میں رنگوں کی بھوکی ہوں
سرخ، بنفشی، نارنجی
اودے، پیلے، سبز، کبودی
سب رنگوں کو کھا جاتی ہوں
ست رنگی، ست خصمی کہلاتی ہوں!!
نظم کا اعترافی بیان
میں رنگوں کی بھوکی ہوں
سرخ، بنفشی، نارنجی
اودے، پیلے، سبز، کبودی
سب رنگوں کو کھا جاتی ہوں
ست رنگی، ست خصمی کہلاتی ہوں!!
وہ تم تھے
جو زمان و مکاں کی حدیں توڑ کر
دینہ سے مِلنے آئے تھے
میں تو یونہی وہاں جا پہنچا تھا
ڈھلتی سہ پہر کے سرمئی سایوں کی طرح
ایک سے دوسری جگہ
دن گزاری کے لیے
کہ اچانک وقت میری گرفت میں آ گیا
ریلوے اسٹیشن سے باہر
ایک سفید سائے سے گلے مِلتے ہوئے
یوں لگا جیسے
دھوپ اور بارش کو ایک ساتھ چھو لیا ہو
جیسے دن کے تیسرے پہر کے مٹیالے پَن میں
چاندنی اوڑھ لی ہو
پتا نہیں تمہارے ہاتھ میں ٹائم مشین تھی یا کیا تھا
زمانے پیچھے کی طرف چل پڑے تھے
تم ننھے سے جیوڑے
ریل کی فولادی پٹڑی کے پاس
کوکتی، چھینکتی، ہانپتی، سانسوں کی دبیز بھاپ نکالتی
ریل گاڑی کو دیکھ رہے تھے
اور میں بستہ لیے
ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر
پرانے چوبی بینچ پہ بیٹھا
مال گاڑی کے ڈبے گن رہا تھا
کھاریاں اور دینہ ایک ہی محور پر گھوم رہے تھے
اور کسی کو خبر نہیں تھی
کہ وقت سے بھاگے ہوئے
ہم دونوں اُس وقت کہاں تھے
ہماری فینطاسیہ ایک، عینیت ایک تھی
لیکن زمانے اور قصبے الگ الگ
اور اب تو ملک بھی الگ الگ ہیں
اور دنیائیں بھی
تم شہرت کے بوجھ تلے دبے ہوئے
اور میں گمنامی کا مارا ہُوا
لیکن ہماری مونچھوں اور ہنسی کا رنگ ایک جیسا ہے
روشن سفید ۔۔۔۔۔۔۔
ماضی کی ایک تنگ گلی میں کھڑے
چم چم اور گلاب جامن کھاتے ہوئے
تم لوگوں سے یوں مِل رہے تھے
جیسے سب تمھارے ہم جوار و ہم جولی ہوں
اور گلی جیسے تمہارے ہی گھر کا حصہ ہو
بچپن کے گھر میں داخل ہونے کے لیے
جیسے تم میرے ہی منتظر تھے
اور جب میرا بازو پکڑے ہوئے
تم دروازے سے گزر رہے تھے
تو تمہارے پاؤں جیسے سدِ صوت کو پار کر رہے تھے
تمہاری خاموشی کی آواز گمبھیر ہو گئی تھی
اور نیم تاریک صحن میں
کسی بڑی عمر کی لڑکی کو نہ پا کر
جیسے تمہارے خوابوں کی گولک ٹوٹ گئی تھی
اور عمروں کی جمع ریزگاری
وہیں پڑی رہنے کے لیے بکھر گئی تھی
اور تمہاری آنکھوں میں
جہلم کا کوئی سیلابی ریلا امنڈ آیا تھا
فلمی لوگوں کو
یہی تو سہولت ہے
کہ جب چیزیں حد سے
اور جذبات بس سے باہر ہو جائیں
تو فوراً سین “کٹ” کر کے
اپنی مرضی کے مطابق دوبارہ شوٹ کر لیتے ہیں
دیکھتے ہی دیکھتے
تم نے اسکول میں داخلہ لیا
حاضری لگوائی
سبق یاد کیا
اور یک دم فلیش بیک سے نکل کر
اپنے نام سے منسوب کالرہ بلاک کے سامنے آ کھڑے ہوئے
دوسری ہجرت کے لیے
فلم بنتی رہی
فوٹو سیشن ہوتے رہے
اور میں فوکس سے باہر واحد تماشائی
منظر کے ایک سرے پر بیٹھا
تمھیں اساتذہ کے جھرمٹ میں
بچوں کی طرح
تاریخ اور جغرافیے کا رٹا لگاتے دیکھتا رہا
جانے کب تک زمانوں کا آموختہ آمیخت ہوتا رہا
جانے کب تک پنسل اور ربر سے
لکیریں بنتی اور مٹتی رہیں
یہاں تک کہ ایک بار پھر سین کٹ ہوا
اور تم گولی کی سی تیزی سے سرحد کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔۔۔۔
