Categories
شاعری

خوابوں کا اغوا (غنی پہوال)

مجھ سے ملئیے
مجھے زندگی کی
مزدوری پر لگا دیا گیا ہے
میرا تعارف یہ ہے
کہ اغواہ شدہ خوابوں کے
لواحقین میرے کنبے میں شامل ہیں
میرے اجداد احتجاج کرتے کرتے
نابود ہو گئے
میرا ماضی ایک پُر اسرار محل ہے
اور زمانے نے
اُس کے دریچوں سے جھانکتے ہوئے
روشن خوابوں کو
اغوا کرنے کا چلن اپنایا ہے
گزشتہ سال ایک ویرانے سے
میرے دو خوابوں کی لاشیں ملیں
ایک خواب میں میرے والد
اور دوسرے میں میرا بڑا بھائی مقیم تھا
خوابوں کے چہرے اتنے مسخ تھے
کہ مجھ سے اُن کی خوشبو کو بات کرنی پڑی
مجھ سے ملئیے
بھوک ہڑتالی کیمپوں
اور بینروں کی تحریروں کے علاوہ بھی
میں ہر جگہ دستیاب ہوں
میرا دشمن جس مورچے پر چاہے
میں اُس سے لڑ سکتا ہوں
میں لڑ سکتا ہوں
اپنے بچوں کے خوابوں کی حفاطت تک
اُس وقت تک
جب میرے ماضی کے محل کے
دریچوں سے
خوابوں کی روشنی جھانکنے لگے
Image: Toym de Leon Imao

Categories
شاعری

جبری گمشدگیوں کے اشتہار


جبری گمشدگیوں کے اشتہار
کسی اخبار میں جگہ نہیں پاتے
نہ کسی خبر کے طور پر لگائے جاتے ہیں
اخبار صرف اُن لوگوں کی
گمشدگی کے اشتہار چھاپتا ہے
جو ذہنی عدم توازن کا شکار ہوں
یا ان بوڑھوں کا جو دیکھ سن نہیں سکتے
کسی روز راستہ بھول بیٹھتے ہیں
ان کی خبر
یا ان کو گھر پہنچانے والے کو
انعام سے نوازے جانے کے اعلانات
بار بار دہرائے جاتے ہیں
جبری گمشدہ افراد اس میرٹ پر
پورا نہیں اترتے
یہ میرے وطن کے کڑیل جوان
ذہن کو استعمال کر کے
دیکھنا، سننا، سوچنا، سمجھنا
سوال کرنا سیکھتے ہیں
جواب کے رستے کو تلاشتے ہیں
کہ اسی کھوج کے جرم میں
اٹھائے جاتے ہیں

اخبار ان کا اشتہار
شائع کرنے سے قاصر ہے!

Categories
شاعری

افراد جو لاپتہ ہوئے

ہم نے بڑی غلطی کی
جو گہرائی کی جستجو میں
ڈوبنا اور تیرنا سیکھ لیا
دریا سے بولنے کا قرینہ جان لیا
لاپتہ فرد نام درج کرواتے
اپنے لبوں پہ نیا تالا لگواتا ہے
بلیک گاؤن پہنے
سٹیج پہ پرفارم کرتا
وہ سوچ نہیں سکتا
وگرنہ وہ دیہاڑی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
سچ بولنے والے گم شدہ افراد
برمودہ تکون میں بھٹکتے ہی
برائے نام جمہوریت کی سیل لگی رہتی ہے
بھاری بھرکم بوٹوں والے
باغیوں کو اٹھا کر
سیدھے سبھاؤ رہنے کے گر سکھاتے
“شش شش ” چپ رہنے کو کہتے ہیں۔
مگر غیرت مند خون ابلتا ہے
جلدی جلدی جوش کھاتا ہے
بوٹوں کی نوکوں سے
چہروں کو بچاتے
پیٹ پہ لاتوں اور مکوں کی مار سہتے
اکثر سوچتے ہیں۔
گمشدہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔۔۔۔؟
سچ بولنے کی سزا
بچہ جنتی عورت کو بھی ملتی ہے
راکھ پھرولتی ماں
اپنے خواب کی تعبیر ڈھونڈتی رہتی ہے
ہم بد بخت لوگ
مذہب کی تکڑی میں جھولتے
جنسیات کی کتابیں
پرانی ردی میں ڈھونڈتے
عبائے اور ٹوپیاں پہنے
چوری چوری جنسی سبق پڑھاتے ہیں
مگر ذہنوں کی گرد
جھاڑے نہیں جھڑتی۔
اور
گم ہو جانے والوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے

Categories
شاعری

بازیابی

اب ہم اُن لوگوں کو
جو خواب دیکھتے ہیں
اور خواب بیچتے ہیں
مارتے نہیں
بہت مصیبت ہو جاتی ہے
ان کی لاشیں دفنانی پڑ جاتی ہیں
ورنہ بہت تعفن پھیلتا ہے
اور سب کو پتہ بھی چل جاتا ہے

ہم نے ایک مشین ایجاد کر لی ہے
اب ہم انھیں پکڑتے ہیں
اور ان کی آنکھوں میں
ایسی برقی رو دوڑاتے ہیں
کہ وہ ہمیشہ کے لیے خواب دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں
پھر ہم انھیں واپس چھوڑ دیتے ہیں

زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے

Image: Karen Wippich

Categories
شاعری

چُپ

چُپ
دروازہ مت کھولو
کہ باہر سوال آئے ہیں
جن کو پناہ دینا
جرم گردانا گیا ہے

 

آقاوں کی سہولت کو
ہم اپنے عقوبت خانے
خود میں لئے پھرتے ہیں
کہ ہم، وہ نسل ہیں
جو اپنی تصویروں کے باہر
کبھی مسکرا نہ سکیں گے

 

تم لب کشائی کی پاداش میں
انتظار میں تبدیل کر دیئے گئے
جو غم سے بھی زیادہ طویل ہے
اور انتظار بھی کیا
کہ بھلا کس کو خبر
گمشدہ چیزیں کہاں جاتی ہیں

Image: Tammam Azzam

Categories
شاعری

آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

اکیلی اور زندہ آوازیں
اغوا کرلی جاتی ہیں
تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی اپنی آوازیں
اپنی کتابوں میں
چھپا دو
مگر نہیں
سدھائے ہوئے کتے
کتابوں کو سونگھ کے
بتا دیتے ہیں
کہ کون سی کتاب
دیکھتی، سنتی اور بولتی ہے
تم آواز اور کتاب سمیت
اغوا ہو جاؤ گے
یہ سدھائے ہوئے کتے
گلی گلی سو نگھتے پھر رہے ہیں
اور کتنے سلمان حیدر
ابھی باقی بچے ہیں
کیا کرو گے؟
کہاں چھپاؤ گے؟
ایسی کوئی جگہ
نہیں ہے
جہاں زندہ آوازیں
چھپائی جا سکیں
تمہیں ان سدھائے ہوؤں
کو گلے سے دبوچنے کے لئے
اپنی آوازوں کو
جوڑ جوڑ کے
ایک زنجیر بنا نی ہو گی
ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم جانتے ہو
اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں
Categories
شاعری

It hits me in the womb

Darkness freezes the vision
To the limits of my feet
The cold has already numbed them,
I cannot walk. Stoned and stunned.
In darkness.
Love-veil has almost shattered down.

(Sarmad’s voice echoes and echoes
Hitting harder and harder)

Pain is no sight
It is not a feeling either
It is nothing.
So, I am nothing.
My voice is no voice.
Sarmad’s voice is no voice.

But, it hits me in the womb.

I am the mother of no child
Friend of no wife
Lover of no man.
I am no one.
I am keeping my woes to myself,
Your wish not to be involved
Is accepted and respected
But, it, too, has hit me,
Somewhere, where pain is no word,
Love is no life.

