تنہا رہنے کا موسم

میرے پاس ممنوعہ راتوں میں دیکھے گئے چند خواب ہیں
مگر تعبیر بتانے والا بوڑھا خودکشی کرچکا ہے
میرے اچھے اور برے دنوں کا خدا
پچھلے کئی دنوں سے لاپتہ ہے
اب میں اپنے باپ کو
اپنا خدا مانتا ہوں
میرے پاس گزرے موسم کے آنسو ہیں
جو مزید کچھ دن ٹھہرنا چاہتا تھا
مگر اسے ایک خطرناک وبا نگل گئی
میرے پاس سُروں سے خالی گیت ہیں
جن کو کوئی بھی فنکار
اپنے البم کا حصہ نہیں بنائے گا
میرے پاس گول باغ* کے مرکزی گیٹ پر بیٹھے
ایک خطرناک چوکیدار جیسا غصہ ہے
جو کبھی بھی ایکسپائر نہیں ہو گا
میرے پاس گاؤں کے لوہار جیسا دکھ ہے
جس نے کسانوں کے لیے
بیساکھی پر نئی درانتیاں بنائیں
مگر ایک رات فصلوں کو اجاڑ دیا گیا
میرے پاس کئی ٹوٹی پھوٹی نظمیں ہیں
جن میں کچھ عورتوں کے ساتھ
اندھیرے میں کی گئی محبت کے لمحے محفوظ ہیں
میرے پاس خوش کن اداسی ہے
جو قرنطینہ کے دنوں میں
ایک فرشتہ میرے سرہانے رکھ کر بھول گیا تھا

میرے پاس سب کچھ ہے
سوائے نایاب ہوتے قہقہوں کے
جو میں چرا لوں گا
کسی تابوت بنانے والے سے
یا اس بوڑھے سے جو ہمیشہ مہنگی سگریٹ پیتا ہے
ہو سکتا ہے میں مکمل ہو جاؤں

خواب میں جاگتی آنکھیں

میں ایک ایسے شہر میں زندہ ہوں
جہاں روز سانحے ہوتے ہیں
کیونکہ کچھ لوگوں کو دہشت زدہ فضا پسند ہے
جہاں گونگی سڑک پر
اندھی گاڑیاں خوفناک آوازیں نکالتی ہیں
ان سے خوفزدہ ہو کر
ہیجڑوں کا ایک گروہ خودکشی کر لیتا ہے
میں کھڑکی سے دیکھتا ہوں
اس پیشہ ور طوائف کو
جس کے پستانوں کا سائز بڑھ چکا ہے
اب وہ اپنی بیٹی کو
نئے گاہک سے ملوانے آئی ہے
میں دیکھ سکتا ہوں
سڑک کے دوسری طرف واقع اس قبرستان کو
جہاں بوڑھا گورگن
ایک بوسیدہ قبر کے سرہانے
کدال پر سر جھکائے
آنسو بہا رہا ہے
اچانک پرکھوں کا ہجوم گزرتا ہے
جو اپنے حصے کے خدا کے خلاف
دوسرے جنم میں مذاکرات کے لیے نعرے لگاتا ہے
اچانک میں خواب سے باہر آتا ہوں
مجھے رات کے دوسرے پہر کا وعدہ یاد آتا ہے
کوئی میرا انتظار کررہا ہوگا
میں اوورکوٹ پہنے گھر سے نکل آیا ہوں
مگر مجھے معلوم ہے
آخری لوکل بس بھی جا چکی ہو گی

میں سب کچھ دیکھ رہا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب ایک بوڑھا فقیر
اپنے گناہوں کا ٹوکرا اٹھائے
جہنم کا ٹکٹ لے رہا تھا
تو لوگ چپکے سے
اس کے کاسے میں
اپنے غم ڈال رہے تھے

میں دیکھ رہا تھا
جب تم اپنی زندگی کی معیاد بڑھانے
خدا کے پاس گئے تھے
تو فرشتوں نے تمہیں بھگا دیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب تمھارا سابقہ بوائے فرینڈ
گردن سے نیچے
تمھارے بوسے لے رہا تھا
تو تم نے کچھ دیر اپنی شرم کو
بیگ میں چھپا لیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب بوڑھا فنکار
مجھے تخلیق کر رہا تھا
وہ اپنے حصے کا کام چھوڑ کر
میرے حصے کے ادھورے خواب
جو شہر کی اندھی سڑکوں پر بکھرے تھے
انہیں سمیٹنے نکل گیا

میں مسلسل دیکھ رہا ہوں
بوڑھا فنکار ایک مدت سے لوٹ کر نہیں آیا

Leave a Reply