Categories
شاعری

عشرہ // مشعال خان البرٹو روجاز نہیں تھا

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
مشعال خان البرٹو روجاز نہیں تھا
میں نرودا ہوں، پابلو نرودا
یہ میری سوانح عمری ہے

 

میں البرٹو روجاز کا زکر کرتا ہوں
حسن اور علمیت ضائع کرنے کی عادت میں مبتلا نوجوان کا
روایتی خوش لباس غریب نوجوان کا
جسے ایک شخص نے کہا وہ اس کے تابوت پر سے پھلانگنا چاہتا ہے
جو شہر بدلنے کا عادی تھا، کم مشہور نظموں کا خالق

 

دنیا دلچسپ لوگوں سے خائف کیوں ہے
میں پابلو نرودا نہیں ہوں

 

مشعال، البرٹو روجاز نہیں تھا
Categories
شاعری

عشرہ // ہر کسی کو مار دو

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ہر کسی کو مار دو
کون سی شکایتیں ؟؟ کون سی ملامتیں ؟؟
یا اللہ ۔۔ یا رسول ۔۔ خوف کی علامتیں!
مسل دو ہر ایک پھول، ہر کلی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو

 

الف ہے واجب القتل بے کے نیک خیال میں
جیم کیوں نہ ہو شریک دال کے قتال میں
اے کو بی کو مار دو سی کو ڈی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو

 

کچھ کہے یا نہ کہے، کچھ کرے یا نہ کرے
جو تمہیں نہیں پسند، کل کیا آج ہی مرے!
تم سے جتنا ہو سکے، زندگی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو

 

احتیاط ہی کرو، بس! سبھی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو
Categories
شاعری

عشرہ // میں مارا جاؤں گا

میں مارا جاؤں گا
پہلے الزام لگایا جائے گا، پھر ہجوم ورغلایا جائے گا
دن کی ساعتوں، ماہ و سال، زمان و مکاں سے کہیں آگے
تشدد کا اک طویل دور ہو گا
جسے سہنے کا رگوں میں اک عجیب غرور دوڑے گا
ہر معلوم اذیت آزمانے کی مشق کا ستم
میری رگ رگ سے جاں کی ہر رمق کھینچے گا
اور پھر ٹھنڈا اور خاموش کرا دے گا
کامیڈی کے کسی پنچ پر، بلاگ کی کسی سطر پر
سوچ کے چند دھاروں پر، خیالوں اور سوالوں پر
کسے کے عشق و عقیدت کی وحشت کی تسکین کی خاطر، میں مارا جاؤں گا
مقدس ہستیاں
اپنے اپنے زمانوں میں نئے اور مختلف پیغام پر جن کا راستہ روکا گیا
بتوں پر تیشے چلانے پر زیر عتاب رہے
اگلے زمانوں میں وہ مقدس ہو گئے
اور پرانے ہو گئے
زمانے گزرنے کے ساتھ عقیدتوں میں دوبارہ تراشے جاتے رہے
ان کے صنم کدے بن گئے
جہاں سے بتوں کی ناموس کے تحفظ کے جتھے نکلتے ہیں
روشن چراغوں اور مشعالوں کو بجھانے کے لئے
نئے افکار کے میناروں کو جلانے کے لئے
کہ وہ انسان ہیں، ابھی مقدس نہیں

Image: Express Tribune

Categories
شاعری

ایک باپ کے آنسو

ایک باپ کے آنسو
ایک باپ کے آنسو
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے
اس میں ہم اپنے آنسو بھی ملاتے جائیں گے
ایک ماں کے آنسو جن کے ہم ذمہ دار نہیں
ان کو سمیٹنے کے لئیے
ہم خدا سے کہیں گے
اب ان آنسوؤں کی رکھوالی تجھےکرنا چاہئیے
اگر نہیں
تو یہ سمندر بھی بن سکتے ہیں
پھر تیری بنائی ہوئی اس دنیا کو
نوح کی کشتی بھی میسر نہیں ہوگی
پھر کیا ہو گا؟
پھر کیا ہونا چاہئیے

Image: BBC Urdu

Categories
شاعری

Mob the Omnipotent

Mob the Omnipotent
آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے

 

ہجوم نبی کے جوتے خون سے بھر سکتا ہے
اور مکہ کی فتح کے دن
اسلام قبول بھی کر سکتا ہے
ہجوم سیاست کا پیٹ
اور کاروبار کی پیٹھ ہے
ہجوم سرسید کو نچوا سکتا ہے
ٹرمپ کو کنگ بنا سکتا ہے
ہجوم پوپ کو گرا سکتا ہے
Bob کو اٹھا سکتا ہے
ہجوم لشکر ہے
ریڈ آرمی ہے

 

ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے
ہجوم آدمی ہے
Categories
شاعری

کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔

کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔
رات بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا
نیند میں چلتے ہوئے بھول گئے پاوٗں کہیں
کہیں سر میز پہ بکھری ہوئی
ضربوں میں پڑا چھوڑ آئے
وقت کو خواب پہ تقسیم کریں
خواب کو موت سے تفریق کریں
کانپتے ہاتھوں سے گر جائے کہیں
حاصلِ کارِ مسلسل
کہیں افسوس کی شمعیں
نہ صدائے ماتم
بے حسی بڑھتی چلی جاتی ہے
زندگی گھٹتی چلی جاتی ہے
رات بیدار تھی، بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا

Image: Anselm Kiefer

Categories
شاعری

اے میرے سوچنے والے بیٹے

اے میرے سوچنے والے بیٹے
وہ دانش کو پاؤں تلے روندیں گے
سوال پر گولی چلائیں گے
منطق پر پتھر اور لاٹھیاں برسائیں گے
وہ انسانیت کو لہولہان کر کے
اساطیر کی زمینوں پر انسان ذبح کریں گے
وہ قاتلوں کے قصیدے پڑھ کر
قتل کے حمایتیوں پر گل پاشی کریں گے
وہ انسان کو نجس قرار دے کر
اجتماعی خوں ریزی کو مقدس ٹھہرائیں گے۔ ۔ ۔
وہ یہ سب تمہاری آنکھوں کے سامنے کریں گے
تم نے پھر بھی مشتعل نہیں ہونا !

وہ نفاست سے ان کتابوں کی شیرازہ بندی کریں گے
جن میں زندہ بدن اُدھیڑنے کے مفصل نسخے درج ہیں
وہ تمہارے سامنے نفرت کا پورا ماسٹر پلان رکھ دیں گے
یاد رکھو !
تم نے پھر بھی اپنی سوچ کو مشتعل نہیں ہونے دینا
اگر تم نے جواب میں کچھ کہا یا سوال اٹھایا
تو وہ تمہارے ہی لفظوں کی مہریں
تمہارے قتل نامے پہ ثبت کریں گے
( اُنہیں یہ گُر صدیوں سے آتا ہے )
پھر وہ ہجوم در ہجوم آئیں گے
اور تمہارے جسم کی روئی دھنک کے رکھ دیں گے
اگر تم انسان کے شرف کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہوئے
تو وہ تمہیں نیچے کھینچ کر قتل کردیں گے

سو میرے سوچنے والے بیٹے !
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
اور زندگی ہر چیز سے مقدم ہے میرے بیٹے
لیکن افسوس ! وہ لوگ یہ بات نہیں جانتے
وہ صرف موت کو مانتے ہیں

Image: Sabir Nazar