Categories
فکشن

نام بختاور سنگھ

روز کی طرح آج بھی ماسٹر بدری ناتھ صاحب تشنہ کی بیٹھک پر ان کے شاگرد اور دیگر اہلِ محلہ جمع تھے اوران کے کلامِ تازہ اور حُقے سے لُطف اندوز ہو رہے تھے کہ دارا پٹھان گانجا فروش آدھمکا؛

‘‘اُستاد صاحب! سُنتے ہو؟ آج آپ کے شاگرد خسرو طلعت کی سگائی کی رسم میں اُن کے سُسر اورمیر مُلا میں خوب ٹھنی، تلواریں کھنچ گئیں، خیر گزری کہ چلی نہیں’’

‘‘کیوں؟ کس لئے بچے کی سگائی بے مزہ کر دی میر مُلا نے؟’’

‘‘میر مُلا نے کہاں بد مزہ کی، میرزا عماد الدین نے میر خسرو سے اپنی بیٹی بیاہنے سے ہی انکار کر دیا ہے’’

‘‘جنم جنم کے کم بخت، نام بختاور سنگھ۔۔۔ بے چارہ میر خُسرو طلعت۔۔۔’’

اُستاد صاحب نے کہا تو سامعین مسکرائے۔

‘‘یہ صاحبزادہ جس روز مدرسے داخل ہوا تھا، اس روز مدرسے کی چھت گر گئی تھی’’

اُستاد نے اپنا ٹیڑھا ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا تو سامعین محفل نے یوں بے ساختہ قہقہہ لگایا گویا یہ واقعہ بھی پہلی بار سُن رہے ہوں۔ میر خُسرو کا تو نام ہی بختاور سنگھ پڑگیا، بعد میں فقط ‘بختو’ رہ گئے۔

میر صاحب دلی کے محلہ سیدواڑہ میں جمعدار میر ابوالمعالی مہابت جنگ کے ہاں پیدا ہوئے جوکہ محبوب علی خاں نظام دکن کے توپ خانے میں بڑے یگانہ روزگار اور نام ورتوپچی تھے۔ جمعدار صاحب ان کے اوائلِ عمر ہی میں وفات پاگئے تو میر بختو اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی ننھیال آرہے جو کہ دریبے میں تھی۔ یہاں ماموں میر مُلا کے ہاں پروان چڑھے جو کہ اپنے زہد و تقویٰ ، نجابت اور بددماغی کی وجہ سے بڑے معزز تھے۔ میر بختُو مدرسے کی عُمر کو پہنچے تو دریبے کے سب سے اچھے مدرسے میں داخل کروائے گئے لیکن جس روز مدرسے میں قدم رکھا، اتفاق سے مدرسے کی چھت آن گری۔ اسے بد شگونی قرار دے کر دوسرے مدرسے میں جابٹھایا تو سؤ اتفاق کہ پہلے ہی روز اس میں وہ آگ لگی کہ مدرسہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ کسی دشمن نے کہ دیا کہ میر خسرو طلعت اپنے نام کے بر عکس واقع ہوئے ہیں، میرصاحب کی ماں نے بات دل پر لے لی اور پھر انہیں کبھی مدرسے نہ بھیجا، لیکن پڑھی لکھی خاتون تھیں، گھر میں مدرسے سے اچھی تعلیم دی۔

میر صاحب کو بچپن سے ایک ہی سودا سوار تھا ۔ اقارب سے اپنے والد مرحوم کے کمال و ہنر کا تو سُن رکھا تھا، والد سے انس بھی انہیں بے حد تھا ، پھر پیشۂ آبأ کسے نہیں بھاتا، ٹھان لی کہ والد معظم جمعدار میر ابوالمعالی کے سے اوجِ کمال کو پہنچیں گے۔ بچپن میں اپنے نانا کی جریب تھامے ، بندوق بنائے اپنے ہم سنوں کو ڈراتے پھرتے تھے اور لڑکپن میں تو لکڑی کی ایسی کھلونا توپ بنائی کہ اصل دِکھتی تھی جسے میِر مُلا سمیت سبھی نے بے حد سراہا اوررسالدار تفضل حسین خاں بہادر نے تو ایک رُپیہ انعام بھی کیا۔ سولہ سال سے کچھ اوپر کے ہوئے تو میر صاحب کی منگنی قرار پائی لیکن شومئی قسمت کہ منگنی کی شب لڑکی کے سرسام کا ایسا تھپییڑا لگا کہ جاں بر نہ ہو سکی۔ ایک سال بعد کہیں میرزا عماد الدین کی صاحب زادی سے نسبت طے پائی لیکن کسی دُشمن نے وہ کان بھرے کہ وہمی میرزا عمادالدین نے عین موقع پر میر صاحب کی کُنڈلی نکلوانے کا حُکم دے دیا۔ میر مُلا اس ہندوانہ چلن پر سخت سیخ پأ ہوئے اور شدید بد مزگی ہو گئی۔ قصہ مختصر میرزا عماد نے انکار کر دیا اور میر بختو کی والدہ نے وہ صدمہ دل پر لیا کہ چند ہی ماہ میں عدم سدھار گئیں۔

اب میر بختو کی زندگی کو ایک تکلیف دہ جمود کا سامنا تھا ، کوئی کام کرسکتے نہ کہیں دل لگتا۔ میر مُلا سمیت کئی رشتہ داروں کے مزاج بدل گئے اور میر صاحب تنہائی کے گرداب میں پھنس گئے۔ غم غلط کرنے کو ماسٹر بدری ناتھ صاحب المتخلص تشنہ کے ہاں شاعری میں شاگرد ہو گئے۔ طبع بھی موزں تھی لیکن شعر نہ کہہ سکے۔ خُدا اپنے بے یارومونس لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ قدرت نے رسالدار تفضل حسین خاں بہادر کی لڑکی رخشندہ بانو کے دل میں میر صاحب کے لئے مہرومحبت کے لالہ و گل اُگا دیئے۔ اگرچہ میر صاحب واجبی سی شکل و صورت رکھتے تھے، ننھالیوں کی طرح لمبے اور گورے چٹے لیکن دُبلے پتلے سے تھے۔ ہنستے تو گالوں پر دو لمبی جھریاں پڑ جاتیں جنہیں وہ نہرِ ذقن کہہ کر خوش ہو لیتے۔ رخشندہ بانو نے ان کے ولولوں اور مزاج کی گمشدہ رعنائیوں کو ازسرِ نو زندہ کردیا۔ تب میر صاحب نے پہلی بار کوئی ایسی غزل کہی کہ ماسٹر صاحب سُن کر پھڑک اُٹھے ، فرمایا:

‘‘دیکھو اب رعنائیِ خیال تمہارے کلام میں عود کر آئی ہے، کس شخص کا تصور در آیا ہے؟’’

میر مُسکرائے؛ ‘‘بس اُستادِ معظم، ایک بنتِ حوا ہے جو ابنِ مریم بن کر آئی ہے’’

ماسٹر جی بھی ہنس دیئے کہ لونڈا صنائع بھی سیکھنے برتنے لگا ہے۔ اب تک میر صاحب کا دل کاروبارِ حیات سے ایسا اُٹھ چکا تھا کہ انہیں اپنا سپہ گری کا شوق بھی پہلے کی طرح بے چین نہ کرتا تھا لیکن اس ‘رسالدار زادی’ نے جہاں میر صاحب کو نئی زندگی دی ، وہاںان کے شوق کو بھی زندہ کر دیا ۔ اُسی کے کہنے پر ہی میر صاحب اپنا شجرۂ نسب اور والد کے کاغذات لے کر دکن کے انگریز کپتان صاحب سے بھرتی کی سفارش حاصل کرنے روانہ ہوئے جو کہ میر ابوالمعالی کے واقف کار تھے۔ قدرت کو اب کچھ اور ہی منظور تھا کہ جس روز میر صاحب دکن پہنچے، کپتان برنابی صاحب بہادر ملکِ سندھ کی کسی ولائیت کو جا چکے تھے۔ میر دلگیر واپس آئے اور بہت آزردہ ہوئے۔ رخشندہ بانو نے حوصلہ افزائی کا خط بھیجا اوران سے وعدہ لیا کہ اب ہرگز رنجیدہ نہ ہوں گے، اور اب کے دلی چھوڑیں گے تو پھر میر ابوالمعالی مرحوم کی طرح نامور سپاہی بن کر لوٹیں گے، رخشندہ بانو عمر بھر ان کا انتظار کرے گی۔

کئی دن گزرے تھے کہ میر صاحب گھر کے چھجے میں بیٹھے ، قلم تھامے، کاغذ پسارے، غزل کہنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن بات مطلع سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی؛

ہرروز سنور بن کے ترا یاں سے گزرنا
ٹُک دیکھ ہمارا بھی کبھو جاں سے گزرنا

بہت دیر سوچا کئے لیکن جب کچھ نہ بن پڑا تو ناگواری سے کاغذ مروڑ ا اور چھجے سے نیچے پھینک دیا۔ اتفاق کہیئے یا میر صاحب کی بد بختی، کہ گلی میں ماسٹر بدری ناتھ کی لڑکی کاویری اپنی ہمجولیوں کے ساتھ حسبِ معمول بن ٹھن کر پوجا پاٹ کیلئے جا رہی تھی ۔ مطلع کاویری کے سامنے آ کر گرا تو اُس نے اُٹھا کر پڑھا، انہی قدموں پر واپس لوٹی اور مطلع باپ کے حوالے کردیا اور لگی پھسر پھسررونے۔ کاویری شریف لڑکی تھی اور لاڈلی بھی۔ ماسٹر صاحب تو وہ آگ بگولا ہوئے کہ لٹھ سنبھالی اور آدھمکے میر صاحب کے گھر۔ نیچے بُلوا کر میر بختو کی وہ خبر لی کہ کھال اُدھیڑ کر رکھ دی۔ میر صاحب حماقت کی حد تک نیازمند تھے، اپنی صفائی بھی بخوبی پیش نہ کر سکے ، شکا یت میر مُلا تک پہنچی تو آؤ دیکھا نہ تاؤ، گویا پہلے سے ہی عذر کی تلاش میں تھے، فوراً میر بختو کو گھر سے نکال دیا۔

گھنشام بابو میر صاحب کا بچپن کا یار تھا، انگریزی جانتا تھا جس وجہ سے ‘بابُو ’ مشہور تھا اور لاہور میں نوکر تھا۔ میر صاحب کی بے دخلی کی خبر سُنی تو گھنشام بابو نے انہیں ساتھ لیا اور لاہور روانہ ہو گئے۔ پورے سفر میں میر صاحب کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے رہے، جلا وطنی کے دکھ میں نہیں بلکہ اُس آخری پیغام پر جو رخشندہ بانو نے یہ خبر سُنتے ہی بھیجا تھا:

‘خُسرو طلعت! آپ بد بخت تو مشہور تھے ہی، لیکن بد نیت بھی ہیں، اس کی ہمیں خبر نہ تھی۔ شائد کاویری جی ہی آپ کے لائق تھیں،یہ باندی نہیں۔۔۔’

گھنشام بابو نے بہتیرا سمجھایا ، بہلانے کے حیلے کئے لیکن میر صاحب بجائے سلجھنے کے، اُلجھتے ہی جا رہے تھے۔ بات شکررنجی تک پہنچی تو لاہور سے پہلے ہی کسی ہالٹ پر ریل سے اُتر گئے۔ مغرب سے آنے والی کیس گاڑی میں سوار ہو ئے اور مُلکِ حیدرآباد کا قصد کیا۔حیدر آباد میں ایک سرائے میں آٹھہرے اور کچھ دنوں بعد یہاں سے میر صاحب نے گھنشام بابو کو خط لکھا اور معافی مانگی کہ ناحق دوست سے خفا ہوا۔ گھنشام بابو کا جواب آیا کہ رخشندہ بانو کے بیاہ کی خبریں ہیں اور وہ ہاپُڑ جانے والی ہے۔ انہیں بجا طور پر افسوس تھا کہ رخشندہ بانو نے انہیں کس عجلت سے ہرجائی سمجھ لیا تھا۔میر صاحب اور دلگرفتہ ہوئے۔

وہ حیدرآباد میں جس مہمان سرائے کے برآمدے میں پناہ گزین تھے، وہاں کسی نے انہیں بتایا کہ اورنگ آباد میں کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر نے چند ماہ کیلئےتو پ خانے کی تربیت کی پلٹن کھڑی کی ہے اور رنگروٹ تیار کرکے ریاستی توپ خانوں میں بھیجیں گے۔ میر صاحب کو امید کی ایک کرن نظر آ ئی کہ شائد بھرتی کی کوئی راہ نکل آئے کیونکہ صاحب موصوف میر ابوالمعالی کے رفیق کار بھی تھے اور دوست دار بھی۔ میر ابوالمعالی اس دور کے توپ خانہ جمعدار تھے جب دیسی سپاہیوں میں کم ہی لوگ توپ خانے کے ماہر تھے اور اس صیغہ پر انگریز کا براہِ راست اختیار تھا۔ دراصل ۱۸۵۷ کے بعد دیسی سپاہیوں اور بالخصوص مسلمانوں کو حتی الوسع اس صیغے سے دور رکھا گیا تھا۔ کپتان برنابی اور میر ابوالمعالی میں خوب گاڑھی چھنتی تھی اور باہم تحائف کا تبادلہ بھی رہتا تھا۔ کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر شعرو سخن کا ذوق بھی رکھتے تھے اور توپ خانہ سے انہیں عشق تھا۔ ہندوستانیوں سے کمال شفقت سے پیش آتے تھے لیکن انگریزوں میں غیر مقبول ہی رہے۔ سارجنٹ سے صاحب بنے تھے اور حال ہی میں فوجی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے۔ اورنگ آباد میں پلٹن کھڑی کرنے کا مقصد صرف اپنا دل لگائے رکھنا اور فراغت کا مشغلہ بنائے رکھنا تھا۔ ان کے ہاں اولاد نہ تھی لیکن میم صاحب اس ڈھلتی عمر میں بھی بے حد محبت روا رکھتی تھیں۔

