Categories
شاعری

بارش کی خواہش بھی اک موت ہے (حفیظ تبسم)

بارش کی خواہش بھی اک موت ہے

مون سون سے پہلے
پانی کی تقسیم پر
زمین کے بڑے خداؤں نے اپنے اجلاس کا آغاز
گالیوں کی طویل فہرست سے کیا
جو جنگ کے دنوں میں ایجاد ہوئیں

امن پسند راہب جنگل میں چھپ گئے
اور بدھا کے مجسمے پر بیٹھے پرندے
اداس گیت گاتے گاتے
پتھروںمیں تبدیل ہوگئے

جنگ کے لیے
نقارہ بجاکر اعلان کیا گیا
مائیں دیر تک بچوں کی گنتی پوری کرتی رہیں
بوڑھے باپ
سانسوں کے تاوان میں اناج کی بوریاں اٹھا لائے
اور دروازے غیر معینہ مدت کے لیے
دیواروں میں تبدیل ہوئے

گورگنوں نے قبر کی کھدائی کا معاوضہ
دوگنا کردیا
لوگ مرتے رہے
یہ اندازہ لگانا مشکل ہوا کہ
چالیس روزہ آرام دہ قبر کس کے حصے میں آئی

جنگ کوئی نمایاں کھیل نہیں
جو جاری رہے
بہت دن تک
سو آخر جنگ ختم ہوجاتی ہے
ذرا سستانے کے لیے
البتہ جنگ کی کہانی
ایک نسل سے
دوسری نسل تک پہنچ جاتی ہے

صلح نامے میں درج ہے
روحیں پانی کے خواب میں سفر کر رہی تھیں
جب زمین سے رخصت ہوئیں
وہ پانی۔۔۔
جس کے لیے جنگ ہوئی
مون سون سے پہلے

خدا کے دروازے پر مسلسل دستک

قحط سالی کے دنوں میں
بارش کے نام پر خیرات کرکے
طویل ترین دعا مانگی
جو تہوار کے دن کے لیے موزوں تھی

خدا نے سنی
(وہ کچھ دنوں سے براہ راست سُن رہا تھا)
محض اتفاق تھا

بارش برسی
تالاب یکدم سخی ہو گئے
اور پھر وحشی۔۔۔

پانی کے ریلے
آبادی سے لڑکیوں کے جہیز میں رکھے خواب
اور چرواہوں کی بھیڑیں بہا لے گئے
پرندوں کی چیخیں سن کر
پیڑ خودکشی کرنے لگے

کشتیاں لوٹ نہ سکیں
اونچے ٹیلے کے کنارے آباد لوگ
ایک دوسرے کے کان میں اذان دینے لگے
بارش برستی رہی
خدا کے کان پھر بند ہو گئے

جل دیوی کے مندر میں

مندر کی گھنٹی بجتی ہے
ٹن ٹن ٹن۔۔۔
اور انصاف کے لیے آگے پیچھے جھولتی ہے

دیوی
آتش دان سے آگ طلب کرتے
بے ساختہ پوچھتی ہے
اجنبی
تمہارے دل میں کیا ہے؟

میں، سامنے چھوٹی سی بستی سے بھاگا ہوا لڑکا
بد نصیب، گم گشتہ

میرے پاس وہ لفظ نہیں
اپنے پسندیدہ موسم کی آخری رات کو بیان دے سکوں
کہ تمہارے چرنوں میں
قربان ہونے والی خوبصورت لڑکی
میرے محبت نامے کا مقدس باب تھی

اس وقت سے
میں نے سراغ رسانی سیکھی
اور تم تک پہنچنے کے لیے
سرد مقبرے کی صلیب پر دن گزارے

دیوی ہنسی!
اس میں کون سا انکشاف ہے
بارش برسانے کا ایک یہ بھی طریقہ ہے

میرے ہاتھوں میں تیز دھار خنجر کانپنے لگا

باتوں کے شور شرابے میں
مسلح پہرے دار جاگے
اور مجھے
بدتمیزی سے باہر پھینک دیا
گھنٹیاں آگے پیچھے جھولتی رہیں
ٹن ٹن ٹن۔۔۔

Categories
شاعری

تعزیت نامہ اور دیگر نظمیں (وجیہہ وارثی)

غربت کی لکیر

آمدنی اخراجات کو دعوتِ گناہ دیتی ہوٸی آتی ہے
“ہم مہذب نہیں مذہبی ہیں”
اس جملے کی روشنی میں
مالتھس کا نظریہ ضبط تولید کفر قرار دیا جا چکا ہے
ہمارے کسان
اپنی کھیتی میں
دن رات ہل جوتتے ہیں
میزاٸل نما بیج بوتے ہیں
ہم مقروض پیدا کرنے کی مشینیں ہیں
ڈالر اپنی مرضی سے مباشرت کرتا ہے
ہمارا تعلیمی بجٹ محبوبہ کے تل سے چھوٹا ہے
خجل داری نظامِ معیشت راٸج ہے
(خ سے خوف)
(ج سے جہالت)
(ل سے لالچ)
بجٹ کے گوشوارے کی جگالی کرنا منع ہے
ہمارا ماٸی باپ
آٸی ایم ایف
(آٸی ایم فادر)کے اشارے پر
غربت کی لکیر
مزید گہری اور بڑی کر دی گٸ
تاکہ
ہمارے مقعد تک پہنچ سکے

تعزیت نامہ

ایک شاعر مر رہا ہے
اس کی ادھوری نظمیں
جھاگ بن کے منہ سے نکل رہی ہیں
واہ واہ کرنے والے واہ واہ کر رہے ہیں
کچھ دیر میں
واہ واہ آہ آہ میں تبدیل ہو جائے گی
ایک ڈرامہ نگار مر رہا ہے
جسے رد کر دیا گیا
وہ اپنے لکھے ہوئے الفاظ کا کفن بنا لیتا ہے
لوگ سمجھتے ہیں
نیا ڈرامہ رچا رہا ہے
ایک افسانہ نگار مر رہا ہے
کچھ دیر میں افسانوی کردار میں ڈھل جائے گا
ایک ناول نگار مر رہا ہے
اس کے کردار رو رہے ہیں
کیوں کہ
وہ زندہ رہیں گے
ایک فنکار مر رہا ہے
تماش بین تالیاں ٹھونک رہے ہیں
تعزیت نامہ لکھنے والے
سنہرے قلم میں سرخ روشنائی بھر ریے ہیں

دیوار

میں چڑیا دیکھتے دیکھتے چڑیا بن جاتا
تمہاری چھت پر اڑتا
زمین کی کشش سے دور نکل جاتا
مگر ڈر گیا
تمہارے سونے کے پنجرے سے
میں درخت دیکھتے دیکھتے درخت بن جاتا
درخت تعصب پسند ہوتے ہیں
رات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں
اپنے سائے میں
کسی اور کو پنپنے نہیں دیتے
پیتل کی کلہاڑی سے ڈرا دیا
میں سمندر دیکھتے دیکھتے سمندر بن جاتا
مگرشارک مچھلیوں کی ہڑتال نے روک دیا
میں بادل دیکھتے دیکھتے بادل بن جاتا
تم پر برستا
مگر تمہیں برہنہ دیکھ کے ارادہ ترک کر دیا
میں کچھ نہیں بن سکا
دیوار دیکھتے دیکھتے دیوار بن گیا

Categories
شاعری

وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے (صدیق شاہد)

وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے
جیسے سناٹا خالی کمرے کو
ربط اور ضبط کی ساری گرہیں ان آنکھوں کی دلچسپی سے کھلتی ہیں
جن آنکھوں کی حیرانی سے باغ عدن کے تالے کھلیں گے

بھر دیتی ہیں
وہ آنکھیں مجھ کو بھر دیتی ہیں
خوف اور لذت سے
اک مصنوعی وصل کی وحشت سے
رک جاتا ہوں
میں بھرا بھرایا رک جاتا ہوں
ان رستوں پر
جن رستوں کی بھول بھلیاں مجھ کو ایسے سیدھی ہیں
جیسے مقناطیس کو لوہا
جیسے مقتول کو قبر کی مٹی