Darkness defeats the old companions,
Darkness sweeps the passionate lovers.
Darkness is all.
The vision,
The sight,
The feeling.

Lull my voice to the innocence
Of not knowing.
And, let me sleep
In the arms of darkness

……………..
Sarmad is Salmaan Haider’s three year old son. Salmaan was abducted on 6th January and hasn’t returned yet.

Categories
نقطۂ نظر

جبری گمشدگان اور پاکستان

30اگست دنیا بھر میں ’جبری گمشدگان کا عالمی دن‘کے طور پر منایا جاتا ہے ۔2011سے اس دن کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک مناتے ہیں تا کہ جبری گمشدگی کے واقعات کو کم کرنےاور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے موثراقدامات کیے جا سکیں ۔

 

بین الاقوامی قوانین کی رو سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ جبری گمشدگی کی وارادات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقداامات کرے ۔لیکن پاکستان ایسا نہیں کر رہاہے
اعداد و شماربتاتے ہیں کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ بی بی سی اردو پر شائع ہونے والے نصر اللہ بلوچ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے صوبے بلوچستان میں 20,000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ ان کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی دو تنظیمیں ہیں،ایک Voice for Bloch missing persons اور دوسری بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ۔دونوں تنظیموں کا الزام ہے کہ جبری گمشدگیوں میں حکومتی ادارے ملوث ہیں۔ دوسری طرف حکومتِ پاکستان جبری گمشدگیوں کے خلاف قانون اور پالیسی بنانے میں بھی تساہلی سے کام لیتی رہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ جبری گمشدگی کی وارادات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقداامات کرے۔ لیکن پاکستان ایسا نہیں کر رہا ہے جس کا واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے مقررہ اصول و ضوابط سے انحراف کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے اعلامیہ کی رو سے بھی یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔کیوں کہ منظم طور پر کی جانے والی جبری گمشدگی انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی 2013 میں جبری گمشدگی کو پاکستانی آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان سب کے باوجود جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے میں حکومتی مشینری اور سیاسی قائدین کا رویہ نا قابل اعتبار نظر آتا ہے۔

 

پاکستان ہی میں تیار شدہ ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی اصول و ضوابط کی پاسداری میں بہت پیچھے ہے۔2011 میں پاکستانی پارلیمنٹ نے جبری گمشدگان کی بازیابی کے لیےایک کمیشن قائم کیا تھا۔ اس کمیشن کو مو صول ہونے والی جبری گمشدگی کی شکایات میں ہر مہینے اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔مثلاً اس سال جنوری سے جولائی تک کمیشن کو ہر مہینے اوسطاً 72 شکایات موصول ہوئی ہیں ۔جن میں جنوری میں 56 ،ٍٍفروری میں 66،مارچ میں 44،اپریل میں 99،مئی میں 91، جون میں 60، اور جولائی میں 94، شکایات موصول ہوئی ہیں۔مجموعی طور پر اس سال اب تک 510 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ کمیشن کا قیام مارچ 2011 میں ہوا اور 31جولائی 2016 تک کمیشن کو3552 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ کمیشن کی کارروائی سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی امید بھی نہیں نظر آتی ۔کمیشن کے ایک آفیسر نے ایک فریادی سے پوچھا کہ آپ نے استخارہ کرایا؟ فریادی نے کہا کہ ہاں استخارہ کرایا۔ وہ زندہ ہیں۔پھر آفیسر جواب دیتے ہیں دعا کریں۔ میں بھی دعا ہی کر سلتا ہوں۔ جس کمیشن کا اعلیٰ عہدے دار تک مایوسی کااظہار کرے، تسلی دے اور دعا کی تلقین کرے اس کمیشن سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ایسے کمیشن سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی امید رکھنا لاحاصل ہے ۔سینکڑوں بیویاں اپنے شوہروں کی گمشدگی کی وجہ سے معلق ہیں۔ نہ تو وہ طلاق یافتہ ہیں نہ ہی مکمل طور سے ایک بیوی ہیں۔ان کے بچوں کی پرورش اور کفالت کا مسئلہ الگ درپیش ہے ۔برسوں سے کتنی مائیں اپنے بیٹوں کی آس لگائے بیٹھی ہیں۔ ان سب کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی در پیش ہے کہ ایسے خانوادے کو سماج میں بھی ذلت و رسوائی کا بھی سامنا ہے۔ ایک تو ان کا عزیز یا سرپرست لاپتہ ہو گیا دوسرے سماجی طعنے بھی انہیں برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ متعد د لاپتہ افراد کے لواحقین کہتے ہیں کہ جب کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ملک میں عدالتیں موجود ہیں تو پھر سماج کے کسی شخص کو کیوں کر یہ حق حاصل ہو کہ وہ گمشدہ شخص کے بارے میں بدگمانی سے کام لے بلکہ بغیر کسی تحقیق کے ان کو دہشت گرد قرار دے۔