میر صاحب کا بچپن کا شوق ایک بار پھر سے جوان ہو گیا اور وہ کپتان برنابی صاحب سے امیدیں وابستہ کئے اورنگ آباد روانہ ہو گئے۔ اُمید نے وہ سرشاری بخشی کہ گزشتہ تلخیاں بھی وقتی طور پر ذہن سے اُتر گئیں۔ اورنگ آباد پہنچ کر پہلے اُستاد چُغری خاں سے مُلاقات ہوئی جو میر صاحب کے والد مرحوم کے ہم پیشہ و ہم جلیس تھے۔ اُستاد چُغری خاں جو آج کل کپتان برنابی صاحب کے ایجٹن تھے، میر صاحب کو کپتان صاحب کے بنگلے پر لے گئے جہاں صاحب بہادر اور میم صاحب باغیچے میں بیٹھے شطرنج کھیل رہے تھے۔ اُستاد چغری خاں نے کپتان صاحب سے میر صاحب کا تعارف کرایا تو کپتان صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور میر صاحب کو گلےلگا لیا۔ چند جملے انگریزی میں اپنی میم صاحب کے گوش گزار کر کے دیر تک میر صاحب سے باتیں کرتے رہے۔

‘‘خُسرو طلعت ! تُم پیدا ہوئے تھے، تب ہم لفٹین تھے، اب تُم نوجوان۔۔۔ہم کپتان! ہاہاہا!’’ کپتان صاحب کا یوں ہنس کر اور اس اپنائیت سے ملنا میر صاحب کو بہت اچھا لگا۔

‘‘پیارا بچہ ہائے۔۔۔’’ میم صاحب نے بھی میر صاحب کو دیکھا اور کہا۔

کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر کے ہاں بھی قریب قریب صلہ داری نظام کے تحت پلٹن کا کاروبار تھا، یعنی رنگروٹوں کو اپنی وردی اور رہائش کا خرچ خود کرنا ہوتا تھا لیکن میر خُسرو کو جنہیں کوئی بھی یہاں میر بختو نہیں کہتا تھا، کوئی مسئلہ درپیش نہ آیا۔ میر خسرو اپنے نئے اُستاد ، جمعدار ایجوٹنٹ چغری خاں کے ساتھ رہتے تھے۔ چغری خاں عمر رسیدہ فارسی بان توپچی تھا اور اپنی زبان کی طرح اخلاق بھی شیریں رکھتا تھا۔ میر صاحب کو وہ کمال شفقت سے موچی کے ہاں چھوڑ آیا اور ان کے لئے ان کے ناپ کا فوجی بُوٹ، کمر بند اور نیام بنانے کا حُکم دیا۔

‘دِلی کے ہو جوان؟’ موچی نے میر صاحب کو سرتاپا دیکھ کر سوال کیا تو میر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا نام بتایا۔

‘آئیے قبلہ۔۔۔ میرا نام ولائیت حُسین ہے اور میں بھی دِلی سے ہوں!’ ولائیت حسین دراصل موچی نہ تھا بلکہ غدر کے وقت میرٹھ کے ویلی بازار کا نامی طبلہ نواز تھا اور نتھُو پکھاوجی کے نام سے مشہور تھا۔ جب اہلِ کمال کو چُن چُن کر قتل کیا جانے لگا، جبکہ نتھوُ کی بھی ہندوؤں سے عداوت چل رہی تھی، تو رسالدار بہرام سنگھ نے اسے وہاں سے نکالا اور یہ ہمیشہ کیلئے اورنگ آباد کا ہو رہا ۔ اپنے ہم پیشہ لوگوں کے قتل کے بعد طبلہ پھینک کر چرم چمڑے کا کام اپنایا جو اس کے باپ کا پیشہ تھا۔ اس سے بھی میر صاحب کو خُوب ربط بن گیا۔

کپتان صاحب کبھی کبھار میر خسرو کو شام کے کھانے پر بلاتے تھے اور اُستاد چُغری خاں سے ان کا خاص خیال رکھنے کو کہتے۔ اب میر خُسرو نے اُمید باندھی کہ یہاں سے وہ ایک دن نامور توپچی بن کر نکلیں گے اور ضرور مہابت جنگ جیسا کوئی لقب پائیں گے۔ اُنہوں نے ٹھان لی کہ اب ان کی زندگی میں بندوق اور توپ کے سوا کوئی‘ مؤنث’ نہیں ہو گی۔

تربیت کے باقاعدہ آغاز سے قبل میر خُسرو کو بتایا گیا کہ پہلے وہ بندوق کے استعمال میں مہارت حاصل کریں گے، پھر توپچی کی تربیت پائیں گے۔ اس پلٹن کے پاس درجن بھر بندوقیں ہوں گی اور تین توپیں۔ یہ بندوقیں اور توپیں لگ بھگ تیس سال پُرانی تھیں اور کسی ہندُو راجہ سے کپتان صاحب نے سستے داموں خریدی تھیں۔ ذیادہ تر بندوقیں دیسی ساختہ تھیں اور نالی سے بھری جاتی تھیں۔ ولائیت کی انفیلڈ کی بنی بندوقیں بھی بھرنے میں ایسی تھیں لیکن ہزار گز تک گولی پھینکتی تھیں ۔ البتہ ان کا بارود اور کارتوس کم یاب تھا اور محدود مقدار میں دستیاب تھا اسی لئے تربیت کے کچھ اسباق خالی بندوقوں سے پڑھائے جاتے۔ ہفتہ میں تین روز اُستاد بندوق سر کرنا، توپ بھرنا اور ہر دو کی دیکھ بھال اور صفائی وغیرہ سکھاتا تھا۔ ہر اتوار کی شام کپتان صاحب خوُد آتے تھے اور ہر رنگروٹ اُن کی موجودگی میں بندوق سر کرتا۔

میر خسرو طلعت کی تربیت کا آغاز ہوا۔ پہلے تین ہفتے بندوق اور توپ کی دیکھ بھال اور صفائی سیکھی، بندوق سر کرنا سیکھی اور پھر جا کے اتوار کے ملاحظے میں حاضر ہوئے۔ کپتان برنابی صاحب نے میر صاحب کو رنگروٹوں کی قطار میں دیکھا تو زیرِلب مسکرائے، اُستاد چُغری خاں نے بھی ان کے جواب میں باچھیں پھیلائیں۔ کپتان صاحب ہمراہ جے صاحب (جمعدار ایجوٹنٹ صاحب) اور دبیر سنگھ توپچی کے، میدانِ مشق میں کھڑی رنگروٹوں کی قطار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک گئے، باری باری ہر رنگروٹ کے پاس آکھڑے ہوتے، رنگروٹ بندوق بھرتا، سر کرتا ، پھر سے بھرتا، دوبارہ گولی داغتا اور پھر ہوشیار کھڑا ہو جاتا۔ کپتان صاحب اپنی رائے سے نوازتے اور اگلے رنگروٹ کی طرف بڑھ جاتے۔ میر خسرو طلعت پُر جوش بھی تھے اور متذبذب بھی۔ ہتھیلیوں پر پسینہ آرہا تھا اور دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ کپتان صاحب ان کے پاس آئے تو میر صاحب نے فوجی سلام کیا، کپتان صاحب مسکرائے ، احوال پرسی کی اوربندوق بھرنے کا حُکم دیا۔ فرطِ جوش سے میر صاحب کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ بارود بھرنے لگے تو بہت سا گرا ڈالا۔ پھر بندوق چلائی تو ٹُھس کی آواز کے ساتھ کارتوس میر صاحب کے سامنے ہی گر گیا۔ کپتان صاحب نے اُستاد چُغری خاں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا، اُستاد نے میر صاحب کی طرف دیکھا اور میر صاحب نے نظریں جھکا لیں کپتان برنابی صاحب نے کندھے اچکائے اور آگے چل دیئے۔ میر بےحد اداس ہوئے لیکن استاد چُغری خاں نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور تشفی دی کہ ایک رنگروٹ سے یہ بعید نہیں ، پھر جھوٹ موٹ ایک ایسا قصہ میر ابوالمعالی مرحوم کی بابت بھی سُنا ڈالا۔ میر صاحب بھانپ تو گئے لیکن خاموش رہے اور سنبھل گئے۔ تربیت میں تیغ زنی اور بانک بنوٹ کے فن بھی شامل تھے لیکن میر صاحب کی دُبلی جسامت اور ان کے توپ و تفنگ کے شوق نے انہیں اس طرف ذیادہ نہ آنے دیا۔

ایک بار پھر استاد چغری خاں نے انہیں اتوار کی مشق میں لا کھڑا کیا کہ اب کی بار ہمت کیجئے اور خوب نشانہ باندھیں۔ میر صاحب میدانِ مشق میں کھڑے بار بار گتے کے کارتوس کو مٹھی میں بھینچے اُس سمت دیکھ رہے تھے جس طرف سے کپتان برنابی نے آنا تھا ۔ وقتِ مقررہ پر کپتان صاحب آئے، اُستاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ توپچی نے اُن کا استقبال کیا ، میر صاحب نےاپنی باری آنے سے قبل کارتوس کا ایک بار پھر جائزہ لیا جو شائد پُرانا تھا کہ نرم پڑ چکا تھا لیکن میر صاحب کا خیال تھا کہ خوب چلے گا۔ ان کی باری آئی تو کارتوس کو دانت سے کاٹا، بندوق میں بھرا اور بندوق چلا دی۔ شومئی قسمت کہ بارود پرانا تھا، اب کے بار رنجک چاٹ گئی اور بندوق سر نہ ہو سکی۔ کپتان صاحب کچھ دیر سر جھکا کر سوچتے رہے، اور مونچھ کو تاؤ دیتے رہے۔ اس دوران اُستاد چغری خاں اور دبیر سنگھ پر خاموشی طاری رہی۔ ‘‘اُستاذ! مشق کی ضرورت ہے!’’ کپتان صاحب نے کہا اور رخصت ہو گئے۔ میر صاحب نے بندوق پرے پھینکی اور زمین پر بیٹھ گئے۔ اس رات کھانا بھی نہ کھایا اور رات دیر تک بے قراری کے عالم میں جاگتے رہے۔ کبھی والد مرحوم کو یاد کر کے بہت روئے تو کسی دم والدہ مرحومہ کو۔ اپنی بدبختی کو کوستے اورسسکیاں لیتے خُدا جانے رات کے کس پہر آنکھ لگی۔ اگلی صبح اُستاد چُغری خاں نے میر صاحب کی آنکھوں سے ہی اندازہ لگا لیا کہ صاحبزادے نے معاملہ دل پر لے لیا ہے۔ کپتان صاحب سے ملاقات ہوئی تو استاد نے سرِ راہے بتا دیا کہ صاحب بہادر کا لاڈلا اداس ہے۔ کپتان صاحب نے حکم دیا کہ میر صاحب شام کا کھانا ان کے ہمراہ کھائیں گے۔ کپتان صاحب اکثر ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے کہ عشق اور سپہ گری کسی کا رنگ ، مذہب اور نسل نہیں دیکھتے۔ کم سن میر صاحب سے انس شائد فقط بے اولادی کی وجہ سے ہی نہیں، سپہ گری کے پیشے کی دین بھی تھا کہ میر ابوالمعالی کا بھی کپتان صاحب ایک اچھے اور کہنہ سال سپاہی ہونے کی وجہ سے از حد احترام کرتے تھے۔ میر صاحب جب کپتان برنابی صاحب کے ہاں گئے تو کپتان صاحب نے ان کی آزردگی کی وجہ پوچھی اور پھر دیر تک ان کی ہمت بڑھاتے اور غم غلط کرنے کی باتیں کرتے رہے۔ لطائف اورشعر و سخن کا تبادلہ بھی ہوا اور میر صاحب کی طبیعت ایک بار پھر ہلکی پھلکی ہوگئی۔

کپتان برنابی صاحب کی حوصلہ افزائی نے میر صاحب کو پھر سے تربیت پر آمادہ کیا تو وہ ایک بار پھر میدان کی مشق میں آکھڑے ہوئے۔ اب کی بار میر صاحب کو سب سے پہلی باری دی گئی تھی۔ان کے ساتھی بڑے تجسس سے دیکھ رہے تھے کہ کپتا ن صاحب بہادر کا چہیتا کیوں کر بندوق سر کرتا ہے ۔ آج انہیں ولائیتی انفیلڈوالی بندوق دی گئی جس کا کارتوس بھی اچھا تھا۔ یہ بندوقیں ۱۸۵۷ کے بعد اب آکر کپتان برنابی صاحب نے استعمال کی تھیں جبکہ باقاعدہ افواج میں ان کے متنازعہ ہو جانے کی وجہ سے ان کا استعمال قریباً ختم ہو چکا تھا اور ان کی جگہ اب مارٹینی ہنری اور سنائیڈر کی بندوق نے لے لی تھی۔ میر صاحب نے پورے اعتماد کے ساتھ بندوق بھری، نشست باندھ کر لبلبی دبا دی لیکن گھوڑے نے چلنے سے انکار کر دیا۔ اس مردود پرزے نے عین وقت پر بے وفائی کی تو میر صاحب گھبرا گئے۔ اسی لمحے اُستاد چغری خاں نے آگے بڑھ کر بندوق تھام لی جبکہ کپتان صاحب انگریزی میں کچھ بڑبڑانے لگے۔ اس سے پہلے کہ استاد ٹھونک بجا کر بندوق کے نقص کا اندازہ لگاتے، بندوق استاد کے ہاتھ میں ازخود چل گئی اوردبیر سنگھ توپچی کا، جو کہ لپک کر اُستاد کے پاس آگیا تھا اور بندوق کی نال کے سامنے کھڑا تھا، بایاں پاؤں زخمی کر گئی۔ کپتان برنابی نے جو یہ منظردیکھا تو پہلے بے ساختہ ہنس پڑے، پھر سنجیدہ ہو کر واپس چلے گئے۔ میر صاحب دیر تک یہی سوچتے رہے کہ کپتان صاحب نے قہقہہ لگا کر اُن کی نحوست اور بدبختی کی داد دی ہے۔ بہت خفا ہوئے، رات دیر تک شہر سے ہٹ کر ایک مندر کے پچھواڑے میں، ندی کنارے بیٹھے رہے۔ رات بھی چاندنی تھی اوردل بھی اداس ۔ بڑی مدت کے بعد آج میر صاحب کو رخشندہ بانو کا خلوص یاد آیا۔ اس کی بہت کمی محسوس کی لیکن جب اس کا ترکِ تعلق یاد آیا تو ہر تلخ و شیریں یاد کو ذہن سے جھٹک کر اُٹھ آئے۔ میر صاحب اگر اس قدر حساس نہ ہوتے تو شائد قدرت بھی ان کے ساتھ اتنی چھیڑ چھاڑ نہ کرتی۔ میر صاحب کی رنجیدگی اور دلگرفتگی کا قصہ پھر کپتان صاحب تک پہنچا تو وہ میم صاحب کے ہمراہ خود ہی اُستاد چُغری خاں کے ہاں چلے آئے۔ میر صاحب کو پاس بٹھایا اور کہا؛

‘‘میر صاحب، تُم فقط تھوڑے سے بدقسمت واقع ہوئے ہو ورنہ سپہ گری میں تُم ہرگز نالائق نہیں ہو، لیکن بہادر بنو!’’

