Categories
نقطۂ نظر

سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار (آخری قسط)

[blockquote style=”3″]

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے مشیر برائے سلامتی بروس ریڈل تیس سال تک امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے وابستہ رہ چکے ہیں، ساٹھ کی دہائی میں بھارت چین کشیدگی ہو ایوب دور میں پاکستا ن امریکہ تعلقات کی نئی اڑان ہو یا افغان جہاد میں امریکی کردار۔۔ سقوط ڈھاکہ سے پہلے اور بعد کی کہانی ہو یا پھر کارگل جنگ کے بعد نواز کلنٹن ملاقات کے راز، بروس ریڈل کئی اہم معاملات کے عینی شاہد ہیں۔ رفیع عامر پاکستانی نژاد امریکی ہیں جو ایک عرصے سے نیوجرسی میں مقیم ہیں، کہنے کو تو سافٹ وئیر بیچتے ہیں لیکن تاریخ، سیاسیات اور جغرافیائی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی وہ پاکستان سے ایسے بندھے بیٹھے ہیں جیسے کشتی سے ملاح۔ ان کی حالیہ کاوش بروس ریڈل کی کتاب ‘اوائیڈنگ آرماگیڈن’ کے ایک باب کاترجمہ ہے، جس کی پہلی کڑی قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ کہانی طویل ہے اور ایسے میں تمام تر حوالہ جات کا نقل کرنا قدرے مشکل تھا لہذا حسب ضرورت کسی بھی حوالے کے لئے کتاب سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ (تعارف: اجمل جامی)

[/blockquote]

اس سلسلے کی پہلی اور دوسری قسط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ستائیس اپریل انیس سو اکہتر کو جب مشرقی پاکستان ٹکا خان کے بوٹوں تلے مسلا جا رہا تھا، چین نے بذریعہ پاکستان ہنری کسنجر کو خفیہ دورے کی دعوت دے ڈالی۔ پھر کسنجر نے جون میں چین کو اپنی جلد آمد کی اطلاع دی اور اپنے اسلام آباددورے کی تیاری شروع کر دی۔ پاکستان میں امریکی سفیر اور سی آئی اے کو پہلی بار اعتماد میں لیا گیا اور انہیں ہدایت کی گئی کہ یحییٰ خان کے ساتھ مل کر کسنجر کے خفیہ دورہ چین کی تیاری کی جائے۔ یحییٰ خان کے ساتھ عشائیے کے بعد کسنجر کے عملے نے صحافیوں کو (طے شدہ منصوبے کے تحت) اطلاع دی کہ کسنجر کی طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ دو دنوں کے لئے مری میں آرام کرنے جا رہا ہے اور وہ اس دوران کسی صحافی سے نہیں ملے گا۔

 

اور پھر دس جولائی انیس سو اکہتر کو کسنجر پاکستانی طیارے پر بیجنگ پہنچا جہاں اس نے چئیرمین ماؤ اور اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقات کی۔ اگلے ہی دن وہ واپس اسلام آباد پہنچا اور اپنے معمول کے دورے کو جاری رکھا۔ ایک بڑا راز اس خفیہ دورے کے بعد بھی راز ہی رہا۔ چند دنوں کے بعد نکسن نے امریکی عوام کو اس سفارتی کامیابی سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ وہ چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایک ذاتی خط میں نکسن نے یحییٰ خان کا شکریہ ادا کیا اور لکھا “آنے والی انسانی نسلیں ایک پرامن دنیا کے لئے ہمیشہ آپ کی مقروض رہیں گی”۔

 

ہنری کسنجر اور ماوزے تنگ کے درمیان ملاقات کا منظر
ہنری کسنجر اور ماوزے تنگ کے درمیان ملاقات کا منظر
دوسری جانب اندرا گاندھی کو اپنا بھیانک ترین خواب پورا ہوتا نظر آ رہا تھا۔ مشرقی پاکستان کے بحران کی وجہ سے کلکتہ اور آسام عدم استحکام کا شکار تھے، امریکہ پاکستان کی حمایت کر رہا تھا اور ایک نیا بیجنگ ۔ اسلام آباد ۔ واشنگٹن اتحاد تشکیل پا رہا تھا۔ اندرا نے ایک جوابی اتحاد بنانے کی لئے ماسکو کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں سوویت ۔ بھارت دوستی اور تعاون کا معاہدہ ہوا جو دونوں ممالک کو بہت قریب لے آیا۔ اس معاہدے کے مقاصد میں سے ایک چین کو پاکستانی ایماء پر فوجی مداخلت سے خبردار کرنا تھا۔ دوسرے الفاظ میں اندرا گاندھی نے چین کو پیغام دے دیا تھا کہ اگر چین نے ممکنہ جنگ میں مداخلت کی کوشش کی تو اسے سائبیریا اور منچوریا میں روسی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

