نظم کا اعترافی بیان

نصیر احمد ناصر: میں رنگوں کی بھوکی ہوں
ست رنگی، ست خصمی کہلاؤں گی!
فلیش بیک سے باہر

نصیر احمد ناصر: ماضی کی ایک تنگ گلی میں کھڑے
چم چم اور گلاب جامن کھاتے ہوئے
تم لوگوں سے یوں مِل رہے تھے
جیسے سب تمھارے ہم جوار و ہم جولی ہوں
نانا نواسا اور کہانی

نصیر احمد ناصر: میں اپنے بچپن کے یاد رہ جانے والے تمام واقعات فوزان کو سنا چکا ہوں مگر وہ تو ہر شب میرے بچپن کی کوئی نہ کوئی کہانی سننا چاہتا ہے۔
خدا ایک آنسو مِرا بارشوں میں بہا دے

نصیر احمد ناصر: خدا، میری آنکھوں کو نظمیں بنا دے
خدا، میری نظمیں کہیں دور دیسوں کو جاتے
پرندوں کی ڈاریں بنا دے
تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

نصیر احمد ناصر: تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !
تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟

نصیر احمد ناصر: کبھی تم نے پوچھا ہے
چلتے ہوئے راستے میں
کسی اجنبی سے
پتا اس کے گھر کا
ہوا جس کے قدموں کے مٹتے
نشاں چومتی ہے
نگر در نگر گھومتی ہے
چلتے ہوئے راستے میں
کسی اجنبی سے
پتا اس کے گھر کا
ہوا جس کے قدموں کے مٹتے
نشاں چومتی ہے
نگر در نگر گھومتی ہے
محبت کے بغیر ایک نظم

نصیر احمد ناصر: سچ ہے
آسمان سے سفارتی تعلقات استوار کیے بِن
شاعری ہو سکتی ہے
نہ زمین پر رینگنے کے حقوق مِلتے ہیں!
آسمان سے سفارتی تعلقات استوار کیے بِن
شاعری ہو سکتی ہے
نہ زمین پر رینگنے کے حقوق مِلتے ہیں!
ابعادیت

نصیر احمد ناصر: کھڑکی کے اُس پار کا منظر
یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے
یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے
سرمائی بارش میں بحرِ ابدیت کی جانب

نصیر احمد ناصر:آبائی راستوں سے گزرتے ہوئے
قدموں کی آواز سنائی نہیں دیتی
وقت زمین کو آگے کی طرف دھکیلتا رہتا ہے
قدموں کی آواز سنائی نہیں دیتی
وقت زمین کو آگے کی طرف دھکیلتا رہتا ہے
گلابی اور نارنجی

رفعت ناہید:
بڑا دریا اپنا راستہ بدل چکا ہے
ہواؤں نے رہنے کے لیے کوئی
اور درخت منتخب کر لیے ہیں
اور دریا کے کناروں پر بڑی بڑی دراڑوں میں
زہریلی بوٹیاں اگ آئی ہیں
بڑا دریا اپنا راستہ بدل چکا ہے
ہواؤں نے رہنے کے لیے کوئی
اور درخت منتخب کر لیے ہیں
اور دریا کے کناروں پر بڑی بڑی دراڑوں میں
زہریلی بوٹیاں اگ آئی ہیں
دکھ گوتم سے بڑا ہے

نصیر احمد ناصر: دکھ برگد سے گھنا ہے
دھیان کی اوجھل تا میں
گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا
کہ دکھ کا انکھوا عورت کی کوکھ سے پھوٹتا ہے
دھیان کی اوجھل تا میں
گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا
کہ دکھ کا انکھوا عورت کی کوکھ سے پھوٹتا ہے
دیہاتیوں کا گیت

نصیر احمد ناصر:
ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہم جانتے ہیں
دھرتی ہم سے اور کچھ نہیں
ہمارے کالبوت واپس مانگتی ہے!
ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہم جانتے ہیں
دھرتی ہم سے اور کچھ نہیں
ہمارے کالبوت واپس مانگتی ہے!
قبریں

نصیر احمد ناصر:
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں
کتابوں میں زندگی تلاش کرنا بے سود ہے

نصیر احمد ناصر: کتابوں میں چھپے ہوتے ہیں
خود کش بمبار
جو اچانک نکل کر سامنے آ جاتے ہیں
خود کش بمبار
جو اچانک نکل کر سامنے آ جاتے ہیں
الاؤ

نصیر احمد ناصر:
ایک جھماکا ایسا ہو گا
سڑکیں اور فٹ پاتھ جلیں گے
مرنے والے، مارنے والے
سب اک ساتھ جلیں گے
ایک جھماکا ایسا ہو گا
سڑکیں اور فٹ پاتھ جلیں گے
مرنے والے، مارنے والے
سب اک ساتھ جلیں گے