Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چھٹی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(11)

 

ولیم جھنڈو والا پہنچا تو ایک بج چکا تھا۔ دُھند چھٹ چکی تھی۔اس لیے گاؤں اور ارد گرد کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ویسے بھی سردی کی دھوپ جب چمک کر نکلتی ہے تو کچھ زیادہ ہی سفید ہو جاتی ہے۔ ولیم کا یہ چھوٹا سا قافلہ اُس کی ایما پر پانچ چھ منٹ تک جھنڈو والا سے ڈیڑھ سو گز پیچھے ہی رکا رہا۔ جیپ پر بیٹھے بیٹھے ولیم جائزہ لینے لگا۔ گاؤں کے ارد گرد زیادہ تر کماد، ہری ہری برسن کے کھیتوں کے بیچ دُور تک پھیلے ہوئے توریے کے زرد زرد پھول اور چری کی فصلیں تھیں۔ ایک دو جگہ گُڑ بنانے کے بیلنے لگے ہوئے تھے اور آگ پر چڑھی ہوئی گنے کی پت سے اٹھنے والی حرارت کی خوشبو ہوا میں گھل مل کر سانسوں کو مہکارہی تھی۔ کچھ سکھ گڈوں پر چارہ لاد کر گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔ جگہ جگہ رہٹ اور کاریزیں تھیں۔جن کا شفاف پانی کھالیوں میں تیرتا ہواتوریے اور برسن کی فصلوں میں پھیلتا جا رہاتھا۔ اس کے علاوہ کھالیوں کے کناروں پر ٹاہلیوں اور پیپلوں کے سایہ دار درختوں کی قطاریں آگے پیچھے جمی ہوئی تھیں۔ فصلوں کی سرسبزی اور پانی کی طراوت آنکھوں سے ہو کر ولیم کے دل میں اُترنے لگی۔ اُسے جھنڈو والا کے مضافات دیکھ کر وسطی پنجاب کی ہریالیاں شدت سے یاد آئیں۔ گاؤں کے درمیان کھڑے گُردوارے کا منارہ دور ہی سے نظر آ رہا تھا۔ مختصر یہ کہ پورے گاؤں کا ظاہری ماحول پرامن اور اطمینان بخش تھا۔جس سے ولیم چند لمحے کے لیے متاثر ضرور ہوا۔ جودھا پور کی نسبت یہ گاؤں زیادہ خوش حال دکھائی دیتا تھا لیکن اس سب سر سبزی کو دیکھ کر ولیم نے کسی خیال کے پیشِ نظر انسپکٹر متھرا سے اچانک ایک چُبھتا ہوا سوال کر دیا۔متھرا کہیں ایسا تو نہیں، جھنڈو والا کی ہریالی اور فصلوں کی شادابی کی جڑوں میں ارد گرد کے گاؤں کا خون سینچا جاتا ہے۔

 

متھر داس ولیم کی طرف دیکھ کر فقط مسکرا دیا۔ غالباً متھرا جانتا تھا کہ ولیم اس کی کسی بھی بات سے اب کچھ بھی اخذ کر سکتا ہے چنانچہ خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر تھا۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم نے محسوس کیا کہ کام کرنے والے کچھ لوگوں کی نظر اُن پر پڑ چکی ہے اور وہ اُسے اپنا کام چھوڑ کر بغور دیکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ولیم کو ان کی یہ عادت بری لگی۔ خاص کر ہندوستانیوں کی، چاہے وہ مسلمان ہوں یا سکھ، اُن کی اس مشترکہ عادت سے اُسے سخت نفرت تھی۔ وہ کسی بھی چیز کو عجوبے کی طرح دیکھنے کے عادی ہیں۔ پھر اس کے بارے میں انتہائی بیہودہ اور غلط مگر حتمی تاویلیں کرنے کے ماہر بھی۔ ولیم نے دلبیر کو حکم دیا کہ وہ گاڑی آگے بڑھائے۔ لہٰذا جیپ گاؤں کی طرف بڑھنے لگی۔ متھرانے ایک دوبار پیچھے نظر ڈالی۔ لوگ جوں کے توں کھڑے دیکھتے رہے حتٰی کہ جیپ جھنڈو والا میں داخل ہو گئی۔ ولیم کو یقین تھا کہ یہ لوگ اپنا کام چھوڑ کر یا جلد نپٹا کر تماشا ضرور دیکھنے آئیں گے۔

 

دلبیر سنگھ نے جیپ گاؤں کے عین وسط میں کھڑی کر دی۔ سو فٹ قطر کا چوک تھا۔جس کے ایک طرف وہی گوردوارہ تھا جس کا منارہ اور گھنٹا ولیم گاؤں سے باہر ہی دیکھ چکا تھا۔ بعض مکان چھوٹی اور پکی اینٹوں کے تھے مگر اکثر کچے ہی تھے۔ کچے مکانوں پر چکنی مٹی کے ساتھ نہایت صفائی سے لیپ ہوا تھا۔ چوک کے عین درمیان میں ایک شرینہہ، تین چار شیشم کے پیڑ اور ایک پیپل کا درخت تھا۔ سب کے پتے جاڑے کے سبب یا تو جھڑ چکے تھے یا ٹہنیوں پرپیلے اور خاکستری رنگوں میں تبدیل ہوئے کسی ہوا کے جھونکے کے منتظر تھے۔ عورتیں جو ادھر اُدھر آ جا رہیں تھیں،زیادہ تر لہنگے پہنے ہوئے تھیں۔ مرد چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک قریباً ایک ہی ہیئت میں جُوڑا اور پگڑ میں نظر آئے۔ ولیم نے یہ بات بار بار سنی تھی کہ سکھ مسلمانوں کی نسبت کم متعصب ہیں لیکن ظاہری ہیئت میں اُسے سکھ زیادہ بنیاد پرست لگے۔

 

مسلمانوں کی اکثریت نہ تو داڑھی رکھتی تھی اور نہ ہی نماز کی طرف توجہ دیتی تھی۔ اِن کے مقابلے میں سکھ داڑھی اور بالوں سے بھرے رہتے۔ گاؤں کی گلیاں تنگ ضرور تھیں مگر مکانوں کے احاطے کُھلے کُھلے تھے۔ چاہے وہ پکے تھے یا کچے۔احاطوں میں شیشم اور کیکر کی لکڑی کے بڑے بڑے پھاٹک تھے۔ دیواریں قد آور نہ تھیں اس لیے احاطوں کے اندر تک نظر جاتی۔ اکثر احاطوں میں مال مویشی بندھا تھا جنھیں دیکھ کر لکڑی کے بڑے پھاٹکوں کی سمجھ آ جاتی تاکہ گڈ اور مویشی آسانی سے گزر جائیں۔

 

ہر گھر میں نیم، بیری، شیشم، شرینہہ یا اسی طرح کوئی نہ کوئی سایہ دار درخت ضرور تھا۔ گلیاں جو تھوڑی دیر پہلے قریب قریب خالی تھیں، ولیم کے گاؤں میں داخل ہونے سے کچھ ہی دیر بعد سکھوں کو اپنے گھروں سے باہر کھینچنے لگیں۔ اُن کے لیے گاؤں میں کسی گورے کی آمد طوفان سے کم نہیں تھی۔ لوگ گھروں سے باہر نکل تو آئے تھے مگر جودھا پور کی نسبت اِن کے ہاں خوف کی کیفیت زیادہ تھی۔ ہر ایک جانتا تھا کہ مونگی کی تباہی اور قتل تو بہرحال جھنڈو والا نے ہی کیا ہے۔ ولیم دیکھ رہا تھا،لوگ آپس میں کچھ کھُسر پھُسر کر رہے ہیں۔خوف کے باوجود ولیم کے ارد گرد کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ اُن میں سے ایک شخص سے متھرا داس نے پوچھا،او بُڈھے،سردار سودھا سنگھ کا کچھ پتا ہے؟

 

اس شخص نے جس کی داڑھی ناف تک آتی تھی اور ہاتھ میں سیر بھر کا لوہے کاکڑا تھا، ہاتھ جوڑکر پرنام کیا اور کہا، صاحب جی وہ سامنے سودھا سنگھ کی حویلی ہی تو ہے۔پھر ایک طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے،لو جی وہ سردارصاحب خود ہی آ رہے ہیں۔ ولیم نے سامنے دیکھا، سو فٹ کے فاصلے پر سردار سودھا سنگھ آ رہا تھا۔ اُس کے آگے پیچھے آٹھ دس جوان کرپانیں اور برچھیاں لیے ہوئے تھے۔ سردار کا جسمانی ڈیل ڈول، مونچھوں کا تاؤ، داڑھی کا لمباؤ اور ہاتھ میں پندرہ تولے سونے کا کڑا دیکھ کر ولیم کو ایک دفعہ کپکپاہٹ سی آ گئی۔ مگر ہر حکمران کے اندر چونکہ ایک غیر مرئی طاقت کا حوصلہ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ولیم نے اپنی کیفیت پر جلد ہی قابو پا لیا اور چہرے پر کسی بھی احساس سے عاری نقش واضح کر لیے۔ اتنے میں سردار سودھا سنگھ نے نزدیک ہو کرہاتھ جوڑے اور پرنام کیا۔ ولیم نے اس کا جواب انتہائی سرد مہری سے ویلکم کہہ کر دیا۔ اس کے بعد متھرا سے مخاطب ہو کر کہا، متھرا ہم کچھ دیر سودھا سنگھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اِن سے کہو، بیٹھنے کا انتظام کرے۔ ولیم نے سودھا سنگھ کو براہ راست مخاطب نہیں کیا تھا اور گفتگو کا انداز بھی دو ٹوک تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صاحب کمشنر بہادر کے موڈ ٹھیک نہیں تھے۔

