوٹے پھلکوں کا راوج نہ تھا بلکہ اُنہیں بہت حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔
توے کے ساتھ ہی اِدھر اُدھر چمٹا اور پھنکنی بھی پڑے رہتے۔ دونوں کالے رنگ کے تھے اور تشدّد آمیز محسوس ہوتے تھے۔ فرش پر ڈھیر سی، اونچی نیچی، لکڑی کی پٹلیاں تھیں جن پر بیٹھ کر عورتیں کام کرتیں اور جاڑوں کے دنوں میں سب لوگ اُنہیں پٹلیوں پر بیٹھ کر چولہے کے آگے کھانا کھاتے۔

 

شب برات کے دوسرے دن کی صبح تو دیکھنے کا منظر ہوتا۔ گھر کا ہر شخص، ناشتے کے وقت، باورچی خانے میں آکر پٹلیوں پر بیٹھ جاتا اور رات کے باسی حلوے کو چولہے پر گرم کرکے، تام چینی کی رکابیوں میں باسی روٹی کے ساتھ کھاتا۔

 

میں یہ بتانا بھول گیا کہ باورچی خانے کے اندرایک طرف، اندھیری کوٹھری تھی جس میں زیادہ تراناج، غلّہ، گھی، تیل وغیرہ بھرے ہوتے تھے۔ اس میں بجلی کا بلب نہیں تھا اور دن میں بھی یہاں لالٹین یا مٹّی کے تیل کی ڈبیہ لے کر جانا پڑتا تھا۔

 

باورچی خانے میں ہر طرف ایک بکھرائو اور بدنظمی کا منظر تھا۔ جبکہ دیکھا جائے تو کھانا پکانے میں مدد دگار اشیا یا آلات وغیرہ بہت کم تھے۔ صرف توا، پھنکنی، چمٹا، پتھّر کی سِل، ہاون دستہ اور چند چھوٹے بڑے چمچوں یا کفگیر وغیرہ سے ہی کام چلالیا جاتا تھا۔ گرم برتن کو اُٹھانے کے لیے کپڑے کا استعمال کیا جاتا تھا جسے صافی کہا جاتا۔ اگرچہ وہ چکنائی اور سیاہی سے اِس طرح سنا ہوتا کہ عورتوںکی انگلیاں اُس سے چپک جاتیں اور ویسے توتجربہ کار یا منجھی ہوئی عورتیں بغیر صافی کے ہی گرم سے گرم برتن کو چولہے سے اُٹھا لیتیں۔ ان کے ہاتھوں کی کھال سُن ہو چکی تھی۔

 

برتنوں میں زیادہ تر تو بدقلعی تھے۔ دیگچیاں، ہانڈیاں، پتیلے وغیرہ میں نے ہمیشہ بدقلعی ہی دیکھے۔ جہاں تک کھانا کھانے کے برتنوں کا سوال ہے تو باورچی خانے میں تو تام چینی کی رکابیاں ہی تھیں اور چائے پینے کے مگ بھی تام چینی ہی کے تھے۔ اچھے اور قاعدے کے برتن اندر، دالان میں ایک الماری میں رکھے تھے جو مہمانوں کی دعوت وغیرہ میں ہی باہر نکالے جاتے اور دھوکر فوراً دوبارہ اپنی جگہ پر رکھ دیے جاتے۔

 

دعوتوں اور تیوہاروں وغیرہ کے موقعوں پر تو باورچی خانے کی یہ بدنظمی اور بھی بڑھ جاتی۔ خاص طور سے عید کے موقع پر جب چینی کے پیالوں میں سویّاں رکھی جاتیں اور کھرنجے کا فرش ان پیالوں سے ڈھک جاتا جس کو پھلانگ پھلانگ کر اور اپنے غراروں یا شلواروں کے پائینچوں کو اُٹھا اُٹھا کر عورتیں حواس باختہ سی، باورچی خانے میں اِدھر اُدھر بھاگا کرتیں اور اکثرایک دوسرے سے ٹکرا جاتیں۔

