Laaltain

تعزیت نامہ اور دیگر نظمیں (وجیہہ وارثی)

غربت کی لکیر آمدنی اخراجات کو دعوتِ گناہ دیتی ہوٸی آتی ہے “ہم مہذب نہیں مذہبی ہیں” اس جملے کی روشنی میں مالتھس کا نظریہ ضبط تولید کفر قرار دیا جا چکا ہے ہمارے کسان اپنی کھیتی میں دن رات ہل جوتتے ہیں میزاٸل نما بیج بوتے ہیں ہم مقروض پیدا کرنے کی مشینیں ہیں […]

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں (رضی حیدر)

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں یا تیری رندھی ہوئی ہچکی میں دونوں میں ایک طویل سکتہ تھا یہ کوئی دلدل ہے شاید یا کوئی شہرِ مدفون وقت کی سِلوں کی عبارتیں مٹ رہی ہیں خاموشی کی چھپکلی زبان سے اپنے ڈیلے صاف کرتی ہے (خدایا کیا دھنسنا ہمارا مقدر ہے اس ماتھے […]

لہروں پر جھومتا چاند! (ایچ-بی-بلوچ)

لہروں پر جھومتا چاند رات کے طول کا ایک دیدہ عکس ہے باقی نادیدہ سراپا پانی کی نظر ہو چکے ہیں گزرے لمحات کی قبر میں مدفون اے میری راحت! میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میں نے تجھے کبھی چوما تھا ! میں اکیلائی کے جسم پر مجوزہ منصوبوں کی وارداتیں لکھتا ہوں […]

دو نظمیں (قاسم یعقوب)

میں کبھی ایسا دیکھوں میں خوابوں کا بارود بنوں اور بارود مرا چہرہ، مری آنکھیں اوڑھ کے ریزہ ریزہ ملبہ بنتی دل کی آبادی بن جائے میں ایک شجر کو خود پر پہنوں اور مرا سایہ تیرے جسم پر میرے ہونٹوں کے لمس کو تپتی ریت اور وحشی دھوپ سے محفوظ رکھے میں ایک کتاب […]