 

سودھا سنگھ سے بالواسطہ مخاطب ہونا اور بے پروائی سے پرنام کا جواب دینا ایسی گستاخی تھی جس نے اُس کی طبیعت کو نہایت منغض کیا۔ اُس نے سوچا سب قسمت کے کھیل ہیں،ورنہ اس گوری چمڑے کے چھ فٹ بالکے کی کیا حیثیت تھی۔ ابھی زمین میں کِلّے کی طرح گاڑ کر ساتھ ڈاچی باندھ دیتا۔یا پھر چھدّو سے کہتا کہ اِسے ذرا جھانبڑ پھیر اور بیلنے پر بیلوں کی جگہ اِس فرنگی کو جوت دیتا۔ مگر اب کیا کیا جا سکتاتھا آخر سرکار انگریز تھی۔ چنانچہ غصے کے باوجود سودھا سنگھ نے چہرے پر خوشگوار سی کیفیت پیدا کرتے ہوئے کہا، سرکار کا جھنڈو والا میں قدم رکھنا ہمارے بھاگ ہیں۔ صاحب بہادر کو برا نہ لگے تومیری حویلی حاضر ہے،وہیں بیٹھ کے بات کر لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سردا ر جی کے چہرے پر ہلکے پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ ولیم نے قدم بڑھائے تو متھرا فوراً باہر کی طرف ہو کر تعظیم سے چلنے لگا۔ دونوں سنتری بندوقیں لیے ولیم کے پیچھے ہو گئے۔ ولیم تھوڑا سا آگے بڑھا تو دلبیر سنگھ نے جیپ اسٹارٹ کر کے آہستہ آہستہ حویلی کی طرف بڑھا دی۔

 

ولیم جیسے ہی حویلی میں داخل ہوا، اُس کی ہیبت نے ایک دفعہ پھر اُسے اپنی جکڑ میں لے لیا۔اتنے بڑے اور وسیع احاطے میں چاروں طرف سینکڑوں برآمدے اور برآمدوں میں چھوٹی اینٹوں سے بنائئے گئے سینکڑوں ستون ایک کے بعد ایک،اس طرح پھیلے تھے جیسے ستونوں کے جنگل آْباد ہوں۔ یہ تمام ستون نوے کے زاویے کی خمدار ڈاٹوں کا بار اُٹھائے ہوئے تھے۔ان ڈاٹوں کے سروں پر گول اور چُوڑی دار محرابوں والے بام پَر پھیلائے ہوئے آگے کی طرف جھکے تھے۔ برآمدوں کے اندر بیس بیس قدم ہٹ کر کمرے تھے۔جن کے دروازے اور کھڑکیاں شیشم کی سیاہ لکڑی کی اِس خوبصورتی سے تیار کی گئیں تھیں کہ کاری گروں کو داد دیے بغیر نہیں رہا جاتا تھا۔ یہ کمرے بھی اتنی ہی تعداد میں تھے جتنی تعداد میں دروازے تھے۔ انہی برآمدوں کے ایک طرف سے کافی کھلا رستہ چھوڑ کر ایک بڑا دروازہ مزید نکال دیا گیا تھا۔جو حویلی کے زنانہ حصے کا راستہ تھا اور سردار سودھا سنگھ کے گھر کا حصہ تھا۔ ولیم اس ساری ہیبت کو دیکھنے کے بعداپنی حکومت کی ہیبت کا اندازہ لگانے لگا جس نے اس پورے ملک کی تمام حویلیوں کی گردن اپنے پاؤں کے نیچے رکھ لی تھیں۔ ولیم نے فوراً ہی اِن خیالات کو سر سے جھٹک دیا اور موجودہ صورت حال کی طرف دماغ کو لے آیا۔
جب بیٹھ چکے تو سردار سودھا سنگھ نے انسپیکڑ متھر داس ا کو مخاطب کر کے پوچھا، تھانیدار جی، کلکٹر بہادر کیا لسی وسّی پیئیں گے یا کوڑے پانی کا بندوبست ہو جائے؟متھرا کافی حد تک ولیم کا مزاج سمجھ چکا تھا اس لیے فوراً منع کر دیا۔ حویلی میں بہت سے آدمی جمع ہو گئے تھے، جنھیں سردار سودھا سنگھ نے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ تمام لوگ چند ایک کے سوا جو سودھا سنگھ کے صلاح مشورے کے لیے ہر وقت کے لیے حاضر باش تھے، حویلی سے باہر جا چُکے تو سودھا سنگھ نے حویلی کا بڑا دروازہ بند کروا دیا۔

 

سودھا سنگھ نے ولیم کو بیٹھنے کے لیے ایک بڑے موڈھے کی طرف اشارہ کر دیا۔ یہ تین فٹ چوڑاپرشکوہ موڈھا بید کی شاخوں کو ریشم سے بُنی ہوئی رسیوں سے باندھ کر بنایا گیا تھا۔ اِسے ہمیشہ سودھا سنگھ کی چارپائی کے سامنے رکھا جاتا اور وہی بندہ اس پر بیٹھ سکتا تھا،جو سودھا سنگھ کا خاص آدمی ہوتاورنہ یہ خالی پڑا رہتا۔ اِس کے دائیں طرف سامنے ہی سودھا سنگھ کی چارپائی تھی۔ یہ بھی پانچ فٹ چوڑی، سات فٹ لمبی اور اڑھائی فٹ اونچی صندل کی لکڑی کے پایوں اور بازووں سے تیار کی گئی تھی۔جسے ریشمی بان سے بُنا گیا تھااور پائنتی پر کھدّر کی موٹی دوہریں تھیں۔سرھانے دیسی کپاہ سے بھرا ہوا ریشمی تکیہ پڑا تھا۔ اُس کے ساتھ سودھا سنگھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔باقی مُوڈھے اور چارپائیاں دو رُویہ بچھے تھے،جو ایسے قیمتی تو نہ تھے جیسے چارپائی یا موڈھا مگر بُرے بھی نہ تھے۔ یعنی عام گھروں کی چارپائیوں اور مُوڑھوں کی نسبت تو اچھے خاصے مہنگے تھے۔ ولیم سامنے اُسی بڑے موڈھے پر بیٹھ گیا۔ اِس کے بعد سودھا سنگھ نے بڑی چار پائی پر ٹانگیں پسار لیں اورکرپان کمر سے کھول کر سرہانے کے ساتھ رکھ دی۔اسی طرح سودھا سنگھ کے آدمی بھی چار پائیوں پر بیٹھ گئے مگر سنتری بندوقیں لیے ویسے ہی ولیم کے دائیں بائیں کھڑے رہے۔ چند لمحے خاموشی سے گزر گئے جیسے ہوا کا دم حبس کی وجہ سے گُھٹ جاتا ہے پھر فوراً ہی ولیم نے گفتگو کا آغاز کر دیا۔ اُسی لمحے متھرا نے محسوس کیا کہ ولیم کے چہرے پر ایسارعب تھا کہ ابھی تک اُس نے اِسے ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔اب وہ محض ایک نو آموزاسسٹنٹ کمشنر نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایک منجھا ہوا انگریز سرکار کا نمائندہ معلوم ہوتا تھا۔

 

سودھا سنگھ ہم آپ کے جھندو والا میں آئے ہیں، براستہ جودھا پور۔ کیا آپ کو ہمارا اس راستے سے بغیر اطلاع دیے آناپسند آیا؟

 

سودھا سنگھ جو پہلے ہی بے قراری کی کیفیت میں تھا، کو ولیم کے پہلے ہی سوال کی تیز کاٹ نے ہلا کے رکھ دیا۔ اُسے اول تو ولیم کا اس کے نام سے سردار کا لفظ ہٹا دینا ہی بُرا لگا کہ اپنے بندوں کے درمیان اس کی یہ صاف توہین تھی۔ اس پر ستم یہ کہ سوال جس چابکدستی سے کیا گیا تھا،اِس طرح کی بجھارتوں اور چالبازیوں کے سننے کی اُسے عادت نہیں تھی۔ یہ سب عمل سودھا سنگھ پر بہت گراں گزرا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، فوجا سیؤ جو سودھا سنگھ کی ہر مشکل معاملے میں مدد کر گزرتا تھا، نے سوچا، کہیں سودھا سنگھ کوئی بونگی نہ مار دے، فوراً بولا، سرکار یہ ملک آپ کا ہے۔ ہم آ پ کی رعا یا ہیں، آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنی رعایا کی سیوا کو آ سکتے ہیں۔ اس میں ہمارے پسند اور نا پسند کی کون سی بات ہے۔