 

کیا کبھی اس بات پرسنجیدگی سے غورکیا گیا ہے کہ باورچی خانے کی تقریباً تمام اشیا میں، چند خاص مواقع پر ایک خطرناک ہتھیار بن جانے کے امکانات پوشیدہ ہیں۔ چاہے وہ ترکاری کاٹنے والی چھری ہو، توا ہو، چمٹا ہو، پھنکنی ہو، جلتی ہوئی لکڑی ہو، چولہے میں روشن، دھڑادھڑ جلتی ہوئی آگ ہو، مسالہ پیسنے والی سل ہو، پسی ہوئی مرچیں یا بھبکتی ہوئی بھوبل ہو یا پھر مٹّی کا تیل ہی کیوں نہ ہو۔گھر کے کسی اور حصّے میں اتنی زیادہ تعداد میں ایسی اشیا نہیں تھیں۔ یہاں تک کہ بیرونی دالان کی دیوار پر کیل میں ٹنگی بندوق بھی ان اشیاء کے آگے حقیر اور کمزور نظر آتی تھی۔

 

گھر کے کسی بھی حصّے میں اتنے خطرناک بہروپئے نہیںپائے جاتے جتنے کہ رسوئی میں اور گھر کے کسی بھی اور مقام پر عورتیں اتنی برانگیختہ، برافروختہ، حسد سے بھری ہوئیں، تشدّد آمیز اور چھوٹی ذہنیت کی نہیں ہوتیں جتنی کہ باورچی خانے میں۔

 

باورچی خانہ چاہے گھر کے کسی حصّے میں ہو یا کسی بھی رُخ پر بنا ہو، چاہے واستو شاستر والوں سے کتنی ہی مدد کیوں نہ لے لی جائے، وہاں کے لڑائی جھگڑے نہیں جاتے۔ باورچی خانہ ایک میدانِ جنگ ہے اور پورے گھر، پورے خاندان بلکہ بنی نوع آدم کی قسمت کا فیصلہ اِسی چھوٹے سے اور بظاہر پاک صاف مقام سے ہی ہوتا ہے۔ عدالت یہیں لگتی ہے، مقدمہ یہیں چلایا جاتا ہے۔ اور پورا گھر اپنی خاموش آنکھوں سے یہ تماشہ دیکھتا ہے جب تک کہ آخر وہ کھنڈر نہ بن جائے۔ انسانی آنتوں کی بھوک اور دو وقت کی روٹی میں ایک پُراسرار اور بھیانک شہوت چھپی رہتی ہے۔ یہ شہوت صرف سیاہی اور خون کی طرف بڑھتی ہے۔ اور انجام کار بس ایک فحش اور مغالطہ آمیز بدنیتی بچ جاتی ہے۔ جس کے نشے کے زیر اثر کالی پیلی اور گوری عورتیں، گرم برتنوں کو اپنے سُن ہاتھوں سے اُٹھاتے رہنے کی عادی ہوکر باورچی خانے کے برتنوں سے وہی سلوک کرنے لگتی ہیں جو وہ اپنے مردوں سے کرتی ہیں۔ ان کے مرد آہستہ آہستہ چھوٹے بڑے برتنوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ باورچی خانے میں وہ سب بے حد حاوی اور خود غرض ہو جاتی ہیں۔ اُن کے جسم کی کھال سُن ہو جاتی ہے۔ عورتیں، باورچی خانے کے برتنوں کے ساتھ مباشرت کرتی ہیں۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – چوتھی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میری یادداشت ایک معجزہ ہے۔ مجھے سب یاد ہے بس شرط یہ ہے کہ جو بھی میں نے دیکھا ہو، شاید بصری یادداشت اسی کو کہتے ہیں۔ حالانکہ کچھ ایسا بھی ہے جو مجھے یاد نہیں آتا یا اُسے میں لفظوں کاجامہ نہیں پہنا سکتا، مثلاً مجھے ایک تاریک دُنیا کا بھی احساس ہے جسے آپ عدم کہہ سکتے ہیں، اگرچہ میرا خیال ہے کہ عدم محض ایک واہمہ ہے۔

