
کہانی: کتنے ہٹلر/مصنف:وجے دان دیتھا: اس کہانی کا اردو ترجمہ عبدالعظیم سومرو نے کیا ہے۔ وجے دان دیتھا راجستھانی افسانہ نگار تھے جنہوں نے کئی
• بظاہر ہم بہت سی باتوں کے متعلق محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہی ہمارا جذبہ صادق ہے، لیکن کسی ایک خاص حالت میں پہنچنے
تمہید یہ مضامین مختلف اوقات میں وقفے وقفے سے لکھے گئے ہیں مگر شاید بے ربط نہ ہوں کیونکہ ان کی شیرازہ بندی تاریخی اصولِ
’’یاد کیا رہتا ہے مجھ کو؟ آپ نے پوچھا تھا اک دن اور میں کوئی تسّلی بخش اُتّر دے نہیں پایا تھا اس کا !‘‘
’’میں نے پہلی بار یہ منظر تبھی دیکھا تھا جب جب رتھ بان نے مجھ کو بتایا تھا کہ مُردہ جسم کے انتم چرَن کی
[blockquote style=“3”] یہ افسانہ اس سے قبل سہ ماہی تسطیر کے اگست 2017 کے ایڈیشن میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ [/blockquote] تحریر: انور سہیل
“پاپ کا کیا انجام ہے؟” اک بھکشو نے پوچھا آنکھیں موندے ’دھیان‘ کی گہری حالت میں تھے لیِن تتھاگت چونک گئے اس بچوں جیسی بھولی
“یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ اب آپ شکیل احمد سے خبریں سنیے۔۔۔ مشرقی محاذ پر ہمارے بہادر جوان دشمن کو مولی گاجر کی طرح کاٹ رہے
وہ جو دور کھڑکی پہ لٹکی ہے دھوپ سے بچنے کو، کسی نے بہت چاؤ سے کشمیر کی تنگ گلیوں سے خریدی ہو گی جانے
تیسرا سبق: کائنات کی ساخت کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ بیسویں صدی کی
