Categories
فکشن

امام باڑے والے زیدی صاحب (زکی نقوی)

یہ خاکہ ایک شیعہ سید زادے کی یاد میں لکھا گیا ہے جنہیں میں کبھی نہ سمجھ سکوں گا کہ آپ کی دیوانگی کی فرزانگی کے مقابلے میں کیا قدروقیمت تھی۔

سید پناہ حسین زیدی کا وطن مالوف اُتر پردیش تھا۔ میر اخیال ہے یُو پی میں آگے فیض آباد (لکھنئو) کے تھے۔ تقسیم سے پہلےبرٹش انڈین آرمی میں وائسرائے کمیشنڈافسر تھے، جنگ کے بعد کچھ پلٹنیں ٹُوٹیں تو گھر آرہے۔ غدر کا جانکاہ سال گزر چکا، مہاجرین کی غارتگری کا سلسلہ ختم ہوا تو یہ بھی بالائی پنجاب کی طرف اٹھ آئے اور پہلا ٹھکانہ میانوالی میں کیا۔ پاکستان کی فوج میں تعمیرِ نَو کا عمل چل رہا تھا، سپاہی پیشہ تو تھے ہی، ایک جان پہچان کے اعزازی کرنل کمانڈانٹ کو چٹھی لکھی اور بلوچ رجمنٹ کی ایک پلٹن میں بھرتی ہو گئے۔ یہاں سال بھر تو اچھا گذرا لیکن پھر ایک گَھٹنا ہو گئی۔ پلٹن کے اینگلو انڈین صاحب ایجٹن بہادر سے کسی بات پر تکرار ہو گئی، بات مادر پدر خواہی تک پہنچی تو زیدی صاحب نے طیش کھا کر سنگین کمر سے کھولی اور کپتان ڈیوڈ پریسکاٹؔ کے حلق سے آر پار کر دی۔گہرے سانولے کپتان کے گہرے سرخ خون کا فوارہ چھُوٹا اور زیدی صاحب قبلہ کا چہرہ گرم فوجی خون سے لتھڑ گیا۔ آپ نے اس کے بعد وردی کا باقی عرصہ فوجی ہسپتال میں دماغی معالج کی نگرانی میں گزارا لیکن کبھی ذہنی توازن مکمل بحال نہ ہو سکا۔ میڈیکل بورڈ نے کورٹ مارشل کے ناقابل قرار دے کر میڈیکل پنشن پر انہیں فوج سے نکال دینے کی سفارش کردی جو خداوندانِ جی ایچ کیو نے فوراً قبول کرلی۔ فوج چھوڑی تو میانوالی کو بھی خیرباد کہہ دیا اور پھر یہاں میرے آبائی گاؤں آکر ہمیشہ کیلئے یہیں کے ہو رہے۔

زیدی صاحب یہاں آئے تو ہمراہ بیوی، ایک کمسن لڑکا اور دو جواں سال لڑکیوں پر مشتمل خانوادہ لے آئے۔ لڑکیوں کو تو یہاں آتے ہی، ایک کو شہر کے ایک مہاجر سید، دوسری کو ہمارے ایک چچا سے بیاہ دیا جو سفر مینا کی پلٹن میں سپاہی تھے، لڑکے اور بیوی کے ساتھ یہاں ایک سادہ سی غریبانہ زندگی کا آغاز کیا۔ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے ہیں کہ سید بھی ہاتھی کے موافق زندہ ہو تو لاکھ کا، مَرجائے تو سوا لاکھ کا، لیکن اگر فاطر العقل ہو جائے تو تین چار لاکھ کا ہو جاتا ہے۔چونکہ سید صاحب موصوف کا ذہنی توازن تا حیات متزلزل رہا، سو اہلِ علاقہ اُن سے دعا لیتے رہے اور پھر بدستور دم درود بھی کرواتے رہے۔ارادتمندوں کے اس حلقے کی وجہ سے آپ کی معاش عمر بھر خطِ غربت پر سہی مگر رواں دواں رہی۔ یہاں دو لڑکے اور ہوئے۔ بڑا لڑکا تو چونکہ زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکا تھا سو جونہی جوان ہوا، اُسے سپاہی کروا دیا۔ منجھلے اور چھوٹے بیٹے کو اسکول بھیجا۔ چاروناچار ان لڑکوں کو پڑھنا تھا کیونکہ پڑھائی میں غفلت کا مطلب تھا کھجور کی گیلی چھڑی سے کھال کا اُدھیڑ دیا جانا۔۔۔ زیدی صاحب کا غصہ کس سے پوشیدہ تھا۔ علاقے کے بلوچ اور سیال سردار، زمیندار بھی اُن کے سامنے سہمے سے رہتے تھے کہ ایک تو جوارِ لکھنئو کی اُردو کی سکہ بند ماں کی گالیاں مع چند مابعدِ ہجرت اضافوں کے، ہمہ وقت آپ کے نوکِ زباں رہتیں۔ سو بھری پنچائیت میں صاحب خاں بلوچ کو غصے میں آکر مادرچود کہہ دیا تو پھر کیا مجال ہے کہ خا ن موصوف بھی اسی ردیف قافیے میں کوئی جواب دے پاتے! دیتے بھی تو بے چارے پھر پنچائیت میں کیا منہ دکھانے کے قابل رہتے کہ ایک سید کو گالی بکی؟ پھر زیدی صاحب کے ہاتھ میں ہر وقت جو گرہ دار لکڑی کی جریب رہتی تھی، اگر اُس کا رُوئے سُخن کسی کی طرف ہو گیا تو بلا تخصیصِ عمر و مرتبہ اُس کا بچنا محال تھا۔ دو گز کی یہ جریب آپ سے ہر شخص کو تین گز کے فاصلے پر ہی رکھتی۔ ایک دفعہ جلال میں بیٹھے تھے، پیارے خاں سیال کی بیوی دعا لینے کو آئی۔ ’’مرشد، شادی کو چھے سال ہونے کو آئے ہیں، اُمید نہیں بر آتی، بیٹے کی دعا کر دیں تو عمر بھر نوکری دوں گی!‘‘۔ زیدی صاحب نے لاٹھی زور سے زمین پر ماری اور غصے میں دھاڑے، ’’چلی جا مادرچود! تیرے لڑکا ہوگا! جا اُوپر سے مانگ، ادھر سے میں نے دعا دے دی ہے، چلی جا مادر۔۔۔‘‘ خُدا کی کرنی، وہ اُمید سے ہوئی تو لڑکا ہوا۔پیارے خاں کا بیٹا عمر حیات خاں عمر بھر ان کا مرید رہا البتہ عمر خاں گالیاں بہت بکتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ زیدی صاحب کی دعا سے جس کے ہاں بھی اولاد ہوئی، دشنام طرازی میں یگانہ روزگار ہوتی تھی۔

آپ کو عمر بھر ایک ہی دھُن سوار رہی۔ میرے پردادا نے گاؤں میں جس امام باڑے کی بنیاد رکھی تھی، زیدی صاحب کی خواہش تھی کہ اس سے بڑا امام باڑہ مہاجرین سادات بھی گاؤں میں قائم ہو۔ اب گاؤں میں مہاجرین سادات کی کل تعداد ہی جب چھے تھی، یعنی شاہ صاحب کے گھر کے کُل نفر، تو امام باڑہ کیا بنتا اور کون بناتا؟ بات یہ تھی کہ ذہنی اختلال کے باوجود اُنہوں نے ساری زندگی کوئی نماز قضا کی نہ ہی عزاداریٔ سید الشہدأ سے غافل ہوئے۔ نبیﷺ اور آلِ نبیﷺ سے مودت کا جذبہ ان کے ذہنی توازن ڈگمگانےمیں بھی محفوظ رہا۔ عاشور کے دنوں میں راہ چلتے بھی گریہ کرتے پائے جاتے اور نعرۂ یا علیؔ سے اُن کا آنگن سارا سال گونجتا رہتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اہلِ دیہہ کی سماعتوں میں وہ گونج ایسی پختہ ہوئی کہ میرے گاؤں کے کئی بزرگوں نے اگر زیدی صاحب کی وفات کے بعد بھی اُن کی قبر سے ’یاعلیؔ‘ کی آوازیں آتی ہوئی سُننے کا بیان قسمیں کھاکر دیا ہے تو وہ جھوٹ بھی نہیں کہتے۔ آپ کے، میرے لیے یہ پیراسائیکولوجی کا گھن چکر ہو گا لیکن وہ بوڑھے اپنی سماعتوں پر پورا ایمان لانے والے ہیں۔ بلکہ بیگوُ ماچھی کا ایمان تو سب سے دلچسپ کرشمہ دکھاتا ہے۔ ہم نے کم سنی میں یہ واقعہ کئی دفعہ بیگوُ سے سُنا۔ بیگوُ ماچھی ایک دفعہ، زیدی صاحب کی وفات کے کئی سال بعد امام باڑے کے قریب سے گزررہا تھا کہ اُسے فطری بشری حاجت نے اس قدر تنگ کیا کہ امام باڑے کے قریب ہی ایک جھاڑی کے پہلو میں پیشاب کرنے بیٹھ گیا۔ ابھی بیٹھے ہوئے ایک لمحہ بھی کیا ہوا ہو گا کہ کیا دیکھتا ہے، پناہ حُسین زیدی صاحب سامنے سے ہاتھ میں وہی جریب لہراتے ہوئے آرہے ہیں اور پھر اُن کی آواز آئی ہے، ’’ٹھہر بے مادرچود!! مہاجری امام باڑے کے پہلو میں ہاگتا ہے؟؟ تیری تو نسلوں کا گوبر خطا کر دوں گا بھوس۔۔۔کے!!‘‘ پھر جو بیگوُ ماچھی بھاگا وہاں سے آج تک سہما ہوا ہو گا۔

