Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 7 دسمبر 1971- سچ یا جھوٹ

آج سارا دن ہم لوگ سٹینڈ ٹُو رہے لیکن کسی موو کا حکم ملا نہ کوئی ناگوار واقعہ ہوا۔ پُنّوں میرے پاس رہا۔بے چارہ گزشتہ چند روز کے واقعات سے بہت گھبرایا ہوا تھا، مُجھ سے اپنے خوف کا اظہار کرکے رونے لگا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مَیں بھی جب رنگروٹی پاس کرکے پلٹن میں آیا تھا تو پینسٹھ کی جنگ چھڑ گئی تھی لیکن سب خیر خیریت سے گزر گیا۔اسے حوصلہ اور دلاسہ دیا اورچند لطیفے سُنائے تو ہنستے ہوئےاس کے سانولے گالوں پر دو گڑھے سے بن گئے۔سلمیٰ باجی کہتی تھیں کہ جب میرا بیٹا پُنّوں جوان ہوگا تو اس کی ہنسی اور گالوں کے یہ گڑھے کتنی ہی چھوریوں کو اسکا دیوانہ کردیں گے۔کاش وہ زندہ ہوتیں تو دیکھتیں کہ پُنوں ہنستے ہوئے کتنا پیارا لگتا ہے۔
کیپٹن دُرّانی صاحب نے دوپہر کو ہمیں فالن کیا ۔ وہ بہت غصے میں تھے۔ہم سے خطاب کرتے ہوئے بولےکہ ریڈیو اور دیگر ذرائع سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ پاک فوج کے جوان بنگالی خواتیں کی عزت لوٹنے میں ملوث ہیں وغیرہ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ خبریں جھوٹی ہیں اور رضاکاروں، مُکتی باہنی، سنٹرل پیس کمیٹی اور دیگر آوارہ تنظیموں کی غلط کارروائیوں کا الزام ہم پر لگایا جا رہا ہے اور اگر کوئی جوان ان خبروں پر تبصرہ کرتا ہوا پایا گیا تو اُس کا فوری طور پر کورٹ مارشل کیا جائے گا۔ اُنہوں نے ہمارے ریڈیو سُننے پر بھی پابندی لگا دی۔لانس نائیک غلام شبیر صاحب عُرف چمڑا، جو کہ گانے کے بہت شوقین ہیں ،یہ سُن کر کہنے لگے”سر اب ان تمام جوانوں کو گانا سُنانے کی ڈیوٹی میرے ذمے لگائی جائے”دُرّانی صاحب مُسکرا اُٹھے اور کہا “تاکہ جوانوں کو دوگُنی بوریت ہو؟”ہم لوگ ہنس دیئے اور کچھ ماحول ہلکا ہوا۔
شام کے وقت کیپٹن صاحب نے حُکم دیا کہ کھانا اُن کے ساتھ کھاوں۔آج تمام کیمپ نے صرف شام کا کھانا ہی کھایا۔میں نے ڈرتے ڈرتے دن کی افواہ کے بارے میں پوچھ لیا تو کیپٹن صاحب نے کہا “سب بکواس ہے یار۔ دیکھو تنویر ، تم بچے نہیں، بارہ جماعتیں پاس ہو، ہم ان حالات میں جس طرح دشمنوں میں گھِرے ہیں، کیا ہمارے پاس ان کارروائیوں کی فرصت ہے؟” پھر کچھ دیر خاموش رہ کر دوبارہ بولے “تنویر حُسین، جنگ میں سب سے پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے—کُچھ بھی ممکن ہے”

(سٹینڈ ٹو:چوکس، تیار۔ فالن: انگریزی کا لفظ Fall-in ، مراد اکٹھا ہونا، صف میں)

ڈائری کے گزشتہ دن

Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 6 دسمبر 1971- چھاپہ اور تعاقب

