Categories
تبصرہ

دیار و دشت کے پسِ پردہ سے ایک پرچھائی

نام کتاب: دیار و دشت

مصنف: ذکی نقوی

قیمت: 699 روپے

ناشر: القا پبلی‌کیشنز – ریڈنگز کا اشاعتی ادارہ

ذکی نقوی کی کہانیوں کے وہ شائقین جو اس کے فکشن پر ایک ادبی تبصرے کی توقع لے کر اِس تحریر تک آئے ہیں، اُن کے لیے میں ابتدائے کلام میں ہی چراغ بجھائے دیتا ہوں کہ زیرِ نظر تبصرہ، ادب کی دنیاداری تو ہے ہی، ساتھ میں میری گھریلو ذمہ داری بھی ہے، اگر جانا چاہیں تو یہیں سے پلٹ جائیے۔ صاحبِ کتاب رشتے میں میرا سگا بھائی ہے۔ چھوٹی عمروں میں ایک ہی برتن میں کھایا، ایک ہی ٹاٹ پہ بیٹھ کے مکتب کا پہلا پہلا درس لیا، اور ایسی بہت سی کہانیوں کو ایک ساتھ جیا جو ذکی نقوی کے قلم سے آپ تک پہنچی ہیں۔

اگر کوئی پوچھے کہ یہ کہانیاں کہاں سے آتی ہیں، تو پہلے یہ بتائے کہ مچھلی پانی کب پیتی ہے۔ ہر خاندان اور محلے بستی میں دسیوں کہانی گو ہوتے ہیں، کہانی کہے بناں چارہ نہیں۔ فکشن نگار البتہ کوئی کوئی بنتا ہے، جس کو چاہے خدا خراب کرے۔

پہلے کچھ اس گاؤں کا ذکر ہو جائے جس سے آپ ذکی نقوی کی کہانیوں کی بدولت اب کافی مانوس ہیں۔ چند صدیاں پہلے خود کو تتار خان کی نسل سے بتانے والے ایک بلوچ شاکر خان اور اس کے قبیلے نے دریائے جہلم کے قریب یہاں اپنے گھروں کے گرد ایک کوٹ تعمیر کیا تو آس پاس کا سبھی قصبہ کوٹ شاکر کہلانے لگا۔ 1870ء کی دہائی میں یہاں سرکاری اسکول بنا۔ لاہور اور ملتان کے بازاروں جیسا لال پکی اینٹوں والا ایک بازار تھا، جہاں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ سیال اور بلوچ بیشتر اناج اور مویشیوں والے تھے، کھتری رات دن دکانوں کی بہیاں دیکھتا تھا اور سونے چاندی میں کھیلتا تھا۔ سال بھر کے پھیرے پر نورپورتھل اور شاہجیونہ کے میلوں اور ماچھیوال کی لوہی پر یہ سبھی دھن دولت یکجا ہو کر مقدور بھر سب میں پھر سے بٹ جاتی۔ ان وقتوں کی ایک بچ رہی گمٹی بتاتی ہے کہ ہندو اور سکھ ایک ہی گوردوارے میں عبادت کیا کرتے تھے۔ اسکول کے قریب ٹِیڑی چوک ہے، جہاں دن میں تانگے رکتے تھے اور شام پڑے منچلے جوان اکٹھے ہو کر ضلع جگت اور قصہ کیا کرتے۔ ٹِیڑی مارنا، یہاں کی بولی میں فسوں طرازی اور لمبی گپ ہانکنے کو کہتے ہیں۔ خوشاب سے جھنگ جانے والی پکی سڑک حالیہ مقام سے کوئی سوا میل مشرق میں، اسی پرانے قصبے سے گزرتی تھی۔ تب ہفتے میں ایک یا دو بسیں گزرتی تھیں۔ چاہ خان‌پور کے پاس ایک جگہ اب پرانا اڈہ کہلاتی ہے، بس یہاں رات بھر قیام اور چائے پانی کر کے صبح دم چل پڑتی۔ بٹوارہ ہوا تو سکھوں کی ایک بس جو یہاں رات کو رکی تھی، اس پر ایک بلوائی جتھے نے دھاوا بول کر سبھی مسافر مار ڈالے، میں نے جس بزرگ سے یہ سنا اس کا کہنا تھا کہ وہ اس جتھے کے ساتھ تھا۔ یونہی ایک اور سکھ کے بارے سنا کہ اس نے اپنی بیوی اور سبھی بیٹیوں کو مار کے خود کو گولی مار لی۔ غرض جب یہ ہنگامہ تھما اور زندگی پھر سے معمول پر آئی تو بازار کی رونق بہت ماند پڑ گئی تھی۔ ہمارے دادا پٹواری تھے، پچاس ساٹھ کی دہائی میں اپنے دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ دیکھ لینا، نئی سڑک مغرب میں اونچے ٹیلوں سے گزرے گی، اپنی اپنی “مَلت” کی لکیریں کھینچ لو۔ اور ایسا ہی ہوا۔ نئی بستی بسی تو دادا جان اس کے پہلے نمبردار ٹھہرے، بَکُھو ماچھی نے سڑک کنارے چائے کا کھوکھا کھول لیا، سیٹھ غلام حسین نے کچھ فاصلے پر کریانہ لگا لیا۔ پرائمری اسکول کے طور پر ایک کھلے میدان میں ایک بڑے کیکر کے ساتھ ایک کوٹھڑا بن گیا۔ اور سڑک کنارے ہر سوموار کو مویشیوں کی منڈی لگنے لگی۔ ماڑی، مچھیانہ، علیانہ، ساہجھر، کوٹ مَولچند (جوکہ بٹوارے کے بعد – شاید پھر سے – چاندنہ کہلایا) اور اس سڑک سے گزرتے ہوئے راستے میں آنے والے کم و بیش سبھی قصبوں کی کہانی اس سے ملتی جلتی ہے۔ کوئی ایک صدی پہلے یہ سبھی ایک آدھ میل مشرق میدانی علاقے میں لال پکی اینٹوں اور اونچے چوبی دروازوں والے مکانوں سے سجے، آج سے کہیں زیادہ آباد قصبے تھے۔ لیکن دو عوامل ایسے تھے جنہوں نے ان سب آبادیوں کو یکسر و یکساں طور پر بدل دیا۔ ایک سن سنتالیس کا بٹوارا اور دوسرا سیلاب۔ ایسا لگتا ہے کہ ان ٹیلوں کے قلب میں کوئی چیز ہے جو ڈیڑھ دو میل کے فاصلے سے دریا کو اپنی طرف بلاتی ہے۔ ہمارے دادا جس گھر میں پلے بڑھے تھے، وہ جگہ آج کے دریا کے پاٹ کے عین وسط میں بتائی جاتی ہے۔

میں نے جب کچھ کچھ ہوش سنبھالنا شروع کیا تو خود کو شورکوٹ میں واقع ایئرمین کوارٹرز میں پایا۔ میں تین چار سال کا تھا جب والد صاحب میڈیکل‌بورڈ پر قبل از وقت ریٹائر ہو کر اسی گاؤں واپس آنے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہاں آ کر میں نے پہلے کبھی کبھار ملنے والے خود سے سال بھر بڑے اس بھائی سے باقاعدہ متعارف ہونا شروع کیا جسے پیدا ہوتے ہی دادی نے گود لے لیا تھا۔ ذکی اور مجھے دونوں کو جاننے والے جو ایک طرف یہ سوٹڈ بوٹڈ بابو اور دوسری طرف میرا ریچھ پالنے والے قلندروں جیسا حلیہ دیکھ کر کچھ متحیر ہوتے ہوں، تو تب ہم دونوں میں یہ فرق بالکل الٹ تھا۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں ہم دونوں کا رہنا سہنا یکساں ہو گیا۔ دادی نے ذکی کو بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ دھول دھپا، ہاتھ کا لقمہ چھین لینا۔ لیکن ایک ہم‌عمر دوست کی ضرورت نے ہمیں شیروشکر بھی کیے رکھا، گاؤں میں ہماری جوڑی کی مثالیں بننے لگیں اور ہم دوقالب ایک نام سے پہچانے جانے لگے۔ ذکی مجھ سے اردو، اور میں اس سے پنجابی کے نئے لفظ سیکھ رہا تھا، یوں بولنا سیکھنے کی عمر میں ہم ایک دوسرے کی مدد سے ذولسانی بھی ہو رہے تھے۔ ہم ایک ہی کھاٹ پہ سوتے تھے، ایک ہی ٹاٹ پہ سبق لیتے تھے اور ایک ہی گھاٹ پہ پانی پیتے تھے۔ مگر اس دوستی کے ساتھ ہی جونہی ماں اور دادی میں کھٹ پٹ ہونے لگتی، ہم دونوں بھی ایک دوسرے پر تلواریں سونت لیتے۔ جی ہاں، ہم نے کئی دن تک لوہار کی دکان پر بیٹھ کر اپنی آہنی تلواریں خود بنوائی تھیں، ان تلواروں کی نقل پر جو پردادا جلال شاہ، اور جگدیش کے بابا شاہ چراغ وغیرہ سے منسوب تھیں۔ ماں اور دادی کے بیچ کھٹ‌پٹ بھی بے‌جا نہیں تھی۔ ننھیال کا قصبہ کسی زمانے میں یوں تھا کہ بہت سے خاندانوں پر مشتمل سیّدوں کا ایک پورا قبیلہ ایک فصیل بند قطعہ پر بستا تھا۔ جہاں اب گھروں کے درمیان گلیارے ہیں، کبھی یہ ایک ہی بڑے سے گھر کے اندرونی راستے تھے۔ اب سے کچھ سال پہلے اس قبیلے میں میں ایک زہریلی ہوا چلی۔ اس کے بعد وہاں دھرمسال کی ایک بڑی سی پرانی عمارت اور گاؤں کا سب سے بڑا اور پرانا برگد، جہاں کبھی لمحہ بھر کے لیے بھی محفل برخاست ہوتی تھی اور نہ ہی حقہ سرد پڑنے دیا جاتا تھا، آن کی آن میں دونوں جگہوں کا نشان مٹا دیا گیا۔ لڑکپن میں ہی اسی ہوا میں ہمارا اس گاؤں جانا بھی موقوف ہو گیا۔ یہ گاؤں ضلع جھنگ میں اُچ گل امام والی بࣦھڑ کے قریب پڑتا ہے۔ میری والدہ نے ایک بار مجھے بتایا کہ بہت پرانے وقتوں میں چھوٹی اُچ، یعنی اُچ گل امام والی بِھڑ میں اور بڑی اُچ یعنی ریاست والی اُچ کے خرابے میں دو دیوہیکل بہنیں رہا کرتی تھیں۔ وہ اتنی بڑی تھیں کہ جونہی شام ہوتی تو وہ اپنے اپنے خرابوں سے اوپر اٹھتیں اور ہاتھ بڑھا کر ریڑھکے کی جاگ اور شام کی بھاجی کا تبادلہ کیا کرتی تھیں۔ ادھر ددھیال میں ہمارا گھر سیّدوں کا اکلوتا گھر تھا اور ٹیلوں پر آن بسنے والی اس نئی بستی کا رہن سہن ابتدا میں سابقہ میدانی قصبے جیسا نہیں، بلکہ ریگستان کی اندرونی بستیوں جیسا تھا اور گھروں کی چاردیواری کا تصور ماں کی شادی تک پوری طرح نہیں آیا تھا۔ بھیڑوں بکریوں پر بگھاڑوں کے شب‌خون تو خیر ہم نے بھی کچھ کچھ دیکھے سنے، پر جب والدہ بیاہ کر آئی تھیں تب تو بیابان کے مسافروں کے اژدہے اور شینہوں کا شکار ہونے کے قصے بھی سننے میں آیا کرتے تھے۔ پھر یہاں ہماری والدہ کے آنے تک نہ کسی کو عورتوں کے غسل کفن کا پتہ تھا، نہ ہی کوئی لڑکیوں کو نماز طہارت سمجھانے والا تھا۔ ماں اور دادی کے درمیان کا ثقافتی فرق کبھی کبھار تہہ سے اٹھ کر سطح پر آ جاتا تھا۔ پھر میرے آنے سے پہلے دادی اپنا جوڑ رکھا جو میوہ ماکھن ذکی کو کھلاتی تھی، وہ بعد میں کئی بار مجھ سے چھپ کے کھلاتی ہوئی بھی دیکھی گئی۔ دادی سے میری دشمنی کے گہری دوستی میں بدلنے میں بہرحال کچھ وقت لگا۔

ذکی اور میرے پیدا ہونے سے کچھ پہلے ہمارا سب سے بڑا بھائی، جسے دادی نے فوج میں گئے ہمارے والد صاحب سے دوری کے ہرجانے کے طور پر گود لیا تھا، کم‌سنی میں گھر کے قریب کھیلتا ہوا ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد دادی نے کچھ کچھ سالوں کے وقفے سے ایک پوتا اور پھر ایک نواسا گود لیا۔ دادی کی وفات تک مجھے گھر میں گزاری ایسی کوئی شام یاد نہیں جب وہ اپنے سب سے بڑے پوتے کو یاد کر کے روئی نہ ہو۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دنیا کی ہر ماں میں ایک پوشیدہ، مگر بے بنیاد اور معصومانہ سا احساسِ جرم یا وہم پایا جاتا ہے کہ وہ ایک اچھی ماں نہیں ہے، اور شاید یہ وہم نسلِ آدم کی بقاء کے پیچھے فطرت سے ملا ایک بے حد تعمیری اور کاملیت پسند جذبہ ہے۔ اس خود اشتباہی کا اظہار ہر ماں میں مختلف طرح سے ہو سکتا ہے۔ میں اپنی زندگی کے ساتھ کئی ایک تباہ کن تجربے کر چکا ہوں لیکن میری والدہ نے مجھے زندگی میں کسی برے فیصلے پر کبھی کوئی ملامت نہیں کی۔ وہ ہمیشہ فقط میری ظاہری صحت کے متعلق ہی اپنی فکرمندی مجھ پر ظاہر کرتی ہیں اور ان کا لفظوں کا انتخاب بہت محتاط ہوتا ہے۔

اُچ گل امام والی بِھڑ کے قریب سید نور شاہ کی قبر ہے۔ پرانے وقتوں میں یہ بزرگ اپنے بھائی مکی شاہ کے ساتھ دلی گئے جہاں مکی شاہ کو بے گناہ قتل کر دیا گیا۔ ان کا سر دہلی کے دروازے پر رکھا گیا تو وہ سر اپنی جگہ سے اٹھا اور شہر کی فصیل کے اوپر چکر کاٹنے لگا اور تین دن تک شہر کے گرد ہوا میں گھومتا ہوا یہ سر اپنی زبان سے اپنی بے گناہی کا اعلان کرتا رہا اور اس دوران دہلی میں بھونچال کی کیفیت رہی اور شہر کے کنگرے کانپتے رہے۔ اہلِ دلی نور شاہ کے قدموں میں آن گرے، سو انہوں نے اہل دہلی کو معاف تو کر دیا لیکن صلح میں دلی والوں کی دو لڑکیاں بیاہ کر ساتھ لائے اور آتے ہوئے وعدہ کیا کہ بروز حشر جس روز وہ اپنے مقتول بھائی سے ملیں گے، اسی دن یہ بیاہتائیں اپنے مائیکے والوں سے ملیں گی۔ انہی بیگمات کے بطن سے پیدا ہونے والے گوہر شاہ کو ایک دن کیا سوجھی کہ اپنی ماؤں کو ان کے مائیکے والوں سے ملوانے دلی لے گیا۔ جب نور شاہ کو پتہ چلا تو اس نے اپنے بیٹے کو بددعا دی کہ اس کی نسل سے اگر کسی بیاہتا کی پہلوٹھی اولاد نرینہ ہو گی، اپنی جوانی تک نہیں پہنچے گی۔ گوہر شاہ مرا تو اسے تین بار باپ کے پہلو میں دفنایا گیا لیکن ہر بار میت قبر سے باہر آن پڑتی۔ گوہر شاہ کی قبر نور شاہ سے دور فاصلے پر ہے۔ ہمارے ننھیال کا قبیلہ اسی نسل سے ہے، بٹوارے سے پہلے وہ پڑھائی کے لیے اپنے لڑکے دہلی بھیجا کرتے تھے۔ آس پاس کے لوگ انہیں “کپری سید” بھی کہتے ہیں۔ مقامی بولی میں “کــَپّر” شدید بددعا کو کہتے ہیں۔ سو اس کی ایک تاویل یہ ہے کہ ان سیدوں کی بددعا بہت لگتی ہے، دوسری تاویل یہ کہ یہ لوگ خود بددعا گزیدہ ہیں۔ تین بہنوں میں سے میری والدہ اور منجھلی خالہ کے ہاں پہلوٹھی اولاد نرینہ ہوئی، دونوں کی بچپن میں موت ہوئی۔ لیکن نور شاہ کا سراپ گوہر شاہ کی نسل کی ہر عورت پر ایسے التزام سے نہیں پڑتا کہ ایک باپ کا بیٹے کو دیا گیا کوسنا، ایک نری بددعا سے فطرت کا ایک اٹل قانون بن جاتا۔

ادھر تھل میں ذکی اور میری لڑکپن کی بادیہ پیمائی کم و بیش ایک ساتھ رہی۔ پھر کوئی دلچسپ روداد یا ماجرا دیکھا سنا، تو محفل میں سناتے ہوئے دونوں میں ایک عجیب سی کشیدگی در آتی تھی۔ میں سناتا ہوں! ارے نہیں میں۔ تو قصہ یوں ہے! ارے نہیں قبلہ، یوں نہیں، ایسے ہے۔ ذکی صاحب اس معاملے میں تب کچھ تحکمانہ مزاج بھی رکھتے تھے، سو اکثر مجھے قدم بھر پیچھے ہٹنا پڑ جاتا۔ البتہ اب ان کا مزاج ویسا تحکمانہ نہیں رہا، شاید وہ بڑے ہو گئے ہیں، یا شاید میں بڑا ہو گیا ہوں۔ سو یہ کہانیاں پڑھتے ہوئے کسی کسی مقام پہ مجھ پر ایک بہت ذاتی سی کوفت کی کیفیت گزر جاتی ہے، لیکن یہ کوفت فکشن کے قاری کے طور پر نہیں، بلکہ جادہ پیمائی کے اس ہم سفر و ہم صفیر کے طور پر ہوتی ہے۔

میری اس ذاتی سی کوفت کے بارے میں جاننا فکشن کے قاریوں کے لیے ایک بہت غیر ضروری سی بات ہو سکتی ہے، لیکن آپ تو بطور قاری چراغ بجھنے پر بھی اٹھ کر نہیں گئے، آپ سے کیا پردہ۔ ذکی نقوی کا ہر کردار بہت سے حقیقی کرداروں کا ایک کولاج ہے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ان اکثر حقیقی کرداروں کو جانتا ہوں۔ نام کی حد تک چاچا ایلس کدوری ایک حقیقی شخص تھا، باقی کہانی بہت سی ہنگامہ خیز لیکن گمنام زندگیوں کی یکجا تجسیم ہے۔ گائے کی دُم کاٹ بھاگنے والا داستانی مویشی چور فلاں بستی کا فلاں شخص تھا، اور دُم بریدہ گائے کے جلوس میں پڑھا جانے والا نوحہ حقیقت میں ایسے ہی ایک نوحے کا آزاد اردو ترجمہ ہے۔ نوٹوں کی گڈی جلا کے محبوبہ کو چائے گرم کر دینے والا اصل میں پاس کے گاؤں میں ایک چنے کا آڑھتی تھا، جسے آخری بار کئی سال پہلے میں نے تباہ حال پھرتے دیکھا۔

اس صدی کے پہلے دو عشروں میں ہم سب نے دہشت‌گردی سے جنگ کی شکل میں جو آزمائش دیکھی ہے، کلاسیکی جنگ کی کتابی اور تاریخی سی دنیا میں پلے بڑھے ذکی نقوی نے اس نئی بدصورت جنگ کا تجربہ نیوی کی وردی میں حاصل کیا، جس میں ہر سپاہی کے سر پر ایک بیہودہ اور غیر سپاہیانہ سی موت ہر کہیں منڈلاتی رہتی ہے، اور جس کا ذکر اس کے افسانے “اشفاق اور اس کا دوست منگول” میں ملتا ہے۔ ذکی نقوی کا لکھا ہوا اس کی فوجی زندگی کی حقیقی یادوں پر مشتمل ایک طویل مسودہ میری نظر سے گزر چکا ہے۔ یہ آنے والے وقت میں اس جنگ سے متعلق ایک دلچسپ اور اہم متن بن سکتا تھا، لیکن ہمارے اس خر دماغ فوجی نے کسی جذباتی لمحے میں وہ مسودہ تلف کر دیا۔ فوجی ملازمت کے ذاتی تجربہ کے ساتھ ساتھ مصنف کے اپنے خاندان میں، اور باہر بستی میں متحدہ ہندوستان کی فوج میں رہ چکے سپاہیوں کی آخری نسل کے ساتھ تعلق وہ سرمایہ ہے جس کی بدولت اس کے “میکنائزیشن” جیسے افسانوں کی تخلیق ممکن ہوئی۔ بعد میں کرنل غلام جیلانی خان جیسے اکابر کے شفقت بھرے تعلق نے ذکی نقوی کی ادبی شخصیت کو بہت نکھارا۔ میں جن دنوں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا ایک بار ذکی صاحب جیلانی صاحب سے ملنے کراچی سے لاہور آئے تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ عسکری تاریخ اور فارسی زبان و شعر پر گفتگو کی ایک طویل نشست رہی، اس نشست سے مجھے وہ خفت بھرا لمحہ سب سے زیادہ یاد ہے کہ میں پہلے کچھ بے خوابی کے ساتھ تھا اور بیٹھک کے برخاست ہونے سے کچھ پہلے مجھے صوفے پر بیٹھے اونگھ آ گئی تھی۔

اکثر پرانے فوجیوں کی طرح ہمارے والد صاحب بھی ایک ان‌تھک قصہ گو ہیں۔ ذکی صاحب اور میں نے عمر کا ایک حصہ تقریباً ہر شام ان کی فوجی زندگی کے قصے کئی کئی بار ایسے سنے ہیں کہ اب یوں لگتا ہے کہ وہ اٹھارہ سال ان کے ساتھ ایئرمینی کی ڈانگری میں گزارے ہوں۔ ورنہ اس دیہاتی لڑکے کو کیا پتہ تھا کہ کہانی کی تکنیکی جزویات کیا ہوتی ہیں۔ ذاتی طور پر ہوابازی کی تکنیکی باریکیوں سے ذکی نقوی کی گہری شناسائی کی بنیاد بھی انہی عمروں میں پڑی۔ ذکی صاحب ایک مشغلہ پرور پیراگلائیڈر بھی ہیں۔ ایک ایئرمین کے گھر پیدا ہونے والے ایک سیلر کی شخصیت میں یہ “ماہئ پرّاں” کا سا پہلو ایک قابلِ فہم بات ہے، بطورِ ہواباز اس کی اپنی پرواز اس کے قلم کی پرواز کی طرح بادلوں سے دور اور زمین کے قریب تر رہتی ہے۔

2011ء میں، جبکہ ذکی صاحب بحریہ میں سیلر تھے اور میں پولیس میں سنتری تھا، موصوف نے مجھے فون کر کے بتایا کہ دونوں عالمی جنگیں لڑ چکا آخری فوجی، رائل نیوی کا کلاڈ آسٹریلیا میں مر گیا ہے۔ یہ خبر ہم دونوں کے لیے اتنی دلچسپ اس لیے تھی کہ تب سے پہلے تک ہمارا ماننا تھا کہ دونوں عالمی جنگیں لڑ چکا آخری سپاہی بابا شہادت خان تھا۔ اگرچہ بابا شہادت خان سے ہمارے بڑوں کے پشتینی مراسم تھے، لیکن ہماری اس سے پہلی باقاعدہ ملاقات ہائی اسکول کے دنوں میں جھنگ کے ڈاکخانے میں فوجی پنشنروں کی قطار میں ہوئی۔ ان دنوں کچھ عرصہ ہمارے والد صاحب کو ایک عذر درپیش رہا تو انہوں نے متعلقہ کلرک بابو سے ہماری ملاقات کرا دی، مجھے والد صاحب نے کچھ مجاز مواقع کے لیے اپنے دستخط سکھا دیے، اب والد صاحب کی پنشن لینے ہم دونوں بھائی شہر جاتے تھے۔ فوجی پنشنروں کی قطار میں بابا شہادت خان سب سے معمر تھا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ انگوٹھا چھاپ سپاہی دونوں عالمی جنگیں لڑنے کے بعد سن پینسٹھ کی جنگ بطور ریزروسٹ لڑ چکا تھا۔ دوسری عالمی جنگ یا لوک بولی میں “جرمل دی دوجی جنگ” کے دوران اپنے محاذ بتاتے ہوئے جب اس نے “العالمین” کا ذکر کیا تو ہم نے چونک کر پوچھا؛ “بابا جی، پھر تو آپ نے اہرامِ مصر کو بھی دیکھا ہو گا۔” بابا شہادت خان نے کچھ دیر ذہن پر زور دیا اور کہنے لگا؛ “اہرامِ مصر۔۔۔ ہاں، کافی بھلا آدمی تھا۔” افریقہ سے واپسی پر مسلمان سپاہیوں کو عراق و ایران میں مقدس مقامات کی زیارت کا موقع دیا گیا تو سپاہی شہادت خان نجف و کربلا سے ہوتا ہوا وردی میں ہی مشہدِ رضا پہنچ گیا۔ اسی دوران غل ہوا کہ رضا خان، شاہِ ایران بھی روضہ کی سلامی کو آیا ہوا ہے۔ شہادت خان کو اسی اثنا میں بادشاہ کو سلیوٹ مارنے کا موقع مل گیا۔ رضا خان انگریزوں اور ہندوستانیوں، دونوں کا دوست تھا، اس نے ناصرف فوجی سلیقے سے سلیوٹ کا جواب دیا بلکہ آگے بڑھ کے شہادت خان سے مصافحہ بھی کیا۔ بس اس کے بعد سے سپاہی شہادت خان مرتے دم تک شاہِ ایران کی تعریف میں رطب اللسان رہا۔ وہ بڑے رضا شاہ اور چھوٹے رضا شاہ کا فرق نہیں جانتا تھا۔ مدت بعد جب اسے پتہ چلا کہ شاہِ ایران کا تختہ الٹ گیا ہے، تو اس رطب اللسانی کے ساتھ ایک اور ناراض سی بڑبڑاہٹ بھی تازیست شامل ہو گئی۔

گاؤں میں ایسے بہت سے فوجی اب بھی زندہ ہیں جو سن اکہتر کی ہزیمت کا داغ اور اس سے وابستہ بہت سی کہانیوں کا بوجھ سر پہ اٹھائے پھرتے ہیں۔ یعنی وہ سپاہی جو ہمارے ہاں کے لوک محاورے میں “اِندراں دی قید” کاٹ کے آئے تھے۔ جیسا کہ اپنی بیٹھک کی الماری میں کچھ دوائیں اور ٹیکے سجائے آس پاس سے اپنی ماؤں کے کولھوں پر سوار ہو کے آنے والے ننگے پُنگے بچوں میں ملیریا اور اسہال وغیرہ کی مسیحائی کرنے والا نرسنگ کور کا سپاہی خادم حسین۔ یا ایک آدھ سپاہی ایسا بھی تھا جو بنگالے میں گڑبڑی کے دوران بنگالیوں کے ساتھ اپنے برتاؤ کے بارے میں کچھ بیحد تاریک اعترافات بھی بڑی صاف گوئی سے سنایا کرتا تھا۔ یا پھر اپنی بزاز کی دکان پر بیٹھا خریداروں کا منتظر، گاہکوں کے اسٹول پر بیٹھے نوعمر ذکی کو گھنٹوں اپنی کہانیاں سنانے والا ریٹائرڈ بلوچ صوبیدار۔ صوبیدار صاحب لاولد تھے اور انہیں ذکی سے بہت انسیت تھی۔ ان کے متعلق گاؤں میں مشہور تھا کہ بنگالے والی قید میں بھارتی فوج آٹے کے راشن میں شیشے جیسا کچھ پیس کر انہیں کھلاتی رہی، جس کی وجہ سے ان میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت جاتی رہی۔ ذکی صاحب ہم بھائیوں میں ذرا گورے چٹے ہیں، سو میں لڑکپن میں اس ادھیڑ عمر فوجی کے ساتھ موصوف کی گہری دوستی پر پھبتی کسنے کا کوئی موقع نہیں گنواتا تھا۔ برسبیل تذکرہ، بچپن میں گاؤں میں اکثر لوگ ہمیں ذکی-نقی کی جوڑی کے علاوہ رَتے کالے کی جوڑی بھی کہا کرتے تھے۔ خیر، ذکی صاحب نے ان سب کی کہانیوں کا بوجھ مجھ سے بڑھ کے اٹھایا۔ موصوف نے ہائی اسکول کے وقتوں میں ہی صدیق سالک اور فضل مقیم خان کی یادداشتیں اور ایسی کئی کتب پڑھ کے قریباً حفظ کر لی تھیں۔ میں یہ کتابیں کبھی بھی چند صفحوں سے آگے نہیں پڑھ سکا۔ قصہ کوتاہ، “سپاہی تنویر حسین کی ڈائری” اور “شکست” جیسی کہانیاں اچانک تخلیق نہیں ہوئی۔

ذکی نقوی کی اکثر کہانیاں حقیقی وقائع اور فکشن کے درمیان کی سرحد کے آر پار پھدکتے رہنے میں کسی تامل کی روادار نہیں ہوتیں۔ زیرِ نظر مجموعے کے مشمولات سے ذرا باہر، اس کے افسانوی خاکے سدِ سکندری کی مثال لیجیے، اگر اس تحریر سے لکھاری کے کیے گئے کچھ معمولی افسانوی برتاؤ کو منہا کر دیں تو وہ ہمارے گاؤں کے ایک حقیقی مولوی مرحوم کا حقیقی خاکہ ہے۔ دیار و دشت میں شامل “شہرِ مدفون” جہاں افسانے کی طرز پر لکھی گئی خودنوشت ہے، وہیں “سپاہی تنویر حسین کی ڈائری” خودنوشت کی طرز پر لکھا گیا افسانہ ہے۔ ادھر ذکی نقوی کے افسانوی کاموں میں جہاں کہیں متکلم کے ایک اسد نامی بھائی یا گاؤں کے فاطمی نامی کسی شاعر کا ذکر آیا ہے، وہ بجا طور پر میں ہوں۔ کون نہیں چاہے گا کہ اپنے وقت میں بہت زیادہ پڑھی گئی ایسی کہانیوں میں اس کا مذکور پوری شناخت کے ساتھ آئے۔ اور کیوں نہ ہو، میں ذکی نقوی کی زندگی کا سب سے پرانا دوست ہوں۔ اس نکتہ پر آ کر ذکی نقوی کی اپنے کرداروں کے ساتھ ایک تکلف بھری پردہ داری کا پتہ چلتا ہے۔ اس کے باقی اکثر کرداروں کے پیچھے کارفرما حقیقی اشخاص کے ساتھ ذکی نقوی کا ذاتی سماجی تعلق، میرے ساتھ رشتے کی نسبت کافی مختلف ہے۔ شاید اسی لیے اس کی کہانیوں میں ایسے ذیادہ تر اشخاص کی اصلی شناخت بھک سے اڑ جاتی ہے اور وہ پوری طرح افسانوی کردار بن جاتے ہیں۔ لیکن یہ پردہ داری ناصرف مصنف کو حقیقی واقعات میں ہر طرح کی تخلیقی رنگ آمیزی کی پوری آزادی دے دیتی ہے، بلکہ تاریخ کی عدالت میں جھوٹ سچ کی کسی بازپرس سے بھی مکمل برٲت دے دیتی ہے۔ ادھر حقیقت اور افسانے کے درمیان انہی دھندلاتی لکیروں پر، فرضی واقعات میں اس کی حقیقت نگاری ایسی زوردار ہے کہ “سپاہی تنویر حسین کی ڈائری” جوکہ زیرنظر مجموعے میں “ایک فرضی روزنامچہ” کے ذیلی عنوان کے ساتھ چھپی ہے، جب پہلی بار ایسی کسی انتباہ کے بغیر شائع ہوئی تھی تو تنویر قیصر شاہد جیسے سمجھدار لکھاری نے ناصرف اسے ایک اصلی تاریخی دستاویز سمجھ لیا، بلکہ ایکسپریس اخبار میں “خون آشام ڈائری” کے عنوان سے اس پر کالم بھی لکھ مارا، اور اس کے آخر پر انہوں نے سپاہی تنویر حسین کو ایسی شاندار تحریر پر مبارکباد دی۔

افسانہ “امام باڑے والے زیدی صاحب” ذکی صاحب نے میری فرمائش پر لکھا تھا۔ افسانہ لازوال ہے، لیکن اسے پڑھ کر مجھے یوں لگا کہ بچپن سے کان پڑتی آ رہی ان یادوں کو جمع کرتے ہوئے افسانے کا اسلوب نہ برتا جاتا تو مٹی میں ملتی ہوئی ایک حقیقی روحانی مجمع‌گاہ اور اس کی بنیاد رکھنے والے لوگ شاید مقامی یادداشت کی تاریخی فراموشی سے بچ جاتے۔ میں ایسی سب کان پڑی ہونی اور انہونیوں کے متعلق ایک تاریخیاتی نقطۂ نظر رکھتا ہوں۔ مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ فکشن بذاتِ خود کسی ایک زمانے اور ثقافت میں جی رہے انسانوں کی حالتوں کی عکاسی میں انہیں محدود حقیقی زمان و مکان سے اٹھا کر انسانی شعور کے وسیع تر آفاق سے ہمکنار کر دیتا ہے، لیکن پھر بھی مجھے ایسے واقعات کی غیر افسانوی سی مقامیت سے کافی غرض رہتی ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جو عناصر ذکی نقوی کے افسانوں کے اجزائے ترکیبی بنے، وہ مسالہ شاید فکشن کا تھا ہی نہیں۔ ایک مضافاتی سی دنیا میں فراموشی کے خطرے سے دوچار ایسے اجتماعی حافظے کو محفوظ کرنے کا سب سے پرسہولت میڈیم بلاشبہ فکشن ہی ہو سکتا تھا، لیکن ایسے مواد کے بہت سے غیر افسانوی اظہارات بھی اپنی جگہ ممکن ہیں۔

چاہے کوئی اسے ایک نظریاتی اور غیر ادبی سی مثالیت پسندی کا نام دے، لیکن کہہ دینے میں کوئی ہرج نہیں کہ کسی انشاپرداز کی ایسی وقائع نگاری جو عام سے منچلوں، مستانوں، ہوشیاروں، دلیروں، بزدلوں، زاہدوں، گناہگاروں، الغرض انسانوں کی اصلی شناخت پر پردہ رکھے بغیر، اور تاریخ کی عدالت میں جھوٹ سچ کی بازپرس کے لیے تیار رہ کر ان کی کہانیاں، تذکار پیش کرے، تو عجب نہیں کہ ایسے متون عام فرد کو اپنے اچھے برے کردار پر صادق و ثابت رہنے کا ابدی حوصلہ دیتے رہیں، اور ایک نئی دنیا کے ایک نئے انسان کے عظیم تر توزک اور معارک نامے قرار پائیں۔ ہماری تاریخ اب‌تک اس بھل منسے فرد کا حق فراموشی ہی تسلیم کرتی آئی ہے، اور اونچے ایوانوں سے وابستہ ناموں کا حق ماندگاری۔ میرے اس مؤقف کی نظریاتی اساس آپ ذکی نقوی کے افسانے “شناختی کارڈ” کو ہی بنا لیں۔ ذکی اور میرے دادا مرحوم گھومنے پھرنے اور قبائل میں رہ رہے لوگوں کے شجرے اکٹھے کرنے کے دلدادہ تھے۔ کاغذوں کا ایک انبار تھا جسے وہ بیچ آندھی میں غیر مجلد چھوڑ گئے۔ حقیقی ناموں کی لمبی لمبی خطی اور شاخہ دار کڑیوں کا وہ ضخیم دفتر، جو نہ اپنی افادیت میں آفاقی تھا، نہ اپنی خلاقی میں پیغمبرانہ۔ لیکن وہ دفتر اپنے مرقوم ناموں سے وابستہ جھوٹ سچ کی ہر بازپرس کے آگے ہمہ وقت جوابدہ رہتا تھا۔ ذکی نقوی تک آتے آتے یادداشت کے اس موروثی دفتر میں کہانی کا ایک مہیب شجر تو میلوں میل، بلکہ دیسوں دیس کی دوری سے لہلہاتا نظر آتا ہے، لیکن یہ ریگستان کے اس سراب جیسا ہے کہ آپ اس کے قریب آ کر کسی شاخے، کسی پتے سے کوئی مستند حقیقی انفرادی نام شاید آسانی سے نہ پڑھ سکیں۔

شہرِ مدفون، ہمراہی اور چاچا ایلس کدوری جیسی کہانیوں میں آپ کو جس دنیا کی جھلک ملتی ہے، اسی نے مجھے اور ذکی صاحب دونوں کو بنایا بھی ہے اور بگاڑا بھی۔ آج ہم دونوں جو کچھ ہیں، اور جو کچھ نہیں ہیں، اس سب کی بنیاد اسی ریت مٹی سے اٹھی ہے۔ لیکن ملتے جلتے حالات و واقعات مختلف لوگوں پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ میں شاید ذیادہ درون بین نکلا۔ ان کہانیوں میں نظر آنے والی دنیا میں جی کر کائنات کا جو نقشہ میری سمجھ میں آیا، میں نے اسے خود پر اس قدر پیچیدہ کر لیا کہ اسے کسی آئینے میں منعکس کرنا کسی بہت بڑی زقند کا متقاضی ہوتا۔ میں نے چند ایک بار ایسا کرنے کی سعی بھی کی، لیکن قلانچ بھرنے سے پہلے کے تول میل میں ہی میں لڑکھڑا کے اپنے پیروں پر گر پڑا، اور اب تک ڈھنگ سے سنبھل نہیں سکا۔

دنیا کو کم و بیش ایک ہی مقام سے دیکھنے کے باوجود ذکی اور میرے زاویوں میں ایک حدِ فاصل ناگزیر طور پر موجود رہی ہے۔ لڑکپن میں بزاز کی دکان پر بیٹھے بلوچ صوبیدار کے قصے سنتے ذکی کو کبھی تو یہ خبر ہوتی تھی کہ میں اس لمحے گاؤں کے کس کونے میں ہوں، لیکن اکثر اسے معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اور سچ پوچھیں تو میں اب بھی نہیں چاہتا کہ ہر بار اسے خبر ہو۔ کہانی کے باہری محیط میں جو کہانی ہوتی ہے، کہانی کار خود بھی اس میں محض ایک کردار ہوتا ہے۔ کسی افسانوی آفاقیت کا گرز تھامے ایک لشکری جیسا کردار جو ایک نکتے پہ آ کر اس باہری کہانی میں دوسرے سبھی کرداروں کی اس غیر افسانوی مقامیت کا انکاری ہو جاتا ہے۔ کیا پتہ کس لمحے وہی تحکمانہ مزاج بڑا بھائی بزاز کی دکان سے اٹھے اور کھڑاک سے اندر آ کر میرے حصے کا بیانیہ بے مزا کر جائے۔ میں لڑکپن کی نسبت اب کہیں زیادہ ناتواں ہوں۔ میرے مکتب کے ٹاٹ میں ایک کے بعد ایک چھید پڑتا ہے، پیوند لگانے کو ہاتھ بڑھاتا ہوں تو قلم بکھر جاتے ہیں۔ قلم سمیٹتا ہوں تو سیاہی الٹ جاتی ہے۔ اپنے حصے کی آوارگی میں دشت کے جس گوشے میں مَیں ہوتا ہوں، کبھی کبھار اس کی تاریکی اِس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اکثر کہانیوں کو چھونے کا سوچتا ہوں تو ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔

Categories
تراجم فکشن

دو جرنیل اور ایک دیہاتی

چند برس اُدھر کا قصہ ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ میں دو جرنیل صاحبان رہتے تھے۔اب یہ جرنیل سرکاری نوکری میں کچھ سویلین خدمات پر ہی دفتری زندگی گزار کر بوڑھے بھی ہو چکے تھے اور نتیجتاََ انہیں دفتری فرائض کے معمولات کی زندگی سے پرے کسی شے کا پتہ بھی نہ تھا۔ ان کا تمام ذخیرہ ء الفاظ بھی ”فقط آپ کا نیازمند” جیسے شبدوں تک سمٹ چکا تھا۔ وہ دونوں اپنی میعا د پر پنشن یافتہ ہوئے، دونوں نے ایک ایک خانساماں نوکر کیا اور ”خیابانِ سُرخ فیتہ” پر رہائش اختیار کر کے عمرِ آخر کی آسائش میں پڑ رہے۔

ایک صبح جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہی بستر پر براجمان ہیں۔ “یور ایکسی لینسی! رات میں نے ایک بھیانک خواب دیکھا!” ایک جنرل صاحب بولے۔

“مجھے در حقیقت یوں لگا جیسے میں ایک ریگستانی جزیرے پر رہ رہا ہوں”ابھی اس نے یہ بات مکمل ہی تو نہیں کی تھی کہ یکے بعد دیگرے وہ دونوں جرنیل اپنے بستر سے اچھل کر اُٹھے۔ “خُدایا! اس کی کیا تعبیر ہے؟ اور یہ ہم کہاں ہیں؟” انہیں بیک وقت دونوں باتوں پہ تحیر ہوا۔ پھر وہ ایک دوسرے کے چٹکیاں کاٹنے لگے کہ یقیناََ وہ ابھی عالمِ خواب میں تھے مگر وہ باوجود کوشش کے اپنے تئیں یہ باور نہ کرا سکے کہ یہ فقط خواب تھا۔ ماسوائے زمین کے ایک ٹکڑے کے جو ان کے عقب میں تھا، وہ ہر طرف سے سمندر میں گھرے ہوئے تھے۔ جب سے دفتر کی نوکری چھوٹی تھی، تب سے اب تک پہلی بار وہ دونوں جرنیل کسی بات پر رو دئیے۔ جب انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو باور ہوا کہ وہ دونوں شب خوابی کے چُغوں میں ملبوس تھے۔ اگرچہ ان چُغوں کے گلے میں بھی ایک ایک تمغہ لٹک رہا تھا۔

“ایک کپ کافی کا ہو جائے تو کیا ہی اچھا لگے!” ایک جنرل صاحب نے کہا۔ مگر اس لمحے جب ان کی توجہ اپنی اس پتلی حالت پہ گئی تو صاحب کے آنسو پھوٹ پڑے۔

“اب کیا کریں” صاحب نے سسکیاں لیتے ہوئے بات جاری رکھی۔ “اس پہ تو مفصل رپورٹ لکھنے سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا!”

“بات سنیے!” دوسرے جرنیل نے کہا۔ “آپ مشرق کی جانب جائیے، میں مغرب کی جانب جاؤں گااور رات پھیلے سے ہم اسی جگہ واپس لوٹ آئیں گے۔ عین ممکن ہے ہم کچھ دریافت کر پاویں”۔ مگر اب افتاد یہ پڑی کہ انہیں سمتوں کا بھی علم نہ تھا کہ مغرب کس طرف ہے اور مشرق کس جانب؟ پھر انہیں یاد آیا کہ ایک بار کسی اعلیٰ افسر نے انہیں بتایا تھا کہ اگر مشرق اور مغرب کی سمتوں کا تعین کرنا ہو تو شمال کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جائیں تو آپ کے دائیں جانب مشرق ہو گا اور بائیں جانب مغرب۔ اب دونوں نے شمال کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ اس کے لئے انہوں ہر ممکن سمت کی طرف رُخ کیا مگر ان کا افق بھی تو سرکاری دفتر کے درودیوار میں محدود رہا تھا! وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

“ایسا کریں، آپ دائیں جانب چلے جائیں اور میں بائیں جانب، اس سے بھی مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے”۔ ان میں سے ایک جنرل جو کسی زمانے میں لڑکوں کے ایک اسکول میں لکھنا سکھاتے رہے تھے اور کچھ عقلِ سلیم رکھتے تھے، بولے۔

جو جنرل صاحب دائیں جانب گئے تھے، انہوں نے پھلدار درخت دیکھے لیکن جب انہوں نے ان سے لٹکے سیب توڑنے کی کوشش کی تو انہیں اپنی پہنچ سے دور پایا۔ جب انہوں نے درخت پر چڑھنے کی کوشش کی تو اپنا چُغہ تار تار کر بیٹھے اور کچھ کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد جنرل صاحب ایک ندی کنارے پہنچے جو کہ مچھلیوں سے اس طرح بھری ہوئی تھی جیسے نہر فونتاکا کے کنارے کی مچھیرے کی دکان۔

“اگر یہ مچھلیاں ہی پکا لی جائیں!” جنرل صاحب نے شدید بھوک کے عالم میں خود کلامی کی۔ پھر ان صاحب نے ایک جنگل میں بٹیر، جنگلی مرغ اور خرگوش دیکھے مگر انہیں پکڑنے کی کوئی سبیل نہ تھی سو انہیں خالی ہاتھ ہی اپنے مقامِ روانگی کی طرف لَوٹنا پڑا۔ دوسرے جنرل صاحب پہلے ہی وہاں موجود تھے۔

“کوئی اچھی خبر یور ایکسی لینسی؟”

“مجھے ماسکو گزٹ کی ایک پرانی کاپی کے سوا کچھ نہیں ملا”

دونوں جرنیل لیٹ گئے اور سونے کی کوشش کرنے لگے مگر بھوک انہیں کہاں سونے دیتی تھی، پھر انہیں اپنی پنشن کی فکر ستانے لگی۔

“یور ایکسی لینسی، کوئی کیونکر تصور بھی کر سکتا ہے کہ کھانا بھی اپنے اولین مرحلے پر پانی میں تیر رہا ہوتا ہے، فضا میں اُڑ رہا ہوتا ہے یا درختوں سے لٹک رہا ہوتا ہے!”

جنرل صاحب نے جو مچھلیاں، پرندے اور پھل دیکھے تھے، ان کا خیال آتے ہی بولے۔

“لہٰذہ جب کوئی تیتر کھانا چاہے تو پہلے اسے پکڑے، پھر ذبح کرے، پھر اس کے بال و پر اتار پھینکے اور پھر اسے پکائے۔ مگر یہ سب کچھ کیسے کیا جائے؟”

“بالکل! بھلا کیونکر کیا جائے؟” دوسرے جنرل صاحب نے بھی تائید کی۔

“مجھے تو اتنی بھوک لگی ہے کہ میں اپنے بوٹ کا چمڑا ہی کھا جاؤں گا!”

“دستانہ بھی بُرا نہیں ہے!” دوسرے جنرل صاحب بولے۔

“بالخصوص جب وہ پہن رکھے ہوں” اچانک دونوں جرنیلوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ان کی آنکھوں میں ایک چنگاری بھڑکی، دانت بھنچ گئے، ان کے نرخرے سے ابھرنے والی آوازیں منہ سے پھٹ پڑیں اور اگلے ہی لمحے وہ باہم گھتم گتھا، لڑ رہے تھے۔ ان کے کراہنے کی آوازوں اور ٹوٹ کر اڑتے بالوں سے فضا بھر گئی۔ سوءِ اتفاق کہ جو جنرل صاحب کسی زمانے میں اسکول کے استاد رہے تھے، انہوں نے دوسرے جنرل صاحب کے گلے کا تمغہ ہی نگل لیا۔ خیر، جب ایک دوسرے کا خون دیکھا تو دونوں نے ہوش کے ناخن لئے۔

“اس کے بعد تو ہم ایک دوسرے کو کھانے لگیں گے!”

“ہم اس دن تک کیسے پہنچے!”

“یہ ہم کس شیطانی بغض کے جھانسے میں آ گئے تھے!”

دونوں نے ایک دم ہم خیال ہو کر کہا۔

“یور ایکسی لینسی، ہمیں کچھ خوشگوار سوچنا چاہیئے ورنہ ہم قتل کر بیٹھیں گے” دوسرے جنرل نے کہا۔ “مثال کے طور پر آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ سورج پہلے غروب کیوں ہوتا اور بعد میں طلوع کیوں ہوتا ہے بجائے اس کے کہ اس سے برعکس ہوا کرے؟”

“کیا احمقانہ سوال ہے جناب! کیا آپ خود صبحدم بیدار نہیں ہوتے؟ پھر دفتر جاتے ہیں، لکھائی پڑھائی کرتے ہیں اور آخر کار تھک ہار کر آرام کرنے کو گھر آتے ہیں!”

“لیکن جناب اس کے بر عکس کیوں نہ کہا جائے؟ میں پہلے بستر کو جاتا ہوں ناں، نیند میں بھانت بھانت کے خواب دیکھتا ہوں پھر جاگ اٹھتا ہوں”

“شاید جب میں نے سرکاری نوکری کی تھی تو ہمیشہ صبح کو ہی آغاز کے طور پر سوچا۔ پھر شام کا ہونا اور پھر رات کا کھانا اور پھر بستر پہ جانا” رات کے کھانے کے ذکر نے گفتگو کا سلسلہ منقطع کر کے ان کی بھوک کی ٹیسیں تازہ کر دیں۔

“میں نے ایک بار کسی ڈاکٹر سے سُنا تھا کہ انسان محض اپنی جسمانی رطوبتوں پر ہی کئی دن زندہ رہ سکتا ہے” ایک جنرل صاحب نے بات چھیڑی۔

“واقعی؟”

“جی ہاں! اس سے لگتا ہے کہ ایک رطوبت سے دوسری پیدا ہوتی ہے مگر وہ ایک دوسرے کو پی جاتی ہیں اور بالآخر ساری ختم ہو جاتی ہیں”

“پھر؟”

“پھر اس کے بعد انسان کو کچھ کھانا چاہیئے”

درحقیقت اب جرنیل صاحبان جس موضوع پر بھی بات کر رہے تھے، بات کی تان ٹوٹتی تھی آ کر کھانے پر! اور اس سے ان کی بھوک بھڑک اُٹھتی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ باتیں چھوڑیں اور دوبارہ ماسکو گزٹ کی اس کاپی کو تفریح کی خاطر پڑھیں جو انہیں ملی تھی۔

“گزشتہ روز” ایک جنرل صاحب نے لرزتی ہوئی آواز میں پڑھنا شروع کیا۔ “ہمارے تاریخی دارالخلافہ کے گورنر نے ایک عشائیے کا اہتمام کیا جس میں سینکڑوں مہمانانِ گرامی مدعو تھے۔ یوں لگتا تھا دنیا بھر کے باذوق خوش خوراک یہاں دعوت کے اہتمام کیلئے اکٹھے تھے۔ قفقاز کے شاہی تیتر، کیسپیئن کے ساحلوں سے ملنے والی بڑی بڑی مچھلیوں کے انڈوں سے بننے والا لذیذ اچار حتیٰ کہ اسٹرابیری جس کا فروری کے مہینے میں ہمارے شہر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔”

“خُدارا! کیا دنیا میں کوئی اور موضوع نہیں ہے؟؟” دوسرے جنرل صاحب نے مایوسی میں کہا اور اپنے رفیق کار کے ہاتھ سے اخبار لے لیا اور خود پڑھنے لگے۔

“تولا سے نامہ نگار لکھتا ہے کہ دریائے اوپا سے ایک بڑی استرجن مچھلی پکڑے جانے کی خوشی میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ مذکورہ مچھلی کو ایک بڑے چوبی طشت میں پیش کیا گیا اور اس پہ کھیرے کی قاشوں کا ایک پہاڑ تھا جس کی چوٹی پہ ایک ننھا سا پھول گاڑا گیا تھا۔ ڈاکٹر ‘ر’ نے خصوصی تردد سے اس امر کو یقینی بنایا کہ تمام مہمانوں کو ان کا مناسب حصہ ملے۔ چٹنی تو اتنی لذیذ تھی کہ۔۔۔”

“مائی ڈئیر ایکسی لینسی! لگتا ہے آپ بھی بڑی جانبداری سے اخبار پڑھ رہے ہیں!” یہ کہہ کر جنرل صاحب نے دوبارہ اخبار ان سے لے لیا اور پڑھنے لگے۔

“ویاتکا سے ایک نامہ نگار لکھتے ہیں کہ ایک بوڑھے مچھیرے نے مچھلی کی حلیم بنانے کی ایک نئی ترکیب ایجاد کی ہے کہ ایک چپٹی (ٹربوٹ) مچھلی کو مگدر سے اتنا کُوٹیں کہ اس کا کلیجہ غضب سے سُوج کر۔۔۔” اب دونوں جرنیلوں کی حد ہو چکی تھی حتیٰ کہ ان کا اپنا ذہن بھی ان سے بے وفائی کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ لیکن پھر اچانک وہ جنرل صاحب جو کہ خطاطی کے استاد رہ چکے تھے، ان کے ذہن رسا میں ایک بات آئی۔

“یور ایکسی لینسی! کیوں ناں ایک دیہاتی ڈھونڈا جائے! ایک عام دیہاتی! جو بالیقین ہمارے لئے بٹیر اور وہ مچھلیاں پکڑے اور رول بنا کر ہمیں پیش کرنے کی استعداد رکھتا ہوگا”

“بہت خوب! مگر آپ کے خیال میں وہ دیہاتی کہاں سےملے گا؟”

“ارے وہ تو بہت آسان ہے! دیہاتی ہر جگہ پائے جاتے ہیں! اس جزیرے پر بھی ہو گا، بس ہمارا کام اسے تلاش کرنا ہے۔ ممکن ہے وہ یہیں کہیں چھپا ہو، کیونکہ وہ سست اور کاہل ہو گا اور کام چوری سے یہیں چھپ گیا ہو گا!” اس تجویز سے دونوں جرنیل صاحبان کو اتنی مسرت ہوئی کہ وہ اچھل کر اپنی جستجو میں نکل پڑے۔ کافی دیر تک کی ناکام تلاش کے بعد انہیں باسی کھانے کی بساند نے ایک درخت کی طرف متوجہ کیا تو وہ اس جانب گئے جہاں درخت کے نیچے ایک لمبے چوڑے جُثے کا دیہاتی لیٹا تھا اور واضح طور پر، نہایت بے ہودہ انداز میں کام سے جی چرائے سو رہا تھا۔ جرنیل صاحبان غصے سے لال پیلے ہو گئے۔ انہوں نے ایک جھٹکے سے اسے قدآدم کھڑا کر دیا۔

“تُم سو رہے ہو؟ ؟ اور دو جرنیل صاحبان نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا!! چلو اسی لمحے کام پہ لگ جاؤ!”

دیہاتی نے لمحے بھر کو تو فرار ہونا چاہا مگر دو جرنیلوں کے غیض و غضب کو دعوت دینا سنگین غلطی تھی۔

ابتداََ تو وہ درخت پر چڑھا اور جنرل صاحبان کیلئے درجن بھر اچھے اچھے سیب توڑے اور ایک نیم کچا سیب اپنے لئے رکھ لیا۔ پھر اس نے زمین کھود کر کچھ آلو نکالے اور لکڑیوں کی رگڑ والے طریقے سے آگ جلائی۔ پھر اس نے اپنے لمبے بال کاٹ کر ان سے ایک پھندا بنایا اور ایک تیتر بھی پکڑ لیا۔ پھر اس نے یہ چیزیں اس عمدگی سے پکائیں کہ جنرل صاحبان کو یہ خیال بھی آیا کہ اس لذیذ کھانے میں سے کچھ اس کاہل بنجارے کو بھی دے دیا جائے۔ جرنیل صاحبان بھول گئے کہ وہ فاقہ کشی کرتے رہے تھے اور اب وہ اس احساسِ تفاخر سے بھر گئے کہ وہ جرنیل تھے جنہوں نے ہر طرح کے حالات میں اپنی برتری کا سکہ جما لیا تھا۔

“اب آپ مطمئن ہیں جرنیل صاحبان؟” کاہل دیہاتی نے پوچھا۔

“ہم تمہاری کاوش سے مطمئن ہیں پیارے دوست” جرنیلوں نے جواب دیا۔

“تو میں کُچھ آرام کر لوں؟”

“یقیناََ میرے بھلے مانس! مگر پہلے ہمیں ایک رسہ بنا کر دے دو”۔

دیہاتی نے فوراََ کچھ جنگلی پٹ سن اکٹھی کی، اسے بھگویا، اس کے لچھے بنائے اور شام ڈھلے تک وہ ایک رسہ بُن چکا تھا۔ اس رسے سے جرنیل صاحبان نے یہ کارِ خیر کیا کہ اس دیہاتی کو ایک درخت سے باندھ دیا تاکہ وہ کہیں فرار نہ ہو جائے۔ اس کے بعد وہ سو گئے۔ دن گزرتے گئے اور دیہاتی ایسا ماہر ہو گیا کہ کہیئے تو ہتھیلی پر یخنی پکا لے! جرنیل صاحبان خوش باش، صحتمند اور فربہ ہو گئے۔ انہیں احساس ہونے لگا کہ وہ کرہء ارض کے بہترین قطعے پر رہ رہے ہیں جبکہ سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کی پنشن کی رقوم بھی اکٹھی ہو رہی تھیں۔

“یور ایکسی لینسی! یہ مینارِ بابل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ حقیقت ہے یا فقط دیومالا؟”

“یقیناََ سچ ہی ہو گا! ورنہ اتنی زبانوں کا وجود کس کھاتے میں ڈالیں گے؟”

“پھر تو طوفانِ نوحؑ بھی سچ میں آیا ہی ہو گا؟”

“بے شک آیا تھا! کیا ہمیں طوفان سے پہلے کے جانوروں کے وجود کا پتہ نہیں ہے؟ میں نے خود ماسکو گزٹ میں پڑھا تھا”

“چلیں پھر ماسکو گزٹ پڑھتے ہیں”

پھر وہ کوئی پرانا شمارہ لیتے، چھاؤں میں بیٹھ کر اول تا آخر پڑھتے۔ ماسکو اور تولا اور دیگر جگہوں پہ لوگ کیا کھا رہے ہیں، انہیں کوئی فرق نہ پڑتا تھا اور ظاہر ہے کہ رشک تو بالکل بھی نہ آتا تھا۔

لیکن انجامِ کار، جرنیل صاحبان زندگی کی یکسانیت سے اُکتا گئے۔ انہیں خیابانِ سُرخ فیتہ کے خوان اور خانساماں یاد آنے ہی لگے۔ حتیٰ کہ وہ خلوتوں میں آنسو بہانے لگے۔

“یور ایکسی لینسی، آپ کے خیال میں اس وقت خیابانِ سرخ فیتہ میں کیا ہو رہا ہو گا؟” ایک جنرل صاحب نے دوسرے سے پوچھا۔

“اس کا تذکرہ نہ کریں یور ایکسی لینسی” دوسرے جنرل صاحب نے جواب دیا “میرا دل بھلے وقتوں کی یاد میں بے قرار ہو رہا ہے۔ یہاں بڑی آسائش ہے، بہت آسائش۔۔۔ ہم شکوہ نہیں کر سکتے مگر یہ تنہائی تھکا دینے والی ہے۔۔۔ ہے ناں؟ پھر اس پہ یہ کہ مجھے اپنی وردی کی یاد آتی ہے”

“بے شک۔۔۔ اور بالخصوص جب وہ اعلیٰ درجے کی ہو۔۔ اس کے چمکیلے تسمے آنکھوں کو چندھیا دیتے ہیں” سو انہوں نے دیہاتی کو بڑے اشتیاق سے اصرار کیا کہ انہیں خیابانِ سُرخ فیتہ لے جائے۔ انہیں معلوم ہوا کہ وہ دیہاتی بھی وہاں جا چکا ہے۔

“تمہیں پتہ ہے! ہم خیابانِ سرخ فیتہ کے جرنیل ہیں!” جرنیلوں نے لہک لہک کر مسرت کا اظہار کیا۔

“اور میں ایک رنگساز جو کہ گھروں کے باہر لٹک کر رنگ روغن کرتا ہوں اور ایک منڈیر سے دوسری تک مکھی کی طرح اڑ اڑ کر جاتا ہوں، شاید کبھی آپ نے مجھے توجہ سے ملاحظہ فرمایا ہو!” یہ کہہ کر وہ جرنیل صاحبان کی ضیافتِ طبع کیلئے رقص کرنے لگا۔ ظاہر ہے، کیا اُن جرنیلوں نے اُس کاہل بنجارے کے ساتھ شفقت کا رویہ نہیں رکھا تھا؟ اور کیا اس کی معمولی خدمات پر سرپرستانہ مہربانی نہیں فرمائی تھی؟ سو اس دیہاتی نے ایک کشتی بنائی جس سے وہ سمندر پار کر کے خیابانِ سرخ فیتہ پہنچ سکتے تھے۔

“دھیان رہے! ہمیں ڈبو ہی نہ دینا!” جرنیلوں نے لہروں کے دوش پر ایک کمزور سی شے بل کھاتی دیکھی تو چِلا اُٹھے۔

“فکر مت کریں جرنیل صاحبان۔۔ مجھے معلوم ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے!” دیہاتی نے کہا اور روانگی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ دیہاتی نے کشتی کے پیندے میں ہنس راج کے پر بچھائے اور ان پر جرنیلوں کو بٹھا دیا، ان پہ مقدس صلیب کا نشان بنایا اور سفر کا آغاز کر دیا۔ ہر طرح کے طوفانوں، بپھری ہواؤں نے ان کا راستہ کاٹا، جرنیل صاحبان جس خوف سے گزرے، ناقابلِ بیان ہے مگر دیہاتی کشتی کھینے سے پل بھر کو نہ رُکا، ماسوائے اُن وقفوں کے جب وہ اپنے ہمسفروں کو کھلانے کیلئے مچھلیاں پکڑتا تھا۔ بالآخر وہ نیوا پہنچے۔۔پھر نہرِ کیتھرین اور پھر عظیم الشان خیابانِ سرخ فیتہ وارد ہوئے۔

وہاں کے خانساماں اپنے جرنیل صاحبان کو اتنے فربہ، سرخ و سپید اور خوش مزاج دیکھ کر حیرت سے ہاتھ باندھے کھڑے تھے! جرنیل صاحبان نے کافی پی، مکھن کے ساتھ رول کھائے اور پھر اپنی وردیاں زیب تن کیں۔پھر وہ دونوں شاہی خزانے تشریف لے گئے اور قلم لکھنے سے قاصر ہے، زبان بیان سے معذور ہے کہ کتنی خطیر رقم ان دونوں نے وصول کی۔

لیکن ایسا نہیں کہ وہ اپنے غریب دیہاتی کو بھول گئے ہوں! ہرگز نہیں! انہوں نے اسے برانڈی کا ایک گلاس پیش کیا اور چمکتا ہوا پانچ کوپیک کا سِکہ!! ہمراہ ان تعظیمی الفاظ کے:

“تمہارا جامِ صحت! اے عظیم، احمق دیہاتی!”

میخائل سلتیخوف (1826-1889) روسی ادب میں سب سے بڑے طنز نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں جو کہ بنیادی طور پر ایک سول سرونٹ تھے اور نکولائی شیدرن کے قلمی نام سے لکھتے تھے۔ انہوں نے روسی معاشرے میں کرپشن، افسر شاہی کی نا اہلی، قابل لوگوں میں موقع پرستی کے رجحان،جبکہ عوام کی بے حسی اور بے عملی پہ طنز کی گہری چوٹیں کیں۔اس وجہ سے ان پہ حب الوطنی کی کمی کا الزام بھی لگایا گیا مگر انہوں نے روس کے ادبی طنز و مزاح میں ایک روایت کی بنیاد ڈالی جس نے روسی عوام میں طبقاتی کشمکش کے شعور کو ایک نئی راہ پہ ڈالا۔ مترجم ذکی نقوی

Categories
فکشن

چاچا ایلس کدوری (کرم خان مرحوم کی ہسٹری)

[dropcap size=big]کرم خان[/dropcap] مرحوم کا عرفی نام ”ایلس کدوری” بھی ہمارے ہی ذہن کی اختراع تھی جس کی وجہ اتنی ہی بچگانہ سی تھی۔ بات یہ ہے کہ بڑے بھائی صاحب قبلہ دُنیائے دیگر کی عجیب و غریب باتیں بتایا کرتے تھے۔ اپنے قومی مشاہیر میں سے کسی کا ذکر تھا، آپ نے بتایا کہ اُنہوں نے میٹرک ہانگ کانگ کے ایلس کدوری ہائی اسکول سے کیا، ہم نے پوچھا بھیا یہ اسکول کا نام کیسا عجیب سا ہے؟ بتلایا کہ ایلس کدوری اسکول کے ان پڑھ مالک کا نام تھا، ہم دیر تک اسی بات پر ہنستے رہے اور پھر کرم خاں صاحب کا نام چاچا ایلس کدوری رکھ دیا جو کہ اس وقت الکرم گرامر اسکول کے مالک اور پرنسپل تھے اور یہ کوٹ سُکھے خان بلوچ کا پہلا نجی اسکول تھا۔

کرم خان بلوچ ہمیشہ سے چاچا ایلس کدوری نہ تھے۔ ہم ایسے بدتمیز دیہاتی لونڈوں کی ہنسی کا نشانہ بننے سے کئی برس قبل وہ سردار کرم حسین خان بلوچ آف کوٹ سُکھے خان، سابق چئیرمین یونین کونسل کہلاتے تھے۔ اُن کا یہ نام ثقافتی میلوں پر نیزے بازی کے کھیل کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر گونجتا تھا۔ نقابت کے فرائض پر ہمیشہ سے مامور مظہر عباس دُکھی اور فاروق پروانہ تھل اور بار کے ملے جُلے لہجے کی جھنگوچی زبان میں شہسواروں کی حوصلہ افزائی اور شائقین کی ضیافتِ طبع کے لئے جن جملہ شعراء کرام کے ماہیئے اور ‘دوہڑے’ سناتے تھے، ان میں کرم خان صاحب کا کلام بھی شامل ہوتا تھا۔ گھڑسواروں، نیزے بازوں کی بازی میں خاں صاحب کے کلب کے گھوڑے دوڑتے تو کرم خاں صاحب کا نام اور بھی آن بان سے لیا جاتا۔ پکھوُ، پُنوں، مکھنا اور بُلبل اُن کے لاڈلے گھوڑے تھے جو کسی الہڑ اور خوبرو دُلھے کی سی نخوت اور شان کے ساتھ، سجے سجائے میدان کے ایک سرے پر نمودار ہوتے تو شائقین مرعوب ہوئے بغیر رہ پاتے نہ ہی داد میں کمی کرتے۔

یہ علاقہ لسانی اعتبار سے سرائیکی اور پنجابی کی سرحد پر واقع ہے اور غریب اور پسماندہ ہونے کی وجہ سے اسے کسی زبان اور کسی سیاسی گروہ نے نہیں اپنایا، سو یہ ایک ثقافتی بھول بھلیاں ہے جس کے باسیوں کو خود پتہ نہیں کہ وہ کون ہیں؟ اس گمشدگی کا اپنا ایک کلچر ہے۔ یہاں زرعی اور سیاسی طور پر سیالوں کا رُسوخ سکھوں کے دورِ حکومت سے بھی پہلے سے تھا بلکہ سرداری تھی جبکہ موضع جات اور دیہاتوں کے بانی سبھی بلوچ تھے جو سر ڈینزل ابٹسن کے مطابق جو روہی اور بار میں پھیلی پنجاب کی سب سے بڑی ذات تھے۔ کوٹ سکھے خان واحد گاؤں تھا جس کے بانی بھی بلوچ تھے اور سردار بھی وہی۔ جب کوٹ نیازی خان بلوچ، ڈیرہ شاکر خان تتاری، ڈیرہ دریا خان بلوچ، ڈیرہ جلال خان لشاری، کوٹ نصرت خان سیال اور بستی علی خان سیال کے بلوچ زمینداروں اور سرداروں کو دو سے ذیادہ گھوڑے پالنے اور تین تو کیا، ایک دو موٹر کاریں رکھنے کی استطاعت بھی کم ہی ہوتی تھی، اُس زمانے میں بھی کرم خان کے گھوڑے، گھوڑوں کو میلے تک لانے والی لاری، موٹر کار اور پجارو موٹر کا کاروان نیزہ بازی کے میدان میں نوابی دبدبے کے ساتھ آدھمکتا تھا۔

قدمیانہ، رنگت سانولی، بال لمبے اور گھنگھریالے جن کی خوشنما کاکلیں بن جاتی تھیں، آنکھیں خوبصورت اورروشن، اور مونچھیں باریک اور سلیقے سے ترشی ہوئی ہوتیں۔۔۔۔ عام دنوں میں ایک زمیندار اور شاعر کی سی سادگی کے ساتھ ملبوس رہتے۔۔۔ لیکن نیزہ بازی کے کھیل کے دوران کئی میٹر کی طُرے دار اکڑی ہوئی پگڑی، چنٹوں والی آستینوں کی قمیص، لٹھے کی لُنگی اور پاؤں میں پیر محل کے کُھسے انہیں دیگر معزز مہمانوں کی صف میں، جہاں بلاشبہ سیاسی طور پر اُن سے بڑی سیاسی حیثیت کے سردار، اور زیادہ رسوخ کے نواب لوگ بھی ہوتے تھے، نمایاں رکھتے تھے۔ پنچایتوں میں منصفی کرتے اور ہر ایک کے خوشی غم میں دامے درمے شریک ہوتے مگر غرباء کے ساتھ برابری کی سطح پہ آ کر برتتے تھے۔

سردار موصوف کی وضعداری پھر بھی کمال تھی۔ نیزے بازی میں سرپٹ دوڑ کر میدان کے ایک سرے سے نمودار ہوتے ہوئے جھنگ، سرگودھے، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے شہسواروں کی آن بان، اُن کا باری باری ہدف پر جھپٹ کر اس میں نیزہ گاڑنے کے لمحے کا رعب اور پھر اسے اکھاڑ کر نیزے کو گھڑیال کی بڑی سوئی کی طرح دوبار گھما کر، پھر بازو آگے پھیلا کر ‘دکھاوا’ کرنے کا منظر نہایت دلکش اور خون کو گرما دینے والا ہوتا تھا، لیکن جب ”سیکشن” کی دوڑ میں بیک وقت ایک صف میں کرم خان کے چار گھوڑوں کا چھوٹا سا ‘رسالہ’ ایک ہی ہلے میں یہ مظاہرہ دکھاتا تو آنکھوں کے آگے قرونِ وسطیٰ کے شہسواروں کی شجاعت اور پامردی کا نقشہ کھنچ جاتا اور میلہ لُوٹ لیتا۔ اس پر نجانے کتنی دیر تک ڈھول بجتا رہتا اور داد کی واہ واہ ہوتی رہتی۔ کرم خان کا نیزہ گرفت کی جگہ چھوڑ کر، جس پر کَسی ہوئی رنگین ڈوریوں سے دستہ بنایا گیا تھا، اپنی نوک تک اور پیچھے کی ”ڈوڈی” تک منڈھے ہوئے سنہری پیتل کی وجہ سے دور تک لشکارے مارتا تھا۔ خاں صاحب ہمیشہ چار کے سیکشن میں ہدف اکھاڑتے تھے اور ہمیشہ چار مصرعے کی مقامی صنف میں شاعری کرتے جسے ”دوہڑا” کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کئی اشعار نیزے بازی کے شہسواروں کی شان میں کہے اور ہر کھیل میلے کے اختتام پر شہسواروں کو نقد انعام دے کر رخصت کرتے تھے۔ سوار کے لئے الگ انعام اور گھوڑے کے نام کا الگ انعام۔

دلچسپ منظر ان کی اپنی رُخصت (اور آمد) کا بھی ہوتا تھا۔ جب اکثر سردار اور نواب اپنی ستر ماڈل کی ٹویوٹا کاروں، فوجی نیلام سے لی گئی موٹے ترپال کی چھتوں والی بدرنگ جیپوں اور شاہی ہاتھیوں کے جیسے پرتکلف انداز میں آراستہ ہودوں والے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر روانہ ہوتے، کرم خان ان سواریوں سے اونچی اور لمبی ‘پجارو’ میں سوار ہو رہے ہوتے تھے اور ایک عالم انہیں رُخصت کرنے والا (یا استقبال کرنے والا) ہوتا۔ یہ ”پجارو” لگ بھگ لاری کے جتنی بڑی گاڑی تو ہوگی جو فقط الیکشن کے دنوں میں شاہ جیونے کے مخدوموں کے کاروان میں نظر آیا کرتی تھی یا پھر ہمارے علاقے میں کرم خان کے پاس تھی۔ الوداع کہنے والوں کے ساتھ ساتھ ایک ہجوم بڑھ کر گاڑی کو قریب سے دیکھنے کے خواہشمندوں کا بھی دیکھنے کو ملتا۔ دوسرے علاقوں سے آنے والے شہسواروں کی مہمان نوازی اکثر کرم خان کے ڈیرے پر ہوتی تھی اور اس اہتمام سے ہوتی کہ مہمان سوار یاد رکھتے تھے اور دیکھنے والے مثالیں دیتے۔

خان صاحب کی ‘پجارو’ کی طرح ان کی مسکرانے کی ادا بھی ان کے مداحوں کے لئے ایک نظارہ تھی۔ یہ مسکراہٹ کبھی ان کے نیم وا ہونٹوں سے رُخصت ہوتی تھی نہ کبھی ان کے مداح اس سے سیر ہوئے تھے۔ بات کرنے کا لہجہ نہایت دھیما تھا اور بلا کی حسِ مزاح پائی تھی۔ پھر خاں صاحب شرمیلے بھی ایسے ہی تھے جیسے کمال کے شاعر تھے۔ مشاعروں میں وہ کبھی نہ گئے البتہ نجی محفلوں میں شعر کہہ کر محفلیں لوُٹ لیتے۔ ہمارے اُردو کے ایک اُستاد جناب ثاقب عثمانی صاحب انہیں جھنگوچی زبان کا اختر شیرانی کہا کرتے تھے۔ کرم خان کی شاعری کا کاتب ان کا دوست ریاض نائی تھا کیونکہ خان موصوف خود لکھنا نہ جانتے تھے۔ ریاض دس جماعتیں پاس تھا اور بہت خوبصورت جوان تھا۔ کوٹ سُکھے خان کا نائی تھا اور میں نے اسے ایک عرصے تک پٹھان سمجھا۔ خوش شکل ہی نہیں، خوش اطوار اور خوش کردار جوان تھا۔ یہی اوصاف کرم خان نے ہمیشہ اپنے دوستوں میں تلاش کئے لہٰذا کم ہی دوست بنائے، اگرچہ اس کی وجہ کچھ کرم خان کی سادہ مزاجی اور کم آمیزی بھی تھی۔ ان اوصاف کے ساتھ ان کا دولت مند ہونا فقط اس وجہ سے ممکن تھا کہ انہیں یہ سارا ٹھاٹ باٹھ اپنے والد، محمد خان بلوچ مرحوم اور نانا سردار سرخرو خان نواب آف کوٹ مبارک سیال سے ملا تھا۔ کرم خان کی سادہ مزاجی، مروت، دوست پروری اور دریا دلی ان کی دولت کے لئے ایک خطرہ تھی کیونکہ نئی صدی اب وقت کی دہلیز پہ دستک دے رہی تھی اور معزز ہونے کے میعارات بدل رہے تھے۔ آس پاس سے سادہ مزاجی، قناعت، بے لوث محبت، مروت اور بندہ پروری رخصت ہورہی تھی اور سب سے بڑی بات حُسن، جو کرم خان کے نزدیک کائنات کا محور و مرکز تھا اور حسن کی پرستش مقصدِ حیات، یہ دونوں چیزیں اپنے مفہوم بدل رہی تھیں اور بڑے قاتل بہروپ بھر رہی تھیں۔

[dropcap size=big]خان صاحب[/dropcap] حُسن کے شیدائی تھے اور حُسن و عشق کی حد تک تو ذات پات کے قائل بھی نہ تھے۔ ایک دفعہ گلی میں سر پر چھابہ اٹھائے ایک بنجارن کو چوڑیاں بیچتے دیکھا۔ سانولے رنگ کی بنجارن کے دنداسے سے چمکتے دانتوں سے منور ایک ہی مسکراہٹ نے خان صاحب کو چونکا دیا۔ قریب آکر دیکھا تو بلا کی حسیِن نکلی۔ ہم تھل باسیوں میں ابھی سانولے رنگ کی قدردانی کا زمانہ باقی تھا۔ کرم خان نے پوچھا،

”یہ سب چوڑیاں کتنے میں بیچو گی؟”
بنجارن بھی شاید مردم شناس تھی، بولی؛
”جب ساری کی ساری چاہیئیں تو دام کیسے؟”

خاں صاحب اس جواب سے بڑے خوش ہوئے مگر جب پاس سے گزرتی عورتوں نے مکالمہ سُنا تو رُک گئیں، خان صاحب بدحواس سے ہو گئے۔ جس زمانے میں وہ ساری کی ساری چوڑیاں ڈیڑھ سو روپئے سے زیادہ کی نہ ہوں گی، خان صاحب نے پانچ سو روپئے کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور ساری چوڑیاں اپنی ڈیوڑھی میں رکھوا لیں۔ ان کے اپنے گھر میں تو کوئی پہننے والا نہ تھا، سو اسی شام یہ چوڑیاں ہمسائے اور آس پاس کی بچیوں، کمسن لڑکیوں میں بانٹ دیں۔ عورتیں بھی چھیڑنے کو پوچھتی رہیں، ”بھائی کرم خان کتنے کی لیں؟ کہاں سے لیں اتنی پیاری چوڑیاں؟”

ہم، کہ کرم خان صاحب کے زوال ہی کو دیکھنے والی نسل ہیں، یہی سوچتے تھے کہ اپنی دولت اور رسوخ کے عروج کے زمانے میں خان صاحب خاصی شکل و صورت کے جوان ہوں گے اور یقیناً حُسن کی دیوی بھی ان پر مہربان ہوئی ہو گی۔ چاچا ریاض نائی کے بقول ”کیوں نہیں!!!”۔ اپنے عروج اور جوانی کے زمانے میں خان صاحب کو دریا پار کے ایک سردار قبیلے کی ڈاکٹرنی سے عشق ہو گیا۔ خان صاحب نے فقط اس کے دیدار کی خاطر خالق پور کے دیہی مرکزِ صحت کے اتنے چکر لگائے کہ وہاں کے لوگ ان کی ولیز جیپ کا وہاں اس تواتر سے آنا نظرانداز نہ کر سکے اور چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ وہاں کا نمبردار خان صاحب کا دوست تھا۔ اور بعد از خواریء بسیار ڈاکٹر صاحبہ سے ملاقات کی سبیل نکلی۔ خاتون بڑی باوقار اور بااعتماد تھی۔ جب دوسری ملاقات میں کچھ بے تکلفی کی فضا بنی تو کہنے لگیں؛

”خان صاحب میں امیر گھرانے سے تو ہوں مگر امیروں کے سے ٹھاٹ باٹھ مجھے متاثر نہیں کرتے، بلکہ”
ڈاکٹر صاحبہ ہنسیں،
”آپ کی جیپ سے تو مجھے ڈر لگتا ہے”

ڈاکٹر صاحبہ نے تو مذاقاً کہا مگر اگلی ملاقات میں بھولے بھالے کرم خان نے دریا تک گھوڑے پر سفر کیا، پھر اسے ملاحوں کے حوالے کرکے کشتی سے دریا پار کیا اور خالق پور تک چار پانچ میل پیدل چل کر گئے تو ڈاکٹر صاحبہ کا دل پسیجا۔ ڈاکٹر صاحبہ کا دل چند ایسے ہی واقعات میں خان صاحب پر لہرایا کہ شکل و صورت کا یہ بھولا بھالا سا امیرزادہ اندرون سے بھی کھرا اور مخلص آدمی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کے دل میں کرم خان کے لئے جو جگہ بن چکی تھی، اب وہ پختہ ہونے لگی۔ جب ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا اور خان صاحب کے جذبہء دل کو قبولیت ملی تو اس خاتون نے بھی خوب نباہی۔ ڈاکٹر صاحبہ کا تبادلہ کرم خان کے اصرار اور اثر و رسوخ کی بدولت بآسانی کوٹ سُکھے خان بلوچ کے دیہی مرکزِ صحت میں ہو گیا جو کہ ”سرکاری ہسپتال” کہلاتا ہے۔