 

متعد د لاپتہ افراد کے لواحقین کہتے ہیں کہ جب کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ملک میں عدالتیں موجود ہیں تو پھر سماج کے کسی شخص کو کیوں کر یہ حق حاصل ہو کہ وہ گمشدہ شخص کے بارے میں بدگمانی سے کام لے بلکہ بغیر کسی تحقیق کے ان کو دہشت گرد قرار دے۔
درجنوں لاپتہ افرادکے اہل خانہ اور رشتے دار برسوں سے کمیشن کے چکرّ کاٹ رہے ہیں۔ لیکن تا حال انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ عدالتین، کمیشن اور منتخب نمائندے۔۔۔ کوئی بھی لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کرا سکا۔ جبری گمشدگی کی ایک خبر پچھلے دنوں کافی سرخیوں میں رہی ۔ایک پاکستانی خاتون صحافی زینت شہزادی اور ایک ہندوستانی نوجوان حامد انصاری بہت دنوں سے گم تھے ۔حامد انصاری ایک انجینیر تھا جو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے بنے ایک دوست سے ملنے کے لیے غیر قانونی طور پر پاکستان کی سرحد میں داخل ہو گیا۔ 2012 میں ہی اسے گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن متعلقہ افسران ایک عرصے سے انجنیئر انصاری کے سلسلے میں لاعلمی کا اظہار کرتے رہے۔ معاملہ جب پشاور ہائی کورٹ میں پہنچا تو انکشاف ہوا کہ اسے ملٹری نے حراست میں لے رکھا تھا اور اب اسے ملٹری کورٹ کے ذریعے ہی سزا سنائی گئی ہے۔ اور زینت شہزادی جو ایک غریب گھرانے کی پر جوش خاتون تھی۔ 2013 ہی سے انصاری کے کیس کو کمیشن اور دیگرمتعدد پلیٹ فارم پر اٹھاتی رہی تھی۔ لیکن 2015 میں زینت شہزادی بھی لا پتہ ہو گئی۔ اس کا کیس بھی کمیشن کے پاس زیر التو اہے۔ لاہور میں زینت کے سلسلے میں سال بھر، متعدد سماعتیں ہوئی ہیں لیکن ہر بار قانون کے رکھوالے یہی بہانہ دہراتے ہیں کہ زینت کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔

 

ایسی کئی کہانیاں پاکستان کے مختلف علاقوں سے سننے کو مل رہی ہیں اگر پاکستان واقعی مہذب ممالک کی فہرست میں شامل ہو نا چاہتا ہے تو اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت جبری گمشدگان کے لیے موثر لائحہ عمل تیار کرے۔ ساتھ ہی لا پتہ افراد کی بازیابی اور ان کے متعلقین کو درپیش نقصانات کی تلافی و تدارک کا بھی نظم کرے۔
Categories
خصوصی