ہنستے ہنستے رہ جاتا ہوں
اپنے دل کی ویرانی پہ
اور ان آنکھوں کی حیرانی پہ
جب وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتی ہیں
جیسے آخری ہچکی بھر دیتی ہے
کمرہ موت کی خوشبو سے

Categories
شاعری

بے کار مشغلوں کا گیت (سرمد صہبائی)

پرندے کی چہک لے کر
اسے سیٹی بنا لینا
ہوا کے ایک جھونکے کو
کبھی موسم بنا لینا
کبھی کھڑکی کے شیشوں پر
برستی بارشوں سے اک ذرا سی بوند لے لینا
اسے جگنو بنا لینا
کسی چھوٹی سی خواہش سے یہ دل آباد کر لینا
کبھی خوابوں کے پھولوں کو
سرہانے رکھ کے سو جانا
کبھی تنہائیوں کو اوڑھ کر چپکے سے رو لینا
اکیلے میں ستاروں کو
کبھی ہمراز کر لینا
کبھی آوارہ پھرتی رات کو مہمان کر لینا
کبھی پیڑوں کو ہمسایہ بنا لینا
کسی ساحل کے پتھر کو کبھی ہمراہ کر لینا
اسی سے کھیلتے پھر گھر کے دروازے پہ آ جانا
اسے کچھ سوچ کر اندر بھی لے آنا
پرانی یاد کے ٹکڑوں سے اک مفلر بنا لینا
ادھوری خواہشیں بے نام نظموں میں چھپا کر
کاغذی چڑیاں بنا لینا
انہیں پھر شہر کی گلیوں مکانوں میں اڑا دینا
یونہی بے کار سے ان مشغلوں سے
دل کو بہلاتے گزر جانا

Categories
شاعری

دکھ اور دیگر نظمیں (غنی پہوال)

دکھ

کاش دکھ کوئی خبر ہوتا
اسے میں اخبار کی شہ سرخیوں میں سجا کر
صبح سویرے
تمہاری میز پر رکھ جاتا
دکھ کوئی آوارہ جھونکا بھی تو نہیں
جو تمہارے پلّو سے لپٹ کر
تمہیں اپنی کسک کا احساس دلاتا
دکھ اگر بادلوں کے ساتھ سفر کر سکتا
تو میں اسے کہتا کہ
میری آنکھوں میں
کچھ تشنہ خواب خیمہ زن ہیں
اُن پر بصورتِ آبشار برسو
مگر دکھ۔۔۔۔۔۔؟

جب تیز دھار وقت کا
بے رحم خنجر
زندہ ارمانوں کے بے بس جسم میں
اُتارا جا رہا ہو
اور تمہاری بصارت محض دکھ بن کر رہ جائے
تو تُم دکھ کی تفہیم کس طرح کرو گے؟
افسوس دکھ کسی نصاب کا
حصہ بھی تو نہیں
جسے میں پڑھ کر سُنا سکتا
نہ ہی یہ کوئی آسمانی صحیفہ ہے
جسے ازبر کیا جا سکے
ہاں تم نے کیا کہا۔۔۔۔؟
میری نظمیں پڑھ کر
تم میرا دکھ محسوس کرسکتے ہو؟
نہیں
یہ ممکن نہیں۔۔۔۔۔
دکھ خیرات کے لڈو نہیں
جنہیں بانٹا جا سکے
کیوں کہ آواز کی لہریں
اپنی محدود فریکوئنسی میں
انہیں سمونے سے ہمیشہ معذور رہی ہیں
حتی کہ خود اسے جھیلنے والے بھی
اکثر اس کے اصل جوہر سے
نا آشنا ہی ہوتے ہیں

بادبانی گیت

تُم ایک میٹھی روشنی ہو
تم جو میری آنکھوں میں موجزن
ایک بادبانی گیت ہو
جس کے لہراتے سُروں کی
سبز شاخوں پر بیٹھ کر
میں دنیا کا نظارہ کرتا ہوں

میں جانتا ہوں
سمندری پرندوں کی اُس محبت سے
تمہاری کوئی شناسائی نہیں
جو اُنہیں ویراں جزیروں کا
راز سونپ دیتی ہے
میں یہ بھی جانتا ہوں کہ
زندگی اور موت کا رقص
بپھری ہوئی موجوں کے
امر آہنگ پر کیسے کیا جاتا ہے
تم ایک میٹھی روشنی ہو
اور میں تمہارے
ذائقے میں زندہ رہنا چاہتا ہوں
کیوں کہ اپنی مِٹی کے لمس سے
محرومی کا درد مجھ پر منکشف ہو گیا ہے
تمہیں معلوم ہے
سمندری ہوائیں
امبا(1) گاتے ہوئے ملاحوں کی طرح
جھومتے اور بل کھاتے
لہروں کے زیرو بم سے
کیا گفتگو کرتی ہیں
تم جو ایک بادبانی گیت ہو
تمہارے لہراتے سُروں کی
سبز شاخوں پر میرا بسیرا ہے
تم جو ایک میٹھی روشنی ہو
اور میں تمہارے ذائقے میں
زندہ ہوں
میری بصارت اور سماعت
تمہاری امانت میں ہیں

1۔ امبا : ملاحوں کا روایتی گیت۔

برگد

ایک نظارہ مجھ میں ہمیشہ زندہ ہے
میری بے حس و حرکت ماں
چارپائی پر پڑی ہے
کچھ ہمسائیاں بین کرتی ہوئی
اُسے سفید چادر اوڑھا رہی ہیں
ماں کی رحلت کا یہ منظر
میرے اندر پینٹ ہو جاتا ہے
مدتیں گزریں
میں جب بھی اس منظر سے بھاگ کر
اپنی ماں کی آغوش میں جانا چاہتا
تو ایک برگد کے تنے سے لپٹ کر رونے لگتا
اور وہ مجھے اپنی آغوش میں لے لیتا
میں رفتہ رفتہ برگد سے قریب تر ہوتا گیا
اور دھیرے دھیرے مجھ پر انکشاف ہوا
کہ برگد بالکل میری ماں کی طرح سانس لیتا ہے
اس کی دھڑکنیں ماں کے دل کی طرح ہیں
پھر مجھے اس کی پناہ میں سکون آنے لگا
جیسے میں اپنی کھوئی ہوئی ماں کی ممتا دریافت کر چکا تھا
آج ساٹھ سالوں کے بعد
اسی ممتا کی چھاوں میں بیٹھے
سوچ رہا ہوں
کہ لوگ یتیم خانوں میں
برگد کے پیڑ کیوں نہیں لگاتے

بجوکا (1)

اپنے دل کے ہنگاموں سے بچنے کے لئے
میں اکیلے نہر کے کنارے بیٹھا تھا
اور میری نگاہیں
خود سے دور اس رستے پر لگی تھیں
جو شنو کے گاؤں جاتا ہے
شنو جس کو میں برادری کے خوف سے
پچھلے تین سال سے نہیں دیکھ پایا
مجھے دنیا سوگ میں ڈوبا
اک بے جان پُتلا محسوس ہونے لگی
اور میری آنکھیں تیرگی کی
تپش سے جلنے لگیں
کہ یکایک ایک پیاری تتلی
آکر میری ہتھیلی پر بیٹھ گئی
میں نے حسرت بھری نگاہ سے اُس کی طرف دیکھا اور کہا
کیا میں بھی تتلی بن سکتا ہوں۔۔۔؟
تتلی اُڑ کر سامنے کھیت میں لگے
بجوکے پر بیٹھ کر اپنے
خوبصورت پروں کو لہرانے لگی
شاید وہ مجھ سے یہ کہہ رہی تھی
کہ تم زندگی کے کھیت میں گڑے بجوکا ہو
اور بجوکا زندگی کا دھوکہ بن سکتا ہے
اس کے رنگوں کا ہمسفر نہیں بن سکتا
تتلی بننے کے لئے
زندگی سے رنگ
اور رنگوں سے زندگی کشید کرنی پڑتی ہے