جنگ ہوا ہی چاہتی تھی۔ نومبر میں اندرا گاندھی نے بنگالی عوام اور بھارت کے لئے امریکہ اور اقوام متحدہ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے نیویارک اور واشنگٹن کا دورہ کیا۔ اسے اوول آفس میں نکسن کی شکل میں ایک آہنی دیوار کا سامنا کرنا پڑا۔ نکسن کے نزدیک وہ سوویت یونین کی پارٹنر تھی اور نکسن کے لئے اندرا کے تمام تحفظات کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ یہ ہر لحاظ سے ایک مایوس کن ملاقات تھی۔ نکسن نے اندرا کی پیٹھ پیچھے اسے کتیا اور اس سے بھی برے القابات سے نوازا۔ اندرا کے نزدیک نکسن ایک سرد جنگ کا جنونی تھا جس کے نزدیک انسانی زندگی کی کوئی وقعت نہ تھی۔ اس ملاقات کے بعد اندرا گاندھی نے فوجی کمانڈر فیلڈ مارشل سام مانک شاہ کو مشرقی پاکستان پر حملے کی تیاری کا حکم دے دیا۔

 

لیکن پہل پاکستان نے کی۔ اسرائیل کے انیس سو سڑسٹھ کے مصر پر حملے کی طرز پر ابتدائی برتری لینے کے لئے پاکستان نے تین دسمبر انیس سو اکہتر کو آپریشن چنگیز خان لانچ کیا جس کا ہدف بھارتی ایئر بیس تھے۔ حملہ ناکام رہا اور بھارت نے جارحیت کا آغاز کر دیا۔ مانک شاہ بھاگتی پاکستانی فوج کے تعاقب میں تھا۔ مشرقی پاکستان میں تعینات نوے ہزار پاکستانی فوجیوں کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا تھا جس میں کسی مثبت امید کی گنجائش نہ تھی۔ وہ تین اطراف سے گھر چکے تھے اور کمک ایک ہزار میل دور تھی۔

 

اکہتر جنگ میں پاکستان نے پہل کرتے ہوئے بھارتی فضائی اڈوں پر حملے کیے
اکہتر جنگ میں پاکستان نے پہل کرتے ہوئے بھارتی فضائی اڈوں پر حملے کیے
امریکہ ہر طورپاکستان کے ساتھ تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جارج ایچ ڈبلیو بش (جو بعد میں امریکہ کے اکتالیسویں صدر بنے) نے بھارت کو “عظیم جارح” قرار دیا۔ خلوت میں بش کسنجر کو “مغرور اور خوف زدہ انسان” پکارتا تھا لیکن پبلک میں بش نے وائٹ ہاؤس کی پالیسی کا دفاع کیا۔ کسنجر اور بش نے اقوام متحدہ میں چین کے سفیر سے ملاقات کی اور بین السطور چین کو جنگ میں شمولیت کی دعوت دی۔ کسنجر نے چینیوں کو کہا کہ اگرچہ ان پر ہتھیاروں کی پابندی قائم ہے لیکن وہ ایران اور اردن جیسے امریکی اتحادیوں کے ذریعے امریکی لڑاکا طیارے چین کو فراہم کر سکتا ہے (جو کہ ایک غیر قانونی قدم ہوتا)۔ سی آئی اے نے ایران اور اردن کو سابق امریکی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلام آباد کو ایف ۔ 104 فراہم کرنے کو کہا۔ اردن نے کئی طیارے فوری طور پر پاکستان منتقل کر دیے لیکن جہاں تک چین کا تعلق ہے، اس نے پاکستان کی کسی قسم کی مدد نہیں کی۔

 

عین اس موقع پر سی آئی اے نے نکسن کو ایک انٹیلیجنس رپورٹ پیش کی جس کے مطابق اندرا گاندھی کے عزائم مشرقی پاکستان تک محدود نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق اندرا گاندھی اس جنگ میں پورے پاکستان کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اگرچہ سی آئی اے کے کچھ ماہرین کے نزدیک یہ رپورٹ کلی طور پر قابل اعتبار نہیں تھی لیکن اس رپورٹ نے واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر رچرڈ ہیلمز نے وائٹ ہاؤس کو کہا “اندرا گاندھی کوشش کرے گی کہ پاکستان کی تمام بری اور فضائی افواج کی مشینری ختم کر دی جائے اور اس کے بعد کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو بندوق کی نوک پر زیر کرلیا جائے”۔ نکسن نے اس رپورٹ کو ان چند رپورٹس میں سے ایک قرار دیا جو سی آئی اے نے اسے بروقت فراہم کیں۔

 

اس رپورٹ کے نتیجے میں نکسن نے فوری طور پر امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس اینٹرپرائزکی قیادت میں خلیج بنگال میں اتارنے کا حکم جاری کیا۔ یہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی حمایت کا بہت پرزور مظاہرہ تھا۔ شائد نکسن یہ کر کے چین کو ہمت دلانا چاہ رہا تھا کہ وہ بھارت پر حملہ کر دے۔ اندرا گاندھی آسانی سے ڈرنے والی خاتون نہیں تھی اور ویسے بھی اب دیر ہو چکی تھی۔ پاکستان نے ڈھاکہ میں چودہ دسمبر انیس سو اکہتر کو امریکی قونصل سے کہا کہ وہ بھارت کو مطلع کردے کہ پاکستانی فوج ہتھیار ڈالنے کو تیار ہے۔
اور پھر پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دن آن پہنچا۔۔۔!

