جانتی ہو (رضی حیدر)
جانتی ہو، نظمیں لکھ لینے سے دل کی سیاہی نہیں دھلتی
وہ نظم جو خدا نے لکھی تھی ہم سے کہیں کھو گئی ہے ڈھونڈو اسے اس میں شاید ہماری موت…
میں ننھے بچوں کے ماتھے نہیں چومتی کہیں میری وحشت ان میں منتقل نہ ہو جائے
میں اُکتا کر اٹھتا ہوں اور سنسان گلی میں خود کو ڈھونڈنے جاتا ہوں
تمہارا نام شاعری ہونا چاہیے تھا ہم آنکھیں موند کر صرف تمہارا دیکھنا سوچتے اور میرؔ کا دیوان سُلگ اٹھتا
وہ قدیم روایت کے احساس تلے جماہی لیتا ہے اور تاریخ دہرانے کے لیے پرندوں کے قبیلے میں شمولیت کی…
اس زمین کی خاک میں نہ جانے کتنی آنکھیں دفن ہیں جو عمیق سمندروں کے نمکین پانی سے گھری ہوئی…
میں نے اپنے ہاتھ کی پشت پہ ایک پھول بنایا ہے اپنے سبز زخموں کی ٹہنیوں پر جنہیں تم اپنی…