خط اُس باپ کے نام جو “لاپتہ“ ہو گیا

[blockquote style=”3″]

ہانی، کامریڈ واحد بلوچ کی بڑی صاحبزادی ہیں۔ واحد بلوچ کو 26 جولائی کو کراچی سے لاپتہ کیا گیا۔ ہانی نے اپنے والد کے نام ایک تصوراتی خط لکھا ہے۔ یہ خط کراچی کی نوجوان صحافی وینگس کے توسط سے خصوصی طور پر ‘حال حوال‘ کو بھجوایا گیا ہے۔ لالٹین قارئین کے لیے یہ خط ‘حال احوال’ ویب سائٹ کے منتظمین کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے، بلاشبہ ہم سب اس درد کے مشترکہ شراکت دار ہیں۔

[/blockquote]

بابا جان، یاد ہے اتوار کو آپ ہمیشہ مجھ سے وعدہ کرتے کہ مجھے لے کر ریگل چوک پہ کتابیں خریدنے جائیں گے۔
میں سویرے جاگی کہ آج اتوار ہے اور ہم ریگل چوک جائیں گے۔میں انتظار کرتی رہی اس صبح کہ آپ ہمیشہ کی طرح پہلے بیدار ہوں۔ میں نے گھر میں کسی کو جاگتے ہوئے نہیں دیکھا کیوں کہ اتوار چھٹی کا دن ہوتا ہے۔

 

اگلے اتوار جب میں آپ کو جگانے کے لیے گئی تو میں نے آپ کو اپنے کمرے میں نہیں پایا۔

 

بابا جان، یاد ہے اتوار کو آپ ہمیشہ مجھ سے وعدہ کرتے کہ مجھے لے کر ریگل چوک پہ کتابیں خریدنے جائیں گے۔
پیارے بابا جان! یہ ختم نہ ہونے والے اتوار میں نے یہ فرض کرکے گزارے کہ آپ حراستی اداروں کے پاس ہیں۔ لیکن میں ابھی تک یہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ آپ جا چکے ہیں۔ میں آپ کو ہمیشہ یاد کرتی ہوں۔ آپ کچھ ایک میں سے صرف ایک ہی بہت کچھ ہو، بابا۔ میں آپ کو بری طرح سے یاد کر رہی ہوں کہ جیسے آپ نہیں ہیں۔ اگر آپ نہیں رہے تو یہ میرے لیے دنیا کی تاریخ کا خاتمہ ہے۔ باباجان میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اب میں جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹ پھوٹ چکی ہوں۔ میں آپ کے بغیر جی نہیں سکتی۔

 

باباجان آپ نہیں جانتے، آپ فرشتہ ہیں ــ آپ کے بغیر ایک ساعت بھی کس قدر سخت ہے۔ ہمیں آپ کی کس قدر ضرورت ہے۔ ہمارا نگہبان اور ہمارا پشت پناہ آج لا پتہ کردیا گیا ہے۔ ہماری پشت پناہی اب کون کرے گا۔ ہماری حفا ظت کون کرے گا۔ جب آپ کے مہربان اور پر شفقت بھرے ہاتھ میرے کند ھوں پر تھے تو میں بھر پور توانائی محسوس کرتی تھی میری طاقت اب کہاں ہے؟ میری طا قت و قوت کو لا پتہ کردیا گیا ہے۔

 

بابا جان مجھے معاف کردیں۔ آپ نے ہما رے لیے سب کچھ کیا؛ بطور بہتر ین استاد، بہتر ین نگران، بہترین دوست ومددگار اور بہت کچھ۔ میں سوچتی ہوں میں بہترین بیٹی نہیں ہوں لیکن آ پ مثالی باپ ہیں۔ لیکن اب جب آ پ کو کچھ ضرورت ہے تو میں ناامید ہوں. میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کر پارہی ہوں۔

 