ان دنوں کا ایک قصہ مشہور ہے۔ ایک روز جاڑے کی شدت عروج پہ تھی اور بارش بھی شدید تھی، ڈاکٹر صاحبہ گھر واپس نہ جا سکیں تو رات ہسپتال ہی ٹھہرنا پڑا۔ ہسپتال کی دایہ جو اُن کی ہم راز بھی تھی، رات ڈاکٹر صاحبہ کے پاس شب بسری پر مامور تھی، کرم خان کے پاس خبر لے کر آئی تو خان صاحب نے اُسی کے ہاتھ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے ہاں رات کے کھانے کی دعوت دے دی۔ خان صاحب کی اہلیہ وفات پا چکی تھیں اور ایک ننھی سی بیٹی تھی جو اکثر ننھیال میں رہتی تھی سو گھر پہ سوائے نوکروں کے کوئی نہ تھا۔ اُنہوں نے شام ہوتے ہی نوکروں کو چھٹی کروا دی اور باورچن سے کہا کہ وہ بھی کھانا پکا کر چلی جائے۔ رات پھیلے سے جب باورچن چلی گئی تو ساتھ ہی ڈاکٹر صاحبہ آ گئیں۔ خان صاحب نے خُود کھانا لگایا اور خود ہی آفتابے بھر بھر معزز مہمان کے ہاتھ پاؤں دھلوائے اور خُوب مدارات کیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کو بھی دلبری کے سارے انداز خؤب آتے تھے، اُنہوں نے بھی خان صاحب کے والہانہ پن کا دل رکھا۔ اب پریشانی یہ لاحق ہوئی کہ ڈاکٹر صاحبہ شہر کی تھیں اور کھانے کے بعد اُنہوں نے چائے کی فرمائش کر دی جبکہ خان صاحب نے باورچن کو چائے کے لئے روکا ہی نہ تھا، اس طرف اُن کا دھیان ہی نہ گیا تھا۔ اب بارش بھی اتنی شدید تھی کہ کوئی اور چارہ نہ تھا، خان صاحب خُود توشہ خانے میں گئے، دودھ، چائے کی پتی اور گُڑ نکالا، چائے بنانے لگے تو دیکھا کہ چولھے میں راکھ بُجھ چُکی تھی اور نوکر جانے کی جلدی میں جلانے کا ایندھن اور اُپلے باہر کُھلے میں چھوڑ گئے تھے جو مکمل طور پر بھیگ چُکے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بڑے بڑے زمینداروں کے گھر سادہ اور اکثر کچے ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنی امارت کی نمود و ونمائش زیادہ تر ڈیرے، بیٹھک پر ہی کرتے تھے جس کا میعار عموماً مویشیوں کی تعداد ہی ہوتی اور یہ ڈیرے، تھان اکثر گھروں سے دور، کھیتوں زمینوں میں اور گاؤں سے ذرا ہٹ کر ہوتے تھے۔ ان کچے گھروں پر گارے کا لیپ اور نقش و نگار کا سلیقہ بھی ہر گھر کا اپنا ہی ہوتا تھا جس میں عموماً خاتونِ خانہ کی حسِ جمال کا اظہار ہوتا تھا۔ منڈیروں پر پھول بوٹے، طاقچوں کی کناریوں پر بنائے گئے نقش یا کبوتر، مور، تتلیاں وغیرہ عموماً مقامی طور پر تیار کئے گئے رنگوں سے رنگین کئے گئے ہوتے تھے۔ چونے کا استعمال ابھی یہاں عام نہ ہوا تھا۔ اب خان صاحب پکانے کے کمرے میں جلانے کے لئے کچھ تلاش کررہے تھے، کوئی خُشک اور جلانے کے قابل چیز نہ ملی، دو چار خشک پارچے تو ضرور ملے لیکن ان کے جلانے سے ان کی بدبو چائے میں مل جانے کا خدشہ تھا۔ بارش کی شدت نے باہر جا کر کچھ ڈھونڈنے کا امکان بھی خبط کر دیا۔ گھر میں کلامِ مجید کے سوا کوئی کتاب نہ تھی کہ خان صاحب موصوف ان پڑھ تھے۔ کاغذ کی مد میں فقط جائیداد کی دستاویزات ہوا کرتی تھیں مگر کچھ دنوں سے چوری وغیرہ کے ڈر سے امانتاً وہ بھی اُنہوں نے اپنے چچا برخوردار خان کے گھر رکھ چھوڑی تھیں۔ اب سوچا کہ کسی مونڈھے یا کرسی کو کاٹ کر جلا ڈالاجائے مگر بہت تلاش کے باوجود کلہاڑی نہ ملی۔ مسئلے کا کوئی اور حل بھی نکل سکتا ہوگا مگر اب جو کرم خان کے جذبہءِ محبت نے جوش مارا تو سامان کے کمرے میں آئے، اپنے ذاتی ٹرنک کا تالا کھولا۔ اس میں سو سو، پچاس پچاس، اور دس دس، پانچ پانچ روپے کے نوٹوں کی گڈیاں رکھی تھیں۔ یہ کل ہی بیچی گئی بھینس اور گیہوں غلے کی مد میں وصول ہونے والی بھاری رقم تھی اور ہنوز شہر جا کر بینک میں جمع نہیں کروائی گئی تھی۔ اُس زمانے میں سو پچاس بھی خاصی رقم کی رقم تھی۔ خان صاحب نے نسبتاً نئے نوٹوں کو جو دیا سلائی دکھائی تو وہ الگ الگ جلنے لگے۔ باورچی خانے کے کمرے میں آئے اور پھر خان صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، نوٹ جلنے لگے، چائے پکنے لگی۔ ادھر ڈاکٹر صاحبہ کو جو فکر لاحق ہوئی کہ خاں صاحب نے چائے منگوانے میں کیوں تاخیر کر دی؟ دیکھتی بھالتی توشہ خانے کے کمرے میں آئیں اور یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔

”کرم خان، رُک جائیے، یہ کیا کر رہے ہیں؟”
ڈاکٹڑ صاحبہ نے انہیں منع کیا تو خان صاحب لمحے بھر کو رُکے پھر ہنس کر جواب دیا؛

”یہ غریب شاعر اپنے محبوب کی مہمان نوازی کے کہاں قابل ہو سکتا تھا، دیکھیئے، جلانے کی لکڑی تک نہ تھی آج گھر میں۔۔۔”

یہ کہہ کر دوبارہ چولہے میں نوٹ جھونکنے لگے۔ سو پچاس کی گڈیاں کم تھیں جلدی پھنک گئیں، اب دس اور پانچ والی گڈیاں تھیں۔ تب پانچ روپئے کا نوٹ آج کے ہزار والے سے چوڑا ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ خاموش کھڑی دیکھنے لگیں۔ چائے غالباً دوسری یا تیسری دفعہ ‘اُبھری’ تو خان صاحب نے اُتار کر چینک میں ڈالی۔ ڈاکٹر صاحبہ مہمان داری کے کمرے میں آبیٹھیں اور خموشی سے رنگین مونڈھے پر بیٹھی چائے پینے لگیں جو ساتھ ہی خان صاحب لے کر آن پہنچے تھے۔

”معاف کیجئے گا اگر اچھی نہ بنی ہو، مجھے چائے بنانے کا سلیقہ نہیں”

کرم خان نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو ڈاکٹر صاحبہ کے ہونٹوں پر ایک دلبرانہ سی مسکراہٹ نمودار ہوئی مگر چُپ رہیں۔ اسی اثناء میں بارش تھمی اور ڈاکٹر صاحبہ کے جانے کا قصد ہوا تو کرم خان متفکر تھے اور ڈاکٹر صاحبہ بھی بدستور خاموش تھیں۔
”آپ چُپ کیوں ہیں میرے سردار؟”
کرم خان نے پوچھا۔ اس قصے کے راوی چاچا ریاض نائی بتاتے ہیں کہ خان صاحب کو جس کسی سے بہت محبت ہوتی اُسے ‘میرا سردار؛کہہ کر پکارتے تھے حتیٰ کہ گھوڑوں میں بھی ‘دلبر’ جو انہیں بیحد پیارا تھا اور کافی پہلے مر گیا تھا، اُسے بھی اکثر پچکارتے ہوئے کہتے تھے، ”مزاج کیسے ہیں میرے سردار؟”

”خان صاحب! دس ہزار تو جلا دئیے ہوں گے آپ نے۔۔۔ میں فقط پانچ ہزار کی تنخواہ دار سرکاری ملازم ہوں، مجھ پہ اس مظاہرے کا رعب طاری رہے گا!” ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی شال سمیٹ کر روانگی کا خاموش اعلان کرتے ہوئے مسکرا کر کہا تو کرم خان کی آنکھ میں آنسو بھر آئے۔

”اسے دولت کی نمائش سمجھیں یا عقیدت کا اظہار، آپ کو اختیار ہے میرے سردار۔۔۔”

یہ کہہ کر انہوں نے ڈاکٹر صاحبہ کے جوتے اٹھا کر ان کے پاؤں کے سامنے سیدھے کر دئیے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے جوتے پہنے اور اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ خان صاحب انہیں واپس ہسپتال چھوڑ آئے۔ اب اس سوال کا جواب چاچا ریاض کے پاس ہے نہ کسی اور شناسا کے پاس کہ اس واقعے کے بعد ڈاکٹر صاحبہ کا کرم خان سے نہ تو کوئی ربط کوئی تعلق رہا نہ کوٹ سُکھے خان آنا جانا ہوا تواس کی کیا وجہ تھی؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بے رُخی کا شکوہ کرم خان نے کبھی کسی دوست سے کیا نہ اپنی شاعری میں۔ البتہ اس کے بعد کی شاعری میں جو درد اور سوز ظاہر ہوا، کمال تھا۔ ہماری بولی کے ایک لوک گائیک جو ریڈیو اور ٹیلی وژن پر بڑے مشہور ہوئے اور لاکھوں میں ان کے کیسٹ ریکارڈ فروخت ہوئے، اکثر کرم خان کے اشعار گایا کرتے تھے جو فقط محبت، دوستی، جانثاری، وفاشعاری، تسلیم و رضا اور حُسن کی حکمرانی کے موضوع لئے ہوتے۔

[dropcap size=big]ڈاکٹر صاحبہ[/dropcap] کے چلے جانے کو کرم خان کے زوال کی وجہ تو نہیں کہا جا سکتا لیکن ان کے زوال کی کرونالوجی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اُنہوں نے وہ ولیز جیپ اور پجارو آئندہ دو ایک سالوں میں ہی بیچ ڈالیں اور سفر کے لئے کبھی کبھار وہی کار استعمال کرنے لگے جو ان کے چچا جان اور کم سن بیٹی کے لئے مختص تھی۔ دو تین موسم ایسے ہی گزر گئے تو جاڑوں کی کسی رات میں کوٹ سُکھے خان کے ایک دُکاندار حاجی یار محمد کمہار کی دُکان سے کچھ سامان چوری ہو گیا جس میں ریاض نائی کا چھوٹا بھائی حیات نائی ملوث تھا یا اس پر شبہ تھا۔

جب تھانے میں کارروائی ہونے لگی تو یار محمد کمہار نے کرم خان کا نام بھی درخواست میں ڈلوا دیا۔ برسوں پہلے کرم خان نے کسی پنچایت میں یار محمد کمہار کے خلاف فیصلہ سنایا تھا جس کا کینہ نکالنے کا موقع اب اسے حیات نائی کے ذریعے مل گیا تھا کہ حیات نائی اپنے بڑے بھائی ریاض کو بیحد عزیز تھا اور اسی وساطت سے کرم خان کا بھی خوب نیازمند تھا۔ پہلے تو تھانیدار نے پس و پیش سے کام لیا کہ اُس نے کرم خان کو ایم این اے اور ایم پی اے سطح کے لوگوں کے ہاں مہمان ہوتے ہوئے بھی دیکھ رکھا تھا لیکن پھر حاجی یار محمد نے میاں غفار شاہ کے توسط سے تھانیدار کو قائل کر لیا۔ حالیہ الیکشن کے بعد ایک کرم خان پر ہی کیا موقوف، سبھی بلوچوں کا اثر و رسوخ پہلے سا نہ رہا تھا۔ کرم خان اب مھض ایک ڈھلتے ہوئے زمیندار اور ایک ”عاشق مزاج” شاعر کے سوا تھا ہی کیا، وہ مہمانداریاں اور وہ رسوخ اب قصہ ہائے پارینہ پن چکی تھیں۔ تھانیدار کو بات سمجھ آ گئی۔ حیات نائی نے تھانے میں ایک رات کی ”مہمان نوازی” میں ہی چوری تسلیم کر لی اور اقبالی بیان کے لئے خالی کاغذ پر انگوٹھا بھی لگا دیا۔ اب ریاض نائی کی شامت آئی۔ غرض تھانیدار، محرر، تفتیشی اور ہر اس شخص جس کا تعلق تھانے کی کسی کارروائی سے تھا نے کرم خان کو اس تمام کھیل میں ناصرف خُوب رگیدا بلکہ پیسے بھی خُوب اینٹھے۔ خان صاحب کو ایک تو اپنی عزت ناموس کا خیال تھا کہ ایک کمہار کی مدعیت کی وجہ سے اگر ایک بار بھی کچہری جانا پڑ گیا تو بھلے بعد میں بری بھی ہو گئے تو بھی ساری ساکھ اور عزت کی فوج پلٹن ہو کر رہ جائے گی۔ دوسرا وہ نہیں چاہتے تھے کہ ریاض یہ سمجھے کہ اُس کے معاملے میں خان صاحب نے پیسے کو عزیز تر رکھا۔ تھانوں کی اکنامکس میں ایسے سفید پوشوں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ خیر، تھانیدار صاحب کو بالآخر اندازہ ہو گیا کہ حاجی یار محمد کمہار کی دی گئی رشوت بہرحال ایک بے قصور اور معزز زمیندار کو تادیر رگیدنے کے لئے کوئی معقول معاوضہ نہیں ہے۔اس نے فریقین کو پابند کیا کہ مسئلہ پنچایت میں حل کریں اور اور پرچہ کاٹنے کے بجائے خارج کر دیا۔

مسئلہ پنچایت میں فیصل ہوا، حیات نے چوری کا سامان لوٹا دیا، جرمانہ ہرجانہ بھی دینے پر رضامند ہو گیا۔ ریاض نے کلامِ مجید پر قسم دے دی جبکہ خان صاحب کو اور تو کچھ نہ کہا گیا مگر جب یار محمد کمہار کے مدعا علیہہ کے طورپر پنچایت میں بیٹھے تو پھر وہ وقار اور دبدبہ علاقے میں نہ رہا، جگ ہنسائی اور کاناپھوسیاں تو فطری امر تھیں۔ چھوٹی چھوٹی حیثیت کے ٹھگ، لُچے، مقدمے باز اور ٹاؤٹ بے تکلف ہونے لگے اور اُن پر سے خان صاحب کا رعب جاتا رہا۔ ڈاکٹرنی کا قصہ تو برسوں سے زبان ذدِ خاص و عام تھا اب نائیوں اور کمہاروں کے تنازعے میں پارٹی بن کر اور بھی سبک ہوئے۔ نائی تو اپنا یار تھا ان کا، رہی بات کمہار کی، تو وہ بھی ایسی تشویش کی بات نہ تھی مگر کمہاروں نے خود اس معاملے کی تشہیر کی۔

اصل خرابی یہ ہوئی تھی کہ دریا پار کے میدانی علاقے کا کوئی متوسط سا زمیندار کچھ سال قبل یہاں آکر صحرا نشین ہوا تھا۔ وہاں کے میراثیوں میں سے تھا مگر یہاں آ کر پہلے میاں کہلانے لگا اور سفید پوشی اور وضعداری اور معززینِ علاقہ کی خوشامد میں کمال حاصل کیا، پھر ہاشمی بن گیا۔ پہلے تو سال بھر خوب لعن طعن کا مورد ٹھہرا پھر لوگ طنزاً اسے شاہ صاحب کہنے لگے۔ اب جبکہ اس کا کاروبار بڑھا اور کسی سیاستدان کا چمچہ بنا تو پانچ سات سال کے اندر ہی پوری جلالت مآبی سے سید کہلانے لگا۔ یہاں کے جو نسبی سید اُردو بان مہاجر تھے، وہ تھے تو پڑھے لکھے مگر سیلانی سی طبیعتوں کے نیم پاگل سے لوگ ہونے کی وجہ سے اتنے غریب اور کنگال تھے کہ ڈٹ کر اس سے لڑ بھی نہ سکے، آخر لے دے کے ان کے پاس بھی تو وہی ناموس ہی بچی تھی۔ ان کے بڑے بزرگ باوا گُل حسین شاہ نے تھانے میں میاں غفار شاہ کے خلاف درخواست بھی دی لیکن بے سود۔ کرم خان نے ان کا ساتھ دیا کہ چار پشتوں سے انہی کے مرید تھے مگر اب ان کا سورج بھی ڈھل چُکا تھا؛ غفار شاہ کو اس بات کا غم و غُصہ تب سے تھا۔ مرحوم محمد خان بلوچ اور برخوردار خان بلوچ نے ایک معقول قطعہ ء اراضی باوا گُل حسین شاہ کو مدتوں پہلے نذرانہ کیا تھا جسے وہ تب سے کاشت کررہے تھے اور ان کی گزران اسی آمدن سے تھی۔

بلدیاتی الیکشن ہوئے تو کرم خان صاحب نے ان الیکشنوں میں چئیرمین کی نشست کے لئے دوبارہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دئیے کہ شاید اسی سے کچھ ساکھ بحال ہو۔ ان کے مقابلے میں کوئی ٹکر کے نواب زمیندار بھی ہوں گے مگر امید افزا بات یہ تھی کہ کوٹ سُکھے خان بلوچ کے آس پاس میں بلوچ آبادی کم نہ تھی اور سیاسی طور پر اب بھی بطور قبیلہ ان کا ووٹ بینک بھاری تھا۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا مگر پھر خرابی یہ ہوئی کہ میاں غفار شاہ نے عدالت میں یہ درخواست دے دی کہ کرم خان اکہتر کی جنگ میں فوج سے بھگوڑا ہو گیا تھا، اس کی اہلیت مشکوک ہے۔ کرم خان نے جج کے سامنے پیش ہو کر یہ بتایا وہ ایک امیر گھرانے کے اکلوتے بیٹے تھےاور ساری آسائشیں چھوڑ کر اور ماں کی مرضی کے خلاف سترہ سال کی کچی سی عمر میں بھرتی ہوئے تھے۔ بنگالے کی قید سے لوٹے تو ماں انتظار میں مرچکی تھی۔ بس اسی بات پہ دلبرداشتہ ہو کر دوبارہ نوکری پر نہ گئے اور یہ ان کی زندگی کا ایسا تلخ تجربہ تھا کہ اس کا ذکر کبھی کسی سے نہ کیا۔ رانچی میں ہلالِ احمر کے توسط سے ملنے والا ماں کا آخری خط جج کے سامنے رکھا تو اُن کی بھی آنکھ بھر آئی۔جج صاحب نے کہا؛ بلوچ صاحب مجھے آپ کی نیک نیتی پہ کوئی شک نہیں، مادرِ وطن ہو یا مادرِ مہربان ہو، دونوں کی محبت میں انسان کچھ بھی کربیٹھتا ہے لیکن بہتر ہے کہ آپ کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیں ورنہ مجھے ویریفیکیشن کا کیس رجمنٹل سنٹر بھیجنا پڑے گا۔

خان صاحب نے میاں صاحب کو پیغام بھجوایا کہ وہ اس بے ہودگی کا بدلہ ضرور لیں گے۔ مشورہ دینے والوں نے کہا کہ میاں صاحب دھیان رہے، کرم خان کا غُصہ کئی برسوں میں ایک ہی دفعہ دیکھنے کو ملاتھا مگر کوٹ سُکھے خان کی ہر دیکھنے والی آنکھ کو آج بھی یاد تھا۔ خیر، گذشتہ را صلوات، الیکشن کے بعد میاں غفار شاہ ہاشمی جونہی یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے، اُنہیں خیال آیا کہ اب ایک تیر سے دو شکار کیے جائیں۔ میاں صاحب نے اب باوا گُل حُسین شاہ کے قطعہ ء اراضی میں واقع کیکر کا ایک بڑا سا جھنڈ کٹوا کر راتوں رات اس پر ہل چلوا دئیے۔ صبحدم جب اس بر ‘بِجائی’ ہو رہی تھی تو فساد برپا ہو گیا۔ سید تو تعداد میں اتنے نہ تھے، مگر بلوچوں کے نوجوانوں نے ڈنڈے بلم کھینچ لئے اور خُوب سر پھٹول ہو گئی۔ سرفراز خان بلوچ علاقے کے آخری بلم بازوں میں سے تھا اور اس وقت بہتر سال کا بوڑھا تھا، اُن نے جو بلم کھینچا میاں غفار شاہ کے چھوٹے سالے کو اچار کی ڈلی کے مانند پرو کر رکھ دیا۔ اُدھر میاں غفار شاہ کو کچھ اور نہ سوجھی تو دفعہ سات اکیاون کی درخواست تھانے میں دے دی اور ساتھ ہی گرفتاری پیش کر دی۔ پولیس کو چارہ نہ تھا سو کرم خان اور باوا گُل حسین شاہ کو بھی گرفتار کر کے تھانے لے گئی اور دن بھر تھانے میں رکھ کر شام کو چھوڑ دیا کہ میاں صاحب خود ہی پنچایت کرنے پر راضی ہوگئے۔ پھر بھی زمین پر دعوے کی دیوانی کی کارروائی کئی سال عدالت میں چلتی رہی۔ پھر فوجداری بھی اس طرح شامل ہو گئی کہ میاں صاحب کا سالا زخموں سے وہ چُور ہوا کہ مہینہ بھر صاحبِ فراش رہ کر مر گیا۔ میاں غفار شاہ نے کسی مصلحت کی بنا پر اس کا پرچہ ریاض نائی پر کروا دیا اور کرم خان کو مشاورتِ قتل کے زمرے میں شامل کیا جس کی پیروی ریاض کی طرف سے بھی کرم خان کے وکیل نے کی۔ آئے روز کئی چھوٹے بڑے جھوٹے مقدمات میاں صاحب ان کے علاوہ کرواتے رہتے تاکہ خان صاحب دم نہ لینے پائیں۔ پنجابی زمیندار کی سب سے بڑی دشمن کچہری ہے۔ ان سالوں میں کرم خان کے گھوڑوں والی لاری بِکی، پھر گھوڑے بکے اور گائے بھینسوں کا باڑہ بھی گھٹتا گیا۔ پہلے کبھی جو لوگ کرم خان کی املاک خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے مگر انہیں خریدنے کا حوصلہ نہ پڑتا تھا، اُنہی نے اب یہ تمام املاک بھی خرید لیں۔ پُنوں، پکھُو، مکھنا اور بُلبُل اب یا تو چھوٹے شوقینوں کی سواریاں تھے یا تانگوں کی مشقت میں ذلیل ہو رہے تھے۔

[dropcap size=small]زمانے[/dropcap] کا چلن بھی تیزی سے بدل رہا تھا۔ ہماری دیسی رہتل میں ذات پات کا نظام ختم تو ہرگز نہیں ہوا تھا لیکن غریب اور چھوٹی ذاتوں کے لوگوں میں اس بدبودار نظام کے طوق کو اپنے گلے سے نکال کر کسی اور ڈوبتے ہوئے کے گلے ڈال دینے کا حوصلہ آرہا تھا۔ وہ تعلیم بھی حاصل کررہے تھے اور دن رات پیسہ جمع کرنے میں بھی جُتے ہوئے تھے۔ جہاں تعلیم انہیں چھوٹی ذاتوں والے فرسودہ خیال کی قید اور احساسِ کمتری سے نکال رہی تھی، وہاں کئی ایک کو دولت یہ اعتماد بخش رہی تھی کہ ماضی کے اشراف اور نجیبوں کی توہین و تضحیک کر کے یک گونہ سرور اور لُطف حاصل کریں اور اپنے آباء و اجداد کی توہین و تضحیک کے انتقام کا فریضہ بھی ادا کریں۔ شاید قدرت کا انصاف اسی میں مضمر تھا لیکن یہ جو کرم خان کی توقیر اور دبدبہ گھٹتا چلا گیا، وقت کی اس نا انصافی کا شکوہ اب اُن کے شعروں میں بھی ملتا تھا۔ اُن کے ایک چہار مصرع شعر کا مفہوم:
”اعلیٰ نسلوں کے گھوڑے گھائل ہوئے اور بِجُو اُن کے سروں پر سوار ہوگئے، نجیب ہار گئے اور بداصل لوگ حکمران بن گئے۔ لیکن کرم خاں! اُن سے کہہ دو کہ گیدڑ اگر شیر کا خُون پی بھی لے تو شیر کا خُون اس کی رگوں میں نہیں دوڑے گا!”

لیکن کرم خان کے ایک قدر دان، ہمارے اُردو کے اُستاد جناب عثمانی صاحب کے بقول کرم خان ٹھہرے بھولے آدمی، وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ اشراف اور کمین ہونا کوئی بائیولوجی کا سوال نہیں بلکہ سوشیالوجی کا سوال ہے۔ پروفیسر صاحب کے خیال میں انہی ٹُچوں، ٹاؤٹوں، مقدمے باز ٹھگوں، لُچوں اور بدمعاشوں کے پاس دولت آئے گی تو ان کی اگلی نسل کے پاس تعلیم بھی آئے گی تو تعلیم کی برکت سے اُن میں شرفاء والے اوصاف بھی آجائیں گے پھر کسے خبر کہ کرم خان کی اولاد اور قبیلے میں سے غریبی اور تنگدستی کے باعث آئیندہ ایک دونسلوں میں لُچے اور کمینہ سوچ کے لوگ سر اُٹھالیں۔

خیر کرم خان کی دولت، جاگیر جائیداد گھٹی تو میاں غفار شاہ ہاشمی صاحب کا ستارہء اقبال بلند تر ہونے لگا اور انہوں نے اپنے ٹُچے چمچے نوازنے شروع کر دئیے اور وہ بھی اب لٹھے اور دو گھوڑا بوسکی کے کپڑے پہن، طرے دار پگڑیاں باندھ پنچایتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے لگے اور سَتھی سر پنچ بن کر جھوٹ کا ساتھ دینے لگے۔

قدرت نے ایک کرم بہرحال کرم خان پر ضرور کئے رکھا کہ اُن کی حسِ مزاح اور اعلیٰ ظرفی میں ان ابتلاء اور آزمائش کے برسوں میں بھی کوئی لغزش نہ آئی۔ ان دنوں ڈیرہ شاکر خان تتاری کے لونڈوں نے ایک بڑی سنجیدہ شرارت کی۔ ڈیرہ ایک بڑا قصبہ تھا جو کہ تقسیم سے پہلے تو شہر کا شہر رہ چکا تھا اور کوٹ سُکھے خان سے دس ایک میل کی مسافت پر تھا، وہاں کی ٹیم چند دن پہلے کبڈی کے ایک کھیل میں ہاری تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس میں کوٹ سکھے خان والوں نے امپائر منصف کے ساتھ ساز باز کی تھی اور اس پر سخت نالاں تھے۔ڈیرے میں انہی دنوں میں اچانک آوارہ کُتوں کی بہتات ہو گئی اور لوگ عاجز آگئے کہ آئے روز کسی بھیڑ بکری کو کاٹ لیتے یا راہگیروں کو ستاتے تھے۔ ایک رات وہاں کے لڑکے بالوں نے کیا حرکت کی کہ سارے آوارہ کُتوں کو پکڑ کر ایک لاری میں ڈالا اور کوٹ سکھے خان بلوچ چھوڑ کر واپس بھاگ گئے۔ اگلے ہی روز کوٹ سکھے خان کے لوگوں کو اس حرکت کا اندازہ ہوا اور یہ خبر بھی کہیں سے مل گئی کہ یہ حرکت کس کی ہے۔ کرم خان کے ڈیرے پر بات چھڑی تو لوگوں نے کہہ دیا کہ خان صاحب اس مسئلے کا حل نکالیں کہ ڈیرے کے عوام کو کیونکر سبق سکھایا جائے۔ خان صاحب نے کوٹ سکھے خان کے چند شریر لڑکوں کو بُلا کر حُکم دیا کہ ڈیرے سے آنے والے تمام آوارہ کُتوں کو بلکہ اپنے گاؤں کے بھی جو پکڑے جاسکیں، پکڑا جائے۔ خان صاحب نے ریاض نائی اور ایک دور کے بھانجے بھتیجے کی مدد سے گتے کے کئی بورڈ بالشت بالشت کے، بنوائے اور ان پر ایک خوشنما تحریر لکھ کر تمام کُتوں کے گلے میں لٹکانے کا حُکم دیا۔ رات ہوتے ہی ان سب کو ایک ویگن میں لاد واپس ڈیرہ شاکر خان تتاری بھجوا دیا گیا۔ اگلی صبح وہاں ہر گلی کوچے میں آوارہ کُتوں کے گلے میں یہ تحریر لٹکی نظر آئی،
”مژدہ ہو اہلِ ڈیرہ، ہم واپس آگئے!”
اور جہاں ڈیرے کے لوگوں کو ہنسی اور شرم مل کر آئی، وہاں وہ کوٹ سُکھے خان والوں کی حسِ مزاح کے قائل بھی ہو گئے۔

اس سے ضمناً ایک اور قصہ بیچ میں آ پڑتا ہے جو کرم خان کے بھلے وقتوں کی یاد گارہے۔ باوا گل حسین شاہ کے ایک چچا زاد بھائی سید ببر علی شاہ صاحب کوٹ نیازی خان بلوچ میں رہتے تھے۔ سابق فوجی تھے اور نہایت ہٹ دھرم، ضدی اور فتنہ پرداز تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ کرم خان صاحب سے گائے خریدنی چاہی جو انہیں بقرعید کے لئے بہت پسند آئی تھی۔ سید صاحب لین دین کے بھی بڑے بد دیانت تھے، سو خان صاحب حیلے بہانے سے ٹرخا گئے۔ سید موصوف کو سخت غصہ آیا، رات کے اندھیرے میں کوٹ سکھے خان آئے اور گائے کی دُم کاٹ کر فرار ہو گئے۔ گائے کو شرعی عیب لگ گیا۔ خان صاحب کو اگلے ہی روز مخبری ہو گئی۔ آپ سادات کی عزت بھی خوب کرتے تھے، ناراض بھی بہت تھے۔ ریاض نائی کو بلایا، اس ظلم پر اردو میں ایک مرثیہ لکھا اور امام باڑے کے نوحہ خواں کو بلوایا، جلوس اکٹھا کیا اور لے کر کوٹ نیازی خاں پہنچے جہاں پورے گاؤں کی گلیوں میں گائے کو آگے آگے چلا کر سبھی نے ماتم کرتے ہوئے بآواز بلند یہ مرثیہ پڑھا؛
زمانے والو یہ اُمت پہ کیا ستم ٹُوٹا
کہ کاٹ لائے ہیں سادات ان کی گائے کی دُم
ہائے یہ دُم، گائے کی دُم، ہائے یہ دُم، گائے کی دُم!
کہتے ہیں کہ سید ببر علی کی اپنے سادات نے وہ گت بنائی کہ آج تک نہیں بھولے”

[dropcap size=big]اعلیٰ ظرفی[/dropcap] کی بات کریں تو انہی دنوں میں کرم خان کو ایک اور پنچایت کا بھی سامنا ہوا۔ یارمحمد کمہار اب حاجی یار محمد کہلاتا تھا، اس کی دُکان اب اتنی پھل پھول چکی تھی کہ وہ گاؤں کا سیٹھ بن چکا تھا اور تھوک پرچون کے سودے سلف کا بڑا کاروباری تھا۔ اس کی بیٹی چند سال قبل دریا پار کے غیرب کمہاروں میں بیاہی گئی تھی۔ اب وہ کسی گھریلو ناچاقی کی وجہ سے روٹھ کر مائیکے آن بیٹھی۔ ایک ہی ماہ گزرا تھا کہ دریا پار کے کمہاروں کا ایک وفد کوٹ سُکھے خان آ پہنچا اور کرم خان سے پنچایت کی ثالثی کرنے کا کہا۔ وہ لوگ آج بھی کرم خان کو میاں غفار شاہ صاحب سے بڑھ کر معزز گردانتے تھے۔ حاجی یار محمد نے اعتراض کیا کہ میاں صاحب اُس کے محسن ہیں، ثالثی وہ کریں گے تو پنچایت ہو گی۔ کرم خان نے میاں صاحب کی ثالثی تسلیم کر لی اور کہا کہ وہ پار والے کمہاروں کی طرف سے پنچایت میں بیٹھیں گے۔ ایسی پنچایتوں کا انعقاد ڈیرے پر نہیں بلکہ گھر کے آنگن میں ہوتا ہے۔ پنچایت ہوئی تو معاملہ کھلا۔ جیسا کہ ہم دیہاتیوں کا کلچر ہے کہ آغازِ رنج نہایت معمولی سی بات سے ہوا تھا۔ یار محمد کی لڑکی کے ہاں یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں، کسی دن بچوں کے لئے دودھ لیتے ہوئے ساس نے اُسے سُنا دی کہ ”جنتے ہوئے تو لڑکیوں کی قطار لگا دی، دودھ کے لئے یوں مٹکے بھر رہی ہے جیسے باپ کی بھینس کھڑی ہے اس کی!” بحث جرح ہوئی تو پار کے کمہاروں نے اتنی بات تو تسلیم کر لی کہ ساس نے یہ کہا تھا مگر اُن کے خیال میں یار محمد کی لڑکی نے جو جواباً سب کے بخیے ادھیڑے تھے، وہ ناروا بات تھی اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ معافی مانگ کر لڑکی کو واپس لینے آئے ہیں۔ یار محمد اس پر بھی راضی نہ تھا کہ لڑکی کو واپس بھیج دے۔ کرم خان کو معلوم تھا کہ یار محمد میں نودولتیوں کی سی انا ہے، لڑکی بے قصور اس کی بھینٹ چڑھے گی۔ وہ گھر بسانا چاہتی تھی اور یار محمد کے لہجے میں پیسے کا غرور بول رہا تھا۔ کرم خان نے بھری پنچایت میں کہہ دیا؛ ”حاجی یار محمد! میں تیری دریا پار والی برادری کی طرف سے تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیری سماجت کرتا ہوں کہ بیٹی کا گھر بسنے دے، آئیندہ انہوں نے اسے کچھ کہا تو پھر یہ ناانصافی میں سمجھوں گا کہ میری بیٹی سے ہوئی ہے” یار محمد لاجواب ہوگیا۔ اس کی بیٹی کو واپس بھیجے جانے کےلئے تیار کیا جانے لگا۔ پنچایت کے شرکاء کو ابھی چائے پانی پلایا جا رہا تھا کہ کرم خان نے ریاض نائی کو بھیج کر اپنے ڈیرے سے ایک بھوری گائے کھلوائی اور جب یار محمد کی بیٹی اپنی بچیوں کے ہمراہ تیار ہو کر رُخصت ہونے لگی تو کرم خان نے گائے کی راسیں اُسے تھماتے ہوئے کہا؛
کسی کی جرات ہے کہ کوٹ سُکھے خان کی بیٹیوں کو طعنہ دے! یہ گائے تیری ہے بیٹا، بیٹیاں بھی تیری ہیں۔۔۔ گائے بھی رب سوہنے نے دی ہے، بیٹیاں بھی رب سوہنے نے دی ہیں۔۔۔ بندہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ ہم مٹی سے بھی کمتر ہیں۔۔۔ بڑے بول رب سوہنے کو پسند نہیں۔۔۔”
وہ لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے جارہے تھے اور سوائے میاں غفار اور حاجی یار کے، سب کی آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں۔ زوال کی اترائی پر بھی کرم خان کی اعلیٰ ظرفی اپنے کمال پر تھی۔

[dropcap size=big]کچہری[/dropcap] کے چکروں نے جب خان صاحب کو شہر کا مستقل مسافر بنا دیا تو ایک دفعہ خان صاحب بیمار پڑ گئے۔ اگرچہ گُردے کی تکلیف کی وجہ سے ایک مدت سے مے نوشی کا شغل بھی ترک کر چکے تھے لیکن اب پھر اس روگ نے سر اُٹھا لیا۔ کچھ پتھری سی تھی جو اُن دنوں ایک کڑا روگ سمجھی جاتی تھی۔ ایک روز کچہری سے نکلتے ہی شدید درد نے آلیا۔ چاچا ریاض نائی انہیں شہر کے بڑے ہسپتال لے گئے۔ وہ انہیں سہارا دے کر تانگے سے اتار رہے تھے (کار ان دنوں چچا کی خدمت پر مامور تھی کہ وہ بہت ہی بیمار تھے) کہ بالکل پہلو میں ایک سرخ کرولا کار رکی اورسفید لیب کوٹ میں ملبوس ایک خاتون کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ اس شہر کی گہماگہمی میں ہزاروں اجنبی چہروں میں یہ ایک چہرہ کرم خان کا خُوب دیکھا ہوا تھا۔ اسی لمحے خاتون ڈاکٹر نے انہیں دیکھا تو قطعی غیر ارادی طور پر آگے بڑھ کر خان صاحب کو مخاطب کر کے بولیں؛ ”خان صاحب؟ آپ؟ کیا ہوا آپ کو؟” خان صاحب تکلیف کی شدت یا کسی اور وجہ سے کچھ جواب نہ دے سکے۔ ڈاکٹر رابعہ نے کار پارک کی اور انہیں ہمراہ لے گئیں۔ ایمرجنسی سے انہیں طبی امداد دلوائی اور جب وہ اُٹھ بیٹھے تو انہیں اپنے دفتر لے گئیں جس کے باہر ” ڈاکٹر رابعہ عمر حیات” کا بورڈ لگا تھا اور ریاض نائی نے آہستہ سے یہ تحریر اُن کے کان میں سُنا دی۔ اُن کا یہ نام پہلے نہ تھا۔ دفتر میں بیٹھے، احوال پرسی کا آغاز ہوا۔ خان صاحب کی ہلکی پھلکی سی نمی لئے حیران آنکھیں ڈاکٹر صاحبہ کو دیکھے جا رہی تھیں۔ فطرت حُسن اور نزاکت اگر انسان کو ودیعت کردے تو وہ ہر عمر میں کسی نہ کسی صورت میں باقی رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اب بھی حسین تھیں، سر میں سفید بالوں کی ایک باریک سی لٹ کے باوجود پتلے نقش نین، ہونٹوں کی لالی اور مخروطی انگلیوں کی نزاکت ویسی ہی تھی۔ دُبلی ہو جانے میں پہلے سے بھی نازک لگ رہی تھیں اور آنکھوں میں کامیاب لوگوں کی سی پروقار تھکن کے ڈورے تھے۔آنکھوں کا وہ حُسن باقی تھا جس پہ کرم خان کی شاعری میں تشبیہوں اور استعاروں کے لشکر قربان ہو چکے تھے۔ دوا دارو کی بات ہو چکی تو ڈاکٹر صاحبہ خالی خالی سی نگاہوں سے کچھ دیر کرم خان کو دیکھتی رہیں۔ چہرے کی جھریوں اور سر میں سفید اور سیاہ بالوں کی کھچڑی نے خان صاحب کی شخصیت کی متانت اور وقار کو بڑھا تو دیا تھا مگر رئیس زادوں والے رعب، دبدبے، صحت اور جوانی کی آخری رمق بھی اس چہرے سے رُخصت ہو چکی تھی۔ جو بھولپن کبھی اس چہرے پر تھا، وہ ایک بے چارگی سے بدل رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ان سے بیٹی کی خیرئیت کا پوچھا۔ خان صاحب نے مسکراتے ہوئے خداجانے کیا جواب دیا۔ چاچا ریاض نائی کے بقول ان کی آواز بہت دھیمی تھی۔ ”اب بھی شعر کہتے ہیں؟” ڈاکٹر صاحبہ نے نرمی سے پوچھا۔
”اب اور بچا ہی کیا ہے کرنے کو؟” خان صاحب نے مسکرا کر کہا تو ریاض نے انہیں کہنی ماری کہ ایسے مسکینی کا اظہار نہ کریں مگر وہ سیدھے آدمی تھے۔ ادھر اُدھر کی باتیں ہوئیں۔ خان صاحب نے اُن سے یہ ہرگز نہ پوچھا کہ وہ کہاں چلی گئی تھیں اچانک اور اتنے سال کہاں غائب رہیں۔ دوا کی پرچی لے کر اُٹھنے لگے تو ڈاکٹر صاحبہ چونکیں،
”خان صاحب! آپ چائے پیے بغیر نہیں جاسکتے۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ ہم بلوچوں کی مہمان نوازی کو تو نہیں پہنچ سکتے لیکن آپ نے مجھ سے چائے نہ پی تو یہ میری نالائقی ہوگی”

خان صاحب سادگی سے مسکرا کر بیٹھ رہے۔ چائے کے دوران کچھ خاص بات نہ ہوئی، ڈاکٹر صاحبہ اپنے بچوں کے بارے میں بتاتی رہیں اور چاچا ریاض سے ان کے گھر بار کی خیرئیت پوچھتی رہیں۔ آخر پہ اُنہوں نے اپنے دفتر اور گھر کا ٹیلی فون نمبر ایک چٹ پر لکھ کر دیا اور تاکید کی کہ خان صاحب ان کے پاس چائے پینے ضرور آیا کریں، یہاں ہسپتال چاہیں یا ایس ایس پی عمر حیات دولتانہ کی رہائش پہ، وہ ہمیشہ ان کے معزز مہمان ہوں گے۔

چاچا ریاض نائی کا قول ہے کہ ڈھلتی عمر میں جوانی کی کسی محبت کا جاگ اُٹھنا کسی سمجھدار آدمی کو احمق اور معزز آدمی کو بے وقعت کرنے میں آخری کسر ہوتی ہے جس کے بعد نہ عقل رہتی ہے نہ وقار۔ کرم خان صاحب کو ڈاکٹر صاحبہ سے پہلے کون سا شکوہ تھا جو اب روا رکھتے، اُسی والہانہ پن سے اُن کی محبت کا دم بھرنے لگے۔ ہر دوسرے روز ڈیرہ شاکر خان تتاری والے پبلک کال آفس پہنچے ہوتے اور آپریٹر کے وارے نیارے ہو جاتے۔ ہفتہ بھی نہ ہونے پاتا تھا کہ ان کی پچاسی ماڈل کار کوٹ سُکھے خان کی صبح کے سکوت میں تیرتی ہوئی شہر روانہ ہو جاتی۔ چاچا ریاض نائی ڈرائیور ہوتا اور کرم خان صاحب ہسپتال کے لئے عازم ہوتے۔ گُردے کا عارضہ تو تھا ہی مگر کہتے تھے کہ ڈاکٹر رابعہ دولتانہ کی چائے سے بڑا میرے مرض کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔ یہاں سے اکثر شدید تکلیف میں روانہ ہوتے مگر ڈاکٹر صاحبہ کے دفتر میں وارد ہوتے ہی بھلے چنگے ہو جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ بڑی مروت سے پیش آتیں، اُن کی سرائیکی شاعری پہ خوب داد دیتیں اور اُن کے لطائف پر خُوب کھلکھلا کر ہنستیں۔ شہر میں بڑا ریستوراں بن چکا تھا، کبھی وہاں دوپہر کے کھانے کا اہتمام ہوتا کبھی لائل پور نکل جاتے جس کا نام تو بدل چکا تھا مگر ہم دیہاتیوں کو ابھی بھی فیصل آباد کہنے میں دقت ہوتی تھی۔ شہر کے سنیما گھروں میں نیا فلم آتا تو اکثر کرم خان صاحب منت سماجت کرکے ڈاکٹر صاحبہ کو فلم بھی دکھا لاتے۔ ایس ایس پی عمر حیات دولتانہ سے بھی شناسائی بن گئی جو کہ شاعری کا کمال ذوق رکھتے تھے اور کرم خان صاحب کے مداح ہوگئے۔ انہیں کسی قسم کا شک شائبہ یا اعتراض نہ تھا کہ وہ ڈاکٹر صاحبہ کے مہمان کیوں ہوتے تھے۔ دراصل انہیں اس طرح کے سوالات کی فرصت تھی نہ ضرورت۔ ڈاکٹر صاحبہ سے ان کی شادی باہمی محبت کی تھی اور آج تک ان کے درمیان کوئی بدگمانی نہ ہوئی تھی۔ پھر بھی کچھ عرصے بعد دفتر یا گھر کے بجائے صرف لائل پور میں ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں جن میں ڈاکٹر صاحبہ تو فقط دوستانہ مروت سے پیش آتیں مگر خان صاحب تو گویا ان کے قدموں میں بچھ جایا کرتے تھے۔

اب احوال یہ تھا کہ خان صاحب، ڈاکٹر صاحبہ کےلئے تحائف خریدنے کبھی لاہور پہنچے ہوتے تو کبھی راولپنڈی اور کوئی عید، تہوار قضا نہ کرتے۔ پھر جب ڈاکٹر صاحبہ نے شہر میں اپنی کوٹھی کی تعمیر کا کام شروع کروایا تو دفتر میں اس کا ذکر ہوا۔ خان صاحب جھٹ سے بولے، ”آپ کو جس طرح کا بلڈنگ میٹیریل درکار ہو، بتائیے گا، سرگودھے میں میں نے اپنا کاروبار آغاز کیا ہوا ہے، میری کمپنی کے ہوتے ہوئے آپ کا مکان کوئی اور بنائے گا تو آپ میرا دل توڑیں گی” ڈاکٹر صاحبہ کو پیشکش پسند آئی۔ باہر نکل کر ریاض نائی سے کہنے لگے چلو سرگودھے، ملک شبیر، پُل گیارہ والے کے پاس!! ملک موصوف ان کے پرانے شناسا اور ایک کرشنگ پلانٹ اور ایک معمولی سی تعمیراتی کمپنی کے مالک تھے۔الغرض ڈاکٹر صاحبہ کی کوٹھی کی تعمیر پر جو لاگت ہوئی اس کا نصف سے زیادہ انہیں اس لئے بچت میں رہا کہ خان صاحب کی ”کمپنی” نے ان سے کمال رعایت کی تھی۔ ملک شبیر کو پورے پیسے مل گئے، اسے اس سے کیا فرق پڑتا تھا کہ ہمارے ضلعے میں اس کی مشینری کسی کے نام سے چلے۔عمر حیات صاحب ایک دیانت دار افسر تھے، سو انہوں نے اس رعایت پر خان صاحب کا بہت شکریہ ادا کیا ورنہ اس لاگت کا مکان اُن کی بچت اور تنخواہ کے بس سے ذرا باہر ہی تھا۔

خان صاحب نے جو لاکھوں روپیہ اپنی گرہ سے ادا کیا تھا، اس میں ان کے مویشی لگ بھگ سبھی بک گئے، پھر دریا کنارے والی زرعی اراضی بک گئی، پھر صحرا کی چنے کی کاشت والی بارانی زمین فروخت ہوئی۔ چاچا ریاض اکثر اُن سے الجھتے کہ یہ پاگل پن نہ کیجئے مگر خان صاحب کہاں سنتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ بھانپ تو گئیں کہ سیدھا سادہ دیہاتی چالاکی و پرکاری دکھانے کی ناکام کوشش کررہا ہے مگر چُپ رہیں۔ خان صاحب کی نیت بھی تو صاف تھی۔ فقط بے لوث محبت کے سوا ان کا کوئی مدعا نہ تھا۔ جلد ہی ڈاکٹر صاحبہ بھی گھبرانے سی لگیں اور اگر نرمی سے منع بھی کرتیں یا تعمیراتی کام کی بقایا کی رقم ادا کرنے کا تذکرہ کرتیں تو خان صاحب کی آزردگی کا عالم دیدنی ہوتا۔

سال ہی گزرا ہوگا کہ ڈاکٹر صاحبہ کا تبادلہ لائل پور ہو گیا تو خان صاحب نے بھی لائل پور ٹھکانہ کر لیا۔ ایک سادہ سا مکان شہر کے مضافات میں خریدا اور اکثر وہیں قیام کرنے لگے۔ڈاکٹر صاحبہ کو اب اپنے نئے گھر سے لائل پور آنے میں دو گھنٹے کی مسافت طے کرنی پڑتی جو کہ پولیس کی جیپ میں تو اور بھی تھکا دینے والی ہوتی تھی۔ اپنی کار وہ گھر بنانے کے عمل میں فروخت کرچکی تھیں۔ سو ایک دفعہ پھر کرم خان کے جوشِ محبت نے کھولاؤ دکھایا اور کوٹ مبارک سیال والی زرعی زمین کا ایک قطعہ بیچ کر لاہور سےنئی کار خرید لائے اور ڈاکٹر صاحبہ کی سالگرہ کے تحفے کے طور پر اُن کی خدمت میں پیش کر دی جو اس اونٹ کی پیٹھ کا آخری تنکا ثابت ہوئی۔ اب ڈاکٹر رابعہ نے ناصرف سختی سے منع کردیا بلکہ ریاض سے کہا ”ریاض بھائی کار واپس لے جائیے اور کرم خان کو سمجھائیں کہ یہ حقِ دوستی ادا کرنے سے کہیں آگے کی حرکت ہے، مجھے مزید شرمسار نہ کریں” چند روز بحث ہوتی رہی پھر ڈاکٹر صاحبہ نے حتمی طور پر کہہ دیا کہ وہ یہ تحفہ قبول نہیں کر سکتیں اور یہ کہ وہ خان صاحب کی سابقہ محبت اور والہانہ جذبات کی قدر کے طور پر یہ سب کچھ مروتاً کررہی تھیں اور ان سے مل جل رہی تھیں مگر اب خان صاحب معقول نہیں رہے۔ ”کرم خان، اس ڈھلتی عمر میں مجھے بھی رُسوا نہ کیجئے اور خُود بھی نہ ہوں۔ بہتر ہے واپس گاؤں چلے جائیں، میں آپ کی ایک چائے کا قرض نہیں اُتار سکی تھی، اس پاگل پن کو کہاں سہار سکوں گی۔ آئیندہ آپ میرے دفتر نہ آئیے گا، یہاں آپ کو چائے پلانے والا کوئی نہ ہوگا!!” یہ کہہ کر ڈاکٹر رابعہ نے ٹیلی فون کریڈل پر گرا دیا۔ کرم خان نے بہت دل برداشتگی کے عالم میں کار اونے پونے فروخت کی، جو رقم ملی، اس سے چند مویشی خریدے اور گاؤں لوٹ آئے۔

[dropcap size=big]کرم خان[/dropcap] ایک مدت تک مضمحل اور بیمار سے رہے۔ اب مے نوشی بھی اس قدر بڑھا دی کہ جس بُری عادت کی آج تک گاؤں میں کم ہی کسی کو خبر تھی، کسی کے لئے ڈھکی چھپی بات نہ رہی۔ اب احوال یہ تھے کہ ہمہ وقت دو ایک ہم مشرب دوست یار ان کے ڈیرے پر آئے رہتے تھے، محفلِ میگساری چلتی، ساقی گری ریاض نائی کا فریضہ تھا۔ ریاض نے آغاز میں منع کیا کہ اس طرح مرض بڑھ جائے گا مگر وہ کہاں مانتے تھے۔ اپنی مشہورِ زمانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ایک شعر سناتے جس کا مفہوم کچھ یہ تھا کہ ”اے نادان خیر خواہو، جس مریض سے چارہ گر روٹھ جائے، اسے دوا سے غرض؟ اب چارہ گر آئے تب بھی موت اور نہ آئے تب بھی موت ہے!” اور اسی طرح ایک شعر میں کہا؛ ” خُدا نے تو بیماری کے عالم میں شراب بھی اپنے بندوں پر حرام نہ رکھی، میرے چارہ گر کی بے نیازی دیکھو جس نے مجھ پر دوا یعنی اپنا التفات بھی حرام کر رکھا ہے”

اس عشق کی بازگشت کے دو سالوں میں خان صاحب کی بے خُودی اور گم خیالی کا مادی فائدہ ان کے زمین کے تنازعے سے وابستہ لوگوں نے خُوب اُٹھایا۔ جو تنازعہ کیکر کے جھنڈ والی زمین سے آغاز ہواتھا، اب اس سے کئی جھگڑوں کی کونپلیں اور بھی پھوٹ چکی تھیں۔ میاں غفار شاہ دیوانی معاملات میں بہت چالاک اور گرگِ باراں دیدہ تھا البتہ فوجداریوں میں ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھا۔ ان کے سالے کے قتل کے مقدمے میں صلح صفائی کی وجہ فقط یہی تھی کہ وہ فوجداریوں میں آگے بڑھنے سے ڈرتے تھے۔ اس خوف کی جڑیں شایداس تنازعے کے آغاز کی ایک پنچایت میں پیوست تھیں۔ کوٹ سکھے خان کے بلوچ اگرچہ باقی ہر معاملے میں زبانی کلامی ہی کرم خان کے ہمدرد رہے مگر لڑائی جھگڑے کے معاملے میں آغاز کی کسی پنچایت میں ہی سرفراز خان بلوچ نے کہہ دیا تھا: ”میاں شاہ صاحب، آپ قانونی جنگ کسی سے بھی لڑ لیں، ایم پی اے آپ کا، وزیر آپ کا، تھانہ آپ کا۔۔۔مگر کرم خان کی جان اور عزت کا خطرہ اگر پیدا کیا تو یاد رکھئے سادات میں آپ کی پیڑھی ابھی نئی اور بڑی مختصر سی ہے، اگر ایک کے بدلے دس بلوچ بھی پھانسی چڑھ گئے تو خسارہ آپ ہی کاہے!” اس پر ساری پنچایت ہنس پڑی تھی اور میاں صاحب کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا۔

ایک دن کرم خان کو نجانے کیا سوجھی کہ ریاض نائی اور چچا برخوردار خان کو ہمراہ لیا اور شہر جا کر کر اے سی دفتر کچہری میں سوائے اپنے گھر کے باقی ماندہ تمام جائیداد، جاگیر، اپنی بیٹی کے نام لکھوا آئے۔کوٹ سُکھے خان، کوٹ نیازی خان اور ڈیرہ علی خان سیال میں کچھ زرعی زمین، کوٹ مبارک سیال کی بڑی جاگیر، تھل کی بارانی زمین کا ایک قطعہ، کوٹ سُکھے خان میں کچھ دُکانیں، خوشاب روڈ پہ ایک پٹرول پمپ اور مویشی۔۔۔ سبھی کچھ بیٹی کے نام کر دیا۔ مویشیوں میں اکثر گائیں بھینسیں سانجھے کی تھیں، پھر بھی بیس کے قریب گائیں بھینسیں، بچھڑے بدھیا خالصتاً ان کے اپنے تھے جو بیٹی کے نام کرنے کے بعد قانوناً اب کرم خان کے پاس ماسوائے اپنے گھر اور پرانی کھٹارا کار کے کوئی جائیداد نہ تھی۔ سال ہی گزرا ہوگا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح برخوردار خان کے بڑے پوتے سے کروا دیا اور رخصتی کے لئے اس کی بیس سال کی عمر ہونے کی مہلت مانگی۔ ثمینہ خانم اب دسویں میں پڑھتی تھی اور خان صاحب اسے اعلیٰ تعلیم کے لئے شہر بھیجنا چاہتے تھے۔ اگرچہ رشتے داروں نے بہت کہا کہ اس کی ضرورت نہیں کہ اس زمانے میں دس جماعتیں لڑکی کےلئے کافی تعلیم سمجھی جاتی تھی لیکن خان صاحب نے ایک نہ سنی۔ رُخصتی کے وقت تک ثمینہ خانم چودہ جماعتیں سر میلکم ہیلی کالج سے پڑھ چکی تھی۔ کرم خان نے بیٹی کی شادی بڑی دھوم دھام سے کی اور حریفوں نے خوشی کے شادیانے بجائے کہ اُن کی تمام تر جائیداد برخوردار خان کی پیڑھی کو منتقل ہو چکی تھی۔ چند لوگ کرم خان کے گُن گا رہے تھے، زیادہ لوگ حیران تھے کہ اسی شے سے بچنے کےلئے تو لوگ بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہ دیتے تھے۔ خیر اب کرم خان اپنے آبائی گھر میں اکیلے رہتے، شعر کہتے اور ریاض نائی جیسے معدودے چند دوستوں کی صحبت میں وقت گزارتے۔

ایک مدت سے اُن کا معمول تھا کہ اڑوس پڑوس اور گاوں کے غریبوں کو اناج اور اجناس تحفہ کیا کرتے تھے، اب یہ بھی نہ رہا۔ مے نوشی کی محفلیں بھی برخواست ہو گئیں۔ تنگدستی نے نیکی اور بُرائی، دونوں کی بساط لپیٹ دی۔

ادھر میاں غفار شاہ اور اُن کے چیلے چمچے علاقے میں اتنے بارسوخ ہو چکے تھے کہ اب انہیں کسی کا لحاظ رہا، نہ ڈر نہ۔ جب ریاض نائی کی بڑی بیٹی کی شادی ہوئی تو وہ پرانی کار بھی بک گئی۔ ریاض کی بیٹی اور ثمینہ بچپن کی سہیلیاں اور ہم جماعت تھیں،وہ کرم خان کو اپنی بیٹی کی طرح عزیز رہین سو اس کی شادی کے اخراجات بھی اپنا فرض گردانے۔ اسے دس جماعت تک تعلیم بھی خان صاحب نے اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ دلوائی۔ وہ شاید اسے اور بھی پڑھاتے مگر چاچا ریاض کو اس کا فرض ادا کرنے کی جلدی تھی۔ ایک ریاض کی بیٹی پہ ہی کیا موقوف، کوٹ سُکھے خان کے آٹھ دس لڑکے لڑکیوں کے پہلی جماعت سے تعلیمی اخراجات خان صاحب نےا ہی ٹھائے تھے۔ ان میں سے چند لڑکیاں کالج اور دو ایک یونیورسٹی تک بھی پہنچ چُکی تھیں۔ خیر، خان صاحب کی وہ سُرخ کرولا ایک مدت تک ہم نے عالم قصائی سب انسپکٹر کے پاس دیکھی، پھر نجانے کہاں گئی۔

[dropcap size=big]یہ[/dropcap] وہ زمانہ تھا جب خوشاب، مظفر گڑھ روڈ پر لاری سے اُتر کر نیچے ڈیرہ شاکر خان تتاری تک دو اڑھائی میل کا سفر پیدل طے کرتے ہوئے کرم خان صاحب کو ہم بھی دیکھا کرتے تھے۔ہم اسکول کی خاکی وردی پہنے، گہرے سبز رنگ کے موٹے کپڑے والے بستے باندھے ننھے ننھے سپاہیوں کی طرح اسکول جا رہے ہوتے تھے تو ہمارا ٹکراؤ بابا بُدھو شاہ سرکار کے دربار والے جھُنڈ، قبرستان والے جنگل یا اس کے پاس جو سیلابی جھیل ہے، اس کے کنارے ہوتا تھا۔ اب اُن کے گنجے سر پر چند ہی بال باقی رہ گئے تھے جنہیں خضاب لگا کر سیاہ کرنے کی کوشش میں وہ اپنی چندیا پر بھی سیاہ داغ لگا بیٹھے جو ان کی سانولی رنگت پر بہت بھدے لگتے۔ چہرے پہ جھریاں نمودار ہو چکی تھیں جن سے لگتا تھا کہ وہ ہر وقت ہنستے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب کبھی اپنا کوئی شعر سناتے ہوئے روہانسے ہو جاتے، تب بھی لگتا کہ ہنس رہے ہیں۔ وہ مشہورِ زمانہ مسکراہٹ اب اس مضحکہ خیز سی ہنسی کے نیچے قابل رحم حد تک دب چکی تھی۔ بکثرت سگریٹ نوشی اور کبھی کبھار کی مے نوشی نے آنکھوں میں سُرخی اور پیلاہٹ کا ملا جلا سا مستقل رنگ بکھیر دیا تھاجن میں ہمہ وقت ایک نمی سی تیرتی رہتی تھی۔ قامت میں خم آگیا تھا۔ل کبھی کبھار کھانسی کی کھنک بھی شعروں اور گفتگو میں رموز واوقاف کے طور پرشامل ہوجاتی۔ لیکن آواز کی تندرستی باقی تھی۔لہجے کی اُداسی نے وہ سوز و گداز پیدا کر دیا تھا کہ بولتے تو سننے والوں کو پرے سے یوں لگتا تھا کہ سندھی یا سرائیکی شاعری سُنا رہے ہیں۔
ہمیں تو خیر اس کا دماغ نہ تھا لیکن دیکھنے والے تاڑ گئے کہ خان صاحب کا اس تواتر سے ڈیرہ شاکر خان تتاری آنا جان کس کےلئے تھا؟

جب ڈیرے میں کئی سال قبل پہلا نجی اسکول بنا تھا تو مادام سائرہ جنہیں ڈیرے کے سبھی چھوٹے بڑے باجی سائرہ کہتے تھے دس سال اس کی ہیڈ ٹیچر رہی تھیں۔ مالک اسلام آباد منتقل ہوا تو ادارہ اونے پونے میں فروخت کر کے چلا گیا۔ نیا مالک کوئی احمق سا امیرزادہ تھا، مادام سائرہ، اُس کے ساتھ نہ چل سکیں اور نوکری چھوڑ دی۔ اُن کے حُسن کا شیدائی تو ایک عالم تھا لیکن شادی ایک وکیل صاحب سے ہوئی جو انہیں بڑی چاہ سے دلھن بنا کر لے گئے۔ وکیل صاحب موصوف جتنے خوش قسمت سمجھے جارہے تھے، اس قدر خوش قسمت نہ نکلے۔ دو ہی سال گزرے ہوں گے کہ وکیل صاحب کسی بیماری میں گزر گئے اور ساس صاحبہ نے انہیں منحوس ٹھہرا کر گھر سے نکال دیا۔وہ اپنی شیر خوار بیٹی کے ہمراہ واپس اپنےمیکے آ گئیں۔ والدین کا سایہ بھی کچھ عرصے بعد سر پر نہ رہا۔ پھر ایک عرصہ انہوں نے مقامی سطح کا دستکاری کا سکول چلایا جس میں بچیوں کو ہنر سکھاتی تھیں۔ اب ان کی عمر پینتالیس کے لگ بھگ تھی لیکن حُسن میں آج بھی تیس تیس کی سہاگنوں کی ٹکر کی تھیں۔ خُدا جانے کرم خان صاحب کا اُن سے کیسے ٹکراؤ ہوا کہ اُن پر مر مٹے۔۔۔ اور وہ بھی اس ڈھلتی عمر میں۔ ہمیشہ کی طرح ریاض نائی ان کے زخمِ عشق پر پھاہے رکھنے کے لئے حاضر تھا۔ چڑھتی جوانی اور ڈھلتی عُمر کا عشق جان لیوا ہو سکتا ہے اور خان صاحب کی حالت بھی کچھ بہتر نہ تھی۔ سُنا ہے کہ خان صاحب نے ایک منظوم خط مادام سائرہ کو بھیجا۔ استانی جی کی عزت تو ہر شخص کرتا تھا کہ گزشتہ بیس سال میں نجانے کتنی بیٹیاں اس بستی کی ان سے پڑھ چکی تھیں مگر پھر بھی کچھ لُچے لقندرے ان پہ ڈورے ڈال چُکے تھے اور وہ مردوں میں چُھپے حرامزادوںکو بہت جلد بھانپ لیتی تھیں۔ کرم خان کے بارے میں انہوں نے سُن تو رکھا تھا مگر ان کی دولت، شاعری اور حُسن پرستی کے قصوں نے اُن کا تاثر بہت خراب کر رکھا تھا، اُستانی جی نے کچھ دن تامل کیا اور پھر انگریزی میں ایک مختصر سی تحریر میں ایک چٹھی لکھی جس میں خان صاحب کو سخت ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اپنی عمر اور عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ یقیناًیہ چٹھی انگریزی میں مشقی کاپی کے صفحے پر اس لئے لکھی گئی تھی کہ اگر غلطی سے راستے میں کھو جائے، کسی اور کے ہاتھ لگ جائے تو دیکھنے والا اس کاغذ کے ٹکڑے کو کسی بچے کی جماعت کی کاپی کا ایک ورق سمجھے۔ انگریزی سمجھنے والے تو شاید جھنگ سے خوشاب تک کے درمیان بھی کوئی ڈھونڈنے سے ہی ملتے۔ خان صاحب کے بارے میں ان کو یقین ہو گا کہ کسی سے پڑھوا لیں گے۔ سردار کرم خان بلوچ کے خط کا جواب نہ دینا بہرحال آج بھی کسی کے لئے آسان کام نہ تھا۔ چٹھی ریاض نائی کے پاس پہنچی تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ انگریزی میں کیا لکھ ڈالا۔ اتنا تو وہ بھی پڑھنے کے قابل نہ تھے۔ کرم خان نے اپنے ایک اور پرانے دوست کو بلوایا جو کہ ریٹائرڈ ایجوکیشن کلرک تھا اور خط پڑھنے کا کہا۔ کلرک موصوف نے خط پڑھ کر حرف بحرف سمجھایا تو چاچا ریاض کے ساتھ مل کر خان صاحب کو خوب چھیڑا البتہ وہ یہ نہ جان سکا کہ خط کس نے لکھا ہے۔ بعد میں بھی کئی دفعہ آمنا سامنا ہونے پر کلرک صاحب انہیں آنکھ مار کر گُڈ مارننگ کہتے تو خان صاحب کھسیانے سے ہو کر ”چخا چخا” (دفع دفع) کہتے ہوئے کھسک جاتے۔ اس کے بعد کرم خان نے مادام سائرہ کو کوئی خط نہ لکھوا بھیجا البتہ ڈیرے آنے جانے کا سلسلہ قائم رہا۔ یہاں کی ایک درزن ان کی مرحومہ بیوی کی پرانی سہیلی تھی، اس کی خدمات حاصل کی گئیں تو کرم خان کو فقط یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ مادام اس درزن کے گھر آکر خان صاحب کی بات ایک دفعہ سننے پر آمادہ ہو گئیں۔

یہ ملاقات ایک رومانوی تجربہ ہرگز نہ تھا۔ سائرہ نے سیدھے سبھاؤ کہہ دیا کہ ان کی بیٹی اب کالج جانے کی عمر کو ہے۔ اور وہی اب ان کی زندگی کا سارا مرکز ہے تو وہ کیسے کسی ایسے قصے میں پڑ سکتی ہیں جس کی عمر ہی گزر چکی ہے۔ انہوں نے تو وکیل صاحب سے بھی تھوڑی ہی دیر آنکھ لڑائی تھی کہ وکیل صاحب نے رشتہ بھیج دیاتھا۔ کرم خان صاحب کو اندازہ ہوا کہ انہوں نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک ایسا قدم اُٹھایا ہے جس سے ہٹنا بھی بے توقیری ہے اور آگے بڑھنا بھی اچھا نہیں۔ سو جو کچھ انہوں نے بہت آگے کےلئے سوچ رکھا تھا، ابھی کہہ دیا یعنی شادی کی پیشکش کردی اور وعدہ کیا کہ کسی بھی جواب کی صورت میں مادام سائرہ کی بیٹی کو وہ اپنی بیٹی سمجھیں گے اور اس کی تعلیم کےلئے ہر طرح کی کاوش کریں گے۔ انہوں نے مادام کو سوچنے کی مہلت بھی دی۔

ابھی سوچنے کی مہلت کے دن چل رہے تھے اور درزن بھی مادام سائرہ کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ اس دنیا میں اکیلی ہیں اور بیوگی کی بیچارگی میں جو اتنے کٹھن سال گزرے ہیں، بیٹی کی شادی کے بعد مزید کٹھن ہو جائیں گے، بہتر ہے کہ ایک خاندانی آدمی کی اہلیہ بن جائیں تو بیٹی کو بھی کوئی شناخت مل جائے گی۔ انہی دنوں میں ایک چھوٹا سا لطیفہ بھی ہو گیا اور وہ یہ کہ خان صاحب کے کپڑے جو ثمینہ کے گھر دھلنے گئے تو مادام سائرہ کی انگریزی چٹھی ان کے قمیض کی جیب میں رہ گئی۔ نوکرانی نے کپڑے دھونے سے پہلے جیبیں دیکھیں جیسا کہ بی بیوں کا معمول ہے، چٹھی نکلی۔ ”چھوٹی بی بی، یہ خان صاحب کی دواؤں والی پرچی ہے شاید، سنبھال لیں”۔ ثمینہ کو نوکرانی نے پرچی دی تو پہلے تو وہ بوکھلا گئی کہ گردے کی تلکیف کی صورت میں تو وہ ایک ہی دوا لیتے ہیں جس سے افاقہ ہوتا ہے، اب یہ کون سا نیا مرض لاحق ہوا جو چھپا رہے تھے۔ پھر چٹ پڑھی تو حیران بھی ہوئی اور ہنسی بھی۔ نوکرانی سے باپ کو بلوا بھیجا۔

”ابا جی! مجھے نہیں پتہ تھا آپ اتنے پڑھے لکھے ہیں!”

ثمینہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو کرم خان صاحب شرمندہ اور کھسیانے ہو کر ہنسنے لگے۔ پہلے تو چاچا ریاض پہ ڈالنے کی کوشش کی مگر ثمینہ نے تو خوب تنگ کیا، آخر پہ ضد کرکے باپ کے گلے میں بانہیں ڈال کر جھول گئی۔

”ابا مجھے ایک دفعہ دکھائیں تو!! ورنہ بابا بکھے (برخوردار) کو بتا دوں گی، پھر خیر نہیں ہونی آپ کی!”

ثمینہ نے خوب چہلیں کیں لیکن خان صاحب شرماتے لجاتے ہوئے وہاں سے اُٹھ آئے اور پھر ریاض کو بھجوا کر ثمینہ کو بتلایا کہ ”بھائی کرم خان باجی سائرہ کو تمہاری امی بنانے کے چکر میں ہیں۔۔۔” ثمینہ یہ سُن کر پہلے تو مسکرا دی، پھر سنجیدہ ہو گئی۔
چونکہ پہلی مُلاقات میں کرم خان انہیں بھلے آدمی لگے تھے، اُستانی صاحبہ نے انہیں پھر درزن کے گھر بلوا بھیجا کہ جواب دینے سے پہلے کچھ معاملات معلوم کرنے تھے۔ خان صاحب خضاب لگا کر بلیوں اچھلتے ہوئے جاپہنچے۔ استانی صاحبہ نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا اُن کیلئے اس قدر آسان نہیں۔

”کون جانے کل بلوچ قبیلے، برادری میں ہی مجھے قبول نہ کیا جائے! آپ پر رشتہ داروں کا دباؤ یا ٹھٹھہ مخول اتنا ہو کہ آپ ہار ہی جائیں اور میں اپنی عزت کا جنازہ لے کر پھر یہاں آبیٹھوں” گویا انہیں بھی خبر تھی کہ کرم خان کا رعب دبدبہ جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی مادام سائرہ نے عمرِ گذشتہ کی کٹھنائیوں کا جو ذکر چھیڑا تو رو رو کر چہرہ دھو ڈالا۔ وہ بڑی پختہ اعصاب کی خاتون تھیں مگر شاید کرم خان کی محبت کا جادو اس عمر میں بھی اپنی تاثیر دکھا رہا تھا۔ خان صاحب بھانپ گئے کہ اُن کا خوف کس نوعیت کے عدم تحفظ کی وجہ سے ہے، تاہم یہ ملاقات بھی نتیجہ خیز ہونے کی بجائے بڑے جذباتی انداز میں ختم ہوئی۔ خان صاحب نے انہیں دلاسہ دیا تو باہمی اپنایت کا ایک اٹل سا جذبہ سر اُٹھانے لگا۔ خان صاحب نے اس دن واپس آتے ہی ریاض نائی اور اپنے دوست ایجوکیشن کلرک سے صلاح مشورہ کیا۔ پروفیسر ثاقب عثمانی صاحب کو بھی چٹھی بھیج کر بلوایا اور انہیں ساتھ لے کر شہر میں جا درخواست جمع کروادی کہ پرائیویٹ اسکول قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہاں سرکاری دفتروں میں بھی کئی پرانے شناسا نکل آئے تو مہینوں کا کام دنوں میں ہوا۔ خان صاحب نے اپنے داماد اسلم کے ذمے لگایا کہ لائل پور میں ایک مکان کا پلاٹ جو ایک مدت سے اُن کے نام کا پڑا تھا اور کسی وجہ سے ثمینہ کے نام نہ ہو سکا تھا، اس کو فروخت کیا جائے۔ داماد صاحب لائل پور پہنچے تو پتہ چلا کہ پلاٹ پر قبضہ گروپ کے کوئی رانا صاحب قابض ہیں۔ کرم خان کی خوش قسمتی کہ جب ایم این اے کی چٹھی لے کر ڈی آئی جی صاحب کے پاس پہنچے تو وہ چھٹی پر تھے اور قائم مقام ڈی آئی جی صاحب پرانے شناسا نکلے؛ عمر حیات دولتانہ صاحب۔ خیر، اس پلاٹ کی قیمت رانا صاحب نے کرم خان کی توقع سے بھی ذیادہ ادا کر دی۔ مادام سائرہ کو پتہ چلا کہ کرم خان اپنے گاؤں میں اسکول کے قیام کےیلئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں تو اُنہیں بُلوا بھیجا کہ ماجرا کیا ہے؟ ادھر سرکاری رجسٹریشن نمبر ملنے سے پہلے اسکول کا فرنیچر پہنچ چکا تھا، خان صاحب کی آبائی حویلی جو ثمینہ کی شادی کے بعد عملاً سنسان پڑی تھی اس کے وسیع آنگن میں جماعت کے کمروں کی قطار کھڑی کر دی گئی تھی اور اب مستری پلستر چونے والے کام میں مشغول تھے اور باغیچے کے مالی کا کام چاچا ریاض نائی نے دھڑادھڑ جاری رکھا ہوا تھا کہ کرم خان صاحب اُستانی جی سے ملنے کےلئے پہنچ گئے۔یوں لگتا تھا جیسے ان کی ساری توانائیاں کہیں سے لوٹ آئی ہیں۔ اُنہوں نے ملتے ہی مادام سائرہ سے کہا کہ انہیں الکرم گرلز اسکول کی پرنسپل کے عہدے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ مادام سائرہ کو شک تو پڑ چکا تھا کہ کرم خان یہ سب اہتمام انہی کےلئے کر رہے ہیں مگر اب جو کرم خان کی زبانی سُنا تو یقین آگیا۔

”سائرہ اب اگر آپ میری درخواست ٹھکرائیں گی تو خُدا کرے میرے مرنے کی خبر سُنیں!”
کرم خان کی التجا میں خلوص اور محبت واضح تھی اور اتنی تھی کہ سائرہ صاحبہ مان گئیں۔

[dropcap size=big]اسکول[/dropcap] کا شاندار افتتاح ہوا، مادام بھی مدعو تھیں۔ ان کے نام سے سبھی واقف تھے، سو اکثر لوگوں نے کرم خان کے اس فیصلے کی تعریف کی کہ اُنہوں نے ایک نہایت قابل اور شریف خاتون کا پرنسپل کے عہدے کےلئے انتخاب کیا ہے، بلکہ انہی خاتون کی وجہ سے پہلے روز ہی کئی نام داخلے کےلئے لکھوائے گئے۔ معلوم نہیں کرم خان جانے کہاں کہاں کی تقاریب میں عمر بھر مہمان اور مہمانِ خصوصی کے طور پر جاتے رہےتھے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ لوگوں نے کرم خان کو باقاعدہ اسٹیج پہ بولتے دیکھا۔ تقریر مختصر تھی۔انہوں نے ایک ہی بات کی؛
”لوگ کہتے ہیں کرم خان کے پاس دولت تھی مگر اس نے اس کی قدر نہ کی، میرے عزیزو! میرے پاس دولت تھی ہی کب؟؟ مجھے عمر بھر میں ایک ہی تو حسرت رہی کہ میرے پاس دولت ہوتی۔ علم کی دولت!”
اس پر لوگوں نے خوب تالیاں بجائیں اور خان صاحب نے شرما کر دذدیدہ نظر سے مادام سائرہ کی طرف دیکھا۔ ثمینہ خانم بہر حال سب بھانپ گئی تھی۔

اسکول چلا تو کرم خان کےلئے موسمِ بہار کا آغاز ہو گیا۔ صبح دم جاگتے اور اسکول جاتے۔رہائش اب مستقلاً ڈیرے پر تھی، مالی سے چھڑکاؤ کرواتے، تالے کھلواتے اور فرنیچر کی صفائی اپنی نگرانی میں کرواتے البتہ پرنسپل کی میز کرسی اور ان کے چھوٹے سے دفتر کی جھاڑ پونچھ خُود کرتے اور پھر پرنسپل صاحبہ کے آنے تک مختلف بہانوں سے وہیں منڈلاتے پھرتے۔ مادام سائرہ آ جاتیں تو خان صاحب ان کے پاس بیٹھ کر چائے منگوا لیتے۔ اُن کا سفر تھوڑا طویل تھا، سو وہ دیر سے آتی تھیں اور قدرے تھکی بھی ہوتیں سو یہ خُوب بہانہ تھا چائے پینے کا۔ اسی اثناء میں دیگر اُستانیاں جن میں ثمینہ خانم زبردستی، ضد کر کے شامل ہوئی تھی، آ جاتیں تو خان صاحب رُخصت ہو جاتے۔ مادام سائرہ نے نہ صرف محنت سے اسکول کو ایک میعاری ادارہ بنایا بلکہ اپنی خوش اخلاقی سے کوٹ سُکھے خان کی خواتین کے دل بھی جیت لئے۔ کرم خان کو قریب سے دیکھا تو بہت بھلا آدمی پایا اور اُن کی والہانہ محبت کا جواب عزت، مروت اور نہایت توجہ سے دیا۔ وہ کئی دفعہ خان صاحب سے اُن کی اپنی صحت اور حُلیے سے لاپروائی کی وجہ سے اُلجھ بھی پڑتیں جس میں کرم خان کو التفات کا وہ شائبہ نظر آتا کہ خُوش ہو جاتے مگر وہ شادی کا سوال انہیں دوبارہ اُٹھانے کی ہمت ہوئی نہ ہی مادام سائرہ نے اس موضوع پر بات کی۔ ثمینہ خانم بھی مادام سائرہ کو بہت پسند کرنے لگی لیکن ساتھ ہی ساتھ مستعد بھی رہتی کہ والد صاحب کوئی گُل نہ کھلا دیں لہٰذا وہ خان صاحب کو احساس دلاتی رہتی کہ وہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کرم خان اکثر ایسے سوال جواب کے دوران اسے پیار سے چپت رسید کرتے یا اس کی پیشانی چوم کر کہتے،
”تو گویا میں نے غلطی کی تمہیں تعلیم دلوا کر۔۔۔۔ باپ سے بھی ذیادہ سیانی ہو گئی ہو ثمینہ خانم۔۔۔” اور بات ٹال جاتے۔

وہ ضرب المثل ہے کہ عشق اور مشک نہیں چھپتے۔ خان صاحب کا راز بھی کسی اناڑی کے ہاتھوں باندھے گئے غبارے کی ہوا کی طرح آہستہ آہستہ سے نکلنا شروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ گاؤں میں طبل زیرِ گلیم بن گیا۔کرم خان اس سب سے لاپروا مادام سائرہ کے حُسن و خُوبی میں یوں مگن تھے گویا انہیں دُنیائے دیگر کی پروا بھی نہ تھی۔ اس بے نیازی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اب لوگوں نے بھی ان کی سرپرستی، کورٹ کچہری کے مسائل میں ہر کس و ناکس کی مدد، پنچایتوں کے منصفانہ فیصلوں اور معمولی کاشتکاروں پر ٹھیکوں، لین دین اور دیگر معاملات میں خاص رعایتوں کے وہ معاملات بُھلا دیئے تھے جنہوں نے انہیں علاقے والوں کا پسندیدہ زمیندار اور سردار بنایا تھا۔اب ان باتوں کو پس پُشت ڈال کر ان کی خامی پر توجہ رکھنا شروع کر دیا تھا اور سرداری کی دستار اُن لوگوں کے سروں پر آ چکی تھی جن میں سب اخلاقی بُرائیاں تھیں۔ سو خان صاحب نہ صرف لاپروا ہو گئے بلکہ کسی بھی عام دیہاتی کی سی غیر ذمہ داری ان کے مزاج میں آ گئی تھی۔ اسکول کے معاملات میں بھی ان کی دلچسپی مادام سائرہ کی حد تک ہی تھی کہ تعلیم و تعلم کا یوں بھی اس بھلے مانس کو کیا پتہ تھا؟ کرم خان صاحب نے تمام اسکول، عمارت اور مالکانہ حقوق سمیت مادام سائرہ کے نام منتقل کرنے کا عندیہ دے دیا تھا لیکن مادام سائرہ نے ابھی تک اس بات کو بالائے طاق ہی رکھا کیونکہ اس طرح اُن پر ایک اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ کرم خان کو شریکِ حیات کے طور پر اپنا لیں۔

اب تک مادام سائرہ کے حُسن کے مدار سے باہر کی تمام کائنات کرم خان کےلئے خاموش تھی کہ اچانک اس میں ایک غلغلہ بلند ہوا۔ بلدیاتی انتخابات کی آمد آمد تھی اور علاقے میں ایک ہنگامہ اور چہل پہل تھی۔ میاں غفار شاہ کے ڈیرے پر انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں اکثر لوگوں کا ہجوم رہنے لگا جس میں ذیادہ تر سیاسی چہ مگوئیوں کے شوقین لوگ آ موجود ہوتے۔ اب کی بار مقابل میں کوئی تگڑا اُمیدوار بھی نہ تھا، میاں صاحب کا مزاج عرشِ معلیٰ پر پہنچا ہوا تھا۔ اگلے ہی روز اس نے دھوم دھام اور طبل و علم کے ساتھ شہر جا کر کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے تھے۔ کسی نے بات چھیڑی کہ کیا اس دفعہ پھر کرم خان اُن کے مقابل انتخابات میں اُٹھے گا؟؟ میاں غفار شاہ اس وقت غرور کے نشے میں تھے، بولے؛
”ارے وہ اُس اُستانی کی رانوں کے بیچ پڑا ہو گا اس وقت۔۔۔ اُسے کیا لینا دینا سیاست سے!!” لوگوں کو اندازہ تو خُوب تھا کہ میاں صاحب کس قدر بے ہودہ بات کہہ گئے تھے مگر خوشامدیوں، ٹاؤٹوں کا جو ٹولہ حاضر تھا، اُنہوں نے جو تالی پِیٹ کر قہقہہ بلند کیا، یوں لگا کہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ چھُوٹا تھا۔ خیر شام تک بات پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ کسی کو ہمت نہ پڑی کہ کرم خان سے کہتا، چاچا ریاض نائی اُس روز گاؤں میں تھا نہیں، لیکن ثمینہ جو ان دنوں اُمید سے تھی اور اسکول نہ جاتی تھی، اُس تک یہ بات پہنچ ہی گئی۔

رات کی روٹی کے وقت اسلم سے جو اس بات کا ذکر کیا تو ثمینہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ کرم خان کے بارے میں ایسی بیہودہ گفتاری کا کسی یہاں کے مخالف کو بھی کبھی نہ حوصلہ نہ پڑا تھا، ثمینہ کی بے چینی سمجھ آنے والی تھی، بولی؛
”میرا جو کوئی بھائی ہوتا، اُس میراثن کے بیٹے سے بدلہ تو لیتا میرے باپ کی توہین کا!”
ثمینہ کا یہ جملہ اسلم کے حلق میں تیر کی طرح اٹک گیا۔ اُس نے روٹی کا توڑا ہوا لقمہ رکھ دیا۔
”سمی! میں تیرا بھائی تو نہیں ہو سکتا، لیکن چچا کرم خان کا بیٹا تو ہوں، اور رہوں گا! کسی ماں کے یار کو شک ہے تو آج دیکھ لے گا!”