 

ولیم کو فوجا سیؤ کی اس طرح دخل اندازی پر شدید غصہ آیا۔ وہ جانتا تھا،اِس طرح کے لوگ بات سنبھالنے کے بہت ماہر ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاملے کو چھپانے اور مجرم کو بچانے میں ان سے زیادہ کارآمد کوئی نہیں ہوتا۔
فوجا سیؤ کا جواب سن کر ولیم نے اپنی بیت سامنے پڑی میز پر رکھ دی اور دوبارہ بولا، لیکن اُس نے فوجا سیؤ کی طرف دیکھا بھی نہیں مخاطب سودھا سنگھ کو ہی رکھا۔

 

سودھا سنگھ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں جھنڈو والا کے ہر شخص سے الگ الگ پرنام لوں۔ میں یہاں بیس منٹ ٹھہروں گا۔اِس دوران صرف آپ ہی سے بات کرنا میرے لیے عزت کا باعث ہوگی۔ جب اِن کی ضرورت پڑے گی تو انھیں تحصیل بلوا لوں گا۔ (پھر فوجا سیؤ کی طرف منہ کر کے) اور میرا خیال ہے، یہ بُڈھا بخوشی آ جائے گا۔ولیم کی بڑبڑاہٹ سن کر فوجا سیؤ تو بالکل ہی بیٹھ سا گیااور اُس کی ساری پُھرتیاں ہوا ہو گئیں۔

 

اُدھر سودھا سنگھ کو کلکٹرکی اس بات سے آگ لگ گئی، گویا کسی کے کلیجے پر سُرخ کوئلے رکھ دیے ہوں مگر جو مجرم کے اندر ایک ڈر بیٹھ جاتا ہے اور اُس کی وجہ سے دل مسلسل خوف کی حالت میں چلا جاتا ہے اور قانون ایک ایسے کالے ناگ کی طرح دکھائی دیتاہے، جس کے آگے پیجھے ڈنک ہی ڈنک ہوں۔ یہی حالت اِس وقت سودھا سنگھ کی تھی۔ اُسے نہیں معلوم تھا اس چھوٹے سے واقعے پر انگریز کمشنر خود آ جائے گا۔ دیسی تھانیداروں کی تو یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ اس طرح بات کریں لیکن وہ اس سے پہلے کسی انگریز افسر سے کبھی دو بدو نہیں ہوا تھا اور طاقت ور حکومت کا ڈر بھی سر پر کھڑا تھا۔ اس لیے کچھ ایسا ویسا عمل کرنے سے عاجز تھا۔اگر کوئی اور ہوتا اور یہی کچھ بولتا جو یہ ولایتی مُنڈا بول رہا تھا تو وہ جھنڈو والا کی یادیں عمر بھر نہ بھولتا۔

 

آخر سودھا سنگھ نے ہمت کر کے اپنے اوسان مجتمع کیے، مونچھوں پر ہاتھ کی انگلیاں سرکائیں اور بولا،صاحب بہادر، سردار سودھا سنگھ کو کیا پتا کہ سرکار اتنالمبا چکر کاٹ کر جلال آباد سے جھنڈو والا کیوں تشریف لائی اور ہماری عزت افزائی کی۔ واہگرو کی جَے سے سرکار کی مہمانی ہمارا فرض ہے، جو ہو سکا کریں گے۔

 

ویل سودھا سنگھ”ولیم دوبارہ بولا”آپ کا گاؤں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ کنویں چلتے ہیں، گنے اور گندم ہے، ہر طرف سبزے ہی سبزے ہیں۔ سودھا سنگھ، یہاں مکئی اور برسن بھی بہت ہے، دو چار ایکڑ مونگی بھی ہوتی تو کچھ بُرا نہیں تھا۔ اِدھر اُدھر سے لوٹنے کھسوٹنے کی حاجت نہ رہتی، خواہ مخواہ کی پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔

 

اس جملے کے ادا کرنے کے ساتھ ہی ولیم نے سودھا سنگھ سمیت دوسرے سرداروں کے چہروں پر بھی بھرپور نظر دوڑائی اور محسوس کیا کہ سب کے رنگ واضح تبدیل ہو گئے تھے۔

 

سودھا سنگھ اپنے آپ کو فوراً سنبھال کر بولا،صاحب بہادر آپ کی باتیں کچھ میرے اُوپر اُوپر سے گزر رہی ہیں۔ واہگرو کی جَے ہو، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔

 

سودھا سنگھ، ولیم نے اُسی رَو میں کہنا شروع کیا، آپ کے ہمسائے میں عجیب طرح کے کام ہوتے ہیں۔ قتل وتل تو شاید سرداروں کا معمول ہے لیکن مونگی تو ہندو کھاتے ہیں۔خاص کر بنیے، کیا میں نے غلط کہا سودھا سنگھ؟ آپ تو شاید جھٹکے کا گوشت کھاتے ہیں۔

 

میں سمجھا نہیں صاحب بہادر “سودھا سنگھ نے دونوں پاؤں چارپائی سے نیچے لٹکاتے ہوئے کہا،، آپ مجھ سے اس طرح کی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔ کون سی مونگی اور کون سے قتل؟

 

ولیم اب اُٹھ کھڑا ہوا اور سودھا سنگھ کی چار پائی پرپائنتی کی طرف بیٹھ گیا۔ولیم کے اس عمل سے سودھا سنگھ ایک دفعہ تو لرز کر رہ گیا۔ اتنی جرأت تو جھنڈو والا میں خدا ہی کر سکتا تھا۔ سودھا سنگھ سمجھ چکا تھا کہ ولیم اُس پر ثابت کر رہا ہے کہ اب بات سیدھی سیدھی ہو گی۔

 

سردار صاحب،یہ بتائیے، اس وقت پنجاب میں کس کا راج ہے؟ولیم نے نہایت بے تکلفی دکھاتے ہوئے سوال کیا۔

 

سودھا سنگھ نے حیرت سے ولیم کی طرف دیکھا اور کہا، انگریز سرکار کا، کلکٹر صاحب، بھلا مجھے اتنا بھی نہیں پتہ؟ “ہلکا سا مسکرا کر” آج صاحب بہادرآپ عجیب طرح کی باتیں کر رہے ہیں( موڈھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )کمشنر صاحب یہ موڑھا میں نے آپ ہی کے لیے رکھوایا ہے۔

 

ولیم سودھا سنگھ کے آخری فقرے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے مسکرا کر بولا، چلو یہ بات تو طے ہوئی کہ رنجیت سنگھ کا راج ختم ہو چکا اور اب پنجاب پر ہمارا راج ہے۔

 

سودھا سنگھ آخر کار گھبرا کر ذرا تلخی سے بولا، سرکار آپ بجھارتیں بھجواتے ہیں۔

 

ولیم نے سودھا سنگھ کی تلخی کومزے سے محسوس کیا اور اُس کی حالت سے لُطف اُٹھاتے ہوئے دوبارہ بولا، سودھا سنگھ مَیں نے سمجھا تھا، جودھا پور جویہاں سے صرف پانچ کلو میٹر پر ہے، وہاں ایک بندہ قتل ہوجائے، بیس ایکڑ مونگی کی فصل ویران ہو جائے اور سردار سودھا سنگھ کو پتہ نہ چلے،تو ہو سکتا ہے اُسے ڈیڑھ سو میل دُور لاہور میں ابھی تک انگریزی راج قائم ہونے کی بھی خبر نہ ملی ہو۔وہ یہی سمجھے بیٹھا ہو کہ لاہور تخت ابھی تک مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وارثوں کے پاس ہے۔ اس میں سردار صاحب بجھارتوں والی کیا بات ہے؟

 

سودھا سنگھ کے ماتھے پر دوبارہ پسینہ آگیا مگر جلدہی اپنے آپ کو سنبھالااور بولا”صاحب بہادر، مَیں لائل پور گیا ہوا تھا، کل آیا ہوں۔ رات پتہ چلاکہ جودھاپور میں ایک بندہ قتل ہو گیا ہے اور مونگی کو آگ لگ گئی ہے لیکن میں نے پورا سیاپا نہیں سنا۔

 