 

تو مجھے اِس واہمے کا بھی احساس ہے، تاریک دنیا کی پرچھائیاں، وہاں کی اشیا جو چاقو کی نوک پر لرزتی ہوئی اُن شکلوں کی طرح ہیں جو کبھی نظر نہیں آتیں۔ شاید اِس لیے کہ چاقو سے صرف سفید کاغذ پر لکیریں ڈالی گئی ہوں؟

 

اور وہاں کے کھانے، اُن کا کھٹا میٹھا اور تیکھا ذائقہ۔ اور اُن کھانوں کی خوشبو، میرے پیٹ کی آنتوں کو اُلجھن میں مبتلا کرتے ہیں جس کی وجہ سے میرے دماغ کے بائیں حصّے میں کچھ کشمکش کی سی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔

 

میں کبھی کبھی تنگ آکر اس وبال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر میرا حافظہ، وہ میرا وفادار کتّا دبے پاﺅں میرے پیچھے پیچھے چلاآتا ہے۔
بچپن میں اکثر سڑکوں پر چلتے وقت مجھے لگتا تھا جیسے کوئی کتا میرے تعاقب میں ہے، اب جاکر میری سمجھ میں آیا کہ وہ میرا حافظہ تھا۔

 

خیر! اب تو بہت سی باتیں صاف ہو چکی ہیں مثلاً زندگی میں موت کی یاد اور موت میں زندگی کی یاد اس طرح گھلی ملی ہوئی ہیں جیسے بھونے جاتے ہوئے مرغ میں مسالہ۔

 

ویسے بھی زندگی اور موت میں کوئی فرق تو ہوتا نہیں ۔ موت کا چھینا ہوا زندگی میں حاصل ہوجاتا ہے اور موت کے اندھیرے میں کھوئی ہوئی تمام اشیا مل جاتی ہیں۔

 

اسی لیے اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ زندہ انسانوں کا خون مُردوں پر چھڑکتے ہیں یا مُردوں کا خون زندہ انسانوں پر۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی برآمد ہوتا ہے، یعنی کچھ کھوکر پالینا یا کچھ پاکر کھو دینا۔

 

ریاضی کا ایک معمولی طالب علم بھی اس سے ایک مساوات بنا سکتا ہے۔ مگر اِس مساوات کو حل کرنا یا ثابت کرنا بڑا مشکل ہے۔ یہ ایک ایساعمل ہے جس سے میں لگاتار دوچار ہوں اور شیطان کی آنت کی طرح یہ مساوات پھیلتی اور لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اِس کی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں شاید یہ ہے کہ اس سفر میں انسان اپنی روح کے جغرافیے سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کم از کم میرے ساتھ تو یہی ہوا۔ میں نے بچپن کی اپنی خاکی پتلون میں اپنی روح کے جغرافیے والا بوسیدہ کاغد سنبھال کر رکھ لیا تھا، مگر عمر کے نہ جانے کس پڑاﺅ پر اور پتہ نہیں کون سی بارش میں وہ گل سڑ گیا۔ میں نے اُسے گنوا دیا۔

 

اپنے اس بے رحم حافظے، زچ کرکے رکھ دینے کی حد تک اُس وفادار کتّے سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں نے یہ ترکیب بھی سوچی کہ میں مڑ کر جلدی سے اِس کتّے کا پٹّہ پکڑ کر اُسے ناول کے کنویں میں دھکّہ دے دوں یعنی اپنی یادداشتوں کو میں ناول کے قالب میں ڈھال دوں اوراپنی جان چھڑاﺅں۔