میم صاحب نے فرمایا: ‘میر، ٹُوم جس دن نظام کی فوج میں بھرتی ہو گا، میں ٹُومارا شادی بناؤں گی’ میر صاحب مسکرا کر چپ ہو رہے۔
میم صاحب نے سفارش کی کہ میر خسرو کو توپ کی تربیت دی جائے، شائد اسے ہماری پلٹن کی بندوق راس نہیں ہے۔ کپتان صاحب نے سفارش مان لی ۔ پلٹن میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ، بلکہ کچھ لوگوں نے تو شرطیں بدنا بھی شروع کر دیں کہ میر خسرو کیسے توپ چلائے گا۔ اب استاد چغری خاں نے میر صاحب پر سخت محنت شروع کر دی اور کئی روز مشق اور قواعد کے بعد کپتان صاحب سے اجازت طلب کی کہ میر صاحب کو مشق کروائی جائے کہ وہ توپ چلا کر دکھائیں۔ کپتان صاحب نے پلٹن کی سب سے چھوٹی توپ (توپک) میر صاحب کے لئے نکلوائی ۔ یہ توپ پیندے سے بھری جاتی تھی جس میں گولہ ڈال کر دندانے دار بیلن کا پیندا گھما کر کس دیا جاتا تھا۔ بہت ہلکی توپ تھی اور استاد قالی خاں نے بیجا پور میں پہاڑی توپ خانےکیلئے ڈھالی تھی۔جب سے یہ توپ استاد قالی خاں نے کپتان صاحب کو تحفہ کی تھی، یہ توپ کم ہی چلی تھی۔ مقررہ روز جب میر صاحب نے مشق کے میدان میں توپ چلانا تھی ، اس روز استاد چغری خاں اچانک بیمار پڑ گئے، جس وجہ سے کپتان صاحب کے ہمراہ دبیر سنگھ توپچی کو آنا پڑا جس کا پاؤں ہنوز زخمی تھا۔ وقت مقررہ پر کپتان صاحب کی موجودگی میں جب میر صاحب نے توپ بھری، تمام پلٹن دیکھ رہی تھی، سب نے میر صاحب کے ماہرانہ انداز کی داد دی اور کپتان صاحب بھی دیکھ کر خوش ہوئے۔ میر صاحب نے بڑے اعتماد سے توپ میں سلامی کا گولہ ڈالا اور دبیر سنگھ کے، جو کہ چند قدم پیچھے کھڑا تھا، اشارہ کرنے پر مہتابی دکھا دی۔ چھوٹا سا دھماکا ہوا اور پیندے کا دندانے دار بیلن (بریچ) ٹوٹ کر کسی پٹاخے کی طرح پھٹ گیا جس کا ایک ٹکڑا دبیر سنگھ کی دائیں ٹانگ پر لگا جبکہ دوسرا اپنی پوری شدت سے عقب میں ایک درخت میں پیوست ہو گیا۔ آگ کے شعلے سے میر صاحب کی بھنویں اور سر کے بال بھی کچھ جھلس گئے۔ دراصل کسی نے غور نہیں کیا کہ پیندے کے بیلن میں پرانا پڑ جانے کی وجہ سے بال کے برابر دراڑ پڑ گئی تھی۔ یہ تو خیر گزری کہ سلامی کا گولہ ڈالا گیا تھا ورنہ اُلٹی توپ چلنے سے بہت نقصان ہوتا تھا۔ کپتا ن بے حد خفا ہو کر وہاں سے چل دیے۔ تمام لوگوں نے اسے دبیر سنگھ کی نااہلی قرار دیا لیکن کپتان صاحب ناروا میر خسرو سے ناراض ہو گئے ۔ اسی شام کپتان صاحب دبیر سنگھ کی عیادت کے بعد استاد چغری خاں کی عیادت کو بھی آن پہنچے تو میر صاحب سے بھی سامنا ہوا لیکن بات نہ کی۔ استاد نے میر کی وکالت کرنے کی کوشش کی تو کپتان برنابی صاحب آگ بگولہ ہو گئے؛

‘‘اُستاذ، من ہرگز باور نکنم کہ اُو خلفِ ابوالمعالی است’’ کپتان صاحب نے سخت غصے میں کہا اور چلے گئے۔ میر صاحب نے بھی سُن لیا اور سخت بُرا مان گئے اور اسی شب اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اورنگ آباد سے روانہ ہو گئے۔ جاتے ہوئے استاد چغری خاں سے کہا؛ ‘‘اُستادِ من، ہم سپہ گری پر تین حرف بھیج چکے، اب جاتے ہیں اجمیر، خواجہ کی درگاہ میں ٹھکانہ کرنے ’’ استاد سن کر پریشان سے ہوگئے ، ‘‘میر خسرو طلعت! خدارا دل میلا نہ کیجو، ابھی تو آپ رنگروٹ ہیں!’’ استاد نے ملتجیانہ کہا لیکن میر صاحب ، کپتان صاحب کی بات دل پر لے چکے تھے، ہرگز نہ رُکے اور اجمیر روانہ ہو گئے۔ اگلے روز جب کپتان صاحب کو واقعہ کا علم ہوا تو پہلے سخت برہم ہوئے، لیکن استاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ کے سمجھانے پر انہیں احساس ہوا کہ اُنہوں نے ناروا غُصے سے کام لیا ہے۔ توپ کی خرابی کی ذمہ داری سنگھ نے اپنے سر لے لی اور معقول بات بھی یہی تھی۔ کپتان برنابی نے اگلے ہی روز ایک جوان کو میر صاحب کے نام کا ایک رقعہ دے کر اجمیر روانہ کردیا ۔ اس نامہ بر کو بصد مشکل میر صاحب ملے تو کپتان صاحب کا رقعہ میر صاحب کے حوالے ہوا، لکھا تھا؛

‘‘سیدزادے! کیوں خفا رہ کر گنہ گار کرتے ہو؟ اب تھوکو غصہ اور آبھی چکو، دیکھو بہت نادم ہوں اور میم صاحب بھی افسردہ ہیں’’

میر صاحب تیوری چڑھا کر بولے، ‘‘ایک فرنگی کاہے کو ہمارے تئیں اس لائق گردانے؟ یہ تحریر استاد چغری خاں کی ہے’’ قاصد نے جا کر کپتان صاحب کو بتایا تو وہ بھی ناراض ہوئے مگر استاد چغری خاں کے مشورے پر اُنہوں نے گھنشام بابو کو خط لکھا جس چغری خاں خوب جاننے لگے تھے۔ میر صاحب گھنشام بابو کی بات ٹالنے والے نہ تھے، لہٰذا اس کے ہمراہ ہی اورنگ آباد آگئے ۔ آنے سے پہلے درگاہ میں خوب دعائیں مانگ کر آئے، راہ میں گھنشام بابو نے کسی جوتشی سے میر صاحب کی پریشانی بیان کی تو اس نے فقط اتنا کہا؛ ‘‘میر صاحب کے ہاتھ میں تفنگ ضرور چلے گی!’’ گھنشام بابو کو تو میر صاحب کی بپتا پر ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا تاوقتیکہ اورنگ آباد پہنچ کر کپتان صاحب کی پلٹن سے سُن نہ لی۔ گھنشام بابو کے ساتھ میر صاحب نے ریاست میں چند روز خوب سیر کی، یوں ان کا مزاج اچھا ہوا اور وہ معمول پر آگئے۔

یہ ۱۸۸۲ کی کوئی تاریخ تھی جب کپتان برنابی صاحب بہادر اور میم صاحب کے دیرینہ دوست اور بے حد محبوب رشتہ دار کرنیل گورڈن صاحب بہادر کی خبر ملی کہ تل الکبیر کے معرکے میں مارے گئے ہیں، یعنی ایک دھاوے میں گھوڑے سے زخمی ہو کر گرے اور رسالے بھر کی ٹاپوں نے روند دیا۔ پلٹن میں سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔ پلٹن کے پرانے لوگ آنجہانی کرنیل صاحب کا بے حد احترام کرتے تھے۔ کرنیل صاحب کبھی کپتان صاحب کے مہمان ہوتے تو پلٹن کا دورہ بھی کرتے۔ آخری بار میر صاحب کے آنے سے کچھ قبل دورہ کیا ہوگا لیکن میر صاحب نے ان کی سپاہیانہ وجاہت اور ہیبت کے قصے سُن رکھے تھے۔کپتان برنابی صاحب بہادر نے پلٹن میں دربار لگایا اور کرنیل صاحب کے پرانے دوست اور شاعر میرزا محی السنت احقر کو بلوا کر ان سے مرثیہ کہلوایا۔ استاد چغری خاں نے فارسی میں قطعۂ تاریخ کہا جبکہ ایک شعر میر خسرو طلعت نے بھی اہلِ دربار کے گوش گزار کیا؛

جنگ جوئے قہر ساماں پر یہ قہرِ واژگوں
تفو تجھ پر، حیف تجھ پر اے سپہرِ واژگوں!

کپتان صاحب چونکے۔ ‘‘میر صاحب! سپہر ِ واژگوں نے جو قہر میرے مرحوم دوست پر ڈھایا، یہ قہرِ واژگوں کیسے ہو گیا؟’’ کپتان صاحب کے سوال پر میر صاحب کا جواب بھی خوب تھا؛ ‘‘حضور، صاحب بہادر خُلد آشیانی کے قہر سے بھی تو فلکِ پیر کانپ اُٹھتا تھا!’’

کپتان برنابی بہت خوش ہوئے اور اپنی کارتوس بھری قرابین وہیں میر صاحب کو انعام کر دی۔ میر صاحب نے بصد شکریہ قرابین کمربند میں اُڑس لی اور خوش خوش واپس آگئے۔

اگلے روز شور ہوا، ‘میر صاحب کی قرابین چلی ہے!’ ‘میر صاحب نے قرابین سے گولی داغی ہے!’ جو سچ تھا، جلد ہی سب کو پتہ چل گیا ۔ میر صاحب نے جو قرابین جامے میں اُڑس لی تھی، وہ کسی لمحے اُن کا ہاتھ پڑ جانے سے از خود چل گئی اور گولی ان کی ران پہ لگی ۔ بمشکل ایک رات جان بر رہ سکے، خون ذیادہ بہہ جانے کی وجہ سے پہلے بے ہوشی ہوئی، پھر دم توڑ دیا۔ دمِ مرگ وصیت کر گئے تھے لہٰذا پلٹن کی لین میں دفن ہوئے۔

قبر پر مٹی پھینکی جارہی تھی، ضابطے مطابق سپاہ کی گارد نے سلامی کی بندوقیں سر کیں تو اپنی جھونپڑی میں بیٹھے ولائیت حسین موچی کے شاگرد کا ہاتھ رک گیا۔ پاس بیٹھے کسی بچے نے کہا، ‘‘پلٹن میں کوئی سنتری مر گیا ہے، سپاہی لوگ اُسے دفنا رہے ہیں’’

‘‘بالآخر اس کا بھی بخت جاگا۔۔۔’’ نوجوان موچی نے کہا، بچے نے کچھ جواب نہیں دیا۔ ‘‘اچھا ہی ہوا، فرنگی کے احسانوں کے بار سے آزاد ہوا اور عدم کے ملک میں اپنا ایمان سلامت لیے جا بسا ہے، خُدا بخشے۔۔۔’’

بگل کی آواز پر دیر تک ‘لاسٹ پوسٹ’ کی دُھن بجتی رہی اور موچی کا ہاتھ اسی روانی سے کپتان برنابی کے گھڑسواری کے بوٹ سینے میں مشغول ہو گیا۔۔۔

Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 10

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

طلعت کی شخصیت دو لحاظ سے عجیب تھی، اول تو یہ کہ وہ بہت خوبصورت تھی، کھڑا ناک نقشہ، اونچا قد، پتلی دبلی مگر دلکش جسم کی مالک۔وہ زیادہ تر پاکستانی سوٹ پہنا کرتی تھی،ہلکا چمکتا ہوا لپ گلوز اس کے پتلے ہونٹوں کی رونق بڑھاتا تھا، کمر تک بال، موتی جیسے قطار اندر قطار دانت اور گالوں میں پڑنے والے گڑھے۔اور دوسرے اس کی زندگی اپنی شرطوں پر گزرتی تھی، بتاتی تھی کہ جب وہ بارہ برس کی تھی، تب کسی بات پر ناراض ہوکر اس کے گھروالوں نے اس سے بات کرنی چھوڑ دی تھی، اس کی دو چھوٹی بہنیں فرح اور زرناب ہی اس سے بات کیا کرتی تھیں، کل پانچ ، چھ بہنیں تھیں اور دو بھائی۔ والد کا شاید کوئی پریس تھا، اس کے ایک بھائی سے بعد میں میری دوستی بہت اچھی ہوگئی تھی، ان کو ہم لوگ وسیم بھائی کہا کرتے تھے۔گرافک ڈیزائننگ میں ماہر تھے۔بہرحال طلعت کا قصہ وہاں سے شروع ہواجب اس نے مجھ سے اپنی بہن کی سو غزلوں پر اصلاح کروائی۔میں نے ان غزلوں کی اصللاح کے ہزار روپے لیے اور کام کرکے دے دیا۔طلعت کا پورا نام طلعت انجم تھا اور اس کی سب سے بڑی بہن ، جن کے لیے اس نے یہ کام کروایا تھا، مسرت انجم کہلاتی تھیں۔بعد میں وہ میرے والد سے کسی طور مل گئیں اور ان کی ہی شاگرد بن گئیں۔طلعت پہلے کوچنگ میں پڑھتی رہی، لیکن کچھ وقت بعد اس نے میرے گھر آکر ہی مجھ سے ٹیوشن لینی شروع کردی، فیضان سے بہت کوششوں کے بعد اس کی کوئی بات نہ بن سکی۔میں نے بھی ان سے بات کی تھی، مگر وہ طلعت کے لیے راضی نہ ہوئے، پتہ نہیں کیا وجہ تھی۔۔۔مگر وقت گزرگیا اور طلعت ان کے بہانے سے میرے نزدیک ہوتی گئی۔ہمارے درمیان ایک بہت اچھا تعلق قائم ہوا، وہ دو ڈھائی سال جو اس کے گریجویشن کی تیاری میں گزرے، بہت یادگار رہے۔میں آج ہی کی طرح اس وقت بھی گھر سے کام کرنا زیادہ بہتر سمجھتا تھا، کبھی کبھار کسی پروڈکشن ہاؤس کی سیر کرلی، کچھ کام اٹھالیا، کچھ ٹوٹا پھوٹاترجمہ، کہیں کوئی سی گریڈ فلم یا ٹی وی ڈرامے کی سکرپٹ۔۔یہ سب چلتا رہا، حالانکہ مجھے طلعت اور روشن دونوں کا ذکر ایک ساتھ ہی کر دینا چاہیے، مگر میں الگ الگ ہی ان کو بیان کروں گا۔

 

چھوٹی دنیائیں بہت گہرے تعلقات پر منحصر ہوتی ہیں، ان میں ہر ایک فرد ایک ستون کی طرح ہوتا ہے، یہاں کوئی الگ ہوا، وہاں دھیرے دھیرے تعلقات کی یہ تکون یا چوکور عمارت دھیرے دھیرے ڈہنے لگتی ہے۔
طلعت کی ہستی کسی نابغے سے کم نہ تھی۔اس سے گھر میں کوئی بات نہ کرتا، مگر وہ سب سے بات بھی کرتی، ہنسی مذاق بھی کرتی۔وہ اپنے والد سے بہت پیار کرتی تھی، مگر شاید کوئی ایسی وجہ تھی، جس کی وجہ سے سب اس سے ناراض تھے،میں جاننا چاہتا تھا کہ آخر بارہ برس کی عمر میں کسی لڑکی سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس سے اتنے ناراض ہوجائیں، بہرحال بات کبھی سمجھ میں نہ آسکی۔یہ عقدہ اس لیے بھی نہ کھلا کیونکہ وہ بھی اس سوال کو ہنس کر ٹال جاتی تھی۔میں اگر خود اس کے گھر کا ماحول نہ دیکھتا تو مجھے اس کی بات پر یقین نہ آتا۔تین کمروں اور ایک بڑے سے آنگن پر مشتمل بلیوں اور ایک طوطے کی موجودگی سمیت اس کا گھر بہت خوبصورت تھا، وہ بھی ذاکر نگر میں ہی رہا کرتی تھی۔ایک چھوٹا سا بیگ کندھے سے لٹکائے روز شام چار بجے آجایا کرتی تھی۔اس وقت اس کے پاس فون نہیں تھا، میرے پاس موجود تھا مگر اس کے تعلق سے کسی کام کا نہ تھا۔بہرحال ، ہم زیادہ وقت چھت پر بیٹھے رہا کرتے تھے، سردی ہو یا گرمی، شام چار یا پانچ بجے سے سات آٹھ بج جایا کرتے، ہم بیٹھتے ، ٹہلتے، باتیں کرتے، پڑھتے اور ساتھ ہی اس سے میں عجیب و غریب قصے سنا کرتا تھا۔رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ اس کے اور میرے گھر کے تکلفات قریب قریب ختم ہونے لگے۔اسے پھلوں ولوں کا شوق نہ تھا، البتہ چقندر بہت شوق سے کھایا کرتی تھی۔ایک دفعہ جب اس کی سالگرہ کا موقع تھا تو ہم نے وہ سالگرہ فیضان کی اس چھوٹی سی کوچنگ میں منائی۔وہاں میں نے طلعت پر لکھی ہوئی ایک تحریر پڑھی، اسے تحفے میں ایک کلو چقندر دیے اور پھر کیک شیک کاٹا گیا۔چھوٹی دنیائیں بہت گہرے تعلقات پر منحصر ہوتی ہیں، ان میں ہر ایک فرد ایک ستون کی طرح ہوتا ہے، یہاں کوئی الگ ہوا، وہاں دھیرے دھیرے تعلقات کی یہ تکون یا چوکور عمارت دھیرے دھیرے ڈہنے لگتی ہے۔ میرا،فیضان کا اور اس کا تعلق کچھ ایسا ہی تھا، فیضان خود کو ذرا محتاط رکھتے تھے، مگر ہم اچھے دوست تھے۔ساتھ ہنستے، ساتھ وقت گزارتے اور ساتھ ہی سیر سپاٹا کیا کرتے۔جن شاموں کو وہ میرے ساتھ چھت پر ہوا کرتی، اکثر اس کے بھائی وسیم بھی آجایا کرتے تھے، وہ جب تک میرے ساتھ چوکی پر بیٹھے بات چیت کرتے، چائے پیتے۔طلعت کتاب کو یوں پلٹ پلٹ کر دیکھنے کی ایکٹنگ کرتی ، جیسے سچ میں کتاب سے اس کا گہرا دلی لگاؤ ہو، جبکہ ایسا تھا نہیں۔ان کے آجانے سے اسے بوریت محسوس ہوتی تھی، بعض اوقات وہ ان کی موجودگی میں ہی مجھ سے رخصت بھی طلب کرلیتی تھی۔اس کے پاس دو بڑی بڑی آنکھوں کی ایسی زبان تھی کہ اکثر شام کو میں اسے کہا کرتا کہ یہ آنکھیں نہ دکھایا کرو، خوف آتا ہے۔وہ چھوٹی سی چھت، ہمارے لیے کسی بہت بڑے سر سبز میدان سے کم نہ تھی، وہاں ہم ٹپکتی اوس، دہکتی گرمی اور برستی بوندوں میں کئی بار گشت لگاتے اور باتیں کرتے۔باتیں کیا تھیں، اس کے روز مرہ کے تجربات تھے، کبھی کسی مہمان کا ذکر، کبھی کسی دوست کا قصہ۔ عام طور پر جس علاقے میں ہم لوگ رہتے ہیں، وہاں کی لڑکیوں کا دلچسپ موضوع بگڑیل لڑکے ہوا کرتے ہیں۔طلعت بھی اس موضوع پر بہت اچھی طرح باتیں کرنا جانتی تھی۔لیکن اس کے سبھاؤ سے مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ اسے چھیڑے جانے سے کوئی خاص دکھ یا الرجی ہو۔جن دنوں وہ کالج جایا کرتی تھی، اس کو کسی افغان لڑکے سے محبت ہوگئی تھی۔بڑا عجیب سا ہی نام تھا اس کا جو اب یاد نہیں رہا ہے۔طلعت کہتی تھی کہ وہ اس کو بہت پسند کرتی تھی اور اس کے ساتھ افغانستان جانے کا ارادہ باندھ رہی تھی۔میں نے اسے کئی بار سمجھایا کہ ایک لڑکا، جسے ابھی تم ٹھیک سے جانتی بھی نہیں ہو، اس کے ساتھ افغانستان چلی جاؤ گی، یہاں تمہارے گھر والے، رشتہ دار، پاس پڑوس والے، دوست احباب کیا سوچیں گے۔مگر وہ سوچنے وچارنے کے معاملے میں ذرا کنجوس تھی۔اس نے ٹھانا ہوا تھا کہ وہ اس لڑکے کے ساتھ ایک روز چلی جائے گی۔میں نے اسے مشورہ دیا کہ گھر پر بات کرلو، کہنے لگی کہ گھر پر بات نہیں کی جاسکتی، میں نے وجہ پوچھی تو اس نے پورا قصہ بتایا۔یہ افغانی لڑکا پہلے اس کی زندگی میں رہ چکا تھا، اتفاق سے گھروالوں کو اس تعلق کی خبر ہوئی اور ایک دن طلعت کے بھائیوں نے اس پر بڑی سختی کی۔لڑکا خطرہ بھانپ چکا تھا، اس لیے کچھ روز میں غائب ہوگیا۔ اب وہ دو تین سال بعد واپس آیا تھا اور طلعت کے ساتھ شادی کے وعدے کررہا تھا۔ایک روز طلعت میرے پاس آئی، اس نے بتایا کہ وہ اب اس افغانی لڑکے سے کبھی نہیں ملے گی، میں نے پوچھا بات کیا ہے، وہ اس روز فیروزی رنگ کی گھٹنوں تک پھیلی ہوئی قمیص اور چوڑی دار پاجامے میں تھی۔مگر کسی واقعے کے اثر سے اس کی آنکھیں بھی زہریلی دکھائی دیتی تھیں، اس نے بتایا کہ اس لڑکے نے آج اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی کوشش کی۔طلعت ، ان لڑکیوں میں تھی، جو بغاوت کو اپنا حق سمجھتی ہیں، محبت پر یقین کرتی ہیں اور کسی چھوٹے سے بچے کی طرح پوری دنیا کو ایک گھر اور ایک رشتہ میں بندھا ہوا محسوس کرتی ہیں۔مگر ان لڑکیوں کی نازک خیالیوں کو ٹھیس لگانے کے لیے بہت سے لڑکے کانٹا بچھائے بیٹھے رہتے ہیں،طلعت کی زندگی میں بھی ایسے لڑکے اس کے محلے سے لے کر افغانستان تک موجود تھے۔میں نے اسے کچھ سمجھایا نہیں، اچھا ہوا کہ اسے خود عقل آگئی تھی۔لیکن مجھے طلعت کی یہ بات پسند تھی کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند دونوں کو بہت صاف طور پر ظاہر کرتی تھی، اس کے اندر کوئی لاگ لپیٹ نہیں تھی۔فلموں، گانوں، رنگوں اور چڑیوں کی شوقین تھی۔اس کی خود کی بولی بہت میٹھی تھی، جب بات کرتی تو آنکھیں اور ہاتھ بھی ساتھ میں ناچا کرتے۔

 

جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں
ایک دفعہ اس نے بتایا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ خریداری کرنے کے لیے جارہی تھی، شام کا وقت تھا، اچانک کوئی لڑکا راستے میں اس کی کمر سے باقاعدہ ہاتھ چھواتا ہوا گزر گیا۔وہ یہ بتاتے ہوئے ہنسنے لگی، اس دن وہ بے تحاشہ ہنسی۔ میں نے کہا کہ تمہیں اس واقعے پر ہنسی آرہی ہے، جبکہ یہ تو غصہ کا مقام ہے۔اس نے کوئی صراحت تو نہیں پیش کی، مگر ہنستی ضرور رہی۔پانی اس کا من پسند مشروب تھا۔ ایک دفعہ بوتل کو منہ لگاتی تو آدھے سے زیادہ پیے بغیر لبوں کے پرندوں کو آزاد نہ کرتی۔طبیعت ایسی آزاد کہ کسی دوست کی کار میں جابیٹھے، کسی کو طمانچہ لگادیا۔کسی سے گلے مل لیے اور کسی کو ایک نظر تک دیکھنا گوارا نہ کیا۔طلعت کے ساتھ گزرے ہوئے وقت میں ذاکر نگر کی بارہ نمبر گلی والی وہ چھت برابر کی حصہ دار رہی، جو ہمارے رشتے کے بننے، ارتقا پانے، روبہ زوال ہونے اور پھر قریب قریب ٹوٹنے کی گواہ تھی۔آج بھی وہ علاقوں کے لحاظ سے بہت دور نہیں، مگر اب میری زندگی کی چھت پر اس کی پرچھائی بھی موجود نہیں۔وہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی کہ اسے بہت اچھا ڈانس آتا ہے، مگر کبھی اس نے مجھے وہ ڈانس نہیں دکھایا۔جذباتی لڑکی تھی،ہنستی تو ہنستی چلی جاتی، رونے پہ آتی تو پلکوں کے کونوں پر جمے ہوئے قطروں کو گھنٹوں انگلیوں سے چھیڑتی رہتی۔اسے سب سے زیادہ مزہ تب آتا تھا، جب میں اس سے اسلامی تاریخ ، سماجیات یا پھر سیاسیات کے حوالے سے سوالات کرتا۔وہ جواب دیتی، مسکراتی ، اپنی غلطی بھانپتی اور پھر ہاتھ سے اشارہ کرکے، دوبارہ سوچنے لگتی۔پاس تو وہ گریجویشن میں ہوگئی تھی، مگر اس کی پڑھائی ، ایک طور پر صرف آزادی سے اس کا ایک اٹوٹ تعلق بنے رہنے کا بہانہ تھا۔گھر پر بہت سے لوگ تھے، مگر لوگ اسے جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں، یعنی ایک خاص وقت پر اس میں داخل ہوکر اپنی مرضی کا کھانا آرڈر کرو، مزے سے کھاؤ اور پھر بل چکا کر چلتے بنو۔طلعت پر میں نے اس زمانے میں کچھ نظمیں لکھی تھیں’ پھول چہرہ’، ‘گل اندام ‘ وغیرہ وغیرہ ۔ اس نے وہ نظمیں مکمل یاد کرلی تھیں۔میں جب اس کے قریب تھا تو بہت سادگی پسند اور کچے جذبوں والا ایک نوجوان تھا، جسے فلرٹ کرنے کا ہنر بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا۔ڈھیلے ڈھالے شرٹ پہنا کرتا، فارمل پینٹس ۔میں پینٹ میں شرٹ کو کبھی اڑستا نہ تھا بلکہ ڈھیلا چھوڑ دیتا، کالے اوردبلے بدن پر یہ ڈھیلے کپڑے بہت عجیب نقش پیدا کرتے تھے، مگر طلعت کو ان سب سے سروکار نہیں تھا۔وہ مجھ سے پانچ روپے بھی اگر کبھی خود پر مجبوری میں خرچ کروالیتی تو مجھے واپس لوٹایا کرتی تھی۔ایک وقت پہ جاکر میں نے اس سے ٹیوشن فیس لینا بند کردی ،اس کی وجہ ہمارا گہرا تعلق تھا۔

