آزُوقہ

نصیر احمد ناصر: ایک زمیں کے ٹکڑے سے بھی
کیا کچھ حاصل ہو سکتا ہے!
اب جان کر کیا کرو گے؟

نصیر احمد ناصر: درد کی لَے میں
ہوا صدیوں پرانا گیت گاتی ہے
ایک روشن روح

یلنا سپرا نووا:دانائی کے ارفع عالم کے در کھول کر
سننسی خیزی کو
شفاف پاکیزگی میں تبدیل کرتے ہوئے
تم پہاڑوں کی
بلند و بالا چوٹیاں سر کر جاتے ہو
ایک بے ارادہ نظم

نصیر احمد ناصر: بے ارادہ
پانیوں سے
آنکھ بھرتی جا رہی ہے
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو!

نصیر احمد ناصر: خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں
سرخ سِکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں
خواب کے دروازے پر

نصیر احمد ناصر: میں تمہیں
خواب کے دروازے پر
اسی طرح جاگتا ہوا ملوں گا
ہم اپنے زمانے سے بچھڑے ہوئے ہیں

نصیر احمد ناصر: ہمیں کس نگر میں تلاشو گے
کن راستوں کی مسافت میں ڈھونڈو گے
اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟

نصیر احمد ناصر: اجنبیت ۔۔۔۔۔ قربتوں کے لمس میں سرشار
گم گشتہ زمانے ڈھونڈتی ہے
زندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈتی ہے
پھاگن چیتر کے آتے ہی

نصیر احمد ناصر: پھاگن چیتر کے آتے ہی
بیلیں رنگ برنگے پھولوں سے بھر جاتی ہیں!!
سُنو، بلیک ہول جیسے آدمی!

نصیر احمد ناصر: سُنو، بلیک ہول جیسے آدمی!
مجھے تم دُور لگتے ہو
وقت کی بوطیقا

نصیر احمد ناصر: وقت کی اپنی کوئی شکل بھی نہیں ہوتی
ہم ہی اس کا چہرہ ہیں
ہم ہی آنکھیں
ایک وقت آتا ہے

نصیر احمد ناصر: ایک وقت آتا ہے
جب آدمی
سب کے ہوتے ہوئے بھی تنہا رہ جاتا ہے!
عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!
نئے گوتم کا اُپدیش

نصیر احمد ناصر: دکھ ڈائری میں نہیں لکھا جا سکتا
نہ کسی نظم میں ڈھالا جا سکتا ہے
خدا زمین پر صبحیں لکھنا بھول گیا ہے

نصیر احمد ناصر: وہ محض نظمیں لکھ سکتے ہیں
یا زیادہ سے زیادہ
مرگِ خود پر
تعزیتی قرارداد پیش کر سکتے ہیں!