 

میں اور ناول؟ یہ خیال کرکے مجھے ہنسی آتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ایک ناول لکھوں۔ مگر میں ناول تو ناول ایک چھوٹی سی کہانی بھی نہیں گڑھ سکتا بلکہ میں ایک پیراگراف تک نہیں لکھ سکتا۔ اس کی ایک، بالکل سامنے کی وجہ تو یہ ہے کہ میرے اندر قابل رحم حد تک تخلیقیت کا فقدان ہے اور دوسری، شاید زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ بچپن سے ہی میری قواعد پوری طرح ٹھپ ہے۔ میں زمانوں میں فر ق نہیں کرسکتا۔ ماضی بعید اور ماضی قریب میرے لیے ایک ہی ہیں بلکہ زمانہ حال اور زمانہ ماضی تو مجھے احساس کی سطح پر ایک دوسرے کے جڑواں نظر آتے ہیں۔ یہی حال مستقبل کا ہے، زمانہ مستقبل مجھے گزرا ہوا زمانہ ہی نظر آتا ہے۔ بچپن میں امتحان میں قواعد کے پرچے میں بس رٹ رٹاکر کام چلا لیا کرتا تھا۔ اس لیے افسوس کہ میں تو صرف مقدموں کی اپیلیں اور عرض داشتیں وغیرہ ہی لکھ سکتا ہوں، اور وہاں بھی اکثر مجھ سے گڑبڑ ہوجاتی ہے، جسے میرا محرّر ٹھیک کر دیا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں، میں اگر اتنا ناکارہ اور نااہل نہ ہوتا تو میں تو واقعی ناول لکھتا۔

 

میرا ناول ہی میرا گھر ہوتا۔
میرا گھر، میرا گھر۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ گھر کا سب سے خطرناک حصّہ کون سا ہوتا ہے؟

 

لہٰذا میرا المیہ یہ ہے کہ میں اپنے حافظے کے قدموں کی چاپ سے بھڑک بھڑک کر بھاگ رہا ہوں اور اُن لفظوں کے ساتھ جی رہا ہوں جو ابھی لکھے نہیں گئے۔ ان لفظوں کے شور میں اِس طرح لاپروائی سے ہاتھ پیر پھینک کر چل رہا ہوں جیسے بہرا ہوں۔ میں تو بس اپنی گزری، بھولی بسری یادوں کے اندھیروںمیں لڑکھڑا رہا ہوں۔

 

جائے سب کچھ جہنم میں جائے۔

 

میں لفظوں کی غلامی تو کرنے سے رہا، جس دنیا میں ہر انسان ایک خوفناک راز کی طرح دوسرے انسان کی زندگی پر چھایا ہوا ہو، اُس دنیا کے بارے میں، اور انسانوں کے بارے میں لکھنا ویسے بھی ایک کارِ عبث ہی ہوتا۔

 

ہاں مگر، انسان کی ماہیت کے بارے میں ایک بات کا مجھے بخوبی علم ہے یا احساس ہے، بلکہ میں اسے احساس کی سطح پر ہی رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ احساس جیسے ہی علم بنتا ہے۔ لوگ علم کو اپنے دماغ پر اِس طرح باندھ لیتے ہیں جیسے سُوّر کو باڑے میں۔

 

اور وہ احساس یہ ہے کہ انسان اپنی آنتوں کے اندر رہتا ہے۔ انسان کے اعضائے پوشیدہ تو محض انسانوں کے ہونے کے امکان، اُن کی پرچھائیوں کے ٹھکانے ہیں۔
ذہنی اور روحانی طورپر آدمی اپنی آنتوں کے اندر ہی چھپا رہتا ہے۔ اپنی بدنیتی، اپنے چٹورپن اور اپنی بھوک کو، دوسرے کے منھ پر مارتا ہوا، ایک دوسرے کی بھوک کے ذلیل لال رنگ سے دوسرے کا منھ سنا ہوا، یہ خون کی ہولی ہے۔