سید پناہ حُسین زیدی صاحب دُبلے پتلے اور متوسط قامت کے تھے۔ رنگت خالص ہندوستانیوں والی، یعنی سیاہ تھی جو شاید جوانی میں فقط سانولی ہوتی ہو گی۔ڈاڑھی موچھ تمام سفید تھی لیکن اس معمولی سی شکل صورت کے باوجود بات کا لب و لہجہ پرانے زمانے کے دبنگ ہڑدنگ سپاہیوں کا سا تھا۔ یہاں آکر بھی اُردو ہی بولتے تھے اور آخر تک وہی لکھنئو والا لب و لہجہ قائم رکھا۔ لباس صاف ستھرا پہنتے جس میں اپنی وضعداری کا جہاں تک ہو سکتا، پورا پاس رکھتے تھے۔ پگڑی بھی طرے دار باندھتے تھے۔ ایک دفعہ مجالسِ عاشورہ کی پہلی محفل میں آئے، سفید کپڑے اور واسکٹ زیبِ تن کر رکھی تھی اور پگڑی بھی حسبِ معمول باندھ رکھی تھی۔ مجلس کی صفوں میں بیٹھے کچھ تو یوں بھی نمایاں تھے، ذیادہ نمایاں اپنی دستار کے طرے کی وجہ سے ہو رہے تھے۔ اُس زمانے میں تمام مرد بلا تخصیصِ عمر، سر پر پگڑی باندھے رکھتے تھے لیکن ضابطہ اور رواج یہ تھا کہ جب عزاداری کی مجلس میں بیٹھا جائے تو سوگ کے اظہار کے طور پر پگڑی اُتار کر گلے میں ڈال لی جائے مگر زیدی صاحب کو خیال نہ رہا یا شاید کوئی اور وجہ۔ اس وقت جو روضہ خواں شہادت پڑھ رہا تھا، ساتھ کے گاؤں کا بلوچ تھا، اُس کی شامت آئی تو متوجہ ہوا؛ ’’شاہ صاحب قبلہ گستاخی معاف، یہ عزا کی محفل ہےاور امامِ مظلوم کا سوگ ہے، آپ سید ہو کر طُرے کی پگڑی باندھے بیٹھے ہیں، چہ بوالعجبی؟‘‘ زیدی صاحب اگرچہ اس بات سے متفق ہوں گے لیکن شاید تہیۂ طوفاں پہلے کر کے آئے تھے یا ایک بلوچ کی گستاخی پر جلال میں آگئے، ’’بکواس مت کر مادرچود! یہ تیرے جدِ امجد کا سوگ ہے یا میرے؟؟ یہ میرے گھر کا معاملہ ہے!!‘‘ مجلس پر ایک لمحے کے لئے تو گہری خاموشی چھا گئی، پھر چند لوگوں نے اپنی ہنسی کو کھانسی اور چھینکوں میں خارج کر نے کی کوششیں کیں تو روضہ خواں بھی کھسیانا سا ہو کر دوبارہ اپنے موضوع کی طرف آ گیا، زیدی صاحب پلوُ جھاڑ کر مجلس سے اُٹھ آئے۔ شاید اُنہیں پنجابیوں کے امام باڑے میں عزاداری کا کچھ لطف بھی نہ آتا تھا۔کچھ یہ بھی تھا کہ جس روائیت کو میر مستحسن خلیقؔ، انیسؔ اور دبیرؔ نے لکھنئو اور دِلی میں پروان چڑھایا، عزاداری کی اُس روائیت سے پنجابی ذہن ہنوز بہت دور تھا سو اُنہوں نے امام باڑہ مہاجرین سادات بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسی اثنا میں گاؤں میں موجود مہاجرین میں ایک کی کمی ہوئی کہ وہ پردیس سدھار گیا۔ زیدی صاحب نے منجھلے لڑکے کو بھی فوج میں بھیج دیا جو کہ ایک دفعہ گاؤں سے گیا تو ہم نے دوبارہ کبھی نہ دیکھا۔۔۔ شاید فقط زیدی صاحب کی وفات پر ہی گاؤں آیا تھا۔ مہاجرین سادات کے امام باڑے کا خیال آیا تو بیوی سے اظہارِ خیال کیا، وہ بولیں؛

’’پناہ حُسین، یہاں مہاجرین ہیں ہی کتنے۔ پھر ایک امام باڑہ جو ہے جلال شہانوں کا، اُس میں بھی سارا گاؤں عزاداری کر لیتا ہے، سبھی نماز بھی وہیں پڑھ لیتے ہیں، کافی ہے۔ ہاں، نیکی کا کام ہے، عقیدت کی بات ہے تو بنانے میں کیا برائی ہے لیکن جلدی نہ کرو، جب یہ غریبی کے دن کٹ جائیں گے، ضرور بنائیں گے امام باڑہ۔۔۔‘‘

زیدی صاحب کو سمجھ آگئی۔ اس مسکین خاتون کی وفا شعاری، خُدا رسیدگی اور شرافت بھی بے مثال تھی۔ اُنہوں نے ان کے ساتھ خُوب نباہی تھی۔ ان کی تند وتلخ طبیعت کو بھی سہا اور ان کے بچوں کی پرورش بھی ایسی کی کہ زیدی صاحب کے درویشانہ استغنأ کے بس کی بات نہ تھی۔ البتہ ایک دفعہ بہت بدمزگی ہوئی۔ چھوٹے لڑکے نے میٹرک میں علاقے بھر میں نمایاں پوزیشن لی تو بڑے خوش ہوئے۔ اُس وقت فوج میں جے سی اسکیم ہوتی تھی، ٹھان لی کہ بیٹے کو کپتان کی وردی میں دیکھیں گے! بیٹے کو ساتھ لیا اور راولپنڈی جا پہنچے ۔ بھرتی دفتر والے افسر بڑی عزت سے پیش آئے لیکن لڑکے کے قد میں افسری کے معیارات سے انچ بھر کی کمی کی وجہ سے اُنہوں نے معذرت کرلی۔ اب جو زیدی صاحب کا پارہ چڑھا تو واپسی کے تمام راستے میں کھولتے رہے، گھر آتے ہی لٹھ سنبھالی اور اماں بی کو پھٹک ڈالا،
’’نہ مَیں تُجھ ٹھگنی سے بیاہ کرتا نہ میرے بچے کا قد چھوٹا ہوتا، مادر۔۔۔‘‘
ہمسایہ عورتوں نے بیچ میں پڑ کر اماں بی کی جان بخشی کروائی۔ خیر گزری کہ اگلے دو ایک سال میں ہی ان کا وہ لڑکا ائرفورس میں پائلٹ ہو گیا ورنہ اماں بی تو عمر بھر یہ طعنہ سُنتی رہتیں۔۔۔

پناہ حُسین زیدی صاحب نے اپنے برسرِ روزگار، یعنی فوجی بیٹوں سے کبھی کچھ زیادہ طلب نہیں کیا، بس یہی کہا کہ بیٹا ریٹائرمنٹ پر جو رقم ملے، امام باڑہ مہاجرین سادات ضرور بنوانا۔ بڑے دو بیٹوں نے بالعموم اور چھوٹے نے بالخصوص اس نصیحت کو خوب نباہا، لیکن یہ بعد کی بات ہے۔ ایک دفعہ عاشور کی مجالس میں ایک کم سن لڑکے کو دبیرؔ کا مرثیہ پڑھنے پہ مامور کیا گیا۔ فرمائش گاؤں کے ایک بلوچ بزرگ کی تھی جو کہ مہوؔ چھاؤنی سے پڑھ کر آئے تھے اور اردو مرثیے کا خوب ذوق رکھتے تھے۔ لڑکے نے بھی محنت سے کمال تحت اللفظ تیار کیا۔ اگرچہ یہیں کے سیدوں کا لونڈا تھا مگر اُردو کا لہجہ بھی خُوب پیدا کیا۔ مجلس بپا ہوئی تو لڑکے نے مرثیہ شروع کیا، شہزادہ علی اکبر کا سراپا پڑھا۔ سُنی شیعہ، سبھی سُننے والے تھے، باریکیاں سمجھنے والے اگرچہ معدودے چند تھے مگر پھر بھی بہت پسند کیا گیا۔ ایک شعر پہ زیدی صاحب پھڑک اُٹھے! شہزادے کے چہرہ مبارک کا پسینے میں شرابور ہونے کا منظر؛
؎ یہ قدر عرق کی نہ کسی رُو سے بڑھی تھی
شبنم کبھی خُورشید کے رُخ پر نہ پڑی تھی!

زیدی صاحب نے شعر دوبارہ پڑھوایا۔ لڑکے نے پڑھ دیا۔ زیدی صاحب تو وجد میں ہی آگئے، پھر پڑھوایا۔ لڑکے نے پھر پڑھ دیا، زیدی صاحب آنکھیں موندے، جھومنے لگے۔ ’’پھر پڑھو لڑکے میاں!!‘‘ لڑکے نے پڑھ دیا لیکن پنجابیوں نے پہلو بدلنے شروع کر دئیے۔ ’’واہ! واہ! پھر پڑھ لڑکے!‘‘ زیدی صاحب کہے جاتے تھے، لڑکا بیچارہ سہمے ہوئے پڑھے جارہا تھا، آہستہ آہستہ تحت اللفظ رُخصت ہوا، جوشِ خطابت رُخصت ہوا، پھر آواز دھیمی پڑ گئی، آخر نوبت بایں جا رسید کہ زیدی صاحب نے جو فرمایا ’’واہ! پھر پڑھ بیٹے!!‘‘ سید زادہ منمنا ہی سکا، ساتھ ہی اُس نے مجلس میں حاضر دیگر بیزار بُوڑھوں کی طرف امداد خواہ نظروں سے دیکھا تو چچا دلاور خاں بول اُٹھے: ’’شاہ صاحب اتنا پسینہ تو اب تک شہزادے کے رُخ پر نہ ہو گا جتنا آپ نے بچے کا نکال لیا ہے!‘‘

بس پھر کیا تھا، اتنی دیر کی بیزاری قہقہوں میں اُڑی۔ زیدی صاحب کو پنجابیوں کی کور ذوقی اور بدتہذیبی پر سخت غُصہ آیا۔ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ روضہ خواں سے جو گذشتہ سال بھی زیدی صاحب سے ڈانٹ وصول کر چکا تھا، مخاطب ہوئے، ’’ممتاز خاں! کل سے تُم اوپر ٹیلے پر، مہاجرین سادات والے امام باڑے میں مجلس پڑھو گے!‘‘ اور بڑبڑاتے ہوئے چلے گئے۔ یہ رات اُنہوں نے لکھنئو اور اودھ کی عزاداری کی یادیں تازہ کرتے، آہیں بھرتے اور ہنگامی بنیادوں پر ایک امام باڑہ مہاجرین سادات کھڑا کرنے کی ترکیبیں سوچنے میں گزار دی۔ زیدی صاحب اپنی لکھنوی تربیت کے طفیل ہمیشہ سے قائل تھے کہ عزاداری ہمارے کلچر کے عنصر کے طور پر مذہب سے نکلتے قدقامت کی چیز ہے جسے یہ سطحی پنجابی ذہن نہیں سمجھ سکتا۔ پھر اگلے دن زیدی صاحب نے امام باڑہ مہاجرین سادات قائم کرکے پنجابی ذہن کو حیران کر ہی دیا۔ آپ نے ایک عَلمِ جنابِ عباس لیا اور اپنے گھر کے برابر میں ٹیلے کی چوٹی پر برگد کے پیڑ کی سب سے اونچی پھننگ پر باندھ دیا۔پانی کے دو مٹکے بھر کے چھاؤں میں رکھے، مسجد سے مستعار صفیں لا کر بچھائیں اور نیچے بستی میں آن اُترے جہاں پرانے امام باڑے میں مجلس جاری تھی وہاں جا دھمکے۔ ’’ابے او بلوچ کی اولاد!‘‘ ممتاز خان بلوچ روضہ خواں آپ کی آواز سنتے ہی بوکھلا سا گیا۔ ’’تجھے جو کہا تھا کہ آج کی مجلس وہاں اوپر،ا مام باڑہ مہاجرین سادات میں پڑھو گے!‘‘ روضہ خواں بیچارہ چُپ۔ بستی کے بڑے بوڑھوں نے احتجاج کیا کہ شاہ صاحب وہ کاہے کا امام باڑہ ہے جس کے دیوار ہے نہ در؟؟ زیدی صاحب جلال میں آگئے۔ ’’ابے مادرچودو! ہم نے جو کہہ دیا وہ امام باڑہ ہے، کیا وہ امام باڑہ نہیں ہے؟؟ تو اُسے کیا مویشیوں کا باڑہ سمجھتے ہو؟ ہاں تُم اسے امام باڑہ نہیں سمجھتے، مویشیوں کا باڑہ سمجھتے ہو!‘‘ یہ کہہ کر واپس مُڑے، غُصے میں پگڑی اُتار کر گلے کا پٹکا بنا لی، اوپر جا کر امام باڑے والے برگد کے پیڑ کے نیچے سے صفیں سمیٹیں، مٹکے اُٹھائے اور گھر جاپھینکے، پھر ہمسائے میں جا کر اُن کی بکریوں کو ہانک لائے اور برگد کے پیڑ تلے باندھ دیا۔ بلوچوں کے دو دنبے پکڑے، وہاں لے جا کر باندھ دئیے اور درجوابِ آں غزل یہی نہیں کیا بلکہ مقطع بھی خوب لگایا کہ آخر پہ اپنا گدھا بھی لا کر باندھ دیا، ساتھ ساتھ یہ کہتے جارہے تھے؛ ’’مادرچودو! یہ رہا مویشیوں کا باڑہ! تُم اسے امام باڑہ نہیں سمجھتے ناں!‘‘ اُس وقت تو سبھی چُپ کرکے دیکھا کئے، اگلی صبح کے منظر پہ کوئی چُپ نہ رہ سکا بلکہ آج بھی یاد کرکے بوڑھے لوگ مسوڑھے نکال نکال ہنستے ہیں کہ شاہ صاحب نے جو اُٹھ کر دیکھا تو باقی سب مویشی سلامت ہیں، اپنا گدھا مُردہ پڑا تھا۔ اب گدھے کے پہلو میں لاتیں رسید کئے جارہے ہیں اور تحکمانہ فرمائے جارہے ہیں:

’’اُٹھ مادرچود! اناج کھالے!‘‘

لیکن ایک دُھن تھی کہ شاہ صاحب کو سوار ہوئی تو تادمِ آخر امام باڑہ بنانے کیلئے پائی پائی اور آنہ پیسہ اکٹھا کیا۔ گھر میں مُرغی روزانہ انڈہ دیتی تو ایک دن کا انڈہ اپنے مصرف میں لاتے اور دوسرا فروخت کرکے پیسے ’بنامِ مولا‘ رکھ لئے جاتے۔ اس عرصے میں ہم پنجابیوں کے امام باڑے میں آتے تھے، نماز بھی پڑھتے تھے، عزاداری بھی کرتے تھے لیکن ایک معمول عجیب تھا۔امام حُسینؑ کی ضریح پہ نہ جاتے، جنابِ عباس کی ضریح پہ جا کر سلامی دیتے۔ وجہ پوچھی تو ضریحِ حسینؑ کی طرف اشارہ کرکے کہتے،’’ اُس سید نے اِس سید کو کھُل کر لڑنے کی اجازت نہ دی، مصلحت دکھائی، اس سید کو شجاعت نہ دکھانے دی!یہ سولجر سید تھا، سولجر! ‘‘ پھر ضریحِ عباس کو سلیوٹ کرتے۔ امام حُسینؑ سے ناراض رہے کہ عباس کو کھل کر لڑنے نہ دیا لیکن ہم نے سُنا ہے کہ اما م حُسین اس سید زادے سے ناراض ہرگز نہ تھے۔ یہ قصہ زیدی صاحب کی زندگی کے آخری پہر کا ہے کہ جب ایک اجنبی سا شخص ہمارے گاؤں آیا۔ پوچھا یہاں پناہ حُسین نام کا کوئی سید رہتا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں خان کے ڈیرے پر بیٹھے ہیں، اجنبی نے حُلیہ پوچھا تو بتایا گیا۔ وہ پہنچا تو کئی لوگ وہاں موجود تھے۔ زیدی صاحب ہلکے بُخار کی وجہ سے دھوپ سینک رہے تھے، ان کا چہرہ قبلہ رُخ تھا۔ اجنبی نے پوچھا ’’آپ میں سید پناہ حُسین کون ہیں؟‘‘۔ زیدی صاحب چونکے اور اجنبی شخص سے بڑی گرمجوشی سے مخاطب ہوئے، ’’مَیں ہوں! تُو بس میری امانت مجھے دے، مجھے جلدی جانا ہے!‘‘ وہ شخص گھبرا گیا، اُس نے خاموشی سے ایک انگوٹھی اور مُٹھی بھر خاکِ کربلا سے بھری تھیلی اُن کے حوالے کی۔ اُنہوں نے لے کر آنکھوں سے لگائی، مُڑ کر سبھی سے مخاطب ہوئے اور بولے؛

’’اچھا یارو، ہمیں ہمارے مالکوں کا بُلاوا آگیا ہے! چلتے ہیں، خُدا حافظ!‘‘

یہ کہہ کر زیدی صاحب اپنے گھر چلے گئے اور بی اماں سے کہا کہ اُن کا اُجلا بستر لگا دیں۔ بستر لگا، زیدی صاحب اس پر دراز ہوئے، شام کو شور اُٹھا کہ سید پناہ حُسین زیدی دارِ فانی سے رُخصت ہو گئے ہیں۔ اب لوگوں نے چہ مگوئیاں شروع کیں تو اجنبی کا قصہ پھیلا۔ اُس شخص نے شاہ صاحب کے اُٹھ کر آنے کے بعد بتایا کہ وہ کربلائے معلیٰ کا زائر تھا۔ وہاں روضۂ امام حُسینؑ پر اُسے خُدام میں سے کسی عراقی نے یہ دونوں چیزیں دے کر کہا تھا کہ تمہارے صحرا میں پناہ حُسین نام کا ایک سید رہتا ہے، یہ اُسے دے دو، کہنا سید الشہدأؑ اپنے عزادار کو سلام بھیجتے ہیں۔ دادا جان سے میں نے سُنا تھا کہ اجنبی نے کہا تھا کہ کربلا میں عالمِ خواب میں امام نے خود زیارت کروا کراس زائر کو یہ حُکم دیا تھا، خیر، ایک سال سے وہ اجنبی صحرائے تھل کے گاؤں گاؤں میں پناہ حسین نام کے سید کو ڈھونڈتا پھررہا تھا۔یہ واقعہ آج تک ہمیں حیران کئے ہوئے ہے۔ پناہ حُسین زیدی صاحب کو اسی امام باڑہ مہاجرین سادات کے احاطے میں، برگد کے پیڑ تلے دفن کیا گیا، ہمراہ وہ انگوٹھی اور مٹھی بھر کربلا کی خاک بھی کی گئی۔ اس امام باڑے کی چاردیواری وہ اپنی زندگی میں آنہ پائی جوڑ کر بنوا چکے تھے۔ ریٹائرمنٹ پر ان کے چھوٹے بیٹے اسکواڈرن لیڈر شہسوار حسین زیدی نے اُسے ایک شاندار، وسیع امام باڑے کی شکل دی۔ وہ جو پنجابی لونڈے اس سید زادے کی اُردو پہ ہنستے تھے، اب ان میں سے کچھ بوڑھے ہو کر اور جو گزر گئے ان کی اولادیں اسی امام باڑے میں سید الشہدأ کا گریہ کرتے ہیں، ہر مسلک کی عورتیں اب یہاں آکر نذر نیاز دے جاتی ہیں، زیدی صاحب کی قبر پہ فاتحہ پڑھ جاتی ہیں۔ جنازہ گاہ کے طور پر بھی یہ سبھی کے لئے کھلا ہے۔

اب چونکہ عزاداری صرف زیدی صاحب کے ہم مسلکوں تک ہی مخصوص رہ گئی ہے کہ باقی سبھی لوگوں کو ’’خالص اسلام‘‘ کا راستہ دکھانے والے راہبر مل گئے ہیں، کچھ مجھ ایسے ہیں جنہیں ’سائینٹفک‘ سوچ کے زعم نے دوعالم کے عقیدوں سے آزاد کردیا ہے (لیکن تہذیب و ثقافت کے بندھن سے پھر بھی آزاد نہیں ہیں ) سو کبھی کبھار اس طرف آنکلتے ہیں جہاں زیدی صاحب کی قبر اُن کی یاد دلاتی ہے، تو اب اُنہیں یاد کرنے والے لوگ کم ہی رہ گئے ہیں۔مگر جب جب اُن کا ذکر ہوتا ہے تو سوچتا ہوں کہ شاید ایک وقت آئے گا جب ہم نام نہاد خرد والے مٹی میں مل جائیں گے، خرد والوں کی ایک نئی نسل آئے گی تو جب جب انہیں ان کے تہذیبی و ثقافتی رشتے کی طنابیں اپنی بُنیاد کی طرف کھینچیں گی تو وہ بھی ہمارا نہیں، ایسے ہی دیوانوں کا تذکرہ لکھنے پر مجبور ہو جائیں گے!!

سرگودھا،
۸ فروری بیس سو اُنیس۔

Image: Nad-e-Ali

Categories
فکشن

نام بختاور سنگھ

روز کی طرح آج بھی ماسٹر بدری ناتھ صاحب تشنہ کی بیٹھک پر ان کے شاگرد اور دیگر اہلِ محلہ جمع تھے اوران کے کلامِ تازہ اور حُقے سے لُطف اندوز ہو رہے تھے کہ دارا پٹھان گانجا فروش آدھمکا؛

‘‘اُستاد صاحب! سُنتے ہو؟ آج آپ کے شاگرد خسرو طلعت کی سگائی کی رسم میں اُن کے سُسر اورمیر مُلا میں خوب ٹھنی، تلواریں کھنچ گئیں، خیر گزری کہ چلی نہیں’’

‘‘کیوں؟ کس لئے بچے کی سگائی بے مزہ کر دی میر مُلا نے؟’’

‘‘میر مُلا نے کہاں بد مزہ کی، میرزا عماد الدین نے میر خسرو سے اپنی بیٹی بیاہنے سے ہی انکار کر دیا ہے’’

‘‘جنم جنم کے کم بخت، نام بختاور سنگھ۔۔۔ بے چارہ میر خُسرو طلعت۔۔۔’’

اُستاد صاحب نے کہا تو سامعین مسکرائے۔

‘‘یہ صاحبزادہ جس روز مدرسے داخل ہوا تھا، اس روز مدرسے کی چھت گر گئی تھی’’

اُستاد نے اپنا ٹیڑھا ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا تو سامعین محفل نے یوں بے ساختہ قہقہہ لگایا گویا یہ واقعہ بھی پہلی بار سُن رہے ہوں۔ میر خُسرو کا تو نام ہی بختاور سنگھ پڑگیا، بعد میں فقط ‘بختو’ رہ گئے۔