 

سردی کی ایک شام ہم چھت پر بیٹھے تھے، میں کرسی پر تھا اور وہ پائری سے ٹیک لگائے، آگے نکلی ہوئی اینٹوں پر بیٹھی تھی۔ہم اکثر وہاں بیٹھتے تھے، شام کا دھندلکا تھا۔آس پاس کی چھتیں ویران تھیں،اس کا سینہ زیادہ بھرا ہوا نہ تھا، دو چھوٹی گولیاں تھیں اور وہ بھی اتنی اندر کہ بس اتنا حصہ سپاٹ معلوم ہوتا۔اس وجہ سے اس کی گردن کا حصہ نیچے اتر کر کسی دھوپ میں سوئے ہوئے صحرا کی مانند پھیل گیا تھا۔طلعت اس پر اپنی مخروطی انگلیاں پھیر رہی تھی۔میں اسے دیکھنے لگا، اس روز بس اس نے میرا ہاتھ بغیر کچھ کہے، اس شفاف حصے پر رکھ دیا، وہ حصہ بہت گرم تھا، میں اندر سے کچھ گھبرا گیا تھا، بات کچھ بھی نہ تھی، طلعت شاید اس روز یہی بتارہی تھی کہ اس کا بدن عام لوگوں سے زیادہ گرم رہا کرتا ہے۔مگر اس کے بعد ہم اکثر بات کرتے میں ایک دوسرے سے انگلیاں الجھا لیتے، پاؤں لڑاتے اور ایک دفعہ جب وہ کسی بات پر آبدیدہ ہوئی تو سرد اندھیرے کی گیلی چادر کے اندر میں نے بڑی خموشی سے اسے گلے لگالیا۔وہ بس ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان چمک چمک کر ماند ہوجانے والے جگنوؤں جیسے لمحے تھے، جو بہت اضطراری اور جلد باز تھے۔آئے، گزر گئے ۔نہ ان میں کچھ ہوسکتا تھا، نہ ہوا، ہم نے تو کبھی سانسوں کی ڈوریں بھی الجھانے کا خود کو موقع نہ دیا۔شاید میں اس وقت ان سب باتوں سے بہت خوفزدہ رہتا تھا۔اخلاقیات کا بھی بے حد قائل تھا اور ہمت کے لحاظ سے بھی بے حد کمزور۔ ورنہ وہ لمحے دھندلی گلابیوں میں اترے ہوئے پانیوں جتنے حسین تو تھے ہی، بس انہیں لبوں تک لانے کی توفیق نہ ہوئی۔لیکن اچھا ہی ہوا۔اگر ایسا ہوتا تو آج بھی اپنی تمام بے باکیوں کے باوجود مجھے اس بات پر افسوس ہی ہوتا۔وہ میری بہت اچھی دوست تھی اور مجھ پر اس کا بھروسہ بھی بلا کا تھا۔ہمارے درمیان کوئی ایسا جذبہ بھی نہ تھا، جو بعد میں اس وقتی یا فطری جذباتیت کوJustify کرنے کا بہانہ بن سکتا۔چنانچہ جو ہوا ، اچھا ہوا۔

 

محبت کے اس خوبصورت دورانیے میں سب کچھ ٹھیک تھا، ندیم بھی میری بہت عزت کرتا تھا، مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔مگر میرے ہی اندر رقابت کا جذبہ پیدا ہونے لگا
طلعت کی شادی، فیضان کے ہی ایک دوست ندیم سے ہوئی ہے۔اب ان دونوں کے دو بچے بھی ہیں۔ندیم کی اس سے پہلی ملاقات میرے ہی گھر پر ہوئی تھی۔وہ ندیم سے کیا ملی، دنیا سے بیگانہ ہوگئی،اس نے رفتہ رفتہ سب کو نظر انداز کردیا۔کہانی میں ایک موڑ بڑا دلچسپ تھا، طلعت جتنی عجیب و غریب تھی، ندیم بھی ویسا ہونق و اجبق آدمی نکلا۔ فیضان نے ایک روز مجھے بتایا کہ ندیم اور طلعت فلم اکیلے دیکھنے جانا چاہتے ہیں اور ندیم، طلعت کو سرپرائز دینا چاہتا ہے، اس کے لیے پہلی دفعہ اس نے دو ٹکٹ خریدے ہیں، لیکن بھری ہوئی قطار میں کارنر سیٹ طلب کرنے کی شرمندگی اس کے چہرے پر صاف دیکھی جاسکتی تھی، اس محنت کا فائدہ بھی کچھ خاص نہ ہوا کیونکہ طلعت دوسرے روز کسی وجہ سے اس کے ساتھ فلم کے لیے نہ جاسکی، اس روز ہم نے ندیم کا بہت مذاق اڑایا۔ اسی طرح ندیم کو معلوم تھا کہ طلعت اپنے گھر پر رات کو فون پر بات نہیں کرسکتی، پھر بھی اس نے طلعت کو ایک فون گفٹ کیا، سم دلوائی اور رات کو وہ اس طرح بات کرتے کہ طلعت اپنی بہنوں کے بیچ لیٹی، چادر میں دبکی کان پر فون لگائے رہتی اور ندیم اس طرف سے لگاتار بولے جاتا، دو طرفہ محبت میں ایک طرفہ کنورسیشن کی یہ سروس کئی دفعہ طلعت کے اچانک سوجانے سے متاثر ہوچکی تھی۔ندیم ہماراگہرا دوست بنا۔ اور آج بھی ہے۔ہم نے کئی فلمیں ساتھ میں دیکھیں، شامیں ساتھ میں گزاریں اور وقت کے سطح مرتفعی علاقوں کی سیر کرتے وقت ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا۔اکثر یہ ہوتا کہ میں اور فیضان ، ندیم اور طلعت کو، ہمارے متوقع بہنوئی کی عدم موجودگی میں ، ان کے گھر پر چھوڑ کر باہر سے تالا لگا دیتے اور کہیں گھومنے چلے جاتے۔دو چار گھنٹے، ادھر ادھر گزارنے کے بعد واپس آتے۔

 

محبت کے اس خوبصورت دورانیے میں سب کچھ ٹھیک تھا، ندیم بھی میری بہت عزت کرتا تھا، مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔مگر میرے ہی اندر رقابت کا جذبہ پیدا ہونے لگا، مجھے فکر ہونے لگی کہ اگر طلعت کی شادی ہوگئی تو اتنا اچھا وقت جو میں اس کے ساتھ گزارتا ہوں، ایک دم سے ختم ہوجائے گا اور کہانی رک جائے گی۔اس جلن میں میں نے ایک روز طلعت کی بڑی بہن مسرت انجم کو یہ بتادیا کہ طلعت جس لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے وہ میرا دوست ہے، اور یہ دونوں شادی کے لیے کبھی بھی فرار ہوسکتے ہیں۔میں یہ بات وسیم بھائی تک کسی ذریعے سے پہنچانا چاہتا تھا ، مجھے یقین تھا کہ اگر بات وہاں تک پہنچ گئی تو ان دونوں کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔۔وہ کوئی عشقیہ رقابت نہ تھی، بس میں وقت کو روکنا چاہتا تھا، جبکہ مجھے اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ میں جس وقت کو روکنا چاہ رہا ہوں، وہ واقعی گزر چکا ہے اور طلعت کی شامیں اب کسی اور کی زندگی کا حصہ بن گئی ہیں، وہ ٹیوشن کم آنے لگی تھی، اس بات پر ایک دو بار ہمارا جھگڑا بھی ہوا۔۔مجھے حیرت تب ہوئی، جب اس طرف شادی کے سارے انتظامات ہونے کے باجود طلعت کے گھرمیں کوئی ہلچل ہی نہ دکھائی دی۔طلعت نے ٹیوشن چھوڑ دی تھی، ہماری کبھی کبھار فون پر بات ہوجاتی۔پھر ایک دن جب میں ایک اداکارہ کے ساتھ کناٹ پلیس میں کہیں بیٹھا ہوا تھا تو طلعت کا فون آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ ندیم اور وہ دونوں دلی چھوڑ کر جارہے ہیں۔سب کچھ اتنا اچانک تھا کہ میں کچھ نہ کرسکا۔ مگر اس رات مجھے وسیم بھائی کے ساتھ بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑی، ندیم کے گھروالوں اور ان کے گھروالوں کے درمیان میں کسی پسو کی طرح دبکا ہوا ساری باتیں سنتا رہا۔وہ دونوں کہاں تھے، اس کی کسی کو خبر نہیں تھی۔طلعت نے اپنے بندھے ہوئے لبوں کے پرندے کو بالآخر پوری طرح آزاد کردیا تھا، رات کے ڈھائی بجے وسیم بھائی نے مجھے میرے گھر ڈراپ کیا اور میں یہ سوچتا ہوا گھر کی سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ آخر مسرت نے اپنے گھروالوں کو کچھ بتایا کیوں نہیں۔۔۔مگر اب اس پورے قصے پر سوائے ایک روکھی ہنسی ہنس دینے کے علاوہ میرے پاس اور کیا چارہ تھا۔
Categories
شاعری

یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا
(ایک نامراد فینٹسی)

[/vc_column_text][vc_column_text]

پُرسا دینے کی تفصیل میں کیوں جاؤں میں؟
آنسو کس کے پونچھوں، سوگ مناؤں کس کا؟
آہ، اُف، تعزیت، ماتم
وائے، حیف ، افسوس، عزا داری کے جملے۔۔۔۔۔
میرا کلیجہ پھٹ جانے سے خوں شوئی میں بہہ نکلے ہیں
میں نا شکرا، اُس دھرتی کا بیٹا جس نے
مجھ جیسے نا خلف کو جیون دان دیا تھا
آج کے اس منحوس لگن میں
بوم شوم کے اس بد فال ا گھن میں
ایک اگھور وقت کے ان منحوس پلوں میں
ہنستے بستے شہروں کی سکراتِ مرگ کو دیکھ رہا ہوں!

 

کاش کہ میں نا بینا ہوتا
پھوٹ گئی ہوتیں یہ آنکھیں، جو یہ منظر دیکھ رہی ہیں!
یہ دلّی ہے، یہ لاہور ہے
یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا!

 

امریکا میں بیٹھا میں بھی
لاکھوں دیگراپنے ملکوں کے پرواسی لوگوں جیسا
ٹی وی پر یہ منظر نامہ دیکھ رہا ہوں
شہر کہاں ہیں؟
عمارات، مینار، منارے کہاں گئے ہیں؟
ریل گاڑیاں،میٹرو کے اسٹیشن، کاریں
بجلی کے کھمبے اور تاریں
کس دریا میں غرق ہوئے ہیں؟
پنکھ پکھیرو، جانور، انسان کہاں ہیں؟
گدلی تاریکی میں باقی کچھ بھی نہیں ہے
ڈھیر راکھ کے، اڑتی دھول، بگولے زہریلی گیسوں کے
کوئی بھی عضوی باقیات، ذی روح نمو
حیوانی، خلقی اُپج نہیں ہے
پاشیدہ، مالیدہ، رسپیدہ ہے سب کچھ!