ولیم نے سودھا سنگھ کی طرف بھرپور طنز سے دیکھا اور کہا، سیاپا سردار جی گورنمنٹ آپ کو بتا دے گی۔ اسی لیے تو ہم آئے ہیں کہ آپ لائل پور میں تھے۔آپ کی غیر حاضری میں یہ سانحہ ہوااورآپ کو کچھ پتہ نہیں۔اب ہمارا کام ہے، اِس پورے قصے کی تفصیل بتائیں کہ آپ کی غیر موجودگی میں بدمعاشوں کا ٹولہ جودھاپور میں داخل ہوا۔ایک بندہ قتل کر دیا، مونگی کاٹ کر گڈوں اور چھکڑوں پر لاد لی اور باقی کو آگ لگا دی۔ حالانکہ یہ سب کام آپ کی موجودگی میں ہونے چاہییں تھے۔

 

سردارسودھا سنگھ گفتگو کے اس اُلٹ پھیر کے انداز سے بالکل واقف نہ تھا اور نہ ہی اسے یہ پتا چل رہا تھا کہ ولیم اِس طرح باتیں کیوں کر رہا ہے۔کس لیے سیدھی سیدھی واردات اس پر نہیں ڈال دیتا جبکہ ولیم سودھا سنگھ کو ذہنی طو رپر اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔ جس میں وہ کامیاب ہو رہاتھا۔ اُدھر فوجاسیؤ ڈانٹ کھا کر خاموش دُور بیٹھا یہ سمجھ چکا تھا کہ سودھا سنگھ کے ہاتھ پُڑوں کے نیچے آنے ہی والے ہیں۔ اُسے پتا چل گیاتھا کہ یہ فرنگی چھوہرا واقعی ٹیڑھی کھیر ہے۔ جس کو گھمانا ممکن نہیں۔چنانچہ اُس نے خموشی ہی میں غنیمت سمجھی اور چپ چاپ بیٹھا رہا۔البتہ سودھا سنگھ نے یہ سمجھ لیا کہ اب بات کھل کر کی جائے، جو ہونا ہے وہ تو ہو ہی جائے گا۔کیونکہ سرکار کو اُس کے کرتوت کا پتہ چل گیاہے۔ ایسے ہی تویہ فرنگی چھوکرا اوکھی اوکھی باتیں نہیں کر رہا۔ لہٰذا وہ اب صاف صاف جواب دینے لگا اور کچھ دلیری سے بولا،کمشنر صاحب، غلام حیدر ابھی مُنڈا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ شیر حیدر کی مجھ سے پرخاش تھی۔پر اس کی موت کا واہگرو کی سونہہ مجھے بہت افسوس ہوا۔ لیکن یہ بات اس چھوکرے کو کون سمجھائے کہ بزرگوں پر اتنے بڑے کُوڑ ے الزام سوچ سمجھ کے لگانے چاہئیں۔ پھر بھی جو ہو سکا جودھا پور کے معاملے میں آپ کی سیواکروں گا۔ کمشنر صاحب کسی نے یہ کام کر کے شیر حیدر اور مجھ سے پرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے۔

 

سودھا سنگھ، ولیم نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا” وہ کون لوگ ہو سکتے ہیں جنھوں نے شیر حیدر اور آپ سے پُرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے؟ کیا آپ سرکار کو اس بارے میں کچھ بتائیں گے؟

 

صاحب بہادر “اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سودھا سنگھ بولا” سرکار کو سمجھنے میں مشکل نہیں ہو گی۔ کمشنر صاحب، اکثر یہ کام خود ہی کیا جاتا ہے۔ہو سکتا ہے غلام حیدر نے اپنے بندے کو خود قتل کر دیا ہو۔ آپ اس معاملے پر بھی غور کر لیں۔

 

“بہت اچھا سودھا سنگھ” ولیم دوبارہ بولا،آپ بہت جلد اس الزام پر اُتر آئے ہیں جو آپ کے خیال میں بغیر ثبوت کے آپ پر لگ چُکا ہے لیکن آپ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کے ایک دن پہلے شیر حیدر فوت ہوا ہے اور اُس کا بیٹا غلام حیدر جسے میرے خیال میں اس علاقے اور آپ سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا، لاہور سے اسی روز پہنچا ہے۔ ہو سکتا ہے اتنی بڑی اور فوری منصوبہ بندی کی اس کو ضرورت پیش آ گئی ہو لیکن آپ کا اتنی جلدی اس پر ایسا الزام لگا ناآپ کے منہ پر نہیں پڑتا کیونکہ ابھی ابھی آپ اسے ایک ‘ندان منڈا’ کہہ چکے ہیں۔

 

اس کے بعد ولیم موڈھے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا ”ویسے سردار صاحب، آج یہاں آنے کامقصد آپ سے اعترافِ جرم کروانا نہیں تھا۔ یہ کام پولیس کا ہے۔ میں تو بس آپ کے درشن کرنے آیا تھا اور یہ بتانے کہ گورنمنٹ کی ابھی اجازت نہیں ہے کہ کوئی اپنی مرضی سے حملے کر کے قتل اور لوٹ مار کرتا پھرے۔ دوسری بات سودھا سنگھ یہ ہے کہ چارپائی بھی گورنمنٹ کی ہے اور موڈھا بھی گورنمنٹ کا۔جس پر اُس کا جی چاہے بیٹھے اور جہاں جی چاہے عدالت لگا دے۔آپ رعایا ہیں، رعایا کی طرح رہیے۔ اب حکم یہ ہے کہ آپ سر کار کی اجازت کے بغیر جھنڈو والا سے باہر نہیں جائیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم چل پڑا اور اس کے ساتھ متھرا داس بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

 

سردار سودھا سنگھ اِس کھلی دھمکی کو برداشت نہ کر سکا۔وہ اٹھ کر بولا، سرکار آپ زیادتی کر رہے ہیں۔

 

سودھا سنگھ کی بات سن کر ولیم ایک دفعہ رُکا اور پیچھے مُڑ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا”سودھا سنگھ یہی بات میں کہنا چاہتا ہوں کہ سرکار نہ زیادتی کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے۔ چاہے قاتل سردار سودھا سنگھ کے بندے ہی کیوں نہ ہوں اور قتل ہونے والا چراغ دین ماچھی ہی کیوں نہ ہو۔

 

اس کے بعد ولیم جلد ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ متھرا داس ولیم کی اس تیزی اور پھرتی پر حیران ہی نہ تھا، پریشان بھی تھا۔ وہ اچھی طرح جان گیا تھا کہ ولیم کے ساتھ کام کرنا کتنا مشکل ہو گا۔چنانچہ اُسے ہر طرف سے چوکنا رہنا تھا اور اس کیس میں نہ چاہتے ہوئے بھی غیر جانبدار فیصلے کرنا تھے۔ اُس نے اپنے آپ سے کچھ عہد کیے اور کیس کی تفتیش صحیح پیمانے پر کرنے کا تہیہ کرلیا۔کیونکہ ملازمت ہر چیز سے زیادہ عزیز تھی۔ وہ بھی انگریز سرکار کی ملازمت، جس کا سکہ آدھی دنیا پر چلتا تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی-چوتھی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(8)

 