میر صاحب دلی کے محلہ سیدواڑہ میں جمعدار میر ابوالمعالی مہابت جنگ کے ہاں پیدا ہوئے جوکہ محبوب علی خاں نظام دکن کے توپ خانے میں بڑے یگانہ روزگار اور نام ورتوپچی تھے۔ جمعدار صاحب ان کے اوائلِ عمر ہی میں وفات پاگئے تو میر بختو اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی ننھیال آرہے جو کہ دریبے میں تھی۔ یہاں ماموں میر مُلا کے ہاں پروان چڑھے جو کہ اپنے زہد و تقویٰ ، نجابت اور بددماغی کی وجہ سے بڑے معزز تھے۔ میر بختُو مدرسے کی عُمر کو پہنچے تو دریبے کے سب سے اچھے مدرسے میں داخل کروائے گئے لیکن جس روز مدرسے میں قدم رکھا، اتفاق سے مدرسے کی چھت آن گری۔ اسے بد شگونی قرار دے کر دوسرے مدرسے میں جابٹھایا تو سؤ اتفاق کہ پہلے ہی روز اس میں وہ آگ لگی کہ مدرسہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ کسی دشمن نے کہ دیا کہ میر خسرو طلعت اپنے نام کے بر عکس واقع ہوئے ہیں، میرصاحب کی ماں نے بات دل پر لے لی اور پھر انہیں کبھی مدرسے نہ بھیجا، لیکن پڑھی لکھی خاتون تھیں، گھر میں مدرسے سے اچھی تعلیم دی۔

میر صاحب کو بچپن سے ایک ہی سودا سوار تھا ۔ اقارب سے اپنے والد مرحوم کے کمال و ہنر کا تو سُن رکھا تھا، والد سے انس بھی انہیں بے حد تھا ، پھر پیشۂ آبأ کسے نہیں بھاتا، ٹھان لی کہ والد معظم جمعدار میر ابوالمعالی کے سے اوجِ کمال کو پہنچیں گے۔ بچپن میں اپنے نانا کی جریب تھامے ، بندوق بنائے اپنے ہم سنوں کو ڈراتے پھرتے تھے اور لڑکپن میں تو لکڑی کی ایسی کھلونا توپ بنائی کہ اصل دِکھتی تھی جسے میِر مُلا سمیت سبھی نے بے حد سراہا اوررسالدار تفضل حسین خاں بہادر نے تو ایک رُپیہ انعام بھی کیا۔ سولہ سال سے کچھ اوپر کے ہوئے تو میر صاحب کی منگنی قرار پائی لیکن شومئی قسمت کہ منگنی کی شب لڑکی کے سرسام کا ایسا تھپییڑا لگا کہ جاں بر نہ ہو سکی۔ ایک سال بعد کہیں میرزا عماد الدین کی صاحب زادی سے نسبت طے پائی لیکن کسی دُشمن نے وہ کان بھرے کہ وہمی میرزا عمادالدین نے عین موقع پر میر صاحب کی کُنڈلی نکلوانے کا حُکم دے دیا۔ میر مُلا اس ہندوانہ چلن پر سخت سیخ پأ ہوئے اور شدید بد مزگی ہو گئی۔ قصہ مختصر میرزا عماد نے انکار کر دیا اور میر بختو کی والدہ نے وہ صدمہ دل پر لیا کہ چند ہی ماہ میں عدم سدھار گئیں۔

اب میر بختو کی زندگی کو ایک تکلیف دہ جمود کا سامنا تھا ، کوئی کام کرسکتے نہ کہیں دل لگتا۔ میر مُلا سمیت کئی رشتہ داروں کے مزاج بدل گئے اور میر صاحب تنہائی کے گرداب میں پھنس گئے۔ غم غلط کرنے کو ماسٹر بدری ناتھ صاحب المتخلص تشنہ کے ہاں شاعری میں شاگرد ہو گئے۔ طبع بھی موزں تھی لیکن شعر نہ کہہ سکے۔ خُدا اپنے بے یارومونس لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ قدرت نے رسالدار تفضل حسین خاں بہادر کی لڑکی رخشندہ بانو کے دل میں میر صاحب کے لئے مہرومحبت کے لالہ و گل اُگا دیئے۔ اگرچہ میر صاحب واجبی سی شکل و صورت رکھتے تھے، ننھالیوں کی طرح لمبے اور گورے چٹے لیکن دُبلے پتلے سے تھے۔ ہنستے تو گالوں پر دو لمبی جھریاں پڑ جاتیں جنہیں وہ نہرِ ذقن کہہ کر خوش ہو لیتے۔ رخشندہ بانو نے ان کے ولولوں اور مزاج کی گمشدہ رعنائیوں کو ازسرِ نو زندہ کردیا۔ تب میر صاحب نے پہلی بار کوئی ایسی غزل کہی کہ ماسٹر صاحب سُن کر پھڑک اُٹھے ، فرمایا:

‘‘دیکھو اب رعنائیِ خیال تمہارے کلام میں عود کر آئی ہے، کس شخص کا تصور در آیا ہے؟’’

میر مُسکرائے؛ ‘‘بس اُستادِ معظم، ایک بنتِ حوا ہے جو ابنِ مریم بن کر آئی ہے’’

ماسٹر جی بھی ہنس دیئے کہ لونڈا صنائع بھی سیکھنے برتنے لگا ہے۔ اب تک میر صاحب کا دل کاروبارِ حیات سے ایسا اُٹھ چکا تھا کہ انہیں اپنا سپہ گری کا شوق بھی پہلے کی طرح بے چین نہ کرتا تھا لیکن اس ‘رسالدار زادی’ نے جہاں میر صاحب کو نئی زندگی دی ، وہاںان کے شوق کو بھی زندہ کر دیا ۔ اُسی کے کہنے پر ہی میر صاحب اپنا شجرۂ نسب اور والد کے کاغذات لے کر دکن کے انگریز کپتان صاحب سے بھرتی کی سفارش حاصل کرنے روانہ ہوئے جو کہ میر ابوالمعالی کے واقف کار تھے۔ قدرت کو اب کچھ اور ہی منظور تھا کہ جس روز میر صاحب دکن پہنچے، کپتان برنابی صاحب بہادر ملکِ سندھ کی کسی ولائیت کو جا چکے تھے۔ میر دلگیر واپس آئے اور بہت آزردہ ہوئے۔ رخشندہ بانو نے حوصلہ افزائی کا خط بھیجا اوران سے وعدہ لیا کہ اب ہرگز رنجیدہ نہ ہوں گے، اور اب کے دلی چھوڑیں گے تو پھر میر ابوالمعالی مرحوم کی طرح نامور سپاہی بن کر لوٹیں گے، رخشندہ بانو عمر بھر ان کا انتظار کرے گی۔

کئی دن گزرے تھے کہ میر صاحب گھر کے چھجے میں بیٹھے ، قلم تھامے، کاغذ پسارے، غزل کہنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن بات مطلع سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی؛

ہرروز سنور بن کے ترا یاں سے گزرنا
ٹُک دیکھ ہمارا بھی کبھو جاں سے گزرنا

بہت دیر سوچا کئے لیکن جب کچھ نہ بن پڑا تو ناگواری سے کاغذ مروڑ ا اور چھجے سے نیچے پھینک دیا۔ اتفاق کہیئے یا میر صاحب کی بد بختی، کہ گلی میں ماسٹر بدری ناتھ کی لڑکی کاویری اپنی ہمجولیوں کے ساتھ حسبِ معمول بن ٹھن کر پوجا پاٹ کیلئے جا رہی تھی ۔ مطلع کاویری کے سامنے آ کر گرا تو اُس نے اُٹھا کر پڑھا، انہی قدموں پر واپس لوٹی اور مطلع باپ کے حوالے کردیا اور لگی پھسر پھسررونے۔ کاویری شریف لڑکی تھی اور لاڈلی بھی۔ ماسٹر صاحب تو وہ آگ بگولا ہوئے کہ لٹھ سنبھالی اور آدھمکے میر صاحب کے گھر۔ نیچے بُلوا کر میر بختو کی وہ خبر لی کہ کھال اُدھیڑ کر رکھ دی۔ میر صاحب حماقت کی حد تک نیازمند تھے، اپنی صفائی بھی بخوبی پیش نہ کر سکے ، شکا یت میر مُلا تک پہنچی تو آؤ دیکھا نہ تاؤ، گویا پہلے سے ہی عذر کی تلاش میں تھے، فوراً میر بختو کو گھر سے نکال دیا۔

گھنشام بابو میر صاحب کا بچپن کا یار تھا، انگریزی جانتا تھا جس وجہ سے ‘بابُو ’ مشہور تھا اور لاہور میں نوکر تھا۔ میر صاحب کی بے دخلی کی خبر سُنی تو گھنشام بابو نے انہیں ساتھ لیا اور لاہور روانہ ہو گئے۔ پورے سفر میں میر صاحب کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے رہے، جلا وطنی کے دکھ میں نہیں بلکہ اُس آخری پیغام پر جو رخشندہ بانو نے یہ خبر سُنتے ہی بھیجا تھا:

‘خُسرو طلعت! آپ بد بخت تو مشہور تھے ہی، لیکن بد نیت بھی ہیں، اس کی ہمیں خبر نہ تھی۔ شائد کاویری جی ہی آپ کے لائق تھیں،یہ باندی نہیں۔۔۔’

گھنشام بابو نے بہتیرا سمجھایا ، بہلانے کے حیلے کئے لیکن میر صاحب بجائے سلجھنے کے، اُلجھتے ہی جا رہے تھے۔ بات شکررنجی تک پہنچی تو لاہور سے پہلے ہی کسی ہالٹ پر ریل سے اُتر گئے۔ مغرب سے آنے والی کیس گاڑی میں سوار ہو ئے اور مُلکِ حیدرآباد کا قصد کیا۔حیدر آباد میں ایک سرائے میں آٹھہرے اور کچھ دنوں بعد یہاں سے میر صاحب نے گھنشام بابو کو خط لکھا اور معافی مانگی کہ ناحق دوست سے خفا ہوا۔ گھنشام بابو کا جواب آیا کہ رخشندہ بانو کے بیاہ کی خبریں ہیں اور وہ ہاپُڑ جانے والی ہے۔ انہیں بجا طور پر افسوس تھا کہ رخشندہ بانو نے انہیں کس عجلت سے ہرجائی سمجھ لیا تھا۔میر صاحب اور دلگرفتہ ہوئے۔