1: بجوکا: scarecrow

میری پیاری سرو

تمہاری چھاؤں میرے دل کا آنگن ہے
میری پیاری سرو
وادیِ محبت میں
اپنی نو خیز خواہشوں کی ہمجولیوں سے
کھیلتی ہوئی
تمہاری نازک گُڑیا کو
جب کوئی آسمانی مخلوق چھین کر لے جاتی ہے
تو تمہاری شاداب روح کے
بسیط خلاؤں میں
وجدانِ حیرت کا پُر اسرار جزیرہ
یوں رونے لگتا ہے
جیسے کوئی معصوم بچّی
کسی پرائے شہر کے گنجان بازاروں میں
اپنے اکیلے پن پر روتی ہے
میری پیاری سرو
اسی لمحے
کسی دُمدار ستارے کے پگھلتے مادے جیسے
تمہارے آنسو
جوہرِ ہستی کے تمام کیمیائی رازوں کو
اپنے اندر سموئے
مشتری کے چندا گینیمیڈ کی برفیلی تِہ میں مستور
ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طرح
کتنے ان دیکھے رنگ
اور ان کہی کہانیاں
زندگی کی فضاؤں میں یوں پھیلا دیتے ہیں
جیسے اَرورا روشنیاں پھیلتی ہیں

Categories
شاعری

شاہی پرفیوم اور دیگر نظمیں (نسیم خان)

شاہی پرفیوم

پسینہ بنانے والی فیکٹریاں جو خون خریدتی ہیں
اس میں فیکٹری مالکان کے مساموں سے آنے والا نحوست کا پسینہ ملا کر شاہی پرفیوم تیار کئے جاتے ہیں

آری کو چومنے والا ہاتھ گال پر پڑے آنسو کو چومنے کے لئے آری کے دستے کی مدد لیتا ہے
اور خود کو لاچار محسوس کرتا ہے
اسے لگتا ہے دوسرا ہاتھ اس کا بھائی نہیں ہے
اور اسے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے
لہذا آری والا ہاتھ دوسرے ہاتھ کو کاٹ کر اطمینان محسوس کرتا ہے
فیکڑی کا ایک پلر رنگنے کے لئے اتنا خون کافی نہیں ہے
اور شاہی پرفیوم؟
شاہی خاندان کے رگوں میں کتنا خون اور فیکڑی مالکان کے جسم میں کتنا پسینہ ہو گا؟

موت ورجن ہے(ال آخرت)

وقت اور موت دونوں کنوارے ہیں
جنت اور دوزخ ان ہی سے جنیں گے
قیامت وقت کے دردزہ کے وقت نکلنے والی چیخوں کا نام ہے
پر کون وقت اور موت کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرنے آسمان جا سکتا ہے !؟
لامکان جا سکتا ہے!؟
اور اگر ایسا ممکن ہو بھی جائے تو ان کا حمل کیسے ٹھہرے گا کہ وقت گے ہے
اور موت لیزبین
ان کے نصیب میں چیخوں کے سوا کچھ بھی نہیں
دوسرا بگ بینگ ممکن ہی نہیں۔

کیا خدا بوڑھا نہیں ہوتا؟

ماں بچے کو سلاتے سلاتے تھک کر خود بھی سو گئی
بابا دیر سے لوٹ کر اب دیر تک گھر رہے گا
بچے جوان ہو گئے
جوان بوڑھے ہو گئے
اور بوڑھے حالت نزع میں ہیں
پانی آخر کار ساکت ہو گیا اور گلاس بہنے لگا
بہاو زندگی ہے
تکرار اور ہمیشگی اکتاہٹ اور بیزاری کو جنتے ہیں
خدا قائم ہے
کھرب ہا سال سے جوان اور طاقتور خدا بوڑھا نہیں ہوتا
کیا خدا بوڑھا نہیں ہوتا؟
کیا خدا بوڑھا نہیں ہو گا؟

گمشدہ نظم

وہ نظم جو خدا نے لکھی تھی ہم سے کہیں کھو گئی ہے
ڈھونڈو اسے
اس میں شاید ہماری موت کے حوالے سے بہت کچھ کہا گیا تھا
اور شاید ہماری زندگی کے بارے میں بھی
قاتلوں کی زبان سمجھنے کے لئے ہمیں اس نظم کے ہزاروں مصرعوں کی تشریح کرنی پڑے گی
پر قاتل خدا کی زبان کیسے سمجھتے ہیں؟
کیا خدا کو ہماری زبان نہیں آتی؟
زبان سیکھنا اتنا مشکل نہیں ہے
ڈھونڈو اسے پھر ہم جلد ہی کسی شرح سے نظم کی گرہیں کھولنے میں کامیاب ہو جائیں گے
ڈھونڈو اسے

Categories
شاعری

تمہارا نام اور دیگر نظمیں (فاطمہ مہرو)

صبحِ خوبصورت

وہ اپنی پسندیدہ لِپ سٹِک
پستول کی نوک سے لگاتی ہے
کئی طرح کے پسینوں کی خوشبؤوں سے
اُس کی ڈریسنگ ٹیبل بھری رہتی ہے
اُسے لفافوں کو بوسوں سے
بند کرنے کی پُرانی عادت ہے
خواہ ڈاکیا اُنہیں خود پڑھ لے
اُس کی الماری
جاگ کر بدلے جانے والے کپڑوں سے
خالی خالی
چاند، اُسے، اپنے ماتھے
اور ستارے، کلائی پر باندھنے سے فُرصت نہیں
ناشتے کی میز پر، اخبار میں، اُسے
گزشتہ شب کی سُرخی پسند ہے
اور خادموں میں، کُتے
کسی نئے مہمان کو خوش آمدید کہنے کو
ہر برینڈ کا سگرٹ
اُس نے شام سے پہلے ہی لے رکھا ہے
وہ الکوحل کی بوتل
اپنے بیڈ کے بائیں طرف
کھڑکی کے سامنے چُھپائے رکھتی ہے
رات گئے ایک سیب اور خنجر
اُس کے سرہانے چمکتے ہیں
اور اندھیرے، اُس کا لباس بنے
ساری رات بدن چاٹ کر
صبح کی روشنی تیار کرتے رہتے ہیں !

عورتیں ہمیں دھکیلتی ہیں

ہم گندم پر اکتفا کر لیتے
لیکن ہمارے سامنے کچی روٹی کی مہک رکھی گئی
اور پھر روزے توڑنے پڑے
ہم ایک گناہ پر راضی تھے
لیکن اُن میں مامتا کوٹ کوٹ کے بھری تھی
سو ہمیں سارے ثواب کھونے پڑے
ہم اپنی زمینوں پہ مطمئن ہونے کو تھے
کہ جنگل میں لکڑہارے سے ملاقات ہو گئی
اور اچانک برسات
ہمیں چار کے معنی معلوم نہ ہو پاتے
اگر کبھی ہم ایک سے سیر نہ ہوئے ہوتے
اور عمل کو ضربِ مسلسل سے نہ گزارا جاتا
ہمیں ہر کنویں میں خودکشی کا شوق بھی نہ ہوتا
اگر وہ ہماری رات سے زیادہ گہرے نہ ہو سکتے
اور پانی مزید سستا
ہم ان کے پیروں تلک رہتے
اگر دل کو راستہ، ناف سے ہو کر نہ جاتا
اور دماغ، وہ تکیوں پہ نہ دھر آتیں
ہمیں سرخ رنگ کی عادت ڈالی گئی
جس سے ان پر لگنے والے سارے دھبے ہمارے کہلائے
اور شراب کے معنی بدلتے رہے
ہمیں آگ سے کھیلتے ہوئے
ایک رات بھی نہ مکمل ہوئی کہ اعلان ہوا:
اپنی مرضی سے کھیلنے پر ہاویہ ہمیشہ کے لیے تمہاری ہوئی !