 

(بروس رائیڈل نے اپنی کتاب میں امریکی بحری بیڑے کی خلیج بنگال میں جانے کی تفصیل بیان نہیں کی کیونکہ شائد یہ کتاب کے وسیع تر موضوع کا تقاضا نہیں تھا لیکن میرے خیال میں پاکستان میں موجود ایک غلط فہمی کے ازالے کے لئے یہ تفصیل ضروری ہے۔ نہ صرف یہ کہ امریکی بحری بیڑہ خلیج بنگال کی طرف گامزن تھا بلکہ امریکہ کے کہنے پر ایک برطانوی بحری بیڑہ بھی ایچ ایم ایس ایگل نامی جہاز کی قیادت میں بھارت کی طرف رواں تھا۔ چند ماہرین کے خیال میں منصوبہ یہ تھا کہ برطانوی بیڑہ بحیرہ عرب کی طرف سے بھارت کے مغربی ساحل سے بھارت پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں پہنچے گا اور امریکی بیڑہ خلیج بنگال سے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی مدد کرے گا ۔ لیکن بھارت کو اس منصوبے کی بھنک پڑ چکی تھی سو بھارت نے اپنے معاہدے کے تحت دسمبر دس کو سوویت یونین سے مدد مانگ لی جس کے جواب میں سوویت یونین نے ولادی واسٹوک سے دسویں آپریٹو بیٹل گروپ سے وابستہ سوویت آبدوزوں کا ایک دستہ خلیج بنگال روانہ کر دیا۔ ایڈمرل ولادمیر کرگلیوکوو اس دستے کا کمانڈر تھا۔ اس نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک انٹرویو کے بعد بتایا کی جیسے ہی امریکی بیڑے نے خلیج بنگال میں داخل ہونے کی کوشش کی، ایڈمرل نے، ماسکو کے احکام کے مطابق، اپنی آبدوزوں کو سطح آب پر آنے کا حکم دیا تاکہ امریکی بحریہ دیکھ لے کہ سوویت بحری دستوں میں میں نیوکلیئر آبدوزیں شامل تھیں ۔ پیغام واضح تھا: امریکہ کی بھارت کے خلاف جارحیت ممکنہ تیسری عالمی جنگ کا آغازہو سکتی تھی۔ سو امریکہ نے یہ انتہائی قدم لینے سے گریز کیا ۔ مترجم)
Categories
نقطۂ نظر

ہم اپنے ہی دشمن

ہر مجسمے ،تصویر، اور تاریخ کے پیچھے ایک کہانی پنہاں ہوتی ہے۔ ایسی ہی کچھ تصاویر، مجسمے اور تواریخ میرے ذہن میں گردش کرتے ہیں جب وحشت کی، جنونیت کی، نفرت کی، دہشت کی، خوف اور خون کی بات آتی ہے۔ اگر ایک طرف انسانی تاریخ جرات، بہادری اور ذہانت کے کارناموں سے بھری پڑی ہے تو دوسری طرف یہ کروڑوں انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی بھی ہے۔ اس میں محبت کی مہک ہے تو نفرت کے شرارے بھی ہیں۔ شاید وجود کی بنیاد ہی تضاد ہے۔

 

ایک طرف انسانی تاریخ جرات، بہادری اور ذہانت کے کارناموں سے بھری ہے تو دوسری طرف یہ کروڑوں انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی بھی ہے۔ اس میں محبت کی مہک ہے تو نفرت کے شرارے بھی ہیں۔
تاریخ میں یہ پہلی بارنہیں ہے کہ معصوم انسانوں کو خاص کر طلبہ کو جارحیت پسندوں نے اپنے نظریاتی، سیاسی، معاشی یا اختیاراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے موت کے گھاٹ اتاردیا ہو، ایسا پہلے بھی کئی بار ہوچکا ہے! اگر آپ کی یادداشت کمزور پڑ رہی ہے تو میں آپ کو یاد دلاتا ہوں۔

 

21اکتوبر 1941 کو دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن فوجوں نے سربیا کے شہر کراگوئیواچ کا گھیراو کیا اور 5000 ہزار سے زائد لوگوں کو موت کے دلدل میں ہمیشہ کے لیے دھکیل دیا۔ اگر بات طلبہ کی ہے تو یہاں یہ بتانا ضروری ہو جاتا ہے کہ جرمن فوجوں نے شہر کے اسکولوں سے طلبہ کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور گولیوں سے چھلنی کردیا۔۔ ان بچاروں کو کیا خبر تھی کہ ان کی زندگی اس طرح رک جائے گی۔

 

سوال یہ ہے کہ ہٹلر نے یورپی ملک سربیا کے شہر کراگوئیواچ کو ہی کیوں اپنی وحشت کا نشانہ بنایا؟ تاریخ کے اوراق میں اس کا جواب یوں درج ہے کہ سربیا یورپ کا وہ پہلا ملک تھا جہاں نازی جرمنی کی مداخلت کے خلاف عالمی سطح پر مزاحمت کی گئی تھی۔ ہٹلر کو یہ بات گوارا نہ گزری اور اس نے اپنے جنرل کیٹل کو حکم دیا:

 

ہٹلر کو یہ بات گوارا نہ گزری اور اس نے اپنے جنرل کیٹل کو حکم دیا
“اس جنگ میں اگر ایک جرمن فوجی زخمی ہوتا ہے تو ان کے 50 شہری مارو اور اگر ایک فوجی مرتا ہے تو ان کے 100 شہری مارو”۔
“اس جنگ میں اگر ایک جرمن فوجی زخمی ہوتا ہے تو ان کے 50 شہری مارو اور اگر ایک فوجی مرتا ہے تو ان کے 100 شہری مارو”۔

 

ہٹلر کے حکم کی تعمیل ہوئی اور سربیا کے شہر انسانی وحشت کی مثال بن گئے۔

 

کراگوئیواچ میں آج بھی اس دن کے حوالے سے کئی مجسمے کئی تصاویر موجود ہیں جن میں سے پرندے کے پروں کی مانند بنا ہوا ایک سفید مجسمہ ہے جو اس سانحہ میں مارے جانے والے تمام اساتذہ اور طلبہ کی یاد تازہ کردیتا ہے۔ اسے مونیومینٹ آف انٹررپٹڈ فلائیٹ (Monument of Interrupted Flight)کہتے ہیں۔

 

سربین شاعرہ Desanka Maksimović نے اس منظر کو اپنی نظم میں یوں قید کرلیا تھا۔

It was in a land of peasants
In the mountainous Balkans,
A company of schoolchildren
Died a martyr’s death
In one day.
They were all born
In the same year
Their school days passed the same
Taken together
To the same festivities,
Vaccinated against the same diseases,
And all died on the same day.
It was in a land of peasants
In the mountainous Balkans,
A company of schoolchildren
Died a martyr’s death
In one day.
And fifty-five minutes
Before the moment of death
The company of small ones
Sat at its desk
And the same difficult assignments
They solved: how far can a
traveler go if he is on foot…
And so on.
Their thoughts were full
of the same numbers
and throughout their notebooks in school bags
lay an infinite number
of senseless A’s and F’s.
A pile of the same dreams
and the same secrets
patriotic and romantic
they clenched in the depths of their pockets.
and it seemed to everyone
that they will run
for a long time beneath the blue arch
until all the assignments in the world
are completed.
It was in a land of peasants
in the mountainous Balkans,
a company of small ones
died a martyr’s death
in one day.
Whole rows of boys
took each other by the hand
and from their last class
went peacefully to slaughter
as if death was nothing.
Whole lines of friends
ascended at the same moment
to their eternal residence.

25 مارچ 1971 یہ تاریخ تو آ پ نہیں بھولے ہوں گے کیونکہ اس تاریخ پر جو خون کے چھینٹے لگے ہیں وہ ہماری ہی گولیوں نے اڑائے تھے۔

 

یہ جنگ ایک ہی گھر کے اراکین میں چھڑی تھی۔ مشرقی پاکستان جو مغربی پاکستان کی برتاو سے تنگ آ کر بٹوارا چاہتا تھا اور مغربی پاکستان کے اراکین کو یہ گستاخی قبول نہ تھی اور انہوں نے جنگ کا اعلان کردیا۔ یہ ذوالفقار علی بٹھو اور جنرل یحیٰی خان کی ملی بھگت تھی جسے آپریشن سرچ لائیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جگن ناتھ ہال سے گزرنے پر ممکن ہے کہ آپ کو ان بھاگتے دوڑتے طلبہ کے عکس دکھائی دیں یا پھر آپ کو ان کی چیخیں سنائی دیں!

 

ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں،کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا
اگر ہم دوسروں کو دہشت گرد، قاتل، جاریت پسند کہتے ہیں تو ہمارے ہاتھ بھی تو انسانی خون سے رنگے ہیں جنہیں ہم نے اب تک نہیں دھویا!

 

16دسمبر2014کو جب آرمی پبلک اسکول پشاور میں کسی کلاس میں بچے ہم آواز ہوکر کوئی نظم پڑھ رہے تھے، کسی کلاس میں انسان اشرف المخلوق ہیں کے موضوع پر مضمون لکھ رہے تھے تو اچانک چند انسانوں نے ایسی چال چلی کہ ان کے مضمون کے سارے الفاظ پھیکے پڑ گئے۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں، اساتذہ اور جو بھی ان کے سامنے آیا سب کو اپنی جنونیت کا نشانہ بنایا!