وہ حیدرآباد میں جس مہمان سرائے کے برآمدے میں پناہ گزین تھے، وہاں کسی نے انہیں بتایا کہ اورنگ آباد میں کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر نے چند ماہ کیلئےتو پ خانے کی تربیت کی پلٹن کھڑی کی ہے اور رنگروٹ تیار کرکے ریاستی توپ خانوں میں بھیجیں گے۔ میر صاحب کو امید کی ایک کرن نظر آ ئی کہ شائد بھرتی کی کوئی راہ نکل آئے کیونکہ صاحب موصوف میر ابوالمعالی کے رفیق کار بھی تھے اور دوست دار بھی۔ میر ابوالمعالی اس دور کے توپ خانہ جمعدار تھے جب دیسی سپاہیوں میں کم ہی لوگ توپ خانے کے ماہر تھے اور اس صیغہ پر انگریز کا براہِ راست اختیار تھا۔ دراصل ۱۸۵۷ کے بعد دیسی سپاہیوں اور بالخصوص مسلمانوں کو حتی الوسع اس صیغے سے دور رکھا گیا تھا۔ کپتان برنابی اور میر ابوالمعالی میں خوب گاڑھی چھنتی تھی اور باہم تحائف کا تبادلہ بھی رہتا تھا۔ کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر شعرو سخن کا ذوق بھی رکھتے تھے اور توپ خانہ سے انہیں عشق تھا۔ ہندوستانیوں سے کمال شفقت سے پیش آتے تھے لیکن انگریزوں میں غیر مقبول ہی رہے۔ سارجنٹ سے صاحب بنے تھے اور حال ہی میں فوجی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے۔ اورنگ آباد میں پلٹن کھڑی کرنے کا مقصد صرف اپنا دل لگائے رکھنا اور فراغت کا مشغلہ بنائے رکھنا تھا۔ ان کے ہاں اولاد نہ تھی لیکن میم صاحب اس ڈھلتی عمر میں بھی بے حد محبت روا رکھتی تھیں۔

میر صاحب کا بچپن کا شوق ایک بار پھر سے جوان ہو گیا اور وہ کپتان برنابی صاحب سے امیدیں وابستہ کئے اورنگ آباد روانہ ہو گئے۔ اُمید نے وہ سرشاری بخشی کہ گزشتہ تلخیاں بھی وقتی طور پر ذہن سے اُتر گئیں۔ اورنگ آباد پہنچ کر پہلے اُستاد چُغری خاں سے مُلاقات ہوئی جو میر صاحب کے والد مرحوم کے ہم پیشہ و ہم جلیس تھے۔ اُستاد چُغری خاں جو آج کل کپتان برنابی صاحب کے ایجٹن تھے، میر صاحب کو کپتان صاحب کے بنگلے پر لے گئے جہاں صاحب بہادر اور میم صاحب باغیچے میں بیٹھے شطرنج کھیل رہے تھے۔ اُستاد چغری خاں نے کپتان صاحب سے میر صاحب کا تعارف کرایا تو کپتان صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور میر صاحب کو گلےلگا لیا۔ چند جملے انگریزی میں اپنی میم صاحب کے گوش گزار کر کے دیر تک میر صاحب سے باتیں کرتے رہے۔

‘‘خُسرو طلعت ! تُم پیدا ہوئے تھے، تب ہم لفٹین تھے، اب تُم نوجوان۔۔۔ہم کپتان! ہاہاہا!’’ کپتان صاحب کا یوں ہنس کر اور اس اپنائیت سے ملنا میر صاحب کو بہت اچھا لگا۔

‘‘پیارا بچہ ہائے۔۔۔’’ میم صاحب نے بھی میر صاحب کو دیکھا اور کہا۔

کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر کے ہاں بھی قریب قریب صلہ داری نظام کے تحت پلٹن کا کاروبار تھا، یعنی رنگروٹوں کو اپنی وردی اور رہائش کا خرچ خود کرنا ہوتا تھا لیکن میر خُسرو کو جنہیں کوئی بھی یہاں میر بختو نہیں کہتا تھا، کوئی مسئلہ درپیش نہ آیا۔ میر خسرو اپنے نئے اُستاد ، جمعدار ایجوٹنٹ چغری خاں کے ساتھ رہتے تھے۔ چغری خاں عمر رسیدہ فارسی بان توپچی تھا اور اپنی زبان کی طرح اخلاق بھی شیریں رکھتا تھا۔ میر صاحب کو وہ کمال شفقت سے موچی کے ہاں چھوڑ آیا اور ان کے لئے ان کے ناپ کا فوجی بُوٹ، کمر بند اور نیام بنانے کا حُکم دیا۔

‘دِلی کے ہو جوان؟’ موچی نے میر صاحب کو سرتاپا دیکھ کر سوال کیا تو میر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا نام بتایا۔

‘آئیے قبلہ۔۔۔ میرا نام ولائیت حُسین ہے اور میں بھی دِلی سے ہوں!’ ولائیت حسین دراصل موچی نہ تھا بلکہ غدر کے وقت میرٹھ کے ویلی بازار کا نامی طبلہ نواز تھا اور نتھُو پکھاوجی کے نام سے مشہور تھا۔ جب اہلِ کمال کو چُن چُن کر قتل کیا جانے لگا، جبکہ نتھوُ کی بھی ہندوؤں سے عداوت چل رہی تھی، تو رسالدار بہرام سنگھ نے اسے وہاں سے نکالا اور یہ ہمیشہ کیلئے اورنگ آباد کا ہو رہا ۔ اپنے ہم پیشہ لوگوں کے قتل کے بعد طبلہ پھینک کر چرم چمڑے کا کام اپنایا جو اس کے باپ کا پیشہ تھا۔ اس سے بھی میر صاحب کو خُوب ربط بن گیا۔

کپتان صاحب کبھی کبھار میر خسرو کو شام کے کھانے پر بلاتے تھے اور اُستاد چُغری خاں سے ان کا خاص خیال رکھنے کو کہتے۔ اب میر خُسرو نے اُمید باندھی کہ یہاں سے وہ ایک دن نامور توپچی بن کر نکلیں گے اور ضرور مہابت جنگ جیسا کوئی لقب پائیں گے۔ اُنہوں نے ٹھان لی کہ اب ان کی زندگی میں بندوق اور توپ کے سوا کوئی‘ مؤنث’ نہیں ہو گی۔

تربیت کے باقاعدہ آغاز سے قبل میر خُسرو کو بتایا گیا کہ پہلے وہ بندوق کے استعمال میں مہارت حاصل کریں گے، پھر توپچی کی تربیت پائیں گے۔ اس پلٹن کے پاس درجن بھر بندوقیں ہوں گی اور تین توپیں۔ یہ بندوقیں اور توپیں لگ بھگ تیس سال پُرانی تھیں اور کسی ہندُو راجہ سے کپتان صاحب نے سستے داموں خریدی تھیں۔ ذیادہ تر بندوقیں دیسی ساختہ تھیں اور نالی سے بھری جاتی تھیں۔ ولائیت کی انفیلڈ کی بنی بندوقیں بھی بھرنے میں ایسی تھیں لیکن ہزار گز تک گولی پھینکتی تھیں ۔ البتہ ان کا بارود اور کارتوس کم یاب تھا اور محدود مقدار میں دستیاب تھا اسی لئے تربیت کے کچھ اسباق خالی بندوقوں سے پڑھائے جاتے۔ ہفتہ میں تین روز اُستاد بندوق سر کرنا، توپ بھرنا اور ہر دو کی دیکھ بھال اور صفائی وغیرہ سکھاتا تھا۔ ہر اتوار کی شام کپتان صاحب خوُد آتے تھے اور ہر رنگروٹ اُن کی موجودگی میں بندوق سر کرتا۔

میر خسرو طلعت کی تربیت کا آغاز ہوا۔ پہلے تین ہفتے بندوق اور توپ کی دیکھ بھال اور صفائی سیکھی، بندوق سر کرنا سیکھی اور پھر جا کے اتوار کے ملاحظے میں حاضر ہوئے۔ کپتان برنابی صاحب نے میر صاحب کو رنگروٹوں کی قطار میں دیکھا تو زیرِلب مسکرائے، اُستاد چُغری خاں نے بھی ان کے جواب میں باچھیں پھیلائیں۔ کپتان صاحب ہمراہ جے صاحب (جمعدار ایجوٹنٹ صاحب) اور دبیر سنگھ توپچی کے، میدانِ مشق میں کھڑی رنگروٹوں کی قطار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک گئے، باری باری ہر رنگروٹ کے پاس آکھڑے ہوتے، رنگروٹ بندوق بھرتا، سر کرتا ، پھر سے بھرتا، دوبارہ گولی داغتا اور پھر ہوشیار کھڑا ہو جاتا۔ کپتان صاحب اپنی رائے سے نوازتے اور اگلے رنگروٹ کی طرف بڑھ جاتے۔ میر خسرو طلعت پُر جوش بھی تھے اور متذبذب بھی۔ ہتھیلیوں پر پسینہ آرہا تھا اور دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ کپتان صاحب ان کے پاس آئے تو میر صاحب نے فوجی سلام کیا، کپتان صاحب مسکرائے ، احوال پرسی کی اوربندوق بھرنے کا حُکم دیا۔ فرطِ جوش سے میر صاحب کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ بارود بھرنے لگے تو بہت سا گرا ڈالا۔ پھر بندوق چلائی تو ٹُھس کی آواز کے ساتھ کارتوس میر صاحب کے سامنے ہی گر گیا۔ کپتان صاحب نے اُستاد چُغری خاں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا، اُستاد نے میر صاحب کی طرف دیکھا اور میر صاحب نے نظریں جھکا لیں کپتان برنابی صاحب نے کندھے اچکائے اور آگے چل دیئے۔ میر بےحد اداس ہوئے لیکن استاد چُغری خاں نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور تشفی دی کہ ایک رنگروٹ سے یہ بعید نہیں ، پھر جھوٹ موٹ ایک ایسا قصہ میر ابوالمعالی مرحوم کی بابت بھی سُنا ڈالا۔ میر صاحب بھانپ تو گئے لیکن خاموش رہے اور سنبھل گئے۔ تربیت میں تیغ زنی اور بانک بنوٹ کے فن بھی شامل تھے لیکن میر صاحب کی دُبلی جسامت اور ان کے توپ و تفنگ کے شوق نے انہیں اس طرف ذیادہ نہ آنے دیا۔