بابا جان، جب میں چھوٹی تھی اور دمہ کے مرض کا شکار ہوگئی تھی تو آ پ نے میرے علاج کے لیے بے پناہ اخراجات کیے۔ اب میں صحت مند ہوں لیکن اس قابل نہیں کہ آپ کو صحیح سلامت بازیاب کرا سکوں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ انتہائی غیر انسانی اذیت کا سامنا کر رہے ہوں۔ در حقیقت میں نہیں جا نتی کہ آپ کہا ں ہیں۔ جب میں روتی تھی اور آپ موجود ہوتے تھے تو میری آنکھوں سے آنسو پو نچھ لیتے تھے۔ اب میں رو رہی ہوں بابا جان، آپ کہا ں ہیں؟؟

 

جب آپ کے مہربان اور پر شفقت بھرے ہاتھ میرے کند ھوں پر تھے تو میں بھر پور توانائی محسوس کرتی تھی میری طاقت اب کہاں ہے؟
بابا جان آپ جا نتے ہیں، اب میں ہر وقت صرف رونے کی آواز سن رہی ہوں۔ امی جان کیسے رورہی ہیں آپ کے لیے۔ اور آپ کی ما ہکان نے بھی اسکول چھوڑ دیا ہے۔ بابا جان ان خاموش رستوں میں جب آنکھیں بند کرتی ہوں تو صرف آپ سے بات کرتی ہوں۔ مجھے لگتا تھا محض دنیا میں آپ واحدانسان ہیں جو مجھے کبھی دکھ نہیں دیں گے۔ اور میں نے کچھ پایا تو وہ آپ کی محبت کی بدولت ہے۔

 

جب میں کچھ نہ ہونے کے برابر تھی تو آپ نے مجھے قبول کیا تھا۔ آپ اس بھری دنیا میں بہترین باپ ہیں۔ مگر میں آپ کی بے کار بیٹی ہوں۔ بابا جان میں جانتی ہوں کہ آپ بڑے دل کے مالک ہیں اور آپ فوراً ان لوگوں کو بھی معاف کر دیتے تھے جو لوگ پیٹھ پیچھے آپ کی برائیاں کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے بارے میں بری گفتگو کرتے تھے لیکن باباجان آج میں آپ سے معذرت کرتی ہوں کہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں آپ مجھے بھی معا ف کردیں گے۔ میں آپ کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ حالاں کہ یہ نہایت درد بھرا اور تکلیف دہ وقت ہے، میں آپ کی سلامتی کے ساتھ باز یابی کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ اگر مجھے خو ش قسمت موقع مل جائے، جب آپ واپس آ جا ئیں تو پھر کبھی بھی آپ کو دو بارہ جانے نہیں دو ں گی۔ میں آپ کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ میں آپ کے بنا تنہا ہوں۔ میں اب بھی آپ کی مدد کا انتظار کر رہی ہوں۔

 

ہانی بلوچ کی والد کے ہمراہ یادگار تصویر
ہانی بلوچ کی والد کے ہمراہ یادگار تصویر
بابا جان آپ بہتر جانتے ہیں کہ میرے پاس مشورہ کرنے کا کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں، سوائے اس کے کہ آپ سے بات کروں۔ اور اب کوئی نہیں جو مجھے مشورہ دے۔ یہ سچ ہے باباکہ یہاں ہر کوئی آپ کو یاد کر تا ہے اور یادکرنا آسان ہے، اور یہ آسان کام وہ ہر دن کررہتے ہیں۔ مگر میں مجھے تو آپ ایک درد کے ساتھ یاد آتے ہو اور یہ وہ درد ہے جو کبھی جاتا ہی نہیں۔کوئی بھی یاد کرنے سے نہیں تھکتا، ہاں انتظار کرنے سے سب تھک جاتے ہیں۔ اور مجھے ابھی تک یہ یقین ہی نہیں آ رہا کہ آپ یہاں نہیں ہیں۔ کیوں کہ آپ نے مجھے ہر چیز سکھا ئی سوائے اس کے کہ آپ کے بغیر زندہ کیسے رہا جائے۔