چشمہ

وہ اِس سے ساری عورتوں کو
دیکھتا ہے
اور میَں
سارے مردوں کو

اُسے دن میں اِس سے بلیک ہول کا ہالہ
اور رات میں کہکشاں دکھائی دیتی ہے
مجھے، مکھیوں کے لئے شہد

سونے سے پہلے اِسے اتارنے پر
مَیں دھندلا جاتی ہوں
اور وہ مجھے صاف نظر آنے لگتا ہے

مجھے ہمیشہ اس میں اپنا ماضی نظر آتا ہے
اُسے، اپنا حال
سو ہم اِس بد صورتحال میں
مستقبل سے بے نیاز رہتے ہیں

اِسے ڈھنگ سے پہن کر کوئی بھی
آدم و حوا کی جبلت و خصلت
کی ناک پر بنا کوئی نشان چھوڑے
سارے جسم کا رنگین سی ٹی سکین کر سکتا ہے

وہ اِسے زیادہ تر بارش
اور مَیں، دھوپ میں استعمال کرتی ہوں
استعمال، اکارت نہیں جاتا

اُسے، اِس میں سے سب کچھ سُرخ
اور مجھے، گندمی دکھائی پڑتا ہے
یہ گرگٹان رنگ بدلنے میں ماہر ہے

اِس چشمے کو رہن رکھ کر
پانی بیچا
اور شہد خریدا جا سکتا ہے

وہ سب اِسے دن میں کھُلےعام بیچنے
اور رات کو، چُپکے سے خریدنے پر تُلے ہوئے ہیں
یہ منافع بخش کاروبار کی ضمانت ہے

ایک بار کسی نے اِسے بے دھیانی سے کھولا
اور جلد بازی میں جوڑ دیا
اب کسی سائز کا فیتہ، دوبارہ،
اس کا نظارہ ایڈجسٹ نہیں کر سکتا !

تمہارا نام

تمہارا نام شاعری ہونا چاہیے تھا
ہم آنکھیں موند کر
صرف تمہارا دیکھنا سوچتے
اور میرؔ کا دیوان سُلگ اٹھتا

تمہارا نام سمندر ہونا چاہیے تھا
کہ تمہاری بحرالکاہلی گہرائی
ماپنے کو دنیا کے تمام جزائر سے زیادہ
فاصلہ طے کرنا پڑتا

تمہارا نام پینٹنگ ہونا چاہیے تھا
کوئی مونا لیزا تمہیں سمجھ نہ پاتی
اور تمہارے قیمتی ترین ہونے پر
ساری زندگی تمہاری قیمت جمع کرنے میں لگا دیتی

تمہارا نام موسیقی ہونا چاہیے تھا
تاکہ تمہاری خامشی اور منظر کے درمیان
موجود لہروں کو ترتیب دے کر
اک نیا سلامت علی خان بنایا جا سکتا

تمہارا نام دیوتا ہونا چاہیے تھا
کہ تمہاری داڑھی میں اک سفید بال کو
دن میں سات مرتبہ چوم کر
گھر بیٹھے حج کیا جا سکتا !!

برائے فروخت

برائے فروخت
برائے فروخت
سانپ کی کھال اور بکرے کا گوشت
زبان، ضمیر، دل گُردے یا پوست
تازہ، مفید اور سستا مرے دوست
برائے فروخت

کوڑے دان میں دسترخوان سجاتا فقیر
دھکا دے کر گاڑی بھگاتا امیر
کارل مارکس کے سارے مخالف یا اسیر
برائے فروخت

ٹی ہاٶس میں ملنے والی چائے
جگت بازی، مباحثے، نقادوں کی رائے
اونچے ایوانوں میں دیوانوں کی ہائے
برائے فروخت

دنیا کو تیسری جنگ سے بچانے کی ترکیب
خُدا، خلا، سزا ، جزا اور بلاِ مہیب
گیتا، قرآن اور نظم پڑھنے کی ترغیب
براۓ فروخت

آۓ روز سڑکوں پہ احتجاجی صدا
ہڑتالوں میں نعرے لگاتے چند بے نوا
خودکشی، خواب اور مستقبل کا پتہ
برائے فروخت

ترتیب سے درخت کاٹتا آدمی
انگلیاں چھیدتی ہوئی بانسری
ان سے چِھلے کاغذ پہ لکھی شاعری
برائے فروخت

عزت،بشہرت، سچ اور کھوٹ
سرطان، عقرب، حمل یا حوت
زندگی، عمر، پیدائش اور موت
برائے فروخت !

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
ادھار دے سکتی ہے دودھیا چاندنی
رات کی رانی کو خوشبوٶں کے سراب
گھنے درخت کو ایک سانپ

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
پیدا کر سکتی ہے کسی بھی دریا میں
کششِ ثقل کی لہریں
غزل کہنے والوں کے لئے بحریں

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
بھیج سکتی ہے ہوا کے ہاتھ
اپنے سے دُور محبوب کو رنگین راتیں
خواب، رتجگے اور برساتیں

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
کاٹ سکتی ہے آنکھوں میں رات
گُھپ اندھیروں میں بن کر ستارے
مچھلی ہو کر سمندر کے دھارے

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
کر سکتی ہے ہر اندھے کنویں میں
گولائیوں کی صورت اجالا
اچانک خطا کا بر وقت ازالہ

ایک لڑکی جو چاند کے نیچے سوتی ہے
کھول سکتی ہے پچھلے پہر
صبح کاذب میں پھوٹنے والے راز
کون جانے چاند کے نیچے سو جانے
سے۔۔۔۔ چاندنی۔۔ پاکباز۔۔۔

چال

چلنے کے لئے
رُکنا پڑتا ہے
اور ایک جگہ رُکنے کے لئے
بہت زیادہ چلنا پڑ سکتا ہے
چلتے چلتے
اک دَم رُک جانے سے
قدم ڈگمگا سکتے ہیں
اور رُکنے کی جگہ پہ
اچانک چلنے سے، چلن خراب ہو سکتا ہے
رُکنا اور چلنا
آدمی کو
نظروں میں اُٹھا اور گِرا سکتا ہے

Categories
شاعری

ہم ملتے ہیں تاکہ بچھڑ سکیں (اویس سجاد)

ہم پہلی ملاقات کرتے ہیں
کسی مہنگے چاۓ خانے میں
اس احساس کے ساتھ
کہ کبھی جدا نہیں ہوں گے
وہاں بیٹھے بیٹھے
ہم ماپنے کی بے کار کوشش کرتے ہیں
اپنے درمیان حائل
بھورے میز جتنا فاصلہ

ہم چلتے رہنا چاہتے ہیں
کیمپس کے من پسند رستے پر
اس خواہش کے ساتھ
کہ تازہ کریں گے
اپنے ان قدموں کو
جو خاکروب نے دھندلے کر دیے ہوتے ہیں
اس رستے پر چلتے چلتے
بے خیالی میں جب کئی وعدے کر لیتے ہیں
تو واپسی پر ایک دوسرے کو چومنے کی کوشش کرتے ہیں
اس دھیان کے ساتھ
کہ سیکورٹی گارڈ ہمیں نہیں دیکھ رہا

کسی انجان نمبر پر
ہم کوئی پیغام بھجتے ہیں
اس یقین کے ساتھ
کہ وہ رضامند ہو جائے گا
ہمیشہ ساتھ رہنے کے لیے
اور کسی روز
ہم اسے دیکھ سکیں گے
برہنہ حالت میں

مگر افسوس ہم ایک دوسرے کو
بھول جاتے ہیں
اس قہقہے کی طرح
جو کسی روز بٹوے سے برآمد ہوتا
چائے خانے کے بل میں لپٹا ہوا

ایک دوسرے کی خواہشوں کو مار دیتے ہیں
اس وعدے کی طرح
جس کو کچل دیا ہوتا ہے
ہم نے اپنے قدموں سے
من پسند رستے پر

خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں
اس سرد بوسے کی طرح
جو کہیں چھپ کر
ہمیں ہماری یاد دلا رہا ہوتا ہے

اور ہم اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں
اس آخری میسج کی طرح
جس میں دعوی کیا ہوتا ہے
ہمیشہ یاد رکھنے کا

Categories
شاعری

چرواہے کا خواب اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

چرواہے کا خواب

چرواہا خواب دیکھتا ہے
اس کی ایک بھیڑ گم ہو گئی
صرف انچاس بھیڑیں باقی ہیں
چرواہا خواب دیکھتا ہے
اس کی تین بھیڑیں زخمی ہیں
صرف چھیالس باقی ہیں
چرواہا خواب دیکھتا ہے
بھیڑیے نے اس کے گلے پر حملہ کر دیا
بھاگتی منتشر ہوتی بھیڑوں میں سے پیچھے رہ جانے والی ایک بھیڑ اور کم ہو گئی
پچاس خوف زدہ بھیڑیں دیکھتی ہیں
سوئے ہوئے چرواہے کو بھیڑیا گھسیٹ کر لے جا رہا ہے