اسلم خان کسی بے چین پرندے کی طرح تڑپتا ہوا گھر سے نکل گیا۔ وہ سرفراز خان بلوچ کے گھر پہنچا۔ خان صاحب ایک مدت ہوئی فوت ہو چکے تھے، ان کا ایک بیٹا ریٹائرڈ فوجی تھا۔ نیم پاگل اور دنگے فساد کا شائق بلکہ کافی حد تک جرائم پیشہ آدمی تھا۔ نام تو نجانے کیا تھا لیکن سب اسے چاچا فوجی کہتے تھے۔ اسلم چاچا فوجی کے گھر گیا اور اُس کے ابا جان کا بلم مانگا۔ فوجی نے کافی عرصہ پہلے سرکاری مال خانے اور تھانے کے لوگوں میں جان پہچان بنا کر وہاں سے اپنے باپ کا بلم واپس لے لیا تھا اور بڑا سینت سینت کر رکھا ہوا تھا کہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ ااٹھارہ سو ستاون کے غازی، مردانہ بلوچ کا بلم ہے اور لیفٹنینٹ لین صاحب بہادر کے سینے میں بھی پیوست ہو چکا ہے، خُدا جانے اس میں کس حد تک سچائی تھی۔ اُس نے بلم اٹُھا کر اسلم کو دے دیا اور جب اسلم گھر سے نکل چکا تو چاچے فوجی کو عقل آئی کہ قرائن تو خطرناک تھے۔ خیر میاں غفار شاہ صاحب ابھی ڈیرے پر تھے اور کسی مہمان کی خاطر ہو رہی تھی، نوکر اور خوشامدی اب بھی کافی سارے حاضر تھے۔ اسلم خان جو بلم لہرا کر وہاں پہنچا تو سبھی تاڑ گئے لیکن شاہ صاحب نے انہیں چُپ رہنے کا اشارہ کیا کہ مہمان مذکور بھی سیاسی طور پر ان سے کم معزز نہ تھے۔
”میاں صاحب!!!” اسلم نے نہایت درشتی سے آتے ہی کہا۔
”ہاں اسلم بیٹا، خیر تو ہے، آج بڑے غُصے میں لگ رہے ہو” میاں صاحب نے بڑے تحمل سے جواب دیا۔
”شاہ صاحب! اپنی گندی سیاست کھُل کھیلو مگر خبردار، چچا کرم خان کے بارے میں دوبارہ غلیظ زبان استعمال کی تو یہ بلم پہچانتے ہو؟؟ نواز میراثی کے تو پہلو میں گھسیڑا تھا، تمہارے پچھواڑے۔۔۔۔”
ابھی اسلم یہی کہہ پایا تھا کہ میاں صاحب گرجے،
”بکواس بند کرو!” اسلم بھی چونک سا گیا۔
”کرم خان اور میں ہم عمر ہیں! مجھ سے ایسے بات کرے تو وہ، تُم کب سے اتنے بڑے ہو گئے؟؟ دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ!!” میاں غفار شاہ بھی ابھی یہی کہہ پائے تھے کہ چاچا فوجی بھی وہاں آ دھمکا۔

ہوا یہ تھا کہ جونہی فوجی کو شک پڑا کہ ہو نہ ہو اسلم خان اپنے سسر کی توہین کے انتقام کے درپے ہے، اُسے فکر لاحق ہو گئی کہ کہیں لڑکے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔ اس کا فوجی لائسنس کا پستول اور رائفل خوش قسمتی سے اس کی بیوی نے بڑے صندوقوں میں کہیں بستروں کے نیچے دبا رکھے تھے کہ وہ بات بات پر اسلحہ تان لینے کا عادی تھا۔ آج چاچی فوجن گھر پہ نہ تھی، اسلحہ ڈھونڈنے کا وقت نہ تھا، سو فوجی نے لوہے کی ایک وزنی سلاخ پکڑی اور بھاگم بھاگ اسلم کے پیچھے۔ فوجی نے ڈیرے کا صحن چڑھتے ہی جو دیکھا کہ میاں صاحب اسلم خان کو دفع ہو جانے کا حُکم دے رہے ہیں، اُس کا پارہ کھول اُٹھا۔ اسلم تو شاید دو چار باتیں اور کڑوی کسیلی کر کے لوٹ آتا مگر فوجی نے تو چڑھتے ہی نعرہ لگایا،
”بکواس بند کر اوئے میراثن کے بچے!” ایک دفعہ تو سبھی بوکھلا کر رہ گئے۔

”خبردار اگر تُو نے کرم خان کے خلاف نامزدگی جمع کروائی! تیرے پورے خاندان کے ہر بندے کے حصے میں میرے سو سو راؤنڈ بھی آئے تو میرا اسلحہ ختم نہیں ہوگا!!!” فوجی نے میاں صاحب کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا ”اور میں نسل ختم کر دوں گا اس کی جس نے ووٹ دیا اس میراثی کے نُطفے کو!!” فوجی نے میراثی والا حوالہ دہرایا ہی تھا کہ میاں صاحب کے ہاتھ میں جو چائے کا کپ تھا، سیدھا کھینچ کے مارا جو فوجی کی بتیسی پہ کھٹاک سے آن لگا، پھر کیا تھا، فوجی نے جو باؤلا ہو کے لوہے کی بھاری سلاخ ماری تو وہ میاں صاحب کا سر بچا کر لگی مہمانِ گرامی کے بائیں کان پہ اور وہ کسی کٹے ہوئے درخت کی طرح چارپائی پہ لم لیٹ ہو گیا۔ پھر تو میاں صاحب کیا اور ان کے دیگر چیلے چانٹے کیا، وہ مارو مارو، جانے نہ پائے کا شور تھا اور وہ دونوں گویا معرکہ تو مار چکے تھے، بھاگ نکلے، اور سبھی ان کے تعاقب میں تھے۔

جونہی وہ دونوں بھاگتے ہوئے باوا گُل حُسین شاہ کی حویلی کے پاس اچانک مُڑ کر جنگل میں روپوش ہو ئے، مگر اس طرح کہ سبھی نے سمجھا کہ باوا جی کے گھر میں پناہ لینے کو جا گھُسے ہیں۔ ”گھُس جاؤ اندار!!” میاں غفار شاہ دھاڑے تو سبھی باوا گُل حسین شاہ کی حویلی میں جا گھسے۔ وہاں کی مستورات نے آسمان سر پہ اُٹھا لیا، ادھر تعاقب کرنے والوں میں سے کسی کی آوازیں بھی آئیں، ”اوئے سیدوں کا گھر ہے، اندر مت جاؤ اوئے!” مگر بے سود۔ ادھر سیدوں کے ہاتھ میں جو بھی آیا، پل پڑے میاں صاحب کے حواریوں میں ایک کا سر کھول دیا اور ایک کی پیٹھ میں سبزی کاٹنے کی چھُری اُتار دی۔ جب تک میاں صاحب کو اپنی حماقت کا اندازہ ہوا، اسلم اور فوجی کہیں دور نکل چکے تھے۔

کرم خان کو جو پتہ چلا تو اُن کے لئے پہلا سردرد یہ تھا کہ باوا گُل حسین شاہ کی حویلی کا جو تقدس پامال ہوا ہے، وہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اُنہوں نے صبح منہ اندھیرے باوا گُل مرحوم کے بیٹے سید بُلبُل حُسین شاہ کو ہمراہ لیا اور تھانے میں جا کر میاں غفار شاہ اور دیگر کے خلاف چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کا پرچہ جڑ دیا۔ اسی اثنا میں میاں غفار شاہ صاحب بھی اپنے حواریوں کو لے کر تھانے آپہنچے۔ نیا ایس ایچ او میانوالی کا کوئی پٹھان تھا اور اس تک ساری خبر رات ہی کو پہنچ چکی تھی، غُصے میں سُرخ ہوا بیٹھا تھا، چھوٹتے ہی بولا؛ ”پہلے تو مجھے یہ سارے بندے دیں جنہوں سیدوں کے گھر کی بے ادبی کی ہے ورنہ میں ابھی جا کر سارے کوٹ سکھے خان والوں کو ننگا کرکے سڑک پر کھڑا کردوں گا۔۔۔” میاں صاحب نے کئی برسوں میں کسی تھانے دار سے ایسی بات نہ سُنی تھی، سہم سے گئے۔ بُلبُل حسین شاہ نے بتایا کہ شاہ صاحب کے ہمراہیوں میں بھی کچھ لوگ درخواست میں شامل ہیں، تھانے دار نے فورا ان سب کو پکڑ لیا، بلکہ ایک میاں صاحب کو ہی باہر رہنے دیا وورنہ سبھی حوالات میں۔ عملے کو حُکم دیا گیا کہ ان سب کی یادگار چھترول کی جائے۔ میاں صاحب کا تو رنگ ہی اُڑ گیا۔ اب جو میاں صاحب سے ان کے آنے کا مقصد سُنا تو نرمی سے سیدھے سبھاؤ کہہ دیا، ”میاں صاحب، مجھے ڈی پی او صاحب کہہ دیں، میں سیدوں کے خلاف چھرا گھونپنے کا اور بلوچوں کے خلاف بھی پرچہ کاٹ دوں گا۔۔۔ اقدام قتل کا پرچہ کوئی مذاق نہیں ہے!” میاں صاحب نے خونخوار نظروں سے دیکھا تو وہ انہیں ایک کونے میں لے گیا اور کچھ کھسر پھسر کرنے لگا۔

جب تک ڈی پی او صاحب کا حُکم آیا کہ دونوں پارٹیوں کو پابند کریں کہ پنچایت کر لی جائے کیونکہ چھرا گھونپنے کا کیس بالخصوص کمزور ہے، اس میں سیدوں کا کچھ نہیں بگڑنے کا البتہ بلوچوں کے ساتھ پنچایت کی جائے اور میاں صاحب کے بندے فوری رہا کئے جائیں۔ مہر جیون خان گوندل جنہیں اسلم خان کی ضرب لگی تھی، ان کا کوٹ مبارک خان کے بلوچوں سے خُوب تعلق تھا، اُن سے بلوچوں نے اُن کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگ لی اور فوجی کو ان کے سامنے پیش کر دیا کہ جو سزا چاہے دیں، اُنہوں نے کہا وہ میاں غفار شاہ سے مشورہ کریں گے۔

پٹھان تھانے دار نے میاں صاحب کے حواریوں کو جب چھوڑا تو بیچاروں کی کافی چھترول ہو چکی تھی۔ گاؤں میں پنچایت کا اہتمام ہوا تو ایس ایچ او صاحب بھی آدھمکے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچوں اور میاں صاحب کے جھگڑے کا جو فیصلہ ہو سر آنکھوں پر مگر اس پنچایت میں گاؤں والے سید بلبل حسین شاہ سے معافی مانگیں گے ورنہ جب تک وہ یہاں تھانے میں تعینات ہیں، کوٹ سکھے خان والوں کا جینا دوبھر کردیں گے۔ چند بوڑھوں نے پورے گاؤں کی نمائیندگی کی اور باوا جی سے معافی مانگی۔ پنچایت بھی باہمی معافی تلافی پر ختم ہو گئی اور فریقین نے درخواستیں تھانے سے واپس لے لیں۔ جو لوگ ملوث تھے، وہی کیا، سبھی شرمسار نظر آرہے تھے۔ گاؤں میں پر زبان پر یہی تبصرہ تھا اور ہر شخص میاں غفار شاہ کو مورد الزام ٹھہرا رہا تھا، ضعیف العقیدہ عورتیں تو یوں سہمی ہوئی تھیں گویا پوری بستی پر کوئی عذاب آنے والا ہو۔ فوجی کے بارے میں افواہ پھیلی کہ اس نے بنوں سے پٹھان اور اسلحہ منگوا لئے ہیں کہ جو میاں صاحب کو ووٹ دے گا، اسے نشانِ عبرت بنا دے گا۔ یہ فقط افواہ تھی مگر خدشہء نقصِ امن کے تحت پولیس نے اسے چند ہی روز بعد گرفتار کر لیا اور الیکشن کے بعد چھوڑا۔ بلوچوں میں کسی نے ضمانت کی کوشش نہ کی کہ فوجی پر بھروسہ انہیں بھی نہ تھا۔

اب یہ تبصرے بھی ہونے لگے کہ اُستانی جی کی وجہ سے جھگڑے کا آغاز ہوا اور آخر پہ اتنا بڑا گناہ سرزد ہوا۔ ابھی اس بات نے پر نہ پکڑے تھے کہ مادام سائرہ نے کرم خان صاحب سے کہہ دیا کہ نکاح خواں بلوائیے۔ باوا سید بُلبل حسین شاہ صاحب نے کرم خان صاحب کا نکاح پڑھایا اور سادہ سی تقریب جو برخوردار خان مرحوم کی حویلی میں ہوئی، اس کے بعد کرم خان صاحب انہیں اپنے ڈیرے پہ لے گئے جس کی چار دیواری بلند کرکے اسے حال ہی میں گھر بنایا گیا تھا۔ یہ اب مادام سائرہ اور ان کی بیٹی کا گھر تھا۔ ابھی اس خبر کی گہماگہمی گاؤں میں چل رہی تھی کہ میاں غفار شاہ کے کاغذاتِ نامزدگی قبول ہونے کی خبر ملی لیکن خبر تب بنی جب اُن کے مقابلے میں اسلم خان کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دئیے گئے۔

[dropcap size=big]انتخابات[/dropcap] تک کا عرصہ خُوب چہل پہل کا تھا جو کہ کرم خان نے تو عجیب سر خوشی میں گزارا۔ سوتیلی بیٹی انہیں بے حد عزیز تھی۔ وہ ماں کے ساتھ آئی تھی اور آتے ہی کرم خان اور ثمینہ کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔ کرم خان اب بے حد خوش رہا کرتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ کرم خان کو دوسری شادی نے پھر سے جوان کر دیا ہے مگر کون جانے کہ شمع بجھنے سے پہلے بھڑکتی ہے۔

الیکشن کا دن کافی مصروف گزرا۔ کرم خان شام کو اسلم خان کا جشنِ فتح منا کر گھر آئے تو وہاں بھی مبارک باد دینے والوں کا ہجوم تھا۔ میاں غفار شاہ کو شکست ہو گئی تھی اور وہ بھی بدترین قسم کی۔ خان صاحب نے مدثر مصلی عرف اکشے کے ہاتھ میاں صاحب کو ایک چٹھی لکھوا بھیجی کہ لڑائی جھگڑوں کا انہیں افسوس ہے مگر یہ انتقام تھا جو وہ اُن سے گذشتہ الیکشن کے بعد لینا چاہتے تھے۔ خان صاحب نے جشن منانے والے دیگر لوگوں سے معذرت چاہی اور گھر آکر چارپائی پر لم لیٹ ہو گئے۔

”ذرا میرا سر دبا دو گے میرے سردار؟”
کرم خان نے نہایت محبت بھرے لہجے میں بیگم صاحب سے کہا۔ وہ اُٹھیں اور ان کے سرہانے آ کر بیٹھیں۔

”میرے سردار۔ اگر میرا سر اپنی گود میں رکھ لیں تو غُلام احسان مند رہے گا” کرم خان صاحب نے ایک بیمار سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو پہلے تو مادام سائرہ نے چاچا ریاض کی طرف دیکھا جو قریب ہی کھڑے چارپائیوں کی ادوائین کھینچ رہا تھا مگر اس نے تاثر دیا کہ اس کی توجہ اس جانب نہیں ہے۔ اُستانی جی نے کرم خان کا سر اپنی گود میں رکھا اور دبانے لگیں۔ کرم خان نے آنکھیں بند کرلیں اور سونے کی اداکاری کرنے لگے۔ چاچا ریاض کام سے فارغ ہو چکا تو چپ کر کے کھسکنے لگا۔

”ریاضُو! حرامی! کدھر چُپ کرکے نکل رہا ہے؟” کرم خان صاحب نے آنکھیں بند کرکے ہی کہا۔ چاچا ریاض مُڑا تو کرم خان نے اپنا ہاتھ ایسے بلند کیا جیسے کوئی ڈوبنے والا التجا میں اپنا ہاتھ اُٹھاتا ہے۔ چاچا ریاض نے گھبرا کران کا ہاتھ پکڑا۔ خان صاحب نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا، آنکھیں کھول کر سائرہ کے گھبرائے ہوئے چہرے پہ نگاہیں گاڑیں اور ایک ہی جملہ زبان سے ادا کیا؛
”میری چھوٹی بیٹی کا خیال رکھنا!”

چاچا ریاض نے چند بزرگوں کو جانِ عزیز، جان دینے والے کے سپرد کرتے دیکھاہوا تھا، سمجھ گئے۔ اُنہوں نے اپنی پگڑی سر سے اتاری اور زمین پر ڈھلکا دی اور سسکیاں لے کر رونے لگے۔ کرم خان بلوچ جس وقار سے اپنی دُھن میں مگن جیئے تھے، اسی سکون اور سکوت سے مر گئے۔

کرم خان کے بعد الکرم گرامر اسکول کبھی پہلے کی سی روانی کے ساتھ نہ چل سکا۔ بیگم کرم خان کو اب اس گاؤں میں تنہائی کا آسیب بہت ڈرانے لگا تھا ان کی بیٹی کا داخلہ بھی ایک میڈیکل کالج میں ہو چکا تھا، اُنہوں نے اسکول کے معاملات ثمینہ کے حوالے کئے اور سرگودھے چلی گئیں جہاں بیٹی ڈاکٹر بن رہی تھی۔ اسلم خان نے ہمیشہ دامے درمے ان کی مدد بھی کی کیونکہ اسکول کے مالکانہ حقوق مادام کے نام ہی تھے اور گھر کی جگہ بھی چھوٹی بیٹی کے نام ہو چکی تھی۔ کچھ بلوچوں نے کوشش تو کی اس پر جھگڑا پیدا کریں مگر اسلم خان وہی کرتا تھا جو اسے ثمینہ خانم کہتی تھی جو کہ ایک وسیع القلب خاتون تھیں۔

میاں غفار شاہ اس کے بعد پندرہ سال تک زندہ رہے۔اس دوران انہوں نے چاچے فوجی کے قتل سے لے کر ثمینہ خانم کی کردار کشی کی مہم تک، علاقے میں ہر طریقے سے کرم خان کے خاندان کو زچ کرکے اپنی سیاسی و معاشی ساکھ کافی مضبوط کر لی جو اُن کے بعد ان کے بیٹوں نے سنبھالی۔ اسلم خان سیاست سے ہمیشہ کےلئے کنارہ کش ہو گیا۔حاجی یار محمد بھی میاں صاحب کی صحبت کے فیض سے بڑا سیٹھ بن گیا اور اس نے شہر جا کر اپنا تھوک کا کاروبار بڑھایا اور چند ہی سال میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک شاندار کوٹھی تعمیر کی۔ اس کے تینوں پوتے شہر کے اعلیٰ پبلک اداروں میں پڑھنے لگے۔ یہ لونڈے بہت پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے تھے، محنتی اور پبلک اسکول ڈسپلن کے کاربند۔ اُمید تھی کہ وہ ذات پات والے ذلیل نظام سے چھوٹ چکے ہیں تو اس پہ یقین نہ رکھیں گے مگر اُنہوں نے اپنے ناموں کے ساتھ ایک اور ذات کا لاحقہ لگا لیا جس کے تحفظ کے لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے پہ مستعد رہتے تھے۔ یوں بڑے درست چال چلن کے تھے۔ سید بُلبل حسین شاہ صاحب کے پانچ بیٹے تھے، ایک کو چھوڑ سارے نااہل اور نکمے نکلے۔ ان کی آخری عمر میں ان لڑکوں نے بھی میاں صاحب کے ٹاؤٹوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔

[dropcap size=big]کرم خان کا ورثہ[/dropcap] مختلف راستوں سے آگے منتقل ہو گیا تھا مگر پھر بھی یہیں کا یہیں پڑا رہ گیا جس کا وجود اگر کوئی تھا تو الکرم گرامر اسکول کی خستہ حال عمارت تھی جس کے سامنے گلی میں سارا سال گندا پانی اکٹھا ہوا رہتا تھا اور جس میں اینٹیں رکھ کر پیدل چلنے والوں کےلئے آسانی پیدا کی گئی تھی۔ میاں غفار شاہ ہاشمی کا بیٹا مخدوم فیضان علی شاہ ہاشمی ایم پی اے بنا تو اسی گلی سے گزر کر ووٹ مانگنے آیا تھا۔ اس کی مدت کو پانچ سال ہونے کو آئے ہیں، آج کل میں دوبارہ آئے گا۔ یہ گلی اپنے کیچڑ اور تعفن کے ساتھ یہیں رہے گی؛ کہاں جائے گی؟ یا پھر اسی گلی کے اگلے موڑ پر وسیع و عریض میدان ہے جس کے دائیں طرف ٹیلے پر پیر کبیر شاہ بخاری کا میلا لگتا ہے، بائیں جانب پیر صاحب کا مزار اور قبرستان ہے۔ سڑک کے کنارے پر، میدان والی جانب ایک گھنا پیڑ ہے جو اس علاقے میں شیشم کے معدوم ہو جانے کے بعد علاقے کا واحد شیشم کا پیڑ ہے، اس کے نیچے چاچا ریاض نائی نے حجام والا پھٹا لگا رکھا ہے۔ وہ کرم خان کی وفات کے بعد سے ان کے اسکول کا چپڑاسی ہے مگر اس کی تنخواہ نہیں لیتا ماسوائے اس کے کہ ثمینہ یا اسلم اپنے پلے سے کچھ دے دیں، ورنہ وہ اپنے آبائی پیشے سے ہی روٹی کماتا ہے۔ اس پھٹے سے مخالف سمت قبرستان کی حدود میں پہلی نمایاں قبر کرم خان مرحوم کی ہے جس پر ہر شام چاچا ریاض نائی چراغ جلاتا ہے۔اس نے اپنے دوست کو کوٹ سُکھے خان کا ‘دانتے’ بنا دیا ہے۔۔۔ دانتے، جس کی قبر پر اس کی موت سے آج تک اطالویوں نے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔

”چاچا ریاض! یہ چراغ کب تک جلاؤ گے؟” کرم خان کا قصہ سُن چکنے کے بعد میں نے جو ریاض نائی سے پوچھا تو وہ ہنس دیا۔ ایک شکستہ سی ہنسی۔
”جب تک زندگی نے وفا کی۔۔۔ اتنا ہی ہوتا ہے یار۔۔۔ میرے دوست کو بھی تو اس چراغ کے سوا آخر بچتا ہی کیا ہے؟” اس کی آنکھ تر ہو گئی۔ چاچا ریاض نے اپنے کام کےلئے اس جگہ کا انتخاب بلاوجہ نہیں کیا تھا۔

میری نظریں قبرستان کی جانب اُٹھیں جہاں سامنے ہی کرم خان صاحب کی قبر تھوڑے ہی فاصلے پر تھی۔ وہ مٹی کا دیا جسے ابھی کچھ دیر میں پھر روشن ہو جانا تھا، سنگِ مر مر کی سفید قبر کے پس منظر کے ساتھ ایسے نمایاں لگ رہا تھا گویا واقعی کسی بڑے شاعر، نوابی پیشہ زمیندار، عاشقِ باصفا اور دریا دل رئیس کی کُل زندگی کا اثاثہ ایک سیاہ نُکتے میں سما گیا ہو۔۔۔
دسمبر 2020
چک نمبر سات تھل شمالی

Categories
فکشن

ریگِ دیروز (ذکی نقوی)

۔۔۔ ہم محبت کے خرابوں کے مکیں
ریگِ دیروز میں خوابوں کے شجر بوتے رہے
سایہ نا پید تھا، سائے کی تمنا کے تلے سوتے رہے۔۔۔
ن۔ م راشد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھادوں کے پُر حبس مہینے کی ایک دوپہر تھی لیکن ہاڑ کی سی جھُلسا دینے والی دھُوپ اور گرم لُو کی وجہ سے بالکل بھی گمان نہیں گزر رہا تھا کہ یہ بھادوں کی دوپہر ہے، اور اسی وجہ سے مجھے تو بہت اچھی لگ رہی تھی۔ ایسے میں گھوڑے کی پیٹھ پر لمبی سواری کا خیال معمول سے ذیادہ لُطف دے رہا تھا۔ چچا کبیر علی خان سیال ڈیرے پر نیم اور کیکر کے پیڑوں تلے بندھی گھوڑی کی۔۔۔ جس کا نام اُس کی نقرئی رنگت کی وجہ سے نُکری رکھ دیا گیا تھا۔۔۔ باگیں ایک ہاتھ میں مضبوطی سے تھامے تھے جبکہ دوسرے ہاتھ سے میرا ہاتھ تھامے ہوئے سوار ہونے میں میری مدد کر رہے تھے۔ ہمارا ٹھگنا مزارع دتہ فقیر دونوں ہاتھوں سے، جن کی چھے چھے اُنگلیاں تھیں، لکڑی کا مونڈھا تھامے کھڑا تھا جس پر چڑھ کر مجھے گھوڑی پہ سوار ہونا تھا۔ میں گھوڑی پہ سوار ہو گیا۔ چچا کبیر علی خاں نے باگیں میرے ہاتھ میں تھمائیں، دتے فقیر نے مونڈھا ایک طرف کھینچ لیا۔ چونکہ میں نوآموز سوار تھا لہٰذا لمبے سفر کے لئے چچا کبیر علی خاں نے جاتے ہوئے ایک نصیحت کرنا چاہی تو ایک بار باگ میں ہاتھ ڈال کر مجھے متوجہ کیا؛

“سُنو بیٹے باگ اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑنا اور نہ ہی گھوڑی کے آگے کسی لمحے خود کو بے بس سمجھنا، یاد رکھو، عورت اور گھوڑی، جس کے تصرف میں ہوں، اُسی کے وفادار ہوتے ہیں۔۔۔ اس سے ڈرنا مت!”

اُنہوں نے اٹل لہجے میں کہا تو میرے اندر کے ‘تعلیم یافتے’ کو یہ بات ناگوار گزری۔
“چچا ایسے تو ناں کہیں۔۔۔ ہاں میں گھوڑی پہ قابو رکھوں گا!”

چچا مُسکرا دیئے۔ وہ میرے ابا اور چچا کے دوست اور، یوں کہوں کہ جاں نثار ساتھی تھے، تو بھی مبالغہ نہ ہو گا۔

‘نُکری’ ایک متانت کے ساتھ اُس پگڈنڈی کی طرف چل پڑی جس جانب چچا کبیر علی خاں سیال کا ڈیرہ تھا، میں نے سختی سے اُس کی باگیں مغرب کی طرف جانے والے صحرائی راستے کو کھینچیں تو وہ بغیر مزاحمت کے اُس جانب مُڑ گئی۔ میری منزل اسی صحرا میں کوس بھر کے فاصلے پر واقع وہ گاؤں تھا جسے میں اپنا آبائی گاؤں کہتا ہوں۔ میں نے گھوڑی کو جنوب کی طرف تھل کے گرم ٹیلوں کے درمیان لیٹی سیاہ پکی سڑک کے کنارے کنارے کچے راستے پر ڈال دیا۔ نُکری کے سُموں میں نعلیں نہ تھیں جس وجہ سے اُسے پختہ سڑک پہ دوڑانا مناسب نہ تھا۔ علاقے کے با حیثیت دہقان گھرانے کے طور پر ہمارے آفتاب کو غروب ہوئے عرصہ گزر چکا تھا اور اب گھوڑے پالنا ہماری معاشی حیثیت سے باہر کا کام تھا لہٰذا نُکری جتنی توجہ کی مستحق تھی، اتنی توجہ اُسے مل نہ سکی تھی۔ اب بھی اسے جو راسیں ڈالی گئی تھیں، یہ شہسواری والی قیمتی راسیں نہ تھیں بلکہ یکے والے گھوڑوں کی سی سستی راسیں تھیں اور روانگی سے پہلے کھانے میں بھی نُکری کو گُڑ اور گیہوں کے بجائے ‘کَھل’ اور بھوسہ کھلایا گیا تھا۔ انہی عسرتوں نے شدید ضرورت کے با وجود نُکری کو نعلوں سے محروم رکھا تھا۔ نُکری ہماری اور چچا کبیر علی خاں سیال کی سانجھی تھی۔ جو سفید پوش زمیندار اپنی غربت کے باعث گھوڑے نہ پال سکیں لیکن شوق کے ہاتھ مجبور ہوں، وہ اپنے جیسے کسی زمیندار کے ساتھ گھوڑا یا گھوڑی سانجھے پہ پال لیتے ہیں۔ پنجاب کی صدیوں پُرانی روایت ہے کہ جہاں بہت قرابت داری ہو لیکن رشتے داری نہ ہو سکے تو وہاں گھوڑیاں سانجھی کرلی جاتی ہیں۔ یہ گھوڑی ایک سید اور ایک سیال کے درمیان دوستی کی ایک غریبانہ سی علامت تھی۔ وہ چچا کبیرعلی خاں کے ڈیرے پہ بندھی رہتی تھی جہان بہتر سبز چارہ ملتا لیکن جب کبھی مجھے چاہیے ہوتی، اُن کا بیٹا ہمارے یہاں چھوڑ جاتا۔ میں کوشش کر رہا تھا کہ اسے سرپٹ نہ دوڑاوں کیونکہ میں ننگی پیٹھ سواری کررہا تھا۔ عربوں میں ننگی پیٹھ گھڑ سواری شجاعت کی علامت سمجھی لیکن یہاں سب پر عیاں تھا کہ نُکری کی پیٹھ پر زین نہ ہونا سوار کی عسرت اور تنگی کی علامت تھی۔ ابھی مہینہ بھر پہلے تک اس پر مضبوط ‘رسالے آلی سپاٹ’ ہوتی تھی جس کی گہری سُرخ رنگت گھوڑی کے نقرئی رنگ پر بہت اچھی لگتی تھی لیکن ایک شام، سیالوں کی آپس کی کسی دشمنی کے شاخسانے میں پولیس آ دھمکی چچا کبیر کے بڑے بیٹے کو گرفتار کرنے۔ وہ اپنے دو کم سن بھائیوں کو ساتھ لے کر گھوڑی پہ سوار ہوا اور ٹیلے سے اُتر کر میدانوں کی طرف اسے سرپٹ دوڑانے لگا۔ پولیس کی ویگن دریا کنارے تک تو اس کا تعاقب کر سکی لیکن پھر وہ پایاب پانیوں کو عبور کرکے ‘بیلے’میں روپوش ہو گیا۔ وہ گرفتاری سے تو بچ گیا لیکن اس جھمیلے میں وہ رسالے والی زین ٹوٹ گئی۔ اب سپاٹ خریدنے کی باری میری تھی، جو مَیں نہ خرید سکا تھا، سو اب اپنے تئیں تسلی دے رہا تھا کہ ‘کوئی بات نہیں، پرانے عرب اور تُرک شہسوار بھی ننگے پیٹھ سواری کرتے تھے!’

میری منزل۔۔۔ جسے میں اپنا آبائی گاوں بتا رہا ہوں۔۔۔ قریب آرہا تھا۔ گاوں کا نام بھی وہیں کے ایک بلوچ سردار کے نام پر تھا۔ تو ہم اسے کوٹ نیازی خان بلوچ کہیں گے۔ مرحوم نیازی خاں بلوچ کے زمانے میں یہاں معاشی اور زرعی طور پر دو ہی بڑے اور معزز قبیلے تھے، بلوچ اور سیال، جبکہ روحانی طور پر موقر گھرانا سید جلال شاہ بخاری کا تھا۔ وہ ایک سید بزرگ تھے، خدا جانے کیا پیشہ تھا ان کا۔ میرا خیال ہے کہ پیری فقیری ان کا مشغلہ اور کھیتی باڑی ان کا پیشہ تھا۔ بلوچ بھی زراعت پیشہ تھے لیکن ماہر شُتر بان اور اُونٹوں کے پالنے والے تھے۔ بلوچوں کے اونٹ ایک زمانے میں پوری روہی اور ساندل بار میں سب سے ذیادہ مانگ والے اُونٹ تھے۔ بار کے علاقوں میں “باری” اونٹ کی مانگ تھی جو کہ باربرداری کے لئے موزوں تھے۔ بلوچوں کے اونٹ “تھلوچڑ” کہلاتے تھے اور لمبے سفروں کےلئے مشہور تھے۔ انگریز حکومت اپنے سرکاری ملازموں مثلاً تھانے داروں، فوجیوں، ہرکاروں اور دیگر متعلقہ کاموں کے لئے بلوچوں سے اونٹ لیا کرتی تھی جس کی وجہ سے روہی اور ساندل، دونوں علاقوں میں بلوچ بہت با اثر لوگ تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے زمانے میں ان کے اونٹوں کو “کیمل کور” میں شامل کر کے میسو پوٹیمیا تک بھیجا گیا۔ ان میں پٹے پر لئے گئے اونٹ جب فوجی یا پولیس کی خدمات کے دوران مر جاتے تو ان کی دُم کاٹ کر مالک کو دے دی جاتی جسے ایک متعلقہ دفتر میں جمع کروانے پر اس مالک کو اونٹ کی قیمت مل جاتی تھی۔ بابا کھیڑے خاں بلوچ نے ایک دلچسپ حکایت اس بابت سُنائی تھی۔ اُن کا ایک نوسرباز اور چوری ٹھگی پیشہ چچا ایک دفعہ آس پاس کے چند دیہاتوں سے رات کے اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر کوئی درجن بھر اُونٹوں کی دُمیں کاٹ کر فرار ہو گیا لیکن ازالے کے دفتر میں کسی گورے افسر کی حاضر دماغی سے پکڑا گیا، بیچارے کی خوب درگت بنی۔

اس گاؤں کے بلوچوں میں بڑے ماہر شُتربان سپاہی پیدا ہوئے۔ بابا چراغ علی خاں رائل انڈین آرمی سروس کور میں شُتربان سپاہی تھے اور اُن کے اعزاء و اقارب میں بابا فیض احمد خاں اور مرید حُسین خاں بھی برٹش انڈین آرمی کے پُرانے شُتر بان تھے اور مصر، میسوپوٹیمیا اور فرنٹئیر کے محاذوں پر ساربانی کی مہارت کی داد انگریزوں سے بھی پا چُکے تھے۔ ان کی صحبت بلکہ ان سے قریبی تعلق نے سید جلال شاہ کی اولاد میں سید زادوں کو بھی شُتربانی کے شوق میں مبتلا کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے آغاز میں چراغ علی خاں، سید امیر حیدر شاہ کو اپنے ہمراہ رائل انڈین آرمی سروس کور لے گئے اور انہیں شُتر بان سپاہی کے طور پر بھرتی کروا دیا۔ دادا امیر حیدر شاہ کی تقلید میں ہمارے خاندان میں بڑے چچا جان کے بعد شُتر بان تو کوئی نہ بنا البتہ سپاہی درجن بھر پیدا ہوئے۔

میرا خیال ہے کہ مجھے بلوچوں کی شُتر بانی پہ اجارہ داری کی آخری مثال بیان کر کےآگے بڑھنا چاہیئے۔ یہ بھی اسی لئے ضروری ہے کہ تھل، روہی اور بار کی ثقافت میں سرائیکی بولنے والے بلوچوں کے اونٹوں کا ایک خطیر حصہ ہے۔ یہ لوک گیت اس کا ایک اظہار ہے جو پنجابیوں میں مشہور ہے:
‘نی اُٹھاں والے ٹُر جان گے، پچھے لبھدی پھریں گی نمانی،
نی سسیئے جاگدی رئیں!!’

آبادکاری کے دنوں میں جب سیالوں، کھرلوں اور دیگر جاٹ ذاتوں کو زمینیں دی جانے لگیں اور وہ ساندل بار کے وسیع رقبوں کے مالک ہونے لگے تو ایک بلوچ سردار بابا بہادر خاں ایک روز بڑے غُصے میں انگریز کمشنر (غالباََ کیپٹن پوپہیم ینگ) کے پاس پہنچ گیا؛
“صاب بہادر! اب دیکھنا تمہارے ہرکارے اور سپاہی بھینسوں پر سوار ڈاک لایا کریں گے”

گورا صاحب چونکا تو بابا بہادر خاں نے کہا کہ اگر بلوچ شُتر بان ساندل کا علاقہ چھوڑ کر تھل کو لوٹ گئے تو تمہارے لئے اونٹ فراہم کرنے والا کوئی نہ ہو گا!! انگریز افسر نے بابا بہادر سے وعدہ کیا کہ سمندری کے علاقے میں بلوچوں کو زمینیں الاٹ کردی جائیں گی لیکن اس کے فوراََ بعد سرکاری شُتر پال اسکیم بھی شروع کر دی گئی تاہم اس اسکیم پر بھی بلوچ شتر بانوں کی اجارہ داری رہی۔

کوٹ نیازی خاں بلوچ جونہی قریب آرہا تھا، گھوڑی کے قدم تیز ہو رہے تھے۔ شاید میری طرح اُس کے بھی بچپنے کی یادیں اس بستی سے جُڑی تھیں۔ میرا تو یوں کہوں کہ پورا بچپن کا زمانہ اس بستی کی آغوش میں گزرا تھا۔ لگ بھگ آٹھ دس سال نوکری چاکری اور دو چار سال تعلیم کے جھمیلوں میں بڑے شہروں کی خاک پھانکنے کے بعد میں واپس گاؤں لوٹا تھا لہٰذا یادوں کی مہربان خوشبو مجھے دوبارہ مدہوش کر کے اس بستی کی طرف کھینچ رہی تھی۔ کون جانے وہ عرصہ اس گاوں میں مَیں نے کن مزوں میں گزارا، دُنیا کتنی حسین اور رہنے کے لئے کتنی سادہ جگہ تھی اس گاوں میں!!

یہاں ہمارے دو طرح کے اقارب رہتے تھے۔ ایک تو وہ جو دادا ابا کے دیگر بھائیوں کی اولادیں تھیں دوسرا یہاں کے ایک دو بلوچ گھرانے جن سے ہمارے بڑے بوڑھوں کے بہت قریبی تعلقات اور بھائی چارہ تھا جبکہ یہاں ایک نو مسلم گھرانا میرے نزدیک ہمارا سب سے قریبی رشتےداروں کا گھرانا تھا۔ دادا کے چچا شاہ چراغ نے بنگال میں نوکری کے دوران ایک ہندو بنگالن سے شادی کی اور اُس کے یتیم بھانجے کو گود لے لیا۔ اُس یتیم بھانجے کا نام تو جگدیش سے بدل کر دینوُ رکھ دیا گیا تھا لیکن مَیں اُن کا تذکرہ اُس نام سے بھی کرتا ہوں۔ جگدیش کے نام سے مجھے اپنے پردادا کے زمانوں کی خوشبو آتی ہے۔ بابا جگدیش کی لڑکیاں جنہیں میں پھوپھیاں کہا کرتا تھا- مجھے یہی بتایا گیا تھا کہ وہ میری پھوپھیاں ہیں-اُن کے بیٹے اور اُن کی بیوی، سب مجھے بے تحاشہ پیار کرتے تھے۔ میری سگی پھوپھیاں، جن کے ہاتھوں میں مَیں پلا بڑھا تھا، اکثر یہاں آئی رہتی تھیں۔ حتیٰ کہ جب وہ ہمسائے میں چچا گُلن شاہ کے گھر چلی جاتیں، میں تب بھی یہیں رہتا۔ میں چار یا پانچ برس کا تھا لیکن ان ساری پھوپھیوں کو میری شادی کی بہت جلدی تھی۔ وہ اکثر مجھے گھیر لیتیں اور تھالی بجا کر شادی کے گانے شروع کر دیتیں۔ چچا گُلن شاہ کی جواں سال بیٹی نموں اس ناٹک میں میری دُلہن بنتی۔ پھوپھی پٹھانی اور میری سب سے بڑی پھوپھی جسے سب پیار سے ‘بنتو’ کہتے تھے، تھالی بجا کر گانا شروع کردیتیں:

“اج پہلی واری مَیں قربان زاری
ذکی نکڑا جیہا، نموں جوان ساری!!”

اور میں شرمانے لگ جاتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شادی بیاہ پہ لڑکیوں کے ناچنے اور گانے کی ممانعت شریف سے شریف گھرانوں میں بھی نہ تھی۔ پھوپھیوں نے میری شادی کے اتنے گیت گائے کہ اب میرا شرمانا ایک چڑ سے بدل گیا تھا۔ جب بھی اُن کی محفل میں مجھے کاجل لگا کے بٹھا دیا جاتا، مَیں سمجھ جاتا کہ میری شادی کا سوانگ ہونے والا ہے اور بڑی پھوپھیوں کے گانے اور نموں کے بوسے میرے گال سُرخ کردیں گے۔ ایک دن جب ان لڑکیوں نے میرے گرد روائتی لوک ناچ شروع کردیا تھا مَیں بھاگا، “بتاتا ہوں چچا ضمیر کو، کُتیائیں ہر وقت ناچتی رہتی ہیں!!” میں نے اپنے بچگانہ غضب میں کہا تو سب بھاگیں مجھے بہلانے پھسلانے کو۔ اُن کی زندگی میں تفریح کا یہی واحد ذریعہ تھا۔ ٹیلی ویژن کا وجود یہاں نہ تھا، اور ریڈیو بھی مردوں کے تصرف میں ہوتے تھے۔ یہ مواقع بھی تب ملتے جب دادا، سارے چچا اور بابا جگدیش وغیرہ گھرپر نہ ہوتے۔ خیر، نموں نے مجھے چار آنے سکہ اپنے دوپٹے کے پلوُ سے کھول کے دیا “جاؤ بکھے خاں کی دُکان سے مرونڈا کھالینا، میرے اچھے منگیتر!” وہ خوشامد سے کہتی اور میں چونی کی سکہ لے کر اُسے ایک پار پھر کُتیا کا لقب دے کر فرار ہو جاتا۔ اگرچہ یہ گھرانا ہم سب میں سب سے غریب اور مفلس تھا مگر بابا جگدیش، یعنی بابا دینُو کے گھر میری دلچسپی کی چیزیں چچا گُلن شاہ کے گھر یا بکھے خاں (بختیار خاں) کی دُکان کی نسبت زیادہ تھیں۔ مثلاََ جب بابا دینُو کی بیوی، دادی خاتوُں بی بی چکی پہ نمک پیسنے بیٹھتیں تو میں پاس بیٹھ کر معدنی نمک کے سُرخ ڈھیلوں کو پس کر سفید نمک میں بدلتے دیکھتا اور بہت لطف اندوز ہوتا تھا۔ کئی دفعہ ضد کرتا کہ میں چکی پیسوں گا یا پاٹ کے درمیانی سوراخ سے نمک کے ڈھیلوں کی دھانک دوں گا لیکن ہر دفعہ ڈانٹ پڑتی۔ دادی خاتوں بی بی مجھے ایک گالی دیتیں جو آج مجھے بہت پسند ہے؛ وہ جب مجھے “کُتا ولَیت دا” کہتیں تو مجھے اس کا مفہوم قطعی سمجھ میں نہ آتا، اب آ کے اندازہ ہوا ہے کہ اُن انگریز ی نسل کا (ولائتی) کُتا اُن انگریز بیزار بوڑھوں کے نزدیک زیادہ رزیل ہوتا تھا جس کی وجہ سے یہ گالی عام مستعمل تھی۔ اس کے علاوہ دادی کے چرخہ کا تنے کا وقت ہوتا تو وہ چرخہ نکال کر صحن میں رکھتیں اور میں پر وقت اس تاڑ میں رہتا کہ کسی لمحے چرخہ مجھے اکیلا پڑا مل جائے جبکہ دادی قریب نہ ہوں۔ مجھے اُس کے کاتنے کے عمل میں تو کوئی دلچسپی نہ تھی البتہ میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ میں اس کو اُلٹا کر اس پر چڑھ بیٹھوں جو کہ اس عمل سے میری بائیسکل بن جائے گی۔ ایک پہیہ تو چرخے کے ہوتا ہی تھا، مکمل بائیسکل بنانے کے لئے دوسرے پہیئے کا لگانا ایک بچے کی قوتِ تخیل کے آگے کچھ مشکل نہیں! ایک دن یہ موقع مل ہی گیا لیکن تھوڑی ہی سواری کے بعد دادی آ دھمکیں اور مجھے ‘سائیکل’ چھوڑ کے بھاگنا پڑا۔

اس کے علاوہ وہاں بھی ہمارے اپنے گھر کی طرح گارے کے لیپ والے کچے مکان تھے تو ان کی لپائی کا کام جہاں خواتین کے لئے ایک مصروف دن ہوتا تھا وہاں میرے لئے مزے کی سرگرمی تھا۔ پہلے تو وہ دریا کی جانب، تھال، پراتیں اُٹھائے روانہ ہوتیں جہاں سیلابی گزرگاہ میں بننے والے تالابوں کی تہہ سے چکنی، سیاہی مائل مٹی نکالنی ہوتی تھی۔ صحرا سے اُتر کر، زرخیز میدانوں، کھجور کے ننھے ننھے نخلستانوں اور کھلیانوں میں سے گزر کر ان جھیل نما تالابوں میں ڈبکیاں لگانا ہمارے لئے کسی ضیافت سے کم نہ ہوتا۔ بابا جگدیش کے لڑکوں میں سے کوئی نہ کوئی، عموماََ چھوٹا چچا ساتھ ہوتا جو خواتین کی مدد کے علاوہ گہرے پانی میں میری نگہبانی بھی کرتا۔ جب چکنی مٹی گھر پہنچا لی جاتی تو لپائی کے عمل سے پہلے گارا بنتا۔ گارے میں کھیلنے کا لُطف ہر موسم میں یکساں تھا اور یہی موقع ہوتا تھا جب کافی سارے مٹی کے کھلونے بنانے کا موقع بھی میسر آتا تھا۔

پھرجب چھوٹا چچا اپنے گدھے پہ بوریا کستا اور درانتی تھامے گدھے پہ سوار ہوتا تو میں بھی ساتھ جانے کے لئے بضد ہو جاتا کیونکہ یہ اعلان تھا چارہ کاٹنے کے لئے دریا کنارے جانے کا۔ ایک دن جیٹھ ہاڑھ کی چلچلاتی دوپہر تھی، میں چچا کے گدھے پر سوار اُن کی گود میں بیٹھا سواری سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ بابا دینو کا یہ منجھلا بیٹا چچا اختر مجھ سے زیادہ لاڈپیار رکھتا تھا۔ اُونچے پیڑوں کی ایک لمبی قطار کے نیچے ہم جنوب کی طرف گامزن تھے۔ گدھے کے پالان یعنی ‘واہنگی’ کے ڈھیلا ہونے کی وجہ سے چچا اپنا توازن درست کرنے کے لئے دائیں بائیں کروٹیں بدل رہے تھے۔ ہمارے دائیں جانب، مغرب کی طرف صحرائے تھل کے سفید چمکتے ہوئے ٹیلے اور نیلاآسمان واضح تھا جبکہ بائیں طرف گھنا جنگل تھا جس کی وجہ سے دریا کی جانب کا علاقہ واضح نہ دِکھتا تھا۔

“چچا!” میں نے اچانک کسی خیال کے زیرِاثر اُنہیں مخاطب کیا

“جی بیٹا!” اُنہوں نے گدھے کے چھڑی رسید کرتے ہوئے کہا۔

چچا کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ہوا میں اُڑیں؟”

خُدا جانے یہ خیال میرے ذہن میں اُسی لمحے آیا یا پھر بنی نوعِ انسان کی ہزاروں سالہ دیرینہ خواہش کی بازگشت تھل کے اس بچے کی صورت میں بھی اپنے اظہار کے لئے فطرت کے ہاتھوں بے چین تھی۔

ہاں بیٹا! اب تھوڑی دیر میں ہمارا گدھا بھی طیارے کے مانند ہوا میں اُڑے گا!” چچا نے سنجیدگی سے گہا۔

میں دیر تک انتطار کرتا رہا کہ کس لمحے ہم دونوں چچا بھتیجا گدھے پہ سوار ہوا میں اُڑ جائیں گے۔ جب بے کلی ہوئی تو اسی معصومیت سے پوچھا،

چچا! ہم کب اُڑیں گے؟”

اُس پگڈنڈی سے۔۔۔ ”

چچا نے چھڑی سے سامنے کے ایک موڑ کی طرف اشارہ کیا۔ میں بے چینی سے اُس پگڈنڈی تک پہنچنے کا انتطار کرنے لگا۔ ہوا میں پرواز کرنے اور پرندوں کے پاس سے گزر کر نیلے آسمان کی بلندیوں کو چھو لینے کا خیال مجھے مست کئے جا رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ بابا دینو ُ کے گھر کے اوپر سے گُزروں گا تو پھوپھی پٹھانی، پھوپھی بنتو اور چھوٹی پھوپھیاں مجھے دیکھ کر حیران رہ جائیں گی۔ اسی اثناء میں وہ پگڈنڈی آن پہنچی۔ میں نے ‘واہنگی’ کے بوریئے کو مضبوطی سے جکڑ لیا اور میرا ننھا سا دل تیز دھڑکنے لگا۔ یہ پگڈنڈی عام رستے سے ذرا اونچی تھی اور اس کے ایک طرف آب پاشی کا چھوٹا سا کھال بھی گزرتا تھا۔ گدھا ذرا سا تیز ہو کر رُکا، چچا نے اُس کی دُم کے نیچے نازک مقام پر چھڑی چبھوئی تو گدھے نے ایک زوردار چھلانگ لگائی۔ چچا، مَیں اور گدھے کی ‘واہنگی’ پلک جھپکنے میں کھال میں گرے پڑے تھے اور گدھاپاس ہی بھولا بن کے سر نیہوڑائے کھڑا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ آدھا بوریا اُس کے جسم سے بندھا تھا، آدھا ہماری ٹانگوں سے اُلجھا تھا۔ میں نے رونا شروع کردیا۔ چچا نے بمشکل مجھے دلاسہ دیا۔ میرے رونے کی وجہ وہ کبھی نہ سمجھ پائے۔

بابا جگدیش کے گھر میں ایک اور یادگار موقع وہ ہوتا تھا جب سال ششماہے میں، عموماََ چیت کی آخری جمعرات کو کبھی کسی کی کوئی منت مراد برآتی اور پیر ولائیت شاہ ؒکے دربار پر مُرغا چڑھاوا کرنے کا اہتمام ہوتا۔ خواتین و حضرات کا ایک قافلہ گھر سے روانہ ہوتا جس میں کسی ایک مرد یا خاتون کے سر پر نر مُرغ کے سالن کی بڑی ہانڈی دھری ہوتی، کسی دوسرے کے سر پر چنگیر بھر روٹیوں کا ‘بارِامانت’ ہوتا۔ سب ہنستے، گاتے، چہچہاتے پیدل پیدل دربار پیر ولائیت شاہ ؒ کی طرف روانہ ہوتے۔ مرد آگے آگے، خواتین جن میں برقع پوش اور نیم پردہ نشین بھی تھیں، پیچھے پیچھے ہوتیں۔ بابا جگدیش کی لڑکیاں پردہ نہ کرتی تھیں۔ آدھے گھنٹے کی پیدل مسافت کا یہ عرصہ میرے لئے نئی دلچسپیاں لئے ہوتا۔ مثلاََ راستے میں “جال” کا کہنہ سال پیڑ جس پہ اتنی بڑی آکاس بیل تھی کہ میں دیدے پھاڑ پھاڑ کر اسے حیرت اور خوف کے عالم میں دیکھتا رہتا۔ یا پھر ایک پُرانا اسکول جس کی بڑی بڑی کھڑکیوں میں کوئی شیشہ نہ تھا اور اس کی عمارت کیکر کے دیو ہیکل سیاہ پیڑوں سے گھری تھی۔ البتہ میں یہ سوچتا بھی نہ تھا کہ میں کبھی اس اسکول میں پڑھوں گا۔ دربار ایک اونچے ٹیلے کی چوٹی پہ تھا۔ چڑھائی چڑھتے ہوئے میں بھاگ کرمردوں سے بھی آگے نکل جاتا لیکن دادی اماں پھر دھتکار پھٹکار کر واپس بُلا لیتیں۔ دربار پیر ولائیت شاہ ؒ پر تو میلے کا سا سماں ہوتا۔ کھنکھناتی مٹی اور لکڑی کے رنگارنگ کھلونے، بھانت بھانت کی مٹھائیاں اور پکوڑے بنانے والے حلوائی اور ان کی بساطیں، اُونٹ گھوڑے اور دُلہوں کی طرح سجائے ہوئے دُنبے، بندر تماشے والے مداری جن کے ساتھ کبھی کبھار ریچھ کا ناچ دکھانےوالے ‘قلندر’ بھی ہوتے۔ چوڑیوں کے بھرے چھابے سر پر اُٹھائے چوڑیاں بیچنے والی سفید دانتوں والی کالی عورتیں جن کے جسم بہت توانا ہوتے تھے، اکثر قافلے کی مستورات میں گھِر جاتیں۔ کئی دفعہ میں ضد کر کے ایک گجرا اپنی کلائی میں بھی چڑھوا لیتا۔ اگرچہ مجھے چار پانچ سال کی اس عمر سے ہی شوق تھا کہ مجھے مرد کہا اور سمجھا جائے، پھوپھیاں اکثر میرے ساتھ لڑکیوں جیسا سلوک کرتی تھیں۔ مجھے گجرے پہنانا اور میرے ماتھے پہ بندیا لگانا اُنہیں بالخصوص مرغوب تھا۔ بد قسمتی- یا خوش قسمتی سے چچاؤں میں سے کسی کا کوئی بچہ میرے جیسا لال گلابی گالوں والا نہ تھا لہٰذا جو سُرخی غازہ اور سنگھار میرا ہوتا تھا، وہ کسی بچے کو نصیب نہ ہوا۔ بنتو پھوپھی کبھی کبھار میرا دل رکھنے کو فونٹین پین سے میرے لمبی لمبی مونچھ بھی بنا دیتیں۔ وہ لڑکیوں والے ہائی اسکول میں جاتی تھیں جو ہمارے گاؤں سے کافی دور تھا۔

اگرچہ زندگی اپنے گاؤں میں بھی دلچسپ تھی لیکن میرا جو وقت یہاں گزرتا، میں اُس کے ایک ایک لمحے سے لُطف اندوز ہوتا۔ منجھلے چچا، چچا اختر نے مجھے چولستان کی لوک داستان “ادھڑوُ مدھڑُو کی کہانی ” یہیں ایک ٹھنڈی میٹھی رُت کی رات میں کھُلے آسمان تلے چارپائی پر لیٹے ہوئے سُنائی تھی۔ صحرا میں تارے معمول سے حجم میں بڑے، زیادہ روشن اور تعداد میں بھی زیادہ نظر آتے تھے۔ یہاں راتوں کو گیدڑوں کے غولوں کی آوازیں ہمارے گاؤں کی نسبت زیادہ واضح اور بلند سُنائی دیتی تھیں اور رات کا سناٹا بھی یہاں زیادہ گھمبیر تھا۔ بابا زوار شاہ کے گھر کا آنگن تو اتنی بلندی پر تھا کہ گویا یہاں سے آسمان چھُو لو! مجھے یہ گھر بہت پسند تھا۔

بلوچوں کے ڈیرے پہ اگرچہ زیادہ تر بڑے بوڑھے ہی مل بیٹھتے تھے اور ہم بچوں کی دلچسپی کی کوئی چیز وہاں بظاہر نہ تھی لیکن بابا جگدیش کے گھر کے مقابلے میں یہاں گالم گلوچ اور کیچڑ میں کھیلنے کی زیادہ آزادی تھی جو کہ بلوچوں کے لڑکوں اور اُن کے چوڑے حوض والے نلکے کی بدولت میسر تھی۔ یہاں بلوچوں کے مویشی دن بھر پانی پیتے رہتے تھے اور حوض کے ساتھ ہی کیچڑ اور گندے پانی کا ایک بڑا ذخیرہ تھا جس سے پانی رِس رِس کر کچے راستے اور کھیتوں کو سیراب کرتا تھا۔ اس ذخیرے کے گرد بانس کی نَے کی گھنی باڑ خود رو بوٹیوں کی طرح اُگ آئی تھی۔ پانی میں سرکنڈے تیرانے، بانس کے پتوں سے سبز مکڑا –یا عابد ٹڈا- پکڑ کر اُس سے ایک زندہ کھلونے کا کام لینے اور نلکے پہ جی بھر کے نہانے کی تفریحات بلوچوں کے ڈیرے پر بلا روک ٹوک میسر تھیں جن میں چچا گلن شاہ کا بیٹا پھیمی میری مدد اور سرپرستی کرتا تھا۔ اُس نے مجھے ماں بہن کی چند ننگی گالیاں بھی سکھائیں جو میں نے ایک دفعہ بڑے چچا پر آزما کر یادگار چھترول بھی وصول کی۔

بکھے خاں یعنی بختیار خان بلوچ اُن دنوں فوج سے تازہ تازہ پنشن پا کر آئے تھے اور اُنہوں نے اپنے ڈیرے پر ہی ایک چھوٹی سی دُکان بھی بنا لی تھی۔ یہاں سے گُڑ اور چاولوں کا مرونڈا، ریوڑیاں، گُڑ کی “ٹانگری”، بُھنے ہوئے چنے، مکئی کے پھُلے اور “گاں آلی مچھی” جیسی کئی میٹھی اور مزیدار چیزیں ملتی تھیں۔ بابا جگدیش اکثر تہمد کے پلُو سے چَوَنی یا اَٹَھنی نکال کر مجھے انعام کرتے تو میرا عیش ہو جاتا۔ پھر یہاں اکثر کوئی راہ چلتا جوگی مسافر بیٹھا کسی نہ کسی تماشے، مداری یا سوانگ سے گاؤں والوں کو تفریح بہم پہنچا رہا ہوتا تھا۔ ریچھ کے تماشے والا تو بلوچوں کے مویشیوں کی قطاریں دیکھ کر قطب ہوجاتا اور دو چار روپے انعام، معہ کچھ گیہوں، مُوٹھ یا چنے کے، لئے بغیر ہرگز نہ ٹلتا۔ مجھے ریچھ سے بہت ڈر لگتا تھا لیکن میں یہ منظر دیکھتا ضرور تھا۔

یہی وہ مزے تھے کہ میرا دل اپنے گاؤں کی نسبت یہاں زیادہ خوش رہتا اور پرندوں کے مانند خود کو آزاد محسوس کرتا۔ یہاں تک کہ میں بیمار بھی پڑتا تو ضد کرتا کہ کوٹ نیازی خان بلوچ والے حکیم اللہ دتہ کے پاس لے جائیں تو بھلا ہوں گا ورنہ ہرگز نہیں! دادی اماں پھر دوپہر دیکھتیں نہ رات، لاری نہ ملتی تو مجھے اُٹھائے پیدل چل پڑتیں۔ حکیم مرحوم مجھ سے بہت پیار کرتے تھے اور میں اُن کے علاج سے بھلا چنگا بھی ہو جاتا تھا۔ ابا جان فوج سے ریٹائر ہو کر گھر آئے، مجھے میرے والدین اور بھائیوں سے متعارف کروایا اور اسکول بٹھایا گیا تو یہ مزے ختم ہو کر رہ گئے اور کوٹ نیازی خان بلوچ آنا جانا موقوف ہو گیا۔ حتیٰ کہ ایک مُدت بعد جب ایک مزارعہ کوٹ نیازی خاں سے پیغام لے کرپہنچا کہ دادا امیر حیدر شاہ فوت ہو گئے ہیں تو میرا پہلا ردِعمل خوشی کا تھا اور میں مُنہ سے ڈھول بجا کر ناچنے لگا تا آنکہ پھوپھی بنتو کے ایک زناٹے دار تھپڑ نے مجھے سنجیدہ و رنجیدہ کر دیا۔

آج جب گھوڑی کی باگ کوٹ نیازی خان بلوچ پہنچ کر بابا جگدیش کے گھرکی طرف موڑی تو اندیشوں اور خیالوں کا تانتا بندھا تھا، کون کہاں ہو گا، کون کس تپاک سے ملے گا۔ دادی خاتوُں بی بی، بابا زوار شاہ، بابا امیر حیدر شاہ، بابا علی محمد خاں بلوچ اور بہت سے بزرگ جو فوت ہو چکے تھے، اُن کے بغیر گاؤں کا ماحول یقیناََ بدل سا تو گیا تھا لیکن یہاں زندگی اب بھی سادہ تھی، خلوص اور والہانہ پن کے ساتھ جہالت اور توہم پرستی کے بھی وہی انداز ہوں گے۔ انہی سوچوں میں گُم تھا کہ ٹیلے کی ڈھلوان سے اُترتے ہی ایک جانی پہچانی آواز نے مُجھے چونکا کر متوجہ کیا،

ابے او بِجُو کی اولاد!!”

یہ آواز چچا گُلن شاہ کی تھی ! لہجہ خالص اُردو بانوں سے ملتا جُلتا جو اُنہوں نے اپنے فیض آباد (لکھنؤ) سے مہاجرت کر کے آنے والے سُسرالیوں سے سیکھا ہوگا اور یوں بھی میں جانتا تھا کہ مجھے اس لقب سے پُکارنا خاص اُنہی کا انداز تھا۔ میں بائیں ہاتھ میں باگ تھامی اور دائیں ہاتھ سے اُنہیں چُست سا سلیوٹ کیا،

“سلام چچا جان!” وہ ٹیلے سے اُتر رہے تھے۔ باریک کپڑے کا لمبا سفید چولا پہن رکھا تھا، ہاتھ میں قد آدم عصا تھا اور اُن کی لمبی سفید ڈاڑھی ہوا سے لہرا رہی تھی۔ میرے سلیوٹ کے جواب میں وہ بھی اپنا دایاں ہاتھ اپنی سفید ابرُو کے بیرونی کونے تک لے آئے۔ اُن کے ہاتھ کی دو اُنگلیاں غائب تھیں جو کہ اکہتر کی لڑائی میں کسی ہندوستانی فوجی کے سینے کا تمغہ بن گئی تھیں۔ اُنہوں نے مجھ سے اماں ابا کی خیریت دریافت کی، اتنے لمبے عرصے تک ددھیالی گاؤں کا چکر تک نہ لگانے پر مجھے اُلو کا پٹھا قرار دیا اور بہت سی دعائیں دے کر چلتے بنے۔ وہ فوج چھوڑنے کے بعد پیری فقیری کے مشاغل اپنا چکے تھے اور اب بھی نجانے کس لہر میں تھے۔

ڈھلوان سے راستہ بستی کی طرف اُترتا تھا، راہ پڑتے ہی پہلا گھر بابا چراغ علی خاں کا آتا تھا، میں نے گھوڑی پر بیٹھے ہی آسانی سے دیکھ لیا کہ بابا جی صحن کے درمیان میں کیکر کی ٹھنڈی چھاؤں تلے بیٹھے ایک سگریٹ کو حُقے کی نے کی مانند دبوچے اپنی پَون صدی پُرانی سپاہیانہ شان سے پئے جا رہے تھے۔ سامنے بابا جگدیش کے گھر کے پستہ قد چوبی دروازے سے چچا اختر نکلتے نظر آئے۔ میں سلام کرنے کے لئے گھوڑی سے اُتر آیا۔ وہ آگے بڑھ کے گلے ملے،

“اتنا لمبا ہو گیا ہے سُرخے!!”

مجھے سرتاپا دیکھ کر ہنسے اور میرا ہاتھ تھام لیا۔ منجھلے چچا ویسے ہی دھان پان تھے لیکن سر میں سفیدی آگئی تھی، چہرے پہ وہی بشاشت۔
“کہاں جا رہے ہیں چچا؟ میں تو آپ کے ہاں۔۔۔ ”

میں نے پوچھا تو انہوں نے میری بات کاٹ کر ہاتھ کے جھٹکے سے مجھے ہدایات دینا شروع کردیں،

گھوڑی کو وہاں باندھو، بکھے خاں کے ڈیرے پہ، اسے پانی پلاؤ اور پھر بابا چراغ علی خاں کے گھر آجاؤ جلدی سے، میں اُن کی عیادت کرنے جا رہا ہوں، جلدی آؤ، وہیں بیٹھ کر گپ ہانکتے ہیں!”

میں آگے بڑھ کر بختیار خاں کے ڈیرے پر پہنچا جہاں اُس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا، کمزور اور دُبلے مویشی وعلان کررہے تھے کہ خاں صاحب موصوف پر بھی تنگدستی آگئی ہے۔ میں نے گھوڑی کو ایک درخت سے باندھا، راسیں کھول دیں اور پانی کی چھاگل ایک گائے کے سامنے سے اُٹھا کر گھوڑی کے سامنے رکھ دی۔ وہ پانی پینے لگی تو میں نے شفقت سے تھوڑی دیراس کی ایال میں ہاتھ پھیرا اور پھر تیز قدموں سے بابا چراغ علی خاں کے گھر آ گیا۔

“آؤ بھئی، آؤ بھئی!”

بابا چراغ علی خاں نےاپنی چارپائی پہ بیٹھے بیٹھے ہی بانہیں پھیلائیں اور مجھے بڑے تپاک سے ملے۔

“تمہارا باپ تو اس گاؤں کا رستہ ہی بھول گیا ہے، چلو یہ بھی غنیمت ہے کہ آج تمہاری صورت میں اُسے دیکھ لیا”

وہ بڑی اپنائیت سے کہنے لگے۔

“تمہیں تو پتہ نہیں اس کا علم بھی ہے یا نہیں، کہ تمہارے بزرگوں سے ہمارا کیا رشتہ تھا!! تمہارے پڑدادا کو میں ماموں کہا کرتا تھا اور تمہارے دادا کی پہلی بیوی سردار خانم سے اُنہوں نے میرے ابا کے حُکم پر نکاح کیا تھا۔۔۔ ”

وہ سادگی سے کہنے لگے۔

بابا جی سب جانتا ہوں، تبھی تو ددھیالی گاؤں میں سب سے پہلے آپ سے مل رہا ہوں!”

میں نے مونڈھا کھسکا کر اُن کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا تو وہ مسوڑھے نکال کر ہنس دیئے۔

“گھوڑی کو پانی پلالیا تُم نے؟”

چچا نے پوچھا میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“صفیہ! دیور کے لئے پانی لے آؤ، آج مُدت بعد آیا ہے، کھانا بھی دھرو چولہے پہ۔۔۔ ”

بابا چراغ علی خاں نے صحن کے کونے میں بیٹھی ایک جوان عورت سے کہا، پھر میری طرف رُخ موڑا،

“اچھا شہسوار منزل پہ پہنچتے ہی پہلے اپنے گھوڑے کو پانی پلاتا ہے، پھر خود پانی پیتا ہے”

اُنہوں نے ناصحانہ انداز میں اپنا ضعیف ہاتھ کھڑا کرکے کہا تو چچا اختر نے میری طرف یوں دیکھا گویا کہہ رہے ہوں کہ یہ غائت تھی میرے حُکم چلانے کی!

“بیٹا پگڑی بھی باندھا کرو! گھوڑے پہ ننگے سر بیٹھنا خلافِ ادب ہے!”

اُنہوں نے لگے ہاتھوں ایک اور نصیحت بھی کر دی۔

پھر بابا چراغ علی خاں نے اپنے دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کے قصے چھیڑ دیئے، مزے کی گپ سُنائی۔ اس عمر میں بھی بلا کی حسِ مزاح تھی، خُدا جانے کتنی دیر گزر گئی ہنستے ہنساتے۔ اس گاؤں کی فضا میں پھر وہی جانی پہچانی آوازیں اور لب و لہجے جو میری بچپن کی سماعتوں سے مخصوص تھے، دوبارہ احساس میں زندہ ہوئے تو یوں لگا کہ میری زندگی میں بچپن اور اِ س عمر کے درمیان اتنے لمبے عرصے کا فاصلہ کبھی تھا ہی نہیں- بلکہ بابا چراغ علی خاں کی باتوں سے تو یہ احساس ہو رہا تھا کہ ہماری تاریخ میں کبھی تقسیم کا واقعہ بھی نہیں ہوا۔ وہی انگریز افسروں کی بد دماغیوں کی باتیں، رسالے کے گھوڑے، کیمل کور کے اُونٹ، توپخانے کے خچر، بانکےسکھ نوجوان، ہندو سیٹھوں کی مغرور لڑکیاں اور نجانے کیا کیا کردار اُن کی باتوں میں تھے۔۔۔ بابا جی کی صحت ساتھ دیتی تو میں سب قصوں کی جزئیات میں بھی جاتا لیکن میں نے اُن کے آرام کے پیش نظر اجازت مانگی اور چائے پی کر ہی چچا کے ہمراہ گلی میں نکل آیا۔ چچا اختر جس لاری پہ کنڈیکٹر تھے، اُس کے آنے کا وقت تھا، وہ تو سلام کہہ کر سڑک کی جانب اُترنے والے ٹیلے پر چڑھ گئے، میں یہاں سے بابا جگدیش کے گھر کی طرف آگیا۔

چھوٹی پھوپھی اپنے میاں اور بچوں کے ساتھ بیٹھی اُبلے ہوئے آلو کھا رہی تھی۔ سب بڑے والہانہ ملے، پھوپھی نے میرا سر چوما، اُن کے میاں سن رسیدہ ہونے کے باوجود بڑے احترام سے ملے اور بچے تو مجھ سے لپٹ گئے۔ کھجور کے پتوں سے چھتے گئے چھپر کے نیچے جن جھلنگا چارپائیوں پر وہ بیٹھے تھے، یہ اُسی معیارِ زندگی کی غماز تھیں جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ یہاں شاید وقت کی رفتار بہت کم تھی۔ میں بھی چارپائی پہ جگہ پا کر بے تکلفی سے بیٹھ گیا اور بے تکلفی سے اُبلے الو کی قاشیں اُٹھا کر کھانے لگا۔ چارپائی پہ سامنے بیٹھے ایک میزبان کو میں نہ پہچان سکاتھا۔ کناری گوٹے والے سیاہ جوڑے میں ملبوس گورے گندمی رنگ کی اس لڑکی کی دلآویز آنکھوں کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ وہ نووارد مہمان کے بظاہر اجنبی ہونے اور پھر یوں ان سب میں گُھل مل جانے سے لُطف اندوز ہو رہی تھی۔ گھنی بھنویں اور ابروئیں واضح طور پر چغلی کھا رہی تھیں کہ ‘اجنبی میزبان’ بلوچ قبیلے سے ہے۔ میں اُن آنکھوں میں جھانکنے کے مختصر لمحے میں اپنی مسکراہٹ ضبط نہ کر سکا البتہ اسے اُن ہنسی قہقہوں میں چھپا گیا جو کہ پھوپھی کے میاں اور بچے میری فوجی قمیص پر پھبتیاں کستے ہوئے گاؤں کی فضا میں بکھیر رہے تھے۔ ہمارے گاؤں کے اکثر مفلوک الحال دیہاتیوں کی مفلسی کو بھی ہمیشہ سے فوجی سپلائی کے کپڑے لتے ڈھانپتے چلے آئے ہیں۔ عالمی جنگوں سے اب تک کتنے سپاہی ہو گزرے تھے لہٰذا فوجی کپڑا، جوتے، کمبل، مچھردانیاں،کوٹ اور جرسیاں ہم دیہاتیوں کی دسترس میں آنے والا سستا ترین متاعِ فقیر ہیں جس کے لئے کسی سپاہی بھائی بیٹے کو حُکم کرنے یا کسی فوجی ہمسائے کو دُعا دینے سے زیادہ کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ پھوپھی کی بکری بھی جس کا نام مجھے نازش بتایا گیا تھا، اس وقت چارپائی کے پائے سے جس رسی کے ساتھ بندھی تھی، وہ لڑاکا طیارے کے ڈریگ شوٹ کی سسپنشن لائن تھی اور اس کے عوض وارنٹ افسر منظور خان بلوچ کو چاند سا بیٹا عطا ہونے کی دعائیں ملی ہوں گی- بے چارے کے ہاں تمام لڑکیاں ہی پیدا ہو ئی ہیں۔ مجھ سے اماں ابا کے احوال پوچھے گئے تو میں نے ہر دو کے درمیان ہونے والی ایک فرضی لڑائی کا تازہ ترین قصہ سُنا کر سب کو خوب ہنسایا۔ وہ لڑکی بھی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں سُرخ ہوئے جا رہی تھی اور میں ہر بار نظریں چُرا کر اُسے دیکھتا تو وہ لجا کر اس سُرخی میں اور اضافہ کر دیتی۔

اس سے بات کرنے کی مبہم سی خواہش دل میں اُٹھی لیکن کیا کہتا- وہ برابر مسکرائے جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں پھوپھا نے درانتی اُٹھائی اور چارہ کاٹنے نکل گئے، اُن کا چھوٹا بیٹا اُن کے کندھے پہ سوار ہو گیا۔ پھوپھی تندور کی مرمت کرنے لگ گئیں۔ بڑا لڑکا مٹھُو میرے پاس بیٹھا مجھ سے باتیں کرتا رہا۔ اسی اثناء میں ہمسائے سے، یعنی بختیار خاں کے گھر سے کسی خاتون کے بولنے کی آواز آئی، مخصوص قسم کے نسوانی لہجے کی فریکوئینسی بتا رہی تھی کہ کسی کو کوسا جا رہا ہے۔

“اوہو! لو پھوپھی! میری ساس کا ہارن بج گیا، میں تو چلی!”

اُس لڑکی نے پھوپھی کی طرف دیکھ کر کہا اور دوپٹہ سنبھالتی ہوئی چل دی۔ اس کے چہرے پہ وہ مسکراہٹ اب بھی تھی۔

“پھوپھو!”

میں اُٹھ کر تندور کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور بڑے خوشامدی لہجے میں چھوٹی پھوپھی سے مخاطب ہوا۔

“یہ لڑکی کون ہے؟”

پھوپھی میرے لہجے کا تجسس بھانپ گئیں۔

“تیری ماں ہے!! میں سمجھ گئی تُو کیوں پوچھ رہا ہے- سوہنی ہے ناں، اس لئے!”

پھوپھی نے مصنوعی ناگواری سے کہا۔

“وہ تو ہے- بکھے خاں کی کچھ لگتی ہے؟”

میں نے اسی تجسس سے پوچھا لیکن پھوپھی سے ماں کی گالی سُن کے بھی باز نہ آیا۔ مٹُھو جو سات آٹھ برس کا ہوگا، اور انتہائی شریر لڑکا تھا، پاس بیٹھا سُن رہا تھا۔

“اوئے سناز نام ہے اس کا، بکھے خان کی بہو ہے!”

مٹُھو اونچی آواز میں بولا۔

“شہناز- نام کتنا پیارا ہے، جیسی خود، ویسا نام۔۔۔ ”

میں نے فلمی عاشقوں کے انداز میں سینےپہ ہاتھ رکھ کے کہا تو پھوپھی نے جُوتا اُتار کر مٹھو کی طرف پھینکا، وہ بھاگ نکلا۔

“مادر۔۔۔ سارے چھوٹے بڑے عاشق مزاج ہیں۔۔۔ ”

پھوپھی نے ہنستے ہوئے کہا تو میں نے مزید خوشامد کے انداز میں پھوپھی کے پاؤں چھو لئے اور دیر تک انہیں ادھر اُدھر کی باتوں میں ہنساتا رہا۔

پھر میں چچا گُلن شاہ کے گھر گیا۔ باجی نموں میکے آئی ہوئی تھی۔ اُس کے سر میں بھی چاندی آگئی تھی اور رنگت سنولا گئی تھی۔ مجھے بڑی اپنائیت سے ملی۔ اُس کا بیٹا تیرہ چودہ برس کا نوجوان تھا اور خوبصورت لڑکا تھا، مجھے ماموں کے طور پہ اُس سے متعارف کرایا گیا۔
“تمہارا یہ ماموں پانچ سال کی عُمر تک میرا منگیتر تھا!”

باجی نموں نے کہا تو ہم سب ہنس دیئے۔ چچا ضمیر کے گھر گیا تو ایک ایک پیڑ کے تنے سے بغلگیر ہونے کو جی چاہا۔ یہ میرا ددھیالی گھر تھا۔ میرے بچپن میں بابا امیر حیدر شاہ ایک طرف کونے میں چارپائی پر بیٹھا کرتے تھے۔ دُبلے اور بہت لمبے۔ مُجھ سے پوچھتے تھے، کس کے بیٹے ہو؟ کیا نام ہے؟ آج اُسی کونے میں اُن کی قبر تھی اور وہ کونا ہمسائے والے امام باڑے کا حصہ بن چکا تھا۔ اُن کی بیوہ اماں بانو زندہ تھیں اور مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ “چڑھدے پنجاب” کی سی بولی بولتی تھیں اور میری بلائیں لیتی نہ تھکتی تھیں۔ میں نے خیر خیریت دریافت کی۔ بتانے لگیں کہ بابا مرحوم کی برٹش انڈین فوج والی پنشن اُنہیں مل رہی تھی اور غربت میں سہی، صبر و شکر میں گزر رہی تھی۔ چچا ضمیر فوج چھوڑ نے کے بعد نجانے کتنے پیشے بدل چکے تھے، آج کل گاؤں میں تھے۔ مجھے ساتھ لے کر وہ بابا علی محمد خان بلوچ کے ڈیرے پر چلے آئے۔ بکھے خاں کے ڈیرے کے برعکس بابا علی محمد خاں کا ڈیرہ گاؤں کے سنجیدہ اور بڑی عمر کے لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی – بکھے خاں کے ہاں تو دیہہ بھر کے لقندرے اکٹھے ہوتے تھے۔ بابا علی خاں کے ڈیرے پر کافی سارے جوان اور بزرگ بیٹھے تھے، بڑے تپاک سے ملے، کچھ نے پہچانا، کچھ نے نہ پہچانا، اُن سے چچا نے میرا تعارف کروایا؛

“محمد ذکی، بھتیجا ہے میرا۔۔۔ ماشااللہ سے بی اے پاس ہے”

سب نے تعریفی اور رشک بھری نظروں سے دیکھا۔ ایک دو نے ابا جان کی خیریت دریافت کی۔

“اللہ اپنی امان میں رکھے بیٹا، تمہارے باپ کو بھی،جس نے محنت کرکے، غریب سے دیہہ کے پس منظر سے تمہیں اتنا بڑا آدمی بنایا۔۔۔ ”

پائند خان نے حُقے کا کش لیتے ہوئے مجھے مخاطب کر کے کہا تو مجھے خوشگوار سی حیرت ہوئی کہ یہاں اب بھی بی۔ اے پاس کا مطلب “اتنا بڑا آدمی” ہوتا ہے۔ خیر گزری کہ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ آج کل نوکری کہاں ہے؟؟؟

بابا جگدیش سے نہ مل پایا، وہ گاؤں میں نہ تھے۔

میں اپنے گاؤں واپس توآ گیا لیکن یہاں کی مصروفیات میں بھی شہناز خانم میرے خیالوں پہ حاوی رہی۔ کوٹ نیازی خان بلوچ کے ساتھ کم سنی کی اپنائیت اب ایک نیا رُخ پکڑ رہی تھی- یا واضح طور پر کہہ دوں ایک فردِ واحد کی اُلفت کا رُوپ دھار رہی تھی۔ گھر کے کام کاج- بڑے چچا کے ساتھ مویشیوں کے چارے پانی کے کام، ابا جان کا حُقہ بھرنا، جلانے کی لکڑیاں کاٹنا، نیز دن بھر کی مصروفیات کے دوران میرے خیالوں کا محور یہی تھا کہ اب کسی بہانے سے دوبارہ وہاں جاؤں اور شہناز کو دیکھوں۔ نُکری کو ڈیرے پہ بندھا دیکھ کر سفر کی خواہش اور بھی بھڑک اُٹھتی۔ ایک دن ایک جھوٹا سچا بہانہ مل ہی گیا۔ بابا جگدیش بیمار تھے، اُنہوں نے کہلا بھیجا کہ اُن سے ڈاک لے کے تقسیم کردوں جو آج کل اُن کی ذمہ داری تھی جس کے عوض یونین کونسل سے چند روپے پا لیتے تھے۔

“ابا جی، بابا دینُو بُلاتے ہیں- بیمار ہیں۔۔۔ اُن کی ڈاک تقسیم کرنے والا کوئی نہیں۔ یونین کونسل کا ہرکارہ آیا تھا”

میں نے پریشانی کی اداکاری کرتے ہوئے منمنا کر اباجان سے کہا، اجازت مل گئی۔ بھاگم بھاگ نُکری کو پانی پلایا، راسیں باندھیں ایڑھ لگائی اور چل نکلا۔ نُکری کو سرپٹ دوڑنے کی کم ہی عادت تھی لیکن میرا بس چلتا تو آج اُسے اُڑا کر منزل پہ پہنچ جاتا۔ خیر، کوٹ نیازی خان بلوچ کون سا دور تھا، پہنچ ہی گئے۔ بابا جگدیش اُسی چھپر تلے چارپائی پر دراز تھے۔ چھوٹی پھوپھی اور باجی نموں پاس بیٹھی تھیں۔ مَیں بابا سے مَلا۔ میں اُن کو بچپن سے ہی بُوڑھا دیکھتا آیا تھا۔

کیا محبت ہے پوتے کو بابا دینُو سے! پیغام ملتے ہی چلا آیا!”