ایک بار پھر استاد چغری خاں نے انہیں اتوار کی مشق میں لا کھڑا کیا کہ اب کی بار ہمت کیجئے اور خوب نشانہ باندھیں۔ میر صاحب میدانِ مشق میں کھڑے بار بار گتے کے کارتوس کو مٹھی میں بھینچے اُس سمت دیکھ رہے تھے جس طرف سے کپتان برنابی نے آنا تھا ۔ وقتِ مقررہ پر کپتان صاحب آئے، اُستاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ توپچی نے اُن کا استقبال کیا ، میر صاحب نےاپنی باری آنے سے قبل کارتوس کا ایک بار پھر جائزہ لیا جو شائد پُرانا تھا کہ نرم پڑ چکا تھا لیکن میر صاحب کا خیال تھا کہ خوب چلے گا۔ ان کی باری آئی تو کارتوس کو دانت سے کاٹا، بندوق میں بھرا اور بندوق چلا دی۔ شومئی قسمت کہ بارود پرانا تھا، اب کے بار رنجک چاٹ گئی اور بندوق سر نہ ہو سکی۔ کپتان صاحب کچھ دیر سر جھکا کر سوچتے رہے، اور مونچھ کو تاؤ دیتے رہے۔ اس دوران اُستاد چغری خاں اور دبیر سنگھ پر خاموشی طاری رہی۔ ‘‘اُستاذ! مشق کی ضرورت ہے!’’ کپتان صاحب نے کہا اور رخصت ہو گئے۔ میر صاحب نے بندوق پرے پھینکی اور زمین پر بیٹھ گئے۔ اس رات کھانا بھی نہ کھایا اور رات دیر تک بے قراری کے عالم میں جاگتے رہے۔ کبھی والد مرحوم کو یاد کر کے بہت روئے تو کسی دم والدہ مرحومہ کو۔ اپنی بدبختی کو کوستے اورسسکیاں لیتے خُدا جانے رات کے کس پہر آنکھ لگی۔ اگلی صبح اُستاد چُغری خاں نے میر صاحب کی آنکھوں سے ہی اندازہ لگا لیا کہ صاحبزادے نے معاملہ دل پر لے لیا ہے۔ کپتان صاحب سے ملاقات ہوئی تو استاد نے سرِ راہے بتا دیا کہ صاحب بہادر کا لاڈلا اداس ہے۔ کپتان صاحب نے حکم دیا کہ میر صاحب شام کا کھانا ان کے ہمراہ کھائیں گے۔ کپتان صاحب اکثر ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے کہ عشق اور سپہ گری کسی کا رنگ ، مذہب اور نسل نہیں دیکھتے۔ کم سن میر صاحب سے انس شائد فقط بے اولادی کی وجہ سے ہی نہیں، سپہ گری کے پیشے کی دین بھی تھا کہ میر ابوالمعالی کا بھی کپتان صاحب ایک اچھے اور کہنہ سال سپاہی ہونے کی وجہ سے از حد احترام کرتے تھے۔ میر صاحب جب کپتان برنابی صاحب کے ہاں گئے تو کپتان صاحب نے ان کی آزردگی کی وجہ پوچھی اور پھر دیر تک ان کی ہمت بڑھاتے اور غم غلط کرنے کی باتیں کرتے رہے۔ لطائف اورشعر و سخن کا تبادلہ بھی ہوا اور میر صاحب کی طبیعت ایک بار پھر ہلکی پھلکی ہوگئی۔

کپتان برنابی صاحب کی حوصلہ افزائی نے میر صاحب کو پھر سے تربیت پر آمادہ کیا تو وہ ایک بار پھر میدان کی مشق میں آکھڑے ہوئے۔ اب کی بار میر صاحب کو سب سے پہلی باری دی گئی تھی۔ان کے ساتھی بڑے تجسس سے دیکھ رہے تھے کہ کپتا ن صاحب بہادر کا چہیتا کیوں کر بندوق سر کرتا ہے ۔ آج انہیں ولائیتی انفیلڈوالی بندوق دی گئی جس کا کارتوس بھی اچھا تھا۔ یہ بندوقیں ۱۸۵۷ کے بعد اب آکر کپتان برنابی صاحب نے استعمال کی تھیں جبکہ باقاعدہ افواج میں ان کے متنازعہ ہو جانے کی وجہ سے ان کا استعمال قریباً ختم ہو چکا تھا اور ان کی جگہ اب مارٹینی ہنری اور سنائیڈر کی بندوق نے لے لی تھی۔ میر صاحب نے پورے اعتماد کے ساتھ بندوق بھری، نشست باندھ کر لبلبی دبا دی لیکن گھوڑے نے چلنے سے انکار کر دیا۔ اس مردود پرزے نے عین وقت پر بے وفائی کی تو میر صاحب گھبرا گئے۔ اسی لمحے اُستاد چغری خاں نے آگے بڑھ کر بندوق تھام لی جبکہ کپتان صاحب انگریزی میں کچھ بڑبڑانے لگے۔ اس سے پہلے کہ استاد ٹھونک بجا کر بندوق کے نقص کا اندازہ لگاتے، بندوق استاد کے ہاتھ میں ازخود چل گئی اوردبیر سنگھ توپچی کا، جو کہ لپک کر اُستاد کے پاس آگیا تھا اور بندوق کی نال کے سامنے کھڑا تھا، بایاں پاؤں زخمی کر گئی۔ کپتان برنابی نے جو یہ منظردیکھا تو پہلے بے ساختہ ہنس پڑے، پھر سنجیدہ ہو کر واپس چلے گئے۔ میر صاحب دیر تک یہی سوچتے رہے کہ کپتان صاحب نے قہقہہ لگا کر اُن کی نحوست اور بدبختی کی داد دی ہے۔ بہت خفا ہوئے، رات دیر تک شہر سے ہٹ کر ایک مندر کے پچھواڑے میں، ندی کنارے بیٹھے رہے۔ رات بھی چاندنی تھی اوردل بھی اداس ۔ بڑی مدت کے بعد آج میر صاحب کو رخشندہ بانو کا خلوص یاد آیا۔ اس کی بہت کمی محسوس کی لیکن جب اس کا ترکِ تعلق یاد آیا تو ہر تلخ و شیریں یاد کو ذہن سے جھٹک کر اُٹھ آئے۔ میر صاحب اگر اس قدر حساس نہ ہوتے تو شائد قدرت بھی ان کے ساتھ اتنی چھیڑ چھاڑ نہ کرتی۔ میر صاحب کی رنجیدگی اور دلگرفتگی کا قصہ پھر کپتان صاحب تک پہنچا تو وہ میم صاحب کے ہمراہ خود ہی اُستاد چُغری خاں کے ہاں چلے آئے۔ میر صاحب کو پاس بٹھایا اور کہا؛

‘‘میر صاحب، تُم فقط تھوڑے سے بدقسمت واقع ہوئے ہو ورنہ سپہ گری میں تُم ہرگز نالائق نہیں ہو، لیکن بہادر بنو!’’

میم صاحب نے فرمایا: ‘میر، ٹُوم جس دن نظام کی فوج میں بھرتی ہو گا، میں ٹُومارا شادی بناؤں گی’ میر صاحب مسکرا کر چپ ہو رہے۔
میم صاحب نے سفارش کی کہ میر خسرو کو توپ کی تربیت دی جائے، شائد اسے ہماری پلٹن کی بندوق راس نہیں ہے۔ کپتان صاحب نے سفارش مان لی ۔ پلٹن میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ، بلکہ کچھ لوگوں نے تو شرطیں بدنا بھی شروع کر دیں کہ میر خسرو کیسے توپ چلائے گا۔ اب استاد چغری خاں نے میر صاحب پر سخت محنت شروع کر دی اور کئی روز مشق اور قواعد کے بعد کپتان صاحب سے اجازت طلب کی کہ میر صاحب کو مشق کروائی جائے کہ وہ توپ چلا کر دکھائیں۔ کپتان صاحب نے پلٹن کی سب سے چھوٹی توپ (توپک) میر صاحب کے لئے نکلوائی ۔ یہ توپ پیندے سے بھری جاتی تھی جس میں گولہ ڈال کر دندانے دار بیلن کا پیندا گھما کر کس دیا جاتا تھا۔ بہت ہلکی توپ تھی اور استاد قالی خاں نے بیجا پور میں پہاڑی توپ خانےکیلئے ڈھالی تھی۔جب سے یہ توپ استاد قالی خاں نے کپتان صاحب کو تحفہ کی تھی، یہ توپ کم ہی چلی تھی۔ مقررہ روز جب میر صاحب نے مشق کے میدان میں توپ چلانا تھی ، اس روز استاد چغری خاں اچانک بیمار پڑ گئے، جس وجہ سے کپتان صاحب کے ہمراہ دبیر سنگھ توپچی کو آنا پڑا جس کا پاؤں ہنوز زخمی تھا۔ وقت مقررہ پر کپتان صاحب کی موجودگی میں جب میر صاحب نے توپ بھری، تمام پلٹن دیکھ رہی تھی، سب نے میر صاحب کے ماہرانہ انداز کی داد دی اور کپتان صاحب بھی دیکھ کر خوش ہوئے۔ میر صاحب نے بڑے اعتماد سے توپ میں سلامی کا گولہ ڈالا اور دبیر سنگھ کے، جو کہ چند قدم پیچھے کھڑا تھا، اشارہ کرنے پر مہتابی دکھا دی۔ چھوٹا سا دھماکا ہوا اور پیندے کا دندانے دار بیلن (بریچ) ٹوٹ کر کسی پٹاخے کی طرح پھٹ گیا جس کا ایک ٹکڑا دبیر سنگھ کی دائیں ٹانگ پر لگا جبکہ دوسرا اپنی پوری شدت سے عقب میں ایک درخت میں پیوست ہو گیا۔ آگ کے شعلے سے میر صاحب کی بھنویں اور سر کے بال بھی کچھ جھلس گئے۔ دراصل کسی نے غور نہیں کیا کہ پیندے کے بیلن میں پرانا پڑ جانے کی وجہ سے بال کے برابر دراڑ پڑ گئی تھی۔ یہ تو خیر گزری کہ سلامی کا گولہ ڈالا گیا تھا ورنہ اُلٹی توپ چلنے سے بہت نقصان ہوتا تھا۔ کپتا ن بے حد خفا ہو کر وہاں سے چل دیے۔ تمام لوگوں نے اسے دبیر سنگھ کی نااہلی قرار دیا لیکن کپتان صاحب ناروا میر خسرو سے ناراض ہو گئے ۔ اسی شام کپتان صاحب دبیر سنگھ کی عیادت کے بعد استاد چغری خاں کی عیادت کو بھی آن پہنچے تو میر صاحب سے بھی سامنا ہوا لیکن بات نہ کی۔ استاد نے میر کی وکالت کرنے کی کوشش کی تو کپتان برنابی صاحب آگ بگولہ ہو گئے؛

‘‘اُستاذ، من ہرگز باور نکنم کہ اُو خلفِ ابوالمعالی است’’ کپتان صاحب نے سخت غصے میں کہا اور چلے گئے۔ میر صاحب نے بھی سُن لیا اور سخت بُرا مان گئے اور اسی شب اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اورنگ آباد سے روانہ ہو گئے۔ جاتے ہوئے استاد چغری خاں سے کہا؛ ‘‘اُستادِ من، ہم سپہ گری پر تین حرف بھیج چکے، اب جاتے ہیں اجمیر، خواجہ کی درگاہ میں ٹھکانہ کرنے ’’ استاد سن کر پریشان سے ہوگئے ، ‘‘میر خسرو طلعت! خدارا دل میلا نہ کیجو، ابھی تو آپ رنگروٹ ہیں!’’ استاد نے ملتجیانہ کہا لیکن میر صاحب ، کپتان صاحب کی بات دل پر لے چکے تھے، ہرگز نہ رُکے اور اجمیر روانہ ہو گئے۔ اگلے روز جب کپتان صاحب کو واقعہ کا علم ہوا تو پہلے سخت برہم ہوئے، لیکن استاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ کے سمجھانے پر انہیں احساس ہوا کہ اُنہوں نے ناروا غُصے سے کام لیا ہے۔ توپ کی خرابی کی ذمہ داری سنگھ نے اپنے سر لے لی اور معقول بات بھی یہی تھی۔ کپتان برنابی نے اگلے ہی روز ایک جوان کو میر صاحب کے نام کا ایک رقعہ دے کر اجمیر روانہ کردیا ۔ اس نامہ بر کو بصد مشکل میر صاحب ملے تو کپتان صاحب کا رقعہ میر صاحب کے حوالے ہوا، لکھا تھا؛