 

تاریخ خون کے دھبوں سے داغدار ہے۔ ہماری یادداشت تھوڑی کمزور ہے، ہم سب بھول جاتے ہیں، جیسے ہم بہت سی تواریخ اور سانحے بھول چکے ہیں ویسے ہی گزرتے وقت کے ساتھ یہ زخم بھی شاید بھر جائیں اور یہ درد جو ہماری رگوں میں آج ہمدردی کی حرارت پیدا کرتا ہے اور جس کی وجہ سے آ ج ہم اس سانحےکو یاد رکھنے کے لیےنعمے لکھتے ہیں گاتے ہیں یہ حرارت کب تک رہے گی؟؟

 

ہم نے پہلے بھی کئی عزم کیے تھے، آج بھی ہم دشمنوں کے بچوں کو پڑھانے کا عزم کرتے ہیں لیکن ہمارے تمام عزم وقتی ہیں اور زیادہ تر جذبات پر مبنی ہیں۔ اگرہمیں عزم کرنا ہی ہے تو ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو پاکستانی، ہندوستانی، امریکی، افغانی، ہندو، مسلمان، عیسائی، سندھی، پنجابی، پٹھان، کالا، گورا، امیر، غریب ہونے کے درس کو بھلا کر انسانیت کا درس دیں گے! کیونکہ یہ ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں، کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا!! ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو سوچتے ہیں کہ سبھی انسان ان کی طرح سوچیں، ان کے خیالات پر لبیک کہیں اور زندگی ان کے بتائے اسلوب سے گزاریں لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ تنوع، گوناگونی اک حقیقت ہے اور ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے۔
جب تک ہم اپنے آج کو نہیں بدلیں گے تب تک ہمارا کل اسی طرح بلکتا، سسکتا، اور وحشت زدہ رہے گا!

Image: Guernica by Picasso

Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 9 دسمبر 1971- بُری خبریں

آج کپتان صاحب اپنے دفتر میں ہی رہے۔اُنہوں نے کوت والے کو باہر بھیج دیا۔میں بھی شام تک اُن کے ساتھ رہا۔لکھنے کاکافی سارا کام اُنہوں نے مُجھ سے کروایا۔ میرے کام سے بہت خوش ہوئے اور کہا کہ جنگ کے بعد وہ مُجھے لانگ کورس کے امتحان میں ضرور بٹھوائیں گے۔میں نے اُن کو بتایا کہ میں گھریلو حالات کی وجہ سے اگر ایف ۔اے کے دوران ہی فوج میں بھرتی نہ ہوتا تو بھائی اقبال مُجھے بھی پرائمری ماسٹر لگوانا چاہےتھے۔ کپتان صاحب اچھے موڈ میں تھے تو میں نے اُنہیں اپنی تازہ شاعری بھی سُنائی۔وہ کہتے تھے کہ میں عشقیہ شاعری کی بجائے نثر لکھا کروں، بہتر ہوگا ۔کیونکہ عشقیہ شاعری کا شوق سولجر کو بُزدل بنا دیتا ہے۔

 

میں نے اُن سے جنگ کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ ہر طرف سے بُری خبریں ہیں۔دُشمن کئی راستوں سے ڈھاکے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ہماری ائیرفورس ناکارہ ہوگئی ہے اور تیج گاوں کا ہوائی اڈہ تو دُشمن نے بالکل تباہ کردیا ہے اور ہماری نیوی کے دو جہاز بھی ڈبو دیئے گئے ہیں۔وہ اندرا گاندھی کو ننگی گالیاں دے رہے تھے۔ اُنہوں نے یحیی خاں اور ٹکِا خاں صاحب کو بھی گالیاں دیں لیکن بعد میں مُجھے کہا کہ کسی سے ان باتوں کا ذکر نہ کروں۔وہ کہہ رہے تھے کہ ان بنگالیوں کے ساتھ بہت ذیادتیاں ہوئی ہیں لیکن انہوں نے جس طرح دُشمن سے ساز باز کی ہے، ہم ان غداروں کو معاف نہیں کریں گے۔پھر وہ شیخ مُجیب کو بھی گالیاں دینے لگ گئے۔میں بہت پریشان سا ہوگیا کہ اگر جنگ لمبی ہو گئی تو نجانے کب دوبارہ گھروں کا دروازہ دیکھنا نصیب ہو گا۔

 

کھانے کے بعد کپتان صاحب تو کوئی انگریزی ناول پڑھنے لگ گئے اور میں نے جاکر وائرلیس آپریٹر کو کھانے کیلئے ریلیف دیا۔اسی دوران برگیڈ سے کپتان صاحب کیلئے وائرلیس آیا۔ اُنہوں نے بی ۔ایم سے انگریزی میں بات کی۔ میرا خیال ہے کہ 6 تاریخ والے حملے کے حوالے سے کوئی احکامات تھے۔

 

آج رات دیر تک جنگی جہازوں کی گرج اور دور سے”Ack-Ack” توپوں کی آوازیں آتی رہیں۔پٹرول پارٹی بتا رہی تھی کہ قریب کے کسی گاوں پر بھارتی مگ طیاروں نے بم گرائے ہیں اور کافی سارے دیہاتی مر گئے ہیں۔ پُنّوں آج میرے پاس آکر سویا۔مُجھے بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ آج اُس نے غسل خانے کے پاس ایک سانپ مارا ہے۔یہاں سانپ بہت ذیادہ ہیں۔ رات کو پُنوں کی ڈیوٹی بھی تھی۔