پھوپھی نے شرارت بھرے لہجے میں مسکرا کر کہا تو بابا نے شفقت سے میرے گال پہ تھپتھپایا۔

“بس پھوپھی، محبت ہے ہی ایسا جذبہ۔۔۔ ”

میں نے مسکرا کر پھوپھی سے کہا تو اُنہوں نے ہاتھ کے پنجے سے مُجھے پھٹکارنے کا اشارہ دیا۔ مٹھو پاس بیٹھا بغیر کچھ سمجھے ہی دانت نکالے جا رہا تھا۔ اُس کے کالے کٹ لیکن معصوم سے چہرے پر اُس کے ننھے ننھے سفید دانت اور آنکھیں زیادہ چمک رہی تھیں۔ میں دیر تک بابا کے پاس بیٹھا رہا، کچھ خواتین آس پاس سے اُن کی عیادت کے لئے آئیں لیکن شہناز نہ آئی۔ میں تلملا کر رہ گیا۔ اسی اثناء میں مٹھو نے ضد کرنا شروع کردی کہ اُسے گھڑ سواری کرائی جائے۔ ناچار ڈاک لی اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔ بکھے خاں کے ڈیرے پر گھوڑی بندھی تھی، خان موصوف تہمد باندھے اپنے دو بیٹوں کے ساتھ، چھپر کے نیچے گہری نیند سوئے تھے۔ نُکری نلکے سے بندھی حوض میں مُنہ رکھے کھڑی تھی جبکہ نلکا چلانے والے ہاتھ شہناز کے تھے۔ دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لئے رُک سی گئی۔ شہناز کی نظر مجھ پہ پڑی تو وہ لجا کر بجلی کی تیزی سے ڈیوڑھی میں چلی گئی۔ مٹھو مجھے بوکھلایا دیکھ کر ہنس دیا۔

“اوئے باجی سناز تجھے اچھی لگتی ہے؟” کم سن مٹھو جو عمر میں مجھ سے اٹھارہ بیس سال چھوٹا تو ہو گا، مجھ سے بے تکلفی سے بولا۔ آخر ماموں زاد، پھوپھی زاد ایک جیسے ہی تو ہوتے ہیں- پھر ہمراز ہوں تو کیا ہی بات ہے!۔ میں نے مٹھو کو دونوں ہاتھوں میں اُٹھا کر گھوڑی پہ بٹھایا۔

“فوجی! تُو اس پہ ‘آسِک’ ہو گیا ہے ناں؟”

چند قدم چلنے کے بعد مٹھو نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔ میں مزے میں تھا۔ شہناز کا یوں شرما کر اندر چلے جانا ایک معنی رکھتا تھا- دن بھر تو دیہہ بھر کے مردوں کی موجودگی میں اسی نلکے پہ برتن مانجھتی تھی، میر ی ہی باری ایسا کیوں۔۔۔

“اوئے بھوتنی کے!!! تُو نے یہ باتیں کہاں سے سیکھیں؟؟”

میں نے مصنوعی ناگواری سے کہا۔

“کسی کے سامنے منہ سے پھوٹا تو مار مار کے دُنبہ بنا دوں گا!!”

میں نے اپنا بازو بلندی تک اٹھا کر اُس کے کان کو دبوچا جو اُس کے چہرے کے تناسب سے بہت بڑا تھا۔ مٹھو برابر ہنسے جارہا تھا۔ وہ بھی مزے میں تھا۔ روزانہ گدھے کی سواری کرتا تھا، آج گھوڑی پہ بیٹھا خود کو دُلہا محسوس کر رہا تھا۔ میں نے اس سے شہناز کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ اس بالشت بھر کے کم سن مشٹنڈے کے پاس تو کافی معلومات تھیں “باجی سناز” کے بارے میں۔ شہناز تھی تو اسی گاؤں کی لیکن پلی بڑھی سرگودھے میں تھی۔ اُس کے ابا کو میں جانتا تھا۔ صوبیدار یونس خان بلوچ، چچا گُلن شاہ کی پلٹن کے تھے لیکن اُن سے نوکری میں بہت بعد آئے تھے تاہم خوب دوستانہ ربط تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یونس خاں سرگودھے کے ہی ہو کر رہ گئے۔ شہناز کی شادی کم عمری میں ہی بکھے خاں کے بڑے لڑکے مختار خاں سے ہوگئی تھی۔ وہ ہمارے سن کا تھا اور ہم اسے مَتے خاں کہتے تھے۔ یہاں عُرفی نام عمر بھر جان نہیں چھوڑتے۔ مَتے خاں پڑھ لکھ نہ سکا تھا اور اب راج مستری کا کام کرتا تھا۔ شہناز کا بیٹا رضا علی دو ڈھائی برس کا ہوگا۔ مٹھو نے بتا یا کہ خانم چچی- شہناز کی ساس- اُس سے ہر وقت جھگڑتی رہتی تھی اور اُس کو بیٹے سے پٹواتی بھی تھی۔ علاوہ ازیں مٹھو کا خزانہء معلومات غیر ضروری تھا لیکن اس سے ہماری دوستی بڑی پکی ہو گئی۔ مٹھو نے مجھے اپنا اصل نام بھی بتایا جو بعد ازاں مجھے بھول گیا۔ واپسی پہ میں نے مٹھو کو گھر چھوڑا تو پھوپھی دروازے میں بیٹھے اپنی بکری ‘نازش’ کو روٹی کے ٹکڑے کھلا رہی تھی، سنجیدگی سے مخاطب ہوئی؛
“انسان بن جاؤ ذکی! مَتے خاں تمہارے چچا اختر کا جگری یار ہے- بلکہ بھائی بنا ہوا ہے اور اختر ہمیشہ شہناز کو بھابی کہہ کر پکارتا ہے- باز آ جاؤ، اُلجھنوں میں پڑو گے!”

وہ سنجیدہ تھیں لیکن میں سرشاری میں تھا۔

پھوپھی دل جو دیوانہ ہے یہ۔۔۔ ”

میں نے شوخی سے اداکاری کی تو پھوپھی نے قریب پڑا جھاڑو اُچک کر چھپاک سے میرے پہلو میں رسید کیا

“تیرے دل کی تو ماں کی۔۔۔ ”

لیکن میں ہنس دیا، وہ بھی ہنس کر اپنے کام میں لگ گئیں۔

واپسی کے سفر میں مَیں بار بار آگے کو جھک کر نُکری کے گلے میں بازو حمائل کر کے گانے لگتا:
“آ میڈا دلدارا!!! میڈے سینگڑیں دا سردارا!!!”
)آ میرے محبوب! میرے ہم عمروں کے سردار (

نُکری نتھنے پُھلا کر رُک جاتی۔ ایک دفعہ تو میں نے اُس کی گردن زبردستی پیچھے موڑ کر اُس کے نتھنوں کا بوسہ لے لیا۔ نُکری بھی مسکرا رہی تھی۔ بلکہ آس پاس کے ٹیلوں پر چشم براہ کھڑے کیکر کے پیڑ بھی مسکرا رہے تھے، راہ چلتے تھلوچڑ اونٹ بھی جھومتے مسکراتے جا رہے تھے۔

پھر کئی دن گزر گئے۔ گھر کے کام کاج اور ماں باپ کی بلاناغہ پھٹکار نے کبھی گاؤں سے نکلنے ہی نہیں دیا۔ پھر عید کا دن آ گیا۔ بڑے بھائی کو چھٹی ملی نہ اسد گھر آیا، بس میں اور حسُو ہی گھر پر تھے۔ اپنی سی عید تو والدین کے ساتھ مل کر منائی لیکن میری عید نامکمل سی تھی۔ کافی دیر بے چینی میں ادھر اُدھر پھرا، پھر حسُو کو سب قصہ بتا دیا۔ اُس نے ایسی چال چلی کہ ابا نے فوراََ ہم دونوں کو کوٹ نیازی خان بلوچ جانے کا حُکم دے دیا، ساتھ میں اپنے شناختی کارڈ کی نقل دی کہ بابا دینُو کے حوالے کردینا۔ خدا جانے حسُو نے کیا کہا تھا۔ خیر بلیوں اُچھلتے پیدل چل پڑے۔ راستے بھر گاتے گئے اور پیر ولائیت شاہ ؒ سے دیدار کی مرادیں مانگتے گئے،
“پیر کاملا! عید نہ کرکری کر دینا!”

پھر موسم بھی ابر آلود ہوگیا، صحرا کی مسافت کا لُطف سہ بالا ہوگیا۔ منزلِ مقصود پر پہنچے۔ شہناز کے گھر کے سامنے بابا چراغ علی خاں کھڑے تھے، جلانے کی لکڑی کاٹنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کلہاڑی ہی ہاتھ سے چھُوٹ چھُوٹ جاتی تھی۔ میں نے سلام عرض کر کے کلہاڑی ان کے ہاتھ سے لی اور لکڑیاں کاٹنے لگا۔ کچھ تو وہ اونچا سنتے تھے، کچھ میں بھی اُونچا بولنے لگا تاکہ ڈیوڑھی کے اندر تک آواز جائے۔ اُن کا دُوسری جنگِ عظیم کا ایک قصہ ہی مکمل ہوا تھا کہ میں نے ساری لکڑیاں کاٹ پھینکیں۔ شہناز سامنے نہ آئی۔ بابا نے مجھے ڈھیروں دعائیں دیں اور لکڑیاں سمیٹ کر اندر چلے گئے۔ میں پھوپھی کے ہاں چلا آیا۔ وہ گُڑ والی سویاں بنانے بیٹھی تھیں، آتے ہی تام چینی کی پلیٹ میں مٹھی بھر سویاں بھر کر میرے سامنے رکھ دیں۔ وہ چولہے کے سامنے بیٹھی تھیں، میں بھی زمین پر آلتی پالتی مار کر ان کے سامنے بیٹھ گیا۔ میں سویاں کھا کر پھوپھی کے دوپٹے سے ہاتھ پونچھ رہا تھا کہ عقب سے ایک نسوانی آوازآئی:
“سلام علیکم، عید مُبارک!”

یہ آواز شہناز کی تھی۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ پیچھے مُڑا تو وہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ ایک ہاتھ کا فاصلہ بھی تو نہ ہو گا۔ آنکھوں اور ہونٹوں کی وہی مسکراہٹ- میں ایک لمحے کو گُنگ سا ہو گیا۔ حسُو فوراََ اُٹھ کر چچا اختر کے آنگن میں چلا گیا۔

“بیٹھیں!”

میں نے چارپائی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بیٹھ گئی۔ میں دوسری چارپائی گھسیٹ کر اُس کے سامنے بیٹھ گیا۔ وہ برابر مسکرائے جا رہی تھی۔ اُس نے آج بھی وہی سیاہ جوڑا پہن رکھا تھا، سنہری گوٹے کناری والا۔ میں بھی اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر برابر مسکرائے جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ گفتگو کہاں سے آغاز کی جائے۔۔۔

“آپ کی پھوپھی زاد بہن۔۔۔ فرزانہ مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی۔۔۔ ”

اُس نے بات کا آغاز کردیا۔

“کیوں؟”

میں نے تجسس سے پوچھا۔ گفتگو آغاز تو ہو گئی تھی لیکن اس میں پھوپھی رضیہ کی بیٹی کہان سے ٹپک پڑی؟

“وہ جو ہے ناں فرزانہ۔۔۔ وہ سُنی ہو گئی ہے اور کہتی ہے کہ عاشور کے دن سوگ نہیں منانا چاہیئے۔ مجھے سخت بُرا لگتا ہے، کسی دن وہ خبر لُوں گی اُس کی کہ۔۔۔ بس آپ سمجھا لیں اُسے!”

شہناز کی اس بات پہ میں تھوڑا سا چونکا اور پھر مجھے ہنسی اور پیار مل کر آئے، میں ہنس دیا۔

“خاں صاحب!”

میں نے اُسے ہنستے ہوئے ہی جواب دیا۔

“اگر آپ عید کے دن سیاہ جوڑا پہن سکتے ہیں تو میری پھوپھی زاد عاشور کے دن جشن بھی منا سکتی ہے!”

میں نے چہل کرتے ہوئے کہا تو وہ شرما سی گئی۔

“اب ایسے تو نہ کہیں آپ۔ سیدوں کو ایسی باتیں نہیں کہنی چاہئیں۔ ہاں میں تو ہر وقت سوگ میں رہتی ہوں۔ جب زندگی میں دُکھ ہی دُکھ ہوں تو۔۔۔ ”

وہ اُداس ہو گئی۔

“اے ہے! یہ کیا محفل جم گئی بھئی؟ مجھ غریب کو گاؤں سے نکلواؤ گے؟ یہ نیا سسی پُنوں کا قصہ اُگ رہا ہے یہاں!!”

پھوپھی نے مصنوعی سی ناگواری سے مجھے اور شہناز کو ڈانٹا۔

“ہم کسی سے ڈرتے ہیں کیا؟؟”

شہناز نے بھاؤ بتانے کے انداز میں کہا تو میرا دل خوشی سے اچھل پڑا۔

“یہ دکھائی ناں بلوچوں والی دلیری!!”

میں نے تعریفی انداز میں کہا، شہناز شرما گئی۔ پھوپھی چولہے پہ جا بیٹھیں۔

“کیا غم ہے آپ کو یہاں رہتے ہوئے خانم شہناز جہاں بیگم؟؟؟ اتنی سادہ اور پر سکون زندگی ہے یہاں۔ اور پھر آپ کی عمر ہی کیا ہے غموں کی؟ ایسا نہ کہا کریں”

میں نے اپنائیت سے مسکرا کر کہا تو وہ اُداسی میں مسکرا دی۔

“جب شادی ہوئی تھی تو وہ کون سا بیاہے جانے کی عمر تھی! آٹھویں پڑھتی تھی میں۔۔۔ آرمی پبلک اسکول میں۔۔۔ ”

شہناز نے کہا تو میں چونک گیا۔

“خاں صاحب نے پھر تو بڑا ظلم کیا ! پڑھے لکھے فوجی آدمی تھے، اُنہیں تو یہ زیب نہیں دیتا تھا!”

میں نے احتجاج کے انداز میں کہا۔

“لیکن تھے تو بلوچ قبیلہ!! برادری، رسم و رواج، روایات، رشتے۔۔۔ بس بھائی کے وٹے سٹے میں آ کر اس کھونٹے سے بندھنا پڑا”

شہناز سر جھکائے ہوئے اُداسی سے بول رہی تھی۔ میرا دل اُس کے لئے کٹا جارہا تھا لیکن اس امر کی خوشی بھی ناقابلِ بیان تھی کہ شہناز اپنا غم مجھ سے بانٹ رہی تھی۔ شاید اُس پہلے دن ہماری آنکھیں چار ہوئی تھیں تو اُس نے اِس اجنبی میں اپنائیت کا رشتہ دیکھ لیا تھا۔ پھر وہ مجھے بتانے لگی کہ اُس کی ساس کس طرح ہاتھ دھوئے اُس کے پیچھے پڑی رہتی تھی۔ خانم چچی یعنی شہناز کی ساس بڑی چالاک اور بدمزاج عورت تھیں اور یہ بات کسی سے چھپی نہ تھی۔ میں نے تشفی کے چند الفاظ کہے اور بات کا رُخ موڑا تو وہ مسکرا کر باتیں کرنے لگی۔ اپنے اسکول کے دنوں کے بارے میں بتانے لگی، اپنے بیٹے رضا علی کے بارے میں بھی۔۔۔ پھر وہ اچانک چونکی۔
“وہ جی ایک منٹ، میں آئی۔۔۔ ”

وہ تیزی سے اُٹھی۔

“بیٹھیں ناں، کیا ضرورت ہے اتنی جلدی جانے کی”

میرا دل ڈوب سا گیا۔

“بس مَیں گئی اور آئی!”

شہناز نے تیزی سے کہا اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ میں چارپائی پہ لیٹ کر رفاقتوں کے نئے خواب ترتیب دینے لگا اور من میں محسوس ہوتی گدگدی کے زیرِ اثر مسکرانے لگا۔ میں سرشاری کے عالم میں چارپائی کے پائے سے بندھی بکری ‘نازش’ کے بالوں پہ ہاتھ پھیررہا تھا کہ دروازے میں آہٹ ہوئی۔ شہناز سامنے کھڑی تھی۔ اب اُس نے سبز کناری والا زرد جوڑا پہن رکھا تھا۔ ایسے لگا جیسے موسمِ بہار کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہو۔

“مجھے یاد بھی نہیں تھا عید کا جوڑا پہننا- کیسا ہے یہ؟”

شہناز ہنستے ہوئے بولی۔

“بہت خوبصورت۔۔۔ بس اس کا رنگ مجھے فکر مند کر رہا ہے۔۔۔ ”

میں نے کہا۔

“جی اپ کہیں گے کہ زرد رنگ نفرت کی علامت ہے؟ میرے دل میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بس اچھا لگ رہا تھا، لے لیا!”

شہناز نے مسکرا کر میری بات کا جواب دیا اور اپنے قمیص کے دامن کو پھیلا کر اُس کی کناری کو دیکھنے لگی۔

“شہناز!”

میں نے اُسے متوجہ کیا۔

“جی”

اُس کے جواب میں بہت اپنائیت تھی۔

“اب تمہیں خوش رہنا ہو گا!”

میں نے کہا۔

“ہاں رہوں گی۔۔۔ ”

وہ بولی اور اسی لمحے ساتھ کے صحن سے خانم چچی کے بآوازِ بلند کوسنے کی آوازیں آنے لگیں۔

“لیں! میرا تو سائرن بج گیا!”

شہناز نے زہرخند کے ساتھ کہا اور ہنستی ہوئی چلی گئی۔

مجھے بارش سخت نا پسند ہے لیکن اس روز گاؤں جاتے ہوئے راستے میں بارش ہونے لگی تو میں حسُو کے گلے میں بانہیں ڈال کر خوشی سے گانے لگا۔ پیر ولائیت شاہ ؒ کے دربار پہ گیا تو دیر تک چہچہاتا اور وہاں کے ملنگ کے ساتھ گپیں ہانکتا رہا۔ صحرائے تھل مجھے اسکاٹ لینڈ نظر آرہا تھا۔ دیر سے گھر پہنچنے پر جو لعنت پھٹکار ہوئی، وہ بھی لالہ و گل کی بارش محسوس ہوئی کیونکہ میری زندگی میں شہناز کا کردار شامل ہو چکا تھا گویا یہی ایک کمی تھی— اگرچہ شہناز میری پہلی محبت بھی تو نہ تھی۔۔۔

چند روز اپنے گاؤں کی زندگی میں معمول کے گزرے۔ نُکری بیمار پڑ گئی تو اُسے چچا کبیر علی خان سیال کے ہاں بھجوا دیا۔ ابا جان کے حُکم پر مجھے موٹر سائیکل سیکھنا پڑی۔ ایک تین دہائیاں پرانی موٹر سائیکل ابا کے پاس تھی، بھاری بھرکم اور چلنے میں تیز، بڑے چمکیلے بال و پروالی۔ جب سیکھ لی تو پہلا سفر کوٹ نیازی خان بلوچ کا کیا۔ مٹھُو کو جھولا دلوانے کے بہانے گلی میں کچھ کم درجن بھر چکر لگائے لیکن شہناز نظر نہ آئی۔ پھر تھک ہار کر بکھے خاں کے ڈیرے پر جا بیٹھا۔ چچا گُلن شاہ، بکھے خاں، متے خاں اور پھیمی یہاں بیٹھے تھے، سب سے ملنا پڑا، گپ شپ کی، حتیٰ کہ خانم چچی آئیں تو اُن سے بھی با ادب ملا لیکن دال نہ گلی۔ مَتے خاں تھا تو میری عمر کا ہی لیکن مجھ سے نو خیز جوان لگتا تھا، مردانہ وجاہت میں بھی کم نہ تھا۔ بس پڑھا لکھا ہوتا تو شہناز تھی بھی اُسی کے شایاں۔ میں اُس سے شدید حسد محسوس کرنے لگا۔ خیر، شام ہو گئی اور ا س طرح کئی شامیں اَور بھی گُزریں- شہناز کی ایک جھلک ہی دیکھ پایا۔ اب اُسے دیکھے بغیر سارا کاروبارِ حیات برہم لگتا تھا۔ اُس کی شکل کبھی بھولنے لگتی تو بوکھلا اُٹھتا، پھر یاد آتی تو شدت سے یاد آنے لگتی۔

پھر ایک دن بابا جگدیش ہمارے گھر آئے، مٹھُو بھی اُن کے ہمراہ تھا۔ موقع پا کر مٹُھو نے مجھے ایک اطلاع دی؛

“اوئے باجی سناز نے آج پیر عبدالرحمان شاہؒ کے دربار پہ سلام کے لئے آنا ہے تمہارے گاؤں!”

میں نے مٹھو کے کالے کالے گالوں کو چوم لیا۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ دربار پہ جانے کا کیا بہانہ تراشا جائے کہ بخت نے پھر یاوری کی، چچا اونٹ لے کر آ پہنچے۔ پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے دربار کے پاس فقیروں سے دو جُھنڈ سوکھے کیکروں کے خریدے تھے، لڑکوں نے کاٹ دیئے ہیں، وہی لادنے جارہا ہوں۔ میں نے نعرہ لگایا؛

“چچا! میں بھی ساتھ چلوں گا!!”

موٹے تلوے کے فوجی بوٹ شلوار قمیص کے ساتھ پہنے اور چچا کے ہمراہ ہو لیا۔ سارا دن کیکر کا کانٹے دار تنے اُونٹ پر لدواتا رہا، بار بار نظر دربار شریف کی طرف جاتی، کوئی مسافر نہ آتا ہوا دیکھ کر دل ڈوب سا جاتا۔ نجانے کتنے کانٹے اس بے دھیانی میں ہاتھوں میں چبھ گئے۔ سہ پہر کو سیاہ بُرقعے میں ملبوس، شہناز کے سے قد وقامت کی ایک خاتون کو دربار کی جانب آتا دیکھا۔ قریب سے گزریں تو بھانپ لیا۔ ہمراہ خانم چچی تھیں اور اُنہوں نے ننھے رضا علی کو اُٹھا رکھا تھا۔ یعنی برقعہ پوش خاتون شہناز کے سوا کوئی اور نہ تھی۔ وہ دربار کا سلام کرکے لوٹیں تو ہمارے قریب کی پگڈنڈی سے گزریں۔ خانم چچی نے چچا سے احوال پُرسی کی، چچا نے جواباَ “سلام بھابی” کہا تو شہناز کو بھی موقع مل گیا ہاتھ کے خفیف سے اشارے سے مجھے سلام کہنے کا۔ ہم دیہاتیوں کو محبت میں اتنے خفیف سے حسیِن اتفاقات کے مقابل قلوپطرہ اور انطونی کی محبت کا پورا قصہ بھی کچھ نہ ہو گا۔

اس شام کی سرشاری بھی کمال تھی۔ اُونٹ کے گلے کی گھنٹیوں میں بربط و رباب سُنائی دے رہے تھے، کیکر کی کانٹے دار لکڑی لاد کر جاتے ہوئے لگ رہا تھا کہ جیسے مہر و محبت کے اسباب لُوٹ کر جا رہے ہیں۔ اور تو اور، اُونٹ گول مٹول لِید گراتا جا رہا تھا اور میرے من میں لڈُو پھوٹ رہے تھے۔

کوٹ نیازی خان بلوچ میں میرا ایک دوست ہائی اسکول کی پڑھائی کے دنوں میں بنا تھا، شیر محمد۔ بستی کے جس کونے میں رہتا تھا، اُدھر بچپن میں میرا کبھی گذر نہ ہوا تھا۔ فراغت کے وقتوں میں شیرے کی رفاقت میں آوارہ گردی میرا مشغلہ تھا۔ ان دنوں تو میں نے کمال آوارہ گردی کی۔ حیلے بہانے سے کوٹ نیازی خاں پہنچ جاتا، شیرا اپنے مویشیوں کی دیکھ بھال اور چارے پانی سے فارغ ہو چکتا تو ہم نکل پڑتے۔ بکھے خاں کے ڈیرے پر جا بیٹھتے، وہاں سے اُٹھ کر بابا علی محمد خاں کے ڈیرے پہ، وجہ بے وجہ چچا گُلن شاہ کو سلام عرض کرنے جا نکلتے یا پھر پیر ولائیت شاہؒ کے دربار پہ۔۔۔ اس دوران یہ کوشش ہوتی کہ ہر بار شہناز کے گھر کے سامنے سے گزرا جائے۔ اس گلی کے ذرے ذرے کو خوب روندا، یومیہ درجن بھر چکر لگتے۔ کبھی بخت یاوری کرتا تو کاسہء دید میں ایک آدھ جھلک کا سکہ بھرلاتے ورنہ نامراد لوٹتے تو شعلہء عشق پہلے سے ذیادہ بھڑکا لاتے۔ ایک دفعہ تو ننھا رضا علی گلی میں ننگ دھڑنگ کھیلتا مل گیا، اُسے اُٹھایا، گلے لگایا، پیار کیا، کچھ ہنسایا کھلایا، پھر گھر کے دروازے میں چھوڑ دیا۔ اکثر شیرا مجھے سمجھاتا کہ یا ر کیوں گاؤں میں اپنی عزت کم کرتا ہے! لوگ تجھے اچھا خاصہ قابل آدمی سمجھتے ہیں، ایسے لُور لُور پھرے گا تو اپنی وقعت کھو دے گا، لیکن میں سُن کے اُڑا دیتا۔ اُس نے یہاں تک بتایا کہ اُس کا چچا اللہ وسایا، خانم چچی کے عشق میں اپنی ڈھلتی عمر عذاب بنا کر نشانِ عبرت بن چکا تھا۔ بے چارے نے فوج کی نوکری سے بچائی ایک ایک پائی لُٹا دی لیکن انجام کار کچھ نہ ملا۔ اگرچہ خانم چچی نے تابمقدورنباہی لیکن اُس کی وفا سے کیا تلافی ہوتی کہ اللہ وسائے کو اُس کی بیوی تک چھوڑ کر میکے چلی گئی، بچے بھی ہمراہ لے گئی۔ مجھے اس کہانی سے مزید تشویق ملی، شیرا سر پیٹ کر رہ گیا۔

خدا جانے کون سا مہینہ تھا، گرمی پڑ رہی تھی لیکن سہ پہر کا وقت بڑا خوشگوار لگتا تھا، میں شہر کسی کام سے گیا تھا، واپسی پہ لاری جو یہاں سے گُزری تو کوٹ نیازی خان بلوچ اُتر گیا۔ پھوپھی کے گھر پہنچا تو کوئی بھی نہ تھا وہاں، بس مٹھوُ دیوار پہ چڑھا بیٹھا ‘گھڑ سواری’ کے مزے لے رہا تھا۔

“نیچے اُتر او بھوتنی کے! ماں کہاں ہے تیری؟”

میں نے اُسے کہا۔ اُس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا، بس اپنے خیالی گھوڑے کی راہ میں آنے والے راہگیروں کو ہٹنے بچنے کی ہدایات دیتا رہا۔

“اوئے جا، ناں! ماں اپنی کو بتا کہ بھائی ذکی آیا ہے!”

میں نے ذرا سختی سے کہا تو مٹھوُ نے جواباً فحش سا اشارہ کیا اور دوسری جانب سے دیوار سے کود گیا۔

“حرامزادہ ناں ہو تو۔۔۔ ”

میں نے ہنس کر کہا اور چارپائی پر دراز ہو گیا۔ ‘نازش’ اپنے نومولود میمنوں کو گھیرے تندور کے پا س بیٹھی تھی، میں ہاتھ بڑھا کر ان میمنوں کو چمکارنے لگا۔ اسی اثناء میں مٹُھو دروازے سے اندر آیا تو اُس کے چہرے پر ایک فاتحانہ سی شان اور آنکھوں میں چمک تھی۔ اُس نے دروازے کی طرف آنکھ کا اشارہ کیا تو میں اچھل کر کھڑا ہو گیا؛ شہناز دروازے میں کھڑی تھی۔ گلابی رنگ کا بہت اُجلا جوڑا پہنے، جس پہ اُسی رنگ کے سلمیٰ ستارے ٹانکے گئے تھے۔ وہ ہمیشہ کی طرح مسکرا رہی تھی۔ میں نے اندر آنے کا اشارہ کیا تو وہ اندر آگئی۔

“مٹُھو کے ہاتھ بُلوا بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟”

شہناز نے مصنوعی ناگواری سے کہا تو مجھے قصہ سمجھ میں آیا، میں ہنس دیا۔

“کیا کرتا شہناز، کیا کیا جتن نہیں کرنے پڑتے تمہیں ایک جھلک دیکھنے کے لئے۔۔۔ بیٹھو!”

میں نے سنجیدہ ہو کر کہا۔ وہ میرے سامنے کی چارپائی پر بیٹھ گئی۔

“شہناز دیکھو ایسے لاپروائی نہیں کرتے۔ سارا دن کُتوں کی طرح رُلتا ہوں تمہاری گلی میں، سامنے ہی آ جایا کرو۔۔۔ مجھ سے رہا نہیں جاتا۔۔۔ ایک جھلک ہی دکھا دیا کرو۔۔ ”

میں نرم دھیمے لہجے میں سماجتیں کرنے لگا۔ اس دوران مَیں اُس کے چہرے اور آنکھوں سے نظر ہٹانے پر آمادہ ہی نہ تھا گویا زندگی میں آخری بار اُسے دیکھ رہا ہوں۔ اُس کی آنکھیں گہری سیاہ تھیں – کاجل بھی لگا رکھا تھا۔ وہ اپنی مجبوریاں اور مسائل بتانے لگی، اپنی ساس کے اوصاف سُنانے لگی۔

“شہناز کچھ بھی۔۔۔ میرا حال بھی تُم سے مختلف نہیں، ہزار جتن کرنے پڑتے ہیں یہاں آنے کے لئے”

میں اپنی ضد پر قائم رہا۔ بس مقصد تھا کہ وہ ملتے رہنے کی ہامی بھر لے۔ مجھے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے اُس کا نام لے لے کر پکارے جانا اچھا لگ رہا تھا، وہ محظوظ ہو رہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ چاہے جانے کا بھی ایک عجیب لُطف اور نشہ ہے اور یہ بیاہی سُہاگن بھی شاید اب تک اس نشے سے نابلد تھی۔ اُس کے چہرے پر اب شرم کا رنگ گہرا ہو رہا تھا کہ دروازے میں آہٹ ہوئی،
“فوجی اوئے! اماں آگئی اوئے!”

مٹُھو تیزی سے بولا۔ شہناز اُٹھ کھڑی ہوئی، میں بیٹھا رہا۔ اسی لمحے چھوٹی پھوپھی بھی اندر آدھمکی۔ میں اُٹھ کے آگے بڑھا، پھوپھی نے میرے شانے پہ ہاتھ رکھا، شہناز سے احوال پُرسی کی۔ مٹھو اسی اثناء میں بھاگ نکلا۔

“شہنازو! یہ جو میرا بھتیجا ہے ناں، یہ حرامی تجھے طلاق دلوا کر ٹلے گا! اس مرتد کے ہوتے ہوئے یہاں نہ آیا کر- یوں تو تیرا اپنا گھر ہے!”

پھوپھی نے ہنستے ہوئے شہناز سے کہا اور چارہائی پہ بیٹھ گئی۔ ساتھ ہی اُسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ شہناز بھی بیٹھ گئی۔ پھوپھی کو ابھی تک اندازہ نہ تھا کہ دونوں طرف آگ برابر کی نہیں بھی ہے تو کچھ نہ کچھ شعلہ اُدھر بھی ہے۔ شہناز کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرتی رہی، پھر اجازت کے کر چلی گئی۔

“ارے کتنے پیارے میمنے دئیے ہیں نازش نے!!”

میں نے چونکنے کی اداکاری کی اور لپک کر بکری کے پاس جا کر تندور پر چڑھ بیٹھا۔ یہاں سے گلی اور شہناز کے گھر کا دروازہ واضح نطر آتا تھا۔ شہناز اپنے گھر کے دروازے پر جا کر رُک گئی- اُسے گلی میں کسی نے بُلایا تھا۔

“شہناز! اپنا دوپٹہ دینا، ذرا امام باڑے تک جا رہی ہوں، ابھی آئی!”

اُس کی دیورانی شمو قریب آتے ہوئے بولی تو شہناز نے اپنا دوپٹہ اُتار کر اس کے حوالے کر دیا۔ اسی لمحے اُس کی نظر مُجھ پر پڑ ی کہ میں تندور پر چڑھا اُسے دیکھ رہا تھا، وہ ہنس دی۔

“یہیں رُکو!”

میں نے شمو کے جانے کے بعد اُسے اشارہ کیا۔

“کیوں؟”

اُس نے ہنستے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا۔

“مَیں- تُمہیں – دیکھنا – چاہتا- ہوُں!!”
میں نے اشاروں سے ایک ایک لفظ سمجھایا تو وہ ہنس دی۔ اُس نے دانتوں پر تازہ ‘مُساگ’ رگڑ رکھا تھا جو اُس کی ہنسی کا حُسن دوبالا کر گیا۔ ساتھ ہی بڑی شرارت کے ساتھ اُس نے اپنے گہرے سیاہ بالوں کو پُشت سے اُٹھا کر دائیں شانے سے سامنے سینے پر ڈال لیا۔ یہ صریح اور سنجیدہ شرارت تھی جس نے بلا مبالغہ میرے دل کو امتحان میں ڈال دیا۔ دلبری کے جو چند سادہ و پُرکار انداز اُسے آتے تھے، اُن میں یہ شرارت مجھے کبھی نہ بھولے گی۔ میں نے دونوں ہاتھوں میں اپنا سر پکڑ لیا۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی- میں بھی ہنس دیا۔

پھر اس کے بعد نجانے کتنے ہفتے گزر گئے۔ کبھی سرراہ آمنا سامنا ہو تو ہو، ورنہ دو باتیں تک کہہ لینے کی بھی مہلت نہ مل سکی۔ شیرے نے مجھے ایک دو دفعہ پھر مشورہ دینے کی کوشش کی کہ گاؤں میں میری آوارہ گردیوں کی بابت کھسر پھسر ہونے لگی ہے۔ میں نے سختی سے کہہ دیا کہ دوست ہو تو ناصح مت بنو! شیرا خفا تو ہوا لیکن پھر میرے ساتھ ہو لیا۔ دن بھر کی آوارہ گردی کے بعد اُس نے شہناز کی گلی کا ایک چکر لگانے کی منظوری دی تو ہم وہاں جا پہنچے۔ گلی کے نکڑ پہ ایک نیا مکان تعمیر ہو رہا تھا، یونس خاں صاحب کا- یعنی شہناز کے ابا کا۔ شاید خان موصوف عمرِ آخر اپنے آبائی گاؤں میں گزارنا چاہتے تھے۔ ہم قریب پہنچے تو دیکھا کہ راج مستری کا کام مَتے خاں کررہا تھا۔ شہناز اُسے اینٹیں تھما رہی تھی۔ میں زیرِ لب مَتے خاں کو بہن کی گالی دی، اُدھر سے مَتے خاں نے مجھے دیکھتے ہی بآوازِ بلند سلام کیا،

“شاہ صاحب قبلہ! سلام ہے!”

میں نے ہنس کر سلام کا جواب دیا۔ شہناز نے ہاتھ سے اینٹ رکھ کر اپنا دوپٹہ درست کیا۔ بس اتنی سی دید ہوئی، شام بڑی بے چینی میں گزری۔

“یار شیر محمد! یہ ظُلم ہے!!!”

ٹیلے پر بیٹھ کر گپ شپ کے دوران میرا خیال پھر شہناز کی آج کی مصروفیت کی طرف گیا تو میں نے بڑے جارحانہ انداز میں سخت غُصے کے ساتھ کہا۔

“یار کمال کرتے ہو، سب عورتیں کرتی ہیں کام کاج۔ تمہارے گھر یا تمہارے گاؤں میں نہیں ہوتا؟”

شیرے نے مجھے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

“دیکھ شیرے! وہ مویشیوں کو پانی پلاتی تھی، کلہاڑی سے لکڑی کاٹتی تھی، گھر میں گارے کا لیپ وغیرہ بھی خود کرتی تھی، میں نے کبھی اعتراض کیا؟ میری ماں بھی کرتی ہے لیکن اینٹیں ڈھونے کا کام؟؟؟ یہ سراسر کمینگی ہے مَتے خاں کی۔۔۔ ”

میں مزید جارحانہ ہوا جا رہا تھا۔

“محبوب تو پھولوں سے بھی نازک ہوتے ہیں، اُنہیں ان ہاتھوں سے صرف دلبری کرنی چاہیئے۔۔۔ وہ ان نازک ہاتھوں سے ہم عاشقوں کے دل کا کھلونا بنا کر کھیلیں، لیکن اینٹیں؟؟؟”

اب میں واقعی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا، شیرا ہنس دیا۔

“اچھا جلدی سے اس مسئلے کا حل بتاؤ!”

شیر محمد بولا تو میری بھی ہنسی چھوٹ گئی۔ لیکن اندر سے پھر بھی بے چین تھا۔

اگلے ہی دن میں نے موٹر سائیکل اُڑائی اور آدھمکا کوٹ نیازی خاں۔ مِٹھو کو بھتے کے طور پر پکی پُلی تک موٹر سائیکل کے جھولے دئیے اور پھر اُسے شہناز کے گھر بھیجا، پیغام تھا کہ خُدارا ایک بار پھوپھی کے گھر کے دروازے تک آؤ، میں تندور پہ بیٹھا تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد شہناز آ کر دروازے میں کھڑی ہو گئی۔ میں نے اند ر بُلایا لیکن وہ وہیں کھڑی رہنے پہ بضد تھی۔

“جلدی بتائیے، کیوں بُلایا تھا آپ نے مُجھے جانا ہے!”

وہ تیزی سے بولی۔

“شہناز مجھے کل تمہارا اینٹیں ڈھونا بالکل اچھا نہیں لگا”

میں نے کہا۔

“پھر کیا ہوا؟ مختار خاں کا ہاتھ بٹا رہی تھی- یہ دیکھیں میرے ہاتھ پہ تو چھالے بھی پڑ گئے ہیں”

اُس نے اپنی ہتھیلی دکھائی تو مجھے یوں لگا کہ مجھے میرے ہی دل کے پھپھولے دکھائے جا رہے ہیں۔

“شہناز مجھے تم سے شدید محبت ہے۔۔۔ بہت زیادہ!!!”

میں بے قراری میں کہہ گیا۔

“اچھا؟”

وہ بے یقینی سے بولی۔

“ہاں”

میں نے اسی بے چینی میں تصدیق کی۔

” اچھا اب میں چلتی ہوں ”

شہناز نے تیزی سے کہا اور چلی گئی۔ کاش مجھے اس لمحے پتہ ہوتا کہ یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔ ٹیلے کی چوٹی پہ خانم چچی کے بھائی کا گھر تھا جہاں سے پھوپھی کا تندور واضح نظر آتا تھا۔ ہماری یہ ملاقات دیکھ لی گئی تھی۔ میں تو گھر آگیا لیکن وہاں خانم چچی نے جو تماشے کھڑے کئے۔ اُس نے مَتے خاں کے خُوب لتے لیے۔

“بیوی نہیں سنبھالی جاتی مختار خاں تم سے، تو طلاق دے دو چھنال کو! جو لونڈا ذرا لمبے قد کا دیکھتی ہے، دوستی گانٹھ لیتی ہے” وغیرہ
اور نجانے کیا کیا واہیات۔۔۔

خانم چچی نے چھوٹی پھوپھی کی موجودگی میں مَتے خاں کو سُنائیں۔ کچھ دیر تو پھوپھی نے دیکھا کہ اُس کی موجودگی میں شرم کرے گی لیکن خانم چچی تو اسے اضافی فائدے کے طور پہ لینے لگی تو پھوپھی نے بھی کہہ دیا کہ خبردار میرے بھتیجے کے بارے میں یوں بھونکیں تو سبق سکھا دوں گی!! ماحول تو اور گرم ہو گیا۔ ادھر سے چچا اختر آپہنچے تو اُنہوں نے جنگ بندی کروائی لیکن صورت حال بگڑ چکی تھی۔ گاؤں میں بھی ڈونڈی پٹ گئی۔

شہناز کا گھر سے نکلنا سختی سے بند ہو گیا، مجھے بھی پھوپھی کا پیغام ملا کہ اگر عزت عزیز ہے تو کوٹ نیازی خان بلوچ کی طرف آنا جانا موقوف کردوں۔ ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ شہناز کی خاطر ہی سہی، اُس کا خیال دل سے نکال دوں۔ یہ مشکل تقاضہ تھا۔ خیر، کئی مہینے ضبط کیا، موسمِ سرما آکر گزر گیا۔ کوٹ نیازی خاں ایک دو دفعہ گیا بھی تو جُھٹ پٹے کے وقت اور شیر محمد کے گھر سے ہی واپس لوٹ آیا۔

ایک رات دل کے ہاتھ مجبور ہو کر شہناز کی گلی میں جا پہنچا۔ پُورے چاند کی رات تھی، اُس کے گھر کے سامنے اُس کا پستہ قد پالتو کُتا بیٹھا تھا جو مجھ سے مانوس تھا، میں نے چمکارا تو میرے پاس آگیا۔ میں نے اُسے اُٹھا لیا۔ سرما کی رات تھی، گلی میں کوئی نہ تھا۔ یہ سوچ کر کہ شہناز کا لاڈلا ہے، میں نے فرطِ جذبات سے اُسے سینے سے لگا لیا۔ کتوں سے مجھے یوں بھی لگاؤ ہے جو احباب سے چھپانہیں۔ اسی لمحے گلی میں کسی کی پرچھائیں پڑیں۔ میں نے کُتے کو زمین پر چھوڑا اور چل دیا۔ دیکھنے والے نے مجھے میرے فوجی کوٹ سے پہچان لیا۔ گاؤں کے چند لڑکے شہر پڑھنے جاتے تھے، میرے پاس اکثر انگریزی کے سبق سمجھنے آتے تھے تو میرے سامنے تو مجھے اُستاد جی کہتے تھے، پیٹھ پیچھے میرا نام اُنہو ں نے “گورا” رکھ چھوڑا تھا۔ یہ لڑکا اُنہی میں سے ایک تھا۔ اگلے روز اُس نے اسکول میں پھیلا دی؛

“گورا تو اُس خانم کے پیچھے ایسا دیوانہ ہوا پھر رہا ہے کہ باقاعدہ قیس مجنوں والی حرکات پہ اُتر آیا ہے۔۔۔ ”

ایک لڑکے نے تو شیر محمد سے بھی یہ قصہ کہہ دیا۔ شیرا مجھ سے بہت خفا ہوا لیکن وقتی طور پر۔ پھر کئی مہینے گُزر گئے، میں نے شہناز کو نہ دیکھا۔ شیر محمد مجھے کبھی کبھار کوئی خبر دے دیتا۔ انہی دنوں پتہ چلا کہ یونس خاں صاحب زیارات کے سفر پر کربلا روانہ ہو گئے ہیں لیکن شہناز بیمار ہونے کی وجہ سے اُنہیں رُخصت نہیں کر سکی۔ شیر محمد نے بتایا کہ بیماری نے اسے ادھ موا کر دیا ہے اور اُس کا حُسن گہنا گیا ہے۔ میری بے چینی دیدنی تھی۔ ایک رات سونے سے پہلے میں نے لالٹین جلائی اور کاغذ قلم لے کر لکھنے بیٹھ گیا۔ بجلی ہمارے گاؤں میں آ تو چکی تھی لیکن اکثر اوقات شہر والوں کی خدمت پہ ہی مامور رہتی تھی لہٰذا لالٹین اور دیا ہماری زندگی سے رُخصت نہیں ہوئے تھے۔ شہناز کے نام خط لکھا؛
“پیاری شہناز!
اتنے لمبے عرصے سے تمہیں نہ دیکھ سکنے کی تکلیف اور کرب اپنی جگہ لیکن مجھے خود سے زیادہ تمہاری فکر ہے۔ اس عدم روابط کے عرصے نے تمہارے دل و ذہن میں میرے لئے غلط فہمیاں نہ ڈال دی ہوں۔ تم بیمار بھی رہتی ہو، تمہاری سسرال والے تمہیں میری وجہ سے پہلے سے زیادہ ناحق ستاتے ہوں گے، یہ سب کچھ سوچ کر بہت بے چین ہوں۔ تمہیں بہت سی باتیں کہنا چاہتا ہوں لیکن ایک بات سب سے اہم ہے کہ میرے دل میں تمہارے لئے محبت اور ہمدردی اس قدر ہے کہ اس گاؤں میں جو شخص تمہارے حق میں اچھا ہے، وہ میرا دوست ہے اور جو تمہارے حق میں اچھا نہیں ہے، وہ میرا دشمن ہے خواہ وہ میرا چچا ہی نہ ہو ( میرا اشارہ چچا اختر کی طرف تھا جن کی بیوی نے خانم چچی کی ہمنوائی میں شہناز کو ذلیل و رسوا کیا تھا) اور اب اس گاؤں میں مجھے تم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔
اپنا خیال رکھنا،
ہمیشہ تمہارا- ذکی”

دودن تو اسے اپنے پاس سنبھالے رکھا، پھر ایک صبح فجر کے وقت گھوڑی کے ایڑھ لگائی اور صبح دم کوٹ نیازی خاں جا پہنچا۔ پھوپھی نے اتنی صبح آنے کی وجہ پوچھی تو کہا ؛

” نُکری ذرا صحتمند ہوئی ہے تو لمبے سفر پہ لے کے نکلا تھا، سوچا کہ آپ سے مل لوں۔ چل اوئے مِٹُھو! تجھے مدرسے چھوڑ آؤں!”
مٹھُو بستہ لئے میرے ہمراہ ہولیا۔ میں نے اُسے پکی پُلی کے پاس جا کر چھوڑ دیا اور خط اس کے ہاتھ میں تھما کر کہا کہ شہناز کو دینا۔
“تیری ماں کو ناں دوں؟ ماں کے۔۔۔ ”

مٹھوُ نے گالی بکتے ہوئے صریح انکار کر دیا اور خط واپس میری طرف اچھال دیا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ چچا اختر نے اُس کے سابقہ کردار کی وجہ سے اُس کی خوب چھترول کی تھی۔ میں نے شدید افسو س کا اظہار بھی کیا، بڑا غمگین مُنہ بنایا لیکن مٹُھو ٹس سے مس نہ ہوا۔ مَیں نے مایوسی سے گھوڑی کی باگیں اپنے گاؤں کی طرف موڑ دیں تو مِٹُھو کے ننھے سے دل میں رحم پیدا ہو گیا۔

“فوجی اوئے! دے دے خط! پہنچا دوں گا۔۔۔ ماموں اختر کی تو بہن کی۔۔۔ ”

مٹُھو اپنے روائتی اکھڑانداز میں بولا۔ وہ باتیں ہی نہیں، گالیاں بھی اپنے قد سے بڑی بکتا تھا۔ میں نے جلدی سے خط اسے دے دیا، گھوڑی سے اُتر کر اُسے گلے لگایا، ہمیشہ کی طرح اُس کے میلے کچیلے، کالے کالے گالوں کو چوما اور واپس گاؤں آ گیا۔

اگلے روز ارادہ تھا کہ دوبارہ جا کر پتہ کر دیکھوں لیکن مجھ اناڑی سوار کے ہاتھ میں نکری کے پاؤں میں پھرلنگڑاہٹ پیدا ہو گئی، اُسے چچا کبیر علی خان سیال کے ہاں بھیج دینا پڑا۔ مجھے اُسی دن بڑے چچا نے لال کمہار کے ساتھ چارا کاٹنے دریا کے کنارے بھیج دیا۔ مَیں راستے میں چارے والی گدھا گاڑی ہانکتے ہوئے اپنے ہی آپ میں فرض کرتا رہا کہ شہناز میرے خط کا کیا جواب دے گی، کبھی سنگدلانہ جواب کا سوچ کر تاؤ آ جاتا تو دو چار ڈنڈے ناتوں گدھے کی پیٹھ پر رسید کردیتا، پھر اُمید بندھتی تو ہنس کر لال کمہار کو کوئی ماہیا یا بیت سُنا دیتا۔ شام ہونے لگی تو دل ڈُوبنے سا لگا، پریشانی میں چارہ کاٹتے کاٹتے درانتی سے اپنی اُنگلی بھی زخمی کر بیٹھا۔ خیر اندھیرا پھیلے واپس گھر پہنچا، چارہ اتار کر کُترنے کی مشین کے پاس ڈھیر کیا، گدھا گاڑی لال کمہار کے حوالے کی اور آنگن میں چولہے کے پاس چُپ چاپ بیٹھ کر ابا کا حُقہ بھرنے لگ گیا۔

“تمہارے ابا کوٹ نیازی خاں تک گئے ہیں، دیر سے آئیں گے۔۔۔ ”

ماں نے دھونکنی سے چولہے میں انگارے پھونکتے ہوئے کہا تو میرے جسم میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی۔

“خیر سے اماں؟”

میں نے ضبط کر کے پوچھا۔

“ہاں، خیر ہی ہو گی، تمہارے چچا ضمیر آئے تھے، کہتے تھے بھائی گُلن شاہ نے بُلوا بھیجا ہے- کیا معلوم- تُم کیوں اتنے بوجھل بوجھل سے ہو؟”

ماں نے کہا تو میں نے تھکن کا بہانہ بنا کر چلم اور تمباکو ایک طرف رکھا اور نلکے کی طرف مُنہ دھونے چلا گیا۔

ابا جان دیر سے گھر آئے لیکن مُجھ سے اُنہوں نے کچھ نہ کہا۔ میں بے چینی سے آدھی رات تک کروٹ بدلتا رہا۔ اگلا دن یونہی بے کلی میں گزر گیا۔ ابا جان خاموشی سے حُقے کی نَے مُنہ میں دبائے اپنی سبزیوں کی کیاری کی ‘گوڈی’ کرتے رہے یا پھر کوئی کتاب پڑھتے رہے۔ میں نے سرِ شام مجبور ہو کر ابا سے موٹر سائیکل کی چابی مانگی۔

“کیوں؟ کہاں جانا ہے؟”

ابا نے پچھلے چوبیس گھنٹے میں پہلی بار مجھ سے کوئی بات کی۔

“شیر محمد سے کام تھا جی۔۔۔ ”

میں نے منمناتے ہوئے کہا۔

“لیکن نیچے بستی کی طرف نہ اُتر جانا! پھوپھی کے گھر جا کر وہیں کے ہو رہتے ہو!”

ابا جان نے چابی میری طرف اُچھا لتے ہوئے کہا۔

“جی بہتر۔۔۔ ”

میں نے چابی لی اور یہ جا، وہ جا۔

میں پہلے تو شیر محمد کے ہاں پہنچا، اُسے ساتھ لے کر پھوپھی کے گھر کی طرف جانے لگا تو راستے میں اپنا شاگرد حسن خان مل گیا جس نے قیس مجنوں والا قصہ شیر محمد کو بتایا تھا۔ وہ بکھے خاں کا بھانجا تھا اور اب تک کے تمام حالات سے باخبر تھا۔

“اُستاد جی اگر گُستاخی نہ سمجھیں تو ایک عرض ہے۔۔۔ آپ نیچے بستی کی طرف نہ اُتریں۔۔۔ وہاں صورت حال بہت خراب ہے۔۔۔ ہمارے بڑے شدید جارحانہ مُوڈ میں ہیں!”

حسن خان نے اپنے قبیلے کے جارحانہ مُوڈ کی وضاحت کرتے ہوئے جو صورت حال بتائی، میرا دل دھک سے رہ گیا۔ دو دن پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو گھوڑی پہ سوار اُن کی گلی سے گُزرا۔ شہناز اپنے گھر کے آنگن میں صفائی کر رہی تھی لیکن میں اُسے دیکھ کر یہ نہ سمجھ پایا تھا کہ وہ شہناز ہے یا شمّو۔ اس دوران خانم چچی نے مجھے دیکھ لیا اور پکی پُلی سے تھوڑا پہلے مَتے خاں نے بھی اُس جانب سے آتے دیکھا تھا۔ اس سے اُن کے گھر میں کافی تناؤ کی صورتحال بن گئی لیکن یہ تناؤ تب بڑھا جب مٹُھو وہ خط شہناز کو دے کر واپس آ رہا تھا تو گھر کے دروازے میں شمّو نے اُسے اُس کے مشکوک انداز سے تاڑ لیا۔ شمو نے اُسے روک لیا اور بہت اصرار کیا کہ بتائے اُس کے پاس کیا ہے۔ مٹُھو نہ مانا، اُس کے بہت ستانے پہ مٹھو رونے لگا۔ لیکن جب شمو نے کہا کہ وہ اُس کی تلاشی لے گی تو مٹھو نے ذرا تھم کر اپنی قمیص کا دامن اُٹھایا اور شلوار نیچے سرکا دی؛
“لے میری تلاشی کُتی کمینی!!”

مٹُھو کا تازہ تازہ ختنہ ہوا تھا، اس کے علاوہ شمّو کو کوئی نئی بات پتہ نہ چل سکی۔ اُس نے سارا قصہ خانم چچی کے گوش گُذار کیا تو ساس بہو میں وہ گھمسان کا رَن پڑا کہ الحذر!!!۔ شہناز ایک طرف اکیلی تھی، دوسری طرف سارا گھرانہ تھا، خوب ایک دوسرے کی مادر پدر خواہی ہوئی۔ مَتے خاں نے اُسی وقت یونس خاں صاحب کو کہلا بھیجا کہ اپنی صاحب زادی کو آکے لے جائیں اور یہ کہ اُس کے وٹے سٹے میں اُس کی جو بہن اُن کے گھر بیاہی گئی تھی، اُسے بھی ہمراہ لیتے آئیں۔ شام تک رو رو کر شہناز کی بُری حالت ہو گئی تھی۔ بابا علی محمد خاں کے لڑکے اُن بلوچون میں پڑھے لکھے بھی تھے اور پنچائتی سمجھ بوجھ والے لوگ بھی تھے، اُن میں سے کسی نے مشورہ دیا کہ یوں وٹے سٹے توڑ کر دو گھرانے برباد نہ کرو اور مرد حضرات باہم مل بیٹھ کر معاملے کا حل نکالیں، عین ممکن ہے کہ عورتیں محض رائی کا پہاڑ بنا رہی ہوں۔ بکھے خاں کے ڈیرے پر تمام لوگ مل بیٹھے، چچا اختر اور چچا گُلن شاہ بھی آگئے۔ طے پایا کہ میرے ابا جان اور صوبیدار یونس خاں صاحب کو بُلوا کر اُن سےمعاملہ کہہ دیا جائے، جو امر وہ فیصل کردیں۔ سو بکھے خاں کے ڈیرے پر دوبارہ اکٹھ ہوا۔ ابا جان بھی وہیں تھے، صوبیدار یونس خاں صاحب، بابا جگدیش اور چچا گُلن شاہ بھی۔۔۔

“شاہ صاحب، بڑوں کا بڑا اچھا تعلق اور رشتہ چلا آرہا تھا لیکن بچے خراب کررہے ہیں۔۔۔ ہماری مجال کہ آپ کہ لڑکے کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات کہیں لیکن۔۔۔ ” بختیار خاں نے جھجکتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔

“کُھل کر بات کرو بختیار خاں! مَیں روایتی باپ نہیں ہوں، انصاف کے تقاضے جانتا ہوں!”

اباجان نے کہا تو بکھے خاں در کُجا، چچا گُلن شاہ نے بھی میرے خلاف الزامات کی پٹاری کھول دی، چچا ختر بھی ساتھ ہولئے۔ سوءِ اتفاق، شہناز ان دنوں اُمید سے تھی۔

“دیکھیں بھائی گُلن، ذکی شاہ کی غلطیوں کا مجھے اعتراف ہے لیکن وہ لغزشیں بھی اخلاق اور تہذیب کے اُن دائروں میں رہ کر کرے گا جو میری تربیت اور اُس کی تعلیم نے اُس کے گرد کھینچ دیئے ہیں۔ وہ فقط چند دفعہ شہناز سے سرِ راہ ملا ضرور ہے، جو کہ وہ آئندہ نہیں کرے گا، ا س سے آگے سب افسانے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ آئندہ یہاں نہیں آیا کرے گا”

ابا جان نے اٹل لہجے میں کہا تو سب خاموش ہو گئے۔ گویا ابا جان معاملے سے پوری طرح باخبر تھے۔

یونس خاں صاحب اُسی دیرینہ احترام سے پیش آئے اور اُنہوں نے اس تمام اہتمام کے لئے ابا جان سے افسوس کا اظہار بھی کیا اور ابا جان واپس چلے آئے۔ طلاق کی جو تلوار شہناز کے سر پر لٹک رہی تھی، وہ ٹَل گئی۔

مجھے اس تمام قصے کا پتہ چلا (اگرچہ جزئیات کا بعد میں ادھر اُدھر سے علم ہوا) تو میرا ماتھا ٹھنکا۔

“اچھا حسن خاں! ایک احسان کردو، جاکے میری پھوپھی سے کہنا کہ اگر مٹھو سے کسی نے کچھ سختی کی تو میرا مرا ہوا مُنہ دیکھو گی!!”
مجھے اب سخت شرمندگی ہو رہی تھی۔ حسن خان نے بتایا کہ گاؤں میں یہ قصہ اس وقت زبان زدِ خاص و عام ہے۔

ہم وہاں سے واپس لوٹ آئے اور مغرب کی جانب ٹیلوں پر چڑھ گئے۔ رات ہو رہی تھی، ستارے نمودار ہونا شروع ہو گئے تھے۔ مِیل بھر اُوپر کی جانب فوجی کیمپ کے قمقمے جل اُٹھے تھے لیکن صحرا خاموش تھا۔
“شیر محمد!”

میں نے کیمپ کی بتیوں کو گھورتے ہوئے شیر محمد کو مخاطب کیا۔ وہ بھی گھمبیر خاموشی میں تھا۔

“یار کتنی شرمندگی کی بات ہے ناں۔۔۔ ڈُوب مرنا چاہیئے کہ بکھے خاں جیسے آدمی سے میرے ابا کو معافی مانگنی پڑی ہے۔ یار بتا، مَیں نے بھی کُچھ غلط کیا؟”

شیرا خاموش رہا۔

“یار شیر محمد، مجھے شہناز سے محبت ہے۔۔۔ ہو گئی! کیا نہیں ہونی چاہیئے تھی؟”

میں احمقوں کی طرح سوال کئے جا رہا تھا۔ میری آنکھوں میں نمی تھی۔ شیرا خاموشی سے مجھے دیکھے جا رہا تھا۔ رُسوائی کا دُکھ مجھے تب بھی نہیں تھا، اب بھی نہیں ہے لیکن شہناز جس امتحان میں پڑ گئی تھی، ابا جان کو جس سبکی سے گزرنا پڑا اور کوٹ نیازی خان بلوچ سے بچپن کا جو یہ تعلق ٹوٹتا نظر آرہا تھا، یہ سب میرا گلا گھونٹ رہے تھے۔

شیرے نے میری توجہ بٹانے کے لئے اپنا سفری ریڈیو چلایا تو نجانے کس اسٹیشن سے اقبال بانوؔ کی آواز میں ناصر کاظمی کی ایک غزل آہستگی سے فضا میں ایک اُداس سا تموج پھیلانے لگی۔۔۔ اس کے کچھ اشعار میرے حافظے میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئے؛
ترے خیال سے لَو دے اُٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تُو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
اُنہیں بھی دیکھ جنہیں راستوں میں نیند آئی
یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اُس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی
پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصرؔ
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رُسوائی

اس غزل نے کبھی میرے دامنِ دل کونہ چھوڑا۔۔۔ ہفتہ بھر پہلے ننھیالی گاؤں میں نذر خان بلوچ کے ‘مُشکی’ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے میرے پہلو میں گردے کے مقام پہ درد شروع ہوا تھا، جو اب بڑھ کر ذہنی کرب کو دوگنا چوگنا کررہا تھا۔ میں نے پہلو کو اپنے ہاتھ سے دبایا اور رودیا۔

گھر واپس لوٹا تو اندھیرا پھیل چکا تھا۔ اب مجھے ابا جان کے خراب مُوڈ کی علت غائی سمجھ میں آئی۔ رات کو جب اماں سو گئیں تو اُنہوں نے مجھے ڈیرے پہ بلوا بھیجا۔

“کوٹ نیازی خاں گئے تھے آج۔۔۔ کیا کرنے گئے؟”

ابا جان جب غُصے میں ہوتے تو انہیں دیکھ کر ہی میرے اوسان خطا ہو جاتے۔ خاندان بھر میں ان کا غُصہ مشہور ہے۔

“جی وہ شیر محمد۔۔۔ ”

میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن اُنہوں نے سختی سے میری بات کاٹ دی

“تُمہارے وہاں جانے پر مجھے سخت اعتراض ہے!!!”

ابا جان نے کہا تو میں ایک نیم مردہ سی “جی نہیں جاؤں گا آئندہ” ہی کہ سکا۔

“یہ شہناز کون ہے؟”

ابا جان نے پوچھا تو مجھے یوں لگا کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ہے۔

“جی وہ چچا بختیار خاں کی بڑی بہُو ہے لیکن۔۔۔ ”

میں بمشکل ہی کہہ پایا تھا کہ ابا جان کی ایک اٹل سی “شَٹ اَپ” نے میرا مُنہ بند کردیا۔ پھر میں خاموش تھا اور ابا جان مجھ پر برس رہے تھے۔ ہر جملے کے ساتھ میں زمین میں گڑا جارہا تھا۔

“کل میں لاہور جارہا ہوں، واپس آؤں تو تمہارا منحوس وجود میری آنکھوں کے سامنے نہ ہو!!”

اُٹھ کے جاتے ہوئے وہ مُجھے یہ فرمان سُنا گئے۔ میں رات بھر جاگا کیا۔ گزشتہ واقعات کا فلم میرے ذہن میں چلا، مستقبل کے اندیشے قطار بنا کر آ کھڑے ہوئے۔ کبھی یوں لگتا کہ شہناز ایک خیالی کردار تھی، پھر ایسے لگتا خُدا معلوم یہ سب جھوٹ ہو، صرف مجھے شہناز سے دُور کرنے کے لئے ڈھونگ رچایا گیا ہو۔ جوں جوں نیند آتی گئی، یہ خیالات مزید پراگندہ اور بعید از عقل ہوتے گئے اور نجانے کس پہر نیند آگئی۔ دن کو جاگا تو ابا جان لاہور جاچکے تھے۔

میں نے بھی اپنے ضروری اسباب یعنی کپڑے، کتابیں، ڈائری وغیرہ سمیٹ کر رکھ لئے۔ شیر محمد کو پیغام بھیجا تو وہ ملنے آگیا۔ اس سے مشورے کے بعد طے پایا کہ ابا جان کا غُصہ اُترنے تک شورکوٹ چھاؤنی چلا جاؤں، بڑے بھائی صاحب کے پاس۔ اگرچہ میری چھٹی حس یہ کہہ رہی تھی کہ شہروں کی آب و ہوا نہ صرف یہ کہ مجھے راس نہ آئے گی بلکہ اب کے یہاں سے نکلا تو کبھی دوبارہ ٹک کے گاؤں میں رہنا نصیب نہ ہوگا۔

“یار تیرا دانا پانی اُٹھ گیا ہے یہاں سے، دل کڑا کر اور چلا جا یہاں سے!”

شیر محمد نے میرا شانہ دبا کر مجھے کہا۔

“شیرے مجھے گاؤں کی خبریں دیتے رہنا۔ شہناز اُمید سے ہے۔ میرا دل مانتا ہے کہ اُس کے بیٹی ہو گی، میری خواہش تھی کہ ہم بہم ہوئے تو میں اُس لڑکی کا نام شہلا رکھوں گا۔ تُو پڑھا لکھا ہے گاؤں میں، تجھ سے نام کا مشورہ لیں تو یہی نام بتانا۔۔۔ ”

میں نے اُداس ہو کر کہا تو شیرے نے میرے شانے پہ ہاتھ مارا۔

“پھر وہی!! یار کیا بہکی بہکی باتیں کررہا ہے، شہر جا! تیرے لئے وہاں مواقع اور کامیابیاں ہیں!!”

شیرا مجھے ہمت دلانے کی کوشش بھی کر رہا تھا اور کوشش کررہا تھا کہ میں گاؤں اور شہناز کا ذکر نہ کروں۔ ہم دونوں چچا کبیر علی خاں سیال کے ڈیرے پر گئے تو میں نکری سے بھی ملا۔ اُس کے بالوں اور نتھنوں پہ ہاتھ پھیرا۔

“نُکری! میری ناکام محبت کے دنوں کو قدم قدم یادگار بنانے پہ تمہارا بھی شُکریہ!”

شیرے نے مجھے گھوڑی سے ہم کلام ہوتے دیکھا تو ہنس دیا۔ وہ ایک عملی آدمی تھا اور جانتا تھا کہ عشق کا جذبہ عقل سے کتنا دور رہنے پہ مائل رکھتا ہے۔

اماں کو بتایا کہ شہر جا کر بی۔ ایڈ کی پڑھائی کرنی ہے، دُعائیں لیں اور مظفر گڑھ- خوشاب روڈ سے گزرنے والی پہلی لاری پکڑ کر شہر روانہ ہو گیا۔ شورکوٹ چھاؤنی میں چند ماہ بڑے بھائی کے ہاں قیام کیا۔ یہاں برطانوی ہوم گارڈز کی طرز پر بنی نیشنل گارڈز کی ایک پلٹن میں رضاکارانہ افسری کا انٹرویو دیا، کمان افسر نے اپنے صوابدیدی اختیارات پر عبوری طور پر بھرتی کرلیا۔ چند روز جھوٹ سچ کی لفٹینی کے نشے میں رہا لیکن او۔ ٹی۔ ایس جانے سے پہلے کور کمانڈر کے دفتر سے حُکم نامہ آیا کہ میری خدمات درکار نہیں ہیں۔ کور کمانڈر کے لئے دل سے بد دُعا نکلی، خُدا نے کچھ مُدت بعد اُس کو سپہ سالار بنا دیا۔ یہاں سے لاہور کا قصد کیا جہاں ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کے ایک حلقے سے تعارف تھا لہٰذا چند ماہ کی بے روزگاری کے بعد وہاں چند پاکستانی اور انگریز کارکنوں نے انسانی حقوق پہ کام کرنے والی جو ایک ٹیم تشکیل دی، اُس میں شامل ہو گیا۔

گاؤں سے شہناز کی بابت جو پہلی خبر آئی، وہ یہ تھی کہ اُس کے بیٹی ہوئی تھی، نام کیا رکھا گیا تھا، یہ پتہ نہ چل سکا۔ پھر خبر ملی کہ بابا چراغ علی خاں- رائل انڈین آرمی، وفات پا گئے ہیں۔ لاہور شہر کی رنگینیوں نے مجھے بہت مسحور کیا، بالخصوص یہاں کے حسینوں نے جن میں دلبری تو بَلا کی تھی، مروت کوڑی برابر بھی نہ تھی۔۔۔ یہ تو ایک جملہء معترضہ تھا۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود شہناز اور کوٹ نیازی خان بلوچ سے دوری کا داغ دل پہ نہ صرف تازہ رہا بلکہ ایک ناسٹلجیا کی صورت میرے مزاج کا حصہ بنتا چلا گیا۔ شہروں کی مصروف، بے مروت اور بے رحم زندگی مجھے راس نہ آئی۔ آدمی شہروں میں امیر ہونے کے لئے آتا ہے یا کامیاب بننے کے لئے، مجھے یہ دونوں شوق نہ تھے لہٰذا یہاں جو وقت گُزرا، بامرِ مجبوری گُزرا۔ پیچھے گاؤں میں تو زمین باقی تھی نہ مویشی، اب تو فقط روٹی کے لالے پڑے تھے جن کا جبر شہر میں باندھے ہوئے تھا، اگرچہ چند دوستوں کی مروتوں اور مہربانیوں نے اس دو سالہ قیام لاہور کو بھی مجموعی طور پر ایک قیمتی تجربہ بنا دیا۔ کچھ حسین چہرے یہاں بھی حافظہء دل پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے لیکن اس حوالے سے بھی ناکامی کی عادت پڑ چکی تھی سو ہر قدم پر پروانہ وار شمعِ حُسن کا فدائی ہوا، ہر بار ناکام ہوا، یاروں میں بَلا کے حُسن پرست کے طور پر بدنام ہوا اور بجا طور پر بدنام ہوا۔ شہناز پھر بھی جہاں تھی، میرے دل و دماغ میں وہیں ہے!!

جُوں جُوں مَیں شہر کا ہوتا گیا، اپنے گاؤں سے زیادہ کوٹ نیازی خان بلوچ کی یاد دل میں جگہ کرتی گئی۔ شہناز اس محبت کی سب سے تابندہ علامت تھی۔ شہر کے بلند میعارِ زندگی سے ملنے والا احساسِ کمتری جب گاؤں کی یاد دلاتا تو بھی شہناز بہت یاد آتی۔

ایک موسمِ گرما میں، جبکہ ابا جان سے صفائی ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا اور مَیں گھر کی معیشت میں اُن کا ہاتھ بٹانے لگ چکا تھا تو گاؤں جانا ہوا۔ شیر محمد جو کہ ساتھ والے گاؤں کے ہائی اسکول میں تین سال بیالوجی پڑھانے کے بعد اب گھر پہ دیہہ کے بچوں کو پڑھایا کرتا تھا، مجھے ملا تو اُس نے بتایا کہ شہناز کا بیٹا رضا علی اُس کے پاس پڑھنے آتا تھا۔ میں ایک دفعہ شیر محمد سے ملنے گیا تو ساتھ پہلی جماعت کی رنگین کتابیں کاپیاں لے گیا۔ شیر محمد اپنے مویشیوں والے چھپر کے نیچے بیٹھا بچوں کو پڑھا رہا تھا، رضا علی میری گود میں بیٹھا بآوازِ بلند اپنا سبق دُہرا رہا تھا،
“گھاف گھولا!- گھاف گھولا!”

اور مضبوطی سے قاعدے کے صفحے پر بنی گھوڑے کی تصویر پر انگلی دبائے ہوئے تھا۔ میں اُس کو فرطِ محبت سے چوم لیتا اور مزید اونچی آواز میں سبق پڑھنے کی تلقین کرتا تو وہ مزید اُونچی آواز میں کہتا؛
“گھاف گھولاآآآآآآ”

اور شیرا اور میں ہنس دیتے۔ اسی اثناء میں شہناز سامنے سے آتی ہوئے دکھائی دی۔ وہ نیلے رنگ کے جوڑے میں ملبوس تھی اور سیاد چادر لپیٹے تھی۔ وہ روزانہ رضا علی کو یہاں چھوڑ جاتی اور لینے آتی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اُس نے چہرے پر نقاب کر لیا۔ پھر مُڑ کر واپس چلی گئی۔ میں نے رضا علی کو وہ رنگین کتابیں دیتے ہوئے ان میں سے ایک پر پنسل سے لکھ دیا:

“For Reza Ali Khan, with love from Zakie!”

رضا علی کتابیں لے کر گھر چلا گیا۔ اگلے روز جب وہ پڑھنے آیا تو وہ تحریر آدھی مٹا کر یوں بدل دی گئی تھی:
“For Reza Ali Khan son of Mukhtar Alikhan”
میں نے رضا علی سے پوچھا تو اُس نے بتایا کہ یہ سطر اُس کی ماں نے لکھی تھی۔

“شاہ صاحب، میرا خیال ہے کہ اس سے زیادہ اور کتنے واضح الفاظ میں شہناز اپنی وفاداریوں کا اظہار کرے گی؟ اُس کے لئے تُم ایک قصہء پارینہ بن چکے ہو!”

شیرے نے مجھے سمجھایا۔ میں نے بھی اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر ہی لیا کہ شہناز کے دل میں اگر میرے لئے کوئی جگہ باقی تھی، تو وہ اب نہیں رہی۔ شہر واپسی پہ پھر وہاں کی مصروفیات اور مسائل کے عفرین دہانے پھاڑ کر گلے ملے تو اُس کے بعد دوبارہ بہم ہونے کی اُمید نے کبھی سر نہ اُٹھایا۔ شہر نے یوں بھی جذبوں کی سادگی کو اس بے رحمی سے کچلا تھا اُن کی شکل مسخ ہو کر رہ گئی۔ دولت اور کامیابی نے قدم قدم پر اپنی اہمیت کا قائل کیا لیکن وہ گاؤں کا سادہ اور قانع طرزِ زندگی بھی رہ رہ کر پکارتا رہا اور اسی کشمکش میں کبھی دل و ذہن کا ایک ٹھکانہ نہ بن سکا- آج تک یہی عالم ہے۔

کوٹ نیازی خان بلوچ کی جس مہربان ریت اور ٹھنڈی چھاؤں نے کم سنی میں مجھے کھیلنے کودنے، خواب دیکھنے اور خواہش کرنے کے لئے اپنے دامن میں کھلی جگہ دی، وہ اب بھی مجھے اپنی طرف کھینچتی تھی۔ اس گاؤں میں زندگی کا وہ سادہ چلن اب بھی اپنی طرف بُلاتا تھا لیکن اب یہاں کے باسیوں کے لئے میں وہ کم سن معصوم لڑکا نہ تھا۔ اب یہاں میرے نام کے ساتھ طعن و الزام کے سابقے لاحقے وابستہ تھے۔ جو لوگ میرے ساتھ مل بیٹھنے کو باعثِ فخر سمجھا کرتے تھے، وہ اب راہ چلتے سلام کرنے کے قائل بھی نہ رہے۔ گاؤں کے کتنے آنگن تھے جن کے دروازے مجھ پہ کھلے تھے، اب بند ہو گئے تھے۔ رُسوائی کی بھی حد ہوتی ہے، اس بستی نے مجھے اپنا باسی سمجھنا چھوڑ دیا۔

میجر ڈگلس لینگ لینڈز مجھ پر مہربان تھے، پیشہء تدریس میں آنے کے لئے میرا اشتیاق بڑھاتے رہتے تھے، بالآخر یہ فیصلہ بھی کر لیا۔ ایک بڑے کالج میں لکچرار ہو گیا تو گاؤں میں میری خوب پرسش ہونے لگی، کوٹ نیازی خاں کے بزرگوں نے بھی پیٹھ ٹھونک کر شاباش دی لیکن کھوئی ہوئی ساکھ کہاں بحال ہوتی ہے۔

چچا کبیر علی خان سیال کچہری میں ماخوذ ہوئے تو اُنہوں نے دو چار دفعہ مجھ سے رابطہ کیا کہ شاید میرا رُسوخ اور عہدہ اُن کے کام آ سکے جو اُن کے خیال میں اسسٹنٹ کمشنر کے برابر تھا۔ پھر اُنہیں دامے درمے میری ضرورت پڑی تو بھی میں ناکام رہا۔ ایسا خفا ہوئے کہ پھر سال بھر رابطہ تک نہ کیا۔ جاٹ بدگمان ہو جائے تو عمر بھر کے تعلق رگید دیتا ہے۔

نئی ملازمت میں بھی جھمیلے کم نہ تھے بلکہ اس شہر میں تو دُنیا داری کے تقاضے لاہور سے بھی زیادہ بے رحم تھے۔ یہاں ہوتے ہوئے ایک دفعہ صوبیدار خاں صاحب کی وفات پر اور دوسری دفعہ اماں بانو کو قبر میں اُتارنے کے لئے کوٹ نیازی خاں جانا پڑا لیکن اس بستی نے میرے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کیا، شہناز تو گویا یہاں کبھی تھی ہی نہیں۔

زیادہ دن نہیں ہوئے، میں گاؤں کی ایک پنچایت میں گیا، سرپنچ چا کبیر علی خان سیال تھے۔ اُٹھ کے جانے لگے تو میں آگے بڑھ کے ملا۔ حال احوال پوچھے۔ نُکری کی خیریت پوچھی،
“وہ تو مر گئی!”