‘‘سیدزادے! کیوں خفا رہ کر گنہ گار کرتے ہو؟ اب تھوکو غصہ اور آبھی چکو، دیکھو بہت نادم ہوں اور میم صاحب بھی افسردہ ہیں’’

میر صاحب تیوری چڑھا کر بولے، ‘‘ایک فرنگی کاہے کو ہمارے تئیں اس لائق گردانے؟ یہ تحریر استاد چغری خاں کی ہے’’ قاصد نے جا کر کپتان صاحب کو بتایا تو وہ بھی ناراض ہوئے مگر استاد چغری خاں کے مشورے پر اُنہوں نے گھنشام بابو کو خط لکھا جس چغری خاں خوب جاننے لگے تھے۔ میر صاحب گھنشام بابو کی بات ٹالنے والے نہ تھے، لہٰذا اس کے ہمراہ ہی اورنگ آباد آگئے ۔ آنے سے پہلے درگاہ میں خوب دعائیں مانگ کر آئے، راہ میں گھنشام بابو نے کسی جوتشی سے میر صاحب کی پریشانی بیان کی تو اس نے فقط اتنا کہا؛ ‘‘میر صاحب کے ہاتھ میں تفنگ ضرور چلے گی!’’ گھنشام بابو کو تو میر صاحب کی بپتا پر ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا تاوقتیکہ اورنگ آباد پہنچ کر کپتان صاحب کی پلٹن سے سُن نہ لی۔ گھنشام بابو کے ساتھ میر صاحب نے ریاست میں چند روز خوب سیر کی، یوں ان کا مزاج اچھا ہوا اور وہ معمول پر آگئے۔

یہ ۱۸۸۲ کی کوئی تاریخ تھی جب کپتان برنابی صاحب بہادر اور میم صاحب کے دیرینہ دوست اور بے حد محبوب رشتہ دار کرنیل گورڈن صاحب بہادر کی خبر ملی کہ تل الکبیر کے معرکے میں مارے گئے ہیں، یعنی ایک دھاوے میں گھوڑے سے زخمی ہو کر گرے اور رسالے بھر کی ٹاپوں نے روند دیا۔ پلٹن میں سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔ پلٹن کے پرانے لوگ آنجہانی کرنیل صاحب کا بے حد احترام کرتے تھے۔ کرنیل صاحب کبھی کپتان صاحب کے مہمان ہوتے تو پلٹن کا دورہ بھی کرتے۔ آخری بار میر صاحب کے آنے سے کچھ قبل دورہ کیا ہوگا لیکن میر صاحب نے ان کی سپاہیانہ وجاہت اور ہیبت کے قصے سُن رکھے تھے۔کپتان برنابی صاحب بہادر نے پلٹن میں دربار لگایا اور کرنیل صاحب کے پرانے دوست اور شاعر میرزا محی السنت احقر کو بلوا کر ان سے مرثیہ کہلوایا۔ استاد چغری خاں نے فارسی میں قطعۂ تاریخ کہا جبکہ ایک شعر میر خسرو طلعت نے بھی اہلِ دربار کے گوش گزار کیا؛

جنگ جوئے قہر ساماں پر یہ قہرِ واژگوں
تفو تجھ پر، حیف تجھ پر اے سپہرِ واژگوں!

کپتان صاحب چونکے۔ ‘‘میر صاحب! سپہر ِ واژگوں نے جو قہر میرے مرحوم دوست پر ڈھایا، یہ قہرِ واژگوں کیسے ہو گیا؟’’ کپتان صاحب کے سوال پر میر صاحب کا جواب بھی خوب تھا؛ ‘‘حضور، صاحب بہادر خُلد آشیانی کے قہر سے بھی تو فلکِ پیر کانپ اُٹھتا تھا!’’

کپتان برنابی بہت خوش ہوئے اور اپنی کارتوس بھری قرابین وہیں میر صاحب کو انعام کر دی۔ میر صاحب نے بصد شکریہ قرابین کمربند میں اُڑس لی اور خوش خوش واپس آگئے۔

اگلے روز شور ہوا، ‘میر صاحب کی قرابین چلی ہے!’ ‘میر صاحب نے قرابین سے گولی داغی ہے!’ جو سچ تھا، جلد ہی سب کو پتہ چل گیا ۔ میر صاحب نے جو قرابین جامے میں اُڑس لی تھی، وہ کسی لمحے اُن کا ہاتھ پڑ جانے سے از خود چل گئی اور گولی ان کی ران پہ لگی ۔ بمشکل ایک رات جان بر رہ سکے، خون ذیادہ بہہ جانے کی وجہ سے پہلے بے ہوشی ہوئی، پھر دم توڑ دیا۔ دمِ مرگ وصیت کر گئے تھے لہٰذا پلٹن کی لین میں دفن ہوئے۔

قبر پر مٹی پھینکی جارہی تھی، ضابطے مطابق سپاہ کی گارد نے سلامی کی بندوقیں سر کیں تو اپنی جھونپڑی میں بیٹھے ولائیت حسین موچی کے شاگرد کا ہاتھ رک گیا۔ پاس بیٹھے کسی بچے نے کہا، ‘‘پلٹن میں کوئی سنتری مر گیا ہے، سپاہی لوگ اُسے دفنا رہے ہیں’’

‘‘بالآخر اس کا بھی بخت جاگا۔۔۔’’ نوجوان موچی نے کہا، بچے نے کچھ جواب نہیں دیا۔ ‘‘اچھا ہی ہوا، فرنگی کے احسانوں کے بار سے آزاد ہوا اور عدم کے ملک میں اپنا ایمان سلامت لیے جا بسا ہے، خُدا بخشے۔۔۔’’

بگل کی آواز پر دیر تک ‘لاسٹ پوسٹ’ کی دُھن بجتی رہی اور موچی کا ہاتھ اسی روانی سے کپتان برنابی کے گھڑسواری کے بوٹ سینے میں مشغول ہو گیا۔۔۔