(لانگ کورس:افسر بننے کیلئے لازم تعلیمی قابلیت۔ریلیف:آرام،چھُٹی۔ Ack-Ack :طیارہ شکن)

ڈائری کے گزشتہ دن

 


Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 8 دسمبر 1971- پُنّوں کی سُپاری

فجر کی نماز کے بعد لنگر کمانڈر سے ملا۔اُس نے بتایا کہ ابھی جے کیوُ صاحب اور کیپٹن صاحب کی بات ہوئی ہے، آج تمام نفری کو ناشتہ ملے گا لیکن دوپہر کے کھانے کا مسئلہ درپیش ہے۔ایک افسر کیلئے اپنے جوانوں کو کھانا فراہم نہ کرسکنا بہت بڑی اہانت کی بات ہوتی ہے۔صاحب آج سی او صاحب اور برگیڈ سے بھی مشورہ کریں گے۔ ناشتے کے وقت بھی یہی بات موضوعِ گفتگو تھی۔ سردارصاحبان کی باتیں سُن کر پتہ چلا کہ ہماری فوج نے چھمب اور حُسینی والا فتح کرلئے ہیں۔
دوپہر کو ایک اورپلٹون محاذ کی طرف جانے کیلئے تیارتھی، لیفٹیننٹ عثمان بھٹی آج ہی پہنچے تھے، پلٹون کی قیادت اُن کے حوالے کر کے اُنہیں آگے بھیج دیا گیا۔آج کئی دنوں بعد دُرّانی صاحب کو بھٹی صاحب کے گلے لگ کے خدا حافظ کہتے دیکھا، دراصل بھٹی صاحب کو چھے ماہ پہلے ڈھاکے میں دُرّانی صاحب نے شراب پی کے گالیاں دی تھیں جس کے بعد ان کے تعلقات ٹھیک نہ تھے۔ عثمان صاحب کئی نسلوں سے سولجر ہیں اور بہت ہی قابل افسر ہیں لیکن وہ دُرّانی صاحب کی بہت ذیادہ کتابیں پڑھنے کی عادت کو زنانہ صفت قرار دیتے ہیں، اسی بات پہ ان کی لڑائی ہوئی تھی ۔وہ دونوں کورس میٹ ہیں لیکن اُس لڑائی کی وجہ سے بھٹی صاحب کی کپتانی آنے میں سزا کے طور پر ،چھے ماہ کی تاخیر کردی گئی۔ بھٹی صاحب سے سُنا ہے کہ فرنٹ پر،ہلّی، سیتا پور اور گردونواح میں شدید لڑائی ہو رہی ہے۔دُرّانی صاحب بتا رہے تھے کہ اسی وجہ سے سی او اور برگیڈ سے رابطہ ہو سکا ہے نہ راشن کا مسئلہ حل ہوا ہے۔
ظہر کے وقت ہماری ایک پارٹی تشکیل دی گئی جس کی کمان خود دُرّانی صاحب کررہے تھے۔ مَیں اور پُنّوں بھی اس میں شامل تھے۔ہم پندرہ لوگ کیمپ سے نکلے اور ساتھ کے گاوں پہنچے جو کہ آدھے سے ذیادہ خالی ہو چکا ہے۔ یہاں بازار میں چند بڑی دُکانیں تھیں جو کئی دنوں سے بند تھیں۔ہم نے وہاں جاکر اُن کے تالے توڑے اور ان میں سے جتنی دالیں اور چاول مل سکا، سب اُٹھا لیا۔چند لوگوں نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن دُرّانی صاحب نے سیدھی فائرنگ کرکے اُنہیں ایسا خوفزدہ کیا کہ وہ تتر بتر ہوگئے۔اُن کا ایک آدمی زخمی ہوکر سڑک کے کنارے گرا اور دیر تک مدد کیلئے پُکارتا رہا۔

دیر تک ہم “مالِ غنیمت” کا راشن کیمپ لانے میں لگے رہے۔رات کو پُنّوں میرے پاس آیا تو سُپاری چبا رہا تھا۔ میں نے پُوچھا کہ کہاں سے لی ،تو کہنے لگا”ماموں، وہ بابووں کی دُکان سے اُٹھائی ہے”


(پلٹون:تیس جوانوں کا دستہ، ایک پلٹن میں پانچ کمپنیاں اور ہر کمپنی میں تین پلٹونیں ہوتی ہیں۔سردار صاحب: صوبیدار/جیونیئر کمیشنڈ افسر)

