Laaltain

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے رجز قومی ترانہ بن جائے تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے بچے ماں کی چھاتیوں سے خون چوسنے لگتے ہیں کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا اور یومِ آزادی پر لوگ […]

مایوسی

افتخار بخاری: میں وقت میں
چلتے چلتے رکا
تا کہ بچوں کی خاطر
خریدوں
میں کچھ روٹیاں

آ چنو رل یار

افتخار بخاری: آؤ اب ہم پتھر ڈھونڈیں
اپنے پیٹ پہ باندھنے کو

بھوک کی قاتلانہ سازش

سلمیٰ جیلانی: کوڑا چننے والا لڑکا
روٹی کے ٹکڑے کی تلاش میں
کتنی دیر سے کھڑکی کے سامنے پڑے
کوڑے کے ڈھیر کو
الٹ پلٹ رہا ہے

مٹی کی بد ہضمی

صفیہ حیات: امیرانہ ڈسٹ بن سے اٹھائی لپ اسٹک
فاقہ زدہ روپ کو سنوارنے سے انکار کرتی
نالیوں میں بہہ جاتی ہے

کیا کبھی دیکھا ہے

افتخار بخاری: کیا چلچلاتی دھوپ میں کھڑی
بیمار مزدور عورتیں دیکھی ہیں
ثروت مندوں کے دروازوں پر
کھلنے کے انتظار میں

عشرہ/ وہ اور ہم

ادریس بابر:ہم جو خون پسینے میں نہاتے، سونا چاندی اگاتے رہے
ہم، یہی کوئی ستر فیصد، اداس لوگ، جیتے مرتے مسکراتے رہے