چچا نے لاپروائی سے کہا۔ وجہ پوچھی تو “وہی کُھروں کا مسئلہ ” کہہ کر بے اعتنائی سے چل دیئے۔

اس لمحے میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ ایسے لگا جیسے نُکری کا مرنا فطرت کی طرف سے آخری اور حتمی اشارہ ہے کہ کوٹ نیازی خان بلوچ اور شہناز سے وابستہ ہر چیز اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ اب اُن سے میرا حال وابستہ ہے نہ مستقبل لیکن ایک بات کا فیصلہ شاید مجھ سے کبھی نہ ہو سکے کہ یا تو ایسا ہے کہ اگر شہناز مجھے کوٹ نیازی خاں کے علاوہ کہیں اور ملتی تو مجھے اُس سے محبت نہ ہو پاتی- یا پھر ایسا ہے کہ کوٹ نیازی خان بلوچ مجھے شہناز کی وجہ سے ہمیشہ عزیز رہے گا۔۔۔

Categories
فکشن

زنجیر ( ایک کہانی ڈائجسٹ کے رنگ میں) – ذکی نقوی

تصور اور سونیا کی شادی بڑے پاپڑ بیلنے کے بعد ہوئی تھی۔ دسویں جماعت کے زمانے میں تصور علی کانونٹ اسکول میں پراکٹر بنا تو تب سونیا اسکول کی تمام تقاریب میں ملی نغمے، نعتیں اور مسیحی گیت سُنا کر داد سمیٹا کرتی تھی۔ اُس کی آواز کی تعریف تو سبھی کرتے تھے لیکن تصور علی تعریف سے تھوڑا آگے بڑھا اور اُس سے محبت کر بیٹھا۔ یہ عمر۔۔۔، دسویں گیارہویں جماعت کی طالب علمی کی عمر بڑ ی منہ زور ہوتی ہے۔ تصور نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ، سونیا سے اظہارِ محبت بھی کرمارا۔ لیکن گڑ بڑ یہ ہوئی کہ اظہارِ محبت کا خط، جو کہ جنونِ عشق کی سطور اور اس کی تائید میں اشعار سے خوب مرقع تھا، غلط ہاتھ میں جا پہنچا اور دونوں کی پیشی پرنسپل، چوہدری وکٹر ممتاز کے پاس ہوئی۔ پرنسپل موصوف اپنے بددماغ اور سخت ہونے کی وجہ سے طلبا میں مشہور، یا بدنام، جو کہہ لیں، تھے۔ سونیا تک تو یہ خط پہنچا ہی نہ تھا سو اس نے معصومیت سے روتے ہوئے قسم کھا لی کہ وہ اس معاملے سے مکمل لا علم اور بے قصور تھی، تصور نے چھاتی ٹھونک کر اقبال ِ جرم کر لیا! فلم اسٹار بنے کا شوق تو اسے تھا ہی، یہاں صورت حال بھی بڑی فلمی سی بن گئی تھی کہ محبوب سامنے اور الزامِ محبت کا ٹھینگا سر پر، جراتِ رندانہ کیوں نہ آتی۔ چوہدری صاحب نے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کر کے جو تصور کا پراکٹر والا امتیازی سیش کھینچ اُتارا تو یہی سزا کافی سمجھی گئی۔ البتہ اس سے یہ ہوا کہ جو کام وہ خط بخوبی نہ کرسکا، یہ تھپڑ اور”تنزلی” کر گئے۔ سونیا کے کم سن اور بھولے بھالے دل میں تصور کے لئے ہمدردی اور محبت کے وہ جذبات پیدا ہوئے کہ شاید خط پڑھنے سے کبھی نہ ہوتے۔ یہ عمر جلد باز ہوتی ہے لہٰذا طرفین سے اظہار، اقرار اور پختہ عہد و پیمان کی منزلیں طے ہونے میں بہت کم وقت لگا۔ موٹی موٹی آنکھوں، سانولی رنگت، میانہ قد اور واجبی سی ذہانت کی مالک طالبہ سونیا اپنی ہم سنوں میں ماسوائے اپنے خوش گلو ہونے کے، کسی وجہ سے نمایاں بھی نہ تھی البتہ تصور خوش شکل، لائق اور اچھے قد قامت کا ہونے کی وجہ سے لڑکوں میں نمایاں تھا، تو سونیا نے بھی اس نعمت کا کفران نہ کیا اور اُسے دل و جان سے چاہا۔

اس محبت میں آنے والے سالوں میں بھی کمی نہ آئی۔ ادھر کبھی سونیا روٹھ جاتی تو تصور، جو اب شعر بھی کہنے لگا تھا، اس کے لئے کوئی غزل یا نظم کہہ کر اُسے سناتا تو وہ رام ہو جاتی۔تصور شعر اچھے کہہ لیتا تھا لیکن اگر اچھے نہ بھی ہوتے تو کیا، سونیا جو ایف۔اے سے آگے پڑھ سکی تھی نہ کوئی ادبی ذوق رکھتی تھی، اُس کے لئے یہ بھی بڑی بات تھی کہ کوئی اس کے لئے شاعری کیا کرتا تھا۔ تصور نے البتہ مشقِ سخن بھی جاری رکھی اورتعلیم بھی بی۔اے تک پہنچا کر وسط میں چھوڑی۔

دونوں کے لئے ایک اندیشہ ان برسوں میں جانکاہ سوال بن کر لٹکا رہا اور وہ یہ تھا کہ اب شادی کے بندھن میں بندھنا تو ناممکن نظر آرہا تھا، تو پھر یہ عمر کیونکر گزرے گی؟ تصور علی کے والد اگرچہ پابندِ شرع لیکن سمجھدار آدمی تھے تاہم ایک کرسچن لڑکی کو بہو بنانا اُن کے لئے یقیناً ناقابلِ قبول تھا۔ ادھر ماسٹر رحمت مسیح جو کہ ٹیچر نہیں بلکہ ہارمونیم کا اُستاد ہونے کی وجہ سے ماسٹر کہلاتا تھا، بہت مذہبی قسم کا کرسچن تھا لیکن اپنی بیٹی سے بھی بے پناہ محبت کرتا تھا۔ اس کے باوجود وہ بھی شاید کبھی ترکِ مذہب کے ساتھ اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے نہ کرتا۔

اُن دونوں کی اب تک کی داستانِ محبت میں سب سے کٹھن موڑ تب آیا جب سونیا کی شادی اُس کے دُور کے رشتے داروں میں طے ہونے لگی۔ سونیا کی بڑی بہن اُس کی ہمراز تھی، اُس نے بھانڈا پھوڑ دیا تو ایک بار تو ماسٹر رحمت مسیح کے گھر میں موت کا سا سناٹا چھا گیا۔ سونیا کی ما ں کا پھسر پھسر رونا ہی رُکنے میں نہ آرہا تھا اور حالت اُس کی اپنی بھی کم دگرگوں نہ تھی۔ ادھر تصور اُن لوگوں میں سے تھا جو زندگی میں ایک ہی دفعہ محبت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن پھر اس محبت کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ وہاں جو ماسٹر رحمت مسیح کے گھر میں تناؤ کی صورتحال بڑھی تو یہاں تصور نے اپنے ماں باپ کے پاؤں آلیے۔ کافی طویل مباحث ہوئے، بزرگوار آدمی معقول تھے لیکن اسی شرط پہ مانے کہ لڑکی اسلام قبول کرلے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ تصور بصد مشکل ماسٹر رحمت مسیح کو اپنے باپ کے پاس لے آیا۔ ماسٹر نے بسیار سماجت کی کہ ملک صاحب، آپ تو سماج کا دباؤ اُٹھا سکتے ہیں، معزز آدمی ہیں میں غریب آدمی ہوں، مان لیجئے، سونیا کے ترکِ مذہب پہ زور نہ ڈالیں، پھر اسلام نے تو اس کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔ پھر پاسٹر یعقوب بھی قرآن کی تفسیر اور سفید ڈاڑھی لے کر بیچ میں آئے تو بھی تصور کے ابا اسی صورت قائل ہوئے کہ اگر سونیا نے قبولِ اسلام نہ کیا اور تصور کی بیوی بنی تو وہ اس تمام معاملے سے لاتعلق ہوں گے اور بیٹے کو فارخطی دے دیں گے۔ اس بات کا کہیں ذکر نہ تھا کہ سونیا بیچاری تو اب قبولِ اسلام کیلئے بھی راضی تھی۔ خیر، قصہ مختصر، ماسٹر رحمت مسیح سے بیٹی کی مایوسی اور پژمردگی دیکھی نہ گئی اور وہ ایک شکستہ و آزردہ دل کے ساتھ سونیا کو خود مولوی کفایت اللہ کے پاس قبول اسلام کے لئے لے گئے اور بعدہ،اُس کا ہاتھ تصور کے ہاتھ میں تھما دیا۔ مختصر سی بارات کو مٹھائی کھلائی گئی، کھانے کا انتظام بھی تھا لیکن سوائے تصور، اس کے ابا اور شہبالے کے، کسی مسلمان باراتی نے عیسائی کے گھر سے کھانا کھانا مناسب نہ سمجھا البتہ سونیا کو سعدیہ فاطمہ بنا کر بڑے فاتحانہ جوش و خروش کے ساتھ بیاہ لائے۔

ماسٹر رحمت مسیح مدت سے کرائے کے مکان میں رہتے تھے، اب کرسچن کالونی میں رہنا ممکن نہ رہا تھا، وہاں سے تھوڑے ہی عرصے میں اپنے آبائی گاؤں چک ۵۷ کی طرف نقل مکانی کر گئے۔تاہم سونیا شادی کے بعد بھی مائیکے آتی جاتی رہی۔ ایک بات، جس کا شاید کسی کو علم نہ تھا، وہ یہ تھی کہ تصور علی کو اس سارے اہتمام کا دِلی دُکھ تھا لیکن وہ کسی سے اس کا اظہار نہ کرتا تھا۔اور اس نے شادی سے اگلی ہی صبح کہہ دیا تھا،

“سونی! تُم اس کمرے کی تنہائی میں سونیا ہی رہو گی، باہر دُنیا کی نظر میں سعدیہ فاطمہ بن کے رہو تو رہو۔۔۔”

اس کے بعد وہ جب بھی مائیکے جاتی، ماں باپ کے ساتھ مل کر مسیحی گیت بھی گاتی، بائبل مقدس بھی پڑھ لیتی اور یہاں سسرال میں گیارہویں کی نیاز بھی پکاتی اور عاشور کے جلوسوں میں بھی حاضری کی حد تک چلی جاتی تھی اور تصور نے کبھی اس پر اعتراض نہ کیا۔ ان کے کمرے میں جو چہار اصحاب کے ناموں والی لوح آویزاں ہے، اُس کے نیچے اب بھی سونیا کے ہاتھ کی لگائی پلاسٹر آف پیرس کی تختی لٹکی ہے جس پر لکھا ہے؛
“GOD IS LOVE!”

اور وہ اس سب کے باوجود فتووں اور زجر و توبیخ سے اس لیے بچے رہے کہ کوئی ان کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کی زحمت نہ کرتا۔ سعدیہ فاطمہ کو سسرالی رشتے داروں نے بھی سونیا ہی سمجھ کے نظر انداز کیا جس پر وہ بھی خوش تھی اور اپنے حال میں مگن۔

تصور شاعر کے طور پر تو خوب جانا جاتا تھا لیکن ایک چھوٹے سے اخبار سے وابستہ ایک صحافی کے طور پر کامیاب نہ تھا۔ ساتھ تصور نے آس پاس کے دیہی علاقوں میں سولر پلیٹیں بیچنے کا دھندا بھی آغاز کر دیا جو کہ بہت کامیاب تو نہ تھا لیکن فقط گزر بسر کے قابل ہی آمدن تھی۔ پھر سونیا نے ایک نجی اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا تو چند ہزار روپے اس مد میں بھی ماہانہ گھر آنے شروع ہو گئے۔تصور عملی زندگی میں غریب ہی نہیں، کافی پھانک آدمی تھا لیکن سونیا نے اس کا احساس ہی نہ ہونے دیا کیونکہ وہ عورت مالی معاملات میں کمال کی سلیقہ شعار نکلی۔

زنجیر کا قصہ تو یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ ایک زنجیر تھی۔۔۔ محبت کیلئے ذات پات، رنگ مذہب کی زنجیروں سے باغی ہونے والے تصور کو سونے کی اس باریک سی زنجیر سے وہ لگاؤ تھا کہ سونیا بھی حیران ہو کر ہنس دیتی۔ سونیا کی ماں نے پائی پائی جوڑ کر نجانے کتنے عرصے میں اُس کے جہیز کے لئے گلے میں پہننے کی ایک زنجیر بنوا رکھی تھی جسے ہم انگریزی میں ’چین‘ کہتے ہیں۔ شادی کے بعد ایک شب بہت قربت کے لمحوں میں تصور نے محسوس کیا کہ جب سونیا کے اُجلے، سانولے جسم پر، یعنی گردن میں فقط یہ سنہری زنجیر ہوتی ہے تو اُس لمحے اُس کا جسم کسی دیومالا کی دیوی کی طرح ایک پر اسرار سے، ملکوتی حُسن کا پیکر لگتا ہے۔ایسے میں وہ دیر تک ٹکٹکی باندھے اُس کے گلے اور سینے پر کسی خوابیدہ سی سنہری پٹڑی کی طرح بچھی پیچدار زنجیر کو دیکھتا رہتا حتیٰ کہ سونیا شرم سے سمٹنے لگتی اور اور اوڑھنی یا دوپٹے سے اپنا سینہ چھپا لیتی،

“پاگل ہو گئے ہو تصور؟” اور ہنس دیتی۔ “کتنے بے شرم ہوتے ہو تم شاعر لوگ!” اور تصور اسے بازوؤں میں سمیٹ لیتا لیکن اس کیفیت کا بیان جن الفاظ کا محتاج تھا، وہ االفاظ اس شاعر کے پاس ہنوز نہ تھے۔

شادی ہوئے دو سال ہونے کو آئے تھے اور ایک مرد کے لئے عورت کے جسم سے سیر ہوجانے کے لئے یہ عرصہ کافی ہوتا ہے لیکن تصور کے ہاں صورتحال مختلف تھی۔ دن بھر کے کام کاج کے دوران عام سی عورت، سعدیہ فاطمہ جب رات کو اُس کے پہلو میں سونیا بن کر آتی اور اُس کے سینے پر، جہاں سے چھاتیوں کے اُبھار آغاز ہوتے ہیں، ایک سنہری زنجیر، سانولے رنگ پر پیچ و تاب کھارہی ہوتی تو تو وہی عورت تصور کے لئے حُسن ِ انسان کا حرفِ آخر بن جاتی، اُس کے فکر سخن کیلئے مہمیز بنتی۔ اس کے برہنہ سینے پہ لوٹتی فقط ایک زنجیر میں تصور کے ذوقِ نظارہ کیلئے و ہ سیرابی تھی کہ ایک عرصے تک اُس کے جسم کے دیگر اُبھار اور خم تصور کی خصوصی توجہ حاصل نہ کر سکے تا آنکہ سونیا کا پیٹ اُمید کی بلندی تک اُبھرنے لگا؛ وہ ماں بننے والی تھی۔ دونوں بے حد خوش تھے کہ زندگی میں ایک معصوم سا غلغلہ اور ہنگامہ بہت سی رجائیت کا جواز بن کر آنے والا تھا۔

“سونیا! تُم اب بھی حسین ہو اور چار بچوں کی ماں بن کے بھی یونہی حسین رہو گی!” وہ اُس سنہری زنجیر کے پس منظر میں سونیا کے سینے پر نظریں جمائے کہتا اور سونیا سمٹ کر موضوع بدل جاتی جو اب زیادہ تر ان کے متوقع بچے کے بارے میں ہوتا۔ کبھی بچے کے نام کا مسئلہ زیرِ بحث آتا تو کبھی یہ کہ سوال کہ وہ بڑا ہو کر کیا بنے گا ؟ اور یہ سوال کہ وہ اپنی ماں کی طرح ہو گا یا باپ کی طرح ہو گا یا پھر یہ کہ بچے کی پیدائش کے بعد اُن کی محبت بَٹ جائے گی یا بڑھ جائے اور اختتام پہ کچھ دیر وہ ان سوالات کے احمقانہ ہونے پر ہنستے رہتے اور تصور کی نگاہیں پھر وہیں زنجیر پر جا رُکتیں جہاں سے بات آغاز ہوئی تھی اور سونیا پھر شرما کر اوڑھنی اوڑھ لیتی، “بے شرم شاعر”

ایک دفعہ قربت کے ایسے ہی ایک لمحے میں جب تصور اس کے سینے پر لوٹتی سنہری زنجیر کو سانولے سلونے ابھاروں کے درمیان پیچ در پیچ سمٹی ہوئی حالت میں دیکھے جا رہا تھا، اور سونیا نے اپنی چھاتیوں کو آدھا ڈھانپ رکھا تھا جبکہ وہ حسب معمول اپنے آنے والے بچے کے بارے میں باتیں کررہے تھے تو سونیا چونکی،

“تصور! تُم میرے ہونے والے بچے کیلئے ایک نظم لکھو، بچوں والی نظم”

“مجھے کیا خبر تمہارے بیٹی ہو گی یا بیٹا۔۔۔”

“ہوں۔۔۔ تُم وہ نظم لکھو جو بیٹے کیلئے بھی ہو اور بیٹی کیلئے بھی۔۔۔”

سونیا نے مسکرا کر کہا تو تصور بھی کچھ دیر گہری سوچ میں ڈُوبا مسکراتا رہا۔ بیچ میں وہ انگلی کی پوروں سے سونیا کے سینے پر لوٹتی سنہری زنجیر کو چھو کر گاہے بگاہے لمبی سی “ہُوں۔۔۔” کر دیتا۔۔۔ کچھ دیر بعد اُس نے اُٹھ کر قلم اٹھایا، لکھنے کا ایک بوسیدہ سا پیڈ تھاما اور چند اشعار لکھ کر سونیا کو تھما دئیے،

میری گُڑیا میری گُڑیا نین ترے کجرارے
سب دُکھیا سنسار کے اندر، دھرتی، چاند ستارے
میری گُڑیا میری گُڑیا تیرے گال گلابی
کلجگ اندھیاری رینا ہے من اپنا مہتابی
میری گڑیا میری گڑیا انگیا تیری دھانی
سب مانس مجبور اس جگ میں کیا راجہ کیا رانی
میری گُڑیا میری گُڑیا تیرے ہونٹ رسیلے
جیون میلہ چار پہر کا کھالے،پی لے، جی لے!

سونیا یہ نظم پڑھ چکی تو اُس نے ایک دو لفظوں کے مطلب تصور سے پوچھے اور اُس کے بتانے پر جو سونیا کو نظم کی پوری سمجھ آئی تو اُس کو ہنسی کا وہ دورہ پڑا کہ تصور بھی کھسیانا سا ہو کررہ گیا۔ “میرے بچے خراب کرنے ہیں ایسی نظمیں سُنا کے؟” وہ خوب ہنسی اور تصور بھی اُسے ہنسانے کیلئے کج بحثی کرتا رہا۔ اور یوں اُمیدواری کا اُمیدوں اور خوشیوں سے بھرا عرصہ خوب گزر ا مگر پھر ایک پریشانی کے موڑ پر آ کر رُک گیا۔ اب نو ماہ بڑی مہارت اور مہنگی مہنگی ولایتی دواؤں سے سعدیہ کی زچگی کی دیکھ بھال کرنے والی لیڈی ڈاکٹر نے آٹھویں ماہ کے اختتام پر تصور کو زچگی کی ممکنہ پیچیدگیوں سے ڈرانا شروع کر دیا تھا۔ اب چند دن کی بات تھی، چند دن میں آپریشن کی فیس اور ڈاکٹر کے ممکنہ اخراجات، جو کہ ان کے میڈیکل اردلی کے مطابق ساٹھ ستر ہزار سے اوپر کے تھے، کہاں سے آتے؟ ؟ ڈاکٹر صاحبہ نے تو بچے کی موت کے امکان پر روشنی ڈال کر اُس کی عقل کو اتناماؤف کر دیا تھا کہ وہ کسی اور ڈاکٹر سے مشورہ تک کرنے کا نہ سوچ سکا۔۔۔ ان “مسیحا” لیڈیوں کی معاش ایسے ہی بزدلوں پر کھڑی ہے مگر اولاد کی محبت کسے بزدل نہیں بناتی؟ اب سوال تھا پیسے کا انتظام۔۔۔ اپنے رشتے داروں نے سونیا کے آنے کے بعد واجبی سا تعلق باقی رکھا تھا، سونیا کے رشتے داروں سے تو اتنا تعلق بھی نہ تھا۔ موٹر سائیکل بیچنے نکلا تو جس ڈیلر نے چند روز پہلے چالیس ہزار میں دی تھی، پوری بے لحاظی سے بائیس ہزار پہ اَڑ گیا بلکہ کلمہ طیبہ پڑھ کر قسم کھا لی کہ موٹر سائیکل کی مارکیٹ میں یہی چل رہا ہے۔ بالآخر جب ناُامید ہو کے بیٹھ رہا تو جیسا کہ مشرق کی کبھی نہ لکھے جانے والی ہزار سالہ تاریخ میں ہمیشہ گھر کی عورت نے کیا ہے، سونیا نے اپنے تھوڑے سے گہنے پیش کر دئیے۔ تصور انہیں بیچنے پہ ہرگز تیار نہ تھا۔ ایک زنجیر، کان کے بُندے، انگوٹھی اور ناک کی نتھلی سونیا کے والدین نے سالوں کی مشقت سے بنائے تھے اور اب بک جاتے تو ان کا نعم البدل کوئی نہ تھا۔ کم از کم تصور کے خیال میں ایسا ہی تھا ! پھر اسے زنجیر کا بکنا گوارا نہ تھا جس کی بدولت دُنیا بھر کا حُسن سونیا کے وجود میں سمٹ آیا تھا۔۔۔ پھر کسی بھلے آدمی نے مشورہ دیا کہ گہنے فروخت کر دینے سے بہتر ہے کہ کسی بینک میں گروی رکھ کر قرض لے لو۔

تصور کو یہ تجویز فقط اس لیے پسند آئی کہ اس میں گہنوں کے لوٹ آنے کی اُمید تھی۔ بھاگ دوڑ میں گہنوں کا سنار سے وزن کرایا گیا، پروانہ بنا، اورئینٹل بینک کے نمائیندے نے بہت سے کاغذوں پر دستخط کروائے، گہنوں کو کاغذوں کی جس تھیلی میں بند کر کے سر بمہر کیا تھا، اُس پر کچھ اعداد لکھے، دستخط کئے، کروائے اور یوں تصور علی کو پینسٹھ ہزار روپے کا قرض مل گیا۔

بیٹی کی پیدائش چونکہ شہر کی ایک مشہور گائناکالوجسٹ کے ہاں ہوئی لہٰذا سیزرئین آپریشن سے ہی ہوئی اور لگ بھگ قرض کے تمام پیسے اُس شام ڈاکٹر شازیہ رانا کے اکاؤنٹ میں جا پہنچے، تصور کی گود میں اس کی ننھی سی بیٹی کو ڈال دیا گیا۔۔۔ تب تو اسے ایک لحظے کوقدرت یا بندوں سے کئے گئے اس بے رحمانہ لین دین کا ہر تلخ پہلو بھول ہی گیا۔بچی کی ننہال سے خوشی اور تہنیت کے جذبات اور پیغامات زیادہ آئے۔ ددھیال کی طرف سے بھی ایک دو رسمی سی مبارک بادیں آئیں لیکن سونیا اور تصور کو خوشی کی وہ سرشاری تھی کہ انہیں اس امر کی پروا بھی نہ تھی کہ کس کی خوشی میں ریا تھی او ر کس کی خوشی میں صفا!! چند روز تو اسی خوشی اور سرشاری میں گزرے کہ تصور کو قرض کی بے رحم نحوست بھی بھول گئی۔

ننھی سارہ نے جہاں اُن دونوں کی باہمی محبت کو ایک نیا موڑ دیا، ایک مضبوط بنیاد فراہم کی، وہاں سونیا اور تصور کے درمیان باہمی توجہ کے دھاروں کو بڑی حد تک اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔ اور یہ بھی پہلوٹھی کے بچوں کا حق سمجھا جاتا ہے لہٰذا انہیں یہ بات کچھ اجنبی بھی نہ لگی کہ اب ان کے قرب کے لمحے مختصر بھی ہوتے تھے اور پہلے سی رومانوی روحانی احساسات سے بھرپور بھی نہ ہوتے۔ اب شاید اے سونیا کے سانولے جسم کے متناسب اور صحتمند نشیب و فراز میں حُسنِ انسان کا کوئی دیو مالائی رنگ جھلکتا دکھائی نہ دے سکتا تھا۔ وجہ یہ نہ تھی کہ سونیا کا حُسن ڈھل چُکا تھا یا ماند پڑ چُکا تھا، ایسا ہرگز نہ تھا۔ وجہ کا دراک تصور کو بخوبی تھا لیکن وہ اسے اپنے شعور کی سطح پر ابھرنے بھی نہ دیتا تھا۔ تصورات اور خیالات کی دُنیا میں رہنے والا تصور زندگی کی جن بے رحم حقیقتوں سے چشم پوشی اور فرار کا خواہاں تھا ان میں سے ایک وہ قرض بھی تھا جس کی بدولت اب سونیا کی گردن سے وہ سنہری زنجیر غائب ہو چکی تھی اور جس نظارے سے سے وہ اپنے ذوقِ جمال کی آبیاری کرتا تھا، اب اسے وہ نظارا کرنے کی ہمت نہ تھی۔سونیا کا اس زنجیر سے خالی سینہ اسے اس کی خالی جیب اور تنگ دستی کا احساس دلاتا رہتا کہ سارہ کی پیدائش کے کئی ماہ بعد تک بھی قرض کی پہلی قسط نہ دی جاسکی تھی اور اب یہ خالی پن تصور کیلئے سوہانِ روح بنتا چلا جا رہا تھا۔ اُسے اپنے پہلو میں لیٹی اپنی محبوب بیوی کا جو پہلو بہت بھاتا تھا اب اسی کو نظر انداز کرنا اس کی غیر ارادی سی عادت بن گیا۔ یوں بھی اب ننھی سارہ کی شیرخوارگی تصور کے رومان کی جاگیر پر قابض ہو گئی تو پھر کئی ماہ گزر گئے کہ وہ سونیا کو اپنی شیر خوار بیٹی کی ماں ہی کے طور پر دیکھنے لگا تھا۔ سارہ نے اپنے سہارے پر بیٹھنا اور معصوم غوں غاں سے سب کی توجہ حاصل کرنا شروع کی تو نہ چاہتے ہوئے بھی تصور علی کبھی اپنی سوچ کے دھارے کو سونیا کی طرف پوری طرح مرکوز نہ کر سکا۔ غریب کے بچے ہمیشہ ماں کی صحت سے خراج وصول کر کے ہی پلتے ہیں۔ سارہ ایک سال کی ہوئی تو سونیا کی صحت بہت ڈھل چکی تھی۔ کچھ اندرونی مسائل نے ایک غیر ضروری آپریشن کے دوررس اثرات کے طور پر سر اُٹھانا شروع کر دیا اور کچھ چھوٹے موٹے عارضے یونہی طبیعت کا مستقل حصہ بن گئے۔ سردرد تو اکثر رہتا تھا، بخار ہوتا تو کئی کئی روز تک رہتا۔ گلی محلے کے ہومیو فزیشنوں سے علاج معالجہ بھی چلتا رہا کہ تصور ان کی اُجرت تو جیسے تیسے ادا کر سکتا تھا، شہر کے ڈاکٹروں کی جیب بھرنے کی استطاعت اسے نہ تھی۔ پینسٹھ ہزار سے شروع ہونے والا قرض جو اب سود کے ہاتھوں ایک لاکھ تک پہنچ چکا تھا، اس کا خیال ہی اب شہر کے اچھے ڈاکٹروں سے دُور رکھنے کیلئے کافی تھا۔ یوں بھی زکام، سردرد اور بخار جیسی عامیانہ بیماریوں کا مقابلہ غریب لوگ اٹکل پچو، دیسی علاج اور حکیم یا ہومیو فزیشن کے سہارے ہی کر لیا کرتے ہیں۔ گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر سونیا نے جب پرائیویٹ اسکول کی نوکری چھوڑی تو جو پانچ ہزار روپے ہر ماہ ایک بے قاعدہ سی با قاعدگی سے آیا کرتے تھے، آنا بند ہو گئے۔ سولر پلیٹوں کاکام ٹھپ ہو چکا تھا اور تصور اب ایک فوٹو اسٹیٹ مشین لے کر کچہری کے پاس بیٹھ گیا۔ سونیا بیما ر نہ پڑتی تو یہ معاش بھی روٹی کمانے کو کافی تھا۔

یہ موسمِ سرما نجانے کیسی ہوائیں لے کر آیا کہ اب کی بار جو شعر و شاعری کا مشغلہ ترک ہو چکا تھا اور جو گلی محلے کے مشاعروں میں جانا ترک ہو چکا تھا، وہ دوبارہ بحال ہو گیا۔ کچھ سونیا بھی بہتر نظر آنے لگی۔ سارہ بولنے لگی تو اپنی توتلی زبان سے گھر کی رونق کو چار چاند لگا دئیے۔

اس رات سونیا کھڑکی کے سامنے بچھے پلنگ پہ سوئی پورے چاند کی چاندنی میں کسی مرمریں بُت کی طرح دہک رہی تھی۔کرائے کے اس مکان میں دو ہی کمرے تھے، ایک پختہ اور ایک کچے اور پکے میٹیریل کا ملغوبہ جس کی چھت ٹین سے بنی تھی اور آنگن سارا کچا تھا۔ تصور نے اپنا چھوٹا پلنگ دانستہ پختہ کمرے کی کھڑکی کے ساتھ لگایا تھا کہ پورے چاند کی رات میں پلنگ کا نصف رقبہ چاندنی سے روشن ہو جاتا تھا، ایسے میں وہ بلب بند کردیتا۔ بجلی ہمسائے کے میٹر سے تار کھینچ کر خریدی گئی تھی۔

“سونیا!”۔ تصور نے اُسے متوجہ کرنے کیلئے اس کے بالوں میں اُنگلی سے مانگ بناتے ہوئے مخاطب کیا، وہ اچانک کسی سوچ میں ڈوب گئی تھی، چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ سونیا کی غزالی آنکھوں کا حُسن بیماری سے بھی مات نہ ہوا تھا بلکہ کمزور چہرے پر آنکھیں اور بھی نمایاں ہو گئی تھیں۔ البتہ اب ان میں ایک گہری اداسی نے ڈیرہ ڈال لیا تھا۔ وہ تصور کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔

“تُم ایسی شرمیلی کبھی نہ تھیں۔۔۔ سارہ کی ماں ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ امّاؤں کی سی حیا کرنا شروع کر دو !”

تصور نے آہستہ سے اس کی ریشمی، جالی دار قمیص کو اپنی انگلی کی پوروں سے محسوس کیا۔ سونیا سمجھ گئی کہ وہی بحث جو روزانہ ہوا کرتی ہے۔

“نہیں تصور۔۔۔ تم سے کیا شرمانا اوراور حیا کرنا۔۔۔ بس اب جی نہیں چاہتا اتنی بے باکی کو۔۔۔”

اُس نے آہستہ سے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھتے ہوئے نرمی سے کہا۔ تصور نے ایک سانس خارج کی جو واضح طور پر ناگواری کے اظہار میں تھی۔
“تصور! سچ بتاؤں؟ میں یہ ضد کیوں کرنے لگی ہوں؟ میری چھاتیاں دُکھتی ہیں۔۔۔ اب مجھے اس سے گھبراہٹ سی ہوتی ہے۔۔۔مگر تم سے کب تک چھپاؤں گی۔۔۔”
سونیا یہ کہہ کر خاموش ہو گئی، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ تصور گھبرا تو گیا مگر کروٹ بدل کر سونے کی اداکاری کر گیا۔ وہ رات دونوں سو نہ سکے مگر آنکھیں بند کئے کروٹیں بدلتے رہے۔

جس دن خیراتی ہسپتال کی ڈاکٹروں نے انہیں لاہور بھیج کر تفصیلی طبی معائنے کے لئے کہا، اُس دن سونیا کی شرم و حجاب کے معنی واضح ہونے لگے۔ سونیا کو چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر) تھا اور وہ ایک عرصے سے یہ بات تصور سے چھپائے ہوئے تھی۔ زنجیر کے چلے جانے کے بعد جس طرف تصور کی توجہ کم رہنے لگی تھی، وہیں سونیا اپنی زندگی کا سب سے کڑا درد چھپائے پھر تی تھی!! صبر کی فطرت اور شوہر کی غربت کے خیال نے سونیا کو یہ راز تب تک چھپائے رکھنے پر آمادہ رکھا جب تک اس کا علاج ممکن تھا۔ اگر چہ اس کی عمر کی عورتوں میں مرض کے اس خطرناک مرحلے تک پہنچنے کا تناسب انتہائی کم ہے لیکن غریبی یہ شماریات بھی کہاں پڑھتی ہے سو اب کافی دیر ہو چکی تھی مگر زندگی پھر بھی آخری لمحے تک نا اُمیدی سے لڑنے کا نام ہے۔ تصور نے قرض، قرضِ حسنہ، کمائی، امداد اور ہر طرح کی آمدن میں تمیز کیے بغیر سونیا پہ خرچ کرنا شروع کر دیا۔ لاہور کے خیراتی ہسپتال نے بھی، جو کچھ ہو سکا، مریضہ کیلئے کیا۔ بدقسمتی یہ تھی کہ ایک موذی مرض نے دو ایک درمیانی شدت کے دیگر امراض کو بھی شدید بنا دیا۔ یہ عرصہ ان کے لیے مسلسل سفر کا تھا،۔۔۔ مایوسی سے امید اور امید سے مایوسی تک کا سفر، چک ستاون سے لاہور کی طرف اور لاہور سے چک ستاون کی طرف جہاں ماسٹر رحمت مسیح کے پاس بے پناہ محبت، مخلصانہ دعاؤں اور حتی الوسع تواضع ملنے پر سونیا اپنی تکلیف میں راحت محسوس کرتی تھی۔ ملک مظہر علی کے دروازے اپنے بیٹے کے لئے کچھ کرسچن بہو کی وجہ سے بند ہو چکے تھے کچھ بیٹے کے کچھ برس سے والدین کی حالت سے مطلق غافل رہنے کی سزا کے طور پر۔ تاہم پھر بھی سعدیہ فاطمہ کے موذی مرض کی خبر سُن کر ملک صاحب ایک دفعہ تو بہت بے قرار ہوئے اور خود عیادت کیلئے بھی چلے آئے اور دو ایک دفعہ بیٹے کی دامے درمے مدد بھی کی لیکن یہ ابتلا کے آغاز کے دنوں کی بات ہے۔ سونیا کی تیمارداری کچھ آسان کام نہ تھا۔ جب علاج معالجے کی بھاگ دوڑ میں اُمید کی کوئی کرن پیدا ہوتی تو کوئی اسے بڑھانے کو ساتھ تھا نہ کبھی مایوسی پیدا ہونے کی صورت میں کوئی بے چارگی کم کرنے یا غم بانٹنے والا ہوتا۔ یہ شب و روز مصروف بھی بہت ہوتے تھے۔ روزی روٹی کے جھمیلوں سے چھوٹتے ہی تیمارداری کے جانکاہ مرحلے جن کی وجہ سے ان کی خلوتوں میں بھی دونوں اکیلے نہ ہوتے بلکہ ڈاکٹر، قرض خواہ اور مرض کا تذکرہ انہیں زندگی کے بے پناہ چوراہے پر لا پھینکتا۔ محبت کے دو بول تو شاید اس مصیبت نے ان کی زبانوں سے چھین ہی لیے تھے۔۔۔

اس ہفتہ اتوار کی درمیانی شب خیراتی ہسپتال کا زیادہ تر عملہ اور ڈاکٹر چھٹی پر تھے سوائے ڈیوٹی اسٹاف کے۔ کچھ سونیا کی حالت بھی ایسی تھی کہ رحم دل وارڈ انچارج نے تصور کو رات گئے تک اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ سارہ بھی ساتھ تھی۔

“سونیا!”

تصور نے پاس بیٹھے ہوئے، ذرا قریب ہو کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور نرمی سے مخاطب ہوا۔ سونیا نے اپنی کمزور سی پلکیں جھپکا کر تصور کی طرف دیکھا۔ اس کے ابرو اور پلکیں علاج کے سخت مرحلوں میں تباہ ہو چکے تھے اور اب پہلے سے گھنے بھی نہ رہے۔اس کے بیمار اور سانولے چہرے پہ یہ موٹی اور بجھتی ہوئی مگر پھر بھی کافی روشن آنکھیں زندگی کی آخری علامت رہ گئی تھیں۔ شاید اسے مرض سے زیادہ اُداسی نے گھُلا دیا تھا۔

“سونی! چُپ کیوں ہو؟ آج میرا دل بے حد اُداس ہے۔۔۔ تُم بھی ایسے چُپ ہو کہ میرا جی گھبرا ہے۔۔۔ کچھ بات کرو!”

تصور نے گود میں سوئی کم سن بیٹی کو سہلاتے ہوئے آہستہ سے سونیا کی طرف دیکھ کر کہا۔ سونیا نے کچھ جواب نہ دیا، بس ہاتھ کا اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ سارہ کو اس کے برابر لٹادیا جائے۔ تصور نے ننھی سارہ کو اس کی ماں کے پہلو میں لٹا دیا۔ سونیا نے چہرہ گھما کر سوئی ہوئی بیٹی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور مسکرانے لگی۔ آج سونیا کئی دنوں بعد مسکرائی تھی اور تصور کے لئے یہ اُمید افزا بات تھی۔ اسے لگا کہ یقیناً اس کے بعد ہمیں ہسپتال کا ایک آدھ چکر ہی کرنا پڑے گا، پھر علاج کے بہتر نتائج سامنے آنے لگیں گے۔ وہ بھی مسکرا کر ننھی سارہ کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر اُس نے سونیا سے ادھر اُدھر کی باتیں شروع کردیں۔ بالخصوص ہائی اسکول کی یادیں، پرنسپل کی بددماغی، نئی نئی محبت کے جذبے اور کئی دلچسپ واقعے۔۔۔ سونیا بھی محظوظ ہوتی رہی، کبھی ایک تھکی سی ہنسی ہنس دیتی، کبھی مسکرا دیتی۔ اچانک تصور کو ایک خیال آیا؛

“سونی! میں تمہاری آواز پہ عاشق تھا”

“پتہ ہے۔۔۔”

لیکن ایک مسیحی گیت تمہاری آواز میں مجھے خاص طور پر بہت پسند تھا۔۔۔ اگرچہ مجھے سمجھ نہ آتا تھا”

تصور کی بات پر سونیا نے بھنویں سکیڑیں اور پھر مسکرا دی

“مجھے یاد ہے۔۔۔ سُناؤں؟ میرا جی چاہ رہا ہے کہ سُناؤں۔۔۔تصور۔۔۔”

سونیا آہستہ سے مسکرا کر بولی تو تصور آہستہ سے اُس کی طرف جھکا جیسے بہت اشتیاق سے اور پہلی بار سننے لگا ہو۔ سونیا کی آواز کا حُسن بھی اُس کی آنکھوں کی طرح آج تک ماند نہ پڑا تھا۔۔۔ یہ ایک مسیحی گیت تھا جو پنجابی میں تھا؛

چلو چلیے اج دُعا دے لئی، گتھ سمنی باغ دے ول یارو
اج کٹھیاں وقت گزار لئیے جہڑے رہ گئے نیں دو پل یارو!

سونیا کی آواز نحیف تھی مگر سریلی اتنی ہی تھی اور درد اتنا کہ جیسے استاد کی سیکھی ہوئی گائیک ہو اور نجانے دل کی کس گہرائی سے گا رہی ہو۔۔۔ تصور کو یہ آواز سناٹے میں بھی گونجتی ہوئی محسوس ہوئی۔ جب گیت ختم ہوا اور سونیا نے خموش ہوکر آنکھیں بند کر لیں تو تصور چونکا، اُس کی آنکھوں میں اتنے آنسو بھر آئے کہ اس کے سامنے کا منظر ڈوب گیا۔ یہ گیت جناب عیسیٰؑ کے اپنے چاہنے والوں، حواریوں سے آخری خطاب کے الفاظ پر مشتمل تھا اور اسے سنتے ہی تصور کا دل بھر آیا۔۔۔ شاید پیغمبروں کے دکھوں کا رشتہ بھی آ کر غریبوں کے دکھوں سے ملتا ہے۔ وہ جلدی سے اُٹھ کر باہر آگیا اور برآمدے میں کھڑا ہو کر اپنے آنسو پونچھنے اور سسکیوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس طرف راؤنڈ پہ آئی ہوئی ٹرینی نرس نے جو اُسے دیکھا تو گھبرا اُٹھی اور تیزی سے سونیا کے بیڈ کی طرف لپکی جو اس بارک نما وارڈ کے ایک کونے میں تھا۔ چند لمحے بعد پہ تصور واپس سونیا کی طرف لپکا۔ بیڈ کے برابر کھڑی نرس نے سارہ کو اُٹھا کر سینے سے لگا رکھا تھا اور سونیا کے سرہانے کھڑی سسکیاں لے کر روئے جا رہی تھی۔ تصور بوکھلا کر جونہی قریب گیا تو نرس نے سارہ کو اس کے حوالے کی اور ڈیوٹی ڈاکٹر کو بُلانے کے لیے دوڑ گئی۔ تصور کو قصہ سمجھ آیا تو وہ چکرا کر زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا اور ٹانگیں جواب دے گئیں۔ ڈاکٹر اور عملے کے چند افراد وہاں آگئے، سونیا کی میت کو سفید اُجلی چادر سے ڈھانپ دیا گیا اور زاروقطار روتے اور دھاڑیں مارتے ہوئے تصور علی کو دلاسے دئیے جانے لگے۔ نیند سے چونکی سارہ نے بھی رونا شروع کردیا لیکن اُسے خبر نہ تھی کہ وہ کس لئے رو رہی ہے۔۔۔

سعدیہ فاطمہ، یعنی سونیا کو، جسے زندگی میں تو مسلمان معاشرے میں بڑی تنگ سی جگہ ملی تھی، موت کے بعد چک ستاون کے مسلمانوں کے قبرستان میں کشادہ قبر مل گئی۔ اس کی تدفین کے بعد تصور نے سارہ کو اس کی ننہال میں چھوڑا جہاں اس کی پرورش کی جانے لگی۔ فوٹو اسٹیٹ مشین بیچ کر اس نے تدفین و تکفین کے اخراجات کیلئے لیا گیا قرض چکایا اور دوبارہ چک ستاون چلا آیا۔ سونیا کے بہنوئی کو حال ہی میں ایک اچھی سرکاری نوکری ملی تھی، اُس نے قرض حسنہ کے طور پر اپنا آٹو رکشا تصور کو دے دیا تاکہ وہ زندگی کا پہیہ چلا سکے جسے چلانے کی واحد قوت اب فقط سارہ تھی۔۔۔ سونیا کے بعد اُسے جو اندھیرا نظر آرہا تھا، اس میں اُمید کی کرن فقط اس کی بیٹی ہی تھی۔ امید کی کرن کہیں یا زندگی کے جبر کو سہنے کا جواز۔۔۔ تصور رکشا لے کر شہر آگیا۔ رکشے کی کمائی سے وہ تھوڑا تھوڑا کرکے وہ قرض چکانے لگا جو سونیا کی بیماری میں اُٹھا رکھا تھا۔ اس دوران اورئینٹل بینک کے کئی ہرکارے آئے اور چلے گئے۔۔۔ اُن کا سود اب قرض کے برابر ہو چکا تھا سو اس نے اسے مجبوراً نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور دوسرے قرضوں پر توجہ مبذول رکھی جو اس نے اپنی محنت اور جانفشانی سے آئیندہ دو سالوں میں لگ بھگ مکمل طور پر چکا لئے مگر پھر بھی سونیا کے گہنوں کا خیال اس کے دل و دماغ سے ہٹا نہ تھا۔ زنجیر تو گویا اس کے دل کا سب سے بڑا بوجھ بن چکی تھی۔

ایک دن اسے کوئی سواری اورئینٹل بینک اُتارنی تھی۔ اس نے سواری اتاری تو ایک خیال سا آیا۔ وہ رکشے سے اتر کر اس بوڑھی عورت کے پیچھے پیچھے ہی بینک کے اندر چلا گیا۔ وہاں ایک بابوُ سے چہرہ شناسائی تھی، اُسے جا کر سلام کیا لیکن تھوڑے تردد کے بعد ہی اسے یاد دلا سکا کہ وہ کون تھا۔ مصنوعی تپاک سے اسے بیٹھے کا کہا گیا اور آنے کا مقصد پوچھا گیا۔ اس نے اپنی مرحوم بیوی کے گہنوں کا ذکر کیا تو اسے پتہ چلا کہ وہ تو نیلام ہو چکے تھے۔ اسے کئی دفعہ بینک نے خطوط لکھے تھے، ہرکارے بھیجے تھے لیکن اس نے قرض مع سود کے واپس نہ لوٹایا تھا، سو آخری تنبیہہ اخبار میں شائع کروائی گئی، بالآخر نیلام کر دئیے گئے۔ وہ خاموشی سے وہاں سے اُٹھ آیا اور شہر کی سڑکوں پر بے مقصد رکشا چلانے لگا، اس دوراں وہ زاروقطاررویا۔ اس کی آواز شہر کے ٹریفک کے شور میں دب گئی۔ یہ ایک نیا زخم تو تھا ہی، تصور کے گذشتہ سبھی دُکھ جاگ اُٹھے۔ اُسے یوں لگا جیسے زندگی کے کی بے رحمیوں کا مقابلہ کرنے کی اس میں جو ہمت باقی تھی، سبھی بکھر گئی تھی۔ پھر بھی کئی دن گزر گئے اور کئی مہینے۔ زندگی چھوٹے چھوٹے دکھوں اور بڑی بڑی مشقتوں کے معمول پر آگئی۔ وہ زنجیر اس کے لاشعور کی کھونٹی پہ کہیں ٹنگی رہ گئی۔ نیا تعلیمی سال شروع ہوا تو سارہ اسکول کی عمر کو پہنچ چکی تھی۔ اسے اسی اسکول میں داخل کرایا گیا جہاں اس کے ماں باپ پڑھتے تھے اور جہاں وہ پہلی دفعہ ملے تھے۔ تصور اب صبح دم اسے ستاون چک سے، ہمراہ چند اور بچوں کے، رکشے میں بٹھاتا اور شہر لا کر اسکول چھوڑتا۔ شاید سارہ کی پیدائس کے بعد پہلی بار اسے کوئی پائیدار خوشی ملی تھی۔ اگرچہ یہ خوشی بھی دکھوں کے سرمئی سائے میں دھندلا گئی تھی۔ تاہم سارہ کو اسکول چھوڑنا اور اسے وہاں سے لینا اس کے لئے مسرت کے لمحات ہوتے تھے۔ یہ گذشتہ زمانے کی یادوں کی باز آفرینی کا ایک خوبصورت معمول بن گیا۔ چوہدری وکٹر ممتاز صاحب، پرنسپل بھی لگ بھگ اسی وقت اپنی کار سے اتر کو اسکول میں داخل ہو رہے ہوتے تھے جب وہ سارہ کو اسکول چھوڑتا تھا۔ پرنسپل صاحب اب بہت بوڑھے ہو چکے تھے، بال پہلے سے بھی روشن سفید اور رنگت پہلے سے بھی سیاہ۔ تصور اب بھی ان سے سے کتراتا البتہ ایک دفعہ جب وہ چھٹی کے بعد بدیر پہنچا تو چوکیدار نے بتایا کہ چند بچے پرنسپل صاحب کے دفتر میں ان کے پاس بیٹھے ہیں، آپ کی بچی وہاں ہو گی۔ یہ ان کا پرانا معمول تھا کہ پہلی جماعت کے چند بچوں کو دفتر بلوا کر ان سے باتیں کرتے تھے اور انہیں پیار بھی کرتے۔۔۔۔ بڑی جماعتوں کیلئے ان کی سختی مشہور تھی اور تصورکو فقط اسی کا پتہ تھا۔ اس پر اسے ان کے دفتر جانا ہی پڑا۔ پرنسپل صاحب نے اسے تعارف کی ابتدائی منازل میں ہی پہچان لیا او ر بڑی محبت سے پیش آئے۔ اساتذہ کا ایک روائیتی سوال ہی ایسے موقعے پر پہلا سوال ہوتا ہے

“تو آج کل کیا کررہے ہو؟”

جب تصور نے رکشا ڈرائیوری کا بتایا تو چودھری صاحب کافی پریشان سے ہو گئے۔ جب دفتر میں پرنسپل صاحب، ننھی سارہ اور تصور ہی رہ گئے تو انہوں نے پانی اور جوس منگوایا اور تصور کو کچھ دیر بیٹھنے کا حکم دیا۔ وہ نیازمندی سے بیٹھ گیا۔

“سُنا ہے ہماری اسی کرسچین لڑکی سے شادی کی تھی تُو نے! دُھن کا پکا ہے لڑکے!”

چودھری صاحب نے مسکرا کر کہا تو تصور نے نحیف سی مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ اب کہیں سے بھی لڑکا نہیں لگتا تھا

“تبھی میں کہوں کہ تمہاری بیٹی بھی اتنی سریلی کیوں ہے! ابھی سے اسمبلی میں ملی نغمے سناتی ہے!”

اُنہوں نے ہنس کر سارہ کے سر پر ہاتھ پھیرا جو کہ اپنی ماں کے بچپن کا عکس تھی جسے صرف وکٹر صاحب نے ہی دیکھ رکھا ہو گا۔ تصور کے چہرے پر ایک طرفہ گھبراہٹ امڈ آئی جسے چودھری صاحب نے بھی بھانپ لیا۔

“کیوں تصور؟ پریشان سے لگ رہے ہو، گھر میں سب ٹھیک تو ہے ناں؟ ہماری سونیا بیٹی تو ٹھیک ہے ناں؟؟۔۔۔سوری یار اُس کا مسلم نام مجھے معلوم نہیں ہے !”
اُنہوں نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا تو تصور کا جی بھر آیا مگر اب وہ بڑا با ہمت ہو چکا تھا۔

“سر وہ تو کب کی اللہ کو پیاری ہو چکی۔۔۔”

تصور نے سپاٹ سے لہجے سے کہا گویا فقط ایک خبر سنا رہا تھا لیکن چودھری صاحب ایک دم غمگین سے ہو گئے۔ انہیں چند منٹ میں یہ دوسرا صدمہ مل رہا تھا کہ ایک تو ان کا سابق پراکٹر اب رکشا ڈرائیور تھا، پھر اب ان کی طالبہ جو کہ ابھی جوانی ہی میں تھی، اس کا مرنا تو صدمہ ہی تھا۔ اب جب انہوں نے سوالات کرنے شروع کیے تو ایک ایک کر کے ان پر سارے واقعات آشکارا ہوئے۔ تصور کو خود یہ اندازہ نہ تھا وہ ان تمام مشکلات کے تذکرے میں سونیا کے گہنے بک جانے کی بات پر ہی رو دے گا۔۔۔ حالانکہ سانحہ اس کے مرنے کا بھی کم جانکاہ نہ تھا!چودھری صاحب تو جیسے پگھل سے گئے اور ان کی آنکھ میں نمی آ گئی۔ تصور نے ان کی شخصیت کا فقط سخت پہلو ہی دیکھا تھا، انہیں اس قدر غمگین اور اداس نہ دیکھا تھا۔ اس اثنا میں انہوں نے کھانا منگوا لیا جو تصور کو ان کے ساتھ ہی حکماً کھانا پڑا، جس پہ اندر ہی اندر سے وہ ان کی انسانیت کا قائل ہو گیا تھا۔ کافی دیر باتیں ہوتی رہیں۔ اسی دوران پرنسپل صاحب نے اسے بتایا کہ وہ اپنے تدریسی کیرئر میں ہمیشہ ایک یا دو بچوں کے تعلیمی اخراجات اپنے ذمے لیتے آئے ہیں لیکن یہ سلسلہ اب چند برس سے منقطع ہے۔ انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ اب سے سارہ کی تعلیم اُن کی ذمہ داری ہے اور تصور اس ضمن میں کسی بھی نوعیت کی فکر سے آزاد رہے۔ تصور کی آنکھیں اب کے ممنونیت کے احساس سے بھر آئیں۔ قدم قدم پر لوگوں کی بے اعتنائی اور خود غرضی سے سابقہ رہا تھا، زندگی کی اتنی تلخ حقیقتیں بھی دیکھ لی تھیں کہ اب اسے یقین نہ آرہا تھا کہ دُنیا میں ایسے مسیحا نفس انسان بھی ہوتے ہیں؟ اسے دعائیں دینے کا طور طریقہ نہ تھا، یا شاید جھجک کہ وہ چاہتے ہوئے بھی چودھری صاحب کو دعائیں نہ دے سکا۔ سہ پہر ڈھلنے لگی تو پرنسپل صاحب کا ڈرائیور انہیں لینے آ گیا اور یہ صحبت برخواست ہوئی۔

“تصور!”

کار میں بیٹھتے ہی چودھری صاحب کو اچانک جیسے ایک خیال سا آیا، اُنہوں نے تصور علی کو آواز دی جو کہ قریب ہی کھڑے اپنے آٹو رکشے میں بیٹھ چکا تھا۔ وہ لپک کر اترا اور کار کے پاس جا کر پرنسپل صاحب کے برابر جھک گیا۔

“تُو بتا رہا تھا کہ سونیا کے گہنے بھی نیلام ہو گئے۔۔۔ کیا کیا تھا اُن گہنوں میں؟”

وہ اس سوال پر چونکا۔

“سر باقی آئٹم تو کچھ خاص نہ تھے۔۔۔ ایک سونے کی زنجیر اچھے سے یاد ہے۔۔۔ اس سے ایک چھوٹا سا بُندہ لٹکا تھا اس پر حرف ’ایس‘ کندہ تھا۔۔۔” تصور نے آہستہ سے بتایا۔

“آہ۔۔۔ فرشتہ نفس بچی تھی، خداوند اس پر اپنی ابدی برکت کا سایہ کرے۔۔۔”

چودھری وکٹر ممتاز نے دردمندانہ لہجے میں کہا اور ڈرائیور کو چلنے کا اشارا کیا۔
آج کی رات رکشا بڑھا کر وہ ایک اور شاعر دوست کے اپس چلا گیا جو کہ اسکول ٹیچر تھا۔ دیر تک وہ اپنی مرحوم بیوی کو یاد کرتا رہا، آج کی واردات بھی سنائی۔ دونوں چودھری وکٹر ممتاز کی شرافت اور خُدا رسیدگی کی داد دیتے رہے کہ غیر مسلم ہو کر بھی وہ دل رکھتا ہے کہ جو مسلمان کے سینے میں ہو تو وہ ولی اللہ کہلائے! خیر، اب اکثر وہ وکٹر ممتاز صاحب کے بارے میں سوچتا رہتا کہ چہار سمت سے نگل جانے کو تیار اس بستی میں ان جیسے مہرپرور انسان بھی ہیں۔۔۔ پھر وہ اسے بھی قدرت کی ستم ظریفی سمجھتا اور ہنس دیتا کہ یہ بھی آدمی کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ اسے زندگی کی نامہربانیوں کے درمیان کوئی ایک آدھ امید کی کرن، کوئی ایک آدھ اچھا انسان دکھا کر اسے اس زندگی کے جبر کو گوارا کر لینے پر مجبور کرنا۔ پھر وہ کہتا کہ چودھری صاحب ایسے بڑے آدمی کیلئے کون سا اتنی مہربانی کوئی بڑی بات ہے، آخر بڑے آدمی بھی تو ہیں ناں! لیکن ایسا نہیں تھا، وہ اپنی تصحیح کرتا۔ چودھری صاحب واقعی ایک سچا مسیحی دل لے کر آئے تھے، یا یوں کہہ لیں کہ ایک حقیقی انسان کا سا شفاف دل! تصور کو اس کا اندازہ تب ہوا جب سونیا مرحومہ کے بہنوئی نے کسی ضرورت کے تحت اپنا رکشا بیچنے کا فیصلہ کیا اور تصور کو کچھ عرصے کی مہلت دی کہ وہ اپنا کچھ اور کام کاج تلاش کر لےاور معینہ تاریخ تک اس کا رکشا اسے لوٹا دے۔یہ عرصہ تصور کے لئے سخت پریشانی کا تھا۔ سونیا کے علاج کی غرض سے لیے گئے قرض ابھی کاملاً ادا نہ ہوئے تھے۔ ایک ککے زئی تاجر کے تقاضے تو اب پولیس اور تھانے کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔ محلے کے معززین میں سے دو ایک کی مداخلت اس تاجر نے اس کے خلاف دی گئی درخواست تو پولیس سے واپس لے لی مگر چھے ماہ کا الٹی میٹم تھا۔ تصور میں بھی تھانے کے اس ایک پہر کے قیام کے بعد مزید ہمت نہ تھی، سو اب رکشے کی فروخت کا مطلب سارے اندیشے اور خوف پورے ہونے کا تھا۔ پھر یہ ابتلا ننھی سارہ پر بھی منفی اثر ڈالنے والا تھا کہ اب وہ بھی بالکل چھوٹی نہ تھی۔

بآسانی سمجھ میں آجانے والا تو یہی حل تھا، سو تصور کے ذہن میں بھی یہی آیا کہ چودھری وکٹر ممتاز صاحب سے بات کرے۔ وہ اس دن دانستہ سارہ کو لینے بدیر پہنچا۔ چودھری صاحب کا سب کو علم تھا کہ دیر تک دفتر میں بیٹھتے ہیں۔ چپراسی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ اندر سے پیغام آیا کہ تھوڑا سا انتظار کیا جائے، نظامت تعلیمات کے کچھ افسران اور لاہور سے ایک پادری صاحب آئے بیٹھے تھے۔ معزز مہمان جا چکے تو تصور کو اندر بلوایا گیا۔ واجبی احوال پرسی کے بعد تصور نے مدعا بیان کیا۔ چودھری صاحب نے تمام بات غور سے سُنی، چپراسی کو بلایا اور کھانا مگوایا۔ یہ ادا کمال تھی اُن کی، ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اچھا مسیحی کسی کو بھی کھانا کھلا کر خداوند کے قریب تر ہو جاتا ہے۔ ان کے گھر پر بھی فراخ دلی کا یہی عالم تھا۔ وہ خاموشی سے کچھ فائلیں دیکھنے بیٹھ گئے۔ کھانے تک وہ خاموش تھے، تصور بھی چُپ رہا لیکن اس کے چہرے پر اُمید و بیم کے تاثرات واضح تھے۔

“تصور بیٹا۔۔۔ آپ اپنے ہم زلف سے رکشا لوٹانے کی معینہ تاریخ میں کچھ توسیع لے لیں۔۔۔ ایک ماہ کی۔۔۔ پھر میرے لیے دعا کریں کہ جو کچھ میں کرنا چاہ رہا ہوں، خداوند خُدا مجھے اس میں کامیاب کریں۔۔۔”

تصور نے کھانے سے اپنی نظریں اُٹھائیں۔۔۔ چودھری صاحب دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے تھے، وہ فقط چائے کی سست رو چسکیاں لے رہے تھے۔

“تصور بیٹا میں سوچ رہا ہوں کہ اپریل تک میرے دفتر میں نائب قاصد کی آسامی بن رہی ہے۔۔۔ بُوٹا ریٹائر ہو رہا ہے۔۔۔ میری پوری کوشش ہو گی کہ اس پہ تمہارا تقرر ہو۔۔۔ اگرچہ ایک مسلم کے لئے یہ فیور مانگنے میں مجھے بورڈ ممبرز میں کسی نہ کسی کی مخالفت مول لینا پڑے گی، پھر تم جیسے مسلم کے لئے جس نے ماضی میں ایک مومن لڑکی کو مسلم کیا ہو، کرسچن بہت نرم گوشہ نہ رکھتے ہوں گے۔۔۔ تُم سمجھ گئے ناں؟”

تصور نے زور سے کسی معصوم بچے کی طرح اثبات میں سر ہلایا۔

“خیر تُم پر امید رہو۔۔۔ خداوند ہمیں کامیاب کرے گا۔۔۔”

چودھری وکٹر ممتاز صاحب کے لہجے میں خلو ص اور عزم تھا۔ سو وقت آنے پر خداوند نے انہیں کامیاب بھی کیا۔ تصور کو اس نوکری نے صرف معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ سماجی طور پر بھی کچھ سہارا دیا۔ کچھ مسلمان کمیونٹی میں اور کچھ عیسائی کمیونٹی میں۔ معمولات میں ایک روانی آئی، اگرچہ مفلسی تو نہ گئی مگر محتاجی سے بچ کو آبرو میں کٹنے لگی۔ قرض خواہوں کے تقاضوں میں شدت تو ہوتی مگر اب پہلے سی بدتمیزی نہ تھی۔ حاجی صاحب سے تعلقات بھی بحال ہو گئے۔ عید تہوار پہ سارہ نے بھی ددھیال جانا شروع کر دیا اور ننہال تو اس کا اصل ٹھکانا تھا۔ ماسٹر رحمت مسیح تو اسے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ تصور کا گزشتہ شعر وسخن کا سلسلہ بھی کچھ بحال ہوا مگر اب سامعین اس کے غم اور یاس سے بھرے اشعار سے اُکتا گئے تھے۔

پھر کچھ سال اسی باعزت غریبی میں گزر گئے۔ عمر گذشتہ کے دکھوں کا مداوا ہو سکا نہ کوئی بڑی خوشی ملی۔ تصور بھی اس پر صابر وشاکر تھا کہ بے شک کوئی اور خوشی نہ ملے، کیا یہ کم ہے کہ جو کچھ میسر ہے، اس کا دُکھ نہ دیکھنا پڑے۔ دوسری شادی کے لئے کئی دفعہ احباب، دوستوں کی طرف سے اصرار بھی ہوا مگر اب تصور اس خیال سے بھی گھبراتا تھا۔ اسے سونیا کی یادوں سے بھی دوری گوارا نہ تھی۔ اور یہ باب کچھ اس لئے بھی بند ہونے لگا کہ تصور کے سر میں وقت سے زرا پہلے چاندی اترنے لگی تھی۔ نوکری میں اگرچہ عیسائی رفقائے کار کے ساتھ کبھی کبھار رنجشیں بھی ہوئیں مگر ایذا رسانی کی حد تک کبھی نہ پہنچیں۔ کچھ چودھری وکٹر ممتاز صاحب کی شفقتوں نے بھی اسے مامون رکھا۔ البتہ اب چودھری صاحب کی ریٹائرمنٹ قریب تھی۔

ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل کی بات ہے، اس روز چودھری صاحب گھر جا کر دوبارہ شام کو دفتر آئے اور تصور کو بھی بلوا لیا۔ دفتر میں پا س بٹھا کر ادھر ادھر کی بات چیت کرنے لگے۔جب سے تصور ان کے ہاں ملازم ہوا تھا، اب اس کے لئے کھانا نہ منگواتے۔ چائے البتہ منگوا لی۔ باتوں باتوں میں اپنی بیٹی کی شادی کا قصہ چھیڑ دیا۔ سلویا ممتاز ان کی اکلوتی بیٹی تھی جس کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی۔

“تصور۔۔۔ میں جب سلویا کی شادی کے کپڑے گہنے بنا رہا تھا تو مجھے اورنٹیئل بینک کے ایک دوست کی وساطت سے کچھ گہنے نیلام کی قیمت پہ بھی ملے تھے۔۔۔”
وکٹر صاحب کے اس جملے پر تصور چونک اُٹھا۔ وہ لگ بھگ ساری بات سمجھ چکا تھا۔ ساتھ ہی چودھری صاحب نے کوٹ کی جیب سے ایک سنہری زنجیر نکال کر میز پر پھیلا دی۔ تصور اسے پہچان گیا کیونکہ یہ اس کے لئے فقط ایک زنجیر نہ تھی۔۔۔ اس کے دل کی ایک دھڑکن گویا قضا ہو گئی۔

“تصور۔۔۔ یہ زنجیر پہچانتے ہو؟”

وکٹر صاحب نے پوچھا۔ پتلی سی زنجیر کے ساتھ ایک چھوٹا سا بُندہ، جس پر حرف ’ایس‘ کندہ تھا، تصور کو خوب یاد تھی، خوب پہچانتا تھا۔ اس کی آنکھیں بے اختیار ڈبڈبا گئیں۔

“تصور۔۔۔ یہ زنجیر تمہاری مرحوم بیوی کی۔۔۔ سونیا کی۔۔۔ مجھے اس کے باقی گہنوں کا بہت افسوس ہے لیکن یہ زنجیر اتفاق سے میرے پاس تھی۔۔۔ جب پہلی بار میں نے تُم سے اورنٹئیل بینک کا سُن کر سونیا بیٹی کے گہنوں کی تفصیل پوچھی تھی تو تب تک میں یہ زنجیر سلویا کو دے چکا تھا لیکن تب سے اب تک یہ ایک پھانس بن کر میرے دل میں اٹکی تھی۔۔۔”

چودھری وکٹر ممتاز صاحب نے زنجیر تصور کی طرف بڑھائی تو اُس نے ڈبڈبائی آنکھوں اور رندھے ہوئے گلے کے ساتھ ایک نامکمل سا لفظ ادا کیا “شکریہ سر۔۔۔” لیکن اس کا ہاتھ اب بھی زنجیر کی طرف نہ بڑھا تھا۔

“شکریہ تو تُم سلویا کا ادا کرو جسے ابھی چند روز قبل بہت اندیشوں کے ساتھ اور بڑی ردوکد کے بعد میں نے سونیا کے گہنوں کا قصہ سُنایا تھا۔ اُسے بھی سونیا کے گہنوں کا بہت دُکھ ہے اور مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ سلویا نے یہ سب سنتے ہی بنا کسی جھجک یا مزید سوال جواب کے، یہ زنجیر مجھے لاکر دی جو اُسے یقین تھا کہ سونیا کی ہو گی۔۔۔”

یہ رات اُس نے چک ستاون کے مسلمانوں کے قبرستان میں سونیا کی قبر کے سرہانے پہ بیٹھ کر گزاردی۔۔۔ سونیا کے گلے کی جس زنجیر نے اُسے ملکوتی حُسن عطا کیا تھا اور اس شاعر کی نظر میں اُسے دونوں جہانوں کے حُسن کا پیکر بنایا تھا، وہ زنجیر، سونیا اور یہ شاعر جو اول الذکر ہر دو پہ کبھی جان وارتا تھا، تینوں آج مدت بعد ایک جگہ تھے۔ اگرچہ ان کے مابین فاصلہ بھی وہ تھا جو کبھی عبور نہ ہونے والا تھا! جب رات کا آخری پہر ہونے آیا اور تصور کو نقاہت سی ہونے لگی تو اس نے قبر کو مخاطب کیا؛

“سونی! مجھے لگتا ہے میری غریبی نے ہی یہ دن دکھائے۔ شاید یہ زنجیر تُم سے جُدا نہ ہوتی تو تمہارا حُسن بھی سرطان کے بھیانک عفریت کی غذا نہ بنتا! کسے خبر تُم پر یہ ابتلا فقط غریبی کی وجہ سے آئی ہے۔ خیر، یہ رہی تمہاری زنجیر۔۔۔اسے تُم سے بہتر کوئی نہیں پہن سکتا! مجھے معاف کرنا کہ میں اسے واپس حاصل کرنے میں ناکام رہا لیکن دیکھ لو، مجھے بھی اس کٹھن سفر نے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔۔۔خیر، یہ لو۔۔۔ تمہاری۔۔۔زنجیر۔۔۔”

تصور نے اس کی قبر کی بالیں کی جانب کافی گہرائی تک مٹی کھود کر اس میں زنجیر دبا دی۔۔۔وہ اس زنجیر کو سارہ کے جہیز کیلئے نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ تصور وہاں سے اُٹھا تو اس کے سفید بال اور چہرے کی جھریاں پسینے میں تر تھیں اور قریب بستی کے کسی بلب کی بھولی بھٹکی روشنی میں پسینے کے قطرے تھکی تھکی سے چمک دکھا رہے تھے۔۔۔

رِیت رسموں کی زنجیر توڑ پھینکنے والا تصور اس زنجیر کے بوجھ سے آزاد ی پا کر اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑا کہ اب نجانے کب تک اسے زندگی کے جبر کی زنجیر میں بھی ہاتھ پاؤں مارنے تھے۔۔۔

(سرگودھا، ۱۰ جولائی ۲۰۱۹)
Image: Heitham Adjina

Categories
فکشن

امام باڑے والے زیدی صاحب (زکی نقوی)

یہ خاکہ ایک شیعہ سید زادے کی یاد میں لکھا گیا ہے جنہیں میں کبھی نہ سمجھ سکوں گا کہ آپ کی دیوانگی کی فرزانگی کے مقابلے میں کیا قدروقیمت تھی۔

سید پناہ حسین زیدی کا وطن مالوف اُتر پردیش تھا۔ میر اخیال ہے یُو پی میں آگے فیض آباد (لکھنئو) کے تھے۔ تقسیم سے پہلےبرٹش انڈین آرمی میں وائسرائے کمیشنڈافسر تھے، جنگ کے بعد کچھ پلٹنیں ٹُوٹیں تو گھر آرہے۔ غدر کا جانکاہ سال گزر چکا، مہاجرین کی غارتگری کا سلسلہ ختم ہوا تو یہ بھی بالائی پنجاب کی طرف اٹھ آئے اور پہلا ٹھکانہ میانوالی میں کیا۔ پاکستان کی فوج میں تعمیرِ نَو کا عمل چل رہا تھا، سپاہی پیشہ تو تھے ہی، ایک جان پہچان کے اعزازی کرنل کمانڈانٹ کو چٹھی لکھی اور بلوچ رجمنٹ کی ایک پلٹن میں بھرتی ہو گئے۔ یہاں سال بھر تو اچھا گذرا لیکن پھر ایک گَھٹنا ہو گئی۔ پلٹن کے اینگلو انڈین صاحب ایجٹن بہادر سے کسی بات پر تکرار ہو گئی، بات مادر پدر خواہی تک پہنچی تو زیدی صاحب نے طیش کھا کر سنگین کمر سے کھولی اور کپتان ڈیوڈ پریسکاٹؔ کے حلق سے آر پار کر دی۔گہرے سانولے کپتان کے گہرے سرخ خون کا فوارہ چھُوٹا اور زیدی صاحب قبلہ کا چہرہ گرم فوجی خون سے لتھڑ گیا۔ آپ نے اس کے بعد وردی کا باقی عرصہ فوجی ہسپتال میں دماغی معالج کی نگرانی میں گزارا لیکن کبھی ذہنی توازن مکمل بحال نہ ہو سکا۔ میڈیکل بورڈ نے کورٹ مارشل کے ناقابل قرار دے کر میڈیکل پنشن پر انہیں فوج سے نکال دینے کی سفارش کردی جو خداوندانِ جی ایچ کیو نے فوراً قبول کرلی۔ فوج چھوڑی تو میانوالی کو بھی خیرباد کہہ دیا اور پھر یہاں میرے آبائی گاؤں آکر ہمیشہ کیلئے یہیں کے ہو رہے۔

زیدی صاحب یہاں آئے تو ہمراہ بیوی، ایک کمسن لڑکا اور دو جواں سال لڑکیوں پر مشتمل خانوادہ لے آئے۔ لڑکیوں کو تو یہاں آتے ہی، ایک کو شہر کے ایک مہاجر سید، دوسری کو ہمارے ایک چچا سے بیاہ دیا جو سفر مینا کی پلٹن میں سپاہی تھے، لڑکے اور بیوی کے ساتھ یہاں ایک سادہ سی غریبانہ زندگی کا آغاز کیا۔ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے ہیں کہ سید بھی ہاتھی کے موافق زندہ ہو تو لاکھ کا، مَرجائے تو سوا لاکھ کا، لیکن اگر فاطر العقل ہو جائے تو تین چار لاکھ کا ہو جاتا ہے۔چونکہ سید صاحب موصوف کا ذہنی توازن تا حیات متزلزل رہا، سو اہلِ علاقہ اُن سے دعا لیتے رہے اور پھر بدستور دم درود بھی کرواتے رہے۔ارادتمندوں کے اس حلقے کی وجہ سے آپ کی معاش عمر بھر خطِ غربت پر سہی مگر رواں دواں رہی۔ یہاں دو لڑکے اور ہوئے۔ بڑا لڑکا تو چونکہ زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکا تھا سو جونہی جوان ہوا، اُسے سپاہی کروا دیا۔ منجھلے اور چھوٹے بیٹے کو اسکول بھیجا۔ چاروناچار ان لڑکوں کو پڑھنا تھا کیونکہ پڑھائی میں غفلت کا مطلب تھا کھجور کی گیلی چھڑی سے کھال کا اُدھیڑ دیا جانا۔۔۔ زیدی صاحب کا غصہ کس سے پوشیدہ تھا۔ علاقے کے بلوچ اور سیال سردار، زمیندار بھی اُن کے سامنے سہمے سے رہتے تھے کہ ایک تو جوارِ لکھنئو کی اُردو کی سکہ بند ماں کی گالیاں مع چند مابعدِ ہجرت اضافوں کے، ہمہ وقت آپ کے نوکِ زباں رہتیں۔ سو بھری پنچائیت میں صاحب خاں بلوچ کو غصے میں آکر مادرچود کہہ دیا تو پھر کیا مجال ہے کہ خا ن موصوف بھی اسی ردیف قافیے میں کوئی جواب دے پاتے! دیتے بھی تو بے چارے پھر پنچائیت میں کیا منہ دکھانے کے قابل رہتے کہ ایک سید کو گالی بکی؟ پھر زیدی صاحب کے ہاتھ میں ہر وقت جو گرہ دار لکڑی کی جریب رہتی تھی، اگر اُس کا رُوئے سُخن کسی کی طرف ہو گیا تو بلا تخصیصِ عمر و مرتبہ اُس کا بچنا محال تھا۔ دو گز کی یہ جریب آپ سے ہر شخص کو تین گز کے فاصلے پر ہی رکھتی۔ ایک دفعہ جلال میں بیٹھے تھے، پیارے خاں سیال کی بیوی دعا لینے کو آئی۔ ’’مرشد، شادی کو چھے سال ہونے کو آئے ہیں، اُمید نہیں بر آتی، بیٹے کی دعا کر دیں تو عمر بھر نوکری دوں گی!‘‘۔ زیدی صاحب نے لاٹھی زور سے زمین پر ماری اور غصے میں دھاڑے، ’’چلی جا مادرچود! تیرے لڑکا ہوگا! جا اُوپر سے مانگ، ادھر سے میں نے دعا دے دی ہے، چلی جا مادر۔۔۔‘‘ خُدا کی کرنی، وہ اُمید سے ہوئی تو لڑکا ہوا۔پیارے خاں کا بیٹا عمر حیات خاں عمر بھر ان کا مرید رہا البتہ عمر خاں گالیاں بہت بکتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ زیدی صاحب کی دعا سے جس کے ہاں بھی اولاد ہوئی، دشنام طرازی میں یگانہ روزگار ہوتی تھی۔

آپ کو عمر بھر ایک ہی دھُن سوار رہی۔ میرے پردادا نے گاؤں میں جس امام باڑے کی بنیاد رکھی تھی، زیدی صاحب کی خواہش تھی کہ اس سے بڑا امام باڑہ مہاجرین سادات بھی گاؤں میں قائم ہو۔ اب گاؤں میں مہاجرین سادات کی کل تعداد ہی جب چھے تھی، یعنی شاہ صاحب کے گھر کے کُل نفر، تو امام باڑہ کیا بنتا اور کون بناتا؟ بات یہ تھی کہ ذہنی اختلال کے باوجود اُنہوں نے ساری زندگی کوئی نماز قضا کی نہ ہی عزاداریٔ سید الشہدأ سے غافل ہوئے۔ نبیﷺ اور آلِ نبیﷺ سے مودت کا جذبہ ان کے ذہنی توازن ڈگمگانےمیں بھی محفوظ رہا۔ عاشور کے دنوں میں راہ چلتے بھی گریہ کرتے پائے جاتے اور نعرۂ یا علیؔ سے اُن کا آنگن سارا سال گونجتا رہتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اہلِ دیہہ کی سماعتوں میں وہ گونج ایسی پختہ ہوئی کہ میرے گاؤں کے کئی بزرگوں نے اگر زیدی صاحب کی وفات کے بعد بھی اُن کی قبر سے ’یاعلیؔ‘ کی آوازیں آتی ہوئی سُننے کا بیان قسمیں کھاکر دیا ہے تو وہ جھوٹ بھی نہیں کہتے۔ آپ کے، میرے لیے یہ پیراسائیکولوجی کا گھن چکر ہو گا لیکن وہ بوڑھے اپنی سماعتوں پر پورا ایمان لانے والے ہیں۔ بلکہ بیگوُ ماچھی کا ایمان تو سب سے دلچسپ کرشمہ دکھاتا ہے۔ ہم نے کم سنی میں یہ واقعہ کئی دفعہ بیگوُ سے سُنا۔ بیگوُ ماچھی ایک دفعہ، زیدی صاحب کی وفات کے کئی سال بعد امام باڑے کے قریب سے گزررہا تھا کہ اُسے فطری بشری حاجت نے اس قدر تنگ کیا کہ امام باڑے کے قریب ہی ایک جھاڑی کے پہلو میں پیشاب کرنے بیٹھ گیا۔ ابھی بیٹھے ہوئے ایک لمحہ بھی کیا ہوا ہو گا کہ کیا دیکھتا ہے، پناہ حُسین زیدی صاحب سامنے سے ہاتھ میں وہی جریب لہراتے ہوئے آرہے ہیں اور پھر اُن کی آواز آئی ہے، ’’ٹھہر بے مادرچود!! مہاجری امام باڑے کے پہلو میں ہاگتا ہے؟؟ تیری تو نسلوں کا گوبر خطا کر دوں گا بھوس۔۔۔کے!!‘‘ پھر جو بیگوُ ماچھی بھاگا وہاں سے آج تک سہما ہوا ہو گا۔

سید پناہ حُسین زیدی صاحب دُبلے پتلے اور متوسط قامت کے تھے۔ رنگت خالص ہندوستانیوں والی، یعنی سیاہ تھی جو شاید جوانی میں فقط سانولی ہوتی ہو گی۔ڈاڑھی موچھ تمام سفید تھی لیکن اس معمولی سی شکل صورت کے باوجود بات کا لب و لہجہ پرانے زمانے کے دبنگ ہڑدنگ سپاہیوں کا سا تھا۔ یہاں آکر بھی اُردو ہی بولتے تھے اور آخر تک وہی لکھنئو والا لب و لہجہ قائم رکھا۔ لباس صاف ستھرا پہنتے جس میں اپنی وضعداری کا جہاں تک ہو سکتا، پورا پاس رکھتے تھے۔ پگڑی بھی طرے دار باندھتے تھے۔ ایک دفعہ مجالسِ عاشورہ کی پہلی محفل میں آئے، سفید کپڑے اور واسکٹ زیبِ تن کر رکھی تھی اور پگڑی بھی حسبِ معمول باندھ رکھی تھی۔ مجلس کی صفوں میں بیٹھے کچھ تو یوں بھی نمایاں تھے، ذیادہ نمایاں اپنی دستار کے طرے کی وجہ سے ہو رہے تھے۔ اُس زمانے میں تمام مرد بلا تخصیصِ عمر، سر پر پگڑی باندھے رکھتے تھے لیکن ضابطہ اور رواج یہ تھا کہ جب عزاداری کی مجلس میں بیٹھا جائے تو سوگ کے اظہار کے طور پر پگڑی اُتار کر گلے میں ڈال لی جائے مگر زیدی صاحب کو خیال نہ رہا یا شاید کوئی اور وجہ۔ اس وقت جو روضہ خواں شہادت پڑھ رہا تھا، ساتھ کے گاؤں کا بلوچ تھا، اُس کی شامت آئی تو متوجہ ہوا؛ ’’شاہ صاحب قبلہ گستاخی معاف، یہ عزا کی محفل ہےاور امامِ مظلوم کا سوگ ہے، آپ سید ہو کر طُرے کی پگڑی باندھے بیٹھے ہیں، چہ بوالعجبی؟‘‘ زیدی صاحب اگرچہ اس بات سے متفق ہوں گے لیکن شاید تہیۂ طوفاں پہلے کر کے آئے تھے یا ایک بلوچ کی گستاخی پر جلال میں آگئے، ’’بکواس مت کر مادرچود! یہ تیرے جدِ امجد کا سوگ ہے یا میرے؟؟ یہ میرے گھر کا معاملہ ہے!!‘‘ مجلس پر ایک لمحے کے لئے تو گہری خاموشی چھا گئی، پھر چند لوگوں نے اپنی ہنسی کو کھانسی اور چھینکوں میں خارج کر نے کی کوششیں کیں تو روضہ خواں بھی کھسیانا سا ہو کر دوبارہ اپنے موضوع کی طرف آ گیا، زیدی صاحب پلوُ جھاڑ کر مجلس سے اُٹھ آئے۔ شاید اُنہیں پنجابیوں کے امام باڑے میں عزاداری کا کچھ لطف بھی نہ آتا تھا۔کچھ یہ بھی تھا کہ جس روائیت کو میر مستحسن خلیقؔ، انیسؔ اور دبیرؔ نے لکھنئو اور دِلی میں پروان چڑھایا، عزاداری کی اُس روائیت سے پنجابی ذہن ہنوز بہت دور تھا سو اُنہوں نے امام باڑہ مہاجرین سادات بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسی اثنا میں گاؤں میں موجود مہاجرین میں ایک کی کمی ہوئی کہ وہ پردیس سدھار گیا۔ زیدی صاحب نے منجھلے لڑکے کو بھی فوج میں بھیج دیا جو کہ ایک دفعہ گاؤں سے گیا تو ہم نے دوبارہ کبھی نہ دیکھا۔۔۔ شاید فقط زیدی صاحب کی وفات پر ہی گاؤں آیا تھا۔ مہاجرین سادات کے امام باڑے کا خیال آیا تو بیوی سے اظہارِ خیال کیا، وہ بولیں؛

’’پناہ حُسین، یہاں مہاجرین ہیں ہی کتنے۔ پھر ایک امام باڑہ جو ہے جلال شہانوں کا، اُس میں بھی سارا گاؤں عزاداری کر لیتا ہے، سبھی نماز بھی وہیں پڑھ لیتے ہیں، کافی ہے۔ ہاں، نیکی کا کام ہے، عقیدت کی بات ہے تو بنانے میں کیا برائی ہے لیکن جلدی نہ کرو، جب یہ غریبی کے دن کٹ جائیں گے، ضرور بنائیں گے امام باڑہ۔۔۔‘‘

زیدی صاحب کو سمجھ آگئی۔ اس مسکین خاتون کی وفا شعاری، خُدا رسیدگی اور شرافت بھی بے مثال تھی۔ اُنہوں نے ان کے ساتھ خُوب نباہی تھی۔ ان کی تند وتلخ طبیعت کو بھی سہا اور ان کے بچوں کی پرورش بھی ایسی کی کہ زیدی صاحب کے درویشانہ استغنأ کے بس کی بات نہ تھی۔ البتہ ایک دفعہ بہت بدمزگی ہوئی۔ چھوٹے لڑکے نے میٹرک میں علاقے بھر میں نمایاں پوزیشن لی تو بڑے خوش ہوئے۔ اُس وقت فوج میں جے سی اسکیم ہوتی تھی، ٹھان لی کہ بیٹے کو کپتان کی وردی میں دیکھیں گے! بیٹے کو ساتھ لیا اور راولپنڈی جا پہنچے ۔ بھرتی دفتر والے افسر بڑی عزت سے پیش آئے لیکن لڑکے کے قد میں افسری کے معیارات سے انچ بھر کی کمی کی وجہ سے اُنہوں نے معذرت کرلی۔ اب جو زیدی صاحب کا پارہ چڑھا تو واپسی کے تمام راستے میں کھولتے رہے، گھر آتے ہی لٹھ سنبھالی اور اماں بی کو پھٹک ڈالا،
’’نہ مَیں تُجھ ٹھگنی سے بیاہ کرتا نہ میرے بچے کا قد چھوٹا ہوتا، مادر۔۔۔‘‘
ہمسایہ عورتوں نے بیچ میں پڑ کر اماں بی کی جان بخشی کروائی۔ خیر گزری کہ اگلے دو ایک سال میں ہی ان کا وہ لڑکا ائرفورس میں پائلٹ ہو گیا ورنہ اماں بی تو عمر بھر یہ طعنہ سُنتی رہتیں۔۔۔

پناہ حُسین زیدی صاحب نے اپنے برسرِ روزگار، یعنی فوجی بیٹوں سے کبھی کچھ زیادہ طلب نہیں کیا، بس یہی کہا کہ بیٹا ریٹائرمنٹ پر جو رقم ملے، امام باڑہ مہاجرین سادات ضرور بنوانا۔ بڑے دو بیٹوں نے بالعموم اور چھوٹے نے بالخصوص اس نصیحت کو خوب نباہا، لیکن یہ بعد کی بات ہے۔ ایک دفعہ عاشور کی مجالس میں ایک کم سن لڑکے کو دبیرؔ کا مرثیہ پڑھنے پہ مامور کیا گیا۔ فرمائش گاؤں کے ایک بلوچ بزرگ کی تھی جو کہ مہوؔ چھاؤنی سے پڑھ کر آئے تھے اور اردو مرثیے کا خوب ذوق رکھتے تھے۔ لڑکے نے بھی محنت سے کمال تحت اللفظ تیار کیا۔ اگرچہ یہیں کے سیدوں کا لونڈا تھا مگر اُردو کا لہجہ بھی خُوب پیدا کیا۔ مجلس بپا ہوئی تو لڑکے نے مرثیہ شروع کیا، شہزادہ علی اکبر کا سراپا پڑھا۔ سُنی شیعہ، سبھی سُننے والے تھے، باریکیاں سمجھنے والے اگرچہ معدودے چند تھے مگر پھر بھی بہت پسند کیا گیا۔ ایک شعر پہ زیدی صاحب پھڑک اُٹھے! شہزادے کے چہرہ مبارک کا پسینے میں شرابور ہونے کا منظر؛
؎ یہ قدر عرق کی نہ کسی رُو سے بڑھی تھی
شبنم کبھی خُورشید کے رُخ پر نہ پڑی تھی!

