بارش کی خواہش بھی اک موت ہے (حفیظ تبسم)

بارش برسی
تالاب یکدم سخی ہو گئے
اور پھر وحشی۔۔۔
تعزیت نامہ اور دیگر نظمیں (وجیہہ وارثی)

غربت کی لکیر آمدنی اخراجات کو دعوتِ گناہ دیتی ہوٸی آتی ہے “ہم مہذب نہیں مذہبی ہیں” اس جملے کی روشنی میں مالتھس کا نظریہ ضبط تولید کفر قرار دیا جا چکا ہے ہمارے کسان اپنی کھیتی میں دن رات ہل جوتتے ہیں میزاٸل نما بیج بوتے ہیں ہم مقروض پیدا کرنے کی مشینیں ہیں […]
وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے (صدیق شاہد)

وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے
جیسے سناٹا خالی کمرے کو
بے کار مشغلوں کا گیت (سرمد صہبائی)

پرندے کی چہک لے کر اسے سیٹی بنا لینا
ہوا کے ایک جھونکے کو کبھی موسم بنا لینا
دکھ اور دیگر نظمیں (غنی پہوال)

تم جو ایک بادبانی گیت ہو
تمہارے لہراتے سُروں کی
سبز شاخوں پر میرا بسیرا ہے
شاہی پرفیوم اور دیگر نظمیں (نسیم خان)

وہ نظم جو خدا نے لکھی تھی ہم سے کہیں کھو گئی ہے
ڈھونڈو اسے
اس میں شاید ہماری موت کے حوالے سے بہت کچھ کہا گیا تھا
تمہارا نام اور دیگر نظمیں (فاطمہ مہرو)

تمہارا نام شاعری ہونا چاہیے تھا
ہم آنکھیں موند کر
صرف تمہارا دیکھنا سوچتے
اور میرؔ کا دیوان سُلگ اٹھتا
ہم ملتے ہیں تاکہ بچھڑ سکیں (اویس سجاد)

ایک دوسرے کی خواہشوں کو مار دیتے ہیں
اس وعدے کی طرح
جس کو کچل دیا ہوتا ہے
ہم نے اپنے قدموں سے
چرواہے کا خواب اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

ایک دن محبت
آدمی کو مکمل کرے گی
آدمی کی تکمیل
شاعری کی آخری لائن ہو گی
میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں (رضی حیدر)

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں یا تیری رندھی ہوئی ہچکی میں دونوں میں ایک طویل سکتہ تھا یہ کوئی دلدل ہے شاید یا کوئی شہرِ مدفون وقت کی سِلوں کی عبارتیں مٹ رہی ہیں خاموشی کی چھپکلی زبان سے اپنے ڈیلے صاف کرتی ہے (خدایا کیا دھنسنا ہمارا مقدر ہے اس ماتھے […]
ہینگروں میں لٹکے سائے اور دیگر نظمیں (عظمیٰ طور)

آدمی زندان ہے
اور بنا روزن کے اپنے ہی بدن میں پڑا سر کو ڈھلکائے ہوئے
لہروں پر جھومتا چاند! (ایچ-بی-بلوچ)

لہروں پر جھومتا چاند رات کے طول کا ایک دیدہ عکس ہے باقی نادیدہ سراپا پانی کی نظر ہو چکے ہیں گزرے لمحات کی قبر میں مدفون اے میری راحت! میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میں نے تجھے کبھی چوما تھا ! میں اکیلائی کے جسم پر مجوزہ منصوبوں کی وارداتیں لکھتا ہوں […]
دو نظمیں (قاسم یعقوب)

میں کبھی ایسا دیکھوں میں خوابوں کا بارود بنوں اور بارود مرا چہرہ، مری آنکھیں اوڑھ کے ریزہ ریزہ ملبہ بنتی دل کی آبادی بن جائے میں ایک شجر کو خود پر پہنوں اور مرا سایہ تیرے جسم پر میرے ہونٹوں کے لمس کو تپتی ریت اور وحشی دھوپ سے محفوظ رکھے میں ایک کتاب […]
تنہا رہنے کا موسم اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

میرے پاس سب کچھ ہے
سوائے نایاب ہوتے قہقہوں کے
میں کچھ نہیں جانتا (نصیر احمد ناصر)

میں نے کبھی نظموں کا پیچھا نہیں کیا
لیکن جانتا ہوں
لفظ کہاں سے آتے
اور کہاں گم ہو جاتے ہیں