 

اب تو راکھ کے ڈھیر ہیں، لیکن
کل تک یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی – قسط نمبر 9

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انہیں اصل میں اس بات پر یقین کرتے ہوئے بڑی شرم سی محسوس ہورہی تھی کہ یہ جو چھٹانک بھر کا لڑکا ان کی نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے، ابھی ابھی ان کی بیٹی نے اسے اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔
بہت دنوں تک دوردرشن اردو کے لیے کام کرنے کے بعد مجھے جب فراغت ملی تو میں ایک روز جب دوپہری میں گھر پر آرام کررہا تھا، طلعت مجھ سے ملنے آئی۔طلعت دراصل انہی دو لڑکیوں میں سے ایک تھی، جن کو مجھے کوچنگ میں پڑھانا تھا۔لیکن اپنی مصروفیت کی وجہ سے نہ پڑھا سکا تھا۔دہلی ایجوکیشن پوائنٹ میں بہت زیادہ وقت میں نہ گزار سکا۔وہاں اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ بہت کم پیسوں پر مجھے کام کرنا پڑتا تھا۔طلعت والی بات بھی بڑھاؤں گا، مگر اس سے پہلے دو واقعات سن لیجیے، جو کچھ مزے کے ہیں۔کوچنگ میں سردیوں میں پھٹے ہوئے ایک کوٹ کو پہن کر بیٹھے رہنے سے لے کر تین تین شفٹ کرنے کی بھی نوبت آئی تھی۔اس نوبت کے پہنچتے پہنچتے میں وہاں سے نکل آیا اور مجھے سکرپٹنگ کا چسکہ لگ گیا۔اس کام میں کوچنگ کی بہ نسبت پیسے کافی زیادہ تھے اور کام بھی میری پسند کا تھا۔کوچنگ کے دوران بتانے کے لیے ایسا کچھ خاص نہیں ،بس ان دنوں میں یہ تبدیلی ضرور ہوئی تھی کہ ہم شاہین باغ سے اب بٹلہ ہاؤس شفٹ ہوچکے تھے، وہاں ایک بہت چھوٹے کمرے میں کچھ بیس بائیس دن گزار کر، ہم نے ایک دو کمروں کا فلیٹ ایک پرانی سی بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر ذاکر نگر کے علاقے میں لے لیا تھا۔تو پہلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں کوچنگ میں کچھ کم عمر لڑکیوں کو بھی پڑھایا کرتا تھا، جو جوانی اور بچپن کے بالکل برابر کی لکیر پر کھڑی ہوا کرتی تھیں۔وہ مجھ سے مانوس اس لیے ہوجاتی تھیں کیونکہ میں پڑھاتا کم تھا اور ان سے باتیں زیادہ کرتا تھا۔مجھے کبھی سختی سمجھ ہی میں نہ آئی، کسی طالب علم پر آنکھیں نکالنا بھی میرے لیے کبھی ممکن نہ ہوسکا۔اس لیے کیا لڑکے ، کیا لڑکیاں سب سے ایک دوستانہ قسم کے ماحول میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ خوب باتیں ہوا کرتیں۔ایک روز میں اپنے گھر سے کوچنگ جارہا تھا، کوچنگ کوئی بہت دور تو تھی نہیں۔لیکن میں جب اپنے گھر سے نکل کر کچھ سیدھا چل کر ایک گلی میں مڑا تو سامنے سے ایک طالبہ اپنی والدہ کے ساتھ آرہی تھی، اس نے مجھے سلام کیا تو میں مسکرادیا۔میرا مسکرانا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بھاری بھرکم قسم کی خاتون اپنے ڈگڈاتے بدن، تمتماتے چہرے اور چھلکتے ہوئے غصے کے ہمراہ میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئیں۔انہوں نے میری طرف نہایت جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے پوچھا۔

 

“کس کو دیکھ کر ہنس رہا تھا تو؟”

 

میں کچھ سمجھ نہ پایا کہ کیا کروں، مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی لڑکی کو چھیڑتا ہوگا تو ضرور اسے بچ نکلنے، بھاگنے یا پھر ایسی سچویشن میں مقابلہ کرنے کے سارے گر ضرور معلوم ہوں گے، لیکن میں اس معاملے بالکل اناڑی تھا اور پھر کسی عورت کو اس قسم کے روپ میں دیکھنا اس وقت میرے لیے بالکل ہی انوکھا تجربہ تھا، ان کی آنکھیں ابلی پڑرہی تھیں، بدن پر لال رنگ کا جمپر تیزی سے آگے کی جانب جھکا پڑرہا تھا، دوپٹہ گلے میں کسی اجگر کی طرح لپٹا ہوا، بال بندھے ہوئے اور ایک ہاتھ ہوا میں اس نیت سے لہراتا ہوا کہ میرے الفاظ سن کر میرے گالوں کے حق میں کوئی فیصلہ کرے گا۔مجھ سے بے وقوفی یہ ہوئی کہ میں نے ان سے یہ کہہ دیا

 

“آپ اپنی بیٹی سے معلوم کیجیے، میں کون ہوں!”

 

اس روز مجھے اس بات کا ضرور احساس ہوا کہ اس سوسائٹی میں رہنا ہے تو غصے میں رہنا بہت ضروری ہے۔کسی لڑکی کو دیکھ کر توکیا کسی کبوتر کو دیکھ کر بھی مسکرادینے سے بے وقت کی آفت ٹپک پڑسکتی ہے۔
اب وہ آئو دیکھیں نہ تاو، مجھ پر مزید برس پڑیں۔اور اس چھوٹی ، معصوم اور ننھی گلی کے آدھے دائرے میں ان کے غصے کا بگولہ ایسا رقص کرنے لگا کہ آس پاس کی کھڑکیوں نے اس نظارے کے لیے یکدم پٹاپٹ اپنی اپنی آنکھیں کھولنی شروع کردیں۔بات بڑھنے لگی، پتہ نہیں ، کیا مسئلہ تھا کہ وہ مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے چوک رہی تھیں۔مگر یقینی طور پر اگر اسی وقت ان کی بیٹی آگے بڑھ کر انہیں فوراً یہ نہ بتاتی کہ ‘ارے امی! کیا کررہی ہو، یہ تصنیف سر ہیں!’تو ان ہاتھوں کی برق میں لپٹی لہروں کو ضرور ایک زناٹے کے ساتھ میرے رخساروں سے چپٹ جانا تھا۔اول تو انہوں نے بیٹی کے بیان پر گھور کر مجھے دیکھا، پھر ان کی خون آلود نگاہوں میں ابلتا ہوا دریا ،دھیرے دھیرے بیٹھنے لگا۔انہیں اصل میں اس بات پر یقین کرتے ہوئے بڑی شرم سی محسوس ہورہی تھی کہ یہ جو چھٹانک بھر کا لڑکا ان کی نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے، ابھی ابھی ان کی بیٹی نے اسے اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔ اس لیے انہوں نے زیادہ معافی تلافی تو نہ مانگی،البتہ یہ کہہ کر کام چلایا کہ ‘سر! پلیز سڑک پر آئندہ اس کی طرف دیکھ کر آپ مسکرائیے گا نہیں، اگر مجھے غلط فہمی ہوسکتی ہے تو کسی کو بھی ہوسکتی ہے۔آپ تو سمجھ دار ہیں نا۔۔۔’اس وقت میرے پاس ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی اور چارہ تھا ہی نہیں۔

 

میں اس واقعے پر اتنا سٹپٹا گیا تھا کہ میں نے ان کی شکایت نسیم سر سے کی، مگر وہ بے چارے بھی کیا کرسکتے تھے۔اب میرا پتلا دبلا ڈھانچہ نما جسم، پکاکالا رنگ اور اس پر حلیہ بھی بالکل راہ چلتوں کا سا۔قدرت کے ساتھ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ جو چیز اندر سے جیسی ہے، ویسی باہر سے بالکل نہیں ہے۔اور ہر چیز کا اندر و باہر جاننا ہر شخص کا مسئلہ نہیں ہے۔جیسے اس لڑکی کی والدہ کا یہ مسئلہ بالکل نہ تھا کہ میں کون ہوں یا کون ہوسکتا ہوں، ان کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ میں ان کی لڑکی کو دیکھ کر مسکرایا کیوں۔بہرحال برا وقت تھا ٹل گیا۔لیکن اس روز مجھے اس بات کا ضرور احساس ہوا کہ اس سوسائٹی میں رہنا ہے تو غصے میں رہنا بہت ضروری ہے۔کسی لڑکی کو دیکھ کر توکیا کسی کبوتر کو دیکھ کر بھی مسکرادینے سے بے وقت کی آفت ٹپک پڑسکتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ اس واقعے کا اثر بہت دنوں تک میرے ذہن و دل پر رہا اور میں سڑک پر اس قدر سنجیدہ ہوکر چلنے لگا جیسے وہاں بھی میں کوئی استاد ہوں، جبکہ سڑک پر ہر آدمی صر ف آدمی ہونا چاہیے، اس کا عہدہ، اس کا کردار، اس کی ذہانت، اس کی خوبصورتی یا بدصورتی سب کچھ ایک سیال میں ڈوبے ہوئے برادے کی طرح گھل مل جانا چاہیے لیکن ایسا یہاں نہیں چل سکتا تھا۔اس لیے بعد میں احساس ہوا کہ لوگ یہاں سڑک پر بھی اپنے ماتھوں پر اپنے عہدوں کی تختیاں لگائے کیوں گھومتے ہیں۔

 

دوسراواقعہ یہ ہے کہ طلعت اور روشن، یعنی کہ انہی دو لڑکیوں کو ساتھ میں پڑھانے کے دوران بہت سی ادھر ادھر کی باتیں ہوجایا کرتی تھیں، ایک دن طلعت نے بتایا کہ اسے اپنے ہی کسی استاد پر کرش ہے۔میں چونک گیا کیونکہ استاد تو میں بھی تھا لیکن اس زمانے میں مجھے اس کی امید کم تھی کہ میری طرف کوئی بہت خوبصورت لڑکی اس طور بھی دھیان دے سکتی ہے۔واقعہ یہ تھا کہ میرا ایک دانت ، جو کہ سامنے کی اوپری جانب کا تھا، ٹوٹ گیا تھا۔یہ تب ہی سے ٹوٹا ہوا تھا، جب میں ممبئی سے دہلی آیا تھا،جس حادثے میں میں نے اپنا یہ دندان شہید کروایا تھا، وہ خاص ایک کتے سے تعلق رکھتا ہے، اور اسی دن سے کتوں نے میرے دل میں ایک بڑا خوف سا پیدا کردیا تھا، ممبئی کے علاقے میرا روڈ میں جب میں کورئیر بانٹا کرتا تھا، جو کام میں نے ٹھیک سے شاید مہینہ دیڑھ مہینہ ہی کیا تھا۔ اس زمانے کی بات ہے کہ ایک بلڈنگ میں مجھے خط پہنچانے جانا تھا، میں ایک سائیکل پر خطوط لے کر نکلا کرتا تھا۔ آخری خط بچا تھا، بلڈنگ گھر سے بہت دور نہیں تھی، چنانچہ سوچا کہ اسے بھی پہنچا دیا جائے۔جب بلڈنگ کے پھاٹک سے اندر داخل ہوا اور بلڈنگ میں جانے کے لیے دائیں جانب کو مڑا تو دیکھتا کیا ہوں کہ ایک کافی بھاری بھرکم چاکلیٹی رنگ کا کتا، اپنی دم کو اپنی بانہوں میں دبائے آرام کررہا ہے، میری ہمت نہ ہوئی کہ اسے پار کرکے اوپر کی جانب نکل جاؤں۔

 

ایسے وقت میں جب سڑک پر کوئی آدمی کسی جانور سے خوفزدہ ہوکر سہما ہوا کھڑا ہو، اسے ایک محفوظ گھر سے دیکھنے کی انسانی جبلت الگ ہی لطف دیتی ہے ۔
ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے بلڈنگوں میں خطوط پہنچاتے وقت کتوں سے میرا سامنا نہ ہوتا ہو، لیکن وہ کتا کچھ دراز قامت تھا اور بھیانک شکل و صورت کی صفت بھی رکھتا تھا۔میں باہر آیا اور سائیکل پر بیٹھ کر اسے موڑنے لگا، اچانک ایک دوسرا کتا، جو کہ نہ جانے کہاں سے منظر کی سفید چادر پر نمودار ہوا اور اپنی گرجدار آواز سے اس میں چھید کرنے کی کوشش کرنے لگا۔اس کے چمکتے ہوئے دانت، ٹپکتی ہوئی رال اور بھوں بھاں اس قدر بھیانک تھے کہ مجھے کچھ سمجھ نہ آتا تھا کہ کروں تو کیا کروں، ہوتا یہ تھا کہ جہاں میں پیڈل پر پیر رکھ کر اسے آگے بڑھانا چاہوں ، وہاں وہ بھونک کر میری جانب بڑھ جاتا، ادھر میری حالت ایسی کہ پاؤں بھاری ہوئے جارہے تھے، جب میں پرسکون ہوجاتا اور حرکت نہ کرتا تو وہ بھی بیٹھ جاتا۔اس وقت اس کے بھرپور گدرائے ہوئے چکنے بدن میں جس پھرتی سی کسی ضدی بچے کی روح داخل ہوئی تھی، وہ میری عاقبت کے لیے کافی اندوہناک ثابت ہونے والی تھی۔میں نے دیکھا کہ گراؤنڈ فلور کی ایک گریل میں لٹکا ہوا چھوٹا سا ایک لڑکا بڑی ہی دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔میں اس کی دلچسپی کو سمجھ سکتا تھا۔ایسے وقت میں جب سڑک پر کوئی آدمی کسی جانور سے خوفزدہ ہوکر سہما ہوا کھڑا ہو، اسے ایک محفوظ گھر سے دیکھنے کی انسانی جبلت الگ ہی لطف دیتی ہے ۔بہرحال، رکنے کا کوئی فائدہ نظر نہ آتا تھا، میں نے تیزی سے اچانک پیڈل پر پیر رکھ کر اسے بھگانا شروع کر دیا، بائیں جانب مڑتے ہی پیچھے جو اک نظر کی تو بھاگتا اور ہانپتا ہوا وہی کتا، بالکل میرے پیروں سے لپٹا نظر آیا، ہوا کے اس تیز کینواس پر میری چیخ اور دہشت کا ایک بھرپور رنگ پھیلتا جارہا تھا۔سامنے کسی نے پھاٹک بند کردیا تھا اور سائیکل میں بریک نہ تھے۔میں نے پیڈل پر ابتدائی قدم دھرتے ہوئے یہی سوچا تھا کہ سائیکل کو بھگاتا ہوا پھاٹک سے باہر لے جائوں گا، لیکن میری امیدوں کا در بند تھا اور راستہ تنگ تھا، نہایت منطقی قسم کا سوال اس موقع پر یہ ہوسکتا ہے کہ اگر اس وقت سائیکل میں بریک ہوتے بھی تو کیا میں انہیں لگانے کی دلیری کا متحمل ہوسکتا تھا۔بہرحال دھاڑ سے جاکر سائیکل پھاٹک سے ٹکرائی ، اونگھتا ہوا پھاٹک اس بد ہنگم قسم کی اچانک بغل گیری پر ایسا بوکھلایا کہ اس کا ایک پٹ دور تک گھسٹتا چلا گیا، میں ایک ذرا ہوا میں اچھلا اور دھڑام سے زمین پر آرہا، بلڈنگ کے باہر موجود دکان پر سے کچھ لونڈے میری طرف دوڑے ، جب تک وہ میرے پاس آئے، کتا مجھے سونگھ سانگھ کر بھاگ چکا تھا۔اسی حادثے میں میرے مسوڑھوں کا خون ایک دانت کو کھوکھلا کرتا ہوا اس میں اتر گیا اور وہ دانت کالا پڑتا چلا گیا، کچھ عرصے بعد ایک دن جب میں انڈا بریڈ تناول فرمارہا تھا، کٹ کی سی ایک ہلکی آواز ہوئی اور وہ داغ نما دندان چھوٹے سے نوالے کی قالین میں لپٹا ہوا میری ہتھیلی پر اتر آیا۔کافی بعد میں جاکر میں نے اس مقام پر ایک مصنوعی دانت لگوایا تھا جو کہ بدستور اپنی جگہ پر قائم ہے۔