میں نے پہلی بار تمھیں جلدی میں دیکھا
ورنہ تم تو جہاں رکتے تھے
وہیں کے ہو جاتے تھے
جیسے ہر دل تمھارے آبائی وطن کا احاطہ ہو
وہ کیا تھا جو مجھے معلوم ہوتے ہوئے بھی معلوم نہیں تھا
جو تم جانتے ہوئے بھی بتانا نہیں چاہتے تھے
آنے میں اتنا ٹھہراؤ
کہ بار بار گلے ملتے تھے
اور گال سے گال مَس کرتے تھے
اور جانے میں اِتی عجلت
کہ سین او کے ہوئے بغیر پیک اپ کر دیا
ساگ اور مکئی کی روٹی
جس کی اشتہا
تمھاری غزلوں، نظموں اور تمھارے گیتوں سے ٹپکتی تھی
اور گڑ کی بھیلی
جسے چکھنے کے لیے
تم نے جنم جگ انتظار کیا
کھانے کی میز پر دھری رہ گئی
ناگاہ موبائل کی گھنٹی بجی
اور کہیں آدھے رستے کی دوری سے
کوئی الوداعی آواز سنائی دی
“ناصر صاحب، ناصر صاحب”
پتا نہیں وہ تم تھے
جو تھوڑی دیر پہلے پاکستان کے دینہ کے باسی تھے
یا ہندوستان کے شہری بالی وڈ کے گلزار ۔۔۔۔۔۔۔ !
(گلزار کے لیے)
جب رات کو سونے سے پہلے میرا نواسا فوزان اصرار کرتا ہے کہ نانا ابو کہانی سنائیں اور کہانی بھی اپنے بچپن کی تو میں سوچتا ہوں نانا دادا لوگ بچوں کے لیے ہمیشہ داستانوی کردار کیوں ہوتے ہیں؟ کیا واقعی وہ زندگی کی کہانیوں کے ہیرو ہوتے ہیں یا محض بچوں کی فنطاسیہ کا کرشمہ یعنی سرابِ خیال یا ایسے علائم و تصورات جنہیں وہ حقیقی خیال کر لیتے ہیں؟ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے بچوں کے لیے وہ کسی دوردراز سیارے کی مخلوق ہوتے ہیں یا اَن دیکھے زمانوں کے کردار جنھیں بچے ہمیشہ کوئی کارنامہ سر انجام دیتے ہوئے دیکھنا یا سننا چاہتے ہیں۔
میں اپنے بچپن کے یاد رہ جانے والے تمام واقعات فوزان کو سنا چکا ہوں مگر وہ تو ہر شب میرے بچپن کی کوئی نہ کوئی کہانی سننا چاہتا ہے۔ گاؤں کے ایک متوسط زمیندار گھرانے کے بچے کے بچپن میں کیا ہو سکتا تھا! گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں دادیوں، ماسیوں، خالاؤں، چچیوں کی تیز نگاہوں سے بچ بچا کر مٹیوں سے اناج نکالنا اور ہٹی سے پُھلیاں، نگدی اور بتاشے لے کر کھانا، ویرانوں میں جن بھوت ڈھونڈنا، کھیتوں سے خربوزے چوری کرنا، رہٹوں اور ڈلیوں میں ننگا کھلا ہو کر نہانا، کوئلوں سے دیواروں پر تصویریں بنانا، پرندوں کے گھونسلوں سے انڈے اور بچے چوری کرنا، آنکھ مچولی کھیلنا اور کھیتوں میں اور ڈیروں اور خالی چھتوں پر ہونے والی نوعمر محبتوں کو چھپ چھپ کر دیکھنا۔ سردیوں کی لمبی راتوں میں چرخہ کاتتی عورتوں کے درمیان گھس کر بیٹھ جانا۔ نئی سہاگنوں کی سرگوشیوں اور حنائی مہک سے ایک انجانی سی لذت محسوس کرنا اور ان کے آس پاس پھرنا، یہ ساری باتیں آج کے بیکن ہاؤس، روٹس اور سٹی اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے ناقابلِ فہم ہیں مگر فوزان کو دلچسپ لگتی ہیں۔ عورتوں کے ذکر پر وہ بڑی معصومیت سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتا ہے جیسے اس طرح کہانی کا وہ حصہ اسے سنائی اور دکھائی نہ دے رہا ہو۔ ہمارے گاؤں میں سانپ بہت ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کبھی چھت کے شہتیروں اور کڑیوں سے سانپ لٹکا ہوتا تھا، کبھی رسوئی سے کوبرے کی پھنکار سنائی دیتی تھی، کبھی رات کو صحن میں چلتے ہوئے اچانک پاؤں کے نیچے سانپ آ جاتا تھا اور کبھی کسی پانی کی نالی میں اس کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی۔ نیولوں، سانپوں، کتوں اور سیہہ کی لڑائیاں بھی بہت دیکھیں۔ فوزان کو سانپوں، پرندوں اور دیگر جانوروں کے واقعات سننا بہت پسند ہے بشرطیکہ کہانی میں ان کی موت واقع نہ ہو۔
ایک شب جب سنانے کے لیے کوئی واقعہ نہ رہا تو پوچھنے لگا کہ آپ کے نانا ابو تھے؟ میں نے کہا کہ ہاں تھے۔ تو پھر ان کے بچپن کی کہانی سنائیں۔ میں نے کہا کہ ان کا بچپن تو میں نے نہیں دیکھا، ہمیشہ انہیں بڑا ہی دیکھا۔ فوراً چالاکی سے بولا تو وہی نا، آپ تو تب بچے تھے نا، اپنے بچپن کے نانا کی کوئی اسٹوری سنائیں پلیز نانا ابو ورنہ میں آپ کو سونے نہیں دوں گا۔ اس نے نیند بھری آنکھوں سے دھمکی دی۔ میں نے بتایا کہ میرے نانا درویش منش تھے۔ ان کا گاؤں میرے ددھیال سے دو کوس کے فاصلے پر تھا۔ وہ پانچوں نمازیں مسجد میں جا کر ادا کرتے تھے۔ گھر میں گائے بھینس بھی تھی مگر انھوں نے اپنے شغل کے لیے چند ددھاری بکریاں پالی ہوئی تھیں جنھیں چرانے کے لیے قریبی جنگل میں لے جاتے تھے اور اس بہانے سارا سارا دن فطرت سے ہمکلام رہتے تھے۔ جب میں ننھیال میں ہوتا تھا تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک کنواں اور ایک کھیت میں سبزیاں “پالی” ہوئیں تھیں جن کی بالکل بچوں کی طرح دیکھ بھال کرتے تھے۔ میں نے پہلی بار بھنڈی توری کے پھول وہیں دیکھے۔ جتنا وقت گھر میں ہوتے کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے تھے۔ ان کی غذا سادہ اور سونے کے اوقات کم تھے۔
نانا جی کی باتوں سے
میں نے خاموشی سیکھی
اور خدا کی نظمائی ہوئی فطرت سے
آسمانی گیتوں کی بازگشت
جو زمین کی سب سے نچلی تہوں سے پھوٹ رہی تھی
ابھی کسی ارسطو اور کسی نیرودا کو
میں نہیں جانتا تھا
فقط نانا جی تھے اور میں تھا
اور اونچے نیچے کھیت تھے
اور ہوا تھی
اور بادل تھے
اور اچانک امنڈ آنے والی بارش تھی
اور ان سب کے درمیان خواہ مخواہ پھیلی ہوئی
ایک اَن مَنی سی تنہائی تھی
فوزان کے لیے علمِ موجودات سے متعلق یہ باتیں قدرے بوجھل تھیں کہنے لگا وہ تو ٹھیک ہے نانا ابو لیکن کہانی بھی شروع کریں نا ۔۔۔۔۔ اور میں نے کہانی شروع کی۔ میں تیسری جماعت میں تھا۔ کھیتوں پر ٹڈی دَل نے حملہ کر دیا تھا۔ ٹڈی کا آنا کال کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں اسپرے وغیرہ تو تھے نہیں۔ حکومت نے تمام اسکولوں کو حکم نامہ جاری کیا کہ بچوں کی پڑھائی موقوف کر کے انھیں ٹڈی مار مہم پر روانہ کیا جائے۔ ہمارے ایک یک چشم ماسٹر جی تھے بڑے ظالم۔ انہوں نے پانچ پانچ بچوں کی ٹولیاں بنائیں اور ڈنڈا لہراتے ہوئے فی بچہ پانچ پانچ سو ٹڈیاں مارنے کا حکم دے کر روانہ کر دیا۔ ہم کچھ ماسٹر جی کے ڈر سے اور کچھ جوش میں ٹڈیوں کے لشکر کو مارتے، کشتوں کے پشتے لگاتے چلے گئے۔ پتا ہی نہ چلا اور گاؤں سے بہت دور نکل آئے۔ اچانک احساس ہوا کہ ہم صرف دو ہیں، میں اور میرا ایک چچا زاد۔ باقی تینوں کسی اور طرف نکل گئے تھے۔ چلچلاتی دھوپ میں بھوک اور پیاس سے برا حال ہو رہا تھا۔ کپڑے اور جوتے بھی پھٹ چکے تھے۔ اچانک سامنے ننھیالی گاؤں نظر آیا۔ اور ہم اس طرف چل پڑے اور ننھیال پہنچ گئے۔ ہماری حالت دیکھ کر نانی اور نانا پریشان ہو گئے۔ پہلے پانی پلایا اور دیر تک دونوں پنکھا جھلتے رہے۔ پھر نانا ہمیں باری باری غسل خانے تک لے گئے اور گاؤں کے واحد کنویں سے لا کر ذخیرہ کیے ہوئے ٹھنڈے پانی سے نہلایا۔ اس دوران نانی نے کھانا تیار کر لیا۔ نانی کے بنائے ہوئے پراٹھوں، مکھن، لسی، اچار اور آم کے مربے کا وہ ذائقہ آج تک نہیں بھولا اور ہمیں کھاتے ہوئے دیکھ کر نانا کے چہرے پر جو شانتی تھی وہ زندگی میں پھر کہیں نہیں دیکھی۔ اسی نروان تا میں ہم خوابِ نوشیں میں چلے گئے۔ جاگے تو سہ پہر ڈھل چکی تھی۔ نانا نے ایک آدمی کے ساتھ ہمیں ہمارے گاؤں روانہ کیا۔
فوزان نے سوتے سوتے اگلا سوال داغ دیا۔ “آپ کی امی کے نانا ابو تھے؟” “امی ابو کی طرح ہر بچے کے نانا نانی اور دادا دادی ہوتے ہیں” میں نے اپنے تئیں اسے شافی جواب دیا۔ “اللہ میاں کے بھی؟” “اللہ میاں بچہ نہیں ہوتا” میں نے کہا۔ “تو پھر اللہ میاں کتنا بڑا ہوتا ہے؟” وہ مجھے لاجواب کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ دیکھو میری امی کے نانا بڑے بہادر تھے۔ وہ لوگ حقیقی ہیرو تھے۔ ان کی زندگیاں کسی مہم جوئی سے کم نہیں ہوتی تھیں۔ یہ سنتے ہی فوزان کی نیند سے بوجھل آنکھوں میں یکدم چمک آ گئی۔ میں اسے پھر کہانی کی طرف لے آیا۔
امی جی کے نانا کا گاؤں میرے ننھیالی گاؤں سے پانچ چھ کوس کے فاصلے پر تھا۔ ان کی نالا بھمبھر کے کنارے کچھ زمین تھی جہاں وہ ہر سال خربوزے کاشت کرتے تھے۔ وہ تہبند باندھتے تھے، قمیص کم ہی پہنتے تھے، کاندھے پر ایک چادر اور ہاتھ میں ڈانگ یا کلہاڑی ضرور رکھتے تھے۔ خربوزوں کے موسم میں ان کا معمول تھا کہ ہر چوتھے پانچویں روز چادر میں خربوزے بھر کر اپنی بیٹی یعنی میری نانی کو پیدل دینے جاتے تھے۔ وہ بعد دوپہر چلتے اور شام کے قریب بیٹی کے گھر پہنچتے، خربوزے چارپائی پر ڈھیر کرتے اور پانی کا ایک پیالہ پی کر واپس چل پڑتے۔ بیٹی کے گھر رکنا یا کھانا پینا معیوب سمجھتے تھے۔ ایک بار خربوزے دینے آئے تو شام ڈھل چکی تھی۔ اُن دنوں ایک بھیڑنی کے قصے بڑے مشہور تھے۔ رات کو کئی راہگیروں پر حملہ کر کے انھیں زخمی کر چکی تھی۔ اس لیے نانی نے کہا کہ رات کو نہ جائیں مبادہ بھیڑنی انھیں نقصان پہنچائے۔ یہ سن کر ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی اور کلہاڑی پر ان کے ہاتھوں کی گرفت سخت ہو گئی جیسے اندر ہی اندر انھوں نے کوئی فیصلہ کر لیا تھا۔ امی بتاتی تھیں کہ انھوں نے جلدی جلدی پانی پیا، اپنے ایک ہاتھ پر چادر کو مضبوطی سے لپیٹا، دوسرے ہاتھ میں کلہاڑی پکڑی اور تیزی سے واپس روانہ ہو گئے۔ راستے میں بھیڑنی نے سچ مچ ان پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے چادر والا ہاتھ آگے کیا۔ جونہی بھیڑنی نے اس پر اپنے دانت گاڑے دوسرے ہاتھ سے کلہاڑی کے زوردار وار سے اس کی گردن کاٹ دی۔ اگلے دن سارے علاقے میں ان کا یہ کارنامہ مشہور ہوگیا۔ میں نے فاتح نظروں سے فوزان کی طرف دیکھا جیسے بھیڑنی کو امی کے نانا نے نہیں میں نے مارا ہو، لیکن وہ نیند کی جھپکی میں تھا۔ اچھا ہی ہوا ورنہ وہ کلہاڑی اٹھتے ہی چیخ اٹھتا نانا ابو اسے مارنا نہیں اور ممکن ہے اس کی آواز سے امی کے نانا کا اٹھا ہوا ہاتھ رک جاتا اور بھیڑنی اصل میں تو نہیں کہانی میں انہیں زخمی کر دیتی۔
میں سوچنے لگا کہ وہ لوگ واقعی بہادر تھے جو دوسروں کا سفر اور راستے محفوظ بنانے کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے تھے جبکہ ہم جیسے نظریاتی بزدل، قانون پسند پُرامن شریف شہری، معیشت، سماج اور صارفیت کے جبر میں جکڑے ہوئے اپنے جائز حقوق کا دفاع بھی نہیں کر سکتے۔ انسانی بھیڑیے اور بھیڑنیاں ہمیں نوچتی رہتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے وسوسوں اور سوچوں سے بے نیاز فوزان ہونٹوں پہ ایک ملکوتی مسکراہٹ لیے گہری نیند سو رہا تھا۔
خدا، میرے لفظوں کو جگنو بنا دے
خدا، میری باتوں کو تتلی بنا دے
خدا، میرے قدموں کو رستہ بنا دے
خدا، مجھ کو پھولوں کی خوشبو بنا کر ہوا میں اڑا دے
خدا، موتیے کی طرح مسکرا دے
خدا، میری آنکھوں کو نظمیں بنا دے
خدا، میری نظمیں کہیں دور دیسوں کو جاتے
پرندوں کی ڈاریں بنا دے
خدا، ماں کے آنسو بڑے قیمتی ہیں
انہیں دکھ کے لاکر میں محفوظ کر دے
خدا، کارنس پر رکھی میری تصویر مرنے لگی ہے
اسے میرے بچوں کے دل میں سجا دے
خدا، ایک لڑکی کسی دل میں بسنے لگی ہے
خدا، اس کے دل میں بھی کوئی بسا دے
خدا، عورتوں کے بدن ریت کے ڈھیر ہونے لگے ہیں
خدا، ان کے سینوں پہ گندم کی فصلیں اگا دے
خدا، ایک آنسو کہیں بچپنے کی ازل سے
کسی دکھ کے ڈَل سے، گزر کر
مِری دونوں آنکھوں میں ٹھہرا ہوا ہے
خدا، بارشوں میں اسے اب بہا دے
خدا، ایک آنسو مِرا بارشوں میں بہا دے
خدا، خود بھی رو دے، مجھے بھی رلا دے!!
تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے
اور پھیلتی چلی جاتی ہے
کبھی نہ ختم ہونے کے لیے
وہ کتنے خوش رہتے ہیں
جو بظاہر مِل کر بھی در اصل نہیں مِلتے
اور دلوں میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے
دل کا دل سے
روح کا روح سے
اور شریر کا شریر سے ملنا
یہ سب تنہا ہونے کے جتن ہیں
پتا نہیں
زندگی تنہائی کے بغیر ادھوری ہے
یا تنہائی زندگی کے بغیر
لیکن ہم جہاں جاتے ہیں
اپنی تنہائی ساتھ لے جاتے ہیں
اور جہاں ٹکتے ہیں
یہ ہمارے بیچ یا کہیں آس پاس
کنڈل مار کر بیٹھ جاتی ہے
گاہے زیادہ
گاہے کم ہونے سے
تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !
Image: Henn Kim
Image: Barbara Licha
[blockquote style=”3″]
[/blockquote]
[blockquote style=”3″]
[/blockquote]
Image: Chalermphol Harnchakkham
Image: Jitish Kallat
Image: kyle Thompson