 

خون؟

 

خون، جس کی بُو میرے بچپن کی جیومٹری کی کتاب میں بنے ایک ایک دائرے، ایک ایک مثلث میں اور ہراُس قضیے میں ایک خفیہ گناہ اور فاش غلطی کی مانند شامل ہے جسے میں کبھی حل نہ کر سکا۔

 

اور یہ بھی ایک خفیہ امر ہے کہ انسان کی آنتیں ہی اُس کا گھر ہےں۔

 

گھر؟؟

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ گھر کا سب سے خطرناک مقام کون سا ہے؟

 

یاد رکھیے، ’باورچی خانہ‘ ایک خطرناک اور مخدوش جگہ کا نام ہے۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – پہلی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ہر آنے والا ضروری نہیں کہ آیا ہی ہو
کہ خود نہ آیا ہووہ صرف اس کا سایہ ہی ہو
(فرحت احساس)

 

میں پُر اسرار ہوں
مگر صرف جسم کے تعلق سے
میری روح عام اور معمولی ہے
اور سوچتی نہیں ہے
(فرنانڈو پیسوا)

 

ہوا ہی وہ چشم دید گواہ تھی جس نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ایک اکیلے مگر اُداس کالے چور کی طرح داخل ہوا۔ گھر پتہ نہیں بن رہاتھا یا گر رہا تھا یا کہ کھنڈر بن رہاتھا۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا، صرف ہوا جانتی تھی۔

 

اُس کی اُداسی اُس کے پیروں سے گر گر کر زمین پر اکٹھا ہوتی جاتی تھی۔ یہ اُداسی بھی کیسی تھی؟ یہ کسی بند کنویں میں جھانکنے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھنے والی ایک افسردہ نظر کی طرح تھی اور آسمان لامتناہی طو رپر بے رحم تھا۔ یہ لامتناہیت صرف خوف پیدا کر سکتی تھی۔ سارے معنی، سارے مفہوم اسی لامتناہیت میں ڈوب ڈوب جاتے تھے۔

 

اس وسیع تر، بھیانک منظر میں محبت سے پکائی گئی دو روٹیاں ہی تھیں جو پرچم بن کر لہرا رہی تھیں۔ مگر یہ روٹیاں اب کسی معدے کے لیے نہ تھیں، یہ خون بن کرجسم میں دوڑنے کے لیے نہ تھیں۔ یہ فُضلہ بن کر جسم سے نکل کر تاریک موریوں میں بہہ جانے کے لیے بھی نہ تھیں، یہ تو دو گواہیاں تھیں۔ روح کی گواہیاں، ریاضی کے دو شفاف ایماندار ہندسوں کی مانند— لُٹی پٹی، اُجاڑ شکل دنیا کے ماتھے پر، لافانی اور پاکیزہ بندیا کی طرح چمکتی ہوئی، چولہے کی راکھ تک ٹھنڈی ہوئی مگر یہ لافانی ہیں اور گرم ہیں۔

 

اِس لیے ہوا نے دیکھا کہ وہ صرف اُداس ہے ۔وہ رو نہیں رہا، وہ شاید روئے گا بھی نہیں۔ وہ اپنے نمک کو سنبھال کر رکھے گا، نمک میں لاشیں دیر سے سڑتی ہیں۔ اُسے ابھی کتنا کچھ بچا کر رکھنا ہے۔

 

