دیار و دشت کے پسِ پردہ سے ایک پرچھائی

شہرِ مدفون، ہمراہی اور چاچا ایلس کدوری جیسی کہانیوں میں آپ کو جس دنیا کی جھلک ملتی ہے، اسی نے مجھے اور ذکی صاحب دونوں کو بنایا بھی ہے اور بگاڑا بھی۔
دو جرنیل اور ایک دیہاتی

دیہاتی نے کشتی کے پیندے میں ہنس راج کے پر بچھائے اور ان پر جرنیلوں کو بٹھا دیا، ان پہ مقدس صلیب کا نشان بنایا اور سفر کا آغاز کر دیا۔
چاچا ایلس کدوری (کرم خان مرحوم کی ہسٹری)

کرم خان کا ورثہ مختلف راستوں سے آگے منتقل ہو گیا تھا مگر پھر بھی یہیں کا یہیں پڑا رہ گیا
ریگِ دیروز (ذکی نقوی)

چچا کبیر علی خان سیال کچہری میں ماخوذ ہوئے تو اُنہوں نے دو چار دفعہ مجھ سے رابطہ کیا کہ شاید میرا رُسوخ اور عہدہ اُن کے کام آ سکے
زنجیر ( ایک کہانی ڈائجسٹ کے رنگ میں) — ذکی نقوی

ذکی نقوی:
تصور نے گود میں سوئی کم سن بیٹی کو سہلاتے ہوئے آہستہ سے سونیا کی طرف دیکھ کر کہا۔ سونیا نے کچھ جواب نہ دیا، بس ہاتھ کا اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ سارہ کو اس کے برابر لٹادیا جائے۔ تصور نے ننھی سارہ کو اس کی ماں کے پہلو میں لٹا دیا۔ سونیا نے چہرہ گھما کر سوئی ہوئی بیٹی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور مسکرانے لگی۔
امام باڑے والے زیدی صاحب (زکی نقوی)

یہ خاکہ ایک شیعہ سید زادے کی یاد میں لکھا گیا ہے جنہیں میں کبھی نہ سمجھ سکوں گا کہ آپ کی دیوانگی کی فرزانگی کے مقابلے میں کیا قدروقیمت تھی۔ سید پناہ حسین زیدی کا وطن مالوف اُتر پردیش تھا۔ میر اخیال ہے یُو پی میں آگے فیض آباد (لکھنئو) کے تھے۔ تقسیم سے […]
کُکریؔ کی رات۔۔۔ (ذکی نقوی)

(۹ دسمبر ۱۹۷۱ کا ایک شاندار ایکشن) حرفِ آغاز: تاریخِ عالم کی جنگوں میں ہونے والی ہر بحری لڑائی کسی نہ کسی طور سے تاریخ ساز ثابت ہوئی ہے۔ اگرچہ تمام جنگو ںکی فیصلہ کن لڑائیاں زمین پر لڑی گئیں لیکن بحری مبارزہ اکثر عامہۃ الناس کی نظروں سے اور، بوجوہ ،تصور سے بھی اوجھل […]
قومی شناختی کارڈ

ذکی نقوی: گونگا مصلّی اب تو کچھ نیم پاگل سا بھی لگنے لگا ہے۔ کسی نے بتایا ہے کہ لفظ ‘شناختی کارڈ’ سن کر وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنی گونگوں کی بولی میں بہت گالیاں بکتا ہے۔
لیزلی حیات خان (اپنے فرضی ہم شکل کا حقیقی خاکہ)

ذکی نقوی:لونڈو!! اگر قابل اور لائق لوگ ہو اور دماغ کی بتی روشن ہے اور طبیعت میں تلون، تو اپنی جوانی فوج کو نہ دینا! لڑنے والے لوگ مستقل مزاج لیکن نیم خواندہ ہوتے ہیں۔ تُم کام کے لوگ بنو! اِس قوم کو قابل اُستادوں، شریف ڈاکٹروں، سچے صحافیوں اور دردِ دل رکھنے والے سماجی کارکنوں کی ضرورت سپاہیوں کی نسبت کہیں ذیادہ ہے۔
نام بختاور سنگھ

زکی نقوی: بگل کی آواز پر دیر تک ‘لاسٹ پوسٹ’ کی دُھن بجتی رہی اور موچی کا ہاتھ اسی روانی سے کپتان برنابی کے گھڑسواری کے بوٹ سینے میں مشغول ہو گیا۔۔۔
بھولا گُجر شہید