زیدی صاحب نے شعر دوبارہ پڑھوایا۔ لڑکے نے پڑھ دیا۔ زیدی صاحب تو وجد میں ہی آگئے، پھر پڑھوایا۔ لڑکے نے پھر پڑھ دیا، زیدی صاحب آنکھیں موندے، جھومنے لگے۔ ’’پھر پڑھو لڑکے میاں!!‘‘ لڑکے نے پڑھ دیا لیکن پنجابیوں نے پہلو بدلنے شروع کر دئیے۔ ’’واہ! واہ! پھر پڑھ لڑکے!‘‘ زیدی صاحب کہے جاتے تھے، لڑکا بیچارہ سہمے ہوئے پڑھے جارہا تھا، آہستہ آہستہ تحت اللفظ رُخصت ہوا، جوشِ خطابت رُخصت ہوا، پھر آواز دھیمی پڑ گئی، آخر نوبت بایں جا رسید کہ زیدی صاحب نے جو فرمایا ’’واہ! پھر پڑھ بیٹے!!‘‘ سید زادہ منمنا ہی سکا، ساتھ ہی اُس نے مجلس میں حاضر دیگر بیزار بُوڑھوں کی طرف امداد خواہ نظروں سے دیکھا تو چچا دلاور خاں بول اُٹھے: ’’شاہ صاحب اتنا پسینہ تو اب تک شہزادے کے رُخ پر نہ ہو گا جتنا آپ نے بچے کا نکال لیا ہے!‘‘

بس پھر کیا تھا، اتنی دیر کی بیزاری قہقہوں میں اُڑی۔ زیدی صاحب کو پنجابیوں کی کور ذوقی اور بدتہذیبی پر سخت غُصہ آیا۔ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ روضہ خواں سے جو گذشتہ سال بھی زیدی صاحب سے ڈانٹ وصول کر چکا تھا، مخاطب ہوئے، ’’ممتاز خاں! کل سے تُم اوپر ٹیلے پر، مہاجرین سادات والے امام باڑے میں مجلس پڑھو گے!‘‘ اور بڑبڑاتے ہوئے چلے گئے۔ یہ رات اُنہوں نے لکھنئو اور اودھ کی عزاداری کی یادیں تازہ کرتے، آہیں بھرتے اور ہنگامی بنیادوں پر ایک امام باڑہ مہاجرین سادات کھڑا کرنے کی ترکیبیں سوچنے میں گزار دی۔ زیدی صاحب اپنی لکھنوی تربیت کے طفیل ہمیشہ سے قائل تھے کہ عزاداری ہمارے کلچر کے عنصر کے طور پر مذہب سے نکلتے قدقامت کی چیز ہے جسے یہ سطحی پنجابی ذہن نہیں سمجھ سکتا۔ پھر اگلے دن زیدی صاحب نے امام باڑہ مہاجرین سادات قائم کرکے پنجابی ذہن کو حیران کر ہی دیا۔ آپ نے ایک عَلمِ جنابِ عباس لیا اور اپنے گھر کے برابر میں ٹیلے کی چوٹی پر برگد کے پیڑ کی سب سے اونچی پھننگ پر باندھ دیا۔پانی کے دو مٹکے بھر کے چھاؤں میں رکھے، مسجد سے مستعار صفیں لا کر بچھائیں اور نیچے بستی میں آن اُترے جہاں پرانے امام باڑے میں مجلس جاری تھی وہاں جا دھمکے۔ ’’ابے او بلوچ کی اولاد!‘‘ ممتاز خان بلوچ روضہ خواں آپ کی آواز سنتے ہی بوکھلا سا گیا۔ ’’تجھے جو کہا تھا کہ آج کی مجلس وہاں اوپر،ا مام باڑہ مہاجرین سادات میں پڑھو گے!‘‘ روضہ خواں بیچارہ چُپ۔ بستی کے بڑے بوڑھوں نے احتجاج کیا کہ شاہ صاحب وہ کاہے کا امام باڑہ ہے جس کے دیوار ہے نہ در؟؟ زیدی صاحب جلال میں آگئے۔ ’’ابے مادرچودو! ہم نے جو کہہ دیا وہ امام باڑہ ہے، کیا وہ امام باڑہ نہیں ہے؟؟ تو اُسے کیا مویشیوں کا باڑہ سمجھتے ہو؟ ہاں تُم اسے امام باڑہ نہیں سمجھتے، مویشیوں کا باڑہ سمجھتے ہو!‘‘ یہ کہہ کر واپس مُڑے، غُصے میں پگڑی اُتار کر گلے کا پٹکا بنا لی، اوپر جا کر امام باڑے والے برگد کے پیڑ کے نیچے سے صفیں سمیٹیں، مٹکے اُٹھائے اور گھر جاپھینکے، پھر ہمسائے میں جا کر اُن کی بکریوں کو ہانک لائے اور برگد کے پیڑ تلے باندھ دیا۔ بلوچوں کے دو دنبے پکڑے، وہاں لے جا کر باندھ دئیے اور درجوابِ آں غزل یہی نہیں کیا بلکہ مقطع بھی خوب لگایا کہ آخر پہ اپنا گدھا بھی لا کر باندھ دیا، ساتھ ساتھ یہ کہتے جارہے تھے؛ ’’مادرچودو! یہ رہا مویشیوں کا باڑہ! تُم اسے امام باڑہ نہیں سمجھتے ناں!‘‘ اُس وقت تو سبھی چُپ کرکے دیکھا کئے، اگلی صبح کے منظر پہ کوئی چُپ نہ رہ سکا بلکہ آج بھی یاد کرکے بوڑھے لوگ مسوڑھے نکال نکال ہنستے ہیں کہ شاہ صاحب نے جو اُٹھ کر دیکھا تو باقی سب مویشی سلامت ہیں، اپنا گدھا مُردہ پڑا تھا۔ اب گدھے کے پہلو میں لاتیں رسید کئے جارہے ہیں اور تحکمانہ فرمائے جارہے ہیں:

’’اُٹھ مادرچود! اناج کھالے!‘‘

لیکن ایک دُھن تھی کہ شاہ صاحب کو سوار ہوئی تو تادمِ آخر امام باڑہ بنانے کیلئے پائی پائی اور آنہ پیسہ اکٹھا کیا۔ گھر میں مُرغی روزانہ انڈہ دیتی تو ایک دن کا انڈہ اپنے مصرف میں لاتے اور دوسرا فروخت کرکے پیسے ’بنامِ مولا‘ رکھ لئے جاتے۔ اس عرصے میں ہم پنجابیوں کے امام باڑے میں آتے تھے، نماز بھی پڑھتے تھے، عزاداری بھی کرتے تھے لیکن ایک معمول عجیب تھا۔امام حُسینؑ کی ضریح پہ نہ جاتے، جنابِ عباس کی ضریح پہ جا کر سلامی دیتے۔ وجہ پوچھی تو ضریحِ حسینؑ کی طرف اشارہ کرکے کہتے،’’ اُس سید نے اِس سید کو کھُل کر لڑنے کی اجازت نہ دی، مصلحت دکھائی، اس سید کو شجاعت نہ دکھانے دی!یہ سولجر سید تھا، سولجر! ‘‘ پھر ضریحِ عباس کو سلیوٹ کرتے۔ امام حُسینؑ سے ناراض رہے کہ عباس کو کھل کر لڑنے نہ دیا لیکن ہم نے سُنا ہے کہ اما م حُسین اس سید زادے سے ناراض ہرگز نہ تھے۔ یہ قصہ زیدی صاحب کی زندگی کے آخری پہر کا ہے کہ جب ایک اجنبی سا شخص ہمارے گاؤں آیا۔ پوچھا یہاں پناہ حُسین نام کا کوئی سید رہتا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں خان کے ڈیرے پر بیٹھے ہیں، اجنبی نے حُلیہ پوچھا تو بتایا گیا۔ وہ پہنچا تو کئی لوگ وہاں موجود تھے۔ زیدی صاحب ہلکے بُخار کی وجہ سے دھوپ سینک رہے تھے، ان کا چہرہ قبلہ رُخ تھا۔ اجنبی نے پوچھا ’’آپ میں سید پناہ حُسین کون ہیں؟‘‘۔ زیدی صاحب چونکے اور اجنبی شخص سے بڑی گرمجوشی سے مخاطب ہوئے، ’’مَیں ہوں! تُو بس میری امانت مجھے دے، مجھے جلدی جانا ہے!‘‘ وہ شخص گھبرا گیا، اُس نے خاموشی سے ایک انگوٹھی اور مُٹھی بھر خاکِ کربلا سے بھری تھیلی اُن کے حوالے کی۔ اُنہوں نے لے کر آنکھوں سے لگائی، مُڑ کر سبھی سے مخاطب ہوئے اور بولے؛

’’اچھا یارو، ہمیں ہمارے مالکوں کا بُلاوا آگیا ہے! چلتے ہیں، خُدا حافظ!‘‘

یہ کہہ کر زیدی صاحب اپنے گھر چلے گئے اور بی اماں سے کہا کہ اُن کا اُجلا بستر لگا دیں۔ بستر لگا، زیدی صاحب اس پر دراز ہوئے، شام کو شور اُٹھا کہ سید پناہ حُسین زیدی دارِ فانی سے رُخصت ہو گئے ہیں۔ اب لوگوں نے چہ مگوئیاں شروع کیں تو اجنبی کا قصہ پھیلا۔ اُس شخص نے شاہ صاحب کے اُٹھ کر آنے کے بعد بتایا کہ وہ کربلائے معلیٰ کا زائر تھا۔ وہاں روضۂ امام حُسینؑ پر اُسے خُدام میں سے کسی عراقی نے یہ دونوں چیزیں دے کر کہا تھا کہ تمہارے صحرا میں پناہ حُسین نام کا ایک سید رہتا ہے، یہ اُسے دے دو، کہنا سید الشہدأؑ اپنے عزادار کو سلام بھیجتے ہیں۔ دادا جان سے میں نے سُنا تھا کہ اجنبی نے کہا تھا کہ کربلا میں عالمِ خواب میں امام نے خود زیارت کروا کراس زائر کو یہ حُکم دیا تھا، خیر، ایک سال سے وہ اجنبی صحرائے تھل کے گاؤں گاؤں میں پناہ حسین نام کے سید کو ڈھونڈتا پھررہا تھا۔یہ واقعہ آج تک ہمیں حیران کئے ہوئے ہے۔ پناہ حُسین زیدی صاحب کو اسی امام باڑہ مہاجرین سادات کے احاطے میں، برگد کے پیڑ تلے دفن کیا گیا، ہمراہ وہ انگوٹھی اور مٹھی بھر کربلا کی خاک بھی کی گئی۔ اس امام باڑے کی چاردیواری وہ اپنی زندگی میں آنہ پائی جوڑ کر بنوا چکے تھے۔ ریٹائرمنٹ پر ان کے چھوٹے بیٹے اسکواڈرن لیڈر شہسوار حسین زیدی نے اُسے ایک شاندار، وسیع امام باڑے کی شکل دی۔ وہ جو پنجابی لونڈے اس سید زادے کی اُردو پہ ہنستے تھے، اب ان میں سے کچھ بوڑھے ہو کر اور جو گزر گئے ان کی اولادیں اسی امام باڑے میں سید الشہدأ کا گریہ کرتے ہیں، ہر مسلک کی عورتیں اب یہاں آکر نذر نیاز دے جاتی ہیں، زیدی صاحب کی قبر پہ فاتحہ پڑھ جاتی ہیں۔ جنازہ گاہ کے طور پر بھی یہ سبھی کے لئے کھلا ہے۔

اب چونکہ عزاداری صرف زیدی صاحب کے ہم مسلکوں تک ہی مخصوص رہ گئی ہے کہ باقی سبھی لوگوں کو ’’خالص اسلام‘‘ کا راستہ دکھانے والے راہبر مل گئے ہیں، کچھ مجھ ایسے ہیں جنہیں ’سائینٹفک‘ سوچ کے زعم نے دوعالم کے عقیدوں سے آزاد کردیا ہے (لیکن تہذیب و ثقافت کے بندھن سے پھر بھی آزاد نہیں ہیں ) سو کبھی کبھار اس طرف آنکلتے ہیں جہاں زیدی صاحب کی قبر اُن کی یاد دلاتی ہے، تو اب اُنہیں یاد کرنے والے لوگ کم ہی رہ گئے ہیں۔مگر جب جب اُن کا ذکر ہوتا ہے تو سوچتا ہوں کہ شاید ایک وقت آئے گا جب ہم نام نہاد خرد والے مٹی میں مل جائیں گے، خرد والوں کی ایک نئی نسل آئے گی تو جب جب انہیں ان کے تہذیبی و ثقافتی رشتے کی طنابیں اپنی بُنیاد کی طرف کھینچیں گی تو وہ بھی ہمارا نہیں، ایسے ہی دیوانوں کا تذکرہ لکھنے پر مجبور ہو جائیں گے!!

سرگودھا،
۸ فروری بیس سو اُنیس۔

Image: Nad-e-Ali

Categories
نان فکشن

کُکریؔ کی رات۔۔۔ (ذکی نقوی)

(۹ دسمبر ۱۹۷۱ کا ایک شاندار ایکشن)

حرفِ آغاز:

تاریخِ عالم کی جنگوں میں ہونے والی ہر بحری لڑائی کسی نہ کسی طور سے تاریخ ساز ثابت ہوئی ہے۔ اگرچہ تمام جنگو ںکی فیصلہ کن لڑائیاں زمین پر لڑی گئیں لیکن بحری مبارزہ اکثر عامہۃ الناس کی نظروں سے اور، بوجوہ ،تصور سے بھی اوجھل ہونے کے باوجود ملک اور افواج کے پالیسی سازوں کے لئے اہم اور فیصلہ کُن ثابت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ شاید کچھ سمندر ی جنگ و جدل کی کٹھنائی اورہیبت ناکی اور سمندر سے جُڑا ایک سحر انگیز احساس بھی ہے اور بین الاقوامی قوانینِ جنگ میں سمندر کی حیثیت اور اہمیت بھی۔ مثلاً کسی بھی بحری فوج کے بحری جہاز کا عرشہ (ڈَیک) اُس مُلک کی سرزمین سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے بھی کسی بھی بحری جہاز کی جارحانہ کارروائی کو اُس ملک کی طرف سے اقدامِ جنگ کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ٹرافلگر کی بحری لڑائی (۱۸۰۵)، سوشیما کی بحری لڑائی (۱۹۰۵)، جٹ لینڈ کی بحری لڑائی (۱۹۱۶)، مڈوے کی لڑائی (۱۹۴۲) اور خلیجِ لیٹی کی لڑائی (۱۹۴۴) گذشتہ صدیوں کی وہ یادگار بحری لڑائیاں ہیں جن کے ساتھ قوموں کی فتح و شکست اور تاریخ کے اہم موڑ وابستہ تھے۔ یہ لڑائیاں صرف اس وجہ سے بھی یاد نہیں رکھی جاتیں کہ ان کے نتائج اور اثرات کیا تھے بلکہ اس لئے بھی قومیں انہیں حرزِ جاں بنا کر سینے میں تازہ رکھتی ہیں کہ ان میں سے اکثر میں کس طرح کسی کمزور بحری بیڑے نے دشمن کے برتر بیڑے، بُرے موسم اور دیگر سخیتوں کا مقابلہ کیا۔ مثلاً دوسری جنگِ عظیم میں برطانوی شاہی بحریہ (رائل نیوی) کے بحری جہاز ایچ ایم ایس راولپنڈیؔ کی جرمن لڑاکا کروزروں کے ہاتھوں غرقابی کا قصّہ بھی اس لئے برطانوی تاریخ میں یاد رکھا جاتا ہے کہ ’راولپنڈؔی‘ بنیادی طور پر ایک تجارتی جہاز تھا جس پر پہلی جنگِ عظیم کے زمانے کی پرانی اور کمتر توپیں نصب کر کےاسے تجارتی جہازوں کے ہمراہ بھیجا گیا تھا۔ جہاز کے کپتان ایک ریٹائرڈ نیول افسر تھے جنہیں جنگی خدمات میں دوبارہ لیا گیا تھا لیکن تمام عملہ تجارتی ملّاحوں پر مشتمل تھا جنہیں فوجی بحریہ کی حیثیت دی گئی تھی۔ اس کے باوصف اپنی پہلی اور آخری لڑائی میں یہ جہاز بڑی دلیری سے لڑا۔ جرمن کروزروں کی بھاری گولا باری کے مقابلے میں ’راولپنڈؔی‘ کی مسلسل گولا باری جرمن کروزروں پر ایک بھی کاری ضرب نہ لگا سکی لیکن یہ جہاز ڈوبنے تک جرمنوں پر اپنی پرانی وضع کی آخری توپ سے بھی گولا باری کرتا رہا ۱۔ برطانوی، من حیث القوم ’سمندری ذوق‘ رکھنے والی، اسپورٹس مین قوم ہیں لہٰذا انہوں نے ایسی مثالوں کو بھی اپنی تاریخ میں تابندہ رکھا۔

ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم، پاکستانی، قدرت کی طرف سے تو ہر طرح کے جغرافیائی ماحول سے نوازے گئے ہیں اور ہمیں بحرِ ہند جیسا عظیم الشان سمندر اپنے ہمسائے میں ملا ہے لیکن من حیث القوم ہم نے اس سمندر سے ’’دوستی‘‘ نہیں کی۔ پاکستان کی فوجی اور تجارتی بحریہ کے سوا شاید کوئی طبقہ سمندر کی معیشت، سمندر کی جنگ اور سمندر کے ’رومان‘ سے واقف ہو یا واقف ہونے کی کوشش کرتا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ہماری عسکری تاریخ کے ’بحری باب‘ سے ہماری قوم کی شناسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ زیرِ نظر موضوع تو اس لئے بھی ذیادہ بدقسمت ہے کہ یہ ایک ہاری ہوئی جنگ کی جیتی ہوئی لڑائی ہے جس کی مثال دوسری عالمی جنگ کے بعد کی کئی جنگوں میں نہیں ملتی۔ لیکن افسوس! کہ اکہتر کی شکست کی اُڑتی ہوئی خاک نے اس جنگ کے کئی دلیر اور یادگار کرداروں کو دھندلا دیا ہے۔ پاکستانی آب دوز پی این ایس ’ہنگوؔر‘ جسے ’پیار‘ سے ’’شارکؔ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، ایک ایسا ہی کردار اور اس کے ہاتھوں بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز’’ کُکریؔ‘‘ کا ڈبوئے جانا ایک ایسا ہی تابناک قصّہ ہے جو شکست کے منحوس سائے کے نیچے دُھندلا گیا ورنہ اس قصے کا اجمال ہماری جنگی تاریخ کے قاری کیلئے ایک حیران کُن، دلچسپ اور تابندہ باب ہے جس سے شناسائی کے بعد اسے بھولنا ممکن نہیں! جنگِ عظیم دوم کے بعد کسی آب دوز کے ہاتھوں کھُلی جنگ میں کسی جنگی جہاز (فریگیٹ) کے غرقاب ہونے کا یہ واحد واقعہ ہے حالانکہ عالمی جنگ کے بعد بھی کئی جنگیں اور بحری معرکے ہوئے ہیں۔ پھر یہ اس وجہ سے بھی منفرد واقعہ ہے کہ بھارتی فریگیٹ اُسی آب دوز کے ہاتھوں غرق ہوا جسے تباہ کرنے کا ٹاسک اُسے ملا تھا اور جس کی تباہی کے لئے وہ مسلح ہو کر ہمراہ دوسرے جہازوں کے، جنگ پہ نکلا تھا۔ اس دلیرانہ ایکشن کی تابناکی کو سمجھنے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ اُن کٹھن اور نامساعد حالات کا پس منظر بھی واضح ہو جن میں یہ ایکشن وقوع پذیر ہوا۔

پس منظر:

۱۹۶۵ کی جنگ کے بعد بھارتی بحریہ پر دُہرا دبا ؤ تھا کہ وہ کسی طور اپنا لوہا منوائے یا کم از کم یہ اثر زائل کرے کہ بھارتی بحریہ کسی جنگی صورت حال سے نمٹنے کی اہل نہیں ہے۔ اس تاثر کے پیچھے ایک ٹھوس وجہ یہ بھی تھی کہ ۱۹۶۵ کی جنگ کے دوران بھارتی بحریہ کھلے سمندر میں آ کر پاک بحریہ کے خلاف کسی سطح کا ایک جنگی آپریشن بھی نہ کر سکی تھی جبکہ پاک بحریہ کے جہازوں کا بیڑا دوارکاؔ کی بھارتی نیول بیس پر گولا باری کر کے لَوٹا تھا تو اسے تمام مشن میں کسی بھارتی بحری جہاز یا کشتی نے چیلنج تک کرنے کی ہمت نہ کی تھی۔ ہماری آب دوز ’’غازیؔ‘‘ کی بحرِ ہند میں موجودگی نے جنگ کے سترہ روز میں کسی بھی بھارتی بحری جہاز یا بیڑے کو کھلے پانیوں میں آکر لڑنے سے باز رکھا اور بھارتی بحریہ نے یہ عرصہ بمبئی ڈاک یارڈ کے ’’گوشۂ عاطفت‘‘ میں گزارا۔ اس کی تمام تر وجہ یہ بھی نہیں کہ بھارتی بحریہ واضح طور پر بُزدلی کا مظاہرہ کر رہی تھی بلکہ یہ اُن کی اعلیٰ تدبیر (گرینڈ اسٹریٹجی) کا حصہ بھی تھا۔ بھارت کے خداوندانِ جنگ و جدل (وار لارڈز) اپنی بحریہ کو کسی بڑے جنگی ٹاسک کے اہل سمجھتے تھے، نہ ۱۹۶۵ میں بھارتی بحریہ کو ایسا کوئی ٹاسک سونپا گیا تھا ۲۔

۱۹۷۱ تک بھارتی بحریہ اپنی صلاحیتوں اور سلاحِ جنگ میں نہ صرف بھاری بھرکم اضافہ کر چکی تھی بلکہ اپنی پلاننگ اور ارادوں کو بھی بحرِ ہند کے کینوس سے پھیلا کر پاکستان کی ساحلی تنصیبات تک لا چکی تھی۔ بھارتی آب دوزوں کا بیڑا اب پاکستانی بحریہ کی آب دوزوں کے مقابلے کا تھا، بحری فضائیہ (نیول ایوی ایشن) وجود میں آ چکی تھی اور سب سے بڑی بات، کہ اب کی بار قسمت بھی اُنہی کا ساتھ دینے پہ تُلی تھی۔ باقاعدہ جنگ کے آغاز تک، جبکہ پاک بحریہ کی تقریباً تمام بنگالی نفری دُشمن کے ساتھ جا ملی تھی، پاک بحریہ کا دارومدار اپنے کمتر سازوسامان کے ساتھ فقط اپنے پانیوں کے دفاع کے ارادے پر تھا۔ دشمن کے علاقے میں دُوبدوُ لڑائی کرنے کی متحمل پاک بحریہ ہر گز نہ ہو سکتی تھی۔ ہمارا جہازوں کا بیڑا پاکستان کے پانیوں میں گشت پر مامور رہا جبکہ آب دوزیں، جن میں غازیؔ، شُوشکؔ، ہنگورؔ اور مانگروؔ شامل تھیں، دشمن کے ساحلوں کے آ س پاس منڈلاتی رہیں۔زمینی جنگ میں اپنا پلہّ بھاری دیکھ کر دشمن نے ہمارے خلاف سمندر میں بھی جارحانہ حکمتِ عملی اپنانے کا پلان بنایا۔ اس پلان پہ پہلا عملدرآمد تو پاکستان کے ساحلوں کی طرف جانے اور یہاں سے نکلنے والے غیر جانبدار، غیر پاکستانی تجارتی جہاز ڈبونے کی صورت میں کیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم میں اِسی حرکت پر جرمن بحریہ کو ابلیسؔ کا ہمسر قرار دینے والی مغربی دُنیا نے اپنے تجارتی جہاز ڈبوئے جانے پر بھی چُپ سادھے رکھی۔دوسرا عملدرآمد یہ ہوا کہ ۴ اور ۵ دسمبر کی درمیانی رات اور ۸ اور ۹ دسمبر کی درمیانی رات کو بھارتی میزائل بوٹ کا ایک بیڑا کھلے سمندر سے کراچی پر حملہ آور ہوا۔ دوسرا حملہ، جو کہ بھارتیوں کے مطابق بڑا حملہ تھا، اس کے دوران چار میزائل چار مختلف اہداف پر لگے جن سے کیماڑیؔ میں پٹرول کا ایک بڑا ذخیرہ بھڑک اُٹھا جبکہ ایک غیر متحارب (نان بیلیجرنٹ) برطانوی تجارتی جہاز ہرماٹنؔ اور پانامہؔ ریاست کا تجارتی جہاز گلف اسٹارؔ، جو کہ منوڑہؔ کے سامنے لنگر انداز تھے، ڈبوئے گئے۔ پاک بحریہ کا نقصان اس میں یہ ہوا کہ ہمارے انصرامی (لاجسٹکس) جہاز پی این ایس ڈھاکاؔ کا ڈھانچہ جُزوی توڑ پھوڑ کا شکار ہوا اور چند شہادتیں ہوئیں۔ اگرچہ اس حملے کا اثر فقط نفسیاتی (سائیکولوجیکل) نوعیت کا تھا تاہم پاک بحریہ کا اس جنگ میں فوجی نوعیت کا واحد بڑا نقصان ۴ اور ۵ دسمبر کی درمیانی رات کو ہو چکا تھا جس میں ہمارا جنگی جہاز، پی این ایس خیبرؔ بھارتی بیڑے کے اچانک میزائل حملے کے نتیجے میں ڈوب گیا کہ ہمارے پاس اُس وقت میزائل کے خلاف دفاع کا کوئی موثر سسٹم موجود نہ تھا۔ اس کے علاوہ ایک سرنگیں صاف کرنے والی کشتی ’محافظؔ‘ بھی اس حملے کا شکار ہوئی اور کُل ۲۰۰ سے زائد کی تعداد میں شہادتیں ہوئیں۔

اِن دونوں میزائل حملوں کے بعد پاک بحریہ کے لئے دفاعی حکمتِ عملی کو بھی عملی جامہ پہنانا ایک چیلنج بن گیا تھا۔ یہ ایک الگ تفصیل طلب موضوع ہے کہ خیبر جہاز کے نقصان کے بعد پاک بحریہ نے میزائل حملوں کے تدارک کیلئے دستیاب لیکن بہت محدود وسائل میں کیا اقدامات کئے، تاہم نفسیاتی طور پر بھارتی بحریہ کی برتری کا توڑ کرنا یا کم اس کم اس کو توازن (بیلنس) میں لانا اب وقت کی اہم ضرورت تھا۔ بھارتی بحریہ نے کراچی پر میزائل حملوں کا ڈھنڈورہ پیٹ کر اپنی قوم اور عالمی رائے عامہ پر یہ ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی کہ پاک بحریہ کا بحرِ ہند سے مکمل صفایا کردیا گیا ہے۔ اس حملے کو فلمی حد تک مبالغہ آمیزی کے ساتھ آج تک اپنی حتمی فتح کے طور پر پیش کرنے والے بھارتی ’مؤرخ‘ آج بھی اُسی طرح چرب زبان ہیں لیکن تادمِ تحریر تو مقامِ شُکر ہے کہ اہلِ کراچی میں ان حملوں کی ’’شدت‘‘ اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے بزرگ زندہ ہیں اور جانتے ہیں کہ ان حملوں نے کراچی کو کس طرح ’’تہس نہس‘‘ کیا تھا۔

ہنگورؔ کا ایکشن:

تقریباً ایک ہزار ٹن وزنی آب دوز پی این ایس ہنگورؔ، جو کہ چند سال بیشتر فرانس سے حاصل کی گئی تھی، ڈیفنیؔ کلاس آب دوز تھی اور اسی کلاس کی چار آب دوزوں میں سے ایک تھی۔ ۲۲ نومبر ۱۹۷۱ کو ہنگورؔ کراچی سے بھارتی پانیوں میں گشت کے لئے روانہ ہوئی۔ ۲۳ نومبر کو حکومت کی طرف سے ایمرجنسی کے حالات کا نفاذ کیا گیا تو اس وقت وہ پور بندر کے علاقے میں گشت پر تھی۔

دُشمن کے پانیوں میں گشت کرنا ایک آب دوز کیلئے بڑا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ ڈیفنی کلاس آب دوز کی بیٹریاں ۲۴ گھنٹے میں ۲ گھنٹے کے لئے، چارج کرنے کی غرض سے سطحِ آب پر آنا ضروری ہوتا تھا جبکہ عملے کے سانس لینے کیلئے تازہ ہوا اور آکسیجن اندر کھینچنے کیلئے بھی سطح آب پر آنا ضروری تھا اور یہ عمل دشمن کی سمندری حدود میں خطرے سے خالی نہیں ہوتا جبکہ بحری جہازوں کا ایک بیڑہ (فلیٹ) اور ہوائی جہازوں کی نگہداری (آبزرویشن) ہمہ وقت آب دوز کے ’استقبال‘ کیلئے چوکس ہو! آب دوز کے سطح آب پر آ کر، جہاز کی طرح تیرنے کو تکنیکی زبان میں ’’شنارکل‘‘ یا ’’سنارکل‘‘ کرنا کہتے ہیں۔ سنارکلنگ کے دوران آب دوز کی رفتار نسبتاً ذیادہ ہوتی ہے جبکہ دشمن کی نظروں میں آجانے کا اندیشہ بھی ذیادہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس گہرائی میں غوطہ کرنے (ڈائیو) کے دوران آب دوز کسی حد تک حملوں سے محفوظ ہوتی ہے لیکن گہرائی میں اس کی رفتار سطح آب سے کہیں کم ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں رفتار بڑھانے کا مطلب آب دوز کی بیٹری کا اسراف کی حد تک استعمال ہے جو کہ جنگ کے دنوں میں نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ حملے کے بعد وہاں سے تیز رفتار ’فرار‘ آب دوز کیلئے بہت ضروری ہے۔اسی طرح آب دوز کا آواز کی لہروں سے آس پاس کی ٹھوس چیزوں مثلاً دشمن کے جہازوں، حملہ آور تارپیڈو اور سمندری چٹانوں وغیرہ کے پتہ لگانے کا آلہ جسے تکنیکی زبان میں ’’سونار‘‘ کہتے ہیں اور جو چاروں جانب سے بوتل کی طرح بند آب دوز کی آنکھ بھی ہوتا ہے اور سُننے والا کان بھی، ایک خاص گہرائی تک کام کرتا ہے۔اس کی کارکردگی پر رفتار، پانی کے درجۂ حرارت اور گہرائی کے اثرات بھی پڑتے ہیں۔ ایک آب دوز کو آپریشنل علاقے میں کئی ایسے عوامل مدِ نظر رکھ کر نقل و حرکت کرنا پڑتی ہے جو کہ اوپر بتائے گئے حالات میں ہنگورؔ کیلئے سخت کٹھن کام تھا۔اس پہ طرّہ کہ بھارتی بحریہ کے جہازوں کا نمبر ۱۴، اسکواڈرن جو کہ تین فریگیٹ جنگی جہازوں اور کئی سی کِنگ ہیلی کاپٹروں اور الائز طیاروں پر مشتمل تھا، اس آب دوز کو تلاش کرنے اور تباہ کرنے کے مشن پر مامور تھا۔ مغربی کمان کے’’ فلیگ افسر کمانڈنگ ان چیف ویسٹرن کمانڈ‘‘ (جنہیں مختصراً فوکن ویسٹ بھی کہا جاتا تھا) رئر ایڈمرل سریندرا ناتھ کوہلیؔ کی کمان میں یہ ٹاسک فورس بھارتی بحریہ کے تمام دستیاب وسائل کے ساتھ آب دوز کے شکار پر مامور تھی۔

یکم دسمبر ۱۹۷۱ کو ہنگورؔ کو بمبئی کے ساحلوں کی طرف مُڑ جانے کا حُکم ملا جہاں سے مانگروؔ اپنے گشت کا عرصہ مکمل کر کے واپس آرہی تھی۔۲ دسمبر کو معمول کی گشت کے دوران ہنگورؔ نے بھارتی بحریہ کی مغربی کمان کا بیڑہ گشت پر روانہ ہوتا ہوا دیکھا اور کراچی ہیڈ کوارٹرز کو اس کی اطلاع دی اور خود بمبئی کی طرف رواں دواں رہی کیونکہ ہنگورؔ کے کمانڈنگ افسر کو ان جہازوں پر حملے کے واضح احکامات نہ تھے۔ لیکن جب ۴ دسمبر کی شام کمانڈر ان چیف پاکستان نیوی، وائس ایڈمرل مظفر حسنؔ کی طرف سے کھلی جنگ کا سگنل ملا تو ہنگورؔ کے کپتان، کمانڈر احمد تسنیمؔ کیلئے یہ لمحہ بڑی بے چینی کا تھا اور بے چینی کا سبب یہ تھا کہ اس صبح دشمن کا ایک بیڑہ اُن کی ذد میں سے گزر گیا تھا اور ایک آب دوز کیلئے تو دشمن کے جہازوں کا سراغ لگانا کافی تکنیکی اور دقت طلب کام ہوتا ہے۔ ایک دفعہ دشمن آنکھ کے سامنے سے ہٹ کر بیکراں سمندری میلوں (ناٹیکل مائلز) پر پھیلے ’’میدانِ جنگ‘‘ میں اوجھل ہو جائے تو پھر اگلا موقع شاید دشمن کے ہاتھ چلا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر میں آب دوز کا دُشمن کے جہازوں کے ساتھ ’’چھُپن چھُپائی‘‘ ( ہائیڈ اینڈ سیِک) کا یہ جنگی ’کھیل‘ طرفین سے فولادی اعصاب کا متقاضی ہوتا ہے۔ دشمن کے جہازوں کو بحرِ ہند کے پانیوں میں ڈھونڈتی اور ان سے چھپتی آب دوز ہنگورؔ کے کمانڈنگ افسر، کمانڈر احمد تسنیمؔ ایسے ہی اعصاب کے مالک افسر تھے۔

احمد تسنیم کے والد تقسیم کے وقت بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے ایک سول سرونٹ تھے۔ پاکستان میں وہ ابتداً جھنگ (پنجاب) کے رہنے والے تھے، آخر پہ بُورے والا (پنجاب) کے ہو رہے۔ احمد تسنیمؔ کی ابتدائی تعلیم جھنگ کی تھی، اور یونیورسٹی کی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ پاک بحریہ میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد پیشہ ورانہ تعلیم اور خدمات میں احمد تسنیم ایک قابل افسر ثابت ہوئے اور ۱۹۶۵ کی جنگ میں ستارۂ جرأت اور ۱۹۷۱ کی جنگ میں بھی ستارۂ جرأت حاصل کرنے کے بعد ترقی کی منزلیں طے کرتے کرتے بعد ازا ں وائس ایڈمرل کے عہدے تک پہنچے۔

ہنگورؔ کے آپریشن روم میں، جو کہ آب دوز ہی کا ایک تنگ مرکزی حصہ ہوتا ہے، کمانڈر احمد تسنیمؔ کی قیادت میں آپریشن روم افسر (لیفٹیننٹ کمانڈر اے۔ یُو خان) پلاٹ افسر (لیفٹیننٹ فصیحؔ بخاری) اور دیگر افسران اور عملہ، ریڈار اور سونار کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات اور پیری اسکوپ ( جو کہ سنارکلنگ کے دوران سطحِ آب پر دیکھنے کی ایک مخصوص دوربین ہے جس میں منشور اور عدسے کی مدد سے ہدف کو آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ غوطے کے دوران یہ دوربین کام نہیں کر سکتا) ملنے والی رپورٹوں کی روشنی میں، سمندری حدود کے نقشے پھیلائے، اپنے راستے اور دشمن کے ممکنہ راستوں اور پوزیشنوں کی نشاندہی کا انتھک کام مسلسل کرنے میں مصروف رہے! سطحَ آب کے نیچے کم رفتار کی وجہ سے نہ صرف ہدف کی تلاش بہت مشکل تھی بلکہ بمبئی کے ساحلوں پر جہاں کہیں بھارتی بحری جہازوں کی موجودگی کا پتہ چلتا، وہاں پانی کی کم گہرائی کی وجہ سے آب دوز کا قریب جا کر تارپیڈو فائر کرنا ممکن نہ رہتا تھا جبکہ وہاں آب دوز خود شدید خطرے میں ہوتی، کہ کم گہرے پانی میں آب دوز کے انجن کا شور دور تک سُننا دشمن کے سونار کیلئے آسان تر ہوتا ہے۔ لیکن یہ تمام اُلجھنیں کمانڈر احمد نے اپنے اعصاب پر حوصلے سے لیں اور اپنی تلاش کا دائرہ شمال کی جانب مزید پھیلا دیا جس طرف سے اُنہوں نے کچھ ریڈیو سگنل ’’پکڑے‘‘ تھے۔ اور پھر ۹ دسمبر کی صبح آ پہنچی۔

کاٹھیاوار کے ساحلوں کی طرف سے صبحدم دو نامعلوم اہداف کی نقل و حرکت ہنگورؔ کے سونار پہ ’سُنی‘ گئی۔ بحری جہاز کی اصطلاحات میں جب تک دور سے آنے والے ’اجسام‘ کی شناخت نہیں ہوتی کہ وہ جنگی ہدف ہیں، تجارت جہاز ہیں، کشتی ہیں یا زمین کا کوئی ٹکڑا یا کچھ اور، تب تک ان کیلئے ’’اوبجیکٹ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ دو ’اوبجیکٹ‘ شمال مشرقی سمت سے آرہے تھے اور قریب آنے پر آب دوز کے حساس آلات (سینسرز) نے واضح کر دیا کہ وہ دونوں جنگی جہاز تھے اور چھے سے آٹھ میل کی رینج میں تھے۔ پھر کیا تھا، ہنگورؔ نے گہرائی میں رہتے ہوئے ان کا ’پیچھا‘ شروع کر دیا۔ زیرِ آب جنگ میں ’پیچھا‘ کرنے سے مراد یہ نہیں کہ دشمن کے جہاز کا صحیح معنوں میں ’تعاقب‘ ہی کیا جائے۔ چونکہ گہرائی میں آب دوز کی رفتار بہت کم پڑ جاتی ہے لہٰذا ضروری تھا کہ دشمن کے جہاز کا سامنے سے آ کر ’استقبال‘ کیا جائے۔اب اُن جہازوں کی طرف بڑھنا اس لئے بھی فائدہ مند نہ تھا کہ ساحلوں کی جانب کا کم گہرا پانی آب دوز کیلئے، حملے کی موزوں ’فضا‘ نہیں ہے۔ ایسی جگہ پہ حملے کے بعد غمودی غوطہ (ورٹیکل ڈائیو) لگانا ممکن نہیں ہوتا جبکہ پوری رفتار سے فرار خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ان تمام عوامل کو ذہن میں رکھ کر کمانڈر احمد نے درست سمت کا فیصلہ کیا کہ کس جانب سے ان جہازوں پر حملہ آور ہوا جائے۔ اُنہوں نے سطح آب پر آکر، سنارکلنگ کرتے ہوئے جہازوں کے ممکنہ راستے کی طرف اپنی رفتار بڑھائی لیکن اس تگ و دو میں ہی وہ جہاز آب دوز کے حساس آلات کی رینج سے نکل گئے۔ ایسا لمحہ کمانڈر کیلئے شدید تلملاہٹ اور ہیجان کا ہوتا ہے لیکن کمانڈر احمد تسنیم نے شام ڈھلنے تک اپنی تگ و دو جاری رکھی۔ آب دوز کے انجن روم کا عملہ اپنی ڈیوٹی اُسی تسلسل اور لگن سے کرتا رہا، ریڈار، سونار اور دیگر آلات پر نظریں اور کان جمائے تمام تکنیکی عملہ اپنی پوری توجہ سے برسرِ پیکار رہا، تارپیڈو چلانے والی ٹیمیں چاق و چوبند رہیں اور دشمن کی تلاش جاری رہی۔بالآخر شام کا اندھیرا پھیلنے تک یہ کوشش اس حد تک رنگ لائی کہ ان دونوں جنگی جہازوں کی پوزیشن دوبارہ معلوم کر لی گئی۔ وہ اس مخصوص چوکور (ریکٹینگیولر پیٹرن) میں سفر کر رہے تھے جو آب دوز کی تلاش کے دوران جنگی جہاز اپناتے ہیں۔

یہ دونوں جنگی جہاز بھارتی بحریہ کے آئی این ایس کرپانؔ اور آئی این ایس کُکریؔ تھے۔ دراصل کُکریؔ، کرپانؔ اور کوٹھارؔ تینوں ایک ہی طرح کے فریگیٹ تھے جنہیں بھارتی بحریہ نے بالخصوص آبدوزیں ڈھونڈ کر تباہ کرنے کے کام کیلئے تیار اور مامور کیا تھا۔ اگرچہ بحری جہازوں کے نام رکھنے کی روائیت ایک الگ تفصیل طلب اور دلچسپ موضوع ہے، تاہم یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہو گا کہ عام طور پر ایک ہی قسم اور ساخت (ٹائپ) کے جہازوں کے نام ایک ہی جیسے رکھے جاتے ہیں جیسا کہ کرپانؔ، کُکریؔ اور کوٹھاؔر بالترتیب سِکھوں، گورکھوں اور راجپوتوں کے زیرِ استعمال مخصوص خنجر کو کہا جاتا ہے۔ ان تینوں جہازوں کے نام اس لئے بھی ایک جیسے تھے کہ یہ تینوں ساخت کے اعتبار سے ’’سگی بہنیں‘‘(سسٹر شپ) تھیں۔ (یہ بھی قدیم نیول روائیت کے کہ جہاز کیلئے ’’شی‘‘ کا اسمِ ضمیر استعمال کیا جاتا ہے، گویا وہ کوئی موئنث مخلوق ہو۔ خیر اس کی وجہ کی تفصیل بھی ہمیں موضوع سے دور لے جائے گی)۔ ان تینوں جہازوں کو ’فوکن ویسٹ‘ رئر ایڈمرل سریندرا ناتھ کوہلیؔ نے پاکستانی آب دوزوں کو تلاش کرنے کے مشن پر، ہمراہ ویسٹ لینڈ سی کنگ ہیلی کاپٹر اور الائز طیاروں کے فضائی عنصر کے، سمندر میں روانہ کیا تھا لیکن کوٹھارؔ کے بوائلر میں بہت بڑا فنّی نقص آنے کی وجہ سے اُسے واپس بمبئی کی بندرگاہ میں لے جا کر چھوڑ دینا پڑا۔ کُکری ؔ اور کرپانؔ جو کہ تقریباً ڈیڑھ ہزار ٹن کے جنگی جہاز تھے، آب دوز تباہ کرنے کیلئے درکار جدید اسلحے سے لیس تھے جبکہ کُکرؔی پر جدید ترین اور حال ہی میں برآمد شدہ سونار بھی ہمراہ فضائی اور سمندری نگہبانی کے ریڈار کے، نصب کیا گیا تھا۔

شام سات بجے ہنگورؔ ان بڑھتے ہوئے بحری جہازوں کے مقابل ’دیو‘،کاٹھیا وار (گجرات) کے ساحل سے ۳۰ میل جنوب کی طرف ایسی پوزیشن پہ آ گئی تھی جہاں سے اس کیلئے حملہ کرنا موزوں ہو سکتا تھا۔ ۱۲ سمندری میل (ناٹیکل مائل) کی رفتار سے آگے بڑھتے ہوئے دشمن کے بحری جہاز قریب آ رہے تھے۔ کئی دنوں سے بالعموم اور ۹ دسمبر کی صبح سے بالخصوص جس لمحے کا کمانڈر احمد تسنیم اور ان کے عملے کو اعصاب شکن انتظار تھا، وہ لمحہ آن پہنچا تھا!!

کرپانؔ اور کُکری ؔ کا عملہ پاکستانی آب دوز کو تباہ کرنے کیلئے شاید اس لئے بھی پُر عزم تھا کہ پاکستانی آب دوز غازیؔ اواخر نومبر کو کراچی سے رابطہ کٹ جانے کے بعد ۳ دسمبر کو پُر اسرار طور پر اپنے ہی تارپیڈو کے پھٹ جانے سے وشاکا پٹنمؔ کے پانیوں میں تباہ ہو گئی تھی، ۹ دسمبر تک جب بھارتی بحریہ، غازی ؔ کی تباہی کی وجہ نہ سمجھ سکی تو یہ ’سہرا‘ اپنے سر سجا لیا ۳۔ ۹ دسمبر کو بھارتی بحریہ نے غازیؔ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا اور اپنے تمام جہازوں اور زمینی یونٹوں کو مبارک باد دی۔ اس وقت بھی کُکریؔ کا کمانڈنگ افسر اور عملہ ہاتھوں میں اس ’’کامیابی‘‘ کےجام اُٹھائے ہوئے ہنگورؔ کو ڈبونے کے مشن پہ مامور تھے۔ آب دوز کو تلاش کرنے پر مامور سی کنگ ہیلی کاپٹر تھوڑی ہی دیر قبل اپنے مستقر کو لوٹ گیا تھا۔

سات بج کر پندرہ منٹ پر ہنگورؔ میں ’’ایکشن اسٹیشن‘‘ کا حُکم نافذ ہوا جس کا مطلب یہ تھا کہ عملے کے تمام افراد ’جنگی حالت‘ میں تفویض کردہ اپنی ڈیوٹی سنبھال لیں۔ زمانۂ امن میں جہاز کی نفری تین حصّوں میں منقسم کر دی جاتی ہے جنہیں بالترتیب ’’وائٹ واچ‘‘ ’’رَیڈ واچ‘‘ اور ’’بلیوُ واچ‘‘ کے ناموں سے پہچانا جاتا ہے۔ ان تینوں میں سے بیک وقت ایک واچ جہاز پر اپنی ڈیوٹیاں کرتا ہے جبکہ باقی دونوں واچ آرام کرتے ہیں۔ جنگ کے دنوں میں اس تمام عملے کو تین کے بجائے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے جنہیں ’’پورٹ واچ‘‘ اور ’’اسٹاربورڈ واچ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جنگی حالات میں بیک وقت ایک واچ کام کرتا ہے جبکہ دوسرا واچ آرام کرتا ہے۔ ’’ایکشن اسٹیشن‘‘ کا حکم حملے یا حملے سے دفاع کی صورت میں نافذ ہوتا ہے جس میں جہاز کا تمام عملہ اپنے اپنے جنگی فریضے کے مقام پر، چاہے وہ کسی بھی ’واچ‘ سے ہو، تعینات ہو جاتا ہے۔ یہ جہاز کی مستعدی کی اعلیٰ ترین حالت ہوتی ہے۔ ’’ایکشن اسٹیشن‘‘ کے پندرہ منٹ بعد کمانڈر احمد ؔ نے آب دوز کو اوپر، سطح کے قریب جانے کا حُکم دیا جہاں سے صرف پیری اسکوپ کا مستول (پیری اسکوپ ماسٹ) پانی سے باہر نکالا لیکن ایسا کرنے سے اندھیرے کی وجہ سے کچھ نظر نہ آیا۔ البتہ ریڈار نے بتایا کہ ہدف اب ۹۸۰۰ میٹر کے فاصلے پر تھا۔ اب کے کمانڈر احمدؔ نے ۵۵ میٹر کی گہرائی میں جا کر سونار پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب جو حملہ پلان کیا گیا، ایسے حملے کو اندھا حملہ (بلائینڈ اٹیک) کہتے ہیں جس میں ہدف آنکھوں سے نظر نہیں آتا بلکہ اُسکی آواز کی سمت پر وار کئے جاتے ہیں۔ بھارتی فریگیٹ کسی مست ہاتھی کی طرح سطح آب پر رات کے اندھیرے میں جھومتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ہنگورؔ نے سات بج کر ستاون منٹ پر، دشمن کے فریگیٹوں کو ذد میں پاکر ۴۰ میٹر کی گہرائی سے ایک تارپیڈو فائر کردیا جس کا ہدف مشرق سے آنے والے دو جہازوں میں سے شمالی سمت والا تھا۔ تارپیڈو زیرِ آب فائر کیا جانے والا ایک نوع کا میزائل ہوتا ہے جو اپنے ہدف کی سمت کو محسوس کر سکتا ہے۔

گورکھ پور سے تعلق رکھنے والے کیپٹن مہندرا ناتھ مَلاؔ، آئی این ایس کُکریؔ کے کمانڈنگ افسر (اور ۱۴ویں اسکواڈرن کے کمانڈر) کے لئے زندگی کا آخری جام، یک گونہ بے خودی یا نشاط کے بجائے شدید ہیجان کا باعث بنا ہو گا کیونکہ اسی لمحے کُکریؔ میں خطرے کا غلغلہ بلند ہوا کہ ایک تارپیڈو کُکری کی جانب فائر ہوا ہے جو کہ خطا گیا!! یہ لمحہ کمانڈر احمد تسنیمؔ کیلئے بھی کچھ خوشگوار نہ ہو گا لیکن کسی کو بُرا بھلا کہنے یا الزام دینے کا وقت ہرگز نہ تھا، سو اُنہوں نے دوسرا تارپیڈو فائر کرنے کا حکم دے دیا۔ اب پہل کاری (انیشیئٹو) کا عنصر دُشمن کے ہاتھ چلا گیا تھا۔

کیپٹن مَلاؔ نے اسی لمحے جہاز کو اُس جانب موڑا جس جانب سے تارپیڈو فائر ہوا تھا، یعنی کُکریؔ ’غضبناک‘ ہو کر ہنگورؔ پر جھپٹا لیکن اسی لمحے، تقریباً آٹھ بج کر چودہ منٹ پر دوسرا تارپیڈو، اپنی طرف آتا معلوم ہوا تو یہ لمحہ ایک ایسا فیصلہ کرنے کا تھا جس پہ کُکریؔ کی زندگی موت کا دارومدار تھا۔ کرپانؔ کے کمانڈنگ افسر کیپٹن آر آر سودؔ نے بھی اسی اثنأ میں ہنگوؔر کی طرف مارٹر کے گولے برسانا شروع کر دیا تھا۔ کُکریؔ کے کپتان نے آتے ہوئے تارپیڈو کو جُل دینے (ڈیسیو) کا فیصلہ کر لیا۔ وہ جونہی اس مقصد کیلئے مُڑے، کم رفتاری میں تارپیڈو کیلئے ان کے جہاز کی سمت کا اندازہ لگانا (ہومنگ) آسان اور واضح تر ہو گیا اور اسی لمحے، لگ بھگ پانچ منٹ سے تارپیڈو کی سمت کان لگائے بیٹھے ہنگورؔ کے کمانڈنگ افسر اور عملے نے دھماکے کی ایک آواز سُنی!! نیول سروس اور تجربے میں جیونئیر احمد تسنیم کا داؤ چل گیا تھا، سینئر مَلاؔ کی بازی مات ہو گئی۔

کیپٹن مہندرا ناتھ مَلاؔ دھماکے کی شدت سے جہاز کے صدر مقام، یعنی ’’برِج‘‘ میں اپنی کُرسی سے اُچھل کر ایک طرف کو جا گرے اور اُن کا سَر شدید زخمی ہو گیا۔ تارپیڈو نیچے سے آ کر کُکری ؔ کی ’’کیِل‘‘ میں لگا تھا جو کہ جہا ز کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ ایسی ضرب کو بحری اصطلاح میں ’’ڈاؤن دا تھروٹ شاٹ‘‘ کہتے ہیں جس کے الفاظ سے ہی منظر کشی ہوتی ہے ، گویا ایک ہی وار میں دشمن کا گَلا حلق سے چیر ڈالنا! ’’کیِل‘‘ کا یہ مقام جہاز کے پنکھے (پروپیلر) اور گولا بارود کے ذخیرے (میگزین) کے قریب تھا جس وجہ سے اس دھماکے نے جہاز کے عقبی حصے کو نچلی جانب سے پرخچوں میں اُڑا دیا۔ کُکریؔ ایک طرف کو جُھک گیا اور پھر عقبی حصے میں پانی بھرنے کی وجہ سے اس کا عقبی حصہ ڈوبنے لگا تو سامنے کا حصہ (فوکسل) باقی جہاز سے نسبتاً اُوپر اُٹھ گیا۔ مَلّاؔ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اب نہ صرف کُکریؔ ایکشن کے قابل نہ تھا بلکہ یقیناً ڈُوب رہا تھا۔ اُنہوں نے ’’ابنڈن شِپ‘‘ کا حُکم دے دیا جس کا مطلب تھا کہ تمام عملہ جہاز کو چھوڑ کر اپنی جان بچا لے! اب اس حکم کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حُکم جاری ہوا اور کُکریؔ کے عملے (شپس کمپنی) کے دو سو تریسٹھ افراد نے سمندر میں چھلانگ لگا دی! نچلے عرشوں (ڈَیک) پر موجود ہر شخص کو اپنے لاکر سے لائف جیکٹ لے کر پہننا ہوتی ہے اور جہاز کے نچلے عرشوں سے اوپر کی جانب ایک نظم و ضبط سے اور تمام دستیاب راستوں سے نکلنا ہوتا ہے، کشتیاں (لائف بوٹ) سمندر میں اُتاری جاتی ہیں اور اگر وقت مہلت دے تو ہر سپاہی یا افسر اپنی پہلے سے مختص کردہ کشتی میں سمندر میں اُترتا ہے۔ یہ بحریہ کی سینکڑوں سال پُرانی روائیت ہے کہ جہاز کا کپتان آخری آدمی کے بھی نکل جانے تک جہاز کو نہیں چھوڑ سکتا، یہی وجہ ہے کہ جہاز کا کپتان اکثر جہاز کے ساتھ ہی ڈوبتا ہے۔ اگرچہ کپتان کا زندہ بچ نکلنا بھی کوئی قابلِ گرفت جُرم نہیں لیکن کپتان کی بھاری ذمہ داری ہی اُسے ڈبونے کیلئے کافی ہوتی ہے۔ کیپٹن مہندرا ناتھ مَلّاؔ کو اس سینکڑوں سالہ نیول ٹریڈیشن کا پاس نہ بھی ہوتا تو زندگی نے اُنہیں کہاں مہلت دینی تھی کیونکہ تارپیڈو کا نشانہ بننے کے دو منٹ بعد ہی کُکرؔی ڈوب چُکا تھا۔ البتہ اب بھارتی تاریخ نویسوں کا یہ کہنا کہ آخری لمحے میں کیپٹن مَلّاؔ نے اپنی کُرسی پر بیٹھ کر سگار سلگایا اور اطمینان اور دلیری سے ڈُوب گئے، فقط افسانہ نگاری اور ’’بالی ووڈ‘‘ انداز کے تڑکے سے ذیادہ کچھ نہیں۔ کُکریؔ سے زندہ بچنے والے کمانڈر مَنُو شرماؔ کا کہنا ہے کہ جہاز کے زیریں حصوں سے زخمی اور پھنسے ہوئے جوانوں کو کھینچ نکالنے کا آخری منظر انہیں آج بھی یاد ہے جو کہ ایسا دل دہلا دینے والا منظر تھا کہ ایک فوجی کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری کر دینے کیلئے کافی ہے ۴، پھر دومنٹ کے عرصے میں، شدید زخمی حالت میں کیپٹن مَلّاؔ نے افسروں اور ملّاحوں میں سے بمشکل کچھ لوگوں کے بچاؤ کی نگرانی ہی کی ہو گی کیونکہ اس حملے کے بعد ایک دفعہ ہنگورؔ نے سطحِ آب پر آکر ڈوبتے ہوئے جہاز پر نظر ڈالی تو کوئی بچنے والا نظر نہ آیا۔ شدید اندھیرے میں چند لوگوں کا نظر آنا ممکن بھی نہ تھا۔ ۱۹۶ لوگ کُکریؔ کے ساتھ ہی ڈوب گئے۔ بھارتی بحریہ کا دعویٰ تھا کہ سڑسٹھ لوگ بچا لئے گئے جو کہ درست بھی ہو سکتا ہے لیکن بعد کے واقعات سے اس تعداد پر بھی بحث کی گنجائش نکل آتی ہے۔ تاہم جدید دور کی بحری لڑائیوں میں مرنے والوں کا حساب (بُچرز بِل) ہمیشہ فیصلہ کُن عنصر نہیں بھی ہوتا!

ہنگورؔ نے تیسرا تارپیڈو اپنی طرف بڑھتے ہوئے کرپانؔ پر داغا جو کہ اپنی مارٹر توپ خراب ہونے کے بعد ہنگورؔ پر ڈیپتھ چارج پھینکنے لگا تھا، اور حکمت عملی اور قاعدے کے مطابق اپنی پوری رفتار سے وہاں سے بچ نکلی۔ کافی آگے نکل کر ہنگورؔ کے آلات پر تیسرے تارپیڈو کے پھٹنے کی آواز بھی سُنی گئی جو کہ ذیادہ تر روایات کے مطابق کرپانؔ سے ٹکرایا تھا لیکن اس سے اس کے ڈھانچے کو جزوی نقصان پہنچا۔تیسرے تارپیڈو کے فائر ہونے کے بعد ( کچھ بھارتی مورخوں کا کہنا ہے کہ کرپانؔ اس تارپیڈو سے صاف بچ نکلا) کیپٹن آر آر سُودؔ نے اس خوف سے، کہ ہنگور کہیں اسے بھی ڈبو نہ دے، اپنے جہاز کی پوری رفتار سے واپس اپنے ٹھکانے کا راستہ ناپا! اس کا فوری نقصان بھارتی بحریہ کو یہ بھی ہوا کہ جب تک کرپانؔ ایک اور جہاز کو ہمراہ لے کر دوبارہ کُکریؔ کے ڈوبنے کے مقام پر پہنچا تو مدد پہنچنے کی اُمید میں ہی کئی لوگ ڈُوب چکے تھے اور بہت کم لوگ ہی بچائے جا سکے۔

ہنگورؔ مغرب کی جانب گہرے پانیوں میں روپوش ہو گئی۔ جلتے ہوئے جہاز کُکریؔ کے پھٹتے ہوئے گولا بارود کی آوازیں چند لمحوں تک سُنائی دیتی رہیں اور پھر اُس کے ساتھ ہی ڈوب گئیں۔ اب ہنگورؔ کے سامنے یہ مسئلہ درپیش تھا کہ دشمن کے ساحلوں سے کیونکر بچ نکلا جائے۔ اس حملے کے آدھے گھنٹے بعد ہی ہنگورؔ میں دُور سے دھماکوں کی وہ آوازیں سونار پہ سُنی گئیں جو کہ اُس کے تعاقب میں اُس کے ممکنہ راستوں میں پھینکے جانے والے ڈیپتھ چارجز کے پھٹنے کی آوازیں تھیں۔ ڈیپتھ چارج ایک ڈھول نما، یا مٹکے کی شکل کا بم ہوتا ہے جو کہ گہرائی میں جا کر پھٹتا ہے۔ آب دوز کے ارد گرد جہاں پہلے ہی گہرائی کی وجہ سے پانی کا شدید دباؤ ہوتا ہے، وہاں اگر کوئی ڈیپتھ چارج آب دوز کے قریب بھی پھٹ جائے تو اس کیلئے کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اب اگلے چار دن ہنگورؔ اکیلی دشمن کے پانیوں میں ٹامک ٹوئیاں ماررہی تھی اور اب کے صرف ۱۴ واں اسکواڈرن نہیں، بلکہ بھارتی بحریہ کی تمام مغربی کمان اس کے تعاقب میں جھپٹ رہی تھی۔ ’’آپریشن فالکن‘‘ کے نام سے فوراً ایک آپریشن آغاز ہوا جس نے رئر ایڈمرل ایس این کوہلیؔ کی قیادت میں اگلے چاردنوں میں فضائی اور بحری طاقت کے تمام دستیاب وسائل ان پانیوں میں جھونک دیئے۔ تمام موجود آب دوز شکن وسائل جن میں فریگیٹ جہاز، ہیلی کاپٹر اور طیّارے تھے، نہ صرف انہیں بروئے کار لایا گیا بلکہ بھارتی فضائیہ کی فضائی نگہبانی سے بھی بھرپور خدمات حاصل کر لی گئیں۔ جس مقام پہ کُکری ؔ ڈبویا گیا تھا، اُس کو حوالے کا نقطہ (ڈیٹم، یا، ریفرنس پوائینٹ) بنا کر تلاش کی تمام کوششیں لانچ کی گئیں جس وجہ سے بھی ہنگورؔ کیلئے یہ ضروری تھا کہ اُس مقام سے حتی الوسع دُور چلی جائے اور جلد از جلد جائے۔ اب جیسا کہ آب دوز کی محدودات (لمیٹیشنز) کا ذکر پہلے بھی کیا جا چکا ہے، گہرائی میں رہ کر رفتار بڑھانے سے بیٹری کے قبل از وقت ڈسچارج ہونے کا اندیشہ تھا جبکہ شنارکلنگ کرنا، دانستہ اور بآسانی دشمن کی نظروں میں آنے کے مترادف تھا۔ حملے سے ذیادہ کٹھن مرحلہ اس کے بعد کے تعاقب سے بچنا تھا۔ کمانڈر احمد تسنیمؔ نے ایسے میں ایک خطرہ اور بھی مول لیا۔ اُن کے نزدیک نیول ہیڈکوارٹرز کو کُکری کی غرقابی کی خبر دینا بہت ضروری تھا۔اور ریڈیائی پیغام بھیجنے کیلئے سطح آب پر اُبھرنا بھی ضروری تھا۔ کمانڈر احمدؔ نے جونہی سطح آب پر آکر نیول ہیڈکوارٹرز کو اپنی کامیابی کی نوید سُنائی، دشمن کی ساحلی تنصیبات پر لگے ریڈیائی لہروں کی سمت کا اندازہ لگانے والے آلات (ریڈیو ڈائریکشن فائینڈر) حرکت میں آ گئے۔ ابھی پیغام ارسال ہی ہوا تھا کہ دشمن کے ہوائی جہاز سر پر منڈلانے لگے اور ہنگورؔ کو پھر اتھاہ گہرائیوں میں غوطہ لگانا پڑا۔ ممکن ترین گہرائی تک غوطے کے دوران اس کی رفتار ڈیڑھ سمندری میل تک آگئی تھی۔ چاردن تک یہ خطرناک کھیل جاری رہا اور کئی دفعہ تو دشمن کے پھینکے گئے ڈیپتھ چارج اور گولے پھٹنے کی آواز آب دوز کے سونار پر بہت قریب سے سُنی گئی۔اس آپریشن میں ۱۰ دسمبر کو ۲۴ اور ۱۲ دسمبر کو ۱۲۰ ڈیپتھ چارج ہنگور پر پھینکے گئے جن میں سے بمشکل ایک ہی موقع پر آب دوز میں اس کے پھٹنے کی دھمک محسوس کی گئی۔ بالآخر تھک ہار کر ۱۳ دسمبر کی شام کو ’’آپریشن فالکن‘‘ ختم کر دیا گیا اور بھارتی بحریہ نے اپنی خفت مٹانے کیلئے یہ اعلان کردیا کہ ہنگورؔ کو تباہ کردیا گیا ہے۔ ہنگورؔ ۱۸ دسمبر ۱۹۷۱ کو بخیرئیت کراچی پہنچی تو جنگ ختم ہو چکی تھی اور ہم دلیری کے ساتھ لڑی گئی یہ جنگ ذلت کے ساتھ ہار چکے تھے۔

ہنگورؔ کا ایکشن اگرچہ ہمیں ایک بڑی شکست سے نہ بچا سکا لیکن اس سے دشمن کی تزویراتی برتری (ٹیکٹیکل سپیرئیرٹی) کا زعم نہ صرف خاک میں ملا بلکہ اُس کی آب دوز شکن (اینٹی سب میرین) صلاحیتوں کا پول بھی کُھل گیا۔ البتہ بڑی سطح پر اس ایکشن نے دشمن کی اسٹریٹجی پر یہ اثر ڈالا کہ کراچی پر میزائل حملے کے بعد دُنیا بھر میں اپنی کامیابی کی ڈونڈی پیٹنے والی بھارتی بحریہ مسلسل چار دن تک ایک آب دوز کو تباہ کرنے کی ناکام کوششوں میں لگی رہی اور اس کوشش میں ۱۰ دسمبر کو آپریشن ’’ٹرائمف‘‘ (فتح) کے نام سے کراچی بندرگاہ کے خلاف پلان کیا جانے والا میزائل حملہ عملاً کبھی نہ کیا جا سکا۔ اس سے پاک بحریہ پر سے بہت سارا دباؤ ہٹا کیونکہ میزائل حملوں کے خلاف دفاع کی صلاحیتیں اُس وقت تک پوری طرح بحریہ کے وسائل کی رسائی میں نہ تھیں۔ نیز اس سے پاک بحریہ کے افسروں اور جوانوں کے مورال پر بھی بہت مثبت اثر پڑا۔

بھارت میں اس جنگ کے بارے میں ایڈمرل ایس این کوہلیؔ اور ایڈمرل گلاب موہن لال ہیرانندانی ؔ کی کتابیں بالترتیب،
“We Dared! (Maritime Operations in 1971 Indo-Pak War)”
اور
“Transition to Triumph (History of Indian Navy 1965-1975)”
کے عنوان سے شائع ہوئیں جن میں کُکریؔ کی غرقابی کے موضوع پربھی سیر حاصل گفتگو کی گئی لیکن ایڈمرل کوہلیؔ نے بالخصوص اس ایکشن میں پاکستانی آب دوز کی برتر ٹیکنالوجی کو اس واقعے کی بڑی وجہ قرار دیا اور باقی قصّے میں یہ ثابت کرنے میں رطب اللّسان رہے کہ کیپٹن مَلّاؔ اور سودؔ نے غیر معمولی دلیری کا مظاہرہ کیا جبکہ کیپٹن سودؔ نے وہاں سے آئی این ایس کرپان ؔ کو لے کر فرار ہو کر دانشمندی کا ثبوت دیا اور اپنی بساط کے مطابق بڑی بہادری سے ہنگورؔ کا مقابلہ بھی کیا۔ کوہلیؔ ہی کی سفارش پر کیپٹن مہندرا ناتھ مَلّاؔ کو بہادری کا دوسرا بڑا اعزاز ’مہاویر چکرا‘ اور کیپٹن آر آر سودؔ کو تیسرا بڑا اعزاز ’وِیر چکرا‘ دیا گیا۔ اس کے بعد بہادری اور دلیری کے باقی تمام قصّے بھی لوک کہانیوں کا حصہ بنے جن میں دمِ آخر کیپٹن ایم این مَلّاؔ کے سگار سلگانے کا منظر بھی کھینچ دیا گیا۔ کوہلیؔ کیلئے یہ اہتمام اس لئے بھی ضروری تھا کہ کئی تکنیکی وجوہ کی بنأ پر کُکریؔ کا ڈوبنا ایک سانحے کے ساتھ ساتھ ایک ’بلنڈر‘ بھی سمجھا جا رہا تھا اور کوہلیؔ اگر اُن حقائق پر پردہ نہ ڈالتے تو جنگ کے دو سال بعد شاید چیف آٖ ف دی نیول اسٹاف نہ بن پاتے۔ ایڈمرل گلاب ہیرانندانیؔ نے بھی اپنی کتاب میں ڈیفنیؔ کلاس آب دوز (ہنگورؔ) کی برتر ٹیکنالوجی کو ’الزام‘ دیا ہے۔ لیکن چند سال پیشتر انڈین نیوی کے ایک سابق افسر، کمانڈر بینوئے بھوشنؔ کے بیانات ’ٹائم آف انڈیا‘ میں شائع ہوئے تو اس ایکشن کی بھارتی سمت کا نیا پہلو سامنے آیا ۵۔

کمانڈر بھوشن کا دعویٰ تھا کہ بھارتی بحریہ کی سرکاری تاریخ میں کُکریؔ کی غرقابی کا باب ڈائریکٹریٹ آف نیول آپریشنز نے دیانت داری سے نہیں لکھا۔ اُن کا خیال تھا کہ کُکریؔ کی غرقابی کا الزام کیپٹن مہندرا ناتھ مَلّاؔ کی غفلت اور نااہلی کو دیا جائے اور اُن کا یہ بھی خیال تھا کہ ’فوکن ویسٹ‘ یعنی رئر ایڈمرل سریندراکوہلیؔ نے دانستہ حقائق چھپائے ہیں اور ’کُکریؔ کی غرقابی‘ کا وہ باب نیوی کی سرکاری تایخ میں شامل نہیں ہونا چاہیئے تھا جو کوہلیؔ نے لکھا ہے، نیز وہ اس درستی کیلئے عدالت جانے پہ بھی آمادہ ہیں۔ کمانڈر بینوئے بھوشنؔ ۱۹۵۸، ۱۹۵۹ میں کُکریؔ کے افسرِ جہازرانی (نیویگیشن افسر) رہ چکے تھے اور ۱۹۷۱ میں بھارتی بحریہ کے سمندری سروے کے جہاز آئی این ایس انویسٹیگیٹر ؔ کے کمانڈنگ افسر کے طور پر اُنہوں نے کُکریؔ کی غرقابی پر دو رپورٹیں مرتب کیں اور ۱۷ اور ۲۲ جنوری ۱۹۷۲ کو اپنے حکامِ بالا کو جمع کروائی تھیں۔ ۲۰۰۴ میں پہلی دفعہ کمانڈر بھوشن ؔ نے بھارتی صدرِ مملکت کو لکھا کہ وہ اپنی سُپریم کمانڈر کی حیثیت میں اس معاملے کا نوٹس لیں اور تاریخ میں کی گئی اس خیانت کو درست کریں۔ اُنہوں نے جن اہم نکات پر بالخصوص روشنی ڈالی، وہ یہاں نکات میں مختصراً ملاحظہ ہوں:

۱۔ یہ بحری جنگ کی واحد مثال ہے جس میں ایک جہاز ایک آب دوز کے خلاف ایک گولی بھی چلائے بغیر اُسی آب دوز کے ہاتھوں ڈوب گیا جسے ڈبونے کیلئے اُسے مسلح اور مامور کیا گیا تھا۔

۲۔ کمانڈر بھوشنؔ کی رپورٹ آئی این ایس کرپانؔ کے سی۔او کے فراہم کردہ ریکاڑد جیسی ناقابلِ تردید شہادت پر بڑی حد تک منحصر تھی جس میں کرپان ؔکے لوکل آپریشنز پلاٹ، جہازرانی کا تمام ریکارڈ (نیویگیشن ریکارڈ)، انجنوں کے چلنے کا تمام ریکارڈ اور برٹش ایڈمریلٹی چارٹ ۱۴۷۴ (بی۔اے چارٹ) جس سے ساحلی پٹی اور آپریشن سے متعلقہ تمام جغرافیائی پوزیشنوں کی وضاحت، نقشے اور اعداد وشمار کی صورت میں مل سکتی تھی، شامل تھے۔ کمانڈر بھوشنؔ کی ۱۹۷۲ کی اس جامع رپورٹ کو پسِ پُشت ڈال کر ایڈمرل کوہلیؔ کی ۱۹۸۹ کی کتاب کو سرکاری تاریخ کا حصہ بنانا واضح طور پر حقائق کی پردہ پوشی کی کوشش ہے۔ نیول ہیڈکوارٹرز نے اس پردہ پوشی کا تمام ملبہ آنجہانی ایڈمرل گلاب ہیرانندانیؔ پر ڈال کر گلو خلاصی کر لی جو کہ اس وقت فیلٹ افسر آپریشنز تھے۔

۳۔ کیپٹن ایم۔این مَلّاؔ اور کیپٹن سُودؔ نے بھارتی بحریہ کے آب دوز شکن ڈاکٹرِن پر کماحقہْ عمل نہیں کیا اور پاکستانی آب دوز کا لقمہ بنے۔ کُکریؔ کے آپریشن روم کا تمام عملہ حملے کے وقت ڈیوٹی پر تھا، نہ ہی واچ کا عملہ اپنی دی گئی ڈیوٹیوں پر پوری طرح مامور تھا (یا نیوی کی پیشہ ورانہ زبان میں کہہ لیں کہ ’’واچ اینڈ کوارٹر بِل ‘‘ پر عمل نہیں ہورہا تھا)۔ علاوہ ازیں حملے کے وقت کُکریؔ کا عملہ ایکشن اسٹیشن پہ نہ تھا، اگر ایسا ہوتا تو مارے جانے والوں کی تعداد کہیں کم ہوتی کیونکہ ایکشن اسٹیشن میں تمام شپس کمپنی لائف جیکٹ پہنے ہوئے اور مستعد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تین تین نالیوں کی مارٹر توپیں اور ڈیپتھ چارج، کچھ بھی ایکشن میں نہ آسکا۔ ان حالات میں ذمہ دار افسر کو مہاویر چکرا کا اعزاز دینا کمانڈر موصوف کے مطابق ’اسراف‘ ہے۔
۴۔ جب کُکریؔ کو تارپیڈو آن لگا اور وہ بالیقین ڈوب رہا تھا تو جان بچانے والے ’انفلیٹبل لائف رافٹ‘ بھی تیار نہ تھے جو کہ ضابطے کے مطابق ان دنوں میں لازمی ہونا چاہیئیں تھے۔ کمانڈر بھوشنؔ کے قریب کیپٹن سودؔ بھی ان دو سو اموات کے، مَلّاؔ کی طرح برابر کے ذمہ دار ہیں جن کے وہاں سے بھاگ نکلنے کی وجہ سے کُکریؔ کے عملے کے کئی لوگ بچائے نہ جاسکے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کرپانؔ کو چاہیئے تھا کہ وہ کُکری کے بچ جانے والے افسروں اور جوانوں کو اُٹھا لیتا۔ اگر اُس نے خوف ذدہ ہو کر وہاں سے بچ نکلنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا تو اس پر اسے ’وِیر چکرا‘ جیسا بہادری کا اعزاز دینا بھی سراسر غلط ہے۔ خطرہ مول لینا جنگ کا لازمی حصّہ ہے اور کیپٹن سودؔ یہ خطرہ مول لیتے تو کُکریؔ کے عملے میں سے کئی جانیں اور بھی بچائی جا سکتی تھیں۔

اس حوالے سے کمانڈر مَنُو شرماؔ کی یادداشتیں بھی قابلِ ذکر ہیں جنہوں نے بھارتی فوج کے نامور سوانح نویس (بائیوگرافر) میجر جنرل ایان کارڈوزوؔ کو ان کی کتاب کے لئے انٹرویو دیتے ہوئے پیش کیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کُکری ؔ کی رفتار غرقابی کے وقت ۱۴ سمندری میل فی گھنٹا سے کم کر کے ۱۲ کر دی گئی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ ایسا کرنا سونار کی کارکردگی اور نتائج کو بہتر کرنے کیلئے ضروری تھا۔ جبکہ اُنکا کہنا یہ بھی ہے کہ کُکریؔ، ڈبوئے جانے کے وقت قاعدے کے مطابق ٹیڑھے میڑھے (زِگ زیگ) راستے پہ جا رہا تھا ( نہ کہ بالکل سیدھے، خط پہ) جو کہ تارپیڈو کے وار سے بچنے کیلئے ضروری تھا۔ یعنی کُکریؔ پہ صریح غفلت کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ کمانڈر شرماؔ کہتے ہیں کہ واقعے سے کچھ دیر پہلے سی کنگ ہیلی کاپٹر کا واپس اپنے مستقر چلے جانا بھی ایک بہت بڑی بے احتیاطی تھی (بالفاظِ دیگر یہ بھی اسکواڈرن کمانڈر، کیپٹن مَلّاؔ ہی کی غلطی تھی) جس کا نقصان کُکریؔ کو اُٹھانا پڑا کیونکہ شرماؔ کے خیال میں سی کنگ کی موجودگی ہنگورؔ کو دھمکائے رکھنے میں کافی کامیاب تھی۔سی کنگ ہیلی کاپٹر میں لگے آلات آب دوز کی موجودگی کا پتہ لگانے میں بہتر معاون ثابت ہو سکتے تھے کیونکہ کُکریؔ کا اپنا سونار ابھی آزمائش کے مراحل میں تھا جبکہ کُکریؔ کا ہدف کو ڈھونڈنے کی صلاحیت کا قُطر (ڈایامیٹر) صرف ۲۵۰۰ میٹر تھااور ہنگورؔ کی اس صلاحیت کا قُطر ۲۵ ہزار میٹر تک تھا۔ ہنگورؔ کی یہ برتری کُکری ؔ کو سراسر ’معصوم‘ قرار نہیں دیتی کہ ہنگورؔ اُس کو بہت دور سے دیکھ تو سکتی تھی لیکن ۲۵ ہزار میٹر کے فاصلے سے تارپیڈو فائر ہرگز نہیں کر سکتی تھی۔ کمانڈر شرماؔ کہتے ہیں کہ جب کیپٹن مَلّاؔ نے اُنہیں اور لیفٹیننٹ کندن مَلؔ کو ڈوبتے جہاز سے دھکا دے کر اس سے دور تَیر جانے کا حُکم دیا تو اُس وقت اُنہوں نے دھندلکے میں آخری بار کیپٹن مَلّاؔ کو دیکھا کہ وہ اپنے جہاز کے حفاظتی جنگلے سے زخمی حالت میں جھول رہے تھے اور اُن کے منہ میں ایک سگریٹ دبا تھا۔
اس انٹرویو کی روشنی میں جنرل کارڈوزوؔ کا تبصرہ یہ ہے:

’’میں اس امر سے متفق ہوں کہ واردات ہو جانے کے بعد سجھداری کی باتیں کرنا ذیادہ آسان ہوتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ کئی ایسے غلط فیصلے کئے گئے جو کُکریؔ کی غرقابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے‘‘ ۶

سردار چنچل سنگھ گِلؔ، ریٹائرڈ چیف شپ رائٹ، کُکریؔ کے ایک سابق سیلر تھے جو اُس رات پہلے دھماکے کی شدت سے اُچھل کر سمندر میں جاگرے تھے اور بعد ازاں یہ قصہ آنے والی نسلوں کو سُنانے کیلئے زندہ بچے۔ اُنہوں نے چند سال پیشتر اس واقعے کے حوالے سے کچھ حقائق کا اظہار صحافیوں کے سامنے کیا جن کا مرکزی خیال لگ بھگ وہی ہے جو کمانڈر بینوئے بھوشنؔ کی بابت میں مذکورہیں۔ چیف گِلؔ کا کہنا ہے کہ کُکریؔ تین زوردار دھماکوں کے بعد ڈُوبا لیکن چونکہ کُکریؔ کو تین تارپیڈو لگنے کی شہادت ان کے علاوہ کسی نے نہیں دی لہٰذا عین ممکن ہے کہ یہ دھماکے کُکریؔ کے اسلحہ خانہ میں پڑے گولا بارود کے پھٹنے سے ہوئے ہوں۔ علاوہ ازیں چیف موصوف کی فراہم کردہ معلومات سطحی سی نوعیت کی ہیں تاہم وہ کمانڈر بھوشن کے بیان کی تصدیق کرتی ہیں اور کیپٹن مہندرا ناتھ مَلّاؔ اور کیپٹن آر آر سودؔ کو ’حادثے‘ کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔

حرفِ اختتام:

کُکریؔ کی غرقابی سے طرفین نے تدبیراتی اور تزویراتی ( ٹیکٹیکل اور اسٹریٹجک) سطح کے کئی اسباق سیکھے۔ بھارتی میزائل حملے کے خلاف ہمارے ناکافی اور کمزور اقدامات کا بالواسطہ ازالہ اس ایکشن سے کم از کم اس حد تک ہوا کہ اس نے دشمن کو مجبور کر دیا کہ وہ آئیندہ میزائل حملوں کے لئے استعمال ہونے والی طاقت کا استعمال ہنگورؔ کی تلاش میں صرف کر کے اپنا میزائل حملوں کا ارادہ ترک کر دے جو کہ کمتر طاقت اور بحران کے اس زمانے میں بسا غنیمت تھا۔ پاکستانی بحریہ اس جنگ میں دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور تھی جس کی وجہ ظاہر ہے، کہ یہ جنگ سخت نامساعد حالات میں لڑی گئی تھی ( جیسا کہ بھارتی کمانڈر ان چیف، فیلڈ مارشل مانک شا نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: ’’پاک فوج کو جنگ کیلئے تیار ی کی مہلت نہیں ملی تھی، مجھے نَو ماہ کا وقت مِلا تھا!‘‘) لیکن پی این ایس خیبر کے نقصان اور کراچی پورٹ کو مکمل تباہ کرنے کے دشمن کے جھوٹے دعووں کے بعد دشمن کے اپنے پانیوں میں جاکر اکیلی آب دوز کا دشمن جہاز ڈبونا اور پھر چار دن تک اُن کی بحریہ کو بے بس کئے رکھنا ایسی کامیابی تھی جو دشمن کے دعووں کے حلق میں ایک ازلی چبھن بن کر ابد ہو گئی۔ بھارتی بحریہ پر واضح ہو گیا کہ کمزور پاکستانی بحریہ کو اس کی آب دوز طاقت کے ہوتے ہوئے کبھی بھی کمتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ حتیٰ کہ تیس سال بعد بھی پاکستان میں بننے والی فرانسیسی آب دوز کا پراجیکٹ ’کُکریؔ کے ورثأ ‘کو بے چین کئے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ دہشت گردی کی کارروائی میں فرانسیسی انجنئیروں کو قتل کر کے بھی اس پراجیکٹ کو سبوتاژ کرنے میں ناکام رہا۔۔۔ یہ رقابت آج بھی زندہ ہے!