مولوی کرامت مسجد میں داخل ہوا تو سورج دکن کی طرف سے عین پہاڑ کومنہ کرتا تھاگویا ابھی بارہ ہی بجے تھے اوراذان دینے میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت نے کھجی کی ایک صف اندر سے نکال کر باہر صحن میں موجوددھوپ میں بچھا دی،جو رات کو اوس پڑنے سے گیلا ہونے کے ڈر سے اندر رکھ دی گئی تھی۔ مسجد کا صحن کچا تھا لیکن صاف ستھرا اس لیے تھا کہ مولوی کرامت روزانہ اُس پر صفیں بچھانے سے پہلے جھاڑو ضرور دیتا کہ صفیں صحن کی گرد سے گندی نہ ہوں۔ سردیوں کی دھوپ میں صفیں بچھا کر اُس پر نماز پڑھنے کا بھی اپنا ہی ایک لطف ہے۔بوڑھوں اور کام کرنے والے افراد کے لیے اس طرح کی دھوپ میں نماز پڑھنا عبادت کے ساتھ ایک طرح کی تفریح بھی ہے۔ مسجد یوں تو پکی اینٹوں سے بنی تھی مگر تمام صحن ابھی کچا تھا،جو سردی کے دنوں میں زیادہ ہی سیم زدہ ہو جاتا۔پنجاب کے چھوٹے دیہاتوں میں جو مسجدوں کی حالت ہوتی ہے،یہ مسجد بھی اُن سے مختلف نہ تھی۔ گاؤں کے درمیان چوک کے عین بیچ اِس کا وجود خشک روٹی پر رکھے اُس پیاز کی طرح تھا جو بہت عرصہ پڑا رہنے سے سُکڑ گیا ہو۔ اِس چھوٹی سی مسجد کے صحن کو تین طرف سے دیوار نے گھیر رکھا تھا۔چوتھی سمت یعنی مغرب کی جانب خود مسجد کی مسقف عمارت تھی۔ آپ اِسے تیس فٹ لمبا اور بیس فٹ چھوٹا کمرہ کہہ لیں،جس کے اُوپر سامنے کے بنیرے پر چھوٹے چھوٹے کئی منارچے رکھ دیے گئے تھے۔اُن کا رنگ مدتوں ہوا،اڑ گیا تھا۔ اس کمرے کے سامنے تیس پینتیس فٹ چوڑا اور اتنا ہی لمبا کچا صحن اور صحن کے بالکل سامنے مشرق کی طرف آٹھ فٹ چوڑا اور تیس فٹ لمبا برآمدہ، جس کی چھت بارہ فٹ تک اونچی تھی۔البتہ مسجد کی چھت بیس فٹ ضرور اونچی تھی۔ مسجد کی چھت اور برآمدے کی چھت کے آنکڑے اور شہتیر یکساں ہیئت کے تھے۔ فرق تھا تو یہ کہ برآمدے کی چھت کے آنکڑے اور ٹائیلیں مٹی اور گرد سے خاکستری ہوگئئے تھے۔ جبکہ مسجد کی چھت کے شہتیر، آنکڑے اور ٹائیلیں گھی اور تیل کے چراغوں سے اُٹھنے والے دھویں سے سیاہ ہو ئے تھے۔ برآمدے کے عین درمیان مسجد کے صحن میں داخل ہونے کے لیے لکڑی کے تختوں کا دروازہ تھا، جس پر لوہے کا زنجیر لٹکا رہتا۔ اس دروازے کا واحد اور مفید مصرف یہ تھا کہ کوئی جانور، کُتا یا گدھا داخل نہ ہو سکے۔ دروازے کے دائیں پہلو پانی کا کنواں تھا۔ وضو کرنے کی جگہ برآمدے کے نیچے ایک لمبی نالی کی صورت میں بنا دی گئی تھی جس کے ایک کونے پر پانی کی ایک ٹینکی پکی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی تاکہ کنویں سے پانی کھینچ کرٹینکی میں آسانی سے ڈالا جا سکے۔

 

برآمدوں کی اینٹوں پر پلستر نہیں ہوا تھا،اس لیے ان کی درزوں سے مٹی سیم اور شور بن بن کر گر رہی تھی۔ مسجد کے صحن کی شمالی دیوار بھی کچی اینٹوں کے ہونے کی وجہ سے دائیں طرف کو جھکی ہوئی تھی لیکن وہ صرف پانچ فٹ اونچی تھی جس کی وجہ سے کچھ زیادہ خطرے میں نہیں تھی۔ یوں بھی مسجد گاؤں کے عین چوک میں تھی۔ جس کے آس پاس چاروں طرف تیس فٹ کی دوری سے گھر تھے اس لیے کسی جانی نقصان کا اندیشہ نہیں تھا۔لیکن مصیبت یہ تھی کہ مسجد کی حالت روز بروز خستہ ہو رہی تھی۔ مولوی کرامت نے بار بار گاؤں والوں کی اس طرف توجہ دلائی مگر وہ سنتے ہی نہ تھے۔ ویسے بھی گاؤں کے لیے مولوی اور مسجد غیر ضروری سے تھے۔ ان دو چیزوں کا اصل کام گاؤں میں کسی فرد کے مرنے کے بعد ہی شروع ہوتا۔ جو میت کے دفنانے کے بعد ختم ہو جاتا۔البتہ پانچ دس بوڑھے ضرور پانچ وقت آتے اور یہ تعداد پچھلے کئی عشروں سے ایسے ہی چلی آتی تھی۔نہ بڑھتی اور نہ گھٹتی۔ایک بوڑھا مرتا تو کوئی دوسرا شخص بوڑھا ہو جاتا۔اس طرح دس بارہ بوڑھے ہر وقت مسجد کی زینت بنے رہتے اور مولوی کی ضرورت کا احساس رہتا۔

 

فضل دین کی پہلی ڈیوٹی صبح کے وقت ٹینکی میں پانی بھرنے سے شروع ہوتی۔ روزانہ بیس مشکیں کنویں سے نکال کر اسے ٹینکی میں ڈالنا ہوتیں۔ یہ پانی عصر تک کے لیے کافی ہوتا تھا۔عصر کے وقت فضل دین اُس میں مزید سات آٹھ مشکیں ڈال دیتا۔یوں ایک دن نکل جاتا۔ بعض اوقات کام چوری کر جاتا۔وہ صبح کے وقت دس بارہ مشکیں ڈال کر ہی جلدی جلدی نماز پڑھ کر روٹیاں لینے نکل جاتا۔جس کا نقصان یہ ہوتا کہ پانی جلد ختم ہو جاتا۔پھر وہ مشکیں مولوی کرامت کو خود کنویں سے کھنچ کر ٹینکی میں ڈالنا پڑتیں۔ اس عمل میں مولوی کرامت کا پارہ ایک سو بیس ڈگری پر چڑھ جاتا۔ اول تو اُسے اِن بڈھوں پر غصہ آتا جومٹی کے لوٹے ٹینکی سے بھر بھرکے وہیں بیٹھے کُلیاں کر کر کے کھنگارتے رہتے اور پانی ضائع کرتے۔لیکن غصہ اُترتا بالآخر فضل دین پر ہی تھا جو ادھورا کام کرکے مولوی کرامت کو مشقت میں ڈال دیتا۔ آج پھر جب وہ صحن میں ہلکا سا جھاڑو دے کر وضو کرنے کے لیے بیٹھا تو پانی موجود نہ تھا۔ مولوی کرامت نے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر ٹینکی میں نظر ماری تو وہ بالکل صاف تھی،پانی کا ایک قطرہ تک نہ تھا۔ یہ دیکھ کر مولوی کی حالت مُردوں کی سی ہو گئی۔ اُسے فضل دین پر اس قدر غصہ آیا کہ دانت کچکچا کر رہ گیا۔ وہ پاس ہوتا تو کاٹ ہی کھاتا۔ آخر کیا کرتا، پانی تو بہرطور ٹینکی میں بھرنا تھا۔کیونکہ فضل دین ابھی تک گھروں سے روٹیاں اکٹھی کر کے نہیں لوٹا تھا۔ مولوی کرامت نے مشکیزہ اٹھا کر کنویں میں ڈال دیا،جو چالیس فٹ گہرا تھا۔ کنواں زیادہ گہرا ہونے کی وجہ سے مشکیزے کی رسی بھی چالیس فٹ لمبی تھی۔ جسے کھینچتے کھینچتے ہاتھ شل ہو جاتے۔ مولوی کرامت نے ابھی پہلی ہی مشک بھر کر نکالی تھی کہ اس کے کانوں میں چیخوں کی آواز سنائی دی۔اُس نے مشک رکھ کر چیخوں کی طرف دھیان دیا تو اُسے ایسے لگا کہ آواز مسجد کے پچھواڑے سے آ رہی ہے۔

 

خدا خیر کرے، کیا مصیبت آ گئی، مولوی کا کلیجہ حلق میں آ گیا۔ خدا نخواستہ فضل دین کو کچھ ہو گیا مگر وہ تو ابھی نہیں لوٹا تھا۔اُسے گھر سے آئے ابھی چند لمحے تو ہوئے تھے۔ تب تو سب کچھ خیر تھی۔مولوی کرامت نے بھاری قدموں اور لرزتی ٹانگوں سے گھر کی طرف دوڑ لگا دی مگر ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اُسے ڈر ہوا کہیں گر نہ پڑ ے۔وہ دوڑنے کی بجائے چلنے لگا۔ جیسے ہی دروازے پر پہنچاتو عجب تماشا جاری تھا۔ شریفاں نے اپنے بال کھولے ہوئے تھے اور باہیں پھیلا کر اُونچے اُونچے بین کر رہی تھی۔ ارد گرد کچھ عورتیں بھی جمع تھیں۔ شریفاں نے مولوی کو آتے دیکھ کر بین کی آواز مزید بلند کر دی۔

 

ہائے کرامت ہم لُٹ گئے، خانہ خراب ہو گیا۔ میرا ایک ہی ست جنموں کا بھائی مارا گیا۔ میں برباد ہو گئی۔

 

“مولوی نے ہانپتے ہوئے کہا”نیک بختے خیر ہووے کیا ہوا؟ کوئی پتہ تو چلے۔

 

وے کرامتا چراغ مارا گیا۔ میرا اکیلا بھائی مار دیا دشمنوں نے۔

 

شریفاں نے دونوں ہاتھوں کو زانوں پر زور زور سے مار کر پیٹناشروع کر دیا۔ عورتیں اُسے ادھر اُدھر سے پکڑنے کی کوشش کر رہی تھیں اور وہ سنبھلنے میں نہیں آ رہی تھی۔

 