محبت کرنے کے لیے

محبت کرنے کے لیے
عشق پیچاں
مہرباں دن
یا داستانوی پرندے کی ضرورت نہیں ہوتی
محبت کرنے کے لیے تو
محبت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی

محبت کسی کی بھی مقروض نہیں
یہ کاغذ پر بنی آنکھوں میں سو سکتی ہے
ستاروں کی دوریوں پر
انتظار کر سکتی ہے
سمندر کے بلاوے میں
گھر بنا سکتی ہے

محبت آدمی کی ہینڈ رائٹنگ ہے
سفر اور کتاب کا چناؤ
اور ہوا میں پھینکا ہوا بوسہ ہے
محبت فراموشی میں زندہ رہتی ہے
اور احساس کے کسی دام میں نہیں آتی
یہ وہ محل ہے
جس کا ہر دروازہ باہر کھلتا ہے
لیکن ہر راستا اندر ہی بھٹکاتا ہے

جسم محبت کا پیرہن ہوتا ہے
بعض لوگ صرف جسم چھُوتے ہیں
اور برہنہ ہو جاتے ہیں
ایک دن محبت
آدمی کو مکمل کرے گی
آدمی کی تکمیل
شاعری کی آخری لائن ہو گی
اس دن کے بعد
آدمی اور محبت دونوں نہیں ہوں گے

نظم

پہلے ایک روٹی تھی
جو ہمیں تھامے رکھتی تھی
جس کے لیے ہم پیٹ کے بل چلتے تھے
اب روٹی کہیں غائب ہو گئی ہے
اور روٹی کی بھوک بھی
پہلے مجھے معلوم تھا
روٹی کہاں اگتی ہے
کس ارے سے کاٹی جاتی ہے
اب وہ کھیت صفحہء ہستی سے مٹ گئے
اور وہ آری بھی ناپید ہو گئی
اب لوگ فاقہ نہیں کرتے
اب لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں
ہمارے کھیت کیا ہوئے
ہماری روٹی اور فاقہ کہاں گئے
پہلے جب ہم سے روٹی چھینی جاتی تھی
تو ہم سراپا احتجاج بن جاتے تھے
شاید ہمارے شکم چرا لیے گئے ہیں
ہم احتجاج کرنا تک بھول گئے ہیں
ہمیں ہمارے حصے کی روٹی چاہیے
یا کم ازکم
ہمیں ہمارا فاقہ لوٹا دو
روٹی
ہم خود تلاش کرلیں گے

درخت کی دہشت

مَیں کلہاڑے سے نہیں ڈرا
نہ کبھی آرے سے
مَیں تو خود کلہاڑے کے پھل اور آرے کے دستے سے جُڑا ہوں
میں چاہتا ہوں
کوئی آنکھ میرے بدن میں اُترے
میرے دل تک پہنچے
کوئی محتاط آری
کوئی مشتاق ہاتھ مجھے تراش کر
ملاحوں کے لیے کشتیاں
اور مکتب کے بچوں کے لیے تختیاں بنائیں
اس سے پہلے کہ میری جڑیں
بوڑھی داڑھ کی طرح ہلنے لگیں
یا میری خشک ٹہنیاں آپس میں رگڑ کھا کر جنگل کی آگ بن جائیں

رسی

میں نے ساری کمائی سے
روٹی خریدی
ایک اور شخص نے
اپنی سب کمائی سے
اپنی محبوبہ کے لیے انگوٹھی خریدی
کسی اور نے
اپنی ساری پونجی
جوۓ میں ہار دی
ایک اور آدمی نے
رسی خریدی
اور گلا گھونٹ کر مر گیا

اب ہم
اپنی روٹی، انگوٹھی
اور ہاری ہوئی رقم یک جا بھی کرلیں
تو بھی وہ رسی نہیں خرید سکتے

Categories
شاعری

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں (رضی حیدر)

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں
یا تیری رندھی ہوئی ہچکی میں
دونوں میں ایک طویل سکتہ تھا
یہ کوئی دلدل ہے شاید
یا کوئی شہرِ مدفون
وقت کی سِلوں کی عبارتیں مٹ رہی ہیں
خاموشی کی چھپکلی زبان سے اپنے ڈیلے صاف کرتی ہے

(خدایا کیا دھنسنا ہمارا مقدر ہے
اس ماتھے پر تیرے ناخنوں کا لکھا
جبہ سائی کرتے مٹ نہیں سکتا؟ )

سب ہی تو دھنس رہے ہیں
تری برہنہ کمر کا جادہ
ترے سوالوں کی اڑتی گرد
ترے ہونٹوں پر میرا آخری بوسہ
یہ بکھری کتابیں
یہ بوگس فلسفے
میری پانچ گھنٹے سے کچھ کم کی نیند
اور وہ فشارِ خون کہ رگوں کے چیتھڑے بکھیر دے
چمن کو فقط ایک بار دیکھ لینے کی آخری چاہ
اور پھولوں کی دکان میں ملا ایک بلبل کا لاشہ
میرا دو دن کا فاقہ
یہ ابلے آلوؤں کے سوکھے چھلکے
یادداشت کے کواڑوں سے آتی
“کلفی کھوئے والی” کی صدا
2 روپے کا بند سموسہ
ایک روپے کی چھے کولا ٹافیاں
اور چونی کی طلسمی کہانی کا گرانڈیل جن ۔۔۔
سب ہی تو دھنس رہے ہیں

کیا حکم ہے میرے آقا
کہیے تو آپ کی روح کھا لوں، کہیے تو آپ کا جسم
کھانا ہو تو دل سا یہ شعلہ فشاں کھا
وہ شعلہ فشاں جو سینوں کو آسماں بنا دے
یہ جگر پارے کھا
کہ انھیں کھاتے تجھے ستارے نگلنے کا گماں ہو گا
دیکھ یہاں ان دو کنوؤں کو
آبِ آزردگی کے سرچشمے،
جن کا نشہ ہر شرابِ ناب سے بہتر تھا
سوکھ گئے
اے رحمدل مخلوق
مجھے دھنسنے دے کہ دھسنا میرا مقدر ہے
پر کسی ایسے ہاویہ میں
جس کا کوئی اخیر ہو
اے رحمدل مخلوق
تو بن دھوئیں کی آگ سے بنایا گیا
میری خاک کو بھی اس کے اصل سے ہٹا دے
اسے وقت کی مُٹھی سے سرکنا بھلا دے
اے رحمدل مخلوق،
خداؤں نے ہم سے منہ پھیر لیے
اگر ہم پر رحم کر سکے
تو طلسمی کہانی سے نکل آ
اور اس سکتہ کو انت بنا دے

Categories
شاعری

ہینگروں میں لٹکے سائے اور دیگر نظمیں (عظمیٰ طور)

ہینگروں میں لٹکے سائے

کئی برس سے گرد سے اٹی پشت جھاڑی ہے
تمام بوسیدہ حوصلے رینگتے ہوئے میرے رنگوں سے لپٹ رہے ہیں
کمر سیدھی کرنے کی کوشش میں میری ریڑھ کی ہڈی میں کڑکڑاتے بے حس وقت کے سبھی بے جان لمحے زمین پہ گر پڑے ہیں
تمام سائے جنہیں میں نے کئی ریاضتوں کے بعد بے مروتی کی دیواروں سے جمع کیا تھا
میری الماری میں میرے مان اور خلوص کے ساتھ کچھ فاصلے پہ لٹکا رکھے تھے آج میں نے گرد جھاڑی
انہیں بلایا
کسی نے میرے چہرے پہ مارے طمانچوں پہ میرا تمسخر اڑایا
کسی کی بے اعتنائی نے میرے بال نوچے
کسی نے بڑھ کر ہاتھ پکڑ کر جھٹک کر واپس لے لیا سہارا
میں گر پڑی ہوں
میرے کمرے کی زمین پہلے ہی میرے بے لمس وجود سے اکتا چکی تھی
سو میرے گھٹنے پہ نیل ڈال گئی ہے
میں نے بڑھ کر دیواروں سے لپٹی وحشتوں کو پکارا تو میری چیخیں میرے گلے میں اپنے شکنجے گاڑتی مجھے بے دم کیے جانے لگی ہیں
میں ان سے ہٹ کر ایک کونے میں دبک گئی ہوں
میں سوچتی ہوں
ہینگروں میں لٹکے سائے تنہائی کا کیا چارہ کریں گے

