خوابوں کا اغوا (غنی پہوال)

مجھ سے ملئیے مجھے زندگی کی مزدوری پر لگا دیا گیا ہے میرا تعارف یہ ہے کہ اغواہ شدہ خوابوں کے لواحقین میرے کنبے میں شامل ہیں میرے اجداد احتجاج کرتے کرتے نابود ہو گئے میرا ماضی ایک پُر اسرار محل ہے اور زمانے نے اُس کے دریچوں سے جھانکتے ہوئے روشن خوابوں کو اغوا […]
جبری گمشدگیوں کے اشتہار

وقاص احمد شہباز: جبری گمشدگیوں کے اشتہار
کسی اخبار میں جگہ نہیں پاتے
نہ کسی خبر کے طور پر لگائے جاتے ہیں
افراد جو لاپتہ ہوئے

صفیہ حیات: بھاری بھرکم بوٹوں والے
باغیوں کو اٹھا کر
سیدھے سبھاؤ رہنے کے گر سکھاتے ہیں
بازیابی

رضوان علی: زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے
چُپ

کہ باہر سوال آئے ہیں
جن کو پناہ دینا
جرم گردانا گیا ہے
آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں
It hits me in the womb

Ramsha Asharaf: Lull my voice to the innocence
Of not knowing.
And, let me sleep
In the arms of darkness
جبری گمشدگان اور پاکستان

خط اُس باپ کے نام جو “لاپتہ“ ہو گیا

Why Balochistan’s Mama Qadeer is on Long March
Here they are in Karachi at Karachi Press Club: the 25 families – inclusive of females, elders and children as young as 7 years old – of missing persons having travelled 780 kilometers on foot from Quetta for 26 consecutive days.