Categories
شاعری

مٹی کی بد ہضمی

فضا میں اڑتے
بسنتی رنگوں کی بہار
دیسی بدیسی شرابوں کے ذائقے
ضیافتوں کی رونقیں
سب نصیبوں کے چکر ھوتے ہیں۔
محبوبانہ وارفتگیاں
ادائیں۔
تھرکتے لمحوں کی تھاپ
بستر کی خوشکن شکنیں
تکیوں پہ خوابوں کی اچھل کود
خمار آنکھوں کے رتجگے
سب نصیب سے بندھے ہیں

کوٹھوں کی سیڑھیاں چڑھنے والے
کبھی
تھکی ماندی جوانی
کو کندھے پہ لے کر نہیں پھرتے
کچی جوانیاں
میلے کچیلے محلوں میں
پیوند لگی اوڑھنیوں میں
بھاگتے بھاگتے
شام کے سرھانے گرتی پڑتی دم توڑتی ہیں۔

امیرانہ ڈسٹ بن سے اٹھائی لپ اسٹک
فاقہ زدہ روپ کو سنوارنے سے انکار کرتی
نالیوں میں بہہ جاتی ھے۔
میکے گئی بیوی کے پلٹنے تک
میلی چادر سے کھیلنے کی خواہش رکھتے
افسر کو لتاڑتی غریب دوشیزہ
رات کے تیسرے پہر گاتی ھے

بد نصیبی کے جراثیم
کینسر سے مہلک ھوتے ہیں۔
ھم سے دور رھنے والے خوشحال رھتے ہیں
ھم سے بغلگیر ھونے والے
ان کے ہتھے چڑھ کے
ہمارے ساتھ ہڈیوں کا برادہ بنتے ہیں۔

ہمیں تو مٹی بھی
کھانے سے انکار کر دیتی ہے۔
کیونکہ اسے
بد ہضمی ہو جاتی ہے
بد نصیبی کھانے سے

Categories
شاعری

خبر بھی گرم فقط ہے تو سنسنی کے لیے

بس ایک وقت میسر ہے آدمی کے لیے
کہاں پہنچ میں ہے خوراک زندگی کے لیے
“ہوئی ہیں قیمتیں اشیائے خورد و نوش کی کم”
یہ چٹکلہ ہی چلے، گرچہ گدگدی کے لیے
ضیاعِ آب اے غافل تو اس سے پوچھ ذرا
جہاں پہ بوند بهی کافی ہے تشنگی کیلئے
نفاذ شرعِ قناعت اے حکمراں واہ وا
اب اور چاہیے کیا ہم کو سادگی کیلئے
اک اور بجلی گرائی ہے اس رعایا پر
سہیں گے اس کو بھی آقا تری خوشی کیلئے
رہا یہ حال تو بجلی کی قبر پر اکثر
چراغِ طور جلائیں گے روشنی کیلئے
عنانِ بچہ جمھورہ کو تهامیے صاحب
یہ لیڈران بھی حاضر ہیں ڈگڈگی کے لیے
کہیں پہ اپنی سیاست کا مدرسہ کھولیں
عوام سیکهے طریقے گداگری کیلئے
فقط ہے شور، عمل سے تمام بے بہرہ
خبر بهی گرم فقط ہے تو سنسنی کیلئے
عظیم قوم ہے اسکی لچک کا کیا کہنا
سلام پیش ہے تابش کا بے حسی کیلئے