فجر کی نماز کے لئے جاگا۔ابھی نماز کے لئے ہاتھ باندھے ہی تھے کہ کیمپ ایک زوردار دھماکے سے گونج اُٹھا اور پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔ میں نماز توڑ کے بھاگا اور مارٹر والوں کی خندق میں کود گیا۔ دس پندرہ منٹ تک عجیب ہلچل رہی۔ تمام سنتری اندھیرے میں فائر کرنے لگے۔ پھر کیپٹن صاحب نےہولڈ آن کا حکم دیا تو فائر رُکے۔سورج اُبھرا تو مُجھے صورت حال کا ندازہ ہوا کہ فجر کے وقت مُکتی باہنی نے کیمپ پر راکٹ مارا تھا جس سے کوت، جو کہ اس سکول کی لائبریر ی بھی ہے، کی دیوار گر گئی اور راشن والا ڈمپ بھی جل گیا۔ لائبریری کی کتابوں نے جو آگ پکڑی تو راشن کی دالیں تک بُھون دیں لیکن شُکر ہے ایمونیشن کو جلدی سے نکال لیا گیا ورنہ تباہی ہوتی۔
آج ناشتہ بھی نہ کرسکے۔ ریکی پارٹی نےفوری طور پہ مُکتی والوں کے فرار کا راستہ چھان مارا لیکن بے سُود۔ کیمپ سے پچاس گز کے فاصلے پر ایک مسلح باغی مُردہ حالت میں پایا گیا جو کہ ہماری اندھیرے میں فائرنگ سے مرا تھا۔ نرسنگ اردلی جب اُس کا معائنہ کر رہا تھا تو میں نے بھی اسے دُور سے دیکھا۔ اس نے دھوتی باندھ رکھی تھی اور قمیص پر بھارتی فوج کے سپلائی اِشُو والا کیمو فلاج جیکٹ پہن رکھا تھا۔
سارا دن مصروف رہے۔ کوت کپتان صاحب کے دفتر میں، جو کہ دراصل ہیڈماسٹر آفس تھا، منتقل کرنے کا حکم ملا تو سارا اسلحہ اور ایمونیشن یہاں منتقل کردیا۔رات سونے سے پہلے گھر سے آنے والے خط کا جواب لکھا لیکن سنبھال کے رکھ دیا کیونکہ سُننے میں آیا ہے کہ خطوط پر سنسر لگ گیا ہے۔یوں بھی بڑی پکی خبر ہے کہ مغربی پاکستان سے ڈاک کا رابطہ ختم ہو گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خط وکتابت بند ہونے کے بعد مشرقی پاکستان ذیادہ ہی اجنبی سی دھرتی محسوس ہونے لگا ہے۔
برگیڈ سے وائرلیس آیا تھا کہ صوبیدار بختیار صاحب کے والد سی ایم ایچ ڈھاکے میں فوت ہوگئے ہیں۔میں نے صوبیدار صاحب کو بتایا جس پر شام کو کپتان صاحب سے بہت ڈانٹ پڑی کہ میں نے اُنکی اجازت کے بغیر صوبیدار صاحب کو کیوں خبر دی۔۔۔

(مارٹر: تین انچ دہانے کی چھوٹی توپ۔کوت:اسلحہ خانہ۔ریکی:دُشمن کے علاقے کاگشت اور جائزہ)

ڈائری کے گزشتہ دن

Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 4 دسمبر 1971- گرفتاریاں

صبح دیر سے جاگا۔ ورکنگ لگی تھی لیکن کیپٹن دُرّانی صاحب نے بُلوا لیا۔اُنہوں نے کہا کہ میں اُن کے ساتھ رنر ڈیوٹی کروں۔وہ مُجھ پر بہت مہربان ہیں اورشائد میری پڑھائی کی وجہ سے مجھ پر خاص نظر رکھتے ہیں۔

 

آج صبح ہیڈکوارٹر کمپنی بھی موو کر گئی اور سی او صاحب بھی آگےچلے گئے۔ دوپہر کو البدر کے رضاکار آئے تھے ،اُنہوں نے بتایا کہ گھنشام گھاٹ والے راستے پر مُکتی باہنی کی ریکی ہوئی ہے۔ہماری دو پلٹونیں تیار ہوئیں اور دن بارہ بجے ہم نے گھنشام گھاٹ والے راستے پر ریڈ کیا ۔یہاں سے سات باغی گرفتار ہوئے۔ساری رات یہاں کیمپ میں ہلچل مچی رہی ۔ ان بنگالیوں کو ناریل کےدرختوں سے باندھ دیا گیا اور رات بھر ڈیوٹی سنتری چوکس رہے۔بنگالیوں کے پاس سے بھارتی فوج والی ایک رائفل بھی پکڑی گئی تھی جسے میں نے بھی دیکھا۔ میرا خیال ہے رُوسی ساختہ ہے۔ان لوگوں کے پاس بہت سارا اسلحہ ایسا ہے جو بھارتی فوج نے انہیں سال کے آغاز میں فراہم کیا تھا۔بابو لوگ تو شکار کے سوا اسلحے اور ہتھیار رکھتے ہی نہیں تھے،بھارتی فوج نے انہیں کلاشنکوف سے لے کر ریکائل لیس تک کی تربیت دی ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو انہوں نے باقاعدہ اینٹی ٹینک ہتھیار استعمال کئے ہیں۔یہ لوگ ہندوستان سے تربیت بھی لے کر آرہے ہیں۔

 

رات دیر تک گرفتار ہونے والے بنگالیوں سے دُرّانی صاحب پُوچھ تاچھ کرتے رہے اور وہ شور مچاتے رہے۔ وہ لوگ ہماری فوج کو ‘خان سینا’ کہتے ہیں اور تمام فوجیوں کو کپتان صاحب کہہ کر پکاررہے تھے۔ان میں ایک میرا ہم نام بھی تھا لیکن سب اسے تنویرُل پُکاررہے تھے۔

 

پُنّوں کو سزا کے طور پہ سات دن کا پِٹھوُ لگاہوا تھا لیکن بٹالین مُوو کر جانے کی وجہ سے کیپٹن صاحب نے معاف کر دیا اور مُجھے کہا کہ اپنے بھانجے صاحب کو ڈسپلن سکھاوں۔اُس نے چند دن پہلے کمانڈنگ افسرصاحب کی جیپ کے ٹائروں سے ہوا نکال دی تھی۔اور شُکر ہے کہ پکڑا تو گیا لیکن کسی کو وجہ نہ بتائی۔ بے وقوف مُجھے کہنے لگا کہ چونکہ سی او صاحب بنگالی ہیں لہٰذہ اُس نے اپنی نفرت کا اظہار کیاتھا۔ میں نے اُسے ڈانٹ کے سمجھایا کہ باباجی اچھے بنگالی ہیں اور غدّار نہیں ہیں۔

ڈائری کے گزشتہ دن