 

اس سے پہلے دو دفعہ طلعت کا ذکر آچکا ہے، مگر درمیان میں کوئی نہ کوئی واقعہ نکل آتا ہے۔تو میں بتا یہ رہا تھا کہ اس نے مجھے بتایا کہ اسے اپنے ایک استاد سے محبت ہے، تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ جن صاحب کے بدن سے انہیں عشق کی بو آرہی ہے، وہ فیضان علی ہیں۔فیضان ایک بہت ہی ہینڈسم نوجوان تھے، وہ کوچنگ کی اس چھوٹی برانچ میں پڑھایا کرتے تھے، جس کے وہ مالک بھی تھے اور روح رواں بھی۔وہاں یہ لڑکیاں ان سے انگریزی وغیرہ پڑھنے جایا کرتی تھیں۔لیکن اس وقت تک میں نے انہیں نہ دیکھا تھا، پھر ایک روز جب وہ جوگابائی والی برانچ میں آئے تو میری ان سے ملاقات ہوئی۔میرے دل پر ان کے نقوش کا گہرا اثر ہوا اور ہماری دوستی ہوگئی۔ یہ اتفاق ہی تھا ، مگر اتفاق ، فیضان جتنا ہی حسین نکلا۔میں ہمیشہ سے محبت کرنے والوں کی قدر کرتا ہوں، طلعت فیضان کو پسند کرتی تھی، یہی بات میری اور فیضان کی دوستی کا محرک ثابت ہوئی۔وقت گزرا، بہت سا وقت گزرا ، رفتہ رفتہ طلعت تو کہیں غائب ہوگئی، مگر فیضان سے میری دوستی بہت گہری ہوگئی۔آج وہ ایک شادی شدہ مرد ہیں ، اور ان کی یہ شادی شدگی، میری زندگی سے ان کی بہت حد تک گمشدگی کا باعث بھی ہوئی ہے۔ لیکن طلعت ان کی بیوی نہیں ہےبلکہ ان کے ہی ایک اور بہت گہرے دوست کی بیوی ہے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، ایسا طویل قصہ، جس میں بہت سے داؤ پیچ ہیں۔مگر میں انہیں کم لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کروں گا۔
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 7

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

قسط نمبر 7

 

دہلی ایجوکیشن پوائنٹ جانے والے دنوں کی شروعات میں ہم لوگ شاہین باغ میں رہا کرتے تھے، یہ علاقہ اس وقت جوگا بائی سے کچھ چار میل کی دوری پر تھا اس لیے صبح سویرے میں اور میری بہن شائستہ عرف خوشبو ساتھ میں گھر سے نکلا کرتے تھے۔وہ مکان، جس میں ہم اس وقت رہ رہے تھے، ایک منزلہ مکان تھا اور پورے علاقے میں بھوتیا گھر کے نام سے مشہور تھا۔ہمارے خالو نے اپنے ایک بلڈر دوست سے سفارش کرکے ان دنوں ہمیں وہ مکان دلوایا تھا، سردیوں کا موسم تھا اس لیے پنکھے کی اس وقت کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی، ہمارے پاس رضائی نما کچھ گدے تھے اورخالہ نے ہم کو اپنے پاس سے کچھ اوڑھنے بچھانے کا سامان بھی دے دیا تھا، جس کی مدد سے امید تھی کہ سردیاں با آسانی کٹ جائیں گی۔

 

کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ خود کشی نہیں تھی بلکہ راتوں رات اسے قتل کرکے گھر میں ڈال دیا گیا تھا،ہماری اس وقت کی پڑوسن کا کہنا تھا کہ یہ حرکت اس عورت کے بھائی کی ہی تھی جو کہ مکان ہتھیانا چاہتا تھا۔
اس مکان کے بھوتیا مشہور ہونے کے پیچھے اصل قصہ یہ تھا کہ اس میں ایک طلاق شدہ عورت نے خودکشی کی تھی۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ خود کشی نہیں تھی بلکہ راتوں رات اسے قتل کرکے گھر میں ڈال دیا گیا تھا، ہماری اس وقت کی پڑوسن کا کہنا تھا کہ یہ حرکت اس عورت کے بھائی کی ہی تھی جو کہ مکان ہتھیانا چاہتا تھا۔مکان تو عورت کے مرنے پر اسے حاصل ہو سکتا تھا، مگر وہ چونکہ آسیب زدہ مشہور ہوچکا تھا اس لیے کوئی اسے خریدنے پر آمادہ نہ ہوتا تھا، ایسے گھر میں رہنے کے لیے ہم لوگوں کی فیملی بہت مناسب تھی۔وجہ یہ تھی کہ ہمیں بھوتوں، چڑیلوں کا سامنا کرنے کی بڑی مشق تھی۔ہماری والدہ ایک مضبوط دل گردے والی عورت ہیں، جن کے اعصاب پر اس قسم کی چیزوں کا کوئی گہرا اثر نہیں پڑتا۔البتہ ہمارے ددھیال میں ایک خاص قسم کا وظیفہ بند ماحول جن، بھوت پریتوں، اثرات، نظر بد اور طرح طرح کی چیزوں سے انسان کے اعتماد کو کمزور کرنے کے لیے کافی تھا۔مجھے یاد ہے کہ میں اور میری بہن خوشبو صبح صبح کڑکتی سردی میں ،کہرا کھاتے ہوئے اپنی اپنی منزلوں کو جانے کے لیے نکلا کرتے تھے،اور ایک لمبی سڑک پر نالے کے برابر چلتے چلے جاتے (آج کل اس روڈ کو شبلی نعمانی روڈ کے نام سے پہچانا جاتا ہے)جب تک کہ پلیا نہ آجاتی۔پلیا اور اس پر بنی ہوئی اچھی خاصی پولیس چوکی ، وہ جگہ تھی، جہاں سےسائیکل رکشے مل جایا کرتے۔میں اور میری بہن دونوں بہت دھان پان سے تھے، ہم رکشے میں ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر بیٹھا کرتے اور وہاں سے بٹلہ ہاوس بس سٹینڈ تک آجاتے۔واپسی میں ہم سائیکل رکشے کو گھر تک لے جایا کرتے، شام کے اندھیرے میں چمگادڑوں کا شور، کہرے کی پرت اور سڑکوں کے اوبڑ کھابڑ پڑاو اس چھوٹے سے سفر کواچھا خاصا ایڈونچرز بنادیتے تھے۔ہمیں ڈر یہ ہوتا تھا کہ کہیں رکشہ کسی پتھر سے ٹکرا کر نالی میں نہ گرپڑے، کیونکہ ایسا بہت سے لوگوں کے ساتھ ہوبھی چکا تھا، مگر ہم گنگا کے گنہگاروں کی اس بدبو دار سازش میں ہرگز شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، اس لیے نام خدا لب پر اور ذکر خدا دل میں دھر کر گھر تک پہنچتے اور چین کی سانس لیتے۔

 

اس مرد اساس معاشرے کی بنیاد کو پانی دینے والی عورتیں ہی ہیں، جو اپنی جوانی ڈھلتے ہی اور سینہ مرجھاتے ہی دوسری عورتوں کی جوانی سے ایک خاص قسم کا بغض دل میں پال کر بیٹھ جاتی ہیں۔
میری بہن ان دنوں ایک بیوٹی پارلر میں کام کرتی تھی، وہ بطور ہیئر ڈریسر وہاں کام پر لگ گئی تھی، دلی آنے کے بعد ہم سب اولادوں میں سب سے پہلے خودکفیل ہوجانے والی میری بہن ہی تھی، جو اس وقت ہم سب سے زیادہ کماتی تھی ، وہ اپنے سوٹ پر ایک ہلکا اونی جیکٹ ڈال لیا کرتی تھی، بالوں کو بڑے سلیقے سے بناتی، اپنی بھرپور سادگی میں بھی اسے خود کو بنائے رکھنے کا سلیقہ خوب آیا کرتا تھا۔بہت سی عورتیں اس سے اسی بات پر بعد میں چڑنے لگیں کہ اس نے اپنے بل بوتے پر اتنے پیسے کس طور کمالیے کہ وہ جینز بھی پہننے لگی ہے۔ہمارے یہاں جینز پہننے کی لڑکیوں کو اجازت اس لیے نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے پاس بھی کولہے ہیں، جو حقیقت ظاہر ہے کہ کسی طور مرداساس معاشرے میں قبول نہیں کی جاسکتی، لیکن اس مرد اساس معاشرے کی بنیاد کو پانی دینے والی عورتیں ہی ہیں، جو اپنی جوانی ڈھلتے ہی اور سینہ مرجھاتے ہی دوسری عورتوں کی جوانی سے ایک خاص قسم کا بغض دل میں پال کر بیٹھ جاتی ہیں۔یہ تو بہت اچھی بات ہوئی کہ قدرت نے کوئی ایسا طریقہ انسان کو عطا نہیں کیا، جس کی بنیاد پر وہ عورت کے سینے کو اندر کی جانب ڈھکیل کر اسے دن میں بالکل اپنے جیسا بنالیتا اور جب یہ کام روایت اور تقدیس کے زمرے میں شامل ہوجاتا تو اس کی ساری ذمہ داری بدصورت، جل ککڑی اور جھری زدہ عورتوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی۔بہرحال میں بتا یہ رہا تھا کہ میری بہن بٹلہ ہاوس میں ایک بیوٹی پارلر میں چلی جایا کرتی اور میں وہاں سے پیدل چلتا ہوا جوگا بائی کی طرف آجاتا۔

 

کوچنگ کے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی میری دو لڑکیوں سے بہت قربت ہوگئی تھی۔بات یہ تھی کہ وہ مجھ سے اردو پڑھنا چاہتی تھیں مگر ان میں سے ایک کے گھر پر اس کو پڑھنے کے لیے دی جانے والی فیس کی اجازت نہیں تھی۔میں لڑکیوں کے معاملے میں بہت فیاض دل واقع ہوا ہوں اور جب معاملہ کسی خوبصورت لڑکی کا ہو تب تو بات ہی کچھ اور ہوجاتی ہے۔میں نے ان دونوں سے کہا کہ تم اس کی کوئی فکر نہ کرو، میں بغیر فیس کے ہی پڑھا دیا کروں گا۔اتفاق کی بات ہے کہ انہی دنوں شاید دو ہزار چھ میں ایک دن میرے ہونے والے بہنوئی(جو کہ اس وقت صرف ہمارے دور کے بھتیجے ہوا کرتے تھے)میرے پاس ایک کام لے کر آئے۔ وہ بنیادی طور پر میک اپ کی فیلڈ سے وابستہ تھے، اور انہوں نے شاید کچھ ہی روز پہلے ایک بڑے نیوز چینل سے استعفیٰ دیا تھا۔کام یہ تھا کہ ان کے ایک دوست کے زیر ہدایت دوردرشن کا ایک پروگرام اردو میں بنایا جارہا تھا۔لیکن پائلٹ (نمونے کا ایپی سوڈ)جمع ہونے سے پہلے کسی اردو داں کا اسے ہری جھنڈی دکھانا ضروری تھا۔میں نے پائلٹ دیکھ کر بتایا کہ سکرپٹ میں اردو کا استعمال بہت غلط ہوا ہے، اینکر نے بھی تلفظ صحیح ادا نہیں کیاوغیرہ وغیرہ۔کچھ دنوں بعد انہوں نے مجھے ایک ایپی سوڈ لکھنے کے لیے کہا، میں نے اسے لکھ کر دے دیا، اس کو لکھنے کی دیر تھی کہ تیرہ ایپی سوڈ لکھنے کی فرمائش آگئی، میں نے چار پانچ دنوں کی محنت میں وہ ایپی سوڈ بھی لکھ کر دے دیے۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اگلے روز میں اپنے موجودہ بہنوئی دانش مسعود کے ساتھ دہلی کے ایک پاش علاقے ساوتھ ایکسٹنش پارٹ ٹو میں بنے ایک بنگلے میں جارہا تھا۔میں پہلی دفعہ وہاں بس سے ہی گیا تھا، دہلی کی بسوں میں بیٹھنے کا مجھے بہت اتفاق ہوا ہے، یہاں زیادہ تر ہریانوی لہجے میں بات کرنے والے اکھڑ قسم کے کنڈکٹر ہوا کرتے ہیں، جو بات بے بات کبھی کبھار لڑپڑنے میں بھی کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے۔

 