اِنَّ لِلّٰہ وَ اِنَّ اِلیہ راجعون کہہ کر مولوی کرامت آگے بڑھا تو راج محمد سامنے کھڑا نظر آیا۔ اُسے دیکھ کر مولوی کرامت سارا معاملہ سمجھ گیا۔تو گویا راج محمد چَک جودھا پور سے چراغ دین کی موت کی خبر لایا تھا۔مگر مولوی کرامت کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کیونکہ چراغ دین نہ تو بیمار تھا اور نہ ہی اس کی کسی سے دشمنی تھی۔ پھر یہ کیا ہوا؟

 

سلام دعا کے بعد مولوی کرامت نے راج محمد کو بان کی چار پائی پر بیٹھنے کو کہا۔اتنے میں فضل دین بھی روٹیوں کا تو بڑا لے کر آ گیا۔ مولوی کرامت نے اُسے حقہ تازہ کرنے کا کہہ کر خود راج کے لیے پانی لسی تیار کرنے لگا۔ شریفاں بین کر کر کے اپنا ہلکان کر رہی تھی۔ مولوی کرامت کو پتا تھا، فی الحال اسے روکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عورتیں خود اس کے گرد حلقہ کیے ہوئے تھیں۔ کوئی ہاتھ مل رہی تھی اور کوئی پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ زمین پر لیٹی ہاتھ پھیلا پھیلا کر روتی گئی۔حقہ تازہ کرنے کے دوران فضل دین بھی ماں کی تقلید میں رو رہا تھا۔اگرچہ اُسے اس معاملے سے ایسی ہی لا تعلقی تھی جیسے ڈیڑھ سو میل دور کسی بھی اجنبی سے ہو سکتی ہے۔وہ ایسے کسی رشتے دار کو نہیں جانتا تھا جو کبھی اُس کے لیے مٹھائی کی ڈلی ہی لایا ہو۔

 

خاطر مدارت کرنے کے بعد مولوی کرامت جب آرام سے راج محمد کے سامنے بیٹھ گیا تو اُس نے چراغ دین کے قتل کا پورا قصہ مولوی کرامت کو سنا دیا۔پھر آہستہ سے آگے بڑھ کر ایک اور خبر مولوی کرامت کو دی” لیکن بھائی کرامت تو چراغ دین اور بی بی رحمتے کی فکر نہ کرنا، غلام حیدر نے چراغ دین کے قتل کا سنتے ہی دس ایکڑ زمین دینے کا اعلان کر دیا ہے اور اُس کے ساتھ پورے ایک ہزار روپے تو پہلے ہی دے دیے ہیں۔اتنے پیسے تو چراغ دین پوری زندگی نہیں کما سکتا تھااور پرسوں جلال آباد کچہری میں زمین باقاعدہ رحمت بی بی کے نام ہو جائے گی۔ غلام حیدر تو فرشتہ ہے فرشتہ۔ اُس نے مالکوں والا حق ادا کر دیا۔

 

یہ سن کر مولوی کرامت کے چہرے پر ہلکی سی سرخی دوڑ گئی لیکن مولوی نے اس تاثر کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی گویا چراغ دین کی زندگی کے آگے اس دس ایکڑ کی کیا حیثیت ہے۔ پھر حیرانی سے پوچھا، بھائی راج مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ تم شیر حیدر کی بجائے غلام حیدر کا ذکر بار بار کر رہے ہو۔ خدا نہ خواستہ شیر حیدر کا کیا ہوا؟

 

“راج محمد نے کہا”مولوی جی تو کیا تمھیں شیر حیدر کے مرنے کی خبر بھی نہیں ملی؟ بھائی کرامت اسی کے سوم والی رات تو چراغ دین کا قتل ہوا ہے۔

 

مولوی کرامت نے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دوبارہ اِنَّ للہ پڑھی پھر پورے حالات پر راج محمد سے گفتگو کرنے لگا۔ جب آدھ گھنٹے کی گفتگو کے بعد ہر چیز مولوی کرامت پر کھل گئی تو اس نے ایک ٹھنڈی آہ کھینچی پھر چراغ کے حوالے سے بات دوبارہ چھیڑ دی۔

 

بھائی راج محمد مجھے تو ایک ہی فکر اب کھار ہی ہے کہ رحمتے اور اس کی بیٹی تاجاں کا کیا بنے گا۔ بچاری یتیم بیٹی کو کیسے پالے گی۔ ادھر مَیں جلال آباد سے ڈیڑھ سو میل دور قصور میں بیٹھا اُن کی دیکھ بھال کیسے کروں گا۔ بچی نادان ہے اور یہ مسجد کا کام میرے بغیر چل نہیں سکتا۔

 

ادھر مولوی کرامت یہ باتیں کر رہا تھا اُدھر شریفاں رو رو کے تھک چکی تھی۔اب اس کی آواز بھی حلق سے بمشکل نکل رہی تھی۔

 

دیکھ بھائی کرامت، فی الحال تو جاکر چراغ دین کے ساتویں کا بندوبست تجھے کرنا ہے۔ تیرے سوا اب اس کا وہاں رشتے دار کوئی اور تو ہے نہیں۔ ابھی سے چلنے کی تیاری کر،شام چھ بجے قصور سے ریل پکڑنی ہے۔ قُل کا ختم تو آج ہو گیا ہو گا۔ تین دن بعد ساتا ہے۔ اُس کے بعد دوسرا بندوبست دیکھ لینا۔ جو مناسب ہو وہی کرنا۔

 

مولوی کرامت تاسف سے بولا” لیکن بھائی راج، مجھے تو دکھ ہے کہ شریفاں بھاگاں والی اپنے بھائی کا منہ بھی نہ دیکھ سکی۔ یہ تو بچاری مر جائے گی۔

 

مولوی صاحب آپ تو جانتے ہیں اللہ کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔ پہلے دن تو کسی کو ہوش ہی نہ رہا۔ ادھر غلام حیدر کی پگ بندی کی رسم تھی۔ ہر کوئی وہاں مگن تھا۔ میں بھی وہیں چلا گیا تھا۔ صبح سورج چڑھا تو اس واقعے کاپتہ چلا لیکن رسم کو اُدھورا چھوڑ کر آنا اچھا نہ لگا۔جیسے ہی رسم ختم ہوئی، مَیں سیدھا یہاں دوڑا آیا مگر ریل نکل چکی تھی۔دوسری گاڑی رات کے دو بجے جلال آباد سے چلی اور صبح آٹھ بجے قصور پہنچی وہاں ایک گھنٹہ رُکی رہی۔ پھر کہیں خدا خدا کر کے گیارہ بجے اڈا جبومیل آیا۔مَیں اُترتے ہی بھاگ کھڑا ہوا اور ڈیڑھ گھنٹے میں یہاں آن پہنچا۔ اب دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے غلام حیدر چراغ دین کا بدلہ لیے بغیر نہیں ٹلے گا۔ اُس کے تیور تو ایسے ہی لگتے تھے۔ خیر یہ سب باتیں تو ہوتی رہیں گی تُو چلنے کی تیاری کر۔

 

مولوی کرامت نے فضل دین کو آواز دی جو اپنی والدہ کو اتنی شدت سے روتے ہوئے دیکھ کر سہما کھڑا تھا، بیٹے ذرا بھاگ کر چودھری حکم داد کے پاس جا اور اُس سے کہنا کہ آج دو گھنٹے کے لیے بیل گاڑی چاہیے ’جیسے فضل دین پاس آیا مولوی کرامت نے اسے ہدایت کی “اور ہمیں ریلوے سٹیشن تک چھوڑ آ پھر شریفاں کو پکار کر بولا، اب صبر کر بس اللہ کے کام ہیں جن پر نہ تیرا بس چلے گا نہ میرا۔ خدا اُسے شہیدوں کی صف میں لائے گا۔ چراغ دین ہماری بخشش کا وسیلہ بھی بنے گا۔ شام چھ بجے کی گاڑی سے فیروز پور نکلنا ہے۔اُس لیے کپڑا لتّا اُٹھا لے۔ فضل دین ہمیں سٹیشن پرچھوڑ آئے گا۔

 

تو کیا فضل دین نہیں جائے گا ساتھ؟ شریفاں نے مُردنی سی آواز میں احتجاج کرنے کی کوشش کی۔ اُسے اپنے مامے کے ختم میں شریک نہیں ہونے دے گا؟

 

اُف بھاگ بھریے سمجھا کر، “مولوی کرامت نے آہستہ سے شریفاں کو کندھے سے سہارا دیتے ہوئے کہا‘ فضل دین بھی اگر ساتھ چلا جائے گا تو یہ بھرا پُرا گھر کس کے سپرد کروں؟ پھر گدھی اور یہ بکریاں یہیں بندھی بندھی بھوکی مر جائیں گی۔ ہمیں کچھ دن لگ جانے ہیں۔ اتنے دنوں تک کون ہمارے اس سارے بکھیڑے کو سنبھالے گا؟ فضل دین کو یہیں رہنے دیتے ہیں۔ مسجد کی صفائی اور اذان کون دے گا؟ اتنا کہہ کر مولوی کرامت نے حقے کے دو تین کش لیے پھر اس کی نَے راج محمد کے سامنے کر دی۔