 

باباجان آج میں آپ سے معذرت کرتی ہوں کہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں آپ مجھے بھی معا ف کردیں گے۔
بابا، جب مجھے ہلکی سی خراش بھی آتی یا معمولی سا سردرد ہوتا تھا تو آپ فکر سے ساری رات میرے لیے جاگتے تھے۔ خوشی کے لحمات بھی ساتھ آئے مگر اب بہت مشکل ہے آپ کو تلاش کرنا! جب میں کسی چیز سے ڈرتی تھی تو مجھے کسی اور کو پکارنے کی کبھی بھی ضرورت نہیں پیش نہیں آئی کیوں کہ آپ میرے ساتھ ہوتے تھے مگر اب آپ کیسے ہیں نہ جانے کسں تکلیف میں اور میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کی ناکارہ بیٹی ہوں۔مجھے معاف کر دیں۔

 

آپ نے ہمیشہ مجھے اپنی بہادر بیٹی کہا، مگر میں بالکل بھی بہادر نہیں ہوں۔ آپ مجھے ہمیشہ بہادر شہزادی کہتے تھے، آج میں وہ سب کچھ ہوں جو آپ نے مجھے بنایا۔۔۔۔۔۔۔ مگر اتنی بہادر نہیں کہ آپ کے بنا رہ سکوں، بابا جان مجھے معاف کردیں میں آپ کی بہادر شہزادی نہیں بن سکی!!
Categories
نقطۂ نظر

Why Balochistan’s Mama Qadeer is on Long March

Fazal Muhammad Khan

201823_75092266

Neither the damp cold of Khuzdar, nor the blazing heat at Uthal; and neither the rough mountainous topography of Sindh and Balochistan, and nor the life threats to their caravan could stop them. Here they are in Karachi at Karachi Press Club: the 25 families – inclusive of females, elders and children as young as 7 years old – of missing persons having travelled 780 kilometers on foot from Quetta for 26 consecutive days.

It was a nonstop action; they had to spend their nights on the roadsides, and days treading towards Karachi. Their each step did nothing but made them resolute in their cause: calling on the government, the UN and the international community to bring to justice the security apparatus of the country responsible for forced disappearances and other atrocities against the people of Balochistan.

The most important among the protesters is Mama Qadeer Baloch, the organizer of this march, whose cousin and son had been disappeared, the latter’s dead body was found later on. They all have one thing to say: intelligence agencies have abducted, tortured and killed their loved ones.

Among the participants of Long March, there was a seven years old son of Jelil Reki who has allegedly been tortured to death after being disappeared by the security officials. Others include people like Nasrullah Baloch whose uncle has been missing for eleven years, and a youth activist Farzana Majeed whose brother was arrested by FC in 2009, and has been missing since then. The most important among the protesters is Mama Qadeer Baloch, the organizer of this march, whose cousin and son had been disappeared, the latter’s dead body was found later on. They all have one thing to say: intelligence agencies have abducted, tortured and killed their loved ones.

Balochistan is important both strategically and economically. It borders Iran and Afghanistan, enjoys cultural diversity, has the second largest supply route for NATO forces in Afghanistan, and is also deemed to be a home for the so-called Quetta Shura of the Taliban in the provincial capital, Quetta. Complicating the situation further is a large number of foreign nations with an economic or political stake in the mineral-rich province, including the United States, China, Iran, India, and the United Arab Emirates.

Balochistan’s relationship with the federation has largely been begrudged due to the issues of lack of provincial autonomy, control over the province’s resources, and the economic and political repression by the successive central governments.
The situation aggravated further after the two assassination attempts on former President Pervez Musharraf during his 2005 and 2006 visits to Balochistan which led to crackdown on Baloch nationalists by security agencies. In the backdrop of the assassination of Sardar Akbar Bugti, these operations further fueled the fire.