ڈائری کے گزشتہ دن

Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 7 دسمبر 1971- سچ یا جھوٹ

آج سارا دن ہم لوگ سٹینڈ ٹُو رہے لیکن کسی موو کا حکم ملا نہ کوئی ناگوار واقعہ ہوا۔ پُنّوں میرے پاس رہا۔بے چارہ گزشتہ چند روز کے واقعات سے بہت گھبرایا ہوا تھا، مُجھ سے اپنے خوف کا اظہار کرکے رونے لگا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مَیں بھی جب رنگروٹی پاس کرکے پلٹن میں آیا تھا تو پینسٹھ کی جنگ چھڑ گئی تھی لیکن سب خیر خیریت سے گزر گیا۔اسے حوصلہ اور دلاسہ دیا اورچند لطیفے سُنائے تو ہنستے ہوئےاس کے سانولے گالوں پر دو گڑھے سے بن گئے۔سلمیٰ باجی کہتی تھیں کہ جب میرا بیٹا پُنّوں جوان ہوگا تو اس کی ہنسی اور گالوں کے یہ گڑھے کتنی ہی چھوریوں کو اسکا دیوانہ کردیں گے۔کاش وہ زندہ ہوتیں تو دیکھتیں کہ پُنوں ہنستے ہوئے کتنا پیارا لگتا ہے۔
کیپٹن دُرّانی صاحب نے دوپہر کو ہمیں فالن کیا ۔ وہ بہت غصے میں تھے۔ہم سے خطاب کرتے ہوئے بولےکہ ریڈیو اور دیگر ذرائع سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ پاک فوج کے جوان بنگالی خواتیں کی عزت لوٹنے میں ملوث ہیں وغیرہ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ خبریں جھوٹی ہیں اور رضاکاروں، مُکتی باہنی، سنٹرل پیس کمیٹی اور دیگر آوارہ تنظیموں کی غلط کارروائیوں کا الزام ہم پر لگایا جا رہا ہے اور اگر کوئی جوان ان خبروں پر تبصرہ کرتا ہوا پایا گیا تو اُس کا فوری طور پر کورٹ مارشل کیا جائے گا۔ اُنہوں نے ہمارے ریڈیو سُننے پر بھی پابندی لگا دی۔لانس نائیک غلام شبیر صاحب عُرف چمڑا، جو کہ گانے کے بہت شوقین ہیں ،یہ سُن کر کہنے لگے”سر اب ان تمام جوانوں کو گانا سُنانے کی ڈیوٹی میرے ذمے لگائی جائے”دُرّانی صاحب مُسکرا اُٹھے اور کہا “تاکہ جوانوں کو دوگُنی بوریت ہو؟”ہم لوگ ہنس دیئے اور کچھ ماحول ہلکا ہوا۔
شام کے وقت کیپٹن صاحب نے حُکم دیا کہ کھانا اُن کے ساتھ کھاوں۔آج تمام کیمپ نے صرف شام کا کھانا ہی کھایا۔میں نے ڈرتے ڈرتے دن کی افواہ کے بارے میں پوچھ لیا تو کیپٹن صاحب نے کہا “سب بکواس ہے یار۔ دیکھو تنویر ، تم بچے نہیں، بارہ جماعتیں پاس ہو، ہم ان حالات میں جس طرح دشمنوں میں گھِرے ہیں، کیا ہمارے پاس ان کارروائیوں کی فرصت ہے؟” پھر کچھ دیر خاموش رہ کر دوبارہ بولے “تنویر حُسین، جنگ میں سب سے پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے—کُچھ بھی ممکن ہے”

(سٹینڈ ٹو:چوکس، تیار۔ فالن: انگریزی کا لفظ Fall-in ، مراد اکٹھا ہونا، صف میں)

ڈائری کے گزشتہ دن

Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 6 دسمبر 1971- چھاپہ اور تعاقب

فجر کی نماز کے لئے جاگا۔ابھی نماز کے لئے ہاتھ باندھے ہی تھے کہ کیمپ ایک زوردار دھماکے سے گونج اُٹھا اور پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔ میں نماز توڑ کے بھاگا اور مارٹر والوں کی خندق میں کود گیا۔ دس پندرہ منٹ تک عجیب ہلچل رہی۔ تمام سنتری اندھیرے میں فائر کرنے لگے۔ پھر کیپٹن صاحب نےہولڈ آن کا حکم دیا تو فائر رُکے۔سورج اُبھرا تو مُجھے صورت حال کا ندازہ ہوا کہ فجر کے وقت مُکتی باہنی نے کیمپ پر راکٹ مارا تھا جس سے کوت، جو کہ اس سکول کی لائبریر ی بھی ہے، کی دیوار گر گئی اور راشن والا ڈمپ بھی جل گیا۔ لائبریری کی کتابوں نے جو آگ پکڑی تو راشن کی دالیں تک بُھون دیں لیکن شُکر ہے ایمونیشن کو جلدی سے نکال لیا گیا ورنہ تباہی ہوتی۔
آج ناشتہ بھی نہ کرسکے۔ ریکی پارٹی نےفوری طور پہ مُکتی والوں کے فرار کا راستہ چھان مارا لیکن بے سُود۔ کیمپ سے پچاس گز کے فاصلے پر ایک مسلح باغی مُردہ حالت میں پایا گیا جو کہ ہماری اندھیرے میں فائرنگ سے مرا تھا۔ نرسنگ اردلی جب اُس کا معائنہ کر رہا تھا تو میں نے بھی اسے دُور سے دیکھا۔ اس نے دھوتی باندھ رکھی تھی اور قمیص پر بھارتی فوج کے سپلائی اِشُو والا کیمو فلاج جیکٹ پہن رکھا تھا۔
سارا دن مصروف رہے۔ کوت کپتان صاحب کے دفتر میں، جو کہ دراصل ہیڈماسٹر آفس تھا، منتقل کرنے کا حکم ملا تو سارا اسلحہ اور ایمونیشن یہاں منتقل کردیا۔رات سونے سے پہلے گھر سے آنے والے خط کا جواب لکھا لیکن سنبھال کے رکھ دیا کیونکہ سُننے میں آیا ہے کہ خطوط پر سنسر لگ گیا ہے۔یوں بھی بڑی پکی خبر ہے کہ مغربی پاکستان سے ڈاک کا رابطہ ختم ہو گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خط وکتابت بند ہونے کے بعد مشرقی پاکستان ذیادہ ہی اجنبی سی دھرتی محسوس ہونے لگا ہے۔
برگیڈ سے وائرلیس آیا تھا کہ صوبیدار بختیار صاحب کے والد سی ایم ایچ ڈھاکے میں فوت ہوگئے ہیں۔میں نے صوبیدار صاحب کو بتایا جس پر شام کو کپتان صاحب سے بہت ڈانٹ پڑی کہ میں نے اُنکی اجازت کے بغیر صوبیدار صاحب کو کیوں خبر دی۔۔۔