Categories
فکشن

ہمراہی

میں جس بس میں بیٹھا ہوں ، مقامی لوگ اسے بھٹی ٹائم کہتے ہیں۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ آج سے کچھ بیس پچیس سال قبل جب اس طرح کی پہلی ہینو بس “ہمراہی” اس سڑک پہ چلی تھی تو اُس کے مالک کا نام امیر بھٹی تھا۔ یہ بس تو کسی بلوچ کی ہے لیکن کہلاتی ہے “بھٹی ٹائم” ہی۔ خیر، نام میں کیا رکھا ہے۔ ضلع کے صدر مقام سے میرے گاوں کی طرف جانے والی یہ بس ۷۵ کلو میٹر کا فاصلہ تین گھنٹے میں طے کرتی ہے۔اگر سیٹ مل جائے تو ان تین گھنٹوں میں میری کوشش ہوتی ہے کہ مطالعہ ہی کر لیا جائے لیکن آج مجھے جگہ نہیں ملی تھی لہٰذا دروازے کے ساتھ،چھت سے فرش کے درمیان نصب آہنی ڈنڈے سے لگ کے کھڑا چہرے پڑھ رہا ہوں۔
میں یہ جاننے کیلئے بھی چہرے پڑھتا ہوں کہ جب میں آخری بار گاؤں گیا تھا ،تب سے اب تک لوگوں کی زندگیوں میں آنے والا تغیر کس طرح اُن کے چہروں سے عیاں ہوتا ہے؟ مثلاً سجاد نام کا وہ ترکھان جو کہ روز بروز سرمایہ اکٹھا ہو جانے کے باعث علاقے میں معزز تر ہوتا جارہا ہے، آخری بار بس میں نظر آیا تھا تو اُس کا رنگ پہلے سے زیادہ گورا ہوچکا تھا، چہرے کے تاثرات میں شائستگی آگئی تھی اور چہرے کا حجم تو اتنا بڑھ گیا تھا کہ اُسکی دو ٹھوڑیاں اور چار رُخسار ہو گئے تھے۔ اب سُنا ہے اُس نے اپنی گاڑی لے لی ہے۔ آج آخری سیٹ پر کھڑکی کی جانب گم سم بیٹھاشمشیر علیخاں اب پھر ضلع کچہری سے سلیم سیال کے قتل والے مقدمے کی پیشی بھگت کر آرہا ہے۔ جوں جوں قتل کے مقدمے میں اس کی زمین بکتی جارہی ہے، اس کی مشہورِ زمانہ مردانہ وجاہت ڈھلتی جارہی ہے۔پچھلی بار اس کی مونچھ کا خم گرا ہوا پایا تھا، آج بس میں سوار ہوتے ہی میں دیکھ کر چونک گیا کہ اب سردار صاحب کی مونچھ لمبائی بھی گھٹ کر ایک عام آدمی کی سی رہ گئی ہے اور شیو اتنی بڑھی ہوئی کہ سفید ڈاڑھی دور سے نظر آرہی ہے۔
لیکن میری زیادہ توجہ پہلے بھی نوجوانوں کی طرف ہوتی ہے اور آج بھی اُنہی کو کھڑا دیکھ رہا ہوں۔ایک کُھد بُد سی جو اکثر گاوں جانے والی بس میں سفر کے دوران ہی میرے دماغ میں ہوتی تھی، آج ایک مفروضے کی صورت میرے شعور کی سطح پہ اُبھری ہے تو اب میں اسے عملی طور پر پرکھ رہا ہوں۔ بات یہ ہے کہ اس پسماندہ دیہات سے شہروں کو سدھار جانے والے تعلیم یافتہ لڑکے اس سفر میں ایک دوسرے کیلئے اجنبی کیوں ہو جاتے ہیں؟ میرے علاقے کے دیہات میں کیا ہے کہ ہم سب لڑکے چھورے اور نوجوان ہی اس سفر میں ایک دوسرے سے نظریں چُرا کر اپنی اپنی نشستوں یا کھڑے ہونے کے گوشوں میں دبکے ہوتے ہیں۔ صحرائے تھل کی جُھلسا دینے والی گرمی اور کھڑکیوں سے اندر آتے گرم ریت کے تھپیڑوں کے باوجود سارے دیہاتی چہک چہک کر بلند آوازوں میں ایک دوسرے سے گپیں ہانکے جارہے ہیں اور بس چیونٹی کی طرح رینگتی جارہی ہے۔اُن تھل باسیوں میں سے کسی کو گھر پہنچنے کی اتنی جلدی نہیں ہے جتنی ہم شہر سے لوٹنے والے تعلیم یافتہ لڑکوں کو۔ ساتھ بیٹھے لوگ ہم سے کم ہی باتیں کرتے ہیں ، شاید وہ ہم سے مرعوب ہیں یا پھر ہم سے بے نیاز۔
ایسے میں مجھے ہمت نہیں پڑ رہی کہ میں کھڑکی کے ساتھ والی سامنے کی نشست پہ بیٹھے وحید علی سے نظریں ہی چار کر لوں جو کہ لاہور شہر میں نوکری کرتا ہے اور میری طرح اب وہیں سے آرہا ہے۔وہ مُجھ سے بھی سو ا بوکھلاہٹ سے مجھے نظر انداز کررہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں ہماری کوئی مخالفت نہیں رہی۔اب ہم نظریں کیوں چُرا رہے ہیں؟اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ شہر کے ایک معمولی اخبار میں کام کرتا ہے، کیا کام کرتا ہے، مجھے نہیں معلوم۔اور وہ شاید اسی لئے مجھ سے ملنے سے کتراتا ہے کہ میں شہر کے ہر بڑے چھوٹے اخبار اور اس کے صحافیوں کی “اوقات”سے واقف ہوں۔ ادھر میں خود بھی شاید اس لئے اس سے کترا رہا ہوں کہ شہر میں مَیں جس سماجی “تحریک ” سے وابستہ ہوں، اُس کی اصلیت صحافیوں سے بہتر کون جانتا ہوگا۔ ہم دونوں کو یاد ہے کہ ایم۔اے کے امتحان پاس کرنے کے بعد بابا علی خاں کے ڈیرے پر بیٹھ کر ہم اہلِ دیہہ کے سامنے کیا کیا بڑیں ہانکتے تھے۔
آگے کی سیٹ پہ بیٹھا خالد ہمارے گاؤں کے پرائمری اسکول سے پڑھنے والوں میں واحد ایم۔ایس ۔سی پاس لڑکا ہے۔وہ ایک انتہائی غریب جولاہے کا بیٹا ہے جسے کوئی سیدھے نام سے نہیں پکارتا۔ہم دونوں تین سال سے ایک ہی شہر میں نوکری کر رہے ہیں لیکن ہم کبھی ملے نہیں ۔وہ مجھے ناپسند کرتا ہے کیونکہ نمبرداروں کا لڑکا ہونے کی وجہ سے لڑکپن میں مَیں اُسے حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ایک اتفاقی ملاقات میں اُس نے بتایا تھا کہ اب وہ کسی سرکاری ادارے میں ایڈہاک پہ افسری کررہا ہے۔ لیکن اب وہ مجھے ملنا نہیں چاہ رہا۔ میں اُسے اس لئے نہیں ملتا کہ وہ نمبرداری کا بھرم اب ایسا کُھلا ہے کہ اب مجھے اُس کا سامنا کرنے کی بھی ہمت نہیں ہے ۔خُدا کا شُکر ہے کہ شہر کی سڑکوں کی خاک پھانکتے ہوئے کبھی ہمارا آمنا سامنا نہیں ہوا۔وہ ڈرائیور سے پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہے اور کانوں میں آئی پوڈ کا ہیڈفون لگا کر نجانے کیا سُن رہا ہے۔ اُس نے کئی بار پیچھے مُڑ کر دیکھا ہے تو ہماری آنکھیں چار ہوئی ہیں لیکن ہم دونوں بہت غیر محسوس انداز میں ایک دوسرے کو نظر انداز کر گئے۔
میرے ساتھ کی سیٹ پر جو لڑکا بیٹھا ہے یہ اس وقت نوجوانوں میں سب سے خوش پوش ہے ۔ اس نے تو نکٹائی بھی لگا رکھی ہے۔شاید قیصر حُسین نام ہے اس کا یا پھر قیصر علی۔ ایف ۔اے میں میرا شاگرد تھا۔ بی ۔اے کے فائنل امتحانوں میں فیل ہو کر لاہور چلا گیا تھا۔لاہور میں ہماری پہلی مُلاقات بہت ناگوار رہی تھی۔ پولیس میں بھرتیاں ہو رہی تھیں، میں ان دنوں ایک نوکری سے نکال دیئے جانے کے بعد لاہور میں تلاشِ معاش کیلئے مارا مارا پھر رہا تھا، سو بھرتی کی قطار میں جا لگا۔جب میل کی دوڑ ہونے لگی تو قیصر سے میرا آمنا سامنا ہوا۔ “ارے تُم؟؟”اُس نے مُجھے دیکھتے ہی بے تکلفی سے میرے پہلو میں اُنگلی چبھو کر کہا۔کلاس روم کے سامنے کھڑا ہو کر انگریزی میں اونچے اونچے آدرشوں کے بھاشن دینے والا اُستاد آج اپنی ایم۔اے ، بی۔ایڈ اور پتہ نہیں کس طرح کی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹ بغل میں دابے اُسے اپنے ہمراہ دوڑتا ملا تو سارے تکلفات، احترامات اور بڑے چھوٹے کے امتیازات ختم ہو گئے۔ مجھے یوں لگا کہ میں ننگ دھڑنگ اپنے تمام شاگردوں کے سامنے ایک کھلے میدان میں بھاگا جارہا ہوں۔ہم دونوں قہقہے لگا کر ہنس دیئے تھے لیکن اس کے بعد میں کبھی چیئرنگ کراس کی طرف نہیں گیا جہاں بقول اُس کے ، اس این ۔جی ۔او کا دفتر تھا جس میں وہ کام کرتا تھا۔میرا یہ حجاب تب ختم ہوا جب میں نے اُسے بندُو خاں ریسٹورینٹ میں ویٹر طور پر کھانا لگاتے دیکھا۔اب ہم دونوں ایک دوسرے سے کتراتے ہیں۔
مہربان علی خاں صاحب کا اور میرا تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے جیسا میرا اور قیصر کا۔ خاں صاحب ہمیں ہائی اسکول میں ٹیچر انٹرنی کے طور پر انگریزی اور حیاتیات پڑھاتے تھے۔ خوش رُو، نوجوان اُستاد تھے اور انگریزی میں پورے علاقے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔سول سروس کے امتحانات کی تیاری اور تدریس ساتھ ساتھ چلا رہے تھے۔ آج بھی ہم سے زیادہ جوان آدمی دکھائی دیتے ہیں۔سادہ لیکن باوقار فیشن کی پتلون قمیص پہنے اپنی برقع نوعمر بیوی کے ہمراہ درمیان کی سیٹوں میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں۔آج میں نے پہلی بار انہیں بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ دیکھا ہے۔ ابھی سوار ہونے سے پہلے ہماری مختصر سی ملاقات ہوئی ہے۔سیاسی شعور والے اور بااصول آدمی تھے لیکن شادی کے فوراً بعد ،خلافِ مزاج ایک فوجی اسکول میں انگریزی کے سویلین اُستاد ہو گئے اور اس وقت اپنے قبیلے کے سب سے غریب آدمی ہیں۔میں ہمیشہ انہیں پسند کرتا تھا لیکن آج پہلی بار مجھے ان سے نفرت، یا بے زاری سی محسوس ہوئی جب اُنہوں نے مُجھ سے پوچھا “آج کل کس بیس پر سروس ہے؟”میں اُن کا سوال نہ سمجھ سکا، میں نے معذرت کی تو اُنہوں نے بتایا کہ انہیں میری ہمسائی نے بتا رکھا تھا کہ میں پائلٹ ہو گیا ہوں اور وہ یہ جان کر بہت خوش تھے کیونکہ انہیں اس امر کا یقین میری طالب علمی سے ہی ہو گیا تھا۔وہ مجھ سے ذیادہ بات کرسکے ناں ہی میں اُنکی غلط فہمی دور کر پایا۔اب مُجھے کچھ کچھ تو اچھا لگ رہا تھا کہ اُستادِ محترم کتنی حسین خوش فہمی میں ہیں اور اب یہ سوچ رہا ہوں کہ وہ مجھے کبھی نہ ملیں اور میں اُن سے کبھی بات نہ کروں۔
اظہر، عرف زکوٹا، گاڑی کا کنڈکٹر ، جو کہ کالج کےوقتوں میں مجھ سے کرایہ نہیں لیتا تھا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ میں جلد ہی تعلیم مکمل کرکے یہاں کا اے۔ایس ۔پی تعینات ہونے والا ہوں۔جان پہچان والے جوانوں میں وہ واحد شخص ہے جو اب بھی مجھے اسی احترام اور والہانہ پن سے ملتا ہے جو پہلے اس کے لہجوں میں تھا۔شائد اس نے مجھ سے اور میں نے اس سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا۔اُس نے ابھی میرے کان میں آکر سرگوشی کی تو میری توجہ شمشیر علیخاں کے دائیں جانب کسی بڑھیا کے ساتھ بیٹھی برقع پوش آہو چشم خاتون کی طرف گئی۔ لُبنیٰ خانم بچپن میں چند روز میری ہم جماعت رہی تھی۔کئی سال پہلے سُنا تھا کہ کراچی گئی تھی اور بہت اچھی تعلیم حاصل کر لی اُس نے۔ سال بھر پہلے پتہ چلا کہ بیاہی گئی ہے۔بعد کی زندگی پر شائداس کی پرہ نشینی نے پردہ ڈال دیا ہے، مُجھے کچھ خبر نہیں۔ مجھے خیال آیا کہ ہم سب لوگ اس کی طرح برقع کیوں نہیں پہن لیتے تاکہ ہم اپنے اپنے جھوٹ کے ساتھ، غلط فہمیوں کے ساتھ، اپنی ناکامیوں اور اپنی ناآسودہ خواہشات کے ساتھ باقی دُنیا کی نظروں سے بالعموم اور اپنے جیسوں کی نظروں سے بالخصوص روپوش ہو جائیں۔ہم دیہاتوں اور قصبوں سے پڑھ لکھ کر جب شہروں کو سدھارتے ہیں تو شائد ہم اپنے آپ کو اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو یہ اُمّید یا جھانسہ دے کر چلتے ہیں کہ ہم شہر جاکر بہت باعزت مقام پانے والے ہیں۔اس کے بعد ہم اس رخشِ خیال کی دُنیا میں خود کو مقید کرلیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا بھی قریب آ کر اس کا دروازہ نہ کھولے۔کیا معلوم وہ ہماری زخمی انا تک، کسی جھوٹ تک، کسی ناآسودہ خواہش تک اور کسی کچے گھڑے جیسے بھرم تک پہنچ جائے۔ہم اس رخشِ خیال کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اپنی شخصیتوں کو کتنا مسخ کرلیتے ہیں۔۔۔
لیجے، اسی اُدھیڑ بُن میں ہماری منزلِ مقصود بھی آگئی۔تین گھنٹے کے سفر میں ہم سفروں سے گہری شناسائیاں بنا لینے والے دیہاتی، تھل باسی ایک دوسرے سے گرمجوشی سے مصافحے، سلام اور الوداعی کلمات کہہ کر بس سے اُترنے کو تیار ہیں۔ جبکہ وحید، خالد، قیصر، مہربان خاں صاحب ، مَیں اور چند اور خوش پوش جوان بھی، جو میرے گاؤں کے ہی ہیں اور میں ان کے نام نہیں جانتا –وہ بھی شائد یہی چاہتے ہیں- اپنے اپنے ڈبّوں میں بند کسی سے سلام سلیک کیے بغیر گاڑی سے اُترنے والے ہیں۔وہ انہی
ڈبّوں میں مقید “ویک اینڈ” گاوں میں گزار کر اسی بس میں سوار واپس شہر روانہ ہو جائیں گے۔
ہم ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں اور ہماری منزل بھی یقیناً ایک ہی ہے لیکن ہمارے راستے الگ الگ ہیں ۔۔۔ ہماری اپنی اپنی بھول بھلیّاں ہیں۔۔۔