 

مولوی کرامت کو پتا تھا کم از کم وہ چھ سات دن تک واپس نہیں آ سکتا۔ اس عرصے میں تہرے نقصان ایک دم برداشت نہیں کر سکتا تھا۔جودھاپور آنے جانے کا خرچہ،اس کے علاوہ ساتویں کے ختم میں رحمت بی بی اور اس کی بیٹی کو بھی پانچ دس دینا پڑتے۔ کم از کم پچاس کا نسخہ اس کے پیٹے پڑ چکا تھا اور اگر وہ فضل دین کو بھی ساتھ لے جائے تو اور تو سب گزارا ہو سکتا تھا لیکن روٹیاں نہ ملنے کا نقصان ایک اضافی تھا۔ جس سے بچنے کے لیے فضل دین کا یہاں رکنا ضروری تھا۔

 

اس پوری سوچ کے دوران مولوی کرامت راج سے باتیں بھی کرتا گیا اور سر پر پگڑی سے لے کر جوتے پہننے کا کام بھی نمٹاتا گیا۔ لٹھے کی چادر جسے ٹین کے صندوق میں پچھلے کئی مہینوں سے دھو کر رکھا ہوا تھا، وہ بھی شریفاں نے اُسے وہیں بیٹھے لا کر تھما دی اور کرامت نے وہیں کھڑے ہو کر کمر کے گرد لپیٹ کر نیچے سے پہلی دھوتی کھینچ لی۔پھر جانگیے کے اوپر لٹھے کا سفید کرتا بھی پہن لیا۔ مولوی کرامت نے چند لمحوں میں کھڑے کھڑے یہ سارا کام مکمل کر لیا۔اس عرصے میں راج محمد حقہ پیتا رہا۔ شریفاں کبھی جانے کی تیاری میں ادھر اُدھر تیزی سے چلتی اور کبھی چلنے کے ساتھ زور زور سے رونا شروع کر دیتی۔جس کی مولوی کرامت کو بہت کوفت ہونے لگی مگر وہ جانتا تھا کہ اب یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہے گا۔اس لیے اسے بہرحال برداشت کرنا تھا۔

 

اِسی اثنا میں عورتوں کے علاوہ گاؤں کے مرد بھی آنا شروع ہو گئے۔ گاؤں میں پردے کا کوئی رواج نہیں تھا اس لیے مولوی کا گھر بھی گاؤں والوں کی طرح ہر لحاظ سے کھلا تھا۔نہ کسی کو تانک جھانک کی عادت تھی اور نہ ہی اس طرح کا ابھی خیال پیدا ہوا تھا۔ جو جب چاہتا ہر گھر میں اپنے ہی گھر کی طرح داخل ہو سکتا تھا۔ ہر کوئی دوسرے کی ماں بہن کو اپنی ماں بہن سمجھنے کے سوا اُس وقت دوسرا تصور بھی نہیں لاتا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں دس بارہ مرد بھی پرسہ داری کو جمع ہو گئے، جنھیں فی الحال مولوی کرامت جلدی سے فارغ کر کے چلنے کی فکر میں تھا۔ نور تیلی کو مولوی کرامت نے ہدایت کر دی جواُس کا شاگرد بھی تھا کہ جب تک وہ واپس نہیں آ جاتے، رات اس کے گھر فضل دین کے پاس رہ لیا کرے۔ اتنے عرصے میں فضل دین بیل گاڑی لے کر آ گیا۔

 

مولوی کے پاس اپنی گدھی بھی تھی، جو فالتو روٹیاں کھا کھا کر بہت موٹی تازی اور تیز طرار ہو چکی تھی۔مولوی کرامت اُسی پر روٹیاں لاد کر شہر لے جایا کرتا اور واپسی میں اُسی گدھی پرسوار ہو کر گاؤں آ جاتا۔ اس لیے اس کا سٹیشن تک پہنچنے میں تھکاوٹ کو دخل نہیں تھا۔ ویسے بھی ہر ہفتے ایک دو من روٹیاں قصور لے جانے میں گدھی کی کافی مشق ہو چکی تھی لیکن آج بندے زیادہ تھے گدھی کام نہیں دے سکتی تھی۔یہی وجہ تھی جو مولوی کو بیل گاڑی کا احسان لینا پڑا۔

 

شریفاں نے فضل دین کو ضروری ہدایات دے کر اور گھر کی صفائی ستھرائی کا سمجھا کر ہر کام ازبر کرا دیا اور کہا کہ وہ شام سے پہلے ہر حالت میں گھر آ جایا کرے۔

 

عصر کے وقت مولوی کرامت، شریفاں اور راج محمد بیل گاڑی پر بیٹھ چکے تو فضل دین نے بیلوں کو ہشکارا دے کر پہلا ڈنڈا رسید کر دیا۔بیل گا ڑی گرد بھری کچی سڑک پر دوڑ پڑی۔ نورا تیلی بھی پاس ہی بیٹھا فضل دین کو بیل گاڑی چلانے کے متعلق ہدایات دینے لگا۔ اسٹیشن پندرہ کلو میٹر دور تھا۔ مولوی کرامت نے فضل دین کو ہدایت کر دی کہ وہ بیلوں کو دوڑائے چلا جائے، کہیں گاڑی نہ چھوٹ جائے۔ گرد سے مولوی کرامت اور شریفاں کے کپڑے مٹیالے ہو ئے جاتے تھے لیکن اب اس کی کس کو پرواہ تھی۔

 

(9)

 

رات کا گھنٹا بجنے میں ابھی کچھ وقت تھا لیکن دھند نے اندھیرا بڑھا دیا تھا۔ جس کی وجہ سے تاریکی کے اندر ہیبت کا تاثر بڑھ گیا۔ سودھا سنگھ کی حویلی میں دس پندرہ سرداروں کی محفل جم چکی تھی۔ دیسی شراب کے مٹکے اور تانبے کے بھاری گلاس جن پر قلعی پُرانی ہو چلی تھی، چار پائیوں کے ساتھ پڑے لکڑی کے تختوں پر سجا دیے گئے۔سوڈا باقاعدہ فیروز پور سے منگوایا تھا۔ شراب کے بہت سے برتن ایک ہی دفعہ استعمال ہو رہے تھے۔اس لیے انھیں یکے بعد دیگرے تبدیل کرنا اکیلے چھدو کے بس میں نہیں تھاچنانچہ مزید ایک آدمی اس کام پر متعین ہو گیا۔ حویلی کا دروازہ بڑی بڑی اُوپر نیچے چاربَلّیوں سے بند کر دیاگیا۔ ان سرداروں میں دو مسلمان زمین داربھی موجود تھے۔ جن میں عبدل گجر اپنے وقار اور سرداری میں سودھا سنگھ کے علاوہ سکھوں سمیت سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اُس کا مُوڈھا مرکزی حیثیت کا حامل تھا۔اُس کے ساتھ شریف بودلہ بھی بیٹھا تھا۔سردار سودھا سنگھ کو پتا تھا،غلام حیدر اگرچہ نا تجربہ کار ہے مگر اس کے باپ کے تعلقات ضرور غلام حیدر کی پشت پر موجود ہیں۔ عبدل گجر کا تنازعہ چونکہ شیر حیدر کے ساتھ پچھلے بیس سال سے تھا۔اس لیے وہ کبھی بھی اپنے پرانے دشمن سے بدلہ چکانے میں کوتاہی نہیں کرے گا اور بیلوں کی لڑائی میں جو سُبکی اُسے اٹھانی پڑی تھی، جس میں پورے پچاس ایکڑ زمین شیر حیدر سے ہار گیا تھا، اُس پر قبضہ کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں تھا۔یہی وجہ تھی کہ اُس نے اپنے کام کو انجام تک پہنچانے کے لیے اپنے صحیح حلیف کا انتخاب کیا۔اس کے علاوہ عبدل گجر کو ساتھ ملا نے سے ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ اس لڑائی میں سکھوں کی ہمدردیاں تو سودھا سنگھ کے ساتھ رہتیں،لیکن مسلمان دو حصوں میں بٹ جاتے۔ وہ پورے طور پر غلام حیدر کے ساتھ نہ مل سکتے تھے۔ لہٰذا یہ لڑائی سکھ مسلم سے زیادہ ذاتی تصور کی جاتی، جس کا فائدہ ہر صور ت میں سودھا سنگھ کو پہنچتا۔ ویسے بھی شیر حیدر کے مرنے کے بعد عبدل گجر کی طاقت اور رعب کا علاقے میں خود بخود اضافہ ہو گیا تھا۔

 