۱۹۷۱ کے بعد کارگل کی جنگ میں بھی پاکستان کی سمندری تجارت کے راستے بند کرنے کی حکمتِ عملی بھارت کی ترجیح تھی اور آئیندہ ہر جنگ میں رہے گی۔ پاک بحریہ بالعموم اور اس کی زیرِ آب طاقت ( سب میرین فورس) بالخصوص دشمن کی اس حکمتِ عملی کو ناکام بنانے کیلئے ہمارا فیصلہ کُن ہتھیار ہو گی۔

ڈیفنیؔ کلاس آب دوزیں اب ایک مُدت سے ہمارے فلیِٹ سے ریٹائرڈ ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ جدید آگسٹا ؔ کلاس آب دوزیں لے چکی ہیں۔ پی این ایس ہنگورؔ آج کل پاکستان میری ٹائم میوزیم میں کھڑی اپنی ’’ریٹائرڈ‘‘ زندگی گزار رہی ہے اور پاکستانی عوام کیلئے کھول دی گئی ہے تاکہ وہ اس سے مل کر اس کے کارنامے کو یاد رکھیں۔ تاریخ کی نظر میں ستّر سال کوئی عرصہ نہیں، لہٰذا ایک ’کم سن‘ قوم کی، چند جنگوں پر مشتمل عسکری تاریخ کے لئے یہ کارنامہ ایک سنہری باب ہے جسے یاد رکھنے سے ہم شکست کا غم تو شاید نہ بھول سکیں البتہ کڑے وقت میں ہمّت، پیشہ ورانہ مہارت اور دلیرانہ قیادت کی یہ مثالیں آئیندہ کی کامیابی، مضبوط دفاع اور پائیدار امن کے حُصول کیلئے ہماری رہنما ہو سکتی ہیں۔۔۔
Notes:
1. “Epic Naval Fights” Captain Frank Shaw RN (Werner and Laurie)
2. “Pakistan Meets Indian Challenge” Brigadier Gulzar Ahmed
3. “Story of the Pakistan Navy (1947-1972)” PN History Cell
4. https://www.scribd.com/doc/2220560/sinking-of-ins-khukri
5. Time of India. 21 March 2011 “Sinking of INS Khukri; have facts been sunk too?” https://blogs.timesofindia.indiatimes.com/contentions/sinking-of-ins-khukri-are-facts-been-sunk-too/
6. “The Sinking of INS Khukri: Survivors’ Stories” Major General Ian Cardozo,(Rtd) Indian Army.

Categories
فکشن

قومی شناختی کارڈ

برگد کے گھنے پیڑ کے نیچے گاؤں کے کچھ گرمی کے ستائے ہوئے لوگ، لڑکے بالے، بڑے بوڑھے، بچے حتی کہ جانور تک پناہ لیے بیٹھے تھے۔ صرف ایک نوعمر لڑکا دھوپ میں کھڑا تھا اور وہ بھی پگڈنڈی کے کنارے لگے نلکے پر نہا رہا تھا۔

برگد کے نیچے چارپائیوں پر بیٹھے اور لیٹے لوگ حقہ پینے سے بھی بیزار تھے لیکن ان میں ایک بوڑھا ایسا تھا جو مسلسل حقے کے کش لیے جا رہا تھا اور کھانسے جا رہا تھا۔ اس نوعمر لڑکے اور بوڑھے میں انفرادیت کے علاوہ ایک اور قدر مشترک تھی کہ وہ گاؤں کے مصلّی اور رشتے میں دادا پوتا تھے۔
“اوئے مانک، تو آج پھر لائلپور نہیں گیا؟”

بوڑھے اللہ یار مصلّی نے کھانستے ہوئے، نلکے پر نہاتے اپنے پوتے سے پوچھا.
“کیا کرنا ہے اس گرمی میں فیصل آباد کے دھکے کھا کر، میں نے نہیں بنوانا شناختی کارڈ”، سیاہ توانا جسم والے نوجوان مانک نے اپنی تہمد درست کرتے ہوئے درشتی سے کہا اور سر جھٹکا جس سے پانی کے قطرے چھینٹوں کی صورت میں غائب سے ہو گئے۔

“اوئے کھوتے دے پترا، تجھے کیوں سمجھ نہیں آتی، الیکشن آنے والے ہیں، حاجی صاحب کہہ رہے ہیں اپنے اپنے شناختی کارڈ بنوا لو، سارا گاؤں چوہدری محمد شفیع کو ووٹ دے رہا ہے۔”

بوڑھے اللہ یار نے پوتے سے کہا اور کن انکھیوں سے ادھر ادھر بیٹھے چند نوجوان دیہاتیوں کو دیکھا، جنہیں شاید وہ بتانا چاہ رہا تھا کہ وہ بھی چوہدری شفیع محمد کو ووٹ دینے والے ہیں۔
“دھت تیرے کی! میں نے نئیں ووٹ دینے اس گنجے مادر جات کو”۔
مانک نے اپنا غسل مکمل کر کے نلکے سے اٹھ کر آتے ہوئے کہا۔

“منظور پتر!” بوڑھے نے اپنے پوتے کی بات نظرانداز کر کے پاس بیٹھے ایک نوجوان کو مخاطب کیا۔ “منظور پتر، تو شہر جاتا ہے، کالج پڑھنے۔ اس مورکھ کو سمجھا کہ شناختی کارڈ کے کیا فائدے ہیں، اسے کل ساتھ لے جانا لائلپور۔ اس کا کارڈ بنوا دے، تیری بڑی مہربانی ہو گی۔

بوڑھے شخص کے سیاہ چہرے پر اتنی جھریاں پڑ چکی تھیں کہ چہرے کے تاثرات تک سمجھ نہ آ سکے تھے لیکن اس کی آواز میں جو التجا اور خوشامد تھی، وہ نوجوان طالب علم کو سمجھ آ گئی۔

“ہاں بابا، لے جاؤں گا، آپ اسے راضی تو کر لیں، میں کیا اسے گھسیٹ کر لے جاؤں؟!”
سانولی رنگت کے منظور لوہار نامی نوجوان نے بوڑھے کے قریب ہو کر اونچی آواز میں کہا۔ اسے اندازہ تھا کہ بابا اللہ یار زرا اونچا سنتا تھا۔ اس کے بعد دیر تک مانک ہمیشہ کی طرح ہیر گاتا رہا، لوگ داد دیتے رہے اور اللہ یار کھانستا رہا۔

شام ہوئی تو اللہ یار مصلّی کے گھر پھر وہی بحث چھڑ گئی۔ مانک کا کہنا کہ وہ لائلپور نہیں جائے گا، اور اس کے دادا کا کوسنا؛
“اوئے مورکھ کی اولاد، ساری دنیا جاتی ہے لائلپور۔ نہیں مر جائے گا ایک دن شہر جا کر۔ پھر شناختی کارڈ ہے، سو جگہوں پہ کام آئے گا۔”
بوڑھا اپنی جھلنگا چارپائی پر بیٹھا کھانسے جا رہا تھا اور کج بحثوں کی طرح ایک ہی بات الفاظ بدل بدل کر سنائے جا رہا تھا۔ گھر میں اس کی بہو، یعنی مانک کی ماں اور مانک ہی دیگر افراد تھے۔

مانک کا باپ مر چکا تھا لہذا مانک چھوٹی عمر سے ہی کسی کے کھیت میں مزارع تھا۔ اس کی ماں لوگوں کے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی تھی۔ بوڑھے کا کام صرف حقہ پینا اور سارا دن کھانسنا تھا۔ اس کے علاوہ فرصت مل جاتی تو وہ کسی نہ کسی بات پر بہو اور پوتے کو نصیحتیں کرتا اور برا بھلا کہتا رہتا تھا۔

اگلی صبح جب مانک حوائج ضروریہ کے لئے کھیتوں کو جارہا تھا تو سامنے منظور لوہار نظر آیا جسے اس کے دادا نے کہہ رکھا تھا کہ اسے اپنے ساتھ شہر لے جائے۔

“اوئے مانکو۔۔۔” منظور نے دور سے ہی آواز دی۔ اُس نے ہاتھ لہرا کر اُسے جواب دیا ۔ “چل یار، تیاری کر، تجھے شہر لے جاتا ہوں، تیرا شناختی کارڈ بنوا لاتا ہوں”.

منظور کے بائیں ہاتھ میں ایک کتاب تھی اور وہ سر میں تیل لگائے ، صاف سُتھری لیکن بنا استری کے، کالج کی وردی پہنے ہوئے تھا۔

“تو چل میرے گھر بیٹھ، میں آتا ہوں” مانک نے اُسے ٹالنے کیلئے لیکن بظاہر اشتیاق کے ساتھ کہا۔ دن کے نو بجے وہ گاوں سے نکلے۔ مانک نے کارڈ بنوانے کیلئے مطلوبہ رقم سے اضافی بھی کچھ پیسے جیب میں ٹھونس لئے تھے۔ دراصل اُسے منظور نے جھانسہ دیا تھا کہ وہ شناشناختی کارڈ بنوانے کے بعد فیصل آباد کے بڑے سنیما میں مُجرا دیکھیں گے۔

سفر کے دوران پہلے تو وہ ادھر اُدھر کی گپیں ہانکتے رہے، پھر اچانک مانک کو خیال آیا؛
“یار مَنّے، یہ بتا کہ مُجھے کیا فائدہ ہوگا شناختی کارڈ بنوانے کا؟ بس ووٹ دینے کے لئے ہی ہوتا ہے؟؟” مانک نے منظور سے پوچھا۔

“نہیں یار، بڑے کام کی چیز ہوتا ہے یہ۔ اس کا مطلب یہ سمجھ لو کہ ایک بار تمہارا کارڈ بن گیا تو تم ملک کے پکے شہری ہو، اب حکومت پابند ہے کہ تمہیں تمہارا صحت کا حق، تحفظ اور انصاف فراہم کرے ۔ اب تم کسی بھی سرکاری اہلکار سے سر چڑھ کر بات کرسکتے ہو اور اپنے جائز کام کروا سکتے ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ملک کے ایک معزز فرد ہو”.

منظور کالج میں سوشیالوجی پڑھتا تھا لہٰذا پُر جوش ہو کر اُسے سمجھانے لگا۔ پہلے تو مانک کو کچھ سمجھ نہ آئی لیکن پھر اُس نے ذہن پر کچھ ذور دیا تو اسے خیال آیا کہ یہ تو بڑے اعزاز کی بات تھی۔

وہ ‘نادرا’ کے دفتر پہنچے تو باری آنے پر اُسے مختلف مراحل سے گذرنا پڑا جو کہ اس کے لئے بڑے خوشگوار تھے۔ وہ پہلی بار کسی اتنی شاندار، صاف ستھری اور ائر کنڈیشنڈ عمارت میں داخل ہوا تھا۔ اُسے سب سے زیادہ خوشی اور سرشاری اس لمحے ہوئی جب ایک مرحلے پر ایک حس حسیِن لڑکی نے اُس سے اس کے بنیاد ی کوائف اور اُس کے ‘ب’ فارم کے بارے میں چند باتیں کیں۔
“تمہارے نام کا مطلب کیا ہے مانک بابو؟”
لڑکی نے بظاہر بڑی دلنواز مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

“پتہ نہیں جی، ابا نے رکھا تھا”، مانک نے مسکرا کر سادگی سے جواب دیا لیکن اُسے اپنے جسم میں ایک خوشگوار سی بجلی کوندتی محسوس ہوئی۔
“اور تمہارے ابّا کا نام، مٹکُو، تمہارے دادا نے رکھا تھا؟” لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی شرما کر ہنس دیا۔

انگوٹھا لگوانے کا مرحلہ آیا تو اس لڑکی نے مانک کا ہاتھ پکڑ کر اسکیننگ کی مشین پر درست طریقے سے رکھا تو اگلے آٹھ پہر تک مانک کے من میں لڈو پھوٹتے رہے۔

گاؤں واپسی کے سفر میں وہ اسی کے سحر میں کھویا رہا۔ زندگی میں پہلی بار کسی حسینہ نے اور وہ بھی “افسر” حسینہ نے اُس سے یوں ہنس کر بات کی تھی۔ اُس کا خیال تھا کہ یہ شناختی کارڈ کی بدولت تھا ورنہ وہ تو ایک ایسی ذات سے تعلق رکھتا تھا جسے دیہی پنجاب میں کوئی بھی معزز نہیں سمجھتا۔

پنجاب کے ان دراوڑ نژاد باسیوں کو ہزاروں سال گزر جانے کے بعد بھی حملہ آور جہازیوں کی اولادوں نے کبھی انسان تک نہیں سمجھا۔ وہ خود کو کوس رہا تھا کہ پہلے شناختی کارڈ بنوانے کیوں نہیں آیا اور اس کے طفیل آنے والے اچھے دنوں کے سنہرے سپنے دیکھ رہا تھا۔

جس روز ڈاکیے نے ‘نادرا’ کا سفید لفافہ اسے لا کر دیا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ اٹھارہ سالہ زندگگی میں پہلی بار ڈاکیا اس کے لیے کچھ لے کر آیا تھا۔

اب وہ گاؤں بھر کی دیگر باتوں کے علاوہ صوبائی اور ملکی سیاست کی باتیں بھی غور سے سنتا تھا اگرچہ اسے سمجھ کسی بات کی نہیں آتی تھی۔ وہ اکثر منظور سے ریاست اور قانون کی باتیں بھی پوچھتا تھا، جن میں سے کم ہی کسی بات کا جواب منظور کے پاس ہوتا۔

ایک دن منظور نے اسے ایک ایسی بات بتائی جسے وہ بمشکل سمجھ سکا لیکن جب سمجھ آئی تو اسے ایسا لگا جیسے وہ ایک ہی لمحے میں تعلیم یافتہ اور باشعور ہو گیا ہے۔

بات صرف اتنی سی تھی کہ ہر شہری کے کچھ حقوق ہوتے ہیں اور کچھ فرائض ہوتے ہیں۔ وہ اپنے فرائض پورے کرنے کا پابند ہے، جبکہ حکومت پابند ہے کہ وہ شہری کے حقوق کا خیال رکھے۔

مانک کی آنکھیں تب حیرت سے کھل گئیں جب منظور نے اسے چند چیدہ چیدہ شہری انسانی حقوق بتائے۔ اگلے دس پندرہ دن اپنی سمجھ کے مطابق وہ اپنے ذہن میں انہی باتوں کی جگالی کرتا رہا اور الیکشن آ گئے۔

الیکشن کے روز اس کی ماں اور بوڑھے دادا نے صاف دھلے ہوئے کپڑے پہنے، سب نے اپنے اپنے شناختی کارڈ سنبھال کر پاس رکھ لیے۔ صبح صبح چوہدری امتیاز کا بیٹا صحن میں کھڑا پکار رہا تھا۔ “بابا اللہ یار! ماسی بکھاں” مانک کی ماں نے آگے جا کر اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔

“ماسی، باہر ہائی ایس تیار کھڑی ہے، آؤ، تم لوگوں کو پولنگ اسٹیشن لے جانا ہے۔” چوہدری امتیاز کے بیٹے نے بڑی خوش خلقی سے کہا۔ سب کے شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں ہائی ایس میں بٹھایا گیا۔

پولنگ اسٹیشن کی گہماگہمی اپنی جگہ، لیکن ایم این اے کے امیدوار چوہدری شفیع محمد کے مقامی سپورٹر چوہدریری امتیاز نے جس خوش اخلاقی سے اس کی ماں اور بوڑھے دادا کا استقبال کیا، اور جس بے تکلفی سے اس کا شانہ تھپتھپایا، مانک کو محسوس ہوا کہ یہ سب شناختی کارڈ کی برکات تھیں۔

ووٹ ڈالنے کے بعد ایک بڑے شامیانے کے نیچے بیٹھ کر اس نے اپنی ماں اور دادا کے ہمراہ چوہدری صاحب کی جیب خ خاص سے بریانی کھائی اور پیپسی پی۔ ایک عرصے بعد اسے اتنی زیادہ بریانی کھانے کو ملی تھی۔

جو چوہدری امتیاز اسے کبھی سیدھے نام سے بھی نہیں پکارتا تھا، آج ان کو سیاست کی باتیں بتا رہا تھا اور اس کے دادا کے تبصروں پر داد دے رہا تھا۔ مانک بار بار جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنے شناختی کارڈ کو ٹٹول رہا تھا۔ ان کے گھر میں شاید ہی اس کے علاوہ کاغذ کا کوئی ٹکڑا یا تحریر موجود ہو، اور یہ واحد تحریر اس کے لیے بہت قیمتی بن چکی تھی۔

الیکشن گزر گئے، زندگی پھر معمول پر آ گئی۔ چوہدری شفیع محمد ایم این اے اور وفاقی وزیر بن چکا تھا۔ چوہہدری امتیاز علی اور ان کے خاندان کو نوازا جا چکا تھا اور علاقے کے اکثر تھانے دار، تحصیل دار، پٹواری اور قانون گو اس کی نظر کرم کے بعد اپنے عہدوں پر مزید پختہ اور باجبروت ہو چکے تھے۔

مانک کی زندگی کا کینوس پھر کھیتوں سے اپنے گھر کے درمیان سکڑ گیا۔ کئی دن بیتے تو ‘نادرا’ والی حسین لڑکی، الیکشن کا یادگار دن، اور چوہدری امتیاز کی باتیں قصۂ پارینہ بن گئیں۔ لیکن شناختی کارڈ پر لکھے الفاظ جو وہ پڑھ بھی نہ سکتا تھا، اس کے ذہن و دماغ پر ثبت ہو چکے تھے۔

گرمیاں ختم ہو گئیں، بھادوں کا حبس گرمیوں سے بھی بڑھ کر جان لیوا تھا۔ مانک اب بھی کھیتوں سے فارغ ہو کر نلکے پہ نہاتا اور پھر دیر تک ڈیرے پر بیٹھا دوستوں کو ہیر سنایا کرتا تھا۔

ایک شام وہ کھیتوں سے سیدھا گھر آیا تو وہاں خواتین کا جمگھٹا دیکھ کر اسے تشویش سی ہوئی۔ گھر کے گرد چاردیواری نہ تھی، اور گھر بھی کیا تھا، بس ایک جھونپڑی تھی جس میں گھر کے تین افراد رہتے تھے۔ وہ دوڑ کر جھونپڑی کے دروازے پر آیا تو دیکھا کہ اس کا دادا نیم بیہوش پڑا ہانپ رہا تھا اور اس کے سر سے خون ایک باریک سی دھار کی صورت میں بہہ کر اس کی سفید داڑھی میں کہیں جذب ہو گئی تھی جبکہ ہمسائیاں اسے پانی پلا کر ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

“کیا ہوا دادے کو؟ اماں کہاں ہے؟!” اس نے تیزی سے ایک عورت سے پوچھا۔

بتایا گیا کہ علاقے کا تھانیدار اس کی تلاش میں آیا تھا، اسے گرفتار کرنے، کہ اسے اس پر ڈکیتی کا شبہ تھا۔ اس کی ماں نے یہ سنا تو آپے سے باہر ہو گئی اور تھانیدار کو خوب سنائیں۔ تھانیدار نے اسے حکم دیا کہ اس کی ماں کو ہی گرفتار کر کے تھانے لے جایا جائے۔

جب سپاہیوں نے مانک کی ماں کو گھسیٹنا شروع کیا تو بوڑھے اللہ یار نے آگے بڑھ کر اپنی لاٹھی ایک سپاہی کے رسید کی۔ جواب میں بندوق کے بٹ کی ایک ہی ضرب نے اگلے ایک گھنٹے کے لیے بوڑھے کو خاموش کر دیا۔

کچھ عورتوں نے مانک کو کوسنا شروع کر دیا کہ اس کی ایک بری حرکت کی وجہ سے اس کی بوڑھی ماں اور بوڑھے دادا پر یہ ظلم ہوا۔ وہ قسمیں کھا کر اپنی صفائیاں پیش کرنے لگا لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی، تو وہ غصے کے عالم میں سیدھا گھر سے نکلا اور تھانے کی طرف رواانہ ہو گیا۔

تھانے میں داخل ہوا تو علاقے کے نئے ایس ایچ او انسپکٹر مقصود احمد وڑائچ صاحب اپنی جلالت مآب توند اور مونچھوں کو بڑے سلیقے سے اپنی صاف ستھری اور اجلی وردی کے ہمراہ سمیٹ کر تھانے کے صحن میں دفتر جمائے بیٹھے تھے۔ ‘بارک ملازمان’ کے دروازے کے ساتھ اسے اپنی ماں دبکی بیٹھی نظر آئی۔

اس نے جاتے ہی تھانیدار سے اپنا تعارف کرایا اور اپنا شناختی کارڈ نکال کر اس کے سامنے میز پر رکھ دیا۔

“اوئے کہاں گیا تھا تو؟ اب چلا آیا ہے اپنی ماں کی عزت افزائی کروا کے؟” تھانیدار نے سخت ناگواری سے اس کا کارڈ دیکھے بغیر کہا۔

“چوہدری صاحب، میرا قصور بھی تو بتائیں ناں” مانک نے احتجاجی لہجے میں کہا تو پاس کھڑے سب انسپکٹر نے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کی گدی پر جمایا اور وہ قریب قریب تھانیدار کی میز پر جا گرا۔ “مصلّی کا بچہ! ایس ایچ او صاب سے پوچھتا ہے، میرا جرم کیا ہے!” سب انسپکٹر نے، جسے سب شاہ صاحب کہہ کر پکار رہے تھے، غصے اور حقارت سے کہا۔

مانک کو تھپڑ اتنے زور سے لگا تھا کہ اس کی آنکھوں میں درد کی شدت سے آنسو آ گئے۔

ایک فیصل آباد پر ہی کیا موقوف، پورے پنجاب کے دیہی علاقوں میں وارداتوں کے بعد شک کی بنا پر سب سے زیادہ پکڑی جانے والی قوم مصلّیوں کی ہے۔ کیونکہ ان کے لیے نہ کوئی سیاستدان آگے آتا ہے اور نہ ہی کوئی وکیل ان کے کیس لڑتا ہے۔

غریب، ان پڑھ، گنوار اور شاید کالے ہونے کی وجہ سے ان کا شمار ہمارے کسی طبقے سے نہیں ہے، اور مانک کی بدقسمتی کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر سکا تھا۔

“صاحب یہ کارڈ ہے میرا۔ دیکھ رہے ہو کیا لکھا ہے اس پر؟ میں ایک شریف آدمی ہوں۔ میری ماں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔” مانک نے رندھے ہوئے گلے کے ساتھ بمشکل ایس ایچ او کو کہا۔

“کیا لکھا ہے اس پر؟ ایم پی اے کا کارڈ ہے یا ایم این اے کا؟” ایس ایچ او نے ہنس کر کہا تو سب انسپکٹر نے اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچ لیا۔ “ہاں ہاں۔ پتہ چل جاتا ہے۔ ناانصافی کس کے ساتھ ہوئی ہے۔”

ایس ایچ او نے ہاتھ سے اشارہ دیا کہ مانک کو دور لے جایا جائے۔

“صاحب! آپ کا فرض ہے انصاف کرنا، ظلم کرنا نہیں۔۔” مانک نے قریب قریب روتے ہوئے کہا تو سب انسپکٹر نے زور سے مانک کے پہلو میں لات رسید کی۔ “ہمیں ہمارا فرض بتائے گا مصلّی کی اولاد!”۔

مانک منہ کے بل گرا تو اس کی ماں چیخ کر دوڑی۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ مانک کے قریب آتی، سب انسپکٹر نے اسے زور سے دھکا دیا اور وہ قلابازیاں کھاتی ہوئی فرش پر اوندھی جا گری۔ مانک نے چیخ کر سب انسپکٹر شاہ کو بہن کی گالی دی اور اُسے زور سے دھکا دے کر اپنی ماں کی طرف دوڑا۔
“مارو اس حرامزادے کو۔۔۔”، ایس ایچ او نے یہ منظر دیکھا تو گرج اٹھا “حرامزادے ہوتے ہیں تیرے جیسے، چوہدری۔۔۔” مانک بھی چلّا کر بولا تو سارے سپاہی دوڑ کر اکٹھے ہو گئے۔ اس کے بعد مانک پر وہی گزری جو تھانوں میں اکثر غریب حوالاتیوں پر گزرتی ہے۔

چوہدری امتیاز علی کے ڈیرے پر بنے نجی ٹارچر سیل میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد مانک میں مزید ایذا برداشت کرنے کی ہمت نہ رہی تو چوہدری مقصود وڑائچ اور سب انسپکٹر سید انتظار حسین شاہ کے نجیب خون نے جوش مارا اور انہوں نے غریب مصلّی کو رہا کر دیا۔ مانک کی ماں اور دادا سے خالی کاغذوں پر انگوٹھے لگوا لیے گئے، دو سپاہی مانک کو چارپائی پر اٹھا کر اسے گاؤں چھوڑ آئے۔

اس کے بعد مانک کی زندگی کے چند واقعات ہی قابل ذکر ہیں۔ ایک تو یہ کہ گاؤں کے لوگوں کو یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ الہڑ عاشقوں کے سے لہجے میں ہیر سنانے والے مانک مصلّی کی زبان تھانیدار صاحب نے گالی بکنے پر بلیڈ کی دھار سےکاٹ دی تھی۔

دوسرا یہ کہ جب وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو اس نے اپنا قومی شناختی کارڈ چولھے میں جھونک ڈالا۔

تیسرا قابل ذکر واقعہ ہونے میں تھوڑا وقت لگا، مانک مصلّی کا نام گونگا مصلّی پڑ گیا۔ اسے اس کی پروا بھی نہیں تھی کہ وہ سبز شناختی کارڈ پر لکھی اپنی شناخت پر اب لعنت بھیجتا تھا۔

گونگا مصلّی اب تو کچھ نیم پاگل سا بھی لگنے لگا ہے۔ کسی نے بتایا ہے کہ لفظ ‘شناختی کارڈ’ سن کر وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنی گونگوں کی بولی میں بہت گالیاں بکتا ہے۔

Categories
فکشن

لیزلی حیات خان (اپنے فرضی ہم شکل کا حقیقی خاکہ)

“لیزلی! میں تمہارا خاکہ لکھنے لگا ہوں!”

میں نے کہا تو علی حیات خان چونکا، پھر اپنی کھِلتی باچھوں پہ ضبط کرتے ہوئے مصنوعی ناگواری سے میری طرف گھورنے لگا۔
“کیوں؟ دُنیا کے دیگر بے ہودہ اورفضول موضوعات ختم ہو گئے ہیں کہ اب مجھ پہ ‘سکھلائی’ کا ارادہ ہے؟ پہلے وہ اپنی گھوڑے اور گلہری کی محبت کی داستان تو مکمل کر لو!”

لیزلی، یعنی علی حیات مصنوعی سی کثرِ نفسی اور طنز کے لہجے میں بولا ۔

بلاشبہ وہ ایک ‘فضول’ موضوع بھی ہو سکتا ہے لیکن لیزلی خان میری باوردی زندگی کی ناکامیوں اور کم مائیگیوں کا ساتھی تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ ناکام انسان بھی قابلِ ذکر ہو سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ لوگ عبرتوں کی ایک سستی کتاب ہوتے ہیں جس کے سفید صفحے فُٹ پاتھ پہ پڑےپڑے قارئین کے انتظار میں زرد ہو جاتے ہیں ۔ لیزلی حیات خان ان نوجوانوں میں سے تھا جو کہ ذرا سی محنت سے معاشرے کے تابندہ ذہن بن سکتے تھے لیکن وہ جنگ و جدل اور سپہ گری کے رومان میں گرفتار ہو کے خود کو ہمیشہ کیلئے بے کار پُرزہ بنا کر کونے میں پھینک دیتے ہیں۔ یعنی زمانہ طالب علمی کیڈٹ کالجوں کا جنون لئے ٹاٹ اسکولوں میں پڑھتے ہوئے گزار دیا اور پھر نوعمری قرونِ وسطیٰ کے شہسواروں کی سی مردانگی کا شوق لے کر اُن میدانوں میں بےتوقیر ہوتے ہوئے گزار دی جن میں فقط تلاشِ رزق کیلئے سگ دُوئی ہوا کرتی ہے، شہسواری نہیں! یوں ‘خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں’!!

علی حیات بتاتا تھا کہ اس کا ذہن اس کے بچپن سے ہی دو انتہاؤں کے درمیان متذبذب رہا۔ اپنے دادا مولوی غلام نبی خان مدنی مرحوم کا دینی ورثہ اس کے ایک جانب تھا جس میں خدمتِ دین، تصوف اور پیری مریدی کی ایک سادہ لیکن مستحکم سی روائیت تھی، دوسری طرف اپنے والد ، صوبیدارمیجر ریٹائرڈ قاری عبدالعلی خان ہیڈ کلرک اے سی سی، ٹی کے۔ون کا فوجی ورثہ تھا جس کی شان و شوکت اسے اتنا ہی مسحور کرتی تھی جتنا اُسے دادا کے ورثے کی طرف زبردستی مائل کیا جاتا تھا۔ قاری مرحوم کو ایک حادثہ فوج میں لے گیا تھا لیکن اُنہوں نے سن اڑتالیس سے سن بیاسی تک کا جو عرصہ فوج میں گزارا، علی حیات کے لئے وہ ایک بھرپور تشویق بنا۔

ہم پہلی دفعہ ملے تو وہ نیانیا عارضی لانس نائیک بنا تھا اور میں یونٹ میں نووارد سپاہی تھا ۔ وہ ہماری اس نیم لڑاکا پلٹن میں واحد بی ۔اے پاس سپاہی تھا۔ میں نے ڈویژن بیٹل اسکول میں ایف۔اے کی کلاسیں پڑھنا شروع کیں تو وہ میرا گہرا دوست بن گیا۔ پھر اس کے بعد لگ بھگ تمام باوردی زندگی ساتھ ہی گزری، ہم پیشہ تو تھے ہی، ہم مشرب و ہمراز بھی ہو گئے۔ وہ بتایا کرتا تھا کہ اس کے ابا اپنے فوج کی نوکری کے زمانے کے قصے سُناتے تو وہ کیسا مسحور سا ہو جاتا تھا۔ علی ان کی ڈھلتی عمر کی اولاد تھا جبکہ اُنہیں فوج سے ریٹائرڈ ہوئے بھی دو سال ہو چکے تھے۔ جہاں گھر کے دینی و مشرقی ماحول نے اسے بچپن میں عوج بن عنق، حئی بن یقظان، عمرو بن وہب بہلول، مُلا ابوالحسن دوپیازہ اور خواجہ بخارا نصرالدین کے کرداروں سے روشناس کروایا، وہاں وہ قیام کے بعد کے گورے اور پاکستانی فوجی کرداروں کے تذکروں سے بھی سحر ذدہ سا رہتا تھا۔ قاری عبدالعلی صاحب نے پنڈی میں ساتویں ڈویژن کے جی او سی جنرل ٹوٹن ہیم کے دفتر میں کلرکی کی تھی، جنرل افتخار خان مرحوم و مغفور کے اسٹاف میں کلرک رہے اور ان کے جی ون کرنل ڈیرک مل مین کے منظورِ نظر تھے۔ پہلے سپہ سالار کے اے ڈی سی میجر ٹیرنس گلینسی سے تو یارانے کا دعویٰ تھا انہیں۔وہ عمر بھر ان افسروں کے گُن گاتے رہے۔ لیزلی نے یہ گُن مجھے بھی گا کر سُنائے۔ وہ انگریز کی قومی صفات کا مداح تو تھا ہی، فوج میں آ کر جو اسے ملٹری ہسٹری کا چسکا پڑا تو کچھ ذیادہ ہی مداح ہو گیا۔بدنامِ زمانہ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس کو اپنا پیر و مُرشد بتاتا تھا۔انگریزی کئی نووارد لفٹینوں سے اچھی بول لیتا تھا اور اگرچہ اپنے نشست و برخاست اور کئی حرکات و سکنات سے اپنے لانس نائیک ہونے کا ثبوت پیش کرتا تھا تاہم تحریر اور تقریر کا غمومی انداز افسرانہ پایا تھا۔اس نے اکثر دوستوں کو بھی انگریزی کے عرفی نام دے رکھے تھے مثلاً دانیال کو ڈینی ، جاوید کو جو، اور اسی طرح ٹام، مائیک اور جیک وغیرہ۔۔۔ میجر شجاعت علی شاہ صاحب اُس پر بہت مہربان تھے اور اُنہوں نے ہی علی حیات کو لیزلی کا عُرفی نام دیا تھا۔ سردار صاحبان(جے سی اوز) سے بدتمیزی کے واقعات میں سزا یافتہ ہونے سے لے کر بغیر چھٹی غیر حاضر(اے ڈبلیو ایل) ہونے اور سپلائی اسٹور کا دروازہ توڑنے پر کوارٹر گارڈ میں بند ہونے تک، ہر بڑی دُرگھٹنا میں میجر شجاعت علی شاہ صاحب نے اُس کی کھال بچانے کی کوشش کی اور ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ لیزلی اپنی صلاحیتوں کا تعمیری استعمال کرے اور مثبت سمت میں ترقی کرے لیکن بے سود۔ وہ اہلِ دُنیا سے یکسر متضاد ذاویہ نظر لے کر دُنیا داری کے جھمیلوں میں پڑنے والا ایک احمق تھا ۔ پھر جہاں وہ دُنیا بھر کے ملٹری کلچر کا کافی مطالعہ رکھتا تھا، وہاں اپنے ہی رفقائے کار سے معمولی باتوں پر سینگ پھنسائے رکھنے کی وجہ سے پلٹن میں غیر مقبول رہا۔ جہاں اُس نے عالمی عسکری ادب کا مطالعہ بڑے شوق سے کر رکھا تھا وہاں اپنی پلٹن کے معمولات سے بے نیاز اور کام چوری کی حد تک لاپروا تھا۔ لیزلی نے بڑی قوموں کے فوجی مشاہیر کے سوانح پڑھ رکھے تھے اور اس کے فوجی بکسے میں میں نے فیلڈمارشل رومیل اور آکن لیک کی تصاویر چسپاں دیکھیں (جو اُس کی اپنی مصوری کے ‘نمونے’ تھے) لیکن وہ اپنی فوجی زندگی کے تمام پیشہ ورانہ امتحانات میں کمترین نمبروں سے پاس ہوا تھا اور کچھ میں تو فیل ہوا۔ ان اضداد سے مجھے اندازہ ہوا کہ سپہ گری کا جنون کی حد تک شوق بھی اس حقیقت کو نہیں بدل سکا تھا کہ رومانوی دُنیاؤں میں کھویا رہنے والا علی حیات اس پیشے کیلئے موزوں نہ تھا۔ لیزلی اس حقیقت سے ہمیشہ منکر رہا، سو بھاری قیمتیں چکاتا رہا۔

گورے گندمی رنگت، تیل کنگھی سے بے نیاز گھنے سیاہ بالوں اور پوری وردی میں چھے فُٹ قامت کا علی حیات خان پنجاب کے ایک زرخیز دیہاتی خطے سے تھا لیکن اُردو بڑی شستہ بولتاتھا اور فارسی بھی جانتا تھا(جو کہ شائد گھر کے مذہبی ماحول کی دین ہو۔ قاری عبدالعلی عمرِ آخر میں تشیع اختیار کرچکے تھے اور ایرانی ثقافت سے متاثر ہوگئے جس کا اثر علی پہ بھی پڑا ہوگا)۔ میٹرک کے بعد کچھ غربت کے ہاتھوں، کچھ اپنے لا اُبالی شوق سے بے قابو ہو کر مزید پڑھنے کے بجائے فوج میں سپاہی بھرتی ہو گیا۔ دراصل قاری صاحب کے مسلک بدلنے کے بعد بوجوہ پیری مریدی قائم نہ رہی جبکہ زمینداری کا سورج پہلے ہی ڈوب چکا تھا۔

لیزلی مجھے اکثر اپنی اول جلول شاعری بھی سُناتا تھا جس میں کوئی تاثیر یا گہرائی تو نہ ہوتی البتہ اندازہ ہوتا تھا کہ زبان پہ گرفت بہت سوں سے اچھی ہے۔ پیشہ ورانہ موضوعات پر مضمون نسبتاً اچھے لکھ لیتا تھا۔ آسٹرلٹز کی لڑائی پر ایک طویل مضمون لیزلی نے ایسا بھی لکھا جسے شائع کرنے سے پہلے اُس فوجی جریدے کے مدیر کرنیل صاحب نے کہا تھا کہ تمہارا یہ مضمون ایک میجر رینک کے لکھاری کا لکھا ہوا لگتا ہے، شاباش!!!

لیکن تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی تھا کہ ایک دو مواقع پر مجھے یہ واضح انکشاف ہوا کہ لیزلی بطورِ لڑاکا سپاہی ایک بُزدل آدمی ہے۔ دو ایک دفعہ یونٹ کی ذمہ داری کے علاقے (اے او آر) پر دہشت گردوں کے خود کش حملوں کے واقعات میں علی حیات کا طرزِ عمل قریب سے دیکھ کر مجھے یہ اندازہ ہوا کہ وہ شدید خوف ذدہ تھا۔ لیزلی میں شائد دلیری کی کوئی اور قسم ہو جو کسی اور پیشے میں ظاہر ہو سکتی تھی، وہ کسی رابرٹ میسن سے منسوب قول سُنایا کرتا تھا کہ ایک چوزا اور ایک عقاب ہر آدمی میں چھپا ہوتا ہے۔ وہ ہمراز ہونے کی وجہ سے مجھ سے اس پر شرمسار بھی رہتا تھا۔ وہ مجھے کہتا : “یار یہ جنگ نہیں، وحشت اور بربریت کی وہ انتہا ہے جس سے نپٹنا سپاہیوں کا نہیں، قسائیوں کا کام ہے۔ یہ کیا جنگ ہوئی کہ تلوار تھامنے یا بندوق اُٹھانے سے بھی پہلے ہماری آنتیں سڑک پر بکھری پڑی ہوں اور بھیجا دیوار پہ چپکا ہو۔ وہ بھی میدان جنگ میں نہیں، سڑکوں چوراہوں پر۔۔۔ نہیں یار! میں نئی صدی کی جنگوں کا سپاہی نہیں ہوں!!” میں نے ایک بار اُس کے پاس جنیوا کنونشن کا جنگی قیدیوں کے حقوق پر مبنی کتابچہ دیکھا تو اس کی وجہ پوچھی۔ اس نے جواب میں بڑے تقدس مآبانہ انداز میں کہا کہ یہ ہر فوجی کے پاس ہونا چاہیئے۔ تھوڑی دیر بعد مجھے یاد آیا کہ ہم نے چند دن پہلے دوسری جنگِ عظیم پر بنی ایک فلم دیکھی تھی جس میں ہیرو، کرنل نکلسن (الیک گینیز) کے پاس ہمہ وقت جنیوا کنونشن کا جنگی قیدیوں کے حقوق والا کتابچہ ہوتا ہے۔ میں خموشی سے مسکرا دیا جس کا لیزلی نے بہت بُرا مانا۔ لیزلی کے پاس اس کے فوجی بکسے میں ایک تلوار پڑی تھی جس پہ اُس نے اپنا آرمی نمبر، نام اور یونٹ انگریزی میں کندہ کروا رکھے تھے۔ وہ اکثر اس کے دستے کو مضبوطی سے پکڑ کر مجھے کہتا: “تجھے کیا پتہ لونڈے! تلواروں اور مسکوٹوں کے زمانے کی فوج کا کیا کلچر تھا۔ جنرل اکبر خان مرحوم کے زمانے کی فوج ، جنہوں نے کیرئیر کی پہلی لڑائی گھوڑے پر، تلوار سے میسوپوٹیمیا میں لڑی اور آخری لڑائی میں انفنٹری اور توپخانے کے جدید عناصر ڈیپلائی کئے، کشمیر والی جنگ میں!”

پھروہ اپنی تلوار کے بلیڈ پر انگلی پھیر کر اس انگلی کو اپنے ماتھے پر رکھتاا ور کہتا: “یار مجھے ڈوئل کا زخم اپنے ماتھے یا چہرے پر کھانے کا بڑا شوق ہے، جس کا نشان عمر بھر رہے”۔ پھر وہ الیکسانڈر پوشکن کا قصہ سُناتا جو کہ روسی رسالہ فوج کا افسر تھا ، افسانہ نگار بھی تھا اور اپنی محبوبہ (سابق بیوی) کے بھائی لیفٹیننٹ (جس کا مشکل سا روسی نام لیزلی ہی ادا کرسکتا تھا) کے ہاتھوں ڈوئل میں مرا۔ لیزلی نے ایک بار بحری توپ خانے کے ایک این سی او کو ڈوئل کا چیلنج بھی کیا لیکن ذرا قانونی حدود میں۔۔۔ یعنی وہ دونوں پستول سے پانچ پانچ گولیاں ایک تیسرے ہدف پر داغیں گے، جس کا ایک نشانہ بھی خطا گیا، وہ ‘کینٹین کورٹ مارشل’ کا سزاوار ہو گا یعنی سب حاضرین کو ‘ٹی بریک’ کروائے گا۔ وجہ یہ تھی کہ اُس این سی او نے لیزلی کی ذات کے کسی فوجی پہلو پر انگشت نمائی کی تھی۔ ‘ڈوئل’ میں استعمال ہونے والے دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کے پسٹل کارل والتھر کے بارے میں لیزلی کو اپنے حریف سے ذیادہ معلومات تھیں۔ تاہم لیزلی خان یہ ڈوئل ہار کر لوٹا تو بڑا پژمردہ تھا اور خود کو پوشکن کی قبیل سے شمار کررہا تھا۔ وہ اپنی عمومی دلچسپی کے برعکس اگر کبھی ہمارے ساتھ شہر کے گھٹیا ہوٹلوں میں قورمےاور بریانیاں کھانے آ نکلتا تو وہاں بھی ویٹروں کو متوجہ کرنے کیلئے کلاسیک انگریز افسروں کی طرح ‘‘کوئی ہے؟؟” کا آوازہ لگاتا تھا۔۔۔

گئی صدیوں کے ‘جوانمردوں’ کی طرح لیزلی گھڑسواری کا شائق بھی تھا، حُسن پرست بھی اور دُخترِ”زَر” کو مُنہ نہ لگانے والا ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ دُختر موصوف نے اُسے کبھی مُنہ نہ لگایا (اسی وجہ سے دُخترِ رَز سے بھی ایک عرصہ دُور رہا)۔ اب گھڑ سواری کا شائق ہونا الگ بات ہے اور اچھا شہسوار ہونا ذرا الگ بات ہے۔لیزلی خان بہت ہی اناڑی سوار تھا اور ایک دفعہ تو میں نے اُسے سرپٹ دوڑتے گھوڑے سے بُری طرح گرتے دیکھا جس میں اُس کازندہ بچ جانا اُس کی خوش قسمتی سے ذیادہ گھوڑے کی عقلمندی سے ہی ممکن ہوا۔ حُسن پرست اتنا کہ ہر عورت میں حُسن تلاش کر لیا کرتا تھا اور پھر بہت کم وقت میں ہی سچی محبت میں بھی مبتلا ہو جاتا ۔ ان گنت زُلفوں کا اسیر ہوا ، بیسیوں سے اظہارِ محبت بھی کیا لیکن یہ جذبات کہیں مستجاب نہ ہوئے۔ لیزلی محبت میں ناکامی اور رُسوائی کا اتنا عادی ہو چکا تھا کہ اسی میں اسے لطف آنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ درجنوں یک طرفہ محبتوں کے بعد جب ایک دم اُسکی ایک پہلی پہلی محبوبہ شریکِ حیات بن کر آدھمکی تو لیزلی کو خوشی سے ذیادہ مایوسی ہوئی۔ خیر یہ بعد کی بات ہے۔

پلٹن کی کینٹین اور گیریژن کی لائبریری میں میں نے لیزلی کے ساتھ بہت وقت گزارا۔ اس نے دُنیا کی ہر غیر اہم چیز کا مطالعہ کررکھا ہوگا اور وہ ہر کتاب میں سے غیر اہم معلومات کے مختصر شذرے (نوٹ) بناتا تھا۔ شائد وہ ایسا بھی انفرادیت کے شوق میں کرتا تھالیکن جو بھی وجہ ہو، اس کی دلچسپیاں نہ صرف سب سے مختلف تھیں بلکہ باہم متضاد بھی تھیں۔ میں نے ایک دفعہ اُسے لڑاکا طیاروں کے بارے میں لکھی ایک ہینڈ بُک کے مطالعے میں گم سُم پایا جبکہ پسِ منظر میں اس نے موسیقی بھی چلا رکھی تھی، وہ بھی سعدی شیرازی کی ایک غزل۔ ہوابازی کا شدید شوق تھا اُسے لیکن ایک سبک پروازی (گلائیڈنگ) کے کلب کا چند روز ممبر ہی رہ سکا اور اس شوق میں ایک بار زخمی بھی ہوا اور کئی دن شوقیہ لنگڑا کر چلتا رہا۔ شعر اور افسانوی ادب کا شوق پالتے پالتے اُسے کُتے پالنے کا شوق بھی چڑھا۔ پُرانی موٹر سائیکلوں کا جو سودا سوار ہوا تو وہ اس کی دائمی تنگدستی کی وجہ سے قدم بھر بھی نہ چل سکا۔ اسی تلون نے اُسے کسی ہُنر میں کمال حاصل کرنے دیا نہ اپنے پیشے میں کامیاب ہونے دیا۔ فوج میں بھی ایوی ایشن کور سے نکال باہر کر کے ہمارے یونٹ میں بھیجا گیا تھا۔
لیزلی پلٹن میں ایک حرفِ غلط تھا ، لہٰذہ جب بھی فارمیشن نے کسی ناگوار فریضے کے لئے یونٹ سے سپاہی مانگے ، پہلے اُسی کو پیش کیا گیا۔ کچھ وہ ‘قسمت کا دھنی’ بھی تھا۔ جرنیل کے معائنے کے دوران اگر پوری گارڈ آف آنر میں سلامی کے تھپییڑے سے کسی ایک سپاہی کی رائفل سے میگزین نکل کر گرنا ہوتی تو وہ علی حیات ہی کی رائفل ہوتی۔ سی او صاحب جس دن غُصے میں راہ چلتے کسی سپاہی کا ٹرن آؤٹ چیک کرنے کیلئے رُک جاتے تو پاس سے گزرنے والا سپاہی علی حیات ہی ہوتا۔ اس کے ٹرن آؤٹ میں نہ چاہتے ہوئے بھی کئی قابلِ دست اندازیِ صاحب جرائم نکل آتے مثلاً اُسکی انتہائی خوبصورتی سے سر پر جمائی گئی ٹوپی اکثر بیج سے محروم ہوتی۔ اُجلی وردی لیزلی خان کو بہت سجتی تھی لیکن یہ حادثہ کم ہی ہوتا ۔یعنی یہ کہ وہ اُجلی وردی پہنے۔ چونکہ وہ مختلف رجمنٹوں کی تواریخ پڑھتا رہتا تھا لہٰذا ان میں سے کسی نہ کسی کا امتیازی نشان بھی شوقیہ اپنی وردی پہ لگا ہی لیتا جس پر سی او صاحب کا خون کھولنا فطری امر تھا۔ فوجی بوٹ پالش کرنے کے فن میں وہ طاق تھا (جو اُس نے بقول اُس کے اپنے، دس بلوچ رجمنٹ کے ایک اُستاد سے سیکھا تھا) لیکن اس فن کے اظہار کیلئے اُس نے کم کم ہی کبھی وقت نکالا۔بالوں کی فوجی قطع کے سوا اپنے حُلیے میں کسی چیز کو وہ سنجیدہ نہیں لیتا تھا جبکہ چیک کرنے والوں کو یہ چیزیں کافی ‘سنجیدہ’ کردیتی تھیں۔ لیزلی حیات خاں کا قول تھا کہ جس سپاہی کو ہر سال میں ایک دفع پٹھوُ اور نوکری میں ایک دفعہ کوارٹر گارڈ کی قید نہیں ہوئی، وہ نامکمل سپاہی ہے۔ اس لحاظ سے وہی ہمارے یونٹ کا واحد مکمل سپاہی تھا۔
جنرل کیانی کی کمانداری کے زمانے میں بطورِ افسر فوج میں کمیشن پانے کی عمر کی بالائی حد میں ہم سپاہیوں کیلئے نرمی کر دی گئی تو علی حیات کوگویا اپنا مقصدِ حیات مل گیا، سو اُس نے بھی درخواست دے دی۔ بصد مشکل انٹر سروسز سلیکشن بورڈ کوہاٹ تک پہنچا۔ ان دنوں مجھے علی حیات کی خدا پرستی کا پتہ چلا کہ وہ بندے اور رب کے درمیان دُعا کے رشتے پر کتنا یقین رکھتا ہے۔ سلیکشن بورڈ کے امتحان میں بیٹھنے اور مترد ہونے کے بعد بھی اُس کی نمازوں کا خشوع و خضوع اور دعاؤں کی شدت ویسی ہی رہی۔ تاہم جب دوسری اور آخری بار اسے اس امتحان میں بیٹھنے کا موقع ملا تو یہ زہدوورع کی شدت کم تو نہ ہوئی تھی البتہ ظاہر نہ ہوتی تھی ۔ اب کے بار میں بھی اُس کے ہمراہ اُمیدوار تھا اور حُسنِ اتفاق کہ امتحان کے تمام مراحل میں ہم ایک ہی گروہ میں رہے۔ گروہی مباحثے کے وقت نگرانی اور نفسیاتی امتحان پر مامور کپتان صاحبہ کے حُسن و جمال کو دیکھ کر لیزلی خاں صاحب کا دل پچھاڑیں کھانے لگا تو مباحثے مباحثے میں خان موصوف اُن سادہ کپڑوں میں ملبوس کپتان صاحبہ کی نذر غالؔب کا یہ شعر کر کے ہی اُٹھے:

چھوڑی اسد نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
سائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے!

کپتان صاحبہ نے دلنواز سی مسکراہٹ کے ساتھ نظریں جُھکا لیں اور ممتحن والی فائل میں کچھ لکھا۔لیزلی کے خیال میں شعر انہیں پسند آیا تھا، وہی ‘نوٹ’ کررہی تھیں۔

لیزلی حیات خاں حتمی طور پر کمیشن کیلئے مسترد ہونے کی خبر سُن کر بے حد دلگرفتہ ہوا۔ کئی دن تک تو اس کی نمازوں میں خشوع و خضوع بڑھ گیا۔ اور مزاج میں رقت سی آگئی، تصوف کی طرف میلان بڑھ گیا۔ مجھے تو یوں لگا کہ تیاگی ہی ہو جائے گا لیکن یہ لہر بھی آکے چلی ہی گئی۔ پلٹن کی زندگی میں اب وہ گھٹن محسوس کرنے لگا تھا۔ میجر شجاعت علی شاہ صاحب کا تبادلہ آئی ایس پی آر کے کسی ذیلی دفتر میں ہوا تو اسے بھی ساتھ لے گئے لیکن وہاں بھی اُس کے غیر مستقل مزاج میں پُر سُکون رہنا مقدور نہ تھا۔ کمیشن کے بورڈ سے مسترد ہونے کے بعد اُسے نوعمر لفٹینوں اور کپتانوں کی ہر بات ڈانٹ ڈپٹ لگنے لگی اور میجروں ،کرنیلوں کی نرم گوئی بھی ترحم نظر آنے لگی جس پہ اُسےہمیشہ سے ذیادہ توہین محسوس ہونا فطری امر تھا۔اب اُسے بارک کی صفائی اور گھاس کی کھدائی، جنگی قیدیوں کی سی مشقت نظر آتی۔ سچ تو یہ ہے کہ افسروں سے ذیادہ خود سپاہی دوستوں نے اُس کی قدم قدم پہ جو گت بنائی، وہ ذیادہ تکلیف دہ تھی۔ بے توقیری کی انتہا تب ہوئی جب لوگوں نے اُسے طنزیہ کیپٹن لیزلی کہنا شروع کر دیا اور یہ لقب آج تک اُس کے نام کے ساتھ چپکا ہے۔ البتہ آئی ایس پی آر میں تقرری کے دوران لیزلی نے سنٹرل کمانڈ لائبریری سے کافی استفادہ کیا کہ اس نوکری میں مطالعے کی فرصت ذیادہ تھی۔ اب کی بار اشتراکیت، مزاحمتی ادب، مذہب اور الحاد کا مطالعہ بھی اُس نے بالالتزام کیا۔ اکثر ملاقات ہوتی تو بتاتا کہ فلاں کتاب پڑھی تھی، آج کل غور و فکر کررہا ہوں۔ پڑھنا بھی اس کا کیا تھا، خُدا جانے کتنی کتابیں تو ابتدائی اور وسطی ابواب میں ہی اُکتا کر چھوڑ دیں البتہ اسے کتب اور مصنفوں کے نام خوب یاد رہتے تھے جن کا رعب گفتگو میں جھاڑنے کا فن ا س پر ختم تھا۔اسے فوج کی گذشتہ ہسٹری کے چیدہ چیدہ گوشوں کے علم کا استعمال کر کے بوڑھے کرنیلوں کو متاثر کرنے اور اُن سے دوستیاں گانٹھنے کا ڈھنگ بھی خوب آتا تھا۔ تین سے چار ایسے پُرانے کرنیلوں کے نام (جن میں ایک انگریز پیرِ فرتوت بھی شامل ہیں)تو میں بھی جانتا ہوں جو اس کے نام نہاد ’علم و دانش‘ کی وجہ سے اس پر خُوب مہربان تھے۔ پلٹن کا نائی اُسے روزانہ آتے جاتے ہوئے مودب ہو کر سلیوٹ کرتا تھا اور تین سال اس ’پروٹوکول‘ کے عوض لیزلی کی جیب سے چائے پیتا رہا۔

آخری بار باوردی ملاقات ہوئی تو تب بھی وہ کافی بیزار اور کمیشن پانے میں ناکامی پر ازحد ملول تھا۔
“لونڈے! میں فوج چھوڑنے لگا ہوں! یہاں اب میرا مستقبل نہیں ہے!” وہ بولا تو مجھے حیرت سی ہوئی۔
“لیکن تُم تو سرتاپا فوجی کلچر میں گندھے ہو لیزلی! بے ترتیب اور بددماغ ہونا کوئی بڑی خامی نہیں لیکن لیزلی تُم ہو اسی ماحول کے آدمی!” میں حیران تھا۔ مجھے یاد آرہا تھا کہ لیزلی خان اپنی فوجی زندگی میں شاذونادر ہی سِوِل کپڑوں میں نظر آتا تھا۔

“یار سِوِل زندگی میں کیا کرو گے؟ تُم ایک مِس فِٹ اور ناکام آدمی ہو! یہ فوجی کلچر ہی ہے جہاں چھوٹے ذہنوں اور کم قابلیت کے لوگوں کو بھی اپنے تئیں سُپر مین سمجھنے کے ہزار بہانے ہاتھ آجاتے ہیں۔ سویلین زندگی بڑی بے رحم ہے، وہاں سخت مقابلے ہیں، کہیں منافقتیں ہیں اور کہیں چالاکیاں ہیں، تمہارا گاؤدی سا فوجی ذہن نہیں سمجھ پائے گا کچھ بھی۔۔۔”

میں دیر تک اسےسمجھاتا رہا کہ اپنے اس رادے سے باز آجائے لیکن لیزلی نہ مانا۔ وہ خود احتسابی کا دل و دماغ تو رکھتا تھا لیکن خود کو بدلنے کے بجائے اپنے ماحول سے اُلجھنے کی بُری عادت نے اسے ایک اڑیل ٹٹُو بنا دیا تھا۔ فقط اس لئے کہ اس کے نزدیک اس اڑیل پنے کو فوجی اوصاف میں ایک اونچامقام حاصل تھا۔

“میں نے اس ماحول سے جو احساسِ کمتری پانا تھا، پالیا! پاگل ہو کے تو جارہا ہوں یہاں سے! یہاں میں اُن، بقولِ تمہارے، چھوٹے ذہنوں اور کمتر قابلیت کے لوگوں سے بھی مات کھا چکا ہوں، پیچھے رہ چکا ہوں” لیزلی نے اپنے شانے پر انگلی رکھی جو کہ لفٹینی نہ ملنے کا اشارا تھا اور پھر بازو پہ انگوٹھا رکھا تو میں نے تاڑا کہ وہ لانس نائیک کا عارضی عہدہ بھی اس کے بازوُ سے اُتر چکا تھا۔

“اور ہاں! یہ وہ ابا جان اور سر فرینک میسروی کے زمانے کی فوج نہیں ہے جس پر ماضی کی گرد نے اصل خاکی رنگ چڑھا دیا ہے!”
وہ دیر تک اپنا غصہ نکالتا رہا۔ ہم ایک ڈیڑھ سال بعد مل رہے تھے۔ اِس یونٹ میں آتے ہی ہمارے ’کیپٹن لیزلی‘ کا عارضی لانس نائیک کا عہدہ اتار دیا گیا تھا جبکہ مستقل لانس نائیک بننے کیلئے اُس کا مطلوبہ میعار پورا نہ تھا۔ وہ پھر سے سپاہی تھا۔ ہم گیریژن کے گالف کورس کے ایک کونے میں گھاس پر بیٹھے تھے۔ کورس کسی وجہ سے استعمال میں نہ تھا اور دُور دُور تک کوئی شخص موجود نہ تھا۔ لیزلی نے اپنے فوجی جیکٹ کی جیب سے گھٹیا وہسکی کی ایک پائنٹ نکالی او ر دو گھونٹ لے کر ڈھکن بند کردیا۔

“لونڈے! تُو نہیں جانتا کہ میں زندگی میں دو چیزوں پر بھروسہ کر کے سخت ناکام ہوا ہوں!” اس نے بوتل واپس چھپاتے ہوئے کہا۔ یہ تبدیلی اس میں اب واقع ہوئی تھی، پہلے نہ تھی۔

“ایک تو دعاؤں پہ! یعنی جب ناکامی سامنے نظر آرہی ہو یا کامیابی کی کوئی اُمید نہ ہو، تب دُعا میں گر جانا۔۔۔ حالانکہ یہی وقت آخری کوشش کا ہوتا ہے!” شائد لیزلی اب الحاد کی طرف مائل ہو گیا تھا۔
“دوسرا اپنے خوابوں پہ!!!”میں چونکا۔ وہ تو خوابوں میں زندہ رہا کرتا تھا !

“خواب سوئے ہوئے آدمی کا بے لگام تخیل ہوتے ہیں، اُن کے پیچھے بھاگنا حماقت ہے۔ میں ایک عظیم الشان فوجی افسر بنوں گا، یہ میرا خواب تھا، یہ میرا خیال نہیں تھا شائد۔یہ میری قابلیتوں کی روشنی میں فطرت کا منشأ نہیں تھا، یہ کوئی امکان نہیں تھا۔ وہ جو خواب مارٹن لوتھر کنگ کا تھا یا تمہارے اقبال کا، وہ خواب نہیں تھے، وہ خیال تھے، وہ ارادے تھے، سمجھے ناں؟”
میں پی کر باتیں کرنے والوں پہ یقین نہیں کرتا، کیا معلوم لیزلی ٹھیک کہہ رہا تھا۔

“لونڈے! خوابوں کے پیچھے مت بھاگنا کبھی! بالخصوص جن خوابوں کا تعلق رُومان سے ہو۔ اِس دور میں شویلری یعنی شہسواری، حُسن پرستی، نام و نسب، آن بان، خودداری، نجابت اور سپاہیانہ نخوت، یہ سب چیزیں افسانوی ہیں اور ایک جگہ پر اکٹھی نہیں ہو سکتیں! سپہ گری کا پیشہ ان اوصاف سے لازم و ملزوم نہیں بھی ہوتا، بلکہ کوئی بھی پیشہ!” پھر وہ دیر تک افسوس کرتا رہا کہ وہ لڑکپنے کے رومان کی انگلی پکڑ کر کیوں فوج میں چلا آیا تھا اور اپنی اُن خوبیوں کا ماتم کرتا رہا جو اس تمام عرصے کی سختی، ناکامیوں اور بے توقیری میں اس کی ذات میں پیدا نہ ہو سکیں۔ یا پھر گُھٹ کے مر گئیں۔

اس ملاقات کے بعد ہم ایک عرصے تک نہ مل سکے۔ خُدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ مجھے ایک کورٹ مارشل کا سامنا کر کے ہمیشہ کیلئے گھر لوٹنا پڑا تو انہی دنوں لیزلی خاں بھی با عزت طور پر ڈسچارج لے کر تیس برس کی عمر میں ہی فوج چھوڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ اب وہ اکثر میرے گاؤں سے گزرتا ہے تو دیر تک گاؤں کی سڑک کے کنارے بیٹھا مجھ سے گپیں ہانکتا ہے اور زندگی، خُدا، مذہب ، حُسن و عشق اور کائنات کے بارے میں کئی اُلٹے سیدھے نظریات پیش کرتا رہتا ہے جو کہ کچھ نہ کچھ درست بھی ہوں گے لیکن بادی النظر میں مجھے اُن سے اُس کے شوقِ مطالعہ کے تگڑے سے تاثر کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اب اس کے ہاتھ میں کبھی کبھار کتاب بھی ہوا کرتی ہے لیکن ذیادہ تر سودے سلف کے تھیلے، نوکری کے اشتہاروں والے اخبار، دواؤں کے لفافے یا لکڑی لوہے کے کوئی کل پُرزے شہر سے گھر لاتے ہوئے اس کے پاس ہوتے ہیں۔

لیزلی نے فوج سے حاصل ہونے والی تھوڑی سی رقم اپنی پوسٹ گریجوایٹ ڈگری پہ لگا دی (اگرچہ ڈگری کے دوران وہ چند روز ہی کالج گیا) باقی چند پیسوں سے اپنی منگنی کے جوڑے، دُلہن کے امام ضامن، مٹھائی کے ڈبے اور ایک تحفے کا انتظام کیا۔ سِوِل زندگی میں لیزلی نے کئی نوکریوں کیلئے درخواستیں دیں لیکن اکثر جگہوں پر عمر کی بالائی حد عبور کر جانے کی وجہ سے مسترد ہوا یا پھر متعلقہ تجربہ نہ ہونے کی بنأ پر۔ فوجی زندگی کا تجربہ اکثر جگہوں پر غیر متعلقہ تجربہ تھا۔ دو ایک جگہوں پر نوکری تو مل گئی لیکن لیزلی وہاں اپنی جگہ نہ بنا سکا جس کی وجہ یہ تھی کہ اُس نے یہ کام سیکھا ہی نہیں تھا۔ فوری فیصلہ کرنے کی اہلیت اور حُکم چلانے کا اعتماد اُس کے اندر کے لانس نائیک نے کبھی اُس میں پیدا ہی نہ ہونے دیا۔ دوسری وجہ سویلین زندگی کے تیز رفتار کلچر کو اپنانے کے بجائے اپنے جامد فوجی کلچر پہ قائم رہنا۔کچھ اس کے بخت نے بھی ایسا جمود پکڑا کہ دو چار سال نیشنل گارڈز میں بطورِ رضاکار افسر کمیشن پانے کی کوششوں میں بھی مارا مارا پھرا لیکن سابق فوجی ہونے اور اضافی تعلیمی قابلیت کے باوجود فوج نے گویا اُسے پہچاننے سےہی انکار کر دیا، گو اس میں کوئی قانون بھی مانع نہ تھا۔ البتہ ایک دفعہ جب وردی اور چوڑے بیلٹ کی یاد نے بے قرار کیا تو لاہور چھاؤنی جا کر نیشنل گارڈز ہی کی ایک مجاہد پلٹن میں سپاہی بھرتی ہوگیا۔ ایجوٹنٹ نے کہا کہ دو ماہ کی تربیت لینا ہوگی، تو لیزلی خاں کی فوجی انا جاگ اُٹھی۔

“ان کم سِن رنگروٹوں کے ساتھ مجھے دو ماہ ٹریننگ کروانے کا مطلب ہے کہ آپ میری دس سالہ فوجی خدمات کو خاطر میں ہی نہیں لا رہے؟؟؟” لیزلی کے اس جواب پر ایجوٹنٹ نے اسے فوراً چھاؤنی سے دفع ہو جانے کا حُکم دے دیا۔ لیزلی سے اس واقعے کے بعد بھی سویلین زندگی میں جی لگانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ ہو سکی۔

آجکل کچھ یوں ہے کہ فوج کے دنوں میں تنخواہ لیتے ہوئے پیسے گِن کر پورے کرنے کو غیر فوجی حرکت سمجھنے والا لیزلی خان اب جہاں بھی نوکری کرتا ہے، ایک ایک روپئے پر جان دیتا ہے (لیکن روپیہ بچانا اُسے آج بھی نہیں آتا)، فوج کی وردی میں اپنی ہر غلطی کا اعتراف کرکے پٹھوُ اور کوارٹر گارڈ کی سزا خوشی خوشی لینے والا لیزلی خان اب نوکری بچانے کیلئے طرح طرح کے جھوٹ بھی بکتا ہے (لیکن پھر بھی ماتحتی ہی جھیلتا ہے) اور فوجی وردی میں خواتین کے احترام اور تحفظ کو مردانگی کی اولین شرط سمجھنے والا لیزلی خان اب اپنی بیوی کو دو وقت کی روٹی بھی اُس توقیر کے ساتھ مہیّا نہیں کرپاتا جس لاڈ سے وہ مائیکے میں کھاتی تھی ۔ علی حیات خان زندگی کی دوڑ میں اپنے فوجی اور سویلین، دونوں طرح کے ہم عمروں سے پیچھے رہ چکا ہے اور اس وجہ سے ‘سیلف پِٹی’ کا جو عارضہ اُسے لاحق ہوا ہے وہ ایک تعلیم یافتہ آدمی کی شخصیت کا سب سے بڑا ناسور ہے۔۔۔ اور رائیگانی کے احساس سے بُرا احساس کوئی نہیں ہے۔

ماضی میں فوجی کلچر کو اپنا مذہب گرداننے والا لیزلی حیات خان اب گاؤں کے نو خیز جوانوں کو نصیحت کرتا ہے:

“لونڈو!! اگر قابل اور لائق لوگ ہو اور دماغ کی بتی روشن ہے اور طبیعت میں تلون، تو اپنی جوانی فوج کو نہ دینا! لڑنے والے لوگ مستقل مزاج لیکن نیم خواندہ ہوتے ہیں۔ تُم کام کے لوگ بنو! اِس قوم کو قابل اُستادوں، شریف ڈاکٹروں، سچے صحافیوں اور دردِ دل رکھنے والے سماجی کارکنوں کی ضرورت سپاہیوں کی نسبت کہیں ذیادہ ہے!!!”