“تخلیہ”

تخلیہ تخلیہ
درد و الم تخلیہ
میرے غم تخلیہ
دل میں اٹھتی ہر پیڑ تخلیہ
میرے نوچے گئے خوابوں کے زخم تخلیہ
امیدوں تمناؤں کے ڈھونگ تخلیہ
تخلیہ میرے درد
میرے درد تخلیہ
بس اب تخلیہ
میں بے بس ہوئی
سب رنج تخلیہ
میرے پیروں میں چھالے _ سبھی تخلیہ
آنکھوں کے نم تخلیہ
تیری آواز جن کواڑوں سے آتی ہے اب تلک
ان کواڑوں سے چھنتی روشنی تخلیہ
تخلیہ روزن
ہر در تخلیہ
میرے دل تخلیہ
تخلیہ میرے دل
تجھ کو باندھا زنجیروں سے میں نے سدا
ان کو لے جا یہاں سے اور تو بھی اب جا
سب ختم _ سب ختم _ سب ختم
تخلیہ
کوئی خواہش نہیں
فرمائش نہیں
آزمائش کر دے کرم _ کر کرم تخلیہ
میرے محبوب تک جانے والے ہر خط میں لکھو
اب آنا ضروری نہیں
سب دیواروں پہ لکھ دو
مٹادو راستوں کے نشاں
اور بجھا دو دیئے جلا دو سارے سانسیں لیتی وفاؤں کے دیپ
اب کوئی نہ قرب کی خواہش کرے
سب کرم تخلیہ
تخلیہ زندگی
تخلیہ اے وقت
اے جہاں تخلیہ

“چاہ کے دیوتا”

تمہیں دان کرنے کو سب اپنے گھروں سے قیمتی اشیاء اکھٹے کیے آ رہے تھے
میں تنہا کھڑی مجمعے سے پرے مسکراتے لبوں سے تمھیں الوہی نظروں سے تکے جا رہی تھی
میں ایسی ہی ہوں
میں ایسی ہی ہوں محبت کو دیکھوں تو لبوں سے مسکراتے ہوئے ملوں
چاہ کے دیوتا
مجھے دیواتاؤں کے چرنوں میں رکھنے کو نہ آنکھیں ملیں نہ خوابوں کے موتی
سنو چاہ کے دیوتا
مجھ کو اندازہ نہیں ہے کہ جب کوئی دیوتا محبت کی قندیلیں کو اٹھائے اندھیر بستیوں کی جانب رخ کیے پکارتا ہے
ہے کوئی جسم جس کی بلی چڑھے اور خوشدلی سے اس کے بدن پہ میں تیز نظروں سے جب جب وار کروں
وہ بدن اور میری جانب کو کھچتا ہوا میری توقیر بڑھاتا ہوا دوڑتا چلے ،، مجھے آ ملے
دیواتا چاہ کے دیوتا
مجھے کیا خبر کہ محبت بانٹنے والے کے سامنے نہ کھڑے رہو تو وہ اپنی تجوری کو خالی کرتے ہوئے کسی رہ جانے والے کے نام کو پکارتا نہیں
دیوتا !
مجھے کیا خبر کہ مجھے رقص کرتے ہوئے دیکھ کر ہی کئی مچلتی انگلیاں اپنی آنکھوں کو ملتیں تو میرا بدن بے وقعتی کی عمروں کی طوالت سے ذرا کم بڑھتا
کہ میرے بدن میں کئی خواہشوں کی چنٹیوں نے رات رات میں کئی سرنگیں بنا کر میرے بدن کو کسی غار کی شکل دے کر اپنا رزق سجھا ہوا ہے
(کہ میرا بدن رات رات بھر)
ناجانے کتنی ہی راتیں گزاری گئیں
کسی لمس کی بے خودی سے مبرا خوابوں کی ڈھیروں چونٹیوں کے تقدس میں ہلتا نہیں _ یہ میرا بے جان جسم __
سچ کے دیوتا ! مجھے کیا خبر کہ تو باقی بچا تھا
یہ بستی نئے دیوتاؤں محبت کے دیوتاؤں، چاہ رکھنے والوں پہ واری جانے کے لیے روز ہر روز نئے سرے سے سجائی جاتی رہی ہے
اور پرانے جسموں کو بڑے گھڑوں میں دبا کر نئے بدنوں کا رقص کرنا سکھایا جاتا رہا ہے
مگر میرا جلتا روشنی دیتا جسم کسی دھوکے میں دفنایا نہ گیا
اور تیری آمدوں سے میں بے خبر کسی معجزے سے قطع تعلق
میٹھے لبوں سے مسکراتے ہوئے تجھے تکتی رہی
(کہ میں سچ کی توقیر مسکرا کر کیے جا رہی تھی)
مگر تیری روشنی جوں ہی مجھ پر پڑی
میرا کھایا بدن جل اٹھا
چاہ کے دیوتا میں داسی نہیں
میری ہنسی کہیں مردہ جسموں کے ساتھ دفن ہونے چلی گئی
میں کمہلا گئی __

“خاموشی کی عمر طویل ہے “

بہت بول چکنے کے بعد
ایک مختصر لمحہ خاموشی کا
اشارہ ہے
اس خاموشی کا جو اس کائنات کے وجود سے پہلے بہت پہلے سے
خلا میں موجود ہے
اس خاموش کن کے سحر میں ڈوبی خاموشی کا
اس بولتی، چیختی ،چنگھاڑتی دنیا کے ختم ہونے پر چھا جانے والی خاموشی کا
رب نے جس سکوت کو خود توڑا اور پھر اس کی ضد میں ایک اور خاموشی طاری کرے گا
ایک بھرپور چیخ کے بعد چھا جانے والی
ایک طویل خاموشی _

“ہم “

ماں نے صبر کر لیا ہے
مگر سبھی صبر کرنے والے نہیں ہیں
بغاوت نوجوانوں کے مساموں سے پھوٹ رہی ہے
عورتوں نے اپنی چادریں ناموس سے چڑ کر اتار پھینکی ہیں
بھوکے اپنے بچوں سمیت نہر میں کود رہے ہیں
بھوک صرف پیٹ کی ضرورت نہیں رہی
اس کی جنگ اناؤں کا موجب بن چکی ہے
ننھے اور معصوم بچوں کی عزتیں محفوظ نہیں
اور غیرت والے سڑکوں پہ دندناتے پھرتے ہیں
داڑھیاں گناہوں کے پیچھے چھپنے کا بہترین طریق مانی جاتی ہیں
اور انھیں مونڈھ کر اپنی بے ایمانی کی توقیر کرنے والوں کو بہترین بہانے ملنے لگے ہیں
اب حلال حرام عمل نہیں مقابلہ کرنے کی چیزیں ہیں
اب قران گائڈ بک نہیں ہے
بلکہ ہر انسان اپنی بغل میں ایک گائیڈ بک لیے گھوم رہا ہے
جو قران کی نقل ہے اور دوسروں کو زبردستی اس پر عمل کروایا جا رہا ہے
اب مذہب انسانیت نہیں ہے __ انسانیت مذہب ہے
( اب لوگ اپنا نام کسی مذہب سے جوڑ کر پیٹر ،بشیر ،کرشن نہیں رکھیں گے ،اب لوگ اپنا نام انسان یا پھر انسانیت رکھا کریں گے )
اور انسانی عزتِ نفس اور انائیں بالائے طاق رکھ کر جنگ گروہوں کو جتوانے کی ہے
ہم جدید صدی کے بہترین انسان ہیں .