(مارٹر: تین انچ دہانے کی چھوٹی توپ۔کوت:اسلحہ خانہ۔ریکی:دُشمن کے علاقے کاگشت اور جائزہ)

ڈائری کے گزشتہ دن

Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 4 دسمبر 1971- گرفتاریاں

صبح دیر سے جاگا۔ ورکنگ لگی تھی لیکن کیپٹن دُرّانی صاحب نے بُلوا لیا۔اُنہوں نے کہا کہ میں اُن کے ساتھ رنر ڈیوٹی کروں۔وہ مُجھ پر بہت مہربان ہیں اورشائد میری پڑھائی کی وجہ سے مجھ پر خاص نظر رکھتے ہیں۔

 

آج صبح ہیڈکوارٹر کمپنی بھی موو کر گئی اور سی او صاحب بھی آگےچلے گئے۔ دوپہر کو البدر کے رضاکار آئے تھے ،اُنہوں نے بتایا کہ گھنشام گھاٹ والے راستے پر مُکتی باہنی کی ریکی ہوئی ہے۔ہماری دو پلٹونیں تیار ہوئیں اور دن بارہ بجے ہم نے گھنشام گھاٹ والے راستے پر ریڈ کیا ۔یہاں سے سات باغی گرفتار ہوئے۔ساری رات یہاں کیمپ میں ہلچل مچی رہی ۔ ان بنگالیوں کو ناریل کےدرختوں سے باندھ دیا گیا اور رات بھر ڈیوٹی سنتری چوکس رہے۔بنگالیوں کے پاس سے بھارتی فوج والی ایک رائفل بھی پکڑی گئی تھی جسے میں نے بھی دیکھا۔ میرا خیال ہے رُوسی ساختہ ہے۔ان لوگوں کے پاس بہت سارا اسلحہ ایسا ہے جو بھارتی فوج نے انہیں سال کے آغاز میں فراہم کیا تھا۔بابو لوگ تو شکار کے سوا اسلحے اور ہتھیار رکھتے ہی نہیں تھے،بھارتی فوج نے انہیں کلاشنکوف سے لے کر ریکائل لیس تک کی تربیت دی ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو انہوں نے باقاعدہ اینٹی ٹینک ہتھیار استعمال کئے ہیں۔یہ لوگ ہندوستان سے تربیت بھی لے کر آرہے ہیں۔

 

رات دیر تک گرفتار ہونے والے بنگالیوں سے دُرّانی صاحب پُوچھ تاچھ کرتے رہے اور وہ شور مچاتے رہے۔ وہ لوگ ہماری فوج کو ‘خان سینا’ کہتے ہیں اور تمام فوجیوں کو کپتان صاحب کہہ کر پکاررہے تھے۔ان میں ایک میرا ہم نام بھی تھا لیکن سب اسے تنویرُل پُکاررہے تھے۔

 

پُنّوں کو سزا کے طور پہ سات دن کا پِٹھوُ لگاہوا تھا لیکن بٹالین مُوو کر جانے کی وجہ سے کیپٹن صاحب نے معاف کر دیا اور مُجھے کہا کہ اپنے بھانجے صاحب کو ڈسپلن سکھاوں۔اُس نے چند دن پہلے کمانڈنگ افسرصاحب کی جیپ کے ٹائروں سے ہوا نکال دی تھی۔اور شُکر ہے کہ پکڑا تو گیا لیکن کسی کو وجہ نہ بتائی۔ بے وقوف مُجھے کہنے لگا کہ چونکہ سی او صاحب بنگالی ہیں لہٰذہ اُس نے اپنی نفرت کا اظہار کیاتھا۔ میں نے اُسے ڈانٹ کے سمجھایا کہ باباجی اچھے بنگالی ہیں اور غدّار نہیں ہیں۔

ڈائری کے گزشتہ دن