ہوا نے بہت سائے دیکھے تھے، ایک زمانے سے وہ صرف سائے ہی دیکھتی آئی تھی۔ کتنے سائے گہری، چوڑی اور ایک تاریک ندی میں چلتے چلے گئے ہیں۔ اُن کے پاؤں ریت سے اُتر کر گہرے پانیوں میں چلے گئے اور تب وہ اور بھی دبیز گہرے سایوں میں بدل گئے۔ ہر سفر سے واپسی پر پانی ہی کی طرف جانا ہوتا ہے۔ خلا نام کی کوئی شے نہیں، سب کچھ پانی ہے جو نظر نہیں آتا، مگر وہ ہر اُس جگہ موجود ہوتا ہے جہاں محبت ہوتی ہے، یا پھر نفرت۔

 

وہ اکیلا نہیں تھا، اس کے ساتھ دو نفس اور بھی تھے، ایک کن کٹا اورلنگڑاتا ہوا خرگوش کا سایہ جو اُس کے پیچھے پیچھے تھا اور ایک کاکروچ تھا جو اُس کی قمیص کے کالر پر تتلی کی طرح بیٹھا تھا۔

 

ہوا، اس گھر کی یا اِس مقام کی پرانی ہوا، یہاں کی ازلی مکین، ایک گرے ہوئے بھاری اور سوکھے درخت کے نیچے دبی کچلی پڑی تھی اور اب تقریباً پتھّر بن چکی تھی۔

 

درخت اپنے پتّوں، اپنی شاخوں کو نہ جانے کب کا کھو چکا تھا۔ صرف کچھ سوکھی جڑیں رہ گئی تھیں۔ زمین کے اندر ایک بے معنی اور مضحکہ خیز حد تک قابل رحم انداز میں پیوست، اور ہاں درخت کا تنا بھی تھا جو ایسی لکڑی بننے کے بہت قریب آچکاتھا جس سے گھر کے دروازوں کے جوڑ اور چوکھٹیں بنائی جاسکتی تھیں۔

 

ایسی ہوا چلتی نہیں ہے ۔یہ نہ کسی کے جسم کو لگتی ہے نہ الگنی پر لٹکے کپڑے سکھاتی ہے۔ یہ بس پتھّر بن کر اُس ملبے کے نیچے سے جھانکتی ہے۔ یہ اُس درخت کا ملبہ ہے جس سے نکل نکل کر وہ باہر آتی تھی۔ جھونکوں کی صورت چلتی تھی یا میلوں لمبی مسافت طے کرکے، جس کے پتّوں اور ٹہنیوں تک وہ آتی تھی۔ وہ درخت!

 

وہ آم کا درخت جو گزرے زمانوں کے آنگن میں لگا تھا، ہوا کو معلوم تھا کہ درخت کی کب کی موت ہو چکی۔ پھر بھی وہ اُسے چھوڑ کر نہیں گئی۔ جس طرح ایک بدنصیب بندریا اپنے مُردہ بچّے کی لاش کو لادے لادے، اپنے قابلِ رحم پیٹ سے چپکائے چپکائے پھرتی ہے، بالکل اُسی طرح ہوا اپنے درخت کی لاش کو ڈھو رہی تھی اور اُس کے ملبے کے نیچے پتھّر بن گئی تھی۔

 

پتھّر سے بڑا چشم دید گواہ کون ہے؟

 

وہ لڑھکتا، ٹھوکر کھاتا، بچتا بچاتا چل رہا تھا۔ ہوا نے محسوس کیا، زمین کے سینے پر پڑے پڑے، کہ اب زمین اپنا رونا نہیں روک پائی ۔ زمین اس کے کرمچ کے جوتوں پر رو رہی تھی جو گیلی مٹّی پر پھسل رہے تھے، وھنس رہے تھے ۔ ہوا کو یہ بھید بھی جلد ہی معلوم ہوگیا کہ وہاں ایک سنّاٹا بھی اپنی کہانی لکھ رہا تھا۔ ہوا کے لمبے لمبے کانوں میں سناٹا اپنی کہانی اُنڈیل رہا تھا۔

 