“لڑکے “

نوجوان لڑکے محبت کرنا چھوڑ چکے ہیں
ان کا رجحان کسی انقلابی مہم کی جانب ہے یا پھر وہ پٹڑیاں ڈھونڈنے میں لگے ہیں
لڑکیاں جامنی پھول اپنی جھولیوں میں جمع کیے
سفید چمکتی تاریں سروں میں پروئے بیٹھی ہیں
انھیں محبت ہی انقلاب لگتی ہے اور اس کی حد خودکشی
لڑکے اب ایک ہی رنگ کی طرف کھچتے ہیں
سرخ
مگر لڑکیوں کے سروں کی سیاہی گلاب چوستے جاتے ہیں
اور لڑکے فرقت کے فریب سے نکل کر کسی نئے خدا کی تلاش میں سرگرداں ہیں جو انھیں زندگی کی اصل حقیقت سانس چلنے سے پہلے سمجھا سکے
لڑکیاں اب بھی معصوم ہیں ان کے جھریوں سے بھرے چہروں پر اب بھی کسی لمس کے کھچاؤ کی امید باقی ہے
اور وہ جانتے ہوئے بھی لڑکوں کے شعروں پر جو ان کے لیے یا کسی بھی لڑکی کے لیے نہیں کہے گئے (محض بہلاوے ہیں )سر دھن رہی ہیں مگر
اندر کہیں لرز رہی ہیں
لڑکے زندہ رہنے کی کوشش میں مرتے جا رہے ہیں _

“تم”

تم خاموشی ہوتے
تو میں تمہارے چوڑے سینے پر اپنا سر رکھتی
اور مجھے کہنے اور نہ کہنے کی الجھن سے چھٹی مل جاتی
تم وحشت ہوتے تو تمھارے نوکیلے ناخنوں سے میں اپنی گردن پہ محرومی کے نقشے کھینچتی
اور تمھیں وقت بنا کر ان زخموں کو چاٹنے کا کہتی
تم تنہائی ہوتے تو میں اندھیروں میں اپنے پیر زخمی ہو جانے کے ڈر تمھارے پیروں پہ دھر دیتی
تم اندھیر مقدر ہوتے
میں اپنے ماتھے اور ہاتھوں کی لکیریں چوم کر راضی بہ رضا ہو جاتی
اداسی ہوتے تو میں تمھیں خود پہ طاری کر کے قہقہوں کے مصنوعی گھونٹ نہ بھرتی اور گالوں کے بھنور تمھاری شہادت کی انگلی سے پر کر لیتی اور تمھیں بتاتی
کہ میں نے کتنی باتیں ، ارادے ،ہنسی اور خوش رہنے کے لمحے کس مشکل میں کاٹے ہیں __

آدمی زندان ہے

آدمی زندان ہے
اور بنا روزن کے اپنے ہی بدن میں پڑا سر کو ڈھلکائے ہوئے
مغرب کی جانب جھکائے ہوئے
اپنے بڑھتے ناخنوں کو روز ترشتا بھی ہے
اور بالوں سے خاک جھاڑتا بھی ہے
مشرق سے ابھرتی ہوئی کوئی روشنی کسی ان دیکھے روزن سے وارد ہوئی
تو دھیرے سے اس کے لبوں پہ خاموشیوں کو مات نہ دے سکنے والی ہنسی نمو پانے لگی
اور جزبے اگنے لگے
پھول کی کونپلیں ابھی پھوٹی نہ تھیں
کہ زندان میں ایک چھماکا ہوا
اور سبھی سمتیں مغربی دیوار سے جا لگیں
آدمی زندان میں پڑا کا پڑا رہ گیا
ناخن تراشتا ہوا
خاک ہٹاتا ہوا
بیٹھے بیٹھے سامنے کو بڑھتا ہوا
ضعفیت کے بار اٹھائے بیٹھے بیٹھے آگے کو بڑھتا ہوا _

“آدمی زندگی کے ہیرے کو چاٹ لے “

آدمی چاہ کی راہ پر چل سکتا نہیں
آدمی زندگی کے تماشے کا حصہ بنا
آدمی جوڑا گیا جوڑ کر توڑا گیا
توڑ کر پھر جوڑا گیا
آدمی گھٹ گیا
آدمی بڑھ گیا
آدمی زندگی رکھتے ہوئے موت سے بھڑ گیا
آدمی سامنا کرنے سے گھبراتا ہے کیوں
آدمی ڈر کو کاندھے سے ٹانگے ہوئے ڈر سے بغاوت کیے اپنی ششدر آنکھوں کے طاقچوں میں شعلے بھڑکاتی ہوئی آگ کے لپکے اپنے بدن سے چمٹائے ہوئے دن بہ دن آگے کی جانب بڑھتا ہوا
آدمی زندگی کی مشقت سے اکتایا ہوا
آدمی ہار اور جیت کے مسخرے پن سے اکتایا ہوا
آدمی کو لکیروں کے سانپ ڈسنے لگیں
مقدروں کے اژدھے نگلنے لگیں
آدمی لکیروں میں بچھو کی مانند رینگتی موت کے زہر کو چکھنے کی خواہش کرنے لگے
آدمی مرنے لگے

Categories
شاعری

لہروں پر جھومتا چاند! (ایچ-بی-بلوچ)

لہروں پر جھومتا چاند
رات کے طول کا ایک دیدہ عکس ہے
باقی نادیدہ سراپا پانی کی نظر ہو چکے ہیں

گزرے لمحات کی قبر میں مدفون اے میری راحت!
میں تصور بھی نہیں کر سکتا
کہ میں نے تجھے کبھی چوما تھا !

میں اکیلائی کے جسم پر
مجوزہ منصوبوں کی وارداتیں لکھتا ہوں
شاید
تنہائی لاجوردی شام کی ایجاد
اور نظر انداز کئے گئے پرندوں کی بدعا ہے!

میں عجلت میں
فیصلہ کرنے کی قوت سے محروم ہوں
اور سوچ کے سلسلے میں
ہر اس آواز کو شامل کر لیتا ہوں
جس نے مجھے کبھی
ریتیلے کنویں کے عذاب سے
محتاط رہنے کی آگاہی نہیں دی

لیکن اب کے
چاند نکلنے سے پہلے
میں ستاروں کے دامن سے
ایک صدا کی بازگشت کھینچوں گا
اور اسے فضا کی بصیرت میں پھیلا دوں گا
اور پھر تم
سویرے کی دہلیز سے
صبح کی ڈور بیل پہ ہاتھ رکھ کر بھول جانا!

Categories
شاعری

دو نظمیں (قاسم یعقوب)

میں کبھی ایسا دیکھوں

میں خوابوں کا بارود بنوں
اور بارود مرا چہرہ، مری آنکھیں اوڑھ کے
ریزہ ریزہ ملبہ بنتی
دل کی آبادی بن جائے

میں ایک شجر کو خود پر پہنوں
اور مرا سایہ
تیرے جسم پر میرے ہونٹوں کے لمس کو
تپتی ریت اور وحشی دھوپ سے محفوظ رکھے

میں ایک کتاب بنوں
اور کتاب مجھے پڑھتے پڑھتے سینے پر رکھ کر سو جائے

میں بازار بنوں
اور بازار مری رونق سے
نفرت کی آلائش
اور سود و زیاں کا تعفن چن کر
اپنے آپ سے شرمندہ ہو جائے

میں شام کا دریا بن جاوں
اور دریا کا پانی
ساحل پر میری موجوں کی آواز سنے

میں ایک پرندے کا پَر بن جائوں
اور پرندہ مجھ سے
بارش میں اُڑنے کا فن سیکھے

میں کہساروں کی برف بنوں
اور سردیوں کا سورج
میری برفیلی چادر کو گلے لگائے

میں ایک غریب کی روزی کا سامان بنوں
اور اُس کے بچوں کی گالوں کو
اپنے لمس کی حدّت دوں

میں کبھی بارش کی چھتری پہن لوں
گھنے جنگل میں اُتروں
اورپھولوں کے پیالوں میں چھپ کے
فطرت کا چلّہ کاٹوں

میں ایک پہاڑ کی تاریکی پہنوں
اور پہاڑ مرے سینے سے لگ کر
پھوٹ پھوٹ کے روئے

میں کسی شہرکی رونق بن جاوں
اور شہر مری گلیوں میں شام کے سایوں کو
بالشتوں سے ماپے
اور اپنی ازلی تنہائی کا دُکھ کاٹے