آٹھ دس جوان کرپانیں اور برچھیاں لیے ڈیرے کی چار دیواری کے گرد پہرے پر موجود تھے۔ کچھ جاسوسی کے لیے ادھر اُدھر گاؤں کے رستوں پر بٹھا دیے گئے تاکہ حالات اچانک پلٹا نہ کھا جائیں۔ محفل میں جب ہر طرف سے سکون ہو گیا تو سودھا سنگھ نے عبدل گجر کو مخاطب کیا،

 

چوہدری صاحب اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنی کمانوں کی تندیاں کَس کر اُن پر تیر چڑھا دیں اور (اپنی کرپان کی دھار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے) لوہے کو پان دے لیں۔ اپنے لوہاروں کو کہہ دو وہ درانتیاں بنانی چھوڑیں اور کرپانوں کی چوڑیاں کَس دیں۔

 

سردار جی! “عبدل نے پہلو بدل کر کہا” لوہا کُھنڈا ہو یا پان چڑھا، ضرب لگاؤ تو اپنی لاج رکھتا ہے۔ویسے میں نے لوہاروں کوکہہ دیا ہے کہ دیگی لوہے کو سان پر رکھ دیں۔ تیرے کہنے سے پہلے ہی چَھویوں کی دھاروں پر پان چڑھ گئی ہے۔ میرا سو بندہ برچھیوں کی بولی بولتا ہے۔سودھا سنگھ، ڈر تو بس سرکار کا مارتا ہے۔ کتا بھی مار دوتو کچہری کی سیڑھیاں قدموں سے لگ جاتی ہیں۔ ڈرتا ہوں وار اوچھا نہ پڑ جائے اور میں مقدمے بازی میں نہ پھنس جاؤں۔

 

سُودھا سنگھ آگے جھک کر بولا، چوہدری صاحب سمجھا کر، سیدھا حملہ نقصان دے گا۔ میری طرف دیکھ،میں نے غلام حیدر کی ساری مونگی اُجاڑ دی اور ایک نوکر بھی مار دیا۔اب کُتے کی طرح زخم پر دُم مارتا پھرتا ہے۔ دیکھنا تھوڑے دنوں میں کیڑے پڑجائیں گے پھر اس قابل بھی نہیں رَہے گا۔ زیادہ سے زیادہ تین سو دو کا کیس ہو گا، جس میں میری ضمانت پہلی پیشی پر لازمی ہے۔کیونکہ نہ ثبوت نہ گواہ۔ سیدھی لڑائی انگریز ی دور میں سراسر نقصان ہے۔ واہگرو دی سونہہ، غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکتا۔ بس ایک طرف ہو کر وَکھّی میں وار کرو۔

 

شریف بودلہ،جو ابھی تک خاموش بیٹھا صرف حقہ پیے جا رہاتھا، بولا: سُودھا سنگھ بات سیدھی کر، بجھارتوں کا وقت نہیں۔

 

شریف بودلے کے اس سوال پر سودھا سنگھ کی بجائے دھیر سنگھ بولا: “چوہدری جی،سردار سودھا سنگھ کے کہنے کا مطبل ہے، غلام حیدر سے سیدھا پھڈا لینے کی بجائے اُس کی رعایا کے مال پر ہاتھ صاف کرو۔سٹ پہ سٹ مارتے جاؤ۔ اس کی رعایا کو جتنا زیادہ نقصان دوگے، غلام حیدر کے اوسان اتنے ہی بے وَسے ہوں گے۔ آخر بوندلا جائے گا۔ رعایا کے پاس تو مقدمے باز ی کے لیے پیسہ ہوتا نہیں۔وہ غلام حیدر سے ہی جا جا کر فریادیں کریں گے۔ اب آپ ہی بتا ؤ، بچارا کہاں تک ان کے مقدمے بھگتے گا۔ آخر تھک کر لاہور بھاگ جائے گا۔ رہا رفیق پاولی، تو وہ بے چارا، پاولی کا پاولی، منشی کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔چوہدری صاحب اس کارا دھاری میں غلام حیدر کی رعایا اُس سے بددل ہو جائے گی۔ آخر بے چارے لاوارث آپ کی جھولی میں آ گریں گے۔ بس رعایا آپ سے مل گئی تو آرام سے زمینوں پر بغیر رجسٹری کے قبضہ ہو جائے گا۔ پھر زمین تو ہوگی غلام حیدر کی اور اُس میں واہی بیجی کریں گے آپ اور ہم۔ آئی بات سمجھ میں چوہدری صاحب؟

 

“ہوں” عبدل گجر نے سوچتے ہوئے ہنکارا بھرا۔ عبدل کو جال کی طرف آتے دیکھ کر سودھا سنگھ نے دھیر سنگھ کی بات مزید آگے بڑھائی اور بولا:

 

تمہارے گاؤں کے نزدیک شاہ پور جو غلام حیدر کا گاؤں ہے، وہاں بندے بھیج کر رات کو ساری بھینسیں گھیر لاؤ اور ہدایت کر دو کہ اس کام میں ہو سکے تو ایک آدھ بندہ بھی پھڑکا دیں۔ جب چاروں طرف سے یلغار ہو گی تو غلام حیدر کس کس کا مقابلہ کرے گا۔ ساری برادری اُس کی پاکپتن بیٹھی ہے۔وہ تو فیروز پور اور جلال آباد آ کر ہم سے مقابلہ کرنے سے رہی۔

 

“ہوں”ٹھیک ہے۔عبدل گجر اور شریف بودلے نے یہ سن کر مونچھوں پر ہاتھ پھیرا۔

 

عبدل دل میں سوچنے لگا کہ آج کسی سکھ نے بھی کوئی کام کی بات کی ہے۔ورنہ تو ہر وقت دماغ کے بارہ ہی بجے ہوتے ہیں۔

 

“انھیں متاثر ہوتا دیکھ کر سودھا سنگھ نے گرم لوہے پر ایک اور ضرب لگائی” چوہدری عبدل سوچنے کا وقت نہیں پربھا کا نام لے کر آج ہی کام شروع کردو۔ میں اپنے بھی کچھ بندے بھیج دوں گا، اگر تمہیں اکیلے میں کچھ شُبہ ہے کہ کام ادھورا نہ رہ جائے تو مَیں متھا سنگھ اور رنگا کو بھی حملہ کی رات تیری پارٹی میں بھیج دوں گا۔ مَیں تو مِتروں کا مِتر ہوں عبدل بیبا۔

 

ٹھیک ہے سودھا سنگھ، “عبدل گُجر سودھا سنگھ کی اس آخری امداد سے متفق ہوتے ہوئے بولا” میں سارا منصوبہ کر کے تمہیں اپنی دلیل بتا دوں گا۔ پچاس ایکڑ تو اب میں لے کے رہوں گا۔

 

القصہ رات پچھلے پہر تک اس مسئلے پر بحث اور گفتگو رہی جس میں بہت سے پہلوؤں پر غور کیا گیا اور ہر معاملے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ کر ایک طے شدہ پروگرام مرتب کیا۔جس کے تحت ہر حالت میں عمل درآمد کرناتھا۔ عبدل گجر اور شریف بودلے نے رات وہیں سودھا سنگھ کے ڈیرے پر بسر کی۔ اپنی اپنی پگڑیاں بدلیں۔ قرآن اور گرنتھ پر قسمیں کھائیں۔ جس کے تحت ایک دوسرے کی مدد کے وعدے کیے اور بالآخر سب لوگ اطمینان سے سو گئے جبکہ باقی لوگ جن کے گھر وہیں تھے، وہ اپنے گھروں کو چلے گئے۔

 

دوسرے دن صبح مرغ کی اذان کے ساتھ ہی عبدل گجر اور شریف بودلہ جاگ اُٹھے۔ سودھا سنگھ جو غالباً باقی رات بھی نہیں سویا تھا بلکہ گرو جی کی جَے میں پوجا پاٹ کو بیٹھا رہا، ان کے جاگتے ہی آ گیا۔ کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اتنے میں نور دین ماچھی ناشتے کا ٹوکرا سر پہ رکھے آ گیا۔ سردار جی نے خاص اہتمام ناشتے کا کیا تھا۔جس کا سارا انتظام نور دین ماچھی کے گھر میں کیا گیا۔ ناشتے میں دیسی مرغ کا گوشت، مکھن، شکر، لسی اور دیسی گھی میں تر پراٹھے تھے۔

 

نوردین نے چوہدریوں کے سامنے ناشتہ بڑے سلیقے سے رکھ دیا۔ سچ پوچھیں تو سودھا سنگھ نے رات سے لے کر اب تک اُن کی اتنی آؤ بھگت کی کہ اب وہ دل و جان سے سردار جی کے ساتھ مل کر غلام حیدر کا تِیّا پانچا کرنے کو تیار ہو گئے۔ ناشتے کے بعد حقے کے کش لیتے لیتے سورج کافی چڑھ آیا تو انھوں نے سودھا سنگھ سے کہا، بگھی تیار کروا دے تاکہ جلد اپنے گاوں پہنچ کر منصوبے پر عمل شروع کریں۔

 

(جاری ہے)