Government of Pakistan has also admitted in July via attorney general that there are more than 500 “missing persons” in the custody of security agencies. Leaving aside the contention of exact number of missing persons, this certainly verifies the existence of this heinous practice.

These ruthless operations coupled with US led War on Terror since 2001 have resulted in thousands of individuals being ‘disappeared’. Since 2005, human rights organizations have recorded serious human rights violations by security forces, including extrajudicial executions, torture, forced disappearances, forced displacement, and excessive use of force. They count the number of missing persons between 800 and 1000. However the participants of the long march claim that the figure of abduction by security agencies amounts to more than 18000 following the death of Akbar Bugti. Of them, 1,500 were killed in targeted attacks.

Though repeatedly denied by the security agencies, both Supreme Court of Pakistan and human rights organizations are positive about the involvement of intelligence agencies in forced disappearances. Government of Pakistan has also admitted in July via attorney general that there are more than 500 “missing persons” in the custody of security agencies. Leaving aside the contention of exact number of missing persons, this certainly verifies the existence of this heinous practice.

Shocking it is. What is, however, more shocking is the fact that the mainstream media remains indifferent and apathetic towards this sensitive issue which has the potential to turn volatile. Amid the uproar of debates on drone attacks, sectarian tensions, and cricket, the grave issue of Baloch missing persons and this outstanding long march have largely been ignored by the media. The act of ignoring such issues, whether deliberately or mistakenly, can be fatally infectious to the larger socio-political fabric of the state.

Human Rights Commission of Pakistan in its October report made following recommendations for bringing an end to forced disappearances and human rights violations:
– Standard Operating Procedures should be developed to regulate the engagement of security forces and intelligence agencies in the province.

– Policing should be reformed and FC should be removed from the province as FC deployment has always proved counterproductive.

– The heads of FC and the intelligence agencies should issue warnings to their forces to discontinue human rights violations and the perpetrators should be brought to justice.

– The government of Balochistan should appoint a human rights adviser to the Chief Minister with a mandate to improve human rights conditions in Balochistan.

– A police academy should be established for the training of police force with a view to raise the morale of police force which largely remains reluctant to tackle crimes of trivial nature, not to talk of crimes of forced disappearances and abductions, and a forensic laboratory should also be built in Balochistan.

– Government should do away with the categorization, such as ‘A’ and ‘B’ areas, of various regions in Balochistan.

– The key development projects in Balochistan must be completed at the earliest keeping in mind that the people of Balochistan fully support the restoration of peace and political stability in the province.

– The media should pledge its part in highlighting and giving sufficient and unbiased coverage to human rights, governance and other issues in Balochistan.
Such steps and recommendations, if transformed into actions, have the potential to ameliorate the condition of human rights in Balochistan and bring peace in the conflict ridden province.

The act of ignoring such issues, whether deliberately or mistakenly, can be fatally infectious to the larger socio-political fabric of the state.

Back in Balochistan, the bleak situation of law and order is a constant source of fear for the citizens. Kidnapping for ransom remains unchecked and increasing exponentially, and the abductors are almost never traced. Religious minorities and various sects are consistently prone to violence and attacks. Civil society organizations have abandoned their work in the conflict-hit parts of the province. Women remain voiceless and are continuously intimidated by extremist and sectarian elements.
Amid frustration and mental torture of the families and relatives of missing persons, the likes of Mama Qadeer and Farzana Baloch continue to stand against the state policy of viewing Balochistan only from the prism of security.
Before the situation in Balochistan explodes further, those at the helm of affairs need to act now. For it they do not, it will be too late to act then.


1454751_705439582813115_1302696223_n

The writer is a graduate of GC University Lahore, a holder of Roll of Honor, and former Editor of “The Scientific Ravi”. Currently he is General Secretary at Institute for Development Education and Advocacy (IDEA) and can be reached at fazajana@gmail.com.