میں اک لڑکی کا جسم پہن لوں
اوروہ میرے بدن سے اپنے جسم کا خواب تراشے
اپنی آنکھوں سے
میرے خواب کے آنسو روئے

ایک نظم فائق کی وساطت سے

فائق مجھ سے چونتیس سال بڑا ہے
جس طرح میری پیدائش پر میرا باپ مجھ سے تینتالیس سال چھوٹا تھا
ماں کہتی ہے
میں جب پیدا ہُوا تھا
اُس وقت میرا باپ کتاب پڑھ رہا تھا
فائق پیدا ہُوا ہے تو میں ایک کتاب پڑھ کے ابھی ابھی فارغ ہُوا ہوں

شہر میں زندگی سڑکوں پر پہلے جاگتی ہے
پھر عمارتوں کے ستونوں میں روشنی دوڑنے لگتی ہے
مگر یہ وقت تو ابھی سوئے لمحوں کو سمیٹنے کا ہے
سورج تاریکی کے غار سے اپنا منہ نکالنے کی کوشش میں ہے
ٍمگر دہانے پر مکڑی کا جالا، اُسے بازووں میں جکڑے ہوئے ہے
مسجد کے میناروں سے اذانیں
پہاڑوں سے نکلتے چشمے کی طرح پھوٹ رہی ہیں
فائق کے بستر پر زندگی کی رنگ برنگی کرنوں کا ہالہ ہے
وہ کبھی میری طرف اور کبھی میز پہ رکھی کتاب کو دیکھتا ہے
میں فائق کو نہیں بتا سکتا
میری پیدائش پر میرا باپ جو کتاب پڑھ رہا تھا
اُس میں کیا تھا
اور میں جو کتاب ابھی ابھی پڑھ کے فارغ ہُوا ہوں
اُس میں کس دانش کا رَس ہے
مگر شاید وہ جانتا ہے
کہ ہر معنی کی صداقت لفظ کے ساتھ جمی ہوئی نہیں ہوتی
وہ پاوں کے پھٹے ناخنوں کا درد
بستر سے اُتر کے محسوس کرنا چاہتا ہے

میری بیوی ابھی تک سخت تکلیف میں ہے
اس کے کپڑوں پر خون کے دھبے ہیں
رات بھر جاگنے سے ہم سب کو سخت بھوک لگی ہے
میری ماں تنور پہ روٹی سینک رہی ہے
میں چھت کے اکھڑے رنگ و روغن کو دیکھ رہا ہوں
مجھے ڈر ہے فائق بستر سے اُتر نہ جائے

Categories
شاعری

تنہا رہنے کا موسم اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

تنہا رہنے کا موسم

میرے پاس ممنوعہ راتوں میں دیکھے گئے چند خواب ہیں
مگر تعبیر بتانے والا بوڑھا خودکشی کرچکا ہے
میرے اچھے اور برے دنوں کا خدا
پچھلے کئی دنوں سے لاپتہ ہے
اب میں اپنے باپ کو
اپنا خدا مانتا ہوں
میرے پاس گزرے موسم کے آنسو ہیں
جو مزید کچھ دن ٹھہرنا چاہتا تھا
مگر اسے ایک خطرناک وبا نگل گئی
میرے پاس سُروں سے خالی گیت ہیں
جن کو کوئی بھی فنکار
اپنے البم کا حصہ نہیں بنائے گا
میرے پاس گول باغ* کے مرکزی گیٹ پر بیٹھے
ایک خطرناک چوکیدار جیسا غصہ ہے
جو کبھی بھی ایکسپائر نہیں ہو گا
میرے پاس گاؤں کے لوہار جیسا دکھ ہے
جس نے کسانوں کے لیے
بیساکھی پر نئی درانتیاں بنائیں
مگر ایک رات فصلوں کو اجاڑ دیا گیا
میرے پاس کئی ٹوٹی پھوٹی نظمیں ہیں
جن میں کچھ عورتوں کے ساتھ
اندھیرے میں کی گئی محبت کے لمحے محفوظ ہیں
میرے پاس خوش کن اداسی ہے
جو قرنطینہ کے دنوں میں
ایک فرشتہ میرے سرہانے رکھ کر بھول گیا تھا

میرے پاس سب کچھ ہے
سوائے نایاب ہوتے قہقہوں کے
جو میں چرا لوں گا
کسی تابوت بنانے والے سے
یا اس بوڑھے سے جو ہمیشہ مہنگی سگریٹ پیتا ہے
ہو سکتا ہے میں مکمل ہو جاؤں

خواب میں جاگتی آنکھیں

میں ایک ایسے شہر میں زندہ ہوں
جہاں روز سانحے ہوتے ہیں
کیونکہ کچھ لوگوں کو دہشت زدہ فضا پسند ہے
جہاں گونگی سڑک پر
اندھی گاڑیاں خوفناک آوازیں نکالتی ہیں
ان سے خوفزدہ ہو کر
ہیجڑوں کا ایک گروہ خودکشی کر لیتا ہے
میں کھڑکی سے دیکھتا ہوں
اس پیشہ ور طوائف کو
جس کے پستانوں کا سائز بڑھ چکا ہے
اب وہ اپنی بیٹی کو
نئے گاہک سے ملوانے آئی ہے
میں دیکھ سکتا ہوں
سڑک کے دوسری طرف واقع اس قبرستان کو
جہاں بوڑھا گورگن
ایک بوسیدہ قبر کے سرہانے
کدال پر سر جھکائے
آنسو بہا رہا ہے
اچانک پرکھوں کا ہجوم گزرتا ہے
جو اپنے حصے کے خدا کے خلاف
دوسرے جنم میں مذاکرات کے لیے نعرے لگاتا ہے
اچانک میں خواب سے باہر آتا ہوں
مجھے رات کے دوسرے پہر کا وعدہ یاد آتا ہے
کوئی میرا انتظار کررہا ہوگا
میں اوورکوٹ پہنے گھر سے نکل آیا ہوں
مگر مجھے معلوم ہے
آخری لوکل بس بھی جا چکی ہو گی

میں سب کچھ دیکھ رہا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب ایک بوڑھا فقیر
اپنے گناہوں کا ٹوکرا اٹھائے
جہنم کا ٹکٹ لے رہا تھا
تو لوگ چپکے سے
اس کے کاسے میں
اپنے غم ڈال رہے تھے

میں دیکھ رہا تھا
جب تم اپنی زندگی کی معیاد بڑھانے
خدا کے پاس گئے تھے
تو فرشتوں نے تمہیں بھگا دیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب تمھارا سابقہ بوائے فرینڈ
گردن سے نیچے
تمھارے بوسے لے رہا تھا
تو تم نے کچھ دیر اپنی شرم کو
بیگ میں چھپا لیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب بوڑھا فنکار
مجھے تخلیق کر رہا تھا
وہ اپنے حصے کا کام چھوڑ کر
میرے حصے کے ادھورے خواب
جو شہر کی اندھی سڑکوں پر بکھرے تھے
انہیں سمیٹنے نکل گیا

میں مسلسل دیکھ رہا ہوں
بوڑھا فنکار ایک مدت سے لوٹ کر نہیں آیا

Categories
شاعری

میں کچھ نہیں جانتا (نصیر احمد ناصر)

میں نے کبھی دروازہ بند نہیں کیا
لیکن جانتا ہوں
دیواریں بہت اونچی ہوتی ہیں

میں نے کبھی نفرت نہیں کی
لیکن جانتا ہوں
محبت ہر ایک کو نہیں ملتی

میں نے کبھی چلتے ہوئے
کسی کا راستہ نہیں روکا
لیکن جانتا ہوں
لوگ کیسے
سایوں، پتوں اور قدموں کو
روندتے ہوئے
آگے بڑھ جاتے ہیں

میں نے کبھی نظموں کا پیچھا نہیں کیا
لیکن جانتا ہوں
لفظ کہاں سے آتے
اور کہاں گم ہو جاتے ہیں

میں نے کبھی بغیر جانے
کچھ نہیں کہا
لیکن جانتا ہوں
کہ “میں کچھ نہیں جانتا”