یہ کہنے کے بعد وہ گھر آتا ہے، بکسے سے اپنی وردی نکالتا ہے اور اپنے کمرے میں بند، اُسے پہن کر آئینے کے سامنے کھڑا دیر تک خود سے انگریزی میں باتیں کرتا رہتا ہے جنہیں آج تک کسی نے نہیں سُنا۔۔۔

Categories
فکشن

نام بختاور سنگھ

روز کی طرح آج بھی ماسٹر بدری ناتھ صاحب تشنہ کی بیٹھک پر ان کے شاگرد اور دیگر اہلِ محلہ جمع تھے اوران کے کلامِ تازہ اور حُقے سے لُطف اندوز ہو رہے تھے کہ دارا پٹھان گانجا فروش آدھمکا؛

‘‘اُستاد صاحب! سُنتے ہو؟ آج آپ کے شاگرد خسرو طلعت کی سگائی کی رسم میں اُن کے سُسر اورمیر مُلا میں خوب ٹھنی، تلواریں کھنچ گئیں، خیر گزری کہ چلی نہیں’’

‘‘کیوں؟ کس لئے بچے کی سگائی بے مزہ کر دی میر مُلا نے؟’’

‘‘میر مُلا نے کہاں بد مزہ کی، میرزا عماد الدین نے میر خسرو سے اپنی بیٹی بیاہنے سے ہی انکار کر دیا ہے’’

‘‘جنم جنم کے کم بخت، نام بختاور سنگھ۔۔۔ بے چارہ میر خُسرو طلعت۔۔۔’’

اُستاد صاحب نے کہا تو سامعین مسکرائے۔

‘‘یہ صاحبزادہ جس روز مدرسے داخل ہوا تھا، اس روز مدرسے کی چھت گر گئی تھی’’

اُستاد نے اپنا ٹیڑھا ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا تو سامعین محفل نے یوں بے ساختہ قہقہہ لگایا گویا یہ واقعہ بھی پہلی بار سُن رہے ہوں۔ میر خُسرو کا تو نام ہی بختاور سنگھ پڑگیا، بعد میں فقط ‘بختو’ رہ گئے۔

میر صاحب دلی کے محلہ سیدواڑہ میں جمعدار میر ابوالمعالی مہابت جنگ کے ہاں پیدا ہوئے جوکہ محبوب علی خاں نظام دکن کے توپ خانے میں بڑے یگانہ روزگار اور نام ورتوپچی تھے۔ جمعدار صاحب ان کے اوائلِ عمر ہی میں وفات پاگئے تو میر بختو اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی ننھیال آرہے جو کہ دریبے میں تھی۔ یہاں ماموں میر مُلا کے ہاں پروان چڑھے جو کہ اپنے زہد و تقویٰ ، نجابت اور بددماغی کی وجہ سے بڑے معزز تھے۔ میر بختُو مدرسے کی عُمر کو پہنچے تو دریبے کے سب سے اچھے مدرسے میں داخل کروائے گئے لیکن جس روز مدرسے میں قدم رکھا، اتفاق سے مدرسے کی چھت آن گری۔ اسے بد شگونی قرار دے کر دوسرے مدرسے میں جابٹھایا تو سؤ اتفاق کہ پہلے ہی روز اس میں وہ آگ لگی کہ مدرسہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ کسی دشمن نے کہ دیا کہ میر خسرو طلعت اپنے نام کے بر عکس واقع ہوئے ہیں، میرصاحب کی ماں نے بات دل پر لے لی اور پھر انہیں کبھی مدرسے نہ بھیجا، لیکن پڑھی لکھی خاتون تھیں، گھر میں مدرسے سے اچھی تعلیم دی۔

میر صاحب کو بچپن سے ایک ہی سودا سوار تھا ۔ اقارب سے اپنے والد مرحوم کے کمال و ہنر کا تو سُن رکھا تھا، والد سے انس بھی انہیں بے حد تھا ، پھر پیشۂ آبأ کسے نہیں بھاتا، ٹھان لی کہ والد معظم جمعدار میر ابوالمعالی کے سے اوجِ کمال کو پہنچیں گے۔ بچپن میں اپنے نانا کی جریب تھامے ، بندوق بنائے اپنے ہم سنوں کو ڈراتے پھرتے تھے اور لڑکپن میں تو لکڑی کی ایسی کھلونا توپ بنائی کہ اصل دِکھتی تھی جسے میِر مُلا سمیت سبھی نے بے حد سراہا اوررسالدار تفضل حسین خاں بہادر نے تو ایک رُپیہ انعام بھی کیا۔ سولہ سال سے کچھ اوپر کے ہوئے تو میر صاحب کی منگنی قرار پائی لیکن شومئی قسمت کہ منگنی کی شب لڑکی کے سرسام کا ایسا تھپییڑا لگا کہ جاں بر نہ ہو سکی۔ ایک سال بعد کہیں میرزا عماد الدین کی صاحب زادی سے نسبت طے پائی لیکن کسی دُشمن نے وہ کان بھرے کہ وہمی میرزا عمادالدین نے عین موقع پر میر صاحب کی کُنڈلی نکلوانے کا حُکم دے دیا۔ میر مُلا اس ہندوانہ چلن پر سخت سیخ پأ ہوئے اور شدید بد مزگی ہو گئی۔ قصہ مختصر میرزا عماد نے انکار کر دیا اور میر بختو کی والدہ نے وہ صدمہ دل پر لیا کہ چند ہی ماہ میں عدم سدھار گئیں۔

اب میر بختو کی زندگی کو ایک تکلیف دہ جمود کا سامنا تھا ، کوئی کام کرسکتے نہ کہیں دل لگتا۔ میر مُلا سمیت کئی رشتہ داروں کے مزاج بدل گئے اور میر صاحب تنہائی کے گرداب میں پھنس گئے۔ غم غلط کرنے کو ماسٹر بدری ناتھ صاحب المتخلص تشنہ کے ہاں شاعری میں شاگرد ہو گئے۔ طبع بھی موزں تھی لیکن شعر نہ کہہ سکے۔ خُدا اپنے بے یارومونس لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ قدرت نے رسالدار تفضل حسین خاں بہادر کی لڑکی رخشندہ بانو کے دل میں میر صاحب کے لئے مہرومحبت کے لالہ و گل اُگا دیئے۔ اگرچہ میر صاحب واجبی سی شکل و صورت رکھتے تھے، ننھالیوں کی طرح لمبے اور گورے چٹے لیکن دُبلے پتلے سے تھے۔ ہنستے تو گالوں پر دو لمبی جھریاں پڑ جاتیں جنہیں وہ نہرِ ذقن کہہ کر خوش ہو لیتے۔ رخشندہ بانو نے ان کے ولولوں اور مزاج کی گمشدہ رعنائیوں کو ازسرِ نو زندہ کردیا۔ تب میر صاحب نے پہلی بار کوئی ایسی غزل کہی کہ ماسٹر صاحب سُن کر پھڑک اُٹھے ، فرمایا:

‘‘دیکھو اب رعنائیِ خیال تمہارے کلام میں عود کر آئی ہے، کس شخص کا تصور در آیا ہے؟’’

میر مُسکرائے؛ ‘‘بس اُستادِ معظم، ایک بنتِ حوا ہے جو ابنِ مریم بن کر آئی ہے’’

ماسٹر جی بھی ہنس دیئے کہ لونڈا صنائع بھی سیکھنے برتنے لگا ہے۔ اب تک میر صاحب کا دل کاروبارِ حیات سے ایسا اُٹھ چکا تھا کہ انہیں اپنا سپہ گری کا شوق بھی پہلے کی طرح بے چین نہ کرتا تھا لیکن اس ‘رسالدار زادی’ نے جہاں میر صاحب کو نئی زندگی دی ، وہاںان کے شوق کو بھی زندہ کر دیا ۔ اُسی کے کہنے پر ہی میر صاحب اپنا شجرۂ نسب اور والد کے کاغذات لے کر دکن کے انگریز کپتان صاحب سے بھرتی کی سفارش حاصل کرنے روانہ ہوئے جو کہ میر ابوالمعالی کے واقف کار تھے۔ قدرت کو اب کچھ اور ہی منظور تھا کہ جس روز میر صاحب دکن پہنچے، کپتان برنابی صاحب بہادر ملکِ سندھ کی کسی ولائیت کو جا چکے تھے۔ میر دلگیر واپس آئے اور بہت آزردہ ہوئے۔ رخشندہ بانو نے حوصلہ افزائی کا خط بھیجا اوران سے وعدہ لیا کہ اب ہرگز رنجیدہ نہ ہوں گے، اور اب کے دلی چھوڑیں گے تو پھر میر ابوالمعالی مرحوم کی طرح نامور سپاہی بن کر لوٹیں گے، رخشندہ بانو عمر بھر ان کا انتظار کرے گی۔

کئی دن گزرے تھے کہ میر صاحب گھر کے چھجے میں بیٹھے ، قلم تھامے، کاغذ پسارے، غزل کہنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن بات مطلع سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی؛

ہرروز سنور بن کے ترا یاں سے گزرنا
ٹُک دیکھ ہمارا بھی کبھو جاں سے گزرنا

بہت دیر سوچا کئے لیکن جب کچھ نہ بن پڑا تو ناگواری سے کاغذ مروڑ ا اور چھجے سے نیچے پھینک دیا۔ اتفاق کہیئے یا میر صاحب کی بد بختی، کہ گلی میں ماسٹر بدری ناتھ کی لڑکی کاویری اپنی ہمجولیوں کے ساتھ حسبِ معمول بن ٹھن کر پوجا پاٹ کیلئے جا رہی تھی ۔ مطلع کاویری کے سامنے آ کر گرا تو اُس نے اُٹھا کر پڑھا، انہی قدموں پر واپس لوٹی اور مطلع باپ کے حوالے کردیا اور لگی پھسر پھسررونے۔ کاویری شریف لڑکی تھی اور لاڈلی بھی۔ ماسٹر صاحب تو وہ آگ بگولا ہوئے کہ لٹھ سنبھالی اور آدھمکے میر صاحب کے گھر۔ نیچے بُلوا کر میر بختو کی وہ خبر لی کہ کھال اُدھیڑ کر رکھ دی۔ میر صاحب حماقت کی حد تک نیازمند تھے، اپنی صفائی بھی بخوبی پیش نہ کر سکے ، شکا یت میر مُلا تک پہنچی تو آؤ دیکھا نہ تاؤ، گویا پہلے سے ہی عذر کی تلاش میں تھے، فوراً میر بختو کو گھر سے نکال دیا۔

گھنشام بابو میر صاحب کا بچپن کا یار تھا، انگریزی جانتا تھا جس وجہ سے ‘بابُو ’ مشہور تھا اور لاہور میں نوکر تھا۔ میر صاحب کی بے دخلی کی خبر سُنی تو گھنشام بابو نے انہیں ساتھ لیا اور لاہور روانہ ہو گئے۔ پورے سفر میں میر صاحب کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے رہے، جلا وطنی کے دکھ میں نہیں بلکہ اُس آخری پیغام پر جو رخشندہ بانو نے یہ خبر سُنتے ہی بھیجا تھا:

‘خُسرو طلعت! آپ بد بخت تو مشہور تھے ہی، لیکن بد نیت بھی ہیں، اس کی ہمیں خبر نہ تھی۔ شائد کاویری جی ہی آپ کے لائق تھیں،یہ باندی نہیں۔۔۔’

گھنشام بابو نے بہتیرا سمجھایا ، بہلانے کے حیلے کئے لیکن میر صاحب بجائے سلجھنے کے، اُلجھتے ہی جا رہے تھے۔ بات شکررنجی تک پہنچی تو لاہور سے پہلے ہی کسی ہالٹ پر ریل سے اُتر گئے۔ مغرب سے آنے والی کیس گاڑی میں سوار ہو ئے اور مُلکِ حیدرآباد کا قصد کیا۔حیدر آباد میں ایک سرائے میں آٹھہرے اور کچھ دنوں بعد یہاں سے میر صاحب نے گھنشام بابو کو خط لکھا اور معافی مانگی کہ ناحق دوست سے خفا ہوا۔ گھنشام بابو کا جواب آیا کہ رخشندہ بانو کے بیاہ کی خبریں ہیں اور وہ ہاپُڑ جانے والی ہے۔ انہیں بجا طور پر افسوس تھا کہ رخشندہ بانو نے انہیں کس عجلت سے ہرجائی سمجھ لیا تھا۔میر صاحب اور دلگرفتہ ہوئے۔

وہ حیدرآباد میں جس مہمان سرائے کے برآمدے میں پناہ گزین تھے، وہاں کسی نے انہیں بتایا کہ اورنگ آباد میں کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر نے چند ماہ کیلئےتو پ خانے کی تربیت کی پلٹن کھڑی کی ہے اور رنگروٹ تیار کرکے ریاستی توپ خانوں میں بھیجیں گے۔ میر صاحب کو امید کی ایک کرن نظر آ ئی کہ شائد بھرتی کی کوئی راہ نکل آئے کیونکہ صاحب موصوف میر ابوالمعالی کے رفیق کار بھی تھے اور دوست دار بھی۔ میر ابوالمعالی اس دور کے توپ خانہ جمعدار تھے جب دیسی سپاہیوں میں کم ہی لوگ توپ خانے کے ماہر تھے اور اس صیغہ پر انگریز کا براہِ راست اختیار تھا۔ دراصل ۱۸۵۷ کے بعد دیسی سپاہیوں اور بالخصوص مسلمانوں کو حتی الوسع اس صیغے سے دور رکھا گیا تھا۔ کپتان برنابی اور میر ابوالمعالی میں خوب گاڑھی چھنتی تھی اور باہم تحائف کا تبادلہ بھی رہتا تھا۔ کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر شعرو سخن کا ذوق بھی رکھتے تھے اور توپ خانہ سے انہیں عشق تھا۔ ہندوستانیوں سے کمال شفقت سے پیش آتے تھے لیکن انگریزوں میں غیر مقبول ہی رہے۔ سارجنٹ سے صاحب بنے تھے اور حال ہی میں فوجی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے۔ اورنگ آباد میں پلٹن کھڑی کرنے کا مقصد صرف اپنا دل لگائے رکھنا اور فراغت کا مشغلہ بنائے رکھنا تھا۔ ان کے ہاں اولاد نہ تھی لیکن میم صاحب اس ڈھلتی عمر میں بھی بے حد محبت روا رکھتی تھیں۔

میر صاحب کا بچپن کا شوق ایک بار پھر سے جوان ہو گیا اور وہ کپتان برنابی صاحب سے امیدیں وابستہ کئے اورنگ آباد روانہ ہو گئے۔ اُمید نے وہ سرشاری بخشی کہ گزشتہ تلخیاں بھی وقتی طور پر ذہن سے اُتر گئیں۔ اورنگ آباد پہنچ کر پہلے اُستاد چُغری خاں سے مُلاقات ہوئی جو میر صاحب کے والد مرحوم کے ہم پیشہ و ہم جلیس تھے۔ اُستاد چُغری خاں جو آج کل کپتان برنابی صاحب کے ایجٹن تھے، میر صاحب کو کپتان صاحب کے بنگلے پر لے گئے جہاں صاحب بہادر اور میم صاحب باغیچے میں بیٹھے شطرنج کھیل رہے تھے۔ اُستاد چغری خاں نے کپتان صاحب سے میر صاحب کا تعارف کرایا تو کپتان صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور میر صاحب کو گلےلگا لیا۔ چند جملے انگریزی میں اپنی میم صاحب کے گوش گزار کر کے دیر تک میر صاحب سے باتیں کرتے رہے۔

‘‘خُسرو طلعت ! تُم پیدا ہوئے تھے، تب ہم لفٹین تھے، اب تُم نوجوان۔۔۔ہم کپتان! ہاہاہا!’’ کپتان صاحب کا یوں ہنس کر اور اس اپنائیت سے ملنا میر صاحب کو بہت اچھا لگا۔

‘‘پیارا بچہ ہائے۔۔۔’’ میم صاحب نے بھی میر صاحب کو دیکھا اور کہا۔

کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر کے ہاں بھی قریب قریب صلہ داری نظام کے تحت پلٹن کا کاروبار تھا، یعنی رنگروٹوں کو اپنی وردی اور رہائش کا خرچ خود کرنا ہوتا تھا لیکن میر خُسرو کو جنہیں کوئی بھی یہاں میر بختو نہیں کہتا تھا، کوئی مسئلہ درپیش نہ آیا۔ میر خسرو اپنے نئے اُستاد ، جمعدار ایجوٹنٹ چغری خاں کے ساتھ رہتے تھے۔ چغری خاں عمر رسیدہ فارسی بان توپچی تھا اور اپنی زبان کی طرح اخلاق بھی شیریں رکھتا تھا۔ میر صاحب کو وہ کمال شفقت سے موچی کے ہاں چھوڑ آیا اور ان کے لئے ان کے ناپ کا فوجی بُوٹ، کمر بند اور نیام بنانے کا حُکم دیا۔

‘دِلی کے ہو جوان؟’ موچی نے میر صاحب کو سرتاپا دیکھ کر سوال کیا تو میر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا نام بتایا۔

‘آئیے قبلہ۔۔۔ میرا نام ولائیت حُسین ہے اور میں بھی دِلی سے ہوں!’ ولائیت حسین دراصل موچی نہ تھا بلکہ غدر کے وقت میرٹھ کے ویلی بازار کا نامی طبلہ نواز تھا اور نتھُو پکھاوجی کے نام سے مشہور تھا۔ جب اہلِ کمال کو چُن چُن کر قتل کیا جانے لگا، جبکہ نتھوُ کی بھی ہندوؤں سے عداوت چل رہی تھی، تو رسالدار بہرام سنگھ نے اسے وہاں سے نکالا اور یہ ہمیشہ کیلئے اورنگ آباد کا ہو رہا ۔ اپنے ہم پیشہ لوگوں کے قتل کے بعد طبلہ پھینک کر چرم چمڑے کا کام اپنایا جو اس کے باپ کا پیشہ تھا۔ اس سے بھی میر صاحب کو خُوب ربط بن گیا۔

کپتان صاحب کبھی کبھار میر خسرو کو شام کے کھانے پر بلاتے تھے اور اُستاد چُغری خاں سے ان کا خاص خیال رکھنے کو کہتے۔ اب میر خُسرو نے اُمید باندھی کہ یہاں سے وہ ایک دن نامور توپچی بن کر نکلیں گے اور ضرور مہابت جنگ جیسا کوئی لقب پائیں گے۔ اُنہوں نے ٹھان لی کہ اب ان کی زندگی میں بندوق اور توپ کے سوا کوئی‘ مؤنث’ نہیں ہو گی۔

تربیت کے باقاعدہ آغاز سے قبل میر خُسرو کو بتایا گیا کہ پہلے وہ بندوق کے استعمال میں مہارت حاصل کریں گے، پھر توپچی کی تربیت پائیں گے۔ اس پلٹن کے پاس درجن بھر بندوقیں ہوں گی اور تین توپیں۔ یہ بندوقیں اور توپیں لگ بھگ تیس سال پُرانی تھیں اور کسی ہندُو راجہ سے کپتان صاحب نے سستے داموں خریدی تھیں۔ ذیادہ تر بندوقیں دیسی ساختہ تھیں اور نالی سے بھری جاتی تھیں۔ ولائیت کی انفیلڈ کی بنی بندوقیں بھی بھرنے میں ایسی تھیں لیکن ہزار گز تک گولی پھینکتی تھیں ۔ البتہ ان کا بارود اور کارتوس کم یاب تھا اور محدود مقدار میں دستیاب تھا اسی لئے تربیت کے کچھ اسباق خالی بندوقوں سے پڑھائے جاتے۔ ہفتہ میں تین روز اُستاد بندوق سر کرنا، توپ بھرنا اور ہر دو کی دیکھ بھال اور صفائی وغیرہ سکھاتا تھا۔ ہر اتوار کی شام کپتان صاحب خوُد آتے تھے اور ہر رنگروٹ اُن کی موجودگی میں بندوق سر کرتا۔

میر خسرو طلعت کی تربیت کا آغاز ہوا۔ پہلے تین ہفتے بندوق اور توپ کی دیکھ بھال اور صفائی سیکھی، بندوق سر کرنا سیکھی اور پھر جا کے اتوار کے ملاحظے میں حاضر ہوئے۔ کپتان برنابی صاحب نے میر صاحب کو رنگروٹوں کی قطار میں دیکھا تو زیرِلب مسکرائے، اُستاد چُغری خاں نے بھی ان کے جواب میں باچھیں پھیلائیں۔ کپتان صاحب ہمراہ جے صاحب (جمعدار ایجوٹنٹ صاحب) اور دبیر سنگھ توپچی کے، میدانِ مشق میں کھڑی رنگروٹوں کی قطار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک گئے، باری باری ہر رنگروٹ کے پاس آکھڑے ہوتے، رنگروٹ بندوق بھرتا، سر کرتا ، پھر سے بھرتا، دوبارہ گولی داغتا اور پھر ہوشیار کھڑا ہو جاتا۔ کپتان صاحب اپنی رائے سے نوازتے اور اگلے رنگروٹ کی طرف بڑھ جاتے۔ میر خسرو طلعت پُر جوش بھی تھے اور متذبذب بھی۔ ہتھیلیوں پر پسینہ آرہا تھا اور دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ کپتان صاحب ان کے پاس آئے تو میر صاحب نے فوجی سلام کیا، کپتان صاحب مسکرائے ، احوال پرسی کی اوربندوق بھرنے کا حُکم دیا۔ فرطِ جوش سے میر صاحب کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ بارود بھرنے لگے تو بہت سا گرا ڈالا۔ پھر بندوق چلائی تو ٹُھس کی آواز کے ساتھ کارتوس میر صاحب کے سامنے ہی گر گیا۔ کپتان صاحب نے اُستاد چُغری خاں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا، اُستاد نے میر صاحب کی طرف دیکھا اور میر صاحب نے نظریں جھکا لیں کپتان برنابی صاحب نے کندھے اچکائے اور آگے چل دیئے۔ میر بےحد اداس ہوئے لیکن استاد چُغری خاں نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور تشفی دی کہ ایک رنگروٹ سے یہ بعید نہیں ، پھر جھوٹ موٹ ایک ایسا قصہ میر ابوالمعالی مرحوم کی بابت بھی سُنا ڈالا۔ میر صاحب بھانپ تو گئے لیکن خاموش رہے اور سنبھل گئے۔ تربیت میں تیغ زنی اور بانک بنوٹ کے فن بھی شامل تھے لیکن میر صاحب کی دُبلی جسامت اور ان کے توپ و تفنگ کے شوق نے انہیں اس طرف ذیادہ نہ آنے دیا۔

ایک بار پھر استاد چغری خاں نے انہیں اتوار کی مشق میں لا کھڑا کیا کہ اب کی بار ہمت کیجئے اور خوب نشانہ باندھیں۔ میر صاحب میدانِ مشق میں کھڑے بار بار گتے کے کارتوس کو مٹھی میں بھینچے اُس سمت دیکھ رہے تھے جس طرف سے کپتان برنابی نے آنا تھا ۔ وقتِ مقررہ پر کپتان صاحب آئے، اُستاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ توپچی نے اُن کا استقبال کیا ، میر صاحب نےاپنی باری آنے سے قبل کارتوس کا ایک بار پھر جائزہ لیا جو شائد پُرانا تھا کہ نرم پڑ چکا تھا لیکن میر صاحب کا خیال تھا کہ خوب چلے گا۔ ان کی باری آئی تو کارتوس کو دانت سے کاٹا، بندوق میں بھرا اور بندوق چلا دی۔ شومئی قسمت کہ بارود پرانا تھا، اب کے بار رنجک چاٹ گئی اور بندوق سر نہ ہو سکی۔ کپتان صاحب کچھ دیر سر جھکا کر سوچتے رہے، اور مونچھ کو تاؤ دیتے رہے۔ اس دوران اُستاد چغری خاں اور دبیر سنگھ پر خاموشی طاری رہی۔ ‘‘اُستاذ! مشق کی ضرورت ہے!’’ کپتان صاحب نے کہا اور رخصت ہو گئے۔ میر صاحب نے بندوق پرے پھینکی اور زمین پر بیٹھ گئے۔ اس رات کھانا بھی نہ کھایا اور رات دیر تک بے قراری کے عالم میں جاگتے رہے۔ کبھی والد مرحوم کو یاد کر کے بہت روئے تو کسی دم والدہ مرحومہ کو۔ اپنی بدبختی کو کوستے اورسسکیاں لیتے خُدا جانے رات کے کس پہر آنکھ لگی۔ اگلی صبح اُستاد چُغری خاں نے میر صاحب کی آنکھوں سے ہی اندازہ لگا لیا کہ صاحبزادے نے معاملہ دل پر لے لیا ہے۔ کپتان صاحب سے ملاقات ہوئی تو استاد نے سرِ راہے بتا دیا کہ صاحب بہادر کا لاڈلا اداس ہے۔ کپتان صاحب نے حکم دیا کہ میر صاحب شام کا کھانا ان کے ہمراہ کھائیں گے۔ کپتان صاحب اکثر ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے کہ عشق اور سپہ گری کسی کا رنگ ، مذہب اور نسل نہیں دیکھتے۔ کم سن میر صاحب سے انس شائد فقط بے اولادی کی وجہ سے ہی نہیں، سپہ گری کے پیشے کی دین بھی تھا کہ میر ابوالمعالی کا بھی کپتان صاحب ایک اچھے اور کہنہ سال سپاہی ہونے کی وجہ سے از حد احترام کرتے تھے۔ میر صاحب جب کپتان برنابی صاحب کے ہاں گئے تو کپتان صاحب نے ان کی آزردگی کی وجہ پوچھی اور پھر دیر تک ان کی ہمت بڑھاتے اور غم غلط کرنے کی باتیں کرتے رہے۔ لطائف اورشعر و سخن کا تبادلہ بھی ہوا اور میر صاحب کی طبیعت ایک بار پھر ہلکی پھلکی ہوگئی۔

کپتان برنابی صاحب کی حوصلہ افزائی نے میر صاحب کو پھر سے تربیت پر آمادہ کیا تو وہ ایک بار پھر میدان کی مشق میں آکھڑے ہوئے۔ اب کی بار میر صاحب کو سب سے پہلی باری دی گئی تھی۔ان کے ساتھی بڑے تجسس سے دیکھ رہے تھے کہ کپتا ن صاحب بہادر کا چہیتا کیوں کر بندوق سر کرتا ہے ۔ آج انہیں ولائیتی انفیلڈوالی بندوق دی گئی جس کا کارتوس بھی اچھا تھا۔ یہ بندوقیں ۱۸۵۷ کے بعد اب آکر کپتان برنابی صاحب نے استعمال کی تھیں جبکہ باقاعدہ افواج میں ان کے متنازعہ ہو جانے کی وجہ سے ان کا استعمال قریباً ختم ہو چکا تھا اور ان کی جگہ اب مارٹینی ہنری اور سنائیڈر کی بندوق نے لے لی تھی۔ میر صاحب نے پورے اعتماد کے ساتھ بندوق بھری، نشست باندھ کر لبلبی دبا دی لیکن گھوڑے نے چلنے سے انکار کر دیا۔ اس مردود پرزے نے عین وقت پر بے وفائی کی تو میر صاحب گھبرا گئے۔ اسی لمحے اُستاد چغری خاں نے آگے بڑھ کر بندوق تھام لی جبکہ کپتان صاحب انگریزی میں کچھ بڑبڑانے لگے۔ اس سے پہلے کہ استاد ٹھونک بجا کر بندوق کے نقص کا اندازہ لگاتے، بندوق استاد کے ہاتھ میں ازخود چل گئی اوردبیر سنگھ توپچی کا، جو کہ لپک کر اُستاد کے پاس آگیا تھا اور بندوق کی نال کے سامنے کھڑا تھا، بایاں پاؤں زخمی کر گئی۔ کپتان برنابی نے جو یہ منظردیکھا تو پہلے بے ساختہ ہنس پڑے، پھر سنجیدہ ہو کر واپس چلے گئے۔ میر صاحب دیر تک یہی سوچتے رہے کہ کپتان صاحب نے قہقہہ لگا کر اُن کی نحوست اور بدبختی کی داد دی ہے۔ بہت خفا ہوئے، رات دیر تک شہر سے ہٹ کر ایک مندر کے پچھواڑے میں، ندی کنارے بیٹھے رہے۔ رات بھی چاندنی تھی اوردل بھی اداس ۔ بڑی مدت کے بعد آج میر صاحب کو رخشندہ بانو کا خلوص یاد آیا۔ اس کی بہت کمی محسوس کی لیکن جب اس کا ترکِ تعلق یاد آیا تو ہر تلخ و شیریں یاد کو ذہن سے جھٹک کر اُٹھ آئے۔ میر صاحب اگر اس قدر حساس نہ ہوتے تو شائد قدرت بھی ان کے ساتھ اتنی چھیڑ چھاڑ نہ کرتی۔ میر صاحب کی رنجیدگی اور دلگرفتگی کا قصہ پھر کپتان صاحب تک پہنچا تو وہ میم صاحب کے ہمراہ خود ہی اُستاد چُغری خاں کے ہاں چلے آئے۔ میر صاحب کو پاس بٹھایا اور کہا؛

‘‘میر صاحب، تُم فقط تھوڑے سے بدقسمت واقع ہوئے ہو ورنہ سپہ گری میں تُم ہرگز نالائق نہیں ہو، لیکن بہادر بنو!’’

میم صاحب نے فرمایا: ‘میر، ٹُوم جس دن نظام کی فوج میں بھرتی ہو گا، میں ٹُومارا شادی بناؤں گی’ میر صاحب مسکرا کر چپ ہو رہے۔
میم صاحب نے سفارش کی کہ میر خسرو کو توپ کی تربیت دی جائے، شائد اسے ہماری پلٹن کی بندوق راس نہیں ہے۔ کپتان صاحب نے سفارش مان لی ۔ پلٹن میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ، بلکہ کچھ لوگوں نے تو شرطیں بدنا بھی شروع کر دیں کہ میر خسرو کیسے توپ چلائے گا۔ اب استاد چغری خاں نے میر صاحب پر سخت محنت شروع کر دی اور کئی روز مشق اور قواعد کے بعد کپتان صاحب سے اجازت طلب کی کہ میر صاحب کو مشق کروائی جائے کہ وہ توپ چلا کر دکھائیں۔ کپتان صاحب نے پلٹن کی سب سے چھوٹی توپ (توپک) میر صاحب کے لئے نکلوائی ۔ یہ توپ پیندے سے بھری جاتی تھی جس میں گولہ ڈال کر دندانے دار بیلن کا پیندا گھما کر کس دیا جاتا تھا۔ بہت ہلکی توپ تھی اور استاد قالی خاں نے بیجا پور میں پہاڑی توپ خانےکیلئے ڈھالی تھی۔جب سے یہ توپ استاد قالی خاں نے کپتان صاحب کو تحفہ کی تھی، یہ توپ کم ہی چلی تھی۔ مقررہ روز جب میر صاحب نے مشق کے میدان میں توپ چلانا تھی ، اس روز استاد چغری خاں اچانک بیمار پڑ گئے، جس وجہ سے کپتان صاحب کے ہمراہ دبیر سنگھ توپچی کو آنا پڑا جس کا پاؤں ہنوز زخمی تھا۔ وقت مقررہ پر کپتان صاحب کی موجودگی میں جب میر صاحب نے توپ بھری، تمام پلٹن دیکھ رہی تھی، سب نے میر صاحب کے ماہرانہ انداز کی داد دی اور کپتان صاحب بھی دیکھ کر خوش ہوئے۔ میر صاحب نے بڑے اعتماد سے توپ میں سلامی کا گولہ ڈالا اور دبیر سنگھ کے، جو کہ چند قدم پیچھے کھڑا تھا، اشارہ کرنے پر مہتابی دکھا دی۔ چھوٹا سا دھماکا ہوا اور پیندے کا دندانے دار بیلن (بریچ) ٹوٹ کر کسی پٹاخے کی طرح پھٹ گیا جس کا ایک ٹکڑا دبیر سنگھ کی دائیں ٹانگ پر لگا جبکہ دوسرا اپنی پوری شدت سے عقب میں ایک درخت میں پیوست ہو گیا۔ آگ کے شعلے سے میر صاحب کی بھنویں اور سر کے بال بھی کچھ جھلس گئے۔ دراصل کسی نے غور نہیں کیا کہ پیندے کے بیلن میں پرانا پڑ جانے کی وجہ سے بال کے برابر دراڑ پڑ گئی تھی۔ یہ تو خیر گزری کہ سلامی کا گولہ ڈالا گیا تھا ورنہ اُلٹی توپ چلنے سے بہت نقصان ہوتا تھا۔ کپتا ن بے حد خفا ہو کر وہاں سے چل دیے۔ تمام لوگوں نے اسے دبیر سنگھ کی نااہلی قرار دیا لیکن کپتان صاحب ناروا میر خسرو سے ناراض ہو گئے ۔ اسی شام کپتان صاحب دبیر سنگھ کی عیادت کے بعد استاد چغری خاں کی عیادت کو بھی آن پہنچے تو میر صاحب سے بھی سامنا ہوا لیکن بات نہ کی۔ استاد نے میر کی وکالت کرنے کی کوشش کی تو کپتان برنابی صاحب آگ بگولہ ہو گئے؛

‘‘اُستاذ، من ہرگز باور نکنم کہ اُو خلفِ ابوالمعالی است’’ کپتان صاحب نے سخت غصے میں کہا اور چلے گئے۔ میر صاحب نے بھی سُن لیا اور سخت بُرا مان گئے اور اسی شب اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اورنگ آباد سے روانہ ہو گئے۔ جاتے ہوئے استاد چغری خاں سے کہا؛ ‘‘اُستادِ من، ہم سپہ گری پر تین حرف بھیج چکے، اب جاتے ہیں اجمیر، خواجہ کی درگاہ میں ٹھکانہ کرنے ’’ استاد سن کر پریشان سے ہوگئے ، ‘‘میر خسرو طلعت! خدارا دل میلا نہ کیجو، ابھی تو آپ رنگروٹ ہیں!’’ استاد نے ملتجیانہ کہا لیکن میر صاحب ، کپتان صاحب کی بات دل پر لے چکے تھے، ہرگز نہ رُکے اور اجمیر روانہ ہو گئے۔ اگلے روز جب کپتان صاحب کو واقعہ کا علم ہوا تو پہلے سخت برہم ہوئے، لیکن استاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ کے سمجھانے پر انہیں احساس ہوا کہ اُنہوں نے ناروا غُصے سے کام لیا ہے۔ توپ کی خرابی کی ذمہ داری سنگھ نے اپنے سر لے لی اور معقول بات بھی یہی تھی۔ کپتان برنابی نے اگلے ہی روز ایک جوان کو میر صاحب کے نام کا ایک رقعہ دے کر اجمیر روانہ کردیا ۔ اس نامہ بر کو بصد مشکل میر صاحب ملے تو کپتان صاحب کا رقعہ میر صاحب کے حوالے ہوا، لکھا تھا؛

‘‘سیدزادے! کیوں خفا رہ کر گنہ گار کرتے ہو؟ اب تھوکو غصہ اور آبھی چکو، دیکھو بہت نادم ہوں اور میم صاحب بھی افسردہ ہیں’’

میر صاحب تیوری چڑھا کر بولے، ‘‘ایک فرنگی کاہے کو ہمارے تئیں اس لائق گردانے؟ یہ تحریر استاد چغری خاں کی ہے’’ قاصد نے جا کر کپتان صاحب کو بتایا تو وہ بھی ناراض ہوئے مگر استاد چغری خاں کے مشورے پر اُنہوں نے گھنشام بابو کو خط لکھا جس چغری خاں خوب جاننے لگے تھے۔ میر صاحب گھنشام بابو کی بات ٹالنے والے نہ تھے، لہٰذا اس کے ہمراہ ہی اورنگ آباد آگئے ۔ آنے سے پہلے درگاہ میں خوب دعائیں مانگ کر آئے، راہ میں گھنشام بابو نے کسی جوتشی سے میر صاحب کی پریشانی بیان کی تو اس نے فقط اتنا کہا؛ ‘‘میر صاحب کے ہاتھ میں تفنگ ضرور چلے گی!’’ گھنشام بابو کو تو میر صاحب کی بپتا پر ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا تاوقتیکہ اورنگ آباد پہنچ کر کپتان صاحب کی پلٹن سے سُن نہ لی۔ گھنشام بابو کے ساتھ میر صاحب نے ریاست میں چند روز خوب سیر کی، یوں ان کا مزاج اچھا ہوا اور وہ معمول پر آگئے۔

یہ ۱۸۸۲ کی کوئی تاریخ تھی جب کپتان برنابی صاحب بہادر اور میم صاحب کے دیرینہ دوست اور بے حد محبوب رشتہ دار کرنیل گورڈن صاحب بہادر کی خبر ملی کہ تل الکبیر کے معرکے میں مارے گئے ہیں، یعنی ایک دھاوے میں گھوڑے سے زخمی ہو کر گرے اور رسالے بھر کی ٹاپوں نے روند دیا۔ پلٹن میں سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔ پلٹن کے پرانے لوگ آنجہانی کرنیل صاحب کا بے حد احترام کرتے تھے۔ کرنیل صاحب کبھی کپتان صاحب کے مہمان ہوتے تو پلٹن کا دورہ بھی کرتے۔ آخری بار میر صاحب کے آنے سے کچھ قبل دورہ کیا ہوگا لیکن میر صاحب نے ان کی سپاہیانہ وجاہت اور ہیبت کے قصے سُن رکھے تھے۔کپتان برنابی صاحب بہادر نے پلٹن میں دربار لگایا اور کرنیل صاحب کے پرانے دوست اور شاعر میرزا محی السنت احقر کو بلوا کر ان سے مرثیہ کہلوایا۔ استاد چغری خاں نے فارسی میں قطعۂ تاریخ کہا جبکہ ایک شعر میر خسرو طلعت نے بھی اہلِ دربار کے گوش گزار کیا؛

جنگ جوئے قہر ساماں پر یہ قہرِ واژگوں
تفو تجھ پر، حیف تجھ پر اے سپہرِ واژگوں!

کپتان صاحب چونکے۔ ‘‘میر صاحب! سپہر ِ واژگوں نے جو قہر میرے مرحوم دوست پر ڈھایا، یہ قہرِ واژگوں کیسے ہو گیا؟’’ کپتان صاحب کے سوال پر میر صاحب کا جواب بھی خوب تھا؛ ‘‘حضور، صاحب بہادر خُلد آشیانی کے قہر سے بھی تو فلکِ پیر کانپ اُٹھتا تھا!’’

کپتان برنابی بہت خوش ہوئے اور اپنی کارتوس بھری قرابین وہیں میر صاحب کو انعام کر دی۔ میر صاحب نے بصد شکریہ قرابین کمربند میں اُڑس لی اور خوش خوش واپس آگئے۔

اگلے روز شور ہوا، ‘میر صاحب کی قرابین چلی ہے!’ ‘میر صاحب نے قرابین سے گولی داغی ہے!’ جو سچ تھا، جلد ہی سب کو پتہ چل گیا ۔ میر صاحب نے جو قرابین جامے میں اُڑس لی تھی، وہ کسی لمحے اُن کا ہاتھ پڑ جانے سے از خود چل گئی اور گولی ان کی ران پہ لگی ۔ بمشکل ایک رات جان بر رہ سکے، خون ذیادہ بہہ جانے کی وجہ سے پہلے بے ہوشی ہوئی، پھر دم توڑ دیا۔ دمِ مرگ وصیت کر گئے تھے لہٰذا پلٹن کی لین میں دفن ہوئے۔

قبر پر مٹی پھینکی جارہی تھی، ضابطے مطابق سپاہ کی گارد نے سلامی کی بندوقیں سر کیں تو اپنی جھونپڑی میں بیٹھے ولائیت حسین موچی کے شاگرد کا ہاتھ رک گیا۔ پاس بیٹھے کسی بچے نے کہا، ‘‘پلٹن میں کوئی سنتری مر گیا ہے، سپاہی لوگ اُسے دفنا رہے ہیں’’

‘‘بالآخر اس کا بھی بخت جاگا۔۔۔’’ نوجوان موچی نے کہا، بچے نے کچھ جواب نہیں دیا۔ ‘‘اچھا ہی ہوا، فرنگی کے احسانوں کے بار سے آزاد ہوا اور عدم کے ملک میں اپنا ایمان سلامت لیے جا بسا ہے، خُدا بخشے۔۔۔’’

بگل کی آواز پر دیر تک ‘لاسٹ پوسٹ’ کی دُھن بجتی رہی اور موچی کا ہاتھ اسی روانی سے کپتان برنابی کے گھڑسواری کے بوٹ سینے میں مشغول ہو گیا۔۔۔

Categories
فکشن

بھولا گُجر شہید

میرا نام ملک شوکت علی رحمانی ہے اور صحافت میرا مشغلہ ہے، پیشہ نہیں۔ میری تعلیم ایف۔اے ہے جو میں نے اپنے آبائی شہر ننکانہ صاحب کے بابا گُرو نانک ڈگری کالج سے حاصل کی۔ اللہ کے فضل سے فیصل آباد میں اپنا بیوپار چل نکلا ہے لہٰذا صحافت سے کمائی کا کبھی ارادہ نہیں کیا۔ اس لئے کسی کو راضی کرنے یا ناراض کر بیٹھنے کے خیال سے آزاد ہو کر لکھتا ہوں البتہ زیرِ نظر تحریر مجھے الحاج چودھری ظہور حسین گجر صاحب کے حکم پر لکھنی پڑ رہی ہے جو کہ اُن کے خیال میں میرا اخلاقی فریضہ ہے۔ اخلاقی فریضہ صرف بھولے گُجر سے ہمسائیگی کا حق نہیں بلکہ چودھری ظہور حسین گجر صاحب کی اُن مہربانیوں کا شکریہ ادا کرنا بھی ہے جن کی بدولت میرے دادا منا کمہار سے ملک منظور حسین رحمانی بنے- خیر وہ تو لمبی کہانی ہے، آمدم بر سرِ مطلب- بھولے گجر کی شہادت کے بعد کچھ دن تک الحاج صاحب مسلسل اصرار کرتے تھے کہ اُس کے بارے میں کچھ لکھوں، آخر ہمارے محلے کا سپوت ہے، مجھے ضرور کچھ نہ کچھ لکھنا چاہیئے اُس کی زندگی اور موت کے بارے میں؛ وہ موت جسے سرکاری طور پر شہادت کا رُتبہ ملا ہے۔

 

یہ فیصل آباد مزدوروں کا شہر ہے، دہقانوں کا ضلع ہے۔ سو یہاں ہر دور میں ارباب ِ تخت و تاج نے قانون کی گرفت مضبوط رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ صرف امن و مان ہی قائم نہ ہو بلکہ صنعت کار اور سیاستدان طبقے کے جملہ مفادات بھی محفوظ رہیں۔ مجھے پنجابی ذہن کے ارتقاء اور تاریخ میں وقت ضائع کیے بغیر یہ بات اپنے پڑھے لکھے قاری پر چھوڑ دینی چاہیئے کہ فیصل آباد میں قانون کی گرفت کا دوسرا مطلب “پولیس گردی” کس طرح پڑ گیا۔ میرا عزیز بھولا گجر اسی ماحول کی پیداوار ایک پولیس انسپکٹر تھا۔ بھولے کا اصل نام عدنان گجر تھا اور وہ چودھری ظہور حسین کی دوسری اولاد تھا۔ چودھری صاحب کی فیصل آباد میں لکڑی کی آڑھت تھی (جس پہ اُنہوں نے میرے دادا کو منشی مقرر کیا تھا) اور کم عمری میں ہی کافی با حیثیت آدمی بن گئے تھے۔ اُن کی پہلی شادی تو اپنے خاندان میں ہی ہوئی لیکن اولاد نہ تھی۔ دوسری شادی ایک رانا خاندان میں کی جو کہ کاروباری اور سیاسی، دونوں حوالوں سے بہت با اثر خاندان تھا۔ اس شادی سے ان کے دو بچے ہوئے، ایک بیٹی (فرحانہ) اور ایک بیٹا (عدنان) جو کہ بیٹی سے دو سال چھوٹا تھا۔ چودھری صاحب نے تابہ مقدور ان بچوں کو بہترین تعلیم دی۔ فرحانہ تو ایم۔اے تک پڑھی اور پنجاب یونیورسٹی تک پہنچی لیکن عدنان کو شروع ہی سے کھیلوں میں دلچسپی تھی، اپنے سن سے بڑے قد کاٹھ کا لڑکا اور ہاکی کا بڑا دھانسُو کھلاڑی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انٹرنس کے بعد اگے نہ پڑھ سکا۔ انہی دنوں چودھری صاحب کے سُسر کے بھائی رانا حامد علی ایم پی اے منتخب ہو گئے اور پھر صوبائی وزارتِ داخلہ کا قلمدان بھی مل گیا تو عدنان کی، جو اب بھولا کے عُرفی نام سے جانا جاتا تھا، نوکری کا مسئلہ بھی خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔ قد کاٹھ کا اپنی عمر کے لڑکوں سے کافی نکلتا ہوا تو تھا ہی، ایف اے کی تعلیم بھی تھی، پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کروا دیا گیا۔ فرحانہ نے گریجوایشن کے بعد ایم۔اے فلسفہ کی ڈگری لی تو اس وقت تک بھولا گجر محکمہ پولیس میں ایک باجبروت، نڈر اور سخت کوش “چھوٹے تھانیدار” کے طور پہ نام کما چکا تھا۔ بھولا جس چوکی کا انچارج ہوتا، وہاں چھوٹے موٹے جرائم پیشہ افراد کی تو شامت رہتی ہی تھی، شرفاء بھی شام ڈھلنے کے بعد ناکے پر سے گزرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ بھولا بلا کا بددماغ ہی نہیں، بدزبان اور ہتھ چھٹ تھانیدار بھی تھا (پھر وزیرِ داخلہ کا قریبی عزیز ہو تو کیا ہی کہنے)۔ اپنے طبیہ کالج کے پرانے اُستاد اور شاعر، ڈاکٹر محبوب مسیح کی مثال تمام اہلِ محلہ کو یاد تھی۔

 

ایک ناکے پہ ڈاکٹر صاحب کی موٹر سائیکل روکتے ہی بھولے نے اپنے اہلِ محکمہ کے روائتی انداز میں موٹر سائیکل کی چابی اُچک لی تو عمر رسیدہ ہومیو فزیشن کو بہت بُرا لگا کہ اُن کی بیٹی بھی اُن کے ہمراہ تھی۔ انہوں نے بھولے کو ڈانٹنے کے انداز میں کہہ دیا “نوجوان، اگر میرے سفید بالوں کا حیا نہیں کرنا تو اپنے نام نہاد قانون کا خیال ہی رکھ لو ! یہ جو حرکت تُم نے کی ہے، یہ بھی تو ٹریس پاسنگ کے زمرے میں آسکتی ہے!!” پولیس والوں کو قانون بتانا اور وہ ٹارٹ جیسا قانون جو کہ مہذب ملکوں کے چونچلوں کا محافظ ہے، ایک صریح غلطی تھی جو ڈاکٹر صاحب نے کر دی تھی۔ بھولے نے ڈاکٹر صاحب کو گریبان سے پکڑ کر موٹر سائیکل سے اُتارا، ایک گھونسا اور دھکا ملا جُلا ڈاکٹر صاحب کے رسید کیا اور انہیں چلتا کیا۔ موٹر سائیکل، جس کے کاغذات اس وقت ڈاکٹر موصوف کے پاس نہ تھے، لاوارث پراپرٹی کی دفعہ کے تحت تھانے میں جمع کروا دی۔ ڈاکٹر صاحب اس کے والد کے پاس پہنچے، سفارش کیلئے، تو چودھری صاحب نے ہامی بھر لی لیکن بھولے نے ان کی ایک نہ مانی۔ ڈاکٹر صاحب نے تھانے سے موٹر سائیکل واپس لینے کیلئے محرر کو رشوت کی رقم ادا کی (جو کہ محرر نے قسم کھا کے کہی تھی کہ ایس پی صاحب کے ریڈر کو جمع کروانی تھی، خود اس پہ اس کا ایک روپیہ بھی حرام تھا) اور اپنی موٹر سائیکل گھسیٹ کے تھانے سے نکل رہے تھے تو میں نے خود انکی آنکھوں میں آنسو دیکھے- میں اُن کے ساتھ تھا۔ بھولا اس وقت اپنی غیر قانونی (مدت پہلے ڈکیتوں سے چھینی گئی) ہنڈا ایک سو پچیس موٹر سائیکل پر سوار تھانے میں جا رہا تھا اور ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرا دیا۔ یہ معمول کا ایک واقعہ تھا جو ایک ڈاکٹر محبوب مسیح کے ساتھ ہی کیا، فیصل آباد میں سیکڑوں لوگوں کے ساتھ، روز ہوا کرتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب حساس طبیعت کے آدمی تھے، ادیب شاعر قسم کے، اُنہوں نے محتسب، ڈی پی او، آئی جی اور وزیرِ اعلیٰ کے شکایات سیل میں بھولے کی بدتمیزی کے خلاف درخواستیں دیں لیکن ایک سال گزر گیا، کوئی نتیجہ نہ نکلا، سوائے اس کے، کہ ڈاکٹر صاحب بھولے کی ‘نظرِ کرم’ کا مستقل مرکز بن گئے۔ ایس پی صاحب کا تو ایک ہی جواب ڈاکٹر صاحب کیلئے کافی تھا : “سر اگر فقط بدتمیزی کے الزام پہ میں تھانے دار معطل کرنا شروع کردوں تو میرا سارا محکمہ گھر بیٹھا ہو گا، آپ صبروتحمل سے کام لیں، خداوند اجر دے گا”۔ اس کے بعد دو دفعہ ڈاکٹر صاحب کا لڑکا غیر قانونی شراب فروخت کرنے کے ‘صلے’ میں حوالات کی ہوا کھا آیا اور ایک بار مکان پر ریڈ میں اُن کی بیٹی بھی بھولے سے جی بھر کے گالیاں کھا چکی تو ڈاکٹر صاحب اپنے چک جھمرے والے آبائی گھر منتقل ہو گئے۔ ایک عیسائی کے گھر پر ریڈ کا آسان ترین بہانہ ‘شراب’ ہے اور یہ رمز سب تھانیدار جانتے ہیں۔تاہم اس کے بعد بھولے کو کسی ایسے معمولی معاملے میں وقت ضائع کرکے اہلِ محلہ پر دھاک بٹھانے کی ضرورت نہ پڑی۔

 

میرا اور اُس کا بچپن کا دوست رانا چاند اسلحے اور منشیات کا معمولی سا اسمگلر تھا اور اب دو ایک اقدامِ قتل کی وارداتوں میں اشتہاری ہو کر نسبتاً بڑے نام والا مجرم بن گیا ہوا تھا۔ رانا چاند مجھ پہ بہت بھروسہ کرتا تھا لیکن میں نے کئی دفعہ اُسے سمجھایا کہ بھولے پر بہت ذیادہ بھروسہ نہ کرے مگر اُس کو مان تھا کہ وہ بھولے کا دوست ہی نہیں اُس کے ننہالیوں کا دور کا رشتے دار بھی تھا۔

 

میں اُس شام بھولے کی بیٹھک پہ رانا چاند سے مختصر سی ملاقات کے بعد تراویح کی نماز پڑھنے کے لئے آ گیا کہ پہلا روزہ تھا اور اسکی تراویح نماز تو پڑھنی چاہیئے تھی ناں۔ دوسرے چاند اور بھولے نے میخواری کی محفل جما لی تھی اور مجھے یہ عادت کم از کم ماہِ صیام کے دورانیئے کی حد تک نہ تھی، سو میں نے اُن سے اجازت لی اور مسجد کی طرف نکل آیا۔ میں تراویح کی نماز ادا کر کے گھر پہنچا تو گلی میں پولیس کی گاڑیوں کی قطاریں، عوام کا ہجوم اور شوروغوغا کا عالم دیکھ کے میں نے راہگیروں سے پوچھا کہ بھائی خیر تو ہے؟ پتہ چلا کہ گلی میں فائرنگ ہوئی ہے۔ پھر پتہ چلا کہ بھولے گجر نے رانا چاند کو قتل کردیا ہے۔ میرے اندر کے صحافی نے کروٹ لی اور میں بھی پولیس کے ناکوں پہ بحث کرتا، منت گزارش کرتا جائے وقوعہ پر پہنچا- میں نے دانستہ صحافی والا کارڈ استعمال نہ کیا۔ پتہ چلا کہ گلی میں کسی بات پہ تکرار اور جھگڑا ہوا تھا۔ بیٹھک میں بھولے کے چند دوست سادہ کپڑوں میں ملبوس بھی بیٹھے تھے جن سے میرا تعارف نہیں کروایا گیا تھا، اب پتہ چلا کہ اُن میں ایک صاحب اُس کے آئی ایس ایچ او بھی تھے۔ دو چار دن عجیب اُدھیڑ بُن میں گزرے، میں بھی منظرِ عام سے ہٹ سا گیا۔ مجھے اس دوران بھولے نے کسی انجان فون نمبر سے فون کر کے کہا کہ میں اس معاملے میں مکمل بے خبری کا اظہار کروں۔ رانا چاند کے اقارب میں سے کسی نے مجھ سے رابطہ نہ کیا کہ کسی کو میرے جائے وقوعہ پر جانے کا پتہ بھی نہ تھا۔ میرے خاموش رہنے کی وجہ فقط تفتیش میں شامل ہونے کا خوف تھا نہ کہ بھولے سے کسی طرح کی ہمدردی۔صوبائی وزیرِ داخلہ رانا حامد علی خاں نے معاملے کا “نوٹس لیا” تو اخباروں اور مقامی ٹیلی ویژن پہ خبر جاری ہوئی کہ : “خطرناک اشتہاری رانا چاند مقابلے میں مارا گیا”۔ تفصیلات کے مطابق خطرناک مجرم نے سادہ کپڑوں میں ملبوس ڈیوٹی پر مامور اہل کاروں کو گلی میں دیکھتے ہی فائرنگ شروع کی اور جوابی فائرنگ میں مارا گیا وغیرہ۔ دراصل بھولے نے پولیس کو رانا چاند کی یہاں موجودگی کا پہلے بتا رکھا تھا اور وہ چاند کو کسی پولیس مقابلے کے بغیر پکڑوانا چاہتا تھا لیکن پولیس کی گاڑی کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی چاند کو بھی اطلاع مل گئی تھی۔ وہ فون کال سُننے کے بہانے اُٹھ کے گلی میں آیا تو بھولے سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ بھی اُٹھ کر باہر نکل آیا جس سے چاند کے شک کو تقویت ملی۔ یہاں دونوں کی تکرار نے گالم گلوچ کا رُوپ دھارا تو تھانے دار صاحب باہر نکل آئے، چاند نے طیش میں آکر تھانے دار پر پستول تان لیا لیکن بھولے نے اسے پستول لوڈ کرنے کی مہلت نہ دی۔

 

بھولا نہ صرف ہفتے بھر میں ملازمت پر بحال ہو گیا بلکہ اگلی “گیلنٹری پروموشن” میں بھولا سب انسپکٹر بن گیا۔ پولیس کے افسران اور تھانے داروں کے درمیان ایک دوسرے سے عدم وفاداری کا عفریت اتنا خوفناک ہے کہ اس کے خوف سے، وہ ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اسی باریک ڈور سے پولیس کا مضبوط نطام بندھا ہے۔

 

کچھ عرصے بعد بھولا جب ہمارے تھانے کا آئی ایس ایچ او بنا تو لا محالہ طور پر علاقے میں چھوٹے جرائم کی شرح بھی بہت کم ہو گئی اور بڑے جرائم جو ہوئے وہ اسی لئے قابلِ ذکر ہیں کہ وہ پولیس کی نظر میں جرائم نہیں تھے اور ان میں بھولے کا کردار بھی پہلے سے ذیادہ ‘آب و تاب’ سے نمایاں ہے۔ میرے وطن پنجاب کی پولیس میں اگر کوئی تھانے دار اس امر کا دعویٰ کرے کہ وہ رشوت نہیں لیتا تو اُس کی صداقت یا ذہنی توازن، دونوں میں سے ایک یقینی طور پر مشکوک ہے لیکن اس حوالے سے بھولے کی ایک عادت اُس کو انسانوں کی اس پولیس میں فرشتہ بنا دیتی ہے کہ وہ ‘کرپشن کی اخلاقیات’ کا قائل تھا۔ جہاں صوبے بھر میں تھانے داروں کی عادت ہے کہ مقدمات میں دونوں پارٹیوں، یا فریقین سے رشوت لے کر بالآخر تفتیش کا اختتام “میرٹ” پر کرتے ہیں، وہاں بھولا ایسا نہیں کرتا تھا۔ بھولے نے جس کسی سے رشوت کی مد میں ایک وقت کا کھانا بھی کھایا، اُس کے ایک ایک لقمے سے وفادار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بھولے نے جب بھی رشوت لی، سوچ سمجھ کر لی اور بڑا ہی ہاتھ مارا۔

 

بھولا اگرچہ خود بلا کا میخوار تھا لیکن شراب نوشی کے الزام میں پکڑے جانے والوں کو چوراہے پہ لٹا کے ان کی چھترول کرتا تھا، اگرچہ اُس کی اپنی کمر سے ہمیشہ بغیر لائسنس کا پیٹرو بریٹا پستول لٹکا رہتا تھا لیکن اپنے تھانے کی حدود میں نا جائز اسلحے کی مخبری پر تلاشی کی آخری حدوں تک چلا جاتا تھا جس کی مثال مَیں آگے چل کر بیان کروں گا۔ اگرچہ بھولا خود سیکیورٹی چیکنگ کے نام پر مقامی ہاسٹلوں پہ جب ریڈ کرتا تھا تو رات گئے اور نصف شب تک طالب علموں کو گلی میں صف بستہ کھڑا کئے رکھتا اور ذرا ذرا سی لغزشوں پہ تھپڑوں سے اُن کی یادگار تواضع کرتا لیکن اگر اسی تھانے کی حدود میں کسی پرائیویٹ یا سرکاری ٹیچر کے خلاف طالب علم کو تھپڑ مارنے کی شکائیت موصول ہوتی تو وہ جس ‘اہتمام’ سے اسے گرفتار کرکے تھانے تک لاتا، وہ ٹیچر دوبارہ کسی بچے پہ ہاتھ اُٹھانا تو درکنار، دوبارہ اپنے طلباء سے آنکھ ملا کر بات کرنے کے قابل نہ رہتا۔

 

شام کے وقت علاقے میں کرفیو کا سماں رہنے لگا۔ ہمارے محلے کے دوچوراہوں کے تھڑوں پر سرِ شام جمنے والی نوعمر طلباء کی بیٹھک بھی سیکیورٹی کے نام پر حکماً برخاست کردی گئی اور رات گئے تک چہل قدمی کے سارے شوقین ‘آوارہ گردی’ کی دفعہ میں ایک ایک بار حوالات میں رات گزارنے کے بعد خانہ نشیں ہوگئے۔ الغرض بھولے کے ہوتے ہوئےپولیس کے افسرانِ بالا کو اس امر کا اطمینان تھا کہ خوف کا عنصر، جو قانون نافذ کرنے کے لئے بہت ضروری ہے، اُن کے ہاتھ میں تھا۔ بھولے کو افسروں کی اس خوشنودی کے عوض عوام کی نفرت کا نشانہ ہونے کی چنداں پروا نہ تھی کہ یہ کامیابی کی قیمت ہے جو ہر تھانے دار کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

 

جن دو واقعات کا ذکر میں کررہا تھا ان میں پہلے واقعے کا تو میں بڑی حد تک عینی شاہد ہوں (اور کسی حد تک دوسرے کا بھی)۔ بگا وٹُو تاندلیانوالہ کا ایک نامی گرامی ڈکیت تھا جس نے تھانہ باہلک کے عین سامنے ضلعے کے نامی گرامی انکاؤنٹر اسپیشلسٹ تھانیدار رانا اظہارالحق کی کھوپڑی میں گولی اُتاری تھی، اور چند روز بعد ایلیٹ کے کمانڈوز کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔ ایلیٹ کے جوانوں نے مقابلے کے دوران اس کی کھوپڑی کو بڑی مہارت سے نشانے پر رکھا، ایک ہی گولی سے اس کا کام تمام ہو گیا اور قانون کی بالادستی کی ایک با رعب مثال قائم ہو گئی۔ یہ رُعب بگے وٹُو کے پسماندگان پر بھی لامحالہ طور پر طاری ہوا، اُس کی بیوہ اپنے کم سن بیٹے کو لے کر فیصل آباد شہر آکررہنے لگی جہاں اسے اسکول داخل کروا کر تعلیم کے زیور سے آراستہ کروانے لگی تاکہ کم سن خالد اپنے باپ کی بدنامی کے اثرات سے دور ہو کر معاشرے کا ایک شریف فرد بنے۔ میری والدہ اکثر اس کی مالی امداد کیا کرتی تھیں جس وجہ سے وہ اکثر ہمارے گھر آئی رہتی تھی۔ اس کے سلائی کڑھائی کے کام کا یہاں چرچا تھا۔ خالد دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور مسلم ہائی اسکول میں پڑھتا تھا۔ بہت شرمیلا اور ڈرپوک لڑکا تھا – اب اس کے برعکس ہے۔ یہ تبدیلی خالد میں اس طرح آئی کہ ایک دفعہ بھولے گجر کو “مخبری” ہوئی کہ “بدنام اشتہاری بگے وٹُو کا بیٹا خالد عُرف خالدی وٹو مجرمانہ قماش کا نوجوان ہے اور اس کے پاس غیر قانونی ٹی ٹی پسٹل ہمراہ دیگر خنجر وغیرہ کے موجود ہے” مخبری کے درست اور سنجیدہ ہونے کے لئے بگے وٹُو کے نام کا عنوان ہی کافی تھا۔ فرض شناس بھولے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اسی رات خالد کے گھر پر ‘ریڈ’ کردیا۔ سپاہیوں نے اینٹی ٹیررسٹ ٹریننگ کے پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق دروازے کے بجائے ذیلی راستوں اور دیواروں سے ‘انٹری’ کی اور آن کی آن میں “مشکوک افراد” پر قابو پا لیا۔ ان “مشکوک افراد” میں بگے کی بیوہ، خالد اور خالد کی شادی شدہ بہن جو کہ اُمید سے تھی اور آج ماں سے ملنے فیصل آباد آئی تھی۔ انہیں جب دبوچ کر پولیس کی گاڑی میں ڈالا گیا تو میں اُس وقت وہاں پہنچ چکا تھا کہ میرا گھر وہاں سے چند گز کے فاصلے پر بھی تو نہ ہوگا۔

 

“پستول تو تیرے بھائی کی — سے نکلا یا تیرے اس گیابھ سے، نکال کے ہی دکھاؤں گا!!”

 

خالد کی بہن نے پولیس کی گاڑی میں دھکیلے جاتے ہوئے بھولے سے چلا کر کچھ کہا تھا جس کا جواب بھولے نے اُس کی قمیص اُٹھاتے ہوئے دیا۔ لڑکی کے چلانے میں صرف گالی ہی سمجھ میں آسکی۔ وہ بھولے اور دیگر پولیس والوں کی ماں بہن کے حق میں جو قصیدے پڑھ رہی تھی، وہ پنجابی گالیوں کا “ادبِ معلیٰ” تھے اور وہ اس میں حق بجانب بھی تو تھی۔ خالد کی ماں اور بہن تو ایک رات ہی حوالات میں گزار کے واپس آگئیں البتہ خالد نے حوالات سے جیل تک کا سفر مکمل کیا۔ خالد جیسے “مجرم ذادے” لیکن لاوارث لڑکے سے پستول برآمد کروانا کون سا مشکل کام تھا کہ بہت وقت لیتا۔ گھر سے پستول برآمد نہ بھی ہوا تو کیا فکر، تھانے داروں کے پاس ہمہ وقت کچھ بے لائسنس اسلحہ ایسے وقت پر اپنی تھانے داری کی عزت رکھنے کیلئے رکھا ہوتا ہے۔ روزنامہ “امن و انصاف” کے ایڈیٹر نے ایک دفعہ خالد کی ماں اور بہن سے چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا انٹرویو شائع کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ چند روز بعد ایڈیٹر صاحب نے مجھے فون کیا اور صحافتی زبان کے رمز و کنایہ میں بھولے کیلئے پیغام دیا کہ اگر وہ ایڈیٹر صاحب کی مُٹھی گرم کردے تو یہ خبر لاہور سے چھپنے سے روکی جا سکتی ہے۔ میں نے یہ دلالی کرنے سے معذرت کرلی لیکن کچھ دنوں بعد خود بھولے کی زبان سے یہ سُنا کہ ایڈیٹر موصوف سے “بات چیت” ہو گئی تھی۔ ہم دونوں کی دوستی میں جو دراڑ رانا چاند کے قتل کے بعد پڑی تھی وہ اب خلیج بن گئی۔ میں نے فرحانہ کیلئے اپنے دل میں موجود عزت و احترام اور پسندیدگی کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے فقط بھولے سے ہی دوستی ختم کی، چودھری صاحب اور چودھرانی چچی سے نیازمندی کا تعلق قائم رہا۔ بھولے کی منگنی کی تقریب میں بھی میں اماں جان کے ہمراہ بصد اہتمام گیا۔

 

فرحانہ بلاشبہ ایک مثالی کردار کی لڑکی تھی؛ دلیر اور اعلیٰ ظرف ہی نہیں، تعلیم میں بھی بہت قابل تھی لیکن ایم فِل کے دوران ہی یونیورسٹی سے نکال لی گئی (یا نکال دی گئی )۔ پنجاب یونیورسٹی میں “یومِ حیاء” کے موقعے پر ایک مذہبی تنظیم کے ناظم صاحب نےجو خود بھی طالبِ علم تھے، فرحانہ کو ایک ہم جماعت لڑکے کے ساتھ دیکھ کر اُسے کچھ سخت الفاظ کہہ دیئے جس میں اس پر بے حیائی اور فحاشی کے الزام تھے، فرحانہ نے بگولے کی طرح بھڑک کر ناظم صاحب کے گریبان کو جالیا اور یکے بعد دیگرے دو تین تھپڑ بھی جڑ دیئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فرحانہ کو ڈیپارٹمنٹ انتظامیہ کے “مشورے” پر والدین نے یونیورسٹی سے نکال کر گھر بٹھا لیا۔ چودھری صاحب کو جب پتہ چلا کہ بیٹی کو عورتوں کے حقوق والی کسی این جی او نے ‘بگاڑا’ تھا، توبیٹی کو باغی قرار دے کر اُس کے گھر سے نکلنے پر بھی پابندی لگا دی۔ بھولا اس واقعے پر بڑا آگ بگولا ہوا کہ بہن نے ناک کٹوا دی برادری میں لیکن سوائے اس کے، کہ اُس سے بول چال کم کردی، بہن سے کچھ نہ کہا۔ پہلے ہم دونوں فرحانہ کو ‘آپی’ کہہ کر پکارتے تھے، اب بھولا اسے اُس کے عرفی نام سے، “فَری” کہہ کر پکارنے لگا کہ اس کے خیال میں اب فرحانہ اُس محترم لقب کے قابل نہ تھی۔ کافی عرصے بعد جب پابندیاں نرم ہوئیں تو فرحانہ کو گھر کے ساتھ ہی ایک خالی مکان میں اپنا ایک بیوٹی پارلر کھولنے کی اجازت مل گئی۔ بیوٹی پارلر بنانے میں محلے کی لڑکیوں سے اس رابطے نہ صرف بحال ہوئے بلکہ اس کے باقی مشاغل بھی ازسرِ نَو زندہ ہو گئے کیونکہ اس کے بعد میں نے اُسے دو تین دفعہ “دی وومین فاؤنڈیشن” کے اجلاس میں دیکھا اور ایک رسالے میں اس کی تحریریں بھی پڑھیں۔ اس کے بعد اُس سے ایک دفعہ ہی مُلاقات ہوئی۔

 

ایک شام اُس کا ایس ایم ایس ملا؛ “شوکے! پارلر پہ آؤ، تُم سے کام ہے!” میں نے “آیا آپی جی” لکھ بھیجا اور تھوڑی دیر سے سہی لیکن پارلر پہ پہنچا تو وہ پارلر کے تالہ لگا کر جانے لگی تھی۔ میں نے بلوائے جانے کی وجہ پوچھی تو میرے ذمے دو کام لگائے، ایک تو یہ کہ پارلر پہ انگریزی اخبار لگوا دوں، دوسرا کیبل والے سے کنکشن لگانے کا کہوں۔ “جی بہتر آپی جی” میں نے نیازمندی سے کہا اور واپس آگیا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں اس سے ڈرتا بھی تھا۔ فرحانہ گھر پہنچی تو بھولا ٹریک سوٹ پہنے ہاکی تھامے کسی میچ میں جانے کو تیار تھا۔ چودھرانی چچی نے بعد میں اماں کو بتایا تھا کہ اُس شام وہ بڑے خراب مُوڈ میں تھا۔

 

“فَری!”

 

بھولے نے سخت ناگواری سے اُسے مخاطب کیا۔

 

“ہاں کیا ہے؟”

 

فرحانہ بھی اب اُس سے پہلے سا لگاؤ نہیں رکھتی تھی۔

 

“یہ پارلر بند کردے!”

 

“کیا مطلب؟”

 

“بس کہہ دیا ناں، بند کرو یہ تماشہ!”

 

“بھولے تُو دُنیا جہان کیلئے تھانے دار ہوگا، لیکن مجھ سے بڑا کب ہو گیا کہ اس طرح حُکم چلا رہا ہے مجھ پہ؟؟؟”
فرحانہ کے جواب میں بھی سخت ناگواری اور غصہ بھر آیا۔

 

“فَری! جو باتیں مَیں باہر اور تھانے میں سُن کر آتا ہوں، وہ یہاں نہیں کہنا چاہتا! بس مجھے یہ پسند نہیں! بند کردے پارلر اپنا! بس!”

 

بھولے نے غُصے پر قابو پاتے ہوئے کہا تو ہاکی پر اس کی گرفت مضبوط ہو گئی۔

 

“بھولے اپنی گندی سوچ تھانے میں رکھ کے آیا کر! اور اپنی گندی زبان بھی! بڑی بہن ہُوں تیری! اور اگر میرے پارلر پر تُجھے یاردوستوں کے سامنے شرمندگی ہوتی ہے ناں! تو سُن لے! تیرے تھانیدار ہونے پہ بھی مجھے فخر نہیں ہے! جیسا تُو تھانے دار ہے، مَیں جانتی ہُوں!”

 

فرحانہ بھی زبان کی بڑی تیز اور دلائل کی اٹل تھی!

 

“زبان کھینچ لُوں گا تیری!! مَیں مرد ہوں، معاشرے میں ناک میری کٹتی ہے، تیری نہیں! تیرے پارلر کو لوگ ‘چکلا’ کہتے ہیں، ‘چکلا’! سمجھیں؟؟؟”

 

بھولے کی زبان سے قحبہ خانے جیسا غلیظ لفظ گھر کی چاردیواری میں سُن کر کسی کو بھی یقین نہ آیا- ماں تو گُنگ رہ گئی، فرحانہ چِلا اُٹھی۔

 

“بھولے! میرا پارلر ‘چکلا’ ہے؟؟ چکلا تو تیرا تھانہ ہے جہاں قانون رنڈی بن کر ناچتا ہے اور تُم کالی وردیوں والے دلال اُس کی قیمتیں وصول کرکے جیبیں بھرتے ہو! جو جتنی قیمت چُکائے، اُتنا لطف اُٹھا لے!!!”

 

فرحانہ کا یہ چلانا ایک چیخ سے بدل گیا کیونکہ “بکواس بند کر گشتیئے!!!” کے ایک فلک شگاف حُکم کے ساتھ بھولے نے جو فرحانہ کے سر میں ہاکی کی ایک ضرب لگائی تو پھر فرحانہ کی چیخ مکان کے باہر تک گونجی۔ وہ بے جان پُتلی کی طرح فرش پہ گری اور خون میں لت پت ہوگئی۔ بھولا ہاکی پھینک کر گلی میں نکل آیا۔ چودھرانی چچی کی آہ و زاری سُن کر کام والی ماسی دوڑی چلی آئی، اُس نے فوراً مجھے فون کیا۔ “شوکے! ذرا جلدی سے آ! فرحانہ کو۔۔۔” اور پھر وہ رو پڑی۔ میں بھاگم بھاگ گھر سے نکلا اور بھولے کی گلی میں پہنچا۔ بھولا وہاں نہیں تھا۔ گھر میں آیا تو فرحانہ کو خُون میں لت پت دیکھا۔ اپنی سی کوشش کی تو ریسکیو کی ایمبولینس کے آنے تک فرحانہ کے سر سے خون بہنا کم ہو گیا تھا البتہ ناک سے ایک سفید سیال مادہ رِس رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے بعد میں بتایا کہ فرحانہ کی موت اُسی سیال کے ضائع ہو جانے سے ہوئی تھی۔

 

فرحانہ کا قتل- جو کہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا- اگرچہ رانا چاند کے قتل سے برا سانحہ تھا لیکن یہ سانحہ بھی بھولے کی وردی نہ اُتروا سکا۔ تین ماہ کے اندر اندر بھولا دوبارہ ڈیوٹی پر تھا۔ فرحانہ کے قتل کا مقدمہ چودھری صاحب کی مدعیت میں درج ہوا تھا۔ بھولے نے اقبالِ جُرم میں کوئی دیر نہ لگائی لیکن عدالت کا فیصلہ ہونے سے قبل ورثاء کی طرف سے معافی ہو جانے پر بھولا نہ صرف قید سے رہا ہو گیا بلکہ ا س کی نوکری بھی بحال ہو گئی۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے غیرت کے نام پر اس اقدام پہ بھولے کی تعریف بھی کی کہ فرحانہ تو پنجاب یونیورسٹی سے ہی ایک “بُری عورت” کا استناد لے کر آئی تھی لیکن بھولا ایک عرصے تک اس واقعے پر شدید نادم رہا۔ شراب نوشی ترک کردی اور صوم و صلوٰۃ کا پابند ہو گیا۔ اکثر بُرے کام چھوڑ دئیے لیکن تھانے آنے والوں کے ساتھ جو مُٹھی گرم والا سلسلہ تھا، وہ ختم کرنا اُس کے اختیار سے باہر تھا- اس ناسور کی جڑیں بھولے کی توبہ سے بھی گہری ہیں۔

 

جوں جوں بھولا اپنے احساسِ ندامت پہ قابو پاتا گیا، اُس کا دل مضبوط ہوتا چلا گیا اور ایک سال کے اندر اندر اس کے پہلو میں وہی سنگ و خشت کا دل تھا۔ پھر وہی معمولاتِ زندگی تھے لیکن ایک خاموش تبدیلی جو فرحانہ کے مرنے کے بعد گھر کی چاردیواری میں پل رہی تھی، وہ چودھرانی چچی کی حالت تھی۔ وہ بیٹی کی موت کے بعد بیٹھے کی کوٹھڑی کی متحمل نہ ہو سکتی تھیں اور اسی دیوانی مامتا سے لاچار ہو کر اُنہوں نے بھولے کو معافی دلوائی تھی لیکن ضمیر کی خلش اور فرحانہ کی جُدائی نے اُنہیں ایک سال کے اندر اندر ختم کردیا۔ ایک شام چودھرانی چچی نے نمازِ عشاء کے آخری سجدے میں سر رکھا تو کبھی نہ اُٹھایا۔ جتنی خاموشی سے فوت ہوئیں، اُتنی خاموشی سے دفن بھی ہوگئیں- میں اُن کی تدفین تک ساتھ رہا۔ بھولے کو چند روز زہد و ورع کا جو دورہ پڑا تو اس بار جلد ہی ٹھنڈا ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد بھولے کی دوبارہ منگنی ہوئی کیونکہ پہلی منگنی فرحانہ کی موت کے بعد ٹُوٹ گئی تھی۔ منگنی کے ایک ماہ بعد اُس کی شادی ہوئی تو مجھے تقریب میں جانا پڑا۔ میری بہن کو چودھری صاحب کے کہنے پر بھولے کی خالہ ذاد بہنوں کے ساتھ مل کر رسومات میں بہنوں کے فرائض ادا کرنے پڑے۔ فرحانہ کی کمی سب نے محسوس کی، حتیٰ کہ بھولا بھی رو دیا۔ شادی ہو چکی تو بھولے کی زندگی میں کافی حد تک خُوشی اور طمانیت شاملِ حال ہو گئی۔ دُلہن نے ایم ایس سی کررکھا تھا اور بہت حسیِن گُجر لڑکی تھی۔ اب بھولا ایک پختہ کار سب انسپکٹر تھا اور افسرانِ بالا کا منظورِ نظر بھی۔ رانا حامد علیخاں نے حکومت بدلتے ہی پارٹی بدل لی تھی اور اب وزارتِ قانون کے قلمدان کے ساتھ اسمبلی میں براجمان تھے لہٰذا بھولا بھی آئی ایس ایچ او کی ذمہ داریوں پر ہی رہا۔ نامی گرامی ڈکیت کاشی موچی کو جعلی مقابلے میں مارنے کیلئے آر پی او صاحب نے بھولے گجر کا انتخاب اس کی اسی پروفائل کو دیکھ کر کیا۔ بھولے نے بھی اس ذمہ داری کو خوب نبھایا۔ بھولے کا تھانے کی حدود پر حکمرانی کا انداز ویسا ہی رہا۔ اُس کے دفتر میں کسی بھی حیثیت کے سائل کو کُرسی نہیں پیش کی جاتی تھی تا آنکہ وہ سائل قانونی طور پر بھولے کا کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں ہو۔ پورے ضلعے سے اقبالِ جُرم نہ کرنے والے ڈھیِٹ سے ڈھیِٹ مجرم اُس کے پاس بھیجے جاتے جنہیں وہ کامی وڑائچ کے ڈیرے پر قائم “خصوصی سیل” میں لے جاتا اور ایک رات کے اندر اند سب کچھ اگلوا دیتا۔ اُسے صرف ایک دفعہ ناکامی ہوئی جب ایک نو عمر ملزم سے مطلوبہ مواد اگلوانے کی کوشش میں غیر مطلوبہ مواد اگلوا بیٹھا۔ اُس کے مُنہ اور پیشاب کے مقام نے اتنا خُون اُگلا کہ وہ ڈاکٹر کے آنے سے قبل ہی چل بسا۔ اب ایسا بھی نہیں کہ اس مُلک میں اندھیر نگری ہے اور کوئی پولیس والوں کو نہیں پوچھتا، سیکڑوں شکایات اور ہزاروں پیشیاں بھولے نے بھگتی ہوں گی لیکن کامیاب تھانیدار وہی ہے جو اس معاملے میں مضبوط اعصاب کا مالک ہو اور بھولے جیسے مضبوط اعصاب کے مالک تھانے داروں کو سزا دے کر پولیس افسران کبھی اپنے محکمے کو کمزور نہیں کر سکتے۔

 

اس صبح طالبان کے کسی ماسٹر مائنڈ دہشت گرد کو فیصل آباد جیل میں پھانسی ہوئی تھی اور ایک خفیہ وائرلیس سگنل کے ذریعے شہر بھر کی پولیس کو الرٹ کردیا گیا تھا۔ بھولا بھی اپنے ناکے پر موجود تھا اور ایک ایک مشکوک اور غیر مشکوک گاڑی کو چیک کر رہا تھا۔ ایک اسکول وین میں بیٹھی کسی اُستانی نے سپاہی سے بحث شروع کی تو بھولے کو بحث میں مداخلت کرنا پڑی۔ اس نے تمام اُستانیوں کو وین سے اُتار لیا اور تلاشی کیلئے لیڈی کانسٹیبل کے انتطار میں انہیں فٹ پاتھ پر کھڑا کردیا۔لیڈی کانسٹیبل کہیں موجود تھی ہی نہیں لیکن ‘اُستاد’ کو سبق دینا سب نہیں جانتے۔ بھولا باقی گاڑیوں کی تلاشی میں مصروف ہو گیا۔ اسی اثناء میں ایک مشکوک کار کو سپاہیوں نے جو رُکنے کا اشارہ کیاتو وہ رفتار بڑھا کر فُٹ پاتھ پہ چڑھ دوڑی جہاں اُستانیاں کھڑی تھیں۔ اُستانیاں چیخ کر منتشر ہوئی تھیں کہ بھولا لپک کر اس کار کے سامنے آگیا۔ دو سپاہیوں نے گاڑی پر فائر کھول دیا۔ کار سے جوابی فائرنگ ہوئی اور ایک بھگڈر مچ گئی۔ اگر چہ کار میں سوار تمام لوگ مارے جاچکے تھے یا زخمی تھے تاہم ڈرائیور سلامت تھا جو کار کو لے کر نکل بھاگا۔ اس کا تعاقب کیا جا تا لیکن سڑک کے درمیان بھولا اوندھے مُنہ پڑا تھا۔ اُستانیاں اپنی ایک ساتھی کے لہولہان جسم کے گرد اکٹھی تھیں۔ جب ایک اُستانی اور بھولے کی لاش ہسپتال سے واپس لائی گئیں تو کچھ یقین سے نہ کہا جاسکتا تھا کہ ان کی موت پولیس کی گولی سے ہوئی یا حملہ آوروں کی گولی سے۔ بعد میں پتہ چلا کہ حملہ آوروں کا تعلق کسی کالعدم دہشتگرد تنظیم سے تھا جس کی وجہ سے وفاقی حکومت نے بھی واقعے کا نوٹس لیا۔

 

وزیرِ اعلیٰ اور آئی جی پنجاب نے فاتحہ خوانی اور دلاسے کیلئے بھولے کی بیوہ کو سرکاری خرچ پر لاہور بلوایا اور دونوں نے باری باری اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر فوٹو بھی کھنچوائے۔ بھولے کی بیوہ کو شہداء فنڈ سے پیسے ملے اور کچھ پنشن بھی بن گئی۔ ایک دفعہ جب آئی جی صاحب نے پولیس شہداء کی بیواؤں میں سلائی مشینیں تقسیم کیں تو بھولے کی بیوہ کو بھی تقریب میں جانا پڑا، اگرچہ وہ دی گئی سلائی مشین بعد میں پولیس لائن میں ہی چھوڑ آئی۔ بے چاری کو ایم ایس سی پاس کروانے والے والدین نے سلائی کڑھائی کی تربیت جو نہیں دی تھی۔۔۔

 

اگرچہ چودھری صاحب جوان بیٹے کی شہادت کے بعد سے اب تک ذہنی طور پر اس قابل بھی نہیں رہے کہ اس داستان کو مکمل پڑھ لیں گے لیکن مجھے اُن سے معافی ضرور مانگنی چاہیئے کہ میرے بے لحاظ قلم نے اس تھانے دار سے بھی رعائیت نہ کی جسے خُدا نے شہادت کیلئے چُن رکھا تھا۔ بھولے کی زندگی میں اس کی غیرت کی داد دینے والے یا اُس کی پیٹھ پیچھے اُسے گالیاں دینے والے، سبھی لوگ اب بھولے کی موت کو “قدرت کا انصاف” قرار دے رہے ہیں۔ میرے لئے اس تحریر کا اختتام اسی لئے مشکل ہے کہ اگر اتنے لوگوں کی جان، مال اور عزت کے نقصان کے عوض خُدا ہی نے بھولے کو بھری جوانی میں سڑک پر مرنے کی سزا دی یا پھر اگر نظام کے ہاتھوں بھولے کے مسخ ہونے والے کردار کا داغ دھونے کیلئے خُدا ہی نے اسے شہادت کیلئے منتخب کیا، دونوں صورتوں میں مجھے اس ‘انصاف’ میں اپنے وطن کے نظامِ انصاف کا رنگ جھلکتا نظر آتا ہے کیونکہ بھولے کے غمزدہ اور نیم پاگل باپ، بے سہارا بیوہ اور اس کی شہادت کے دو ماہ بعد پیدا ہونے والی اس کی بیٹی کا مستقبل مجھے اس معاشرے میں بڑا پُر آشوب دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے لئے خُدا سے معافی کا طلبگار ہوں۔۔۔
Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 8 دسمبر 1971- پُنّوں کی سُپاری

فجر کی نماز کے بعد لنگر کمانڈر سے ملا۔اُس نے بتایا کہ ابھی جے کیوُ صاحب اور کیپٹن صاحب کی بات ہوئی ہے، آج تمام نفری کو ناشتہ ملے گا لیکن دوپہر کے کھانے کا مسئلہ درپیش ہے۔ایک افسر کیلئے اپنے جوانوں کو کھانا فراہم نہ کرسکنا بہت بڑی اہانت کی بات ہوتی ہے۔صاحب آج سی او صاحب اور برگیڈ سے بھی مشورہ کریں گے۔ ناشتے کے وقت بھی یہی بات موضوعِ گفتگو تھی۔ سردارصاحبان کی باتیں سُن کر پتہ چلا کہ ہماری فوج نے چھمب اور حُسینی والا فتح کرلئے ہیں۔
دوپہر کو ایک اورپلٹون محاذ کی طرف جانے کیلئے تیارتھی، لیفٹیننٹ عثمان بھٹی آج ہی پہنچے تھے، پلٹون کی قیادت اُن کے حوالے کر کے اُنہیں آگے بھیج دیا گیا۔آج کئی دنوں بعد دُرّانی صاحب کو بھٹی صاحب کے گلے لگ کے خدا حافظ کہتے دیکھا، دراصل بھٹی صاحب کو چھے ماہ پہلے ڈھاکے میں دُرّانی صاحب نے شراب پی کے گالیاں دی تھیں جس کے بعد ان کے تعلقات ٹھیک نہ تھے۔ عثمان صاحب کئی نسلوں سے سولجر ہیں اور بہت ہی قابل افسر ہیں لیکن وہ دُرّانی صاحب کی بہت ذیادہ کتابیں پڑھنے کی عادت کو زنانہ صفت قرار دیتے ہیں، اسی بات پہ ان کی لڑائی ہوئی تھی ۔وہ دونوں کورس میٹ ہیں لیکن اُس لڑائی کی وجہ سے بھٹی صاحب کی کپتانی آنے میں سزا کے طور پر ،چھے ماہ کی تاخیر کردی گئی۔ بھٹی صاحب سے سُنا ہے کہ فرنٹ پر،ہلّی، سیتا پور اور گردونواح میں شدید لڑائی ہو رہی ہے۔دُرّانی صاحب بتا رہے تھے کہ اسی وجہ سے سی او اور برگیڈ سے رابطہ ہو سکا ہے نہ راشن کا مسئلہ حل ہوا ہے۔
ظہر کے وقت ہماری ایک پارٹی تشکیل دی گئی جس کی کمان خود دُرّانی صاحب کررہے تھے۔ مَیں اور پُنّوں بھی اس میں شامل تھے۔ہم پندرہ لوگ کیمپ سے نکلے اور ساتھ کے گاوں پہنچے جو کہ آدھے سے ذیادہ خالی ہو چکا ہے۔ یہاں بازار میں چند بڑی دُکانیں تھیں جو کئی دنوں سے بند تھیں۔ہم نے وہاں جاکر اُن کے تالے توڑے اور ان میں سے جتنی دالیں اور چاول مل سکا، سب اُٹھا لیا۔چند لوگوں نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن دُرّانی صاحب نے سیدھی فائرنگ کرکے اُنہیں ایسا خوفزدہ کیا کہ وہ تتر بتر ہوگئے۔اُن کا ایک آدمی زخمی ہوکر سڑک کے کنارے گرا اور دیر تک مدد کیلئے پُکارتا رہا۔

دیر تک ہم “مالِ غنیمت” کا راشن کیمپ لانے میں لگے رہے۔رات کو پُنّوں میرے پاس آیا تو سُپاری چبا رہا تھا۔ میں نے پُوچھا کہ کہاں سے لی ،تو کہنے لگا”ماموں، وہ بابووں کی دُکان سے اُٹھائی ہے”


(پلٹون:تیس جوانوں کا دستہ، ایک پلٹن میں پانچ کمپنیاں اور ہر کمپنی میں تین پلٹونیں ہوتی ہیں۔سردار صاحب: صوبیدار/جیونیئر کمیشنڈ افسر)

ڈائری کے گزشتہ دن

Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 7 دسمبر 1971- سچ یا جھوٹ

آج سارا دن ہم لوگ سٹینڈ ٹُو رہے لیکن کسی موو کا حکم ملا نہ کوئی ناگوار واقعہ ہوا۔ پُنّوں میرے پاس رہا۔بے چارہ گزشتہ چند روز کے واقعات سے بہت گھبرایا ہوا تھا، مُجھ سے اپنے خوف کا اظہار کرکے رونے لگا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مَیں بھی جب رنگروٹی پاس کرکے پلٹن میں آیا تھا تو پینسٹھ کی جنگ چھڑ گئی تھی لیکن سب خیر خیریت سے گزر گیا۔اسے حوصلہ اور دلاسہ دیا اورچند لطیفے سُنائے تو ہنستے ہوئےاس کے سانولے گالوں پر دو گڑھے سے بن گئے۔سلمیٰ باجی کہتی تھیں کہ جب میرا بیٹا پُنّوں جوان ہوگا تو اس کی ہنسی اور گالوں کے یہ گڑھے کتنی ہی چھوریوں کو اسکا دیوانہ کردیں گے۔کاش وہ زندہ ہوتیں تو دیکھتیں کہ پُنوں ہنستے ہوئے کتنا پیارا لگتا ہے۔
کیپٹن دُرّانی صاحب نے دوپہر کو ہمیں فالن کیا ۔ وہ بہت غصے میں تھے۔ہم سے خطاب کرتے ہوئے بولےکہ ریڈیو اور دیگر ذرائع سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ پاک فوج کے جوان بنگالی خواتیں کی عزت لوٹنے میں ملوث ہیں وغیرہ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ خبریں جھوٹی ہیں اور رضاکاروں، مُکتی باہنی، سنٹرل پیس کمیٹی اور دیگر آوارہ تنظیموں کی غلط کارروائیوں کا الزام ہم پر لگایا جا رہا ہے اور اگر کوئی جوان ان خبروں پر تبصرہ کرتا ہوا پایا گیا تو اُس کا فوری طور پر کورٹ مارشل کیا جائے گا۔ اُنہوں نے ہمارے ریڈیو سُننے پر بھی پابندی لگا دی۔لانس نائیک غلام شبیر صاحب عُرف چمڑا، جو کہ گانے کے بہت شوقین ہیں ،یہ سُن کر کہنے لگے”سر اب ان تمام جوانوں کو گانا سُنانے کی ڈیوٹی میرے ذمے لگائی جائے”دُرّانی صاحب مُسکرا اُٹھے اور کہا “تاکہ جوانوں کو دوگُنی بوریت ہو؟”ہم لوگ ہنس دیئے اور کچھ ماحول ہلکا ہوا۔
شام کے وقت کیپٹن صاحب نے حُکم دیا کہ کھانا اُن کے ساتھ کھاوں۔آج تمام کیمپ نے صرف شام کا کھانا ہی کھایا۔میں نے ڈرتے ڈرتے دن کی افواہ کے بارے میں پوچھ لیا تو کیپٹن صاحب نے کہا “سب بکواس ہے یار۔ دیکھو تنویر ، تم بچے نہیں، بارہ جماعتیں پاس ہو، ہم ان حالات میں جس طرح دشمنوں میں گھِرے ہیں، کیا ہمارے پاس ان کارروائیوں کی فرصت ہے؟” پھر کچھ دیر خاموش رہ کر دوبارہ بولے “تنویر حُسین، جنگ میں سب سے پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے—کُچھ بھی ممکن ہے”

(سٹینڈ ٹو:چوکس، تیار۔ فالن: انگریزی کا لفظ Fall-in ، مراد اکٹھا ہونا، صف میں)

ڈائری کے گزشتہ دن