اس زمانے میں دو قسم کی بسیں چلا کرتی تھیں، ایک سرکاری اور دوسری بلیو لائن بسیں، جو کہ ٹھیکیدار چلوایا کرتے تھے، ان بسوں کے ڈرائیور عام طور پر بہت تیز رفتاری سے گاڑی چلایا کرتے تھے، چونکہ کوئی پوچھ تاچھ تو تھی نہیں، اس لیے آئے دن ایک یا دو اموات ان بسوں کے ذریعے اس زمانے میں دہلی کا روز مرہ کا معمول تھا۔ جہاں تک ماحولیات کا تعلق تھا، یہ بسیں اس کے لیے بھی مہلک تھیں، مجھے دانش بھائی نے ہی بتایا تھا کہ ہمارے دلی آنے سے پہلے یہاں سی این جی گیس کا استعمال اتنا عام نہیں تھا اور گاڑیاں ڈیزل ، پٹرول پر زیادہ چلا کرتی تھیں، جس کا انجام یہ ہوتا تھا کہ لوگ ٹریفک میں پھنس کر کئی دفعہ گرمیوں میں بے ہوش ہوجایا کرتے تھے، دھواں اپنی بھرپور کالک اور زہریلے اثرات سمیت ان کے ناک ، کان میں داخل ہوجایا کرتا اور پھیپھڑوں میں غل مچاتا۔اچھی بات یہ تھی کہ دو ہزار پانچ ، یعنی کہ جس سال ہم دلی آئے تھے، اسی سال سرکار نے بیشتر گاڑیوں کو سی این جی استعمال کرنے کے احکامات جاری کردیے اور اس طرح راجدھانی کا ماحول سڑکوں، ہوٹلوں اور چوباروں پر کنٹرول میں آسکا۔جب میں پروڈکشن ہاوس پہنچا تو مجھے ایک کیبن میں بٹھایا گیا، وہاں ایک لڑکا اور لڑکی پہلے سے بیٹھے تھے۔لڑکی کے بال سنہرے رنگ کے تھے، ہونٹ موٹے اور ان پر چمکتی اور دھدھکتی ہوئی لپ سٹک لگی تھی، برابر والی سیٹ پر ایک لڑکا بیٹھا تھا ، جس کے قد و قامت پر مجھ جیسے کمزور جثہ شخص کو صرف رشک ہی آسکتا تھا۔قدوقامت کے لحاظ سے وہ کوئی پہلوان معلوم ہوتا تھا، اس نے جو جینز پہنی تھی، ان میں سے ایک پائنچہ تو غائب ہی تھا، بلکہ جگہ جگہ سے جھالریں بھی لٹک رہی تھی، اوپری حصے پر صرف ایک بنیان موجود تھی۔ میں ابھی ان دونوں کا ٹھیک سے جائزہ ہی لے رہا تھا کہ کیبن کا دروازہ کھلا اور دانش بھائی کے ساتھ ایک شخص اور داخل ہوا، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔

 

مجھے دانش بھائی نے ہی بتایا تھا کہ ہمارے دلی آنے سے پہلے یہاں سی این جی گیس کا استعمال اتنا عام نہیں تھا اور گاڑیاں ڈیزل ، پٹرول پر زیادہ چلا کرتی تھیں، جس کا انجام یہ ہوتا تھا کہ لوگ ٹریفک میں پھنس کر کئی دفعہ گرمیوں میں بے ہوش ہوجایا کرتے تھے
‘اور تصنیف بیٹے! کیسے ہو؟’پھر ایک جاندار قہقہہ لگایا، ہلکے نکلے ہوئے پیٹ کے ساتھ ، وہ جوان اور پر اعتماد شخص ، اپنی چمکدار آنکھوں کو لیے میری طرف پرتپاک انداز میں گھور رہا تھااور میں اس کی طرف دیکھ کر شرمائے جارہا تھا۔دانش بھائی نے بتایا کہ میں نے وہ سارے ایپی سوڈ انہی صاحب کے لیے لکھے ہیں، جن کا نام دیپک گپتا ہے۔ظاہر ہے میرے ہاتھوں کی لکھی ہوئی ساری سکرپٹس چیل بلیوں کے سے انداز میں تھیں اور دیپک گپتا انہیں ٹائپ کروانا چاہتے تھے۔سو انہوں نےمجھے باہر چشمہ لگائے، ادھ کھلے منہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک لڑکے سے ملایا، جس کا نام گورو مشرا تھا۔اب ہم دونوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ سکرپٹ ساتھ میں ٹائپ کریں۔سو طے یہ پایا کہ میں سکرپٹ بولتا جاوں گا اور وہ اسے ہندی میں ٹائپ کرتا جائے گا۔اردو زبان ، اور وہ بھی اس زمانے میں لکھی ہوئی ، ظاہر ہے گورو کے ساتھ اینکر کو بھی بہت پریشان کرنے والی تھی، مگر سب کام جیسے تیسے پورے ہوگئے۔دو مہینے کے دورانیے میں میں روز اس جگہ جاتا رہا اور کام کرتا رہا۔تصوف پر لکھا ہوا وہ میرا پہلا پروگرام تھا، لیکن ابھی تو بہت کام اور آنے والا تھا۔اس دوران دانش بھائی خود کسی دوسرے پروجیکٹ میں مصروف ہوچکے تھے اور کوچنگ کی وہ دو لڑکیاں ، شاید انہوں نے بھی یہی سوچ کر صبر کرلیا تھا کہ میں اب دوبارہ کوچنگ نہیں آوں گا۔مگر قسمت بڑی عجیب و غریب چیز ہے۔

 

(جاری ہے)
Categories
نقطۂ نظر

دلی ‘آپ’ کا ہوا

Nara-e-Mastana

دلی میں دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے بعد عام آدمی پارٹی صرف انچاس روز حکومت میں رہی، اتحادیوں سے بنی ریاستی حکومت(State Government) کو ان انچاس روز میں بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور جب جنتا سے کیے وعدے پورے ہوتے دکھائی نہ دیے تو کیجریوال دھرنے پر بیٹھ گئے اور یوں ‘ آپ’ (Aam Admi Party)کا سفر تمام ہوا۔ کیجریوال نے ہمت نہ ہاری اور اگلے انتخابات کے لیے کمر کس لی، لوک سبھا کے چناو میں ساڑھے چار سو سے زائد نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے لیکن فقط چار نشستیں ہی جیت پائے، یہ چار نشستیں بھی صرف پنجاب سے ہی حاصل کیں۔ عام آدمی پارٹی کا اگلا ہدف فروری کے ریاستی انتخابات میں کامیاب ہونا تھا، اروند کیجریوال یعنی “دی مفلر مین” اور ان کی پارٹی نے تنظیم سازی کی، وقت سے پہلے امیدوار نامزد کیے، نوے روز تک عوام سے ملتے جلتے رہے، مقامی مسائل کو سمجھا اور ان مسائل کو اپنا منشور بنایا، گلی گلی گئے، ماضی سے سبق سیکھا،اور جنتا سے ایک موقع اور دینے کی بِنتی(درخواست ) کی۔
بھارتی سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ دلی انتخابات میں عام آدمی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ وہ کیا جو بی جے پی نے لوک سبھا کے چناو میں کانگریس کے ساتھ کیا تھا۔
انتخابات ہوئے اور پھر دلی کی عام آدمی پارٹی نے بھارتی تاریخ میں ستر میں سے سڑسٹھ نشستیں جیت کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ دو ہزار تیرہ میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی اٹھائیس نشستیں حاصل کر کے منظر عام پر آئی تھی، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بتیس ، کانگریس نے آٹھ اور باقیوں نے دو نشستیں حاصل کی تھیں۔ لیکن اب کی بار عام آدمی پارٹی سڑسٹھ نشستیں جیت کرواضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ نریندر مودی کی بی جے پی محض تین نشستیں حاصل کر سکی لیکن سب سے بڑا دھچکا کانگریس کو لگا؛ بھارت کی قدیم ترین سیاسی جماعت دلی کے انتخاب میں ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی۔ دلی انتخابات نے بڑے بڑے برج الٹ دیے، کانگریس کے جنرل سیکٹری اجے میکن عام آدمی سے بری طرح ہار گئے، بی جے پی کی نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کرن بیدی کو عام آدمی کے ‘ایس کے بگا ‘نے پچھاڑ دیا۔ بھارتی سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ دلی انتخابات میں عام آدمی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ وہ کیا جو بی جے پی نے لوک سبھا کے چناو میں کانگریس کے ساتھ کیا تھا۔
اس شاندار جیت کے ساتھ ہی کیجریوال کو نا صرف نریندر مودی، راہول گاندھی اور سونیا گاندھی بلکہ کرن بیدی نے بھی مبارکباد دی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ رواں برس جنوری میں کرن بیدی نے’ آپ’ کے رہنما اروند کیجریوال کو ٹوئٹر پر بلاک (Block)کر ڈالا، بیس جنوری کو کیجریوال صاحب نے مادام کو ٹویٹ کی صورت میں عرضی بھیجی کہ” دیکھیے کرن جی!! ہم آپ کو فالو کرتے رہے اور اب آپ نے ہمیں بلاک کر ڈالا،، ان بلاک کیجیے پلیز۔” لیکن کرن بیدی نے ان کی ایک نہ سنی، بلکہ میڈیا پر تصدیق کر ڈالی کی جی ہاں ، ہم نے کیجریوال کو بلاک کر دیا ہے اور وجہ یہ بیان کی کہ کیجریوال ٹوئٹر پر منفی باتیں کرتے ہیں، اور ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے لاکھوں فالورز(Followers) تک یہ منفی باتیں پہنچیں۔ مگر جیسے ہی دلی چناو کا نتیجہ آیا تو انہی کرن بیدی جی نے نہ صرف کیجریوال کو ان بلاک کیا بلکہ انہیں جیت پر مبارکباد بھی پیش کی۔
پاکستانیوں کے لیے یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ پورے بھارت میں بی جے پی کا راج ہونے کے باوجود انہیں دلی میں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر پوری دلی سے کہیں بھی یہ شکایت سننے کو نہ ملی کہ ‘دھاندلی’ ہوئی صاحب۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، مربوط اور پختہ نظام اسے ہی کہتے ہیں جسے رائج کیے دہائیاں بیت چکیں اور اس کا پھل بھارتی جنتا اب پا رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کی تاریخی فتح کو سیاسی پنڈت بھارت میں متبادل سیاست کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں لیکن شاید ابھی یہ راستہ مزید طویل ثابت ہو، کیونکہ کیجریوال کو اب حقیقی معنوں میں انتخابی وعدوں اور منشور پر عمل درآمد کرنا ہوگاوگرنہ وہ تاریخ کے پنوں (صفحات)میں ماضی کا حصہ ہو جائیں گے۔
عام آدمی پارٹی کی تاریخی فتح کو سیاسی پنڈت بھارت میں متبادل سیاست کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں لیکن شاید ابھی یہ راستہ مزید طویل ثابت ہو
کیجریوال کی کامیابی کے پیچھے کئی اہم محرکات ہیں، سیاستدان غلطیاں کرتے ہیں لیکن انہیں دوبارہ پذیرائی فی الفور شاید ہی ملتی ہو، اس لحاظ سے کیجریوال قدرے خوش قسمت بھی ثابت ہوئے۔ کیجریوال نے دلی میں انتشار (Polarization)کی سیاست سے اجتناب کیا۔ دلی میں مسلمانوں کی تعداد بارہ فیصد کے قریب ہے، گو انہوں نے مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ انہیں ووٹ دیں لیکن جب دلی کے امام مسجد نے ان سے قربتیں بڑھانے کی کوشش کی تو کیجریوال نے عام آدمی پارٹی کی سیکولرشناخت برقرار رکھنے کے لیے ان سے ایک مناسب فاصلہ رکھنا پسندکیا۔ ان کا یہی وطیرہ تمام مذاہب اور طبقات کے ساتھ دیکھنے کو ملا،انتخابی مہم کے دوران وہ یہ ثابت کرتے رہے کہ ‘عام آدمی’ کے لیے سب برابر ہیں اور ‘عام آدمی’ سب کی جماعت ہے۔ چناو کے دوران ان کے مخالفین نے ان پر خوب جملے کسے، انہیں میڈیا پر بھی مخالفین کے خلاف بہتیرا اکسایا گیا، لیکن اب کی بار کیجریوال قدرے بدلے بدلے اور پختہ کار دکھائی دئیے، حتیٰ کہ انہوں نے کرن بیدی بارے بھی مخالفانہ بیان بازی سے گریز کیا، حالانکہ ہمارے ہاں چناو کے ہنگام میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی یا پولیٹکل پوائنٹ سکورننگ انتہائی اہم حربہ مانا جاتا ہے۔
ہمارے کچھ دوست دلی کی عام آدمی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کا بھی خوب موازنہ کرتے ہیں، بسا اوقات تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف پاکستان کی عام آدمی پارٹی ہے ۔
مقامی مسائل کو بھی کیجریوال خوب اچھی طرح سمجھے، نوجوان طبقہ کو انہوں نے بالخصوص اپنی جانب متوجہ کیا اور شہری علاقوں میں فری وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت دینے کا بھی اعلان کر دیا۔ اس جیت میں بی جے پی کا بھی اہم کردار ہے۔ بی جے پی نے لوک سبھا کے انتخابات جیتنے کے بعد دلی کی سیاست کوآسان سمجھنا شروع کر دیا تھا، بے اعتنائی اور گھمنڈان کے نیتاوں (رہنماوں)کے رویے میں نمایاں تھا۔ ایک طرف مفلر مین تھا اور دوسری جانب دس لاکھ کا سوٹ زیب تن کرنے والے مودی تھے۔ رہی بات کانگریس کی تو یہ بات طے ہوچکی کہ اب کے بار کانگریس کے ووٹ بھی عام آدمی کو ہی ملے۔اور یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے سیکڑی جنرل اجے میکن جو خود دلی چناو لڑ رہے تھے نے اس بدترین شکست پر پارٹی کے عہدے سے استعفی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ہمارے کچھ دوست دلی کی عام آدمی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کا بھی خوب موازنہ کرتے ہیں، بسا اوقات تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف پاکستان کی عام آدمی پارٹی ہے ۔یہ بات کسی حد تک درست مانی جاسکتی ہےلیکن تقابلی جائزہ دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے سے مختلف ثابت کرتا ہے۔ دونوں جماعتوں میں سب سے اہم فرق یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے ہاں واقعتا عام آدمی ہی پائے جاتے ہیں ۔دوسری اہم بات یہ کہ عام آدمی پارٹی کے ہاں لوٹوں اور تحریک انصاف کے ہاں عام آدمی کی خاصی کمی ہے۔