اور وہ —؟ اس نے سنّاٹے کو اپنے ٹھنڈے، گیلے جوتوں میں بھر لیا— اُسے شاید معلوم تھا کہ کیا رُونما ہونے والا ہے۔ ایک پتلی ندی کا شکار کرنے کے لیے، کہیں سے گھوم کر ایک بھیانک دریا چلا آرہا تھا۔ اور ندی، ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اس دریا میں ملنے کو اپنا مقدّر مانتی ہوئی آہستہ آہستہ خود ہی اُس کی طرف رینگ رہی تھی۔ یہ ایک جال تھا جس میں وہ خود ہی پھنستی جاتی تھی۔

 

ہوا نے دیکھا کہ وہ سائے کی طرح، ایک کونے میں کھڑا ہے۔

 

اُسی لمحے وہ سو سال پرانا سانپ جس کی پھنکار سے گھر کی مرغیاں دہشت زدہ ہوکر مر جاتی تھیں، لہراتا ہوا، تقریباً اُسے چھوتا ہوا گزر گیا۔ یہ سانپ بھی اس گھر کا پرانا مکین تھا، مگر اُس نے نہ اُسے دیکھا نہ محسوس کیا۔ اُس نے اُن بے شمار بندروں کے سائے بھی نہیں دیکھے جن سے یہ گھر بھرا ہوا تھا۔
ہوا نے دیکھا کہ ایک جھولتے ہوئے وزنی مگر دیمک زدہ شہتیر کے نیچے سے نکلتے وقت شہد کی مکھّیوں کا ایک خالی چھتّہ اُس کے سر سے ٹکرایا تھا مگر اُسے پتہ نہ چلا۔ چھتہ جس میں کوئی مکھی نہ تھی۔ وہ ویران پڑا تھا، اس لیے اب وہ کتھئی سنہرے رنگ کا نہ ہوکر خالی اور سوکھے اجسام کی ایک سفید صورت تھا۔ اس کی مکھّیاں بھٹکتی ہوئی کسی دوسرے سیارے پر پہنچ گئی تھیں۔ وہ اب چھتہ نہ ہوکر چھتّے کا کفن نظر آتا تھا۔ اتنا ہلکا، اتنا کمزور اوربے وقعت کہ بے حد حبس میں بھی، وہ آہستہ آہستہ ہلتا اور کانپتا تھا۔

 

مایوس کُن حد تک خطرے سے خالی یہ چھتہ جب اُس کے سائے سے ٹکرایا تو گر جانے سے بال بال ہی بچا۔

 

ہوا نے دیکھا کہ اُس نے ٹھوکر کھانے سے بچتے ہوئے، درخت کے مردہ، سوکھے تنے کو پھلانگا ہے اور ٹھیک اُسی جگہ سے جہاں وہ تنہا اور سنسان کھوکا ہے جس میں لوسی اور جیک بارش سے پناہ لینے کے لیے آکر بیٹھ جاتے تھے۔

 

کھوکا اُس تنے کے ”اکیلے پن“ پر گدا ہوا ایک دوسرا اکیلا پن ہے۔ خالی گھونسلہ جو ایک بار چھوڑ د یئے جا نے کے بعد پھر کبھی آباد نہیں ہوتا، وہ لوہے کا گھونسلہ بن جاتا ہے، اور درخت کا تنا اپنے پھولوں، پھلوں، پتّیوں اور شاخوں سب سے الگ، اکیلا اور اُس کے نیچے ایک کچلی ہوئی مگر زندہ ہوا، ہوا کو موت نہیں آتی کیونکہ وہ ہمیشہ سے اکیلی ہے۔ وہ جم کر پتھّر بن سکتی ہے یا برف۔

 

ہوا چشم دید گواہ ہے کہ وہ اس طرح بھٹک رہا تھا جس طرح اگھوری سادھو شمشان میں بھٹکتے رہتے ہیں تاکہ کسی لاش میں اپنی روح داخل کرکے اُسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکیں۔

Image: Mathew Borrett